علم و کتاب
الذهاب إلى القناة على Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
إظهار المزيد8 108
المشتركون
+1024 ساعات
+387 أيام
+9530 أيام
جاري تحميل البيانات...
القنوات المماثلة
سحابة العلامات
لا توجد بيانات
هل تواجه مشاكل؟ يرجى تحديث الصفحة أو الاتصال بمدير الدعم الخاص بنا.
الإشارات الواردة والصادرة
---
---
---
---
---
---
جذب المشتركين
يونيو '26
يونيو '26
+112
في 0 قنوات
مايو '26
+228
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '26
+163
في 1 قنوات
Get PRO
مارس '26
+62
في 2 قنوات
Get PRO
فبراير '26
+89
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '26
+95
في 2 قنوات
Get PRO
ديسمبر '25
+81
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '25
+109
في 1 قنوات
Get PRO
أكتوبر '25
+105
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '25
+119
في 1 قنوات
Get PRO
أغسطس '25
+173
في 2 قنوات
Get PRO
يوليو '25
+151
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '25
+140
في 2 قنوات
Get PRO
مايو '25
+95
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '25
+105
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '25
+153
في 2 قنوات
Get PRO
فبراير '25
+131
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '25
+278
في 1 قنوات
Get PRO
ديسمبر '24
+403
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '24
+500
في 2 قنوات
Get PRO
أكتوبر '24
+487
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '24
+322
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '24
+322
في 3 قنوات
Get PRO
يوليو '24
+323
في 4 قنوات
Get PRO
يونيو '24
+341
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '24
+331
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '24
+300
في 3 قنوات
Get PRO
مارس '24
+265
في 1 قنوات
Get PRO
فبراير '24
+321
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '24
+403
في 3 قنوات
Get PRO
ديسمبر '23
+376
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '23
+132
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '23
+124
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '23
+92
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '23
+121
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '23
+116
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '23
+77
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '23
+253
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '23
+81
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '23
+49
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '23
+126
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '23
+137
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '22
+123
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '22
+209
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '22
+119
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '22
+62
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '22
+40
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '22
+44
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '22
+138
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '22
+42
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '22
+17
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '22
+31
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '22
+28
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '22
+56
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '21
+112
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '21
+52
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '21
+112
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '21
+64
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '21
+43
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '21
+63
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '21
+164
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '21
+38
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '21
+60
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '21
+103
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '21
+80
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '21
+211
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '20
+1 362
في 0 قنوات
| التاريخ | نمو المشتركين | الإشارات | القنوات | |
| 16 يونيو | +3 | |||
| 15 يونيو | +10 | |||
| 14 يونيو | +3 | |||
| 13 يونيو | +3 | |||
| 12 يونيو | +13 | |||
| 11 يونيو | +14 | |||
| 10 يونيو | +5 | |||
| 09 يونيو | +6 | |||
| 08 يونيو | +13 | |||
| 07 يونيو | +5 | |||
| 06 يونيو | +4 | |||
| 05 يونيو | +12 | |||
| 04 يونيو | +1 | |||
| 03 يونيو | +4 | |||
| 02 يونيو | +7 | |||
| 01 يونيو | +9 |
منشورات القناة
آج اردو کے مایہ ناز شاعر سکندر علی وجد کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۶/ جون ۱۹۸۳ء کو ہوئی تھی۔
اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ کلام کی لنک پیش خدمت ہے۔
کلام شاعر بزبان شاعر
کلام: ماہ نو
کلام وآواز: سکندر علی وجد
لنک آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=mah-e-now, Mah-E-Now
مزید کلام سننے کے لئے
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=sikandar-ali-wajd&t
=
| 2 | *وفیات مورخہ: 16/جون*
1901ء سلطان شاہ جہاں بیگم۔ نواب بھوپال
1981ء ولایت علی خاں۔ نواب زادہ
1983ء خورشید آرابیگم۔ پروفیسر ،
1983ء سکندر علی وجد۔ شاعر ،
1992ء فرید الدین احمد الوجیہہ۔ حافظ ،
1993ء قمر ہاشمی (سید اسماعیل شہید)۔ صحافی، شاعر
1993ء نیاز محمد میواتی۔ مولانا
1996ء محمد رفیق۔ ریاضی داں
1997ء ولی ہاشمی۔ ،
2000ء حضور احمد شاہ۔ ،
2008ء حفیظ بنارسی۔ شاعر ،
2011ء سجاد سخن۔ ،
2011ء عبد الرشید جھنگوی۔ مدرس، مناظر، بریلوی مکتب فکر
2021ء سراج دین۔ پہلوان
https://telegram.me/ilmokitab | 170 |
| 3 | https://t.me/ilmokitablibrary | 250 |
| 4 | سچی باتیں (30؍دسمبر 1940ء۔۔۔ عہد جاہلیت میں آزادی نسوان
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی
کلدانی تہذیب، موجودہ معلومات کے لحاظ سے دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے۔ مصری، ہندی، چینی، ہر قدیم تہذیب سے قدیم تر۔ زمانہ اس کا تقریبًا دوہزار سال قبل مسیحؑ تسلیم کیاجاتاہے۔ یعنی آج سے چارہزار سال قبل۔ کالڈیا یا سمیریا واقع وہیں تھا، جہاں آج عراق ہے۔ ’’تہذیب‘‘ کے اس اہم ترین دَور میں عورت’’ آزاد‘‘ تھی اور خود مختار۔
’’عورت کی ہستی بہ حیثیت ایک فرد اور ایک شہری کے، سمیری قانون میں مسلّم تھی۔ عورت عدالتوں میں گواہی دے سکتی تھی اور بہ طور وکیل بھی پیش ہوسکتی تھی۔ روپیہ اس کا اپنا ہوتاتھا، شوہر کی مداخلت سے باہر۔ شوہر اور والد دونوں کے ترکہ سے اسے قانونًا حصہ ملتاتھا۔ کاروبار تجارت وہ خود کرسکتی تھی۔ خودمزدور ، غلام، وغیرہ رکھ سکتی تھی۔ اپنے شوہر کی غیر حاضری میں اس کا کاروبار کرسکتی تھی، اور اُس کے منافع میں ایک تہائی خود لے سکتی تھی‘‘۔ (ص: 130)
یہ سب تصریحات دَور حاضر کے مشہور ماہر اثریات سرلیونارڈ وولیؔ کی کتاب ’’ابراہام‘‘ کے باب سوم زیر عنوان’’اور عہد ابراہیمی میں‘‘ کی فصل ’’معاشری زندگی‘‘ میں موجود ہیں……گویا عورت کی ’’آزادی‘‘ اور ’’خودمختاری‘‘ جس کا آج یہ غلغلہ بلند ہے، کوئی نوپیدا تحریک نہیں، تہذیب جاہلی، چاہے قدیم ہو ، یا جدید، یہ اس کا جزو تو ہردَو میں رہی ہے!
لیکن کتاب کا یہ ورق ابھی ختم نہیں ہوا۔ مزید تصریحات سرلیونارڈ کی زبان سے ابھی باقی ہے۔ ان ساری آزادیوں کے دوش بہ دوش :
’’ملک کے مندروں میں عصمت فروشی کا بازار بھی گرم تھا۔ مندروں کی پجارنوں کا نیچا طبقہ جو تھا، وہ تو بہ طور بیسواؤں کے، ہرجاتری، ہردرشن کرنے والے کے لئے وقف عام تھا، اور جو اونچے طبقہ کی پجارنوں کو بھی کم ازکم ایک مرتبہ تو اپنے کو دوسروں کے حوالہ کردینا ہوتاتھا۔ عقیدہ تو صرف اتنا تھا، کہ اپنی بکارت کی قربانی پیش کرکے، پجارن دیوتا کے حضور میں بڑی سے بڑی نذر پیش کررہی ہے، اور یہ رسم اُس کی توہین نہیں، اُس کی عزت وعظمت کی دلیل ہے۔ لیکن عملًا یہ رسم مستقل عیاشی میں تبدیل ہوگئی۔ اور حکمائے عصر نے مندر کی ادنیٰ پجارنوں کے خلاف سخت بیزاری کا اظہار کیاہے‘‘۔ (ص: 131)
’آغاز‘ کا ’انجام‘ آپ نے دیکھ لیا؟ جس تہذیب کا آغاز عورت کی آزادی، خودمختاری سے ہواتھا، اُس کا انجام ہواعورت کی بے عصمتی پر……بے عصمتی ہی پر نہیں، بے عصمتی کے اعزاز وتفاخر واکرام پر، بلکہ بے عصمتی کے تقدس پر!
عورت آج پھر’’آزاد ‘‘ ہے۔ ’’حقوق‘‘ اُسے آج پھر مل گئے ہیں۔ کاؤنسل کی ممبر، اسمبلی کی ممبر، پارلیمنٹ کی ممبر آج وہ پھر ہوسکتی ہے۔ عدالتوں میں، وکیلوں اور بیرسٹروں کی گاؤن پہنے، دیوانی وفوجداری کے قانون کی موشگافیاں کرتے آج وہ پھر دکھائی دے رہی ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ علمی ڈگریاں آج وہ پھر حاصل کررہی ہے۔ گھروں کی ادنیٰ ماماگری سے لے کر فوج کے اعلیٰ عہدوں اور منصبوں تک ہرپیشہ ، ہرصیغہ، ہر محکمہ میں آج وہ پھر داخل ہورہی ہے۔ اِن ساری آزادیوں کے ساتھ اگر وہ اپنی عفت وعصمت کے باب میں بھی تھوڑی سی ’’آزاد‘‘ ہوگئی ہے ، تو آخر ہرج ہی کیاہے؟ہرج ہی کیا ہے اگر وہ بے حجاب اور بے نقاب ، بن ٹھن کر، باہر نکلا کرے؟ جسم کو کم سے کم لباس میں ملبوس ہوکر زیادہ سے زیادہ آنکھوں کو دعوتِ نظارہ دیتی رہے؟ مَردوں سے گھُس گھُس کر ملے جُلے؟ یارآشناؤں کے ساتھ، اُن کے جسموں کے اتصال کے ساتھ سرمحفل ، مجمعِ عام میں ناچے، گائے، تھرکے؟ اور یہ چیزیں فیشن میں داخل، اعزاز میں شامل ہوجائیں۔ اور ’’تاریک خیال‘‘ اب وہ عورت نہ رہے ، جو اِن صحبتوں میں بڑھے، بلکہ وہ ٹھہرے جو اِن سے بچے۔ ملامت کے ووٹ اُن پر پاس ہوں جو نیچی نظریں رکھیں۔ قہقہوں اور تالیوں کا شور اُن پر بلند ہو، جو ’’نقاب‘‘ ’’برقع‘‘ ’’پردہ‘‘ جیسی دقیانوسی چیزوں کا نام بھی زبان پر لائیں!……کتنی مشابہ کیسی اشبہ ہے، اسلام کے دوہزار قبل والی تہذیب جاہلی، اسلام سے ڈیڑھ ہزار سال بعد والی تہذیب جاہلی سے!
Https://telegram.me/ilmokitab | 243 |
| 5 | سلسلہ نمبر: 318
انتخاب مطالعہ
تحریر: مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی
*اسلام دشمنی کا مقابلہ کیسے کریں؟*
مغربی دنیا میں اسلام دشمنی کو ختم کرنے کے لئے دانش مندانہ اور مستحکم حکمت عملی اختیار کرکے اسلام اور مسلمانوں کی سچی و صحیح تصویر پیش کرنے والے طاقتور مؤثر ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی سچی اور عملی تصویر پیش کریں، اٹالین اسلامی تنظیم کے صدر شیخ عبد الواحد نے اس پہلو پر زور دیا ہے، وہ کہتے ہیں: مغرب کی اسلام دشمنی کے خاتمہ کے لئے چار طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں:
(۱) ہم حقیقی معنی میں مسلمان ہوں، اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کرکے غیروں کے سامنے اسلامی اخلاق کا نمونہ پیش کریں،جیساکہ ماضی میں اسلاف نے کیا کہ بہت سے ممالک صرف مسلم فاتحین کے اخلاق کی وجہ سے فتح ہوگئے ۔
(۲) طاقتور اور موثر میڈیا کے قیام کو عمل میں لایا جائے اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اسلام کو پیش کیا جائے، کیونکہ رائے عامہ کو مخاطب کرنے کا میڈیا بہترین ذریعہ ہے، لہذا بین الاقوامی سطح پر میڈیا کے ذریعہ مؤثر انداز میں اسلام کی ترجمانی کی جائے۔
(۳) مختلف عالمی زبانوں پر قدرت رکھنے والے داعی تیار کئے جائیں۔
(۴) دنیا بھر میں قائم اسلامی ادارے منافست اور آپسی ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر خدمت دین کے لئے مشترک لائحہ عمل طے کریں، آپس میں اتحاد و تعاون کی روح پیدا کریں اور ایک ہی میدان میں توجہ دینے کے بجائے مختلف میدانوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں، زمانہ کے نئے تقاضوں، خطرات اور چیلنجوں کا لحاظ کرتے ہوئے حکمت و دانائی پر مبنی حکمت عملی اختیار کریں اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی صحیح اور حقیقی تصویر پیش کریں۔
اس سے پہلے مسلمانوں نے مستشرقین کے سلسلہ میں غفلت سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مستشرقین کی تحریروں اور کتابوں کی وجہ سے دماغوں میں اسلام کے ماضی کی طرف سے بدگمانی ، اس کے حال کی طرف سے بے زاری، اس کے مستقبل کی طرف سے مایوسی ، اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلامی مآخذ کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نے اس کوتاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
”ایک صدی سے یورپ ہماری نئی نسل اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ذہنوں اور دماغوں کو خراب کررہا ہے، اس نے ایمانی حقائق و مسلمات پر سے اعتماد اٹھادیا اور دینی عقائد میں شک و شبہ پیدا کردیا، عالم اسلام پر گمراہ کن نئے نئے نظریات اور مادی فلسفے تھوپ دئے،مسلم معاشروں میں بے دینی، الحاد، نفاق اور تشکیکی ذہن پیدا کر دیا،مغرب کے افکار واقدار کی عظمت بٹھادی اور اسلامی تعلیمات اور اصول کی ایسی تشریح کی کہ اس سے اسلامی اقدار کی کمزوری ثابت ہو اور ایک تعلیم یافتہ مسلمان کا رابطہ اسلام سے کمزور پڑ جائے ؛لیکن ہم خواب غفلت کا شکار رہے اور یورپ نے ایک ایسی نسل تیار کردی جسے اپنے دین و ایمان کی پرواہ نہیں،بلکہ وہ اسلام دشمن ہے اور عالم اسلام میں اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آگیا جو اسلام بے زار تھے، انہوں نے ایسے معاشرہ کی تشکیل کی جو صرف نسل اور قومیت میں قدیم اسلامی معاشرہ سے مشابہت رکھتا ہے اور اس کا رخ مغرب اور خالص مادیت کی طرف ہے۔
اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے عالم اسلام کو ایسے اداروں اور اکیڈمیوں کی ضرورت ہے جو صحت مند اور مستند اسلامی معلومات اور اسلامی نقطۂ نظر پیش کریں، صالح اسلامی لٹریچر پیش کریں ،جو نوجوانوں میں دین اسلام پر اعتماد بحال کر سکے اور ان کے دلوں میں اسلامی اقدار و روایات، اسلامی عقائد و مسلمات اور اسلامی تصور حیات سے وابستگی اور محبت پیدا کر سکے،
آج ایسے علماء دین،مسلم محققین اور اہل نظر کی ضرورت ہے جو اس خدمت کو انجام دے سکیں،مستشرقین کا علمی محاسبہ کریں، ان کی تلبیسات کو بے نقاب کریں ، ان کی غلط فہمیوں کو واضح کریں، ان کے مآخذ کی کمزوری اور ان کے اخذ کئے ہوئے نتائج کی غلطی کو روشن کریں اور یہ بتائیں کہ استشراق اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف کیسی گہری اور خطرناک سازش ہے۔
اگر آج مسلمانوں نے میڈیا کے میدان میں یہی کوتاہی کی تو اس کا انجام پہلی کوتاہی کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہوگا؛ کیونکہ موجودہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہےـ
( دعوت اسلامی، مسائل اور اندیشے، صفحہ: ۱۳۸،طبع: دار الرشید،لکھنؤ)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی | 186 |
| 6 | آج اردو کے مایہ ناز ادیب وخاکہ نگار ڈاکٹر اسلم فرخی کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات مورخہ: ۱۵/ جون ۲۰۱۶ء کو ہوئی تھی، اس مناسب سے آپ کا دبی میں جشن یوسفی کے موقعہ پر پڑھا ہوا خاکہ خوشبوئے یوسفی پیش خدمت ہے۔
لنک
https://youtu.be/ckESyfQ7PNI?si=VfV4lRWXrxo71EZ_ | 194 |
| 7 | وفیات مورخہ: 15/جون
1904ء سلامت اللہ جیراج پوری۔ مولانا
1922ء ہاجر دہلوی۔ شاعر
1935ء سید ممتاز علی۔ مولوی، ناشر، مترجم
1960ء حمید (عبدالحمید)۔ ڈاکٹر ،
1979ء کلیم فیض آبادی (شبیر حسین)۔
1989ء اعتماد الحق تھانوی۔ مولانا ،
1994ء صفدر حسین صفدر۔
2003ء شفیق رضوی۔
2004ء زین العابدین۔ مولانا مفتی ، فیصل آباد
2009ء جوگندر۔ نغمہ نگار، گلوکار
2009ء رشید وارثی (عبدالرشید خان)۔ ،
2010ء محمد انور وقار۔ ڈاکٹر ،
2014ء محمد اقبال خاں ۔ حاجی
2016ء اسلم فرخی۔ ڈاکٹر، ادیب
2022ء گوپی چند نارنگ۔ ایب ونقاد
Https://telegram.me/ilmokitab | 202 |
| 8 | وہ دارالمصنفین کے رکن تھے، اور استاذ مرحوم کی نسبت سے اس سے بڑی دلچسپی رکھتے تھے، ان کی فرمایش سے ہمارے فاضل رفیق مولانا عبدالسلام صاحب ندوی نے امام رازی کی سوانح عمری اور ان کے فلسفہ پر تبصرہ کا کام انجام دیا، میں نے مناسب سمجھا کہ اس پر مرحوم سے ایک مقدمہ لکھوایا جائے جس میں امام رازی کے فلسفہ کو یورپ کے فلسفیوں کی نگاہ سے دیکھا جائے، اور موازنہ کیا جائے، افسوس کہ ان کی موت سے یہ کام بھی ناتمام رہ گیا۔
مرحوم کا بچپن مذہبی وصوفیانہ ماحول میں گذرا تھا، اس لئے باایں ہمہ ان پر یہ اثر غالب تھا، طالب علمی ہی میں حضرت مولانا شاہ ابو احمد صاحب مخدومی بھوپالی (مرید شاہ عبدالغنی صاحب مجددی مہاجر) سے لکھنؤ میں بیعت کی تھی، جو اس وقت اتفاق سے لکھنؤ آگئے تھے، اور میں نے بھی ملّامبین کی مسجد میں ان کی زیارت کی اور بھوپال میں تو کئی دفعہ حاضری کا اتفاق ہوا، چونکہ میرے بڑے بھائی صاحب مرحوم بھی انہی سے بیعت تھے، اور خلافت سے ممتاز تھے، اس لئے مرحوم ضیاء الحسن سے میری محبت کی نسبت میں اس نئے رشتہ سے اور مضبوطی پیدا ہوگئی تھی، حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد مرحوم نے حضرت شاہ نجم الدین صاحب فتح پوری سے تعلق پیدا کیا جن سے وہ بچپن سے واقف تھے، کیونکہ دارالعلوم ندوہ کا افتتاح انہی کے مبارک ہاتھوں سے ہوا تھا، ان کی وفات کے بعد ایک اور بزرگ کی طرف انہوں نے رجوع کیا، جو غالباً کہیں آگرہ کے قریب کے تھے، مولانا شاہ ابوالخیر صاحب مجددی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں بھی کبھی کبھی حاضری دی ہے، ذکر و فکر و اشغال میں بھی مصروف رہتے تھے، اور ان کے برکات دوستوں میں کبھی کبھی بیان کرتے تھے۔
افسوس کہ میرے تعلیمی عہد محبت کا یہ نخل بارآور عمر کی ستاون بہاریں دیکھ کر اب ہمیشہ کے لئے مرجھا گیا، حضرۃ الاستاذ نے بھی عمر اتنی ہی پائی تھی، ستاون برس کی عمر کے حساب سے ۱۸۸۸ء یا ۱۸۸۹ء کی پیدائش ظاہر ہے۔
وکنا کندمانی جذیمۃ حبقۃ
من الدھر حتی قیل لن یتصدعا
ہم دونوں ایک مدت تک بادشاہ جذیمہ کے دو مصاحبوں کی طرح ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ کہا گیا کہ اب یہ الگ نہ ہوں گے۔
فلما تفرقا کانی ومالکا
بطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا
پھر جب ہم الگ ہوگئے، میں نے اور مالک نے طول اجتماع کے ہوتے ہوئے بھی گویا ہم نے ایک رات بھی ایک ساتھ نہیں گذاری۔
مرحوم کی دو شادیاں ہوئی تھیں، پہلی بیوی سے ایک لڑکا اور لڑکی، دونوں بالغ ہیں لڑکے کا نام حسن ہے، جو امسال بی۔ اے، بی۔ ٹی ہوئے ہیں، اور ادبی ذوق میں اپنے باپ کی یادگار ہیں۔ دوسری بیوی سے چند بچے ہیں، اور سب چھوٹے اور کم سن۔
اللہ تعالیٰ مرنے والے کی قبر پر رحمت کے پھول برسائے۔ | 295 |
| 9 | مرحوم کو اردو ادب کا ذوق فطرۃً تھا، گھر کا ماحول مشاہیر نظم و نثر کی ان کے ہاں آمدورفت، پیارےؔ صاحب رشید اور مرزا رسوا جیسے نظم و نثر کے ادیبوں سے ان کے خاندانی مراسم تھے، اور پھر بچپن سے لکھنؤ کی سکونت، ان سب کا اثر یہ تھا، کہ وہ اردو روزمرہ کے جان دادہ تھے، شعر بھی کہتے تھے، مگر صرف اپنے لئے، علمی مضامین توحضرۃ الاستاذ مرحوم کی پیروی میں لکھتے تھے، مگر عام انداز تحریر شوخ و شگفتہ روزمرہ کی بول چال کا تھا۔
مرحوم کا پہلا مضمون ’’صحت اور عمر کی درازی‘‘ ہے، جو المقطف مصر کے ایک مضمون کا ترجمہ تھا، اور رسالہ الندوہ ۱۹۰۵ء میں چھپا، اس کے بعد دوسرے مضامین لکھے، جوالندوہ ہی میں چھپائے کیے، ان کا ایک ابتدائی ادبی مضمون اردوئے معلی علی گڑھ میں چھپا، خواجہ غلام الثقلین ان دنوں دارالعلوم کے پاس ایک مکان میں رہتے تھے اور اسلامی کانفرنس کے صیغۂ اصلاح و تمدن کے سکریٹری تھے، اور اس تعلق سے وہ عصر جدید نام ایک ماہانہ رسالہ نکالا کرتے تھے، خواجہ صاحب کے تقاضے اور اصرار سے اس میں بہت سے اصلاحی مضمون لکھے، اور وہ چھپے۔
مرحوم نے عربی سے فراغت پاکر انگریزی کی طرف توجہ کی، جس کا آغاز لکھنؤ میں ہوچکا تھا۔ مگر انجام علی گڑھ میں ہوا، ۱۹۰۹ء میں وہاں سے میٹرک پاس کیا، حضرۃ الاستاذ نے مبارک باد لکھی۔
’’مبارک، تمھارے پاس ہونے سے بے حد خوشی ہوئی، اور تمھاری نسبت حسن ظن بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔ اب تم ضرور کالج میں پڑھوگے، الندوہ میں تم پر نوٹ دوں گا‘‘۔
۱۹۰۹ء میں وہ کالج میں داخل ہوئے، اور ۶ برس میں ایم اے تک تعلیم پائی، اس زمانہ میں عربی کے پروفیسر یوسف ہارویز نام ایک جرمن فاضل تھے، جنھوں نے طبقات ابن سعد کے بعض اجزا کی تصحیح کی، اور جو علی گڑھ میں ۱۹۱۴ء کی گذشتہ جنگ عظیم کے شروع تک رہے، اور اس کے آغاز ہی میں قید ہو کر بعد کو جرمنی واپس چلے گئے تھے، مرحوم کالج میں پہنچ کر ان کے حلقہ میں داخل ہوئے،اور ان پر ایسے چھائے کہ ان کے جزو کل پر حاوی ہوگئے، اُن سے مستشرقین کے معلومات حاصل کیے، کچھ جرمن زبان اور کچھ عبرانی زبان کے سبق پڑھے، مولانا شبلی اور پروفیسر ہارویز کے درمیان ربط و ضبط کا واسطہ مرحوم ہی تھے۔
۱۹۱۶ء میں غالباً انھوں نے ایم اے پاس کیا، اس وقت یوپی کی گورنمنٹ عربی مدارس کی نگرانی کے لئے ایک انسپکٹر کے تقرر پر غور کررہی تھی، مرحوم سے بڑھ کر اس کام کے لئے دوسرا موزوں نہیں ہوسکتا تھا، وہ ایک طرف ٹھیٹھ مولوی اور دوسری طرف ممتاز گریجویٹ تھے، چنانچہ ۱۹۱۷ء میں وہ عربی مدرسوں کے انسپکٹر مقرر ہوئے، اور اسی عہدہ پر آخر تک قائم رہے، ابھی اسی جولائی میں وہ قید ملازمت سے چھوٹنے والے تھے، کہ اس سے چند روز پہلے قید حیات ہی سے آزاد ہوگئے۔
مرحوم نے عربی نصاب، اور اردو فارسی اور عربی کے سرکاری امتحانات کی اصلاح اور ترقی میں بہت بڑا کام کیا ہے۔ جب وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے تو نام کے سوا اس صیغہ میں کچھ اور نہ تھا، لیکن انہوں نے چند برس کے اندر اپنی محنت، لیاقت، اخلاق اور محبت سے چالیس پینتالیس مدرسوں کو اپنا ہمنوا بنالیا اور اصلاح نصاب کا وہ خاکہ جو استاذ مرحوم صرف ندوہ کی حد تک کھینچ سکے تھے ان کے لائق شاگرد کے ہاتھوں وہ پورے صوبہ کے دائرہ میں وسیع ہوگیا۔
مرحوم کو کتابوں کا بہت شوق تھا، وہ خود بھی ہر قسم کی علمی کتابیں عربی اور انگریزی کی خریداری کرتے تھے، ان کا مطالعہ برابر جاری رہتا تھا، اور اہل علم دوستوں سے مسائل علمیہ پر مباحثہ کرتے تھے۔
ان کی علمی یادگار وہ چند ابتدائی مضامین ہیں جو الندوہ میں چھپے، یا اسلامی جہازوں پر ان کا وہ مضمون ہے، جو ۱۹۱۰ء کے قریب علی گڑھ منتھلی میگزین میں چھپا، اور حضرت الاستاذ کی پسند سے انعام کا مستحق ہوا، اسی طرح عصر جدید کے اصلاحی مضامین بھی ہیں، جو کبھی ان کے نام سے اور کبھی بے نام چھپے، آخر میں ان کا طویل مضمون جو ’’یاد ایام‘‘ کے عنوان سے جدید الندوہ میں ۱۹۴۱ء کے آٹھ نو نمبروں میں شائع ہوا تھا ذکر کے قابل ہے، یہ گویا ان کی آپ بیتی ہے جس میں جگ بیتی کے بہت سے دلچسپ مناظر شامل ہیں، اس مضمون میں لکھنؤ کی زبان کا مزہ اور روزمرہ کا چٹخارا ایسا تھا کہ سب اہل ذوق نے اس کو بیحد پسند کیا، افسوس کہ یہ کہانی ناتمام رہی۔
ان کو ادب سے فطری ذوق تھا، الف لیلہ ولیلہ جو عربی داستان سرائی کی بے مثال کتاب سمجھی جاتی ہے، اس کے اردو ترجمہ کی امنگ ان کے دل میں ایک مدت سے تھی، چنانچہ انہوں نے ایک زمانہ سے اس کام کو شروع کررکھا تھا، اس ترجمہ میں اس کا بھی خاص اہتمام تھا کہ عربی شعروں کا ترجمہ اردو ہی شعروں میں ہو، معلوم نہیں یہ چیز کہاں تک پہنچی، سبعہ معلقہ میں سے امراء القیس کے قصیدہ کا ترجمہ اردو نظم میں کیا تھا۔ | 230 |
| 10 | *ضیاء الحسن علوی مرحوم .تحریر: علامہ سید سلیمان ندوی*
افسوس کہ میرے رفیق قدیم اور صدیق حمیم مولوی ضیاء الحسن صاحب علوی ندوی نے ایک مختصر علالت کے بعد ۱۴؍ جون ۱۹۴۵ء کو الہ آباد میں جہاں وہ عربی مدرسوں کے انسپکٹر اور مشرقی امتحانوں کے رجسٹرار تھے ستاون برس کی عمر میں وفات پائی، اس حادثہ کی اطلاع مجھے ۱۸؍ جون کو لکھنو میں اسی مدرسہ میں ملی جہاں میں اور مرحوم مل کر ایک جان دو قالب ہوئے تھے، افسوس کہ ایک قالب خالی ہوگیا، اور دوسرا نیم جان موجود ہے، مرحوم مجھ سے عمر میں تقریباً پانچ برس چھوٹے (گو تعلیم کے درجہ میں وہ ایک سال بڑے تھے) اس لئے بظاہر امید یہی تھی کہ انہی کو میری جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑے گا، مگر تقدیر یہی تھی کہ مجھے ان کے فراق کا غم سہنا پڑے اس لئے امید غلط ثابت ہوئی، اور تقدیر کا فرمان نافذ ہوکر رہا۔
اکنوں چہ تواں کرد کہ تقدیر چنیں بود
مرحوم کا کوری ضلع لکھنؤ کے مشہور علوی خاندان کے چشم و چراغ تھے، دارلعلوم ندوۃ العلماء کے حامیوں بلکہ بانیوں میں رؤساء کا جو طبقہ شامل تھا، ان میں منشی محمد اطہر علی صاحب مرحوم کا نام بہت جلی ہے، یہ خاندان قطب وقت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا ارادتمند و معتقد تھا، جو ندوہ کی تحریک کے روحانی مرکز و مدار تھے، اس لئے جب ۱۸۹۸ء (۱۳۱۶ھ) میں لکھنو میں ندوہ کا دارالعلوم کھلا تو منشی صاحب مرحوم نے اس درس گاہ کو اپنے سب سے چھوٹے بچے اور ایک ننھے بھتیجے کو نذر کیا، یہی ننھا بھتیجا مولوی ضیاء الحسن صاحب علوی ندوی تھے، دارالعلوم کے طلبہ کے داخلہ میں ان کا نمبر شاید دوسرا تیسرا تھا، عربی کی پوری تعلیم یہیں حاصل کی اور یہیں سے فراغت پائی۔
یوں دارالعلوم کے سارے اساتذۂ وقت مولانا حفیظ اللہ صاحب، مولانا عبدالشکور صاحب (اڈیٹر النجم) عبداللطیف صاحب سب ہی سے تعلیم پائی تھی، مگر جس کی تعلیم نے ان کے لوح دل میں علم و فن کے ذوق کا نقش اولین بنایا، وہ دارالعلوم کے صدر مدرس مولانا فاروق صاحب چریا کوٹی تھے، وہ ادب اور معقولات کے امام تھے، اور یہی دونوں فن مرحوم کی گھٹی میں پڑے، اور عمر بھر انہی سے ان کو ذوق رہا۔
۱۹۰۴ء میں مولانا شبلی مرحوم حیدرآباد سے جب لکھنؤ دارالعلوم میں پہلے پہل آئے تو جو طلبہ ان کے حلقہ میں پہلے بیٹھے، ان میں سب سے پہلا نام مولوی ضیاء الحسن مرحوم کا ہے، چنانچہ مولانا کی مردم شناس نگاہ نے ان کے ذوق اور استعداد کو تاڑ لیا، مولانا کے حیدرآباد واپس چلے جانے کے بعد مرحوم نے جو سب سے پہلا خط ان کو لکھا، اس کا جواب مکاتیب شبلی کی دوسری جلد میں موجود ہے، خط ۱؎ کے آخر میں ہے:
’’میں چاہتا ہوں کہ چند روز تک آپ کا اور میرا ساتھ رہتا، تاکہ میں ادب اور فلسفہ کی بعض کتابیں آپ کو پڑھاتا، اور مضمون نگاری کی بھی تعلیم دیتا، دیکھئے کب خدا موقع لاتا ہے‘‘۔ (شبلی ۴؍ جنوری ۱۹۰۴ء)
اس کے بعد جون ۱۹۰۵ء میں ندوہ تشریف لے آئے اور جس موقع کا انتظار تھا، وہ جلد مل گیا، مرحوم کے بعد اس طلب میں ان کا دوسرا رفیق سفر راقم الحروف تھا، ہم دونوں نے حضرۃ الاستاذ کے سامنے زانوئے ادب تہ کئے، اور علم کلام، معقولات اور اعجاز القرآن کے اسباق شروع ہوئے، مرحوم مجھ سے زیادہ دلیر اور بے تکلف تھے، وہ پرائیوٹ صحبتوں میں بھی شریک ہوتے تھے، اور ہر روز علم کا نیا فیض حاصل کرتے تھے، اسی زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد ندوہ ہی میں مولانا کے پاس مقیم تھے، مولانا حمید الدین صاحب مصنف نظام القرآن بھی آیا کرتے تھے، اور ہفتوں ندوہ میں رہا کرتے تھے، مولانا عبداللہ عمادی اڈیٹر البیان بھی لکھنؤ میں مقیم اور اکثر صحبتوں میں شریک ہوتے تھے، خواجہ غلام الثقلین بھی آتے جاتے رہتے تھے مرحوم ان لوگوں کے ساتھ بے تکلف ملتے جلتے تھے، اور اس خوانِ ادب سے بہرہ ور ہوتے تھے۔
مرحوم کو جدید علوم کے حصول کی طرف میلان مرزا ہادی صاحب رسوا (سابق عربی پروفیسر کرسچین کالج لکھنؤ) کی صحبتوں اور ملاقاتوں سے ہوا، وہ عربی کے عالم، انگریزی کے گریجویٹ اور جدید فلسفہ اور ریاضیات کے ماہر تھے، آخر میں دارالترجمہ عثمانیہ سے متعلق ہوکر فلسفہ کی متعدد کتابیں اردو میں ترجمہ کیں۔ مولانا شبلی نے ایک دفعہ ان کو مدرسہ میں ہم چند طلبہ کو جدید فلسفہ پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا، مگر وہ بڑے لااُبالی تھے، چند سبق سے زیادہ کا معاملہ ان سے نہ چل سکا۔
بہر حال مرحوم نے ۱۹۰۵ء میں عربی تعلیم سے فراغت پائی، اور ۱۹۰۶ء کے مشہور جلسہ دستار بندی میں میرے ساتھ ہی ان کی بھی دستار بندی ہوئی، اس جلسہ میں انھوں نے اعجاز القرآن کے موضوع پر ایک عالمانہ تقریر کی تھی، جو بعد کو مرتب ہو کر الندوہ میں شائع ہوئی، اور مدح و تعریف کی مستحق ہوئی۔ | 209 |
| 11 | آج اردو دنیا کے عظیم ادیب گر صلاح الدین احمد مدیر ادبی دنیا لاہور کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ : ۱۴ جون ۱۹۶۴ء کو ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک نادر ویڈیو کی لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام سے پیش کی جارہی ہے۔
عنوان: کتابوں کے قبرستان
بیان وآواز: صلاح الدین احمد مدیر ادبی دنیا لاہور
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=kitaboun-kay-qabrastan, Kitaboun Kay Qabrastan | 239 |
| 12 | *وفیات مورخہ: 14/جون*
1889ء عبد الغفور نساخ۔ شاعر ،
1902ء عبد الرحمن الکواکبی۔ عرب مفکر ،
1945ء ضیاء الحسن علوی، سید۔ مولانا ، پروفیسر
1964ء صلاح الدین احمد۔ مولانا ، مدیر ادبی دنیا لاہور
1971ء حبیب اشعر دہلوی (حکیم حبیب احمد)۔ مدیر فنون لاہور ،
1988ء اکبر علی نقشبندی۔ پیر ،
1998ء رحمان گل۔ لیفٹننٹ جنرل ،
2001ء احمد زاہد۔ ،
2001ء شوکت الٰہ آبادی (محمد زبیر فاروقی)۔ شاعر ،
2003ء ہاشم علی اختر، سید۔
2007ء خلیل احمد۔ مولانا
2007ء کورٹ والڈاہیم۔ سکرٹری جنرل اقوام متحدہ ،
2011ء ابرار عابد۔ ،
2018ء شجاعت بخاری۔ صحافی ،
Https://telegram.me/ilmokitab | 213 |
| 13 | یہ سُنتے ہی امام صاحبؒ سڑک پر غش کھا کر گر پڑے ــــ ہوش آنے پر جب پوچھا گیا کہ ایک لڑکے کی بات پر اس قدر متاثر ہونے کی کیا ضرورت تھی تو فرمایا " کیا عجب کہ اس کی زبان سے غیبی آواز نے مجھے تنبیہہ کی ہو!"
ایک دفعہ کسی کو مسئلہ بتارہے تھے کہ وہ شخص کہ اُٹھا:
ابو حنیفہؒ ! خدا سے ڈر کر فتوی دیا کرو " یہ الفاظ سنتے ہی امام صاحبؒ خوف وخشیّت سے پيلے پڑ گئے۔ تھر تھراتی ہوئی آواز میں فرمایا " بھائی خُدا تمہارا بھلا کرے اگر مجھ کو یہ یقین نہ ہوتا کہ خدا مجھ سے مواخذہ کرے گا کہ تو نے جان بوجھ کر علم کو کیوں چھپایا تو مَیں ہرگز زبان نہ کھولتا!"
مشہور بزرگ حضرت فضیل بن عیاضؒ نے جب یہ سُنا کہ امام صاحبؒ کو اگر کسی مسئلے میں ذرا دشواری پیش آتی تو یہ سوچ کر رونے لگتے کہ ضرور کسی گناہ کی شامت میں پکڑ ہوگئی ہے فوراً وضو کرتے ــــ خدا کے آگے سجدہ ریز ہو جاتے اور رو رو کر تو بہ کرتے تھے۔" یہ معلوم کر کے حضرت فضیلؒ پکار اُٹھے کہ : ابو حنیفہؒ کے گناہ بہت کم تھے اس لیے ان کو یہ خیال دامن گیر ہوتا تھا جو لوگ گناہوں میں سر سے پاؤں تک ڈُوبے ہوئے ہیں ان پر ہزار آفتیں آتی ہیں اور مطلق احساس نہیں ہوتا کہ یہ کوئی غیبی تنبیہہ بھی ہو سکتی ہے ۔"
ہاں یہ اسی بندۂ مومن ہی کا تو واقعہ ہے کہ ایک دن ان کے ملازم نے دوکان کھولی اور بطور فال نیک کے یہ کہہ دیا : "خدا ہمیں جنّت دے“ امام صاحبؒ نے یہ الفاظ سُنے اور خشوع بندگی کی شدّت سے آب دیدہ ہو گئے۔ روتے روتے ہچکی بندھ گئی ۔ دوکان پر بیٹھنا دو بھر ہو گیا ۔ دوکان بند کرائی اور کسی جنگل کی طرف روتے ہوئے نکل گئے واپس آئے اور قدرے سکون ہوا تو ملازم سے کہا ہم اس قابل کہاں ہیں کہ ایسی بڑی بات مُنہ سے نکالیں ــــ ارے ہماری جان عذاب سے ہی بچ جاتے تو بڑی خیریت ہوگی ۔" یہ کہہ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد دلایا جو فرمایا کرتے تھے کہ اگر حساب برابر برابر بھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ ســستا چھوٹا ۔
___
ایسے ہوتے وہ لوگ جو " مسلمان " کہلائے ـــــ اور ایک ہم بھی ہیں۔ خُدا کے حسین آسـتانے سے بھاگ بھاگ کر ذلیل دنیا کے قدموں پر ناک رگڑنے والے ـــــ ! اور ہم مسلمان ہیں ! ہائے یہ احسانِ عظیم کہ خدا نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور ہائے یہ جاں گداز مسئلہ کہ ابھی ہمیں مسلمان ہی مرنا باقی ہے ـــــ لیکن ..... بس.....
وائے بر حالِ ما!!
Https://telegram.me/ilmokitab
_______ | 225 |
| 14 | کیا ہم مسلمان ہیں (٤١) سورج چھپ گیا.... روشنی باقی ہے (پانچويں اور آخری قسط)
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
پُرانے زمانے کی مخصوص بڑی بوڑھیوں کی طرح امام صاحبؒ کی والدہ کو شہر کے واعظوں سے بڑی عقیدت تھی ۔ وہ دینی مسئلہ میں کوئی تحقیق کرنا چاہتیں تو امام صاحبؒ سے پوچھنے کے بجائے ان کو شہر کے مشہور واعظ عمرو بن زرقہؒ کے پاس دوڑایا کرتی تھیں اور وقت کا جلیل القدر امام اپنی ماں کے حکم کی تعمیل میں ایک طالبِ علم کی طرح واعظِ شہر کی خدمت میں حاضر ہوتا تو خود عمرو بن زرقہؒ پکار اُٹھتے " ارے بھئی ! ــــ آپ کے سامنے میں کیا منہ کھول سکتا ہوں امام صاحب ــــ!"
"نہیں" امام صاحبؒ بوڑھی والدہ کے سعادت مند بیٹے کے انداز میں عجز و انکسار کے ساتھ اصرار کرتے " نہیں آپ ہی فرمائیے ۔ اماں جی نےایسا ہی حکم دیا ہے۔"
"اچھا تو آپ مجھے یہ مسئلہ بتا دیجیے ۔" واعظ شہر لاچار ہو کر کہتے " میں اس کو آپ کے سامنے دہرا دوں گا۔"
کبھی کبھی والدہ کے شک وشبہ سے نوبت یہاں تک آتی کہ وہ حکم دیتیں مجھے خود ورقہ واعظ کے پاس لے کر چلو، میں خود مسئلہ معلوم کروں گی ـــ اور فوراً امام صاحبؒ اپنی محترمہ ماں کو خچر پر سوار کراتے لگام ہاتھ میں لے کر پیادہ پا ساتھ ساتھ دوڑتے اور ماں کی تسلّی کرا کے ان کے دل و رُوح کو سکون ہوتا تھا۔
__***___
دوسروں کے لیے رِقّتِ قلب کا تو یہ عام تھا کہ کِسی کی تکلیف دیکھنا تو کیسا سکون سے سُن بھی نہ سکتے تھے ۔ ایک دفعہ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ کسی نے خبر سُنادی کہ فلاں شخص کو ٹھے پر سے نیچے گر پڑا ۔ امام صاحبؒ کے دل پر بجلی سی گری اور وہ دفعتًہ اس زور سے چیخ اُٹھے کہ مسجد میں تہلکہ پڑ گیا۔ حلقۂ درس چھوڑ چھاڑ کر ننگے پاؤں اس شخص کے گھر دوڑے ہوئے آئے اور بہت کچھ دلاسا دے کر واپس ہوئے اور جب تک وہ شفایاب نہ ہوگیا امام صاحبؒ نے اس کی عیادت کو ناغہ نہ ہونے دیا ۔
دُوسری طرف خود اپنے لیے اس قدر مستقل مزاج اور خطر پسند حد تک جری تھے کہ مسجد میں درس دے رہے تھے اور ایک سیاہ سانپ چھت سے گر کر امامؒ کی گود میں آپڑا ــــــــ تمام لوگ بے اختیار گھبراکر بھاگے اور امام صاحبؒ ــــــــ ؟ وہ تو اطمینان سے وہیں کے وہیں بیٹھے ہوئے تھے!
___
"امام صاحبؒ" ایک بار کسی نے حیرت کا اظہار کیا " لوگ آپ کی شان میں کیا کچھ نہیں کہتے مگر آپ ہیں کہ آپ کی زبان سے کبھی کسی کی بُرائی سننے کو کان ترستے ہیں !"
"ہاں بھائی ! " امام صاحبؒ نے سکون اور احساسِ نعمت کا ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے کہا " یہ خدا کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے عطا کرتا ہے-"
امام سفیان ثوریؒ کے سامنے ایک بار ذکر آیا کہ ابو حنیفہؒ کی زبان سے کبھی کسی کی غیبت نہیں سُنی گئی ۔ امام ثوریؒ نے کہا " ابوحنیفہؒ ایسے بے وقوف نہیں کہ اپنے اعمال صالح کو برباد کرتے پھریں۔"
_____
انسانوں کے درمیان جس شخص کی شرافت و پاک بازی کا یہ عالم تھا وہ جب خدا کے سامنے جاتا تھا تو اس کا عالم دیدنی ہوتا ــــ نماز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے کرتے ان کی آواز کانپ اُٹھتی ،اگر یہ طاری ہوتا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا کرتے تھے ۔ ابراہیم بصریؒ نے دیکھا کہ نمازِ فجر میں امام صاحبؒ نے قرآن کی ایک آیت پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ " خدا کو ظلم کرنے والوں کی چال سے بے خبر نہ سمجھ لینا " امام صاحبؒ پر خشیت کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کھڑے کھڑے پورے جسم پر لرزہ پڑ گیا اور ٹانگیں تھر تھرانے لگیں ، دوسرے شخص زائدہ کا کہنا ہے کہ میں ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ کے ساتھ شریک ہوا اور منتظر بیٹھا رہا کہ وہ نوافل سے فارغ ہوں تو فلاں مسئلہ دریافت کروں ۔ مگر امام صاحبؒ قرآن پڑھتے پڑھتے وَوَقٰنَا عَذَابِ السَّمُومْ کے ٹکڑے پر پہنچے تو جیسے اس آیت کی زہرہ گدازیوں نے ان کو خوفِ عذاب سے بے قرار کر دیا ــــ رات بھر وہ یہی آیت پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک کہ ســپیدۂ سحر نمودار ہو گیا ۔
مشہور ہم عصر عابد یزید بن کمیت نے کہا کہ ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ نے " اِذَا زُلْزِلَت " پڑھی لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے۔ میں ٹھہرا رہا۔ دیکھا کہ امام ابو حنیفہؒ سر جھکائے استغراق میں بیٹھے ہیں اور رہ رہ کرٹھنڈی آہیں بھرنے کی آواز ان کے سینے سے نکلتی ہے اور ڈوب جاتی ہے ۔ ان کی اس غم ناک کیفیت میں خلل انداز ہونے کے بجائے مَیں چپکے سے اُٹھ کر چلا آیا۔ صبح کی نماز کو پہنچا تو دیکھا کہ امام صاحبؒ اسی عالم میں اسی جگہ بیٹھے ہیں اور داڑھی ہاتھ میں ہے اور سـسکیاں بھرتے ہوئے خُدا سے کہہ رہے ہیں "اے وہ جو ذرّہ بھر نیکی اور بدی کا بدلہ دے گا۔ اپنے غلام نعمان کو آگ سے بچائیو۔ آگ سے بچائیو!!"
____
ایک دن بازار میں چلے جارہے تھے کہ کسی لڑکے کے پاؤں پر پاؤں پڑ گیا وہ چیخ اُٹھا اور کہا:
" "تو خُدا سے نہیں ڈرتا ؟ | 257 |
| 15 | شروحِ تورات کی افادیت
مولانا احمد رضا بجنوری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا کہ تورات کی شروح میں بہت سی چیزیں مسلمانوں کے لیے کار آمد ہیں، مثلاً: عرب و شام وغیرہ کا پورا جغرافیہ، انبیاء علیہم السلام کی پیدائش و نسب وغیرہ کے حالات اور اس میں سے تمام وہ باتیں لی جاسکتی ہیں، جو اسلام کے خلاف نہ ہوں۔
(افاداتِ علامہ کشمیریؒ و علامہ عثمانیؒ/صفحہ: ۵۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab | 352 |
| 16 | طبعة الخانجي لتاريخ بغداد | 400 |
| 17 | لا يوجد نص... | 402 |
| 18 | ’ننگی‘ کا لفظ منفی معنوں ہی میں استعمال نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کسی کی جرأت، بے باکی، بے خوفی اور صاف گوئی کی تحسین کے لیے بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ”فلاں صاحب تو ننگی تلوار ہیں“۔جب کہ حقیقتاً ننگی تلوار وہ تلوار ہوتی ہے جو میان (یا نیام) میں نہ ہو۔ تلوار جب تک نیام میں رہتی ہے، تب تک اُس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی ننگی تلوار نیام سے باہر لیے گھوم رہا ہو تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آج وہ کسی کا کام تمام کرنے جا رہا ہے۔ تلوار نہ ہو تو چھری سے بھی کام چل جاتا ہے، مگر کوئی چھری تلے آنے والا دستیاب تو ہو۔ اشرفؔ کہتے ہیں:
دل لگی اس کی نہ تھی، خوش اس لیے قاتل نہ تھا
ہاتھ میں ننگی چھری تھی، سامنے بسمل نہ تھا
چھری اور تلوار ہی نہیں، کوئی بھی شے اپنے غلاف، لباس یا آپے سے باہر ہو تو اُسے ’ننگا‘ قرار دے ڈالا جاتا ہے۔بجلی کے تار پربطور ’حاجز‘ پلاسٹک کا جو ملمع چڑھایا جاتا ہے، اگر تار اُس کے بغیر ہو توبجلی کا وہ تار ’ننگا تار‘ کہلائے گا۔ایسا پہاڑ جو سبزے کی پوشاک سے عاری ہو، نہ اُس پر گھاس اُگتی ہو، نہ اُس پر پھول کھلتے ہوں، اُسے ’ننگا پہاڑ‘ کہا جاتا ہے۔ جس زمین پر سبزہ نہ ہو،اور بیٹھنے کے لیے کوئی چٹائی وغیرہ نہ بچھائی گئی ہو، وہ زمین ’ننگی زمین‘ ہے اور ایسا فرش ’ننگا فرش‘۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت کو بھی’ننگا پیڑ‘ کہتے ہیں۔ہاتھی یا گھوڑے کی پیٹھ پر اگر ہودج یا زین نہ ہو تو اُس کی پیٹھ ’ننگی پیٹھ‘ کہلائے گی۔ کسی خاتون کے ہاتھ میں چُوڑی یا کوئی اور زیور نہ ہوتوایسے خالی زنانہ ہاتھ کوخود خواتین ’ننگا ہاتھ‘ قرار دیتی ہیں اور جو ناچ کپڑوں کے بغیر ناچا جائے اُسے اہلِ نظر یا اہلِ نظارہ ’ننگا ناچ‘ کہوے ہیں۔یہی ناچ دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین ناچ ہے،جو وہ بڑی دھوم دھام سے اُس وقت تک ناچتے رہتے ہیں جب تک چکرا کر دھڑام سے گر نہ جائیں۔ بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
٭٭
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 422 |
| 19 | *غلطی ہائے مضامین*
*دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین رقص*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
’ننگ‘ کا لفظ ہمارے ہاں فارسی سے آیا تھا۔یہاں آتے ہی ’ننگا‘ ہوگیا۔ مگر لفظِ ننگ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی ہیں ’شرم، لحاظ، غیرت، حیا،خِفّت، رُسوائی، عیب، ذلت، سُبکی، بدنامی، فضیحتی اور عار‘۔نواب مصطفی خان شیفتہؔ کایہ شعر اُن لوگوں کی شان میں اکثر پڑھا جاتا ہے، جن کو شہرت حاصل کرنے کی دُھن میں شرم، لحاظ، رسوائی، ذلت، سُبکی یا خِفّت کااحساس چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہوتے ہیں۔شعر سن کر بھی مُسکراتے رہتے ہیں۔جی چاہے توآپ بھی یہ شعر پڑھ کراُن پر مُسکرا لیجے:
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟
نام کے ساتھ ’ننگ‘ لگا کر ’ننگ و نام‘ کہا جائے تو اس کا مطلب عزت و حرمت اور عفت و عصمت لیا جائے گا۔اسی مفہوم کو ’ننگ و ناموس‘ کی ترکیب سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔غالبؔ نے عشق کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر برباد کر لیا،بے عزت ہوئے اور پچھتاتے پھرے کہ
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ بے ننگ و نام ہے“
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو میں
گھر کے لوگوں کی ذلت و رُسوائی کا سبب بن جانے والے شخص کو ’ننگِ خاندان‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مراد ہے خاندان کی عزت و ناموس کو بٹّا لگانے والا۔ بٹّا لگانے والے تو ملک و ملت کی عزت و ناموس کو بھی بٹّا لگا دیتے ہیں۔علامہ اقبالؔ نے ”جاوید نامہ“ میں ارواحِ رذیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ صرف ’دو تَن‘ (یعنی دو افراد) کے ذاتی مفادات کی تکمیل میں پوری قوم کی رُوح کچلی گئی:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
دین و وطن اور آدمیت کی بدنامی بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’ننگ‘ اُردو میں عریانی، بے لباسی اور مفلسی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بالکل برہنہ شخص کو ’ننگ دھڑنگ‘ کہہ دیا جاتا ہے، مجازاً بے شرم اور بے حیاکو کہتے ہیں۔ ’ننگ دھڑنگ‘ ایسے مفلس کو بھی کہا جاتا ہے جس کے پاس پہننے کو لنگوٹی تک نہ ہو۔مثلاً:”کاروبار میں نقصان کے بعدنتھو تو بالکل ننگ دھڑنگ ہوگیا ہے“۔
’لنگوٹی‘ کے ذکر پر یاد آیا کہ مولانا ظفر علی خان نے اقبالؔ کے محولہ بالا شعر کی ایک تضمینِ معکوس (Parody) کی ہے۔برعظیم کے دو مشہور لیڈر، موہن داس کرم چند گاندھی اور اچاریہ ونوبا بھاوے اپنی سادگی کا اظہار کرنے کو مجمعِ عام میں بھی ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے، فقط ایک لنگوٹی سے سترپوشی کیے ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کو ستمبر1921ء میں مدراس کے دورے کے موقعے پر احساس ہوا کہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی اُنھوں نے غربا سے اپنا فاصلہ گھٹانے کا فی الفور فیصلہ کیا اور ملک کے کم لباسوں سے یکجہتی کا اظہارکرنے کو اپنے تن کے کپڑے بھی اُتار کر کم کر دیے۔ اچاریہ ونوبا بھاوے نے بھی گاندھی جی کی تقلید کی۔ اِس پر مولانا ظفر علی خان نے برعظیم کے اِن دونوں عظیم لیڈروں کو اپنے اس شعر سے خراجِ تضمین پیش کیا:
گاندھی از گجرات، بھاوے از دکن
ننگے پاؤں، ننگے سر، ننگے بدن
اقبالؔ کے شعر میں جن دو ”لیڈروں“ کا نام آیا ہے، اُنھوں نے تو برعظیم میں انگریزوں کی آمد کے موقعے پر ’ننگئی‘ دکھائی تھی، جب کہ مولانا ظفر علی خان کے شعر میں جگہ پانے والے دونوں لیڈروں نے وہ زمانہ پایا جب انگریز برعظیم سے روانہ ہونے والے تھے۔
’ننگا‘ کا استعمال ’مفلس‘ کے معنوں میں اُس ”گزارشِ مصنف بحضورِ شاہ“ میں بھی ملتا ہے، جو چچا غالبؔ نے اپنی تنخواہ کی ادائی سالانہ کی جگہ ماہانہ کروانے کو بطور منظوم درخواست دربارِ شاہی میں کی تھی۔عُذر اور عرض داشت دونوں ملاحظہ فرمائیے:
آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟
میری تنخواہ کیجیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار
زندگی خواتین کی زیادہ دُشوار ہوتی ہے۔ اُنھیں زرتار لباس بھی درکار ہوتے ہیں اور گہنا پاتا یعنی زیور بھی۔کسی خاتون کے پاس زیور ہو نہ زرتار لباس، یعنی وہ مفلس و قلاش اور تہی دست ہو، تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے کہ ”ننگی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی“۔ اس ضرب المثل کو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں، مگرمرد ضرب المثل کے الفاظ بدلنے کی حماقت نہ کریں۔شادؔ عظیم آبادی نے اپنی مفلسی کا اظہار یوں کیا تھا:
کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
کیا ننگی نہائے، کیا نچوڑے
جب کہ انشاء اللہ خان انشاؔ نے دنیا ہی کو بے لباس بمعنی مفلس و قلاش قرار دے ڈالا تھا:
کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے | 334 |
| 20 | اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
. ڈاکٹر محمد سہیل شفیق - June 12, 2026
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور
کی انتہاپسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
مصنف : ڈاکٹر رضا علی عابدی
صفحات : 300 قیمت: درج نہیں
ناشر : افق پبلی کیشنز، کراچی
رابطہ : 03023227850
اسلام کا تصورِ اعتدال زندگی کے ہر پہلو میں توازن، میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے۔ قرآن کریم نے امتِ مسلمہ کو ’’اُمَّۃً وَسَطاً‘‘ (درمیانی امت) قرار دیا ہے، تاکہ وہ افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرتی تعلقات… اسلام انسان کو ایسا معتدل رویہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو نہ حد سے تجاوز ہو اور نہ کوتاہی۔ یہی اعتدال روحانی بلندی، معاشرتی ہم آہنگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
پیشِ نظر مقالہ ’’اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ‘‘ جناب علی رضا عابدی کا پی ایچ۔ ڈی کا تحقیق مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر حافظ محمد ثانی (انچارج ڈین کلیہ معارفِ اسلامیہ، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی) کی زیرِ نگرانی مکمل کیا ہے۔ فاضل مقالہ نگار نے اس تحقیق میں اسلام کے بنیادی اصول ’’اعتدال‘‘ کو موضوع بنایا ہے اور معاصر دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ موضوع عصرِ حاضر کے اہم ترین علمی و فکری مباحث میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اعتدال اسلامی فکر کا بنیادی جوہر ہے اور انتہا پسندی عصرِ حاضر کا سب سے بڑا عالمی بحران۔
مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلام اور اعتدال کی وضاحت، دوسرے میں موجودہ دور کی انتہا پسندی کا جائزہ، تیسرے میں اسلام کی تعلیماتِ تحمل اور چوتھے میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے اعتدال کی راہوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور اس کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی دی ہیں۔
اگرچہ بعض مباحث غیرضروری طور پر طویل ہیں ، تاہم مجموعی طور پر یہ تحقیق اسلام کے اعتدال پسند مزاج کی توضیح اور انتہا پسندی کے انسداد کے سلسلے میں ایک مفید اور بامقصد کاوش ہے۔
دعا ہے کہ یہ مقالہ موجودہ دور کے فکری اور عملی چیلنجز کو سمجھنے اور اسلام کے اعتدال کے پیغام کو فروغ دینے میں معاون و مفید ثابت ہو۔ | 267 |
متاح الآن! بحث تيليغرام 2025 — أهم رؤى العام 
