علم و کتاب
رفتن به کانال در Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
نمایش بیشتر8 123
مشترکین
-524 ساعت
-227 روز
-7130 روز
در حال بارگیری داده...
کانالهای مشابه
ابر برچسبها
هیچ دادهای
مشکلی وجود دارد؟ لطفاً صفحه را تازه کنید یا با مدیر پشتیبانی ما تماس بگیرید.
اشارات ورودی و خروجی
---
---
---
---
---
---
جذب مشترکین
سپتامبر '26
سپتامبر '26
+29
در 0 کانالها
اوت '26
+170
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '26
+189
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '26
+218
در 0 کانالها
Get PRO
مه '26
+228
در 1 کانالها
Get PRO
آوریل '26
+163
در 1 کانالها
Get PRO
مارس '26
+62
در 2 کانالها
Get PRO
فوریه '26
+89
در 1 کانالها
Get PRO
ژانویه '26
+95
در 2 کانالها
Get PRO
دسامبر '25
+81
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '25
+109
در 1 کانالها
Get PRO
اکتبر '25
+105
در 1 کانالها
Get PRO
سپتامبر '25
+119
در 1 کانالها
Get PRO
اوت '25
+173
در 2 کانالها
Get PRO
ژوئیه '25
+151
در 2 کانالها
Get PRO
ژوئن '25
+140
در 2 کانالها
Get PRO
مه '25
+95
در 1 کانالها
Get PRO
آوریل '25
+105
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '25
+153
در 2 کانالها
Get PRO
فوریه '25
+131
در 1 کانالها
Get PRO
ژانویه '25
+278
در 1 کانالها
Get PRO
دسامبر '24
+403
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '24
+500
در 2 کانالها
Get PRO
اکتبر '24
+487
در 1 کانالها
Get PRO
سپتامبر '24
+322
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '24
+322
در 3 کانالها
Get PRO
ژوئیه '24
+323
در 4 کانالها
Get PRO
ژوئن '24
+341
در 0 کانالها
Get PRO
مه '24
+331
در 1 کانالها
Get PRO
آوریل '24
+300
در 3 کانالها
Get PRO
مارس '24
+265
در 1 کانالها
Get PRO
فوریه '24
+321
در 1 کانالها
Get PRO
ژانویه '24
+403
در 3 کانالها
Get PRO
دسامبر '23
+376
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '23
+132
در 0 کانالها
Get PRO
اکتبر '23
+124
در 1 کانالها
Get PRO
سپتامبر '23
+92
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '23
+121
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '23
+116
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '23
+77
در 0 کانالها
Get PRO
مه '23
+253
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '23
+81
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '23
+49
در 0 کانالها
Get PRO
فوریه '23
+126
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '23
+137
در 0 کانالها
Get PRO
دسامبر '22
+123
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '22
+209
در 0 کانالها
Get PRO
اکتبر '22
+119
در 0 کانالها
Get PRO
سپتامبر '22
+62
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '22
+40
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '22
+44
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '22
+138
در 0 کانالها
Get PRO
مه '22
+42
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '22
+17
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '22
+31
در 0 کانالها
Get PRO
فوریه '22
+28
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '22
+56
در 0 کانالها
Get PRO
دسامبر '21
+112
در 0 کانالها
Get PRO
نوامبر '21
+52
در 0 کانالها
Get PRO
اکتبر '21
+112
در 0 کانالها
Get PRO
سپتامبر '21
+64
در 0 کانالها
Get PRO
اوت '21
+43
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئیه '21
+63
در 0 کانالها
Get PRO
ژوئن '21
+164
در 0 کانالها
Get PRO
مه '21
+38
در 0 کانالها
Get PRO
آوریل '21
+60
در 0 کانالها
Get PRO
مارس '21
+103
در 0 کانالها
Get PRO
فوریه '21
+80
در 0 کانالها
Get PRO
ژانویه '21
+211
در 0 کانالها
Get PRO
دسامبر '20
+1 362
در 0 کانالها
| تاریخ | رشد مشترکین | اشارات | کانالها | |
| 21 سپتامبر | +1 | |||
| 20 سپتامبر | 0 | |||
| 19 سپتامبر | +2 | |||
| 18 سپتامبر | 0 | |||
| 17 سپتامبر | +2 | |||
| 16 سپتامبر | +1 | |||
| 15 سپتامبر | +1 | |||
| 14 سپتامبر | +1 | |||
| 13 سپتامبر | 0 | |||
| 12 سپتامبر | +4 | |||
| 11 سپتامبر | +10 | |||
| 10 سپتامبر | 0 | |||
| 09 سپتامبر | +2 | |||
| 08 سپتامبر | +1 | |||
| 07 سپتامبر | 0 | |||
| 06 سپتامبر | 0 | |||
| 05 سپتامبر | +1 | |||
| 04 سپتامبر | +1 | |||
| 03 سپتامبر | +1 | |||
| 02 سپتامبر | 0 | |||
| 01 سپتامبر | +1 |
پستهای کانال
*سچی باتیں (10؍مارچ 1941ء)… فوج اور قحبہ خانے*
*از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ*
گیارہوں اور بارہویں اور تیرہویں صدی مسیحی کا زمانہ ہے، اور دنیائے مسیحیت ایک شدید مذہبی بحران میں مبتلا۔ انگلستان اور فرانس اور وسطی ومشرقی یورپ کے سارے بڑے اور چھوٹے ملکوں پر یہ جوش جنوں طاری کہ جس طرح بھی ممکن ہو ، ہلہ کرکے اور یلغار کرکے بیت المقدس کو، مولد مسیحؑ، کو ’’ظالم وکافر‘‘ مسلمانوں کے ہاتھ سے، چھین لیاجائے، ’’محامڈنز‘‘ کے پنجہ سے آزاد کرالیاجائے۔ بوڑھے اور لڑکے، جوان اور نوجوان، سب کے سب سپاہی بنے ہوئے، پیدل اور سوار، فوجی کوچ مقام کرتے ہوئے فلسطین کی جانب رواں۔’’ارض مقدس‘‘ تثلیث وتوحید مسیحیت واسلام کی مستقل رزمگاہ! تثلیث کے اس ٹڈی دل لشکر کے اعداد تو تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں، اور ’’محاربات صلیبی‘‘ (کروسیڈس) کی تاریخ سے پڑھے لکھوں میں ناواقف ہی کون ہے؟ یہاں کہنے کی بات صرف اس قدر ہے، کہ مسیحی مجاہدوں اور صلیبی سپاہیوں کے جلوس میں ایک اور مستقل فوج بیسواؤں کی تھی، اور اُن کی تعداد 30ہزار تھی!……یہ حال اس لشکر کا تھا، جو تمامتر دینی جذبۂ وجوش کے ماتحت ہوئی تھی!
دنیا ، مہذب دنیا نے اور ترقیاں کیں۔ سائنس کی، علم کی، تہذیب کی، ترقیون کے نقارہ سے عالم کی فضا گونچ اُٹھی۔ بیسویں صدی عیسوی کے تیسرے عشرہ کے آخر میں مہذب وشائستہ اٹلی نے، اَن پڑھ، وحشی اور گنوار حبشہ پر چڑھائی کردی۔ دولاکھ مرد ،بغیر عورت کے رہ کیسے سکتے تھے؟ علم پرور شائستگی نواز، حکمت دوست، سرکار اٹلی کا حکم ہوا کہ ایک گرجا کے عین مقابل ایک باضابطہ قحبہ خانہ (چکلہ) قائم کردیاجائے! تعمیل ہوئی۔ بڑے افسروں، چھوٹے افسروں، سپاہیوں، سب کے لئے، گراں اور ارزاں، الگ الگ نرخ نامے مقرر کردئیے گئے، اور سب کے لئے صبح، دوپہر، شام اور رات کے گھنٹوں کے الگ الگ اوقات متعین ہوگئے!……بہت آپ لئے پھرتے ہیں’’غزا‘‘ اور ’’جہاد‘‘ کے لئے جنت اور جنت کے حور وقصور کو، کبھی خواب میں بھی نصیب ہوئی ہیں آپ کو ہوسناکیوں کی یہ فوری لذتیں یا لعنتیں؟
1914ء تا 1918ءکی مشہور جنگ عظیم برپاہے۔ خاتمہ پر معلوم ہوتاہے کہ امراض خبیثہ میں مبتلا ہونے والے بہادروں اور جواں مردوں کے اعداد حسب ذیل ہیں:-
برطانوی فوج میں 3لاکھ۔
آسٹروی فوج میں 7لاکھ اور 8لاکھ کے درمیان (صرف 18ء کے اعداد)۔
فرنچ فوج میں 16لاکھ!
جرمن اور اتحادی دونوں مورچوں کے عقب میں سرکاری قحبہ خانوں کے مستقل انتظامات رہتے تھے۔ قرب وجوار کا ہرشہر اور ہر قصبہ اس ’’کارخیر‘‘ کے لئے وقف۔ راستہ کے ویرانے ، اُجاڑ مکانات، تباہ شدہ قلعے، سب اسی کی نذر! ہوٹلوں میں چائے خانوں میں، کھانے کی میزوں پر شراب کے ساتھ ساتھ اِس جنس عصمت کے نرخ نامے بھی باضابطہ درج! وقت مقرر، اُجرتیں مقرر!……گویا جس طرح فقہاء کے ہاں ایک اصطلاح آتی ہے، کفر دون الکفرکی، یعنی کفر کے علاوہ ایک اور کفر کی۔ اُسی طرح ہر فوج کے پیچھے ایک اور فوج! ایک فوج سپاہیوں کی، دوسری فوج روسیاہیوں کی!……ہے عرب قدیم کی تہذیب جاہلی میں بھی ہمت جدید تہذیبِ جاہلی سے مقابلہ کی؟……تفصیلات اس سے کہیں بڑھ بڑھ کر گندی اور مکروہ درج ہیں۔ انگل پِرشتEngle Prechtکی کتاب Report Against Warمیں۔ صفحات 137و 136 ، 142۔ 145 وغیرہا۔ صدقؔ میں ہمت سب کی نقل کی کہاں سے لائی جائے!
Https://telegram.me/ilmokitab
| 2 | داستان جاری ہے (04)ابو الحسن نغمی | 96 |
| 3 | وفیات مورخہ:ستمبر /21
1797ء آصف الدولۃ۔ نواب اودھ
1857ء رائے احمد خان کھرل۔ مجاہد آزادی
1887ء واجد علی شاہ۔ نواب اودھ
1965ء عبدالماجد۔ ریڈیو صدا کار
1966ء عاصم جے پوری (محمد عبدالوہاب خان)۔ شاعر
1982ء مظفر علی خان قزلباش۔ شاعر
1989ء غلام حبیب نقشبندی۔ صوفی پزرگ
1995ء سلطان، ایم۔ فیلمی اداکار
1995ء منیر علی جعفری (سید)۔ صحافی و ادیب
1998ء خالد میاں فاخری (سید محمد خالد)۔ مولانا ، عالم وصحافی
1999ء عبد الوحید صدیقی۔ مدیر نئی دنیا دہلی
2004ء عزیز الرحمٰن بجنوری۔ مولانا مفتی ، بانی مدینۃ العلوم بجنور
2004ء محمد امین شیخ۔ پروفیسر ،
2011ء مقبول احمد صابری۔ قوال ،
2021ء محمد حسین طنطاوی۔ مصری فیلڈ مارشل
Https://telegram.me/ilmokitab | 102 |
| 4 | لاتے۔ ان کے انتقال پر مولانا سید ابوالحسن ندوی نے اپنے مضمون میں ان کی صلاحیتوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
وہ ایک طنز و مزاح نگار بھی تھے اور فرضی ناموں سے طنزیہ و مزاحیہ کالم لکھتے۔ مطیع الرحمن عوف ندوی نے ”یہ وہ چراغ ہیں بجھ کر جو نور چھوڑ گئے“ کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مولانا نے جہاں علم و فن کے بہت سے میدانوں میں قدم رکھا اور ان میں ممتاز مقام حاصل کرکے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا وہیں انھوں نے طنز و ظرافت کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی۔ مولانا کی زبان نہایت سلیس اور شگفتہ تھی۔ وہ بیجا تکلفات، عبارت آرائی اور بھاری بھر کم الفاظ کے استعمال سے گریز کرتے۔ انھوں نے اپنے منفرد انداز بیان سے قارئین کے دلوں میں اپنا گھر بنا لیا تھا۔
مولانا عبد النور مسلکاً اہل حدیث تھے اور وہ پوری زندگی اسی پر قائم رہے۔ بلکہ وہ اہل حدیث ہونے پر فخر بھی کرتے تھے۔ لیکن ان کے اندر مسلکی تعصب یا تنگ نظری کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے ان کے قریبی مراسم رہے بلکہ دوسرے مکاتب فکر سے وابستہ متعدد افراد سے ان کے دوستانہ تعلقات رہے۔ ان کی عزت بھی تمام مکاتب فکر کے لوگ کرتے رہے ہیں۔ وہ کس قدر مقبول تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے انتقال پر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی سے لے کر درجنوں شخصیات نے اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ ان کے فرزند ذکی نور عظیم ندوی اپنے مضمون ”والد محترم: کچھ یادیں کچھ باتیں“ میں اپنے والد گرامی کی شخصیت کے مختلف الجہات پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ والد محترم نے مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کی مختلف کتابوں کے مقدمے اور اہم اجزاءخود مولانا مد ظلہ سے مختلف نشستوں میں سبقاً سبقاً پڑھے۔ فراغت کے کئی سال بعد چھ ماہ مستقل مولانا کی خدمت میں رہ کر ان کی مجالس سے فائدہ اٹھایا اور اخیر عمر تک ان کی مجلسوں اور عام گفتگو سے استفادہ کا سلسلہ جاری رہا۔ 1964 میں ندوے سے فراغت کے بعد گھر کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے دارالعلوم احمد یہ سلفیہ لہر یا سرائے دربھنگہ بہار چلے گئے اور وہاں دو سال تک عربی زبان وادب کی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اور مدرسہ کے ترجمان ”الہدیٰ“ کو بھی اپنی قلمی کاوشوں سے چار چاند لگاتے رہے .... مولانا علی میاں نے ان کو مادر علمی ندوة العلماءکی خدمت کے لیے لکھنو بلا لیا۔ یہاں آپ کے جو ہر کھلے۔ دار العلوم میں عربی زبان و ادب کی تدریس کے علاوہ تعمیر حیات، ندائے ملت اور الرائد میں لکھنا شروع کیا۔انھوں نے ندائے ملت کا رسول نمبر اور تعلیم نمبر بڑی محنت اور سلیقہ سے مرتب کیا۔ مولانا علی میاں کے مشورہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ الازہر مصر چلے گئے.... وہاں پہلے قاہرہ ریڈیو کے شعبہ اردو میں چھ سات مہینہ تک اناو ¿نسری کے فرائض انجام دیے اور پھر وہاں سے جامعہ الامام محمد بن سعود میں عربی ادب و انشاءکی تدریس کے لیے چلے گئے۔ لیکن گھر پر اپنی ذمہ داریوں کے احساس اور بچوں کی تربیت کی بے قراری نے انھیں جلد ہی جامعہ الامام محمد بن سعود کی ذمہ داری چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور بالآخر 1982 میں عالم اسلام کے مشہور ادارہ رابطہ عالم اسلامی کے مبعوث مقرر ہوئے اور دار العلوم ندوة العلماءمیں آپ کا تقرر ہوا۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد اپنی علمی، ادبی، صحافتی اور انتظامی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور ندوة العلماءمیں عربی زبان و ادب کی معیاری کتابیں پڑھانے لگے ۔ ادب اسلامی کی عالمی تنظیم رابطہ ادب اسلامی کے قیام کے بعد آپ اس کے صدر دفتر کے ذمہ دار مقرر ہوئے اور آپ نے اپنے استاذ اور بعد کے رفیق مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے ساتھ مل کر اس نو خیز تحریک کو آگے بڑھایا۔ اس کے کامیاب سمیناروں میں والد صاحب کا نمایاں رول رہا۔ وہ تمام ادبی تحریکوں اور تنظیموں خصوصاً یورپ کے ادبی مکاتب فکر پر وسیع نظر رکھتے تھے اور اسلامی ادب اور باطل ادبی تنظیموں کا موازنہ دلچسپ انداز میں کرتے۔ ادب اسلامی کی ضرورت و اہمیت اور موجودہ زمانہ میں اس کی افادیت کو بیان فرماتے۔ ان کا ادبی نظریہ وہی تھا جس کا وہ ان الفاظ میں تذکرہ کیا کرتے تھے کہ ادب برائے ادب کا کوئی مطلب میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا۔ ادب برائے اصلاح فکر و نظر ، ادب برائے بلندی انسانیت، ایک شایان نصب العین ہے جس کے لیے ایک باہمت اور بلند حوصلہ انسان زندگی کے قیمتی اوقات بے دریغ قربان کر سکتا ہے۔
ان تفصیلات کی روشنی آسانی سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا عبدالنور (نور عظیم ندوی ازہری) ہمہ جہت خوبیوں کے مالک تھے۔ انھوں نے نسبتاً اپنی کم عمر میں ہی وہ علمی کارنامے انجام دیے جو ان کا نام تادیر زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ دارالعلوم ندوة العلماءکے اکابر کا جب بھی ذکر ہوگا تو ماضی قریب کی شخصیات کے ضمن میں ان کا ذکر بھی ضرور ہوگا۔
موبائل:9818195929 | 210 |
| 5 | مولانا عبد النور (نور عظیم) ندوی ازہری کی صحافتی خدمات
سہیل انجم
دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو نے بڑے بڑے اہل علم پیدا کیے جنھوں نے دنیا کو بیش بہا علمی خزانوں سے مزین کیا ہے۔ ندوہ سے فیض یافتہ اور پھر اسی درسگاہ میں تدریسی، تحقیقی، علمی و صحافتی خدمات انجام دینے والوں میں ایک نام مولانا عبدالنور (نور عظیم ندوی ازہری) کا بھی ہے۔ ندوہ کی ماضی قریب کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوگی۔ وہ 1942 میں اترپردیش کے سابق ضلع بستی اور موجودہ سدھارتھ نگر کے مردم خیز گاوں اکرہرا میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال 31 جنوری 1993 کو لکھنو میں ہوا۔ ان کے والد مولانا عبدالعظیم بستوی ایک بڑے عالم دین تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم اکرہرا، شمس العلوم سمرا اور جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ دارالعلوم ندوة العلماءگئے اور وہیں عا لمیت و فضیلت کی تکمیل ہوئی۔ ندوے کے علمی ماحول نے ان کی فکر و نظر کو جلا بخشی۔ ندوہ سے فراغت کے بعد ڈاکٹر سید عبدالحفیظ سلفی کی خواہش پر مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے۔ انھوں نے وہاں 1965 سے 1968 تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جامعہ کے ترجمان پندرہ روزہ ”الہدیٰ“ کی ادارتی ذمہ داری بھی سنبھالے رہے۔ جب وہ ندوة العلماءمیں زیر تعلیم تھے تو ان کی صلاحیتوں سے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی متاثر ہوئے تھے۔ لہٰذا انھوں نے مولانا عبد النور کو احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے ندوہ میں تدریسی خدمات کے لیے بلا لیا ان کی صحافیانہ صلاحیتوں کے پیش نظر ان کو 1969 میں لکھنو کے ہفت روزہ ”ندائے ملت“ کی ادارت سونپی گئی۔ ندائے ملت کا وہ دوسرا دور تھا جب یہ اخبار ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی نگرانی میں شروع ہوا۔ انھوں نے اس مجلے کی ادارت کی ذمہ داری مولانا سید رابع حسنی ندوی کی اجازت سے ان کے سپرد کی تھی۔ مولانا عبدالنور کو الہدیٰ کی ادارت کے وقت جو صحافتی تجربہ ہوا تھا، اس ذمہ داری کی ادائیگی میں انھوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس کی تفصیل ان کے رفیق خاص اور ندوہ کے استاد مولانا نذر الحفیظ ندوی نے مولانا کے فرزند ذکی نور عظیم ندوی کی ترتیب کردہ کتاب ”نقوش نور“ میں شامل اپنے مضمون ”میرے ساتھی میرے دوست“ میں یوں پیش کی ہے: ”ندائے ملت کی ذمہ داری ہم دونوں کے سپرد 1969 میں ہوئی تو اس وقت ہم دونوں روزانہ بعد نماز عصر دفتر ندائے ملت کوئن روڈ پر جاتے۔ روزانہ کی ڈاک دیکھتے۔ خطوط کے جواب دیتے اور پرچے کی ترتیب کی تیاری کرتے۔ آئندہ کے لیے مضامین طے ہوتے کہ کس کو کیا لکھنا ہے۔ مولانا محب اللہ اداریے لکھتے۔ نور صاحب عام طور پر سیاسی تبصرے تیسرے صفحہ پر لکھتے۔ ہمارے ذمہ عالم اسلام کا کالم تھا۔“
1974 میں مولانا عبدالنور کا داخلہ جامعہ ازہر مصر میں ہو گیا۔ قاہرہ ریڈیو کے شعبہ اردو میں مترجم اور اناونسر کی ایک جگہ خالی ہوئی۔ انھوں نے وقت گزاری کے لیے یہ ملازمت قبول کر لی اور انھوں نے چھ ماہ تک یہ ذمہ داری ادا کی۔ اسی درمیان جامعة الامام محمد بن سعود ریاض میں تعلیم اللغہ العربیہ للاجانب کی جگہ ان کو مل گئی اور وہ حجاز روانہ ہو گئے۔ ریاض میں ان کا معاہدہ ایک سال کے لیے تھا۔ اس کے بعد رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے وہ مبعوث ہو کر ندوہ میں آگئے۔ انھیں 1983 میں مجلس ”الصحافة الاسلامیہ“ کی ادارت سونپی گئی۔ اس کے علاوہ انھیں رابطہ ادب اسلامی کے لکھنو دفتر میں سکریٹری بھی مقرر کر دیا گیا۔ انھوں نے رابطہ ادب اسلامی کے ترجمان سہ ماہی ”الادب الاسلامی“ کی ادارت کی ذمہ داری نبھائی۔ صحافت سے ان کو دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے متعدد رسائل و جرائد میں صحافتی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ بے شمار مجلات میں مضامین بھی لکھے جن میں ماہنامہ البعث الاسلامی، الرائد، تعمیر حیات، معارف، صدق جدید، برہان، الہدیٰ، محدث اور قومی آواز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ندوہ میں ملک و بیرون ملک سے آنے والی شخصیات اور وفود کے استقبالیہ پروگراموں میں شرکت کرنا اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی تحریروں کا ترجمہ کرنا انہی کے ذمہ تھا۔ندوة العلماءمیں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے ان میں علمی پختگی پیدا ہوئی۔ جبکہ مصر میں طویل قیام کی وجہ سے عربی زبان پر عبور حاصل ہوا۔ ان کی غیر معمولی علمی صلاحیت سے جامعہ ازہر کے طلبا اور اساتذہ بھی متاثر تھے۔ ان کو عربی سے اردو میں ترجمہ کرنے پر بھی عبور حاصل تھا۔ عربی اخبارات کا مطالعہ اور ریڈیو پر عربی پروگرام سننا ان کے معمول میں شامل تھا۔ ان کو سیاسی و ثقافتی امور سے بھی بڑی گہری دلچسپی تھی۔ وہ ملکی و غیر ملکی حالات و واقعات کو جاننے کی بھی خواہش رکھتے تھے بلکہ اس کے لیے خاص اہتمام کرتے۔ وہ مطالعے کے بھی شوقین تھے۔ مصر اور دنیائے عرب میں جب بھی کوئی اہم کتاب شائع ہوتی تو اس کا علم ان کو ضرور ہوتا۔ وہ اسے حاصل کرنے اور اس کے مطالعے کی تگ و دو کرتے۔ وہ اپنی مجلسوں میں جہاں سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے وہیں نئی کتابوں کو بھی احاطہ گفتگو میں | 191 |
| 6 | وفیات مورخہ:ستمبر /19
1388ء فیروز شاہ تغلق۔ سلطان دہلی
1810ء میر تقی میر۔ اردو شاعر
1917ء برکت اللہ بھوپالی۔ مجاہد آزادی
1933ء اینی بیسنٹ۔ برطانوی نژاد سماجی مصلح
1956ء اشک امرتسری۔ شاعر
1970ء رشید احمد لاشاری۔ سندھی اردو ادیب
1973ء نادرہ احسان۔ دختر سید راس مسعود
1976ء فیروز نانا غلام علی۔ جسٹس (ر) ،
1978ء غازی انعام نبی پردیسی۔ مدیر جنگ کراچی
1979ء شرر نعمانی رامپوری (فراست علی)۔ شاعر
1984ء شرافت علی ہاشمی۔ پروفیسر ڈاکٹر
1995ء محمد یوسف۔ پی ٹی وی اداکار
1997ء احمد بادشاہ۔
2005ء خالد چاولہ۔ مدیر فیلمی اخبار جہاں کراچی
2006ء شاہد عشقی (سید شاہد حسین)۔ شاعر
2008ء صفیہ شمیم۔
2009ء یوسف خان۔
2011ء برہان الدین ربانی۔ صدر افغانستان
2015ء جگموہن ڈالمیا۔ بھارتی صنعت کار
2021ء معین قریشی (ایس، ایم)۔ اردو انگریزی کالم نگار | 207 |
| 7 | اُٹھا سکتے ہیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ مسافروں سے بھرا ہوا ایک بحری جہاز دھیرے دھیرے اپنی منزلِ مقصود سے قریب ہورہا تھا۔ سمندر میں اچانک شدید طوفان آگیا۔ جہاز زور زور سے ہچکولے کھانے لگا اور تیزی سے دائیں بائیں، اوپر نیچے ڈولنے لگا۔ ہر طرف کہرام برپا ہوگیا، بھگدڑ مچ گئی، لوگ جہاز کے عرشے پر جمع ہوگئے۔ چیخ پکار، رونا دھونا، دعائیں، مناجات اور کلمے کا وِرد شروع ہوگیا۔ ایسے میں ایک صاحب فرش پر پاؤں پھیلائے، دیوار سے ٹیک لگائے، بڑے اطمینان سے بیٹھے کسی کتاب کے مطالعے میں غرق تھے۔ لوگوں نے انھیں جھنجھوڑا:
’’اے میاں! اے بھائی! جہاز ڈوب رہا ہے اور تم مزے سے پاؤں پسارے بیٹھے اِس کتاب میں ڈوبے ہوئے ہو۔ اُٹھو جان بچانے کی فکر کرو۔ توبہ استغفار کرو۔ دعا مانگو!‘‘
اُن صاحب نے نظر اُٹھاکر لوگوں کو دیکھا اور بڑے سکون سے کہا:
’’اطمینان سے اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاؤ۔ مایوس نہ ہو۔ یہ جہاز نہیں ڈوبے گا‘‘۔
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ تھوڑی ہی دیر میں طوفان تھم گیا۔ سمندر پُرسکون ہوگیا اور جہاز صحیح سلامت اپنی منزلِ مقصود پر لنگرانداز ہوگیا۔ اب تو لوگ اُن پر ٹوٹ پڑے۔ کوئی اُن کے ہاتھ چوم رہا ہے، کوئی پیشانی کو بوسہ دے رہا ہے، کوئی سرکی چُمّی لے رہا ہے، کوئی قدم بوسی کررہا ہے، کوئی اپنا لاینحل مسئلہ حل کروانے کے لیے اُن سے دُعا کی درخواست کررہا ہے، کوئی نذرانے کی رقم اُن کی جیب کی نذر کررہا ہے اور کوئی اپنے زادِ سفر میں سے نکال کر کسی قیمتی چیز کا ہدیہ اُن کے حضور پیش کررہا ہے۔ غرض، یہ حضرت جب جہاز سے اُترے تو بھری ہوئی جیب اور قیمتی تحائف سے لدے پھندے اُترے۔ اتفاق سے اُن کے ساتھ ہی اُن کے لڑکپن کا ایک دوست بھی سفر کررہا تھا۔ جب سارا مجمع چَھٹ گیا اور دونوں دوست تنہا رہ گئے تو اُن کے دوست نے کہا:
’’جس وقت لوگ تمھاری چُوما چاٹی کررہے تھے اُس وقت میں نے اُن کی خوش عقیدگی میں کھنڈت ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ مگر میں تو تمھیں خوب اچھی طرح جانتا ہوں۔ بھائی!کم از کم مجھے تو بتادو تم نے کس بنیاد پر اتنے یقین سے دعویٰ کردیا تھا کہ یہ جہاز نہیں ڈوبے گا‘‘۔
حضرت نے مُسکرا کر اپنے دوست کی طرف دیکھا اور کہا:
’’ارے کوڑھ مغز! اگر جہاز ڈوب جاتا تو بھلا کون مجھ سے پوچھنے آتا کہ تم نے تو کہا تھا یہ جہاز نہیں ڈوبے گا‘‘۔
لیکن ڈاکٹر طاہر مسعود نے تو اس فرسودہ اور گلے سڑے نظام کا جہاز ڈوب جانے کی پیشین گوئی کی ہے، ٹھیک پانچ سال بعد۔ پس، ایک پیشین گوئی ہماری بھی پڑھ لیجے۔ ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور… لازم ہے کہ تم بھی دیکھو گے… یہ منظر کہ ۲۰۳۱ء میں لوگ جوق در جوق آ آ کر ہمارے لڑکپن کے دوست ڈاکٹر طاہر مسعود کے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضا چوم رہے ہیں۔ | 342 |
| 8 | *غلطی ہائے مضامین*
*پانچ سال بعد کی پیشین گوئی*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
اُردو صحافت کے معاصرین میں ڈاکٹر طاہر مسعود ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نہ صرف خود کہنہ مشق صحافی ہیں بلکہ متعدد معاصر صحافیوں کے اُستاد بھی ہیں۔ پچھلے دنوں اُنھوں نے اپنے مخصوص اُستادانہ رنگ میں ایک پیش گوئی کی۔ پیش گوئی کرتے ہوئے کہاکہ
’’کہنے کی بات تو نہیں، مگر کہے دیتا ہوں کہ زیادہ نہیں فقط پانچ سال، اور پھر سب کچھ بدل جائے گا۔ یہ ملک ایک نیا ملک بن جائے گا۔ اس لیے اے اہلِ وطن مایوس نہ ہو۔ یہ کسی نجومی، کسی ماہر فلکیات کی پیشین گوئی نہیں۔ حالات اور قرائن بتا رہے ہیں کہ یہ فرسودہ گلا سڑا نظام بس زمیں بوس ہونے کو ہے۔‘‘
اس نظام کی فرسودگی، گلاوٹ اور سڑاند کا ایک سبب تو یہی ہے کہ اس پورے نظام کی زبان ایک ایسی زبان ہے جو ہمارے ملک کے کسی حصے کی تو کیا اِس پورے خطے کی زبان نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے عوام کی زبان اور ہے اور اُن پر مسلط نظام کی زبان اور۔ ایسے نظام کو گلنا، سڑنا اور فرسودہ تو ہونا ہی تھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی فقط پانچ برسوں میں اس نظام کو زمیں بوس کررہی ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ وضاحت بھی کررہے ہیں کہ یہ کسی نجومی یا کسی ماہر فلکیات کی پیش گوئی نہیں۔ ظاہر ہے، یہ ایک اُستاد کی پیش گوئی ہے۔ اُستاد بھی وہ جس نے کوچۂ صحافت و اُستادی میں اپنی پچھلی تمام عمر بسر کردی ہے۔ اب جتنی عمر باقی رہ گئی ہے، وہ بھی اِسی کوئے دلدار میں بِتائے جارہے ہیں۔
یہاں ہمارے قارئین ہم پر معترض ہوسکتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے تو لفظ ’’پیشین گوئی‘‘ استعمال کیا ہے، جب کہ تم بار بار ’’پیش گوئی‘‘ لکھ رہے ہو۔ صاحب! خفا نہ ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی درست لکھا اور ہم بھی ٹھیک ہی لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ’پیش‘ فارسی لفظ ہے۔ یہاں اِس کے معنی ہیں ’آگے، سامنے، پہلے، قبل اور آیندہ‘۔ کسی کے آگے کوئی کھانے پینے کی چیز رکھ دی جائے یا کوئی عرضی اور درخواست وغیرہ، اس عمل کو ’پیش کرنا‘کہتے ہیں۔ کوئی صورتِ حال پیش آنے سے پہلے ہی دیکھ لی جائے تو اِس صلاحیت کو ’پیش بینی‘ کہتے ہیں (جو ڈاکٹر طاہر مسعود نے کرلی)، اسی طرح اگر کسی حادثے کے پیش آنے سے قبل اُس کے وقوع کا راستہ بند کردینے کی کوشش کی جائے تو یہ کوشش ’پیش بندی‘ کہلاتی ہے۔ کسی کام میں پہل کرنا، سبقت کرنا، ہاتھ ڈالنا یاکسی پر حملہ کرنا ’پیش دستی‘ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چچا غالبؔ کے محبوب نے ایک روز اُٹھ کر اپنے دستِ حنائی سے چچا کی دُھنائی کردی تھی۔ مگر چچا کہتے ہیں کہ قصور اُن کا اپنا ہی تھا، کیوں کہ
دھول دھپا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
ہاتھ آگے بڑھانے کو ’پیش دستی‘ اور قدم آگے بڑھانے کو ’پیش قدمی‘ کہا جاتا ہے۔ نماز میں جو شخص نمازیوں کی صف سے ’آگے‘ کھڑا ہوکر اُن کی امامت کرتا ہے اُس شخص کو ’پیش اِمام‘ کہتے ہیں (’’پیشے امام‘‘ نہیں)۔ کتاب میں جو ملفوظات کتاب کے اصل متن سے پہلے پیش کیے جاتے ہیں اُن کو ’پیش لفظ‘ قرار دیا جاتا ہے (’’پیشے لفظ‘‘ نہیں)۔ اورمستقبل کا حال پہلے ہی بیان کردینے یا بعد میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیل پہلے بتادینے یا کہہ دینے کو ’پیش گوئی‘ کہتے ہیں۔
فارسی زبان میں کسی اسم کے آگے’’ی ن‘‘ کا اضافہ کرکے اُس اسم سے صفت بنالینے کا رواج ہے۔ مثلاً رنگ سے رنگین، سنگ سے سنگین، زر سے زرّین، عنبر سے عنبرین اور نمک سے نمکین وغیرہ۔ اسی اصول پر ’پیش‘ سے اسم صفت ’پیشین‘ بنایا گیا ہے۔ ’پیشین‘ کا مطلب ہے اگلا، آگے والا، پہلا، قدیم اور پُرانے زمانے کا۔ اس مفہوم کے مطابق مستقبل میں پیش آنے والے حالات کی تفصیل، اُن حالات کے وقوع پزیر ہوجانے سے پہلے بیان کردینے کو ’’پیشین گوئی‘‘ کہا جاتا ہے۔ کبھی یہ الہامی ہوتی ہے، کبھی قیاسی۔
کچھ اُردو دان اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ’’پیشین گوئی‘‘ ہی فصیح اور درست ترکیب ہے، لہٰذا ’’پیش گوئی‘‘ کہنا غلط ہے۔ ہوگا، مگر اب لغات میں لفظ ’پیش گوئی‘ بھی شامل کرلیا گیا ہے، کیوں کہ اہلِ زبان سے اس ترکیب کے استعمال کی بھی سند مل جاتی ہے۔ اس شمولیت سے آپ کو سہولت حاصل ہوگئی ہے کہ جی چاہے تو ’پیش گوئی‘ کریں اور ’پیش گوئی‘ کرنے کا جی نہ چاہے تو ’’پیشین گوئی‘‘ کرلیا کریں۔ جیسا کرنے میں آپ کو سہولت ہو، ویسا کریں۔ مگرآپ سے دست بستہ درخواست ہے کہ خدا کے واسطے آپ ’پشن گوئی‘ نہ کیا کریں۔ یہاں ’’آپ‘‘ سے مراد محکمۂ موسمیات کے ملازمین اور ٹی وی پر اُردو میں خبریں پڑھنے والی خواتین کے علاوہ مَردُوے بھی ہیں۔
پیش گوئی یا پیشین گوئی صرف نجومی صاحبان، محکمۂ موسمیات، خبرخواں خواتین وحضرات اور ڈاکٹر طاہر مسعود ہی نہیں کرتے۔ پیر، فقیر، سادھو اور مجذوب بھی کیا کرتے ہیں کہ ’’جا بچّا تیری مراد پوری ہوگی‘‘۔ مگر اس پر ہمیں تو ایک اور قسم کی پیش گوئی کا ایک دلچسپ قصہ یاد آگیا۔ اس مزے دار قصے کا لطف، قارئین ہی نہیں، (پیشین گوئیوں سے) وقت نکال کر ڈاکٹر طاہر مسعود بھی | 283 |
| 9 | وفیات مورخہ:ستمبر /18
1860ء احمد سعید مجددی دہلوی۔ عالم ، فقیہ، مولانا
1958ء بھگوان داس۔ فلسفی
1972ء مختار صدیقی (مختار الدین)۔ شاعر ،
1974ء امانت علی خاں۔ کلاسیکی گلوکار
1979ء اطہر صدیقی (اطہر حسین )۔ شاعر
1979ء رضیہ سجاد ظہیر۔ ادیبہ
1984ء محمد ہدایت اللہ۔ چیف جسٹس آف انڈیا
1992ء خورشید اسلم۔ ،
1998ء مراد ساحر (محمد مراد)۔ شاعر
2001ء سلیمان داؤد، سیٹھ۔ ،
2011ء جہانگیر عالم۔ مولانا
2014ء محمد شکیل اوج۔ ڈاکٹر ، ماہر قرآنیات
2020ء شاہ احمد شفیع (بنگلہ دیش)۔ مولانا ، دینی رہنما
Https://telegram.me/ilmokitab | 265 |
| 10 | ایمان، اعمال کی اساس
علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں:
ایمان ہی ہمارے تمام اعمال کی اساس ہے، جس کے بغیر ہر عمل بے بنیاد ہے۔ وہ ہماری سیرابی کا اصلی سرچشمہ ہے، جس کے فقدان سے ہمارے کاموں کی حقیقت، سراب سے زیادہ نہیں رہتی۔ کیونکہ وہ دیکھنے میں تو کام معلوم ہوتے ہیں، مگر روحانی اثر و فائدہ سے خالی اور بے نتیجہ ہوتے ہیں۔ خدا کے وجود کا اقرار اور اس کی رضامندی کا حصول ہمارے اعمال کی غرض و غایت ہے۔ یہ نہ ہو تو ہمارے تمام کام بے نظام اور بے مقصد ہوکر رہ جائیں، وہ ہمارے دل کا نور ہے، وہ نہ ہو تو پوری زندگی تیرہ و تاریک نظر آئے اور ہمارے تمام کاموں کی بنیاد ریا، نفاق، جاہ پسندی، خود غرضی اور شہرت طلبی وغیرہ کے دلی جذبات اور پست محرکات کے سوا، کچھ اور نہ رہ جائے۔
(ایمان، صفحہ: ۱۵/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 322 |
| 11 | المکتبۃ الشاملۃ نے اب میدان مار لیا ہے، حرف کی فنی خوبیوں کا جواب نہیں لیکن اس کے سوفٹ وئیر بہت پرانے ہوچکے ہیں اور نئے ونڈوز پر جامع الفقہ الاسلامی جیسے سوفٹ وئیراب انسٹال بھی نہیں ہوپاتے، چونکہ شاملہ مفت ہے، اس میں کتابوں کا بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے، اس میں کتابوں کو مطبوعہ نسخوں کے مطابق کرنے کے خصوصی اہتمام نے اس کے استناد کو بڑھا دیا ہے، اس وقت اس کا تیس ہزار کتابوں کا غیر رسمی ایڈیش سامنے آیا ہے، جس میں سبھی کتابیں مطبوعہ کے مطابق ہیں، میرے ذاتی ارکائیوز میں شاملہ کا جو ایڈیش ہے وہ چوالیس ہزار کتابوں کا ہے۔ جلدوں کا حساب لگایا جائے تو یہ لاکھوں میں پہنچتی ہیں اور دو منزلہ عمارت ان کے ورقی نسخوں کو رکھنے کے لئے ناکافی ہوجاتی ہے، بنیادی طور پر یہ سوفٹ وئیر ریسرچ کے لئے ہے، کتابیں پڑھنے اور مطالعہ کے لئے نہیں۔
الگ الگ کتاب یا ابواب میں سرچ کے بجائے پورےمکتبہ شاملہ کی کتابوں میں کسی لفظ کو سرچ کرنے کے لئے گھنٹوں لگتے ہیں، اب ایک اور سوفٹ وئیر اس دشواری میں تعاون کے لئے آیا ہے نام ہے” الباحث الشامل“یہ شاملہ کے ساتھ مربوط ہے۔
مکتبہ شاملہ نے مفردات کے سرچ کے لئے بے انتہاء سہولتیں فراہم کی ہیں لیکن اس میں وہ خرابی موجود ہے جو انٹرنٹ سرچ انجن میں پائی جاتی ہیں۔ وہ یہ کہ ایک شخص سوپر مارکیٹ میں کوئی چیز لینے جاتا ہے اور اشیاء کی بہتات میں ضروری چیزیں بھول کر سامنے پڑا دوسرا سامان خرید لاتا ہے ۔ سرچ پر غیر ضروری نتائج آنے کی وجہ سے اہم مواد کے انتخاب میں کبھی اتنا وقت لگ جاتا، جتنے میں کتاب کھول کر پڑھنا کم وقت طلب محسوس ہونے لگتا ہےلیکن یہ ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اس مسئلہ کا سبب عربی اور انگریزی میں معاجم کی ترتیب میں بنیادی فنی اختلاف ہے، عربی کی متداول کتب لغت ثلاثی، رباعی مادوں کی اصل پر ہوتی ہیں، جب کہ انگریزی ابجدی ترتیب پر۔ اب لفظ قال ، اقول، قول،قائل، عربی کتب لغت اور فھارس میں متصلا ایک جگہ ملے گالیکن انگریزی لغت اور کمپیوٹر لائبریریوں مکتبہ شاملہ وغیرہ میں مختلف جگہوں پر منتشرچار پانچ الگ الگ جگہوں پر پھیلا ہوا ملے گا، کمپوٹر لائبریریوں کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ہزارہا کتابوں کےلاکھوں صفحات پر جہاں جہاں یہ لفظ الگ الگ شکلوں میں آئے ہیں، وہ سامنے آجائیں گے، لہٰذا اس جمگھٹے میں مطلوبہ لفظ کی تشریح سمندر میں غوطہ زنی کرکے موتی تلاش کرنے کے مترادف کام بن جاتا ہے، جس میں وقت بھی بہت ضائع ہوتا ہے۔
یہ تو بات ہوئی کمپیوٹر لائبریریوں کی لیکن مطبوعہ قرآن و حدیث کی فہرستوں کے بارے میں ہمارے مولاناشہبازاصلاحی مرحوم نے ایک اور نکتے کی طرف متوجہ فرمایا تھا، جب ہم نے آپ کے سامنے المعجم المفھرس لالفاظ القرآن کی اس وقت تعریف کی جب کمپیوٹر کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا تو فرمایا کہ قرآن کریم کی سورتیں سیاق و سباق کے ساتھ مربوط ہوتی ہیں،وہ ایک نظم کے تابع ہیں، اب لوگ محنت کئے بغیر ان کتابوں سے درمیان کا کوئی لفظ تلاش کرتے ہیں اور سیاق وسباق کے بغیر یہ لفظ جس آیت میں آیاہے،اگلا پچھلا پڑھے بغیر نقل کردیتے ہیں، اس سے آیت کی روح نکل جاتی ہے لہٰذا ان کتابوں پر اکتفا کرکے نہیں بیٹھنا چاہئے، اپنے طور پر فکر و تدبر کی صلاحیتوں کو بھی استعمال کرنا چاہئے۔
Https://telegram.me/ilmokitab | 380 |
| 12 | مطالعہ کتب کیوں اور کس طرح (08) الکٹرونک کتب خانے
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج سے نصف صدی پیشتر زیادہ تر طلبہ و اساتذہ میں قوت خرید نہیں ہوا کرتی تھی،دینی مدارس میں بہت سے طلبہ درسیات کی باہر ملکوں کی کتابیں نایاب ہونے کی وجہ سے ہاتھوں سے نقل کرکے پڑھنے پر مجبور ہوتے تھے ، خود ہم نے اپنے ہاتھوں سے قطر الندی، مختصر المزنی، تیسیر المنطق وغیرہ کئی ایک کتابیں ہاتھ سے لکھ کر پڑھی ہیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میرے پھوپھا مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمی مرحوم کی وفات ۲۰/ اکتوبر ۱۹۶۶ء کے کچھ عرصہ بعد آپ کے باقی ماندہ کتابوں کے ذخیرے کی صفائی ستھرائی کے لئے پھوپھی کے گھر جانا ہوتا تو ،اس ذخیرے سے کتاب الام، فتح الباری، فتح الملھم ،المجموع شرح المہذب، تفسیر عثمانی (نسخہ مجیدی) وغیرہ کو دیکھ کر اپنے اساتذہ سے طفلانہ انداز سے ان کا تذکرہ کیاکرتا تھا تو وہ یہ سن کر حیران ہوجاتے تھے کہ ایسی کتابیں بھٹکل میں پائی جاتی ہیں؟ وہ انہیں ایک نظر دیکھنے کے متمنی ہوتے تھے، کیونکہ ان میں سے بہتوں کا انہوں نے اب تک صرف نام ہی سنا تھا پھر ایسا ہوا کہ ۱۹۶۸ء کے آس پاس دیوبند سے روح المعانی اور ممبئی کے ابناء غلام محمد السورتی سے مرقاۃ المفاتیح شرح المشکاۃ ،حاشیۃ الشرانی و العبادی علی تحفۃ المحتاج اور کتاب الام آفسٹ سے قسطوں میں شائع ہونے لگیں، ایک ایک جلد کئی کئی ماہ بعد ملتی تھی اور لوگوں کو اس کا انتظار رہتا تھا۔
۱۹۷۵ء میں ہمارا ممبئی میں غلام محمد سورتی کی دکان پر جانا ہوا، اس وقت ہمارے تخیل میں اس کا تصور ایک بہت ہی عظیم تاجران کتب کا تھا کیونکہ تقسیم ہند سے پہلے اس کی شائع کردہ ضخیم فہرست اسعاف الراغبین کی بے سمجھے بوجھے ایک عرصہ تک اس ناچیز نے ورق گردانی کی تھی، جس کے طفیل غیر شعوری طور پر بہت ساری کتابوں اور مصنفوں کے نام یاد ہوگئے تھے لیکن وہاں تو اب دوچار کتابیں ہی تھیں،ہم نے بڑی حسرت سے صاحب کتب خانے سے کہا کہ وہ بھی کیا زمانہ تھا؟ ہزاروں غیر ملکی کتابیں آپ کے یہاں دستیاب رہتی تھیں ، اب تو ان میں سے کوئی نظر نہیں آتی، آپ اس زمانے اور آج کے زمانے میں کیا فرق محسوس کرتےہیں تو آپ کا جواب تھا کہ ہمارے دادا مصر سے احیاءالعلوم یا اس قسم کی کتابوں کے چھ نسخے پانی جہاز سے منگواتے تھے، کسی ملباری مصلیار کا یہاں سے گذر ہوتا تو وہ کہتا کہ یہ کتاب میرے لئے رکھیں، دوچار مہینوں کے بعد وہ ادھر ادھر سےچار، آٹھ آنے چندہ کرکے لاتا اور کتاب خریدتا، اب تو ہم کتاب کے ہزار نسخے چھاپنے کا اعلان کرتے ہیں تو فورا ہی وہ ن سبھی نسخے پیشگی بک جاتے ہیں۔
گئے زمانے میں ہمارے بڑے بڑے علماء کےپاس زیادہ سے زیادہ پانچ دس بنیادی کتابیں ہوا کرتی تھیں ، جنہیں وہ گھوٹ گھوٹ کر پیتے تھے لہٰذا ان کا علم سینوں میں ہواکرتا تھا، موبائل اور لیپ ٹوپ میں نہیں،معلومات کے وسائل کم ہونے کے باوجود ان کا علم بڑا گہرا ہواکرتا تھا، یہ لوگ درسیات کی گتھیاں سلجھانے میں بڑے ماہر ہوتے تھے،نہ جاننے والے ان پر” کنویں کا مینڈک“ کی پھبتی کستے تھے لیکن ترقی اور معلومات کی وسعتوں کے اس دور میں ایسے لوگوں کو ہمارے ادارے ترس رہے ہیں۔
اس وقت کتابوں کی بہتات ہے، گزشتہ چالیس سال کے دوران ایسی ایسی نادرونایاب کتابیں چھپی ہیں، جو اب تک قارئین کی دسترس سے باہر تھیں، بیسویں صدی کے آغاز میں اردو کے عظیم سیرت نگار علامہ شبلی ؒ یہ حسرت لے کر دنیا سے چلے گئے کہ علامہ ابن کثیر کی ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ اب تک نہیں چھپی، وہ دستیاب ہوتی تو سیرۃ النبی کا علمی معیار مزید بلند ہوسکتا تھا لیکن آج چار پیسے خرچ کئے بغیر چند سکینڈوں میں کتاب ہاتھ میں پہنچ جاتی ہے۔
گزشتہ پچیس سالوں کے دوران مختلف نوعیت کی الکٹرونک کتابوں اور لائبریریوں کی ایک باڑ آئی ہوئی ہے، ان میں سوفٹ وئیر لائبریریاں اور پی ڈی ایف فورمیٹ میں تصویر شدہ کتابیں زیادہ عام ہیں۔ جو علم اور ذوق مطالعہ کے لئے دودھاری تلوار ثابت ہورہی ہیں۔ وسائل کی فراہمی کی وجہ سے اردو کے مقابلے میں عربی میں یہ کام پہلے شروع ہواتھا، عرب لیگ کے ماتحت ادارے صخر نے عربی میں الکٹرونک سوفٹ ویر کی طرف قدم رکھا، پھر اس کی جگہ حرف کمپنی آئی، جس نے موسوعۃ الکتب التسعہ،جامع الفقہ الاسلامی ، موسوعۃ الفقہ الکویتیۃ، مجلۃ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ جیسے سوفٹ وئیر پیش کئے، کتابوں کی محدود تعداد کے باوجود ہماری رائے میں فنی اعتبار سے صخر اور حرف کی لائبریریوں سے بہتر اور جامع الکٹرونک لائبریریاں نہیں آئیں۔ | 323 |
| 13 | وفیات مورخہ:ستمبر /17
1961ء عدنان مندریس۔ وزیر اعظم ترکی
1968ء نازلی بیگم۔ زوجہ نواب زنجیرہ، ہمیشرہ عطیہ بیگم فیضی
1984ء محمد نجم الدین نجم۔ سید
1992ء کمار پاشی۔ شاعر
1995ء اختر لکھنوی، محمود الحسن۔ شاعر
1997ء یوسف علی لائق۔ ،
1999ء حسرت جے پوری (اقبال حسین)۔ نغمہ نگار
2002ء اکبر رحمانی۔ پروفیسر
2017ء محمد تسلیم الدین۔ بھارتی سیاست دان
2019ء جمال احمد قاسمی۔ مولانا
2020ء محمد حیمد الدین سیالوی۔ سجادہ نشین سیال شریف سرگودھا
2021ء عبد العزیزبوتفلیقہ۔ صدر الجزائر
2025ء عبد الغنی بھٹ۔ کشمیری رہنما
Https://telegram.me/ilmokitab | 298 |
| 14 | وفیات مورخہ:ستمبر /16
1350ء ابن قیم جوزیہ۔ مصنف زاد المعاد
1857ء محمد باقر۔ مجاہد آزادی، مدیر دہلی اردو اخبار
1931ء سنتوش کمار مترا۔ بنگالی مجاہد آزادی
1931ء عمر المختار۔ مجاہد آزادی لیبیا
1955ء تنویرصدیقی (محمد نور احمد صدیقی)۔ ،
1975ء یوسف جمال انصاری۔ ،
1987ء ابوالفضل صدیقی۔ ادیب ، افسانہ نگار ،
1990ء یحیی مرچنت۔
1993ء فخر الدین ایچ شیخ۔ جسٹس (ر) ،
1994ء راجہ سخی دلیر خان۔ جرنیل
1997ء نوا لکھنوی۔
1997ء نوا لکھنوی۔
2000ء سلام سندیلوی، عبد السلام۔ ادیب، نقاد ،
2003ء محمد حفظ الباری۔ ادیب وشاعر
2006ء حیرت الہ آبادی (سید مہدی حسن)۔ ادیب، شاعر
2008ء رفعت کریم۔ پروفیسر ،
2010ء اعجاز الحق اعجاز۔ ،
2010ء عمران فاروق۔ ڈاکٹر ،
2020ء نشتر امروہوی۔
2023ء مبارک قاضی۔ بلوچ ادیب
Https://telegram.me/ilmokitab | 330 |
| 15 | *اُردو کے سینئر شاعر و ادیب*
*فراز حامدی رِحلت کر گئے*
ممبئی:15 ستمبر (ندیم صدیقی) جے پورسے ملنے والی مصدقہ اطلاع کے مطابق اُردو کے سینئر ہمہ جہت شاعر و ادیب (88سالہ) فراز حامدی طویل علالت کے بعد گزشتہ اتوار 13ستمبر کی شام رِحلت کر گئے۔
واحد حسین خان المعروف فراز حامدی راجستھان کے مردم خیز شہر ’ٹونک‘ کے متوطن تھے، ان کے والد ڈاکٹر حامد حسین خان المتخلص طالب وارثی بھی ایک اچھے سْخن ور تھے اور اپنے والد کی نسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ ’ حامدی‘ کا لاحقہ لگاتے تھے، فراز حامدی پچاس برس کی زاید مدت سے جے پور میں مقیم تھے جہاں انھوں نے گزشتہ اتوار کو آخری سانسیں لیں۔
وہ ایم اے اور ادیب فاضل جیسی اسناد سے سرفراز تھے اور درس و تدریس جیسےمؤقر شعبے سے وابستہ رہے۔
وہ اُردو گیتوں کے حوالے سے ایک امتیازی تشخص رکھتے تھے، دوہا گیت،سرسی گیت اور ماہیہ گیت ان کے تشخص کے روشن حو الے ہیں۔
ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے چند کتابوں کے نام اس طرح ہیں: دیار ِمدینہ، آنسو آنسو برکھا، اُردو دوہا، یادوں کی سوغات (ہائیکو)، ماہیہ رنگ، رینگا (اور نثر میں) توازن، انشراح، انتقادیات، اُردو دوہا تحریک۔
انھیں مشہور شاعر حضرتِ کیف بھوپالی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔
فراز حامدی نے کئی شاعر و ادیب پر کتابیں بھی پیش کیں، جن میں عاصی کاشمیری، ساحر شیوی ڈاکٹر ودیا ساگر آنند اور ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی جیسے ممتاز نام ہیں۔
فراز حامدی کو کئی اداروں سےانعامات و اعزازات بھی ملےاور ملک کے مختلف شہروں میں ان کا جشن بھی منایا گیا ان کے فن و شخصیت پر کئی رسائل نے ’فراز حامدی: خصوصی مطالعہ‘ کے نام سے ان پر گوشہ بھی شائع کیا اور ان کی ادبی خدمات پر راجستھان یونیورسٹی سے ایم فل بھی کیا گیا۔
فراز حامدی کے پسماندگان میں بیوہ شمیم فاطمہ اور بیٹی رافعہ مخدوم ہیں۔
پیر 14ستمبر کو شاستری نگر(جے پور) کے قبرستان میں فراز حامدی کے جسدِ خاکی کو سپردِ لحد کردِیا گیا۔ | 452 |
| 16 | وفیات مورخہ:ستمبر /14
1857ء حافظ محمد ضامن۔ مجاہد جنگ آزادی
1931ء عبد الماجد بدایونی۔ مولانا ، رہنما تحریک خلافت
1945ء محمد دین فوق۔ ادیب، مورخ کشمیر
1966ء جمال گورسل۔ فوجی جرنیل ترکیۃ
1978ء محمد حبیب اللہ مدراسی۔ مولانا، سر قاضی مدراس
2000ء حمد الجاسر۔ مورخ جزیرہ عرب
2001ء ریاض اے نائیک۔ ،
2004ء لودھی (سردار ایف ایس)۔ لیفٹننٹ جنرل
2010ء سعیدہ فیض۔ ماہر تعلیم ، اترپردیش
2010ء فرزند محمد سمیع صدیقی (شعبہ مالیات کے امین )۔
2021ء زیتون بانو۔
2024ء جابر مبارک الحمد الصباح۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 429 |
| 17 | وفیات مورخہ:ستمبر /13
1895ء فضل الرحمن گنج مرادآبادی۔ صوفی بزرگ، مجاہد آزادی ،
1914ء مصطفی فہمی باشا۔ مصری ادیب
1919ء رئیس شمس الدین بلبل۔ سندھی شاعر وصحافی
1927ء محمد علی مونگیری (سید)۔ مولانا ، بانی ندوۃ العلماء لکھنو
1944ء نور عنیات خان (نور النساء)۔ ہندوستان نژاد برطانوی جاسوسہ
1958ء صدیق احمد صدیقی۔
1971ء طالب کشمیری (پنڈت نند لال کول)۔ شاعر ،
1979ء نصیراحمد کیفی (سید)۔ صوفی
1982ء ظہور الحسن بھوپالی۔ شاعر ،
1983ء حسن حبیب عثمانی۔ شاعر، تاجر
1985ء محمد حسین بنگلوری باقوی۔ مولانا، پرنسپل جمالیہ عربک کالج چنئی
1988ء مظہر عرفانی (محمد مظہر علی خاں)۔ ،
1990ء امیر علی نگینوی۔ مولانا قاری
1994ء ہند الحسینی۔
2006ء محمد میاں آگرہ۔ مولانا
2006ء ثناء گورکھپوری (محمد ثناء اللہ)۔ ،
2012ء لہری (سفیر اللہ صدیقی)۔ مزاحیہ اداکار ،
2013ء مہر وجدانی (قریش احمد)۔ ،
2014ء سنبل طلعت۔ ،
2019ء غلام شاہ جیلانی۔
2020ء معزالدین احمد قاسمی۔ مولانا مفتی
2020ء ضمیر اختر نقوی ۔ شیعہ خطیب،
2021ء صفدر محمود۔ کالم نگار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 541 |
| 18 | *وفیات مورخہ:ستمبر /12*
1913ء افق لکھنوی ( منشی دوارکا پرشاد)۔
1913ء دوارکا پرشاد افق۔
1918ء حامد امروہوی (حامد علی خان)۔ بیرسٹر، شاعر
1927ء محمد عبید اللہ مدراسی۔ مولانا ، سر قاضی مدراس
1963ء محمد اکرام اللہ۔ سفارت کار، سکریٹری خارجہ پاکستان
1969ء فرخ امین۔ ،
1969ء محمد اسحاق۔ ڈاکٹر ، ٍصدر شعبہ فارسی عربی کلکتہ یونیورسٹی
1987ء فکر تونسوی (رام لال بھاٹیا)۔ مزاح نگار ،
1989ء عبدالمحی جعفری (سید)۔ ،
1989ء کمال ایرانی (سید کمال الدین صفوی)۔ ،
1990ء راقب حسین نقوی۔ ،
1991ء احسن علی خان۔
1999ء بشیر احمد فاروقی۔ ،
1999ء سعید احمد یوسف زئی۔ مولانا ،
1999ء ناظم جیوا۔ بیرسٹر ،
2012ء مظفر رزمی کیرانوی۔ شاعر
2013ء صدیقی، اے آر۔ بریگیڈیر
2017ء احمد صغیر صدیقی۔ شاعر، افسانہ نگار
2017ء افضل حسن رندھاوا۔ پنجابی ادیب وشاعر
https://telegram.me/ilmokitab | 564 |
| 19 | * جلوہ ہائے پابہ رکاب (59 )۔۔۔ جامعہ الازہر میں میرا داخلہ*
*ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم *
ہائی اسکول کے زمانے میں میں نے کتابوں کے ذریعہ کافی حد تک عربی سیکھ لی تھی۔ اب مصری ریڈیو سے بھی استفادہ کرنے لگا تھا۔ ان دنوں پاکستان سے «البشير» نامی ایک عربی ماہنامہ شائع ہونے لگا۔ اس میں اکثر مصری اہل قلم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔ میں اس کا خریدار بن گیا اور ہر ماہ اس کا شمارہ پڑھنے لگا۔ مصری سفارت خانہ سے بھی میر ا ربط رہتا تھا، اور وقتاً فوقتاً ہفتہ بھر کے روزنامے مل جاتے تھے۔ اس طرح میں جدید عربی سے روشناس ہونے لگا۔ میں مدراس یونیورسٹی سے (B.A. (Hons کی ڈگری لینے کے بعد اسلامیہ کالج وانمباڑی میں انگریزی پڑھانے لگا، کچھ عرصے بعد میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے (M.A (Arabic کی ڈگری بھی لے لی۔ انھیں دنوں اسلامیہ کالج وانم باڑی میں عربی Department قائم ہوا اور میں عربی پڑھانے پر مامور ہو گیا۔ جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کی میری دیرینہ خواہش اب حقیقت سے قریب تر نظر آرہی تھی۔
ان دنوں مصر کے صدر جمال عبد الناصر تھے۔ وہ عروبت کے علم بردار تھے۔ میں نے 1963ء کی عید الفطر کے موقع پر صدر عبد الناصر کے نام ایک عید کارڈ روانہ کیا جس میں میں نے صدر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ مجھے جامعہ الازہر میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیں۔ تین ہفتے بعد مصر سے ایک خط موصول ہوا۔ یہ نائب صدر حسین الشافعی کی طرف سے تھا جو اس وقت امور ازہر کے ذمہ دار تھے۔ خط کا مضمون یہ تھا کہ جامعہ الازہر میں میرا داخلہ ہو چکا ہے اور اس خط کے ذریعہ مصری سفارت خانہ سے ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل و کرم تھا۔ میری ایک دیرینہ خواہش اس کے فضل و کرم سے پوری ہو گئی۔ میں جنوری 1964ء میں قاہرہ پہنچا اور چند دنوں میں میرے داخلہ کی کارروائی پوری ہو گئی۔ از ہر سے یہ پتہ چلا کہ علی گڑھ کی .M.A کی ڈگری کا ازہر میں معادلہ نہیں ہے اس لیے مجھے Ph.D میں داخلہ سے پہلے .M.A کی ڈگری حاصل کرنی پڑے گی۔ چنانچہ میں نے امتحان لکھا اور اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہو گیا۔ اس کے بعد ایک thesis لکھنا پڑتا ہے۔ میں نے «الکلمات الفارسية في اللغة العربية» کے عنوان سے اپنا مقالہ لکھا اور اس کے مناقشے ( viva voce) کے بعد مجھے «ماجستیر» کی ڈگری مل گئی۔ میرےPh.D میں داخلہ کے لیے ملاحظہ ہو مضمون نمبر 23، اور مسجد ازہر میں میری پہلی نماز تراویح کے لیے ملاحظہ ہو مضمون نمبر 15۔
https://telegram.me/ilmokitab | 420 |
| 20 | ”یک لقمۂ صباحی، بہتر زِ مُرغ و ماہی“
ہمارے ملبوسات اپنے ہاتھ سے سِلا کرتی تھیں ۔ ہاتھ سے سلنے کا مطلب ہاتھ ہی سے سِلنا ہے، مشین سے نہیں ۔ عید پر ہمارے لیے ململ کا سفید کرتا سیتی تھیں ۔ تُرپانی مکمل کر لینے کے بعد کرتے کے گلے پر سفید ریشمی دھاگے سے چنبیلی کے نازک نازک پھول ہار کی صورت میں کاڑھا کرتی تھیں ۔ بعد کوانھوں نے کسی طرح بچت کرکر کے ایک سلائی مشین خرید لی تھی۔ میں نے اُس مشین کی رسید دیکھی تھی۔ قیمت ڈیڑھ سو روپے تھی۔ یہ غالباً 1964ء میں خریدی گئی تھی۔ اُس وقت لوگوں کی تنخواہیں بھی اِس خطیر رقم سے کم ہوا کرتی تھیں ۔ اب ہمارے کپڑے مشین پر سیے جانے لگے۔ درزی سے سلوانے کا سلسلہ تب شروع ہوا جب ہم برسر روزگار ہوگئے، ورنہ رومال، میزپوش اور تکیے کے غلاف وغیرہ بھی والدہ خود ہی سیا کرتی تھیں اور اُن پر دل کش اشعارکی کشیدہ کاری کرتی تھیں ۔ میں چھوٹا تھا تو اُنھوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ بنایا اوراُس کے غلاف پر یہ شعر کاڑھا:
تکیے پہ سو رہا ہے جو یہ میرا نونہال
اس کو الٰہی کیجیو دنیا میں بے مثال
اپنے لیے اُنھوں نے جو تکیہ تیار کیا تھا اُس کے غلاف پر میں نے یہ شعر کڑھا ہوادیکھا تھا:
کسی کا زور زر پر ہے، کسی کا جاہ پر تکیہ
مرے ٹوٹے ہوئے دل کا ہے بس اللہ پر تکیہ
جب میں ابتدائی جماعتوں میں تھا تواُنھوں نے میرے لیے اپنے ہاتھ سے کپڑے کا ایک بستہ بنایاتھا۔ بستہ گلے میں لٹکانے کو ایک خوب صورت اور مضبوط بندھن بھی باندھا تھا ۔خوب یاد ہے کہ بستہ بنا لیا تواُس پربہت حسین اور دلکش خط میں اُنھوں نے یہ شعر کاڑھا:
احمد کو کوئی دیکھے کیا مسکرا رہا ہے
بستہ لیے بغل میں ، اسکول جا رہا ہے
والدہ سے تو نہیں ، ہاں اپنی نانی سے سنا تھا کہ جب میری ولادت ہونے والی تھی تو والدہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی صورت بزرگ اُن سے کہہ رہے ہیں:
”بیٹی! تمھارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو اُس کا نام احمد رکھنا“۔
والد صاحب میرا نام ’حاطب‘ رکھنا چاہتے تھے۔ چناں چہ مصلحت و مصالحت کی راہ یہ نکلی کہ میرا نام ’احمد حاطب‘ رکھ دیا گیا۔ مگر والدہ مجھے تاحیات ’احمد‘ ہی پکارتی رہیں۔
اب کہ جب اُن کا مخصوص کمرہ سُونا ہوگیا ہے اور گھر میں سنّاٹا طاری ہے،کبھیکبھی کان بجتے ہیں تواُس کمرے سے وہیشہد میں ڈوبی آوازآتی ہے”احمد!“
اَللّٰھُمَّ اغْفِر لَھَا وَارْحَمْھَا وَ عَافِھَا وَاعْفُ عَنْھَا۔
٭٭
Https://telegram.me/ilmokitab | 396 |
