علم و کتاب
Открыть в Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Больше8 044
Подписчики
-824 часа
-177 дней
-9630 дней
Загружаем данные
Похожие каналы
Облако тегов
Нет данных
Возникли проблемы? Пожалуйста, обновите страницу или обратитесь к нашему support-менеджеру .
Входящие и исходящие упоминания
---
---
---
---
---
---
Привлечение подписчиков
октябрь '26окт. '26
октябрь '26
+21
в 0 каналах
сентябрь '26
+44
в 0 каналах
Get PRO
август '26
+170
в 0 каналах
Get PRO
июль '26
+189
в 0 каналах
Get PRO
июнь '26
+218
в 0 каналах
Get PRO
май '26
+228
в 1 каналах
Get PRO
апрель '26
+163
в 1 каналах
Get PRO
март '26
+62
в 2 каналах
Get PRO
февраль '26
+89
в 1 каналах
Get PRO
январь '26
+95
в 2 каналах
Get PRO
декабрь '25
+81
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '25
+109
в 1 каналах
Get PRO
октябрь '25
+105
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '25
+119
в 1 каналах
Get PRO
август '25
+173
в 2 каналах
Get PRO
июль '25
+151
в 2 каналах
Get PRO
июнь '25
+140
в 2 каналах
Get PRO
май '25
+95
в 1 каналах
Get PRO
апрель '25
+105
в 0 каналах
Get PRO
март '25
+153
в 2 каналах
Get PRO
февраль '25
+131
в 1 каналах
Get PRO
январь '25
+278
в 1 каналах
Get PRO
декабрь '24
+403
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '24
+500
в 2 каналах
Get PRO
октябрь '24
+487
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '24
+322
в 0 каналах
Get PRO
август '24
+322
в 3 каналах
Get PRO
июль '24
+323
в 4 каналах
Get PRO
июнь '24
+341
в 0 каналах
Get PRO
май '24
+331
в 1 каналах
Get PRO
апрель '24
+300
в 3 каналах
Get PRO
март '24
+265
в 1 каналах
Get PRO
февраль '24
+321
в 1 каналах
Get PRO
январь '24
+403
в 3 каналах
Get PRO
декабрь '23
+376
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '23
+132
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '23
+124
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '23
+92
в 0 каналах
Get PRO
август '23
+121
в 0 каналах
Get PRO
июль '23
+116
в 0 каналах
Get PRO
июнь '23
+77
в 0 каналах
Get PRO
май '23
+253
в 0 каналах
Get PRO
апрель '23
+81
в 0 каналах
Get PRO
март '23
+49
в 0 каналах
Get PRO
февраль '23
+126
в 0 каналах
Get PRO
январь '23
+137
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '22
+123
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '22
+209
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '22
+119
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '22
+62
в 0 каналах
Get PRO
август '22
+40
в 0 каналах
Get PRO
июль '22
+44
в 0 каналах
Get PRO
июнь '22
+138
в 0 каналах
Get PRO
май '22
+42
в 0 каналах
Get PRO
апрель '22
+17
в 0 каналах
Get PRO
март '22
+31
в 0 каналах
Get PRO
февраль '22
+28
в 0 каналах
Get PRO
январь '22
+56
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '21
+112
в 0 каналах
Get PRO
ноябрь '21
+52
в 0 каналах
Get PRO
октябрь '21
+112
в 0 каналах
Get PRO
сентябрь '21
+64
в 0 каналах
Get PRO
август '21
+43
в 0 каналах
Get PRO
июль '21
+63
в 0 каналах
Get PRO
июнь '21
+164
в 0 каналах
Get PRO
май '21
+38
в 0 каналах
Get PRO
апрель '21
+60
в 0 каналах
Get PRO
март '21
+103
в 0 каналах
Get PRO
февраль '21
+80
в 0 каналах
Get PRO
январь '21
+211
в 0 каналах
Get PRO
декабрь '20
+1 362
в 0 каналах
| Дата | Привлечение подписчиков | Упоминания | Каналы | |
| 16 октября | +1 | |||
| 15 октября | 0 | |||
| 14 октября | +1 | |||
| 13 октября | +5 | |||
| 12 октября | +2 | |||
| 11 октября | +2 | |||
| 10 октября | +1 | |||
| 09 октября | +1 | |||
| 08 октября | +2 | |||
| 07 октября | +1 | |||
| 06 октября | 0 | |||
| 05 октября | +1 | |||
| 04 октября | 0 | |||
| 03 октября | 0 | |||
| 02 октября | +1 | |||
| 01 октября | +3 |
Посты канала
اور سبق لینے کی تاکید کی:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا،”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ،تو ’زنہار‘ کے ایک معنی امان، پناہ اور رحم وغیرہ کے بھی ہیں ۔ ان معنوں میں لفظ ’زنہار‘ کے استعمال کی ایک مثال ہمیں اقبالؔ کے اس شعر میں ملتی ہے:
خام ہے جب تک، تو ہے مٹی کا اِک انبار تُو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
اسی طرح ”جاوید نامہ“ میں کہتے ہیں کہ یہ جو ’لااِلٰہ‘ کے دو حرف ہیں یہ محض’ گفتار‘ نہیں ہیں یہ ’تیغِ بے زنہار‘ ہیں ۔ایسی تلوار جو کسی کو نہیں بخشتی۔خواہ آئی ایم ایف ہو (کوئی اقتصادی طاقت) یا دنیا کی بڑی سے بڑی عسکری طاقت: ’لااِلٰہ‘۔اِن میں سے کسی کو اِلٰہ نہ جانو!
٭٭
| 2 | *غلطی ہائے مضامین*
*کُنجی کو کمر بند میں زِنہار نہ باندھو*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کوئی ہفتہ بھر پہلے برادرم سہیل احمد صدیقی کی ”بزمِ زبان فہمی“ میں ’زینہار فہمی‘ کی کوشش کی گئی۔ سوچا کہ اس کوشش میں اِس کالم کے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔ وہاں بات چلی تھی غالبؔ کی ایک نظم کے اُس شعر سے جس میں غالبؔ نے ”ہیں گے“ استعمال کیا ہے:
بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
یہ نہیں ہیں گے کسے کے یارِ غار
”ہیں گے“ اور ”ہے گا“ کا استعمال ہندوستان میں مغربی یوپی اور دہلی کے اطراف میں عام تھا۔ شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے بھی استعمال کر لیا ۔ علی گڑھ، امروہہ، بلند شہر اور مظفر نگر وغیرہ میں روز مرہ بول چال کا حصہ تھا۔ عوام کی بول چال ہی میں نہیں قدما کی شاعری میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں ، مثلاً بلبل کو گُل پر پھولتے دیکھ کرمیر تقی میرؔ نے محبوب کی کچھ ایسی مدح کی کہ محبوب بھی پھول کر کُپّا ہوگیا ہوگا:
تُو گُلِ باغ پر نہ بلبل پھول
وہ بھی ہے گا گلاب کا سا پھول
اسی طرح میرؔ صاحب نے اس دنیائے فانی میں ’حیات‘ کے قیدیوں کو ’موت‘ کے منہ میں جاتے دیکھ کرقدرے حیرت کا اظہار کیا:
قیدِ حیات، قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اِس کے گرفتار ایک دو
شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے تو سخاوت کر کے پوری غزل کی ردیف ہی ’ہے گا‘ باندھ دی۔ آپ کی خدمت میں غزل کامطلع عرض ہے:
دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا
پھر میر اَمّن دہلوی کی ”داستانِ باغ و بہار“ یعنی قصۂ چہار درویش کا دوسرا درویش چار زانو بیٹھ کر اپنی داستان یوں شروع کرتا ہے:
اے یارو! اِس فقیر کا ٹک ماجرا سنو
میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو
جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم
ہے گا ہمارا درد نپٹ لا دوا سنو
تو قدیم اُردو میں ایسی مثالیں اور بھی بہت مل جائیں گی۔ مگرجدید اُردو کی نظم و نثر میں ”ہے گا“ یا ”ہیں گے“ کے استعمال کی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ تاہم بول چال میں ہمارے صوبہ سند ھ کے بعض شہروں (بالخصوص کراچی ، حیدر آباد) اورصوبہ پنجاب کے کچھ شہری علاقوں میں اب بھی ”ہے گا“ اور ”ہیں گے“ بولنے والے جا بجا ملتے ہیں گے۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ فاروق قیصر مرحوم کے مقبول طنزیہ و مزاحیہ پروگرام ”کلیاں “ کے ایک دلچسپ کردار کا نام ہی ”ہیگا“ تھا ۔ انکل سرگم جب بھی ”ہیگا“ کوآواز دے کر بُلاتے، وہ اُٹھ کر جھٹ جواب دیتا:
”انکل! ہیگا موجود ہے گا، جیسے پانی میں دودھ ہے گا!“
(دودھ میں پانی ملانے والوں پر لطیف طنز)
مگر ہمارے آج کے کالم کا موضوع تو ”ہے گا“ نہیں ہے گا۔آج کاموضوع ہے گا ’زینہار‘ اور’ زنہار‘۔
ہاں تو……اُس روز ”بزمِ زبان فہی“ میں جب ”زینہار“ یا ”زنہار“ کے متعلق بار بار استفسار کیا گیا تو ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے۔ سو، اُس وقت تو بزم میں بس یہ عرض کر دیا تھا کہ
ؔؔ ”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ، مگر اُردو میں ’زنہار‘ بالعموم نفی کے لیے آتا ہے۔ ہرگزاور حاشا وغیرہ کے معنوں میں “۔
پھر اِن معنوں میں زنہار کے استعمال کی جو مثال فور ی طور پر ذہن میں آئی وہ اکبرؔ الٰہ آبادی کا ایک شعر تھا۔سو، شعر بھی عرض کر دیا:
کُنجی کو کمر بند میں زنہار نہ باندھو
لوہے سے بہت ڈرتی ہے سرکار ہماری
سنہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مقامی کارخانوں میں ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے انگریزی سامراج نے 1878ء میں ایک سخت قانون بنایا تھا۔ ہر قسم کا لوہا، حتیٰ کہ خام لوہا رکھنا اور جمع کرنابھی جرم قرار دے دیا گیا۔ ممکن ہے اکبرؔ نے یہ شعر اُسی تناظرمیں کہا ہو۔
’زِنہار‘ فارسی لفظ ہے۔ اصلاً یہ لفظ’زینہار‘ ہے۔ تخفیف کر کے ضرورتِ شعری کے تحت ’زنہار‘ کر لیا گیا ہے۔ بے ضرورتِ شعری، یعنی نثر میں بھی، ’زنہار‘ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ ویسے شعرائے کرام نے اشعار میں بھی دونوں طرح سے استعمال کیا ہے۔ تخفیف کے ساتھ بھی اور تخفیف کے بغیر بھی۔ مثلاً میرؔ نے ظالم محبوب کے متوقع مظلومین یعنی نو واردانِ عشق کو”آگے خطرہ ہے“ کی تنبیہ کرتے ہوئے ڈرایا:
ہونا نہ چار چشمِ دل اُس ظلم پیشہ سے
ہُشیار، زینہار، خبردار دیکھنا
پھر میرؔ صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا ، بلکہ بڑے شدّ و مد سے (دیگراں را) نصیحت کا فریضہ بھی ادا کیا اور فارغ ہوئے شتابی سے:
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اِک آفت ہے
عشق نہ کر، زنہار نہ کر، واللہ نہ کر، باللہ نہ کر
سو، دیکھ لیا ہوگا آپ نے میرؔ کے ان اشعار میں ، کہ زینہار یا زنہار کا لفظ احتیاط کی تلقین کے لیے یا کسی خطرے سے ہوشیار اور خبردار کرنے کو کلمۂ تاکید وتنبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرگز، حاشا، بالکل، کبھی اور مطلق کے معانی و مفاہیم میں۔ مگر یہ لفظ محض نفی کے لیے، یعنی صرف منع کرنے کے لیے نہیں آتا، اثبات میں کسی بات پر اصرار کرنے یا زور دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میرؔ کی طرح غالبؔ نے بھی نئے نویلے عشاق کو نصیحت کرتے ہوئے اُنھیں اپنی ہی مثال دے دے کر عبرت دلائی | 25 |
| 3 | *دور المكتبات في التاريخ الإسلامي*
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ | 175 |
| 4 | بیتی یادیں (04) آخری
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مولانائے مرحوم سے مولوی عبد المتین منیری کے لئے ہوئے یادگار انٹرویو کا آخری حصہ
www.youtube.com/watch?v=MrBsAeTq3N0&t=134s | 200 |
| 5 | شعر کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے صحیح الفاظ، شاعر کے نام اور مفہوم کی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ محض قافیہ و ردیف کی دل کشی یا کسی مشہور مصرعے کی مقبولیت اس کے استعمال کے لیے کافی نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نثر کی اپنی ایک مستقل قوت ہے۔ اچھی نثر کو ہر قدم پر شعر کی بیساکھی درکار نہیں ہوتی۔ شاعری نثر کی معاون ضرور ہے، متبادل نہیں۔ نثر نگار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کو اپنے الفاظ میں بھی مؤثر انداز سے بیان کرسکے اور جہاں شعر کی ضرورت محسوس ہو، وہاں اسے اس خوبی سے برتے کہ شعر تحریر میں اجنبی پیوند بننے کے بجائے اس کا فطری جزو معلوم ہو۔
اردو نثر میں شاعری کی اہمیت کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ نثر خیال کو زبان دیتی ہے اور شاعری اس زبان کو آہنگ عطا کرتی ہے؛ نثر بات سمجھاتی ہے اور شاعری کبھی کبھی وہ بات دل میں اتار دیتی ہے۔ جب فکر کی سنجیدگی، نثر کی روانی اور شعر کی رعنائی و زیبائی یکجا ہوجائیں تو تحریر محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے؛ اسی طرح بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کا آہنگ دیر تک دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے۔
کبھی کبھی آپ کا برمحل شعر آپ کی شعر دانی کی دلیل بن جاتا ہے اور کبھی کبھی بے محل استعمال ذلیل کرجاتا ہے۔
آپ یہ بالکل نہ سوچیں کہ آپ فکر دیتے ہیں نہیں آپ اپنے قارئین کر فکر کے ساتھ راہ دیتے ہیں، کتابوں کی طرف کھینچتے ہیں، گل و گلشن کی دعوت دیتے ہیں، فکر و فن کا خوگر بناتے ہیں، الفاظ و تراکیب کا درست استعمال بتاتے ہیں، لفظی تبدیلیوں کا ہنر سکھاتے ہیں، ہر سطر ہر صفحہ پر مقالہ و مضمون قاری کو کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے۔آپ بھی دینے والے ہیں تو اچھی چیزیں اپنے مضمون کے ذریعہ دیجیے ۔
(تین جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری) | 184 |
| 6 | اردو مضامین میں شاعری کی اہمیت
(ناصرالدین مظاہری)
اردو میں مضامین و مقالات کی بے شمار اقسام ہیں ، کچھ ادبی تو کچھ فقہی، کچھ سوانحی تو کچھ تخیلاتی، کچھ علمی تو کچھ تحقیقی ، کچھ جذباتی تو کچھ مطالعاتی یعنی اردو نثر نثر نہیں مال سینٹر اور بازار ادبستان ہے ، اردو نثر محض الفاظ کی ترتیب، جملوں کی ساخت اور خیالات کی ترسیل کا نام نہیں؛ یہ احساسات کی ترجمانی، جذبات کی عکاسی، تخیل کی پرواز اور فکر کی رعنائی کا بھی ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ نثر جب شاعری سے ہم آغوش ہوتی ہے تو اس کے دامن میں معنویت کی وسعت، اسلوب کی دل آویزی، بیان کی چاشنی اور تاثیر کی وہ دولت جمع ہوجاتی ہے جو خشک سے خشک موضوع کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے بڑے نثاروں اور نثر نگاروں نے اپنی تحریروں میں اشعار سے خوب کام لیا ہے اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے کبھی کسی شاعر کا سہارا لیا ہے، کبھی کسی شعر کو اپنے مضمون کا عنوان بنایا ہے اور کبھی کسی مصرعے کو اپنی پوری تحریر کا حاصل قرار دیا ہے۔
شاعری اردو نثر کے لیے محض آرائش و زیبائش کا سامان نہیں، بلکہ اظہار و ابلاغ کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔ بسا اوقات نثر نگار طویل عبارت لکھ کر بھی وہ بات نہیں کہہ پاتا جو ایک شعر کے دو مصرعے کہہ دیتے ہیں۔ شعر میں الفاظ کی کفایت، معانی کی وسعت اور جذبات کی شدت جمع ہوجاتی ہے۔ ایک اچھا شعر اپنے اندر ایک پورا مضمون سمیٹ سکتا ہے۔ وہ ایک واقعے کی ترجمانی، ایک عہد کی تصویر کشی، ایک کیفیت کی عکاسی اور ایک فکر کی توضیح کرسکتا ہے۔ نثر نگار جب ایسے شعر کو اپنی تحریر میں جگہ دیتا ہے تو گویا وہ اپنے مضمون کے لیے ایک ایسا آئینہ منتخب کرتا ہے جس میں اس کے خیالات زیادہ واضح اور اس کے احساسات زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔
شاعری نثر میں موسیقیت، روانی، دل کشی اور ادبی چاشنی پیدا کرتی ہے۔ ایک ہی بات کو سادہ نثر میں بیان کیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ محض ایک اطلاع بن کر رہ جائے، لیکن اسی بات کے ساتھ کوئی موزوں شعر شامل ہوجائے تو وہ اطلاع احساس میں، خیال کیفیت میں اور عبارت تاثیر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ شعر نثر کے بہاؤ میں کہیں ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے، کہیں جذبات کی شدت بڑھاتا ہے اور کہیں قاری کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی نثر میں اشعار کا برمحل استعمال تحریر کو بوجھل ہونے سے بچاتا اور اس کی دل آویزی میں اضافہ کرتا ہے۔
نامور انشا پردازوں نے شاعری سے ہمیشہ استفادہ کیا ہے۔ سرسید احمد خان کی نثر ہو، مولانا شبلی نعمانی کی تحریریں ہوں، مولانا ابوالکلام آزاد کا خطیبانہ اسلوب ہو، پطرس بخاری کی شگفتہ نگاری ہو یا شوکت تھانوی کی متانت ہو ، رشید احمد صدیقی کی ظرافت آمیز نثر، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بصیرت افروز فکری نگارشات ہوں یا دیگر ارباب قلم کے علمی و قلمی گل و لالہ ہر جگہ شاعری اور شعری ذوق کی اہمیت کسی نہ کسی صورت میں محسوس کی جاسکتی ہے۔
بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوب میں آیات و اشعار، ادبی تلمیحات اور زبان کی موسیقیت نے نثر کو ایک غیر معمولی شان عطا کی ہے۔ ان کے یہاں نثر کبھی شعر کی طرح گنگناتی ہے، کبھی خطابت کی طرح گرجتی ہے اور کبھی کسی درد مند دل کی طرح دھیرے دھیرے اپنے احساسات بیان کرتی ہے۔
شاعری کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ وہ نثر میں تاریخی، تہذیبی اور ادبی حوالوں کی معنویت بڑھاتی ہے۔ میر، غالب، اقبال، اکبر الہ آبادی، حالی، ذوق، مومن اور دیگر شعراء کے اشعار محض ادبی سرمایہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی یادداشت کا حصہ ہیں۔ کسی مضمون میں ان کا برمحل استعمال قاری کے ذہن میں کئی دریچے کھول دیتا ہے۔ کبھی ایک شعر کسی تاریخی واقعے کی معنویت واضح کرتا ہے، کبھی کسی معاشرتی رویے پر تبصرہ بن جاتا ہے اور کبھی کسی انسانی تجربے کی ایسی ترجمانی کرتا ہے جسے نثر میں بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں۔
تاہم نثر میں شاعری کے استعمال کا بھی ایک سلیقہ ہے۔ ہر جگہ شعر ٹھونس دینا، محض اپنی شعری معلومات کا مظاہرہ کرنا یا مضمون سے غیر متعلق اشعار کی بھرمار کردینا تحریر کی خامی ہے۔ شعر اسی وقت نثر کا حسن بنتا ہے جب وہ مضمون کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، خیال کی وضاحت کرے، جذبے کی شدت بڑھائے یا بات کو زیادہ مؤثر بنائے۔
آپ نے بنگلور میں دیکھا ہوگا کہ خواتین پھول کو اپنے بالوں میں سجاتی ہیں، ہمارے یہاں مکان کی آرائش میں پھولوں کا استعمال عام ہے یہی پھول بے موقع و بے محل استعمال کرکے دیکھیں دنیا پاگل کہے گی کیونکہ آپ نے وضع الشئی فی غیر محلہ کا گناہ کیا ہے۔ کس شعر کا انتخاب کا جگہ کرنا ہے یہ ایک فن ہے اور فن کے فن کار بہت مشکل سے نظر آتے ہیں۔بعض تو شعر پورا رکھ دیتے ہیں جب کہ اس کے کسی ایک مصرع سے ان کا کام پورا ہورہا ہے اور دوسرے مصرع کا فکر و علاقہ ہی دوسرا ہے۔ | 163 |
| 7 | *وفیات مورخہ:اکتوبر 15*
1240ء رضیہ سلطانہ۔ حکمران سلطنت دہلی
1605ء جلال الدین محمد اکبر۔ مغل شہنشاہ
1917ء ماتا ہری۔ ولندیزی جاسوس
1964ء احمد حسین کاظمی۔ مولانا ،
1967ء محبوب علی (میر)۔
1971ء ضیاء الحسن موسوی (سید)۔ ،
1971ء یٰسین میاں قادری چشتی (سید)۔ ،
1979ء عبدالقادر۔ وزیر خزانہ پاکستان
1991ء محمد عرفان صدیقی۔ شاعر
1994ء قمر امروہوی (مہتاب الرب فاروقی )۔ ،
1999ء فضل حق قریشی۔ افسانہ نگار، صحافی
2003ء ممتاز ہاشمی اشرفی (سید)۔ ،
2013ء نعیم میرٹھی (نعیم الرحمٰن)۔ ،
2013ء اشفاق حسین نعیمی۔ مصنف, مفتی
2022ء محمد عزیر شمس الحق۔ بھارتی عالم ومحقق
2023ء غلام نبی خیال۔ کشمیری شاعر | 179 |
| 8 | گروپ ممبر مولوی عبد الاحد ابو حسینا نے اہتمام سے ہمارے استفسار کا یہ جواب دیا ہے، ہم ان کے تہ دل سے شکر گذار ہیں۔ اڈمن علم وکتاب۔۔۔ السَـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
میں نے کئی ایک اکاؤنٹ سے دیکھ لیا مگر مجھے ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آئی، چینل/گروپ یا لائبریری وغیرہ سے جڑنا ہو یا پھر یہاں سے کوئی مواد ڈاؤنلوڈ کرنا ہو، مجھے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا۔
تاہم اگر کسی ممبر نے آپ کو کوئی اسکرین شاٹ وغیرہ بھیجا ہو تو میں دیکھنا چاہوں گا تاکہ معاملہ اور آسانی سے سمجھ سکوں۔
اسی کے ساتھ اگر میں لائبریری و کمیونٹی کے اختیارات و ترتیبات پر نظر کروں تو شاید سمجھنے میں اور آسانی ہو۔
پرانی اور نئی لائبریری میں ایک فرق
اس نئی لائبریری میں ایک فرق مجھے یہ نظر آیا کہ یہاں پر صرف ایڈمن ہی پیغام بھیج سکتے ہیں، دیگر ممبران کو اس کی اجازت نہیں ہے، جب کہ پرانی لائبریری میں سبھی ممبران کو میسج کرنے کی اجازت تھی، لیکن اب ۱۰ stars کے ساتھ اجازت ہے۔
لائبریری کا عام ممبران کے لیے بند رہنا ہی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ دیگر ممبران کو تمام مواد و سلسلے ترتيب وار حاصل ہوں، جہاں تک تبصروں وغیرہ کی بات ہے تو علم و کتاب گروپ بغیر کسی قید و بند کے ساتھ تمام ممبروں کے لیے کھلا ہے۔ | 245 |
| 9 | *وفیات مورخہ:اکتوبر 14*
1092ء نظام الدین طوسی۔ وزیر سلجوقی
1973ء راجا محمد امیر احمد خان۔ راجہ محمود آباد
1973ء محمد عامر احمد خان ۔
1980ء مفتی محمود۔ صدر جمعیت علمائے اسلام پاکستان
1988ء صبا متھراوی۔ شاعر
1999ء عطا کریم برق۔ ڈاکٹر ،
2004ء آفرین بیگ۔ ٹی وی پروڈیسر
2005ء محمد عثمان قاسمی بھاگل پوری۔ مولانا
2012ء طه أبو الليل۔ مصری داعی
2014ء محمد اسماعیل مدنی۔ مولانا | 240 |
| 10 | بیتی یادیں (03)
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی سابق مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی آب بیتی پر مشتمل مولوی عبد المتین منیری کو سنہ 2007ء میں دیا ہوا یاد گار انٹرویو
لنک
www.youtube.com/watch?v=XQmXgjFObZk | 272 |
| 11 | سلسلہ نمبر: 320
انتخاب مطالعہ
تحریر: عشرت علی صؔدیقی
*گورِ امیر*
سمرقند کی ترقی اور اس کی شہرت کا سہرا بلاشبہ تؔیمور کے سر ہے، اس نے نہ جانے کتنے ملک تاراج کیے، کتنے بادشاہوں کو اپنا باج گزار بنایا،کتنے محلوں کو لوٹا اور کتنی بستیوں کو اجاڑ دیا ؛مگر جب اپنی راجدھانی کی تعمیر کا خیال آیا تو اس پر ساری دنیا کی دولت خرچ کردی اور سمرقند تجارت کا مرکز، تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور دنیا کی بہترین فن تعمیر کی نمائش گاہ بن گیا ۔
ٹوٹی ہوئی نالیوں گرد سے اٹی ہوئی سڑکوں، گنجان بازاروں، اور کچے مکانوں سے گزر کر جیسے ہی ہم ایک نیم کچی اور نیم پکی سڑک پر آئے ویسے ہی ہم کو سامنے ایک نیم نیلا،نیم پیلا گنبد دکھائی دیا، فاصلے پر سے ایسا معلوم ہوا جیسے آسمان کے نیلے پردے پر کسی مصور نے ایک رنگین مرقع بنا دیاہو، جیسے جیسے ہم قریب آتے گئے ویسے ویسے خاک،دھول کی زیادتی ہوتی گئی اور جگہ جگہ مکانوں کے کھنڈر نظر آنے لگے، ان کھنڈروں کے بیچ میں تؔیمور کا مقبرہ آثار قدیمہ کے ایک ہیرو کی شان سے کھڑا ہے ۔ اس کے چاروں طرف لگے ہوئے ببول کے درخت اور ان کی ہری پتیاں اور زرد پھول ایک قدرتی زیور کا کام کرتے ہیں ۔
ایک اجاڑ کھنڈر کے بعد ہم ایک بہت بڑی محراب سے مقبرے میں داخل ہوئے، یہ محراب نصف دائرے کی شکل کی ہے اور کسی ستون یا دیوار پر نہیں لگی ہے، بس ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ادھر اُدھر کی گھاس سے اُگ آئی ہے ۔ اس میں نیلے اور ہرے پتھر بڑے سلیقے سے جڑے ہیں اور ان پر ایسے نقش و نگار بنے ہیں کہ دیکھنے والے کو کہیں پر کوئی جوڑ نہیں نظر آتا ۔
یہاں سے قبر کی عمارت تک ایک پکی روش بنی ہے اور مقبرے کے اوپر نیلے پیلے رنگ کا قبہ ہے، سامنے کی دیواروں پر گہرے رنگ کا بہت عمدہ کام بنا ہے، مقبرے کا دروازہ تنگ ہے اور باہر کی طرف اس پر انگور کی ہری بیل چڑھی ہے،جس کی وجہ سے وہ کافی تاریک ہوگیا ہے، ایک بزرگ صورت پیر مرد ہری عبا اور پگری میں ملبوس کمال سنجیدگی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ان کے پاس ہی کچھ تصویریں اور طغرے رکھے تھے ۔
تیمور کی تربت سبز پتھر کی بنی ہے، یہ پتھر اتنا گہرا سبز ہے کہ سیاہی مائل معلوم ہوتا ہے ؛ مگر اس کے باوجود روشنی اس کے کناروں سے آر پار جاسکتی ہے ۔ اسی قسم کا(اگرچہ رنگ میں اس سے کسی قدر ہلکا) پتھر دیواروں میں بھی لگا ہے، یہ پتھر تؔیمور ہندوستان سے لے گیا تھا ۔ تربت کی دیوار کے چاروں طرف تیمور کا شجرہ خط کوفی میں لکھا ہوا ہے، تربت کے سرہانے چاندی کے لوبان دان میں لوبان سلگ رہا تھا!
(*لینن گراڈ تا سمر قند، صفحہ: ۱۱۵، طبع: عبد الحق اکیڈمی، اشاعت منزل، اردو گلی، حیدرآباد، دکن*)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی | 292 |
| 12 | بعض ممبران نے ہمیں میسیج بھیجا ہے کہ چینل کا مواد ڈون لوڈ کرنے میں دشواری ہورہی ہی اور انہیں یہ مسیج پہنچ رہا ہے۔ It blocks me to join. By saying that I do not have enough stars برائے مہربانی بتائیں کہ اس دشواری کا حل کیا ہے۔ تاکہ چینل کی منفعت عام ہو۔ عبد المتین منیری اڈمن | 223 |
| 13 | مقدمہ شعر وشاعری | 235 |
| 14 | بوطیقا ۔ شمس الرحمن فاروقی | 257 |
| 15 | اخلاق احمد دہلوی کی آب بیتی یادوں کا سفر کی جملہ قسطیں علم و کتاب لائبریری پر پوسٹ کردی گئی ہیں۔ https://t.me/ilmokitablibrary/47 | 263 |
| 16 | علم وکتاب ٹیلگرام لائبریری
احباب کی سہولت کے لئے ٹیلگرام پر علم و کتاب لائبریری کا اپڈیٹ جاری ہے۔ قند مکرر کے طور پر سابقہ پوسٹ شدی (32) خاکے اس پر پوسٹ ہوچکے ہیں۔
احباب سے گذارش ہے کہ وہ ہمارے اصل گروپ یا چینل چھوڑے بغیر اگر دلچسپی ہو تو اس لائبریری کو بھی جوئن کریں۔ واضح رہے کہ ٹیلگرام لائبریری پر منتخب چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں،
شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن
https://telegram.me/ilmokitablibrary | 280 |
| 17 | https://t.me/ilmokitablibrary/1/56 | 1 |
| 18 | *وفیات مورخہ:اکتوبر 13*
1240ء رضیہ سلطانہ۔ فرماں روا سلطنت دہلی
1897ء احمد بن خالد الناصری۔ عرب مورخ
1900ء امیر مینائی۔ شاعر، مصنفی امیر اللغات
1902ء نذیر حسین محدث دہلوی۔ شیخ الکل، شمس العلماء، میاں
1927ء خلیل احمد انبھیٹوی۔ حضرت مولانا ، مصنف بذل المجھود شرح سنن ابو داؤد
1932ء علی امام۔ سر، بہار کے مسل لیڈر
1938ء احسان اللہ شاہ ۔ پیر جھنڈا
1951ء محمد علی لاہوری۔ سربراہ لاہوری قادیانی جماعت، مترجم انگریزی قرآن
1975ء حمود الرحمن۔ جسٹس
1981ء جمیل احمد۔ خواجہ، اردو انگریزی مصنف ومورخ
1981ء خواجہ جمیل احمد۔ اردو انگریزی مصنف ومورخ
1982ء قاضی فیض محمد۔ کارکن تحریک خلافت
1997ء اظہر سہیل۔ ہاکستانی صحافی
1999ء انور ظہیر خان۔ ادیب
2000ء عبداللہ حسینی۔ ڈاکٹر ، سرجن
2009ء اخلاق حسین قاسمی دہلوی۔ مولانا ، سید
2014ء محمد ارشاد ماجردی۔
2021ء عبد الجبار شاکر۔ محقق، اقبال شناس | 244 |
| 19 | 27 جنوری 2007 کو یوم عاشورہ کے جلوس کے موقع پر گورکھپور میں تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں ایک ہندو نوجوان ہلاک ہوا تھا۔ پرویز پرواز نے 26 ستمبر 2008 کو ”ہندو یوا واہنی“ کے لیڈر، گورکھ ناتھ مندر کے مہنت اور اس وقت کے گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور یہ الزام لگایا کہ انھوں نے اشتعال انگیز تقریر کرکے اس ہندو نوجوان کی موت کا انتقام لینے کی دھمکی دی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک بار یوگی آدتیہ ناتھ پارلیمانی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔ اس وقت سومناتھ چٹرجی لوک سبھا کے اسپیکر تھے۔ انھوں نے ہمدردانہ انداز میں پوچھا کہ یوگی جی بتائیے آپ کے ساتھ کیا ہوا، انصاف کیا جائے گا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف کیس قائم کیا گیا ہے اور پولیس ان کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ ارکانِ ایوان نے پولیس کے رویے کی مذمت کی۔ یوگی آدتیہ ناتھ اسی کیس کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ اس وقت کے شہر کے مئیر ارون چودھری اور ایم ایل اے رادھا موہن اگروال وغیرہ کے خلاف تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس وقت ضلع مجسٹریٹ نے یوگی پر ہندو نوجوان کے گھر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس حکم پر عمل کیا۔ لیکن جب اس نوجوان کی موت ہو گئی تو انھوں نے موقع واردات پر جا کر دھرنا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت تشدد پھوٹ پڑا۔ پولیس نے کرفیو نافذ کر دیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کرفیو کی خلاف ورزی کی جس پر ان کو اور ہندو یووا واہنی کے کچھ کارکنوں کے ساتھ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی گرفتاری پر ہندو یووا واہنی کے کارکن ناراض ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی ہوئی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گورکھپور ممبئی گودان ایکسپریس کے متعدد ڈبوں کو نقصان پہنچا۔
بہرحال جب ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو ریاستی اسمبلی نے تین مئی 2017 کو پرویز پرواز کے دائر کردہ کیس میں عدالتی کارروائی چلانے کی اجازت نہیں دی اور بعد میں تمام مقدمات خارج کر دیے گئے۔ پرویز پرواز نے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جسے 22 مئی 2018 کو خارج کر دیا گیا۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس نے بھی اسے خارج کر دیا۔ انھیں بعد ازاں ستمبر 2018 میں ایک مبینہ اجتماعی عصمت دری کیس میں انھیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ پرویز پرواز نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ لیکن عدالت نے ثبوتوں کی بنیاد پر جولائی 2020 میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔ عصمت دری کا الزام لگانے والی خاتون نے ان کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص محمود عرف جمن بابا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں ضلع عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ جمن بابا کا پہلے ہی جیل میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب جبکہ پرویز پرواز کا بھی انتقال ہو گیا تو اس کے ساتھ ہی گورکھپور کی ملی سیاست و صحافت کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ان کا انتقال جہاں ان کے اہل خانہ کا ذاتی نقصان ہے وہیں ملی سیاست و صحافت کا بھی نقصان ہے۔
موبائل: 9818195929 | 211 |
| 20 | صحافی اور مسلم مجلس کے رہنما پرویز پرواز بھی چل بسے
سہیل انجم
عمر قید کی سزا کاٹ رہے گورکھپور کے صحافی اور مسلم مجلس کے لیڈر پرویز پرواز کے انتقال کی خبر نے بہت سے دلوں کو ملول کر دیا۔ وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے۔ ان کو جیل میں شوگر اور بلڈ پریشر سمیت کئی عارضے لاحق ہو گئے تھے۔ ہفتے کی شب میں ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ جیل انتظامیہ نے انھیں ضلع اسپتال میں داخل کرایا جہاں دیر رات ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 72 برس کے تھے اور گزشتہ آٹھ برس سے جیل میں تھے۔ اس سے قبل جیل انتظامیہ نے ان کی آنکھوں کا آپریشن بھی کرایا تھا۔ وہ ترکمان پور گورکھپور کے باشندہ تھے۔ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ انھوں نے گورکھپور کے ہندی اخباروں میں بھی کام کیا تھا اور وہ خود اپنا بھی ایک اردو روزنامہ نکال رہے تھے۔ جس کا نام غالباً ’گورکھپور کا غازی‘ تھا۔
بستی اور گورکھپور اضلاع میں مسلم مجلس کی توسیع اور عوام میں اس کو مقبول بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ دہلی آنے سے قبل ان کی تحریک پر میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں مقامی طور پر سرگرم رہا۔ میں نے ان کے ساتھ کئی مقامات کے دورے بھی کیے تھے۔ وہ اکثر و بیشتر ہمارے گاوں آیا کرتے جہاں کئی لوگوں سے ان کے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے تھے۔ انھوں نے ہمارے گاوں میں مسلم مجلس یوپی کے صدر اور رکن اسمبلی فضل الباری کے دورے کا پروگرام بنایا۔ اس وقت مجلس کا مقامی ذمہ دار میں تھا۔ دورے سے ایک روز قبل میں نے لاوڈ اسپیکر سے علاقے میں اعلان کرا دیا۔ فضل الباری جب پہنچے تو زبردست ہجوم تھا۔ انھوں نے بہت اچھی تقریر کی جس کا عوام پر خاصا اثر پڑا۔ اس موقع پر میں نے ان کا انٹرویو کیا جو بعد ازاں ہفت روزہ اخبار نو میں شائع ہوا تھا۔ دہلی آنے کے بعد ایک روز میں سینئر صحافی محفوظ الرحمن صاحب کے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ فضل الباری آگئے۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے محفوظ صاحب کو بتایا کہ میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں رہا ہوں۔ میں نے اپنے گاوں میں ان کے پروگرام اور انٹرویو کا بھی حوالہ دیا۔ اس پر فضل الباری نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم تو انھیں سیاست میں لانا چاہتے تھے مگر یہ صحافت میں آگئے۔ محفوظ صاحب مسکرا کر رہ گئے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا پرویز پرواز ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ لیکن ان کو عشق اردو زبان سے تھا۔ اردو میں لکھنا پڑھنا ان کو زیادہ پسند تھا۔ وہ مسلم معاملات میں مقامی طور پر کافی سرگرم رہتے تھے۔ جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا کوئی معاملہ سامنے آتا وہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے۔ انھیں صحافتی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور عوامی حلقوں میں بھی۔ وہ ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بذلہ سنجی بھی تھی۔ حاضر جواب بھی تھے۔ ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ کتابوں کے مطالعے کے بھی شوقین تھے۔ 1980 کے عشرے میں بازار میں آنے والی چھوٹی موٹر سائیکل ’وکی‘ سے چلتے تھے۔ جو پرانی بھی تھی اور خراب بھی ہو جایا کرتی تھی۔ اسی سے وہ مختلف علاقوں کے دورے کرتے اور مسلم معاملات کو سرکاری حکام کے سامنے اٹھاتے۔ ضلع انتظامیہ میں ان کے اچھے مراسم رہے ہیں۔ بالخصوص پولیس محکمہ کے بہت سے اہل کار ان سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان کی عوامی خدمات کی وجہ سے قدر بھی کرتے تھے۔ وہ ان سے اپنے ذاتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ہندو مسلم تنازعات کو حل کراتے۔ | 194 |
