ru
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Открыть в Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Больше
8 144
Подписчики
+324 часа
-347 дней
+5230 день

Загрузка данных...

Облако тегов
Нет данных
Возникли проблемы? Пожалуйста, обновите страницу или обратитесь к нашему support-менеджеру .
Входящие и исходящие упоминания
---
---
---
---
---
---
Привлечение подписчиков
июль '26
июль '26
+91
в 0 каналах
июнь '26
+218
в 0 каналах
Get PRO
май '26
+228
в 1 каналах
Get PRO
апрель '26
+163
в 1 каналах
Get PRO
март '26
+62
в 2 каналах
Get PRO
февраль '26
+89
в 1 каналах
Get PRO
январь '26
+95
в 2 каналах
Get PRO
декабрь '25
+81
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '25
+109
в 1 каналах
Get PRO
октябрь '25
+105
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '25
+119
в 1 каналах
Get PRO
август '25
+173
в 2 каналах
Get PRO
июль '25
+151
в 2 каналах
Get PRO
июнь '25
+140
в 2 каналах
Get PRO
май '25
+95
в 1 каналах
Get PRO
апрель '25
+105
в 0 каналах
Get PRO
март '25
+153
в 2 каналах
Get PRO
февраль '25
+131
в 1 каналах
Get PRO
январь '25
+278
в 1 каналах
Get PRO
декабрь '24
+403
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '24
+500
в 2 каналах
Get PRO
октябрь '24
+487
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '24
+322
в 0 каналах
Get PRO
август '24
+322
в 3 каналах
Get PRO
июль '24
+323
в 4 каналах
Get PRO
июнь '24
+341
в 0 каналах
Get PRO
май '24
+331
в 1 каналах
Get PRO
апрель '24
+300
в 3 каналах
Get PRO
март '24
+265
в 1 каналах
Get PRO
февраль '24
+321
в 1 каналах
Get PRO
январь '24
+403
в 3 каналах
Get PRO
декабрь '23
+376
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '23
+132
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '23
+124
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '23
+92
в 0 каналах
Get PRO
август '23
+121
в 0 каналах
Get PRO
июль '23
+116
в 0 каналах
Get PRO
июнь '23
+77
в 0 каналах
Get PRO
май '23
+253
в 0 каналах
Get PRO
апрель '23
+81
в 0 каналах
Get PRO
март '23
+49
в 0 каналах
Get PRO
февраль '23
+126
в 0 каналах
Get PRO
январь '23
+137
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '22
+123
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '22
+209
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '22
+119
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '22
+62
в 0 каналах
Get PRO
август '22
+40
в 0 каналах
Get PRO
июль '22
+44
в 0 каналах
Get PRO
июнь '22
+138
в 0 каналах
Get PRO
май '22
+42
в 0 каналах
Get PRO
апрель '22
+17
в 0 каналах
Get PRO
март '22
+31
в 0 каналах
Get PRO
февраль '22
+28
в 0 каналах
Get PRO
январь '22
+56
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '21
+112
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '21
+52
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '21
+112
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '21
+64
в 0 каналах
Get PRO
август '21
+43
в 0 каналах
Get PRO
июль '21
+63
в 0 каналах
Get PRO
июнь '21
+164
в 0 каналах
Get PRO
май '21
+38
в 0 каналах
Get PRO
апрель '21
+60
в 0 каналах
Get PRO
март '21
+103
в 0 каналах
Get PRO
февраль '21
+80
в 0 каналах
Get PRO
январь '21
+211
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '20
+1 362
в 0 каналах
Дата
Привлечение подписчиков
Упоминания
Каналы
14 июля0
13 июля+8
12 июля+4
11 июля+11
10 июля+3
09 июля+6
08 июля+5
07 июля+7
06 июля+4
05 июля+12
04 июля+3
03 июля+3
02 июля+9
01 июля+16
Посты канала
امام شافعیؒ کتنے ہوش مند تھے کہ چار دن کی دنیا میں گم ہو کر اس بڑے بھاری سفر کی تیاریوں سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہ ہوئے ـــــ نمازِ فجر سے سرِ نیاز اُٹھتا تو سینکڑوں انسانوں کے قافلے کو سفرِ آخرت کی تیاریاں سکھائی جاتیں ـــــ سب سے پہلے فقہ کا درس ہوتا ـــــ پھر حدیثِ رسول ﷺ کے آئینے میں انسان کے لیے بہترین اُسوے کی دل نواز جھلکیاں دکھائی جاتیں ـــــ قلب و رُوح میں یہ اُسوۂ حسنہ بٹھانے کے بعد مجلس وعظ کے ذریعہ ایمان افروز تاثرات دیے جاتے ـــــ اس کے بعد علمی مذاکرات کی محفل گرم ہوتی تاکہ مختلف سگینوں کی حرارت ایمان اور دل کی روشنی کا اندازہ ہو جائے ـــــ کھانے پینے کے لیے ایک مختصر وقفہ کے بعد نمازِ ظہر سے فارغ ہو کر پھر یہ مجلس ہوتی اور اس وقت دُنیا کے حسین ترین حصّہ سے لُطف اندوز ہونے کے لیے خالص ادبی اور لسانی علوم گفتگو کا موضوع بنتے ـــــ اس طرح سفرِ آخرت کے راہی تھک تھکا کر گھروں کو چلے جاتے اور "میر کارواں" امام شافعیؒ بھی عصر تک آرام فرماتے تاکہ پھر تازہ دم ہو کہ جہاد علم و عمل کے محاذ پر رونق افروز ہوں ۔ عصر کی نماز ختم ہو جاتی مگر امام شافعیؒ آخرت کی گہری سوچ میں سَر در گریباں بیٹھے رہ جاتے اس محویت سے وہ اس وقت چونکتے جب مؤذن خدا کے گھر میں کھڑا ہو کر نمازِ مغرب کے "شاہی دربار" کا اعلان کرتا ۔ اب جب کہ رات ہو چکی ہوتی اور چرند پرند تک بسیرا لینے کے لیے اپنے اپنے کونوں میں پہنچ چکے تو حضرت امامؒ بھی نماز عشاء پڑھ کر یہ دُعا پڑھتے ہوئے شب خوابی کے بستر پر پاؤں رکھتے:-    "میرے اللہ ! تیرے ہی نام سے میرے پہلووں کو یہ بستر چھوتا ہے اور تیرے ہی نام سے میں اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں ـــــ  اگر تو میری رُوح قبض کرلے تو جان بخشی فرما دینا اور اگر میری رُوح کو واپس کردے تو اس جان کی اس طرح حفاظت فرمانا، جس طرح تو اپنے پاک باز بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔" لیکن ابھی ایک تہائی رات گزرتی کہ خوفِ آخرت اور اُمیدِ مغفرت کی اُدھیڑ بُن قلب و رُوح سے بیدار ہوتی اور پٹ سے آنکھ کھل جاتی اور حضرت امامؒ حیات وکائنات کے خالق کو پُکارتے ہوئے بستر سے اُٹھ جاتے:-     "پاک ہے اللہ اور تعریف ہے اس کی اور پاک ہے خدائےعظیم ـــــ اے اللہ تو سچّا ـــــ تیرا وعدہ سچّا ۔۔۔۔"    رات کی میٹھی نیندیں چھوڑ کر وہ کتاب و سنّت کی علمی اور تحقیقی خدمت میں تن من سے منہمک ہو جاتے ۔ علم کی لطیف آنچ سے قلب میں سوز اور روح میں اضطراب بڑھتا جاتا۔ اور آخر آخری تہائی رات سجدہ گاہِ شوق پر اس حال میں بسر ہوتی کہ سینہ سوزِ ایمانی سے جلنے لگتا اور آنکھیں گرم گرم آنسوؤں سے سجدہ گاہ کو تر کر دیتیں ۔ خدا کی کتاب اس طرح پڑھتے جیسے وہی ان کا درد ہے اور وہی اس درد کا درماں بھی ـــــ آیاتِ الٰہی کو دیکھ کر دل میں میٹھا میٹھا درد سا ہوتا ـــــ اور آنکھوں میں موتی سے آنسُو چمک اُٹھتے ـــــ سینے کا یہ درد آواز کو اتنا دردناک بنا چکا تھا کہ امام صاحبؒ نماز پڑھاتے وقت ابھی چند آیات ہی تلاوت کر پاتے کہ ان کے کانوں میں پیچھے صف بستہ نمازیوں کی سِسکیاں سُنائی دینے لگتیں تلاوت جوں جوں اور آگے بڑھتی یہ سِسکیاں تیز سے تیز تر ہوتیں اور کبھی کبھی تو یہ کیفیت ہو جاتی کہ جیسے شدّت درد سے سینے پھٹ جائیں گے ـــــ ایسے عالم میں امام صاحبؒ فوراً تلاوت کا سلسلہ روک دیتے اور اس بے قرار و نیم بسمل جماعت کو ساتھ لیے ہوئے رکوع و سجود کی لطیف گہرائیوں میں موجِ تہ نشین کی طرح گُم ہو جاتے تھے ۔ (جاری)  https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

2
*کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات  (چوتھی قسط)*   *تحریر: شمس نوید عثمانیؒ* "ایک بار عید کی رات تھی" امام مزنیؒ یہ پاکیزہ واقعہ سُناتے ہیں ۔ "مَیں امام صاحبؒ کے ساتھ مسجد سے گھر تک آیا ۔ ایک دینی مسئلے پر گفتگو چھڑی ہوئی تھی اورحضرت امامؒ علم و حکمت کے موتی سرِ راہ لُٹاتے جارہے تھے ۔ دروازے پر پہنچے تو وہاں ایک شخص کو اپنا منتظر پایا۔ اس نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور عرض کیا:     "یہ تھیلی میرے آقا نے خدمتِ عالی میں نذر کی ہے ۔"      امام صاحبؒ نے شکریے کے ساتھ یہ تھیلی قبول فرمائی ۔ وہ شخص رخصت ہوا ہی تھا کہ ایک اور شخص گرتا پڑتا امامؒ کی طرف چلا آرہا تھا:-      "امام صاحبؒ .....!" نووارد نے ہانپتے کانپتے ہوئے دُکھڑا سُنایا،" گھر میں بچّے کی ولادت ہوئی ہے اور میرے پاس ایک پیسہ تک نہیں ۔۔۔۔"    یہ سُننا تھا کہ امام صاحبؒ بے قرار ہو گئے۔ وہی تھیلی جوں کی توں اس شخص کے ہاتھ میں دے دی اور مُسکراتے ہوئے گھر تشریف لے گئے۔"     ایسے ہی عید کی ایک اور رات کا واقعہ ہے ۔ آسمان پر ہلال عید کو دیکھ کر نیک دِل بیوی نے ٹھنڈے پڑے ہوئے چولھے کی طرف دیکھا اور بے قابو ہوگئیں ۔    "کیا یہ مناسب نہ ہوگا" انھوں نے آب دیدہ ہو کر امام صاحبؒ سے عرض کیا "کہ کچھ رقم کہیں سے اُدھار منگا لیجیے ...... ؟"    سفر آخرت کی ساتھی کو یُوں دل گیر ہوتے ہوئے دیکھ کر امام صاحبؒ پر بھی رقّت سی طاری ہوگئی ۔ ایک بے قرار نظر ان کے اداس چہرے پر ڈالی اور بھیگی ہوئی پلکوں نے کوئی خاموش پیغام دیا جیسے کہہ رہے ہوں: "تم روتی ہو ـــــ ؟ حالاں کہ خوش ہونا چاہیے ۔ بے شک یہ کانٹے ہیں جو آج دل و جگر میں چُبھ رہے ہیں لیکن .... خدا کی قسم ! خدا کی جنّت کانٹوں ہی سے تو ڈھکی ہوئی ہے۔۔۔۔"    پھر اُٹھے اور تھوڑی دیر کے بعد ستّر دینار بطور قرض اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے واپس آرہے تھے ـــــ  دل بے چین تھا کہ جس چہرے کو اُداس اور مغموم چھوڑ کر آئے ہیں اس چہرے کو خوشی سے مُسکراتا ہوا بھی دیکھ لیں ـــــ ! لیکن اتنے میں فقراء و مساکین اپنا اپنا درد سُنانے کے لیے ہر طرف سے آپہنچے تھے ۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کی پکار سُنی اور قرض لی ہوئی رقم کا بڑا حصّہ بے نواؤں کی اشک شوئی میں صرف ہوگیا ـــــ گھر میں پہنچے تو بیس دینار بچے تھے۔ ابھی وہ بیوی کے ہاتھ میں رکھنے نہ پائے تھے کہ ایک قریشی کی فریاد دروازے پر سُنائی دی۔ اُلٹے پاؤں واپس ہوئے ۔ اس کا حال سُنا اور یہ بیس کے بیس دینار اس کے سامنے رکھتے ہُوئے صرف اتنا کہا:    "بھائی ــــــ ! ان میں سے اپنی ضرورت بھر تم بھی لے لو۔۔۔۔" اس نے بیس کے بیس دینار اُٹھاتے ہوئے کہا: "سچ کہتا ہوں اے امامؒ ! ابھی میری ضرورت پوری نہیں ہوئی۔ ابھی تو اور چاہئیں۔۔۔۔"    اور امام صاحبؒ نے ایک حرف منہ سے نہ نکالا ! ــــــ خاموشی سے جا کر بیوی کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے رہ گئے ۔  "آپ تو یہی کرتے رہتے ہیں ....." بیوی کی آواز بھرّا گئی اور امام صاحبؒ اپنے اور بیوی کے غم کو سینے سے لگائے ہوئے خاموش کھڑے رہے ــــــ  آزمائش کی یہ گھائی طَے ہوئی تھی کہ خدا کی رحمت کو جوش آگیا ــــــ ہارون رشید کے وزیر جعفر نے ہاتفِ غیبی کی آواز سے یہ واقعہ سُنا اور ایک ہزار دینار کی نذر لیے ہوئے صبح سویرے ہرکارہ آپہنچا اور عرض کیا " وزیر مملکت کا عاجزانہ اصرار ہے کہ یہ حقیر نذر قبول ہی فرما لیجیے۔"   ___ یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں خدا کا ارشاد ہے:- "اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ان کے اموال کو خرید لیا ہے جس کے عوض میں ان کے لیے جنّت ہے ــــــ" امام صاحبؒ کا یہ اصول تھا کہ ہزاروں درہم و دینار کے خزانے حکومت اور جمہور کی طرف سے ان کے قدموں میں ڈالے جاتے مگر یہ سارا خراجِ عقیدت ان کی نظر میں اللہ کی امانت تھا ــــــ نذرانوں کا تین چوتھائی حصّہ بہر حال صدقہ و خیرات میں لگا دیا جاتا اور اس طرح عالمِ باقی کے خزانوں میں جمع کر دیا جاتا اور یہ مشکل ایک چوتھائی رقم دنیائے فانی میں خود جینے اور اہل و عیال کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی ذات پر روا رکھی جاتی ـــــ ٹھیک اسی طرح زندگی کے صبح و شام کو خدا کی "امانت" کے طور پر تقسیم کر رکھا تھا ـــــ ان کا بہت بڑا غالب ترین حصّہ اُس سفرِ آخرت کی تیاریوں میں صَرف ہوتا جو دم توڑتے ہی شروع ہونے والا ہے اور ہزاروں سَالہ برزخ اور پچاس ہزار سالہ عرصۂ قیامت طَے کرتا ہوا جو ہمیشہ ہمیشہ جاری رہے گا ـــــ جس کی راہ میں میزان عمل کی وہ گھاٹی ہے جہاں آدمی کی کرنی ترازو میں تو لی جا رہی ہوگی ـــــ حساب ہی حساب ہو گا اور عمل ختم ہو چکے گا ـــــ جس کا ایک مرحلہ وہ خطرناک ترین پُل صراط بھی ہے جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز تر ہے ـــــ جس کے ایک کنارے پر عرصۂ قیامت ـــــ نیچے بھڑکتی ہوئی آتشِ جہنّم اور اُس پار خُدا کی جنّت ہوگی۔
68
3
*اقتباس مطالعہ:4* پس اے عزیزان ملت! اور اے بقیہ ماتم زدگان قافلہء اسلام! اگر یہ سچ ہے کہ دنیا کے کسی گوشے میں پیروان اسلام کے سروں پر تلوار چمک رہی ہو تو تعجب ہے اگر اس کا زخم ہم اپنے دلوں میں نہ دیکھیں۔ اگر آسمان کے نیچے کہیں بھی ایک مسلم پیرو توحید کی لاش تڑپ رہی ہے تو لعنت ہے ان سات کروڑ زندگیوں پر جن کے دلوں میں اس کی تڑپ نہ ہو۔ اگر مراکش میں ایک حامی وطن حلقہ بریدہ سے ایک خون کا فوارہ چھوٹ رہا ہے تو ہم کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے منہ سے دل و جگر کے ٹکڑے نہیں گرتے؟ ایران میں اگر وہ گردن ہے پھانسی کے رسیوں میں لٹک رہی ہے جن سے آخری ساعت نزاع میں "اشھد ان لا الہ الا اللہ" کی آواز نکل رہی تھی، تو ہم پر اللہ اور اس کے ملائکہ کی پھٹکار ہو اگر اپنی گردنوں پر اس کا نشان محسوس نہ کریں۔ اگر آج بلقان کے میدانوں میں حافظین کلمہ توحید کے سر اور سینے میں صلیب پرستوں کی گولیوں سے چھد رہے ہیں، تو ہم اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کے رسول کے آگے ملعون ہوں گے اگر اپنے پہلوؤں کے اندر ایک لمحے کے لیے بھی راحت اور سکون محسوس کریں۔ میں کہہ رہا ہوں حالانکہ اسلام کی روح کا ایک ذرہ بھی اس کے پیروؤں میں باقی ہے تو مجھ کو کہنا چاہیے کہ اگر میدان جنگ میں کسی ترک کے تلوے میں ایک کانٹا چبھ جائے تو قسم ہے خدائے اسلام کی کہ کوئی ہندوستان کا مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس کی چھبن کو تلوے کی جگہ اپنے دل میں محسوس نہ کرے، کیونکہ ملت اسلام ایک جسم واحد ہے اور مسلمان خواہ کہیں ہو اس کے اعضاء و جوارح ہیں اگر ہاتھ کی انگلی میں کانٹا چبھے تو جب تک باقی اعضا کٹ کر الگ نہ ہو گئے ہوں ممکن نہیں اس صدمے سے بے خبر رہیں! اور جو کچھ کہہ رہا ہوں محض اظہار مطلب کا زور بیان ہی نہیں ہے، بلکہ عین ترجمہ ہے اس حدیث مشہور کا جس امام احمد ومسلم نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا: *«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى»* *(مسلمانوں کی مثال باہمی مدت مرحمت اور محبت و ہمدردی میں ایسی ہے جیسے ایک جسم واحد کی، اگر اس کی ایک ارزو میں کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو سارا جسم اس تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے)* اور اس کے ہم نے صحیحین کی وہ حدیث ہے جس کو ابو موسی اشعری نے روایت کیا ہے: *«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»* *(ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایسا ہے جیسے کسی دیوار کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دیتی ہے)* اور فی الحقیقت ایک خصائص مسلم میں سے ایک اولین اور اسد ترین خصوصیت ہے جس کی طرف قرآن شریف نے اپنے جامع اور معنی الفاظ میں اشارہ کیا ہے: *﴿ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾* *(کافروں کے لیے نہایت سخت مگر آپس میں نہایت رحیم اور ہمدرد)* ان میں جس قدر سختی ہے باطل اور کفر کے لیے اور ان کی جس قدر محبت الفت ہے حق کو صداق اور اسلام و توحید کے لیے۔ *(مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد)* *خطبات آزاد (ص: 18-19)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
85
4
*مذہب سے بے گانگی اور اس کا مداوا* رشید احمد صدیقی مرحوم نے فرمایا: مذہب سے آج جو بے گانگی، بے تعلقی یا بیزاری نظر آتی ہے، اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ موجودہ دنیا، جس عالمگیر ناصبوری، نا آسودگی یا ہراس و ہوس کے بھنور میں جاگری ہے، وہاں احتسابِ نفس کی اتنی گنجائش نہیں رہی، جتنی تحفظِ ذات اور ہر قیمت پر زیادہ سے زیادہ نفع اندوزی کی خواہش بڑھی ہوئی ہے۔ اس میں فرد، جماعت اور اربابِ اختیار و اقتدار سبھی کم و بیش مبتلا ہیں۔ ایسے میں اقدار نہیں، اغراض پیشِ نظر ہوتے ہیں اور یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے، جس کو کسی طرح نظر انداز کیا جاسکے۔ علوم و فنون کی بے امان ترقی، یعنی فطرت کی کُھلی اور چُھپی طاقتوں کو چاکری میں لینے سے زندگی کا ہر طرح کا کاروبار، اتنا تند و ہمہ جہت اور سخت گیر ہوگیا ہے کہ ان سے نپٹنا، خود علوم و فنون کے بس میں نہ رہا۔ اس آشوب کا مداوا و مقابلہ، صرف مذہب و اخلاق کے اوامر و نواہی کی پابندی سے ممکن ہے۔ اس لیے کہ ظلم، جہالت، دکھ اور مایوسی کا تریاق مذہب و اخلاق ہی کے پاس ہے، جو منصفی، محبت اور اعلیٰ اور اچھے پر بھروسہ رکھنے پر زور دیتا ہے۔ (عزیزانِ ندوہ کے نام، صفحہ: ٢٢/٢٣/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://telegram.me/ilmokitab https://telegram.me/muniri
130
5
اس پر یاد آیا کہ ایک بڑے عالم حدیث گزرے ہیں شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ، خوش قسمتی سے اس ناچیز کو آپ کی مجالس میں بیٹھنے کا شرف ملا ہےاور ان لوگو ں کی بھی رفاقت رہی ہے جنہوں نے آپ کو دمشق کے تاریخی مکتبہ ظاہریہ میں قلمی کتابوں اور مخظوطات میں سرکھپاتے دیکھا ہے، یہ لوگ بتاتے ہیں کہ شیخ صبح سویرے کتب خانے آتے اور شام کو اس کے بندہونے تک روزانہ پابندی سے دھول اور غبار سے اٹی الماریوں کے بیچ بیٹھتے، اس دوران دوپہر میں دو ایک سینڈویچ آپ کا ظہرانہ ہوتا، علمی میدان میں آپ کی کامیابی کا راز یہ بتایا جاتا ہے کہ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل، ایک ایسے دور میں جب کہ مکتبہ ظاہریہ کا زیادہ تر علمی مواد زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوا تھا اورابھی کتابوں کے اشارئیے عام نہیں تھے، ”المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث“ جیسی اس موضوع پر ابتدائی کتابیں ابھی ابھی چھپنی شروع ہوئی تھی اور سالہا سال میں کبھی اس کی بھی ایک ایک جلد چھپتی تھی، شیخ البانی نے ظاہریہ کے حدیثی مخطوطات میں محفوظ ذخیرہ حدیث کا اشاریہ اپنے لئے تیار کیا،جو اندازاً بیس جلدوں پر مشتمل تھا، لہٰذا جب شیخ البانی نے ”سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ “ اور”سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ“ وغیرہ میں ان مخطوطات کے ذخیروں سے ایسی روایات اور اسانید نقل کیں جو ابھی تک ان قلمی کتابوں کے دفتروں میں محفوظ تھیں تو علم حدیث کے متوالوں کی آنکھیں خیرہ ہوکر رہ گئیں اور پھر شیخ البانی ؒ کی رہنمائی اور نشاندہی پر سنہ ساٹھ(۶۰ء) کی دہائی سے علم حدیث کے خزانوں پر مدتوں سے ڈھکی دھول ہٹنے لگی تو ان پر تحقیقی کام کرنے والے طلبہ اور محققین کا ایک تانتا لگ گیا، ان پر کام کرنے کے لئے ماجستیر اور دکتوراہ کے طلبہ کی ہمت افزائی کی گئی اور گزشتہ نصف صدی میں حدیث کی وہ وہ کتابیں معیاری طباعت کے ساتھ منظر عام پر آئیں، جن کے لئے ہمارے اسلاف کی آنکھیں ترس گئی تھیں،شیخ البانی ؒ کی بعض آراء اور افکار سے لاکھ اختلاف کے باوجود آپ کے اس کنٹریبیو شن کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ حدیث شریف قرآن کریم کی تفسیر ہے، اس کے مطالعہ کے ضمن میں ایک مصنف نے اس بات کی ضرورت کا احساس دلایا ہے کہ قاری کو قرآن شریف کی طرح حدیث کی بھی موضوعاتی فہرست بنانی چاہئے جس میں ایک موضوع کی حدیثیں یکجا کی جائیں اور ان ذیلی عنوانات کے تحت ان کی فنی ترتیب کا خیال رکھا جائےتاکہ بوقت ضرورت آپ ان سے استدلا ل کرسکیں۔ اس کے اہتمام سے بھی آپ کے حافظے میں ازبر کرنے کی شعوری کوشش کے بغیر بہت ساری حدیثیں یکجا ہوجائیں گی اور تھوڑی سی تحریک سے یاد آجایا کریں گی۔ قرآن وحدیث کا علمی و دعوتی مواد ترتیب دینے کا یہ کام زندگی بھر جاری وساری رہنا چاہئےاور وقتا فوقتا اس کی تدوین وترتیب جاری رہنی چاہئے، کیونکہ یہ کوئی مستقل تصنیف نہیں ہوگی، بلکہ یہ مواد ، مضامین اور تصنیف و تالیف میں خام مال کی حیثیت رکھے گا۔ اپنی موضوعاتی فہرست خود بنانے کا بڑا فائدہ یہ بھی ہے ہر شخص کا اپنا ایک پس منظر اور فکر کا زاویہ ہوتا ہے، دعوتی اور فکری دلچسپیاں بھی الگ الگ ہواکرتی ہیں، لہٰذا ایک محنتی قاری کی نظرمیں اس قسم کی بہت سی تیار شدہ فہرستیں بڑی بے جان سی محسوس ہوتی ہیں جیسے مستشرق جول لابو م کی کتاب” تفصیل آیات القرآن“اور مستشرق فینسک کی کتاب” مفتاح کنوز السنۃ“ قرآن و حدیث کی فنی لحاظ سے بہترین اور بے مثال موضوعاتی فہرستوں میں شامل ہونے اور بہت مفید ہونے کے باوجود، قرآن وحدیث جو دعوتی روح ایک انسان میں پیدا کرتے ہیں، ان میں اس کا احساس نہیں ہوپاتا۔ قرآنی تعلیمات کو ذہن مین پختہ طور پر جاگزیں کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تفاسیرقرآن کا اجتماعی طور پر موازناتی مطالعہ کیا جائے، اس طرح کہ کئی ایک باذوق احباب مقررہ دنوں میں یکجا ہوں، ان پر مختلف تفسیریں تقسیم کی جائیں اور ہر ایک سے مقررہ آیات کی تفسیر بہ آواز بلند سنی جائے، موازناتی مطالعہ سے مضمون بڑی پختگی سے ذہن نشین ہوکر یاد رہتا ہے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں چند احباب کے ساتھ اجتماعی مطالعہ کتب تفسیر کا یہ سلسلہ ہم لوگوں نے شروع کیا تھا، اب کئی ایک جگہوں سے ان سلسلوں کے جاری ہونے کی اطلاعات ملنے لگی ہیں۔ جاری علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
229
6
اس طرح قرآن پر ایک جامع نظر حاصل کرلینے کے بعد تفصیلی مطالعہ کی ابتدا کرنی چاہئے، اس سلسلے میں ناظر کو تعلیمات قرآن کا ایک ایک پہلو ذہن نشین کرکےنوٹ کرتے جانا چاہئے، مثلا وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے کہ انسانیت کا کونسا نمونہ ہے، جسے قرآن پسندیدہ قرار دیتا ہے اور کس نمونے کے انسان اس کے نزدیک مبغوض و مردود ہیں، اس مضمون کو اچھی طرح اپنی گرفت میں لانے کے لئے اس کو چاہئے کہ اپنی کاپی پر ایک طرف پسندیدہ انسا ن اور دوسری طرف ناپسندیدہ انسان کی خصوصیات آمنے سامنے نوٹ کرتا چلا جائے۔ مثلا وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ قرآن کے نزدیک انسان کی فلاح ونجات کا مدار کن امور پر ہےاور کیا چیزیں ہیں جن کو وہ انسان کے لئے نقصان ، ہلاکت اور بربادی کا موجب قرار دیتا ہے۔ اس مضمون کو بھی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کاپی پر موجبات فلاح اور موجبات خسران کے دوعنوانات ایک دوسرے کے مقابل قائم کرے اور مطالعہ قرآن کےد وران میں روزانہ دونوں قسم کی چیزوں کو نوٹ کرتا جائے ۔ علی ہذا القیاس عقائد ، اخلاق ، حقوق ، فرائض، معاشرت ، تمدن ، معیشت ، سیاست ، قانون، نظم جماعت ، صلح ، جنگ اور دوسرے مسائل زندگی میں سے ایک ایک کے متعلق قرآن کی ہدایات کو آدمی نوٹ کرتا چلاجائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ ان میں سے ہر ہر شعبے کی مجموعی شکل کیا بنتی ہےاور پھر ان سب کو ملا کر جوڑ دینے سے پورا نقشہ زندگی کس قسم کا بنتا ہے۔ پھر جب آدمی کسی خاص مسئلہ زندگی کے بارے میں تحقیق کرناچاہے کہ قرآن کا نقطہ نظر اس کے متعلق کیا ہے تو اس کے لئے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ اس مسئلے کے متعلق قدیم وجدید لٹریچر کا گہرا مطالعہ کرکے واضح طور پر یہ معلوم کرلے کہ اس مسئلے کے بنیادی نکات کیا ہیں۔ انسان نے اب تک اس پر کیا سوچا اور سمجھا ہے، کیا امور اس میں تصفیہ طلب ہیں اور کہاں جاکر انسانی فکر کی گاڑی اٹک جاتی ہے۔ اس کے بعد انہی تصفیہ طلب مسائل کو نگاہ میں رکھ کر آدمی کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے،میرا تجربہ ہے کہ اس طرح جب آدمی کسی مسئلے کی تحقیق کے لیے قرآن پڑھنے بیٹھتا ہے تو اسے ایسی ایسی آیتوں میں اپنے سوالات کا جواب ملتا ہے جنہیں وہ اس سے پہلے بیسیوں مرتبہ پڑھ چکا ہوتا ہے اور کبھی اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ یہ مضمون بھی چھپا ہوا ہے(تفہیم القرآن۔ جلد ۰۱/۱۶) موضوعات قرآنی کے موضوع پر اردو میں کافی مواد موجود ہےاور بعض تفاسیر کی موضوعاتی فہرستیں بڑے علمی پایہ کی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ آج سے ستر سال قبل برصغیر کے ایک عجمی مفسر قرآن نے مطالعہ قرآن کا جو خاکہ پیش کیا تھا، اس کا پرتو دور حاضر میں امام حرم شیخ صالح عبد اللہ حمید دامت برکاتھم کے زیر نگرانی تیار شدہ عظیم اسلامی انسائیکلوپیڈیا ”نضرۃ النعیم فی مکار م اخلاق الرسول الکریم “پرپڑا ہے۔ چونکہ یہاں ہماری بحث کاموضوع قرآن کریم کا مطالعہ اور یاد داشت میں اسکے معانی و مطالب کو محفوظ کرکے آئندہ تحقیقی کاموں ، لکچروں، مضامین وغیرہ میں انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا ہوناہے، لہٰذا اس میدان میں تیار شدہ مواد سے ایک قاری کو بھرپور استفادہ کرنا چاہئے، ان سے موضوعات کی فہرست اور خاکہ بنانے میں مدد لینی چاہئے لیکن اس سے اپنی محنت اور غوروتدبر سے کسی انڈکس کے تیاری کی افادیت ختم نہیں ہوجاتی ،کیونکہ تیار شدہ مواد مفید تو بے شک ہوتا ہےلیکن اس کی حیثیت دوسرے کے چبائے ہوئے لقمہ جیسی ہوتی ہے،دوسرے کا لقمہ کتنا ہی لذید کیوں نہ ہولیکن اس کے کھانے کی عادت پڑنے سے ہاضمہ مضبوط تو نہیں ہو سکتا۔ اپنی محنت سے جو موضوعاتی فہرست تیار ہوگی، اس کی حیثیت آپ کے سینے میں محفوظ علم کی ہوگی،صرف کاغذ اور کتاب میں نہیں۔
190
7
*مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟(۵ ) ۔۔۔ مطالعہ کا طریقہ* *عبد المتین منیری (بھٹکل)* ۔ تاریخ میں علم اور معلومات کی ترویج اور ترقی میں سب سے بڑا کردار کتابوں کا رہا ہے، حاجی خلیفہ نے تصنیف وتالیف کے مقاصد حسب ذیل بتا ئے ہیں: ٭…اس سے پہلے کسی نے اس موضوع پرلکھنے میں سبقت نہیں کی ہو، اس تحریرکے ذریعے اس موضوع پر لکھنے کا آغازہورہاہو۔ ٭…کسی نامکمل موضوع کی اس کے ذریعے تکمیل ہورہی ہو۔ ٭…کوئی موضوع بہت مشکل اور مغلق تھا، اس کی تشریح کی گئی ہو۔ ٭…موضوع بہت طویل تھا، اس کا اختصار کیا گیا ہو۔ ٭…موضوع بہت پھیلا ہوا تھا، اسے یکجا کیا گیا۔ ٭…موضوع یا بحث میں خلط ملط تھا، اس کی از سرنو ترتیب و تہذیب ہوئی ہو۔ ٭…کسی موضوع پر سابقہ مصنّفین سے غلطیاں سرزد ہوئیں تھیں تو انہیں درست کیا گیا ہو۔ اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک گزشتہ پندرہ صدیوں کے دوران امت کے ائمہ وقت اور علمائے امت نے ان مقاصد کو سامنے رکھ کر جو علمی کام انجام دئیے، ان کا حساب لگا نا ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل کیا، جس کے صفحات کی تعداد اندازا چھ سو بنتی ہےلیکن بعد میں آنے والوں نے اس کتاب کی تشریح وتفسیر اور اس کی آیات سے جنم دینے والے علوم کو بیان کرنے کے لئے جو صفحات سیاہ کئے، وہ کروڑوں تک پہنچتے ہیں، اگر یہ حضرات آئندہ نسلوں کی فکر نہ کرتے اور ان کے پاس علم کا جو سرمایہ اکٹھا ہوا تھا، اسے مزید بڑھا کر آنے والوں کو منتقل نہ کرتے تو یہ علوم و فنون ہم تک کہا ں پہنچ پاتے؟لہٰذا امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہےکہ: آدمی کو چاہئے کہ وہ علم کو تحریر کی شکل دینے کو عبادت سمجھے، اس سے اسے کسی فائدے کہ امید ہو یا نہ ہو۔ جب طریقہ مطالعہ کی بات ہوگی تو ابتدا کتاب اللہ سے ہوگی۔ اس سلسلے میں ایک مفسر قرآن نے بڑی پیاری بات لکھی ہے، وہ کہتے ہیں :ـ ”ـــکوئی شخص چاہے قرآن پر ایمان رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، بہر حال اگر وہ اس کتاب کو فی الواقع سمجھنا چاہتا ہے تو اولین کام اسے یہ کرنا چاہئے کہ اپنے ذہن کو پہلے سے قائم کئے ہوئے تصورات اور نظریا ت سے اور موافقانہ یا مخالفانہ اغراض سے جس حد تک ممکن ہو خالی کرلے اور سمجھنے کا خالص مقصد لے کر کھلے دل سے اس کو پڑھنا شروع کرے، جو لوگ چند مخصوص قسم کے خیالات ذہن میں لے کر اس کتاب کو پڑھتے ہیں ،وہ اس کی سطروں کے درمیان اپنے ہی خیالات پڑھتے چلے جاتے ہیں، قرآن کی ان کو ہوا بھی نہیں لگنے پاتی ۔ یہ طریق مطالعہ کسی کتاب کو پڑھنےکے لئے بھی صحیح نہیں ہے، مگر خصوصیت کے ساتھ قرآن تو اس طرز کے پڑھنے والوں کے لئے اپنے معانی کے دروازے کھولتا ہی نہیں۔ “ پھر جو شخص محض سرسری سی واقفیت بہم پہنچانا چاہتا ہو، اس کے لئے تو شاید ایک دفعہ پڑھ لینا کافی ہوجائے لیکن جو اس کی گہرائیوں میں اترنا چاہے، اس کے لئے دو چار دفعہ کا پڑھنا بھی کافی نہیں ہو سکتا، اس کو باربار پڑھنا چاہئے، ہر مرتبہ ایک خاص ڈھنگ سے پڑھنا چاہئےاور ایک طالب علم کی طرح پنسل اور کاپی ساتھ لے کر بیٹھنا چاہئے تاکہ ضروری نکات نوٹ کرتا جائے۔ اس طرح جو لوگ پڑھنے پر آمادہ ہوں ان کوکم از کم دو مرتبہ پورے قرآن کو صرف اس غرض کے لئے پڑھنا چاہئے کہ ان کے سامنے بحیثیت مجموعی وہ پورا نظام فکر و عمل آجائے جسے یہ کتاب پیش کرنا چاہتی ہے،اس ابتدائی مطالعہ کے دوران میں وہ قرآن کے پورے منظر پر ایک جامع نظر حاصل کرنے کی کوشش کریں اور یہ دیکھتے جائیں کہ یہ کتاب کیا بنیادی تصورات پیش کرتی ہے اور پھر ان تصورات پر کس قسم کا نظام زندگی تعمیر کرتی ہے۔ اس اثنا میں اگر کسی مقام پر کوئی سوال ذہن میں کھٹکے تو اس پر وہیں اسی سوقت کوئی فیصلہ نہ کر بیٹھیں بلکہ اسے نوٹ کرلیں اور صبر کے ساتھ دوسری بار پڑھیں۔ میں اپنے تجربے کی بنا پر یہ کہتا ہوں کہ دوسری بار کے غائر مطالعہ میں شاذونادر ہی کوئی سوال جواب طلب باقی رہ جاتا ہے۔
167
8
*اقتباس مطالعہ:3* اے برادران ملت! یہی اسلام کی وہ عالمگیر اخوت اور دعوت اسلام کی وحدت تھی جس نے زمین کے دور دراز گوشوں کو ایک کر دیا تھا۔ اسلام نے ریگستان حجاز میں ظہور کیا مگر صحرائے افریقہ میں اس کی پکار بلند ہوئی۔ اس کی دعوت کی صدا جبل بوقبیس کی گھاٹیوں سے اٹھی مگر دیوار چین سے صدائے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کی بازگشت گونجی۔ تاریخ کی نظریں اس وقت دجلہ و فرات کے کنارے اسلام کے نقش قدم گن رہی تھیں، عین اسی وقت گنگا و جمنا کے کنارے سینکڑوں ہاتھ تھے جو خدائے واحد کے آگے سربسجود ہونے کے لیے وضو کر رہے تھے۔ یہ تمام دنیا کی مختلف قومیں زمین کے دور دراز گوشوں پر بسنے والی آبادیاں گویا ایک ہی گھر کے عزیز تھے، جن کو شیطان رجیم کی تفرقہ اندازیوں نے ایک دوسرے سے الگ کر دیا تھا، لیکن خدائے رحیم نے ان صدیوں کے پچھڑے ہوئے دلوں کو ایک دائمی صلح کے ذریعے پھر ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور ان کے روٹھے ہوئے دلوں کو اس طرح ایک دوسرے سے منا دیا کہ تمام پچھلے شکوے اور شکایتیں بھول کر ایک دوسرے کے بھائی اور شریک رنج و راحت ہو گئے۔ *﴿وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا﴾* *(سورۃ آل عمران: 103)* *(اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر نازل کی گئی، جبکہ تم اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے مگر اسلام نے تمہارے دلوں میں محبت و الفت پیدا کر دی اور تم دشمن کی جگہ ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہوگئے)* یہ برادری خدا کی قائم کی ہوئی برادری ہے، ہر انسان جس نے کلمہ "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کیا بمجرد اقرار کے اس برادری میں شامل ہو گیا، ہاں مصری ہو خوا نائجیریا کا وحشی ہو، خواہ قسطنطنیہ کا تعلیم یافتہ ترک۔ لیکن اگر وہ مسلم ہے تو اس ایک خاندان توحید کا عضو ہے، جس کا گھرانہ کسی خاص وطن اور مقام سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ تمام دنیا اس کا وطن اور تمام قومیں اس کی عزیز ہیں۔ دنیا کے تمام رشتے ٹوٹ سکتے ہیں مگر یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ ممکن ہے ایک باپ اپنے لڑکے سے روٹھ جائے، بعید نہیں ایک ماں اپنی گود سے بچے الگ کردے، ہو سکتا ہے کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کا دشمن ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کے تمام عہدے مودت، خون اور نسل کے باندھے ہوئے پیمانے وفا و محبت ٹوٹ جائیں مگر جو رشتہ ایک چین کے مسلمان کو افریقہ کے مسلمان سے، ایک عرب کے بدو کو تاتار کے چرواہے سے اور ایک ہندوستان کے نہ مسلم کو مکہ معظمہ کے صحیح النسب قریشی سے پیوست یک جان کرتا ہے دنیا میں کوئی طاقت نہیں ہے جو اسے توڑ سکے اور اس زنجیر کو کاٹ سکے جس میں خدا کے ہاتھوں نے انسانوں کے دلوں کو ہمیشہ کے لیے جکڑ دیا ہے۔ (جاری) *(مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ)* *خطبات آزاد (ص: 16-18)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
247
9
صور_من_حياة_الصحابة_عبد_الرحمن_بن_عوف.pdf
283
10
2026-07-12 عبد الرحمن رافت الباشا.mp3
289
11
ہم نے گذشتہ دو ماہ سے طلبہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے لئے تقریبا روزانہ درجات لینے شروع کئے ہیں، اس میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عالمیت کی اونچی دو جماعتوں کو سمارٹ اسکرین کے ذریعے کتابوں کا تعارف کروائیں، اور نچلی جماعتوں کو عربی بول چال کی مشق کروائیں، اس درجہ کا میڈیم مکمل عربی ہوتا ہے۔ اس کے لئے جو تجربہ کررہے ہیں ان میں سے ایک صور من حیاۃ الصحابہ کی مشق ہے، پہلے اردو ترجمہ پڑھواتے ہیں، اس سے اردو درست کرنے میں مدد ملتی ہے، اس کے بعد عربی آڈیو سناتے ہیں، پھر عربی عبارت پڑھواتے ہیں، جس کے بعد اس باب سے متعلق مشقیں ہوتی ہیں، جن میں غریب الفاظ کے معنی، ان کے استعمالات، سوال وجواب، خالی جگہ پر کرو، جیسی مشقیں شامل ہیں، جنہیں ہم خود تیار کرتے ہیں، صور من حیاۃ الصحابہ کی ایک صوتی فائل، اردو ترجمہ، عربی عبارت ، اور سوال وجواب کی فائل منسلک ہے، واضح رہے، درس کے دوران عبارت کا لفظی ترجمہ اردو میں نہیں کیا جاتا۔ اس سلسلے میں آپ کے تاثرات سے مستفید فرمائیں، اگر احباب سے ریکٹشن اچھا ملتا رہا توان شاء اللہ پھر اسی انداز سے صور من حیاۃ الصحابہ اور دوسری کلپس کی فائلیں ارسال ہونگی۔ یہ فائلیں ہم اس امید پر ارسال کررہے ہین کہ اساتذہ کرام ان کا پرنٹ آوٹ نکال کر بچوں سے مشقیں کروائیں۔ واضح رہے کہ نئے الفاظ کا ذہن میں ذخیرہ بننے کے لئے ہر لفظ کا تین مرتبہ استعمال ضروری ہے، اردو ترجمہ عبارت سمجھنے کی صلاحیت دے سکتا ہے، لیکن لفظ کے استعمال کی صلاحیت پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ عبد المتین منیری
298
12
*وفیات مورخہ:جولائی/ 12* 1944ء محمد الیاس کاندھلوی۔ حضرت مولانا ، بانی تبلیغی جماعت 1971ء غلام رسول قادری۔ شاہ 1972ء اختر حسین۔ مرزا 1974ء حسین حسان ندوی۔ مولوی، ادیب اطفال ، مدیر پیام تعلیم 1974ء ساغر صدیقی (محمد اختر )۔ شاعر 1981ء کرار جونپوری (سید کرارحیدر)۔ ، 1986ء آغا مہدی۔ علامہ ، سید 1989ء خواجہ محمد شریف۔ ، 1989ء محمد طفیل امرتسری۔ الحاج قاری 2003ء سلامت ہاشم۔ فلیپینی تحریکی رہنما 2003ء نسیم احمد اللہ والا۔ 2006ء صدیق احمد ہردوئی۔ مشنی 2009ء ابن جبرین، عبد اللہ بن عبد الرحمن بن جبرین۔ سعودی عالم دین 2009ء نذیر احمد۔ شیخ 2013ء محمد شفیق خاں۔ مولانا 2017ء عبد الرحمن بن عبد العزیز آل سعود۔ والد بانی مملکت سعودی عرب 2017ء محمد الیاس مظاہری۔ مولانا، سید علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
241
13
*سچی باتیں (2؍فروری 1941ء)۔۔۔ جدید انسان کی ترقی* از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ اعداد شائع ہوئے ہیں، کہ امریکہ میں نیویارکؔ سے سین فرانسسکوؔ تک یعنی مشرقی سرے سے لے کر مغربی تک کُل مسافت ڈھائی ہزار میل کی ہے ۔ اس فاصلہ کے طے کرنے میں 110سال کے اندر ترقیاں حسب ذیل ہوئی ہیں:- 1830ء میں ، یہ فاصلہ، بیل گاڑیوں کے ذریعہ پورے 6مہینے میں طے ہوتاتھا۔ 1850ء میں گھورا گاڑی اور ریل کی مدد سے بجائے مہینوں کے 23دن میں طے ہونے لگے۔ 1861ء میں، گھوڑے کی ڈاک اور ریل سے کُل ساڑھے بارہ دن میں طے ہونے لگے۔ 1869ء میں ریل کا پورا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اور یہ سفر صِرف 7دن کا رہ گیا۔ 1876ء میں اسپیشل ٹرین نے دنوں کا گھٹا کر گھنٹے بنایا، اور مدت کُل 100گھنٹوں کی رہ گئی۔ 1920ء سے طیارہ اور ٹرین مدد سے مدت صرف 72گھنٹوں کی رہ گئی۔ 1921ء سے طیارے رات اور دن چلنے لگے، اورمدت گھٹ کر ساڑھے تینتیس گھنٹوں سے کم رہ گئی۔ 1924ء سے باضابطہ ہوائی ٹائم ٹیبل کے لحاظ سے مدت 32گھنٹوں کی رہی۔ 1933ء میں ہوائی ڈاک نے مدت گھٹ اکر ساڑھے 19گھنٹے کی کردی۔ 1940ء میں مزید ہوائی ترقیوں سے مسافت سرف پونے سولہ گھنٹوں کی رہ گئی۔ خلاصہ ترقیوں کی اِس روئداد کا یہ ہے، کہ مہذب وترقی یافتہ انسان، جہاں تک اُڑ کر جاپہونچنے کا تعلق ہے، اپنے باپ دادوں کا تو خیر ذکر ہی نہیں، ہوا میں اُڑتے رہنے والے پرندوں سے بھی آگے نکل گیاہے، اور ترقی کے اس دوڑ میں چیل اور کوّے اور کبوتر اور باز اور گِدھ اور عقاب کو اپنے سے کہیں پیچھے چھوڑگیاہے!……لیکن اسی امریکہ میں، اسی ترقی یافتہ ، ہواباز امریکہ میں، کبھی یہ سوال بھی دل میں پیداہوتاہے ، کہ خود انسانیت پر کیا گزر رہی ہے ۔ انسان کی روح تندرست ، وتوانا ہے ، یا بیمار ومضمحل ہے؟ زندہ بھی ہے یا مرچکی ہے؟ جانیں کہاں تک محفوظ ہیں؟قتل، دن دہاڑے ڈاکے، لوٹ مار کے حادثوں کا اوسط سالانہ، ماہانہ، روزانہ کیاہے؟ واقعات خود کُشی کے اعداد کیاہیں؟ اسباب خود کُشی کیسے نئے نئے روز نکلے آتے ہیں! قتل وہلاکت کی جو جو تدبیریں، جو جو طریقے بیسویں صدی کے مہذب انسان نے ایجاد کرلئے ہیں، اگلوں کے کبھی خواب وخیال میں بھی آئے تھے؟ مال ایک انسان کا دوسرے انسان کے ہاتھوں کس حد تک محفوظ ہے! جائدادیں ایک کی دوسرے کی طرف خواہ چھین جھپٹ کر خواہ مکروخیانت اور جعل سازی سے، کس سُرعت سے منتقل ہورہی ہیں! ناموس ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے ہاتھوں کب محفوظ ہے؟ ماں، باپ ،بھائی، بہن، عزت کسی کی بھی محفوظ ہے؟ شہوت پرستی اور ہوس رانی کے جو طریقے آج ہر کالج ، ہر اسکول میں عام ہوچکے ہیں؟ پہلے ادھر کسی کے ذہنِ رسا کی بھی رسائی ہوئی تھی؟ اور موقوف امریکہ ہی پر کیوں رکھئے۔ یورپ کے ایک ایک مُلک کا کیا حال ہے۔ برطانیہ اور فرانس اور جرمنی اور اطالیہ اور روس، سیاسی حیثیت سے، نظام حکومت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کیسے ہی ضد ہوں، نازی ہوں، سوشلسٹ ہوں، امپرئیلسٹ ہوں، کوئی ہوں، اور انھیں کے شمول میں جاپان کو بھی رکھ لیجئے، تہذیبی امراض اور روحانی وباؤں میں، کیا امریکہ سے بہت کچھ، یا کچھ بھی مختلف ہیں؟ اور پھر یہی ’’ترقی‘‘ خود آپ کے جن جن ملکوں میں قدم جماچکی ہے، وہ ٹرکی ہو یا ایران، مصر ہو یا شام، عراق ہو یا خود ہندوستان، وہاں کیا حال ہورہاہے؟ جاگ رہی اور جی رہی کون سی چیز ہے، اور سورہی اور مررہی کون سی چیز ہے؟ انسان نے اپنی انسانیت بیچ کر اس کے عوض حاصل کیاکیا؟ محض حیوانیت ! اور حیوانیت میں بھی حیوان۔ ’’پرندگی‘‘ سے بھی بڑھ کر حیوان کی درندگی ! اور مادّی سکون اور آسودگی اس پر بھی نصیب نہیں! بلکہ مہذب دنیا ہے کہ عیش وراحت کی جنت بننے کی جگہ روز بروز بنتی جارہی ہے ہلاکتوں کا ایک جہنم زار! https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
265
14
*اقتباس مطالعہ:2* انسان کی یہ سب سے بڑی ضلالت اور خدا فراموشی تھی کہ اس نے رشتہ خلقت کی وحدت کو بھلا کر زمین تھے ٹکراؤں اور خاندان کی تفریقوں پر رشتے قائم کر لیے تھے۔ خدا کی زمین کو جو محبت اور باہمی اتحاد کے لیے تھی قوموں کے باہمی اختلافات و نزاعات کا گھر بنا دیا تھا۔ لیکن اسلام دنیا میں پہلی آواز ہے جس نے انسان کی بنائی ہوئی تفریقات پر نہیں بلکہ الٰہی تعبد کی وحدت پر ایک عالمگیر اخوت و اتحاد کی دعوت دی اور کہا کہ۔۔ *﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾* (سورۃ الحجرات: 13) *(اے لوگو ہم نے دنیا میں تمہارے خلقت کا وسیلہ مرد اور عورت کا اتحاد رکھا اور نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا۔اس لیے کہ باہم پہچانے جاؤ ورنہ دراصل تفریق اور انشعاب کوئی ذریعے امتیاز نہیں اور امتیاز اور شرف اسی کے لیے ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہے)* پس درحقیقت اسلام کے نزدیک وطن و مقام اور رنگ زبان کی تفریق کوئی چیز نہیں۔ رنگ اور زبان کی تفریق کو وہ ایک الٰہی نشان ضرور تسلیم کرتا ہے: *﴿وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ﴾* (سورۃ الروم: 22) *(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے آسمان و زمین اور تمہاری مختلف زبانیں اور رنگ پیدا کیے)* اس کو وہ کسی انسانی تفریق و تقسیم کی حد نہیں قرار دیتا اور انسان کے تمام دنیوی رشتے خود انسان کے بنائے ہوئے ہیں۔ اصلی رشتہ صرف ایک ہے اور وہ ہے جو انسان کو اس کے خالق اور پروردگار سے متصل کرتا ہے۔ وہ ایک ہے بس اس کے ماننے والوں کو بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ اگرچہ سمندروں کے طوفانوں، پہاڑوں کی مرتفع چوٹیوں، زمین کے دور دراز گوشوں اور جنس و نسل کی تفریقوں نے ان کو باہم ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہو۔ *﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ﴾* (سورۃ المؤمنون: 52) *(بے شک تمہاری جماعت ایک ہی امت ہے اور ہم ایک ہی تمہارے پروردگار ہیں)* *(جاری)* *مجاھد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ* *(خطبات آزاد، ص: 15-16)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
280
15
مذہب فطری چیز ہے علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں: دنیا میں افراد انسانی کے خاص خاص مختصات یعنی زبان، قوم، ملک، صورت، رنگ کو حذف کرتے جاؤ تو جو چیزیں قدر مشترک رہ جائیں گی، ان میں ایک مذہب ہوگا۔ جن چیزوں کو ہم انسان کی فطرت خیال کرتے ہیں، مثلاً: اولاد کی محبت، انتقام کی خواہش، کمال کی قدردانی وغیر وغیرہ، ان کے فطری ہونے کی یہی وجہ قرار دیتے ہیں کہ تمام دنیا کے آدمیوں میں مشترک پائی جاتی ہیں۔ اس بنا پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر قوم، ہر طبقہ، ہر نسل کوئی نہ کوئی مذہب رکھتا ہے تو یہ مسئلہ صاف ثابت ہوجاتا ہے کہ مذہب فطری چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے مقدم اصول، تمام مذاہب میں یکساں پائے جاتے ہیں۔ خدا کا وجود، اس کی پرستش کا خیال، حیات بعد الموت، اعمال کی جزا و سزا، رحم دلی، ہمدردی، عفت کو اچھا سمجھنا، جھوٹ، دغا، زنا، چوری کو برا جاننا دنیا کے تمام مذہبوں کا اصل اصول ہے۔ (خطباتِ شبلی، نو دریافت، صفحہ: ۴۸/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://telegram.me/ilmokitab
299
16
*اقتباسِ مطالعہ:1* *توحید: خوات اسلامی و عمومی رشتہ دینی* *(مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ)* قران کریم نے توحید الہی کے داعی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو سراج منیر سے ملقب کیا اور ان کے خصائص کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: *﴿إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾* *(سورۃ الأحزاب: 45-46)* *(اے پیغمبر! بے شک ہم نے تم کو شہادت دینے والا، بشارت پہنچانے والا، ذلالت وہ خباثت سے خوف دلانے والا، راہ الہی کی طرف داعی اور ایک نورانی مشعل بنا کر بھیجا ہے)* لیکن ایک دوسرے موقع پر آفتاب کو بھی سراج کا لقب سے یاد کیا ہے: *﴿وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا﴾* *سورۃ نوح: 16* *(اور اسمان میں خدا نے چاند کو بھی بنایا جو ایک نور ہے اور سورج کو بھی بنایا تو ایک روشن مشعل ہے۔)* اس مماثلت اور اشتراک تشبیہ سے مقصود یہ تھا کہ اسلام کی دعوت بھی اس آفتاب مادی کی طرح ایک آفتاب روحانی ہے۔ جب آفتاب نکلتا ہے تو اس روشنی اور حرارت میں کوئی تمیز نزدیک ودور، اعلیٰ و ادنی، سیاہ و سفید، باغ و دش کی نہیں ہوتی۔ اس کی روشنی بلا تمیز مکان و مقام ہر شئے پر چمکتی اور حرارت پذیر وجود کو گرم کرتی ہے۔ یہی حال اس افتاب دعوت الہی اور نیردرخشان سمائ رسالت کو عموم فیضان بخشی کھاتا جو گوسعیر سے چلا مگر فاران کی چوٹیوں پر نمودار ہوا، اس کی کرنوں میں داہنی جانب شریعت الہی کا نور اور کتاب مبین تھی، مگر بائیں جانب قیام عدل میزان کی شمشیر آبدار چمک رہی تھی۔ جس کا طلوع کائنات میں ظلمت کی شکست اور روشنی کی دائمی فیروزمندی تھا، کیونکہ آسمان ہدایت پر شریعت الٰہی کے گو سینکڑوں ستارے نمودار ہوئے تھے لیکن تاریکی کی آخری شکست کے لیے دنیا کو آفتاب ہی کے طلوع کا انتظار ہوتا ہے: *﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ۝ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى ۝ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى﴾* *(سورۃ اللیل: 1–3)* *(رات کی قسم جب اس کی تاریکی کائنات کی تمام اشیاء کو چھپا دیتی ہے، اور روز روشن کی قسم جب کہ افتاب کی تجلی تمام کائنات کو روشن کر دیتی ہے، اور دراصل اس خالق کی قسم جس نے تخلیق عالم کے لیے نر و مادہ کا وسیلہ پیدا کیا۔)* اس آفتاب توحید نے طلوع ہوتے ہی تفریق وانشقاق کی تمام تاریکیوں کو مٹادیا، اس کی روشنی کی فیضان بخشی نے اسود و ابیض اور عرب و عجم کی کوئی تمیز نہ رکھی۔ خدا کی ربوبیت کی طرح اس کی رحمت بھی عام تھی، وہ رب العالمین تھا پس ضروری تھا کہ اس کی راہ کی طرف دعوت دینے والا بھی رحمت اللعالمین ہو۔ *﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾* *(سورۃ الأنبياء: 107)* (اے پیغمبر! ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام عالموں کے لیے رحمت قرار دے کر) *(جاری)* *ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی*
338
17
*وفیات مورخہ:جولائی/ 11* 1869ء مصطفی خان شیفتہ۔ شاعر 1905ء محمد عبدہ۔ مفتی مصر 1950ء حبیب الرحمٰن خان شیروانی۔ مولانا ، صدر الصدور 1957ء آغاخان سوم (سرسلطان محمد شاہ)۔ روحانی پیشوا خوجہ اسماعیلی جماعت ، 1957ء محمد مظہر بقا۔ 1985ء محمد اقبال حمید سہروردی، چودھری۔ 1993ء سیف الدین سیف۔ شاعر 1995ء عبدالصمد انصاری (فقیرشاہ)۔ ڈاکٹر ، 1995ء محمود انصاری۔ ڈاکٹر ، 1996ء قاضی جلیل عباسی۔ مسلم سیاست داں 2000ء اکبر جہاں۔ بیگم شیخ عبد اللہ 2001ء سلامت علی خان۔ گایک 2001ء قتیل شفائی (اورنگ زیب خان)۔ شاعر ، 2008ء سید محمود علی۔ 2011ء میاں ایس اے (سلیم احمد میاں)۔ 2016ء مہدی حسن۔ 2017ء محمد یونس جون پوری۔ شیخ الحدیث مولانا، مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور 2019ء صوفی محمد۔ سربراہ تحریک نفاذ شریعت 2020ء موسیٰ پاشا عبدالرحمٰن صدیقی۔ 2021ء خواجہ صغیر علی خواجہ۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
350
18
آج اردو کے نامور ادیب وافسانہ نگار مدیر فنون لاہور کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۰ جولائی ۲۰۰۶ء کو ہوئی تھی ، اس مناسبت سے آپ کے دوست اور نامور ادیب محمد کاظم(سباق) کا لکھا ہوا خاکہ پیش خدمت ہے۔
342
19
‘کہربا’ مصنوعی بجلی کو کہتے ہیں۔ عالمِ عرب میں 'Electricity' کو ‘کہربا’ ہی کہا جاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی ہر چیز ‘کہربائی’ ہوتی ہے۔ بجلی کا کام کرنے والا شخٰص یعنی الیکٹریشین بھی ‘کہربائی’ ہو جاتا ہے۔ لیکن اردو میں مصنوعی بجلی بھی برق ہے۔ پر برقی رَو کم کم ہی آتی ہے، جاتی زیادہ ہے۔ کسی سے کوئی کام پُھرتی سے کروانا ہو تو پہلے کہا جاتا تھا کہ ‘‘بجلی کی طرح جائیو اور بجلی کی طرح آئیو’’۔ مگر یہ محاورہ اب متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر کسی نے اس پر عمل کیا تو سمجھو گھنٹوں کے لیے گیا۔بجلی سے چلنے والی مشینوں کا شمار کبھی ہم ‘برقی آلات’ میں کرتے تھے۔ برقی جھاڑو، برقی پنکھا، برقی زینہ اوربرقی ترازو وغیرہ۔ ‘ہائیڈرو الیکٹری سٹی’ یعنی پانی سے بننے والی بجلی کے لیے ہم نے علمِ طبیعیات میں ‘برقاب’ کی اصطلاح پڑھی تھی۔ کیا دل کش اصطلاح ہے: ‘برقِ آب’۔پازیٹو یا نیگیٹو الیکٹرک چارج کے لےطبیعیات میں ‘مثبت یا منفی برقی بار کے مختصر الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ الیکٹرو میگنیٹک ویوز کو ‘برقناطیسی لہریں’ کہتے تھے اور کسی چیز کی ‘الیکٹر ی فکیشن’ کو ‘برقانا’کہا جاتا تھا۔ الیکٹرون کو ‘برقیہ‘ کہتے تھے۔ٹیلی گرام سے بھیجا جانے والا پیغام بھی‘برقیہ’ تھا۔‘الیکٹرونک میل’ یا ‘ای میل’ کے لیے اردو میں اِس چھوٹے سے حسین لفظ کو استعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو کتنا اچھا ہو۔ مسلسل استعمال سے یہ لفظ یقیناً عام اور مانوس ہوسکتا ہے۔ جب تک قرضے کا ڈنڈادِکھا کر انگریزی زبان کو ہم پر بزور مسلط نہیں کیا گیا تھا، ہمارے اداروں کے نام اُردو میں بھی لکھے جاتے تھے۔ مثلاً KDA ‘ادارۂ ترقیاتِ کراچی’ ہوتا تھا، KMCبلدیہ عظمیٰ کراچی، KESC(موجودہ ‘کے الیکٹرک’)‘ادارۂ فراہمیِ برق کراچی’ اور KW&SBکو ‘ادارۂ فراہمی و نکاسیِ آب، کراچی’ کہتے تھے۔ اسی طرح WAPDA‘ادارۂ ترقیاتِ برق و آب’ تھا۔اگرLDA اور CDAکا نام بھی علی الترتیب ‘ادارۂ ترقیاتِ لاہور’ اور ‘ادارہ ترقیاتِ دارالحکومت’ رکھ دیا جائے تو کیا ولایتی قرضے(اونچی شرحِ سود پر) ملنا بند ہو جائیں گے؟ صاحب!ولایتی ملکوں نے تو اپنے ہر ادارے کا نام اپنی ہی زبان میں رکھا ہے۔تو اُن کی نقل کیجیے نا! ہم اپنے ملک کے کسی محکمے میں داخل ہوں تو ان محکموں سے کوئی اپنائیت محسوس نہیں ہوتی۔ کمروں پر لگی تختیوں اور میز پر دھرے کاغذوں کی زبان دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم غلطی سے برطانیہ کے کسی دفتر میں داخل ہو گئے ہوں۔ یہی حال بڑے بڑے بازاروں اور بڑی بڑی شاہراہوں کاہے۔ ٭٭
361
20
*غلطی ہائے مضامین* *بجلی بجلی ہوتی ہے* *احمد حاطب صدیقی(ابونثر)* ہمارے نام ایک ‘برق نامہ’ (یا ‘برقیہ’)آیا ہے۔ اس برقنامے کے مُرسِل نے سوال فرمایا ہے کہ ‘‘برق گرتی ہے یاچمکتی ہے؟’’ صاحبو! آج کل تو ہر چیز ‘برقی’ ہو تی جا رہی ہے۔بلکہ یوں کہہ لیجے کہ ہر شے ‘برقائی’ جا رہی ہے۔ نامہ ہی نہیں نامہ بر بھی۔ایک زمانہ تھا کہ حضرتِ داغؔ قاصد کو روانہ کرنے کے بعد گھر کے باہر ٹیڑھے ٹیڑھے کھڑے ہو کر اُس کی رفتار، اُس کے چال چلن اور اُس کی چال ڈھال کا بغور معائنہ فرمایا کرتے تھے اور زیرِ لب بڑبڑایا کرتے تھے کہ قاصد یہاں سے برق تھا پر نصف راہ سے بیمار کی ہے چال، قدم ناتواں کے ہیں مگر اب قاصد کی بیماری و ناتوانی کا برقی علاج کر دیا گیا ہے۔ بجلی کے جھٹکوں نے اسے چاق چوبند کر کے رکھ دیا ہے۔ برقی قاصد اب ہماری اُنگلیوں کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ انگلیاں تختۂ کلید پر تھرکتی رہتی ہیں ۔ جوں ہی خط مکمل ہوتا ہے، ہمارا برقی ‘نامہ بر’ ایک اشارۂ انگشت پر فقط لمحے بھر میں ‘نامہ بنامِ یار’ سات سمندر پار پہنچا آتا ہے۔ اس سے زیادہ برق رفتاری اور کیا ہوگی؟ ہاں، تو سوال یہ تھا کہ‘‘ برق گرتی ہے یا چمکتی ہے؟’’ حضرت! لغت کے لحاظ سے تو ‘برق’ چمکتی ہے۔ بادلوں کی رگڑ سے چمک چمک جانے والی بجلی کو برق کہا جاتا ہے۔ جب کہ زمین پر گرنے والی بجلی ‘صاعقہ’ کہلاتی ہے۔اپنی زمین پر اِدھر اُدھر دیکھیے تو نہ جانے کتنی ‘صاعقائیں’ لوگوں پر بجلی گراتی نظر آئیں۔ اسی وجہ سے اِدھر اُدھر دیکھنے کو منع کیاِ جاتا ہے۔ مگر علامہ اقبالؔ نے مسلمانوں پر گرنے والی ہر آسمانی ‘صاعقہ’ کو برق گردانا ہے: ‘‘برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر’’ اقبالؔ ہی نے نہیں، اُردو کے دیگر شعرا نے بھی ‘برق گرنے’ یا ‘برق بن کر گرنے’ کی تراکیب استعمال کی ہیں ۔برق، صاعقہ، رعد اور کہربا میں کیا تیکنیکی فرق ہے؟یہ لمبی بحث ہے۔ فی الحال اس بحث کاخاتمہ ہم ‘‘کلیۂ رئیسانی’’ سے کیے دیتے ہیں کہ چوں کہ اُردو میں برق، رعد، صاعقہ اور کہربا سب کو بجلی کہا جاتا ہے۔لہٰذا: ‘‘بجلی بجلی ہوتی ہے، گرے یا چمکے’’۔( یا چلی جائے) ویسے برق کے لفظی معنی ظاہر ہونے، چمکنے یا روشن ہونے کے ہیں۔ مجازاً چمکتی چیزوں کو بھی برق سے تشبیہ دے دی جاتی ہے۔ اگر کسی کا لباس اُجلا ہو اور خوب چمک رہا ہو تو کہا جاتا ہے کہ ‘‘سفید بَرّاق لباس زیب تن کر رکھا ہے’’۔ ‘بَرّاق’انتہائی سفید کے معنوں میں ہے، مثلاً ‘زاغِ شب بگلے کے پر سے بھی کہیں بَرّاق ہو’۔ زاغِ شب کا مطلب ہے رات کا کوّا۔ یہ سیاسی پرندہ رات بھر ٹی وی پر کائیں کائیں کرتا رہتا ہے۔ بہر حال لغوی برق تو کوندتی ہے۔‘رعد’ اُس آواز کو کہتے ہیں جو بادلوں کی رگڑ سے پید ا ہو۔ اسے کڑک، گرج یا "Thunder" کہا جاتا ہے۔ اُردو میں ‘‘تھنڈر’’ کا رشتہ بھی بجلی ہی سے جوڑتے ہیں ۔ لہٰذا اِس دل دہلاتی آواز کو ‘‘بجلی کا کڑکا’’ کہا گیا۔ مولانا حالیؔ نے مسدسِ حالیؔ مں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی دعوتی پُکار کوبھی ‘‘تھنڈر’’ قرار دیاہے: وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادیؐ عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی اِک آواز میں سوتی بستی جگا دی ‘بجلی کڑکنے’ کی آواز کو ‘بادل گرجنا’ بھی کہتے ہیں۔ اللہ جانے کہاوتیں کہنے والوں سے کس نے کہہ دیا کہ ‘‘جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں’’۔بھلا آسمان پر چڑھ کر کس نے تصدیق کی ہے؟ ‘صاعقہ’جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، زمین پر گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں۔اردو نثر میں ان معنوں میں اس لفظ کااستعمال کثرت سے نہیں ہوا۔ شعروں میں البتہ ہوا ہے۔ انیسؔ کا ایک شعر ہے: اِک صاعقہ گرتے ہوئے جو دُور سے دیکھا موسیٰ نے اسی نور کو تھا طور سے دیکھا اس شعر سے پتا چلتا ہے کہ صاعقہ مذکر ہے۔ اہلِ لغت نے بھی اس لفظ کو‘اسمِ مذکر’ ہی لکھا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں مؤنث ہی کا‘ اسم’ صاعقہ ہوتا ہے۔ شعرا نے صاعقہ کا لفظ بالعموم طُور پر گرنے والی بجلی کے لے استعمال کیا ہے۔‘‘محاصرۂ ادرنہ’’ میں اقبالؔ بتاتے ہیں کہ محصور ہو جانے کے بعد شکریؔ نے ‘آئین جنگ’(Martial Law) نافذ کر کے ذمیوں کو اپنا مال ذخیرۂ لشکر میں جمع کرانے کا حکم دیا: لیکن فقیہِ شہر نے جس دم سنی یہ بات گرما کے مثل صاعقۂ طور ہو گیا ذمی کا مال لشکرِ مسلم پہ ہے حرام فتویٰ تمام شہر میں مشہور ہو گیا ‘صاعقہ’ کے لے شعر میں بھی برق یابجلی کے الفاظ زیادہ استعمال کیے گئے ہںں۔ؔ ‘برقِ حوادث اللہ اللہ+جھوم رہی ہے شاخِ نشیمن’۔ ‘برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں’۔ ‘گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو’۔ ‘بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو’۔ وغیرہ۔
336