علم و کتاب
الذهاب إلى القناة على Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
إظهار المزيد8 102
المشتركون
-624 ساعات
-217 أيام
-10530 أيام
جاري تحميل البيانات...
القنوات المماثلة
سحابة العلامات
لا توجد بيانات
هل تواجه مشاكل؟ يرجى تحديث الصفحة أو الاتصال بمدير الدعم الخاص بنا.
الإشارات الواردة والصادرة
---
---
---
---
---
---
جذب المشتركين
سبتمبر '26سبتمبر '26
سبتمبر '26
+44
في 0 قنوات
أغسطس '26
+170
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '26
+189
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '26
+218
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '26
+228
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '26
+163
في 1 قنوات
Get PRO
مارس '26
+62
في 2 قنوات
Get PRO
فبراير '26
+89
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '26
+95
في 2 قنوات
Get PRO
ديسمبر '25
+81
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '25
+109
في 1 قنوات
Get PRO
أكتوبر '25
+105
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '25
+119
في 1 قنوات
Get PRO
أغسطس '25
+173
في 2 قنوات
Get PRO
يوليو '25
+151
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '25
+140
في 2 قنوات
Get PRO
مايو '25
+95
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '25
+105
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '25
+153
في 2 قنوات
Get PRO
فبراير '25
+131
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '25
+278
في 1 قنوات
Get PRO
ديسمبر '24
+403
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '24
+500
في 2 قنوات
Get PRO
أكتوبر '24
+487
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '24
+322
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '24
+322
في 3 قنوات
Get PRO
يوليو '24
+323
في 4 قنوات
Get PRO
يونيو '24
+341
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '24
+331
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '24
+300
في 3 قنوات
Get PRO
مارس '24
+265
في 1 قنوات
Get PRO
فبراير '24
+321
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '24
+403
في 3 قنوات
Get PRO
ديسمبر '23
+376
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '23
+132
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '23
+124
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '23
+92
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '23
+121
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '23
+116
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '23
+77
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '23
+253
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '23
+81
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '23
+49
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '23
+126
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '23
+137
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '22
+123
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '22
+209
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '22
+119
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '22
+62
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '22
+40
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '22
+44
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '22
+138
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '22
+42
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '22
+17
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '22
+31
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '22
+28
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '22
+56
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '21
+112
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '21
+52
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '21
+112
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '21
+64
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '21
+43
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '21
+63
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '21
+164
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '21
+38
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '21
+60
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '21
+103
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '21
+80
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '21
+211
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '20
+1 362
في 0 قنوات
| التاريخ | نمو المشتركين | الإشارات | القنوات | |
| 30 سبتمبر | +4 | |||
| 29 سبتمبر | 0 | |||
| 28 سبتمبر | 0 | |||
| 27 سبتمبر | 0 | |||
| 26 سبتمبر | +2 | |||
| 25 سبتمبر | +2 | |||
| 24 سبتمبر | +1 | |||
| 23 سبتمبر | +1 | |||
| 22 سبتمبر | +4 | |||
| 21 سبتمبر | +2 | |||
| 20 سبتمبر | 0 | |||
| 19 سبتمبر | +2 | |||
| 18 سبتمبر | 0 | |||
| 17 سبتمبر | +2 | |||
| 16 سبتمبر | +1 | |||
| 15 سبتمبر | +1 | |||
| 14 سبتمبر | +1 | |||
| 13 سبتمبر | 0 | |||
| 12 سبتمبر | +4 | |||
| 11 سبتمبر | +10 | |||
| 10 سبتمبر | 0 | |||
| 09 سبتمبر | +2 | |||
| 08 سبتمبر | +1 | |||
| 07 سبتمبر | 0 | |||
| 06 سبتمبر | 0 | |||
| 05 سبتمبر | +1 | |||
| 04 سبتمبر | +1 | |||
| 03 سبتمبر | +1 | |||
| 02 سبتمبر | 0 | |||
| 01 سبتمبر | +1 |
منشورات القناة
*وفیات مورخہ:اکتوبر 01*
1422ء تاج الدین فیروز شاہ۔ بہمنی سلطان
1901ء امیر عبد الرحمن خان۔ امیر افغانستان
1902ء مرزا حسین نوری طبرسی۔ شیعہ مجتھد
1918ء سعید بن علی قحطانی۔ سعودی عالم دین
1944ء خوشی محمد ناظر، چودھری۔ شاعر
1944ء عبد العزیز الثعالبی۔ تونسی عالم و مجاہد آزادی
1971ء ریاض شاہد۔ ،
1972ء حامد حسین فاروقی۔ ،
1972ء ریاض شاہد۔
1974ء محشر مرزا پوری (مرزا فرزند علی)۔ شاعر
1982ء اختر سلیمان (اختر جہاں سہروردی)۔ شاعر
1982ء بیگم اختر جہاں سہروردی۔
1990ء ذکی آذر (ذکی احمد صدیقی)۔ پروفیسر ،
2003ء الیاس سیتا پوری (محمد الیاس خان)۔ ناول نگار
2003ء خالد مسعود۔ ماہر قانون، اسلام آباد یونیورسٹی
2009ء سید کمال۔ پاکستانی اداکار
2014ء عزیز الرحمٰن خان۔ ہاکی چیمپین
Https://telegram.me/ilmokitab
| 2 | ماہرِ فن بننے کا نسخہ
جوش ملیح آبادی نے اپنے مخصوص انداز میں لکھا ہے:
علوم و فنون کا شمار ناممکن ہے، عمر بے حد قلیل اور علوم و فنون بے کراں طویل ہیں۔ اگر کسی ایک فن کو "یک در گیر و محکم گیر" کی طرح، پکڑ کر، تمام عمر، اس کو خونِ دل سے متواتر سینچو گے تو آخرِ وقت، ایک مختصر سی، ہری بھری محدود کِیاری ہاتھ آجائے گی اور اگر تمام علوم و فنون پر ہاتھ ڈالو گے تو ایک احمق و جاہل کی موت مرجاؤ گے۔
(فکر و ذکر/صفحہ: ۱۷۲)
https://telegram.me/ilmokitab | 189 |
| 3 | یہ بارہ کتابیں الگ الگ بھی اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یکجا ہوجانے کے بعد ان کا اثر کچھ اور ہوجاتا ہے۔ ایک کتاب میں عورتوں کے آنسو ہیں، دوسری میں انگریزوں کی بپتا، کہیں محاصرے کے خطوط ہیں، کہیں بادشاہ کا مقدمہ، کہیں فرمان اور اخبار، کہیں غالب کی نگاہ، کہیں مرتی ہوئی دہلی اور کہیں اس کے آخری سانس کی آواز۔
خواجہ حسن نظامی نے تاریخ کو صرف واقعات کے طور پر نہیں دیکھا؛ انہوں نے اس کے پیچھے چھپے ہوئے انسان کو دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں توپوں سے زیادہ کبھی کبھی ایک آہ سنائی دیتی ہے، جنگوں سے زیادہ کسی اجڑے ہوئے گھر کا سکوت محسوس ہوتا ہے اور سلطنت کے زوال سے زیادہ ایک تہذیب کے بکھرنے کا دکھ نمایاں ہوتا ہے۔
“مرنے والی تہذیب اور تاریخ کا نوحہ” مصنف کی یہ تعبیر اس پورے مجموعے کے لیے شاید سب سے جامع تعارف ہے۔
یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نہیں جو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ 1857ء میں کیا ہوا تھا؛ یہ ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ 1857ء میں لوگوں پر کیا گزری تھی۔
اور یہی فرق ایک تاریخ پڑھنے اور ایک تاریخ جینے میں ہے۔
آپ کو روزن ماضی میں جھانکنا ہی ہوگا، تاکہ آپ کا مستقبل کسی مثبت راہ پر گامزن ہوسکے۔
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ کی عملی تصویر اور تعبیر ہر دور میں صادر اور صادق ہوتی رہی ہے۔
میں کسی قاری سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کتاب آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے؛ ممکن ہے آپ کا مزاج دوسرے موضوعات کے مطالعے کا ہو، مگر یہاں رک کر دست بستہ عرض ہے کہ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو آپ تاریخ کے ایک ایسے دور سے دور رہیں گے جس میں کئی صدیاں تاج و تخت پر براجمان رہنے والے بھی ملک بدری کی سزائیں جھیلنے پر مجبور ہوئے۔ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو اپنے شاندار ماضی کے ساتھ اس کے افسوسناک ماضی کی تصویر کیسے دیکھ سکیں گے؟ اگر آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تو اپنے حال و استقبال کو کیسے سمجھ سکیں گے؟
(سترہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری) | 228 |
| 4 | مہکتی کتابیں:
نام کتاب: بیگمات کے آنسو
(12،یاد گار کتابوں کا مجموعہ)
موضوع: ہنگامہ 1857ء
مصنف: خواجہ حسن نظامی
سن اشاعت: 2008
صفحات: 834
زبان: اردو
ناشر: (درجنوں مکتبے)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
1857ء صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے دہلی کے ایوانوں، کوچوں، بازاروں، محلوں اور دلوں کو ایک ساتھ ہلا دیا۔ تاریخ کی بڑی کتابیں عموماً بادشاہوں، سپہ سالاروں، معرکوں اور فیصلوں کا حساب رکھتی ہیں؛ مگر خواجہ حسن نظامی کی نظر وہاں بھی گئی جہاں تاریخ کے سرکاری رجسٹر عموماً خاموش ہوجاتے ہیں: خاص کر اجڑے ہوئے گھروں، بے سہارا عورتوں، بچھڑے ہوئے بچوں، مٹتی ہوئی تہذیب اور شکستہ دل انسانوں کی طرف۔
“خواجہ حسن نظامی کی بارہ قدیم یادگار کتابیں: 1857 سے متعلق” اسی دردناک تاریخ کے بارہ دریچوں کا مجموعہ ہے۔ 833صفحات میں پھیلی ہوئی یہ کتاب دراصل ایک عہد کے اٹھتے ہوئے جنازے کے ساتھ چلنے والی تحریری آنکھ ہے۔
اس مجموعے میں سب سے پہلے بیگمات کے آنسو آتی ہے۔ نام ہی بتا دیتا ہے کہ یہاں تاریخ کے بڑے واقعات کے درمیان ان عورتوں کی سسکیاں بھی محفوظ ہیں جن کے لیے غدر صرف سیاسی کشمکش نہیں بلکہ گھر، خاندان، آسائش اور زندگی کے چھن جانے کا نام تھا۔ اسی کتاب میں دکھیا شہزادی گل بانو کی آواز قاری کے دل پر دستک دیتی ہے:
" بابا! میں تمہاری گل بانو ہوں۔ دیکھو اکیلی ہوں۔ اٹھو، مجھے بخار چڑھ رہا ہے، آہ! میری پسلی میں شدت کا درد ہو رہا ہے، مجھے سردی لگ رہی ہے، میرے پاس اس بوسیدہ کمبل کے سوا اوڑھنے کو کچھ نہیں ہے۔ میری اماں مجھ سے بچھڑ گئیں، میں محلوں سے جلا وطن ہوگئی۔ بابا! اپنی قبر میں مجھے بلا لو۔"
یہ چند الفاظ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ 1857ء کو صرف توپوں کے دھوئیں اور تلواروں کی جھنکار میں پڑھنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے؛ اس تاریخ میں ایسے آنسو بھی ہیں جن کی آواز صدیوں بعد بھی سنائی دیتی ہے۔
اور شاید اسی لیے خواجہ حسن نظامی نے خود اس کتاب کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
“میں نے یہ کتاب درحقیقت مرنے والی تہذیب اور تاریخ کا نوحہ لکھنے کے لیے تیار کی تھی۔”
بس! یہی ایک جملہ پوری کتاب کی روح سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ محض غدر کی داستان نہیں، مرنے والی تہذیب کا نوحہ ہے۔ اس لیے یہاں تاریخ صرف پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی ہوتی ہے۔
اس کے بعد انگریزوں کی بپتا ہے، جس میں 1857ء کے ہنگامے کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر محاصرہ دہلی کے خطوط ہیں؛ خطوط ہمیشہ تاریخ کو خشک واقعات سے نکال کر زندہ انسانوں کے قریب لے آتے ہیں۔ ان میں محاصرے کی کیفیت، خوف، بے یقینی اور اس دور کے حالات کی جھلک ملتی ہے۔
بہادر شاہ کا مقدمہ دہلی کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تقدیر کو سامنے لاتا ہے۔ تخت سے عدالت تک کا یہ سفر ہندوستانی تاریخ کے ان المناک ابواب میں سے ہے جہاں ایک عہد کا اختتام ایک شخص کی زندگی کے انجام میں دکھائی دیتا ہے۔
پھر غدر کے فرمان ہیں، جو اس ہنگامہ خیز دور کے سرکاری اور سیاسی اعلانات کو محفوظ کرتے ہیں۔ اس کے بعد غدر کے اخبار آتے ہیں۔ اخبار کسی زمانے کی نبض ہوتے ہیں؛ اس لیے ان کے ذریعے 1857ء کے واقعات کو اس دور کے فوری ردعمل، افواہوں، اعلانات اور حالات کے آئینے میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
غالب کا روزنامچہ غدر تو اس مجموعے کا ایک نہایت دل کش گوشہ ہے۔ مرزا غالب کی نگاہ سے دہلی کو دیکھنا دراصل ایک عظیم ادیب کی آنکھ سے ایک عظیم سانحے کو دیکھنا ہے۔ غالب کی زبان، مزاج اور مشاہدہ اس زمانے کے ملبے میں ایک الگ ہی روشنی پیدا کرتے ہیں۔
دہلی کی جانکنی کے نام میں ہی وہ کیفیت چھپی ہوئی ہے جسے خواجہ حسن نظامی محسوس کرتے تھے۔ دہلی یہاں محض ایک شہر نہیں رہتی؛ ایک جیتی جاگتی تہذیب بن جاتی ہے جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔
غدر کے صبح شام میں اسی ہنگامے کے شب و روز کے مناظر سامنے آتے ہیں۔ کبھی صبح امید کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے، کبھی شام کا سایہ مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ تاریخ کے بڑے واقعات دراصل ایسے ہی چھوٹے چھوٹے دنوں اور راتوں سے مل کر بنتے ہیں۔
دہلی کی سزا میں شکست کے بعد کی وہ دنیا سامنے آتی ہے جس میں شہر کو صرف فتح نہیں کیا گیا بلکہ اس کے باشندوں کو بھی اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر دہلی کا آخری سانس آتا ہے؛ عنوان ہی قاری کو روک لیتا ہے کہ آخر وہ دہلی کون سی تھی جس کا آخری سانس بھی کسی نے قلم بند کیا؟
اور آخر میں ضمائم ہیں، جو اس تاریخی مواد کو مزید وسعت دیتے ہیں اور مجموعے کو محض ایک کتاب نہیں بلکہ 1857ء کے گرد جمع کیا ہوا ایک بڑا دستاویزی و ادبی ذخیرہ بنا دیتے ہیں۔ | 209 |
| 5 | https://telegram.me/ilmokitab | 185 |
| 6 | علم وکتاب چینل پر اخلاق احمد دہلوی کے خاکوں کاسلسلہ شروع کیا اجارہا ہے، احباب جڑے رہیں۔ | 190 |
| 7 | میرا جی کا اخلاق۔ اخلاق احمد دہلوی | 197 |
| 8 | وفیات مورخہ:ستمبر /30
788ء عبد الرحمن داخل۔ فاتح اندلس
1970ء حقی حزین میرٹھی (توفیق الحق)۔ شاعر
1995ء انیس فاطمہ (سید)۔ ادیبہ
1995ء عبدالمناں۔ قاری
1997ء سید یوسف۔ سکریٹری جماعت اسلامی ہند
2003ء سید ہاشم رضا۔ ناظم کراچی
2014ء افتخار حسین انصاری۔ کشمیری شیعہ عالم | 209 |
| 9 | Https://telegram.me/ilmokitab | 240 |
| 10 | علم و کتاب چینل کے فروغ میں احباب دلچسپی لیں، آج کل ممبران کی تعداد کم ہونی شروع ہوئی ہے | 223 |
| 11 | شیر شاہ سوری کے نظامِ حکومت کے چار بنیادی ستون
ڈاکٹر کمال اشرف اپنے مقالہ: شیر شاہ سوری، ارض بنگالہ کا عظیم معمار میں ایک جگہ لکھتے ہیں: شیر شاہ کا نظامِ حکومت بنیادی طور پر چار ستونوں پر قائم تھا:
۱۔ معیاری کرنسی اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure):
اُس نے خالص چاندی کا معیاری "روپیہ" جاری کیا، جس نے پورے ملک میں تجارت کو آسان، محفوظ اور منظم بنا دیا۔ ایک متحدہ اور مستحکم کرنسی نے اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار دی۔
۲۔ شاہراہوں کا جال:
خصوصاً مشہور Grand Trunk Road، جس نے سلطنت کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ اس شاہراہ نے نہ صرف فوجی نقل و حرکت کو سہل بنایا، بلکہ تجارت، ثقافتی روابط اور سیاسی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔
۳۔ معاشی اصلاحات:
غیر ضروری محصولات اور داخلی محصولات (Custom Duties) میں کمی کی گئی، تاکہ تجارت کو فروغ ملے۔ محصولات کی وصولی کو منظم اور شفاف بنایا گیا، جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوا۔
۴۔ مذہبی رواداری:
یہ اُس کی پالیسیوں کا سب سے اہم پہلو تھا۔ اگرچہ وہ ذاتی طور پر ایک دیندار مسلمان اور پابندِ صوم و صلوٰۃ تھا، مگر حکمرانی کے معاملات میں اُس نے غیر جانبدار طرزِ عمل اختیار کیا۔ اُس کی پالیسیاں رعایا کے تمام طبقات کے لیے یکساں تھیں، خواہ اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اُس دور کے سیاسی ماحول میں یہ رویہ غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔
(معارف، ستمبر ۲۰۲٦ء، صفحہ: ۴۳/۴۴)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
Https://telegram.me/ilmokitab | 384 |
| 12 | چینل کی لنک زیادہ سے زیادہ عام کریں، عبد المتین منیری۔ اڈمن | 338 |
| 13 | Https://telegram.me/ilmokitab | 348 |
| 14 | لا يوجد نص... | 385 |
| 15 | ڈاکٹر محمود احمد غازی | 365 |
| 16 | „گنجینۂ گوہر“ میں شخصیات کے گوہر جمع ہیں اور „چند ادبی شخصیتیں“ میں اہل قلم کے چہرے۔ دونوں کتابیں ساتھ رکھی جائیں تو شاہد احمد دہلوی کی خاکہ نگاری کا ایک خوب صورت نقش سامنے آتا ہے: ایک طرف شخصیت، دوسری طرف مشاہدہ ان دونوں کے درمیان شاہد احمد دہلوی کا وہ قلم جو گزرتے ہوئے لوگوں کو گزرتے ہوئے زمانے کے ساتھ محفوظ کرگیا۔
کتابیں بہت ہوتی ہیں، مگر ہر کتاب اپنے عہد کی حاضری نہیں لگاتی۔ کچھ کتابیں پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے صرف چند صفحات نہیں پڑھے، بلکہ ایک زمانے سے ملاقات کی ہے۔
لائق ذکر ہے کہ میں چند سال پہلے تک شاہد احمد دہلوی کے نام سے بالکل واقف نہیں تھا لیکن جب واٹسپ پر علم و کتاب گروپ وجود میں آیا اور محترم مولانا عبد المتین منیری نے شاہد احمد کے یکے بعد دیگرے کئی خاکے تواتر کے ساتھ شئیر کئے تو پڑھتے پڑھتے ایسا چسکا لگا کہ پھر ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرتا پڑھتا اور ان کی ٹکسالی ادبیت پر عبور پر رشک کرتا۔
اگر آپ کو ان کی کوئی بھی کتاب قیمتاً یا عاریتا مل جائے تو ضرور پڑھئے۔
ناصرالدین مظاہری
(تیرہ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری) | 486 |
| 17 | مہکتی کتابیں:
نام کتاب: گنجینۂ گوہر
مصنف کا نام : شاہد احمد دہلوی
موضوع: قلمی چہرہ
ناشر: مکتبۂ اسلوب
صفحات: 231
مصدر: ریختہ
اردو ادب میں خاکہ نگاری کی روایت بڑی قدیم ہے، مشہور خاکہ نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ، محمد حسین آزاد، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، عبدالماجد دریابادی، مولانا عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، چراغ حسن حسرت، شاہد احمد دہلوی، محمد طفیل، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی، سلیم احمد، یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین جیسے نام نمایاں ہیں۔
ان ہی ناموں میں شاہد احمد دہلوی ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ صرف خاکہ نگار نہیں تھے، وہ دہلی کی زبان، تہذیب، محفل، موسیقی اور معاشرتی زندگی کے نباض تھے۔ ان کی نثر میں دہلی کی وہ ٹکسالی زبان ملتی ہے جس میں لفظ صرف معنی نہیں دیتے بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا ماحول لے کر آتے ہیں۔ وہ ادبی جریدے ساقی کے مدیر، مترجم، ادیب اور موسیقی کے شناسا بھی تھے۔ 1930ء میں انہوں نے دہلی سے ساقی جاری کیا اور تقسیم کے بعد پاکستان میں بھی اسے جاری رکھا۔
شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو قریب سے دیکھا، ان کے ساتھ وقت گزارا اور جن کی محفلوں میں بیٹھے، ان کی یادوں کو محض یاد نہیں رہنے دیا؛ انہیں لفظوں میں محفوظ کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خاکہ نگاری میں صرف کسی شخصیت کا تعارف نہیں ملتا بلکہ اس شخصیت کے گرد پھیلی ہوئی فضا بھی دکھائی دیتی ہے۔
ان کے خاکوں کا پہلا مجموعہ „گنجینۂ گوہر“ 1962ء میں شائع ہوا۔
کتاب کا نام بھی خوب ہے: گنجینۂ گوہر! گویا مختلف شخصیتیں موتیوں کی طرح ہیں اور مصنف نے اپنے قلم سے انہیں ایک خزانے میں جمع کردیا ہے۔ خاکہ نگاری میں یہی تو اصل کمال ہے کہ خاکہ نگار کسی شخصیت کے محض بڑے بڑے اوصاف نہیں گنواتا بلکہ اس کی گفتگو، نشست، انداز، عادت، مزاج، وضع قطع اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایسا نقش اور نقشہ بناتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک زندہ تصویر بن جاتی ہے۔
شاہد احمد دہلوی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شخصیت کو اس کے ماحول سے کاٹ کر نہیں دیکھتے۔ آدمی اکیلا آدمی نہیں ہوتا، اس کے پیچھے ایک زمانہ، ایک معاشرہ، ایک تہذیب اور ایک زبان بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کے خاکوں میں شخصیت کے ساتھ دہلئی کہنہ بھی چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ „گنجینۂ گوہر“ محض چند شخصی خاکوں کی کتاب نہیں بلکہ اپنے عہد کی ادبی و تہذیبی زندگی کی ایک جھلک بھی بن جاتی ہے۔ شاہد احمد دہلوی نے جن لوگوں کو دیکھا، ان کے چہروں کے ساتھ ان کے زمانے کے کچھ رنگ بھی محفوظ کرلیے۔
اسی سلسلے کی دوسری اہم کتاب ہے „چند ادبی شخصیتیں“۔ یہ شاہد احمد دہلوی کے لکھے ہوئے سترہ ادبی خاکوں کا مجموعہ ہے، جن میں مختلف ادبی شخصیات سے ان کی ذاتی ملاقاتوں اور مشاہدات کو خاکہ نگاری کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ 242 صفحات پر مشتمل ہے۔
„چند ادبی شخصیتیں“ میں دائرہ نسبتاً زیادہ ادبی ہے۔ یہاں شاہد احمد دہلوی نے ادیبوں اور شاعروں کو موضوع بنایا ہے اور ان سے اپنی شناسائی، ملاقات اور مشاہدے کو خاکے کی صورت دی ہے۔ اس کتاب کی کشش صرف یہ نہیں کہ ہمیں چند مشہور اہل قلم کے حالات معلوم ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم انہیں شاہد احمد دہلوی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
اچھی خاکہ نگاری سوانح نہیں ہوتی۔ سوانح میں واقعات کا سلسلہ ہوتا ہے، خاکے میں شخصیت کا عکس ہوتا ہے۔ سوانح ہمیں بتاتی ہے کہ فلاں شخص کب پیدا ہوا، کہاں پڑھا، کیا لکھا اور کب دنیا سے رخصت ہوا؛ مگر خاکہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ شخص محفل میں کیسے بیٹھتا تھا، بات کیسے کرتا تھا، ہنستا کیسے تھا، غصہ کیسے کرتا تھا اور دوسروں پر کیا اثر ڈالتا تھا۔
شاہد احمد دہلوی کے یہاں یہی چیز نمایاں ہے۔ وہ شخصیت کے گرد ایک ایسا لفظی آئینہ رکھ دیتے ہیں جس میں صرف چہرہ نہیں بلکہ چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی طبیعت اور خد و خال بھی دکھائی دیتی ہے۔
ان کی زبان اس سلسلے میں ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ شاہد احمد دہلوی کی نثر میں دہلی کی بامحاورہ اور ٹکسالی زبان کا لطف ملتا ہے، اور یہی زبان ان کے خاکوں کو محض معلوماتی تحریر نہیں رہنے دیتی بلکہ انہیں ادبی لطف عطا کرتی ہے۔
شاہد احمد دہلوی کے بعد ان کے خاکوں کے مزید مجموعے بھی سامنے آئے، جن میں „بزم خوش نفساں“ اور „طاق نسیاں“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کتابی مآخذ کے مطابق „بزم خوش نفساں“ شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے، جبکہ „طاق نسیاں“ کو شاہد احمد دہلوی کے بھولے بسرے خاکوں کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے قلم اٹھایا تو صرف آدمیوں کو نہیں لکھا، آدمیوں کے ساتھ ایک زمانہ بھی لکھ دیا۔ ان کے یہاں شخصیات کتاب کے صفحات پر قید نہیں ہوتیں، وہ قاری کے ذہن میں اترتی ہیں، بات کرتی ہیں، مسکراتی ہیں اور کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پرانی دہلی کی کسی محفل کا دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔ | 400 |
| 18 | بزرگوں کا کمالِ ادب
مولوی لطف اللّٰه صاحب علی گڑھیؒ مصنفین کی غلطی کی بھی ہمیشہ توجیہ کردیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑے لوگ ہیں، ہمارا منہ نہیں ان پر اعتراض کرنے کا۔ آج کل مدرسین اعتراض بھی کرلیتے ہیں۔ پہلے بزرگوں کی طبیعت کا یہ رنگ تھا۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد: ۲/ملفوظ: ۴۱۷/صفحہ: ۲۷۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 320 |
| 19 | بزرگوں کا کمالِ ادب
مولوی لطف اللّٰه صاحب علی گڑھیؒ مصنفین کی غلطی کی بھی ہمیشہ توجیہ کردیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑے لوگ ہیں، ہمارا منہ نہیں ان پر اعتراض کرنے کا۔ آج کل مدرسین اعتراض بھی کرلیتے ہیں۔ پہلے بزرگوں کی طبیعت کا یہ رنگ تھا۔
(ملفوظات حکیم الامت، جلد: ۲/ملفوظ: ۴۱۷/صفحہ: ۲۷۷/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 56 |
| 20 | جامعہ اسلامیہ بھٹکل کےفارغ مولوی عبد القادر محمد میراں کی مدینہ یونیورسٹی میں تکریم، موصوف مدینہ منورہ سے ماجستیر مکمل کرنے کے بعد اب دکتوراہ کررہے ہیں۔ | 415 |
