en
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Open in Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Show more
8 150
Subscribers
No data24 hours
-427 days
+4930 days

Data loading in progress...

Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
July '26
July '26
+87
in 0 channels
June '26
+218
in 0 channels
Get PRO
May '26
+228
in 1 channels
Get PRO
April '26
+163
in 1 channels
Get PRO
March '26
+62
in 2 channels
Get PRO
February '26
+89
in 1 channels
Get PRO
January '26
+95
in 2 channels
Get PRO
December '25
+81
in 0 channels
Get PRO
November '25
+109
in 1 channels
Get PRO
October '25
+105
in 1 channels
Get PRO
September '25
+119
in 1 channels
Get PRO
August '25
+173
in 2 channels
Get PRO
July '25
+151
in 2 channels
Get PRO
June '25
+140
in 2 channels
Get PRO
May '25
+95
in 1 channels
Get PRO
April '25
+105
in 0 channels
Get PRO
March '25
+153
in 2 channels
Get PRO
February '25
+131
in 1 channels
Get PRO
January '25
+278
in 1 channels
Get PRO
December '24
+403
in 0 channels
Get PRO
November '24
+500
in 2 channels
Get PRO
October '24
+487
in 1 channels
Get PRO
September '24
+322
in 0 channels
Get PRO
August '24
+322
in 3 channels
Get PRO
July '24
+323
in 4 channels
Get PRO
June '24
+341
in 0 channels
Get PRO
May '24
+331
in 1 channels
Get PRO
April '24
+300
in 3 channels
Get PRO
March '24
+265
in 1 channels
Get PRO
February '24
+321
in 1 channels
Get PRO
January '24
+403
in 3 channels
Get PRO
December '23
+376
in 0 channels
Get PRO
November '23
+132
in 0 channels
Get PRO
October '23
+124
in 1 channels
Get PRO
September '23
+92
in 0 channels
Get PRO
August '23
+121
in 0 channels
Get PRO
July '23
+116
in 0 channels
Get PRO
June '23
+77
in 0 channels
Get PRO
May '23
+253
in 0 channels
Get PRO
April '23
+81
in 0 channels
Get PRO
March '23
+49
in 0 channels
Get PRO
February '23
+126
in 0 channels
Get PRO
January '23
+137
in 0 channels
Get PRO
December '22
+123
in 0 channels
Get PRO
November '22
+209
in 0 channels
Get PRO
October '22
+119
in 0 channels
Get PRO
September '22
+62
in 0 channels
Get PRO
August '22
+40
in 0 channels
Get PRO
July '22
+44
in 0 channels
Get PRO
June '22
+138
in 0 channels
Get PRO
May '22
+42
in 0 channels
Get PRO
April '22
+17
in 0 channels
Get PRO
March '22
+31
in 0 channels
Get PRO
February '22
+28
in 0 channels
Get PRO
January '22
+56
in 0 channels
Get PRO
December '21
+112
in 0 channels
Get PRO
November '21
+52
in 0 channels
Get PRO
October '21
+112
in 0 channels
Get PRO
September '21
+64
in 0 channels
Get PRO
August '21
+43
in 0 channels
Get PRO
July '21
+63
in 0 channels
Get PRO
June '21
+164
in 0 channels
Get PRO
May '21
+38
in 0 channels
Get PRO
April '21
+60
in 0 channels
Get PRO
March '21
+103
in 0 channels
Get PRO
February '21
+80
in 0 channels
Get PRO
January '21
+211
in 0 channels
Get PRO
December '20
+1 362
in 0 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
13 July+4
12 July+4
11 July+11
10 July+3
09 July+6
08 July+5
07 July+7
06 July+4
05 July+12
04 July+3
03 July+3
02 July+9
01 July+16
Channel Posts
صور_من_حياة_الصحابة_عبد_الرحمن_بن_عوف.pdf5.51 MB

2
2026-07-12 عبد الرحمن رافت الباشا.mp3
164
3
ہم نے گذشتہ دو ماہ سے طلبہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے لئے تقریبا روزانہ درجات لینے شروع کئے ہیں، اس میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عالمیت کی اونچی دو جماعتوں کو سمارٹ اسکرین کے ذریعے کتابوں کا تعارف کروائیں، اور نچلی جماعتوں کو عربی بول چال کی مشق کروائیں، اس درجہ کا میڈیم مکمل عربی ہوتا ہے۔ اس کے لئے جو تجربہ کررہے ہیں ان میں سے ایک صور من حیاۃ الصحابہ کی مشق ہے، پہلے اردو ترجمہ پڑھواتے ہیں، اس سے اردو درست کرنے میں مدد ملتی ہے، اس کے بعد عربی آڈیو سناتے ہیں، پھر عربی عبارت پڑھواتے ہیں، جس کے بعد اس باب سے متعلق مشقیں ہوتی ہیں، جن میں غریب الفاظ کے معنی، ان کے استعمالات، سوال وجواب، خالی جگہ پر کرو، جیسی مشقیں شامل ہیں، جنہیں ہم خود تیار کرتے ہیں، صور من حیاۃ الصحابہ کی ایک صوتی فائل، اردو ترجمہ، عربی عبارت ، اور سوال وجواب کی فائل منسلک ہے، واضح رہے، درس کے دوران عبارت کا لفظی ترجمہ اردو میں نہیں کیا جاتا۔ اس سلسلے میں آپ کے تاثرات سے مستفید فرمائیں، اگر احباب سے ریکٹشن اچھا ملتا رہا توان شاء اللہ پھر اسی انداز سے صور من حیاۃ الصحابہ اور دوسری کلپس کی فائلیں ارسال ہونگی۔ یہ فائلیں ہم اس امید پر ارسال کررہے ہین کہ اساتذہ کرام ان کا پرنٹ آوٹ نکال کر بچوں سے مشقیں کروائیں۔ واضح رہے کہ نئے الفاظ کا ذہن میں ذخیرہ بننے کے لئے ہر لفظ کا تین مرتبہ استعمال ضروری ہے، اردو ترجمہ عبارت سمجھنے کی صلاحیت دے سکتا ہے، لیکن لفظ کے استعمال کی صلاحیت پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ عبد المتین منیری
165
4
*وفیات مورخہ:جولائی/ 12* 1944ء محمد الیاس کاندھلوی۔ حضرت مولانا ، بانی تبلیغی جماعت 1971ء غلام رسول قادری۔ شاہ 1972ء اختر حسین۔ مرزا 1974ء حسین حسان ندوی۔ مولوی، ادیب اطفال ، مدیر پیام تعلیم 1974ء ساغر صدیقی (محمد اختر )۔ شاعر 1981ء کرار جونپوری (سید کرارحیدر)۔ ، 1986ء آغا مہدی۔ علامہ ، سید 1989ء خواجہ محمد شریف۔ ، 1989ء محمد طفیل امرتسری۔ الحاج قاری 2003ء سلامت ہاشم۔ فلیپینی تحریکی رہنما 2003ء نسیم احمد اللہ والا۔ 2006ء صدیق احمد ہردوئی۔ مشنی 2009ء ابن جبرین، عبد اللہ بن عبد الرحمن بن جبرین۔ سعودی عالم دین 2009ء نذیر احمد۔ شیخ 2013ء محمد شفیق خاں۔ مولانا 2017ء عبد الرحمن بن عبد العزیز آل سعود۔ والد بانی مملکت سعودی عرب 2017ء محمد الیاس مظاہری۔ مولانا، سید علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
138
5
*سچی باتیں (2؍فروری 1941ء)۔۔۔ جدید انسان کی ترقی* از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ اعداد شائع ہوئے ہیں، کہ امریکہ میں نیویارکؔ سے سین فرانسسکوؔ تک یعنی مشرقی سرے سے لے کر مغربی تک کُل مسافت ڈھائی ہزار میل کی ہے ۔ اس فاصلہ کے طے کرنے میں 110سال کے اندر ترقیاں حسب ذیل ہوئی ہیں:- 1830ء میں ، یہ فاصلہ، بیل گاڑیوں کے ذریعہ پورے 6مہینے میں طے ہوتاتھا۔ 1850ء میں گھورا گاڑی اور ریل کی مدد سے بجائے مہینوں کے 23دن میں طے ہونے لگے۔ 1861ء میں، گھوڑے کی ڈاک اور ریل سے کُل ساڑھے بارہ دن میں طے ہونے لگے۔ 1869ء میں ریل کا پورا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اور یہ سفر صِرف 7دن کا رہ گیا۔ 1876ء میں اسپیشل ٹرین نے دنوں کا گھٹا کر گھنٹے بنایا، اور مدت کُل 100گھنٹوں کی رہ گئی۔ 1920ء سے طیارہ اور ٹرین مدد سے مدت صرف 72گھنٹوں کی رہ گئی۔ 1921ء سے طیارے رات اور دن چلنے لگے، اورمدت گھٹ کر ساڑھے تینتیس گھنٹوں سے کم رہ گئی۔ 1924ء سے باضابطہ ہوائی ٹائم ٹیبل کے لحاظ سے مدت 32گھنٹوں کی رہی۔ 1933ء میں ہوائی ڈاک نے مدت گھٹ اکر ساڑھے 19گھنٹے کی کردی۔ 1940ء میں مزید ہوائی ترقیوں سے مسافت سرف پونے سولہ گھنٹوں کی رہ گئی۔ خلاصہ ترقیوں کی اِس روئداد کا یہ ہے، کہ مہذب وترقی یافتہ انسان، جہاں تک اُڑ کر جاپہونچنے کا تعلق ہے، اپنے باپ دادوں کا تو خیر ذکر ہی نہیں، ہوا میں اُڑتے رہنے والے پرندوں سے بھی آگے نکل گیاہے، اور ترقی کے اس دوڑ میں چیل اور کوّے اور کبوتر اور باز اور گِدھ اور عقاب کو اپنے سے کہیں پیچھے چھوڑگیاہے!……لیکن اسی امریکہ میں، اسی ترقی یافتہ ، ہواباز امریکہ میں، کبھی یہ سوال بھی دل میں پیداہوتاہے ، کہ خود انسانیت پر کیا گزر رہی ہے ۔ انسان کی روح تندرست ، وتوانا ہے ، یا بیمار ومضمحل ہے؟ زندہ بھی ہے یا مرچکی ہے؟ جانیں کہاں تک محفوظ ہیں؟قتل، دن دہاڑے ڈاکے، لوٹ مار کے حادثوں کا اوسط سالانہ، ماہانہ، روزانہ کیاہے؟ واقعات خود کُشی کے اعداد کیاہیں؟ اسباب خود کُشی کیسے نئے نئے روز نکلے آتے ہیں! قتل وہلاکت کی جو جو تدبیریں، جو جو طریقے بیسویں صدی کے مہذب انسان نے ایجاد کرلئے ہیں، اگلوں کے کبھی خواب وخیال میں بھی آئے تھے؟ مال ایک انسان کا دوسرے انسان کے ہاتھوں کس حد تک محفوظ ہے! جائدادیں ایک کی دوسرے کی طرف خواہ چھین جھپٹ کر خواہ مکروخیانت اور جعل سازی سے، کس سُرعت سے منتقل ہورہی ہیں! ناموس ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے ہاتھوں کب محفوظ ہے؟ ماں، باپ ،بھائی، بہن، عزت کسی کی بھی محفوظ ہے؟ شہوت پرستی اور ہوس رانی کے جو طریقے آج ہر کالج ، ہر اسکول میں عام ہوچکے ہیں؟ پہلے ادھر کسی کے ذہنِ رسا کی بھی رسائی ہوئی تھی؟ اور موقوف امریکہ ہی پر کیوں رکھئے۔ یورپ کے ایک ایک مُلک کا کیا حال ہے۔ برطانیہ اور فرانس اور جرمنی اور اطالیہ اور روس، سیاسی حیثیت سے، نظام حکومت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کیسے ہی ضد ہوں، نازی ہوں، سوشلسٹ ہوں، امپرئیلسٹ ہوں، کوئی ہوں، اور انھیں کے شمول میں جاپان کو بھی رکھ لیجئے، تہذیبی امراض اور روحانی وباؤں میں، کیا امریکہ سے بہت کچھ، یا کچھ بھی مختلف ہیں؟ اور پھر یہی ’’ترقی‘‘ خود آپ کے جن جن ملکوں میں قدم جماچکی ہے، وہ ٹرکی ہو یا ایران، مصر ہو یا شام، عراق ہو یا خود ہندوستان، وہاں کیا حال ہورہاہے؟ جاگ رہی اور جی رہی کون سی چیز ہے، اور سورہی اور مررہی کون سی چیز ہے؟ انسان نے اپنی انسانیت بیچ کر اس کے عوض حاصل کیاکیا؟ محض حیوانیت ! اور حیوانیت میں بھی حیوان۔ ’’پرندگی‘‘ سے بھی بڑھ کر حیوان کی درندگی ! اور مادّی سکون اور آسودگی اس پر بھی نصیب نہیں! بلکہ مہذب دنیا ہے کہ عیش وراحت کی جنت بننے کی جگہ روز بروز بنتی جارہی ہے ہلاکتوں کا ایک جہنم زار! https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
160
6
*اقتباس مطالعہ:2* انسان کی یہ سب سے بڑی ضلالت اور خدا فراموشی تھی کہ اس نے رشتہ خلقت کی وحدت کو بھلا کر زمین تھے ٹکراؤں اور خاندان کی تفریقوں پر رشتے قائم کر لیے تھے۔ خدا کی زمین کو جو محبت اور باہمی اتحاد کے لیے تھی قوموں کے باہمی اختلافات و نزاعات کا گھر بنا دیا تھا۔ لیکن اسلام دنیا میں پہلی آواز ہے جس نے انسان کی بنائی ہوئی تفریقات پر نہیں بلکہ الٰہی تعبد کی وحدت پر ایک عالمگیر اخوت و اتحاد کی دعوت دی اور کہا کہ۔۔ *﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾* (سورۃ الحجرات: 13) *(اے لوگو ہم نے دنیا میں تمہارے خلقت کا وسیلہ مرد اور عورت کا اتحاد رکھا اور نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا۔اس لیے کہ باہم پہچانے جاؤ ورنہ دراصل تفریق اور انشعاب کوئی ذریعے امتیاز نہیں اور امتیاز اور شرف اسی کے لیے ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہے)* پس درحقیقت اسلام کے نزدیک وطن و مقام اور رنگ زبان کی تفریق کوئی چیز نہیں۔ رنگ اور زبان کی تفریق کو وہ ایک الٰہی نشان ضرور تسلیم کرتا ہے: *﴿وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ﴾* (سورۃ الروم: 22) *(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے آسمان و زمین اور تمہاری مختلف زبانیں اور رنگ پیدا کیے)* اس کو وہ کسی انسانی تفریق و تقسیم کی حد نہیں قرار دیتا اور انسان کے تمام دنیوی رشتے خود انسان کے بنائے ہوئے ہیں۔ اصلی رشتہ صرف ایک ہے اور وہ ہے جو انسان کو اس کے خالق اور پروردگار سے متصل کرتا ہے۔ وہ ایک ہے بس اس کے ماننے والوں کو بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ اگرچہ سمندروں کے طوفانوں، پہاڑوں کی مرتفع چوٹیوں، زمین کے دور دراز گوشوں اور جنس و نسل کی تفریقوں نے ان کو باہم ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہو۔ *﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾* (سورۃ المؤمنون: 52) *(بے شک تمہاری جماعت ایک ہی امت ہے اور ہم ایک ہی تمہارے پروردگار ہیں)* *(جاری)* *مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ* *(خطبات آزاد، ص: 15-16)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
204
7
مذہب فطری چیز ہے علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں: دنیا میں افراد انسانی کے خاص خاص مختصات یعنی زبان، قوم، ملک، صورت، رنگ کو حذف کرتے جاؤ تو جو چیزیں قدر مشترک رہ جائیں گی، ان میں ایک مذہب ہوگا۔ جن چیزوں کو ہم انسان کی فطرت خیال کرتے ہیں، مثلاً: اولاد کی محبت، انتقام کی خواہش، کمال کی قدردانی وغیر وغیرہ، ان کے فطری ہونے کی یہی وجہ قرار دیتے ہیں کہ تمام دنیا کے آدمیوں میں مشترک پائی جاتی ہیں۔ اس بنا پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر قوم، ہر طبقہ، ہر نسل کوئی نہ کوئی مذہب رکھتا ہے تو یہ مسئلہ صاف ثابت ہوجاتا ہے کہ مذہب فطری چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے مقدم اصول، تمام مذاہب میں یکساں پائے جاتے ہیں۔ خدا کا وجود، اس کی پرستش کا خیال، حیات بعد الموت، اعمال کی جزا و سزا، رحم دلی، ہمدردی، عفت کو اچھا سمجھنا، جھوٹ، دغا، زنا، چوری کو برا جاننا دنیا کے تمام مذہبوں کا اصل اصول ہے۔ (خطباتِ شبلی، نو دریافت، صفحہ: ۴۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://telegram.me/ilmokitab
229
8
*اقتباسِ مطالعہ:1* *توحید: خوات اسلامی و عمومی رشتہ دینی* *(مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ)* قران کریم نے توحید الہی کے داعی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو سراج منیر سے ملقب کیا اور ان کے خصائص کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: *﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾* *(سورۃ الأحزاب: 45-46)* *(اے پیغمبر! بے شک ہم نے تم کو شہادت دینے والا، بشارت پہنچانے والا، ذلالت وہ خباثت سے خوف دلانے والا، راہ الہی کی طرف داعی اور ایک نورانی مشعل بنا کر بھیجا ہے)* لیکن ایک دوسرے موقع پر آفتاب کو بھی سراج کا لقب سے یاد کیا ہے: *﴿وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا﴾* *سورۃ نوح: 16* *(اور اسمان میں خدا نے چاند کو بھی بنایا جو ایک نور ہے اور سورج کو بھی بنایا تو ایک روشن مشعل ہے۔)* اس مماثلت اور اشتراک تشبیہ سے مقصود یہ تھا کہ اسلام کی دعوت بھی اس آفتاب مادی کی طرح ایک آفتاب روحانی ہے۔ جب آفتاب نکلتا ہے تو اس روشنی اور حرارت میں کوئی تمیز نزدیک ودور، اعلیٰ و ادنی، سیاہ و سفید، باغ و دش کی نہیں ہوتی۔ اس کی روشنی بلا تمیز مکان و مقام ہر شئے پر چمکتی اور حرارت پذیر وجود کو گرم کرتی ہے۔ یہی حال اس افتاب دعوت الہی اور نیردرخشان سمائ رسالت کو عموم فیضان بخشی کھاتا جو گوسعیر سے چلا مگر فاران کی چوٹیوں پر نمودار ہوا، اس کی کرنوں میں داہنی جانب شریعت الہی کا نور اور کتاب مبین تھی، مگر بائیں جانب قیام عدل میزان کی شمشیر آبدار چمک رہی تھی۔ جس کا طلوع کائنات میں ظلمت کی شکست اور روشنی کی دائمی فیروزمندی تھا، کیونکہ آسمان ہدایت پر شریعت الٰہی کے گو سینکڑوں ستارے نمودار ہوئے تھے لیکن تاریکی کی آخری شکست کے لیے دنیا کو آفتاب ہی کے طلوع کا انتظار ہوتا ہے: *﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ۝ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى ۝ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى﴾* *(سورۃ اللیل: 1–3)* *(رات کی قسم جب اس کی تاریکی کائنات کی تمام اشیاء کو چھپا دیتی ہے، اور روز روشن کی قسم جب کہ افتاب کی تجلی تمام کائنات کو روشن کر دیتی ہے، اور دراصل اس خالق کی قسم جس نے تخلیق عالم کے لیے نر و مادہ کا وسیلہ پیدا کیا۔)* اس آفتاب توحید نے طلوع ہوتے ہی تفریق وانشقاق کی تمام تاریکیوں کو مٹادیا، اس کی روشنی کی فیضان بخشی نے اسود و ابیض اور عرب و عجم کی کوئی تمیز نہ رکھی۔ خدا کی ربوبیت کی طرح اس کی رحمت بھی عام تھی، وہ رب العالمین تھا پس ضروری تھا کہ اس کی راہ کی طرف دعوت دینے والا بھی رحمت اللعالمین ہو۔ *﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾* *(سورۃ الأنبياء: 107)* (اے پیغمبر! ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام عالموں کے لیے رحمت قرار دے کر) *(جاری)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
302
9
*وفیات مورخہ:جولائی/ 11* 1869ء مصطفی خان شیفتہ۔ شاعر 1905ء محمد عبدہ۔ مفتی مصر 1950ء حبیب الرحمٰن خان شیروانی۔ مولانا ، صدر الصدور 1957ء آغاخان سوم (سرسلطان محمد شاہ)۔ روحانی پیشوا خوجہ اسماعیلی جماعت ، 1957ء محمد مظہر بقا۔ 1985ء محمد اقبال حمید سہروردی، چودھری۔ 1993ء سیف الدین سیف۔ شاعر 1995ء عبدالصمد انصاری (فقیرشاہ)۔ ڈاکٹر ، 1995ء محمود انصاری۔ ڈاکٹر ، 1996ء قاضی جلیل عباسی۔ مسلم سیاست داں 2000ء اکبر جہاں۔ بیگم شیخ عبد اللہ 2001ء سلامت علی خان۔ گایک 2001ء قتیل شفائی (اورنگ زیب خان)۔ شاعر ، 2008ء سید محمود علی۔ 2011ء میاں ایس اے (سلیم احمد میاں)۔ 2016ء مہدی حسن۔ 2017ء محمد یونس جون پوری۔ شیخ الحدیث مولانا، مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور 2019ء صوفی محمد۔ سربراہ تحریک نفاذ شریعت 2020ء موسیٰ پاشا عبدالرحمٰن صدیقی۔ 2021ء خواجہ صغیر علی خواجہ۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
308
10
آج اردو کے نامور ادیب وافسانہ نگار مدیر فنون لاہور کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۰ جولائی ۲۰۰۶ء کو ہوئی تھی ، اس مناسبت سے آپ کے دوست اور نامور ادیب محمد کاظم(سباق) کا لکھا ہوا خاکہ پیش خدمت ہے۔
313
11
‘کہربا’ مصنوعی بجلی کو کہتے ہیں۔ عالمِ عرب میں 'Electricity' کو ‘کہربا’ ہی کہا جاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی ہر چیز ‘کہربائی’ ہوتی ہے۔ بجلی کا کام کرنے والا شخٰص یعنی الیکٹریشین بھی ‘کہربائی’ ہو جاتا ہے۔ لیکن اردو میں مصنوعی بجلی بھی برق ہے۔ پر برقی رَو کم کم ہی آتی ہے، جاتی زیادہ ہے۔ کسی سے کوئی کام پُھرتی سے کروانا ہو تو پہلے کہا جاتا تھا کہ ‘‘بجلی کی طرح جائیو اور بجلی کی طرح آئیو’’۔ مگر یہ محاورہ اب متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر کسی نے اس پر عمل کیا تو سمجھو گھنٹوں کے لیے گیا۔بجلی سے چلنے والی مشینوں کا شمار کبھی ہم ‘برقی آلات’ میں کرتے تھے۔ برقی جھاڑو، برقی پنکھا، برقی زینہ اوربرقی ترازو وغیرہ۔ ‘ہائیڈرو الیکٹری سٹی’ یعنی پانی سے بننے والی بجلی کے لیے ہم نے علمِ طبیعیات میں ‘برقاب’ کی اصطلاح پڑھی تھی۔ کیا دل کش اصطلاح ہے: ‘برقِ آب’۔پازیٹو یا نیگیٹو الیکٹرک چارج کے لےطبیعیات میں ‘مثبت یا منفی برقی بار کے مختصر الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ الیکٹرو میگنیٹک ویوز کو ‘برقناطیسی لہریں’ کہتے تھے اور کسی چیز کی ‘الیکٹر ی فکیشن’ کو ‘برقانا’کہا جاتا تھا۔ الیکٹرون کو ‘برقیہ‘ کہتے تھے۔ٹیلی گرام سے بھیجا جانے والا پیغام بھی‘برقیہ’ تھا۔‘الیکٹرونک میل’ یا ‘ای میل’ کے لیے اردو میں اِس چھوٹے سے حسین لفظ کو استعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو کتنا اچھا ہو۔ مسلسل استعمال سے یہ لفظ یقیناً عام اور مانوس ہوسکتا ہے۔ جب تک قرضے کا ڈنڈادِکھا کر انگریزی زبان کو ہم پر بزور مسلط نہیں کیا گیا تھا، ہمارے اداروں کے نام اُردو میں بھی لکھے جاتے تھے۔ مثلاً KDA ‘ادارۂ ترقیاتِ کراچی’ ہوتا تھا، KMCبلدیہ عظمیٰ کراچی، KESC(موجودہ ‘کے الیکٹرک’)‘ادارۂ فراہمیِ برق کراچی’ اور KW&SBکو ‘ادارۂ فراہمی و نکاسیِ آب، کراچی’ کہتے تھے۔ اسی طرح WAPDA‘ادارۂ ترقیاتِ برق و آب’ تھا۔اگرLDA اور CDAکا نام بھی علی الترتیب ‘ادارۂ ترقیاتِ لاہور’ اور ‘ادارہ ترقیاتِ دارالحکومت’ رکھ دیا جائے تو کیا ولایتی قرضے(اونچی شرحِ سود پر) ملنا بند ہو جائیں گے؟ صاحب!ولایتی ملکوں نے تو اپنے ہر ادارے کا نام اپنی ہی زبان میں رکھا ہے۔تو اُن کی نقل کیجیے نا! ہم اپنے ملک کے کسی محکمے میں داخل ہوں تو ان محکموں سے کوئی اپنائیت محسوس نہیں ہوتی۔ کمروں پر لگی تختیوں اور میز پر دھرے کاغذوں کی زبان دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم غلطی سے برطانیہ کے کسی دفتر میں داخل ہو گئے ہوں۔ یہی حال بڑے بڑے بازاروں اور بڑی بڑی شاہراہوں کاہے۔ ٭٭
301
12
*غلطی ہائے مضامین* *بجلی بجلی ہوتی ہے* *احمد حاطب صدیقی(ابونثر)* ہمارے نام ایک ‘برق نامہ’ (یا ‘برقیہ’)آیا ہے۔ اس برقنامے کے مُرسِل نے سوال فرمایا ہے کہ ‘‘برق گرتی ہے یاچمکتی ہے؟’’ صاحبو! آج کل تو ہر چیز ‘برقی’ ہو تی جا رہی ہے۔بلکہ یوں کہہ لیجے کہ ہر شے ‘برقائی’ جا رہی ہے۔ نامہ ہی نہیں نامہ بر بھی۔ایک زمانہ تھا کہ حضرتِ داغؔ قاصد کو روانہ کرنے کے بعد گھر کے باہر ٹیڑھے ٹیڑھے کھڑے ہو کر اُس کی رفتار، اُس کے چال چلن اور اُس کی چال ڈھال کا بغور معائنہ فرمایا کرتے تھے اور زیرِ لب بڑبڑایا کرتے تھے کہ قاصد یہاں سے برق تھا پر نصف راہ سے بیمار کی ہے چال، قدم ناتواں کے ہیں مگر اب قاصد کی بیماری و ناتوانی کا برقی علاج کر دیا گیا ہے۔ بجلی کے جھٹکوں نے اسے چاق چوبند کر کے رکھ دیا ہے۔ برقی قاصد اب ہماری اُنگلیوں کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ انگلیاں تختۂ کلید پر تھرکتی رہتی ہیں ۔ جوں ہی خط مکمل ہوتا ہے، ہمارا برقی ‘نامہ بر’ ایک اشارۂ انگشت پر فقط لمحے بھر میں ‘نامہ بنامِ یار’ سات سمندر پار پہنچا آتا ہے۔ اس سے زیادہ برق رفتاری اور کیا ہوگی؟ ہاں، تو سوال یہ تھا کہ‘‘ برق گرتی ہے یا چمکتی ہے؟’’ حضرت! لغت کے لحاظ سے تو ‘برق’ چمکتی ہے۔ بادلوں کی رگڑ سے چمک چمک جانے والی بجلی کو برق کہا جاتا ہے۔ جب کہ زمین پر گرنے والی بجلی ‘صاعقہ’ کہلاتی ہے۔اپنی زمین پر اِدھر اُدھر دیکھیے تو نہ جانے کتنی ‘صاعقائیں’ لوگوں پر بجلی گراتی نظر آئیں۔ اسی وجہ سے اِدھر اُدھر دیکھنے کو منع کیاِ جاتا ہے۔ مگر علامہ اقبالؔ نے مسلمانوں پر گرنے والی ہر آسمانی ‘صاعقہ’ کو برق گردانا ہے: ‘‘برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر’’ اقبالؔ ہی نے نہیں، اُردو کے دیگر شعرا نے بھی ‘برق گرنے’ یا ‘برق بن کر گرنے’ کی تراکیب استعمال کی ہیں ۔برق، صاعقہ، رعد اور کہربا میں کیا تیکنیکی فرق ہے؟یہ لمبی بحث ہے۔ فی الحال اس بحث کاخاتمہ ہم ‘‘کلیۂ رئیسانی’’ سے کیے دیتے ہیں کہ چوں کہ اُردو میں برق، رعد، صاعقہ اور کہربا سب کو بجلی کہا جاتا ہے۔لہٰذا: ‘‘بجلی بجلی ہوتی ہے، گرے یا چمکے’’۔( یا چلی جائے) ویسے برق کے لفظی معنی ظاہر ہونے، چمکنے یا روشن ہونے کے ہیں۔ مجازاً چمکتی چیزوں کو بھی برق سے تشبیہ دے دی جاتی ہے۔ اگر کسی کا لباس اُجلا ہو اور خوب چمک رہا ہو تو کہا جاتا ہے کہ ‘‘سفید بَرّاق لباس زیب تن کر رکھا ہے’’۔ ‘بَرّاق’انتہائی سفید کے معنوں میں ہے، مثلاً ‘زاغِ شب بگلے کے پر سے بھی کہیں بَرّاق ہو’۔ زاغِ شب کا مطلب ہے رات کا کوّا۔ یہ سیاسی پرندہ رات بھر ٹی وی پر کائیں کائیں کرتا رہتا ہے۔ بہر حال لغوی برق تو کوندتی ہے۔‘رعد’ اُس آواز کو کہتے ہیں جو بادلوں کی رگڑ سے پید ا ہو۔ اسے کڑک، گرج یا "Thunder" کہا جاتا ہے۔ اُردو میں ‘‘تھنڈر’’ کا رشتہ بھی بجلی ہی سے جوڑتے ہیں ۔ لہٰذا اِس دل دہلاتی آواز کو ‘‘بجلی کا کڑکا’’ کہا گیا۔ مولانا حالیؔ نے مسدسِ حالیؔ مں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی دعوتی پُکار کوبھی ‘‘تھنڈر’’ قرار دیاہے: وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادیؐ عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی اِک آواز میں سوتی بستی جگا دی ‘بجلی کڑکنے’ کی آواز کو ‘بادل گرجنا’ بھی کہتے ہیں۔ اللہ جانے کہاوتیں کہنے والوں سے کس نے کہہ دیا کہ ‘‘جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں’’۔بھلا آسمان پر چڑھ کر کس نے تصدیق کی ہے؟ ‘صاعقہ’جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، زمین پر گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں۔اردو نثر میں ان معنوں میں اس لفظ کااستعمال کثرت سے نہیں ہوا۔ شعروں میں البتہ ہوا ہے۔ انیسؔ کا ایک شعر ہے: اِک صاعقہ گرتے ہوئے جو دُور سے دیکھا موسیٰ نے اسی نور کو تھا طور سے دیکھا اس شعر سے پتا چلتا ہے کہ صاعقہ مذکر ہے۔ اہلِ لغت نے بھی اس لفظ کو‘اسمِ مذکر’ ہی لکھا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں مؤنث ہی کا‘ اسم’ صاعقہ ہوتا ہے۔ شعرا نے صاعقہ کا لفظ بالعموم طُور پر گرنے والی بجلی کے لے استعمال کیا ہے۔‘‘محاصرۂ ادرنہ’’ میں اقبالؔ بتاتے ہیں کہ محصور ہو جانے کے بعد شکریؔ نے ‘آئین جنگ’(Martial Law) نافذ کر کے ذمیوں کو اپنا مال ذخیرۂ لشکر میں جمع کرانے کا حکم دیا: لیکن فقیہِ شہر نے جس دم سنی یہ بات گرما کے مثل صاعقۂ طور ہو گیا ذمی کا مال لشکرِ مسلم پہ ہے حرام فتویٰ تمام شہر میں مشہور ہو گیا ‘صاعقہ’ کے لے شعر میں بھی برق یابجلی کے الفاظ زیادہ استعمال کیے گئے ہںں۔ؔ ‘برقِ حوادث اللہ اللہ+جھوم رہی ہے شاخِ نشیمن’۔ ‘برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں’۔ ‘گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو’۔ ‘بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو’۔ وغیرہ۔
284
13
علم کا جوہر، عاجزی اور حق پسندی مخدوم المحترم مولانا ڈاکٹر پروفیسر سید سلمان ندوی صاحب حفظہ اللّٰه تعالیٰ نے یکم اپریل ٢٠٢٦ء کی ایک مجلس میں ارشاد فرمایا: ہم جو کچھ پڑھیں یا پڑھائیں، اس پر استقامت ہونی چاہیے، یہ سب چیزیں اللّٰه تعالیٰ کے ہاں پیش ہونی ہیں، رضا فقط اللّٰه تعالیٰ کی مطلوب ہو، اس لیے اخلاص کی ضرورت ہے، پہلے ہمارے علماء جب دستخط کرتے تھے تو اپنے نام سے غفرلہٗ وغیرہ لکھتے تھے، اب تو ایسی چیزیں ختم ہوگئی ہیں، لکھ تو ہم رہے ہیں، لیکن کوئی انہیں پڑھ کر سنائے گا بھی۔ تو اس لیے احتیاط کرنی چاہیے، یہ مزاج نہ ہونا چاہیے کہ مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ عجز و انکساری رکھنے کی ضرورت ہے، عالم ہونے کے معنیٰ یہ نہیں کہ ہم سے غلطی نہ ہوگی، بلکہ ہم سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔ میرے والد (علامہ سید سلیمان ندویؒ) کے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ شیخ تھے، مگر مولانا تھانویؒ نے جو بات لکھ دی یا کہہ دی ہے، وہ حرفِ آخر ہے، ان کے ہاں ایسا نہیں تھا۔ میرے والد کا بعض باتوں میں اختلاف ہوتا تھا۔ اسی لیے تو والد صاحب نے کسی سے کہا کہ مولانا تھانویؒ نے لکھا ہے، میں نے تو نہیں لکھا۔ یہ چیزیں سمجھنے کی ہیں۔ (ناقل و راوی: طارق علی عباسی) https://telegram.me/ilmokitab
404
14
کا انتقال ہوا، اس وقت تحفیظ القرآن میں اپنے دن کی پوری ڈیوٹی انجام دے کر گھر واپس جارہے تھے تو سینے میں کچھ جلن محسوس ہوئی، پھر وہاں سے بلاوا آگیا جہاں سے کوئی دوبارہ واپس نہیں لوٹتا، محمد اشفاق ہماری ظاہری آنکھوں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہوگئے، لیکن ان کی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی، جامعہ کے درو دیوار سے ان کی خوشبو ہمیشہ مہکتی رہے گی۔ ، کتنی معصوم زندگی گذاری انہوں نے، اور کیسے پاک وصاف ہوکر اپنے خالق کی طرف وہ لوٹے ہیں، ان جیسوں کے درجات کی بلندی کے لئے دست بہ دعا ہونا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے، لیکن کیا یہ درست نہیں کہ یہ حضرات ہماری دعاؤں سے بہت بلند ہیں۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ 2026-07-09
390
15
*حافظ محمد اشفاق محمد حسینا، جنت کا راہی* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* کل مورخہ ۷ / جولائی ملیہ مسجد میں ابھی نماز مغرب کے لئے صف بند ھ رہی تھی کہ اطلاع آئی کہ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا،اللہ تعالی نے انہیں رحم مادر ہی سے بینائی سے محروم اس دنیا میں بھیجا تھا، لیکن انہوں نے بینائی سے آنکھ کی محرومی کو دل کے بصیرت سے بدل دیا۔ یہ جناب الحاج محی الدین منیری کا دور نظامت تھا، ان کے والد ماجد نے اپنے نونہال کو جو بینائی سے مکمل محروم تھا، اور کسی شخص کے سہارے کے بغیرایک قدم چلنا بھی مشکل تھا، جامعہ آباد لے آئے تھے، انہیں اپنے بچے کو حافظ بنانے کی تڑپ تھی، کیونکہ اس بچے کو آنکھوں کی بینائی سے محرومی کے باوجود قرآن سے جو محبت تھی، اور اسے پڑھنے کی جو لگن تھی، اسے دیکھ کر آپ کی چھٹی حس کہ رہی تھی کہ اگر خاطر خواہ توجہ دی جائے تو یہ بچہ ایک نہ ایک دن قرآن کا حافظ بن کر ان کی نجات کا ذریعہ بنے گا۔ اسی نیک جذبے کے ساتھ ان کے والد نے ایک نہیں تین بار جامعہ کے چکر کاٹے تھے، اور انہیں یہاں سے حافظ قرآن بناکر نکالنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن چونکہ یہ بچہ بغیر سہارے ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا تھا،تو ذمہ داران نے جن میں ناظم جامعہ بھی شامل تھے، اس بچے کو جامعہ میں داخل کرنے سے معذرت کا اظہار کررہے تھے۔ لیکن وہ جامعہ سے باربار کے انکار سننے کے باوجود مایوس نہ ہوئے، بالآخر درجہ حفظ کے ایک استاد حافظ شمیم صاحب کو یہ دیکھ کر ترس آگیا، اور انہوں نے ناظم جامعہ کو یقین دلایا کہ آپ فکر نہ کریں، اسے حافظ بنانے کی ذمہ داری ان شاء اللہ میں لیتا ہوں۔ حافظ صاحب شمالی ہند سے تعلق رکھتے تھے، منیری صاحب کو اپنے قائم کردہ جامعۃ الصالحات کی بڑی فکر رہتی تھی، اور انہوں نے ابتدا میں مالیگاؤں سے جامعۃ الصالحات کی فارغ التحصیل استانیوں کو بھٹکل میں بسا کر ان کی یہاں پر خدمات حاصل کرنے کے لئے بڑے جتن کئے تھے، مالیگاؤں سے آنے والی استانیوں میں محترمہ شکیلہ بھی تھیں، جو مولانا عبد الستار معروفی سابق شیخ الحدیث دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی پوتی تھیں، منیری صاحب نے ذاتی دلچسپی لے حافظ شمیم کے ساتھ شکیلہ آپا کا گھر بسایا تھا۔ حافظ شمیم صاحب نے اس معذور بچے پر خوب محنت کی، درجے کے اوقات میں بھی اور علاوہ بھی اس کی فکر میں مسلسل لگے رہے، کبھی جامعہ آباد سے دور شہر میں جا کر بھی غیر درسی اوقات میں انہیں پڑھاتے تھے، تجوید کے لئے ان کی منہ میں انگلیاں ڈال کر قواعد بتاتے تھے، اس طرح آپ نے چند سالوں میں حفظ قرآن مکمل کیا، یہ سنہ ۱۹۹۳ء کی بات ہے، اپنے فرزند کو حافظ دیکھ کراپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاکر آپ تھوڑے ہی عرصہ بعد اللہ کو پیارے ہوگئے، پھر دو مہینے سے بھی کم عرصہ میں ان کے بڑے بھائی الطاف نے بھی اس دنیا کو داغ مفارقت دے دی، اور ان کے کمزور کندھوں پر اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی بہن کی کفالت کی ذمہ داری آگئی۔ ان کی زندگی کا ایک زمانہ وہ تھا جب وہ سبھی پر بار بنے ہوئے تھے،اور اب وہ زمانہ آگیا تھاکہ ان کے ناتوان کندھوں پر اتنا بڑا بوجھ آگیا۔ لیکن اللہ مسبب الاسباب ہے، آپ جامعہ کے شعبہ تحفیظ قرآن مین محفظ کی حیثیت سے وابستہ ہوئے، اور پورے ۲۹ سال تک بحسن وخوبی یہ ذمہ داری انجام دیتے، اور آپ کے سامنے زانو پھیلا کرسینکڑوں حفاظ کرام تکمیل حفظ کے زیور سے آراستہ ہوئے، پھر آپ کو بھٹکل کی قاضیا مسجد میں امامت کی ذمہ داری مل گئی، اس طرح آپ نے عزت نفس کے ساتھ زندگی ذمہ داریوں کا جو بوجھ اٹھایا وہ ایک مثال بن گیا۔ الحاج محی الدین منیری مرحوم کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹکل کو دور حاضر کا پہلا حافظ قرآن مرحمت فرمایا تھا، انہیں بھٹکل کے اس پہلے نابینا حافظ قرآن کی سرپرستی کا بھی شرف حاصل ہوا۔ کیونکہ ان کے حفظ قرآن میں داخلہ کے بعد انہیں لانے لے جانے کے لئے ایک رفیق کا بھی آپ نے انتظام اس وقت کردیا تھا، اور ایک وقت ایسا آیا کہ جامعہ سے سرکاری تینگنگڈی بس پر بیٹھ کر آپ جامعہ آباد سے گھر لوٹ رہے تھے، تو ایک سیٹ پر حافظ اشفاق شہر جانے کے لئے کونے پر بیٹھے تھے، منیری صاحب آہستہ سے ان کی بغل میں سیٹ پر بیٹھ گئے، اور نرمی سے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معافی طلب کی کہ میں نے تین مرتبہ آپ کے داخلہ سے انکار کیا تھا، لیکن آپ پرعزم نکلے، اوراپنے مقصد میں کامیاب وکامران ہوکر نکلے ، کردار کے یہ کیسے بلند لوگ تھے!، زندگی میں انہیں دیکھنا ہم جیسوں کے لئے کتنا بڑا اعزاز ہے؟۔ حافظ اشفاق نے اس دنیائے فانی میں زندگی کی (۵۵) بہاریں دیکھیں، ان میں سے گذرنے والا ہر دن آپ کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں تھا، آنکھوں کی تاریکی کو آپ نے قرآن کریم کی روشنی سے منور کردیا،معذوری کے باوجود اپنی زندگی بڑے باوقار انداز سے، عزت نفس کے ساتھ گذار دی، شادی بھی کی ، اور بچے کے والد بھی بنے، جس شام آپ
411
16
سچی باتیں (27؍جنوری 1941ء)۔۔۔ قدیم جاہلیت تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ پچھلی عیسوی صدی کے ثلث آخر کے مشاہیر یورپ میں ایک صاحب پروفیسر رابرٹسن اسمتھ ہوئے ہیں، کیمبرج یونیورسٹی میں عربی زبان کے استاد تھے، اور عرب ومتعلقات عرب پر ان کی تحقیق آج تک مستند چلی آتی ہے۔ سامی مذہب پر متعدد فاضلانہ لکچر دئیے۔ ان کا مجموعہ بعد کو Religion of the Semitesسامیوں کا مذہب، کے عنوان سے شائع ہوگیا۔ باب دوم کے آغاز میں لکھتے ہیں:- ’’جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکاہے، ادیان قدیم کا بجائے مجموعۂ معتقدات ومسائل کے ایک رواج یا دستور کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ قدیم مذہب ایک جزو ہوتاتھا اُسی نظام معاشرت کا جس کے ماتحت اس کے پیرو رہاکرتے تھے۔ اس لئے قدیم مذاہب کے ساتھ لفظ ’’سسٹم‘‘ کا استعمال صرف اسی معنی میں درست ہے جیسے کسی سیاسی ’’سسٹم‘‘ کا ذکر کیاجاتاہے، نہ اس معنیٰ میں کہ ان مذاہب کے کچھ مخصوص عقائد اور اصول تھے۔ عام طور پر یہ سمجھئے کہ مذہب نام تھا چند اعمال ورسوم کا جن کے صحیح ادا کرنے پر مدارتھا دیوتاؤں کی خوشی اور ناخوشی کا۔اور ان مراسم میں شرکت پر ہر شخص اس بنا پر مجبور تھا کہ وہ پیدا اُسی خاندان یا اُس قبیلہ میں ہوا ہے ، یا یہ کہ اُسے فلاں مرتبہ یا منصب حاصل ہے۔ اپنے ارادہ اور پسند سے مذہب اختیار کرنے کے کوئی معنیٰ نہ تھے۔ مذہب تو گویا ورثہ میں مل ہی جاتاتھا جیسے اور خاندانی رسم ورواج ملتے تھے۔ اور ہر فرد کوکم وبیش مذہبی ہوناہی پڑتاتھا، جیسے آج ہرشخص کو کم وبیش وطن کا خیال رکھنا ہی پڑتاہے‘‘۔ (ص: 28) گویا دین جاہلی کوئی جسم متحرک نامی، زندہ تھا ہی نہیں، ایک جامد مردہ لاشہ تھا۔ ایک مجموعہ تھا دستوروں، رسموں، رواجوں کا۔ نہ عقل سے کوئی تعلق تھا، نہ عقل اعلیٰ یا وحی سے۔ ہر قوم یا قبیلہ میں ایک بنابنایا سانچہ۔ کچھ عقائد ورسوم کا پشتہا پشت سے چلاآتا رہتاتھا، قوم یا قبیلہ میں جو بچہ آنکھ کھولتا، وہ طبعًا واضطرارًا اُن ہی کی آبائی رسوم وعقائد کی راہ پرپڑلینا۔ دخل نہ اس میں کسب واختیار کوہوتا نہ غور وتدبر کو۔ اسی لئے اس جاہلی تخیل میں کسی نئے مذہب کے قبول واختیار کرنے اور قدیم مذہب کو ترک کرنے کے کوئی معنی ہی نہ تھے……دانایان فرنگ تو اس نتیجہ تک اب پہونچے ہیں۔ قرآن ساڑھے تیرہ سو چودہ سو برس ہوئے اس ذہنیت کو دین جاہلی کے سلسلہ میں ماوجدنا علیہ آباء نا، ما ألفینا علیہ آباء نا ، ما سمعنا بھذا فی آباء نا الأوّلین وغیرہ مختلف عنوانات کے ذریعہ سے روشناس کرچکاہے۔ تیرہ سو برس کے بعد ہَوا پھر وہی چلی ہے۔ ’’روشن خیالوں‘‘ نے دین کو ایک ’’موروثی‘‘ ’’آبائی‘‘ چیز سمجھ لیاہے۔ اور دین کی زندہ حقیقت کو ’’قوم‘‘ کی مُردہ رسمیت کے اندر گم کردیاہے۔ مذہب کا جاہلی تخیل نئے سرے سے زندہ ہواہے بس مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانا اور مسلمان کا سا نام رکھ لینا بالکل کافی ہے۔ قانون اسلام کے بہترین شارحین اور Juristsپر دل کھول کر مضحکہ کیجئے، احادیث رسولؐ ورجال کی جانچ پرتال میں عمریں صرف کردینے والے محدثین بلکہ رسول کے صحابیوں تک پر بازاری زبان میں پھبتیاں کسئے، اقوالِ رسول کی حجیت سے انکار کردیجئے، قرآن کی تعلیمات سے بے کھٹکے انکار کرتے چلے جائیے، یہ کہتے جائیے کہ اسلام کا قانونِ سود قابلِ ترمیم ہے، شریعت کا قانون وراثت قابل تنسیخ ہے، ضابطۂ فوجداری ناقابل عمل ہے، قرآن کے زبان کو، قرآن کے رسم الخط کو بس چلے تو جرم قرار دے دیجئے، رسولؐ کی زبان میں اذان اور نماز دونوں کی ممانعت کردیجئے، گھر کی عورتوں کو بے نقاب اور بے حجاب باہر نکالئے، لباس اُنھیں نیم برہنہ پہنائیے، ان کے جسم کی زینتوں کو نمایاں سے نمایاں تر کیجئے، گانے کو ، بجانے کو ، ناچنے کو، اداکاری کو نصاب تعلیم کا جزو بنائیے۔ فخر اپنے دین پر نہیں، اپنے وطن پر کیجئے،اور جب کوئی احتساب پر آمادہ ہو، تو اُس کا منہ یہ کہہ کر نوچ لیجئے، کہ ’’تم ہوتے کون ہو ہمارے ایمان، ہمارے اسلام میں شک کرنے والے،ہمارے عقائد پر جرح کرنے والے؟ دیکھتے نہیں ہو کہ ہمارا نام مجتبیٰ جمال ہے، عبد التواب ہے، علی رضا ہے، اور دیکھتے نہیں ہو کہ ہم کتنے کام مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے کرچکے ہیں، اور ملّت کی راہ سے کتنی دشواریاں دور کرچکے ہیں! گویا جس طرح پیدائشی برہم سے برہمنیت اور شودر کے گھر میں پیداہوجانے والے سے شودریت کسی طرح الگ نہیں ہوسکتی، اسی طرح اسلام ہے، کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانے والے کے ساتھ ہرحال میں چمٹا ہی رہتاہے!……چور کو اتنا اقتدار کوتوال پر، اس دَور سے قبل، کبھی کیوں حاصل ہواہوگا؟ https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
486
17
""اس شخص کے قتل کا فیصلہ منسُوخ ـــــ  ! صرف حراست میں ڈال دیا جائے اور بس۔۔۔!       اور پھر اس حراست کے در و دیوار بھی امام شافعیؒ کی عظمتِ علمی کی دُوسری دھمک سے زمین پر آرہے ـــــ ! انھوں نے دربار کے ایک زبردست علمی مباحثے پر ایسی وقیع رائے دی کہ ہارون رشید فرطِ عقیدت سے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور پکار اُٹھا:   "اس ہستی کو آزاد کرو اور اسی وقت اس کے قدموں پر پانچ سو دینارلٹا دیے جائیں۔۔۔"    لیکن امامؒ کے یہ علمی جوہر کُھلنے کے بعد جب ہارون رشید نے سلطنت کا عہدۂ قضا پیش کرنا چاہا تو وہی امام شافعیؒ جو سیاست کو دینی زندگی کا حرام گوشت نہ سمجھتے تھے اور اسی لیے نجران کا والی ہونا منظور فرمالیا تھا اور سیاست کی تلوار سے اصلاح و انقلاب کا وہی کارنامہ سرانجام دیا تھا جس کے لیے ان کے علمی وجود کے زبان و قلم وقف تھے ـــــ عہدۂ قضا کا نام سن کر تھرّا گئے کہ شاہی تلواروں کے سائے میں بیٹھ کر اس مذہبی عہدے کا حق ادا کرنا جیتے جی نا ممکن ہے اور نہ یہ بات کسی طرح ممکن ہے کہ جینے کے لیے حق کو موت کی نیند سُلا دیا جائے ـــــ چناں چہ اس عظیم پیش کش کی طرف لپکنے کے بجائے اُسے دُور ہی دُور سے ٹھکراتے ہوئے بڑی نفرت و بیزاری کے ساتھ صاف کہا:- "! "مجھے تو اس عہدے سے معاف ہی رکھیے ــــ    دل تڑپ اُٹھتا ہے کہ کیا یہ اسی دنیا کا واقعہ ہے ــــ ؟ جہاں ہم پھٹی پھٹی آنکھوں سے آج یہ منظرِ خوں چکاں دیکھ رہے ہیں کہ سرکاری امداد کی چند پُھوٹی کوڑیاں اور سرکاری خطابات کے چند کھو کھلے لفظ پاکر علماء اپنا علم بے تکلف بیچ ڈالتے ہیں اور سود خوروں کی ایک لذیذ دعوت کھانے کے لیے زہّاد زہد و پارسائی کا خون کر ڈالتے ہیں ـــــ ؟ سچ بتا اے تاریخ ! کیا کبھی اس دنیا کے مومنوں کو وہ عظیم و زرنگار " عہدۂ قضا" بھی منظور نہ تھا جو حق کے خطروں میں پڑ جانے کا دُور دراز اندیشہ یاد دلائے تو خوف آخرت سے لرزتے ہوئے دِل پر موت کا سا کرب طاری ہو جائے ؟      پھر آخرت کے لیے دنیا کی قربانی کا یہ منظران امام شافعیؒ کی زندگی پیش کر رہی تھی جن کی ابتدائی عمر کے سینے پر افلاس و ناداری کے گہرے کھرونچ تھے. لیکن حصول کمال کی ایک طویل عمر جب خون پسینہ ایک کر چکی اور ایوانِ حکومت سے لے کر عوام وخواص کی گزر گاہوں تک اس شخصیت پر سونے چاندی کی بارش کی گئی تو دنیائے فانی کی اس سُنہری گرد سے وہ فقر کا دامن جھاڑ کر اُٹھا اور خُدا کے قدموں میں گر کر دولتِ دل کے لیے رو پڑا:-      "میرے مالک ! اپنے خونِ جگر کی یہ قیمت مجھے منظور نہیں جو تیرے بندوں کے ہاتھ سے ملے ۔ میری مزدوری تو تیرے پاس ہے جو میں قیامت کے ہوش رُبا دن تیرے دستِ خاص سے چاہتا ہوں ۔ میں اِس دنیا میں جینے کا آرزو مند نہیں جس کا آخری تحفہ موت ہے ـــــ موت ـــــ!"   ایک بار ہارون رشید نے پچاس ہزار دینار بھیجے تو یہ مردِ مومن ــــــ امام شافعیؒ اس رقم سے غریبوں ،یتیموں اور بیواؤں کے آنسو پونچھتا ہوا ٹھنڈے چولھے روشن کراتا اور تاریک گھروں میں دِیے جلاتا اپنے گھر میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھوں میں صرف دس ہزار دینار بچے رہ گئے تھے انفاق و خیرات کا یہ راز افشاء ہوا اور راعی اور رعیّت دونوں نے اس کے جواب میں ہزاروں دینار اور بھیجے تو امام شافعیؒ نے اپنے اِس درد بھرے جذبے پر رات کی تاریکی کے ہزاروں پردے گرا دیے ـــــ جب نیند کے نرم وگرم بستر پر لیٹ کر دنیا والے آنکھیں بند کر کے پاؤں پھیلا کر گہری نیند کے مزے لیتے ، خدا ـــــ اکیلا خدا دیکھتا کہ اس کا یہ پرستار بے چین ہو کر اُٹھا ـــــ دبے دبے پاؤں گھر سے نکلا اور بے نواؤں کی پکار سُننے کے لیے در در مارا پھرا اور جب دنیا کے غم زدوں پر دولتِ دنیا لٹا کر خالی ہاتھ واپس ہوا تو رہ رہ کر اس کے بے قرار ہا تھ دُعا کے لیے پھیلتے گئے۔   "الہی ـــــ مجھے حرصِ دنیا سے ہمیشہ محفوظ رکھنا ـــــ " ______ (جاری)
515
18
*کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات  (تيسری قسط)*   *تحریر: شمس نوید عثمانیؒ* تفقّہ اور افتاءکی اس منزل پر پہنچ کر اب امام شافعیؒ چین سے نہیں بیٹھ گئے ۔ ان کی نظر میں ایک مومن کی شخصیّت محض قرطاس و قلم تک محدود نہ تھی، بلکہ قلم اور تلوار دونوں کا یہ مجاہد مختلف علوم اور زندگی کی مختلف راہوں کا امام ہونا چاہتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے ایک طرف تیراندازی سیکھی تو دوسری طرف لغت ، تاریخ، نحو و عروض اور علم فراست وغیرہ میں دست گاهِ کامل حاصل کی ۔ وہ جس طرح باکمال علماءکے قلم کی حرکت پر وجد کرتے تھے ٹھیک اسی طرح ایک تیر انداز کا کمالِ تیر افگنی ان کی مجاہدانہ عقید توں کو بیدار کر دیتا تھا۔ چنانچہ ایک بار وہ کہیں جا رہے تھے تو اثنائے راہ میں کسی کو دیکھا کہ تیر اندازی کی مشق کر رہا ہے ۔ اچانک اس کا تیر ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگا تو امام شافعیؒ جھوم اُٹھے ـــــ بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا مگر وہاں صرف تین دینار پائے۔ لجاجت اور عقیدت سے لبریز آواز میں فرمایا: "یہ تین دینار انعام میں دیتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے ـــــ مگر کیا کروں اس وقت میرے پاس اور کچھ ہے نہیں۔۔۔۔" ____________   علم و فراست جیسے خالص عقلی علم کو انھوں نے خالص مومنانہ نقطۂ نظر سے سیکھا تو سچ مچ اس حدیث رسول ﷺ کا مصداق بن گئے۔ " "مومن کی فراست سے بچو ـــــ ! وہ خدا کی روشنی میں دیکھتا ہے ـــــ   اس ذیل میں متعدد حیران کن واقعات میں ایک یہی واقعہ ایسا ہے جس سے اس علم میں ان کی دست گاہ کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ امام بہیقی مُزنیؒ کے ذریعہ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ میں جامع مسجد میں امام شافعیؒ کے ساتھ تھانا گاہ ایک شخص آیا اور سوتے ہوئے آدمیوں میں کسی کو تلاش کرنے لگا ۔ امام شافعیؒ نے بیک نظر سمجھ لیا کہ ڈھونڈنے والا کسی ایسے حبشی غلام کو ڈھونڈ رہا ہے جس کی آنکھ میں کوئی نقص ہے چناں چہ شخصِ مذکور نے اس بات کی حرف بہ حرف تصدیق کی ۔ اس کے بعد امام شافعیؒ نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ "جس کی تمہیں تلاش ہے وہ قید خانے میں ہے ـــــ" اور واقعی وہ قید خانے میں ملا۔ بعد میں امام صاحبؒ نے بتایا:-    اس کے اس طرح ڈھونڈنے کے انداز سے میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کِسی مفرور کی تلاش میں ہے ـــــ جب وہ مسجد کے اس حصّے میں گیا جہاں سیاہ فام سورہے تھے اور مَیں نے پھر غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ بائیں آنکھ والوں پر وہ گہری نظر ڈال رہا ہے ـــــ چناں چہ میں نے نتیجہ نکالا کہ اس کا کوئی آنکھ کا عیبی حبشی غلام بھاگ گیا ہے اور میرا تجربہ ہے کہ غلام جب بھوکا ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے اور پیٹ بھرا ہوتا ہے تو زنا کرتا ہے ـــــ میں نے سوچا کہ ان دونوں باتوں میں سے ایک نہ ایک بات ضرور ہوگی اور اس کے نتیجے میں غلام قید ہو گیا ہو گا ۔" ـــــ علم ہیئت و نجوم میں اس بلا کا درک ہو چکا تھا کہ کسی دوست کا زا ئچہ دیکھ کر پیشین گوئی کی:  "٢٧دن کے بعد تمہارے یہاں ایک بچّہ پیدا ہوگا ، جس کی بائیں ران پر سیاہ تل ہوگا ـــــ ٢٤ گھنٹے زندہ رہ کر دفعتًا مر جائے گا۔"      چناں چہ لفظ بہ لفظ پیشین گوئی پُوری ہوئی تو اپنے کمال پر خوش ہونے کے بجائے اسی دن علم نجوم کی ساری کتابیں جلا ڈالیں اور آيندہ کسی کے سوال کا جواب نہ دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے دینی عقائد میں فساد رونما ہو جائے تو دنیا میں یہ تعریفوں کی بھرمار زلزلۂ حشر کے دن وبالِ جان بن کر سامنے آئے ـــــ ! اس ایک "دن" کے خوف سے جس کا نام " قیامت " ہے سالہا سال کی عرق ریز کاوشوں کو اپنے ہاتھ سے سوخت کر دینا خدا کی قسم ایک سچّے مؤمن کے سوا کسی کے بس کا کام ہی نہیں۔   _____        اِس دنیا کی ہر چیز کی طرح شہرت و قابلیت بھی ایک نازک آزمائش ہے ۔ جب حکومت نے امام شافعیؒ کا شہرہ سُنا اور قدر افزائی کے طور پر انھیں نجران کا والی بنا دیا گیا تو وہاں جا کر حضرت امامؒ نے دیکھا کہ مقدمات کے فیصلے رشوت سے ہو رہے ہیں۔ امام صاحب نے جاتے ہی اس فتنے پر بند لگائے اور حق پسندی کے آزاد فیصلوں سے رشوت ستانوں کی کمر توڑ دی ۔ نتیجہ اُسی قدرشناسی کی شکل میں نکلا جو اس دنیائے فانی کا خاصّہ ہے ۔ امام صاحبؒ کے خلاف ناپاک سازشیں شروع ہوئیں اور حکومت کے مرکزی ایوان میں جا کر یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ امام صاحبؒ یمن والوں میں بے حد مقبول ہیں اور اس مقبولیت سے فائدہ اُٹھا کر حکومت کا تختہ اُلٹ دینا چاہتے ہیں ـــــ!    بس پھر کیا تھا ـــــ اقتدار و حکومت کی نازک مزاجی شعلہ جوالہ بن کر اُٹھی اور پابجولاں کر کے حضرت امامؒ قتل کے لیے لائےگئے۔ لیکن ٹھیک اُس وقت جب جلّاد کی بے رحم تلوار سر پر سر تراشتی ہوئی مقتولین کی صف میں امام شافعیؒ تک پہنچی تو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی زبر دست علمی عظمتوں اور عقل و فراست کی مجاہدانہ صلاحیتوں نے حق کا اعلان اس شان سے کیا کہ جھوٹ اور سازش کے پر خچے فضا میں اُڑتے نظر آئے اور ہارون رشید نے تڑپ کر یہ اعلان کیا تو عقیدت سے آواز کانپ رہی تھی:
431
19
مسلمان کی قیامت سے بے خبری علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں: آج کل مسائلِ اعتقادی میں جس اعتقاد سے سب سے زیادہ غفلت برتی جا رہی ہے، وہ یوم الدین اور روزِ قیامت کا مسئلہ ہے۔ قیامت سے قیامت کی غفلت ہے۔ کافر تو کافر، مسلمان تک اگر اس سے غفلت نہیں تو تغافل ضرور برت رہے ہیں۔ یعنی ایماناً تو بہرحال اس کا عقیدہ ظاہر کرتے ہیں، لیکن عملاً اس عقیدہ پر یقین ہونے کی صورت میں ان کے طرزِ عمل میں جو تبدیلی ہونی چاہئے، وہ نہیں ہے، اس لیے بطورِ نظریہ کے تو وہ مانتے ہیں، لیکن زندگی کے کاروبار اور اعمال میں اس ایمان سے اگر وہ کامل ہوتا، جس نتیجہ کی امید تھی، وہ پوری نہیں ہو رہی ہے اور سمجھتے ہیں۔ اب تو آرام سے گزرتی ہے عاقبت کی خبر خدا جانے حالانکہ یہ آرام ویسے ہی ہے، جیسے جانوروں کو مُزبَلَہ میں اور کیڑوں کو نجاستوں اور گندگیوں میں ملتا ہے۔ ہم ایسے رہے یہاں کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے (علمِ معاش و معاد کی صحیح حیثیت، صفحہ: ۱۹/۲۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://telegram.me/muniri
496
20
دوسرا عنصر ہے بلاغت۔ بلاغت کے لغوی معنی ہیں’پہنچنا،انتہا کو پہنچنا، یامقررہ حد تک پہنچ جانا‘۔ ادبی اصطلاح میں اس سے مراد ہے موقعے اور محل کے مطابق، سامع یا قاری کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے، بامقصد، مختصر اور مؤثر انداز میں بات کرنا۔بات کو قاری کے ذہن و قلب تک پہنچا دینا۔بلاغت کی بہترین مثالیں قرآنِ کریم کی معجزانہ آیات میںملتی ہیں۔ عربوں میں ’’قتل کے بدلے قتل‘‘ کا مقولہ رائج تھا۔ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 179میں قرآن نے ’’وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ‘‘( تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے)کے مختصر الفاظ میں وہ حقیقت بیان کردی جس پر کتابوں کی کتابیں تحریر کی جا سکتی ہیں۔ فصاحت و بلاغت کے متعلق اکبرؔالٰہ آبادی کیا خوب کہہ گئے: سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں حاصلِ کلام یہ کہ اپنی تحریر میں اثر آفرینی کے لیے اگر آپ چار باتوں کا خیال رکھیں تو تحریر میں چار چاند لگ جائیں: ۱۔صداقت اور خلوص۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے۔یہ اثر آفرینی کی پہلی شرط ہے۔ ۲۔ایجاز و اختصار۔ بات کو طویل اوراُکتا دینے والی چیزنہ بنانا۔ کم سے کم الفاظ میں اپنی پوری بات کہہ دینا۔ چھوٹے چھوٹے فقرے لکھنا۔’اطناب‘ یعنی بات کو لمبا کھینچنے یا گفتگو دراز کرنے سے بچنا۔ایسا نہ ہو کہ پڑھنے والا ضمیرؔ جعفری کی طرح اپنا سر ہی پیٹتا رہ جائے: لکھنے والے مجھے تُو نے کیا لکھ دیا؟ خط لکھا یا خطِ استوا لکھ دیا ۳۔روانی اور تسلسل۔ تحریر میں دریا جیسی روانی ہونی چاہیے۔ جملوں کا آپس میں ایسا ربط ہو کہ قاری ایک جملہ پڑھے تو اگلا جملہ پڑھنے کے لیے بے چین ہوجائے۔پڑھنا شروع کرے تو پڑھتا ہی چلا جائے۔ روکے نہ رُک سکے۔ ۴۔موقع محل کا لحاظ۔ خوشی کے موقعے پر شگفتہ اور غم پر درد انگیز اسلوب اختیار کرنا۔جلال کی جگہ جلال اور جمال کی جگہ جمال ہو۔ اگر آپ اپنے بیان یا تحریر میں اثر پیدا کرنا چاہتے ہیں، تومزید تین باتیں یاد رکھیے۔ایک یہ کہ جتنا وسیع مطالعہ ہوگا، الفاظ کا ذخیرہ بھی اتنا ہی وسیع اور پُرکشش ہوگااورجتنا اچھا مشاہدہ ہوگا تحریر اتنی ہی پُراثر ہوگی۔دوسری بات یہ کہ سادگی میں سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ پیچیدہ اور مشکل الفاظ کا زبردستی استعمال تحریر کو بوجھل بنا دیتا ہے۔مختصر جملے آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔اورتیسری بات یہ کہ لکھنے والے کو اپنی تحریر کے قاری کی نفسیات کا ادراک ہونا چاہیے۔علم ہونا چاہیے کہ وہ کس سے مخاطب ہے؟ بچوں سے، نوجوانوں سے، یا اہل علم سے؟ بہ شکریہ۔ فرائیڈے اسپیشل https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
778