ch
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

前往频道在 Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

显示更多
8 136
订阅者
+224 小时
+27
-2730

数据加载中...

吸引订阅者
七月 '26
七月 '26
+171
在0个频道中
六月 '26
+218
在0个频道中
Get PRO
五月 '26
+228
在1个频道中
Get PRO
四月 '26
+163
在1个频道中
Get PRO
三月 '26
+62
在2个频道中
Get PRO
二月 '26
+89
在1个频道中
Get PRO
一月 '26
+95
在2个频道中
Get PRO
十二月 '25
+81
在0个频道中
Get PRO
十一月 '25
+109
在1个频道中
Get PRO
十月 '25
+105
在1个频道中
Get PRO
九月 '25
+119
在1个频道中
Get PRO
八月 '25
+173
在2个频道中
Get PRO
七月 '25
+151
在2个频道中
Get PRO
六月 '25
+140
在2个频道中
Get PRO
五月 '25
+95
在1个频道中
Get PRO
四月 '25
+105
在0个频道中
Get PRO
三月 '25
+153
在2个频道中
Get PRO
二月 '25
+131
在1个频道中
Get PRO
一月 '25
+278
在1个频道中
Get PRO
十二月 '24
+403
在0个频道中
Get PRO
十一月 '24
+500
在2个频道中
Get PRO
十月 '24
+487
在1个频道中
Get PRO
九月 '24
+322
在0个频道中
Get PRO
八月 '24
+322
在3个频道中
Get PRO
七月 '24
+323
在4个频道中
Get PRO
六月 '24
+341
在0个频道中
Get PRO
五月 '24
+331
在1个频道中
Get PRO
四月 '24
+300
在3个频道中
Get PRO
三月 '24
+265
在1个频道中
Get PRO
二月 '24
+321
在1个频道中
Get PRO
一月 '24
+403
在3个频道中
Get PRO
十二月 '23
+376
在0个频道中
Get PRO
十一月 '23
+132
在0个频道中
Get PRO
十月 '23
+124
在1个频道中
Get PRO
九月 '23
+92
在0个频道中
Get PRO
八月 '23
+121
在0个频道中
Get PRO
七月 '23
+116
在0个频道中
Get PRO
六月 '23
+77
在0个频道中
Get PRO
五月 '23
+253
在0个频道中
Get PRO
四月 '23
+81
在0个频道中
Get PRO
三月 '23
+49
在0个频道中
Get PRO
二月 '23
+126
在0个频道中
Get PRO
一月 '23
+137
在0个频道中
Get PRO
十二月 '22
+123
在0个频道中
Get PRO
十一月 '22
+209
在0个频道中
Get PRO
十月 '22
+119
在0个频道中
Get PRO
九月 '22
+62
在0个频道中
Get PRO
八月 '22
+40
在0个频道中
Get PRO
七月 '22
+44
在0个频道中
Get PRO
六月 '22
+138
在0个频道中
Get PRO
五月 '22
+42
在0个频道中
Get PRO
四月 '22
+17
在0个频道中
Get PRO
三月 '22
+31
在0个频道中
Get PRO
二月 '22
+28
在0个频道中
Get PRO
一月 '22
+56
在0个频道中
Get PRO
十二月 '21
+112
在0个频道中
Get PRO
十一月 '21
+52
在0个频道中
Get PRO
十月 '21
+112
在0个频道中
Get PRO
九月 '21
+64
在0个频道中
Get PRO
八月 '21
+43
在0个频道中
Get PRO
七月 '21
+63
在0个频道中
Get PRO
六月 '21
+164
在0个频道中
Get PRO
五月 '21
+38
在0个频道中
Get PRO
四月 '21
+60
在0个频道中
Get PRO
三月 '21
+103
在0个频道中
Get PRO
二月 '21
+80
在0个频道中
Get PRO
一月 '21
+211
在0个频道中
Get PRO
十二月 '20
+1 362
在0个频道中
日期
订阅者增长
提及
频道
29 七月+2
28 七月+4
27 七月+9
26 七月+4
25 七月+1
24 七月+7
23 七月+11
22 七月+3
21 七月+5
20 七月+3
19 七月+2
18 七月+3
17 七月+5
16 七月+8
15 七月+10
14 七月+3
13 七月+8
12 七月+4
11 七月+11
10 七月+3
09 七月+6
08 七月+5
07 七月+7
06 七月+4
05 七月+12
04 七月+3
03 七月+3
02 七月+9
01 七月+16
频道帖子
*وفیات مورخہ:جولائی/ 29* 1952ء رشید جہاں۔ ڈاکٹر، ترقی پسند ادیبہ 1968ء عبد المسدوسی احمد۔ علامہ ، 1969ء عندلیب شادانی۔ ڈاکٹر ، ادیب، نقاد 1975ء شمس اکبر آبادی (شمس الدین خان)۔ ، 1980ء صفدر آہ سیاپوری۔ ڈاکٹر، شاعر، نغمہ نگار 1984ء اقبال مرزا غزنوی۔ ، 1985ء عبد الحی۔ مولانا ، 1986ء محمد مسعود احمد چشتی صابری۔ مولانا ، شاہ، محمد 1987ء محمد حسن فاروقی چشتی چشتی نظامی قلندری۔ خواجہ 1988ء شیخ منظور الحق۔ شیخ ، 1992ء عبدالسلام۔ پروفیسر ، 1996ء ارونا آصف علی۔ ماہر تعلیم، مجاہد آزادی 2009ء گایتری دیوی۔ راج ماتا جے پور 2018ء بلال احمد۔ مولانا مفتی 2018ء رقیہ صدیق محمد جعفری۔ ڈاکٹر 2021ء خلیل المیس۔ لبنانی فقیہ ومفتی 2024ء عارف عقیل ۔ سیاست دان (مدھیہ پردیش) https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

2
*خاکوں اور وفیات کا ایک اہم زیر ترتیب اشاریہ* ہمارے پاس وفیات اور خاکوں کی کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ محفوظ ہوگیا ہے، جب ہم نے دس سال قبل اپنے علم و کتاب گروپ پر قارئین کی دلچسپی کے لئے دلچسپ اور نادر خاکوں کو پوسٹ کرنا شروع کیا تھا تو خیال آیا کہ کیوں نہ ان کا اشاریہ بنایا جائے، جس سے خاکوں کی پی ڈیف کتابوں سے استفادہ بھی آسان ہوجائے، اور ان کی افادیت بڑھ جائے۔ جب یہ کام شروع کیا گیا تو پھر خیال آیا کہ خاکوں اور وفیات کے مضامین میں تاریخ وفات کے اندراج کا اہتمام نہیں ہوتا، لہذا اس کا بھی اہتمام کیا جائے، لہذا کسی بڑی منصوبہ بندی کے بغیر اکسل پر تاریخ وفیات اور خاکوں کا ایک بڑا اشاریہ تیار ہوگیا، جس میں ابتک اٹھارہ چھ سو دو (18602) وفیات اور خاکوں کا اندراج ہوچکا ہے۔ اور اس میں روزانہ ترتیب، تدوین اور اضافہ کا سلسلہ جاری ہے، اس کے لئے ہم نے دستیاب خاکوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کتابیں خود سے اسکین کرکے محفوظ کی ہیں، جن میں غیر ملکی اور نئی شائع شدہ کتابیں بھی بہت ساری ہیں۔ اس اشارئے میں ہم نام، لقب، تاریخ، ماہ، سال، مصنف، کتاب کا نام، جلد اور صفحہ کے اندراج کا اہتمام کرتے ہیں۔ جس سے تاریخ، نام، مصنف، کتاب، جلد، اور صفحات کی بنیاد پر بہ آسانی معلومات یکجا مل جاتی ہیں۔ اسی اشارئے سے ہم روازنہ اس دن کی منتخب وفیات کی فہرست پوسٹ کرتے ہیں۔ اس سے جہاں قلم کاروں کو اپنے چہیتی شخصیات پر تازہ مضامین لکھنے خیال آتا ہے، وہیں ہمارے اندراج کی احباب سے تصحیح بھی ہوجاتی ہے۔ چونکہ ابھی یہ اشاریہ مکمل نہیں ہوا، اور نظر ثانی سے نہیں گذرا، لہذا کبھی کسی کی تاریخ وفات میں غلطی نکلتی ہے تو کبھی ایک ہی نام دو تاریخوں میں آجاتا ہے، احباب سے ہماری گذارش ہے کہ اشارئے کی ان لغزشوں پر نظر رکھ کے گروپ ہی میں ہمیں مطلع کرتے رہیں۔ شکریہ عبد المتین منیری اڈمن علم وکتاب
48
3
*سچی باتیں (10؍فروری 1941ء)۔۔۔ مرد وعورت میں فرق* *از : مولانا عبد الماجد دریابادیؒ* (1) دَور حاضر کے ترقی یافتہ مرد اور عورت کے درمیان، تحقیق جدید کے رہ سے، کچھ فرق ہے؟ اگر ہے، تو کس قدر؟ (2) فرق اگر ہے، تو طبعی اور فطری کس قدر، معاشری حالات کی بناپر کس قدر، اور تعلیم وتربیت کی بناپر کس قدر؟ (3) ان طبعی، معاشری، اور رسمی اختلافات میں تخفیف یا اضافہ کی کس حد تک گنجائش ہے؟ تنقیحات پیدا کئے ہوئے کسی جمود پسند مشرقی کے نہیں، عصر حاضر کے ایک نامور سائنٹسٹ اور مشہور ’’روشن خیال‘‘ والحاد نواز باکمال پروفیسر جولین ہکسلےؔ کے ہیں۔ جوابات بھی اُنھیں کے قلم سے ملاحظہ ہوں:- ’’حمل قرار پاتے ہی مرد وعورت دونوں کی بناوٹ الگ الگ شروع ہوجاتی ہے، ’’کروموزوم ‘‘ کی تعداد کے لحاظ سے ، یعنی اُن ذرّات کے لحاظ سے جن کی بابت پچھلے دس سال کی تحقیقات سے ثابت ہوگیاہے کہ وراثت کے حامل اورصفات وامتیازات پیداکرنے والے بھی ہوتے ہیں(Essays in Popular Science P: 620) پھردونوں جنسوں کی ساخت میں، اعضائے جنسی کے فرق سے قطع نظرکرکے جوفرق ہے، وہ چاہے بہت زائد نہ ہو، لیکن بہرحال نمایاں تو ہے (ص: 62) قدوقامت، اعضائے جسم کی بڑائی، ہڈیوں اور بالوں کی تعداد، آواز، سب ہی کچھ ایک جنس کو دوسری سے ممتاز کرتارہتاہے۔ (ص: 62) ۔فنّی تفصیلات چھوڑئیے ، خلاصہ سادہ زبان میں یہ کہ ’’فرق بہت کچھ ہے۔ اتنا زائد کی دونوں جنسوں کے محض مساوات کے کوئی معنی ہی نہیں‘‘۔ (ص: 63) 1923ء میں بورڈ آف ایجوکیشن کی طرف سے کمیٹی مقرر ہوئی تھی ثانوی اسکولوں میں لڑکوں لڑکیوں کے نصاب درس کی تحقیق کے لئے۔ اس کمیٹی کی رپوٹ میں یہ تھا کہ لڑکیوں کے نصاب درس کی تحقیق کے لئے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ میں یہ تھا کہ مرد وعورت کے قوائے دماغی میں بہت ہی کم فرق ہے، لیکن ’’دماغوں پر حاکم تو مزاج ہوتاہے، اور مزاج کے لحاظ سے دونوں جنسوں میں بنیادی فرق نہ صرف آج موجود ہے بلکہ موجود رہے گا صدیوں تک نہیں ہزارہا ہزار ، لاکھون سال تک ‘‘۔ (ص: 63) اتنا ہی نہیں، بلکہ آگے اور سنئے:- ’’میں تو اس پیش گوئی کی جرأت کرتاہوں کہ دونوں جنسوں کے درمیان فرق، رفتار ارتقاء میں ہی نہیں کہ کم نہ ہوگا بلکہ جیسا کہ ماضی میں ہوتارہاہے، اور حال میں جاری ہے، مستقبل میں رسم ورواج کے ذریعہ یہ فرق نمایاں ہوتارہے گا‘‘۔ (ص: 63) ان روشن خیالی پر فخر کرنے والی بہنیں اور بھائی برائے خدا غور کریں، کہ ہم ’’رجعت پسند‘‘ اور ’’جمود پرست‘‘ اس سے زیادہ کچھ بھی کہتے ہیں جتنا اس نامور برطانوی سائنٹسٹ نے کہہ دیاہے؟ اور یہ شہادت کوئی منفرد ہے ؟ کتنی اور شہادتیں، کتنی بار انھیں صفحات میں، دوسرے مشاہیر کی نہیں پیش ہوچکی ہیں۔ تاریخ کے فاضلوں کی، بیالوجی کے ماہرین کی، سوشیالوجی کے محققین کی؟ خلاصہ سب کا یہی کہ مرد اور عورت گو انسانی حیثیت سے مشترک ہیں(اور اسی بنا پر شریعت نے انسانی حقوق دونوںکے یکساں تسلیم کئے ہیں) لیکن دو الگ الگ جنسیں ہیں۔ دونوں کے قویٰ الگ، میلانات الگ، صلاحیتیں جداگانہ۔ اور اسی بناپر دونوں کے میدان عمل ایک دوسرے سے مختلف ، دونوں کے فرائض جداگانہ۔ بچہ کے لئے ماں اور باپ دونوں اپنی جگہ پر بڑی چیز، اوربغیر دونوں کے اشتراک کے بچہ کا وجود ہی نہیں ہوسکتا۔ اور نہ پوری طرح اس کی پرورش۔ تاہم بچہ کا رشتہ باپ سے کتنا مختلف ہوتاہے ۔ ماں کے رشتہ سے ! اس کی توقعات دونوں سے کتنی مختلف ! تجدد جو تقسیم عمل کے اس فطری وطبعی قاعدہ کو مٹادینا چاہتاہے، مرد پر اور عالم انسانیت پر تو ظلم ہی کررہاہے، خود عورت کے حق میں کیسا ناانصاف کیسا نادان دوست ہے! https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
232
4
آج اردو کے مایہ ناز شاعر، ادیب ونقاد عندلیب شادانی کا یوم وفات ہے، آپ کی رحلت مورخہ 28 جولائي 1978ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں آپ کا ایک نادر خاکہ علم وکتاب کی جانب سے پیش کیا جارہا ہے، سماعت فرمائیں۔ https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khakah, Khakah
194
5
آج حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کا یوم وفات ہے، آپ کی رحلت مورخہ 18 جولائي 1974ء کو واقع ہوئی تھی۔ آپ کا شمار برصغیر کے عظیم علماء اور حکیم الامت حضرت تھانوی کے خلفاء میں ہوتا ہے، آپ جامعہ اشرفیہ لاہور میں طویل عرصہ تک شیخ الحدیث رہے، آپ کی تصانیف دینی علوم میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں، جن میں معارف القرآن، سیرت المصطفی، التعلیق الصبیح شرح مشکاۃ المصابیح وغیرہ شامل ہیں۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ایک نادر بیان علم وکتاب کی جانب سے پیش کیا جارہا ہے، لنک حسب ذیل ہے۔ https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=fikr-aakhirat, Fikr Aakhirat
193
6
*وفیات مورخہ:جولائی/ 28* 1934ء ریاض خیر آبادی۔ شاعر 1969ء عندلیب شادانی۔ شاعر 1971ء محمد نصیف ۔ جدہ 1972ء عبد الستار صدیقی۔ ڈاکٹر ، محقق، نقاد 1974ء محمد ادریس کاندھلوی۔ شیخ الحدیث، مولانا ، 1975ء کیف فردوسی (معروف حسین)۔ ، 1980ء محمد اکبر ندوی۔ 1994ء منور الزماں۔ ، 1995ء نعیم الرحمٰن جوہر۔ ، 1996ء ارونا آصف علی۔ مجاہد آزادی 1999ء قیصر الاسلام۔ قاضی 1999ء محمد رضی ۔ علامہ ، سید 2002ء نعیم آروی۔ 2006ء تنویر حسینی۔ شاعر ، سید 2007ء حبیب الرحمان سلطانپوری۔ مولانا، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو 2007ء حسن مثنی علوی۔ ، 2007ء حکیم ناصر(عبدالناصر)۔ 2010ء حلیم بروہی۔ سندھی ادیب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
176
7
اسلامی حکومتیں اور دینی پیشواؤں کی سرپرستی حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللّٰه علیہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس امت نے روئے زمین پر غلبہ و اقتدار کے شرائط پورے کیے، اپنا مطلوبہ کردار ادا کیا تو اسے غلبہ و حکمرانی حاصل ہوئی اور اس نے دنیا کی قیادت کی۔ تاریخ اسلامی میں جو بھی حکومت قائم ہوئی، اس کی بنیاد دعوت الی اللّٰه، عقیدہ و اخلاق کی اصلاح رہی ہے۔ لیکن جب مغربی تہذیب کا دور شروع ہوا اور امت نے اس کے وسائلِ زندگی اور اس کے قائدین کے افکار و خیالات کی تقلید کی اور دعوت الی اللّٰه کا کام چھوڑ کر مادی تہذیب میں غرق ہوگئی تو یہ کمزوری اور زوال کا شکار ہوگئی اور قیادت و سيادت دوسری قوم میں منتقل ہوگئی۔ تاریخ اسلامی کے مختلف ادوار کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب بھی اسلامی حکومت وجود میں آئی تو اس کے قیام میں اقتدار اور اس کے تقاضوں کے درمیان یہی مضبوط ربط و جوڑ کارفرما تھا اور اس کے زوال کا سبب اس کی سستی اور استخلاف فی الأرض کے تقاضوں سے انحراف رہا اور یہ بار بار ہوا ہے، تاریخ کے ہر دور میں عبرت کا سامان موجود ہے۔ تاریخ اسلامی کی یہ عجیب بات ہے کہ ہر وہ حکومت، جس نے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام دیا، اس کا قیام دعوت اسلامی کے سایہ میں ہوا، غلبہ و اقتدار دینی جذبہ ہی کے تحت حاصل ہوا اور زوال اور پستی کا سبب ہمیشہ عیش پسندی اور تمدن کی ریل پیل رہا۔ اس کی مثال اندلس، مصر، بغداد، ہندوستان، ایران اور ترکی ہے، ان ممالک میں عظیم حکومتیں قائم ہوئیں اور صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ حکمران خاندانوں کے فرق سے یہ صورت حال ہر دور میں نظر آتی ہے۔ اسلامی حکومتوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کو یہ معلوم ہے کہ اسلامی حکومت اور غلبہ علماء اور دینی پیشواؤں کی سرپرستی و رہنمائی میں قائم ہوا، جب تک اسلامی حکومتیں علماء دین کی سرپرستی میں رہیں تو طاقت و قوت حاصل رہی، فتوحات اور حکومت کا دائرہ وسیع رہا، لیکن جب علماء اور دینی پیشواؤں کی سرپرستی نہ رہی، مادی ذہن کے حکمران آگے آگئے، علماء کا اثر و رسوخ ختم ہوگیا اور ان کے فتووں کی توہین کی جانے لگی تو اسلامی حکومت کا دائرہ تنگ ہونے لگا، یہاں تک کہ امت مسلمہ اقتدار و قیادت کے منصب سے محروم ہوگئی۔ پوری اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ (پندرہ روزہ: "تعمیرِ حیات"، لکھنؤ، ۲۵ جولائی ۲۰۲٦ء، صفحہ: ۲۵/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) علم و کتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
254
8
پھر میرے ۴ سالہ کارکردگی کے دوران مرحوم سے باربار مرکز جماعت اسلامی ہند میں  اور کبھی کبھی اکیڈمی کے کام سے علی گڑھ کے سفر کے دوران اور اکثر اکیڈمی کی نشستوں میں  ملاقات ہوتی رَہی اوراستفادے کا موقع ملتارہا۔ فریدی صاحب کو انگریزی زبان میں اظہار خیال اورتحریر وتقریرپر پوری قوت حاصل تھی لیکن ان کی خوبیاں اور ان کی قرآن وسنت پر عمیق نظر ان کی اردو کی تحریروں میں  جھلکتی۔ وہ خاصی رواں اور سلیس نثر لکھتے تھے اور بڑے سلیقے سے اظہار خیال کرتے تھے۔ انھوں نے عربی و فارسی کی باضابطہ تعلیم حاصل کی تھی اور دین کے مآخذ سے براہ راست استفادہ پر قدرت رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کے مقالات میں  قرآن وحدیث کے جگہ جگہ حوالے موجود رہتے تھے۔ ضرورت ہے کہ ان کی اردو تحریروں کا ایک جامع انتخاب مرتب کرکے شائع کیاجائے اورزندگی نو کی جوتحریریں ابھی تک کتابی شکل میں  نہیں آئی ہیں انھیں شائع کیاجائے۔ ہمارے حلقے میں  فریدی صاحب کی ذہانت وطباعی اور نکتہ آفرینی کا ہر شخص قائل تھا۔ جسم تو ہلکا پھلکاتھا مگر تحریر بڑی بھاری بھرکم اور قدآور ہوتی تھی۔ بالخصوص معاشیات کے موضوع پر تو وہ اسلامی حلقوں میں  چند منتخب لوگوں میں  شمار کیے جاتے تھے۔ فریدی صاحب سے ایک تعلق ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مجیب الرحمن فریدی کی وجہ سے بھی تھاجو سلطان پور میں  پریکٹس کرتے تھے اور ان کاایک نرسنگ ہوم بھی تھا۔ وہ نہایت بلند اخلاق اور انسانی ہمدردی کے جذبات سے لبریز انسان تھے۔ مجھے بچپن سے جانتے تھے۔ وہ میرے گھریلو معالج تھے اوربڑے نازک مراحل میں  میرے اورمتعلقین کے کام آتے تھے۔ فضل الرحمن فریدی مرحوم اکثر اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے سلطان پور تشریف لے جاتے اور مجھ سے اور حکیم خواجہ اقبال احمد سے باربارملاقات فرماتے اور متعدد تحریکی، دعوتی و علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔ فریدی صاحب کے علمی مرتبے کے علاوہ ان کی ذاتی خوبیاں بے شمار ہیں جن پر ان کا سوانح نگار قلم اٹھائے گا۔ افسوس ہے کہ ہرنازک وپیچیدہ مرحلے میں  ہماری رہنمائی کرنے، ہمیں  ٹوک دینے اور ہمیں  راہ حق وصواب کی طرف موڑدینے والاانسان دنیا سے چلا گیا۔ خدا انھیں ان کی دینی خدمات کااجر عطا کرے اور جنت الفردوس میں  مقام عنایت کرے۔ آمین (زندگی نو اکتوبر ۲۰۱۱ء) علم وکتاب  https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
198
9
پھر موصوف ۱۹۷۸میں  ملک سے باہر چلے گئے۔ ۱۹۸۸ میں  واپسی پر انھوں نے باضابطہ تصنیف و تالیف کے مشغلے کو اختیار کیا، ریڈینس کے مدیر رہے۔ انگریزی زبان میں  اقتصادیات پرکتابیں تحریرکیں جو مکتبہ جماعت اسلامی ہند سے شائع ہوتی رہیں۔ مسلمانوں کے اقتصادی مسائل پر خاص طور سے قلم اٹھاتے رہے۔ ماہنامہ زندگی نو کی ادارت کے دور میں  انھوں نے مسلسل ملک کے سیاسی ومعاشی مسائل پر اظہار خیال کیا۔ بڑی بڑی ملکی و عالمی کانفرنسوں میں  شرکت کی اور مقالات پیش کیے۔ اردو میں  ایک درجن کے قریب کتابیں شائع ہوئیں جن میں  چند نہایت معرکۃ الآرائ موضوعات پر ہیں مثلاً سرمایہ دارانہ نظام ایک چیلنج، دور حاضر کا کرب او اسلام کانظام حیات، عدل کی تلاش، اسلام عالمی امن کانقیب، صنفی تفریق اور اسلام وغیرہ۔ وہ مسلسل تحریک اسلامی کی ذہنی و فکری قیادت کے فرائض ادا کرتے رہے اس کی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ جماعت اسلامی کا ہر فرد ان کے خیالات کے وزن کو محسوس کرتاتھا۔ انھوں نے علی گڑھ کے ادارۂ تحقیق و تصنیف کی اس کے سکریٹری کی حیثیت سے ایک مدت تک رہنمائی کی۔ ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی کا ملک کے ممتاز علمی و فکری ادارے انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز سے بھی گہراتعلق رہا۔ ۱۹۸۷میں  اس کے دہلی میں  قیام کے بعد سے اس کی سرگرمیوں میں  دلچسپی لیتے رہے۔ ۱۹۸۹ سے ۱۹۹۹ تک اس کے جرنل آف آبجکٹیو اسٹڈیز کے مدیر رہے اور اس دوران ۴ کتابیں اس ادارہ کے لیے تحریر کیں۔ ڈاکٹر فریدی مرحوم کا ملک کے اسلامی ذہن و فکر کے نوجوانوں سے گہرا رابطہ تھا۔ جب ایس آئی او قائم ہوئی تو اس کو ملک میں متوازن انداز سے اسلام کی اشاعت اور اپنی تربیت کے پروگرام بنانے میں  رہنمائی کی۔ ان نوجوانوں کی مسلسل ذہنی و فکری رہنمائی کرتے رہے۔ ڈاکٹر فریدی صاحب کی شخصیت سوز وگداز کا مرقع تھی۔ مجھے وہ برابر خطوط لکھتے تھے اور میں  ان سے رہنمائی طلب کرتا تھا اور راہ حق کے سفرمیں  جو مسائل پیش آتے اس پر گفتگو کرتاتھا۔ جب میں  یونیورسٹی کی ملازمت سے سبکدوش ہوا تو ان کے اور پروفیسر عبدالحق کے مشورے سے دہلی آکر تحریکِ اسلامی کی کچھ خدمت انجام دینے کافیصلہ کیا اور ۴ سال تک جماعت کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ ۲۱ اگست ۱۹۹۹ کو انھوں نے اپنے ایک خط میں  علی گڑھ سے مجھے لکھا: ’میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیاہوسکتی ہے کہ بالآخرآپنے تحریکِ اسلامی کی براہِ راست خدمت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس عزم پر قایم رکھے۔ میں  جب آپ جیسے حضرات کو قافلے سے دور دیکھتا ہوں تو بس آنسو بہاکرچپ ہوجاتا ہوں اور دلوں کے بدلنے والے پروردگار سے دعا کرتاہوں کہ آپ کو پھر اس قافلے سے جوڑدے جس کے ساتھ سفر نے آپ کی اور ہماری شخصیت کی آبیاری کی ہے۔ بحمدللہ ابن فرید تو جلد ہی لوٹ آئے مگر آپ کی راہ تکتے تکتے ایک زمانہ گزر گیا۔ تصنیفی اکیڈمی کا قیام انشائ اللہ دوچار مہینوںمیں  ہوجائے گا۔ لیکن شخصی طورپر آپ کام فوراً شروع کرسکتے ہیں۔ تفصیلات مرتب کرنے کے لیے اور باہمی مشورے کے لیے ہروقت ملاقات کے لیے حاضرہوں جب چاہیں علی گڑھ تشریف لاسکتے ہیں یا پھر دہلی میں  امیر جماعت اور غلام اکبر صاحب سے مل سکتے ہیں۔ ۱۱ستمبر کو میرٹھ جانا ہے اگر آپ کے لیے ممکن ہوتو میرٹھ آجائیں وہاں محترم حفیظ میرٹھی کی بھی زیارت ہوجائے گی اور تفصیلی بات چیت بھی یا پھر علی گڑھ تشریف لائیں‘‘  فضل الرحمن فریدی پھر۲۹ستمبر۱۹۹۹کودوسرا خط ملا جو میرے خط کے جواب میں  تھا جس میں  میں  نے تحریک کے اندر منصوبہ بندی کی کمی کا ذکر کیا تھا۔ لکھتے ہیں: ’آپ کے خط سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہاہے۔ بھئی اگر ہم لوگوں کے معاملات اتنے متعین اور خطوط کار اتنے واضح ہوتے جن کی آپ کو توقع تھی تو ہمارا حال وہ نہ ہوتا۔ یہ تو پوری ملت اسلامیہ کا حال ہے کہ عزائم اور دعوے تو بہت ہی اعلیٰ اور رفیع الشان ہوتے ہیں لیکن راستہ نہ معلوم ہوتا ہے اور نہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آپ کا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس خاکے میں  رنگ بھریں۔ آپ اور ہم صرف مصنف یا کارکن نہیں ہیں جو پہلے سے طے شدہ اسکیموں پر عمل کرنے لگ جائیں۔ ہمیں  توتحریک کی مدد دونوں صورتوں سے کرنا ہے۔ راستہ سجھانابھی ہے اور اس پر چلنا بھی ہے۔ میری نظر میں  آپ کا مقام یہی ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس مشکل میں  تحریک سے تعاون کریں۔ انشاء اللہ ہم لوگ تصنیفی اکیڈمی کاخاکہ تیارکرلیںگے۔ تھوڑا سا صبر سے کام لیں۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں  چلنے کے لیے صبر سب سے اہم زاد راہ ہے۔اس درمیان میرا مشورہ یہی ہے کہ چند اہم موضوعات منتخب کرکے اُن پر لکھنا شروع کردیں۔ میں  امیر جماعت اور کوثریزدانی صاحب دونوں کو خط بھی لکھوںگا اور تفصیلی گفتگو بھی کروںگا اور ان کے نتائج سے آپ کو باخبر رکھوںگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کا عزم نہ صرف برقرار رکھے بلکہ اس کو مزید استحکام بخشے۔ آپ کا بھائی فضل الرحمن فریدی۔‘
159
10
فریدی صاحب اُدھر ثانوی درس گاہ سے فارغ ہوکر آگرہ کے ایک کالج میں  لیکچرر ہوکر چلے گئے اور میں  لکھنؤ یونیورسٹی سے فرصت پاکر ۱۹۵۷میں  رام پور پہنچا۔ رام پور اس وقت تحریک اسلامی کی وجہ سے اہل علم و قلم کاایک بڑا مرکز بن گیاتھا۔ ادارۂ ادب اسلامی ہند اسی زمانے میں  اپنے نئے دستور کے مطابق منظم ہوا۔ ابن فرید اس کے صدر اور خاکسار اس کے سکریٹری مقرر کیے گئے۔ فریدی صاحب اور نجات اللہ صدیقی اس کے اساسی ارکان میں  تھے۔ ۱۹۵۸ میں  یہاں سے ادارہ کا ترجمان ماہنامہ دانش جاری ہوا۔ اس کے حلقہ ادارت میں  ابن فرید کے علاوہ سید احمد عروج قادری، سید زین العابدین بھی شامل تھے۔ فریدی صاحب اس مجلہ کو برابر اپنے مشوروں سے نوازتے۔ ان دنوں جب وہ چھٹیوں میں  گرما میں  جونپور آتے تو یہ خاکسار اکثر اپنے وطن ٹانڈہ سے جونپور جاتا اور کئی دن ان کے ساتھ قیام کرتا۔ ان کے والد محترم بے حد خوش مزاج اوروسیع الظرف تھے۔ جونپور کے تمام تاریخی مقامات ہم لوگوں کے زیر پاتھے۔ جمیل احمد فاروقی اردو کے ایک ممتاز نقاد جونپور میں  ہم لوگوں کی خوب تواضع کرتے۔ اسی زمانے میں  فریدی صاحب کی ردولی میں  شادی ہوئی تو ہم سب احباب ان کی بارات میں  شریک تھے۔ راستے بھر تحریکی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ میری ثانوی درس گاہ کے قیام کے دوران فریدی صاحب اپنے خطوط میں  مجھے برابر علمی مشورے دیتے رہے۔ ان کی قرآن حکیم پر نظر گہری تھی۔ رام پور میں  میں  نے اسلامک یوتھ آرگنائزیشن قایم کی اس کی ماہانہ نشستیں بڑے اہتمام سے ہوتی تھیں۔ فریدی صاحب آگرہ سے برابر اس کے سلسلے میں  مشوروں سے نوازتے۔ ۱۹۶۰ میں  میرا ایک سال مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ میں  قرآن کے مطالعے کے سلسلے میں  قیام رہا۔ فریدی صاحب اور نجات صاحب ہم احباب کو برابر تعلیمی مشورے دیتے رہے۔ پھر میں  چند دن کے لیے دہلی میں  دعوت کے ادارتی شعبے میں  جناب محمد مسلم صاحب کی طلب پر گیا مگر فریدی صاحب کی رائے تھی کہ میرا ایم اے کرنا ضروری ہے چنانچہ میں  نے گورکھپور یونیورسٹی میں  انگریزی میں  ایم اے کے لیے داخلہ لیا۔ ۱۹۶۰میں  فریدی صاحب علی گڑھ میں  بحیثیت لیکچرر شعبہ معاشیات آچکے تھے۔ میں  چھٹیوں میں  علی گڑھ جاتارہا اور فریدی صاحب کے دولت کدے پر قیام ہوتا رہا۔ ابن فریدصاحب بھی علی گڑھ میں  تھے اور نجات صاحب و عرفان صاحب بھی وہیں تھے۔ یہ لوگ علم وفکر کا محور تھے اور مجھے نئے نئے موضوعات اور مسائل پر مطالعہ کرنے اور لکھنے کی تحریک ان کی وجہ سے ہوئی۔ اب ادارۂ ادب اسلامی کامرکز فیض آباد کا شہر ٹانڈا بن چکاتھا جہاں اس کے نئے صدر مختار احمد مظاہری تھے جنھوںنے ۱۹۶۷میں  ماہنامہ دوام کے اجرا کا فیصلہ کیا۔ ۱۹۶۳میں  جب ریڈینس دہلی سے شائع ہوا تو مجھے مرحوم یوسف صدیقی نے طلب کیا۔ فریدی صاحب کی بھی رائے تھی کہ میں  انگریزی صحافت کے شعبے میں  داخل ہوں۔ میں  ایک سال ریڈینس کی خدمت انجام دیتا رہا۔ اس وقت جماعت اسلامی ہند کا مرکز رام پور سے دہلی آچکاتھا۔ فریدی صاحب علی گڑھ سے برابر مختلف نشستوں میں  شرکت کے لیے دہلی آتے رہے اور سوئی والان کے دفتر میں  قیام ہوتا رہا۔ مگر ایک سال بعد میں  نے محسوس کیاکہ صحافت میرا اصل میدان کار نہیں ہے اور میں  فیض آباد ایک کالج میں  لیکچرر ہوکر چلاگیا۔ دوام کے اجرا کے بعد مرحوم سے برابر مشورے حاصل ہوتے رہے۔ مسلم مجلس کے ساتھ میری سرگرمیوں پر فریدی صاحب خوش نہ تھے اور سیاست سے الگ رہنے کے جماعت کے فیصلے پر مطمئن تھے۔ پھر بھی بڑے اجتماعات میں  مرحوم سے برابر ملاقات ہوتی رہتی۔ وہ مجھے بعض تحریروں پر ٹوکتے اور فہمائش بھی کرتے رہے۔ مگر ادارہ ادب اسلامی ہند کے تعلق سے ہم لوگ شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ انہوں نے دوام بند ہونے اور مختار احمد خاں کی طویل علالت کے سبب ادارۂ ادب کے جمود کو ختم کرنے کے لیے ۱۹۷۷ میں  علی گڑھ میں  ایک نشست طلب کی اور ادارے کے تمام ذمہ داروں کو مدعو کیا۔ کافی گفت و شنید ہوئی۔ نسیم مرحوم اور مجھے اس کی تنظیم نو کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ایک ترجمان کے اجرا کا بھی فیصلہ ہوا جس کی فریدی صاحب نے مالی ذمہ داریاں سنبھالنے کاوعدہ کیا۔ فریدی صاحب کے تعاون سے نمائندہ نئی نسلیں کا اجرا ہوا۔
135
11
فضل الرحمن فریدی:کچھ نئی کچھ پرانی یادیں ڈاکٹر سید عبد الباری (ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی کی وفات ۲۷ جولائی ۲۰۱۱ء کو واقع ہوئی تھی)   اپنے ایک قدیم ترین بزرگ دوست کوکھوکر میں  یہ محسوس کررہاہوں کہ اقامت دین کے لیے صبر آزما جدوجہد کرنے والوں کی راہ مُشکل ہوگئی ہے اور شاید ہمارا جدا ہونے والا ہم سفر کام ادھورا چھوڑکر چلاگیا۔ لیکن جب میں  مستقبل پر نگاہ ڈالتاہوں تو اس رفیق کے خون جگر کے طفیل شاہراہ فکروعمل روشن نظر آتی ہے اور ہمیں  اپنی منزل مقصود تک رسائی آسانی نظر آرہی ہے۔ فضل الرحمن فریدی سے ۱۹۵۲سے اس وقت تک یعنی ۵۹ سالہ رفاقت کی بے شمار دلکش گھڑیاں ذہن میں  تازہ ہورہی ہیں۔ ہماری پہلی ملاقات الٰہ آباد میں  اس وقت ہوئی جب میں  ہائی اسکول کاطالب عِلم تھا اور فریدی صاحب الٰہ آباد یونیورسٹی سے معاشیات میں  ایم اے کررہے تھے۔ احمدزکریا علوی اور حسّان کلیمی ان کے قریبی دوستوں میں  تھے۔ الٰہ آباد کے محلہ شاہ گنج میں  الانصاف کے دفتراور صاحب الانصاف محمد اسحاق مرحوم کے دولت خانے پر محفلیں آراستہ ہوتیں۔ الانصاف نام کا ہفت روزہ اس وقت تحریک اسلامی کا واحد ترجمان تھا، جو محمد اسحاق صاحب کی ادارت میں  شائع ہوتاتھا۔ اس وقت الٰہ آباد میں  تحریک اسلامی کے ذہین طباع مخلص اور سرگرم عمل افراد کی ایک انجمن آراستہ تھی جن میں  نمایاں محمد اکرام، سعید احمد صدیقی، ڈاکٹر افتخار ، سہیل احمدزیدی، مولوی محمد مشتاق وغیرہ تھے۔ درس قرآن کی مجلسیں اور شعرو ادب کی محفلیں آراستہ ہوتی تھیں۔ اس وقت کا الٰہ آباد مجھے خلد کاایک گوشہ محسوس ہوتا۔ میرے مربی و چچا سید عبد الوافی وہاں ریلوے میں  اسٹیشن ماسٹر تھے اور میں  اکثر چھٹیاں ٹانڈا سے الٰہ آباد جاکر گزارتا۔ فریدی صاحب کی ذہانت سے لبریز اور متحرک وسیماب پا شخصیت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ وہ تھے تو معاشیات کے طالب علم لیکن زبان و ادب کا بڑا لطیف ذوق رکھتے تھے۔ مدیرالانصاف محمد اسحاق اور دیگر اصحاب قلم اورداعیان حق سے ان کے قریبی روابط تھے۔ خاص طورپر حسّان کلیمی اور علوی صاحب ان کے قریبی احباب میں  تھے۔ ۱۹۵۲ میں  ان لوگوں کی ایک محفل میں  مسلم بورڈنگ ہائوس میں  مجھے شرکت کا موقع ملا۔ پھر فرید ی صاحب ۱۹۵۲میں  ایم اے کرنے کے بعد رام پور ثانوی درس گاہ میں  چلے گئے اور میں  تعلیم کے اگلے مراحل کے لیے لکھنؤ میں  پہلے اپنے چچا سید عبدالکافی کے ساتھ جاکر مقیم ہوا پھر جماعت اسلامی لکھنؤ کے دفتر واقع بارود خانہ مولوی گنج میں  مرحوم رشید کوثر فاروقی کے ساتھ قیام پذیر رہا اور بی اے کی تعلیم مکمل کرلی۔ اس دوران لکھنؤ طرح طرح کی علمی وادبی سرگرمیوں کامرکز تھا۔ ابوالمجاہد زاہد، رشید کوثر فاروقی، احمد حسین انصاری، اکبر زمزم اور ان سب کے سرپرست م نسیم نے اشتراکی ترقی پسندوں کے بالمقابل ادارۂ ادب اسلامی کاپرچم بلندکررکھاتھا۔ ہر ماہ بڑی دھوم دھام سے ادبی نشستیں ہوتیں جن میں  لکھنؤکے نوجوان لکھنے والے شرکت کرتے۔ ماہنامہ نئی نسلیں آب و تاب سے شائع ہوتا۔ میں  نے یونیورسٹی اور شہر کے اسلام پسند نوجوانوں کو ایک رشتے میں  پروکر اسلامک اسٹڈی سرکل قایم کی تھی۔ اس کی بھی نشستیں ہوتیں۔ فریدی صاحب رام پور جاتے اور وہاں سے آتے ہوئے لکھنؤ میں  ضرور قیام کرتے اور اکثر میں  ان کامیزبان ہوتا۔ ان کے درس قرآن اور خطابات میں  بڑی تازگی، دلکشی اور گداز ہوتا۔ مولانا عبدالغفار ندوی جو امیر حلقہ اور شہر کی اکثر علمی و ادبی شخصیتوں کے لیے باعث کشش تھے، ہم لوگوں کے سرپرست تھے۔ فریدی صاحب ا ن سے بے حد قریب تھے۔ مولانا کاوطن جونپور کے قریب قصبہ شاہ گنج میں  تھا۔ وہ دل کھول کر تحریک کے نوجوانوں کی مدارات کرتے۔ یہی حال م نسیم کا بھی تھا جو فریدی صاحب اور رام پور و علی گڑھ کے دیگر نوجوانوں نجات اللہ صدیقی اور عرفان احمد صاحبان کے لیے بے حد وجہ کشش تھے اور دینی و ادبی کاوشوں سے لوگوں کو مسحور کرلیتے۔ پھر ان کی حضرت گنج کے کافی ہائوس اور یحییٰ گنج میں  دفتر نئی نسلیں میں  مدارات اور دلکش گفتگوئوں کی وجہ سے لکھنؤ ایک ایسا محور بن گیاتھا جسے دوران سفر نظر انداز کرنا مشکل تھا۔
154
12
*وفیات مورخہ:جولائی/ 27* 1966ء راجہ مہدی علی خان۔ شاعر 1968ء شوکت ہارون،۔ ڈاکٹر ، لیڈی 1971ء عبد الباقی رسول پوری مبارکپوری۔ 1971ء عبد الحفیظ بلیاوی (ابو الفضل)۔ مولانا ، مصنف مصباح اللغات 1971ء عبید اللہ بلیاوی۔ مبلغ جماعت تبلیغ 1980ء محمد اکبر ندوی۔ مولانا ، 1983ء مفسر الحق۔ ، 1986ء نثار احمد علوی کاکوروی۔ حکیم ، 1987ء سالم علی (سالم معزالدین عبد العلی)۔ 1988ء یونس خان۔ ، 1990ء شایاں بریلوی (سید تعظیم علی نقوی)۔ ، 1990ء عبدالعزیز انصاری۔ ، 1997ء الیاس احمد گدی۔ افسانہ نگار 2011ء فضل الرحمٰن فریدی۔ ماہر معاشیات، پروفسیر علی گڑھ یونیورسٹی 2015ء اے پی جی عبد الکلام۔ صدر جمہوریہ ہند 2020ء نسیم احمد اللہ والا۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
207
13
21_صور_من_حياة_الصحابة_عبد_الله_بن_عباس_مع_التمارين.pdf
212
14
21 عبدالله بن عباس.mp3
216
15
اهولز. عربستان
311
16
没有文字...
313
17
انڈیا میں سٹوڈنٹس کے احتجاج میں بکثرت پڑھی جانےوالی مرحوم مولانا عامر عثمانی مدیر تجلی دیوبند کی ایک خوبصورت نظم آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے​ آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے​ جبر و سفاکی و طغیانی کا باغی ہوں میں نشئہ قوّتِ انسان کا باغی ہوں میں​ جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون ظلم و عدوان کی ٹکسال میں ڈھالے قانون​ تشنگی نفس کے جذبوں کی بجھانے کے لئے نوع انساں کے بنائے ہوئے کالے قانون​ ایسے قانون سے نفرت ہے عداوت ہے مجھے ان سے ہر سانس میں تحریک بغاوت ہے مجھے​ تم ہنسو گے کہ یہ کمزور سی آواز ہے کیا جھنجھنایا ہوا، تھرّایا ہوا ساز ہے کیا​ جن اسیروں کے لیے وقف ہیں سونے کے قفس ان میں موجود ابھی خواہشِ پرواز ہے کیا​ آہ! تم فطرتِ انسان کے ہمراز نہیں میری آواز، یہ تنہا میری آواز نہیں​ ان گنت روحوں کی فریاد ہے شامل اس میں سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئی دل اس میں​ تہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اس میں​ اس کی یلغار مری ذات پہ موقوف نہیں اسکی گردش میرے دن رات پہ موقوف نہیں​ ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو خوار و رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو​ اپنی قہار خدائی کی نمائش کے لئے مجھے نذرِ رسن و دار تو کر سکتے ہو​ تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟ جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں​ آہ یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر آدمی نادر و چنگیز تو بن سکتا ہے​ ظاہری قوت و سطوت کی فراوانی سے لینن و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے​ سخت دشوار ہے انسان کا مکمّل ہونا حق و انصاف کی بنیاد پہ افضل ہونا​ ( عامرؔ عثمانی)
326
18
بی_بی_سی_کا_مشہور_پروگرام_شاہین_کلب_تاریخ_نشریہ_01_اپریل_1986_قسط.mp3
353
19
آج سحاب قزلباش کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 26- جولائي 2004ء کو ہوئی تھی، لکھنو کے ایک علمی وادبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، آپ ایک بہترین شاعرہ اور نثر نگار تھیں، لیکن آپ کی شہرت بی بی سی اردو کے بچوں کے مقبول پروگرام شاہین کلب کی سلطانی باجی کی حیثیت سے زیادہ ہوئی۔ اس پروگرام کے دیگر کرداروں میں میں رضاعلی عابدی، محمد علی شاہ (سدو بھائی) شامل تھے۔ احباب کی دلچسپی کے لئے آج سے چالیس سال پرانا مورخہ یکم اپریل ۱۹۸۶ء کے شاہین کلب کی نادر ریکارڈنگ پیش خدمت ہے۔ عبد المتین منیری 2026-07-26
361
20
*وفیات مورخہ:جولائی/ 26* 1405ء اشرف جہانگیر سمنانی۔ صوفی بزرگ 1967ء مائل تھانوی (قاضی محمد مکرم)۔ ادیب 1980ء ابن صفی ( اسرار احمد )۔ جاسوسی ناول نگار 1982ء خدیجہ مستور۔ ادیب 1983ء جہانگیرہ بیگم۔ نواب زادی ، 1988ء فضل الرحمن ملک۔ 2001ء شوکت رضا مرزا۔ ، 2001ء معین الدین۔ ، 2004ء سحاب قزلباش (سلطانہ قزلباش)۔ ادیب، بروڈکاسٹر ، 2008ء انوکھا، ملک (ملک اکبر عباسی)۔ ، 2012ء میرزا اختیار حسین کیف نیازی۔ ڈاکٹر ، 2013ء عبید صدیقی۔ بانی ڈائرکٹر ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسراچ 2014ء مجید نظامی۔ مدیر نوائے وقت لاہور 2024ء آفتاب اقبال شمیم۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
333