en
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Open in Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Show more
8 152
Subscribers
No data24 hours
+157 days
+4830 days

Data loading in progress...

Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
July '26
July '26
+118
in 0 channels
June '26
+218
in 0 channels
Get PRO
May '26
+228
in 1 channels
Get PRO
April '26
+163
in 1 channels
Get PRO
March '26
+62
in 2 channels
Get PRO
February '26
+89
in 1 channels
Get PRO
January '26
+95
in 2 channels
Get PRO
December '25
+81
in 0 channels
Get PRO
November '25
+109
in 1 channels
Get PRO
October '25
+105
in 1 channels
Get PRO
September '25
+119
in 1 channels
Get PRO
August '25
+173
in 2 channels
Get PRO
July '25
+151
in 2 channels
Get PRO
June '25
+140
in 2 channels
Get PRO
May '25
+95
in 1 channels
Get PRO
April '25
+105
in 0 channels
Get PRO
March '25
+153
in 2 channels
Get PRO
February '25
+131
in 1 channels
Get PRO
January '25
+278
in 1 channels
Get PRO
December '24
+403
in 0 channels
Get PRO
November '24
+500
in 2 channels
Get PRO
October '24
+487
in 1 channels
Get PRO
September '24
+322
in 0 channels
Get PRO
August '24
+322
in 3 channels
Get PRO
July '24
+323
in 4 channels
Get PRO
June '24
+341
in 0 channels
Get PRO
May '24
+331
in 1 channels
Get PRO
April '24
+300
in 3 channels
Get PRO
March '24
+265
in 1 channels
Get PRO
February '24
+321
in 1 channels
Get PRO
January '24
+403
in 3 channels
Get PRO
December '23
+376
in 0 channels
Get PRO
November '23
+132
in 0 channels
Get PRO
October '23
+124
in 1 channels
Get PRO
September '23
+92
in 0 channels
Get PRO
August '23
+121
in 0 channels
Get PRO
July '23
+116
in 0 channels
Get PRO
June '23
+77
in 0 channels
Get PRO
May '23
+253
in 0 channels
Get PRO
April '23
+81
in 0 channels
Get PRO
March '23
+49
in 0 channels
Get PRO
February '23
+126
in 0 channels
Get PRO
January '23
+137
in 0 channels
Get PRO
December '22
+123
in 0 channels
Get PRO
November '22
+209
in 0 channels
Get PRO
October '22
+119
in 0 channels
Get PRO
September '22
+62
in 0 channels
Get PRO
August '22
+40
in 0 channels
Get PRO
July '22
+44
in 0 channels
Get PRO
June '22
+138
in 0 channels
Get PRO
May '22
+42
in 0 channels
Get PRO
April '22
+17
in 0 channels
Get PRO
March '22
+31
in 0 channels
Get PRO
February '22
+28
in 0 channels
Get PRO
January '22
+56
in 0 channels
Get PRO
December '21
+112
in 0 channels
Get PRO
November '21
+52
in 0 channels
Get PRO
October '21
+112
in 0 channels
Get PRO
September '21
+64
in 0 channels
Get PRO
August '21
+43
in 0 channels
Get PRO
July '21
+63
in 0 channels
Get PRO
June '21
+164
in 0 channels
Get PRO
May '21
+38
in 0 channels
Get PRO
April '21
+60
in 0 channels
Get PRO
March '21
+103
in 0 channels
Get PRO
February '21
+80
in 0 channels
Get PRO
January '21
+211
in 0 channels
Get PRO
December '20
+1 362
in 0 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
18 July+1
17 July+5
16 July+8
15 July+10
14 July+3
13 July+8
12 July+4
11 July+11
10 July+3
09 July+6
08 July+5
07 July+7
06 July+4
05 July+12
04 July+3
03 July+3
02 July+9
01 July+16
Channel Posts
آج اردو کے عظیم شاعر فنا نظامی کانپوری کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۸/ جولائی ۱۹۸۸ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ایک غزل پیش خدمت ہے۔ یہ بہار کا زمانہ یہ گلوں کے سائے کلام وآواز: فنا نظامی کانپوری لنک اردو اڈیو ڈاٹ کام فیس بوک کے ناظرین ان بکس میں لنک ملاحظہ فرمائیں https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=saqia-tu-nay-maray-zarf-ko-samjha, Saqia tu nay Maray Zarf ko samjha مزید کلام کے لئے کلک کریں https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=fana-nizami-kanpuri&t=

2
جو مانگے کی زبان کے حق میں ہمہ وقت ’رطب اللسان‘ رہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ساتھ ہماری زبان بھی ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔اب تک جتنی مادّی ترقیاں ہوئی ہیں، ہماری زبان نے سب سے استفادہ کیا ہے۔ آج جو لوگ ’فیس بُک‘ پر اُردو کے خلاف اُردو ہی میں بقراطیاں کر رہے ہیں، اُن کے دیدۂ کور کو نظر نہیں آتا کہ ہمارے ’ماضی‘ کا ورثہ، ہماری زبان کس طرح ’حال‘ کے تقاضوں کی تکمیل کرتی ہوئی ’مستقبل‘ کی سمت بڑھ رہی ہے۔مانا کہ اب تختی نہیں لکھی جاتی، قلم کو دوات کی روشنائی میں ڈبو کر قرطاس پر حسین حروف نہیں بکھیرے جاتے۔ کاغذ کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے۔ مگر جدید آلات کی مدد سے بھی اُردوتو لکھی جا رہی ہے،اُردو بولی جا رہی ہے، اُردو میں صدا بندی اور عکس بندی ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ جدید ذرائع سے اُردو خطاطی بھی سکھائی جا رہی ہے۔ اُردو کے ماضی کی بھلا کون سی خوبی ہے جو جدید شکل میں ہمارے سامنے موجود نہیں؟اُردو کسی زبان سے کاہے میں کم ہے؟اگر کہیں کوئی کمی پائی جاتی ہے تو قصور اُن کا ہے جو یہ کمی پوری کر سکتے ہیں۔ ہاں کمی ہے توہمارے بعض لوگوں میں ’خود اعتمادی‘ کی کمی ہے۔قوتِ عمل کا فقدان ہے۔ ’احساسِ کمتری‘ میں مبتلا افراداپنے آپ سے یہ توقع نہیں کر پا رہے ہیں کہ دیگر اقوام کی طرح تعلیم و تدریس سمیت تمام کاروبارِ حیات ہم اپنی قومی زبان میں سرانجام دے سکتے ہیں۔ چوں کہ وہ اپنی ذات کی حد تک اس کام کو ”ناممکن“ سمجھتے ہیں، لہٰذا سب کے لیے ناممکن گردانتے ہیں۔حضورِ والا! جس کام کو آپ ناممکن سمجھیں گے اُس کے لیے پہلا قدم بھی کبھی نہیں اُٹھائیں گے۔ ہاں جس کام کو آپ سمجھتے ہوں کہ یہ کام ہو سکتا ہے،اسے کرنا چاہیے، اُس کے لیے پہلا قدم اُٹھائیں گے، دوسرا قدم اُٹھائیں گے، تیسرا قدم اُٹھائیں گے اورپھر رواں ہو جائیں گے۔تو اے عزیزانِ من!اہلِ ہمت ”ناممکن کام“ بھی ممکن کاموں ہی کی طرح قدم بہ قدم سر انجام دے کر ”ممکن“ بناتے ہیں۔تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ کی اس بات پر بھی حشر برپا ہے کہ ہمارے زمانے میں اُردو کو بطور ذریعۂ تعلیم زندہ رکھا ہے تو دینی مدارس نے زندہ رکھا ہے۔اس پر تلملانے اور منہ بنانے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے؟ کسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے والے اور کسی دارالعلوم سے فراغت کی سند لینے والے کی اُردو تحریر یااردو گفتگو کا موازنہ کر لیجے۔معلوم ہو جائے گا کہ کون پڑھا لکھا ہے۔ ٭٭
54
3
*غلطی ہائے مضامین* *کون پڑھا لکھا ہے؟* *احمد حاطب صدیقی(ابونثر)* ملک کے ایک ممتاز مفکر، ادیب اور دانشور، جواتفاق سے اور ہمارے ایک عزیز دوست کے رشتے سے ہمارے برادرِ بزرگ بھی ہیں، ڈاکٹر نجیبہ عارف کی ایک تقریر کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”قومی زبان کی تعریف یہ تسلیم کی گی تھی کہ۔۔۔ وہ اپنا رسم الخط رکھتی ہو، اعلا سطح پر بھی تدریس کی زبان ہو،عدالتی اور سرکاری خط و کتابت میں استعمال ہوتی ہو۔ اردو میں یہ تینوں صفات نہیں ہیں۔ اس کا رسم الخط فارسی ہے۔ یہ میڈیکل انجینیرینگ اور ٹیکنا لوجی کی تعلیم کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ کسی سرکاری دفتر یا عدالت میں استعمال نہیں ہو رہی۔“وغیرہ وغیرہ۔ بعض بزرگوں کی لاعلمی پر تعجب ہی کیا جا سکتا ہے۔ بڑھاپا بھی عجب شے ہے۔ قویٰ ہی مضمحل نہیں ہوتے،بسا اوقات عناصر کی بے اعتدالی سے ذہن بھی ماؤف ہو جاتا ہے، پھر جیسے تیسے اسی سے کام چلانا پڑتا ہے۔بالکل ٹھیک ہو جانا شاید مشکل ہو جاتا ہو، بقول مصحفیؔ: بھلا دُرستیِ اعضائے پیر کیا ہووے کہ جیسے رسی سے ٹوٹا کواڑ باندھ دیا رسم الخط پر بات کرنے کے لیے طویل اظہار خیال کی ضرورت ہے۔ یہاں اس کی گنجائش نہیں ہے۔مگر ذرا بتائیے تو سہی کہ کس زبان کا رسم الخط اپنا ہے؟ اورکیا اُردو کے حروف میں ایسے حروفِ تہجی نہیں ہیں جو فارسی میں استعمال ہی نہیں ہوتے؟ صاحب! آپ مانیں یا نہ مانیں، کم ازکم اتنا تو جانیں کہ اُردو زبان اپنے اظہار کے لیے ایک رسم الخط رکھتی ہے اور اس کے اپنے 54 حروفِ تہجی ہیں۔رومن رسم الخط کوتو اُردو رسم الخط آپ بھی تسلیم نہیں کرتے۔خطِ نستعلیق ہی میں اُردو لکھے جاتے ہیں۔پھر اُردو میں لکھنے پر پچھتاتے ہیں۔ ماضی قریب میں ہمارے ہاں طب، مہندسی اور جدید فنیات کی تعلیم و تدریس اُردو ہی میں ہوتی رہی ہے۔اِنھیں کالموں میں ہم بارہا بتا چکے ہیں کہ اسی ملک میں اور یہیں کی درس گاہوں میں، ہم نے اور ہمارے بہت سے عم عصروں نے علمِ حیاتیات(علمِ حیوانیات+علمِ نباتیات)، علمِ طبیعیات، علمِ کیمیا، علمِ ریاضی، الجبرا،علم الاحصا، علم الہندسہ اور علمِ مثلث سمیت تمام سائنسی علوم کی تعلیم اُردو میں حاصل کی ہے۔ جامعہ کراچی میں ہمیں ”جوہری طبیعیات“ بھی پڑھائی گئی۔ ان علوم کی اُردو نصابی کتب، پاکستان ہی کے نہیں، دنیا کے متعدد کتب خانوں (حتیٰ کہ برٹش میوزیم لائبریری اور امیرکن کانگریس لائبریری) میں بھی موجود ہیں۔ کچھ بچی کھچی کتابیں راقم کے ذاتی کتب خانے کے’زیبِ خانہ‘ ہیں۔ آپ کا ہو یا نہ ہو مگرصاحب!ہمارا مشاہدہ اور تجربہ تو یہی ہے کہ ”بے صلاحیت“ اُردو زبان نہیں ہے۔ رہاسرکاری ’خط کتابت‘ کا معاملہ، تو رونا تو یہی ہے کہ سرکاری سطح پر دستور پاکستان کی دفعہ ۲۵۱ کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے اورواضح حکم کے باوجود پاکستان کے کسی سرکاری دفتر یا خود عدالتوں میں قومی زبان بطور سرکاری زبان استعمال نہیں ہو رہی ہے۔ مگر آزاد کشمیر میں ہورہی ہے اور پاکستان کے تھانوں میں ہو رہی ہے۔ مجموعۂ تعزیرات کا مطالعہ کیجیے تو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اُردوزبان قانونی، عدالتی، دفتری اور سرکاری زبان بننے کی کیسی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اُردو کی عطا کردہ قانونی اصطلاحات کتنی بلیغ اور جامع ہیں۔ صاحبو!اُردو بلا شبہہ باصلاحیت ہےمگر جو لوگ اُردو کی صلاحیتوں کا علم نہیں رکھتے، اُن کی صلاحیتیں بے شک مشکوک ہیں۔ اوپرجو ہم نے ’ماضی قریب‘ کا ذکر کیا ہے، توہمارا ماضی ہمارے لیے کتنا ہی پُرکشش کیوں نہ ہو،مگر ممکن نہیں کہ ’ماضی‘ جوں کا توں ہمارا حال یا مستقبل بن جائے۔گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔ یوں بھی ہمیں ماضی کی مسرتیں یاد رہتی ہیں، مگر ماضی کی مصیبتیں ذہن سے محو ہو جاتی ہیں۔ شاید ہم مادّی طور پر ماضی میں واپس جانا کبھی پسند نہ کریں، کیوں کہ مادّی طور پرآج جو سہولتیں ہمیں حاصل ہیں، ماضی میں اُن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔پھر بھی انسان اپنے فارغ وقت میں، فارغ بیٹھا ’تصور‘ (خانم) سے یہی فرمائش کرتا رہتا ہے کہ ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تُو دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو پیچھے کی طرف پلٹ پلٹ کر دیکھنا انسان کی فطرت میں رچا بسا ہے۔ بقول مولانا ابوالجلال ندویؒ: ہر فکرِ نَو کی، وہمِ کُہن ہی اساس ہے ماضی گُندھا ہوا ہے بشر کے خمیر میں جن چیزوں کو آج جدید کہا جاتا ہے، اُن میں سے ہر ایک کی ’اساس‘ قدیم ہے۔ماضی سے ناتا توڑ لیں تو مستقبل بے معنی ہو جاتا ہے۔ سوچیے،جب آپ چلے تھے تو کہاں کے لیے چلے تھے؟ یہ بات ذہن میں نہ رہے تو کبھی منزل پر نہیں پہنچ سکیں گے۔ بھٹکتے رہیں گے۔ بھٹکنے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ’اساس‘ نہ بھولیں۔’بے بنیاد‘ نہ رہیں۔پٹری سے نہ اُتریں۔ اپنی رہ گزر پر چلتے رہیں تاکہ ’منزلِ مُراد‘ تک پہنچ سکیں۔ اُن ’نامُرادوں‘ سے بچ کر رہیں جو آپ کا تشخص آپ سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ آپ کی زبان کھینچ کرآپ کے منہ میں مانگے کی زبان ٹھونس دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں
52
4
*صور من حیاۃ الصحابۃ کی آڈیو فائل اور تمرینات محنت سے ہم تیار کرکے صرف اس غرض سے بھیجتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ اپنے طلبہ میں ان کی مشق کروائیں، تاکہ ان میں عربی لکھنے اور بولنے سے مناسبت پیدا ہو۔ اگر ہمارے احباب سے مناسب ریکشن اور اہتمام کا مظاہرہ ہو تو پھر یہ سلسلہ ان شاء ہر ہفتہ جاری رکھنے کی کوشش ہوگی۔ بصورت دیگر اسے جاری رکھنے سے معذرت کردی جائے گی۔ اڈمن علم وکتا ب*
214
5
2026-07-17 عبد الله بن جحش .mp3
205
6
صورة_من_حياة_الصحابة10_عبد_اللله_بن_جحش_الأسدي_مع_التمارين.pdf
200
7
دیندار اور دنیادار، اسلام یہ تفریق لے کر نہیں آیا نواب صدر یار جنگ، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن خان شروانی رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا: آج صدیوں سے مسلمانوں میں دو گروہ ہیں۔ دیندار اور دنیا دار۔ اسلام یہ تقسیم لے کر نہیں آیا تھا، ایک مسلم کی دنیا، اس کے دین سے ہے اور دین، اس کی دنیا سے علاحدہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت سرورِ عالم صلی اللّٰه علیہ وسلم کی رسالت کا ظہور، انبیاء علیھم السلام کے اس طبقے میں ہوا جو جامعِ نبوت اور حکومت تھے۔ مثلِ حضرت موسیٰ و حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیھما السلام۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں سب سے بڑی دنیا دار اور سب سے بڑی دیندار شخصیت ایک ہی ہوتی رہی، یعنی خلیفۂ وقت۔ عشرۂ مبشرہ رضی اللّٰه عنھم اجمعین میں غالب تعداد ایسے بزرگوں کی ہے، جو دولت و معاملت میں ممتاز تھے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی تجارت، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت سعد بن وقاصؓ کا تمول و تجمل مشہور ہے۔ وادیءِ عتیق کا قصر و ایوان اس بیان کے شاہدِ عدل ہیں۔ فقہ حنفی نے قبولِ امارت و دولت کے آغوش میں پشتوں تک پرورش پائی ہے۔ حضرت حمادؒ کے فضائل میں سخاوت و احتشام بھی شامل ہیں۔ رمضان مبارک میں پانسو روزہ داروں کے دسترخوان پر روزانہ انتظار کرتے تھے۔ امامِ اعظمؒ کی سخاوت کی وسعت مشہورِ روزگار ہے۔ چار سو روپیہ کی قیمت کی چادر ان کے مبارک شانوں پر رہی ہے۔ امام ابویوسفؒ کا تجمل و احتشام محتاجِ بیان نہیں۔ (الندوہ، جون، جولائی: ۱۹۴۲ء/صفحہ: ۳۹/۴۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
264
8
https://youtu.be/FKQbz_x10HE?si=pbc3wPVDFWsDAdYq آج حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ سابق مہتمم دار العلوم دیوبند کا یوم وصال ہے، آپ کی وفات آج سے(۴۳) سال قبل مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۳ء کو ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے مکتب جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے سنگ بنیاد کے موقعہ پر سنہ ۱۹۷۶ء میں ہوئے یاد گار خطاب کا ایک حصہ پیش خدمت ہے، آپ کے مزید بیانات سننے کے لئے اردو آڈیو ڈاٹ کام کی مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔ https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=qari-muhammed-tayyab&t =
289
9
*وفیات مورخہ:جولائی/ 17* 1960ء مطلوب الرحمٰن عثمانی۔ مولانا ، 1969ء محمد حسین صدیقی۔ ، 1969ء ناظر کاکوروی (مشیر احمد علوی)۔ ، 1971ء خیر بھوروی، ابو الخیر۔ ، 1973ء مرزا مہدی پویا۔ مولانا ، 1983ء قاری محمد طیب۔ حکیم الاسلام، مولانا، مہتمم دار العلوم دیوبند 1989ء عاشق حسین بٹالوی۔ مورخ، افسانہ نگار 1992ء عبدالرشید بیگ۔ مرزا 1999ء آغا محمد باقر شمس۔ شاعر وادیب 1999ء باسط عظیم (محمد عبدالباسط)۔ ، 2004ء البیلا (اختر حسین)۔ مزاحیہ اداکار 2015ء نوید احمد۔ حافظ، انجینیر 2020ء سید ولی اللہ قاسمی۔ مولانا علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
251
10
*ڈاکٹر فریدی کا روزنامہ 'قائد' — از معصوم مراد آبادی* (آج روزنامہ آگ میں شائع شدہ کالم ) ابتدائیہ اور اخبار کا آغاز مسلم مجلس کے بانی ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جن راستوں کا انتخاب کیا، ان میں ان کا روزنامہ 'قائد' بھی تھا۔ یہ اخبار صحافت سے اس دور کے اہم صحافتی اور قلم کار وابستہ رہے۔ چار صفحات پر مشتمل اس اخبار کا اجرا 23 ستمبر 1966 کو لکھنؤ سے ہوا تھا۔ یہ دور چونکہ لیتھو کی طباعت کا تھا، اس لیے روزنامہ 'قائد' کی اشاعت بھی لیتھو پر شروع ہوئی۔ اخبار کا عملہ اور رفقاء کار اس کے ابتدائی مدیروں میں بھوپال کے صحافی اشتیاق عارف اور لکھنؤ کے حکیم عبدالقوی دریا بادی کا نام ہے۔ حکیم صاحب مولانا عبدالماجد دریا بادی کے داماد تھے اور ان کا تعلق مولانا دریا بادی کے اخبار 'صدق جدید' سے بھی تھا جبکہ اشتیاق عارف نے اپنا صحافتی سفر بھوپال کے قدیم اخبار 'ندیم' سے شروع کیا تھا۔ ان کے علاوہ 'دعوت' کے سابق ایڈیٹر محفوظ الرحمن اور دہلی کے سرکردہ صحافی پروانہ ردولوی نے بھی 'قائد' میں کام کیا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اشتیاق عارف نے اپنی آپ بیتی 'یادوں کی بازیافت' میں روزنامہ 'قائد' میں گزارے ہوئے اپنے ایام کی تاریخ شیریں روداد کئی صفحات پر بیان کی ہے۔ لکھنؤ کے صحافی تحسین امین نے بھی اس اخبار میں بطور مینیجر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر فریدی کا جذبہ اور ایثار 'قائد' کی اشاعت کب تک جاری رہی، اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے، البتہ اس کی اشاعت بند ہونے کا اصل سبب مالی دشواریاں تھیں چونکہ اس کے تمام اخراجات ڈاکٹر فریدی اپنی جیب خاص سے پورے کرتے تھے اور اس معاملے میں کسی سے مدد لینے کے روادار نہیں تھے۔ محفوظ الرحمن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے: "ڈاکٹر فریدی امراضِ سینہ کے مشہور معالج تھے۔ وہ چاہتے تو اس کے سہارے سیم و زر کے انبار لگا سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی اس پیشہ ورانہ صلاحیت کو اپنا بینک بیلنس بڑھاتے چلے جانے کے بجائے خلقِ خدا کی خدمت اور آخرت کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔" مضمون میں ایک واقعے کا ذکر ہے جب ایک ڈاکٹر نے انہیں کچھ پیسے بچانے یا مریضوں سے فیس لینے کا مشورہ دیا تو ڈاکٹر فریدی نے کہا: "یہ کتنے بیش قیمت اثاثہ ہیں جسے میں اپنے رب کے حضور لے جاؤں گا اور ان کے ہی صلے میں اس کی رحمت کا طلب گار ہوں گا کہ میرے پاس اس کے سوا پیش کرنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ میں نے اپنی ساری زندگی تیری مخلوق کی بے لوث خدمت میں صرف کر دی۔ اب اگر تو چاہے تو میرے گناہوں اور میری خطاؤں کو اس کے عوض معاف کر دے۔" اخبار کا مقصد اور پالیسی ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 'قائد' کا اجراء ایک بڑے مقصد اور مشن کی تکمیل کے لیے کیا تھا۔ انہوں نے پریس نوٹ جاری کیا: "ایک جمہوری نظام میں غلط فہمیاں پھیلانے والی پبلسٹی اور پروپیگنڈے کا توڑ ہونا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ گزشتہ سال میں مسلمانوں کا مقدمہ حریفوں کی مخالفت کی بنا پر کم اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے زیادہ کمزور رہا ہے۔ ہم اپنا مقدمہ صحیح طور سے عوام کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نشر و اشاعت کے بیشتر ذرائع ان لوگوں کے قبضہ میں ہیں جو مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھ کر ان کے ساتھ گرا ہوا برتاؤ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس اردو کے چند اخبارات کے سوا ہندی یا انگریزی کا کوئی ایسا اخبار نہیں ہے جو بے خوفی سے اقلیتوں کی ترجمانی کر سکے۔" وہ لکھنؤ اور کانپور کے اخبارات پر شدید تنقید کرتے تھے جو مسلم اخبارات کی حیثیت ذاتی اور نجی رکھ کر اپنی پارٹی یا ذات کے مفاد کے لیے چلاتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا مسلم اخبار ہو جو بے لوث ہو، اور اسی مقصد کی خاطر انہوں نے اپنی کمائی کا کثیر حصہ اس اخبار پر خرچ کیا۔ اخبار کا زوال اور بند ہونا روزنامہ 'قائد' کی اشاعت جاری رکھنے کے سلسلے میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، تو انہوں نے 'چند ضروری باتیں' کے عنوان سے 26 نومبر 1967 کو سرائے میر (اعظم گڑھ) میں مسلم مجلسِ مشاورت کی صوبائی کونسل اور علاقائی کانفرنس کے اجلاس میں کہا: "اس ضمن میں میں آپ کی توجہ مجلس کے ترجمان 'قائد' کی افسوسناک مالی دشواریوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے ہر فرد 'روزنامہ اخبار' کی اہمیت سے خوب واقف ہے۔ 'قائد' اب تک اہم ستونوں کی طرح مجلس کے نصب العین کو بلند رکھے ہوئے ہے۔ اب تک اس اخبار کا کوئی خسارہ نہیں ہو چکا ہے۔ اگر فوری طور پر اس کی مالی حالت سنبھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر عطیات نہ موصول ہوئے تو میں مجبوراً اس اخبار کو یکم دسمبر (1967) سے بند کرتا ہوں۔" اس کے بعد بھی حالات سازگار نہ ہوئے اور اخبار بالآخر بند ہو گیا۔ اخبار کا یہ سفر 23 ستمبر 1966 کو شروع ہو کر یکم دسمبر 1967 کو بند ہو گیا۔ اس طرح اس کی اشاعت تقریباً چودہ مہینے جاری رہی۔
258
11
*حضرت شیخ الہند ؒکی حضرت شیخ الاسلام ؒکو ایک اہم نصیحت* "دیوبند سے رخصت ہوتے وقت حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ پیدل اسٹیشن تک ساتھ ساتھ تشریف لاۓ اور راستہ میں صدر چوکی کے پاس وصیت فرمائی کہ: *پڑھانا نہ چھوڑنا خواہ ایک طالب علم ہو* حیات شیخ الاسلام 78/1 بی حوالہ مآثر شیخ الاسلام ۵۳ انتخاب:محمد رضی قاسمی
373
12
حدث في مثل هذا اليوم ١٥ يوليو
378
13
امام شافعیؒ کتنے ہوش مند تھے کہ چار دن کی دنیا میں گم ہو کر اس بڑے بھاری سفر کی تیاریوں سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہ ہوئے ـــــ نمازِ فجر سے سرِ نیاز اُٹھتا تو سینکڑوں انسانوں کے قافلے کو سفرِ آخرت کی تیاریاں سکھائی جاتیں ـــــ سب سے پہلے فقہ کا درس ہوتا ـــــ پھر حدیثِ رسول ﷺ کے آئینے میں انسان کے لیے بہترین اُسوے کی دل نواز جھلکیاں دکھائی جاتیں ـــــ قلب و رُوح میں یہ اُسوۂ حسنہ بٹھانے کے بعد مجلس وعظ کے ذریعہ ایمان افروز تاثرات دیے جاتے ـــــ اس کے بعد علمی مذاکرات کی محفل گرم ہوتی تاکہ مختلف سگینوں کی حرارت ایمان اور دل کی روشنی کا اندازہ ہو جائے ـــــ کھانے پینے کے لیے ایک مختصر وقفہ کے بعد نمازِ ظہر سے فارغ ہو کر پھر یہ مجلس ہوتی اور اس وقت دُنیا کے حسین ترین حصّہ سے لُطف اندوز ہونے کے لیے خالص ادبی اور لسانی علوم گفتگو کا موضوع بنتے ـــــ اس طرح سفرِ آخرت کے راہی تھک تھکا کر گھروں کو چلے جاتے اور "میر کارواں" امام شافعیؒ بھی عصر تک آرام فرماتے تاکہ پھر تازہ دم ہو کہ جہاد علم و عمل کے محاذ پر رونق افروز ہوں ۔ عصر کی نماز ختم ہو جاتی مگر امام شافعیؒ آخرت کی گہری سوچ میں سَر در گریباں بیٹھے رہ جاتے اس محویت سے وہ اس وقت چونکتے جب مؤذن خدا کے گھر میں کھڑا ہو کر نمازِ مغرب کے "شاہی دربار" کا اعلان کرتا ۔ اب جب کہ رات ہو چکی ہوتی اور چرند پرند تک بسیرا لینے کے لیے اپنے اپنے کونوں میں پہنچ چکے تو حضرت امامؒ بھی نماز عشاء پڑھ کر یہ دُعا پڑھتے ہوئے شب خوابی کے بستر پر پاؤں رکھتے:-    "میرے اللہ ! تیرے ہی نام سے میرے پہلووں کو یہ بستر چھوتا ہے اور تیرے ہی نام سے میں اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں ـــــ  اگر تو میری رُوح قبض کرلے تو جان بخشی فرما دینا اور اگر میری رُوح کو واپس کردے تو اس جان کی اس طرح حفاظت فرمانا، جس طرح تو اپنے پاک باز بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔" لیکن ابھی ایک تہائی رات گزرتی کہ خوفِ آخرت اور اُمیدِ مغفرت کی اُدھیڑ بُن قلب و رُوح سے بیدار ہوتی اور پٹ سے آنکھ کھل جاتی اور حضرت امامؒ حیات وکائنات کے خالق کو پُکارتے ہوئے بستر سے اُٹھ جاتے:-     "پاک ہے اللہ اور تعریف ہے اس کی اور پاک ہے خدائےعظیم ـــــ اے اللہ تو سچّا ـــــ تیرا وعدہ سچّا ۔۔۔۔"    رات کی میٹھی نیندیں چھوڑ کر وہ کتاب و سنّت کی علمی اور تحقیقی خدمت میں تن من سے منہمک ہو جاتے ۔ علم کی لطیف آنچ سے قلب میں سوز اور روح میں اضطراب بڑھتا جاتا۔ اور آخر آخری تہائی رات سجدہ گاہِ شوق پر اس حال میں بسر ہوتی کہ سینہ سوزِ ایمانی سے جلنے لگتا اور آنکھیں گرم گرم آنسوؤں سے سجدہ گاہ کو تر کر دیتیں ۔ خدا کی کتاب اس طرح پڑھتے جیسے وہی ان کا درد ہے اور وہی اس درد کا درماں بھی ـــــ آیاتِ الٰہی کو دیکھ کر دل میں میٹھا میٹھا درد سا ہوتا ـــــ اور آنکھوں میں موتی سے آنسُو چمک اُٹھتے ـــــ سینے کا یہ درد آواز کو اتنا دردناک بنا چکا تھا کہ امام صاحبؒ نماز پڑھاتے وقت ابھی چند آیات ہی تلاوت کر پاتے کہ ان کے کانوں میں پیچھے صف بستہ نمازیوں کی سِسکیاں سُنائی دینے لگتیں تلاوت جوں جوں اور آگے بڑھتی یہ سِسکیاں تیز سے تیز تر ہوتیں اور کبھی کبھی تو یہ کیفیت ہو جاتی کہ جیسے شدّت درد سے سینے پھٹ جائیں گے ـــــ ایسے عالم میں امام صاحبؒ فوراً تلاوت کا سلسلہ روک دیتے اور اس بے قرار و نیم بسمل جماعت کو ساتھ لیے ہوئے رکوع و سجود کی لطیف گہرائیوں میں موجِ تہ نشین کی طرح گُم ہو جاتے تھے ۔ (جاری)  https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
502
14
*کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات  (چوتھی قسط)*   *تحریر: شمس نوید عثمانیؒ* "ایک بار عید کی رات تھی" امام مزنیؒ یہ پاکیزہ واقعہ سُناتے ہیں ۔ "مَیں امام صاحبؒ کے ساتھ مسجد سے گھر تک آیا ۔ ایک دینی مسئلے پر گفتگو چھڑی ہوئی تھی اورحضرت امامؒ علم و حکمت کے موتی سرِ راہ لُٹاتے جارہے تھے ۔ دروازے پر پہنچے تو وہاں ایک شخص کو اپنا منتظر پایا۔ اس نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور عرض کیا:     "یہ تھیلی میرے آقا نے خدمتِ عالی میں نذر کی ہے ۔"      امام صاحبؒ نے شکریے کے ساتھ یہ تھیلی قبول فرمائی ۔ وہ شخص رخصت ہوا ہی تھا کہ ایک اور شخص گرتا پڑتا امامؒ کی طرف چلا آرہا تھا:-      "امام صاحبؒ .....!" نووارد نے ہانپتے کانپتے ہوئے دُکھڑا سُنایا،" گھر میں بچّے کی ولادت ہوئی ہے اور میرے پاس ایک پیسہ تک نہیں ۔۔۔۔"    یہ سُننا تھا کہ امام صاحبؒ بے قرار ہو گئے۔ وہی تھیلی جوں کی توں اس شخص کے ہاتھ میں دے دی اور مُسکراتے ہوئے گھر تشریف لے گئے۔"     ایسے ہی عید کی ایک اور رات کا واقعہ ہے ۔ آسمان پر ہلال عید کو دیکھ کر نیک دِل بیوی نے ٹھنڈے پڑے ہوئے چولھے کی طرف دیکھا اور بے قابو ہوگئیں ۔    "کیا یہ مناسب نہ ہوگا" انھوں نے آب دیدہ ہو کر امام صاحبؒ سے عرض کیا "کہ کچھ رقم کہیں سے اُدھار منگا لیجیے ...... ؟"    سفر آخرت کی ساتھی کو یُوں دل گیر ہوتے ہوئے دیکھ کر امام صاحبؒ پر بھی رقّت سی طاری ہوگئی ۔ ایک بے قرار نظر ان کے اداس چہرے پر ڈالی اور بھیگی ہوئی پلکوں نے کوئی خاموش پیغام دیا جیسے کہہ رہے ہوں: "تم روتی ہو ـــــ ؟ حالاں کہ خوش ہونا چاہیے ۔ بے شک یہ کانٹے ہیں جو آج دل و جگر میں چُبھ رہے ہیں لیکن .... خدا کی قسم ! خدا کی جنّت کانٹوں ہی سے تو ڈھکی ہوئی ہے۔۔۔۔"    پھر اُٹھے اور تھوڑی دیر کے بعد ستّر دینار بطور قرض اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے واپس آرہے تھے ـــــ  دل بے چین تھا کہ جس چہرے کو اُداس اور مغموم چھوڑ کر آئے ہیں اس چہرے کو خوشی سے مُسکراتا ہوا بھی دیکھ لیں ـــــ ! لیکن اتنے میں فقراء و مساکین اپنا اپنا درد سُنانے کے لیے ہر طرف سے آپہنچے تھے ۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کی پکار سُنی اور قرض لی ہوئی رقم کا بڑا حصّہ بے نواؤں کی اشک شوئی میں صرف ہوگیا ـــــ گھر میں پہنچے تو بیس دینار بچے تھے۔ ابھی وہ بیوی کے ہاتھ میں رکھنے نہ پائے تھے کہ ایک قریشی کی فریاد دروازے پر سُنائی دی۔ اُلٹے پاؤں واپس ہوئے ۔ اس کا حال سُنا اور یہ بیس کے بیس دینار اس کے سامنے رکھتے ہُوئے صرف اتنا کہا:    "بھائی ــــــ ! ان میں سے اپنی ضرورت بھر تم بھی لے لو۔۔۔۔" اس نے بیس کے بیس دینار اُٹھاتے ہوئے کہا: "سچ کہتا ہوں اے امامؒ ! ابھی میری ضرورت پوری نہیں ہوئی۔ ابھی تو اور چاہئیں۔۔۔۔"    اور امام صاحبؒ نے ایک حرف منہ سے نہ نکالا ! ــــــ خاموشی سے جا کر بیوی کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے رہ گئے ۔  "آپ تو یہی کرتے رہتے ہیں ....." بیوی کی آواز بھرّا گئی اور امام صاحبؒ اپنے اور بیوی کے غم کو سینے سے لگائے ہوئے خاموش کھڑے رہے ــــــ  آزمائش کی یہ گھائی طَے ہوئی تھی کہ خدا کی رحمت کو جوش آگیا ــــــ ہارون رشید کے وزیر جعفر نے ہاتفِ غیبی کی آواز سے یہ واقعہ سُنا اور ایک ہزار دینار کی نذر لیے ہوئے صبح سویرے ہرکارہ آپہنچا اور عرض کیا " وزیر مملکت کا عاجزانہ اصرار ہے کہ یہ حقیر نذر قبول ہی فرما لیجیے۔"   ___ یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں خدا کا ارشاد ہے:- "اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ان کے اموال کو خرید لیا ہے جس کے عوض میں ان کے لیے جنّت ہے ــــــ" امام صاحبؒ کا یہ اصول تھا کہ ہزاروں درہم و دینار کے خزانے حکومت اور جمہور کی طرف سے ان کے قدموں میں ڈالے جاتے مگر یہ سارا خراجِ عقیدت ان کی نظر میں اللہ کی امانت تھا ــــــ نذرانوں کا تین چوتھائی حصّہ بہر حال صدقہ و خیرات میں لگا دیا جاتا اور اس طرح عالمِ باقی کے خزانوں میں جمع کر دیا جاتا اور یہ مشکل ایک چوتھائی رقم دنیائے فانی میں خود جینے اور اہل و عیال کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی ذات پر روا رکھی جاتی ـــــ ٹھیک اسی طرح زندگی کے صبح و شام کو خدا کی "امانت" کے طور پر تقسیم کر رکھا تھا ـــــ ان کا بہت بڑا غالب ترین حصّہ اُس سفرِ آخرت کی تیاریوں میں صَرف ہوتا جو دم توڑتے ہی شروع ہونے والا ہے اور ہزاروں سَالہ برزخ اور پچاس ہزار سالہ عرصۂ قیامت طَے کرتا ہوا جو ہمیشہ ہمیشہ جاری رہے گا ـــــ جس کی راہ میں میزان عمل کی وہ گھاٹی ہے جہاں آدمی کی کرنی ترازو میں تو لی جا رہی ہوگی ـــــ حساب ہی حساب ہو گا اور عمل ختم ہو چکے گا ـــــ جس کا ایک مرحلہ وہ خطرناک ترین پُل صراط بھی ہے جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز تر ہے ـــــ جس کے ایک کنارے پر عرصۂ قیامت ـــــ نیچے بھڑکتی ہوئی آتشِ جہنّم اور اُس پار خُدا کی جنّت ہوگی۔
426
15
*اقتباس مطالعہ:4* پس اے عزیزان ملت! اور اے بقیہ ماتم زدگان قافلہء اسلام! اگر یہ سچ ہے کہ دنیا کے کسی گوشے میں پیروان اسلام کے سروں پر تلوار چمک رہی ہو تو تعجب ہے اگر اس کا زخم ہم اپنے دلوں میں نہ دیکھیں۔ اگر آسمان کے نیچے کہیں بھی ایک مسلم پیرو توحید کی لاش تڑپ رہی ہے تو لعنت ہے ان سات کروڑ زندگیوں پر جن کے دلوں میں اس کی تڑپ نہ ہو۔ اگر مراکش میں ایک حامی وطن حلقہ بریدہ سے ایک خون کا فوارہ چھوٹ رہا ہے تو ہم کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے منہ سے دل و جگر کے ٹکڑے نہیں گرتے؟ ایران میں اگر وہ گردن ہے پھانسی کے رسیوں میں لٹک رہی ہے جن سے آخری ساعت نزاع میں "اشھد ان لا الہ الا اللہ" کی آواز نکل رہی تھی، تو ہم پر اللہ اور اس کے ملائکہ کی پھٹکار ہو اگر اپنی گردنوں پر اس کا نشان محسوس نہ کریں۔ اگر آج بلقان کے میدانوں میں حافظین کلمہ توحید کے سر اور سینے میں صلیب پرستوں کی گولیوں سے چھد رہے ہیں، تو ہم اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کے رسول کے آگے ملعون ہوں گے اگر اپنے پہلوؤں کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی راحت اور سکون محسوس کریں۔ میں کہہ رہا ہوں حالانکہ اسلام کی روح کا ایک ذرہ بھی اس کے پیروؤں میں باقی ہے تو مجھ کو کہنا چاہیے کہ اگر میدان جنگ میں کسی ترک کے تلوے میں ایک کانٹا چبھ جائے تو قسم ہے خدائے اسلام کی کہ کوئی ہندوستان کا مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس کی چھبن کو تلوے کی جگہ اپنے دل میں محسوس نہ کرے، کیونکہ ملت اسلام ایک جسم واحد ہے اور مسلمان خواہ کہیں ہو اس کے اعضاء و جوارح ہیں اگر ہاتھ کی انگلی میں کانٹا چبھے تو جب تک باقی اعضا کٹ کر الگ نہ ہو گئے ہوں ممکن نہیں اس صدمے سے بے خبر رہیں! اور جو کچھ کہہ رہا ہوں محض اظہار مطلب کا زور بیان ہی نہیں ہے، بلکہ عین ترجمہ ہے اس حدیث مشہور کا جس امام احمد ومسلم نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا: *«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى»* *(مسلمانوں کی مثال باہمی مدت مرحمت اور محبت و ہمدردی میں ایسی ہے جیسے ایک جسم واحد کی، اگر اس کی ایک ارزو میں کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو سارا جسم اس تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے)* اور اس کے ہم نے صحیحین کی وہ حدیث ہے جس کو ابو موسی اشعری نے روایت کیا ہے: *«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»* *(ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایسا ہے جیسے کسی دیوار کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دیتی ہے)* اور فی الحقیقت ایک خصائص مسلم میں سے ایک اولین اور اسد ترین خصوصیت ہے جس کی طرف قرآن شریف نے اپنے جامع اور معنی الفاظ میں اشارہ کیا ہے: *﴿ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾* *(کافروں کے لیے نہایت سخت مگر آپس میں نہایت رحیم اور ہمدرد)* ان میں جس قدر سختی ہے باطل اور کفر کے لیے اور ان کی جس قدر محبت الفت ہے حق کو صداق اور اسلام و توحید کے لیے۔ *(مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد)* *خطبات آزاد (ص: 18-19)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
353
16
*مذہب سے بے گانگی اور اس کا مداوا* رشید احمد صدیقی مرحوم نے فرمایا: مذہب سے آج جو بے گانگی، بے تعلقی یا بیزاری نظر آتی ہے، اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ موجودہ دنیا، جس عالمگیر ناصبوری، نا آسودگی یا ہراس و ہوس کے بھنور میں جاگری ہے، وہاں احتسابِ نفس کی اتنی گنجائش نہیں رہی، جتنی تحفظِ ذات اور ہر قیمت پر زیادہ سے زیادہ نفع اندوزی کی خواہش بڑھی ہوئی ہے۔ اس میں فرد، جماعت اور اربابِ اختیار و اقتدار سبھی کم و بیش مبتلا ہیں۔ ایسے میں اقدار نہیں، اغراض پیشِ نظر ہوتے ہیں اور یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے، جس کو کسی طرح نظر انداز کیا جاسکے۔ علوم و فنون کی بے امان ترقی، یعنی فطرت کی کُھلی اور چُھپی طاقتوں کو چاکری میں لینے سے زندگی کا ہر طرح کا کاروبار، اتنا تند و ہمہ جہت اور سخت گیر ہوگیا ہے کہ ان سے نپٹنا، خود علوم و فنون کے بس میں نہ رہا۔ اس آشوب کا مداوا و مقابلہ، صرف مذہب و اخلاق کے اوامر و نواہی کی پابندی سے ممکن ہے۔ اس لیے کہ ظلم، جہالت، دکھ اور مایوسی کا تریاق مذہب و اخلاق ہی کے پاس ہے، جو منصفی، محبت اور اعلیٰ اور اچھے پر بھروسہ رکھنے پر زور دیتا ہے۔ (عزیزانِ ندوہ کے نام، صفحہ: ٢٢/٢٣/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://telegram.me/ilmokitab https://telegram.me/muniri
333
17
اس پر یاد آیا کہ ایک بڑے عالم حدیث گزرے ہیں شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ، خوش قسمتی سے اس ناچیز کو آپ کی مجالس میں بیٹھنے کا شرف ملا ہےاور ان لوگو ں کی بھی رفاقت رہی ہے جنہوں نے آپ کو دمشق کے تاریخی مکتبہ ظاہریہ میں قلمی کتابوں اور مخظوطات میں سرکھپاتے دیکھا ہے، یہ لوگ بتاتے ہیں کہ شیخ صبح سویرے کتب خانے آتے اور شام کو اس کے بندہونے تک روزانہ پابندی سے دھول اور غبار سے اٹی الماریوں کے بیچ بیٹھتے، اس دوران دوپہر میں دو ایک سینڈویچ آپ کا ظہرانہ ہوتا، علمی میدان میں آپ کی کامیابی کا راز یہ بتایا جاتا ہے کہ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل، ایک ایسے دور میں جب کہ مکتبہ ظاہریہ کا زیادہ تر علمی مواد زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوا تھا اورابھی کتابوں کے اشارئیے عام نہیں تھے، ”المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث“ جیسی اس موضوع پر ابتدائی کتابیں ابھی ابھی چھپنی شروع ہوئی تھی اور سالہا سال میں کبھی اس کی بھی ایک ایک جلد چھپتی تھی، شیخ البانی نے ظاہریہ کے حدیثی مخطوطات میں محفوظ ذخیرہ حدیث کا اشاریہ اپنے لئے تیار کیا،جو اندازاً بیس جلدوں پر مشتمل تھا، لہٰذا جب شیخ البانی نے ”سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ “ اور”سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ“ وغیرہ میں ان مخطوطات کے ذخیروں سے ایسی روایات اور اسانید نقل کیں جو ابھی تک ان قلمی کتابوں کے دفتروں میں محفوظ تھیں تو علم حدیث کے متوالوں کی آنکھیں خیرہ ہوکر رہ گئیں اور پھر شیخ البانی ؒ کی رہنمائی اور نشاندہی پر سنہ ساٹھ(۶۰ء) کی دہائی سے علم حدیث کے خزانوں پر مدتوں سے ڈھکی دھول ہٹنے لگی تو ان پر تحقیقی کام کرنے والے طلبہ اور محققین کا ایک تانتا لگ گیا، ان پر کام کرنے کے لئے ماجستیر اور دکتوراہ کے طلبہ کی ہمت افزائی کی گئی اور گزشتہ نصف صدی میں حدیث کی وہ وہ کتابیں معیاری طباعت کے ساتھ منظر عام پر آئیں، جن کے لئے ہمارے اسلاف کی آنکھیں ترس گئی تھیں،شیخ البانی ؒ کی بعض آراء اور افکار سے لاکھ اختلاف کے باوجود آپ کے اس کنٹریبیو شن کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ حدیث شریف قرآن کریم کی تفسیر ہے، اس کے مطالعہ کے ضمن میں ایک مصنف نے اس بات کی ضرورت کا احساس دلایا ہے کہ قاری کو قرآن شریف کی طرح حدیث کی بھی موضوعاتی فہرست بنانی چاہئے جس میں ایک موضوع کی حدیثیں یکجا کی جائیں اور ان ذیلی عنوانات کے تحت ان کی فنی ترتیب کا خیال رکھا جائےتاکہ بوقت ضرورت آپ ان سے استدلا ل کرسکیں۔ اس کے اہتمام سے بھی آپ کے حافظے میں ازبر کرنے کی شعوری کوشش کے بغیر بہت ساری حدیثیں یکجا ہوجائیں گی اور تھوڑی سی تحریک سے یاد آجایا کریں گی۔ قرآن وحدیث کا علمی و دعوتی مواد ترتیب دینے کا یہ کام زندگی بھر جاری وساری رہنا چاہئےاور وقتا فوقتا اس کی تدوین وترتیب جاری رہنی چاہئے، کیونکہ یہ کوئی مستقل تصنیف نہیں ہوگی، بلکہ یہ مواد ، مضامین اور تصنیف و تالیف میں خام مال کی حیثیت رکھے گا۔ اپنی موضوعاتی فہرست خود بنانے کا بڑا فائدہ یہ بھی ہے ہر شخص کا اپنا ایک پس منظر اور فکر کا زاویہ ہوتا ہے، دعوتی اور فکری دلچسپیاں بھی الگ الگ ہواکرتی ہیں، لہٰذا ایک محنتی قاری کی نظرمیں اس قسم کی بہت سی تیار شدہ فہرستیں بڑی بے جان سی محسوس ہوتی ہیں جیسے مستشرق جول لابو م کی کتاب” تفصیل آیات القرآن“اور مستشرق فینسک کی کتاب” مفتاح کنوز السنۃ“ قرآن و حدیث کی فنی لحاظ سے بہترین اور بے مثال موضوعاتی فہرستوں میں شامل ہونے اور بہت مفید ہونے کے باوجود، قرآن وحدیث جو دعوتی روح ایک انسان میں پیدا کرتے ہیں، ان میں اس کا احساس نہیں ہوپاتا۔ قرآنی تعلیمات کو ذہن مین پختہ طور پر جاگزیں کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تفاسیرقرآن کا اجتماعی طور پر موازناتی مطالعہ کیا جائے، اس طرح کہ کئی ایک باذوق احباب مقررہ دنوں میں یکجا ہوں، ان پر مختلف تفسیریں تقسیم کی جائیں اور ہر ایک سے مقررہ آیات کی تفسیر بہ آواز بلند سنی جائے، موازناتی مطالعہ سے مضمون بڑی پختگی سے ذہن نشین ہوکر یاد رہتا ہے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں چند احباب کے ساتھ اجتماعی مطالعہ کتب تفسیر کا یہ سلسلہ ہم لوگوں نے شروع کیا تھا، اب کئی ایک جگہوں سے ان سلسلوں کے جاری ہونے کی اطلاعات ملنے لگی ہیں۔ جاری علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
398
18
اس طرح قرآن پر ایک جامع نظر حاصل کرلینے کے بعد تفصیلی مطالعہ کی ابتدا کرنی چاہئے، اس سلسلے میں ناظر کو تعلیمات قرآن کا ایک ایک پہلو ذہن نشین کرکےنوٹ کرتے جانا چاہئے، مثلا وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ انسانیت کا کونسا نمونہ ہے، جسے قرآن پسندیدہ قرار دیتا ہے اور کس نمونے کے انسان اس کے نزدیک مبغوض و مردود ہیں، اس مضمون کو اچھی طرح اپنی گرفت میں لانے کے لئے اس کو چاہئے کہ اپنی کاپی پر ایک طرف پسندیدہ انسا ن اور دوسری طرف ناپسندیدہ انسان کی خصوصیات آمنے سامنے نوٹ کرتا چلا جائے۔ مثلا وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ قرآن کے نزدیک انسان کی فلاح ونجات کا مدار کن امور پر ہےاور کیا چیزیں ہیں جن کو وہ انسان کے لئے نقصان ، ہلاکت اور بربادی کا موجب قرار دیتا ہے۔ اس مضمون کو بھی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کاپی پر موجبات فلاح اور موجبات خسران کے دوعنوانات ایک دوسرے کے مقابل قائم کرے اور مطالعہ قرآن کےد وران میں روزانہ دونوں قسم کی چیزوں کو نوٹ کرتا جائے ۔ علی ہذا القیاس عقائد ، اخلاق ، حقوق ، فرائض، معاشرت ، تمدن ، معیشت ، سیاست ، قانون، نظم جماعت ، صلح ، جنگ اور دوسرے مسائل زندگی میں سے ایک ایک کے متعلق قرآن کی ہدایات کو آدمی نوٹ کرتا چلاجائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ ان میں سے ہر ہر شعبے کی مجموعی شکل کیا بنتی ہےاور پھر ان سب کو ملا کر جوڑ دینے سے پورا نقشہ زندگی کس قسم کا بنتا ہے۔ پھر جب آدمی کسی خاص مسئلہ زندگی کے بارے میں تحقیق کرناچاہے کہ قرآن کا نقطہ نظر اس کے متعلق کیا ہے تو اس کے لئے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ اس مسئلے کے متعلق قدیم وجدید لٹریچر کا گہرا مطالعہ کرکے واضح طور پر یہ معلوم کرلے کہ اس مسئلے کے بنیادی نکات کیا ہیں۔ انسان نے اب تک اس پر کیا سوچا اور سمجھا ہے، کیا امور اس میں تصفیہ طلب ہیں اور کہاں جاکر انسانی فکر کی گاڑی اٹک جاتی ہے۔ اس کے بعد انہی تصفیہ طلب مسائل کو نگاہ میں رکھ کر آدمی کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے،میرا تجربہ ہے کہ اس طرح جب آدمی کسی مسئلے کی تحقیق کے لیے قرآن پڑھنے بیٹھتا ہے تو اسے ایسی ایسی آیتوں میں اپنے سوالات کا جواب ملتا ہے جنہیں وہ اس سے پہلے بیسیوں مرتبہ پڑھ چکا ہوتا ہے اور کبھی اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ یہ مضمون بھی چھپا ہوا ہے(تفہیم القرآن۔ جلد ۰۱/۱۶) موضوعات قرآنی کے موضوع پر اردو میں کافی مواد موجود ہےاور بعض تفاسیر کی موضوعاتی فہرستیں بڑے علمی پایہ کی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ آج سے ستر سال قبل برصغیر کے ایک عجمی مفسر قرآن نے مطالعہ قرآن کا جو خاکہ پیش کیا تھا، اس کا پرتو دور حاضر میں امام حرم شیخ صالح عبد اللہ حمید دامت برکاتھم کے زیر نگرانی تیار شدہ عظیم اسلامی انسائیکلوپیڈیا ”نضرۃ النعیم فی مکار م اخلاق الرسول الکریم “پرپڑا ہے۔ چونکہ یہاں ہماری بحث کاموضوع قرآن کریم کا مطالعہ اور یاد داشت میں اسکے معانی و مطالب کو محفوظ کرکے آئندہ تحقیقی کاموں ، لکچروں، مضامین وغیرہ میں انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا ہوناہے، لہٰذا اس میدان میں تیار شدہ مواد سے ایک قاری کو بھرپور استفادہ کرنا چاہئے، ان سے موضوعات کی فہرست اور خاکہ بنانے میں مدد لینی چاہئے لیکن اس سے اپنی محنت اور غوروتدبر سے کسی انڈکس کے تیاری کی افادیت ختم نہیں ہوجاتی ،کیونکہ تیار شدہ مواد مفید تو بے شک ہوتا ہےلیکن اس کی حیثیت دوسرے کے چبائے ہوئے لقمہ جیسی ہوتی ہے،دوسرے کا لقمہ کتنا ہی لذید کیوں نہ ہولیکن اس کے کھانے کی عادت پڑنے سے ہاضمہ مضبوط تو نہیں ہو سکتا۔ اپنی محنت سے جو موضوعاتی فہرست تیار ہوگی، اس کی حیثیت آپ کے سینے میں محفوظ علم کی ہوگی،صرف کاغذ اور کتاب میں نہیں۔
338
19
*مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟(۵ ) ۔۔۔ مطالعہ کا طریقہ* *عبد المتین منیری (بھٹکل)* ۔ تاریخ میں علم اور معلومات کی ترویج اور ترقی میں سب سے بڑا کردار کتابوں کا رہا ہے، حاجی خلیفہ نے تصنیف وتالیف کے مقاصد حسب ذیل بتا ئے ہیں: ٭…اس سے پہلے کسی نے اس موضوع پرلکھنے میں سبقت نہیں کی ہو، اس تحریرکے ذریعے اس موضوع پر لکھنے کا آغازہورہاہو۔ ٭…کسی نامکمل موضوع کی اس کے ذریعے تکمیل ہورہی ہو۔ ٭…کوئی موضوع بہت مشکل اور مغلق تھا، اس کی تشریح کی گئی ہو۔ ٭…موضوع بہت طویل تھا، اس کا اختصار کیا گیا ہو۔ ٭…موضوع بہت پھیلا ہوا تھا، اسے یکجا کیا گیا۔ ٭…موضوع یا بحث میں خلط ملط تھا، اس کی از سرنو ترتیب و تہذیب ہوئی ہو۔ ٭…کسی موضوع پر سابقہ مصنّفین سے غلطیاں سرزد ہوئیں تھیں تو انہیں درست کیا گیا ہو۔ اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک گزشتہ پندرہ صدیوں کے دوران امت کے ائمہ وقت اور علمائے امت نے ان مقاصد کو سامنے رکھ کر جو علمی کام انجام دئیے، ان کا حساب لگا نا ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل کیا، جس کے صفحات کی تعداد اندازا چھ سو بنتی ہےلیکن بعد میں آنے والوں نے اس کتاب کی تشریح وتفسیر اور اس کی آیات سے جنم دینے والے علوم کو بیان کرنے کے لئے جو صفحات سیاہ کئے، وہ کروڑوں تک پہنچتے ہیں، اگر یہ حضرات آئندہ نسلوں کی فکر نہ کرتے اور ان کے پاس علم کا جو سرمایہ اکٹھا ہوا تھا، اسے مزید بڑھا کر آنے والوں کو منتقل نہ کرتے تو یہ علوم و فنون ہم تک کہا ں پہنچ پاتے؟لہٰذا امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہےکہ: آدمی کو چاہئے کہ وہ علم کو تحریر کی شکل دینے کو عبادت سمجھے، اس سے اسے کسی فائدے کہ امید ہو یا نہ ہو۔ جب طریقہ مطالعہ کی بات ہوگی تو ابتدا کتاب اللہ سے ہوگی۔ اس سلسلے میں ایک مفسر قرآن نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، وہ کہتے ہیں :ـ ”ـــکوئی شخص چاہے قرآن پر ایمان رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، بہر حال اگر وہ اس کتاب کو فی الواقع سمجھنا چاہتا ہے تو اولین کام اسے یہ کرنا چاہئے کہ اپنے ذہن کو پہلے سے قائم کئے ہوئے تصورات اور نظریا ت سے اور موافقانہ یا مخالفانہ اغراض سے جس حد تک ممکن ہو خالی کرلے اور سمجھنے کا خالص مقصد لے کر کھلے دل سے اس کو پڑھنا شروع کرے، جو لوگ چند مخصوص قسم کے خیالات ذہن میں لے کر اس کتاب کو پڑھتے ہیں ،وہ اس کی سطروں کے درمیان اپنے ہی خیالات پڑھتے چلے جاتے ہیں، قرآن کی ان کو ہوا بھی نہیں لگنے پاتی ۔ یہ طریق مطالعہ کسی کتاب کو پڑھنےکے لئے بھی صحیح نہیں ہے، مگر خصوصیت کے ساتھ قرآن تو اس طرز کے پڑھنے والوں کے لئے اپنے معانی کے دروازے کھولتا ہی نہیں۔ “ پھر جو شخص محض سرسری سی واقفیت بہم پہنچانا چاہتا ہو، اس کے لئے تو شاید ایک دفعہ پڑھ لینا کافی ہوجائے لیکن جو اس کی گہرائیوں میں اترنا چاہے، اس کے لئے دو چار دفعہ کا پڑھنا بھی کافی نہیں ہو سکتا، اس کو باربار پڑھنا چاہئے، ہر مرتبہ ایک خاص ڈھنگ سے پڑھنا چاہئےاور ایک طالب علم کی طرح پنسل اور کاپی ساتھ لے کر بیٹھنا چاہئے تاکہ ضروری نکات نوٹ کرتا جائے۔ اس طرح جو لوگ پڑھنے پر آمادہ ہوں ان کوکم از کم دو مرتبہ پورے قرآن کو صرف اس غرض کے لئے پڑھنا چاہئے کہ ان کے سامنے بحیثیت مجموعی وہ پورا نظام فکر و عمل آجائے جسے یہ کتاب پیش کرنا چاہتی ہے،اس ابتدائی مطالعہ کے دوران میں وہ قرآن کے پورے منظر پر ایک جامع نظر حاصل کرنے کی کوشش کریں اور یہ دیکھتے جائیں کہ یہ کتاب کیا بنیادی تصورات پیش کرتی ہے اور پھر ان تصورات پر کس قسم کا نظام زندگی تعمیر کرتی ہے۔ اس اثنا میں اگر کسی مقام پر کوئی سوال ذہن میں کھٹکے تو اس پر وہیں اسی سوقت کوئی فیصلہ نہ کر بیٹھیں بلکہ اسے نوٹ کرلیں اور صبر کے ساتھ دوسری بار پڑھیں۔ میں اپنے تجربے کی بنا پر یہ کہتا ہوں کہ دوسری بار کے غائر مطالعہ میں شاذونادر ہی کوئی سوال جواب طلب باقی رہ جاتا ہے۔
323
20
*اقتباس مطالعہ:3* اے برادران ملت! یہی اسلام کی وہ عالمگیر اخوت اور دعوت اسلام کی وحدت تھی جس نے زمین کے دور دراز گوشوں کو ایک کر دیا تھا۔ اسلام نے ریگستان حجاز میں ظہور کیا مگر صحرائے افریقہ میں اس کی پکار بلند ہوئی۔ اس کی دعوت کی صدا جبل بوقبیس کی گھاٹیوں سے اٹھی مگر دیوار چین سے صدائے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کی بازگشت گونجی۔ تاریخ کی نظریں اس وقت دجلہ و فرات کے کنارے اسلام کے نقش قدم گن رہی تھیں، عین اسی وقت گنگا و جمنا کے کنارے سینکڑوں ہاتھ تھے جو خدائے واحد کے آگے سربسجود ہونے کے لیے وضو کر رہے تھے۔ یہ تمام دنیا کی مختلف قومیں زمین کے دور دراز گوشوں پر بسنے والی آبادیاں گویا ایک ہی گھر کے عزیز تھے، جن کو شیطان رجیم کی تفرقہ اندازیوں نے ایک دوسرے سے الگ کر دیا تھا، لیکن خدائے رحیم نے ان صدیوں کے پچھڑے ہوئے دلوں کو ایک دائمی صلح کے ذریعے پھر ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور ان کے روٹھے ہوئے دلوں کو اس طرح ایک دوسرے سے منا دیا کہ تمام پچھلے شکوے اور شکایتیں بھول کر ایک دوسرے کے بھائی اور شریک رنج و راحت ہو گئے۔ *﴿وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا﴾* *(سورۃ آل عمران: 103)* *(اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر نازل کی گئی، جبکہ تم اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے مگر اسلام نے تمہارے دلوں میں محبت و الفت پیدا کر دی اور تم دشمن کی جگہ ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہوگئے)* یہ برادری خدا کی قائم کی ہوئی برادری ہے، ہر انسان جس نے کلمہ "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کیا بمجرد اقرار کے اس برادری میں شامل ہو گیا، ہاں مصری ہو خوا نائجیریا کا وحشی ہو، خواہ قسطنطنیہ کا تعلیم یافتہ ترک۔ لیکن اگر وہ مسلم ہے تو اس ایک خاندان توحید کا عضو ہے، جس کا گھرانہ کسی خاص وطن اور مقام سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ تمام دنیا اس کا وطن اور تمام قومیں اس کی عزیز ہیں۔ دنیا کے تمام رشتے ٹوٹ سکتے ہیں مگر یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ ممکن ہے ایک باپ اپنے لڑکے سے روٹھ جائے، بعید نہیں ایک ماں اپنی گود سے بچے الگ کردے، ہو سکتا ہے کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کا دشمن ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کے تمام عہدے مودت، خون اور نسل کے باندھے ہوئے پیمانے وفا و محبت ٹوٹ جائیں مگر جو رشتہ ایک چین کے مسلمان کو افریقہ کے مسلمان سے، ایک عرب کے بدو کو تاتار کے چرواہے سے اور ایک ہندوستان کے نہ مسلم کو مکہ معظمہ کے صحیح النسب قریشی سے پیوست یک جان کرتا ہے دنیا میں کوئی طاقت نہیں ہے جو اسے توڑ سکے اور اس زنجیر کو کاٹ سکے جس میں خدا کے ہاتھوں نے انسانوں کے دلوں کو ہمیشہ کے لیے جکڑ دیا ہے۔ (جاری) *(مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ)* *خطبات آزاد (ص: 16-18)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
374