علم و کتاب
前往频道在 Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
显示更多8 098
订阅者
无数据24 小时
+457 天
+9930 天
数据加载中...
吸引订阅者
六月 '26
六月 '26
+98
在0个频道中
五月 '26
+228
在1个频道中
Get PRO
四月 '26
+163
在1个频道中
Get PRO
三月 '26
+62
在2个频道中
Get PRO
二月 '26
+89
在1个频道中
Get PRO
一月 '26
+95
在2个频道中
Get PRO
十二月 '25
+81
在0个频道中
Get PRO
十一月 '25
+109
在1个频道中
Get PRO
十月 '25
+105
在1个频道中
Get PRO
九月 '25
+119
在1个频道中
Get PRO
八月 '25
+173
在2个频道中
Get PRO
七月 '25
+151
在2个频道中
Get PRO
六月 '25
+140
在2个频道中
Get PRO
五月 '25
+95
在1个频道中
Get PRO
四月 '25
+105
在0个频道中
Get PRO
三月 '25
+153
在2个频道中
Get PRO
二月 '25
+131
在1个频道中
Get PRO
一月 '25
+278
在1个频道中
Get PRO
十二月 '24
+403
在0个频道中
Get PRO
十一月 '24
+500
在2个频道中
Get PRO
十月 '24
+487
在1个频道中
Get PRO
九月 '24
+322
在0个频道中
Get PRO
八月 '24
+322
在3个频道中
Get PRO
七月 '24
+323
在4个频道中
Get PRO
六月 '24
+341
在0个频道中
Get PRO
五月 '24
+331
在1个频道中
Get PRO
四月 '24
+300
在3个频道中
Get PRO
三月 '24
+265
在1个频道中
Get PRO
二月 '24
+321
在1个频道中
Get PRO
一月 '24
+403
在3个频道中
Get PRO
十二月 '23
+376
在0个频道中
Get PRO
十一月 '23
+132
在0个频道中
Get PRO
十月 '23
+124
在1个频道中
Get PRO
九月 '23
+92
在0个频道中
Get PRO
八月 '23
+121
在0个频道中
Get PRO
七月 '23
+116
在0个频道中
Get PRO
六月 '23
+77
在0个频道中
Get PRO
五月 '23
+253
在0个频道中
Get PRO
四月 '23
+81
在0个频道中
Get PRO
三月 '23
+49
在0个频道中
Get PRO
二月 '23
+126
在0个频道中
Get PRO
一月 '23
+137
在0个频道中
Get PRO
十二月 '22
+123
在0个频道中
Get PRO
十一月 '22
+209
在0个频道中
Get PRO
十月 '22
+119
在0个频道中
Get PRO
九月 '22
+62
在0个频道中
Get PRO
八月 '22
+40
在0个频道中
Get PRO
七月 '22
+44
在0个频道中
Get PRO
六月 '22
+138
在0个频道中
Get PRO
五月 '22
+42
在0个频道中
Get PRO
四月 '22
+17
在0个频道中
Get PRO
三月 '22
+31
在0个频道中
Get PRO
二月 '22
+28
在0个频道中
Get PRO
一月 '22
+56
在0个频道中
Get PRO
十二月 '21
+112
在0个频道中
Get PRO
十一月 '21
+52
在0个频道中
Get PRO
十月 '21
+112
在0个频道中
Get PRO
九月 '21
+64
在0个频道中
Get PRO
八月 '21
+43
在0个频道中
Get PRO
七月 '21
+63
在0个频道中
Get PRO
六月 '21
+164
在0个频道中
Get PRO
五月 '21
+38
在0个频道中
Get PRO
四月 '21
+60
在0个频道中
Get PRO
三月 '21
+103
在0个频道中
Get PRO
二月 '21
+80
在0个频道中
Get PRO
一月 '21
+211
在0个频道中
Get PRO
十二月 '20
+1 362
在0个频道中
| 日期 | 订阅者增长 | 提及 | 频道 | |
| 14 六月 | +2 | |||
| 13 六月 | +3 | |||
| 12 六月 | +13 | |||
| 11 六月 | +14 | |||
| 10 六月 | +5 | |||
| 09 六月 | +6 | |||
| 08 六月 | +13 | |||
| 07 六月 | +5 | |||
| 06 六月 | +4 | |||
| 05 六月 | +12 | |||
| 04 六月 | +1 | |||
| 03 六月 | +4 | |||
| 02 六月 | +7 | |||
| 01 六月 | +9 |
频道帖子
وہ دارالمصنفین کے رکن تھے، اور استاذ مرحوم کی نسبت سے اس سے بڑی دلچسپی رکھتے تھے، ان کی فرمایش سے ہمارے فاضل رفیق مولانا عبدالسلام صاحب ندوی نے امام رازی کی سوانح عمری اور ان کے فلسفہ پر تبصرہ کا کام انجام دیا، میں نے مناسب سمجھا کہ اس پر مرحوم سے ایک مقدمہ لکھوایا جائے جس میں امام رازی کے فلسفہ کو یورپ کے فلسفیوں کی نگاہ سے دیکھا جائے، اور موازنہ کیا جائے، افسوس کہ ان کی موت سے یہ کام بھی ناتمام رہ گیا۔
مرحوم کا بچپن مذہبی وصوفیانہ ماحول میں گذرا تھا، اس لئے باایں ہمہ ان پر یہ اثر غالب تھا، طالب علمی ہی میں حضرت مولانا شاہ ابو احمد صاحب مخدومی بھوپالی (مرید شاہ عبدالغنی صاحب مجددی مہاجر) سے لکھنؤ میں بیعت کی تھی، جو اس وقت اتفاق سے لکھنؤ آگئے تھے، اور میں نے بھی ملّامبین کی مسجد میں ان کی زیارت کی اور بھوپال میں تو کئی دفعہ حاضری کا اتفاق ہوا، چونکہ میرے بڑے بھائی صاحب مرحوم بھی انہی سے بیعت تھے، اور خلافت سے ممتاز تھے، اس لئے مرحوم ضیاء الحسن سے میری محبت کی نسبت میں اس نئے رشتہ سے اور مضبوطی پیدا ہوگئی تھی، حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد مرحوم نے حضرت شاہ نجم الدین صاحب فتح پوری سے تعلق پیدا کیا جن سے وہ بچپن سے واقف تھے، کیونکہ دارالعلوم ندوہ کا افتتاح انہی کے مبارک ہاتھوں سے ہوا تھا، ان کی وفات کے بعد ایک اور بزرگ کی طرف انہوں نے رجوع کیا، جو غالباً کہیں آگرہ کے قریب کے تھے، مولانا شاہ ابوالخیر صاحب مجددی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں بھی کبھی کبھی حاضری دی ہے، ذکر و فکر و اشغال میں بھی مصروف رہتے تھے، اور ان کے برکات دوستوں میں کبھی کبھی بیان کرتے تھے۔
افسوس کہ میرے تعلیمی عہد محبت کا یہ نخل بارآور عمر کی ستاون بہاریں دیکھ کر اب ہمیشہ کے لئے مرجھا گیا، حضرۃ الاستاذ نے بھی عمر اتنی ہی پائی تھی، ستاون برس کی عمر کے حساب سے ۱۸۸۸ء یا ۱۸۸۹ء کی پیدائش ظاہر ہے۔
وکنا کندمانی جذیمۃ حبقۃ
من الدھر حتی قیل لن یتصدعا
ہم دونوں ایک مدت تک بادشاہ جذیمہ کے دو مصاحبوں کی طرح ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ کہا گیا کہ اب یہ الگ نہ ہوں گے۔
فلما تفرقا کانی ومالکا
بطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا
پھر جب ہم الگ ہوگئے، میں نے اور مالک نے طول اجتماع کے ہوتے ہوئے بھی گویا ہم نے ایک رات بھی ایک ساتھ نہیں گذاری۔
مرحوم کی دو شادیاں ہوئی تھیں، پہلی بیوی سے ایک لڑکا اور لڑکی، دونوں بالغ ہیں لڑکے کا نام حسن ہے، جو امسال بی۔ اے، بی۔ ٹی ہوئے ہیں، اور ادبی ذوق میں اپنے باپ کی یادگار ہیں۔ دوسری بیوی سے چند بچے ہیں، اور سب چھوٹے اور کم سن۔
اللہ تعالیٰ مرنے والے کی قبر پر رحمت کے پھول برسائے۔
| 2 | مرحوم کو اردو ادب کا ذوق فطرۃً تھا، گھر کا ماحول مشاہیر نظم و نثر کی ان کے ہاں آمدورفت، پیارےؔ صاحب رشید اور مرزا رسوا جیسے نظم و نثر کے ادیبوں سے ان کے خاندانی مراسم تھے، اور پھر بچپن سے لکھنؤ کی سکونت، ان سب کا اثر یہ تھا، کہ وہ اردو روزمرہ کے جان دادہ تھے، شعر بھی کہتے تھے، مگر صرف اپنے لئے، علمی مضامین توحضرۃ الاستاذ مرحوم کی پیروی میں لکھتے تھے، مگر عام انداز تحریر شوخ و شگفتہ روزمرہ کی بول چال کا تھا۔
مرحوم کا پہلا مضمون ’’صحت اور عمر کی درازی‘‘ ہے، جو المقطف مصر کے ایک مضمون کا ترجمہ تھا، اور رسالہ الندوہ ۱۹۰۵ء میں چھپا، اس کے بعد دوسرے مضامین لکھے، جوالندوہ ہی میں چھپائے کیے، ان کا ایک ابتدائی ادبی مضمون اردوئے معلی علی گڑھ میں چھپا، خواجہ غلام الثقلین ان دنوں دارالعلوم کے پاس ایک مکان میں رہتے تھے اور اسلامی کانفرنس کے صیغۂ اصلاح و تمدن کے سکریٹری تھے، اور اس تعلق سے وہ عصر جدید نام ایک ماہانہ رسالہ نکالا کرتے تھے، خواجہ صاحب کے تقاضے اور اصرار سے اس میں بہت سے اصلاحی مضمون لکھے، اور وہ چھپے۔
مرحوم نے عربی سے فراغت پاکر انگریزی کی طرف توجہ کی، جس کا آغاز لکھنؤ میں ہوچکا تھا۔ مگر انجام علی گڑھ میں ہوا، ۱۹۰۹ء میں وہاں سے میٹرک پاس کیا، حضرۃ الاستاذ نے مبارک باد لکھی۔
’’مبارک، تمھارے پاس ہونے سے بے حد خوشی ہوئی، اور تمھاری نسبت حسن ظن بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔ اب تم ضرور کالج میں پڑھوگے، الندوہ میں تم پر نوٹ دوں گا‘‘۔
۱۹۰۹ء میں وہ کالج میں داخل ہوئے، اور ۶ برس میں ایم اے تک تعلیم پائی، اس زمانہ میں عربی کے پروفیسر یوسف ہارویز نام ایک جرمن فاضل تھے، جنھوں نے طبقات ابن سعد کے بعض اجزا کی تصحیح کی، اور جو علی گڑھ میں ۱۹۱۴ء کی گذشتہ جنگ عظیم کے شروع تک رہے، اور اس کے آغاز ہی میں قید ہو کر بعد کو جرمنی واپس چلے گئے تھے، مرحوم کالج میں پہنچ کر ان کے حلقہ میں داخل ہوئے،اور ان پر ایسے چھائے کہ ان کے جزو کل پر حاوی ہوگئے، اُن سے مستشرقین کے معلومات حاصل کیے، کچھ جرمن زبان اور کچھ عبرانی زبان کے سبق پڑھے، مولانا شبلی اور پروفیسر ہارویز کے درمیان ربط و ضبط کا واسطہ مرحوم ہی تھے۔
۱۹۱۶ء میں غالباً انھوں نے ایم اے پاس کیا، اس وقت یوپی کی گورنمنٹ عربی مدارس کی نگرانی کے لئے ایک انسپکٹر کے تقرر پر غور کررہی تھی، مرحوم سے بڑھ کر اس کام کے لئے دوسرا موزوں نہیں ہوسکتا تھا، وہ ایک طرف ٹھیٹھ مولوی اور دوسری طرف ممتاز گریجویٹ تھے، چنانچہ ۱۹۱۷ء میں وہ عربی مدرسوں کے انسپکٹر مقرر ہوئے، اور اسی عہدہ پر آخر تک قائم رہے، ابھی اسی جولائی میں وہ قید ملازمت سے چھوٹنے والے تھے، کہ اس سے چند روز پہلے قید حیات ہی سے آزاد ہوگئے۔
مرحوم نے عربی نصاب، اور اردو فارسی اور عربی کے سرکاری امتحانات کی اصلاح اور ترقی میں بہت بڑا کام کیا ہے۔ جب وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے تو نام کے سوا اس صیغہ میں کچھ اور نہ تھا، لیکن انہوں نے چند برس کے اندر اپنی محنت، لیاقت، اخلاق اور محبت سے چالیس پینتالیس مدرسوں کو اپنا ہمنوا بنالیا اور اصلاح نصاب کا وہ خاکہ جو استاذ مرحوم صرف ندوہ کی حد تک کھینچ سکے تھے ان کے لائق شاگرد کے ہاتھوں وہ پورے صوبہ کے دائرہ میں وسیع ہوگیا۔
مرحوم کو کتابوں کا بہت شوق تھا، وہ خود بھی ہر قسم کی علمی کتابیں عربی اور انگریزی کی خریداری کرتے تھے، ان کا مطالعہ برابر جاری رہتا تھا، اور اہل علم دوستوں سے مسائل علمیہ پر مباحثہ کرتے تھے۔
ان کی علمی یادگار وہ چند ابتدائی مضامین ہیں جو الندوہ میں چھپے، یا اسلامی جہازوں پر ان کا وہ مضمون ہے، جو ۱۹۱۰ء کے قریب علی گڑھ منتھلی میگزین میں چھپا، اور حضرت الاستاذ کی پسند سے انعام کا مستحق ہوا، اسی طرح عصر جدید کے اصلاحی مضامین بھی ہیں، جو کبھی ان کے نام سے اور کبھی بے نام چھپے، آخر میں ان کا طویل مضمون جو ’’یاد ایام‘‘ کے عنوان سے جدید الندوہ میں ۱۹۴۱ء کے آٹھ نو نمبروں میں شائع ہوا تھا ذکر کے قابل ہے، یہ گویا ان کی آپ بیتی ہے جس میں جگ بیتی کے بہت سے دلچسپ مناظر شامل ہیں، اس مضمون میں لکھنؤ کی زبان کا مزہ اور روزمرہ کا چٹخارا ایسا تھا کہ سب اہل ذوق نے اس کو بیحد پسند کیا، افسوس کہ یہ کہانی ناتمام رہی۔
ان کو ادب سے فطری ذوق تھا، الف لیلہ ولیلہ جو عربی داستان سرائی کی بے مثال کتاب سمجھی جاتی ہے، اس کے اردو ترجمہ کی امنگ ان کے دل میں ایک مدت سے تھی، چنانچہ انہوں نے ایک زمانہ سے اس کام کو شروع کررکھا تھا، اس ترجمہ میں اس کا بھی خاص اہتمام تھا کہ عربی شعروں کا ترجمہ اردو ہی شعروں میں ہو، معلوم نہیں یہ چیز کہاں تک پہنچی، سبعہ معلقہ میں سے امراء القیس کے قصیدہ کا ترجمہ اردو نظم میں کیا تھا۔ | 84 |
| 3 | *ضیاء الحسن علوی مرحوم .تحریر: علامہ سید سلیمان ندوی*
افسوس کہ میرے رفیق قدیم اور صدیق حمیم مولوی ضیاء الحسن صاحب علوی ندوی نے ایک مختصر علالت کے بعد ۱۴؍ جون ۱۹۴۵ء کو الہ آباد میں جہاں وہ عربی مدرسوں کے انسپکٹر اور مشرقی امتحانوں کے رجسٹرار تھے ستاون برس کی عمر میں وفات پائی، اس حادثہ کی اطلاع مجھے ۱۸؍ جون کو لکھنو میں اسی مدرسہ میں ملی جہاں میں اور مرحوم مل کر ایک جان دو قالب ہوئے تھے، افسوس کہ ایک قالب خالی ہوگیا، اور دوسرا نیم جان موجود ہے، مرحوم مجھ سے عمر میں تقریباً پانچ برس چھوٹے (گو تعلیم کے درجہ میں وہ ایک سال بڑے تھے) اس لئے بظاہر امید یہی تھی کہ انہی کو میری جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑے گا، مگر تقدیر یہی تھی کہ مجھے ان کے فراق کا غم سہنا پڑے اس لئے امید غلط ثابت ہوئی، اور تقدیر کا فرمان نافذ ہوکر رہا۔
اکنوں چہ تواں کرد کہ تقدیر چنیں بود
مرحوم کا کوری ضلع لکھنؤ کے مشہور علوی خاندان کے چشم و چراغ تھے، دارلعلوم ندوۃ العلماء کے حامیوں بلکہ بانیوں میں رؤساء کا جو طبقہ شامل تھا، ان میں منشی محمد اطہر علی صاحب مرحوم کا نام بہت جلی ہے، یہ خاندان قطب وقت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا ارادتمند و معتقد تھا، جو ندوہ کی تحریک کے روحانی مرکز و مدار تھے، اس لئے جب ۱۸۹۸ء (۱۳۱۶ھ) میں لکھنو میں ندوہ کا دارالعلوم کھلا تو منشی صاحب مرحوم نے اس درس گاہ کو اپنے سب سے چھوٹے بچے اور ایک ننھے بھتیجے کو نذر کیا، یہی ننھا بھتیجا مولوی ضیاء الحسن صاحب علوی ندوی تھے، دارالعلوم کے طلبہ کے داخلہ میں ان کا نمبر شاید دوسرا تیسرا تھا، عربی کی پوری تعلیم یہیں حاصل کی اور یہیں سے فراغت پائی۔
یوں دارالعلوم کے سارے اساتذۂ وقت مولانا حفیظ اللہ صاحب، مولانا عبدالشکور صاحب (اڈیٹر النجم) عبداللطیف صاحب سب ہی سے تعلیم پائی تھی، مگر جس کی تعلیم نے ان کے لوح دل میں علم و فن کے ذوق کا نقش اولین بنایا، وہ دارالعلوم کے صدر مدرس مولانا فاروق صاحب چریا کوٹی تھے، وہ ادب اور معقولات کے امام تھے، اور یہی دونوں فن مرحوم کی گھٹی میں پڑے، اور عمر بھر انہی سے ان کو ذوق رہا۔
۱۹۰۴ء میں مولانا شبلی مرحوم حیدرآباد سے جب لکھنؤ دارالعلوم میں پہلے پہل آئے تو جو طلبہ ان کے حلقہ میں پہلے بیٹھے، ان میں سب سے پہلا نام مولوی ضیاء الحسن مرحوم کا ہے، چنانچہ مولانا کی مردم شناس نگاہ نے ان کے ذوق اور استعداد کو تاڑ لیا، مولانا کے حیدرآباد واپس چلے جانے کے بعد مرحوم نے جو سب سے پہلا خط ان کو لکھا، اس کا جواب مکاتیب شبلی کی دوسری جلد میں موجود ہے، خط ۱؎ کے آخر میں ہے:
’’میں چاہتا ہوں کہ چند روز تک آپ کا اور میرا ساتھ رہتا، تاکہ میں ادب اور فلسفہ کی بعض کتابیں آپ کو پڑھاتا، اور مضمون نگاری کی بھی تعلیم دیتا، دیکھئے کب خدا موقع لاتا ہے‘‘۔ (شبلی ۴؍ جنوری ۱۹۰۴ء)
اس کے بعد جون ۱۹۰۵ء میں ندوہ تشریف لے آئے اور جس موقع کا انتظار تھا، وہ جلد مل گیا، مرحوم کے بعد اس طلب میں ان کا دوسرا رفیق سفر راقم الحروف تھا، ہم دونوں نے حضرۃ الاستاذ کے سامنے زانوئے ادب تہ کئے، اور علم کلام، معقولات اور اعجاز القرآن کے اسباق شروع ہوئے، مرحوم مجھ سے زیادہ دلیر اور بے تکلف تھے، وہ پرائیوٹ صحبتوں میں بھی شریک ہوتے تھے، اور ہر روز علم کا نیا فیض حاصل کرتے تھے، اسی زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد ندوہ ہی میں مولانا کے پاس مقیم تھے، مولانا حمید الدین صاحب مصنف نظام القرآن بھی آیا کرتے تھے، اور ہفتوں ندوہ میں رہا کرتے تھے، مولانا عبداللہ عمادی اڈیٹر البیان بھی لکھنؤ میں مقیم اور اکثر صحبتوں میں شریک ہوتے تھے، خواجہ غلام الثقلین بھی آتے جاتے رہتے تھے مرحوم ان لوگوں کے ساتھ بے تکلف ملتے جلتے تھے، اور اس خوانِ ادب سے بہرہ ور ہوتے تھے۔
مرحوم کو جدید علوم کے حصول کی طرف میلان مرزا ہادی صاحب رسوا (سابق عربی پروفیسر کرسچین کالج لکھنؤ) کی صحبتوں اور ملاقاتوں سے ہوا، وہ عربی کے عالم، انگریزی کے گریجویٹ اور جدید فلسفہ اور ریاضیات کے ماہر تھے، آخر میں دارالترجمہ عثمانیہ سے متعلق ہوکر فلسفہ کی متعدد کتابیں اردو میں ترجمہ کیں۔ مولانا شبلی نے ایک دفعہ ان کو مدرسہ میں ہم چند طلبہ کو جدید فلسفہ پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا، مگر وہ بڑے لااُبالی تھے، چند سبق سے زیادہ کا معاملہ ان سے نہ چل سکا۔
بہر حال مرحوم نے ۱۹۰۵ء میں عربی تعلیم سے فراغت پائی، اور ۱۹۰۶ء کے مشہور جلسہ دستار بندی میں میرے ساتھ ہی ان کی بھی دستار بندی ہوئی، اس جلسہ میں انھوں نے اعجاز القرآن کے موضوع پر ایک عالمانہ تقریر کی تھی، جو بعد کو مرتب ہو کر الندوہ میں شائع ہوئی، اور مدح و تعریف کی مستحق ہوئی۔ | 81 |
| 4 | آج اردو دنیا کے عظیم ادیب گر صلاح الدین احمد مدیر ادبی دنیا لاہور کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ : ۱۴ جون ۱۹۶۴ء کو ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک نادر ویڈیو کی لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام سے پیش کی جارہی ہے۔
عنوان: کتابوں کے قبرستان
بیان وآواز: صلاح الدین احمد مدیر ادبی دنیا لاہور
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=kitaboun-kay-qabrastan, Kitaboun Kay Qabrastan | 153 |
| 5 | *وفیات مورخہ: 14/جون*
1889ء عبد الغفور نساخ۔ شاعر ،
1902ء عبد الرحمن الکواکبی۔ عرب مفکر ،
1945ء ضیاء الحسن علوی، سید۔ مولانا ، پروفیسر
1964ء صلاح الدین احمد۔ مولانا ، مدیر ادبی دنیا لاہور
1971ء حبیب اشعر دہلوی (حکیم حبیب احمد)۔ مدیر فنون لاہور ،
1988ء اکبر علی نقشبندی۔ پیر ،
1998ء رحمان گل۔ لیفٹننٹ جنرل ،
2001ء احمد زاہد۔ ،
2001ء شوکت الٰہ آبادی (محمد زبیر فاروقی)۔ شاعر ،
2003ء ہاشم علی اختر، سید۔
2007ء خلیل احمد۔ مولانا
2007ء کورٹ والڈاہیم۔ سکرٹری جنرل اقوام متحدہ ،
2011ء ابرار عابد۔ ،
2018ء شجاعت بخاری۔ صحافی ،
Https://telegram.me/ilmokitab | 139 |
| 6 | یہ سُنتے ہی امام صاحبؒ سڑک پر غش کھا کر گر پڑے ــــ ہوش آنے پر جب پوچھا گیا کہ ایک لڑکے کی بات پر اس قدر متاثر ہونے کی کیا ضرورت تھی تو فرمایا " کیا عجب کہ اس کی زبان سے غیبی آواز نے مجھے تنبیہہ کی ہو!"
ایک دفعہ کسی کو مسئلہ بتارہے تھے کہ وہ شخص کہ اُٹھا:
ابو حنیفہؒ ! خدا سے ڈر کر فتوی دیا کرو " یہ الفاظ سنتے ہی امام صاحبؒ خوف وخشیّت سے پيلے پڑ گئے۔ تھر تھراتی ہوئی آواز میں فرمایا " بھائی خُدا تمہارا بھلا کرے اگر مجھ کو یہ یقین نہ ہوتا کہ خدا مجھ سے مواخذہ کرے گا کہ تو نے جان بوجھ کر علم کو کیوں چھپایا تو مَیں ہرگز زبان نہ کھولتا!"
مشہور بزرگ حضرت فضیل بن عیاضؒ نے جب یہ سُنا کہ امام صاحبؒ کو اگر کسی مسئلے میں ذرا دشواری پیش آتی تو یہ سوچ کر رونے لگتے کہ ضرور کسی گناہ کی شامت میں پکڑ ہوگئی ہے فوراً وضو کرتے ــــ خدا کے آگے سجدہ ریز ہو جاتے اور رو رو کر تو بہ کرتے تھے۔" یہ معلوم کر کے حضرت فضیلؒ پکار اُٹھے کہ : ابو حنیفہؒ کے گناہ بہت کم تھے اس لیے ان کو یہ خیال دامن گیر ہوتا تھا جو لوگ گناہوں میں سر سے پاؤں تک ڈُوبے ہوئے ہیں ان پر ہزار آفتیں آتی ہیں اور مطلق احساس نہیں ہوتا کہ یہ کوئی غیبی تنبیہہ بھی ہو سکتی ہے ۔"
ہاں یہ اسی بندۂ مومن ہی کا تو واقعہ ہے کہ ایک دن ان کے ملازم نے دوکان کھولی اور بطور فال نیک کے یہ کہہ دیا : "خدا ہمیں جنّت دے“ امام صاحبؒ نے یہ الفاظ سُنے اور خشوع بندگی کی شدّت سے آب دیدہ ہو گئے۔ روتے روتے ہچکی بندھ گئی ۔ دوکان پر بیٹھنا دو بھر ہو گیا ۔ دوکان بند کرائی اور کسی جنگل کی طرف روتے ہوئے نکل گئے واپس آئے اور قدرے سکون ہوا تو ملازم سے کہا ہم اس قابل کہاں ہیں کہ ایسی بڑی بات مُنہ سے نکالیں ــــ ارے ہماری جان عذاب سے ہی بچ جاتے تو بڑی خیریت ہوگی ۔" یہ کہہ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد دلایا جو فرمایا کرتے تھے کہ اگر حساب برابر برابر بھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ ســستا چھوٹا ۔
___
ایسے ہوتے وہ لوگ جو " مسلمان " کہلائے ـــــ اور ایک ہم بھی ہیں۔ خُدا کے حسین آسـتانے سے بھاگ بھاگ کر ذلیل دنیا کے قدموں پر ناک رگڑنے والے ـــــ ! اور ہم مسلمان ہیں ! ہائے یہ احسانِ عظیم کہ خدا نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور ہائے یہ جاں گداز مسئلہ کہ ابھی ہمیں مسلمان ہی مرنا باقی ہے ـــــ لیکن ..... بس.....
وائے بر حالِ ما!!
Https://telegram.me/ilmokitab
_______ | 144 |
| 7 | کیا ہم مسلمان ہیں (٤١) سورج چھپ گیا.... روشنی باقی ہے (پانچويں اور آخری قسط)
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
پُرانے زمانے کی مخصوص بڑی بوڑھیوں کی طرح امام صاحبؒ کی والدہ کو شہر کے واعظوں سے بڑی عقیدت تھی ۔ وہ دینی مسئلہ میں کوئی تحقیق کرنا چاہتیں تو امام صاحبؒ سے پوچھنے کے بجائے ان کو شہر کے مشہور واعظ عمرو بن زرقہؒ کے پاس دوڑایا کرتی تھیں اور وقت کا جلیل القدر امام اپنی ماں کے حکم کی تعمیل میں ایک طالبِ علم کی طرح واعظِ شہر کی خدمت میں حاضر ہوتا تو خود عمرو بن زرقہؒ پکار اُٹھتے " ارے بھئی ! ــــ آپ کے سامنے میں کیا منہ کھول سکتا ہوں امام صاحب ــــ!"
"نہیں" امام صاحبؒ بوڑھی والدہ کے سعادت مند بیٹے کے انداز میں عجز و انکسار کے ساتھ اصرار کرتے " نہیں آپ ہی فرمائیے ۔ اماں جی نےایسا ہی حکم دیا ہے۔"
"اچھا تو آپ مجھے یہ مسئلہ بتا دیجیے ۔" واعظ شہر لاچار ہو کر کہتے " میں اس کو آپ کے سامنے دہرا دوں گا۔"
کبھی کبھی والدہ کے شک وشبہ سے نوبت یہاں تک آتی کہ وہ حکم دیتیں مجھے خود ورقہ واعظ کے پاس لے کر چلو، میں خود مسئلہ معلوم کروں گی ـــ اور فوراً امام صاحبؒ اپنی محترمہ ماں کو خچر پر سوار کراتے لگام ہاتھ میں لے کر پیادہ پا ساتھ ساتھ دوڑتے اور ماں کی تسلّی کرا کے ان کے دل و رُوح کو سکون ہوتا تھا۔
__***___
دوسروں کے لیے رِقّتِ قلب کا تو یہ عام تھا کہ کِسی کی تکلیف دیکھنا تو کیسا سکون سے سُن بھی نہ سکتے تھے ۔ ایک دفعہ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ کسی نے خبر سُنادی کہ فلاں شخص کو ٹھے پر سے نیچے گر پڑا ۔ امام صاحبؒ کے دل پر بجلی سی گری اور وہ دفعتًہ اس زور سے چیخ اُٹھے کہ مسجد میں تہلکہ پڑ گیا۔ حلقۂ درس چھوڑ چھاڑ کر ننگے پاؤں اس شخص کے گھر دوڑے ہوئے آئے اور بہت کچھ دلاسا دے کر واپس ہوئے اور جب تک وہ شفایاب نہ ہوگیا امام صاحبؒ نے اس کی عیادت کو ناغہ نہ ہونے دیا ۔
دُوسری طرف خود اپنے لیے اس قدر مستقل مزاج اور خطر پسند حد تک جری تھے کہ مسجد میں درس دے رہے تھے اور ایک سیاہ سانپ چھت سے گر کر امامؒ کی گود میں آپڑا ــــــــ تمام لوگ بے اختیار گھبراکر بھاگے اور امام صاحبؒ ــــــــ ؟ وہ تو اطمینان سے وہیں کے وہیں بیٹھے ہوئے تھے!
___
"امام صاحبؒ" ایک بار کسی نے حیرت کا اظہار کیا " لوگ آپ کی شان میں کیا کچھ نہیں کہتے مگر آپ ہیں کہ آپ کی زبان سے کبھی کسی کی بُرائی سننے کو کان ترستے ہیں !"
"ہاں بھائی ! " امام صاحبؒ نے سکون اور احساسِ نعمت کا ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے کہا " یہ خدا کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے عطا کرتا ہے-"
امام سفیان ثوریؒ کے سامنے ایک بار ذکر آیا کہ ابو حنیفہؒ کی زبان سے کبھی کسی کی غیبت نہیں سُنی گئی ۔ امام ثوریؒ نے کہا " ابوحنیفہؒ ایسے بے وقوف نہیں کہ اپنے اعمال صالح کو برباد کرتے پھریں۔"
_____
انسانوں کے درمیان جس شخص کی شرافت و پاک بازی کا یہ عالم تھا وہ جب خدا کے سامنے جاتا تھا تو اس کا عالم دیدنی ہوتا ــــ نماز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے کرتے ان کی آواز کانپ اُٹھتی ،اگر یہ طاری ہوتا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا کرتے تھے ۔ ابراہیم بصریؒ نے دیکھا کہ نمازِ فجر میں امام صاحبؒ نے قرآن کی ایک آیت پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ " خدا کو ظلم کرنے والوں کی چال سے بے خبر نہ سمجھ لینا " امام صاحبؒ پر خشیت کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کھڑے کھڑے پورے جسم پر لرزہ پڑ گیا اور ٹانگیں تھر تھرانے لگیں ، دوسرے شخص زائدہ کا کہنا ہے کہ میں ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ کے ساتھ شریک ہوا اور منتظر بیٹھا رہا کہ وہ نوافل سے فارغ ہوں تو فلاں مسئلہ دریافت کروں ۔ مگر امام صاحبؒ قرآن پڑھتے پڑھتے وَوَقٰنَا عَذَابِ السَّمُومْ کے ٹکڑے پر پہنچے تو جیسے اس آیت کی زہرہ گدازیوں نے ان کو خوفِ عذاب سے بے قرار کر دیا ــــ رات بھر وہ یہی آیت پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک کہ ســپیدۂ سحر نمودار ہو گیا ۔
مشہور ہم عصر عابد یزید بن کمیت نے کہا کہ ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ نے " اِذَا زُلْزِلَت " پڑھی لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے۔ میں ٹھہرا رہا۔ دیکھا کہ امام ابو حنیفہؒ سر جھکائے استغراق میں بیٹھے ہیں اور رہ رہ کرٹھنڈی آہیں بھرنے کی آواز ان کے سینے سے نکلتی ہے اور ڈوب جاتی ہے ۔ ان کی اس غم ناک کیفیت میں خلل انداز ہونے کے بجائے مَیں چپکے سے اُٹھ کر چلا آیا۔ صبح کی نماز کو پہنچا تو دیکھا کہ امام صاحبؒ اسی عالم میں اسی جگہ بیٹھے ہیں اور داڑھی ہاتھ میں ہے اور سـسکیاں بھرتے ہوئے خُدا سے کہہ رہے ہیں "اے وہ جو ذرّہ بھر نیکی اور بدی کا بدلہ دے گا۔ اپنے غلام نعمان کو آگ سے بچائیو۔ آگ سے بچائیو!!"
____
ایک دن بازار میں چلے جارہے تھے کہ کسی لڑکے کے پاؤں پر پاؤں پڑ گیا وہ چیخ اُٹھا اور کہا:
" "تو خُدا سے نہیں ڈرتا ؟ | 148 |
| 8 | شروحِ تورات کی افادیت
مولانا احمد رضا بجنوری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا کہ تورات کی شروح میں بہت سی چیزیں مسلمانوں کے لیے کار آمد ہیں، مثلاً: عرب و شام وغیرہ کا پورا جغرافیہ، انبیاء علیہم السلام کی پیدائش و نسب وغیرہ کے حالات اور اس میں سے تمام وہ باتیں لی جاسکتی ہیں، جو اسلام کے خلاف نہ ہوں۔
(افاداتِ علامہ کشمیریؒ و علامہ عثمانیؒ/صفحہ: ۵۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab | 271 |
| 9 | طبعة الخانجي لتاريخ بغداد | 354 |
| 10 | 没有文字... | 345 |
| 11 | ’ننگی‘ کا لفظ منفی معنوں ہی میں استعمال نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کسی کی جرأت، بے باکی، بے خوفی اور صاف گوئی کی تحسین کے لیے بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ”فلاں صاحب تو ننگی تلوار ہیں“۔جب کہ حقیقتاً ننگی تلوار وہ تلوار ہوتی ہے جو میان (یا نیام) میں نہ ہو۔ تلوار جب تک نیام میں رہتی ہے، تب تک اُس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی ننگی تلوار نیام سے باہر لیے گھوم رہا ہو تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آج وہ کسی کا کام تمام کرنے جا رہا ہے۔ تلوار نہ ہو تو چھری سے بھی کام چل جاتا ہے، مگر کوئی چھری تلے آنے والا دستیاب تو ہو۔ اشرفؔ کہتے ہیں:
دل لگی اس کی نہ تھی، خوش اس لیے قاتل نہ تھا
ہاتھ میں ننگی چھری تھی، سامنے بسمل نہ تھا
چھری اور تلوار ہی نہیں، کوئی بھی شے اپنے غلاف، لباس یا آپے سے باہر ہو تو اُسے ’ننگا‘ قرار دے ڈالا جاتا ہے۔بجلی کے تار پربطور ’حاجز‘ پلاسٹک کا جو ملمع چڑھایا جاتا ہے، اگر تار اُس کے بغیر ہو توبجلی کا وہ تار ’ننگا تار‘ کہلائے گا۔ایسا پہاڑ جو سبزے کی پوشاک سے عاری ہو، نہ اُس پر گھاس اُگتی ہو، نہ اُس پر پھول کھلتے ہوں، اُسے ’ننگا پہاڑ‘ کہا جاتا ہے۔ جس زمین پر سبزہ نہ ہو،اور بیٹھنے کے لیے کوئی چٹائی وغیرہ نہ بچھائی گئی ہو، وہ زمین ’ننگی زمین‘ ہے اور ایسا فرش ’ننگا فرش‘۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت کو بھی’ننگا پیڑ‘ کہتے ہیں۔ہاتھی یا گھوڑے کی پیٹھ پر اگر ہودج یا زین نہ ہو تو اُس کی پیٹھ ’ننگی پیٹھ‘ کہلائے گی۔ کسی خاتون کے ہاتھ میں چُوڑی یا کوئی اور زیور نہ ہوتوایسے خالی زنانہ ہاتھ کوخود خواتین ’ننگا ہاتھ‘ قرار دیتی ہیں اور جو ناچ کپڑوں کے بغیر ناچا جائے اُسے اہلِ نظر یا اہلِ نظارہ ’ننگا ناچ‘ کہوے ہیں۔یہی ناچ دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین ناچ ہے،جو وہ بڑی دھوم دھام سے اُس وقت تک ناچتے رہتے ہیں جب تک چکرا کر دھڑام سے گر نہ جائیں۔ بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
٭٭
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 346 |
| 12 | *غلطی ہائے مضامین*
*دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین رقص*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
’ننگ‘ کا لفظ ہمارے ہاں فارسی سے آیا تھا۔یہاں آتے ہی ’ننگا‘ ہوگیا۔ مگر لفظِ ننگ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی ہیں ’شرم، لحاظ، غیرت، حیا،خِفّت، رُسوائی، عیب، ذلت، سُبکی، بدنامی، فضیحتی اور عار‘۔نواب مصطفی خان شیفتہؔ کایہ شعر اُن لوگوں کی شان میں اکثر پڑھا جاتا ہے، جن کو شہرت حاصل کرنے کی دُھن میں شرم، لحاظ، رسوائی، ذلت، سُبکی یا خِفّت کااحساس چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہوتے ہیں۔شعر سن کر بھی مُسکراتے رہتے ہیں۔جی چاہے توآپ بھی یہ شعر پڑھ کراُن پر مُسکرا لیجے:
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟
نام کے ساتھ ’ننگ‘ لگا کر ’ننگ و نام‘ کہا جائے تو اس کا مطلب عزت و حرمت اور عفت و عصمت لیا جائے گا۔اسی مفہوم کو ’ننگ و ناموس‘ کی ترکیب سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔غالبؔ نے عشق کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر برباد کر لیا،بے عزت ہوئے اور پچھتاتے پھرے کہ
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ بے ننگ و نام ہے“
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو میں
گھر کے لوگوں کی ذلت و رُسوائی کا سبب بن جانے والے شخص کو ’ننگِ خاندان‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مراد ہے خاندان کی عزت و ناموس کو بٹّا لگانے والا۔ بٹّا لگانے والے تو ملک و ملت کی عزت و ناموس کو بھی بٹّا لگا دیتے ہیں۔علامہ اقبالؔ نے ”جاوید نامہ“ میں ارواحِ رذیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ صرف ’دو تَن‘ (یعنی دو افراد) کے ذاتی مفادات کی تکمیل میں پوری قوم کی رُوح کچلی گئی:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
دین و وطن اور آدمیت کی بدنامی بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’ننگ‘ اُردو میں عریانی، بے لباسی اور مفلسی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بالکل برہنہ شخص کو ’ننگ دھڑنگ‘ کہہ دیا جاتا ہے، مجازاً بے شرم اور بے حیاکو کہتے ہیں۔ ’ننگ دھڑنگ‘ ایسے مفلس کو بھی کہا جاتا ہے جس کے پاس پہننے کو لنگوٹی تک نہ ہو۔مثلاً:”کاروبار میں نقصان کے بعدنتھو تو بالکل ننگ دھڑنگ ہوگیا ہے“۔
’لنگوٹی‘ کے ذکر پر یاد آیا کہ مولانا ظفر علی خان نے اقبالؔ کے محولہ بالا شعر کی ایک تضمینِ معکوس (Parody) کی ہے۔برعظیم کے دو مشہور لیڈر، موہن داس کرم چند گاندھی اور اچاریہ ونوبا بھاوے اپنی سادگی کا اظہار کرنے کو مجمعِ عام میں بھی ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے، فقط ایک لنگوٹی سے سترپوشی کیے ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کو ستمبر1921ء میں مدراس کے دورے کے موقعے پر احساس ہوا کہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی اُنھوں نے غربا سے اپنا فاصلہ گھٹانے کا فی الفور فیصلہ کیا اور ملک کے کم لباسوں سے یکجہتی کا اظہارکرنے کو اپنے تن کے کپڑے بھی اُتار کر کم کر دیے۔ اچاریہ ونوبا بھاوے نے بھی گاندھی جی کی تقلید کی۔ اِس پر مولانا ظفر علی خان نے برعظیم کے اِن دونوں عظیم لیڈروں کو اپنے اس شعر سے خراجِ تضمین پیش کیا:
گاندھی از گجرات، بھاوے از دکن
ننگے پاؤں، ننگے سر، ننگے بدن
اقبالؔ کے شعر میں جن دو ”لیڈروں“ کا نام آیا ہے، اُنھوں نے تو برعظیم میں انگریزوں کی آمد کے موقعے پر ’ننگئی‘ دکھائی تھی، جب کہ مولانا ظفر علی خان کے شعر میں جگہ پانے والے دونوں لیڈروں نے وہ زمانہ پایا جب انگریز برعظیم سے روانہ ہونے والے تھے۔
’ننگا‘ کا استعمال ’مفلس‘ کے معنوں میں اُس ”گزارشِ مصنف بحضورِ شاہ“ میں بھی ملتا ہے، جو چچا غالبؔ نے اپنی تنخواہ کی ادائی سالانہ کی جگہ ماہانہ کروانے کو بطور منظوم درخواست دربارِ شاہی میں کی تھی۔عُذر اور عرض داشت دونوں ملاحظہ فرمائیے:
آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟
میری تنخواہ کیجیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار
زندگی خواتین کی زیادہ دُشوار ہوتی ہے۔ اُنھیں زرتار لباس بھی درکار ہوتے ہیں اور گہنا پاتا یعنی زیور بھی۔کسی خاتون کے پاس زیور ہو نہ زرتار لباس، یعنی وہ مفلس و قلاش اور تہی دست ہو، تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے کہ ”ننگی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی“۔ اس ضرب المثل کو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں، مگرمرد ضرب المثل کے الفاظ بدلنے کی حماقت نہ کریں۔شادؔ عظیم آبادی نے اپنی مفلسی کا اظہار یوں کیا تھا:
کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
کیا ننگی نہائے، کیا نچوڑے
جب کہ انشاء اللہ خان انشاؔ نے دنیا ہی کو بے لباس بمعنی مفلس و قلاش قرار دے ڈالا تھا:
کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے | 264 |
| 13 | اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
. ڈاکٹر محمد سہیل شفیق - June 12, 2026
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور
کی انتہاپسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
مصنف : ڈاکٹر رضا علی عابدی
صفحات : 300 قیمت: درج نہیں
ناشر : افق پبلی کیشنز، کراچی
رابطہ : 03023227850
اسلام کا تصورِ اعتدال زندگی کے ہر پہلو میں توازن، میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے۔ قرآن کریم نے امتِ مسلمہ کو ’’اُمَّۃً وَسَطاً‘‘ (درمیانی امت) قرار دیا ہے، تاکہ وہ افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرتی تعلقات… اسلام انسان کو ایسا معتدل رویہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو نہ حد سے تجاوز ہو اور نہ کوتاہی۔ یہی اعتدال روحانی بلندی، معاشرتی ہم آہنگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
پیشِ نظر مقالہ ’’اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ‘‘ جناب علی رضا عابدی کا پی ایچ۔ ڈی کا تحقیق مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر حافظ محمد ثانی (انچارج ڈین کلیہ معارفِ اسلامیہ، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی) کی زیرِ نگرانی مکمل کیا ہے۔ فاضل مقالہ نگار نے اس تحقیق میں اسلام کے بنیادی اصول ’’اعتدال‘‘ کو موضوع بنایا ہے اور معاصر دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ موضوع عصرِ حاضر کے اہم ترین علمی و فکری مباحث میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اعتدال اسلامی فکر کا بنیادی جوہر ہے اور انتہا پسندی عصرِ حاضر کا سب سے بڑا عالمی بحران۔
مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلام اور اعتدال کی وضاحت، دوسرے میں موجودہ دور کی انتہا پسندی کا جائزہ، تیسرے میں اسلام کی تعلیماتِ تحمل اور چوتھے میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے اعتدال کی راہوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور اس کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی دی ہیں۔
اگرچہ بعض مباحث غیرضروری طور پر طویل ہیں ، تاہم مجموعی طور پر یہ تحقیق اسلام کے اعتدال پسند مزاج کی توضیح اور انتہا پسندی کے انسداد کے سلسلے میں ایک مفید اور بامقصد کاوش ہے۔
دعا ہے کہ یہ مقالہ موجودہ دور کے فکری اور عملی چیلنجز کو سمجھنے اور اسلام کے اعتدال کے پیغام کو فروغ دینے میں معاون و مفید ثابت ہو۔ | 219 |
| 14 | *وفیات مورخہ: 12/جون*
1903ء حسن علی فیضی۔
1933ء میر ناصر علی دہلوی۔ مدیر صلائے عام ، دہلی ،
1956ء بشیر الدین۔ خان بہادر، مولوی
1969ء محمد اظہر وارثی۔
1977ء شکیل احمد۔ ،
1983ء امین الدین خان۔ نوب لوہارو
1989ء شہزادی نیلوفر فرحت بیگم۔
1991ء وفا ڈبائیوی (محمد حفظ الرحمٰن)۔ ،
1995ء اثر فیض آبادی۔
1996ء افضال احمد خاں شیروانی۔ ،
1997ء آنند نرائن ملا۔ جج، شاعر وادیب ،
1998ء محمد علی رنگون والا۔
1999ء محمد وصی خاں۔ ،
2003ء حسین احمدؒ ( کوٹ دوار)۔ مولانا
2004ء خواجہ غلام صادق۔ ،
2005ء محمودہ سلطانہ۔ ،
2009ء سرفراز احمد نعیمی۔ مولانا
2010ء رشید قیصرانی۔
2020ء گلزار زتشی دہلوی ( پنڈت آنند موہن)۔ شاعر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 268 |
| 15 | آج اردو زبان وادب کے عظیم مجاہد پنڈت آنند نارائن ملا کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات مورخہ: ۱۲/ جون ۱۹۹۷ء کو ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ کلام پیش خدمت ہے۔
کلام شاعر بزبان شاعر
علم و جاہ و زور و زر
کلام وآواز: آنند نرائن ملا
لنک
https://telegram.me/ilmokitab | 247 |
| 16 | غفلت، ظاہری رونق مگر باطن کا اندھیرا
از: طارق علی عباسی
غفلت کیا ہے؟ غفلت دراصل خود سے غافل ہوکر اپنے مقصدِ حیات کو بھلا ڈالنا ہے، یہ غفلت دل، ضمیر اور اندرونی احساسات کی معطلی کا نام ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب اندرونی احساسات کی بیداری ختم ہوجائے تو اپنے وجود کا شعوری احساس بھی فنا ہوجاتا ہے، پھر بے مقصدیت مقصد کی جگہ لے لیتی ہے اور انسان اپنی حقیقی راہ بھلا بیٹھتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غفلت کا مطلب شاید عارضی طور پر غافل بن جانا ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ غفلت تو اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو لاحق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دل اپنی طاقت، اپنی توانائی، اپنی وضاحت اور اپنی بصیرت کھو دیتا ہے۔ غفلت سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، پھر ایسا دل دھڑکتا تو ہے، مگر اس کی دھڑکنوں میں وہ توانائی نہیں ہوتی، جو وجدانی کیفیات کو ابھار سکے اور کسی جذبے کے اظہار کا سبب بن سکے۔ غفلت کا مطلب ظاہری اعضاء کی حرکت جاری رہنے کے ساتھ، اندر کا بجھ جانا ہے۔ یعنی دل حرکت تو کرتا ہے، لیکن بغیر شعور کے، زندگی تو گزارتا ہے لیکن بغیر بیداری کے، کام تو کرتا ہے لیکن دیکھتا سمجھتا کچھ نہیں اور سانس تو لیتا ہے لیکن بغیر احساسوں کے!
حقیقت یہ ہے کہ غفلت کا اصل مطلب دل سے اللہ تعالیٰ کی یاد کا غائب ہوجانا اور اس احساس کا ختم ہوجانا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ آپ کو دیکھ رہی ہے، آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق انسان اپنی شہہ رگ سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہے، اس کے علاوہ حدیثِ جبرئیل اس پر شاہد ہے کہ احسان کا کم درجہ یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے، پورے سلوک و احسان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اس احساس کو اپنے دل سے مٹنے نہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ بقول صوفی شاعر شاہ تراب علی قلندرؒ:
دم غنیمت ہے، نہ ہو غافل خدا سے ایک دم
زندگی نعمت ہے غفلت میں اسے کھوتا ہے کیا
اسی کو غفلت کہتے ہیں کہ انسان بڑے مقصد کے احساس کو کھو دے اور اس کا دل غیر اہم چیزوں میں مشغول ہوجائے۔ غافل انسان کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزارتا، وہ اکثر و بیشتر بے چین رہتا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی غیر اہم چیزوں کے بدلے بڑے اہداف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ غفلت دراصل دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے۔ اگرچہ دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی، عارضی اور وقتی ہے، مگر غافل اسی تگ و دو میں لگا رہتا ہے کہ یہاں کی آسائشوں اور لذتوں میں ایک ہی دھن کے ساتھ مگن رہے، جب کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ یوں وہ دنیا ہی کو اپنی توجہ کا مرکز، اپنے خوف کا منبع اور اپنی پریشانی کا سبب بنا لیتا ہے۔ اسی لیے غفلت کوئی وقتی رویہ نہیں ہے، بلکہ ایک بڑی اضطرابی قلبی حالت ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ دلجمعی اور غفلت اکٹھے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ غفلت یہ ہے کہ ظاہری زندگی تو ٹھاٹھ باٹھ سے پوری طرح مزین ہو، لیکن اندرونی حیات بجھ چکی ہو۔ عبادات میں دل کا نہ لگنا اس مرض کی شروعات ہے اور عبادات میں دل کا بالکل ہی نہ لگنا یا عبادات و فرائض کا چھوٹ جانا اس مرض کی پختگی ہے۔ غفلت دل کے دروازوں کو بند کردیتی ہے، پھر جلتے اور روشن چراغ بھی بجھے ہوئے لگتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اس معاملہ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ غفلت انسان کو یکدم نیچے نہیں گراتی، بلکہ اسے بند گلی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور پھر اس پر باہر نکلنے کے راستے بند کردیتی ہے۔ غفلت انسان کی طاقت کو مٹا دیتی ہے، یعنی دل دیکھنے، تمیز کرنے، چلنے، ثابت قدم رہنے، خشوع اختیار کرنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت کو صحیح معنوں میں کھو دیتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کی یہ طاقت کیوں ختم ہوجاتی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دل کی اصل طاقت تو اس کی بصیرت، اس کا عزم، اس کا ارادہ، اس کی محبت، اس کی استقامت اور خواہشاتِ نفس کے خلاف اس کی مزاحمت ہے۔ چنانچہ جب ذکرِ الہٰی دل سے غائب ہوتا ہے تو شعور چلا جاتا ہے اور جب شعور چلا جاتا ہے تو خواہشِ نفس اس میں داخل ہوجاتی ہے اور جب دل میں خواہشِ نفس داخل ہوجائے تو انسان پر وسعتِ فکری کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غفلت اپنے آپ کو خواہشِ نفس اور شہوت کا قیدی بنا لینے کی طرف پہلا قدم ہے۔ بڑا ہی محروم ہے وہ انسان، جو خدائے واحد سے اپنی خواہشوں کی وجہ سے دور ہے، کیا ہم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے قریب ہے یا دور؟ کیا ہمارے دلی احساسات بیدار ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ظاہری طور پر تو حرکت میں ہیں، مگر اندرونی طور پر بالکل ہی بجھے ہوئے ہیں؟
https://telegram.me/ilmokitab | 268 |
| 17 | *وفیات مورخہ: 11/جون*
1988ء حبیب احمد صدیقی۔ ،
1990ء قاری ممتاز احمد رحمانی۔ مولانا ،
1991ء فضل محمود۔ ڈاکٹر ،
1994ء سیده حمیرا بی۔
1996ء روشن لکھنوی (سید نثار رضوی)۔ ،
1996ء زبیدہ یزدانی۔
2000ء احمدعلی بدر پوری۔
2000ء راجیش پائلٹ۔ کانگریسی لیڈر
2003ء اظہر ملک۔ ،
2003ء عبدالرزاق خان ایڈووکیٹ۔
2004ء ضمیر نیازی (ابراہیم جان محمد درویش)۔ صحافی ،
2006ء محمد مختار اصلاحی۔ مولانا، حکیم ،
2009ء رشید وارثی۔
2011ء صبا دشتیاری (غلام حسین)۔ پروفیسر ،
2012ء شاکر علی۔ ،
Https://telegram.me/ilmokitab | 300 |
| 18 | *بات سے بات: بشار عواد معروف*
*از: عبد المتین منیری*
بشار عواد معروف بنیادی طور پر تحقیق مخطوطات کے آدمی ہیں، اور اس میدان کے آدمی کی اولین ضرورت قدیم خطوط کو سمجھنا، اور انہیں بغیر غلطیوں کے نقل کرنا ہے، اگرمحقق اس میدان کا ماہر ہے تو پھر دوسرے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، ایسا محقق اگر تفسیر، حدیث ، فقہ و تاریخ پر عبور رکھتا ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے۔
بشار عواد کو اگر مفسر، محدث اور فقیہ کے پیمانے پر تولیں گے تو پھر وہ اس پیمانے پر پورے نہیں اتریں گے۔انہیں ان کی جگہ پر رکھ کر بات کریں گے، تو ان کے ساتھ انصاف ہوگا، بشار عواد کے تذکرہ میں ہمارے احباب نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں ان کے لئے لازمی اصل وصف پر کوئی تبصرہ نہیں ہے، اوران کی مخطوطہ شناسی پر کسی ماہر فن کی رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے یہ مہارت ہمارے یہاں عنقا ہوتی جارہی ہے۔
جہاں تک ہم نے بشار کی تحقیقات کو دیکھا ہے، صحت نص کے اعتبار سے ان کا درجہ بلند ہے، خاص طور پرامام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء کی تحقیق جو عصر حاضر کے محققین میں انہیں ممتاز کردیتی ہے۔ بشار کافی عمر رسیدہ ہیں، باوجود اس کے وہ محققین کی ایک ٹیم تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور اپنی سرپرستی میں وہ ان کی تربیت کررہے ہیں۔ ہمیں اس کام کی قدر کرنی چاہئے۔
بیسویں صدی میں جب عربی مخطوطات کی تحقیق وتصویب کا کام عروج پر پہنچا تھا تو ان میں سے علامہ احمد محمد شاکر، شیخ محمد ناصر الدین الالبانی، احمد صقر، عبد الفتاح ابو غدہ، محمد زاہد الکوثری، عبد القادر ارناؤط، محمد شعیب الارناؤط ، عبدالمجید السلفی ، وغیرہ کا پس منظر حدیث وفقہ علم دین تھا،عبد السلام ہارون، عبد العزیز میمنی، محموداحمد شاکر، محمود الطناحی، عبد الہادی التازی، عبد الفتاح الحلو، فواد سید لغت وتاریخ یا کوئی دوسرا پس مظر رکھتے تھے، عمالقہ کا یہ دور اب ختم ہوچکا ہے، صحیح یا غلط اب جو بقید حیات ہیں ان میں بشار عواد معروف کی ٹکر کا محقق مخطوطات نظر نہیں آتا۔ ان کی تعلیقات سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان کی تحقیق نص، مخطوط شناسی سے بے نیاز نہیں رہا جاسکتا۔ اب رہی ان علماء کی بات جو تفسیر حدیث وفقہ کے تو ماہر ہیں، لیکن عربی زبان اور مخطوطات شناسی ان کا امتیاز نہیں ہے، ان کی تحقیقات کتابوں کو ایسی تحریفات سے بھر سکتی ہیں، جن سے کتابوں کے معانی ومفہوم بدل سکتے ہیں۔ ان سے دار الکتب العلمیہ جیسے اداروں کی تجارت کو عروج مل سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ علمی زوال کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
2026-06-10 | 385 |
| 19 | سچی باتیں (23؍دسمبر 1940ء)۔۔۔ اسلام پر دوسرے مذاہب کا اطلاق
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ دینیات کی بزم سالانہ کے صدر نے حال میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہا:-
’’آج کل جو یہ کہا جاتاہے کہ اہل یورپ نے جب سے مذہب کو چھوڑدیا ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔ غورکرنے سے معلوم ہوگا کی اس سے گویا ایک طرح سے مشرق کو مشورہ دیاجاتاہے کہ ہم بھی یہی سلوک اپنے مذہب سے کریں حالانکہ یہ ایک صریحی مغالطہ ہے۔ اس لئے اہل یورپ اگر مذہب کو نہ چھوڑتے تو وہ اور کیاکرتے۔ ان کے پاس مذہب تھا کب؟ ان کے پاس ایک کتاب تھی جو دراصل کتاب الٰہی نہ تھی بلک صرف کتاب الٰہی کے ہم نام تھی۔ ان کے پاس ایک تعلیم تھی جسے تعلیم الٰہی باور کرایاگیاتھا لیکن وہ الٰہی تعلیم ہی نہ تھی۔ خود ان ہی کی تحقیقات سے معلوم ہوتاہے نہ وہ اصل کتاب خدا کی ہے نہ اُس کی تعلیم وہ ہے جو کسی رسول نے دی ہو۔ وہ مطلق مذہب سے بیزار نہیں بلکہ وہ اس مذہب سے بیزار ہیں جو ان کے آباء واجداد ان کے لئے چھوڑ گئے ہیں‘‘۔
یہ کہہ کے انھوں نے وقت کے ایک بہت بڑے اور چلتے ہوئے مغالطہ کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ اور مغالطہ ایسا جو آج بیسیوں قالبوں اور صورتوں میں ہمارے سامنے آرہاہے۔
کہاجاتاہے، اور کس شدومد سے، کہ علماء کا اقتدار ختم کرو، ان کا زور توڑ کررکھ دو۔ جب تک یورپ میں کلیسا کا زور نہ ٹوٹ لیا، اور ہندودل کے ہاں سے برہمنوں کا اقتدار نہ رخصت ہوگیا، ترقی نہ اہل فرنگ کرسکے نہ ہندو۔ بلند بانگ دعویٰ کا اول تو یہی جزو صحیح نہیں، کہ یورپ سے کلیسا، اور ہندوؤں کے ہاں سے برہمن کا اقتدار رخصت ہوچکاہے، یا ان کا زور ٹوٹ چکاہے۔ لیکن بالفرض یہ صحیح ہو بھی، تو مسیحیوں کے کلیسا اور ہندوؤں کے برہمن پر، مسلمانوں کے علماء کو قیاس کرنا ہی کب درست ہے؟ اسلام نے علماء کو مطلق الاختیار بنایا ہی کب ہے؟ اِس میں اُن کے شاہنشاہانہ اقتدارات کو تسلیم ہی کب کیاہے؟ بجز ’’مذہبی پیشوا‘‘ کے لفظی اورمحض لفظی اشتراک کے، عملًا اور معنًا کوئی شے بھی ہمارے ہاں کے فقہاء ، محدثین، مفسرین، متکلمین ، اور دوسروں کے ہاں کے پروہتوں، پنڈتوں، پادریوں کے درمیان مشترک ہی کہاں؟……اور پھر کہاجاتاہے کہ عورتوں کو آزادی دور یورپ نے جب تک عورتوں کو آزاد نہ کیا، قوم ترقی نہ کرسکی۔ گزارش پھر وہی کرنی پڑتی ہے، کہ یورپ نے اگرآزادی دی تو اچھا کیا، اُس نے تو نسل انسانی کی اس نصف آبادی کو واقعتا غلام بناہی رکھاتھا۔ ہمارے یہاں عورت غلام ہے ہی کہاں، جو اُس کی’’آزادی‘‘ کامطالبہ اِس زور وشور سے جاری ہے؟ باقی اگر حدود وقیود کا نام، ضبط وانضباط کانام کسی کی اصطلاح میں غلامی ہے، تو پھر ہر شاگرد جسے مدرسہ کے قاعدوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے، غلام ہے اپنے اُستاد کا، ہر بیٹا جسے ادب ملحوظ رکھناہوتاہے، غلام ہے اپنے باپ کا، ہر مریض جس کے لئے دوا، غذا، وغیرہ میں احتیاط اور پابندی ہوتی ہے، غلام ہے طبیب کا!
آخری اور سب سے مہلک مغالطہ اِس سطحیت کا ، جس کا دوسرا نام تجدُّد ہے، یہ ہے کہ عیسائی قوموں نے دنیوی ترقی صرف اُس وقت حاصل کی جب بائبل سے بالکل قطع نظر کرکے اُسے پس پشت ڈال کر اپنے معاشری، معاشی، سیاسی، اخلاقی قوانین وضوابط خود اپنے عقل وتجربہ سے اخذ کرنا شروع کردئیے، اس لئے مسلمان بھی جب تک اپنے قوانین کو خود اپنے تجربہ کی روشنی میں وضع نہ کرنے لگیں گے، ترقی کرہی نہیں سکتے…استدلال میں لفظ ’ترقی‘ کے اندر جو عظیم الشان ضابطہ موجود ہے، اُس سے قطع نظر، قرآن کو انجیل پر قیاس کرنا ہی کب، اور کسی معنیٰ میں بھی صحیح ہے؟ کیا انجیل میں بھی سیاسیات، اخلاقیات، معاشیات کے قوانین ، قرآن کی آدھی، چوتھائی، تفصیل کے ساتھ مدوّن ہیں؟ کیا موجودہ انجیل، جسے مسیحی دنیا انجیل تسلیم کرتی ہے، کسی معنیٰ میں بھی کلام الٰہی ہے؟ لفظًا نہ سہی، معنًا بھی اُسے کون کلام الٰہی مانتاہے؟ کیا مسیحیوں کے ہاں اُس کا وہ مرتبہ بھی ہے جو ہمارے ہاں احادیث قدسیہ کا ہے؟بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند غیر مستند اقوال وحالات کے مجموعہ کے، اورمجموعہ بھی ایسا جو نامعلوم ہاتھوں کا جمع کیاہو، وہ ہے کیا؟ بائبل پر قرآن کو قیاس کرنا، اور ایک کے لئے وہ نتیجے نکالنا جو دوسرے کے لئے نکالے گئے ہیں، اس سے بڑھ کر ظلم، دین پر نہیں، خود عقل پر اور کیا ہوگا؟
Https://telegram.me/ilmokitab | 529 |
| 20 | آج مولانا محمد عارف سنبھلی ندوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 8 جون 2006ء کو ہوئی تھی، آپ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے استاد اور فرق ومذاہب کے استاد تھے، آپ علمی دنیا میں خاص طور پر بریلوی فتنہ کا نیا روپ سے بہت مشور ہوئے۔ آپ ایک کامیاب خطیب اور مقرر بھی تھے۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک تقریر پیش خدمت ہے
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=qadiyaniat-aur-eisaiyat, Qadiyaniat Aur Eisaiyat | 449 |
现已上线!2025 年 Telegram 研究 — 年度关键洞察 
