en
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Open in Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Show more
8 087
Subscribers
+1224 hours
+437 days
+9430 days
Posts Archive
*وفیات مورخہ: 12/جون* 1903ء حسن علی فیضی۔ 1933ء میر ناصر علی دہلوی۔ مدیر صلائے عام ، دہلی ، 1956ء بشیر الدین۔ خان بہادر، مولوی 1969ء محمد اظہر وارثی۔ 1977ء شکیل احمد۔ ، 1983ء امین الدین خان۔ نوب لوہارو 1989ء شہزادی نیلوفر فرحت بیگم۔ 1991ء وفا ڈبائیوی (محمد حفظ الرحمٰن)۔ ، 1995ء اثر فیض آبادی۔ 1996ء افضال احمد خاں شیروانی۔ ، 1997ء آنند نرائن ملا۔ جج، شاعر وادیب ، 1998ء محمد علی رنگون والا۔ 1999ء محمد وصی خاں۔ ، 2003ء حسین احمدؒ ( کوٹ دوار)۔ مولانا 2004ء خواجہ غلام صادق۔ ، 2005ء محمودہ سلطانہ۔ ، 2009ء سرفراز احمد نعیمی۔ مولانا 2010ء رشید قیصرانی۔ 2020ء گلزار زتشی دہلوی ( پنڈت آنند موہن)۔ شاعر https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

آج اردو زبان وادب کے عظیم مجاہد پنڈت آنند نارائن ملا کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات مورخہ: ۱۲/ جون ۱۹۹۷ء کو ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ کلام پیش خدمت ہے۔ کلام شاعر بزبان شاعر علم و جاہ و زور و زر کلام وآواز: آنند نرائن ملا لنک https://telegram.me/ilmokitab

غفلت، ظاہری رونق مگر باطن کا اندھیرا از: طارق علی عباسی غفلت کیا ہے؟ غفلت دراصل خود سے غافل ہوکر اپنے مقصدِ حیات کو بھلا ڈالنا ہے، یہ غفلت دل، ضمیر اور اندرونی احساسات کی معطلی کا نام ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب اندرونی احساسات کی بیداری ختم ہوجائے تو اپنے وجود کا شعوری احساس بھی فنا ہوجاتا ہے، پھر بے مقصدیت مقصد کی جگہ لے لیتی ہے اور انسان اپنی حقیقی راہ بھلا بیٹھتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غفلت کا مطلب شاید عارضی طور پر غافل بن جانا ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ غفلت تو اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو لاحق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دل اپنی طاقت، اپنی توانائی، اپنی وضاحت اور اپنی بصیرت کھو دیتا ہے۔ غفلت سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، پھر ایسا دل دھڑکتا تو ہے، مگر اس کی دھڑکنوں میں وہ توانائی نہیں ہوتی، جو وجدانی کیفیات کو ابھار سکے اور کسی جذبے کے اظہار کا سبب بن سکے۔ غفلت کا مطلب ظاہری اعضاء کی حرکت جاری رہنے کے ساتھ، اندر کا بجھ جانا ہے۔ یعنی دل حرکت تو کرتا ہے، لیکن بغیر شعور کے، زندگی تو گزارتا ہے لیکن بغیر بیداری کے، کام تو کرتا ہے لیکن دیکھتا سمجھتا کچھ نہیں اور سانس تو لیتا ہے لیکن بغیر احساسوں کے! حقیقت یہ ہے کہ غفلت کا اصل مطلب دل سے اللہ تعالیٰ کی یاد کا غائب ہوجانا اور اس احساس کا ختم ہوجانا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ آپ کو دیکھ رہی ہے، آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق انسان اپنی شہہ رگ سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہے، اس کے علاوہ حدیثِ جبرئیل اس پر شاہد ہے کہ احسان کا کم درجہ یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے، پورے سلوک و احسان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اس احساس کو اپنے دل سے مٹنے نہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ بقول صوفی شاعر شاہ تراب علی قلندرؒ: دم غنیمت ہے، نہ ہو غافل خدا سے ایک دم زندگی نعمت ہے غفلت میں اسے کھوتا ہے کیا اسی کو غفلت کہتے ہیں کہ انسان بڑے مقصد کے احساس کو کھو دے اور اس کا دل غیر اہم چیزوں میں مشغول ہوجائے۔ غافل انسان کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزارتا، وہ اکثر و بیشتر بے چین رہتا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی غیر اہم چیزوں کے بدلے بڑے اہداف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ غفلت دراصل دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے۔ اگرچہ دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی، عارضی اور وقتی ہے، مگر غافل اسی تگ و دو میں لگا رہتا ہے کہ یہاں کی آسائشوں اور لذتوں میں ایک ہی دھن کے ساتھ مگن رہے، جب کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ یوں وہ دنیا ہی کو اپنی توجہ کا مرکز، اپنے خوف کا منبع اور اپنی پریشانی کا سبب بنا لیتا ہے۔ اسی لیے غفلت کوئی وقتی رویہ نہیں ہے، بلکہ ایک بڑی اضطرابی قلبی حالت ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ دلجمعی اور غفلت اکٹھے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ غفلت یہ ہے کہ ظاہری زندگی تو ٹھاٹھ باٹھ سے پوری طرح مزین ہو، لیکن اندرونی حیات بجھ چکی ہو۔ عبادات میں دل کا نہ لگنا اس مرض کی شروعات ہے اور عبادات میں دل کا بالکل ہی نہ لگنا یا عبادات و فرائض کا چھوٹ جانا اس مرض کی پختگی ہے۔ غفلت دل کے دروازوں کو بند کردیتی ہے، پھر جلتے اور روشن چراغ بھی بجھے ہوئے لگتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اس معاملہ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ غفلت انسان کو یکدم نیچے نہیں گراتی، بلکہ اسے بند گلی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور پھر اس پر باہر نکلنے کے راستے بند کردیتی ہے۔ غفلت انسان کی طاقت کو مٹا دیتی ہے، یعنی دل دیکھنے، تمیز کرنے، چلنے، ثابت قدم رہنے، خشوع اختیار کرنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت کو صحیح معنوں میں کھو دیتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کی یہ طاقت کیوں ختم ہوجاتی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دل کی اصل طاقت تو اس کی بصیرت، اس کا عزم، اس کا ارادہ، اس کی محبت، اس کی استقامت اور خواہشاتِ نفس کے خلاف اس کی مزاحمت ہے۔ چنانچہ جب ذکرِ الہٰی دل سے غائب ہوتا ہے تو شعور چلا جاتا ہے اور جب شعور چلا جاتا ہے تو خواہشِ نفس اس میں داخل ہوجاتی ہے اور جب دل میں خواہشِ نفس داخل ہوجائے تو انسان پر وسعتِ فکری کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غفلت اپنے آپ کو خواہشِ نفس اور شہوت کا قیدی بنا لینے کی طرف پہلا قدم ہے۔ بڑا ہی محروم ہے وہ انسان، جو خدائے واحد سے اپنی خواہشوں کی وجہ سے دور ہے، کیا ہم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے قریب ہے یا دور؟ کیا ہمارے دلی احساسات بیدار ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ظاہری طور پر تو حرکت میں ہیں، مگر اندرونی طور پر بالکل ہی بجھے ہوئے ہیں؟ https://telegram.me/ilmokitab

*وفیات مورخہ: 11/جون* 1988ء  حبیب احمد صدیقی۔   ، 1990ء  قاری ممتاز احمد رحمانی۔  مولانا ، 1991ء  فضل محمود۔  ڈاکٹر ، 1994ء  سیده حمیرا بی۔  1996ء  روشن لکھنوی (سید نثار رضوی)۔   ، 1996ء  زبیدہ یزدانی۔  2000ء  احمدعلی بدر پوری۔  2000ء  راجیش پائلٹ۔  کانگریسی لیڈر 2003ء  اظہر ملک۔   ، 2003ء  عبدالرزاق خان ایڈووکیٹ۔  2004ء  ضمیر نیازی (ابراہیم جان محمد درویش)۔  صحافی ، 2006ء  محمد مختار اصلاحی۔  مولانا، حکیم ، 2009ء  رشید وارثی۔  2011ء  صبا دشتیاری (غلام حسین)۔  پروفیسر ، 2012ء  شاکر علی۔   ،   Https://telegram.me/ilmokitab

*بات سے بات: بشار عواد معروف* *از: عبد المتین منیری* بشار عواد معروف بنیادی طور پر تحقیق مخطوطات کے آدمی ہیں، اور اس میدان کے آدمی کی اولین ضرورت قدیم خطوط کو سمجھنا، اور انہیں بغیر غلطیوں کے نقل کرنا ہے، اگرمحقق اس میدان کا ماہر ہے تو پھر دوسرے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، ایسا محقق اگر تفسیر، حدیث ، فقہ و تاریخ پر عبور رکھتا ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے۔ بشار عواد کو اگر مفسر، محدث اور فقیہ کے پیمانے پر تولیں گے تو پھر وہ اس پیمانے پر پورے نہیں اتریں گے۔انہیں ان کی جگہ پر رکھ کر بات کریں گے، تو ان کے ساتھ انصاف ہوگا، بشار عواد کے تذکرہ میں ہمارے احباب نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں ان کے لئے لازمی اصل وصف پر کوئی تبصرہ نہیں ہے، اوران کی مخطوطہ شناسی پر کسی ماہر فن کی رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے یہ مہارت ہمارے یہاں عنقا ہوتی جارہی ہے۔ جہاں تک ہم نے بشار کی تحقیقات کو دیکھا ہے، صحت نص کے اعتبار سے ان کا درجہ بلند ہے، خاص طور پرامام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء کی تحقیق جو عصر حاضر کے محققین میں انہیں ممتاز کردیتی ہے۔ بشار کافی عمر رسیدہ ہیں، باوجود اس کے وہ محققین کی ایک ٹیم تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور اپنی سرپرستی میں وہ ان کی تربیت کررہے ہیں۔ ہمیں اس کام کی قدر کرنی چاہئے۔ بیسویں صدی میں جب عربی مخطوطات کی تحقیق وتصویب کا کام عروج پر پہنچا تھا تو ان میں سے علامہ احمد محمد شاکر، شیخ محمد ناصر الدین الالبانی، احمد صقر، عبد الفتاح ابو غدہ، محمد زاہد الکوثری، عبد القادر ارناؤط، محمد شعیب الارناؤط ، عبدالمجید السلفی ، وغیرہ کا پس منظر حدیث وفقہ علم دین تھا،عبد السلام ہارون، عبد العزیز میمنی، محموداحمد شاکر، محمود الطناحی، عبد الہادی التازی، عبد الفتاح الحلو، فواد سید لغت وتاریخ یا کوئی دوسرا پس مظر رکھتے تھے، عمالقہ کا یہ دور اب ختم ہوچکا ہے، صحیح یا غلط اب جو بقید حیات ہیں ان میں بشار عواد معروف کی ٹکر کا محقق مخطوطات نظر نہیں آتا۔ ان کی تعلیقات سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان کی تحقیق نص، مخطوط شناسی سے بے نیاز نہیں رہا جاسکتا۔ اب رہی ان علماء کی بات جو تفسیر حدیث وفقہ کے تو ماہر ہیں، لیکن عربی زبان اور مخطوطات شناسی ان کا امتیاز نہیں ہے، ان کی تحقیقات کتابوں کو ایسی تحریفات سے بھر سکتی ہیں، جن سے کتابوں کے معانی ومفہوم بدل سکتے ہیں۔ ان سے دار الکتب العلمیہ جیسے اداروں کی تجارت کو عروج مل سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ علمی زوال کا بھی سبب بن جاتا ہے۔ 2026-06-10

سچی باتیں (23؍دسمبر 1940ء)۔۔۔ اسلام پر دوسرے مذاہب کا اطلاق    تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ   جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ دینیات کی بزم سالانہ کے صدر نے حال میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہا:- ’’آج کل جو یہ کہا جاتاہے کہ اہل یورپ نے جب سے مذہب کو چھوڑدیا ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔ غورکرنے سے معلوم ہوگا کی اس سے گویا ایک طرح سے مشرق کو مشورہ دیاجاتاہے کہ ہم بھی یہی سلوک اپنے مذہب سے کریں حالانکہ یہ ایک صریحی مغالطہ ہے۔ اس لئے اہل یورپ اگر مذہب کو نہ چھوڑتے تو وہ اور کیاکرتے۔ ان کے پاس مذہب تھا کب؟ ان کے پاس ایک کتاب تھی جو دراصل کتاب الٰہی نہ تھی بلک صرف کتاب الٰہی کے ہم نام تھی۔ ان کے پاس ایک تعلیم تھی جسے تعلیم الٰہی باور کرایاگیاتھا لیکن وہ الٰہی تعلیم ہی نہ تھی۔ خود ان ہی کی تحقیقات سے معلوم ہوتاہے نہ وہ اصل کتاب خدا کی ہے نہ اُس کی تعلیم وہ ہے جو کسی رسول نے دی ہو۔ وہ مطلق مذہب سے بیزار نہیں بلکہ وہ اس مذہب سے بیزار ہیں جو ان کے آباء واجداد ان کے لئے چھوڑ گئے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کے انھوں نے وقت کے ایک بہت بڑے اور چلتے ہوئے مغالطہ کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ اور مغالطہ ایسا جو آج بیسیوں قالبوں اور صورتوں میں ہمارے سامنے آرہاہے۔ کہاجاتاہے، اور کس شدومد سے، کہ علماء کا اقتدار ختم کرو، ان کا زور توڑ کررکھ دو۔ جب تک یورپ میں کلیسا کا زور نہ ٹوٹ لیا، اور ہندودل کے ہاں سے برہمنوں کا اقتدار نہ رخصت ہوگیا، ترقی نہ اہل فرنگ کرسکے نہ ہندو۔ بلند بانگ دعویٰ کا اول تو یہی جزو صحیح نہیں، کہ یورپ سے کلیسا، اور ہندوؤں کے ہاں سے برہمن کا اقتدار رخصت ہوچکاہے، یا ان کا زور ٹوٹ چکاہے۔ لیکن بالفرض یہ صحیح ہو بھی، تو مسیحیوں کے کلیسا اور ہندوؤں کے برہمن پر، مسلمانوں کے علماء کو قیاس کرنا ہی کب درست ہے؟ اسلام نے علماء کو مطلق الاختیار بنایا ہی کب ہے؟ اِس میں اُن کے شاہنشاہانہ اقتدارات کو تسلیم ہی کب کیاہے؟ بجز ’’مذہبی پیشوا‘‘ کے لفظی اورمحض لفظی اشتراک کے، عملًا اور معنًا کوئی شے بھی ہمارے ہاں کے فقہاء ، محدثین، مفسرین، متکلمین ، اور دوسروں کے ہاں کے پروہتوں، پنڈتوں، پادریوں کے درمیان مشترک ہی کہاں؟……اور پھر کہاجاتاہے کہ عورتوں کو آزادی دور یورپ نے جب تک عورتوں کو آزاد نہ کیا، قوم ترقی نہ کرسکی۔ گزارش پھر وہی کرنی پڑتی ہے، کہ یورپ نے اگرآزادی دی تو اچھا کیا، اُس نے تو نسل انسانی کی اس نصف آبادی کو واقعتا غلام بناہی رکھاتھا۔ ہمارے یہاں عورت غلام ہے ہی کہاں، جو اُس کی’’آزادی‘‘ کامطالبہ اِس زور وشور سے جاری ہے؟ باقی اگر حدود وقیود کا نام، ضبط وانضباط کانام کسی کی اصطلاح میں غلامی ہے، تو پھر ہر شاگرد جسے مدرسہ کے قاعدوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے، غلام ہے اپنے اُستاد کا، ہر بیٹا جسے ادب ملحوظ رکھناہوتاہے، غلام ہے اپنے باپ کا، ہر مریض جس کے لئے دوا، غذا، وغیرہ میں احتیاط اور پابندی ہوتی ہے، غلام ہے طبیب کا! آخری اور سب سے مہلک مغالطہ اِس سطحیت کا ، جس کا دوسرا نام تجدُّد ہے، یہ ہے کہ عیسائی قوموں نے دنیوی ترقی صرف اُس وقت حاصل کی جب بائبل سے بالکل قطع نظر کرکے اُسے پس پشت ڈال کر اپنے معاشری، معاشی، سیاسی، اخلاقی قوانین وضوابط خود اپنے عقل وتجربہ سے اخذ کرنا شروع کردئیے، اس لئے مسلمان بھی جب تک اپنے قوانین کو خود اپنے تجربہ کی روشنی میں وضع نہ کرنے لگیں گے، ترقی کرہی نہیں سکتے…استدلال میں لفظ ’ترقی‘ کے اندر جو عظیم الشان ضابطہ موجود ہے، اُس سے قطع نظر، قرآن کو انجیل پر قیاس کرنا ہی کب، اور کسی معنیٰ میں بھی صحیح ہے؟ کیا انجیل میں بھی سیاسیات، اخلاقیات، معاشیات کے قوانین ، قرآن کی آدھی، چوتھائی، تفصیل کے ساتھ مدوّن ہیں؟ کیا موجودہ انجیل، جسے مسیحی دنیا انجیل تسلیم کرتی ہے، کسی معنیٰ میں بھی کلام الٰہی ہے؟ لفظًا نہ سہی، معنًا بھی اُسے کون کلام الٰہی مانتاہے؟ کیا مسیحیوں کے ہاں اُس کا وہ مرتبہ بھی ہے جو ہمارے ہاں احادیث قدسیہ کا ہے؟بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند غیر مستند اقوال وحالات کے مجموعہ کے، اورمجموعہ بھی ایسا جو نامعلوم ہاتھوں کا جمع کیاہو، وہ ہے کیا؟ بائبل پر قرآن کو قیاس کرنا، اور ایک کے لئے وہ نتیجے نکالنا جو دوسرے کے لئے نکالے گئے ہیں، اس سے بڑھ کر ظلم، دین پر نہیں، خود عقل پر اور کیا ہوگا؟ Https://telegram.me/ilmokitab

آج مولانا محمد عارف سنبھلی ندوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 8 جون 2006ء کو ہوئی تھی، آپ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے استاد اور فرق ومذاہب کے استاد تھے، آپ علمی دنیا میں خاص طور پر بریلوی فتنہ کا نیا روپ سے بہت مشور ہوئے۔ آپ ایک کامیاب خطیب اور مقرر بھی تھے۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک تقریر پیش خدمت ہے لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=qadiyaniat-aur-eisaiyat, Qadiyaniat Aur Eisaiyat

*وفیات مورخہ: 7/جون* 1972ء حسین ابراہیم جمال۔ 1973ء حشرپوری ، سید محمد کاظم۔ 1975ء فقیر محمد ساقی۔ 1976ء عبدالجلیل۔ مولانا 1991ء طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔ سرپرست تحریک منہاج القرآن 1997ء نصیر الدین ۔ حاجی 2012ء امین الدین شجاع الدین۔ مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو 2012ء حسین علی توحیدی۔ مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی 2018ء رسول بخش پلیچو۔ 2020ء سعید احمد۔ الحاج حافظ https;//telegram.me/ilmokitab

*وفیات مورخہ: 8/جون* 1707ء  بیدار بخت۔  مغل شہزادہ 1975ء  بدر النساء بیگم قریشی۔  ڈاکٹر ، 1988ء  حبیب اللہ خان پراچہ۔   ، 1993ء  شاہد اکبر آبادی۔  شاعر 1996ء  محمد اسحاق پٹیل ندوی۔  1999ء  عبدالحفیظ سلفی۔  ڈاکٹر، سید 1999ء  عبدالحفیظ سلفی۔  ڈاکٹر، سید 2000ء  شبیر حسین قریشی۔  پروفیسر ، 2000ء  کمال الدین۔  الحاج ، 2000ء  لطیف اثر۔   ، 2006ء  محمد عارف سنبھلی ندوی۔  مولانا، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو 2009ء  حبیب تنویر۔  کہانی نگار 2011ء  منصورہ احمد۔  ادیبہ، مدیر فنون لاہور 2018ء  محمد غزالی خطیبی ندوی۔  مولانا، بھٹکلی عالم وداعی 2019ء  عباس کمیلی۔  بانی جعفریہ الائنس پاکستان 2020ء  شبیر احمد قاسمی۔  مولانا مفتی 2022ء  اسلم آزاد۔    HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB

دفتر میں اپنی روانگی سے چوبیس گھنٹے پہلے دفتر متعلقہ میں پاسپورٹ جمع کروادیں اور یہ طریق و ضابطہ عام حالات یعنی موسم حج کے علاوہ بھی جاری رہتا ہے۔ کھڑکی کے قریب پہنچتے ہی ایک اہلکار نے دیکھتے ہی اگلی صبح آنے کو کہا، سو واپس آگیا۔ اتنے میں ام عمران نے بڑی خوش اسلوبی اور چابکدستی سے ایک بینچ پر قبضہ کرلیا، پھر تو ان تھکے ہاروں کے وارے نیارے ہوگئے۔ تمام نمازیں اپنے ٹھیک وقت پر ادا کی گئیں ۔ شام کو چائے کا دور چلا۔ حج کے موسم میں جہاں آگ جلے اور چولہا گرم ہو تو بوڑھی خواتین خود بخود چلی آتی ہیں۔ پھر ان کو چائے کی پیالی پلا دو تو لاکھوں دعائیں دیں گی اور کروڑوں بلائیں لیں گیں، خواہ وہ کسی ملک کی بھی ہوں، حاجی کیمپ کے وسیع میدان میں ہم مصریوں کے جھرمٹ میں رہے۔ ہر کوئی سراپا خلوص اور مجسمہ ایثار واخوت۔ دوسرے دن صبح آٹھ بجے حسب ہدایت ہوائی کمپنی کے دفتر پہنچا۔ پاسپورٹ جمع کروادیئے گئے اور ساتھ ہی ٹکٹ بھی،کہا گیا کہ نشستوں کی تصدیق کے لیے شام پانچ بجے آؤ، دل ہر وقت فکر و غم میں ڈوبا ہوا تھا کہ یا اللہ خیر ۔ طرابلس لیبیا میں ہمارے دخول کی تاریخ 8 جنوری 75 ء ہے،اگر سیٹ کی تصدیق نہ ہوسکی تو پھر کیا ہوگا ؟ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے رہے اور ساتھ دعائیں بھی تکتی رہیں۔ جو کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ اس رند خراباتی کا یہ تجربہ بھی ہے اور دعوی بھی،کہ بارگاہ بے نیاز میں ہر دعا قبول ہوتی ہے؛ لہذا یہ دعا بھی قبول ہوئی اور پانچ بجے شام جاکر کھڑکی سے ٹکٹ اور پاسپورٹ واپس لیے جو کہ اب الحمد للہ مصدقہ تھے۔ اللہ بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ سب امور اپنے اپنے مناسب وقت پر انجام پاگئے۔ آج کی رات جدہ حاجی کیمپ میں ہماری آخری رات ہے اور ان شاء اللہ العزیز صبح آٹھ بجے 8 جنوری 75ء کو ہم عازم سفر ہوں گے، انہی حسین خیالوں میں کھوکر چند ساعتوں کے لیے سو گئے اور پھر تین بجے رات اٹھ بیٹھے۔ تہجد کی نماز پڑھی۔ پھر چائے نوش جان کی ، سامان باندھا، ٹیکسی پکڑی اور ساڑھے چار بجے ہم قدیمی مطار یعنی پرانے ایئر پورٹ پر آئے کہ ہمارے جہاز کو یہاں سے پرواز کرنا تھی ۔ سامان قلی نے اٹھایا ، وزن کرلیا اور کمپنی والوں کے سپرد کیا اور ہم صوفے پر بیٹھ گئے۔ فجر کی نماز یہیں مطار میں پڑھی، ہم سے پہلے ایک پرواز کراچی کو جانا تھی ۔ اس میں جانے والے لاہور کے جواں سال ، شعلہ بیاں خطیب اور مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نامور عالم دین علامہ احسان الہی ظہیر اور روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر بھی ان کے ساتھ ہی ملے۔ یہ دونوں صاحبان علم و فضل سعودی گورنمنٹ کی دعوت پر حج کرنے آئے تھے۔ ان کو لاہور کی طرف مائل بہ پرواز دیکھ کر دل حزیں ایک بار پھر مضطرب ہوگیا، اب موسم گل یاد نہ گلشن کی فضا یاد اس طرح قفس میں رہے کچھ بھی نہ رہا یاد اور بے اختیار وطن کی محبت جاگ پڑی،عزیز واقارب کی یاد بھڑک اٹھی اور حسرتیں زبان پر آکر پکار اٹھیں کہ کاش ہم بھی حج کے بعد اپنے وطن جاتے اور والدین، بہن بھائی اور دوست احباب ہم پر محبت و خلوص کے پھول نچھاور کرتے اور پھر پوشیدہ محبت کا اظہار و انکشاف، آنکھوں میں رواں ہو کر یہ آنسو “ اور ”وہ آنسوؤ“ کر دیتے ۔ دیکھو کسی دل جلے مگر رقیق القلب شاعر نے کیا خوب کہا اور سچ کہا: ٹھہرے گا دل تھمیں گے اشک، آه! مگر ابھی نہیں مسافت کی تھکن دور ہوتی اور روح کی خلش کافور ہو جاتی لیکن پیٹ کی مجبوریوں اور معاش کی مشکلات نے وہ مارا کہ ہائے ہائے! صبح آٹھ بجے جدہ سے سوار ہوئے اور بعد دو پہر تین بجے طرابلس ایئر پورٹ پر اترے، مقامی عرب حاجنوں نے منزل پر پہنچنے کی خوشی میں نیز حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے کی مسرت میں روایتی چیخ ماری اور پھر اپنا یہ عالم! کہ واہ حسرتا! ہمارے استقبال کے لیے کسی بہن بھائی کا قدم نہ اٹھا اور نہ والدین نے بازو پھیلائے اور نہ کوئی بغل گیر ہوا! ہمارا مبارک سفر کہنے کو تو کٹ گیا لیکن منزل ابھی کہاں؟ شام کے چھ بجے گھر پہنچے، دروازہ کھولا ، اندر آئے، پھر وہی غریب اور وہی شام غریباں، وہی کُنج قفس اور وہی جان لیوا انتہائی تنہائیاں، مایوسیوں کا مسکن ، غربتوں کا مدفن ، سفر کی ذہنی تھکان سے برا حال ، سر درد اپنی انتہائی شدتوں پر ، درد و کرب کی انہی کیفیات میں وضو کیا، پھر بارگاہ قدوس میں شکرانے کے نفل پڑھے اور حمد و شکر کے بعد میں نے کمرہ صاف کیا اور ام صفوان نے چائے تیار کی، تھوڑی دیر کے بعد کھانا کھایا آہ! پھر وہی لیل و نہار ، وہی فکر فردا اور غم امروز،گویا روحانی دنیا سے خروج ہوا اور مادی دنیا میں پھر دخول ہوا۔ یکم اکتوبر 1975ء بوقت 9 بجے رات 27 رمضان المبارک (صحن حرم، صفحہ: 145، طبع: صفہ پبلشر،لاھور)

*واپسی کا زخم* ✍🏻... یونس بصیر شہر رسول میں دس دن کا مختصر قیام پل بھر میں گزر گیا، امن کے یہ دن اور سکون کی راتیں،ذکر کی گھڑیاں اور گدا و صدا کی یہ ناقابلِ فراموش ساعتیں پلک جھپکتے ہی تمام ہوئیں،ان کیف آگیں لمحات، روح پرور نظاروں اور ایمان وایقان سے سرشار شب و روز کے بعد واپسی کا آغاز ہوا۔ آج 6 جنوری 75 ء ہے، تہجد و فجر کی نمازوں کے بعد اپنی رہائش گاہ پر آئے ، سامان باندھا اور حرم نبوی کی آخری جھلک ، روضتہ الرسول پر الوداعی درود و سلام اور دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے ( کہ حدیث رسول خیر الانام ہے آنے والا جانے سے پہلے یہاں دو رکعتیں ضرور پڑھے) آنکھوں میں غم جدائی کے اٹھتے ہوئے آنسو اور دل حزیں میں حسرتوں کے طوفاں لیے مسجد نبوی میں داخل ہوئے،دورکعت نماز نفل ریاض الجنۃ میں ادا کی اور پھر دیر تک بارگاہ بے نیاز میں مجسمہۂ صورت سوال بنے ، رحم و کرم اور لطف و فضل کی بھیک مانگتے رہے، خیابان ارم کے گوشۂ نور میں بیٹھ کر لطف روحانی سرور جاودانی اور خاص حظ قلبی پایا۔ ہنگامہ ہستی کے اس قطعہ بہشت میں تو دو گھڑی بیٹھ لیا؛نہ جانے عاقبت میں کیا انجام ہو؟ بادل نخواستہ یہاں سے اٹھے کہ جنت کے اس ٹکڑے سے اٹھنے کو کس کا دل چاہے ہے؟ آہستہ آہستہ ادب و احترام اور نہایت خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں آئے،یعنی حضور پرنورکے روبرو، سلام پیش کیا،درود و صلوٰۃ کے لیے بارگاہ ذوالجلال میں دامن پھیلایا، آنکھوں سے گداز و محبت اور اخلاص و نیاز کے آنسو رواں ہوئے،دل تڑپا،چشم فقیر بے نوا روئی،تڑپتی ہوئی نگاہوں نے تکرار دید کا عجب سماں باندھا، خیالوں نے محبت رسول اور عشق نبی کی محفل سجائی،جذبات وفور شوق میں مچلے اور پھر فرط عقیدت میں سیلاب بن کر حریم دل کی دیواروں سے ٹکرانے لگے، عقل نے کہا کہ یہ مقام ہوش ہے اور دل چیخا یہ جائے بے خودی ہے۔ قریب تھا کہ عقل و وجدان اور قلب و شعور باہم دست گریباں ہو جاتے کہ ہم چل دیئے ۔ کاش اُس وقت مجھے شکیل بدایونی کی نعتیہ غزل کا یہ مصرع یاد ہوتا تو میں ضرور گنگناتا اور لطف لیتا: ” میری آرزو محمد میری جستجو مدینہ“ سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر بن الخطاب کی پاک قبروں پر بھی الوداعی سلام کہا۔ ان کے لیے بھی مالک ارض و سما سے بخشش و مغفرت اور ان دونوں کے درجات کی بلندی طلب کی۔ بعد میں باب جبریل پر آئے،دورکعت نماز نفل یہاں بھی ادا کی،پھر وہی روش فقیراں اور بندہ پروری کی بات چلی۔ یہاں سے بھی یہ ازلی دریوزہ گر خالی نہیں سیرابی روح و بدن کے بعد ہی اٹھے، رحمتوں کو سمیٹا، نوازشوں سے اپنے جیب و داماں بھر لیے اور برکتوں کے خرمن سجائے ہوئے گنبد خضرا پر پیاسی نگاہوں نے دائمی سیرابیوں کے جام پیے اور بار بار پیے ۔ شراب محبت اور خمار عقیدت کی جھلک آنکھوں میں اتری اور ادھر دل بے قرار سے فریاد بن کر ایک ہوک اٹھی ۔ عاصی کرنالی نے کیا خوبصورت ترجمانی کی ہے:۔ ”مدینے سے ہمارا قافلہ چلنے کا وقت آیا“ الٰہی قافلہ چلنے میں کچھ تاخیر ہو جائے! باب مجید سے ہوتے ہوئے محلہ مجیدیہ میں اپنی قیام گاہ پر آئے،قُلی لیا، سامان اٹھوایا اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف چل دیئے، راستے میں مدینۃ الرسول کے کوچہ و بازار اور ہر ہر درو دیوار کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے چلتے رہے اور دل ہی دل میں یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اے باری تعالیٰ ایک بار پھر اپنے پیارے رسول کے پیارے شہر مدینہ طیبہ میں لائیو ۔ آمین ثم آمین! تقریبا دس بجے دن ٹیکسی چلی اور ہم آنکھوں میں آنسوؤں کا طوفان لیے داغ جدائی سے آہیں بھرتے ہوئے اور درود و سلام پڑھتے ہوئے مدینۃ الرسول کو خیر باد کہ گئے۔ ٹھیک تین بجے بعد دوپہر ہماری ٹیکسی حاجی کیمپ جدہ پہنچ گئی، پانچ گھنٹوں میں یہ طویل مسافت طے ہوئی،جدہ میں پھر وہی انسانوں کا سمندر تلاطم بلا ہے، حج سے پہلے اگر آنے والوں کا ہجوم تھا تو اب واپس جانے والوں کا اژدہام ہے اور نہ جانے یہ سلسلہ نقل و حرکت ابھی کب تک چلتا رہے، حاجی کیمپ (مدینہ الحجاج ) میں قدم رکھتے ہی سامان سڑک کے کنارے رکھا، ام صفوان کو پاس کھڑا کیا اور خود پاسپورٹ اور ٹکٹ لیے وکیل حجاج کے دفتر گیا، خروج کی مہریں لگوائیں۔ دخول و خروج کی جدید کارروائیوں اور نئی زحمتوں کو وہی جانتے ہیں جو ان راہوں سے گزرے ہیں، خروج کی مہروں کے بعد واپس آیا ، سامان اٹھایا اور ایک برآمدے میں ڈیرہ جمادیا۔ ام عمران نے سامان سلیقے سے رکھا، قرینے سے بیٹھے اور پھر دم لینے کے بعد کھانے کی فکر ہوئی، کھانا تیار کیا گیا کہ ان خانہ بدوشوں اور جہاں گردوں کے پاس ہر وقت اور ہر حال میں معقول راشن ہوتا، زاد راہ کے بغیر دشت نوردی ممکن ہی نہیں، کھانا کھایا اور اللہ رب العالمین کا شکر ادا کیا۔ اب میں نے پاسپورٹ اور ہوائی ٹکٹ لیے اور سعودی ایئر لائنز کے ہنگامی دفتر گیا جو صرف حجاج کی سہولتوں کے لیے حاجی کیمپ کے بالکل قریب ہی کھولا گیا تھا۔ معمول ہے کہ جدہ سے پرواز کرنے والے مسافر اپنے ہوائی

*وفیات مورخہ: 7/جون* 1972ء  حسین ابراہیم جمال۔  1973ء  حشرپوری ، سید محمد کاظم۔  1975ء  فقیر محمد ساقی۔  1976ء  عبدالجلیل۔  مولانا 1991ء  طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔  سرپرست تحریک منہاج القرآن 1997ء  نصیر الدین ۔  حاجی 2012ء  امین الدین شجاع الدین۔  مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو 2012ء  حسین علی توحیدی۔  مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی 2018ء  رسول بخش پلیچو۔  2020ء  سعید احمد۔  الحاج حافظ    https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

و تقویٰ کی انہی کیفیات کو خدائے عزوجل نے اپنی آخری اور حکمتوں بھری نورانی کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے: {لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸) ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“ اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں تقریبا ہر وقت بھیڑ لگی رہتی ہے، فرمان رسولؐ کے مطابق اس مسجد میں دو رکعت نماز نفل کا اجر و ثواب عمرہ کے برابر ہے اور یہ مبارک حدیث آج بھی مسجد میں عین محراب کے اوپر ایک کتبہ پر لکھی ہوئی آویزاں ہے، وحی و تنزیل کے لیے حضرت جبریلؑ کی منزل یہی عظیم مسجد تھی، زندگی بھر سرور رسولاںؐ کا یہ معمول رہا کہ آپ یوم السبت یعنی ہفتہ کے روز دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے اس مسجد میں ضرور جایا کرتے تھے، اس مسجد کی زیارت کے لیے بہترین وقت فجر کی نماز کے بعد کا ہے، پیدل بھی آسانی کے ساتھ جایا جاسکتا ہے،کچھ زیادہ دور نہیں اور ہر وقت تیار ٹیکسیاں بھی مل جاتی ہیں جو آنے جانے کا ایک ریال لیتے ہیں۔ یہ دعا پڑھتے ہوئے:( اللَّهُمَّ افْتَحُ لِي أَبْوَابَ رَحمَتِكَ "اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“) ( آمین ) مسجد میں داخل ہوئے اور پھر پور جذب و شوق کے عالم میں دو نفل پڑھے،نفلوں کے بعد بارگاہ لم یزل میں التجائیں بھی کیں،ان مذکورہ بالا مساجد کے علاوہ بھی کئی تاریخی مساجد ہیں مثلاً مسجد غمامه، مسجد سیدنا علی،مسجد سیدنا ابوبکر، مسجد سیدنا عثمان اور مسجد سیدنا عمر (رضوان اللہ علیہم اجمعین) (صحن حرم، صفحہ: 142، طبع: صُفّہ پبلشر، لاھور)

*دید و نظارہ کے پیاسے سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے کنویں پر* ✍🏻... یونس بؔصیر جؔبل احد کی زیارت کے بعد ٹیکسی سیدھی سیدنا عثمان غنیؓ کے کنویں پر آئی، یہ انتہائی گہرا اور تاریخی کنواں اب آباد نہیں ؛لیکن اس کے قرب و جوار میں اب بھی سبزہ و شادابی کے دلکش مناظر آنے والوں کی نگاہوں کا مرکز بنے رہتے ہیں،یہ وہی کنواں ہے جو کبھی یہودیوں کی ملکیت تھا اور میٹھے پانی کے ذخائر سے لبالب،مسلمانوں کی غربت وافلاس اور تنگ دستی کا یہ حال کہ: پینے کے لیے وافر میٹھا پانی تک میسر نہ تھا،سیدنا عثمان غنیؓ کی دولت ہر آڑے وقت اور کٹھن گھڑی میں ”ملت بیضاء“ کے کام آئی! مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع میں بھی آپ نے حصہ لیا اور پھر تاریخ اسلام میں ایک برا وقت ایسا بھی آیا جب باغیوں اور شر پسندوں نے امام مظلومؓ کو اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں محصور کر دیا اور مسجد نبوی میں نماز کی بندش کے ساتھ اس کنویں کا شیریں پانی بھی بند کر دیا گیا، الله الله!! سیدنا عثمان غنیؓ نے اظہار حق کے لیے کہا تھا کہ ” مجھے اس مسجد میں نماز سے روکا گیا جس کی زمین کی قیمت اور تعمیر و توسیع کے تمام اخراجات میں نے برداشت کیے! اس کنویں کا پانی بند کیا گیا جو میں نے یہودیوں سے خریدا تھا ؛تاکہ انصار و مہاجرین کو پانی کے لیے یہودیوں کا منہ نہ دیکھنا پڑے“ ظالم بے رحم اور سنگدل بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا، وفادار، صالحہ اور عفیفہ سیدہ نائیلہؓ نے سید عثمان کو بچاتے ہوئے ان ستم گروں کی تلوار کا وار اپنے ہاتھ پر روکا اور ہاتھ مبارک کی انگلیاں شہید کروالیں ۔ وفاداری جرأت و شجاعت و قربانی کی یہ چٹان،جذبۂ خلوص اور ایثار کا یہ پیکر، تاریخ اسلام میں اپنا نام سنہرے حروف میں رقم کر گئیں!اللہ تعالی ان شہدائے کرام کے درجات بلند کرے۔ آمین! اگر چہ اب یہ کنواں ویران ہے؛ لیکن اس کی سنہری یادیں تاریخ اسلام میں ہمیشہ زندہ اور محفوظ رہیں گی ـ ایثار و قربانی کا یہ عظیم الشان جذبہ خلوص و ایمان کی انمٹ یادگار ہے، آج یہ کنواں اجڑ چکا ہے،اب سنا ہے کہ جامع نبوی کی توسیع میں آگیا ہے، اس کنویں کی برکت یہ دیکھی کہ اس کے ارد گرد کافی دور تک کھجوروں کے باغات اور حد نگاہ تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا ـ *کاروانِ شوق میدانِ خندق میں* اب ہمیں ٹیکسی والا (جو موحد بھی ہے) زیارت بھی کرواتا ہے اور تاریخی جگہ کا تعارف اور تمام معلومات مہیا کرتا ہے، ہمارا ٹیکسی والا مزدور خوش قسمتی سے مدینہ یونیورسٹی کا طالب علم بھی تھا، اس تاریخی مقام پر لے آیا جہاں کفار کی یلغار سے مدینہ اور اہل مدینہ کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت سلمان فارسی کی تجویز پر ایک بہت بڑی اور گہری خندق کھودی گئی تھی اور خندق کی کھدائی میں تاجدار نبوت خود بھی تیشہ کناں رہے۔ اسی خندق کی کھدائی میں امیر لشکر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لیے شکم مبارک پر دو پتھر باندھ رکھے تھے،جب ساتھیوں نے بھوک کا رونا رویا تو امیر کارواں اور سپہ سالار اعظمؐ نے اپنا دامن اٹھایا اور یہ نظارہ صبر و شکر یاران لشکر کو دکھایا،انجامِ کار فتح حق کی ہوئی اور اسی فتح کی یاد میں یہاں ”مسجد فتح“ تعمیر ہوئی اور پھر سب اللہ والے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے ۔ اس میدان میں کل پانچ مسجدیں ہیں جو نشیب و فراز میں واقع ہیں، خندق تو اب یہاں نظر نہیں آتی، اس جنگ خندق کے بعد مشرکین مکہ کی کمر فی الحقیقت ٹوٹ گئی، اس کے بعد وہ اکٹھے ہوکر کبھی مسلمانوں کے مقابل نہ آسکے،یہاں ہم نے ”تحیۃ المسجد “ کے دو نفل ہر مسجد میں ادا کیے! *کاروانِ شوق، مسجد قبلتین میں* مقام خندق کی زیارت کے بعد ”مسجد قبلتین“ دیکھی، یہ وہی تاریخی اور مقدس مسجد ہے جس میں دوران نماز ˝تحویل قبلہ˝ کا حکم ربانی ہوا تھا، مقدس رسولؐ کا بے قرار ہوکر بار بار عرش کو دیکھنا رب العرش العظیم کو بھا گیا اور اپنے پیارے رسول کی دلی منشا جان کر اللہ رب العزت نے بیت اللہ کو ہی قبلہ قرار دے دیا، نماز کی پہلی دو رکعتیں تو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی گئیں اور بقیہ دور کعتیں بیت الحرام کی طرف، چونکہ اس مبارک مسجد میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی گئی اس لیے اس مقدس مسجد کو مسجد قبلتین کہتے ہیں، یعنی دو قبلوں والی، یہاں بھی ہم نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد کے دو نفل ادا کیے،دونوں محرابوں کے نشان بھی دیکھے،دوگانہ کے بعد دعائیں مانگی گئیں اور پھر اللہ کا فضل طلب کرتے ہوئے ہم باہر آگئےـ *کاروان شوق مسجد قبا میں* حضور نبی اکرمؐ نے ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف میں ورود مسعود سے پہلے شہر سے دو میل کے فاصلے پر سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی، تاریخ اسلام میں اس مسجد کو ”مسجد قبا“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، سبحان اللہ! مقام نبوت کی یہ رفعت و شان کہ ہجرت کے بعد اور عین غریب الوطنی میں اللہ کے برگزیدہ رسول کو جو فکر سب سے پہلے دامن گیر ہوئی وہ خانہ خدا کی تعمیر و بناء ہی تھی۔ اخلاص و نیاز اور زہد

آج اردو کے نامور ماہر لغت اور استاد شاعر نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۶/ جون ۱۹۶۷ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ غزل پیش خدمت ہے۔ آنکھ میں اشک ندامت کلام وآواز: نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=aankh-may-ashk-e-nadamat-dabdaba-kar-rah-gay, Aankh May ashk e nadamat dabdaba kar rah gay

*وفیات مورخہ: 6/جون* 1955ء  سید احمد شاہ میر۔  1962ء  میاں افتخار الدین۔  مالک پروگریسیو پیپر لمیٹڈ 1964ء  حامد حسن قادری۔  پروفیسر، ادیب، نقاد، شاعر 1967ء  اثر لکھنوی ( نواب مرزا جعفر علی خان)۔  لغت نویس، شاعر، نقاد 1974ء  فضل الرحمن انصاری۔  ڈاکٹر، حافظ 1982ء  مشتاق حسین خاں ہاشمی۔  1987ء  میمونہ غزل۔  1991ء  عبدالرشید ۔  رستم قلم 1999ء  سید سعید حسن۔  2000ء  شاہد علی رعنا۔  2001ء  محمد عثمان معروفی اعظمی۔  مولانا، مدیر ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور 2006ء  سید مہدی عباس نقوی۔  2019ء  انور سجاد۔  ڈاکٹر، شاعر، ادیب 2020ء  محمد رفیق قاسمی۔  امیر حلقہ اتر پردیش جماعت اسلامی ہند 2023ء  عبدالمنعم النمر۔  مصری وزیر اوقاف   HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB

*کاروانِ شوق ”میدان احد“ میں* ✍🏻... یونس بصیر مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ ٹیکسی تھوڑی دیر میں لے آئی۔ ہم اترے جدال و قتال کے لیے نہیں ؛بل کہ میدان احد کی فقط زیارت کے لیے، جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی دید و زیارت، زہے نصیب! اللہ اکبر! جبل احد کے دامن میں قدم رکھتے ہی خون جوش میں آجاتا ہے اور نگاہیں عالم تصور میں ان ناپاک اور ظالم ہاتھوں کے کھوج میں لگ جاتی ہیں جو رحمۃ للعالمین پر دراز ہوئے اور پھر ان تیرہ بختوں کے ملعون ہاتھوں کی وحشت ناکیاں یہاں تک بڑھیں کہ موتیوں ایسے تابدار دندانِ مبارک شہید کر دیئے گئے ۔ پھر سرور رسولاں کی مبارک اور نورانی پیشانی اور بازوؤں پر پتھروں سے چرکے لگائے گئے ۔ حق و باطل کی اس دوسری بڑی پرکار میں عم رسول سیدنا حمزہ، شیر خدا کے قلب و جگر چھائے گئے ۔ کفار کی درندگی اپنی انتہا پر اور وحشت و شقاوت اپنے شباب پر ، اس دامن کوہ میں آئی تھی۔ دشمنان اسلام شکست بدر کی ندامتیں اور خجالتیں مٹانے آئے ہیں۔ کینہ و انتقام کی آگ میں بجھے ہوئے تیروں سے آراستہ اور دشمنی و نفرت کے زہر میں نہائی ہوئی شمشیر و سناں سے پیراستہ ہوکر حامیان اسلام اور اسلام کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کرنے آئے ہیں۔ قدرت خدا اور مشیت یزداں محو تماشا ہے اور کفار کی یلغار اور ظالموں کی چیرہ دستیوں پر خندہ زن نور خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا انہیں کیا خبر کہ نخل اسلام کی آبیاری کے لیے ان کشتگان راہ حق کا خون رنگ لائے گا اور شجر اسلام شیطانی یورشوں اور طاغوتی سازشوں کے اٹھائے ہوئے ہر طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے پھلتا، پھیلتا اور پھولتا رہے گا اور کفر و باطل مٹنے کے لیے ہے اور آخر مٹ جائے گا۔ حق و باطل کے اس رَن میں ستر انتہائی جلیل القدر صحابہ کرام شہید ہوئے ۔ بظاہر فتح و شکست کا ٹھیک فیصلہ تو نہ ہوسکا ؛لیکن ظالموں کے منحوس قدم اور ناپاک سائے شہر رسول میں نہ پڑسکے۔ اسی میدان میں چشم تصور نے حضرت صدیقہ بنت صدیق کو مشکیزہ اٹھائے ہوئے ادھر ادھر بھاگتے اور زخمیوں کو پانی پلاتے ہوئے اور مجاہدین اسلام کے زخموں پر پٹیاں باندھتے ہوئے بھی دیکھا اور یہیں اس فضائے رست خیز اور ہنگامۂ ماضی میں نبی رحمت کی نورافشاں پیشانی سے خون افشانی کی کثرت نے بنت رسول سیدہ فاطمہ کو پریشان کردیا ہے۔ سیدۃ النساء بار بار چٹائی جلا کر زخم میں راکھ بھرتی ہیں۔ اسی میدان کارزار میں یہ غلط افواہ بھی پھیلائی گئی کہ (خاکم بدہن ) اللہ کے رسول تو شہید ہوئے ۔ اب لڑنے سے کیا حاصل؟ اور اسی فضائے خون آشام میں جانثاروں کا یہ نعرہ حق بھی گونجا کہ وہ نہیں تو اب زندگی بے کیف ہوئی ۔ جینے میں کیا مزا؟لڑو اور موت کی راہ مستقیم اختیار کرو! جو سیدھی جنت کو جاتی ہے۔ خونِ شہیداں نے اس میدان کی یاد کو لازوال بنا دیا ہے۔ مجاہدین اسلام نے اپنی لاشوں کے پشتوں سے کفر کے زبردست سیلاب کو روک لیا اور اس معرکہ کے بعد مکہ والوں کی کمر ہمت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد وہ کہیں بھی جم کر نہ ٹھہرسکے اور نہ کسی نظم و ضبط کے ساتھ دوبارہ معرکہ آرا ہی ہو سکے۔ شہدائے احد کو سلام کے بعد مغفرت کی دعائیں پورے جذب و خلوص اور محویت کے عالم میں مانگی گئیں اور آنکھیں بہت دیر تک اشک افشانی میں مصروف رہیں۔ اے اللہ تمام شہدائے اسلام پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرما۔ آمین! تاریخ اسلام میں ان شہیدوں کے نام باقاعدہ طور پر محفوظ ہیں۔ مدینہ شریف کی زیارتوں میں میدان احد کی خاص اہمیت ہے۔ ان شہدا کی تدفین بھی اکٹھے ہی کی گئی ۔ سب سے درد ناک منظر سیدنا حمزہ کی شہادت پیش کر رہی تھی۔ جب سیدنا حمزہ کی بہن حضرت صفیہ بھائی کی لاش مبارک کو دیکھنے کے لیے جارہی تھیں حضور نے اپنی پھوپھی صفیہ کو روکا تو حضرت صفیہ نے حضور کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں گی اور جزع فزع نہیں کریں گی۔ لہذا ان کو لاش مبارک دیکھنے کی حضور نے اجازت دے دی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی لاش کے روح فرسا منظر کو بڑے ضبط وتحمل اور صبر کے ساتھ دیکھا۔ ( صحن حرم، صفحہ: 140، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)

مولانا عامر عثمانی نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "۔ اس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق میں جو بے مثال کامیابی اور اسلام کو غالب کرنے میں جو لاجواب کامرانی حاصل ہوئی اسکے پیچھے اگرچہ نصرت الہٰی کی کارفرمائی تو بہر حال تھی لیکن اسباب وعلل کی حد تک خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبردست فہم و دانش اور اعلیٰ صلاحیتوں کا بھی اس میں بڑا دخل تھا۔ آپ بہترین سیاست داں، اعلیٰ ترین کمانڈر، زبردست مدبر اور کمال درجہ فعال انسان تھے۔ مصنف نے فن حرب اور علم سیاست کے زاویوں سے حضورؐ کے غزوات و سرایا کا تجزیہ کرکے ثابت کیا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے جنرل اور جنگجو ہیرو اور فاتحین جن کا ڈنکا عالم میں بج رہا ہے حضورؐ کے آگے کوتاہ قامت ہیں اور فکر و تدبر کی ان حدوں تک نہیں پہنچ سکے جن تک عرب کا یہ در یتیم پہنچا تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم فاضل مصنف چونکہ خود بھی سپاہی ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے آزمودہ کار اسلئے ان کا یہ کسی اتالیق کا تجزیہ نہیں بلکہ ایک ماہر فن کا تجزیہ ہے۔ وہ جگہ جگہ مغرب کے معروف ماہرین حرب اور اس فن کے فرمودات پیش کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں محض خوش عقیدگی کا آوردہ نہیں بلکہ معروضی مطالعہ کا حاصل اور حقائق ثابتہ سے ہم آہنگ ہے۔ غیر معمولی خوشی یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ وہ اگرچہ حضورؐ کی محبت میں بجا طور پر غرق، اور صحابہؓ کی عقیدت سے پیوستہ ہیں لیکن معقولیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، انھوں نے دوسرے شہرہ آفاق کمانڈروں اور سیاست دانوں کے بالمقابل رسول اللہؐ کی جو نشانِ امتیازی ثابت کی ہے اس کے لئے روشن دلائل اور قوی شواہد بھی زیب قرطاس کئے ہیں۔ ان کی نظر گہری، قوت اخذ و استخراج.فراواں اور اندازِ تبصرہ و دلکش ہے ہمیں تو تعجب ہوا کہ ایک "سپاہی" اور اتنا اچھا انشا پرداز انشا پردازی کے علاوہ ان کی تحریر سے اسلام کا گہرا درد ایمان کا خروش، اسلام کا جذبہ اور اقدام و عمل کا ولولہ نمایاں ہے وہ کتنے ہی نبوی میدان جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے ہیں جس رخ سے ان کا مطالعہ کیا ہے۔ پیمائش سے بھی نہیں گھبرائے۔ کم و بیش چودہ صدیوں قبل کے غزوات کو چشم تصور کے آگے لانے کے لئے انھوں نے عرق ریز محنت کی ہے اور اس میں کامیاب ہیں۔ اللہ انھیں جزائے خیر دے۔ بعض حقائق سامنے تو سب کے ہوتے ہیں لیکن ان پر نگاہ چند ہی اہل بصیرت کی جمتی ہے ۔ جیسے :- دور رسالت کی فتوحات کا دائرہ۔ فاضل مصنف نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ دس سالوں میں حضورؐ نے زمین کے اتنے وسیع رقبے پر فتح و ظفر کا پرچم لہرایا جسے دنوں میں تقسیم کر کے دیکھا جائے تو اوسطاً ہر ۲ میل یومیہ نکلتا ہے۔ جانی نقصان کا اوسط یہ رہا کہ مسلمان مہینے میں ایک اور دشمن مہینے میں تقریباً ۵۔ یہ حقائق حیرتناک بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔ (تجلی دیوبند ۔ اگست، ستمبر ۱۹۷۴ء) خامیاں کس میں نہیں ہوتیں، لیکن اپنے موضوع پر یہ کتاب ایک شاہکار شمار ہوتی ہے، امید ہے کہ یہ مرحوم کے درجات کی بلندی کا باعث بنے گی۔ 2026-06-05 Https://telegram.me/ilmokitab

میجر جنرل محمد اکبر خان اور سیرت پر ان کا شاہکار حدیث دفاع تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* آج ۵/ جون میجر جنرل محمد اکبر خان کا یوم وفات ہے،جن کی پیدائش ۲۴ دسمبر ۱۹۱۲ء کو اور وفات ۵ جون ۱۹۹۲ء کو کراچی میں ہوئی تھی۔ آپ کا تذکرہ عموما نواب زادہ لیاقت علی خان کے دور حکومت میں راولپنڈی سازش کیس (۱۹۵۱ء) کے ساتھ جوڑ کر زیادہ آتا ہے، اس مقدمہ میں مشہور شاعر فیض احمد فیض اور آپ کی اہلیہ بیگم نسیم جہاں سمیت دس افراد پر غداری کا مقدمہ چلا تھا۔ لیکن ہمارے لئے آپ کی اہمیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت حربی پر ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار جنرل کے قلم سے لکھی گئی پہلی اور بہترین کتاب (حدیث دفاع ) کے مصنف کی حیثیت سے ہے۔ اکبر خان ضلع پشاور کے ایک گاؤں اتمن زئی میں پیدا ہوئے۔ وہ محمد زئی پٹھانوں کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، ۱۹۳۱ء میں جب اکبر خان اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھ رہے تھے، انہیں فوج میں جانے کی سوجھی۔ یہ وہ دور تھا جب انڈین آرمی میں تقریباً تمام کمیشنڈ افسر انگریز ہوتے تھے اور دیسی لوگ صرف این سی او اور وی سی او کے عہدے تک محدود تھے۔ نئی پالیسی کے مطابق انگریزی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہر سال چند ہندوستانیوں کو بھی کمیشن کے لئے چن لیا جائے۔ چنانچہ اس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکبر خان نے کمیشن کے لئے فوج میں درخواست دی۔ سینکڑوں درخواست گزاروں میں سے دس پندرہ نوجوانوں کو چنا گیا جن میں سے ایک اکبر خان بھی تھے۔ اگست ۱۹۳۲ء میں اکبر خان بحیثیت ایک آفیسر کیڈٹ انگلستان کی مشہور ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ بھیج دیئے گئے۔ جہاں ڈیڑھ برس کی ٹریننگ کے بعد دسمبر ۱۹۳۳ء میں انہیں کمیشن ملی۔ ہندوستان واپس آنے پر پہلے ایک برس تک اکبر خان نے ایک گوروں کی پلٹن فرسٹ ہمپشائر رجمنٹ میں کام کیا۔ اس پلٹن میں افسر اور جوان سب انگریز تھے، اکبر خان واحد ہندوستانی تھے بعد میں یعنی ۱۹۳۵ء میں اکبر خان کو اپنی مستقل پلٹن چھٹی رائل بٹالین فرنٹیئر فورس رائفلز میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل اکبر خان نے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں فقیر ایپی کے لشکروں کے خلاف فوجی ایکشن میں حصہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں اکبر خان نے برما کے محاذ پر جاپانیوں کے خلاف لڑائی میں دادِ شجاعت پائی۔ ایک معرکہ میں انہوں نے اپنے جوانوں کے ہمراہ ۹۲ جاپانیوں کو مارا اور ۱۰۰ سے زیادہ کو زخمی کیا۔ مرنے والوں میں جاپانی پلٹن کا کمانڈر بھی تھا۔ اکبر خان کی پلٹن کے ایک افسر، تین وی سی اور ۳۱ جوان بھی اس معرکہ میں کام آئے۔یہ واقعہ فروری ۱۹۴۵ء کا ہے۔ اس ایکشن میں انڈین آرمی کے جمعدار پرکاش سنگھ (آنجہانی) کو بہادری کا سب سے بڑا تمغہ وکٹوریہ کراس دیا گیا اور میجر اکبر خان کو ڈی ایس او (DSO) سے نوازا گیا۔ ڈی ایس او کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد اکبر خان کو ہندوستان واپس بلا لیا گیا اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ مصنف نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کی عسکری حکمت عملی پر کئی ایک کتابیں لکھی ہیں ، جن میں" جہاد صدیق" اور " خالد بن ولید سیف اللہ " اور " محمد بن قاسم کی مہارت فن حرب " شامل ہے، لیکن آپ کی کتابوں میں " حدیث دفاع " کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ اور یہ ہندوپاک سے بارہا مرتبہ شائع ہوئی۔ اکبر خان سے پہلے اس موضوع پر مایہ ناز محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ ؒ کی کتاب" عہد نبوی کے میدان جنگ" شائع ہوئی تھی، جس کے بارے میں اکبر خان کا کہنا ہے کہ" اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب سابق استاذ قانون جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کو جنہوں نے اس طرف توجہ فرمائی اور "عہد نبوی کے میدانِ جنگ" کے نام سے دو مبسوط رسالے شائع کئے اور اشاعت سے پہلے واقعات اور مقامات کی صحت کا اس درجہ اہتمام کیا کہ دو دفعہ چشم دید مطالعہ و مشاہدہ کے لئے حجازِ مقدس تشریف لے گئے اور سفر و حضر میں طویل مدت گزارنے کے بعد انتہائی کاوش کے ساتھ نقشہ ہائے جنگ مرتب کئے۔ ہم نے ان دونوں رسالوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ واقعی یہ ایک بلند پایہ اور قابلِ تعریف کوشش ہے اور مرتب نے سچے اور صحیح جذبہ کے ساتھ یہ خدمت انجام دی ہے۔ نہ صرف اسی پر اکتفا کی ہے بلکہ غزوات کے سلسلے میں بھی مسلسل کام کر رہے ہیں اور بتوفیق ایزدی متعال آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ لیکن جیسا کہ ڈاکٹر صاحب معترف ہیں ۔ آپ ملٹری سائنس (عسکری علوم) سے ناآشنائے محض ہیں۔ کاش آپ کو اس میں بھی درک ہوتا اور آپ کا علمی تبحر اور ذوقِ تحقیق و تجسس جو آپ کو سیرت مبارک کے اس پہلو سے ہے غفلت و بے خبری کے پردوں کو چاک کر کے تاریکیوں میں روشنی کی جھلک پیدا کر دیتا۔ جو مسلمانوں کے فکر و فہم کا احاطہ کئے ہوئے ہیں

وفیات مورخہ: 5/جون 1772ء  مبارک خان دوم۔  1858ء  احمد اللہ شاہ فیض آبادی۔  مولوی، مجاہد آزادی 1941ء  عبد الحی ہاتفب بجنوی۔  مولانا، حکیم 1956ء  مناظر احسن گیلانی۔  رئیس القلم، مولانا ، سید 1973ء  گرو گوالکر۔  سرچالک آر یس یس 1975ء  محمد زکریا بنوری۔  مولانا 1986ء  مقبول احمد۔  1989ء  محمد سلطان قادری چشتی۔  شیخ 1993ء  محمد اکبر خان۔   میجر جنرل،  مصنف حدیث دفاع 2004ء  رونالڈ ریگن۔  صدر امریکہ 2005ء  عبداللہ، محمد۔  2009ء  تراب علی۔  2010ء  حسن ظہیر۔  2010ء  محمد ادریس فاروقی۔  مولانا، اہل حدیث عالم دین 2015ء  طارق عزیز۔  عراقی وزیر خارجہ 2025ء  عبد الصمد قاضی ندوی۔  بھٹکلی عالم دین   Https://telegram.me/ilmokitab