ru
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Открыть в Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Больше
8 119
Подписчики
+124 часа
+187 дней
+10730 день

Загрузка данных...

Облако тегов
Нет данных
Возникли проблемы? Пожалуйста, обновите страницу или обратитесь к нашему support-менеджеру .
Входящие и исходящие упоминания
---
---
---
---
---
---
Привлечение подписчиков
июнь '26
июнь '26
+136
в 0 каналах
май '26
+228
в 1 каналах
Get PRO
апрель '26
+163
в 1 каналах
Get PRO
март '26
+62
в 2 каналах
Get PRO
февраль '26
+89
в 1 каналах
Get PRO
январь '26
+95
в 2 каналах
Get PRO
декабрь '25
+81
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '25
+109
в 1 каналах
Get PRO
октябрь '25
+105
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '25
+119
в 1 каналах
Get PRO
август '25
+173
в 2 каналах
Get PRO
июль '25
+151
в 2 каналах
Get PRO
июнь '25
+140
в 2 каналах
Get PRO
май '25
+95
в 1 каналах
Get PRO
апрель '25
+105
в 0 каналах
Get PRO
март '25
+153
в 2 каналах
Get PRO
февраль '25
+131
в 1 каналах
Get PRO
январь '25
+278
в 1 каналах
Get PRO
декабрь '24
+403
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '24
+500
в 2 каналах
Get PRO
октябрь '24
+487
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '24
+322
в 0 каналах
Get PRO
август '24
+322
в 3 каналах
Get PRO
июль '24
+323
в 4 каналах
Get PRO
июнь '24
+341
в 0 каналах
Get PRO
май '24
+331
в 1 каналах
Get PRO
апрель '24
+300
в 3 каналах
Get PRO
март '24
+265
в 1 каналах
Get PRO
февраль '24
+321
в 1 каналах
Get PRO
январь '24
+403
в 3 каналах
Get PRO
декабрь '23
+376
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '23
+132
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '23
+124
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '23
+92
в 0 каналах
Get PRO
август '23
+121
в 0 каналах
Get PRO
июль '23
+116
в 0 каналах
Get PRO
июнь '23
+77
в 0 каналах
Get PRO
май '23
+253
в 0 каналах
Get PRO
апрель '23
+81
в 0 каналах
Get PRO
март '23
+49
в 0 каналах
Get PRO
февраль '23
+126
в 0 каналах
Get PRO
январь '23
+137
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '22
+123
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '22
+209
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '22
+119
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '22
+62
в 0 каналах
Get PRO
август '22
+40
в 0 каналах
Get PRO
июль '22
+44
в 0 каналах
Get PRO
июнь '22
+138
в 0 каналах
Get PRO
май '22
+42
в 0 каналах
Get PRO
апрель '22
+17
в 0 каналах
Get PRO
март '22
+31
в 0 каналах
Get PRO
февраль '22
+28
в 0 каналах
Get PRO
январь '22
+56
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '21
+112
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '21
+52
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '21
+112
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '21
+64
в 0 каналах
Get PRO
август '21
+43
в 0 каналах
Get PRO
июль '21
+63
в 0 каналах
Get PRO
июнь '21
+164
в 0 каналах
Get PRO
май '21
+38
в 0 каналах
Get PRO
апрель '21
+60
в 0 каналах
Get PRO
март '21
+103
в 0 каналах
Get PRO
февраль '21
+80
в 0 каналах
Get PRO
январь '21
+211
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '20
+1 362
в 0 каналах
Дата
Привлечение подписчиков
Упоминания
Каналы
21 июня+6
20 июня+5
19 июня+9
18 июня+2
17 июня+2
16 июня+3
15 июня+10
14 июня+3
13 июня+3
12 июня+13
11 июня+14
10 июня+5
09 июня+6
08 июня+13
07 июня+5
06 июня+4
05 июня+12
04 июня+1
03 июня+4
02 июня+7
01 июня+9
Посты канала
احباب جانتے ہیں کہ اس ناچیز کو ایک ایسے زمانے میں خلیجی ممالک میں رہنے کو موقعہ ملا تھا، جو حدیث وتفسیر کے مخطوطات کے منظر عام پر آنے کے لحاظ سے ایک سنہرا دور تھا۔ مسلسل اطلاعات ملتی رہتی تھیں کہ فلان حدیث، تفسیر تاریخ وفقہ کی کتاب کا نادر مخطوطہ مل گیا، تو ایسے مواقع بھی آئے کہ ہم اپنے بعض بزرگوں کو کبھی اس کی اطلاع دیتے تو یہ بزرگ آئندہ مجلس و بیان میں ہمارے ہی سامنے کہتے سنائی دیتے کہ اپنے فلان بزرگ یا عالم فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے فلان مخطوطے کو دیکھا ہے، اور ہماری زبان سے لی ہوئی وہ معلومات وہ اپنے ان بزرگ کی طرف منسوب کرکے نقل کرتے۔ ان واقعات کے ہمارے حضرت مفتی شاہ جہاں صاحب بھی شاہد ہیں۔ یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ فیض الباری حضرت علامہ کشمیریؒ کی شہرت کا خاص باعث رہی ہے، اور شاید اس میں دو رائے نہ ہو کہ حضرت کشمیری نے اپنے دو سالہ درس بخاری کی تیاری پر شاید اتنی محنت نہیں کی ہوگی، جتنی محنت آپ کے شاگرد رشید مولانا محمد بدر عالم میرٹھی ؒ نے اس کی نقل ، تسوید اور تبییض میں سالہاسال کی ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت کشمیری ؒکے علوم کو سمجھنے والے اب کتنے رہ گئے ہیں، اور کتنے لوگ فیض الباری کھولتے یا اسے سمجھتے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں؟مولانا مفتی شاہجہاں صاحب کو ہم جب دیکھتے ہیں، تو ان کے علاوہ علامہ کشمیری کے علوم کو سمجھنے والا کوئی اور نظر نہیں آتا، تو کیا ہم علامہ کشمیری ؒ کی طرف منسوب القاب کو شعور کے بجائے عقیدت کا نتیجہ سمجھیں؟َ یہاں ہمیں مولانا سید صبغۃ اللہ بختیاری رحمۃ اللہ علیہ یاد آتے ہیں، ایک مرتبہ ہم نے ان سے علامہ کشمیری ؒ کی عبقریت اورحافظے کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ ہمارے حضرت مدنی ؒ بھی کچھ کم نہیں تھے، لیکن ان کے علمی آثار کی حفاظت پر توجہ نہیں دی گئی، یہ بات سن کر بار بار یہ گمان ہوتاہے کہ قدرت کی حکمت تھی کہ علامہ کشمیریؒ دیوبند سے نکلیں، اور دابھیل میں انہیں انکے علوم کو حیطہ تحریر میں لانے والے اور اس کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے والے شاگرد ملیں۔ اللہ تعالی ان سب کی خدمات جلیلہ کو قبول کرے۔ رہی بات حضرت مدنی ؒ کی تو ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اپنے معاصرین میں آپ کی عربی زبان سب سے ممتاز رہی ہوگی، کیونکہ آپ نے دس سال تک مدینہ منورہ میں عربوں میں تدریس کی خدمت انجام دی ہے، اور آپ کے فیض یافتگان میں علامہ محمد البشیر الابراہیمی ؒ جیسی عظیم شخصیات رہی ہیں۔ اس زمانے میں ایسا خالص عربی ماحول کسے ملا ہوگا؟۔ اب شاید ہماری بات آپ کے عقیدت مندوں پر سخت گذرے کہ انہوں نے آپ کی ذاتی زندگی ، عبادت ، للہیت، مہمانداری، جدوجہد آزادی میں قید وبند اور قربانی جیسی چیزوں کو یاد رکھ کر اجاگر کیا، لیکن آپ کی علمی زندگی کو محفوظ کرنے اور اسے یاد رکھنے پر کماحقہ توجہ نہیں دی، انسان کی ذاتی زندگی کو یاد رکھنے سے عقیدت باقی رہتی ہے، علمی زندگی کا نمونہ محفوظ کرکے اسے پیش کرنے سے ذاتی زندگی کا رنگ چوکھا ہوجاتا ہے۔ اور باقی رہنے والا قیامت تک فیض پہنچانے والا حقیقی رنگ یہی ہے۔ 2026-06-19 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

2
*بات سے بات: معاصر علماء کے لئے بھاری بھرکم القاب* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* کل ہماری بزم علم وکتاب کے ایک معزز ممبر نے اپنے سلسلہ مضامین میں شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ کیا تھا، جس میں آپ کی شان میں جو القاب استعمال کئے تھے، اس پر دوسرے کئی اہل علم نے دوسرے اسلاف کی کسر شان محسوس کی اور اس پر ناقدانہ تبصرے کئے، جس کے بعد موصوف نےاپنی تائید میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کا حوالہ پیش کردیا، اور پھر بحث کا رخ ڈاکٹر صاحب کی طرف پھر گیا۔ ہمارے خیال میں اپنے سے بڑے کسی اہل علم کی رائے سے متاثر ہونا کوئی معیوب بات نہیں، یہ ایک فطری عمل ہے، لیکن جب کسی کی رائے کو قبول کرکے اسے پیش کرنے کی بات ہو تو تحقیق کی سان پر اسے جانچ پرکھ کر قبول کریں، کسی کی شہرت ومقبولیت سے متاثر ہوکر رائے قبول کرنے کے بجائے آپ کو اس کی دلیل سے مطمئن ہو کر بات پیش کرنی چاہئے ، اور جب کوئی اعتراض ہو توپھر اپنی بات کو دوسرے کی طرف منسوب کرکے پلا جھاڑنے کے بجائے، واضح انداز سے اپنا موقف پیش کرنا چاہئے۔ بات آپ نے پیش کی اور پھر ایک غیر حاضر شخص کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، اور بحث کو اس کی جانب موڑدیا جائے، تواسے سنجیدہ علمی بحث سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ رہی بات ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کی تو وہ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں، سات کنؤوں کا پانی انہوں نے پیا ہے، انہوں نے دنیا دیکھی ہےاور کئی بر اعظموں کے علماء و فضلاء سے فیض اٹھایا ہے۔ ان کا ایک علمی وتحقیقی پس منظر اور مقام ہے۔ ان کی جو تحریریں اور کتابیں گذشتہ چند سالوں سے منظر عام پر آرہی ہیں، انہیں دیکھ ہمیں ذاتی طور پر احساس ہورہا ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ لکھنے پر توجہ لگے ہیں۔ اس روئیے سے ایک صاحب قلم اپنی علمی وتحقیقی شناخت بنانے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔ اس کی ایک مثال ہمارے سامنے مولانا سید رئیس احمد جعفری ندوی مرحوم کی ہے، انہوں نے کتنا کچھ نہیں لکھا ، اور کن کن کتابوں کا ترجمہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے اپنے کام میں معیار اور انتخاب کا خیال نہیں رکھا ، علم وادب کی ہرکھیتی کو جوتا۔ نتیجہ آج اتنے بڑے ادیب مورخ ومترجم کا علمی دنیا میں کوئی مقام متعین نہ ہوسکا ہے ۔ حالانکہ ان کے مقابلے میں مولانا ظفر علی خان نے اردو میں صرف جان ولیم ڈریپر کی ایک کتاب کاترجمہ معرکۃ علم وسائنس کے نام سے پیش کیا ہے، جو ایک صدی سے آنے والے مترجمین کے لئے ایک معیار بن گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف دیکھ کر ہمار ا تاثر یہ ہے کہ: ۔ اپنی کتابوں کو رطب ویابس کا مجموعہ بنادیاہے،اپنے موضوع پر کتابیں تو بڑی ضخیم ترتیب دی ہیں، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے ان میں اپنے موضوع کا کتنا حق ادا کیا ہے۔ اس کی مثال میں الوفاء في أسماء النساء اور تاریخ ندوۃ العلماء کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ ایسا نہیں کہ ان کی سبھی کتابیں غیر معیاری ہیں، پہلے لکھی گئی کتابیں اور تراجم کافی معیاری بھی ہیں مفید بھی، لیکن ان آخری کتابوں نے ان معیاری کتابوں کی روشنی کو گہنا دیا ہے، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ان کے مضامین نے اس رنگ کو اور دھندلا کردیا ہے۔ ۔ ڈاکٹر صاحب نے گذشتہ دنوں برصغیر میں حدیث کی اسانید اور اجازات کی خوب پبلسٹی کی ہے، اور ان کے دیکھا دیکھی چند اور اہل علم نے بھی اس کو بہت زیادہ اہمیت دینی شروع کی ہے، اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے بعض ایسی شخصیات کو بڑے بڑے القاب دے کر ان کی اجازات واسانید پر مستقل کتابیں ترتیب دی ہیں ، جن میں سے بعض شخصیات کو دو تین عشروں سے زیادہ عرصے سے ہم قریب سے جانتے ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ جس طرح انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، اس کے وہ حقدار نہیں ہیں۔ مشائخ سے کتب حدیث کا مکمل درس لئے بغیر اجازت حدیث کے سلسلے میں ہماری رائے ہے کہ یہ برکت کے لئے ہوسکتی ہے، بزرگوں سے نسبت بھی اچھی بات ہے، لیکن صرف چند منٹ کی مجالس سےاپنی نسبتوں کا ڈھنڈورا پیٹنا یہ احساس کمتری کی علامت ہے، یہ مخصوص حلقوں میں مقبولیت بڑھانے کا باعث تو بن سکتی ہے۔ لیکن ان کی علمی اہمیت اتنی نہیں جتنی بڑھا چڑھا کرپیش کی جارہی ہے۔ جہاں تک ہمارا محدود علم ہے حافظ ذھبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ کے دور کے بعد اس درجہ کے محدث محقق وحافظ حدیث دوبارہ پیدا نہیں ہوئے۔ اس دور کے بعد جنہوں نے بھی علم حدیث کی جیسی بھی خدمت کی ہے وہ ہمارے لئے قابل صد احترام ہے، انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کے مقام کا حق ادا کرتے ہوئے، ان کے مناسب الفاظ و القاب استعمال کئے جائیں، لیکن ایسے القاب سے احتراز کیا جائے، جن سے اسلاف کا درجہ ومقام کم ہوتا ہوا محسوس ہو۔ موازنہ علمی وموضوعاتی ہو، صرف عقیدت و جذبے پر منحصر نہ ہو۔ ۔ کئی احباب نے اپنی بحثوں میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی القاب میں بے احتیاطی پر اعتراض کیا ہے، اس سلسلے میں ہمیں اپنے دامن پر بھی کبھی نگاہ ڈالنی چاہئے۔
67
3
ہندوستان میں ایک ہفتہ کے لئے ٹیلگرام پر پابندی ہونے کی وجہ سے علم وکتاب ٹیلگرام چینل اپڈیٹ نہیں ہورہا ہے، احباب سے گذارش ہے آپ ٹیلگرام چینل سے جڑے رہیں، اور فی الوقت ہمارے علم وکتاب واٹس اپ چینل کو جوئن کرکے ہمارے علمی مواد سے استفادہ کرتے رہیں۔ لنک علم وکتاب واٹس اپ چینل عبد المتین منیری اڈمن چینل https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
62
4
یہاں ایک اور پہلو قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ ہمیں بعض احباب نے بتایا کہ وہ گجرات میں اپنے متعلقین و مداحین کی تعداد کو دیکھ کر اپنے مختلف علمی وتعلیمی پروجکٹوں کی تکمیل کے لئے تعاون طلب کرنے گئے تھے، لیکن وہاں پر لوگوں نے بتایا کہ ہم زکوۃٰ کے مد سے تعاون دیتے ہیں، زکوۃ سے الگ ہمارے پاس کوئی اور فنڈ نہیں ہے۔ اب جو ادارے مکمل زکات سے چلیں گے تو ان میں عزت نفس پاسدار اور معززین شہر کے بچے کہاں آئیں گے؟۔اس صورت میں وہاں زکوۃ لینے والے ہی آئیں گے۔ جب یہ عالم فاضل بن کر نکلیں تو الا ماشاء اللہ بڑی مشکل سے ان میں مرعوب ہوئے بغیر کلمہ حق کہنے والے پیدا ہونگے۔ ہمارے دینی حلقوں میں تاریخ کتاب المناقب کا نام ہے۔ تجزیاتی تاریخ کی کتابیں تلاش پر بڑی مشکل سے ملتی ہیں، اور جو ملتی ہیں وہ مشورہ دینے والے کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ لہذا لوگ جان بوجھ کر اس سلسلے میں کسی رہنمائی سے بچنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ مولانا مسعود عالم ندویؒ کی ایک کتاب ہے الدعوۃ الاسلامیہ فی الھند، مولانا کے نام لیوا شاید ہی اس کتاب کا تذکرہ کرتے ہوں گے، اور شاید ہی کسی کو اس کے ترجمہ کی ہمت ہوگی۔کتاب میں گجرات کی علمی تاریخ کے سلسلے میں آپ نے ایک نکتہ اٹھایا ہے کہ گجرات میں جو بھی علمی بہار تھی، وہ ۱۵۷۳ء میں اکبر اعظم کے دور حکومت میں گجرات کی فتح اور مغلیہ سلطنت میں شمولیت تک تھی۔ گجرات پر شمال کی یلغار کے بعد پھر گجرات کی یہ علمی بہار ختم ہوگئی۔ سننے میں آتا ہے کہ اب گجرات کا مسلمان گجرات وبہار کی عصبیتوں سے بھی آگے بڑھ چکا ہے، برطانیہ، جنوبی افریقہ وغیرہ کے چند گجراتی اہل علم نے ہمیں بتایا کہ اب یہاں سورت، بھروچ، بڑوھرا، وغیرہ کی چہار دیواریاں بن گئی ہیں، مختلف شہروں اور قصبوں کے لوگ اپنے علاقوں کے تعاون تک سمٹ گئے ہیں۔ ممکن ہے ہمارا یہ تاثر سراسر غلط ہو، لیکن جب ان کی سن گن ہوگئی ہے تو ہمارے علماء و داعیان حق کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاشرے میں جن کے دینی تعلیمی اداروں میں مدرسوں کی چہار دیواری کے اطراف بسنے والوں کی تعداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے، ان کی صورت حال کے بارے میں غور کرے، اصلاح و دعوت کا کام پہلے اپنے گھر، اہل وعیال، پھر محلے اور شہر سے ہونا چاہئے۔ ان پر اپنی فکر مرکوز کئے بغیر تعداد بڑھانے کے لئے دور دراز علاقوں کے نونہالوں سے اپنے اداروں کو بھر دینا تویہ اپنے گھر اور معاشرے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ 2026-06-16 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
191
5
*بات سے بات: گجرات کے مدارس کی صورت حال پر چند باتیں* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* آج راندیر، گجرات کے ایک استاد کبیر کی ویڈیو نظر سے گذری، جس میں آپ نے گجرات کے مدارس میں بہارکے طلبہ کی کثرت پر درشت لہجے میں تبصرہ کیا ہے۔ ہمیں اس بیان پر کچھ نہیں کہنا ہے، علم وکتاب پر اس پر کافی سخت سست تبادلہ خیال ہوچکا ہے۔ اس بیان نے ہمارے دماغ کے نہان خانے میں چھپی ہوئی چند یادیں تازہ کردی ہیں، ضروری نہیں کہ ہماری سب باتیں درست ہوں، لیکن امید ہے کہ اس سے سوچ وفکر کے دروازے کھولنے میں مدد ملے گی۔ ہمارا خیال ہے کہ دسمبر ۲۰۱۹ء میں کورونا کی جو وبا آئی اس نے ہندوستان کے مدارس دینیہ پرخصوصیت سے بہت برا اثر ڈالا، کیونکہ حکومت کی تعلیمات کی خلاف ورزی میں دانستہ یا غیر دانستہ طور ملوث ہونے کے الزام میں جو طبقے عتاب کا شکار ہوئے ان میں مدارس دینیہ کو میڈیا میں زیاہ ہائی لائٹ کیا گیا، لہذا اس وقت سے ایک سنجیدہ طبقہ وطن میں مدارس کی بقا کے سلسلے میں بہت زیادہ خوف محسوس کرنے لگا ہے۔ اس رد عمل میں اس کا اثر بھی ہوسکتا ہے۔ ۲۷ فروری ۲۰۰۲ء میں گجرات میں جو فسادات ہوئے تھے، اور گجراتی مسلمان جن کی آواز مختلف اقتصادی و معاشی وجوہات سے وطن کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ وزنی سمجھی جاتی تھی، وہ بری طرح پس گئے،بعد میں ان کے بعض رہنماؤں نے مستقبل کے نقشے کو سمجھ کر مخلصانہ کوششیں کیں کہ مسلمان ماضی کی تلخیوں کو بھول کر مستقبل کے نئے منصوبے بنائیں۔ اس زمانے میں بہار میں یادو گٹھ بندن بہت مضبوط تھا، اور مسلمان شاید اس زعم میں مبتلا تھے کہ اس کی سیاسی ومعاشرتی دیوار میں آئندہ کوئی سیندھ نہیں لگاسکے گا، گجرات کی ان سنجیدہ آوازوں کے خلاف سب سے زیادہ بہار ہی کے مدارس کے وابستگان نے آواز بلند کی تھی، اس کے بعد ان آوازوں کے ساتھ جو ہوا۔ اور پھر بہار میں جوصورت حال اب سامنے ہے اس کی وضاحت کی مزید ضرورت نہیں۔ ۱۹۸۰ء سے قبل بہار میں باصلاحیت علماء وقائدین کی بڑی تعداد پائی جاتی تھی، امارت شرعیہ بہار واڑیسہ کا بہت بڑا وزن محسوس ہوتا تھا، اپریل ۱۹۸۵ء مین شاہ بانو کیس کےفیصلے کے بعد تو ایسا لگتا تھا کہ امارت شرعیہ بہار وآڑیسہ ملی اداروں میں چھاگئی ہے،اور مسلمانان ہند اس سے بہت پر امید ہوگئے ہیں، اس وقت ملک بھر میں اسلامی دار القضاء کی ایک تحریک اس کی سرپرستی میں شروع ہوچکی تھی۔ اس زمانے میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ۔ چیف قاضی امارت شرعیہ کا تفقہ اور صلاحیتیں سب سے ابھر کر سامنے آئیں۔اس زمانے میں قاضی صاحب کا طوطی بولتا تھا، یہی زمانہ حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی پیرانہ سالی کا تھا، اور چند ہی عرصہ بعد ۱۹۹۱ء میں شاہ بانو کیس کے اس معرکۃ کو سر کے آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ لیکن اس سے ایک عشرے قبل حضرت امیر شریعت کے داغ مفارقت دینے کی صورت میں قیادت کا مسئلہ سامنے آیا۔ جس کے بعد خاموشی سے بہار کی اہم ترین درسگاہ جامعہ رحمانی اور امارت شرعیہ بہار واڑیسہ میں قیادت کی رسہ کشی شروع ہوگئی۔ اور آہستہ آہستہ ان اداروں سے تجربہ کار اور سینیر علماء و اساتذہ ہٹتے چلے گئے اور حیدرآباد اور دوسری جنوبی علاقوں کو اپنے علوم کی روشنی سے منور کرنے لگے۔ جن اداروں نے ان تجربہ کار علماء و اساتذہ کی قدر دانی کی ان میں مولانا حمید الدین عاقل حسامی اور جناب رحیم الدین انصاری کا دار العلوم حیدرآباد اور سبیل السلام حیدر آباد سر فہرست ہے۔ قاضی صاحب بڑے زیرک تھے، انہوں نے اپنی توجہات کو اسلامی فقہ اکیڈمی اور ملی کونسل کی جانب موڑ دیا۔ قریبی حلقوں سے سنتے تھے سابق امیر شریعت مولانا نظام الدین گیاوی کو اس کا بڑا صدمہ تھا، ہمارے چند دوستوں کے توسط سے وہ اپنا یہ درد دل پہنچاتے رہتے تھے۔ چالیس سال کے دوران جو پرانی نسل بہار سے منتقل ہوئی تھی، وہ اب اللہ کو پیاری ہوچکی ہے، لیکن چونکہ انہوں نے کسی وجہ سے اپنی سرزمین کو چھوڑا تھا، جس میں ان کے عزیز و رشتہ دار اور جذباتی تعلق رکھنے والے افراد رہتے تھے، ان کے عمر طبعی گذار سے گذر جانے کے بعد،جناب رحیم الدین انصاری اور مولانا محمد رضوان القاسمی جیسی قدردان شخصیات کے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد انہیں یاد کرنے والے اور ان سے جذباتی تعلق رکھنے والے موجود نہیں رہے، اور ان کے پس ماندگان یہاں معاشی خوش حالی کی زندگی پانے میں تو کامیاب ہوگئے، لیکن آباء واجداد کی علمی میراث کو جیسا باقی رکھنا چاہئے تھا ویسا نہ رکھ سکے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے بعد بہار کے مدارس سے جنوب کی طرف طلبہ کی روانگی کا ریلا زیادہ بہاؤ سے چلا تھا۔ اور اب گجرات ہو یا کہیں اور یہی محسوس کیا جارہا ہے کہ ہم نے اتنے سارے شاندار مدارس اور دارالعلوم بنائے، ان پر کروڑوں خرچ کئے، لیکن ادارے مقامی طالب علموں کی قلت کی وجہ سے معاشرے میں اپنا وزن کھوتے جارہے ہیں۔ اب اس احساس میں کچھ حضرات توازن کھو دیں تو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔
140
6
یہاں ایک اور پہلو قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ ہمیں بعض احباب نے بتایا کہ وہ گجرات میں اپنے متعلقین و مداحین کی تعداد کو دیکھ کر اپنے مختلف علمی وتعلیمی پروجکٹوں کی تکمیل کے لئے تعاون طلب کرنے گئے تھے، لیکن وہاں پر لوگوں نے بتایا کہ ہم زکوۃٰ کے مد سے تعاون دیتے ہیں، زکوۃ سے الگ ہمارے پاس کوئی اور فنڈ نہیں ہے۔ اب جو ادارے مکمل زکات سے چلیں گے تو ان میں عزت نفس پاسدار اور معززین شہر کے بچے کہاں آئیں گے؟۔اس صورت میں وہاں زکوۃ لینے والے ہی آئیں گے۔ جب یہ عالم فاضل بن کر نکلیں تو الا ماشاء اللہ بڑی مشکل سے ان میں مرعوب ہوئے بغیر کلمہ حق کہنے والے پیدا ہونگے۔ ہمارے دینی حلقوں میں تاریخ کتاب المناقب کا نام ہے۔ تجزیاتی تاریخ کی کتابیں تلاش پر بڑی مشکل سے ملتی ہیں، اور جو ملتی ہیں وہ مشورہ دینے والے کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ لہذا لوگ جان بوجھ کر اس سلسلے میں کسی رہنمائی سے بچنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ مولانا مسعود عالم ندویؒ کی ایک کتاب ہے الدعوۃ الاسلامیہ فی الھند، مولانا کے نام لیوا شاید ہی اس کتاب کا تذکرہ کرتے ہوں گے، اور شاید ہی کسی کو اس کے ترجمہ کی ہمت ہوگی۔کتاب میں گجرات کی علمی تاریخ کے سلسلے میں آپ نے ایک نکتہ اٹھایا ہے کہ گجرات میں جو بھی علمی بہار تھی، وہ ۱۵۷۳ء میں اکبر اعظم کے دور حکومت میں گجرات کی فتح اور مغلیہ سلطنت میں شمولیت تک تھی۔ گجرات پر شمال کی یلغار کے بعد پھر گجرات کی یہ علمی بہار ختم ہوگئی۔ سننے میں آتا ہے کہ اب گجرات کا مسلمان گجرات وبہار کی عصبیتوں سے بھی آگے بڑھ چکا ہے، برطانیہ، جنوبی افریقہ وغیرہ کے چند گجراتی اہل علم نے ہمیں بتایا کہ اب یہاں سورت، بھروچ، بڑوھرا، وغیرہ کی چہار دیواریاں بن گئی ہیں، مختلف شہروں اور قصبوں کے لوگ اپنے علاقوں کے تعاون تک سمٹ گئے ہیں۔ ممکن ہے ہمارا یہ تاثر سراسر غلط ہو، لیکن جب ان کی سن گن ہوگئی ہے تو ہمارے علماء و داعیان حق کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاشرے میں جن کے دینی تعلیمی اداروں میں مدرسوں کی چہار دیواری کے اطراف بسنے والوں کی تعداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے، ان کی صورت حال کے بارے میں غور کرے، اصلاح و دعوت کا کام پہلے اپنے گھر، اہل وعیال، پھر محلے اور شہر سے ہونا چاہئے۔ ان پر اپنی فکر مرکوز کئے بغیر تعداد بڑھانے کے لئے دور دراز علاقوں کے نونہالوں سے اپنے اداروں کو بھر دینا تویہ اپنے گھر اور معاشرے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ 2026-06-16 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
88
7
*بات سے بات: گجرات کے مدارس کی صورت حال پر چند باتیں* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* آج راندیر، گجرات کے ایک استاد کبیر کی ویڈیو نظر سے گذری، جس میں آپ نے گجرات کے مدارس میں بہارکے طلبہ کی کثرت پر درشت لہجے میں تبصرہ کیا ہے۔ ہمیں اس بیان پر کچھ نہیں کہنا ہے، علم وکتاب پر اس پر کافی سخت سست تبادلہ خیال ہوچکا ہے۔ اس بیان نے ہمارے دماغ کے نہان خانے میں چھپی ہوئی چند یادیں تازہ کردی ہیں، ضروری نہیں کہ ہماری سب باتیں درست ہوں، لیکن امید ہے کہ اس سے سوچ وفکر کے دروازے کھولنے میں مدد ملے گی۔ ہمارا خیال ہے کہ دسمبر ۲۰۱۹ء میں کورونا کی جو وبا آئی اس نے ہندوستان کے مدارس دینیہ پرخصوصیت سے بہت برا اثر ڈالا، کیونکہ حکومت کی تعلیمات کی خلاف ورزی میں دانستہ یا غیر دانستہ طور ملوث ہونے کے الزام میں جو طبقے عتاب کا شکار ہوئے ان میں مدارس دینیہ کو میڈیا میں زیاہ ہائی لائٹ کیا گیا، لہذا اس وقت سے ایک سنجیدہ طبقہ وطن میں مدارس کی بقا کے سلسلے میں بہت زیادہ خوف محسوس کرنے لگا ہے۔ اس رد عمل میں اس کا اثر بھی ہوسکتا ہے۔ ۲۷ فروری ۲۰۰۲ء میں گجرات میں جو فسادات ہوئے تھے، اور گجراتی مسلمان جن کی آواز مختلف اقتصادی و معاشی وجوہات سے وطن کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ وزنی سمجھی جاتی تھی، وہ بری طرح پس گئے،بعد میں ان کے بعض رہنماؤں نے مستقبل کے نقشے کو سمجھ کر مخلصانہ کوششیں کیں کہ مسلمان ماضی کی تلخیوں کو بھول کر مستقبل کے نئے منصوبے بنائیں۔ اس زمانے میں بہار میں یادو گٹھ بندن بہت مضبوط تھا، اور مسلمان شاید اس زعم میں مبتلا تھے کہ اس کی سیاسی ومعاشرتی دیوار میں آئندہ کوئی سیندھ نہیں لگاسکے گا، گجرات کی ان سنجیدہ آوازوں کے خلاف سب سے زیادہ بہار ہی کے مدارس کے وابستگان نے آواز بلند کی تھی، اس کے بعد ان آوازوں کے ساتھ جو ہوا۔ اور پھر بہار میں جوصورت حال اب سامنے ہے اس کی وضاحت کی مزید ضرورت نہیں۔ ۱۹۸۰ء سے قبل بہار میں باصلاحیت علماء وقائدین کی بڑی تعداد پائی جاتی تھی، امارت شرعیہ بہار واڑیسہ کا بہت بڑا وزن محسوس ہوتا تھا، اپریل ۱۹۸۵ء مین شاہ بانو کیس کےفیصلے کے بعد تو ایسا لگتا تھا کہ امارت شرعیہ بہار وآڑیسہ ملی اداروں میں چھاگئی ہے،اور مسلمانان ہند اس سے بہت پر امید ہوگئے ہیں، اس وقت ملک بھر میں اسلامی دار القضاء کی ایک تحریک اس کی سرپرستی میں شروع ہوچکی تھی۔ اس زمانے میں حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ۔ چیف قاضی امارت شرعیہ کا تفقہ اور صلاحیتیں سب سے ابھر کر سامنے آئیں۔اس زمانے میں قاضی صاحب کا طوطی بولتا تھا، یہی زمانہ حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی پیرانہ سالی کا تھا، اور چند ہی عرصہ بعد ۱۹۹۱ء میں شاہ بانو کیس کے اس معرکۃ کو سر کے آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ لیکن اس سے ایک عشرے قبل حضرت امیر شریعت کے داغ مفارقت دینے کی صورت میں قیادت کا مسئلہ سامنے آیا۔ جس کے بعد خاموشی سے بہار کی اہم ترین درسگاہ جامعہ رحمانی اور امارت شرعیہ بہار واڑیسہ میں قیادت کی رسہ کشی شروع ہوگئی۔ اور آہستہ آہستہ ان اداروں سے تجربہ کار اور سینیر علماء و اساتذہ ہٹتے چلے گئے اور حیدرآباد اور دوسری جنوبی علاقوں کو اپنے علوم کی روشنی سے منور کرنے لگے۔ جن اداروں نے ان تجربہ کار علماء و اساتذہ کی قدر دانی کی ان میں مولانا حمید الدین عاقل حسامی اور جناب رحیم الدین انصاری کا دار العلوم حیدرآباد اور سبیل السلام حیدر آباد سر فہرست ہے۔ قاضی صاحب بڑے زیرک تھے، انہوں نے اپنی توجہات کو اسلامی فقہ اکیڈمی اور ملی کونسل کی جانب موڑ دیا۔ قریبی حلقوں سے سنتے تھے سابق امیر شریعت مولانا نظام الدین گیاوی کو اس کا بڑا صدمہ تھا، ہمارے چند دوستوں کے توسط سے وہ اپنا یہ درد دل پہنچاتے رہتے تھے۔ چالیس سال کے دوران جو پرانی نسل بہار سے منتقل ہوئی تھی، وہ اب اللہ کو پیاری ہوچکی ہے، لیکن چونکہ انہوں نے کسی وجہ سے اپنی سرزمین کو چھوڑا تھا، جس میں ان کے عزیز و رشتہ دار اور جذباتی تعلق رکھنے والے افراد رہتے تھے، ان کے عمر طبعی گذار سے گذر جانے کے بعد،جناب رحیم الدین انصاری اور مولانا محمد رضوان القاسمی جیسی قدردان شخصیات کے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد انہیں یاد کرنے والے اور ان سے جذباتی تعلق رکھنے والے موجود نہیں رہے، اور ان کے پس ماندگان یہاں معاشی خوش حالی کی زندگی پانے میں تو کامیاب ہوگئے، لیکن آباء واجداد کی علمی میراث کو جیسا باقی رکھنا چاہئے تھا ویسا نہ رکھ سکے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے بعد بہار کے مدارس سے جنوب کی طرف طلبہ کی روانگی کا ریلا زیادہ بہاؤ سے چلا تھا۔ اور اب گجرات ہو یا کہیں اور یہی محسوس کیا جارہا ہے کہ ہم نے اتنے سارے شاندار مدارس اور دارالعلوم بنائے، ان پر کروڑوں خرچ کئے، لیکن ادارے مقامی طالب علموں کی قلت کی وجہ سے معاشرے میں اپنا وزن کھوتے جارہے ہیں۔ اب اس احساس میں کچھ حضرات توازن کھو دیں تو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔
91
8
آج اردو کے مایہ ناز شاعر سکندر علی وجد کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۶/ جون ۱۹۸۳ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ کلام کی لنک پیش خدمت ہے۔ کلام شاعر بزبان شاعر کلام: ماہ نو کلام وآواز: سکندر علی وجد لنک آڈیو ڈاٹ کام https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=mah-e-now, Mah-E-Now مزید کلام سننے کے لئے https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=sikandar-ali-wajd&t =
238
9
*وفیات مورخہ: 16/جون* 1901ء سلطان شاہ جہاں بیگم۔ نواب بھوپال 1981ء ولایت علی خاں۔ نواب زادہ 1983ء خورشید آرابیگم۔ پروفیسر ، 1983ء سکندر علی وجد۔ شاعر ، 1992ء فرید الدین احمد الوجیہہ۔ حافظ ، 1993ء قمر ہاشمی (سید اسماعیل شہید)۔ صحافی، شاعر 1993ء نیاز محمد میواتی۔ مولانا 1996ء محمد رفیق۔ ریاضی داں 1997ء ولی ہاشمی۔ ، 2000ء حضور احمد شاہ۔ ، 2008ء حفیظ بنارسی۔ شاعر ، 2011ء سجاد سخن۔ ، 2011ء عبد الرشید جھنگوی۔ مدرس، مناظر، بریلوی مکتب فکر 2021ء سراج دین۔ پہلوان https://telegram.me/ilmokitab
230
10
https://t.me/ilmokitablibrary
312
11
سچی باتیں (30؍دسمبر 1940ء۔۔۔ عہد جاہلیت میں آزادی نسوان تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی   کلدانی تہذیب، موجودہ معلومات کے لحاظ سے دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے۔ مصری، ہندی، چینی، ہر قدیم تہذیب سے قدیم تر۔ زمانہ اس کا تقریبًا دوہزار سال قبل مسیحؑ تسلیم کیاجاتاہے۔ یعنی آج سے چارہزار سال قبل۔ کالڈیا یا سمیریا واقع وہیں تھا، جہاں آج عراق ہے۔ ’’تہذیب‘‘ کے اس اہم ترین دَور میں عورت’’ آزاد‘‘ تھی اور خود مختار۔ ’’عورت کی ہستی بہ حیثیت ایک فرد اور ایک شہری کے، سمیری قانون میں مسلّم تھی۔ عورت عدالتوں میں گواہی دے سکتی تھی اور بہ طور وکیل بھی پیش ہوسکتی تھی۔ روپیہ اس کا اپنا ہوتاتھا، شوہر کی مداخلت سے باہر۔ شوہر اور والد دونوں کے ترکہ سے اسے قانونًا حصہ ملتاتھا۔ کاروبار تجارت وہ خود کرسکتی تھی۔ خودمزدور ، غلام، وغیرہ رکھ سکتی تھی۔ اپنے شوہر کی غیر حاضری میں اس کا کاروبار کرسکتی تھی، اور اُس کے منافع میں ایک تہائی خود لے سکتی تھی‘‘۔ (ص: 130) یہ سب تصریحات دَور حاضر کے مشہور ماہر اثریات سرلیونارڈ وولیؔ کی کتاب ’’ابراہام‘‘ کے باب سوم زیر عنوان’’اور عہد ابراہیمی میں‘‘ کی فصل ’’معاشری زندگی‘‘ میں موجود ہیں……گویا عورت کی ’’آزادی‘‘ اور ’’خودمختاری‘‘ جس کا آج یہ غلغلہ بلند ہے، کوئی نوپیدا تحریک نہیں، تہذیب جاہلی، چاہے قدیم ہو ، یا جدید، یہ اس کا جزو تو ہردَو میں رہی ہے! لیکن کتاب کا یہ ورق ابھی ختم نہیں ہوا۔ مزید تصریحات سرلیونارڈ کی زبان سے ابھی باقی ہے۔ ان ساری آزادیوں کے دوش بہ دوش : ’’ملک کے مندروں میں عصمت فروشی کا بازار بھی گرم تھا۔ مندروں کی پجارنوں کا نیچا طبقہ جو تھا، وہ تو بہ طور بیسواؤں کے، ہرجاتری، ہردرشن کرنے والے کے لئے وقف عام تھا، اور جو اونچے طبقہ کی پجارنوں کو بھی کم ازکم ایک مرتبہ تو اپنے کو دوسروں کے حوالہ کردینا ہوتاتھا۔ عقیدہ تو صرف اتنا تھا، کہ اپنی بکارت کی قربانی پیش کرکے، پجارن دیوتا کے حضور میں بڑی سے بڑی نذر پیش کررہی ہے، اور یہ رسم اُس کی توہین نہیں، اُس کی عزت وعظمت کی دلیل ہے۔ لیکن عملًا یہ رسم مستقل عیاشی میں تبدیل ہوگئی۔ اور حکمائے عصر نے مندر کی ادنیٰ پجارنوں کے خلاف سخت بیزاری کا اظہار کیاہے‘‘۔ (ص: 131) ’آغاز‘ کا ’انجام‘ آپ نے دیکھ لیا؟ جس تہذیب کا آغاز عورت کی آزادی، خودمختاری سے ہواتھا، اُس کا انجام ہواعورت کی بے عصمتی پر……بے عصمتی ہی پر نہیں، بے عصمتی کے اعزاز وتفاخر واکرام پر، بلکہ بے عصمتی کے تقدس پر! عورت آج پھر’’آزاد ‘‘ ہے۔ ’’حقوق‘‘ اُسے آج پھر مل گئے ہیں۔ کاؤنسل کی ممبر، اسمبلی کی ممبر، پارلیمنٹ کی ممبر آج وہ پھر ہوسکتی ہے۔ عدالتوں میں، وکیلوں اور بیرسٹروں کی گاؤن پہنے، دیوانی وفوجداری کے قانون کی موشگافیاں کرتے آج وہ پھر دکھائی دے رہی ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ علمی ڈگریاں آج وہ پھر حاصل کررہی ہے۔ گھروں کی ادنیٰ ماماگری سے لے کر فوج کے اعلیٰ عہدوں اور منصبوں تک ہرپیشہ ، ہرصیغہ، ہر محکمہ میں آج وہ پھر داخل ہورہی ہے۔ اِن ساری آزادیوں کے ساتھ اگر وہ اپنی عفت وعصمت کے باب میں بھی تھوڑی سی ’’آزاد‘‘ ہوگئی ہے ، تو آخر ہرج ہی کیاہے؟ہرج ہی کیا ہے اگر وہ بے حجاب اور بے نقاب ، بن ٹھن کر، باہر نکلا کرے؟ جسم کو کم سے کم لباس میں ملبوس ہوکر زیادہ سے زیادہ آنکھوں کو دعوتِ نظارہ دیتی رہے؟ مَردوں سے گھُس گھُس کر ملے جُلے؟ یارآشناؤں کے ساتھ، اُن کے جسموں کے اتصال کے ساتھ سرمحفل ، مجمعِ عام میں ناچے، گائے، تھرکے؟ اور یہ چیزیں فیشن میں داخل، اعزاز میں شامل ہوجائیں۔ اور ’’تاریک خیال‘‘ اب وہ عورت نہ رہے ، جو اِن صحبتوں میں بڑھے، بلکہ وہ ٹھہرے جو اِن سے بچے۔ ملامت کے ووٹ اُن پر پاس ہوں جو نیچی نظریں رکھیں۔ قہقہوں اور تالیوں کا شور اُن پر بلند ہو، جو ’’نقاب‘‘ ’’برقع‘‘ ’’پردہ‘‘ جیسی دقیانوسی چیزوں کا نام بھی زبان پر لائیں!……کتنی مشابہ کیسی اشبہ ہے، اسلام کے دوہزار قبل والی تہذیب جاہلی، اسلام سے ڈیڑھ ہزار سال بعد والی تہذیب جاہلی سے!   Https://telegram.me/ilmokitab
309
12
سلسلہ نمبر: 318 انتخاب مطالعہ تحریر: مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی *اسلام دشمنی کا مقابلہ کیسے کریں؟* مغربی دنیا میں اسلام دشمنی کو ختم کرنے کے لئے دانش مندانہ اور مستحکم حکمت عملی اختیار کرکے اسلام اور مسلمانوں کی سچی و صحیح تصویر پیش کرنے والے طاقتور مؤثر ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی سچی اور عملی تصویر پیش کریں، اٹالین اسلامی تنظیم کے صدر شیخ عبد الواحد نے اس پہلو پر زور دیا ہے، وہ کہتے ہیں: مغرب کی اسلام دشمنی کے خاتمہ کے لئے چار طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں: (۱) ہم حقیقی معنی میں مسلمان ہوں، اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کرکے غیروں کے سامنے اسلامی اخلاق کا نمونہ پیش کریں،جیساکہ ماضی میں اسلاف نے کیا کہ بہت سے ممالک صرف مسلم فاتحین کے اخلاق کی وجہ سے فتح ہوگئے ۔ (۲) طاقتور اور موثر میڈیا کے قیام کو عمل میں لایا جائے اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اسلام کو پیش کیا جائے، کیونکہ رائے عامہ کو مخاطب کرنے کا میڈیا بہترین ذریعہ ہے، لہذا بین الاقوامی سطح پر میڈیا کے ذریعہ مؤثر انداز میں اسلام کی ترجمانی کی جائے۔ (۳) مختلف عالمی زبانوں پر قدرت رکھنے والے داعی تیار کئے جائیں۔ (۴) دنیا بھر میں قائم اسلامی ادارے منافست اور آپسی ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر خدمت دین کے لئے مشترک لائحہ عمل طے کریں، آپس میں اتحاد و تعاون کی روح پیدا کریں اور ایک ہی میدان میں توجہ دینے کے بجائے مختلف میدانوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں، زمانہ کے نئے تقاضوں، خطرات اور چیلنجوں کا لحاظ کرتے ہوئے حکمت و دانائی پر مبنی حکمت عملی اختیار کریں اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی صحیح اور حقیقی تصویر پیش کریں۔ اس سے پہلے مسلمانوں نے مستشرقین کے سلسلہ میں غفلت سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مستشرقین کی تحریروں اور کتابوں کی وجہ سے دماغوں میں اسلام کے ماضی کی طرف سے بدگمانی ، اس کے حال کی طرف سے بے زاری، اس کے مستقبل کی طرف سے مایوسی ، اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلامی مآخذ کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ۔ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نے اس کوتاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”ایک صدی سے یورپ ہماری نئی نسل اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ذہنوں اور دماغوں کو خراب کررہا ہے، اس نے ایمانی حقائق و مسلمات پر سے اعتماد اٹھادیا اور دینی عقائد میں شک و شبہ پیدا کردیا، عالم اسلام پر گمراہ کن نئے نئے نظریات اور مادی فلسفے تھوپ دئے،مسلم معاشروں میں بے دینی، الحاد، نفاق اور تشکیکی ذہن پیدا کر دیا،مغرب کے افکار واقدار کی عظمت بٹھادی اور اسلامی تعلیمات اور اصول کی ایسی تشریح کی کہ اس سے اسلامی اقدار کی کمزوری ثابت ہو اور ایک تعلیم یافتہ مسلمان کا رابطہ اسلام سے کمزور پڑ جائے ؛لیکن ہم خواب غفلت کا شکار رہے اور یورپ نے ایک ایسی نسل تیار کردی جسے اپنے دین و ایمان کی پرواہ نہیں،بلکہ وہ اسلام دشمن ہے اور عالم اسلام میں اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آگیا جو اسلام بے زار تھے، انہوں نے ایسے معاشرہ کی تشکیل کی جو صرف نسل اور قومیت میں قدیم اسلامی معاشرہ سے مشابہت رکھتا ہے اور اس کا رخ مغرب اور خالص مادیت کی طرف ہے۔ اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے عالم اسلام کو ایسے اداروں اور اکیڈمیوں کی ضرورت ہے جو صحت مند اور مستند اسلامی معلومات اور اسلامی نقطۂ نظر پیش کریں، صالح اسلامی لٹریچر پیش کریں ،جو نوجوانوں میں دین اسلام پر اعتماد بحال کر سکے اور ان کے دلوں میں اسلامی اقدار و روایات، اسلامی عقائد و مسلمات اور اسلامی تصور حیات سے وابستگی اور محبت پیدا کر سکے، آج ایسے علماء دین،مسلم محققین اور اہل نظر کی ضرورت ہے جو اس خدمت کو انجام دے سکیں،مستشرقین کا علمی محاسبہ کریں، ان کی تلبیسات کو بے نقاب کریں ، ان کی غلط فہمیوں کو واضح کریں، ان کے مآخذ کی کمزوری اور ان کے اخذ کئے ہوئے نتائج کی غلطی کو روشن کریں اور یہ بتائیں کہ استشراق اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف کیسی گہری اور خطرناک سازش ہے۔ اگر آج مسلمانوں نے میڈیا کے میدان میں یہی کوتاہی کی تو اس کا انجام پہلی کوتاہی کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہوگا؛ کیونکہ موجودہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہےـ ( دعوت اسلامی، مسائل اور اندیشے، صفحہ: ۱۳۸،طبع: دار الرشید،لکھنؤ) ✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
220
13
آج اردو کے مایہ ناز ادیب وخاکہ نگار ڈاکٹر اسلم فرخی کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات مورخہ: ۱۵/ جون ۲۰۱۶ء کو ہوئی تھی، اس مناسب سے آپ کا دبی میں جشن یوسفی کے موقعہ پر پڑھا ہوا خاکہ خوشبوئے یوسفی پیش خدمت ہے۔ لنک https://youtu.be/ckESyfQ7PNI?si=VfV4lRWXrxo71EZ_
224
14
وفیات مورخہ: 15/جون 1904ء  سلامت اللہ جیراج پوری۔  مولانا 1922ء  ہاجر دہلوی۔  شاعر 1935ء  سید ممتاز علی۔  مولوی، ناشر، مترجم 1960ء  حمید (عبدالحمید)۔  ڈاکٹر ، 1979ء  کلیم فیض آبادی (شبیر حسین)۔  1989ء  اعتماد الحق تھانوی۔  مولانا ، 1994ء  صفدر حسین صفدر۔  2003ء  شفیق رضوی۔  2004ء  زین العابدین۔  مولانا مفتی ، فیصل آباد 2009ء  جوگندر۔  نغمہ نگار، گلوکار 2009ء  رشید وارثی (عبدالرشید خان)۔   ، 2010ء  محمد انور وقار۔  ڈاکٹر ، 2014ء  محمد اقبال خاں ۔  حاجی 2016ء  اسلم فرخی۔  ڈاکٹر، ادیب 2022ء  گوپی چند نارنگ۔  ایب ونقاد   Https://telegram.me/ilmokitab
238
15
وہ دارالمصنفین کے رکن تھے، اور استاذ مرحوم کی نسبت سے اس سے بڑی دلچسپی رکھتے تھے، ان کی فرمایش سے ہمارے فاضل رفیق مولانا عبدالسلام صاحب ندوی نے امام رازی کی سوانح عمری اور ان کے فلسفہ پر تبصرہ کا کام انجام دیا، میں نے مناسب سمجھا کہ اس پر مرحوم سے ایک مقدمہ لکھوایا جائے جس میں امام رازی کے فلسفہ کو یورپ کے فلسفیوں کی نگاہ سے دیکھا جائے، اور موازنہ کیا جائے، افسوس کہ ان کی موت سے یہ کام بھی ناتمام رہ گیا۔ مرحوم کا بچپن مذہبی وصوفیانہ ماحول میں گذرا تھا، اس لئے باایں ہمہ ان پر یہ اثر غالب تھا، طالب علمی ہی میں حضرت مولانا شاہ ابو احمد صاحب مخدومی بھوپالی (مرید شاہ عبدالغنی صاحب مجددی مہاجر) سے لکھنؤ میں بیعت کی تھی، جو اس وقت اتفاق سے لکھنؤ آگئے تھے، اور میں نے بھی ملّامبین کی مسجد میں ان کی زیارت کی اور بھوپال میں تو کئی دفعہ حاضری کا اتفاق ہوا، چونکہ میرے بڑے بھائی صاحب مرحوم بھی انہی سے بیعت تھے، اور خلافت سے ممتاز تھے، اس لئے مرحوم ضیاء الحسن سے میری محبت کی نسبت میں اس نئے رشتہ سے اور مضبوطی پیدا ہوگئی تھی، حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد مرحوم نے حضرت شاہ نجم الدین صاحب فتح پوری سے تعلق پیدا کیا جن سے وہ بچپن سے واقف تھے، کیونکہ دارالعلوم ندوہ کا افتتاح انہی کے مبارک ہاتھوں سے ہوا تھا، ان کی وفات کے بعد ایک اور بزرگ کی طرف انہوں نے رجوع کیا، جو غالباً کہیں آگرہ کے قریب کے تھے، مولانا شاہ ابوالخیر صاحب مجددی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں بھی کبھی کبھی حاضری دی ہے، ذکر و فکر و اشغال میں بھی مصروف رہتے تھے، اور ان کے برکات دوستوں میں کبھی کبھی بیان کرتے تھے۔ افسوس کہ میرے تعلیمی عہد محبت کا یہ نخل بارآور عمر کی ستاون بہاریں دیکھ کر اب ہمیشہ کے لئے مرجھا گیا، حضرۃ الاستاذ نے بھی عمر اتنی ہی پائی تھی، ستاون برس کی عمر کے حساب سے ۱۸۸۸ء؁ یا ۱۸۸۹ء؁ کی پیدائش ظاہر ہے۔ وکنا کندمانی جذیمۃ حبقۃ من الدھر حتی قیل لن یتصدعا ہم دونوں ایک مدت تک بادشاہ جذیمہ کے دو مصاحبوں کی طرح ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ کہا گیا کہ اب یہ الگ نہ ہوں گے۔ فلما تفرقا کانی ومالکا بطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا پھر جب ہم الگ ہوگئے، میں نے اور مالک نے طول اجتماع کے ہوتے ہوئے بھی گویا ہم نے ایک رات بھی ایک ساتھ نہیں گذاری۔ مرحوم کی دو شادیاں ہوئی تھیں، پہلی بیوی سے ایک لڑکا اور لڑکی، دونوں بالغ ہیں لڑکے کا نام حسن ہے، جو امسال بی۔ اے، بی۔ ٹی ہوئے ہیں، اور ادبی ذوق میں اپنے باپ کی یادگار ہیں۔ دوسری بیوی سے چند بچے ہیں، اور سب چھوٹے اور کم سن۔ اللہ تعالیٰ مرنے والے کی قبر پر رحمت کے پھول برسائے۔
325
16
مرحوم کو اردو ادب کا ذوق فطرۃً تھا، گھر کا ماحول مشاہیر نظم و نثر کی ان کے ہاں آمدورفت، پیارےؔ صاحب رشید اور مرزا رسوا جیسے نظم و نثر کے ادیبوں سے ان کے خاندانی مراسم تھے، اور پھر بچپن سے لکھنؤ کی سکونت، ان سب کا اثر یہ تھا، کہ وہ اردو روزمرہ کے جان دادہ تھے، شعر بھی کہتے تھے، مگر صرف اپنے لئے، علمی مضامین توحضرۃ الاستاذ مرحوم کی پیروی میں لکھتے تھے، مگر عام انداز تحریر شوخ و شگفتہ روزمرہ کی بول چال کا تھا۔ مرحوم کا پہلا مضمون ’’صحت اور عمر کی درازی‘‘ ہے، جو المقطف مصر کے ایک مضمون کا ترجمہ تھا، اور رسالہ الندوہ ۱۹۰۵ء؁ میں چھپا، اس کے بعد دوسرے مضامین لکھے، جوالندوہ ہی میں چھپائے کیے، ان کا ایک ابتدائی ادبی مضمون اردوئے معلی علی گڑھ میں چھپا، خواجہ غلام الثقلین ان دنوں دارالعلوم کے پاس ایک مکان میں رہتے تھے اور اسلامی کانفرنس کے صیغۂ اصلاح و تمدن کے سکریٹری تھے، اور اس تعلق سے وہ عصر جدید نام ایک ماہانہ رسالہ نکالا کرتے تھے، خواجہ صاحب کے تقاضے اور اصرار سے اس میں بہت سے اصلاحی مضمون لکھے، اور وہ چھپے۔ مرحوم نے عربی سے فراغت پاکر انگریزی کی طرف توجہ کی، جس کا آغاز لکھنؤ میں ہوچکا تھا۔ مگر انجام علی گڑھ میں ہوا، ۱۹۰۹ء؁ میں وہاں سے میٹرک پاس کیا، حضرۃ الاستاذ نے مبارک باد لکھی۔ ’’مبارک، تمھارے پاس ہونے سے بے حد خوشی ہوئی، اور تمھاری نسبت حسن ظن بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔ اب تم ضرور کالج میں پڑھوگے، الندوہ میں تم پر نوٹ دوں گا‘‘۔ ۱۹۰۹ء؁ میں وہ کالج میں داخل ہوئے، اور ۶ برس میں ایم اے تک تعلیم پائی، اس زمانہ میں عربی کے پروفیسر یوسف ہارویز نام ایک جرمن فاضل تھے، جنھوں نے طبقات ابن سعد کے بعض اجزا کی تصحیح کی، اور جو علی گڑھ میں ۱۹۱۴ء؁ کی گذشتہ جنگ عظیم کے شروع تک رہے، اور اس کے آغاز ہی میں قید ہو کر بعد کو جرمنی واپس چلے گئے تھے، مرحوم کالج میں پہنچ کر ان کے حلقہ میں داخل ہوئے،اور ان پر ایسے چھائے کہ ان کے جزو کل پر حاوی ہوگئے، اُن سے مستشرقین کے معلومات حاصل کیے، کچھ جرمن زبان اور کچھ عبرانی زبان کے سبق پڑھے، مولانا شبلی اور پروفیسر ہارویز کے درمیان ربط و ضبط کا واسطہ مرحوم ہی تھے۔ ۱۹۱۶ء؁ میں غالباً انھوں نے ایم اے پاس کیا، اس وقت یوپی کی گورنمنٹ عربی مدارس کی نگرانی کے لئے ایک انسپکٹر کے تقرر پر غور کررہی تھی، مرحوم سے بڑھ کر اس کام کے لئے دوسرا موزوں نہیں ہوسکتا تھا، وہ ایک طرف ٹھیٹھ مولوی اور دوسری طرف ممتاز گریجویٹ تھے، چنانچہ ۱۹۱۷ء؁ میں وہ عربی مدرسوں کے انسپکٹر مقرر ہوئے، اور اسی عہدہ پر آخر تک قائم رہے، ابھی اسی جولائی میں وہ قید ملازمت سے چھوٹنے والے تھے، کہ اس سے چند روز پہلے قید حیات ہی سے آزاد ہوگئے۔ مرحوم نے عربی نصاب، اور اردو فارسی اور عربی کے سرکاری امتحانات کی اصلاح اور ترقی میں بہت بڑا کام کیا ہے۔ جب وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے تو نام کے سوا اس صیغہ میں کچھ اور نہ تھا، لیکن انہوں نے چند برس کے اندر اپنی محنت، لیاقت، اخلاق اور محبت سے چالیس پینتالیس مدرسوں کو اپنا ہمنوا بنالیا اور اصلاح نصاب کا وہ خاکہ جو استاذ مرحوم صرف ندوہ کی حد تک کھینچ سکے تھے ان کے لائق شاگرد کے ہاتھوں وہ پورے صوبہ کے دائرہ میں وسیع ہوگیا۔ مرحوم کو کتابوں کا بہت شوق تھا، وہ خود بھی ہر قسم کی علمی کتابیں عربی اور انگریزی کی خریداری کرتے تھے، ان کا مطالعہ برابر جاری رہتا تھا، اور اہل علم دوستوں سے مسائل علمیہ پر مباحثہ کرتے تھے۔ ان کی علمی یادگار وہ چند ابتدائی مضامین ہیں جو الندوہ میں چھپے، یا اسلامی جہازوں پر ان کا وہ مضمون ہے، جو ۱۹۱۰ء؁ کے قریب علی گڑھ منتھلی میگزین میں چھپا، اور حضرت الاستاذ کی پسند سے انعام کا مستحق ہوا، اسی طرح عصر جدید کے اصلاحی مضامین بھی ہیں، جو کبھی ان کے نام سے اور کبھی بے نام چھپے، آخر میں ان کا طویل مضمون جو ’’یاد ایام‘‘ کے عنوان سے جدید الندوہ میں ۱۹۴۱ء؁ کے آٹھ نو نمبروں میں شائع ہوا تھا ذکر کے قابل ہے، یہ گویا ان کی آپ بیتی ہے جس میں جگ بیتی کے بہت سے دلچسپ مناظر شامل ہیں، اس مضمون میں لکھنؤ کی زبان کا مزہ اور روزمرہ کا چٹخارا ایسا تھا کہ سب اہل ذوق نے اس کو بیحد پسند کیا، افسوس کہ یہ کہانی ناتمام رہی۔ ان کو ادب سے فطری ذوق تھا، الف لیلہ ولیلہ جو عربی داستان سرائی کی بے مثال کتاب سمجھی جاتی ہے، اس کے اردو ترجمہ کی امنگ ان کے دل میں ایک مدت سے تھی، چنانچہ انہوں نے ایک زمانہ سے اس کام کو شروع کررکھا تھا، اس ترجمہ میں اس کا بھی خاص اہتمام تھا کہ عربی شعروں کا ترجمہ اردو ہی شعروں میں ہو، معلوم نہیں یہ چیز کہاں تک پہنچی، سبعہ معلقہ میں سے امراء القیس کے قصیدہ کا ترجمہ اردو نظم میں کیا تھا۔
259
17
*ضیاء الحسن علوی مرحوم .تحریر: علامہ سید سلیمان ندوی* افسوس کہ میرے رفیق قدیم اور صدیق حمیم مولوی ضیاء الحسن صاحب علوی ندوی نے ایک مختصر علالت کے بعد ۱۴؍ جون ۱۹۴۵ء؁ کو الہ آباد میں جہاں وہ عربی مدرسوں کے انسپکٹر اور مشرقی امتحانوں کے رجسٹرار تھے ستاون برس کی عمر میں وفات پائی، اس حادثہ کی اطلاع مجھے ۱۸؍ جون کو لکھنو میں اسی مدرسہ میں ملی جہاں میں اور مرحوم مل کر ایک جان دو قالب ہوئے تھے، افسوس کہ ایک قالب خالی ہوگیا، اور دوسرا نیم جان موجود ہے، مرحوم مجھ سے عمر میں تقریباً پانچ برس چھوٹے (گو تعلیم کے درجہ میں وہ ایک سال بڑے تھے) اس لئے بظاہر امید یہی تھی کہ انہی کو میری جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑے گا، مگر تقدیر یہی تھی کہ مجھے ان کے فراق کا غم سہنا پڑے اس لئے امید غلط ثابت ہوئی، اور تقدیر کا فرمان نافذ ہوکر رہا۔ اکنوں چہ تواں کرد کہ تقدیر چنیں بود مرحوم کا کوری ضلع لکھنؤ کے مشہور علوی خاندان کے چشم و چراغ تھے، دارلعلوم ندوۃ العلماء کے حامیوں بلکہ بانیوں میں رؤساء کا جو طبقہ شامل تھا، ان میں منشی محمد اطہر علی صاحب مرحوم کا نام بہت جلی ہے، یہ خاندان قطب وقت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا ارادتمند و معتقد تھا، جو ندوہ کی تحریک کے روحانی مرکز و مدار تھے، اس لئے جب ۱۸۹۸ء؁ (۱۳۱۶ھ؁) میں لکھنو میں ندوہ کا دارالعلوم کھلا تو منشی صاحب مرحوم نے اس درس گاہ کو اپنے سب سے چھوٹے بچے اور ایک ننھے بھتیجے کو نذر کیا، یہی ننھا بھتیجا مولوی ضیاء الحسن صاحب علوی ندوی تھے، دارالعلوم کے طلبہ کے داخلہ میں ان کا نمبر شاید دوسرا تیسرا تھا، عربی کی پوری تعلیم یہیں حاصل کی اور یہیں سے فراغت پائی۔ یوں دارالعلوم کے سارے اساتذۂ وقت مولانا حفیظ اللہ صاحب، مولانا عبدالشکور صاحب (اڈیٹر النجم) عبداللطیف صاحب سب ہی سے تعلیم پائی تھی، مگر جس کی تعلیم نے ان کے لوح دل میں علم و فن کے ذوق کا نقش اولین بنایا، وہ دارالعلوم کے صدر مدرس مولانا فاروق صاحب چریا کوٹی تھے، وہ ادب اور معقولات کے امام تھے، اور یہی دونوں فن مرحوم کی گھٹی میں پڑے، اور عمر بھر انہی سے ان کو ذوق رہا۔ ۱۹۰۴ء؁ میں مولانا شبلی مرحوم حیدرآباد سے جب لکھنؤ دارالعلوم میں پہلے پہل آئے تو جو طلبہ ان کے حلقہ میں پہلے بیٹھے، ان میں سب سے پہلا نام مولوی ضیاء الحسن مرحوم کا ہے، چنانچہ مولانا کی مردم شناس نگاہ نے ان کے ذوق اور استعداد کو تاڑ لیا، مولانا کے حیدرآباد واپس چلے جانے کے بعد مرحوم نے جو سب سے پہلا خط ان کو لکھا، اس کا جواب مکاتیب شبلی کی دوسری جلد میں موجود ہے، خط ۱؎ کے آخر میں ہے: ’’میں چاہتا ہوں کہ چند روز تک آپ کا اور میرا ساتھ رہتا، تاکہ میں ادب اور فلسفہ کی بعض کتابیں آپ کو پڑھاتا، اور مضمون نگاری کی بھی تعلیم دیتا، دیکھئے کب خدا موقع لاتا ہے‘‘۔ (شبلی ۴؍ جنوری ۱۹۰۴ء؁) اس کے بعد جون ۱۹۰۵ء؁ میں ندوہ تشریف لے آئے اور جس موقع کا انتظار تھا، وہ جلد مل گیا، مرحوم کے بعد اس طلب میں ان کا دوسرا رفیق سفر راقم الحروف تھا، ہم دونوں نے حضرۃ الاستاذ کے سامنے زانوئے ادب تہ کئے، اور علم کلام، معقولات اور اعجاز القرآن کے اسباق شروع ہوئے، مرحوم مجھ سے زیادہ دلیر اور بے تکلف تھے، وہ پرائیوٹ صحبتوں میں بھی شریک ہوتے تھے، اور ہر روز علم کا نیا فیض حاصل کرتے تھے، اسی زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد ندوہ ہی میں مولانا کے پاس مقیم تھے، مولانا حمید الدین صاحب مصنف نظام القرآن بھی آیا کرتے تھے، اور ہفتوں ندوہ میں رہا کرتے تھے، مولانا عبداللہ عمادی اڈیٹر البیان بھی لکھنؤ میں مقیم اور اکثر صحبتوں میں شریک ہوتے تھے، خواجہ غلام الثقلین بھی آتے جاتے رہتے تھے مرحوم ان لوگوں کے ساتھ بے تکلف ملتے جلتے تھے، اور اس خوانِ ادب سے بہرہ ور ہوتے تھے۔ مرحوم کو جدید علوم کے حصول کی طرف میلان مرزا ہادی صاحب رسوا (سابق عربی پروفیسر کرسچین کالج لکھنؤ) کی صحبتوں اور ملاقاتوں سے ہوا، وہ عربی کے عالم، انگریزی کے گریجویٹ اور جدید فلسفہ اور ریاضیات کے ماہر تھے، آخر میں دارالترجمہ عثمانیہ سے متعلق ہوکر فلسفہ کی متعدد کتابیں اردو میں ترجمہ کیں۔ مولانا شبلی نے ایک دفعہ ان کو مدرسہ میں ہم چند طلبہ کو جدید فلسفہ پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا، مگر وہ بڑے لااُبالی تھے، چند سبق سے زیادہ کا معاملہ ان سے نہ چل سکا۔ بہر حال مرحوم نے ۱۹۰۵ء؁ میں عربی تعلیم سے فراغت پائی، اور ۱۹۰۶ء؁ کے مشہور جلسہ دستار بندی میں میرے ساتھ ہی ان کی بھی دستار بندی ہوئی، اس جلسہ میں انھوں نے اعجاز القرآن کے موضوع پر ایک عالمانہ تقریر کی تھی، جو بعد کو مرتب ہو کر الندوہ میں شائع ہوئی، اور مدح و تعریف کی مستحق ہوئی۔
232
18
آج اردو دنیا کے عظیم ادیب گر صلاح الدین احمد مدیر ادبی دنیا لاہور کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ : ۱۴ جون ۱۹۶۴ء کو ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک نادر ویڈیو کی لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام سے پیش کی جارہی ہے۔ عنوان: کتابوں کے قبرستان بیان وآواز: صلاح الدین احمد مدیر ادبی دنیا لاہور https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=kitaboun-kay-qabrastan, Kitaboun Kay Qabrastan
279
19
*وفیات مورخہ: 14/جون* 1889ء  عبد الغفور نساخ۔  شاعر ، 1902ء  عبد الرحمن الکواکبی۔  عرب  مفکر ، 1945ء  ضیاء الحسن علوی، سید۔  مولانا ، پروفیسر 1964ء  صلاح الدین احمد۔  مولانا ، مدیر ادبی دنیا لاہور 1971ء  حبیب اشعر دہلوی (حکیم حبیب احمد)۔  مدیر فنون لاہور ، 1988ء  اکبر علی نقشبندی۔  پیر ، 1998ء  رحمان گل۔  لیفٹننٹ جنرل ، 2001ء  احمد زاہد۔   ، 2001ء  شوکت الٰہ آبادی (محمد زبیر فاروقی)۔  شاعر ، 2003ء  ہاشم علی اختر، سید۔  2007ء  خلیل احمد۔  مولانا 2007ء  کورٹ والڈاہیم۔  سکرٹری جنرل اقوام متحدہ ، 2011ء  ابرار عابد۔   ، 2018ء  شجاعت بخاری۔  صحافی ،   Https://telegram.me/ilmokitab
257
20
یہ سُنتے ہی امام صاحبؒ سڑک پر غش کھا کر گر پڑے ــــ ہوش آنے پر جب پوچھا گیا کہ ایک لڑکے کی بات پر اس قدر متاثر ہونے کی کیا ضرورت تھی تو فرمایا " کیا عجب کہ اس کی زبان سے غیبی آواز نے مجھے تنبیہہ کی ہو!"    ایک دفعہ کسی کو مسئلہ بتارہے تھے کہ وہ شخص کہ اُٹھا: ابو حنیفہؒ ! خدا سے ڈر کر فتوی دیا کرو " یہ الفاظ سنتے ہی امام صاحبؒ خوف وخشیّت سے پيلے  پڑ گئے۔ تھر تھراتی ہوئی آواز میں فرمایا " بھائی  خُدا تمہارا بھلا کرے اگر مجھ کو یہ یقین نہ ہوتا کہ خدا مجھ سے مواخذہ کرے گا کہ تو نے جان بوجھ کر علم کو کیوں چھپایا تو مَیں ہرگز زبان نہ کھولتا!"       مشہور بزرگ حضرت فضیل بن عیاضؒ نے جب یہ سُنا کہ امام صاحبؒ کو اگر کسی مسئلے میں ذرا دشواری پیش آتی تو یہ سوچ کر رونے لگتے کہ ضرور کسی گناہ کی شامت میں پکڑ ہوگئی ہے فوراً وضو کرتے ــــ خدا کے آگے سجدہ ریز ہو جاتے اور رو رو کر تو بہ کرتے تھے۔"  یہ معلوم کر کے حضرت فضیلؒ پکار اُٹھے کہ : ابو حنیفہؒ کے گناہ بہت کم تھے اس لیے ان کو یہ خیال دامن گیر ہوتا تھا جو لوگ گناہوں میں سر سے پاؤں تک ڈُوبے ہوئے ہیں ان پر ہزار آفتیں آتی ہیں اور مطلق احساس نہیں ہوتا کہ یہ کوئی غیبی تنبیہہ بھی ہو سکتی ہے ۔"    ہاں یہ اسی بندۂ مومن ہی کا تو واقعہ ہے کہ ایک دن ان کے ملازم نے دوکان کھولی اور بطور فال نیک کے یہ کہہ دیا : "خدا ہمیں جنّت دے“ امام صاحبؒ نے یہ الفاظ سُنے اور خشوع بندگی کی شدّت سے آب دیدہ ہو گئے۔ روتے روتے ہچکی بندھ گئی ۔ دوکان پر بیٹھنا دو بھر ہو گیا ۔ دوکان بند کرائی اور کسی جنگل کی طرف روتے ہوئے نکل گئے واپس آئے اور قدرے سکون ہوا تو ملازم سے کہا ہم اس قابل کہاں ہیں کہ ایسی بڑی بات مُنہ سے نکالیں ــــ ارے ہماری جان عذاب سے ہی بچ جاتے تو بڑی خیریت ہوگی ۔" یہ کہہ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد دلایا جو فرمایا کرتے تھے کہ اگر حساب برابر برابر بھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ ســستا چھوٹا ۔ ___ ایسے ہوتے وہ لوگ جو " مسلمان " کہلائے ـــــ اور ایک ہم بھی ہیں۔ خُدا کے حسین آسـتانے سے بھاگ بھاگ کر ذلیل دنیا کے قدموں پر ناک رگڑنے والے ـــــ ! اور ہم مسلمان ہیں ! ہائے یہ احسانِ عظیم کہ خدا نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور ہائے یہ جاں گداز مسئلہ کہ ابھی ہمیں مسلمان ہی مرنا باقی ہے ـــــ لیکن ..... بس..... وائے بر حالِ ما!! Https://telegram.me/ilmokitab     _______
244