علم و کتاب
الذهاب إلى القناة على Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
إظهار المزيد8 191
المشتركون
-424 ساعات
-177 أيام
+4730 أيام
جاري تحميل البيانات...
القنوات المماثلة
سحابة العلامات
لا توجد بيانات
هل تواجه مشاكل؟ يرجى تحديث الصفحة أو الاتصال بمدير الدعم الخاص بنا.
الإشارات الواردة والصادرة
---
---
---
---
---
---
جذب المشتركين
سبتمبر '26
سبتمبر '26
+1
في 0 قنوات
أغسطس '26
+170
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '26
+189
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '26
+218
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '26
+228
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '26
+163
في 1 قنوات
Get PRO
مارس '26
+62
في 2 قنوات
Get PRO
فبراير '26
+89
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '26
+95
في 2 قنوات
Get PRO
ديسمبر '25
+81
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '25
+109
في 1 قنوات
Get PRO
أكتوبر '25
+105
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '25
+119
في 1 قنوات
Get PRO
أغسطس '25
+173
في 2 قنوات
Get PRO
يوليو '25
+151
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '25
+140
في 2 قنوات
Get PRO
مايو '25
+95
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '25
+105
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '25
+153
في 2 قنوات
Get PRO
فبراير '25
+131
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '25
+278
في 1 قنوات
Get PRO
ديسمبر '24
+403
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '24
+500
في 2 قنوات
Get PRO
أكتوبر '24
+487
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '24
+322
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '24
+322
في 3 قنوات
Get PRO
يوليو '24
+323
في 4 قنوات
Get PRO
يونيو '24
+341
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '24
+331
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '24
+300
في 3 قنوات
Get PRO
مارس '24
+265
في 1 قنوات
Get PRO
فبراير '24
+321
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '24
+403
في 3 قنوات
Get PRO
ديسمبر '23
+376
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '23
+132
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '23
+124
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '23
+92
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '23
+121
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '23
+116
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '23
+77
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '23
+253
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '23
+81
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '23
+49
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '23
+126
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '23
+137
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '22
+123
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '22
+209
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '22
+119
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '22
+62
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '22
+40
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '22
+44
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '22
+138
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '22
+42
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '22
+17
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '22
+31
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '22
+28
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '22
+56
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '21
+112
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '21
+52
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '21
+112
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '21
+64
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '21
+43
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '21
+63
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '21
+164
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '21
+38
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '21
+60
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '21
+103
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '21
+80
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '21
+211
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '20
+1 362
في 0 قنوات
| التاريخ | نمو المشتركين | الإشارات | القنوات | |
| 03 سبتمبر | 0 | |||
| 02 سبتمبر | 0 | |||
| 01 سبتمبر | +1 |
منشورات القناة
| 2 | تفسیر موجودہ اردو تراجم و تفاسیر میں ایک نمایاں مقام کا مستحق ہے۔
حق تعالیٰ فاضل مؤلف کو اس کا اجرِ جزیل اور مسلمانوں کو اس سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے اور جناب ناشر نے جس ذوق و شوق اور اہتمام و انتظام کے ساتھ شائع کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو بھی اس کا بدلہ عنایت فرمائے! (اپریل ۱۹۵۳ء)
تفسیر ماجدی (جلد دوم)
از: مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۷۴۷ صفحات۔ کتابت و طباعت: بہتر۔ قیمت: ۱۵۔ پتا: صدق بک ایجنسی، کچہری روڈ، لکھنؤ۔
یہ تفسیر ماجدی کی طبع جدید کی دوسری جلد ہے جو سورۃ النساء سے سورۃ التوبۃ تک کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ طبع جدید کی پہلی جلد پر تبصرہ پہلے شائع ہو چکا ہے، جو انداز اس کا تھا وہی اس کا ہے۔ یوں تو عام تفسیروں میں جو کچھ ہوتا ہے یعنی الفاظ کی تحقیق، ان کے معانی، آیت کا ترجمہ، اس کا مطلب، اس سے جو احکام مستنبط ہوتے ہیں ان کا بیان وجہ استنباط کے ساتھ، آیت کا سبب نزول، پھر اگر اس میں کوئی حکیمانہ یا بلیغ نکتہ ہے تو وہ بھی۔ وہ سب اس میں موجود ہے اور اس احتیاط کے ساتھ کہ اگر کہیں یہ لکھا ہے کہ: ’’یہاں کان ماضی کے معنی میں نہیں، بلکہ استمرار و دوام کے معنی میں ہے‘‘، تو اس کا بھی باقاعدہ حوالہ موجود ہے۔
مزید برآں اس کی خصوصیت یہ ہے کہ چوں کہ فاضل مفسر عہدِ حاضر کے ذہن و مزاج اور اس کے مسائل و افکار سے واقف ہیں، اس لیے جہاں کہیں اس کا موقع ہوتا ہے، اشہبِ قلم خوب جولانی دکھاتا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن مجید میں جگہ جگہ توراۃ و انجیل اور ان کے احکام کا تذکرہ ہے اور چوں کہ مولانا نے ان کتبِ مقدسہ کا مطالعہ بڑے غور و خوض اور وسعت کے ساتھ کیا ہے، اس بنا پر جا بجا، ان کتابوں کے حوالے اور ان کی عبارتیں ملتی ہیں، پھر زبان اور اندازِ بیان کی سلاست اور شگفتگی ان سب پر مستزاد۔
ان وجوہ سے جو حضرات تفسیروں میں فقیہانہ اقوال اور ان کے دلائل و براہین کی بھر مار یا دور از کار کلامی مباحث کے خوگر ہیں، ان کے لیے ممکن ہے کہ یہ تفسیر کچھ زیادہ دلچسپی کا باعث نہ ہو، لیکن عصرِ جدید کے تعلیم یافتہ اور نوجوان مسلمان جن کے لیے افکارِ نو پریشانی خاطر اور پراگندگی ذہن کا باعث بنے ہوئے ہیں ان کے لیے اس میں بہت کچھ سامانِ تسکین و راحت ملے گا۔ (جون ۱۹۷۱ء)
تفسیر ماجدی (جلد سوم)
از: مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ڈیڑھ سو صفحات۔ کتابت و طباعت اور کاغذ: اعلیٰ۔ قیمت درج نہیں۔ پتا: تاج کمپنی لمیٹڈ، لاہور۔
یہ مولانا کی اس مشہور اردو تفسیر و ترجمہ کی تیسری جلد ہے جو تاج کمپنی کی طرف سے اس کے روایتی اہتمام و انتظام کے ساتھ جزءاً جزءاً شائع ہو رہی ہے۔ یہ جلد سورۂ یونس سے لے کر سورۃ النحل تک چار پاروں پر مشتمل ہے اور اس میں بھی مولانا کی تفسیری خصوصیات یعنی قدیم کتبِ تفسیر و لغت کے حوالے، آیت کا حاصل اور اصل مقصد، لطیف طریقہ پر فرقِ باطلہ کے اعتراضات کا جواب اور اُن کے عقائد کی تردید، بعض مطالبِ قرآن کی تشریح و توضیح، حسب ضرورت علومِ جدیدہ و افکارِ جدیدہ کی روشنی میں صاف و سلیس اور شگفتہ و دل نشین طرزِ زبان؛ یہ سب چیزیں اس جلد میں بھی پورے طور پر نمایاں ہیں۔ امید ہے اہل ذوق اس کے مطالعہ سے شادکام ہوں گے۔ (مئی ۱۹۷۵ء)
تفسیر ماجدی (انگریزی، جلد اوّل)
مولانا عبدالماجد دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۱۹۴ صفحات۔ قیمت درج نہیں۔ ’’تاج کمپنی قرآن منزل، کراچی‘‘ سے ملے گی۔
عرصہ ہوا مولانا عبدالماجد نے اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی قرآن مجید کی تفسیر بڑی محنت اور بڑے شوق و ذوق سے لکھی تھی اور اس کو مکمل کر کے پندرہ برس پہلے یعنی ۱۹۴۲ء میں تاج کمپنی لاہور کے حوالے کر دی تھی۔ اربابِ ذوق و نظر کے حلقہ میں اس تفسیر کا غلغلہ اسی وقت سے بلند تھا اور بڑی بے چینی سے اس کی اشاعت کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ مگر معلوم نہیں کیا اسباب پیش آئے کہ کمپنی کی طرف سے اشاعت میں تعویق پر تعویق ہوتی رہی۔ آخر اب ۱۹۵۷ء میں اس کی پہلی جلد جو سورۃ الفاتحہ سے سورۃ النساء تک مشتمل ہے، چھپ کر شائع ہوئی اور تاج کمپنی جس سلیقہ اور حسنِ طباعت کے لیے مشہور ہے، یہ تفسیر بھی اس سے محروم نہیں ہے۔
انگریزی زبان میں قرآن مجید کے متعدد تراجم پہلے سے موجود ہیں اور جہاں تک زبان کا معاملہ ہے، ایک سے ایک اچھے ہیں، لیکن پھر بھی ایک ایسے ترجمے کی ضرورت ہے جس کو اہل سنت والجماعت کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہو اور جس میں قرآنی حقائق و معارف صحتِ عقیدہ و خیال کے ساتھ اسلامی روایات اور جدید معلومات دونوں کی روشنی میں کلام کیا گیا ہو۔ بحمد اللہ اس تفسیر سے یہ ضرورت بڑی خوبی سے پوری ہو جاتی ہے، اس تفسیر کے مطالعہ کے بعد ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ درحقیقت مولانا نے اس عظیم الشان کام کو سر انجام دینے میں کس قدر محنتِ شاقہ برداشت کی اور جغرافیہ، تاریخ، تفسیر و حدیث، فقہ، علم الکلام، لغت اور علومِ جدیدہ کی کتنی کتابوں کی ورق گردانی کی ہے اور اس طرح دانہ دانہ جمع کر کے خرمن تیار کیا | 123 |
| 3 | کا ترجمہ اپنا جواب نہیں رکھتا اور شاید آئندہ بھی اس کا جواب پیدا نہ ہو سکے گا۔ اس ترجمہ کی بلاغت اور اس کا حسن وہی لوگ صحیح معنوں میں معلوم کر سکتے ہیں جو عربی اور اردو دونوں زبانوں کا طبعی اور فطری ذوق اور ان کے ادب کا وسیع مطالعہ رکھتے ہوں۔ ہم نے اس کا ذکر اس جگہ اس لیے کیا کہ اگر مولانا دریا بادی کسی اور اردو ترجمہ کے بجائے اس ترجمہ کو اپنے لیے نمونہ بناتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ مثلاً سورۃ البقرۃ کے شروع میں ہی ہے: وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ، مولانا دریا بادی اس کا ترجمہ کرتے ہیں: ’’اور یقین تو بس آخرت پر ہی رکھتے ہیں۔‘‘ ہمارے نزدیک یہ ترجمہ اشتباہ انگیز ہے۔ عربی میں تقدیم ما حقہ التاخیر تاکید اور حصر و قصر کا فائدہ ضرور دیتا ہے، لیکن اوّل تو ضروری نہیں کہ دونوں جمع ہوں، محض تاکید کے معنی پیدا کرنے کے لیے بھی بعض اوقات ایسا کر دیا جاتا ہے، پھر اگر قصر ہو بھی تو اس کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ قصر صفت علی الموصوف اور ۲۔ قصر موصوف علی الصفۃ۔ مولانا کے ترجمہ سے یہ اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ بس آخرت پر ہی ایمان رکھتے ہیں اور کسی پر نہیں۔ حالانکہ اللہ اور نبوت پر ایمان اس پر بھی مقدم ہے۔ اب مولوی نذیر احمد صاحب کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے: ’’اور وہ آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں‘‘ مولوی نذیر احمد صاحب نے لفظ ’’بھی‘‘ سے اس مفہوم کو ادا کرنے کا کام لیا ہے جو تقدیم مسئلہ اور ضمیر فاعل کے ابراز سے پیدا ہو گیا ہے اور کوئی اشتباہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔
بعض کلامی مسائل میں مولانا نے اپنا جو رجحان ظاہر کیا ہے ہمیں ذاتی طور پر اس سے بھی اختلاف ہے۔ لیکن ہم یہاں اُس کا ذکر اس لیے نہیں کرتے کہ مولانا نے عام مفسرین کی ہم نوائی کی ہے اور ہماری جو رائے ہے وہ خود ہماری اپنی ذاتی تحقیق پر مبنی ہے۔ بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تفسیرِ ماجدی اس دور میں اسلام کی اور قرآن کی بہت عظیم الشان خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مؤلف کو اس کا اجر جزیل عطا فرمائے اور اس خدمت کو سرمایۂ آخرت بنائے۔ آمین!
(مارچ ۱۹۶۹ء)
تفسیر ماجدی (پارہ اوّل قرآن مجید مع ترجمہ و تفسیر)
از: جناب مولانا عبدالماجد دریا بادی۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۵۴ صفحات۔ کاغذ کتابت اور طباعت: نہایت اعلیٰ اور شان دار اور دیدہ زیب۔ ہدیہ مرقوم نہیں۔ شائع کردہ: تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور و کراچی۔
اردو میں قرآن مجید کے تراجم کی کمی نہیں ہے، لیکن ان میں سے بعض تو ایسے تحت اللفظ ہیں کہ انہیں پڑھ کر مطلب سمجھنا انتہائی مشکل ہے اور بعض ترجمے صاف اور سپاٹ ہیں تو ان میں بعض دوسری قسم کے نقائص ہیں۔ مثلاً: مترجم خود اگر عقائدِ صحیح نہیں رکھتا تو اس نے ترجمہ میں کھینچ تان کر کے مطلب کچھ سے کچھ کر دیا ہے یا کم از کم ترجمہ اجتہادی شان کے ساتھ کیا ہے، جس کے باعث سلف صالحین کے مسلک سے بعد پیدا ہو گیا ہے۔ اس بنا پر ضرورت تھی کہ قرآن مجید کا ایک ایسا اردو ترجمہ کیا جائے جو عام فہم، سلیس، شگفتہ و رواں ہونے کے ساتھ آزاد ترجمہ بھی نہ ہو اور جس میں سلف صالحین کے مسلک سے عدول بھی نہ پایا جائے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جناب مولانا عبدالماجد دریا بادی نے ایک عرصہ کی محنتِ شاقہ کے بعد قرآن مجید کا جو ترجمہ لکھ کر اس ضرورت کو بڑی حد تک پورا کر دیا ہے، ترجمہ میں اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ اردو کے الفاظ قرآن مجید کے الفاظ کے مطابق ہی رہیں نہ کم ہوں اور نہ زیادہ۔ لیکن چوں کہ اس پابندی سے بعض اوقات مطلب گنجلک ہو جاتا تھا، اس لیے اس قسم کے مواقع پر قوسین میں کچھ الفاظ بڑھا کر عبارت کو مربوط، قابلِ فہم اور آسان بنا دیا ہے۔ اس اہتمام کے باعث اب یہ ترجمہ اس لائق ہے کہ جو متوسط الاستعداد اردو داں ان کو پڑھے گا، اسے قرآن مجید کی آیات کا مطلب سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی!
ترجمہ کے علاوہ تفسیر بھی نہایت مفید، پر از معلومات اور بصیرت افروز ہے، تفسیر میں مولانا نے پہلے الفاظ کی لغوی تحقیق عربی لغت کی مشہور و مستند کتابوں کی روشنی میں اور ان کے حوالے سے کی ہے اور اس سلسلہ میں بلا تخفیف عبارتیں تک نقل کرتے چلے گئے ہیں، ان کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد جو قولِ راجح ہے اس کو دلائل و براہین کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس ذیل میں فرقِ باطلہ کا ذکر آگیا ہے تو ان کی تردید بھی ہوتی گئی ہے اور جہاں کہیں موقع ملا ہے قرآن مجید کی سچائیوں کو ثابت کرنے کے سلسلہ میں عہدِ حاضر کے جدید علمی اکتشافات یا بعض علمائے مغرب کے اقوال و آرا بھی بیان کر دیے گئے ہیں۔
اس میں شبہ نہیں کہ مولانا دریا بادی نے ترجمہ و تفسیر کا یہ کام بڑی محنت و عرق ریزی اور مسلسل انہماک و مصروفیت سے انجام دیا ہے۔ خود انہوں نے کتب لغت و تفاسیر اور دوسرے علوم متعلقہ کی کتابوں کا مطالعہ دیدہ ریزی کے ساتھ کیا، اور دورانِ مصروفیت میں حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے۔۔۔ جن کے جگہ جگہ حوالے بھی ہیں۔۔۔ ایک ایک آیت اور لفظ کے ترجمہ و تفسیر کے متعلق تحریراً مشورہ بھی کرتے رہے ہیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر ترجمہ و | 79 |
| 4 | تفسیر ماجدی (جلد اوّل)
از: مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی (مدیر صدق جدید لکھنؤ)۔ تقطیع: کلاں۔ ضخامت: ۶۹۰ صفحات۔ کتابت و طباعت: بہتر۔ مشمولہ بر تفسیر سورۃ فاتحہ، بقرہ و آل عمران۔ قیمت (مجلد): ۱۸۔ پتا: صدق جدید، بک ایجنسی، کچہری روڈ، لکھنؤ و مکتبہ برہان، اردو بازار، دہلی۔
پاکستان میں: فیروز سنز، بندر روڈ، کراچی۔ مال روڈ، لاہور۔
قرآن مجید کی تفسیریں مختلف زبانوں میں بڑی کثرت سے لکھی گئی ہیں اور جب تک دنیا میں اسلام باقی ہے برابر لکھی جاتی رہیں گی، لیکن کسی بھی تفسیر کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے کلام الٰہی کا حق ادا کر دیا ہے اور وہ اس موضوع پر حرفِ آخر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا متکلم اللہ تعالیٰ ہے اور مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اور ہر متکلم اور مخاطب کے درمیان ایک ایسا معنوی رشتہ اور رابطہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے مخاطب کلام کا مطلب جس طرح سمجھ سکتا ہے دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔
اس بنا پر جن حضرات نے قرآن مجید کو اپنے فکر و تدبر کا موضوع بنایا اور اس کی تفسیر لکھی ہے اپنے مخصوص ذوق، علمی استعداد اور اپنے مسلک و مشرب کے مطابق ہی لکھی ہے۔ چنانچہ چونکہ ابن جریر محدث تھے تو ان کی تفسیر کا دارومدار احادیث پر ہی ہے۔ امام فخر الدین رازی منطق، فلسفہ اور علم کلام کے امام تھے، اس لیے ان کی تفسیر کا نمایاں وصف بھی فلسفہ اور کلامی مباحث ہیں۔ شیخ محی الدین بن عربی اور مہائمی بحرِ طریقت و تصوف کے شناور تھے، تو ان کی تفسیر کا بھی یہی انداز ہے۔ جار اللہ زمخشری بلند پایہ ادیب اور علم کلام کے ماہر تھے، تو ان کی یہ خصوصیت تفسیر میں جا بجا نظر آتی ہے۔ محمود آلوسی فن بلاغت کے امام تھے، ان کی تفسیر میں جا بجا یہی مباحث پھیلے ہوئے ہیں۔ جوہر طنطاوی سائنس کا ذوق رکھتے تھے، ان کی تفسیر اسی قسم کی بحثوں سے پر ہے۔ غرض کہ جو مفسر جس ذوق و رجحان اور استعداد و مسلک کا تھا، اُس کی تفسیر اسی کی آئینہ دار بن گئی۔ جو اہل فن تھے انہوں نے بہر حال تفسیر بالرائے کو دخل نہیں دیا، لیکن جن میں زیغ تھا وہ اپنے ذوق کی تسکین میں کہیں سے کہیں نکل گئے۔ اہل حق نے جو کچھ لکھا اس سے اگرچه قرآن کا پورا حق ادا نہیں ہوا، اور نہ ہو سکتا تھا، تاہم ایک خاص دائرہ کے اندر جزوی فائدہ ضرور ہوا اور قرآن کو سمجھنے میں اس سے مدد ملی۔ زیرِ تبصرہ تفسیر بھی اسی زنجیر طلائی کی ایک کڑی ہے۔ مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی نے اس کی ترتیب و تالیف میں جو محنت شاقہ، کمال صبر واستقلال کے ساتھ برداشت کی ہے اس کا اندازہ تفسیر کو دیکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ اس کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ایک آیت کا ترجمہ کرتے ہیں اور اس کے بعد نمبروار پہلے الفاظ کی تحقیق، مشہور کتب لغت قرآن کی روشنی میں اسی طرح کہ جو کچھ عربی میں ہے، پہلے اس کا خلاصہ اردو میں لکھ دیا اور پھر اس کی تائید میں عربی میں عبارتیں نقل کر دیں۔ اگر کسی لفظ یا کسی ترکیب کے معنی کئی ہیں تو ان سب کو نقل کرنے کے بعد فاضل مفسر کے نزدیک جو معنی صحیح ہیں اس کو بیان کریں گے اور اس کی شہادت بھی پیش کریں گے۔ اس کے بعد فصاحت و بلاغت کا کوئی بلیغ نکتہ، آیت کا سبب نزول، کوئی فقہی حکم، کسی قسم کا کوئی کلامی مسئلہ اور اسی نوع کی بعض دوسری چیزیں جو آیت سے متعلق ہیں ان سے بھی جستہ جستہ حسب موقع و ضرورت تعرض کرتے جاتے ہیں۔ عبارت بہت منضبط ہوتی ہے۔ نہ ایجازِ مخل ہے۔ اور نہ اطنابِ ممل۔ جہاں کہیں بعض اکابر سے اختلاف کیا ہے ان کی جلالت علم کا پورا احترام ملحوظ رکھا ہے اور جہاں کسی سے اختلاف کیا ہے زبان وہاں بھی بے قابو نہیں ہونے پائی ہے۔ زبان و بیان کی شگفتگی کے لیے مولانا کا نام سب سے بڑی ضمانت ہے۔ یہ تو خیر سب کچھ ہے ہی۔ لیکن اس تفسیر کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جا بجا قصص میں خصوصاً اور احکام و مسائل میں عموماً کتب قدیمہ یعنی عہد جدید و عہدِ قدیم سے اور مغربی مصنفین کی کتابوں سے عبارتیں نقل کی ہیں اور ان کے مکمل حوالے دیے ہیں۔ پھر جہاں کہیں تاریخی یا جغرافیائی کوئی بحث پیدا ہو گئی ہے اس پر خوب دادِ تحقیق دی ہے۔ اس تفسیر کی یہ خصوصیت نہایت اہم، بہت مفید اور بڑی بصیرت افروز ہے اور اسی نے اس تفسیر کو عام تفاسیر سے بہت ممتاز کر دیا ہے۔ مولانا نے قرآن کے فہم اور اس میں تدبر و تفکر کا فیض جو کچھ پایا ہے وہ حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پایا ہے۔ اسی لیے اختلافی مسائل میں مولانا کے مسلک کے بارے میں تو کم از کم ہمیں کوئی شک و شبہ ہو ہی نہیں سکتا اور اس لیے اس پر بے تکلف اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
ترجمہ کا معاملہ تفسیر سے بھی زیادہ اور بہت زیادہ مشکل ہے۔ جیسا کہ فاضل مؤلف نے خود کتاب کے افتتاحیہ میں تفصیل اور عالمانہ دقیقہ سنجی کے ساتھ بیان کیا ہے، لیکن اس مرحلہ میں بھی موصوف بہت محتاط اور لیے دیے رہے ہیں۔ یہاں شاید یہ کہنا بے محل نہ ہو کہ جہاں تک قرآن مجید کے اردو ترجمہ کا تعلق ہے، ہمیں اس اعتراف میں کوئی تردد نہیں ہے کہ مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی | 92 |
| 5 | یادوں کا سفر (۹۸) اخلاق احمد دہلوی | 116 |
| 6 | جناب ماہر القادری صاحب وطنا بلندشہری تھے،قصبہ کیسر کلاں کے پاس ایک چھوٹی سی بستی ” قادری باغ “ہے، وہیں کے رہنے والے تھے،” قادری“ کی نسبت بھی اسی وجہ سے کرتے تھے ـ | 186 |
| 7 | ▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬
✺ ✺
✍
⇚#سیرت_پاک
▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬
❍ t.me/turaseilmi ❍
جناب ماہر القادری صاحب وطنا بلندشہری تھے،قصبہ کیسر کلاں کے پاس ایک چھوٹی سی بستی ” قادری باغ “ہے، وہیں کے رہنے والے تھے،” قادری“ کی نسبت بھی اسی وجہ سے کرتے تھے ـ | 1 |
| 8 | رہے ہیں تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک سرکردہ تھنک ٹینک ”فور او فور میڈیا“ کی تحقیق کے مطابق ”آئی ایس بی این ڈی بی“ نامی ادارہ بیک وقت ایک ملین کتابی ٹائٹلز خریدنے کی سکت رکھتا ہے، وہ کتابیں جو جنگوں، بدامنی، آتشزدگی وغیرہ جیسی آفات سے بچ بچا کے صدیاں گذار چکی ہیں اب انھیں اے آئی کا چارہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اے آئی انسان سے بہتر اور زیادہ تیزی کے ساتھ ایک معیاری ای میل لکھ سکے _
پرانے زمانے میں فاتحین مفتوحین کو علم سے محروم رکھنے کےلئے لائبریریاں نذرِ آتش کرتے تھے، یونانیوں کے ہاتھوں اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی اور ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی لائبریریوں کی بربادی کے قصے پڑھ پڑھ کے ہم سوچتے تھے کہ انسان صدیوں پہلے کتنا وحشی اور علم دشمن تھا، اب کتابی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے روپ میں جس بقائی خطرے کا سامنا ہے اس کے آگے ماضی کی داستانیں طفلانہ شرارتیں لگنے لگی ہیں _
اس سے پہلے کہ کتاب بھی بیشتر حیاتیات و نباتات کی طرح دنیا سے معدوم ہو جائے، کاپی رائٹس کے عالمی قوانین کے ازسرِ نو جائزے کی ہنگامی ضرورت ہے مگر عالمی ترجیحاتی فہرست میں یہ المیہ شائد سب سے آخر میں زیرِ بحث آئے مگر ہم لاچار اس کے سوا کیا کہیں کہ یہ نہ ہو کہ کتابیں تو معدوم ہو جائیں اور ہمارے ہاتھ میں بس کاپی رائٹس قوانین لٹکے رہ جائیں _ | 223 |
| 9 | 📖 كتابوں کی آخری ہچکی
✒️ وسعت الله خان (بی بی سی)
*اگر یہ مضمون پرانا ہے تو معذرت خواہ ہوں*
اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے سنبھال کر رکھ لے، چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور اُنہیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی، جنھوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ دیکھو ہمارے پاس فلاں فلاں موضوع پر کتاب ہے _
اگر آپ نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو زیادہ امکان ہے کہ اپنے اے آئی جنریشن کے پوتے، نواسے یا بیٹی کو آپ انٹرنیٹ پر کتاب کی تصویر دکھا کر سمجھائیں گے کہ دیکھو بیٹا اسے کتاب کہتے ہیں، یہ ہمارے زمانے میں کاغذ پر چھپتی تھی، اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں، انھیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کر رہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں _
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کر رہی ہیں؟ حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب آپ کو تاریخ، فلسفے، سماجیات، میٹریل سائنسز سمیت کسی بھی موضوع پر بنیادی یا اعلی معلومات کی طلب ہوگی اور جب دنیا سے کتابیں غائب ہو جائیں گی تو پھر یہی اے آئی کمپنیاں ہم انسانوں کو وہی تاریخی، فلسفیانہ، سماجی و سائنسی معلومات فراہم کریں گی جو وہ اپنے ماڈیول کو فیڈ کریں گی، یعنی یہ کمپنیاں علمی حقائق میں من پسند تبدیلیوں پر قادر ہوں گی، انھیں مسخ کر سکیں گی، توڑ مروڑ کر پیش کر سکیں گی یا کسی بھی حقیقت کو بلیک آؤٹ کر سکیں گی اور پھر آپ کو یہ " آلودہ علم" فروخت کریں گی _
ہمیں نسل در نسل بتایا گیا کہ کتاب صرف کاغذ کا پلندہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں محفوظ مواد انسانوں کا مشترکہ علمی و ثقافتی ورثہ ہے مگر اے آئی کمپنیوں کے لئے کتاب اپنے اپنے اے آئی ماڈل کی تربیتی بھوک مٹانے کےلئے محض چارہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کمپنیاں ان کتابوں پر ہاتھ صاف کر رہی ہیں جو دو ہزار بائیس تک شائع ہوئی ہیں کیونکہ دو ہزار بائیس کے بعد شائع ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان کمپنیوں کو بھی خوف ہے کہ کہیں وہ اے آئی کی مدد سے نہ لکھی گئی ہوں _
یہ سانحہ اس برس کے شروع میں افشا ہوا جب کیلی فورنیا کی ایک وفاقی عدالت کے روبرو کچھ پبلشرز کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا مقدمہ لے کر گئے اور اینتھروپک اے آئی ماڈیول سے وابستہ پانامہ پروجیکٹ کی تفصیلات رکھی گئیں۔ معلوم یہ ہوا کہ فروری دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی سیلکان ویلی میں دنیا کے سب سے بہتر چیٹب باٹس تیار کرنے والی کمپنی نے اپنے اینتھروپ موڈیول کو سبقت کی دوڑ میں آگے رکھنے کےلئے گوگل بکس کے ایک سابق ایگزیکٹو ٹوم ٹروی کی خدمات حاصل کیں، اُنہیں بس ایک کام کرنا تھا۔ یعنی دنیا کی اہم زبانوں میں شائع ہونے والی سب کتابیں خرید لو، ترجیح ان کتابوں کو دو جن کے کاپی رائٹس حقوق ختم ہو چکے ہیں تاکہ ان کے ٹھوس وجود (ہارڈ کاپی) کو اے آئی ڈیٹا میں تبدیل کرنے کے بعد ہائیڈرولک کٹرز کے ذریعے ٹھکانے لگایا جا سکے _
وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی کتاب کی نقل شائع کرنا یقیناً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے مگر خریدی ہوئی کتاب ایک نجی ملکیت ہے لہذا اسے تلف کرنا خلاف ورزی کے دائرے میں نہیں آتا، کیونکہ ان کتابوں کو تلف کرنے سے پہلے ڈیٹا کی شکل میں محفوظ بھی کیا جا رہا ہے تاہم اندھا دھند خریداری کے جنون میں کچھ کتابوں کے مسروقہ ایڈیشن بھی خرید لئے گئے لہذا ان کتابوں کے اصلی پبلشرز کو اینتھروپ موڈیول ڈویلپ کرنے والوں کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا _
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یورپ اور امریکا میں پرانی کتابوں کے تاجر ان دنوں سخت پریشان ہیں کیونکہ اے آئی کمنیوں کےلئے
”کتابی چارہ“ خریدنے والی دلال کمپنیوں نے بھاری بھاری آرڈر دینے شروع کر دیئے ہیں جو معمول کی خرید وفروخت سے کئی گنا زیادہ ہیں، یہ دلال منہ مانگے پیسوں پر مال اُٹھا رہے ہیں _
جن کتابوں کی لاکھوں ہارڈ کاپیاں ہیں اُنہیں تو فوری خطرہ نہیں البتہ ایسی نادر کتابیں جن کی شائد دنیا میں پانچ چھ کاپیاں ہی بچی ہوں وہ اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہیں، مثلاً سولہویں و سترہویں صدی میں شائع ہونے والے نایاب نقشے، پندرہ سو اٹھاون میں شائع ہونے والی تاریخِ روم، سترہویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے سفرناموں کے پہلے ایڈیشن وغیرہ _
ایک برس پہلے تک ایسی نادر کتابوں کو ایک گاہک بھی خریدتا تو دوکاندار اس قدردانی پر نہال ہو جاتا، اب اچانک سے پرانی کتابوں کے معروف تاجروں کو کچھ نئے گاہکوں کی جانب سے جب آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی خریداری کے ایک ساتھ تین تین ہزار آرڈرز مل رہے ہیں تو وہ خوش بھی ہیں اور حیران و پریشان بھی، بین الاقوامی زبانوں میں شائع کتابیں ”ٹو زیرو ڈبل سیون اے آئی“ نامی دلال کمپنی کے کارندے اُٹھا | 203 |
| 10 | کچھ مسلمان جن کا گاندھی جی اور پنڈت نہرو سے روز ملنا ہوتا تھا ان کے ایما سے مسلمانوں کو دلی چھوڑنے سے منع کرتے تھے۔ لیکن ساتھ کے ساتھ جامع مسجد کے نیچے فوجی ٹرکیں بھی آجاتی تھیں اور شور مچاتی تھیں۔ چلو پرانے قلعہ چلو۔ مسلمان جان گئے تھے کہ جو مشینری ٹرکیں بھیج رہی ہے وہ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کو پرے بٹھائے گی اور ایک ایک مسلمان سے دلی چھڑ وائے گی۔ لہٰذا مسلمان ٹرکوں میں بیٹھ جاتے تھے اور صبح سے شام تک پرانے قلعہ جانے والی سڑکوں پر ٹرکوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ صحیح یا غلط مجھے اب یقین تھا کہ ہندو اور سکھ مسلمانوں کو دلی میں چین سے نہیں رہنے دیں گے۔ اس یقین کے باوجود میں اپنے فیصلہ پر قائم تھا کہ اکیلا دلی میں رہوں گا۔ 19 اکتوبر کی شام کو جب میں راشننگ دفتر سے گھر پہنچا (وہ وہاں ملازمت کرتے تھے) تو میونسپل کمیٹی کے ایک داروغہ صفائی نے خبر سنائی کہ ڈاکٹر فیض الحسن مفتی (میونسپل کمیٹی کے ہیلتھ افسر ) زخمی کر دیے گئے۔ دوسرے دن صبح اخباروں میں پڑھا کہ ڈاکٹر صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس سانحہ نے آنکھوں پر سے پردہ سا ہٹا دیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنا فرض ادا کرنے پہاڑ گنج گئے تھے جہاں اس وقت مسلمان کا نام نہیں تھا۔ میں بھی جہاں بیٹھا اپنا فرض ادا کرتا تھا اور جس جگہ صبح سے شام کر دیتا تھا وہ جگہ ہندووں اور سکھوں سے گھری ہوئی تھی۔ مسلمانوں نے ضروریات کے لیے بھی وہاں آنا بند کر دیا تھا۔ نیز مسلمان عملہ ایک ایک کر کے پاکستان جا چکا تھا۔ بس ایک انسپکڑ اور دو کلرک مسلمان رہ گئے تھے۔ مسلمان افسر محکمہ بھر میں کوئی باقی نہیں تھا۔ تنہا میں سخت جان جما ہوا تھا۔ مجھے دکھائی دیا کہ ایک نہ ایک دن مجھے بھی ہٹنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے کہ بے آبرو ہو کر ہٹنا پڑے، ہو سکتا ہے کہ جان کو کھو کر ہٹنا پڑے۔ لہٰذا سیدھے سیدھے ہٹ جانا چاہیے اور جب ہٹنا ہے تو بچوں کے ہمراہ چلنا چاہیے....
خیر ہمیں جہاز کا ٹکٹ مل گیا۔ دلی سے ہمارا قافلہ راولپنڈی گیا۔ راولپنڈی سے براہ لاہور کراچی آیا۔ اب دلی کی بجائے کراچی وطن ہے۔ زندہ رہا تو دلی کی ایک دفعہ زیارت ضرور کروں گا۔ ایک صاحب 1857 کے نکلے نکلے 1903 میں دلی تشریف لائے۔ نابینا ہو گئے تھے۔ کسی کی انگلی پکڑ کر شہر کا جائزہ لینے جاتے اور چلتے چلتے پوچھتے کیا مقام ہے۔ لوگ بتاتے حضرت میدان ہے مقام و قام نہیں ہے۔ فرماتے میدان کے آس پاس تو کچھ ہوگا۔ بیان کر دیا جا تا کہ فلاں عمارت ہے۔ کہتے بھائی یہاں تو فلاں شخص کا مکان تھا اور فلاں نام کا بازار تھا جس میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ ہے ہے آج میدان ہے۔ ارے کیا پریڈ کا میدان۔ یہاں تو قلعہ کے متوسل اور امراءرہتے تھے۔ خانم کا بازار کیا غائب ہو گیا یہیں تو تھا۔ اور خاص بازار؟ وہ بھی نہیں رہا۔ خاص بازار قلعہ اور فیض بازار ( دریا گنج ) کے درمیان تھا۔ اور بھائی پنجابی کڑہ دھوبی دروازہ۔ رامجی گنج۔ سعادت خاں کا کڑہ۔ جرنیل کی بیوی کی حویلی۔ رامجی داس گودام والے کے مکانات۔صاحب رام کا باغ اور حویلی سب ندارد۔ محلے کے محلے ندارد۔
میں بھی دلی پہنچوں گا تو عظیم انقلاب پاوں گا۔ میدانوں کی جگہ اونچی عمارتیں سہی لیکن میری دلی نہیں ہوگی۔ میری دلی کی بجائے پنجاب کا عالی شان شہر ہوگا۔ جس گھر کی کنڈی کھٹکھٹاوں گا، نوے فی صد گھروں سے صدا آئے گی: جاو اس گھر میں تمہارا کوئی نہیں۔
موبائل: 9818195929 | 244 |
| 11 | آخر ستمبر آگیا اور ستم گری کا پروگرام شروع ہوا۔ کہتے ہیں مغربی پنجاب میں مسلمانوں نے ہندووں اور سکھوں پر ظلم ڈھائے تھے۔ ان کا بدلہ دلی کے مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی غرض سے کوئی سازش ہوئی تھی اس سازش کی چکی میں مسلمان پس گئے۔ حقیقتاً یہ اللہ کا قہر تھاجو مجھ جیسے بے عمل اور بد عمل مسلمانوں کی وجہ سے دلی کو تباہ کر گیا۔ سبزی منڈی کے قریب قرول باغ کے قریب اور پہاڑ گنج کے قریب مغربی پنجاب کے شر نارتھیوں کوٹھہرایا گیا تھا۔ یہ تینوں آبادیاں دلی کے کناروں کی آبادیاں ہیں۔ ایسی ہی آبادیاں اور بھی ہیں اور ان کے قریب بھی شرنارتھیوں کے کیمپ تھے۔ مگر طوفان سبزی منڈی، قرول باغ، پہاڑ گنج اور نئی دلی ہی میں پھیلنے پایا تھا کہ گاندھی جی لاہور جاتے جاتے دلی اتر پڑے اور طوفان رک گیا۔ لیکن اطمینان اور بھروسہ سارے شہر کے مسلمانوں کا جاتا رہا تھا۔ خصوصاً جہاں مسلمانوں کی آبادی اور ہندووں کی آبادی پاس پاس تھی وہاں کے مسلمان بے حد سراسیمہ تھے۔ کو چہ چیلان بھی جہاں میرا مکان تھا اسی قسم کا علاقہ تھا۔ فیض بازار نام کی ایک چوڑی چکلی سڑک ہے، اس کے ایک رخ پچیس تیس ہزار ہندو بستے تھے اور دوسرے رخ لاکھ سوا لاکچھ مسلمانوں کے گھر تھے۔ ہندووں میں دلی کے قدیم رہنے والے کم تھے، پنجاب کے رہنے والے زیادہ۔ یہ پنجابی دلّی میں ملازمتیں اور مختلف کا روبار کرتے تھے۔ مغربی پنجاب سے ان کے عزیز آتے تو پہلے ان کے ہاں ٹھہرتے اور پھر مکانوں اور دکانوں کی تلاش میں نکلتے۔ تلاش اس درجہ آتشیں ہوتی کہ سڑک کے مسلمان دکاندار اس کی تاب نہ لا سکے۔دکانوں کے بعد مکانوں کا نمبر لگا۔ ایک گلی۔ دوسری گلی۔ تیسری گلی۔ میر امکان جس سڑک پر تھا اس سڑک کا بھی خاصا حصہ مسلمانوں سے خالی کرالیا گیا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ لاکھ سوالاکھ مسلمان پچیس تیس ہزار ہندووں اور سکھوں سے کیوں دہل رہے تھے۔ نووارد ہندوو ¿ں اور سکھوں کو شامل کر لیجئے تو بھی ان کی تعداد مسلمانوں کے برابر نہ ہوگی۔ عرض یہ ہے کہ مقابلہ ہندووں اور سکھوں سے نہیں تھا، فوج اور پولیس سے تھا۔ جو حملہ آوروں کی بجائے انہیں نشانہ بناتی تھی جن پر حملہ ہوتا تھا۔ میرے مکان کی سڑک پر ان مقامات کے قریب جہاں تک ہندو اور سکھ گھس آئے تھے حکومت نے دونوں طرف گورکھوں کو کھڑا کر دیا تھا تا کہ اور ہندو اور سکھ نہ گھسنے پائیں۔ میرا مکان ان پکٹوں کے بیچ میں گو یا محفوظ تھا۔ لیکن میں نے اپنے میں اس تجربہ کے کرنے کی طاقت نہیں دیکھی کہ حملہ ہوگا تو گور کھے مسلمان آبادی کی حفاظت کریں گے یا ہندووں اور سکھوں کا ساتھ دیں گے۔
بہادر مسلمان ایک ایک کر کے بھاگ نکلے۔ ہر وہ صورت جسے میں پہچانتا تھا اور ہر وہ شخص جس سے کبھی کبھار بات ہو جایا کرتی تھی غائب ہوگئی۔ اردگرد مسلمان تھے بھی تو نئے تھے۔ جو سبزی منڈی ، قرول باغ ، پہاڑ گنج اور نئی دلی سے دم لینے کے لیے یہاں آپڑے تھے اور پرانے قلعہ اور مقبرہ ہمایوں کے پناہ گزینوں میں پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے۔ کو چہ چیلان ایک حساب سے پناہ گزینوں کا ٹرانزٹ کیمپ بن گیا تھا۔ کچھ مسلمان تھے جو مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دلّی سے مت جاو۔ دور پرانے قلعہ اور ہمایوں کے مقبرے جا جا کر بھی مسلمانوں کو سمجھاتے تھے کہ اپنے اپنے گھر واپس آجاو۔ بیان کیا جاتا تھا کہ گاندھی جی اور پنڈت نہر و چاہتے ہیں کہ مسلمان دلّی سے نہ جائیں۔ ایک روز مجھے بھی ہلہلا اٹھا اور میں نے چار مسلمانوں اور چار ہندووں کی جماعت بنائی اور جماعت کو لے کر چلا کہ لوگوں کو اطمینان دلاوں گا اور بھاگنے سے روکوں گا۔ دریا گنج پوسٹ آفس کے پیچھے سرسید احمد روڈ پر سب سے پہلے ہمیں تانگہ میں دو میاں بیوی سوار ہوتے ملے۔ سامان رکھ چکے تھے اور خود بیٹھ رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا اس طرف مسلمان اگر چہ زیادہ ہیں لیکن وہ آپ کو ہرگز گزند نہیں پہنچائیں گے۔ ہندو ساتھیوں نے ہماری تائید کی اور ہندو میاں بیوی نے کہا مان لیا۔ آگے بڑھے تو کو چہ سعد اللہ خاں کے مسلمان آٹھ تانگے لیے کھڑے تھے۔ انہیں بھی منع کیا گیا اور کوچہ سعد اللہ خاں کے اندر جا کر ہدایت کر دی کہ بھاگنے کی غلطی نہ کی جائے۔ کوچہ سعد اللہ خاں سے ایک مکان کی کھڑکی کے ذریعہ کوچہ تارا چند پہنچے وہاں ہندووں کی گھبراہٹ کو دور کیا۔ مسلمان آبادی میں بسنے والے ہندو ابھی اپنے تئیں مسلمانوں پر غالب نہیں خیال کرتے تھے۔ ہم کو چہ تارا چند ہی میں تھے کہ گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔ آگے بڑھنے کی ہمیں جرات نہیں ہوئی۔ الٹے قدموں اسی مکان کی کھڑی کے راستہ کو چہ سعد اللہ خاں لوٹے۔ خبر ملی کہ کو چہ تارا چند کے ہندووں نے کوچہ سعد اللہ خاں کے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ پھر وہی فوج اور پولس کی امداد آئی۔ وہی مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مکان خالی کرا لیے گئے اور مسلمان حفاظت کی غرض سے خانہ بدر کر دیے گئے۔ | 188 |
| 12 | اردو کے مایہ ناز ادیب، صحافی اور مصنف
ملا واحدی نے تقسیم کے وقت دلی میں کیا دیکھا
سہیل انجم
ہم نے گزشتہ کالم میں صحافی، ادیب اور مجاہد آزادی مولانا عبدالمجید سالک کی خودنوشت کی جھلکیاں دکھائی تھیں۔ اس کو قارئین نے کافی پسند کیا۔ لہٰذا جی چاہا کہ ایک اور بھولی بسری داستان سے قارئین کو روبرو کرایا جائے۔ یہ داستان میری نہیں ملا واحدی کی بیان کردہ ہے۔ ملا واحدی اردو کے مایہ ¿ ناز ادیب، صاحب طرز نثر نگار، صحافی اور مصنف تھے۔ انھوں نے خواجہ حسن نظامی کے ساتھ مل کر اخبار ”نظام المشائخ“ جاری کیا تھا جس نے دھوم مچا دی تھی۔ وہ زندگی بھر خواجہ صاحب سے عقیدت کا رشتہ رکھتے رہے۔ تقسیم کے وقت جب وہ رو پیٹ کر پاکستان چلے گئے اور کراچی کو وطن ثانی بنایا تو انھوں نے وہاں سے نظام المشائخ کو جاری کیا۔ ایک بار ان کے کوئی عزیز کراچی سے دہلی آرہے تھے۔ انھوں نے ملا واحدی سے کہا کہ خواجہ صاحب سے کچھ کہنا ہو تو بتائیے۔ اس پر انھوں نے جو جملہ ادا کیا وہ تڑپ، حسرت، یاس، امید، ناامیدی اور ان جیسی بہت سی کیفیات کا عکاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”دلی جاو تو خواجہ صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اور جب یہاں واپس پہنچو تو اپنی آنکھیں مجھے دکھا دینا۔“ انھیں دلی سے عشق تھا۔ تازندگی اس کے لیے تڑپتے رہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ میں دلی سے ایسا یکایک چلا تھا کہ کسی شخص اور دلی کی کسی چیز سے نہیں مل سکا تھا۔ البتہ گھر کی چھت پر چڑھ کر جامع مسجد کے میناروں کو گلے لگا لیا اور اپنے آقا و پیشوا حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ادا کر دی تھی۔ (انھوں نے ہجرت کے وقت اللہ کے رسول نے خانہ کعبہ کو مخاطب کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا اس حوالہ دیا ہے)۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے ”بچے کوئی چیز ہیں تو دلی بھی کوئی چیز ہے۔ دلی کی گلیاں۔ دلی کے مقبرے۔ دلی کے کھنڈرات۔ ہائے دلی بائیس خواجاوں کی چوکھٹ۔ دلی جہاں مسلمانوں کی دنیا پروان چڑھی اور مسلمانوں کا دین پروان چڑھا۔ ایسی دلی سے میں ہرگز مفارقت کرنی نہیں چاہتا تھا۔ بچوں سے اتنے عرصے واسطہ نہیں رہا جتنے عرصے دلی سے واسطہ رہ چکا ہے۔“
انھوں نے اپنی کئی کتابوں میں دلی کو یاد کیا ہے۔ دلی کے لیے روئے ہیں، تڑپے ہیں اور وہاں کے اشخاص اور ماہرین فن کو یاد کر کرکے آنسو بہائے ہیں۔ لیکن دلی کے بارے میں ان کی جو کتاب سے زیادہ مقبول ہوئی وہ ”میرے زمانے کی دلی“ ہے۔ اس میں انھوں نے تقسیم ملک کے بعد دلی کے حالات اور اپنے اوپر گزرنے والی کیفیات کو بڑے دلنشین اور موثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پرکار ہے۔ پڑھیے تو پڑھتے جائیے۔ یہ کتاب سب سے پہلے کراچی سے 1956 میں شائع ہوئی تھی۔ اسے اب ذاکر حسین کالج دہلی میں اردو کے استاد پروفیسر مظہر احمد نے ازسرنو مرتب کرکے ایم آر پبلی کیشن دہلی سے شائع کرایا ہے۔ انھوں نے 53 صفحات پر مشتمل طویل و بسیط مقدمہ تحریر کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے آخر میں فرہنگ، مقامات اور اشخاص کا اشاریہ اور دلی کی خوبصورت رنگین تصاویر بھی شامل کی ہیں۔
(ملا واحدی نے ”دلی چھوڑنے سے پہلے“ کے زیر عنوان جو تیرہ صفحات کا مضمون قلمبند کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم نے اس کے اہم اہم اقتباسات کو ایک مضمون کی شکل دی ہے۔ اگر چہ بار بار اختصار کرنے کے باوجود یہ ذرا طویل ہو گیا ہے تاہم کافی دلچسپ ہے اور امید ہے کہ قارئین کو پسند آئے گا۔) ملا واحدی لکھتے ہیں:
15 اگست کو میں نے سچ مچ اپنے تئیں آزاد تصور کیا تھا۔ میں پھولا نہیں سماتا تھا کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے مرنے سے پہلے آزادی کی صورت دکھا دی۔ میں خیال کرتا تھا کہ پاکستان میں صرف مسلمان اور ہندوستان میں صرف ہندو اور سکھ آزاد نہیں ہوئے ہیں، دونوں سلطنتوں کے کل باشندے آزاد ہوئے ہیں۔ مگر اگست کا مہینہ گزرنے نہ پایا تھا جو محسوس ہونے لگا کہ میں تو اور بندھ گیا۔ میری محکومی اور غلامی تو اور ابھر آئی۔ انگریز کے دور میں اس قدر احساس کمتری نہ تھا جس قدر آزادی کے زمانہ میں ہو رہا تھا۔ چاروں سمت فضا اتنی خراب تھی کہ میں اپنے ہندوار دلی کی بابت بھی سوچنے لگتا کہ یہ سلام کے لیے جھک رہا ہے یا میرا مذاق اڑا رہا ہے۔ اس کا تعلق حاکم قوم سے ہے اور میں اس کی قوم کا بھی محکوم ہوں اور اس کا بھی محکوم ہوں۔ | 174 |
| 13 | مجلس علم کلام اور علامہ شبلی نعمانیؒ
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی
علامہ شبلی کا خیال تھا کہ جدید علم کلام ناقص اور نامکمل ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ عباسیوں کے زمانے میں جب فلسفہ اور علومِ عقلیہ کا رواج ہوا تو سیکڑوں ہزاروں اشخاص کے مذہبی عقائد متزلزل ہوگئے۔ چنانچہ مسلمانوں میں علوم عقلیہ اور فلسفہ کے ماہرین پیدا ہوئے اور انہوں نے اس سیلاب کو روکا۔ موجودہ دور میں جب کہ یورپ کی تحقیقات عام ہو رہی ہیں اور جدید خیالات قوم میں پھیل رہے ہیں، علماء میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے یورپ کا فلسفہ اور سائنس حاصل کیا ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایک کمیٹی "مجلس علم کلام" بنائی جائے، جس میں بقول علامہ شبلی: قدیم علماء اور جدید تعلیم یافتہ دونوں گروہ کے لوگ ممبر ہوں۔ قدیم علماء اس بات کا فیصلہ کریں کہ جو عقائد اور مسائل فلسفہ کے خلاف بیان کئے جاتے ہیں، ان میں سے کون سے مسائل درحقیقت اسلام کے اصل عقائد میں ہیں اور کون سے نہیں۔ جدید تعلیم یافتہ گروہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ جن چیزوں کو فلسفہ کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت فلسفہ کے مخالف ہیں یا نہیں اور اگر ہیں تو فلسفہ کی تحقیقات کہاں تک یقینی اور قطعی ہے۔ اس کمیٹی میں انہوں نے قدیم و جدید تعلیم یافتہ دونوں طبقہ کے اشخاص کو شامل کیا تھا، جس میں مولانا مفتی عبد اللہ ٹونکی، مولانا حمید الدین فراہی، علامہ سر محمد اقبال اور مولوی عبدالقادر بی اے شامل تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مذکورہ اشخاص سے خط و کتابت کی اور اسے ایک مجلس کی شکل دینے کی کوشش کی۔ علامہ اقبال کے علاوہ کسی اور کے رکنیت قبول کرنے کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ کام اس سے زیادہ غالباً آگے نہ بڑھ سکا۔ البتہ خود علامہ شبلی نے علم الکلام کی اردو میں ترتیب و تدوین کے لئے بڑی جدوجہد کی اور اس کا ایک وسیع اور مہتم بالشان علمی منصوبہ بنایا تھا جو اگرچہ پورا نہ ہوسکا، تاہم اس سلسلے کی انہوں نے کئی اہم کتابیں سپردِ قلم کیں۔ علامہ شبلی نے ایک صدی پہلے یہ منصوبہ بنایا تھا۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کے لیے یہ کام اور زیادہ ضروری اور اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ سائنسی تحقیقات کا یہ دور عروج ہے۔ روز نت نئے انکشافات اور ایجادات ہو رہی ہیں، اس لیے علامہ شبلی کے دور کے مقابلے میں آج مجلسِ علمِ کلام اور اس کے مقاصد کا حصول وقت کا شاید سب سے بڑا تقاضا ہے، مگر اب کون اس جانب متوجہ ہوگا اور ہوگا بھی جیسا کہ بعض کتابیں منظرِ عام پر آئی ہیں تو ان سے کون تعارض کرے گا۔
(معارف، ستمبر ٢٠٢٦ء، صفحہ: ۱۴/۱۵)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 249 |
| 14 | 044 ذو البجادين.pdf | 273 |
| 15 | 044 ذو البجادين.mp3 | 270 |
| 16 | 044 تمارين ذو البجادين.pdf | 267 |
| 17 | *سچی باتیں (3؍مارچ 1941(۔۔۔ عصری تعلیم*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ*
’’تعلیم کا بول بالا‘‘ ’’جہالت کا مُنہ کالا‘‘ ! نعرے لگاتے ہوئے اسکول سے لڑکے نکلے۔ غول کے غول، آگے پیچھے ماسٹر ساتھ ساتھ۔ 16؍فروری ۔ آج ’’لٹریسی ڈے‘‘ ہے۔ ’’یوم خواندگی‘‘ ہے۔ جہالت کی تاریکی دور کی جائے گی، علم کی روشنی پھیلائی جائے گی، ملک کے بچہ بچہ کو حرف شناس بنادیاجائے گا۔ جلسے ہورہے ہیں، جلوس نکل رہے ہیں، ریڈیو پر تقریریں ہورہی ہیں۔ دیہاتی اور شہری سب شریک ۔ گورنمنٹ اور کانگریس ایک دوسرے کی حریف نہیں حلیف۔ ……لڑکوں کا جلوس آگے بڑھا۔ نعرے بدل گئے۔ اب ’’تعلیم‘‘ نہیں، بلکہ ’’انقلاب‘‘ زندہ باد! برطانیہ برباد! امپریلزم مردہ باد! ……ماسٹر قریب آگئے ۔ ہلکی سی ڈانٹ اور للکار۔ نعرے اب پھر بدل گئے اب پھروہی’’تعلیم کا بول بالا‘‘ ’’جہالت کا مُنہ کالا‘‘!……کیا خوب ہے یہ تعلیم اور اس کی روشنی! کیا خوب ہے یہ علم اور اس کے عالم باعمل! یہی علم سوتوں کو جگادے گا، دلوں کو گرمادے گا، دماغوں کو روشن کردے گا، ملک کو آزاد کرادے گا!
سامنے عظیم الشان اور لق ودَق عمارت آپ دیکھ رہے ہیں؟ اور پھر اس کے اردگرد ایک سلسلہ شاندار مکلف عمارتوں کا، فرلانگوں تک پھیلا ہوا، میلوں کا رقبہ گھیرے ہوئے۔ یہ کیاہے؟ کس امیر کبیر کی کوٹھیاں ہیں؟ کسی بڑے راجہ، مہراجہ، رئیس، نواب ، کے محلوں کا سلسلہ ہے؟ جی نہیں۔ یہ یونیورسٹی ہے، اور اس کے ملحقات۔ کتب خانہ ، تجربہ گاہیں، اقامت خانے، وغیرہا…ہر عمارت کے اندر لاکھوں کا سامان، آلات، کتابیں، فرنیچر، وغیرہا……فیسوں پر فیسیں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ مصارف تعلیم گراں سے گراں ترہوتے جارہے ہیں۔ کتابون کی قیمتیں مستزاد۔ سائیکل رکھنا تو گویا طالب علمی کے لوازم میں داخل۔ ……یہ تعلیم کا’’فیض عام‘‘ ہورہاہے۔ یہ مفلس قوم کے افلاس کو دُور کرنے کا نسخہ بتایاجارہاہے ! ان شاہانہ عمارتوں کے اندر تعلیم دی جارہی ہے، قوم کے نونہالوں کو اعلیٰ اخلاق کی، سادگی کی، کفایت کی! سرمایہ داری سے نفرت کی، دولت سے عداوت کی، اسراف کی مذمت کی!
موٹر پر موٹر آرہے ہیں، یونیورسٹی کے سائبان میں رُک رہے ہیں۔ اُترتے ہیں اُن سے یونیورسٹی کے اساتذہ۔ یہ صاحب تاریخ کے پروفیسر ہیں، اور وہ معاشیات کے ماہر۔ فلاں فلسفہ کے پروفیسر ہیں، اور فلاں ادب کے لکچرر۔ یہ ابھی کُل پانسو ماہوار پارہے ہیں، اوروہ سات سَو ہزار کے گریڈ میں ہیں۔ ان کی ترقی ابھی بارہ سو تک ہوئی ہے، اور اُن کا مشاہرہ اس وقت ڈیڑہ ہزار ہے۔ ممتحنی کے گراں قدر معاوضے اپنی یونیورسٹی سے اور (’’من تُرا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘کے اصول پر) دوسری یونیورسٹیوں سے اس کے علاوہ!لندن کے ڈی، اس، سی، پیرس کے ڈی لٹ، جرمنی کے پی، ایچ، ڈی کی تنخواہیں آخر اس سے کم ہوبھی کیا سکتی ہیں؟ ان کی تعلیم میں جو 50۔50ہزار اُٹھے ہیں، آخر اُن کے نکلنے کا بھی تو کوئی حساب ہونا چاہئے !……خود یہ ’’ڈگری دار‘‘ بھی محض اس لئے ڈگریدار ہیں کہ ان کے والدین ان کی تعلیم اور ولایتی تعلیم پر بے دھڑک دولت خرچ کرسکے!……یہ مامور ہیں آپ کے لڑکوں اور (اب تو) لڑکیوں کی سیرت سازی پر! یہ فرنگی دل اور فرنگی دماغ رکھنے والے ، اونچی اور شاندار کوٹھیوں میں رہنے والے، اپنے گریڈ کی ترقی کے لئے، اپنی ملازمت کی توسیع کے لئے اپنے دوستوں ، رفیقوں سے لڑجانے والے، اور لکچرروم میں کام دن بھر میں دودوتین تین گھنٹوں کے لئے کرنے والے، ماہرین علوم واُستادان فنون تعلیم دے رہے ہیں آپ کے بچوں کو امانت کی، دیانت کی، صداقت کی، ایثار کی، اخلاص کی، بے ریائی کی، حبّ وطن کی، قوم ہمدردی کی، قناعت کی، دولت سے بے رغبتی کی، سرمایہ داری کو توڑنے کی، مساوات عام کی!
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 301 |
| 18 | *وفیات مورخہ:ستمبر /01)*
2006ء احمد سعید ناگی۔ ،
2009ء اختر پگانوالہ (میاں محمد)۔ ،
2014ء الیاس شاداں۔ ،
2001ء آذر زوبی (عنایت اللہ )۔ ،
1920ء بال گنگا دھر تلک (لوک مانیۃ تلک)۔ رہنما تحریک آزادی
2021ء ثاقب مظفر پوری (سید ثاقب حسین)۔
1985ء حبیب صدیقی آلہ آبادی۔ ،
2003ء حمزعلوی۔ ،
1983ء سلیم احمد۔ ادیب
2001ء سید ثروت حسین۔ ،
2021ء سید علی گیلانی۔ کشمیری لیڈر
2003ء سید ہاشم رضا۔ منتظم بلدیہ کراچی
2013ء شبنم سبحانی ( سید عبد الباری)۔ ڈاکٹر
1952ء شری مشرووالا۔
1952ء شری مشرووالا۔ ،
2005ء صداقت علی خان۔ ،
1990ء عبرت صدیقی بریلوی (تبارک علی)۔ ،
1990ء فرید الدین احمد خان۔ ،
2020ء قاضی محمد قاسم۔ مولانا
1971ء محمد امیر بندیالوی۔
1985ء محمد ظفر اللہ خاں۔ سر
1994ء والس متھائس۔ Wallis Methias
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 318 |
| 19 | ”گیٹ وے آف انڈیا“ برطانوی استعمار کے فن تعمیر کا نمونہ،ایک بےروح بوجھ جو بمبئی کے حسین ساحل پر ایک بھاری سِل کی طرح رکھا ہوا ہے ـ
(روشنائی، سجاد ظہیر) | 290 |
| 20 | ایسی ہی بچکانہ اور سادہ لوحانہ عقیدت مندیوں نے کرامتوں کے سلسلے میں اہلِ عقل و فہم میں بڑا غلط رد عمل پیدا کیا ہے، کرامت یقینا برحق ہے لیکن کرامت سازی بالکل برحق نہیں، دوسرے پیغمبروں کو تو کیا کہیے کچھ سرورِ کائنات ﷺ کی پیدائش ایک کافر ہی دایہ کے ہاتھوں ہوئی اور پھر جسد ِ مبارک کو آغوش میںلے لے کر کھلایا، اگر ان کے ایک غلام کی پیدائش انگریز دایہ کے ہاتھوں ہو جاتی اور اس کافرہ کے ہاتھ اس بندۂ خدا کو چھو لیتے تو اس سے ان اوصافِ جمیلہ پر کیا داغ آسکتا تھا جنہیں اس بچے کے مستقبل میں مقدر کر دیا گیا تھا، متذکرہ واقعہ میں کوئی کرامت نہیں، اس طرح کے امور کو کرامت کا عنوان دینا مریض ذہنوں کا کام ہو سکتا ہے اور ایسی ہی غلو آمیزیاں حقیقی کرامات کو بدنام کرنے کا موجب بنتی ہیں۔
تبصرے کا لبِ لباب یہ ہے کہ چند جزئیات کو چھوڑ کر نہایت بلند پایہ، مفید اور ایمان افزا کتاب ہے، اللہ تعالیٰ مؤلف کو بہشت کی بہترین نعمتوں سے نوازیں۔
(ماہنامہ تجلی، مئی،۱۹۶۹ ء)
ترتیب: معاویہ محب الله | 333 |
