علم و کتاب
Open in Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Show more8 149
Subscribers
No data24 hours
-427 days
+4930 days
Data loading in progress...
Similar Channels
Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
July '26
July '26
+91
in 0 channels
June '26
+218
in 0 channels
Get PRO
May '26
+228
in 1 channels
Get PRO
April '26
+163
in 1 channels
Get PRO
March '26
+62
in 2 channels
Get PRO
February '26
+89
in 1 channels
Get PRO
January '26
+95
in 2 channels
Get PRO
December '25
+81
in 0 channels
Get PRO
November '25
+109
in 1 channels
Get PRO
October '25
+105
in 1 channels
Get PRO
September '25
+119
in 1 channels
Get PRO
August '25
+173
in 2 channels
Get PRO
July '25
+151
in 2 channels
Get PRO
June '25
+140
in 2 channels
Get PRO
May '25
+95
in 1 channels
Get PRO
April '25
+105
in 0 channels
Get PRO
March '25
+153
in 2 channels
Get PRO
February '25
+131
in 1 channels
Get PRO
January '25
+278
in 1 channels
Get PRO
December '24
+403
in 0 channels
Get PRO
November '24
+500
in 2 channels
Get PRO
October '24
+487
in 1 channels
Get PRO
September '24
+322
in 0 channels
Get PRO
August '24
+322
in 3 channels
Get PRO
July '24
+323
in 4 channels
Get PRO
June '24
+341
in 0 channels
Get PRO
May '24
+331
in 1 channels
Get PRO
April '24
+300
in 3 channels
Get PRO
March '24
+265
in 1 channels
Get PRO
February '24
+321
in 1 channels
Get PRO
January '24
+403
in 3 channels
Get PRO
December '23
+376
in 0 channels
Get PRO
November '23
+132
in 0 channels
Get PRO
October '23
+124
in 1 channels
Get PRO
September '23
+92
in 0 channels
Get PRO
August '23
+121
in 0 channels
Get PRO
July '23
+116
in 0 channels
Get PRO
June '23
+77
in 0 channels
Get PRO
May '23
+253
in 0 channels
Get PRO
April '23
+81
in 0 channels
Get PRO
March '23
+49
in 0 channels
Get PRO
February '23
+126
in 0 channels
Get PRO
January '23
+137
in 0 channels
Get PRO
December '22
+123
in 0 channels
Get PRO
November '22
+209
in 0 channels
Get PRO
October '22
+119
in 0 channels
Get PRO
September '22
+62
in 0 channels
Get PRO
August '22
+40
in 0 channels
Get PRO
July '22
+44
in 0 channels
Get PRO
June '22
+138
in 0 channels
Get PRO
May '22
+42
in 0 channels
Get PRO
April '22
+17
in 0 channels
Get PRO
March '22
+31
in 0 channels
Get PRO
February '22
+28
in 0 channels
Get PRO
January '22
+56
in 0 channels
Get PRO
December '21
+112
in 0 channels
Get PRO
November '21
+52
in 0 channels
Get PRO
October '21
+112
in 0 channels
Get PRO
September '21
+64
in 0 channels
Get PRO
August '21
+43
in 0 channels
Get PRO
July '21
+63
in 0 channels
Get PRO
June '21
+164
in 0 channels
Get PRO
May '21
+38
in 0 channels
Get PRO
April '21
+60
in 0 channels
Get PRO
March '21
+103
in 0 channels
Get PRO
February '21
+80
in 0 channels
Get PRO
January '21
+211
in 0 channels
Get PRO
December '20
+1 362
in 0 channels
| Date | Subscriber Growth | Mentions | Channels | |
| 13 July | +8 | |||
| 12 July | +4 | |||
| 11 July | +11 | |||
| 10 July | +3 | |||
| 09 July | +6 | |||
| 08 July | +5 | |||
| 07 July | +7 | |||
| 06 July | +4 | |||
| 05 July | +12 | |||
| 04 July | +3 | |||
| 03 July | +3 | |||
| 02 July | +9 | |||
| 01 July | +16 |
Channel Posts
اس پر یاد آیا کہ ایک بڑے عالم حدیث گزرے ہیں شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ، خوش قسمتی سے اس ناچیز کو آپ کی مجالس میں بیٹھنے کا شرف ملا ہےاور ان لوگو ں کی بھی رفاقت رہی ہے جنہوں نے آپ کو دمشق کے تاریخی مکتبہ ظاہریہ میں قلمی کتابوں اور مخظوطات میں سرکھپاتے دیکھا ہے، یہ لوگ بتاتے ہیں کہ شیخ صبح سویرے کتب خانے آتے اور شام کو اس کے بندہونے تک روزانہ پابندی سے دھول اور غبار سے اٹی الماریوں کے بیچ بیٹھتے، اس دوران دوپہر میں دو ایک سینڈویچ آپ کا ظہرانہ ہوتا، علمی میدان میں آپ کی کامیابی کا راز یہ بتایا جاتا ہے کہ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل، ایک ایسے دور میں جب کہ مکتبہ ظاہریہ کا زیادہ تر علمی مواد زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوا تھا اورابھی کتابوں کے اشارئیے عام نہیں تھے، ”المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث“ جیسی اس موضوع پر ابتدائی کتابیں ابھی ابھی چھپنی شروع ہوئی تھی اور سالہا سال میں کبھی اس کی بھی ایک ایک جلد چھپتی تھی، شیخ البانی نے ظاہریہ کے حدیثی مخطوطات میں محفوظ ذخیرہ حدیث کا اشاریہ اپنے لئے تیار کیا،جو اندازاً بیس جلدوں پر مشتمل تھا، لہٰذا جب شیخ البانی نے ”سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ “ اور”سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ“ وغیرہ میں ان مخطوطات کے ذخیروں سے ایسی روایات اور اسانید نقل کیں جو ابھی تک ان قلمی کتابوں کے دفتروں میں محفوظ تھیں تو علم حدیث کے متوالوں کی آنکھیں خیرہ ہوکر رہ گئیں اور پھر شیخ البانی ؒ کی رہنمائی اور نشاندہی پر سنہ ساٹھ(۶۰ء) کی دہائی سے علم حدیث کے خزانوں پر مدتوں سے ڈھکی دھول ہٹنے لگی تو ان پر تحقیقی کام کرنے والے طلبہ اور محققین کا ایک تانتا لگ گیا، ان پر کام کرنے کے لئے ماجستیر اور دکتوراہ کے طلبہ کی ہمت افزائی کی گئی اور گزشتہ نصف صدی میں حدیث کی وہ وہ کتابیں معیاری طباعت کے ساتھ منظر عام پر آئیں، جن کے لئے ہمارے اسلاف کی آنکھیں ترس گئی تھیں،شیخ البانی ؒ کی بعض آراء اور افکار سے لاکھ اختلاف کے باوجود آپ کے اس کنٹریبیو شن کو بھلایا نہیں جاسکتا۔
حدیث شریف قرآن کریم کی تفسیر ہے، اس کے مطالعہ کے ضمن میں ایک مصنف نے اس بات کی ضرورت کا احساس دلایا ہے کہ قاری کو قرآن شریف کی طرح حدیث کی بھی موضوعاتی فہرست بنانی چاہئے جس میں ایک موضوع کی حدیثیں یکجا کی جائیں اور ان ذیلی عنوانات کے تحت ان کی فنی ترتیب کا خیال رکھا جائےتاکہ بوقت ضرورت آپ ان سے استدلا ل کرسکیں۔ اس کے اہتمام سے بھی آپ کے حافظے میں ازبر کرنے کی شعوری کوشش کے بغیر بہت ساری حدیثیں یکجا ہوجائیں گی اور تھوڑی سی تحریک سے یاد آجایا کریں گی۔ قرآن وحدیث کا علمی و دعوتی مواد ترتیب دینے کا یہ کام زندگی بھر جاری وساری رہنا چاہئےاور وقتا فوقتا اس کی تدوین وترتیب جاری رہنی چاہئے، کیونکہ یہ کوئی مستقل تصنیف نہیں ہوگی، بلکہ یہ مواد ، مضامین اور تصنیف و تالیف میں خام مال کی حیثیت رکھے گا۔ اپنی موضوعاتی فہرست خود بنانے کا بڑا فائدہ یہ بھی ہے ہر شخص کا اپنا ایک پس منظر اور فکر کا زاویہ ہوتا ہے، دعوتی اور فکری دلچسپیاں بھی الگ الگ ہواکرتی ہیں، لہٰذا ایک محنتی قاری کی نظرمیں اس قسم کی بہت سی تیار شدہ فہرستیں بڑی بے جان سی محسوس ہوتی ہیں جیسے مستشرق جول لابو م کی کتاب” تفصیل آیات القرآن“اور مستشرق فینسک کی کتاب” مفتاح کنوز السنۃ“ قرآن و حدیث کی فنی لحاظ سے بہترین اور بے مثال موضوعاتی فہرستوں میں شامل ہونے اور بہت مفید ہونے کے باوجود، قرآن وحدیث جو دعوتی روح ایک انسان میں پیدا کرتے ہیں، ان میں اس کا احساس نہیں ہوپاتا۔
قرآنی تعلیمات کو ذہن مین پختہ طور پر جاگزیں کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تفاسیرقرآن کا اجتماعی طور پر موازناتی مطالعہ کیا جائے، اس طرح کہ کئی ایک باذوق احباب مقررہ دنوں میں یکجا ہوں، ان پر مختلف تفسیریں تقسیم کی جائیں اور ہر ایک سے مقررہ آیات کی تفسیر بہ آواز بلند سنی جائے، موازناتی مطالعہ سے مضمون بڑی پختگی سے ذہن نشین ہوکر یاد رہتا ہے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں چند احباب کے ساتھ اجتماعی مطالعہ کتب تفسیر کا یہ سلسلہ ہم لوگوں نے شروع کیا تھا، اب کئی ایک جگہوں سے ان سلسلوں کے جاری ہونے کی اطلاعات ملنے لگی ہیں۔
جاری
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
| 2 | اس طرح قرآن پر ایک جامع نظر حاصل کرلینے کے بعد تفصیلی مطالعہ کی ابتدا کرنی چاہئے، اس سلسلے میں ناظر کو تعلیمات قرآن کا ایک ایک پہلو ذہن نشین کرکےنوٹ کرتے جانا چاہئے، مثلا وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ انسانیت کا کونسا نمونہ ہے، جسے قرآن پسندیدہ قرار دیتا ہے اور کس نمونے کے انسان اس کے نزدیک مبغوض و مردود ہیں، اس مضمون کو اچھی طرح اپنی گرفت میں لانے کے لئے اس کو چاہئے کہ اپنی کاپی پر ایک طرف پسندیدہ انسا ن اور دوسری طرف ناپسندیدہ انسان کی خصوصیات آمنے سامنے نوٹ کرتا چلا جائے۔ مثلا وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ قرآن کے نزدیک انسان کی فلاح ونجات کا مدار کن امور پر ہےاور کیا چیزیں ہیں جن کو وہ انسان کے لئے نقصان ، ہلاکت اور بربادی کا موجب قرار دیتا ہے۔ اس مضمون کو بھی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کاپی پر موجبات فلاح اور موجبات خسران کے دوعنوانات ایک دوسرے کے مقابل قائم کرے اور مطالعہ قرآن کےد وران میں روزانہ دونوں قسم کی چیزوں کو نوٹ کرتا جائے ۔ علی ہذا القیاس عقائد ، اخلاق ، حقوق ، فرائض، معاشرت ، تمدن ، معیشت ، سیاست ، قانون، نظم جماعت ، صلح ، جنگ اور دوسرے مسائل زندگی میں سے ایک ایک کے متعلق قرآن کی ہدایات کو آدمی نوٹ کرتا چلاجائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ ان میں سے ہر ہر شعبے کی مجموعی شکل کیا بنتی ہےاور پھر ان سب کو ملا کر جوڑ دینے سے پورا نقشہ زندگی کس قسم کا بنتا ہے۔
پھر جب آدمی کسی خاص مسئلہ زندگی کے بارے میں تحقیق کرناچاہے کہ قرآن کا نقطہ نظر اس کے متعلق کیا ہے تو اس کے لئے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ اس مسئلے کے متعلق قدیم وجدید لٹریچر کا گہرا مطالعہ کرکے واضح طور پر یہ معلوم کرلے کہ اس مسئلے کے بنیادی نکات کیا ہیں۔ انسان نے اب تک اس پر کیا سوچا اور سمجھا ہے، کیا امور اس میں تصفیہ طلب ہیں اور کہاں جاکر انسانی فکر کی گاڑی اٹک جاتی ہے۔ اس کے بعد انہی تصفیہ طلب مسائل کو نگاہ میں رکھ کر آدمی کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے،میرا تجربہ ہے کہ اس طرح جب آدمی کسی مسئلے کی تحقیق کے لیے قرآن پڑھنے بیٹھتا ہے تو اسے ایسی ایسی آیتوں میں اپنے سوالات کا جواب ملتا ہے جنہیں وہ اس سے پہلے بیسیوں مرتبہ پڑھ چکا ہوتا ہے اور کبھی اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ یہ مضمون بھی چھپا ہوا ہے(تفہیم القرآن۔ جلد ۰۱/۱۶)
موضوعات قرآنی کے موضوع پر اردو میں کافی مواد موجود ہےاور بعض تفاسیر کی موضوعاتی فہرستیں بڑے علمی پایہ کی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ آج سے ستر سال قبل برصغیر کے ایک عجمی مفسر قرآن نے مطالعہ قرآن کا جو خاکہ پیش کیا تھا، اس کا پرتو دور حاضر میں امام حرم شیخ صالح عبد اللہ حمید دامت برکاتھم کے زیر نگرانی تیار شدہ عظیم اسلامی انسائیکلوپیڈیا ”نضرۃ النعیم فی مکار م اخلاق الرسول الکریم “پرپڑا ہے۔ چونکہ یہاں ہماری بحث کاموضوع قرآن کریم کا مطالعہ اور یاد داشت میں اسکے معانی و مطالب کو محفوظ کرکے آئندہ تحقیقی کاموں ، لکچروں، مضامین وغیرہ میں انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا ہوناہے، لہٰذا اس میدان میں تیار شدہ مواد سے ایک قاری کو بھرپور استفادہ کرنا چاہئے، ان سے موضوعات کی فہرست اور خاکہ بنانے میں مدد لینی چاہئے لیکن اس سے اپنی محنت اور غوروتدبر سے کسی انڈکس کے تیاری کی افادیت ختم نہیں ہوجاتی ،کیونکہ تیار شدہ مواد مفید تو بے شک ہوتا ہےلیکن اس کی حیثیت دوسرے کے چبائے ہوئے لقمہ جیسی ہوتی ہے،دوسرے کا لقمہ کتنا ہی لذید کیوں نہ ہولیکن اس کے کھانے کی عادت پڑنے سے ہاضمہ مضبوط تو نہیں ہو سکتا۔ اپنی محنت سے جو موضوعاتی فہرست تیار ہوگی، اس کی حیثیت آپ کے سینے میں محفوظ علم کی ہوگی،صرف کاغذ اور کتاب میں نہیں۔ | 48 |
| 3 | *مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟(۵ ) ۔۔۔ مطالعہ کا طریقہ*
*عبد المتین منیری (بھٹکل)*
۔ تاریخ میں علم اور معلومات کی ترویج اور ترقی میں سب سے بڑا کردار کتابوں کا رہا ہے، حاجی خلیفہ نے تصنیف وتالیف کے مقاصد حسب ذیل بتا ئے ہیں:
٭…اس سے پہلے کسی نے اس موضوع پرلکھنے میں سبقت نہیں کی ہو، اس تحریرکے ذریعے اس موضوع پر لکھنے کا آغازہورہاہو۔
٭…کسی نامکمل موضوع کی اس کے ذریعے تکمیل ہورہی ہو۔
٭…کوئی موضوع بہت مشکل اور مغلق تھا، اس کی تشریح کی گئی ہو۔
٭…موضوع بہت طویل تھا، اس کا اختصار کیا گیا ہو۔
٭…موضوع بہت پھیلا ہوا تھا، اسے یکجا کیا گیا۔
٭…موضوع یا بحث میں خلط ملط تھا، اس کی از سرنو ترتیب و تہذیب ہوئی ہو۔
٭…کسی موضوع پر سابقہ مصنّفین سے غلطیاں سرزد ہوئیں تھیں تو انہیں درست کیا گیا ہو۔
اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک گزشتہ پندرہ صدیوں کے دوران امت کے ائمہ وقت اور علمائے امت نے ان مقاصد کو سامنے رکھ کر جو علمی کام انجام دئیے، ان کا حساب لگا نا ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل کیا، جس کے صفحات کی تعداد اندازا چھ سو بنتی ہےلیکن بعد میں آنے والوں نے اس کتاب کی تشریح وتفسیر اور اس کی آیات سے جنم دینے والے علوم کو بیان کرنے کے لئے جو صفحات سیاہ کئے، وہ کروڑوں تک پہنچتے ہیں، اگر یہ حضرات آئندہ نسلوں کی فکر نہ کرتے اور ان کے پاس علم کا جو سرمایہ اکٹھا ہوا تھا، اسے مزید بڑھا کر آنے والوں کو منتقل نہ کرتے تو یہ علوم و فنون ہم تک کہا ں پہنچ پاتے؟لہٰذا امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہےکہ: آدمی کو چاہئے کہ وہ علم کو تحریر کی شکل دینے کو عبادت سمجھے، اس سے اسے کسی فائدے کہ امید ہو یا نہ ہو۔ جب طریقہ مطالعہ کی بات ہوگی تو ابتدا کتاب اللہ سے ہوگی۔
اس سلسلے میں ایک مفسر قرآن نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، وہ کہتے ہیں :ـ
”ـــکوئی شخص چاہے قرآن پر ایمان رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، بہر حال اگر وہ اس کتاب کو فی الواقع سمجھنا چاہتا ہے تو اولین کام اسے یہ کرنا چاہئے کہ اپنے ذہن کو پہلے سے قائم کئے ہوئے تصورات اور نظریا ت سے اور موافقانہ یا مخالفانہ اغراض سے جس حد تک ممکن ہو خالی کرلے اور سمجھنے کا خالص مقصد لے کر کھلے دل سے اس کو پڑھنا شروع کرے، جو لوگ چند مخصوص قسم کے خیالات ذہن میں لے کر اس کتاب کو پڑھتے ہیں ،وہ اس کی سطروں کے درمیان اپنے ہی خیالات پڑھتے چلے جاتے ہیں، قرآن کی ان کو ہوا بھی نہیں لگنے پاتی ۔ یہ طریق مطالعہ کسی کتاب کو پڑھنےکے لئے بھی صحیح نہیں ہے، مگر خصوصیت کے ساتھ قرآن تو اس طرز کے پڑھنے والوں کے لئے اپنے معانی کے دروازے کھولتا ہی نہیں۔ “
پھر جو شخص محض سرسری سی واقفیت بہم پہنچانا چاہتا ہو، اس کے لئے تو شاید ایک دفعہ پڑھ لینا کافی ہوجائے لیکن جو اس کی گہرائیوں میں اترنا چاہے، اس کے لئے دو چار دفعہ کا پڑھنا بھی کافی نہیں ہو سکتا، اس کو باربار پڑھنا چاہئے، ہر مرتبہ ایک خاص ڈھنگ سے پڑھنا چاہئےاور ایک طالب علم کی طرح پنسل اور کاپی ساتھ لے کر بیٹھنا چاہئے تاکہ ضروری نکات نوٹ کرتا جائے۔ اس طرح جو لوگ پڑھنے پر آمادہ ہوں ان کوکم از کم دو مرتبہ پورے قرآن کو صرف اس غرض کے لئے پڑھنا چاہئے کہ ان کے سامنے بحیثیت مجموعی وہ پورا نظام فکر و عمل آجائے جسے یہ کتاب پیش کرنا چاہتی ہے،اس ابتدائی مطالعہ کے دوران میں وہ قرآن کے پورے منظر پر ایک جامع نظر حاصل کرنے کی کوشش کریں اور یہ دیکھتے جائیں کہ یہ کتاب کیا بنیادی تصورات پیش کرتی ہے اور پھر ان تصورات پر کس قسم کا نظام زندگی تعمیر کرتی ہے۔ اس اثنا میں اگر کسی مقام پر کوئی سوال ذہن میں کھٹکے تو اس پر وہیں اسی سوقت کوئی فیصلہ نہ کر بیٹھیں بلکہ اسے نوٹ کرلیں اور صبر کے ساتھ دوسری بار پڑھیں۔ میں اپنے تجربے کی بنا پر یہ کہتا ہوں کہ دوسری بار کے غائر مطالعہ میں شاذونادر ہی کوئی سوال جواب طلب باقی رہ جاتا ہے۔ | 42 |
| 4 | *اقتباس مطالعہ:3*
اے برادران ملت! یہی اسلام کی وہ عالمگیر اخوت اور دعوت اسلام کی وحدت تھی جس نے زمین کے دور دراز گوشوں کو ایک کر دیا تھا۔ اسلام نے ریگستان حجاز میں ظہور کیا مگر صحرائے افریقہ میں اس کی پکار بلند ہوئی۔ اس کی دعوت کی صدا جبل بوقبیس کی گھاٹیوں سے اٹھی مگر دیوار چین سے صدائے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کی بازگشت گونجی۔ تاریخ کی نظریں اس وقت دجلہ و فرات کے کنارے اسلام کے نقش قدم گن رہی تھیں، عین اسی وقت گنگا و جمنا کے کنارے سینکڑوں ہاتھ تھے جو خدائے واحد کے آگے سربسجود ہونے کے لیے وضو کر رہے تھے۔ یہ تمام دنیا کی مختلف قومیں زمین کے دور دراز گوشوں پر بسنے والی آبادیاں گویا ایک ہی گھر کے عزیز تھے، جن کو شیطان رجیم کی تفرقہ اندازیوں نے ایک دوسرے سے الگ کر دیا تھا، لیکن خدائے رحیم نے ان صدیوں کے پچھڑے ہوئے دلوں کو ایک دائمی صلح کے ذریعے پھر ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور ان کے روٹھے ہوئے دلوں کو اس طرح ایک دوسرے سے منا دیا کہ تمام پچھلے شکوے اور شکایتیں بھول کر ایک دوسرے کے بھائی اور شریک رنج و راحت ہو گئے۔
*﴿وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا﴾*
*(سورۃ آل عمران: 103)*
*(اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر نازل کی گئی، جبکہ تم اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے مگر اسلام نے تمہارے دلوں میں محبت و الفت پیدا کر دی اور تم دشمن کی جگہ ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہوگئے)*
یہ برادری خدا کی قائم کی ہوئی برادری ہے، ہر انسان جس نے کلمہ "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کیا بمجرد اقرار کے اس برادری میں شامل ہو گیا، ہاں مصری ہو خوا نائجیریا کا وحشی ہو، خواہ قسطنطنیہ کا تعلیم یافتہ ترک۔ لیکن اگر وہ مسلم ہے تو اس ایک خاندان توحید کا عضو ہے، جس کا گھرانہ کسی خاص وطن اور مقام سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ تمام دنیا اس کا وطن اور تمام قومیں اس کی عزیز ہیں۔
دنیا کے تمام رشتے ٹوٹ سکتے ہیں مگر یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ ممکن ہے ایک باپ اپنے لڑکے سے روٹھ جائے، بعید نہیں ایک ماں اپنی گود سے بچے الگ کردے، ہو سکتا ہے کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کا دشمن ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کے تمام عہدے مودت، خون اور نسل کے باندھے ہوئے پیمانے وفا و محبت ٹوٹ جائیں مگر جو رشتہ ایک چین کے مسلمان کو افریقہ کے مسلمان سے، ایک عرب کے بدو کو تاتار کے چرواہے سے اور ایک ہندوستان کے نہ مسلم کو مکہ معظمہ کے صحیح النسب قریشی سے پیوست یک جان کرتا ہے دنیا میں کوئی طاقت نہیں ہے جو اسے توڑ سکے اور اس زنجیر کو کاٹ سکے جس میں خدا کے ہاتھوں نے انسانوں کے دلوں کو ہمیشہ کے لیے جکڑ دیا ہے۔
(جاری)
*(مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ)*
*خطبات آزاد (ص: 16-18)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی* | 174 |
| 5 | صور_من_حياة_الصحابة_عبد_الرحمن_بن_عوف.pdf | 240 |
| 6 | 2026-07-12 عبد الرحمن رافت الباشا.mp3 | 236 |
| 7 | ہم نے گذشتہ دو ماہ سے طلبہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے لئے تقریبا روزانہ درجات لینے شروع کئے ہیں، اس میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عالمیت کی اونچی دو جماعتوں کو سمارٹ اسکرین کے ذریعے کتابوں کا تعارف کروائیں، اور نچلی جماعتوں کو عربی بول چال کی مشق کروائیں، اس درجہ کا میڈیم مکمل عربی ہوتا ہے۔ اس کے لئے جو تجربہ کررہے ہیں ان میں سے ایک صور من حیاۃ الصحابہ کی مشق ہے، پہلے اردو ترجمہ پڑھواتے ہیں، اس سے اردو درست کرنے میں مدد ملتی ہے، اس کے بعد عربی آڈیو سناتے ہیں، پھر عربی عبارت پڑھواتے ہیں، جس کے بعد اس باب سے متعلق مشقیں ہوتی ہیں، جن میں غریب الفاظ کے معنی، ان کے استعمالات، سوال وجواب، خالی جگہ پر کرو، جیسی مشقیں شامل ہیں، جنہیں ہم خود تیار کرتے ہیں، صور من حیاۃ الصحابہ کی ایک صوتی فائل، اردو ترجمہ، عربی عبارت ، اور سوال وجواب کی فائل منسلک ہے، واضح رہے، درس کے دوران عبارت کا لفظی ترجمہ اردو میں نہیں کیا جاتا۔ اس سلسلے میں آپ کے تاثرات سے مستفید فرمائیں، اگر احباب سے ریکٹشن اچھا ملتا رہا توان شاء اللہ پھر اسی انداز سے صور من حیاۃ الصحابہ اور دوسری کلپس کی فائلیں ارسال ہونگی۔ یہ فائلیں ہم اس امید پر ارسال کررہے ہین کہ اساتذہ کرام ان کا پرنٹ آوٹ نکال کر بچوں سے مشقیں کروائیں۔ واضح رہے کہ نئے الفاظ کا ذہن میں ذخیرہ بننے کے لئے ہر لفظ کا تین مرتبہ استعمال ضروری ہے، اردو ترجمہ عبارت سمجھنے کی صلاحیت دے سکتا ہے، لیکن لفظ کے استعمال کی صلاحیت پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ عبد المتین منیری | 241 |
| 8 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 12*
1944ء محمد الیاس کاندھلوی۔ حضرت مولانا ، بانی تبلیغی جماعت
1971ء غلام رسول قادری۔ شاہ
1972ء اختر حسین۔ مرزا
1974ء حسین حسان ندوی۔ مولوی، ادیب اطفال ، مدیر پیام تعلیم
1974ء ساغر صدیقی (محمد اختر )۔ شاعر
1981ء کرار جونپوری (سید کرارحیدر)۔ ،
1986ء آغا مہدی۔ علامہ ، سید
1989ء خواجہ محمد شریف۔ ،
1989ء محمد طفیل امرتسری۔ الحاج قاری
2003ء سلامت ہاشم۔ فلیپینی تحریکی رہنما
2003ء نسیم احمد اللہ والا۔
2006ء صدیق احمد ہردوئی۔ مشنی
2009ء ابن جبرین، عبد اللہ بن عبد الرحمن بن جبرین۔ سعودی عالم دین
2009ء نذیر احمد۔ شیخ
2013ء محمد شفیق خاں۔ مولانا
2017ء عبد الرحمن بن عبد العزیز آل سعود۔ والد بانی مملکت سعودی عرب
2017ء محمد الیاس مظاہری۔ مولانا، سید
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 200 |
| 9 | *سچی باتیں (2؍فروری 1941ء)۔۔۔ جدید انسان کی ترقی*
از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
اعداد شائع ہوئے ہیں، کہ امریکہ میں نیویارکؔ سے سین فرانسسکوؔ تک یعنی مشرقی سرے سے لے کر مغربی تک کُل مسافت ڈھائی ہزار میل کی ہے ۔ اس فاصلہ کے طے کرنے میں 110سال کے اندر ترقیاں حسب ذیل ہوئی ہیں:-
1830ء میں ، یہ فاصلہ، بیل گاڑیوں کے ذریعہ پورے 6مہینے میں طے ہوتاتھا۔
1850ء میں گھورا گاڑی اور ریل کی مدد سے بجائے مہینوں کے 23دن میں طے ہونے لگے۔
1861ء میں، گھوڑے کی ڈاک اور ریل سے کُل ساڑھے بارہ دن میں طے ہونے لگے۔
1869ء میں ریل کا پورا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اور یہ سفر صِرف 7دن کا رہ گیا۔
1876ء میں اسپیشل ٹرین نے دنوں کا گھٹا کر گھنٹے بنایا، اور مدت کُل 100گھنٹوں کی رہ گئی۔
1920ء سے طیارہ اور ٹرین مدد سے مدت صرف 72گھنٹوں کی رہ گئی۔
1921ء سے طیارے رات اور دن چلنے لگے، اورمدت گھٹ کر ساڑھے تینتیس گھنٹوں سے کم رہ گئی۔
1924ء سے باضابطہ ہوائی ٹائم ٹیبل کے لحاظ سے مدت 32گھنٹوں کی رہی۔
1933ء میں ہوائی ڈاک نے مدت گھٹ اکر ساڑھے 19گھنٹے کی کردی۔
1940ء میں مزید ہوائی ترقیوں سے مسافت سرف پونے سولہ گھنٹوں کی رہ گئی۔
خلاصہ ترقیوں کی اِس روئداد کا یہ ہے، کہ مہذب وترقی یافتہ انسان، جہاں تک اُڑ کر جاپہونچنے کا تعلق ہے، اپنے باپ دادوں کا تو خیر ذکر ہی نہیں، ہوا میں اُڑتے رہنے والے پرندوں سے بھی آگے نکل گیاہے، اور ترقی کے اس دوڑ میں چیل اور کوّے اور کبوتر اور باز اور گِدھ اور عقاب کو اپنے سے کہیں پیچھے چھوڑگیاہے!……لیکن اسی امریکہ میں، اسی ترقی یافتہ ، ہواباز امریکہ میں، کبھی یہ سوال بھی دل میں پیداہوتاہے ، کہ خود انسانیت پر کیا گزر رہی ہے ۔ انسان کی روح تندرست ، وتوانا ہے ، یا بیمار ومضمحل ہے؟ زندہ بھی ہے یا مرچکی ہے؟ جانیں کہاں تک محفوظ ہیں؟قتل، دن دہاڑے ڈاکے، لوٹ مار کے حادثوں کا اوسط سالانہ، ماہانہ، روزانہ کیاہے؟ واقعات خود کُشی کے اعداد کیاہیں؟ اسباب خود کُشی کیسے نئے نئے روز نکلے آتے ہیں! قتل وہلاکت کی جو جو تدبیریں، جو جو طریقے بیسویں صدی کے مہذب انسان نے ایجاد کرلئے ہیں، اگلوں کے کبھی خواب وخیال میں بھی آئے تھے؟ مال ایک انسان کا دوسرے انسان کے ہاتھوں کس حد تک محفوظ ہے! جائدادیں ایک کی دوسرے کی طرف خواہ چھین جھپٹ کر خواہ مکروخیانت اور جعل سازی سے، کس سُرعت سے منتقل ہورہی ہیں! ناموس ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے ہاتھوں کب محفوظ ہے؟ ماں، باپ ،بھائی، بہن، عزت کسی کی بھی محفوظ ہے؟ شہوت پرستی اور ہوس رانی کے جو طریقے آج ہر کالج ، ہر اسکول میں عام ہوچکے ہیں؟ پہلے ادھر کسی کے ذہنِ رسا کی بھی رسائی ہوئی تھی؟
اور موقوف امریکہ ہی پر کیوں رکھئے۔ یورپ کے ایک ایک مُلک کا کیا حال ہے۔ برطانیہ اور فرانس اور جرمنی اور اطالیہ اور روس، سیاسی حیثیت سے، نظام حکومت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کیسے ہی ضد ہوں، نازی ہوں، سوشلسٹ ہوں، امپرئیلسٹ ہوں، کوئی ہوں، اور انھیں کے شمول میں جاپان کو بھی رکھ لیجئے، تہذیبی امراض اور روحانی وباؤں میں، کیا امریکہ سے بہت کچھ، یا کچھ بھی مختلف ہیں؟ اور پھر یہی ’’ترقی‘‘ خود آپ کے جن جن ملکوں میں قدم جماچکی ہے، وہ ٹرکی ہو یا ایران، مصر ہو یا شام، عراق ہو یا خود ہندوستان، وہاں کیا حال ہورہاہے؟ جاگ رہی اور جی رہی کون سی چیز ہے، اور سورہی اور مررہی کون سی چیز ہے؟ انسان نے اپنی انسانیت بیچ کر اس کے عوض حاصل کیاکیا؟ محض حیوانیت ! اور حیوانیت میں بھی حیوان۔ ’’پرندگی‘‘ سے بھی بڑھ کر حیوان کی درندگی ! اور مادّی سکون اور آسودگی اس پر بھی نصیب نہیں! بلکہ مہذب دنیا ہے کہ عیش وراحت کی جنت بننے کی جگہ روز بروز بنتی جارہی ہے ہلاکتوں کا ایک جہنم زار!
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 220 |
| 10 | *اقتباس مطالعہ:2*
انسان کی یہ سب سے بڑی ضلالت اور خدا فراموشی تھی کہ اس نے رشتہ خلقت کی وحدت کو بھلا کر زمین تھے ٹکراؤں اور خاندان کی تفریقوں پر رشتے قائم کر لیے تھے۔ خدا کی زمین کو جو محبت اور باہمی اتحاد کے لیے تھی قوموں کے باہمی اختلافات و نزاعات کا گھر بنا دیا تھا۔ لیکن اسلام دنیا میں پہلی آواز ہے جس نے انسان کی بنائی ہوئی تفریقات پر نہیں بلکہ الٰہی تعبد کی وحدت پر ایک عالمگیر اخوت و اتحاد کی دعوت دی اور کہا کہ۔۔
*﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾*
(سورۃ الحجرات: 13)
*(اے لوگو ہم نے دنیا میں تمہارے خلقت کا وسیلہ مرد اور عورت کا اتحاد رکھا اور نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا۔اس لیے کہ باہم پہچانے جاؤ ورنہ دراصل تفریق اور انشعاب کوئی ذریعے امتیاز نہیں اور امتیاز اور شرف اسی کے لیے ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہے)*
پس درحقیقت اسلام کے نزدیک وطن و مقام اور رنگ زبان کی تفریق کوئی چیز نہیں۔ رنگ اور زبان کی تفریق کو وہ ایک الٰہی نشان ضرور تسلیم کرتا ہے:
*﴿وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ﴾*
(سورۃ الروم: 22)
*(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے آسمان و زمین اور تمہاری مختلف زبانیں اور رنگ پیدا کیے)*
اس کو وہ کسی انسانی تفریق و تقسیم کی حد نہیں قرار دیتا اور انسان کے تمام دنیوی رشتے خود انسان کے بنائے ہوئے ہیں۔ اصلی رشتہ صرف ایک ہے اور وہ ہے جو انسان کو اس کے خالق اور پروردگار سے متصل کرتا ہے۔ وہ ایک ہے بس اس کے ماننے والوں کو بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ اگرچہ سمندروں کے طوفانوں، پہاڑوں کی مرتفع چوٹیوں، زمین کے دور دراز گوشوں اور جنس و نسل کی تفریقوں نے ان کو باہم ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہو۔
*﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾*
(سورۃ المؤمنون: 52)
*(بے شک تمہاری جماعت ایک ہی امت ہے اور ہم ایک ہی تمہارے پروردگار ہیں)*
*(جاری)*
*مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ*
*(خطبات آزاد، ص: 15-16)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی* | 250 |
| 11 | مذہب فطری چیز ہے
علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:
دنیا میں افراد انسانی کے خاص خاص مختصات یعنی زبان، قوم، ملک، صورت، رنگ کو حذف کرتے جاؤ تو جو چیزیں قدر مشترک رہ جائیں گی، ان میں ایک مذہب ہوگا۔ جن چیزوں کو ہم انسان کی فطرت خیال کرتے ہیں، مثلاً: اولاد کی محبت، انتقام کی خواہش، کمال کی قدردانی وغیر وغیرہ، ان کے فطری ہونے کی یہی وجہ قرار دیتے ہیں کہ تمام دنیا کے آدمیوں میں مشترک پائی جاتی ہیں۔ اس بنا پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر قوم، ہر طبقہ، ہر نسل کوئی نہ کوئی مذہب رکھتا ہے تو یہ مسئلہ صاف ثابت ہوجاتا ہے کہ مذہب فطری چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے مقدم اصول، تمام مذاہب میں یکساں پائے جاتے ہیں۔ خدا کا وجود، اس کی پرستش کا خیال، حیات بعد الموت، اعمال کی جزا و سزا، رحم دلی، ہمدردی، عفت کو اچھا سمجھنا، جھوٹ، دغا، زنا، چوری کو برا جاننا دنیا کے تمام مذہبوں کا اصل اصول ہے۔
(خطباتِ شبلی، نو دریافت، صفحہ: ۴۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab | 269 |
| 12 | *اقتباسِ مطالعہ:1*
*توحید: خوات اسلامی و عمومی رشتہ دینی*
*(مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ)*
قران کریم نے توحید الہی کے داعی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو سراج منیر سے ملقب کیا اور ان کے خصائص کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
*﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾*
*(سورۃ الأحزاب: 45-46)*
*(اے پیغمبر! بے شک ہم نے تم کو شہادت دینے والا، بشارت پہنچانے والا، ذلالت وہ خباثت سے خوف دلانے والا، راہ الہی کی طرف داعی اور ایک نورانی مشعل بنا کر بھیجا ہے)*
لیکن ایک دوسرے موقع پر آفتاب کو بھی سراج کا لقب سے یاد کیا ہے:
*﴿وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا﴾*
*سورۃ نوح: 16*
*(اور اسمان میں خدا نے چاند کو بھی بنایا جو ایک نور ہے اور سورج کو بھی بنایا تو ایک روشن مشعل ہے۔)*
اس مماثلت اور اشتراک تشبیہ سے مقصود یہ تھا کہ اسلام کی دعوت بھی اس آفتاب مادی کی طرح ایک آفتاب روحانی ہے۔ جب آفتاب نکلتا ہے تو اس روشنی اور حرارت میں کوئی تمیز نزدیک ودور، اعلیٰ و ادنی، سیاہ و سفید، باغ و دش کی نہیں ہوتی۔ اس کی روشنی بلا تمیز مکان و مقام ہر شئے پر چمکتی اور حرارت پذیر وجود کو گرم کرتی ہے۔ یہی حال اس افتاب دعوت الہی اور نیردرخشان سمائ رسالت کو عموم فیضان بخشی کھاتا جو گوسعیر سے چلا مگر فاران کی چوٹیوں پر نمودار ہوا، اس کی کرنوں میں داہنی جانب شریعت الہی کا نور اور کتاب مبین تھی، مگر بائیں جانب قیام عدل میزان کی شمشیر آبدار چمک رہی تھی۔ جس کا طلوع کائنات میں ظلمت کی شکست اور روشنی کی دائمی فیروزمندی تھا، کیونکہ آسمان ہدایت پر شریعت الٰہی کے گو سینکڑوں ستارے نمودار ہوئے تھے لیکن تاریکی کی آخری شکست کے لیے دنیا کو آفتاب ہی کے طلوع کا انتظار ہوتا ہے:
*﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى﴾*
*(سورۃ اللیل: 1–3)*
*(رات کی قسم جب اس کی تاریکی کائنات کی تمام اشیاء کو چھپا دیتی ہے، اور روز روشن کی قسم جب کہ افتاب کی تجلی تمام کائنات کو روشن کر دیتی ہے، اور دراصل اس خالق کی قسم جس نے تخلیق عالم کے لیے نر و مادہ کا وسیلہ پیدا کیا۔)*
اس آفتاب توحید نے طلوع ہوتے ہی تفریق وانشقاق کی تمام تاریکیوں کو مٹادیا، اس کی روشنی کی فیضان بخشی نے اسود و ابیض اور عرب و عجم کی کوئی تمیز نہ رکھی۔ خدا کی ربوبیت کی طرح اس کی رحمت بھی عام تھی، وہ رب العالمین تھا پس ضروری تھا کہ اس کی راہ کی طرف دعوت دینے والا بھی رحمت اللعالمین ہو۔
*﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾*
*(سورۃ الأنبياء: 107)*
(اے پیغمبر! ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام عالموں کے لیے رحمت قرار دے کر)
*(جاری)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی* | 321 |
| 13 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 11*
1869ء مصطفی خان شیفتہ۔ شاعر
1905ء محمد عبدہ۔ مفتی مصر
1950ء حبیب الرحمٰن خان شیروانی۔ مولانا ، صدر الصدور
1957ء آغاخان سوم (سرسلطان محمد شاہ)۔ روحانی پیشوا خوجہ اسماعیلی جماعت ،
1957ء محمد مظہر بقا۔
1985ء محمد اقبال حمید سہروردی، چودھری۔
1993ء سیف الدین سیف۔ شاعر
1995ء عبدالصمد انصاری (فقیرشاہ)۔ ڈاکٹر ،
1995ء محمود انصاری۔ ڈاکٹر ،
1996ء قاضی جلیل عباسی۔ مسلم سیاست داں
2000ء اکبر جہاں۔ بیگم شیخ عبد اللہ
2001ء سلامت علی خان۔ گایک
2001ء قتیل شفائی (اورنگ زیب خان)۔ شاعر ،
2008ء سید محمود علی۔
2011ء میاں ایس اے (سلیم احمد میاں)۔
2016ء مہدی حسن۔
2017ء محمد یونس جون پوری۔ شیخ الحدیث مولانا، مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور
2019ء صوفی محمد۔ سربراہ تحریک نفاذ شریعت
2020ء موسیٰ پاشا عبدالرحمٰن صدیقی۔
2021ء خواجہ صغیر علی خواجہ۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 330 |
| 14 | آج اردو کے نامور ادیب وافسانہ نگار مدیر فنون لاہور کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۰ جولائی ۲۰۰۶ء کو ہوئی تھی ، اس مناسبت سے آپ کے دوست اور نامور ادیب محمد کاظم(سباق) کا لکھا ہوا خاکہ پیش خدمت ہے۔ | 321 |
| 15 | ‘کہربا’ مصنوعی بجلی کو کہتے ہیں۔ عالمِ عرب میں 'Electricity' کو ‘کہربا’ ہی کہا جاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی ہر چیز ‘کہربائی’ ہوتی ہے۔ بجلی کا کام کرنے والا شخٰص یعنی الیکٹریشین بھی ‘کہربائی’ ہو جاتا ہے۔ لیکن اردو میں مصنوعی بجلی بھی برق ہے۔ پر برقی رَو کم کم ہی آتی ہے، جاتی زیادہ ہے۔ کسی سے کوئی کام پُھرتی سے کروانا ہو تو پہلے کہا جاتا تھا کہ ‘‘بجلی کی طرح جائیو اور بجلی کی طرح آئیو’’۔ مگر یہ محاورہ اب متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر کسی نے اس پر عمل کیا تو سمجھو گھنٹوں کے لیے گیا۔بجلی سے چلنے والی مشینوں کا شمار کبھی ہم ‘برقی آلات’ میں کرتے تھے۔ برقی جھاڑو، برقی پنکھا، برقی زینہ اوربرقی ترازو وغیرہ۔ ‘ہائیڈرو الیکٹری سٹی’ یعنی پانی سے بننے والی بجلی کے لیے ہم نے علمِ طبیعیات میں ‘برقاب’ کی اصطلاح پڑھی تھی۔ کیا دل کش اصطلاح ہے: ‘برقِ آب’۔پازیٹو یا نیگیٹو الیکٹرک چارج کے لےطبیعیات میں ‘مثبت یا منفی برقی بار کے مختصر الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ الیکٹرو میگنیٹک ویوز کو ‘برقناطیسی لہریں’ کہتے تھے اور کسی چیز کی ‘الیکٹر ی فکیشن’ کو ‘برقانا’کہا جاتا تھا۔ الیکٹرون کو ‘برقیہ‘ کہتے تھے۔ٹیلی گرام سے بھیجا جانے والا پیغام بھی‘برقیہ’ تھا۔‘الیکٹرونک میل’ یا ‘ای میل’ کے لیے اردو میں اِس چھوٹے سے حسین لفظ کو استعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو کتنا اچھا ہو۔ مسلسل استعمال سے یہ لفظ یقیناً عام اور مانوس ہوسکتا ہے۔ جب تک قرضے کا ڈنڈادِکھا کر انگریزی زبان کو ہم پر بزور مسلط نہیں کیا گیا تھا، ہمارے اداروں کے نام اُردو میں بھی لکھے جاتے تھے۔ مثلاً KDA ‘ادارۂ ترقیاتِ کراچی’ ہوتا تھا، KMCبلدیہ عظمیٰ کراچی، KESC(موجودہ ‘کے الیکٹرک’)‘ادارۂ فراہمیِ برق کراچی’ اور KW&SBکو ‘ادارۂ فراہمی و نکاسیِ آب، کراچی’ کہتے تھے۔ اسی طرح WAPDA‘ادارۂ ترقیاتِ برق و آب’ تھا۔اگرLDA اور CDAکا نام بھی علی الترتیب ‘ادارۂ ترقیاتِ لاہور’ اور ‘ادارہ ترقیاتِ دارالحکومت’ رکھ دیا جائے تو کیا ولایتی قرضے(اونچی شرحِ سود پر) ملنا بند ہو جائیں گے؟ صاحب!ولایتی ملکوں نے تو اپنے ہر ادارے کا نام اپنی ہی زبان میں رکھا ہے۔تو اُن کی نقل کیجیے نا! ہم اپنے ملک کے کسی محکمے میں داخل ہوں تو ان محکموں سے کوئی اپنائیت محسوس نہیں ہوتی۔ کمروں پر لگی تختیوں اور میز پر دھرے کاغذوں کی زبان دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم غلطی سے برطانیہ کے کسی دفتر میں داخل ہو گئے ہوں۔ یہی حال بڑے بڑے بازاروں اور بڑی بڑی شاہراہوں کاہے۔
٭٭ | 319 |
| 16 | *غلطی ہائے مضامین*
*بجلی بجلی ہوتی ہے*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
ہمارے نام ایک ‘برق نامہ’ (یا ‘برقیہ’)آیا ہے۔ اس برقنامے کے مُرسِل نے سوال فرمایا ہے کہ
‘‘برق گرتی ہے یاچمکتی ہے؟’’
صاحبو! آج کل تو ہر چیز ‘برقی’ ہو تی جا رہی ہے۔بلکہ یوں کہہ لیجے کہ ہر شے ‘برقائی’ جا رہی ہے۔ نامہ ہی نہیں نامہ بر بھی۔ایک زمانہ تھا کہ حضرتِ داغؔ قاصد کو روانہ کرنے کے بعد گھر کے باہر ٹیڑھے ٹیڑھے کھڑے ہو کر اُس کی رفتار، اُس کے چال چلن اور اُس کی چال ڈھال کا بغور معائنہ فرمایا کرتے تھے اور زیرِ لب بڑبڑایا کرتے تھے کہ
قاصد یہاں سے برق تھا پر نصف راہ سے
بیمار کی ہے چال، قدم ناتواں کے ہیں
مگر اب قاصد کی بیماری و ناتوانی کا برقی علاج کر دیا گیا ہے۔ بجلی کے جھٹکوں نے اسے چاق چوبند کر کے رکھ دیا ہے۔ برقی قاصد اب ہماری اُنگلیوں کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ انگلیاں تختۂ کلید پر تھرکتی رہتی ہیں ۔ جوں ہی خط مکمل ہوتا ہے، ہمارا برقی ‘نامہ بر’ ایک اشارۂ انگشت پر فقط لمحے بھر میں ‘نامہ بنامِ یار’ سات سمندر پار پہنچا آتا ہے۔ اس سے زیادہ برق رفتاری اور کیا ہوگی؟
ہاں، تو سوال یہ تھا کہ‘‘ برق گرتی ہے یا چمکتی ہے؟’’
حضرت! لغت کے لحاظ سے تو ‘برق’ چمکتی ہے۔ بادلوں کی رگڑ سے چمک چمک جانے والی بجلی کو برق کہا جاتا ہے۔ جب کہ زمین پر گرنے والی بجلی ‘صاعقہ’ کہلاتی ہے۔اپنی زمین پر اِدھر اُدھر دیکھیے تو نہ جانے کتنی ‘صاعقائیں’ لوگوں پر بجلی گراتی نظر آئیں۔ اسی وجہ سے اِدھر اُدھر دیکھنے کو منع کیاِ جاتا ہے۔ مگر علامہ اقبالؔ نے مسلمانوں پر گرنے والی ہر آسمانی ‘صاعقہ’ کو برق گردانا ہے:
‘‘برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر’’
اقبالؔ ہی نے نہیں، اُردو کے دیگر شعرا نے بھی ‘برق گرنے’ یا ‘برق بن کر گرنے’ کی تراکیب استعمال کی ہیں ۔برق، صاعقہ، رعد اور کہربا میں کیا تیکنیکی فرق ہے؟یہ لمبی بحث ہے۔ فی الحال اس بحث کاخاتمہ ہم ‘‘کلیۂ رئیسانی’’ سے کیے دیتے ہیں کہ چوں کہ اُردو میں برق، رعد، صاعقہ اور کہربا سب کو بجلی کہا جاتا ہے۔لہٰذا:
‘‘بجلی بجلی ہوتی ہے، گرے یا چمکے’’۔( یا چلی جائے)
ویسے برق کے لفظی معنی ظاہر ہونے، چمکنے یا روشن ہونے کے ہیں۔ مجازاً چمکتی چیزوں کو بھی برق سے تشبیہ دے دی جاتی ہے۔ اگر کسی کا لباس اُجلا ہو اور خوب چمک رہا ہو تو کہا جاتا ہے کہ
‘‘سفید بَرّاق لباس زیب تن کر رکھا ہے’’۔
‘بَرّاق’انتہائی سفید کے معنوں میں ہے، مثلاً ‘زاغِ شب بگلے کے پر سے بھی کہیں بَرّاق ہو’۔ زاغِ شب کا مطلب ہے رات کا کوّا۔ یہ سیاسی پرندہ رات بھر ٹی وی پر کائیں کائیں کرتا رہتا ہے۔ بہر حال لغوی برق تو کوندتی ہے۔‘رعد’ اُس آواز کو کہتے ہیں جو بادلوں کی رگڑ سے پید ا ہو۔ اسے کڑک، گرج یا "Thunder" کہا جاتا ہے۔ اُردو میں ‘‘تھنڈر’’ کا رشتہ بھی بجلی ہی سے جوڑتے ہیں ۔ لہٰذا اِس دل دہلاتی آواز کو ‘‘بجلی کا کڑکا’’ کہا گیا۔ مولانا حالیؔ نے مسدسِ حالیؔ مں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی دعوتی پُکار کوبھی ‘‘تھنڈر’’ قرار دیاہے:
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادیؐ
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی
اِک آواز میں سوتی بستی جگا دی
‘بجلی کڑکنے’ کی آواز کو ‘بادل گرجنا’ بھی کہتے ہیں۔ اللہ جانے کہاوتیں کہنے والوں سے کس نے کہہ دیا کہ ‘‘جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں’’۔بھلا آسمان پر چڑھ کر کس نے تصدیق کی ہے؟ ‘صاعقہ’جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، زمین پر گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں۔اردو نثر میں ان معنوں میں اس لفظ کااستعمال کثرت سے نہیں ہوا۔ شعروں میں البتہ ہوا ہے۔ انیسؔ کا ایک شعر ہے:
اِک صاعقہ گرتے ہوئے جو دُور سے دیکھا
موسیٰ نے اسی نور کو تھا طور سے دیکھا
اس شعر سے پتا چلتا ہے کہ صاعقہ مذکر ہے۔ اہلِ لغت نے بھی اس لفظ کو‘اسمِ مذکر’ ہی لکھا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں مؤنث ہی کا‘ اسم’ صاعقہ ہوتا ہے۔ شعرا نے صاعقہ کا لفظ بالعموم طُور پر گرنے والی بجلی کے لے استعمال کیا ہے۔‘‘محاصرۂ ادرنہ’’ میں اقبالؔ بتاتے ہیں کہ محصور ہو جانے کے بعد شکریؔ نے ‘آئین جنگ’(Martial Law) نافذ کر کے ذمیوں کو اپنا مال ذخیرۂ لشکر میں جمع کرانے کا حکم دیا:
لیکن فقیہِ شہر نے جس دم سنی یہ بات
گرما کے مثل صاعقۂ طور ہو گیا
ذمی کا مال لشکرِ مسلم پہ ہے حرام
فتویٰ تمام شہر میں مشہور ہو گیا
‘صاعقہ’ کے لے شعر میں بھی برق یابجلی کے الفاظ زیادہ استعمال کیے گئے ہںں۔ؔ ‘برقِ حوادث اللہ اللہ+جھوم رہی ہے شاخِ نشیمن’۔ ‘برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں’۔ ‘گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو’۔ ‘بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو’۔ وغیرہ۔ | 310 |
| 17 | علم کا جوہر، عاجزی اور حق پسندی
مخدوم المحترم مولانا ڈاکٹر پروفیسر سید سلمان ندوی صاحب حفظہ اللّٰه تعالیٰ نے یکم اپریل ٢٠٢٦ء کی ایک مجلس میں ارشاد فرمایا:
ہم جو کچھ پڑھیں یا پڑھائیں، اس پر استقامت ہونی چاہیے، یہ سب چیزیں اللّٰه تعالیٰ کے ہاں پیش ہونی ہیں، رضا فقط اللّٰه تعالیٰ کی مطلوب ہو، اس لیے اخلاص کی ضرورت ہے، پہلے ہمارے علماء جب دستخط کرتے تھے تو اپنے نام سے غفرلہٗ وغیرہ لکھتے تھے، اب تو ایسی چیزیں ختم ہوگئی ہیں، لکھ تو ہم رہے ہیں، لیکن کوئی انہیں پڑھ کر سنائے گا بھی۔ تو اس لیے احتیاط کرنی چاہیے، یہ مزاج نہ ہونا چاہیے کہ مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ عجز و انکساری رکھنے کی ضرورت ہے، عالم ہونے کے معنیٰ یہ نہیں کہ ہم سے غلطی نہ ہوگی، بلکہ ہم سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔ میرے والد (علامہ سید سلیمان ندویؒ) کے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ شیخ تھے، مگر مولانا تھانویؒ نے جو بات لکھ دی یا کہہ دی ہے، وہ حرفِ آخر ہے، ان کے ہاں ایسا نہیں تھا۔ میرے والد کا بعض باتوں میں اختلاف ہوتا تھا۔ اسی لیے تو والد صاحب نے کسی سے کہا کہ مولانا تھانویؒ نے لکھا ہے، میں نے تو نہیں لکھا۔ یہ چیزیں سمجھنے کی ہیں۔
(ناقل و راوی: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab | 412 |
| 18 | کا انتقال ہوا، اس وقت تحفیظ القرآن میں اپنے دن کی پوری ڈیوٹی انجام دے کر گھر واپس جارہے تھے تو سینے میں کچھ جلن محسوس ہوئی، پھر وہاں سے بلاوا آگیا جہاں سے کوئی دوبارہ واپس نہیں لوٹتا، محمد اشفاق ہماری ظاہری آنکھوں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہوگئے، لیکن ان کی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی، جامعہ کے درو دیوار سے ان کی خوشبو ہمیشہ مہکتی رہے گی۔ ، کتنی معصوم زندگی گذاری انہوں نے، اور کیسے پاک وصاف ہوکر اپنے خالق کی طرف وہ لوٹے ہیں، ان جیسوں کے درجات کی بلندی کے لئے دست بہ دعا ہونا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے، لیکن کیا یہ درست نہیں کہ یہ حضرات ہماری دعاؤں سے بہت بلند ہیں۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ
2026-07-09 | 414 |
| 19 | *حافظ محمد اشفاق محمد حسینا، جنت کا راہی*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
کل مورخہ ۷ / جولائی ملیہ مسجد میں ابھی نماز مغرب کے لئے صف بند ھ رہی تھی کہ اطلاع آئی کہ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا،اللہ تعالی نے انہیں رحم مادر ہی سے بینائی سے محروم اس دنیا میں بھیجا تھا، لیکن انہوں نے بینائی سے آنکھ کی محرومی کو دل کے بصیرت سے بدل دیا۔
یہ جناب الحاج محی الدین منیری کا دور نظامت تھا، ان کے والد ماجد نے اپنے نونہال کو جو بینائی سے مکمل محروم تھا، اور کسی شخص کے سہارے کے بغیرایک قدم چلنا بھی مشکل تھا، جامعہ آباد لے آئے تھے، انہیں اپنے بچے کو حافظ بنانے کی تڑپ تھی، کیونکہ اس بچے کو آنکھوں کی بینائی سے محرومی کے باوجود قرآن سے جو محبت تھی، اور اسے پڑھنے کی جو لگن تھی، اسے دیکھ کر آپ کی چھٹی حس کہ رہی تھی کہ اگر خاطر خواہ توجہ دی جائے تو یہ بچہ ایک نہ ایک دن قرآن کا حافظ بن کر ان کی نجات کا ذریعہ بنے گا۔
اسی نیک جذبے کے ساتھ ان کے والد نے ایک نہیں تین بار جامعہ کے چکر کاٹے تھے، اور انہیں یہاں سے حافظ قرآن بناکر نکالنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن چونکہ یہ بچہ بغیر سہارے ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا تھا،تو ذمہ داران نے جن میں ناظم جامعہ بھی شامل تھے، اس بچے کو جامعہ میں داخل کرنے سے معذرت کا اظہار کررہے تھے۔ لیکن وہ جامعہ سے باربار کے انکار سننے کے باوجود مایوس نہ ہوئے، بالآخر درجہ حفظ کے ایک استاد حافظ شمیم صاحب کو یہ دیکھ کر ترس آگیا، اور انہوں نے ناظم جامعہ کو یقین دلایا کہ آپ فکر نہ کریں، اسے حافظ بنانے کی ذمہ داری ان شاء اللہ میں لیتا ہوں۔
حافظ صاحب شمالی ہند سے تعلق رکھتے تھے، منیری صاحب کو اپنے قائم کردہ جامعۃ الصالحات کی بڑی فکر رہتی تھی، اور انہوں نے ابتدا میں مالیگاؤں سے جامعۃ الصالحات کی فارغ التحصیل استانیوں کو بھٹکل میں بسا کر ان کی یہاں پر خدمات حاصل کرنے کے لئے بڑے جتن کئے تھے، مالیگاؤں سے آنے والی استانیوں میں محترمہ شکیلہ بھی تھیں، جو مولانا عبد الستار معروفی سابق شیخ الحدیث دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی پوتی تھیں، منیری صاحب نے ذاتی دلچسپی لے حافظ شمیم کے ساتھ شکیلہ آپا کا گھر بسایا تھا۔
حافظ شمیم صاحب نے اس معذور بچے پر خوب محنت کی، درجے کے اوقات میں بھی اور علاوہ بھی اس کی فکر میں مسلسل لگے رہے، کبھی جامعہ آباد سے دور شہر میں جا کر بھی غیر درسی اوقات میں انہیں پڑھاتے تھے، تجوید کے لئے ان کی منہ میں انگلیاں ڈال کر قواعد بتاتے تھے، اس طرح آپ نے چند سالوں میں حفظ قرآن مکمل کیا، یہ سنہ ۱۹۹۳ء کی بات ہے، اپنے فرزند کو حافظ دیکھ کراپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاکر آپ تھوڑے ہی عرصہ بعد اللہ کو پیارے ہوگئے، پھر دو مہینے سے بھی کم عرصہ میں ان کے بڑے بھائی الطاف نے بھی اس دنیا کو داغ مفارقت دے دی، اور ان کے کمزور کندھوں پر اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی بہن کی کفالت کی ذمہ داری آگئی۔
ان کی زندگی کا ایک زمانہ وہ تھا جب وہ سبھی پر بار بنے ہوئے تھے،اور اب وہ زمانہ آگیا تھاکہ ان کے ناتوان کندھوں پر اتنا بڑا بوجھ آگیا۔ لیکن اللہ مسبب الاسباب ہے، آپ جامعہ کے شعبہ تحفیظ قرآن مین محفظ کی حیثیت سے وابستہ ہوئے، اور پورے ۲۹ سال تک بحسن وخوبی یہ ذمہ داری انجام دیتے، اور آپ کے سامنے زانو پھیلا کرسینکڑوں حفاظ کرام تکمیل حفظ کے زیور سے آراستہ ہوئے، پھر آپ کو بھٹکل کی قاضیا مسجد میں امامت کی ذمہ داری مل گئی، اس طرح آپ نے عزت نفس کے ساتھ زندگی ذمہ داریوں کا جو بوجھ اٹھایا وہ ایک مثال بن گیا۔
الحاج محی الدین منیری مرحوم کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹکل کو دور حاضر کا پہلا حافظ قرآن مرحمت فرمایا تھا، انہیں بھٹکل کے اس پہلے نابینا حافظ قرآن کی سرپرستی کا بھی شرف حاصل ہوا۔ کیونکہ ان کے حفظ قرآن میں داخلہ کے بعد انہیں لانے لے جانے کے لئے ایک رفیق کا بھی آپ نے انتظام اس وقت کردیا تھا، اور ایک وقت ایسا آیا کہ جامعہ سے سرکاری تینگنگڈی بس پر بیٹھ کر آپ جامعہ آباد سے گھر لوٹ رہے تھے، تو ایک سیٹ پر حافظ اشفاق شہر جانے کے لئے کونے پر بیٹھے تھے، منیری صاحب آہستہ سے ان کی بغل میں سیٹ پر بیٹھ گئے، اور نرمی سے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معافی طلب کی کہ میں نے تین مرتبہ آپ کے داخلہ سے انکار کیا تھا، لیکن آپ پرعزم نکلے، اوراپنے مقصد میں کامیاب وکامران ہوکر نکلے ، کردار کے یہ کیسے بلند لوگ تھے!، زندگی میں انہیں دیکھنا ہم جیسوں کے لئے کتنا بڑا اعزاز ہے؟۔
حافظ اشفاق نے اس دنیائے فانی میں زندگی کی (۵۵) بہاریں دیکھیں، ان میں سے گذرنے والا ہر دن آپ کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں تھا، آنکھوں کی تاریکی کو آپ نے قرآن کریم کی روشنی سے منور کردیا،معذوری کے باوجود اپنی زندگی بڑے باوقار انداز سے، عزت نفس کے ساتھ گذار دی، شادی بھی کی ، اور بچے کے والد بھی بنے، جس شام آپ | 441 |
| 20 | سچی باتیں (27؍جنوری 1941ء)۔۔۔ قدیم جاہلیت
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
پچھلی عیسوی صدی کے ثلث آخر کے مشاہیر یورپ میں ایک صاحب پروفیسر رابرٹسن اسمتھ ہوئے ہیں، کیمبرج یونیورسٹی میں عربی زبان کے استاد تھے، اور عرب ومتعلقات عرب پر ان کی تحقیق آج تک مستند چلی آتی ہے۔ سامی مذہب پر متعدد فاضلانہ لکچر دئیے۔ ان کا مجموعہ بعد کو Religion of the Semitesسامیوں کا مذہب، کے عنوان سے شائع ہوگیا۔ باب دوم کے آغاز میں لکھتے ہیں:-
’’جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکاہے، ادیان قدیم کا بجائے مجموعۂ معتقدات ومسائل کے ایک رواج یا دستور کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ قدیم مذہب ایک جزو ہوتاتھا اُسی نظام معاشرت کا جس کے ماتحت اس کے پیرو رہاکرتے تھے۔ اس لئے قدیم مذاہب کے ساتھ لفظ ’’سسٹم‘‘ کا استعمال صرف اسی معنی میں درست ہے جیسے کسی سیاسی ’’سسٹم‘‘ کا ذکر کیاجاتاہے، نہ اس معنیٰ میں کہ ان مذاہب کے کچھ مخصوص عقائد اور اصول تھے۔ عام طور پر یہ سمجھئے کہ مذہب نام تھا چند اعمال ورسوم کا جن کے صحیح ادا کرنے پر مدارتھا دیوتاؤں کی خوشی اور ناخوشی کا۔اور ان مراسم میں شرکت پر ہر شخص اس بنا پر مجبور تھا کہ وہ پیدا اُسی خاندان یا اُس قبیلہ میں ہوا ہے ، یا یہ کہ اُسے فلاں مرتبہ یا منصب حاصل ہے۔ اپنے ارادہ اور پسند سے مذہب اختیار کرنے کے کوئی معنیٰ نہ تھے۔ مذہب تو گویا ورثہ میں مل ہی جاتاتھا جیسے اور خاندانی رسم ورواج ملتے تھے۔ اور ہر فرد کوکم وبیش مذہبی ہوناہی پڑتاتھا، جیسے آج ہرشخص کو کم وبیش وطن کا خیال رکھنا ہی پڑتاہے‘‘۔ (ص: 28)
گویا دین جاہلی کوئی جسم متحرک نامی، زندہ تھا ہی نہیں، ایک جامد مردہ لاشہ تھا۔ ایک مجموعہ تھا دستوروں، رسموں، رواجوں کا۔ نہ عقل سے کوئی تعلق تھا، نہ عقل اعلیٰ یا وحی سے۔ ہر قوم یا قبیلہ میں ایک بنابنایا سانچہ۔ کچھ عقائد ورسوم کا پشتہا پشت سے چلاآتا رہتاتھا، قوم یا قبیلہ میں جو بچہ آنکھ کھولتا، وہ طبعًا واضطرارًا اُن ہی کی آبائی رسوم وعقائد کی راہ پرپڑلینا۔ دخل نہ اس میں کسب واختیار کوہوتا نہ غور وتدبر کو۔ اسی لئے اس جاہلی تخیل میں کسی نئے مذہب کے قبول واختیار کرنے اور قدیم مذہب کو ترک کرنے کے کوئی معنی ہی نہ تھے……دانایان فرنگ تو اس نتیجہ تک اب پہونچے ہیں۔ قرآن ساڑھے تیرہ سو چودہ سو برس ہوئے اس ذہنیت کو دین جاہلی کے سلسلہ میں ماوجدنا علیہ آباء نا، ما ألفینا علیہ آباء نا ، ما سمعنا بھذا فی آباء نا الأوّلین وغیرہ مختلف عنوانات کے ذریعہ سے روشناس کرچکاہے۔
تیرہ سو برس کے بعد ہَوا پھر وہی چلی ہے۔ ’’روشن خیالوں‘‘ نے دین کو ایک ’’موروثی‘‘ ’’آبائی‘‘ چیز سمجھ لیاہے۔ اور دین کی زندہ حقیقت کو ’’قوم‘‘ کی مُردہ رسمیت کے اندر گم کردیاہے۔ مذہب کا جاہلی تخیل نئے سرے سے زندہ ہواہے بس مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانا اور مسلمان کا سا نام رکھ لینا بالکل کافی ہے۔ قانون اسلام کے بہترین شارحین اور Juristsپر دل کھول کر مضحکہ کیجئے، احادیث رسولؐ ورجال کی جانچ پرتال میں عمریں صرف کردینے والے محدثین بلکہ رسول کے صحابیوں تک پر بازاری زبان میں پھبتیاں کسئے، اقوالِ رسول کی حجیت سے انکار کردیجئے، قرآن کی تعلیمات سے بے کھٹکے انکار کرتے چلے جائیے، یہ کہتے جائیے کہ اسلام کا قانونِ سود قابلِ ترمیم ہے، شریعت کا قانون وراثت قابل تنسیخ ہے، ضابطۂ فوجداری ناقابل عمل ہے، قرآن کے زبان کو، قرآن کے رسم الخط کو بس چلے تو جرم قرار دے دیجئے، رسولؐ کی زبان میں اذان اور نماز دونوں کی ممانعت کردیجئے، گھر کی عورتوں کو بے نقاب اور بے حجاب باہر نکالئے، لباس اُنھیں نیم برہنہ پہنائیے، ان کے جسم کی زینتوں کو نمایاں سے نمایاں تر کیجئے، گانے کو ، بجانے کو ، ناچنے کو، اداکاری کو نصاب تعلیم کا جزو بنائیے۔ فخر اپنے دین پر نہیں، اپنے وطن پر کیجئے،اور جب کوئی احتساب پر آمادہ ہو، تو اُس کا منہ یہ کہہ کر نوچ لیجئے، کہ ’’تم ہوتے کون ہو ہمارے ایمان، ہمارے اسلام میں شک کرنے والے،ہمارے عقائد پر جرح کرنے والے؟ دیکھتے نہیں ہو کہ ہمارا نام مجتبیٰ جمال ہے، عبد التواب ہے، علی رضا ہے، اور دیکھتے نہیں ہو کہ ہم کتنے کام مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے کرچکے ہیں، اور ملّت کی راہ سے کتنی دشواریاں دور کرچکے ہیں! گویا جس طرح پیدائشی برہم سے برہمنیت اور شودر کے گھر میں پیداہوجانے والے سے شودریت کسی طرح الگ نہیں ہوسکتی، اسی طرح اسلام ہے، کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانے والے کے ساتھ ہرحال میں چمٹا ہی رہتاہے!……چور کو اتنا اقتدار کوتوال پر، اس دَور سے قبل، کبھی کیوں حاصل ہواہوگا؟
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 515 |
