علم و کتاب
前往频道在 Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
显示更多8 043
订阅者
-324 小时
-187 天
-9630 天
正在加载数据
吸引订阅者
十月 '2610月 '26
十月 '26
+22
在0个频道中
九月 '26
+44
在0个频道中
Get PRO
八月 '26
+170
在0个频道中
Get PRO
七月 '26
+189
在0个频道中
Get PRO
六月 '26
+218
在0个频道中
Get PRO
五月 '26
+228
在1个频道中
Get PRO
四月 '26
+163
在1个频道中
Get PRO
三月 '26
+62
在2个频道中
Get PRO
二月 '26
+89
在1个频道中
Get PRO
一月 '26
+95
在2个频道中
Get PRO
十二月 '25
+81
在0个频道中
Get PRO
十一月 '25
+109
在1个频道中
Get PRO
十月 '25
+105
在1个频道中
Get PRO
九月 '25
+119
在1个频道中
Get PRO
八月 '25
+173
在2个频道中
Get PRO
七月 '25
+151
在2个频道中
Get PRO
六月 '25
+140
在2个频道中
Get PRO
五月 '25
+95
在1个频道中
Get PRO
四月 '25
+105
在0个频道中
Get PRO
三月 '25
+153
在2个频道中
Get PRO
二月 '25
+131
在1个频道中
Get PRO
一月 '25
+278
在1个频道中
Get PRO
十二月 '24
+403
在0个频道中
Get PRO
十一月 '24
+500
在2个频道中
Get PRO
十月 '24
+487
在1个频道中
Get PRO
九月 '24
+322
在0个频道中
Get PRO
八月 '24
+322
在3个频道中
Get PRO
七月 '24
+323
在4个频道中
Get PRO
六月 '24
+341
在0个频道中
Get PRO
五月 '24
+331
在1个频道中
Get PRO
四月 '24
+300
在3个频道中
Get PRO
三月 '24
+265
在1个频道中
Get PRO
二月 '24
+321
在1个频道中
Get PRO
一月 '24
+403
在3个频道中
Get PRO
十二月 '23
+376
在0个频道中
Get PRO
十一月 '23
+132
在0个频道中
Get PRO
十月 '23
+124
在1个频道中
Get PRO
九月 '23
+92
在0个频道中
Get PRO
八月 '23
+121
在0个频道中
Get PRO
七月 '23
+116
在0个频道中
Get PRO
六月 '23
+77
在0个频道中
Get PRO
五月 '23
+253
在0个频道中
Get PRO
四月 '23
+81
在0个频道中
Get PRO
三月 '23
+49
在0个频道中
Get PRO
二月 '23
+126
在0个频道中
Get PRO
一月 '23
+137
在0个频道中
Get PRO
十二月 '22
+123
在0个频道中
Get PRO
十一月 '22
+209
在0个频道中
Get PRO
十月 '22
+119
在0个频道中
Get PRO
九月 '22
+62
在0个频道中
Get PRO
八月 '22
+40
在0个频道中
Get PRO
七月 '22
+44
在0个频道中
Get PRO
六月 '22
+138
在0个频道中
Get PRO
五月 '22
+42
在0个频道中
Get PRO
四月 '22
+17
在0个频道中
Get PRO
三月 '22
+31
在0个频道中
Get PRO
二月 '22
+28
在0个频道中
Get PRO
一月 '22
+56
在0个频道中
Get PRO
十二月 '21
+112
在0个频道中
Get PRO
十一月 '21
+52
在0个频道中
Get PRO
十月 '21
+112
在0个频道中
Get PRO
九月 '21
+64
在0个频道中
Get PRO
八月 '21
+43
在0个频道中
Get PRO
七月 '21
+63
在0个频道中
Get PRO
六月 '21
+164
在0个频道中
Get PRO
五月 '21
+38
在0个频道中
Get PRO
四月 '21
+60
在0个频道中
Get PRO
三月 '21
+103
在0个频道中
Get PRO
二月 '21
+80
在0个频道中
Get PRO
一月 '21
+211
在0个频道中
Get PRO
十二月 '20
+1 362
在0个频道中
| 日期 | 订阅者增长 | 提及 | 频道 | |
| 17 十月 | +1 | |||
| 16 十月 | +1 | |||
| 15 十月 | 0 | |||
| 14 十月 | +1 | |||
| 13 十月 | +5 | |||
| 12 十月 | +2 | |||
| 11 十月 | +2 | |||
| 10 十月 | +1 | |||
| 09 十月 | +1 | |||
| 08 十月 | +2 | |||
| 07 十月 | +1 | |||
| 06 十月 | 0 | |||
| 05 十月 | +1 | |||
| 04 十月 | 0 | |||
| 03 十月 | 0 | |||
| 02 十月 | +1 | |||
| 01 十月 | +3 |
频道帖子
رد علی مقال ملحد
بیان وآواز: شیخ حسن حنبکہ المیدانیؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=rad-ala-maqalat-mulhid, Rad Ala Maqalat Mulhid
شام کے عظیم عالم دین ومجاہد شیخ حسن حبنکہ المیدانی رحمۃ اللہ کی وفات مورخہ 10/ اکتوبر سنہ 1978ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے 25-05-1967ء کو ہوئی ایک نادر تقریر پیش کی جارہی ہے۔
علم و کتاب
| 2 | خلافت بنی آدم
بیان و آواز: مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
بانی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون ۔ کراچی
مورخہ 17/ أكتوبر 1977ء عظیم محدث و عالم دین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ کی وفات ہوئی تھی۔ مولانا کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز مین ایک نادر ریکارڈنگ پیش کی جارہی ہے
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khatm-e-nubauwat, Khatm-E-Nubauwat
علم وکتاب | 90 |
| 3 | *وفیات مورخہ:اکتوبر 17*
1729ء کلیم اللہ جہاں آبادی ( شاہ)۔ صوفی بزرگ
1934ء امداد امام اثر۔ شاعر وادیب
1941ء می زیادہ۔ لبنانی ادیبہ
1963ء حیرت شاہ وارثی (رحیم بخش)۔ ،
1965ء حلیمہ بیگم۔ بیگم آئی آی چندریگر ،
1977ء حکیم محمد سعید۔ بانی ہمدرد پاکستان
1977ء محمد یوسف بنوری۔ حضرت مولانا، بانی جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاون، کراچی
1978ء حسن حبنكة۔ شامی عالم ومجاہد
1978ء ساجد اسدی جے پوری (ساجد علی )۔ شاعر
1978ء عبد الحليم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1978ء عبد الحلیم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1982ء عبدالودود۔ مولانا، قاری
1991ء محمد اسحاق میمن۔ ،
1996ء فیروز گل۔ ،
1997ء سید اختر حسن ۔ ماہر تعلیم
2008ء محمد ایوب قادری۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
2009ء وحید قریشی۔ ڈاکٹڑ، ادیب، محقق، صدر اقبال اکیڈمی لاہور
2011ء حمید اختر۔ ادیب
2015ء سید نظام الدین گیاوی۔ مولانا، امیر شریعت بہار واڑیسہ، جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لابورڈ
2020ء ساحر شیوی (عبد اللہ)۔
2023ء ف۔ عبدالرحیم۔ ڈاکٹر،سربراہ شعبہ ترجمہ قرآن شاہ فہد پریس | 90 |
| 4 | https://t.me/boost/ilmokitablibrary | 118 |
| 5 | *دور المكتبات في التاريخ الإسلامي*
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ | 134 |
| 6 | داستان جاری ہے (05) ابو الحسن نغمی | 143 |
| 7 | داستان جاری ہے (05) ابو الحسن نغمی | 1 |
| 8 | 2026-09-21 Dastan Jari Hai 004.pdf | 1 |
| 9 | 2026-09-10 Dastan Jari Hai 003.pdf | 1 |
| 10 | 2026-09-03 Dastan jari Hai 002.pdf | 1 |
| 11 | 2026-09-03 Dastan Jari Hai 001.pdf | 1 |
| 12 | 2026-09-03 Dastan Jari Hai 000.pdf | 1 |
| 13 | داستان جاری ہے (05) ابو الحسن نغمی | 1 |
| 14 | 2026-09-21 Dastan Jari Hai 005.pdf | 2 |
| 15 | اور سبق لینے کی تاکید کی:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا،”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ،تو ’زنہار‘ کے ایک معنی امان، پناہ اور رحم وغیرہ کے بھی ہیں ۔ ان معنوں میں لفظ ’زنہار‘ کے استعمال کی ایک مثال ہمیں اقبالؔ کے اس شعر میں ملتی ہے:
خام ہے جب تک، تو ہے مٹی کا اِک انبار تُو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
اسی طرح ”جاوید نامہ“ میں کہتے ہیں کہ یہ جو ’لااِلٰہ‘ کے دو حرف ہیں یہ محض’ گفتار‘ نہیں ہیں یہ ’تیغِ بے زنہار‘ ہیں ۔ایسی تلوار جو کسی کو نہیں بخشتی۔خواہ آئی ایم ایف ہو (کوئی اقتصادی طاقت) یا دنیا کی بڑی سے بڑی عسکری طاقت: ’لااِلٰہ‘۔اِن میں سے کسی کو اِلٰہ نہ جانو!
٭٭ | 196 |
| 16 | *غلطی ہائے مضامین*
*کُنجی کو کمر بند میں زِنہار نہ باندھو*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کوئی ہفتہ بھر پہلے برادرم سہیل احمد صدیقی کی ”بزمِ زبان فہمی“ میں ’زینہار فہمی‘ کی کوشش کی گئی۔ سوچا کہ اس کوشش میں اِس کالم کے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔ وہاں بات چلی تھی غالبؔ کی ایک نظم کے اُس شعر سے جس میں غالبؔ نے ”ہیں گے“ استعمال کیا ہے:
بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
یہ نہیں ہیں گے کسے کے یارِ غار
”ہیں گے“ اور ”ہے گا“ کا استعمال ہندوستان میں مغربی یوپی اور دہلی کے اطراف میں عام تھا۔ شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے بھی استعمال کر لیا ۔ علی گڑھ، امروہہ، بلند شہر اور مظفر نگر وغیرہ میں روز مرہ بول چال کا حصہ تھا۔ عوام کی بول چال ہی میں نہیں قدما کی شاعری میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں ، مثلاً بلبل کو گُل پر پھولتے دیکھ کرمیر تقی میرؔ نے محبوب کی کچھ ایسی مدح کی کہ محبوب بھی پھول کر کُپّا ہوگیا ہوگا:
تُو گُلِ باغ پر نہ بلبل پھول
وہ بھی ہے گا گلاب کا سا پھول
اسی طرح میرؔ صاحب نے اس دنیائے فانی میں ’حیات‘ کے قیدیوں کو ’موت‘ کے منہ میں جاتے دیکھ کرقدرے حیرت کا اظہار کیا:
قیدِ حیات، قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اِس کے گرفتار ایک دو
شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے تو سخاوت کر کے پوری غزل کی ردیف ہی ’ہے گا‘ باندھ دی۔ آپ کی خدمت میں غزل کامطلع عرض ہے:
دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا
پھر میر اَمّن دہلوی کی ”داستانِ باغ و بہار“ یعنی قصۂ چہار درویش کا دوسرا درویش چار زانو بیٹھ کر اپنی داستان یوں شروع کرتا ہے:
اے یارو! اِس فقیر کا ٹک ماجرا سنو
میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو
جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم
ہے گا ہمارا درد نپٹ لا دوا سنو
تو قدیم اُردو میں ایسی مثالیں اور بھی بہت مل جائیں گی۔ مگرجدید اُردو کی نظم و نثر میں ”ہے گا“ یا ”ہیں گے“ کے استعمال کی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ تاہم بول چال میں ہمارے صوبہ سند ھ کے بعض شہروں (بالخصوص کراچی ، حیدر آباد) اورصوبہ پنجاب کے کچھ شہری علاقوں میں اب بھی ”ہے گا“ اور ”ہیں گے“ بولنے والے جا بجا ملتے ہیں گے۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ فاروق قیصر مرحوم کے مقبول طنزیہ و مزاحیہ پروگرام ”کلیاں “ کے ایک دلچسپ کردار کا نام ہی ”ہیگا“ تھا ۔ انکل سرگم جب بھی ”ہیگا“ کوآواز دے کر بُلاتے، وہ اُٹھ کر جھٹ جواب دیتا:
”انکل! ہیگا موجود ہے گا، جیسے پانی میں دودھ ہے گا!“
(دودھ میں پانی ملانے والوں پر لطیف طنز)
مگر ہمارے آج کے کالم کا موضوع تو ”ہے گا“ نہیں ہے گا۔آج کاموضوع ہے گا ’زینہار‘ اور’ زنہار‘۔
ہاں تو……اُس روز ”بزمِ زبان فہی“ میں جب ”زینہار“ یا ”زنہار“ کے متعلق بار بار استفسار کیا گیا تو ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے۔ سو، اُس وقت تو بزم میں بس یہ عرض کر دیا تھا کہ
ؔؔ ”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ، مگر اُردو میں ’زنہار‘ بالعموم نفی کے لیے آتا ہے۔ ہرگزاور حاشا وغیرہ کے معنوں میں “۔
پھر اِن معنوں میں زنہار کے استعمال کی جو مثال فور ی طور پر ذہن میں آئی وہ اکبرؔ الٰہ آبادی کا ایک شعر تھا۔سو، شعر بھی عرض کر دیا:
کُنجی کو کمر بند میں زنہار نہ باندھو
لوہے سے بہت ڈرتی ہے سرکار ہماری
سنہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مقامی کارخانوں میں ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے انگریزی سامراج نے 1878ء میں ایک سخت قانون بنایا تھا۔ ہر قسم کا لوہا، حتیٰ کہ خام لوہا رکھنا اور جمع کرنابھی جرم قرار دے دیا گیا۔ ممکن ہے اکبرؔ نے یہ شعر اُسی تناظرمیں کہا ہو۔
’زِنہار‘ فارسی لفظ ہے۔ اصلاً یہ لفظ’زینہار‘ ہے۔ تخفیف کر کے ضرورتِ شعری کے تحت ’زنہار‘ کر لیا گیا ہے۔ بے ضرورتِ شعری، یعنی نثر میں بھی، ’زنہار‘ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ ویسے شعرائے کرام نے اشعار میں بھی دونوں طرح سے استعمال کیا ہے۔ تخفیف کے ساتھ بھی اور تخفیف کے بغیر بھی۔ مثلاً میرؔ نے ظالم محبوب کے متوقع مظلومین یعنی نو واردانِ عشق کو”آگے خطرہ ہے“ کی تنبیہ کرتے ہوئے ڈرایا:
ہونا نہ چار چشمِ دل اُس ظلم پیشہ سے
ہُشیار، زینہار، خبردار دیکھنا
پھر میرؔ صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا ، بلکہ بڑے شدّ و مد سے (دیگراں را) نصیحت کا فریضہ بھی ادا کیا اور فارغ ہوئے شتابی سے:
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اِک آفت ہے
عشق نہ کر، زنہار نہ کر، واللہ نہ کر، باللہ نہ کر
سو، دیکھ لیا ہوگا آپ نے میرؔ کے ان اشعار میں ، کہ زینہار یا زنہار کا لفظ احتیاط کی تلقین کے لیے یا کسی خطرے سے ہوشیار اور خبردار کرنے کو کلمۂ تاکید وتنبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرگز، حاشا، بالکل، کبھی اور مطلق کے معانی و مفاہیم میں۔ مگر یہ لفظ محض نفی کے لیے، یعنی صرف منع کرنے کے لیے نہیں آتا، اثبات میں کسی بات پر اصرار کرنے یا زور دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میرؔ کی طرح غالبؔ نے بھی نئے نویلے عشاق کو نصیحت کرتے ہوئے اُنھیں اپنی ہی مثال دے دے کر عبرت دلائی | 181 |
| 17 | *دور المكتبات في التاريخ الإسلامي*
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ | 241 |
| 18 | بیتی یادیں (04) آخری
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مولانائے مرحوم سے مولوی عبد المتین منیری کے لئے ہوئے یادگار انٹرویو کا آخری حصہ
www.youtube.com/watch?v=MrBsAeTq3N0&t=134s | 262 |
| 19 | شعر کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے صحیح الفاظ، شاعر کے نام اور مفہوم کی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ محض قافیہ و ردیف کی دل کشی یا کسی مشہور مصرعے کی مقبولیت اس کے استعمال کے لیے کافی نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نثر کی اپنی ایک مستقل قوت ہے۔ اچھی نثر کو ہر قدم پر شعر کی بیساکھی درکار نہیں ہوتی۔ شاعری نثر کی معاون ضرور ہے، متبادل نہیں۔ نثر نگار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کو اپنے الفاظ میں بھی مؤثر انداز سے بیان کرسکے اور جہاں شعر کی ضرورت محسوس ہو، وہاں اسے اس خوبی سے برتے کہ شعر تحریر میں اجنبی پیوند بننے کے بجائے اس کا فطری جزو معلوم ہو۔
اردو نثر میں شاعری کی اہمیت کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ نثر خیال کو زبان دیتی ہے اور شاعری اس زبان کو آہنگ عطا کرتی ہے؛ نثر بات سمجھاتی ہے اور شاعری کبھی کبھی وہ بات دل میں اتار دیتی ہے۔ جب فکر کی سنجیدگی، نثر کی روانی اور شعر کی رعنائی و زیبائی یکجا ہوجائیں تو تحریر محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے؛ اسی طرح بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کا آہنگ دیر تک دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے۔
کبھی کبھی آپ کا برمحل شعر آپ کی شعر دانی کی دلیل بن جاتا ہے اور کبھی کبھی بے محل استعمال ذلیل کرجاتا ہے۔
آپ یہ بالکل نہ سوچیں کہ آپ فکر دیتے ہیں نہیں آپ اپنے قارئین کر فکر کے ساتھ راہ دیتے ہیں، کتابوں کی طرف کھینچتے ہیں، گل و گلشن کی دعوت دیتے ہیں، فکر و فن کا خوگر بناتے ہیں، الفاظ و تراکیب کا درست استعمال بتاتے ہیں، لفظی تبدیلیوں کا ہنر سکھاتے ہیں، ہر سطر ہر صفحہ پر مقالہ و مضمون قاری کو کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے۔آپ بھی دینے والے ہیں تو اچھی چیزیں اپنے مضمون کے ذریعہ دیجیے ۔
(تین جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری) | 240 |
| 20 | اردو مضامین میں شاعری کی اہمیت
(ناصرالدین مظاہری)
اردو میں مضامین و مقالات کی بے شمار اقسام ہیں ، کچھ ادبی تو کچھ فقہی، کچھ سوانحی تو کچھ تخیلاتی، کچھ علمی تو کچھ تحقیقی ، کچھ جذباتی تو کچھ مطالعاتی یعنی اردو نثر نثر نہیں مال سینٹر اور بازار ادبستان ہے ، اردو نثر محض الفاظ کی ترتیب، جملوں کی ساخت اور خیالات کی ترسیل کا نام نہیں؛ یہ احساسات کی ترجمانی، جذبات کی عکاسی، تخیل کی پرواز اور فکر کی رعنائی کا بھی ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ نثر جب شاعری سے ہم آغوش ہوتی ہے تو اس کے دامن میں معنویت کی وسعت، اسلوب کی دل آویزی، بیان کی چاشنی اور تاثیر کی وہ دولت جمع ہوجاتی ہے جو خشک سے خشک موضوع کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے بڑے نثاروں اور نثر نگاروں نے اپنی تحریروں میں اشعار سے خوب کام لیا ہے اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے کبھی کسی شاعر کا سہارا لیا ہے، کبھی کسی شعر کو اپنے مضمون کا عنوان بنایا ہے اور کبھی کسی مصرعے کو اپنی پوری تحریر کا حاصل قرار دیا ہے۔
شاعری اردو نثر کے لیے محض آرائش و زیبائش کا سامان نہیں، بلکہ اظہار و ابلاغ کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔ بسا اوقات نثر نگار طویل عبارت لکھ کر بھی وہ بات نہیں کہہ پاتا جو ایک شعر کے دو مصرعے کہہ دیتے ہیں۔ شعر میں الفاظ کی کفایت، معانی کی وسعت اور جذبات کی شدت جمع ہوجاتی ہے۔ ایک اچھا شعر اپنے اندر ایک پورا مضمون سمیٹ سکتا ہے۔ وہ ایک واقعے کی ترجمانی، ایک عہد کی تصویر کشی، ایک کیفیت کی عکاسی اور ایک فکر کی توضیح کرسکتا ہے۔ نثر نگار جب ایسے شعر کو اپنی تحریر میں جگہ دیتا ہے تو گویا وہ اپنے مضمون کے لیے ایک ایسا آئینہ منتخب کرتا ہے جس میں اس کے خیالات زیادہ واضح اور اس کے احساسات زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔
شاعری نثر میں موسیقیت، روانی، دل کشی اور ادبی چاشنی پیدا کرتی ہے۔ ایک ہی بات کو سادہ نثر میں بیان کیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ محض ایک اطلاع بن کر رہ جائے، لیکن اسی بات کے ساتھ کوئی موزوں شعر شامل ہوجائے تو وہ اطلاع احساس میں، خیال کیفیت میں اور عبارت تاثیر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ شعر نثر کے بہاؤ میں کہیں ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے، کہیں جذبات کی شدت بڑھاتا ہے اور کہیں قاری کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی نثر میں اشعار کا برمحل استعمال تحریر کو بوجھل ہونے سے بچاتا اور اس کی دل آویزی میں اضافہ کرتا ہے۔
نامور انشا پردازوں نے شاعری سے ہمیشہ استفادہ کیا ہے۔ سرسید احمد خان کی نثر ہو، مولانا شبلی نعمانی کی تحریریں ہوں، مولانا ابوالکلام آزاد کا خطیبانہ اسلوب ہو، پطرس بخاری کی شگفتہ نگاری ہو یا شوکت تھانوی کی متانت ہو ، رشید احمد صدیقی کی ظرافت آمیز نثر، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بصیرت افروز فکری نگارشات ہوں یا دیگر ارباب قلم کے علمی و قلمی گل و لالہ ہر جگہ شاعری اور شعری ذوق کی اہمیت کسی نہ کسی صورت میں محسوس کی جاسکتی ہے۔
بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوب میں آیات و اشعار، ادبی تلمیحات اور زبان کی موسیقیت نے نثر کو ایک غیر معمولی شان عطا کی ہے۔ ان کے یہاں نثر کبھی شعر کی طرح گنگناتی ہے، کبھی خطابت کی طرح گرجتی ہے اور کبھی کسی درد مند دل کی طرح دھیرے دھیرے اپنے احساسات بیان کرتی ہے۔
شاعری کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ وہ نثر میں تاریخی، تہذیبی اور ادبی حوالوں کی معنویت بڑھاتی ہے۔ میر، غالب، اقبال، اکبر الہ آبادی، حالی، ذوق، مومن اور دیگر شعراء کے اشعار محض ادبی سرمایہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی یادداشت کا حصہ ہیں۔ کسی مضمون میں ان کا برمحل استعمال قاری کے ذہن میں کئی دریچے کھول دیتا ہے۔ کبھی ایک شعر کسی تاریخی واقعے کی معنویت واضح کرتا ہے، کبھی کسی معاشرتی رویے پر تبصرہ بن جاتا ہے اور کبھی کسی انسانی تجربے کی ایسی ترجمانی کرتا ہے جسے نثر میں بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں۔
تاہم نثر میں شاعری کے استعمال کا بھی ایک سلیقہ ہے۔ ہر جگہ شعر ٹھونس دینا، محض اپنی شعری معلومات کا مظاہرہ کرنا یا مضمون سے غیر متعلق اشعار کی بھرمار کردینا تحریر کی خامی ہے۔ شعر اسی وقت نثر کا حسن بنتا ہے جب وہ مضمون کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، خیال کی وضاحت کرے، جذبے کی شدت بڑھائے یا بات کو زیادہ مؤثر بنائے۔
آپ نے بنگلور میں دیکھا ہوگا کہ خواتین پھول کو اپنے بالوں میں سجاتی ہیں، ہمارے یہاں مکان کی آرائش میں پھولوں کا استعمال عام ہے یہی پھول بے موقع و بے محل استعمال کرکے دیکھیں دنیا پاگل کہے گی کیونکہ آپ نے وضع الشئی فی غیر محلہ کا گناہ کیا ہے۔ کس شعر کا انتخاب کا جگہ کرنا ہے یہ ایک فن ہے اور فن کے فن کار بہت مشکل سے نظر آتے ہیں۔بعض تو شعر پورا رکھ دیتے ہیں جب کہ اس کے کسی ایک مصرع سے ان کا کام پورا ہورہا ہے اور دوسرے مصرع کا فکر و علاقہ ہی دوسرا ہے۔ | 227 |
