en
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Open in Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Show more
8 180
Subscribers
-624 hours
-377 days
+2330 days

Data loading in progress...

Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
September '26
September '26
+3
in 0 channels
August '26
+170
in 0 channels
Get PRO
July '26
+189
in 0 channels
Get PRO
June '26
+218
in 0 channels
Get PRO
May '26
+228
in 1 channels
Get PRO
April '26
+163
in 1 channels
Get PRO
March '26
+62
in 2 channels
Get PRO
February '26
+89
in 1 channels
Get PRO
January '26
+95
in 2 channels
Get PRO
December '25
+81
in 0 channels
Get PRO
November '25
+109
in 1 channels
Get PRO
October '25
+105
in 1 channels
Get PRO
September '25
+119
in 1 channels
Get PRO
August '25
+173
in 2 channels
Get PRO
July '25
+151
in 2 channels
Get PRO
June '25
+140
in 2 channels
Get PRO
May '25
+95
in 1 channels
Get PRO
April '25
+105
in 0 channels
Get PRO
March '25
+153
in 2 channels
Get PRO
February '25
+131
in 1 channels
Get PRO
January '25
+278
in 1 channels
Get PRO
December '24
+403
in 0 channels
Get PRO
November '24
+500
in 2 channels
Get PRO
October '24
+487
in 1 channels
Get PRO
September '24
+322
in 0 channels
Get PRO
August '24
+322
in 3 channels
Get PRO
July '24
+323
in 4 channels
Get PRO
June '24
+341
in 0 channels
Get PRO
May '24
+331
in 1 channels
Get PRO
April '24
+300
in 3 channels
Get PRO
March '24
+265
in 1 channels
Get PRO
February '24
+321
in 1 channels
Get PRO
January '24
+403
in 3 channels
Get PRO
December '23
+376
in 0 channels
Get PRO
November '23
+132
in 0 channels
Get PRO
October '23
+124
in 1 channels
Get PRO
September '23
+92
in 0 channels
Get PRO
August '23
+121
in 0 channels
Get PRO
July '23
+116
in 0 channels
Get PRO
June '23
+77
in 0 channels
Get PRO
May '23
+253
in 0 channels
Get PRO
April '23
+81
in 0 channels
Get PRO
March '23
+49
in 0 channels
Get PRO
February '23
+126
in 0 channels
Get PRO
January '23
+137
in 0 channels
Get PRO
December '22
+123
in 0 channels
Get PRO
November '22
+209
in 0 channels
Get PRO
October '22
+119
in 0 channels
Get PRO
September '22
+62
in 0 channels
Get PRO
August '22
+40
in 0 channels
Get PRO
July '22
+44
in 0 channels
Get PRO
June '22
+138
in 0 channels
Get PRO
May '22
+42
in 0 channels
Get PRO
April '22
+17
in 0 channels
Get PRO
March '22
+31
in 0 channels
Get PRO
February '22
+28
in 0 channels
Get PRO
January '22
+56
in 0 channels
Get PRO
December '21
+112
in 0 channels
Get PRO
November '21
+52
in 0 channels
Get PRO
October '21
+112
in 0 channels
Get PRO
September '21
+64
in 0 channels
Get PRO
August '21
+43
in 0 channels
Get PRO
July '21
+63
in 0 channels
Get PRO
June '21
+164
in 0 channels
Get PRO
May '21
+38
in 0 channels
Get PRO
April '21
+60
in 0 channels
Get PRO
March '21
+103
in 0 channels
Get PRO
February '21
+80
in 0 channels
Get PRO
January '21
+211
in 0 channels
Get PRO
December '20
+1 362
in 0 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
05 September0
04 September+1
03 September+1
02 September0
01 September+1
Channel Posts
چہرہ بشاش۔ آتے ہی سب سے یوں ملے گویا برسوں کے شناسا ہوں۔ (یہ پوراباب کافی تفصیلی، دلچسپ اور قابل مطالعہ ہے)۔ موبائل: 9818195929

2
میں بستر بچھا کر ایسا غاقل ہوا کہ اس سے قبل ایسی غفلت اور بے فکری کی نیند کبھی نہ آئی تھی۔ کیونکہ آدھی رات تک اخبار پڑھنے اور زمیندار کے لیے مضامین لکھنے کی مشقت سے نجات ہو گئی تھی۔ ایک آدھ دفعہ گھر والوں کی پریشانی اور آئندہ مشکلات کا خیال آیا۔ لیکن دل نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اللہ ان کا مالک ورازق ہے۔ صبح نو بجے مرزا غلام حسین انسپکٹر تشریف لائے۔ مجھے حوالات سے نکالا۔ نہایت مشفقانہ تبسم کے ساتھ مجھے ہتھکڑی لگائی اور تانگے میں سوارکرا کر عدالت لے گئے۔ وہاں دوست احباب جمع تھے۔ میں لالہ شنکرداس لوتھرا مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا جنھوں نے ایک منٹ میں سماعت مقدمہ کی آئندہ تاریخ مقرر کر دی اور میں قیدیوں کی گاڑی میں سنٹرل جیل کو روانہ ہوا۔ جیل میں پہنچا تو جیل کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ایک بزرگ نظر آئے۔ گندمی رنگ خشخشی سی ڈاڑھی۔ سر پر پٹکا باندھے۔ قساوت و سنگ دلی کے آثار چہرے پر نمایاں۔ معلوم ہوا کہ آپ مرزا نواب بیگ جیلر ہیں۔ آپ نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا اچھا آپ بھی آگئے۔ ہنہ جن لوگوں کی باہر ضرورت ہے وہ اندر چلے آرہے ہیں۔ میں ان کی اس قدر افزائی پر شکر گزار ہوا کہ آخر کہیں تو مرزا صاحب نے ہماری ضرورت محسوس کی اندر نہ سہی باہرہی سہی۔ حکم ہوا کہ ان کو حوالات میں لے جاو ¿۔ سنٹرل جیل کے ایک کونے میں ایک وسیع احاطہ حوالات کہلاتا تھا جس میں ایک بہت بڑی کھلی بارک اور ایک اور عمارت تھی جس میں دونوں طرف کو ٹھر یوں کی قطاریں تھیں اور بیچ میں ایک غلام گردش چھوڑ دی گئی تھی۔ میرا ٹرنک اور بستر ایک پرانے قیدی نے اٹھایا اور ڈپٹی جیلر پرمانند مجھے ساتھ لے کر جیل کے اندر داخل ہوئے۔ یہاں داخل ہوتے ہی جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس عمارت کی صفائی تھی۔ صاف ستھری لپی پتی کچی دیواریں۔ مصفا سڑکیں جن پر دور تک ایک تنکا بھی پڑا ہو ا نظر نہ آتا تھا۔ ہر چیز با قاعدہ، ہر حصہ اور ہر خطہ با ضابطہ صفائی اورسلیقے کا مظہر۔ جب میں حوالات میں پہنچا تو مجھے ایک کوٹھری میں داخل کر کے اس کا سلاخ دار درروازہ مقفل کر دیا گیا۔ منشی نذیر احمد سیماب شروع ہی سے میرے ساتھ تھے۔ وہ بھی ایک کوٹھری میں بند کردیے گئے۔ ان کو ٹھریوں میں بعض تو ایسے حضرات تھے جنھیں میں جانتا تھا لیکن بعض کے ساتھ وہیں تعارف ہوا۔ ان میں کنڈا ڈاکو، شما ڈاکو بھی تھے۔ کنڈا ڈاکو بہت بہادر، اولوالعزم اور شریف انسان تھا۔ اگر میں یہ الفاظ ایک ڈاکو کے لیے استعمال کر رہا ہوں تو تعجب کا مقام نہیں۔ اس لیے کہ بعض بڑے بڑے ڈاکووں اور قاتلوں میں بھی شرافت اور اولوالعزمی کی خوبیاں نایاب نہیں ہوتیں۔ اس کوٹھڑی کی قطع یہ تھی کہ اس کا طول دس فٹ اور عرض آٹھ فٹ کے قریب تھا۔ اس کے عین درمیان ایک چبوترا بنا ہوا تھا جس کی صورت بالکل کسی شاہی قبر کے تعویذ سے ملتی جلتی تھی۔ ہم نے جاتے ہی اپنا ستر کھول کر بچھا دیا۔ قرآن مجید تکیے پر رکھ دیا۔ ٹرنک پاس ہی دیوار سے لگا دیا اور بیٹھ گئے۔ ایک طرف نظر پڑی توکونے میں ایک چھوٹا گملا اور ایک تسلہ دکھائی دیا۔ دریافت کر نے پر معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں علی الترتیب پیشاب اور پاخانے کے لیے ہیں۔ کچی مٹی کی کھڈی، کچا فرش، دیواروں پر مٹی کا پلستر۔ غرض جس طرف نظر اٹھتی تھی خاکساری کا جلوہ نظر آتا تھا۔ دن بھر میں دو دفعہ قیدی کھولے جاتے تھے یعنی ان کی کوٹھریوں کے قفل کھول کر انہیں اجازت دی جاتی تھی کہ احاطے میں گھوم پھر کر ہوا خوری کر لیں۔ اس وقت آپس میں ملاقات اور بات چیت ہوتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے حالات و خیالات معلوم کر لیتے تھے۔ چونکہ میں ابھی حوالاتی تھا یعنی میرا مقدمہ زیر سمات تھا اس لیے میری خوراک کے لیے جیل میں ایک رقم داخل کر دی گئی تھی اور جیل والے میرے لیے دونوں وقت کھانا پکا کر بھیج دیتے تھے۔ یہ جیل کی خوراک نہیں بلکہ خاص خوراک تھی۔ لیکن پکانے والا ہر چیز کا ستیاناس کر دیتا تھا۔ خیر میں صبر و شکر کرکے یہ کھانا زہر مار کرتا رہا اور دن گزرتے چلے گئے۔ مقدمے کی سماعت ہوئی۔ استغاثہ پیش ہوا۔ استغاثہ کے گواہ پیش ہوئے۔ الزام یہ تھا کہ ملزم نے زمیندار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ایسا مضمون لکھا جس سے ملکہ معظم کی رعایا کے دو طبقوں ہندوستانیوں اور انگریزوں کے درمیان نفرت و حقارت پیدا ہوتی ہے۔ (دفعہ 153 الف تعزیرات ہند) مجھ سے پوچھا گیا جرح کروگے عرض کیا نہیں۔ پو چھا گیا صفائی پیش کرو گے جواب دیا نہیں۔ صرف ایک تحریری بیان داخل کروں گا جس کے لکھنے کے لیے جیل میں تحریر کی سہولتوں کا طالب ہوں۔ مجسٹر یٹ نے حکم دیا کہ سالک صاحب کو جیل میں قلم دوات اور کا غذ مہیا کر دیا جائے۔ مجھے جیل میں آئے ہوئے چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک دن دو پہر کے وقت قیدیوں اور جیل کے ملازموں میں کچھ سرگوشیاں ہونے لگیں۔ معلوم ہوا کہ کوئی بڑا ملزم گرفتار ہو کر آیا ہے۔ اتنے میں بابا گوردت سنگھ ہنستے ہوئے ہمارے احاطے میں داخل ہوئے۔ میانہ قامت ، سفید بھری ہوئی اور لمبی چوڑی داڑھی، سر پر سفید دستار، آنکھیں روشن ،
43
3
جنگ آزادی اور اردو صحافت کا ایک درخشاں باب سہیل انجم مولانا عبدالمجید سالک کا نام اردو صحافت کی تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہے۔ وہ صحافی و ادیب بھی تھے اور مجاہد آزادی بھی۔ انھوں نے برطانوی دور حکومت میں ایک سال کی جیل کاٹی تھی۔ انھوں نے اپنی خودنوشت ”سرگزشت“ میں، جو کہ اس عہد کی صحافت و سیاست کا ایک مستند باب ہے، جیل کے حالات اور رفقائے جیل کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ انھوں نے علامہ چراغ حسن حسرت کی فرمائش پر یہ خودنوشت لکھی تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن لاہور سے 1954 میں اور دوسرا1963 میں شائع ہوا۔ پہلے ایڈیشن میں ایک دیباچہ ہے جسے علامہ حسرت نے لکھا تھا۔ جبکہ دوسرے ایڈیشن میں ایک اور دیباچہ عبدالمجید سالک کے رفیق صحافت علامہ غلام رسول مہر کا ہے۔ عبدالمجید سالک نے مولانا ظفر علی خاں کے تاریخی اخبار ”زمیندار“ کو مقبولیت کے بام عروج پر پہنچا دیا تھا۔ لیکن مولانا ظفر علی خاں سے بعض امور پر اختلاف کے بعد انھوں نے مولانا غلام رسول مہر کے ساتھ مل کر اخبار ”انقلاب“ جاری کیا۔ اس اخبار نے بھی ایک تاریخ بنائی۔ یہ 1925 کے آس پاس کا واقعہ ہے۔ ایک بار انگریزی حکومت نے ان کے اخبار اور پریس پر چار چار ہزار کا جرمانہ عاید کر دیا جو ادا نہ کرنے کی صورت میں اخبار کی بندش پر منتج ہوتا۔ انھوں نے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کیا اور اخبار میں اس کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کر دیا کہ وہ فلاں تاریخ کو اخبار بند کر دیں گے۔ اس اعلان کے بعد اردو قارئین نے دست تعاون بڑھایا اور آٹھ ہزار کی رقم اکٹھی کرکے حکومت کے متعلقہ شعبے میں جمع کرا دی۔ اس وقت کے آٹھ ہزار روپے کی موجودہ قدر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مولانا عبدالمجید سالک کی خودنوشت سے انگریزوں کے زمانے کی جیل کے واقعات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت سیاسی قیدیوں کے ساتھ کتنا اچھا سلوک کیا جاتا تھا اور ان کو جیل میں بھی کتنی آزادی حاصل تھی۔ ان کے بارے میں علامہ چراغ حسن حسرت نے لکھا ہے کہ سالک صاحب نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب حالی و شبلی کی کرسیاں ابھی خالی نہیں ہوئی تھیں۔ مولانا محمد حسین آزاد ابھی بقیدحیات تھے۔ ڈپٹی نذیر احمد بوڑھے ہو چکے تھے لیکن انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں کبھی کبھی اس بوڑھے شیر کی گرج سنائی دے جاتی تھی۔ پرانے انداز کی ادبی شاعری کے ساتھ ساتھ پرانی سیاست گری کی بساط بھی لپیٹی جارہی تھی۔ مسلمانوں میں طلب حقوق کا ولولہ پیدا ہو رہا تھا۔ نئے ادبیوں اور شاعروں میں اقبال، ظفر علی خاں، حسرت موہانی اور ابو الکلام آزاد بہت نمایاں نظر آتے تھے۔ گاندھی جی کا نام بہت کم لوگوں نے سنا تھا۔ بہرحال ذیل میں ان کی خودنوشت کا ایک باب پیش کیا جا رہا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے: نومبر 1921 کا ذکر ہے۔ میں دفتر زمیندار میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولانا حامد حسین بیدل شاہجہانپوری آگئے۔ کہنے لگے اب تو شام ہوگئی، گھر نہیں چلیں گے۔ میں نے کہا آپ دس منٹ بیٹھیے میں ابھی فارغ ہوا۔ چنانچہ دس منٹ کے بعد میں بیدل صاحب کے ساتھ چل دیا۔ گھر پہنچا تو مردانہ میں بیدل صاحب کو بٹھا کر خوداوپر گیا اور چانے کے لیے کہہ آیا۔ ابھی چائے تیار نہ ہوتی تھی کہ نیچے سے منشی نذیر احمد سیماب پبلشر زمیندار نے مجھے پکارا اور کہا ذرا سیڑھیوں میں آکر میری بات سنتے جائیے۔ میں نیچے اترا تو سیماب صاحب نے بتایا کہ مرزا نظام حسین انسپکٹر پو لیس چند سیاہیوں کو ساتھ لے کر میرے مکان پر آئے تھے، انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے اور آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔ چونکہ میں ہر روز اس دن کا متوقع تھا اس لیے مجھے کوئی پریشانی نہ ہوئی۔ میں نے اوپر جا کرا چکن پہنی اور گھر والوں کو اپنی گرفتاری کی خبر سنائی اور انہیں ہائے وائے کرتا ہوا چھوڑ کر نیچے اتر گیا۔ مرزا غلام حسین نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ مجھے تانگے میں بٹھایا اور تھانہ نولکھا کو چل دیے۔ بیدل صاحب پریشان ہو کر شفاعت اللہ خان، احمد شاہ بخاری، امتیاز علی تاج اور دوسرے دوستوں کو خبر دینے کے لیے بھاگے۔ ابھی میں تھانے میں پہنچا ہی تھا کہ گرفتاری کی خبر شہر میں اڑ گئی۔ میرے احباب بھی پہنچ گئے اور رضا کارانِ خلافت کے جیش کے جیش تھانے کے باہر تکبیر کے نعرے لگانے لگے۔ غالباً انھوں نے پولیس کے افسروں سے مطالبہ کیا ہوگا کہ ہمیں سالک صاحب سے ملاقات کا موقع دیا جائے۔ تھوڑی دیر بعد رضا کار ایک ایک کر کے انسپکٹر کے کمرے میں جہاں میں بیٹھا تھا آنے لگے۔ وہ مجھ سے مصافحہ کرتے اور چپ چاپ واپس چلے جاتے۔ یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ انسپکٹر صاحب نے ہمارے لیے چائے اور پیسٹری منگائی۔ ہم کھانے پینے اور قہقہے لگانے میں مصروف ہو گئے۔ کوئی دو گھنٹے بعد مرزا صاحب نے فرمایا کہ اب آپ آرام فرمائیے۔ چنانچہ دوست احباب رخصت ہوئے اور میں حوالات کی کو ٹھری میں جو تھانے کی ڈیوڑھی میں ہے، بند کر دیا گیا۔ شفاعت اللہ خاں نے میرا بستر، چند کتابیں،کچھ پان اور سگریٹ میرے لیے مہیا کر دیے اور میں اس تنگ وتاریک کوٹھری
36
4
قصہ ایک’نابینا‘ استاد کا معصوم مرادآبادی آج یوم اساتذہ ہے اور اس حوالے سے لوگ اپنے ان اساتذہ کو یاد کررہے ہیں جنھوں نے ان کی زندگی پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ میں اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ایک ایسے نابینا استاد کا ذکر کرنا چاہوں گا جن سے میں نے اوائل عمری میں فارسی پڑھی تھی۔ یہ غالباً 1975 کا واقعہ ہے۔ آٹھویں کلاس پاس کرنے کے بعد مجھے ’مولوی‘ بنانے کے لیے مرادآباد کے مدرسہ امدادیہ میں داخل کرادیا گیا،جو مدرسہ شاہی کی پشت پر واقع تھا اور اس کے مہتمم مولانا باقر حسین بستوی تھے۔اس مدرسے کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں کے سبھی اساتذہ بہت لائق و فائق تھے۔ مدرسہ امدادیہ میں سب سے پہلے مجھے فارسی کلاس میں داخل کرایا گیا جو مدرسہ کے داخلی دروازے کے چھوٹے سے کمرے میں تھی۔ اس کلاس کے واحد استاد ماسٹر شوکت علی تھے جو پیدائشی نابنیا تھے مگر انھیں فارسی زبان پر ایسا عبور حاصل تھا کہ اگر شیخ سعدی بھی ان کی کلاس میں آجاتے تو وہ انھیں بھی گلستاں پڑھاکر چھوڑتے۔ بہرحال ہماری ابتداء ’کریما‘ سے کرائی گئی جو فارسی کی بنیادی کتاب ہے۔ ماسٹر شوکت علی کی خاص بات یہ تھی کہ ان کے ہاتھ میں ہر وقت ایک موٹا سا ڈنڈا رہتا تھا۔جہاں کوئی طالب علم سبق پڑھنے میں غلطی کرتا تو اس ڈنڈے میں قدرتی حرکت پیدا ہوجایا کرتی تھی، لہٰذا ہمیں ان کی کلاس میں بہت چوکنّا ہوکر بیٹھنا پڑتا تھا اور کو شش یہ ہوتی تھی کہ غلطی سے بھی کوئی ’غلطی‘نہ ہو۔ مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔ جب بھی غلطی ہوتی ان کا ڈنڈا حرکت میں آجاتا اور وہ جسم کے کسی بھی حصے پر اپنے نقوش چھوڑ جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب چونکہ نابنیا تھے اس لیے انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ ڈنڈے کا ہدف کیا ہو۔ یہ ڈنڈا ہمارے سر، منہ،ناک، کان اور ہاتھ کہیں بھی لگ جایا کرتا تھا اور ہم دیر تک اس حصے کو سہلاتے رہتے تھے جہاں اس کی زد پڑتی تھی۔ماسٹر صاحب کو جب غصہ آتا تو ان کی آنکھیں لال ہوجایا کرتی تھیں اور اس میں وہ محبت بھی جھلکتی تھی جو اپنے کسی شاگرد کو ’استاد‘ بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ بہرحال ہمیں فارسی پڑھنے میں کوئی دلچسپی یوں بھی نہیں تھی کہ ہم نے اپنے بچپن میں یہ مسخ شدہ کہاوت سن رکھی تھی۔ یہ دیکھو قدرت کا کھیل پڑھے فارسی بیچے تیل ہمیں فارسی پڑھ کر تیل بیچنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن گھر والوں کے اصرار پر روزانہ فارسی کلاس میں حاضری دینا ضروری تھا۔ بادل نخواستہ ہم نے فارسی پڑھی اور وہ بھی ایسی کہ گلستاں کی درجنوں حکایتیں یاد ہوگئیں۔ گلستاں کے بعد ’بوستاں‘ کا نمبر آیا اور ہم فارسی داں ہوگئے۔ المیہ یہ ہے کہ اتنی فارسی پڑھنے کے باجودآج کچھ یاد نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد فارسی سے کہیں واسطہ نہیں پڑا۔ البتہ ہم اردو میں استعمال ہونے والے فارسی الفاظ کو اسی طرح تلاش کرسکتے ہیں جیسے کھچڑی میں دال تلاش کی جاتی ہے۔فارسی پڑھنے کے بعد اردو ہمارے لیے بہت آسان ہوگئی۔ جب بھی اپنی اردو پر نظر ڈالتے ہیں تو ماسٹر شوکت علی سے زیادہ ان کا بے رحم ڈنڈا یاد آجاتا ہے۔ واقعی کیا استاد ہوا کرتے تھے کہ اپنے شاگردوں کے دماغ میں سارا علم انڈیل دینے کا جذبہ رکھتے تھے۔ آج ایسے اساتذہ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مدرسہ کی چھٹی کے بعد ماسٹر شوکت علی کا ہاتھ پکڑ کر انھیں ان کے گھر تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی ہم پر تھی۔ ہم ان کی تمام تر ڈانٹ ڈپٹ اور پٹائی کے باوجود روزانہ انھیں بحفاظت ان کے دروازے تک چھوڑ کر آتے تھے۔
43
5
اگر ہم مصنوعی ذہانت کو محض ایک میڈیم سمجھیں تو یہ ادب کے پھیلاؤ، ترجمے، تدوین اور تحقیق میں معاون بن سکتی ہے، مگر تخلیق کی روح اس کے دائرے سے باہر رہے گی۔ اگر مصنوعی ذہانت کی شاعری کے متعلق کوئی رائے قائم کرنی ہوگی تو مذکورہ تمام مباحث کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا کہ ادب کا مستقبل کیا ہوگا اور مستقبل میں شاعری کی ضرورت کیا رہ جائے گی۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ جس دنیا میں مشینیں زیادہ ہوں گی، وہاں انسان کو انسان ہونے کی یاد دلانے کے لیے شاعری کی ضرورت اور بڑھ جائے گی۔ پروفیسر مشتاق احمد
204
6
No text...
0
7
*برائے اطلاع۔۔۔ علم وکتاب لائبریری* کئی سارے احباب نے فرمائش کی ہے کہ علم وکتاب کے سلسلے انہیں علحدہ مطلوب ہیں، اس ضرورت کو پ
*برائے اطلاع۔۔۔ علم وکتاب لائبریری* کئی سارے احباب نے فرمائش کی ہے کہ علم وکتاب کے سلسلے انہیں علحدہ مطلوب ہیں، اس ضرورت کو پورا کرتے ہوئے علم وکتاب ٹیلگرام چینل پر ٹیلگرام لائبریری کے نام سے ایک نیا چینل شروع کیا گیا ہے، جس میں اصل چینل سے منتخب عنوانات قصص تعلیمیۃ، داستان جاری ہے، غلطی ہائے مضامین، تعارف کتب، آج کی وفیات، صور من حیاۃ الصحابہ، سچی باتیں، مطالعہ کتب کیوں اور کس طرح، مضامین منیری، اور کیا ہم مسلمان ہیں وغیرہ علحدہ علحدہ فولڈروں اصل علم وکتاب چینل و واٹس اپ گروپ سے کاپی کئے جاہے ہیں علم وکتاب ٹیلگرام لائبریری کی لنک حسب ذیل ہے۔ https://t.me/ilmokitablibrary ٍ
279
8
+2
نیا سلسلہ " داستان جاری ہے۔۔۔ آب بیتی ابو الحسن نغمی"
232
9
014 قصة وعبرة- الذئب والثعلب.docx
240
10
’’میں نے تم سے کچھ کہنا ہے‘‘ … ’’آپ نے ایسا نہ کرنا تھا‘‘ … ’’اُس نے تو لاہور جانا ہی ہوا‘‘ … ’’اب ہم نے تم سے بھلا کیا لینا ہے؟‘‘یہ اور اس طرح کے دوسرے جملے جن میں ’نے‘ کے ساتھ فعلِ مصدری آتا ہے، پنجابی روزمرہ میں داخل ہیں۔ بلکہ پنجانی زبان کے قواعد کی رُو سے بھی درست ہیں۔ البتہ اُردو قواعد اور روزمرہ دونوں کی رُو سے ان کو کسی طرح درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے تمام مواقع پر ’نے‘ کی بہ جائے ’کو‘ استعمال ہوتا ہے۔ ان جملوں کی صحیح شکل یہ ہوگی: ’’مجھ کو (مجھے) تم سے کچھ کہنا ہے‘‘… ’’آپ کو ایسا نہ کرنا تھا‘‘… ’’اُس کو تو لاہور جانا ہی ہے ‘‘(’ہوا‘ خلافِ محاورہ ہے)… ’’اب ہم کو (یا ہمیں) تم سے بھلا کیا لینا ہے؟‘‘آخری جملے کو اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں : ’’اب ہم بھلا تم سے کیا لیں؟‘‘بلکہ ایسے جملوں میں فعل کو مضارع یا مستقبل بنانا بہتر ہوتا ہے۔ مثلاً: ’پھر ہونا کیا تھا؟‘ کی بہ جائے ’پھر ہوتا کیا؟‘ فصیح ہے۔ مثلاً ’گاڑی نے یہاں ٹھیرنا ہے‘ کی بجائے یہ دو جملے صحیح ہیں: ’گاڑی کو یہاں ٹھیرنا ہے‘… ’گاڑی یہاں ٹھیرے گی‘۔ بعض دفعہ ’کو‘ کے استعمال میں کسی قدر اُلجھن بھی پیش آسکتی ہے۔ مثلاً ’میں نے تمھیں سو روپے دینے ہیں‘۔ اگرچہ اس کی صحیح صورت یہ ہوگی: ’مجھ کو تم کو سو روپے دینے ہیں‘۔ لیکن اس ’کو‘ کی تکرار کی وجہ سے یہ مشکل پڑ سکتی ہے کہ یہاں سو روپے دینے والا کون ہے اور لینے والا کون۔ لہٰذا ایسے موقعے پر اہلِ زبان کئی دوسری طرح کے جملے بولتے ہیں۔ مثلاً: ’مجھ کو تمھارے سو روپے دینے ہیں‘… ’میں تمھیں سو روپے کا دین دار ہوں‘… ’مجھ پر تمھارے سو روپے آتے ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ (’’درست اردو‘‘ از آسی ضیائی۔ پہلا باب) بھارت سے شائع ہونے والی ’’اچھی اُردو‘‘ کا پیش لفظ لکھتے ہوئے پروفیسر نثار احمد فاروقی (دہلی یونیورسٹی) لکھتے ہیں: ’’راقم الحروف نے اس کتاب کو دلچسپی سے پڑھاہے اوراس کی افادیت کا احساس کیا ہے، البتہ بعض معمولی جزئیات میں کسی قدر اختلاف کی گنجایش بھی محسوس کی ہے۔ مثلاً پہلے باب میں ’مجھ کو‘ اور ’مجھے‘ کی بحث کے ذیل میں فصیح تر مثال یہ ہوگی کہ ’’تمھارے سو روپے مجھے ادا کرنے ہیں‘‘۔ لیجے سو روپے کا مسئلہ تو حل ہوگیا۔ مگر رحمٰن فارس صاحب کی غزل کا مسئلہ لاینحل رہا۔ اُردو شاعری میں کسی مستند شاعر نے ایسی بے سند بولی اپنے محبوب سے نہیں بولی۔ اچھی زبان لکھنے والے ایسی زبان نہیں لکھتے۔ غازی علم الدین مرحوم یا اسحٰق جلالپوری مرحوم نے بھی ’میں نے آنا ہے‘ اور ’تم نے جانا ہے‘ جیسے جملے اپنی علمی و ادبی نگارشات میں استعمال نہیں کیے۔ کالم نگار بھی…’ نہ کرے ہے نہ ڈرے ہے‘۔ فرائیڈے اسپیشل https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
242
11
* غلطی ہائے مضامین ۔۔۔نہ کرے ہے نہ ڈرے ہے* * احمد حاطب صدیقی - September 4, 2026* حیدر آباد دکن کے محترم ابراہیم علی حسن صاحب اِن کالموں کے مستقل قاری ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’السلام علیکم محترم احمد حاطب صدیقی صاحب۔ امید ہے بفضلہٖ تعالیٰ بخیر ہوں گے۔ آج کل پاکستان کے اہلِ قلم میں ’ہم کو‘ کی جگہ ’ہم نے‘ اور ’تم کو ‘ کی جگہ ’تم نے‘ کا استعمال بہت نظر آرہا ہے۔ قدما میں تو نہیں تھا ایسا۔ امید ہے آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر اس موضوع پر کچھ لکھیں گے۔ یہ اگر مغالطہ ہے تو رفع ہو۔ اگر نہیں تو ہمارے علم میں اضافہ ہوگا اِن شاء اللہ۔ ابراہیم علی حسن (حیدرآباد دکن۔انڈیا)‘‘ جناب ابراہیم علی حسن نے پاکستانی شاعر رحمٰن فارسؔ کی ایک غزل بھی ثبوت کے طور پر ارسال فرمائی ہے، جس میں اُنھوں نے جا بجا ’تم کو‘ اور ’ہم کو‘ کی جگہ ’تم نے‘ اور ’ہم نے‘ استعمال کیا ہے۔ ہم یہاں پوری غزل دینے کی بجائے صرف متعلقہ اشعار نقل کررہے ہیں: تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہو تم نے بھی یاد آنا ہے، آنا تو ہے نہیں عہدِ وفا سے کس لیے خائف ہو میری جان کر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں وہ جو ہمیں عزیز ہے، کیسا ہے، کون ہے کیوں پوچھتے ہو؟ ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہلِ عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال؟ ہم نے ترے فریب میں آنا تو ہے نہیں اگر ملک میں اس طرح کی شاعری کی پزیرائی ہوتی رہی تو شاید آگے چل کر رحمٰن فارسؔ صاحب ہی پاکستان کے نمائندہ شاعر کہلائیں گے۔ فی الحال تو انھیں یہ مقام حاصل نہیں۔ ہاں اگر مزید ’ہم نے، تم نے‘ کریں تو ممکن ہے کہ اُنھیں کو یہ منصب عطا کردیا جائے۔ مگر اے حضرت! یہ ’ہم نے، تم نے‘ فقط پاکستان کے اہلِ قلم کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بقولِ شیخ سعدیؔ علیہ الرحمہ: ایں گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند (یہ وہ خطا ہے جو تمھارے شہر والے بھی کرتے ہیں) مشہور نقادآں جہانی پروفیسر ڈاکٹر گیان چند جین،جو بھارت کی مختلف جامعات میں اُردو کے پروفیسر بھی رہے ہیں، لکھتے ہیں: ’’میں نے جانا ہے‘‘ اس جملے کو پنجابیوں کا انداز اور اسلوب سمجھ کر اسے غلط قرار دیا جاتا ہے۔ یوپی والے ’’مجھے جانا ہے‘‘ یا ’’مجھ کو جانا ہے‘‘ کو صحیح سمجھتے ہیں۔ دراصل ’’میں‘‘ فاعلی حالت ہے اس لیے ’’میں نے جانا ہے‘‘ ہی قواعد کے اعتبار سے صحیح ہے۔ ضمیر ’’مجھے‘‘ میں مفعولی حالت ہے مثلاً اس نے مجھے مارا۔ اور ’’کو‘‘ فاعل کا حرف نہیں بلکہ مفعول کا ہے۔ مثلاً اُس نے مجھ کو مارا۔ لہٰذا ’’مجھے جانا ہے‘‘ کے بجائے ’’میں نے جانا ہے‘‘ ہی درست ہے۔ یوپی والے اگر اسے غلط بولتے ہیں تو وہ اپنی یہ غلطی اہلِ پنجاب پر نہیں لاد سکتے‘‘۔ (’’عام لسانیات‘‘ از ڈاکٹر گیان چند جین، شائع کردہ: انڈیا قومی کونسل برائے فروغِ اُردو زبان، نئی دہلی، سنہ اشاعت ۱۹۸۵ء، ص:۲۰) مگر ڈاکٹر گیان چند جین کے اس نقطۂ نظر کو ماہرین زبان میں مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی چند افراد (مثلاً پروفیسر غازی علم الدین مرحوم) اسی نقطۂ نظر کے حامی تھے۔ بلکہ مشہور ماہر نصابیات پروفیسر محمد اسحٰق جلالپوری مرحوم تو اس نقطۂ نظر کے حق میں ایک دلچسپ مثال بھی دیا کرتے تھے۔ کہتے تھے: ’’اگر آپ یہ فرمائیں گے کہ ’آپ کو ۱۰۰ روپے دینے ہیں‘۔ تو یہ واضح نہیں ہوتا کہ روپے کون دے گا؟ میں دوں گا؟ یا آپ دیں گے؟ لیکن اگر یوں کہا جائے کہ ’میں نے ۱۰۰روپے دینے ہیں‘ یا ’آپ نے ۱۰۰ روپے دینے ہیں‘ تو کوئی ابہام باقی نہیں ر ہے گا، بات بالکل واضح ہوجائے گی۔‘‘ گویا ’’میں نے، تم نے‘‘ کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ۱۰۰ روپے ڈوب جانے کا ڈر نہیں رہے گا۔ لیکن ہمیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ڈرے تو وہ جس نے ۱۰۰روپے ہڑپ کر رکھے ہوں۔ مُلا نوریؔ فرماتے ہیں کہ ’’ہر وہ شخص جو خیانت کرتا ہے، ضرور ڈرتا ہے‘‘: ہر کس کہ خیانت کُند البتہ بِترسد بے چارۂ نوریؔ نہ کرے ہے نہ ڈرے ہے نوری کے ذکر پر ضیائی یاد آگئے۔ پروفیسر آسیؔ ضیائی نے اپنی کتاب ’’درست اُردو‘‘ میں ’میں نے، تم نے‘ استعمال کیے بغیر ہی ۱۰۰ روپے ڈوب جانے کا ڈر دل سے نکال دیا ہے۔ آسیؔ صاحب کی یہی کتاب ’’مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی‘‘نے بھی ’’اچھی اُردو‘‘ کے نام سے شائع کردی ہے۔ (یہ کتاب ڈاکٹر تابشؔ مہدی مرحوم نے کالم نگار کو ہندوستان سے ہدیتہً بھیجی تھی۔ اللہ اُن کے حسنات کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین) کتاب کے پہلے باب میں ’’نے‘‘ کے غلط استعمال کی مثالیں دیتے ہوئے پروفیسر آسی ضیائی لکھتے ہیں:
156
12
تعارف کتاب: کچھ مشرق سے کچھ مغرب سے . ڈاکٹر محمد سہیل شفیق - September 4, 2026 کچھ مشرق سے کچھ مغرب سے مصنف: ڈاکٹر سید نقی حسین جعفری صفحات: 180 قیمت: 800 روپے ناشر: قرطاس کراچی رابطہ: 03213899909 مشرق و مغرب کی تہذیبی اور ادبی روایتوں کے باہمی روابط اور اثرات کا مطالعہ ہمیشہ سے تقابلی ادب اور تہذیبی مطالعات کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ تہذیبیں اور ادبی روایتیں اپنے اپنے جغرافیائی اور تاریخی ماحول میں پروان چڑھنے کے باوجود ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا اور بے تعلق نہیں رہتیں بلکہ مختلف ادوار میں باہمی اثر و قبول کے مراحل سے گزرتی ہیں۔ یہی حقیقت زبان، ادب، فکر اور تہذیب کے مختلف مظاہر میں نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سید نقی حسین جعفری کی کتاب ’’کچھ مشرق سے، کچھ مغرب سے‘‘ اسی نوعیت کے علمی اور ادبی مباحث پر مشتمل ایک قابلِ توجہ تصنیف ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں فاضل مصنف نے مشرقی اور مغربی تہذیبوں اور ادبی روایتوں کے درمیان موجود تاریخی اور فکری روابط کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے نزدیک مختلف تہذیبوں اور ادبی روایتوں کے درمیان تعامل اور اثر پزیری کا عمل انسانی فکر کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی بنیادی تصور کتاب کے متنوع مباحث کو ایک فکری وحدت عطا کرتا ہے۔ پیشِ نظر کتاب میں مشرق و مغرب کے ادبی اور تہذیبی روابط کو مختلف زاویوں سے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ ایک جانب مغربی ادب اور اس کی تاریخی و فکری روایت کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا گیا ہے تو دوسری جانب مشرقی روایات، تصورات اور اثرات کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ کتاب میں قرونِ وسطیٰ کے مغربی ادب، مختلف ادبی و تہذیبی تصورات اور بعد کے مغربی شعرا اور ادبی رجحانات پر بھی گفتگو ملتی ہے۔ کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ ’’مضامین‘‘ کے عنوان سے ہے، جس میں ’’طوق الحمامہ‘‘، ’’گلستانِ سعدی کے منظوم اردو تراجم‘‘، ’’اقبال کا تصورِ مردِ مومن‘‘، ’’فراق اور انگریزی روایت‘‘، ’’خواب سے خواب تک: شہریار کا شعری سفر‘‘، ’’دانشوری اور تصورِ مذہب: ذاکر صاحب کی تحریروں کے حوالے سے‘‘، اور ’’ذاکر صاحب کی کہانیوں کا تمثیلی پہلو‘‘ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان مضامین سے مصنف کی ادبیاتِ مشرق و مغرب، اردو ادب اور فکری و تہذیبی مباحث پر گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ ’’تجزیے‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا گیا ہے، جس میں میر تقی میرؔ، سوداؔ اور ناصرؔکاظمی کی ایک ایک غزل کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ جب کہ کتاب کا تیسرا حصہ ’’تبصرے‘‘ پر مشتمل ہے، جس میں چند اہم کتب کا تعارفی اور تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں ’’دنیا کی کہانی‘‘ از محمد مجیب، ’’علی گڑھ سے علی گڑھ تک‘‘ از اطہر پرویز، ’’ذہنِ انسانی کا حیاتیاتی منظر‘‘ از شہزاد احمد اور ’’داستانوں کی علامتی کائنات‘‘ از سہیل احمد شامل ہیں۔ یہ تبصرے محض کتابوں کے تعارف تک محدود نہیں، بلکہ متعلقہ موضوعات اور مصنّفین کے فکری و ادبی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ کتاب کا اسلوب علمی ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق سے بھی آراستہ ہے۔ موضوعات کا تنوع اور مباحث کی وسعت اسے ادب، تہذیب اور تقابلی مطالعے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے مفید بناتی ہے۔ بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
144
13
*وفیات مورخہ:ستمبر /04) 1984ء مرزا ظفر الحسن۔ ادیب ، صحافی ، 1987ء امتیاز احمد۔ ، 1988ء زاہرالقاسمی۔ ابن مولانا قاری محمد طاہر قاسمی، قاری 1991ء دکھی پریم نگری (وہاج محمد خان)۔ ، 1993ء سید اختر امام۔ ڈاکٹر ، 1994ء محمد جیلانی صدیقی قادری۔ مولانا ، مصنف شمع طریقت 1997ء حاجی وحیدالدین۔ 2001ء انورخان۔ ، 2002ء فوزیہ سومرو۔ ، 2009ء سید محمود نقوی۔ بھارتی کیمیاداں 2014ء حبیب ولی محمد۔ گلوکار ، https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
161
14
داستان جاری ہے (۰۲) ابو الحسن نغمی
104
15
داستان جاری ہے (۰۱) ابو الحسن نغمی۔۔۔تعارفی صفحات
111
16
شیر شاہ سوری کے دور میں ذرائع نقل و حمل اور شاہراہوں کی تعمیر ڈاکٹر کمال اشرف لکھتے ہیں: شیر شاہ کی مدتِ حکمرانی محض پانچ برس پر مشتمل تھی، لیکن اس مختصر عرصے میں اُس نے ذرائع سفر اور نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔ اُس نے اپنے قلمرو میں عمدہ سڑکوں کا جال بچھا دیا اور مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر انتظامات کیے۔ ١۔ سب سے بڑی اور اہم شاہراہ شمال مغربی علاقے میں دریائے سندھ کے کنارے سے سونار گاؤں تک جاتی تھی۔ عبدالقادر بدایونی کے مطابق یہ راستہ چار ماہ میں طے کیا جاتا تھا۔ ٢۔ دوسری سڑک آگرہ سے شروع ہو کر مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی برہان پور تک پہنچتی تھی۔ ٣۔ تیسری سڑک آگرہ کو چتوڑ سے ملاتی تھی۔ ۴۔ چوتھی سڑک ملتان کو لاہور سے مربوط کرتی تھی۔ ان شاہراہوں کی تعمیر سے ملک کے اندر تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ اور استحکام میں نمایاں مدد ملی۔ مسافروں کی سہولت کے لیے ہر دو میل کے فاصلے پر ایک سرائے تعمیر کی گئی، جہاں ہر مسافر چند روز تک سرکاری مہمان کی حیثیت سے قیام کرسکتا تھا۔ ہر سرائے میں ایک مسجد اور ایک کنواں تعمیر کیا گیا۔ سڑکوں کے دونوں جانب مناسب فاصلے پر گھنے سایہ دار اور پھل دار درخت لگوائے گئے۔ غیر مسلم مسافروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے لیے الگ سہولیات فراہم کی گئیں۔ (معارف، ستمبر ٢٠٢٦ء، صفحہ: ٣٩) https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
253
17
ہے۔ خدا کرے اس کی باقی جلدیں بھی جلد شائع ہوں۔(مئی ۱۹۵۸ء) Https://telegram.me/ilmokitab
263
18
تفسیر موجودہ اردو تراجم و تفاسیر میں ایک نمایاں مقام کا مستحق ہے۔ حق تعالیٰ فاضل مؤلف کو اس کا اجرِ جزیل اور مسلمانوں کو اس سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے اور جناب ناشر نے جس ذوق و شوق اور اہتمام و انتظام کے ساتھ شائع کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو بھی اس کا بدلہ عنایت فرمائے! (اپریل ۱۹۵۳ء) تفسیر ماجدی (جلد دوم) از: مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۷۴۷ صفحات۔ کتابت و طباعت: بہتر۔ قیمت: ۱۵۔ پتا: صدق بک ایجنسی، کچہری روڈ، لکھنؤ۔ یہ تفسیر ماجدی کی طبع جدید کی دوسری جلد ہے جو سورۃ النساء سے سورۃ التوبۃ تک کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ طبع جدید کی پہلی جلد پر تبصرہ پہلے شائع ہو چکا ہے، جو انداز اس کا تھا وہی اس کا ہے۔ یوں تو عام تفسیروں میں جو کچھ ہوتا ہے یعنی الفاظ کی تحقیق، ان کے معانی، آیت کا ترجمہ، اس کا مطلب، اس سے جو احکام مستنبط ہوتے ہیں ان کا بیان وجہ استنباط کے ساتھ، آیت کا سبب نزول، پھر اگر اس میں کوئی حکیمانہ یا بلیغ نکتہ ہے تو وہ بھی۔ وہ سب اس میں موجود ہے اور اس احتیاط کے ساتھ کہ اگر کہیں یہ لکھا ہے کہ: ’’یہاں کان ماضی کے معنی میں نہیں، بلکہ استمرار و دوام کے معنی میں ہے‘‘، تو اس کا بھی باقاعدہ حوالہ موجود ہے۔ مزید برآں اس کی خصوصیت یہ ہے کہ چوں کہ فاضل مفسر عہدِ حاضر کے ذہن و مزاج اور اس کے مسائل و افکار سے واقف ہیں، اس لیے جہاں کہیں اس کا موقع ہوتا ہے، اشہبِ قلم خوب جولانی دکھاتا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن مجید میں جگہ جگہ توراۃ و انجیل اور ان کے احکام کا تذکرہ ہے اور چوں کہ مولانا نے ان کتبِ مقدسہ کا مطالعہ بڑے غور و خوض اور وسعت کے ساتھ کیا ہے، اس بنا پر جا بجا، ان کتابوں کے حوالے اور ان کی عبارتیں ملتی ہیں، پھر زبان اور اندازِ بیان کی سلاست اور شگفتگی ان سب پر مستزاد۔ ان وجوہ سے جو حضرات تفسیروں میں فقیہانہ اقوال اور ان کے دلائل و براہین کی بھر مار یا دور از کار کلامی مباحث کے خوگر ہیں، ان کے لیے ممکن ہے کہ یہ تفسیر کچھ زیادہ دلچسپی کا باعث نہ ہو، لیکن عصرِ جدید کے تعلیم یافتہ اور نوجوان مسلمان جن کے لیے افکارِ نو پریشانی خاطر اور پراگندگی ذہن کا باعث بنے ہوئے ہیں ان کے لیے اس میں بہت کچھ سامانِ تسکین و راحت ملے گا۔ (جون ۱۹۷۱ء) تفسیر ماجدی (جلد سوم) از: مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ڈیڑھ سو صفحات۔ کتابت و طباعت اور کاغذ: اعلیٰ۔ قیمت درج نہیں۔ پتا: تاج کمپنی لمیٹڈ، لاہور۔ یہ مولانا کی اس مشہور اردو تفسیر و ترجمہ کی تیسری جلد ہے جو تاج کمپنی کی طرف سے اس کے روایتی اہتمام و انتظام کے ساتھ جزءاً جزءاً شائع ہو رہی ہے۔ یہ جلد سورۂ یونس سے لے کر سورۃ النحل تک چار پاروں پر مشتمل ہے اور اس میں بھی مولانا کی تفسیری خصوصیات یعنی قدیم کتبِ تفسیر و لغت کے حوالے، آیت کا حاصل اور اصل مقصد، لطیف طریقہ پر فرقِ باطلہ کے اعتراضات کا جواب اور اُن کے عقائد کی تردید، بعض مطالبِ قرآن کی تشریح و توضیح، حسب ضرورت علومِ جدیدہ و افکارِ جدیدہ کی روشنی میں صاف و سلیس اور شگفتہ و دل نشین طرزِ زبان؛ یہ سب چیزیں اس جلد میں بھی پورے طور پر نمایاں ہیں۔ امید ہے اہل ذوق اس کے مطالعہ سے شادکام ہوں گے۔ (مئی ۱۹۷۵ء) تفسیر ماجدی (انگریزی، جلد اوّل) مولانا عبدالماجد دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۱۹۴ صفحات۔ قیمت درج نہیں۔ ’’تاج کمپنی قرآن منزل، کراچی‘‘ سے ملے گی۔ عرصہ ہوا مولانا عبدالماجد نے اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی قرآن مجید کی تفسیر بڑی محنت اور بڑے شوق و ذوق سے لکھی تھی اور اس کو مکمل کر کے پندرہ برس پہلے یعنی ۱۹۴۲ء میں تاج کمپنی لاہور کے حوالے کر دی تھی۔ اربابِ ذوق و نظر کے حلقہ میں اس تفسیر کا غلغلہ اسی وقت سے بلند تھا اور بڑی بے چینی سے اس کی اشاعت کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ مگر معلوم نہیں کیا اسباب پیش آئے کہ کمپنی کی طرف سے اشاعت میں تعویق پر تعویق ہوتی رہی۔ آخر اب ۱۹۵۷ء میں اس کی پہلی جلد جو سورۃ الفاتحہ سے سورۃ النساء تک مشتمل ہے، چھپ کر شائع ہوئی اور تاج کمپنی جس سلیقہ اور حسنِ طباعت کے لیے مشہور ہے، یہ تفسیر بھی اس سے محروم نہیں ہے۔ انگریزی زبان میں قرآن مجید کے متعدد تراجم پہلے سے موجود ہیں اور جہاں تک زبان کا معاملہ ہے، ایک سے ایک اچھے ہیں، لیکن پھر بھی ایک ایسے ترجمے کی ضرورت ہے جس کو اہل سنت والجماعت کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہو اور جس میں قرآنی حقائق و معارف صحتِ عقیدہ و خیال کے ساتھ اسلامی روایات اور جدید معلومات دونوں کی روشنی میں کلام کیا گیا ہو۔ بحمد اللہ اس تفسیر سے یہ ضرورت بڑی خوبی سے پوری ہو جاتی ہے، اس تفسیر کے مطالعہ کے بعد ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ درحقیقت مولانا نے اس عظیم الشان کام کو سر انجام دینے میں کس قدر محنتِ شاقہ برداشت کی اور جغرافیہ، تاریخ، تفسیر و حدیث، فقہ، علم الکلام، لغت اور علومِ جدیدہ کی کتنی کتابوں کی ورق گردانی کی ہے اور اس طرح دانہ دانہ جمع کر کے خرمن تیار کیا
256
19
کا ترجمہ اپنا جواب نہیں رکھتا اور شاید آئندہ بھی اس کا جواب پیدا نہ ہو سکے گا۔ اس ترجمہ کی بلاغت اور اس کا حسن وہی لوگ صحیح معنوں میں معلوم کر سکتے ہیں جو عربی اور اردو دونوں زبانوں کا طبعی اور فطری ذوق اور ان کے ادب کا وسیع مطالعہ رکھتے ہوں۔ ہم نے اس کا ذکر اس جگہ اس لیے کیا کہ اگر مولانا دریا بادی کسی اور اردو ترجمہ کے بجائے اس ترجمہ کو اپنے لیے نمونہ بناتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ مثلاً سورۃ البقرۃ کے شروع میں ہی ہے: وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ، مولانا دریا بادی اس کا ترجمہ کرتے ہیں: ’’اور یقین تو بس آخرت پر ہی رکھتے ہیں۔‘‘ ہمارے نزدیک یہ ترجمہ اشتباہ انگیز ہے۔ عربی میں تقدیم ما حقہ التاخیر تاکید اور حصر و قصر کا فائدہ ضرور دیتا ہے، لیکن اوّل تو ضروری نہیں کہ دونوں جمع ہوں، محض تاکید کے معنی پیدا کرنے کے لیے بھی بعض اوقات ایسا کر دیا جاتا ہے، پھر اگر قصر ہو بھی تو اس کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ قصر صفت علی الموصوف اور ۲۔ قصر موصوف علی الصفۃ۔ مولانا کے ترجمہ سے یہ اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ بس آخرت پر ہی ایمان رکھتے ہیں اور کسی پر نہیں۔ حالانکہ اللہ اور نبوت پر ایمان اس پر بھی مقدم ہے۔ اب مولوی نذیر احمد صاحب کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے: ’’اور وہ آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں‘‘ مولوی نذیر احمد صاحب نے لفظ ’’بھی‘‘ سے اس مفہوم کو ادا کرنے کا کام لیا ہے جو تقدیم مسئلہ اور ضمیر فاعل کے ابراز سے پیدا ہو گیا ہے اور کوئی اشتباہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ بعض کلامی مسائل میں مولانا نے اپنا جو رجحان ظاہر کیا ہے ہمیں ذاتی طور پر اس سے بھی اختلاف ہے۔ لیکن ہم یہاں اُس کا ذکر اس لیے نہیں کرتے کہ مولانا نے عام مفسرین کی ہم نوائی کی ہے اور ہماری جو رائے ہے وہ خود ہماری اپنی ذاتی تحقیق پر مبنی ہے۔ بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تفسیرِ ماجدی اس دور میں اسلام کی اور قرآن کی بہت عظیم الشان خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مؤلف کو اس کا اجر جزیل عطا فرمائے اور اس خدمت کو سرمایۂ آخرت بنائے۔ آمین! (مارچ ۱۹۶۹ء) تفسیر ماجدی (پارہ اوّل قرآن مجید مع ترجمہ و تفسیر) از: جناب مولانا عبدالماجد دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۵۴ صفحات۔ کاغذ کتابت اور طباعت: نہایت اعلیٰ اور شان دار اور دیدہ زیب۔ ہدیہ مرقوم نہیں۔ شائع کردہ: تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور و کراچی۔ اردو میں قرآن مجید کے تراجم کی کمی نہیں ہے، لیکن ان میں سے بعض تو ایسے تحت اللفظ ہیں کہ انہیں پڑھ کر مطلب سمجھنا انتہائی مشکل ہے اور بعض ترجمے صاف اور سپاٹ ہیں تو ان میں بعض دوسری قسم کے نقائص ہیں۔ مثلاً: مترجم خود اگر عقائدِ صحیح نہیں رکھتا تو اس نے ترجمہ میں کھینچ تان کر کے مطلب کچھ سے کچھ کر دیا ہے یا کم از کم ترجمہ اجتہادی شان کے ساتھ کیا ہے، جس کے باعث سلف صالحین کے مسلک سے بعد پیدا ہو گیا ہے۔ اس بنا پر ضرورت تھی کہ قرآن مجید کا ایک ایسا اردو ترجمہ کیا جائے جو عام فہم، سلیس، شگفتہ و رواں ہونے کے ساتھ آزاد ترجمہ بھی نہ ہو اور جس میں سلف صالحین کے مسلک سے عدول بھی نہ پایا جائے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جناب مولانا عبدالماجد دریا بادی نے ایک عرصہ کی محنتِ شاقہ کے بعد قرآن مجید کا جو ترجمہ لکھ کر اس ضرورت کو بڑی حد تک پورا کر دیا ہے، ترجمہ میں اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ اردو کے الفاظ قرآن مجید کے الفاظ کے مطابق ہی رہیں نہ کم ہوں اور نہ زیادہ۔ لیکن چوں کہ اس پابندی سے بعض اوقات مطلب گنجلک ہو جاتا تھا، اس لیے اس قسم کے مواقع پر قوسین میں کچھ الفاظ بڑھا کر عبارت کو مربوط، قابلِ فہم اور آسان بنا دیا ہے۔ اس اہتمام کے باعث اب یہ ترجمہ اس لائق ہے کہ جو متوسط الاستعداد اردو داں ان کو پڑھے گا، اسے قرآن مجید کی آیات کا مطلب سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی! ترجمہ کے علاوہ تفسیر بھی نہایت مفید، پر از معلومات اور بصیرت افروز ہے، تفسیر میں مولانا نے پہلے الفاظ کی لغوی تحقیق عربی لغت کی مشہور و مستند کتابوں کی روشنی میں اور ان کے حوالے سے کی ہے اور اس سلسلہ میں بلا تخفیف عبارتیں تک نقل کرتے چلے گئے ہیں، ان کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد جو قولِ راجح ہے اس کو دلائل و براہین کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس ذیل میں فرقِ باطلہ کا ذکر آگیا ہے تو ان کی تردید بھی ہوتی گئی ہے اور جہاں کہیں موقع ملا ہے قرآن مجید کی سچائیوں کو ثابت کرنے کے سلسلہ میں عہدِ حاضر کے جدید علمی اکتشافات یا بعض علمائے مغرب کے اقوال و آرا بھی بیان کر دیے گئے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ مولانا دریا بادی نے ترجمہ و تفسیر کا یہ کام بڑی محنت و عرق ریزی اور مسلسل انہماک و مصروفیت سے انجام دیا ہے۔ خود انہوں نے کتب لغت و تفاسیر اور دوسرے علوم متعلقہ کی کتابوں کا مطالعہ دیدہ ریزی کے ساتھ کیا، اور دورانِ مصروفیت میں حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے۔۔۔ جن کے جگہ جگہ حوالے بھی ہیں۔۔۔ ایک ایک آیت اور لفظ کے ترجمہ و تفسیر کے متعلق تحریراً مشورہ بھی کرتے رہے ہیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر ترجمہ و
163
20
تفسیر ماجدی (جلد اوّل) از: مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی (مدیر صدق جدید لکھنؤ)۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۶۹۰ صفحات۔ کتابت و طباعت: بہتر۔ مشمولہ بر تفسیر سورۃ فاتحہ، بقرہ و آل عمران۔ قیمت (مجلد): ۱۸۔ پتا: صدق جدید، بک ایجنسی، کچہری روڈ، لکھنؤ و مکتبہ برہان، اردو بازار، دہلی۔ پاکستان میں: فیروز سنز، بندر روڈ، کراچی۔ مال روڈ، لاہور۔ قرآن مجید کی تفسیریں مختلف زبانوں میں بڑی کثرت سے لکھی گئی ہیں اور جب تک دنیا میں اسلام باقی ہے برابر لکھی جاتی رہیں گی، لیکن کسی بھی تفسیر کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے کلام الٰہی کا حق ادا کر دیا ہے اور وہ اس موضوع پر حرفِ آخر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا متکلم اللہ تعالیٰ ہے اور مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اور ہر متکلم اور مخاطب کے درمیان ایک ایسا معنوی رشتہ اور رابطہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے مخاطب کلام کا مطلب جس طرح سمجھ سکتا ہے دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ اس بنا پر جن حضرات نے قرآن مجید کو اپنے فکر و تدبر کا موضوع بنایا اور اس کی تفسیر لکھی ہے اپنے مخصوص ذوق، علمی استعداد اور اپنے مسلک و مشرب کے مطابق ہی لکھی ہے۔ چنانچہ چونکہ ابن جریر محدث تھے تو ان کی تفسیر کا دارومدار احادیث پر ہی ہے۔ امام فخر الدین رازی منطق، فلسفہ اور علم کلام کے امام تھے، اس لیے ان کی تفسیر کا نمایاں وصف بھی فلسفہ اور کلامی مباحث ہیں۔ شیخ محی الدین بن عربی اور مہائمی بحرِ طریقت و تصوف کے شناور تھے، تو ان کی تفسیر کا بھی یہی انداز ہے۔ جار اللہ زمخشری بلند پایہ ادیب اور علم کلام کے ماہر تھے، تو ان کی یہ خصوصیت تفسیر میں جا بجا نظر آتی ہے۔ محمود آلوسی فن بلاغت کے امام تھے، ان کی تفسیر میں جا بجا یہی مباحث پھیلے ہوئے ہیں۔ جوہر طنطاوی سائنس کا ذوق رکھتے تھے، ان کی تفسیر اسی قسم کی بحثوں سے پر ہے۔ غرض کہ جو مفسر جس ذوق و رجحان اور استعداد و مسلک کا تھا، اُس کی تفسیر اسی کی آئینہ دار بن گئی۔ جو اہل فن تھے انہوں نے بہر حال تفسیر بالرائے کو دخل نہیں دیا، لیکن جن میں زیغ تھا وہ اپنے ذوق کی تسکین میں کہیں سے کہیں نکل گئے۔ اہل حق نے جو کچھ لکھا اس سے اگرچه قرآن کا پورا حق ادا نہیں ہوا، اور نہ ہو سکتا تھا، تاہم ایک خاص دائرہ کے اندر جزوی فائدہ ضرور ہوا اور قرآن کو سمجھنے میں اس سے مدد ملی۔ زیرِ تبصرہ تفسیر بھی اسی زنجیر طلائی کی ایک کڑی ہے۔ مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی نے اس کی ترتیب و تالیف میں جو محنت شاقہ، کمال صبر واستقلال کے ساتھ برداشت کی ہے اس کا اندازہ تفسیر کو دیکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ اس کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ایک آیت کا ترجمہ کرتے ہیں اور اس کے بعد نمبروار پہلے الفاظ کی تحقیق، مشہور کتب لغت قرآن کی روشنی میں اسی طرح کہ جو کچھ عربی میں ہے، پہلے اس کا خلاصہ اردو میں لکھ دیا اور پھر اس کی تائید میں عربی میں عبارتیں نقل کر دیں۔ اگر کسی لفظ یا کسی ترکیب کے معنی کئی ہیں تو ان سب کو نقل کرنے کے بعد فاضل مفسر کے نزدیک جو معنی صحیح ہیں اس کو بیان کریں گے اور اس کی شہادت بھی پیش کریں گے۔ اس کے بعد فصاحت و بلاغت کا کوئی بلیغ نکتہ، آیت کا سبب نزول، کوئی فقہی حکم، کسی قسم کا کوئی کلامی مسئلہ اور اسی نوع کی بعض دوسری چیزیں جو آیت سے متعلق ہیں ان سے بھی جستہ جستہ حسب موقع و ضرورت تعرض کرتے جاتے ہیں۔ عبارت بہت منضبط ہوتی ہے۔ نہ ایجازِ مخل ہے۔ اور نہ اطنابِ ممل۔ جہاں کہیں بعض اکابر سے اختلاف کیا ہے ان کی جلالت علم کا پورا احترام ملحوظ رکھا ہے اور جہاں کسی سے اختلاف کیا ہے زبان وہاں بھی بے قابو نہیں ہونے پائی ہے۔ زبان و بیان کی شگفتگی کے لیے مولانا کا نام سب سے بڑی ضمانت ہے۔ یہ تو خیر سب کچھ ہے ہی۔ لیکن اس تفسیر کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جا بجا قصص میں خصوصاً اور احکام و مسائل میں عموماً کتب قدیمہ یعنی عہد جدید و عہدِ قدیم سے اور مغربی مصنفین کی کتابوں سے عبارتیں نقل کی ہیں اور ان کے مکمل حوالے دیے ہیں۔ پھر جہاں کہیں تاریخی یا جغرافیائی کوئی بحث پیدا ہو گئی ہے اس پر خوب دادِ تحقیق دی ہے۔ اس تفسیر کی یہ خصوصیت نہایت اہم، بہت مفید اور بڑی بصیرت افروز ہے اور اسی نے اس تفسیر کو عام تفاسیر سے بہت ممتاز کر دیا ہے۔ مولانا نے قرآن کے فہم اور اس میں تدبر و تفکر کا فیض جو کچھ پایا ہے وہ حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پایا ہے۔ اسی لیے اختلافی مسائل میں مولانا کے مسلک کے بارے میں تو کم از کم ہمیں کوئی شک و شبہ ہو ہی نہیں سکتا اور اس لیے اس پر بے تکلف اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ترجمہ کا معاملہ تفسیر سے بھی زیادہ اور بہت زیادہ مشکل ہے۔ جیسا کہ فاضل مؤلف نے خود کتاب کے افتتاحیہ میں تفصیل اور عالمانہ دقیقہ سنجی کے ساتھ بیان کیا ہے، لیکن اس مرحلہ میں بھی موصوف بہت محتاط اور لیے دیے رہے ہیں۔ یہاں شاید یہ کہنا بے محل نہ ہو کہ جہاں تک قرآن مجید کے اردو ترجمہ کا تعلق ہے، ہمیں اس اعتراف میں کوئی تردد نہیں ہے کہ مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی
199