علم و کتاب
Kanalga Telegram’da o‘tish
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Ko'proq ko'rsatish8 147
Obunachilar
Ma'lumot yo'q24 soatlar
+57 kunlar
-4330 kunlar
Ma'lumot yuklanmoqda...
O'xshash kanallar
Taglar buluti
Ma'lumot yo'q
Muammo bormi? Iltimos, sahifani yangilang yoki bizning qo'llab-quvvatlash boshqaruvchimizga murojaat qiling>.
Kirish va chiqish esdaliklari
---
---
---
---
---
---
Obunachilarni jalb qilish
Avgust '26
Avgust '26
+2
0 kanalda
Iyul '26
+189
0 kanalda
Get PRO
Iyun '26
+218
0 kanalda
Get PRO
May '26
+228
1 kanalda
Get PRO
Aprel '26
+163
1 kanalda
Get PRO
Mart '26
+62
2 kanalda
Get PRO
Fevral '26
+89
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '26
+95
2 kanalda
Get PRO
Dekabr '25
+81
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '25
+109
1 kanalda
Get PRO
Oktabr '25
+105
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '25
+119
1 kanalda
Get PRO
Avgust '25
+173
2 kanalda
Get PRO
Iyul '25
+151
2 kanalda
Get PRO
Iyun '25
+140
2 kanalda
Get PRO
May '25
+95
1 kanalda
Get PRO
Aprel '25
+105
0 kanalda
Get PRO
Mart '25
+153
2 kanalda
Get PRO
Fevral '25
+131
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '25
+278
1 kanalda
Get PRO
Dekabr '24
+403
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '24
+500
2 kanalda
Get PRO
Oktabr '24
+487
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '24
+322
0 kanalda
Get PRO
Avgust '24
+322
3 kanalda
Get PRO
Iyul '24
+323
4 kanalda
Get PRO
Iyun '24
+341
0 kanalda
Get PRO
May '24
+331
1 kanalda
Get PRO
Aprel '24
+300
3 kanalda
Get PRO
Mart '24
+265
1 kanalda
Get PRO
Fevral '24
+321
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '24
+403
3 kanalda
Get PRO
Dekabr '23
+376
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '23
+132
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '23
+124
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '23
+92
0 kanalda
Get PRO
Avgust '23
+121
0 kanalda
Get PRO
Iyul '23
+116
0 kanalda
Get PRO
Iyun '23
+77
0 kanalda
Get PRO
May '23
+253
0 kanalda
Get PRO
Aprel '23
+81
0 kanalda
Get PRO
Mart '23
+49
0 kanalda
Get PRO
Fevral '23
+126
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '23
+137
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '22
+123
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '22
+209
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '22
+119
0 kanalda
Get PRO
Sentabr '22
+62
0 kanalda
Get PRO
Avgust '22
+40
0 kanalda
Get PRO
Iyul '22
+44
0 kanalda
Get PRO
Iyun '22
+138
0 kanalda
Get PRO
May '22
+42
0 kanalda
Get PRO
Aprel '22
+17
0 kanalda
Get PRO
Mart '22
+31
0 kanalda
Get PRO
Fevral '22
+28
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '22
+56
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '21
+112
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '21
+52
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '21
+112
0 kanalda
Get PRO
Sentabr '21
+64
0 kanalda
Get PRO
Avgust '21
+43
0 kanalda
Get PRO
Iyul '21
+63
0 kanalda
Get PRO
Iyun '21
+164
0 kanalda
Get PRO
May '21
+38
0 kanalda
Get PRO
Aprel '21
+60
0 kanalda
Get PRO
Mart '21
+103
0 kanalda
Get PRO
Fevral '21
+80
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '21
+211
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '20
+1 362
0 kanalda
| Sana | Obunachilarni jalb qilish | Esdaliklar | Kanallar | |
| 01 Avgust | +2 |
Kanal postlari
*وفیات مورخہ:اگسٹ /01*
1824ء ماہ لقا بائی۔ پہلی صاحب دیوان شاعرہ
1984ء نورالحسن۔ مولانا، سید
1985ء قدوائی ، کے ٹی۔ ،
1988ء محمد زکریا۔ مولانا ،
1989ء مسعود اختر حاتمی۔ سید
1991ء یوسف ادریس۔ مصری ادیب
2000ء علی سردار جعفری۔ شاعر، ادیب
2001ء قدسیہ اعزاز رسول۔ بیگم
2005ء فہد بن عبد العزیز آل سعود۔ شاہ سعودی عرب
2006ء کفیل الرحمٰن نشاط عثمانی۔ مولانا مفتی ،
2008ء ہرکشن سنگھ سرجیت۔ جنرل سکریٹری سی پی یم
2009ء عبد الرافع الباقوی۔ مولانا ،عربی ادیب، استاد جمالیہ کالج مدراس
2012ء شہزاد احمد۔
2014ء صبیح محسن۔ ،
2015ء فرید خان (فرید الرحمٰن خان)۔ ،
2022ء سرفراز علی ۔ فوجی جنرل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
| 2 | یادوں کا سفر (۹۱۔۹۲) اخلاق احمد دہلوی | 196 |
| 3 | جلوہ ہائے پابہ رکاب (۵۶ )۔۔۔ ویٹیکن میں علاج
از: ڈاکٹر ف عبد الرحیم
یہ جون 1984ء کی بات ہے، میں اپنے دوست ڈاکٹر محی الدین الوائی مرحوم کے ساتھ روم پہنچا۔ ہم اسپین سے یہاں آئے تھے۔ ان دنوں مجھے سخت بخار تھا۔ ہوائی جہاز میں میں بخار کی شدت سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ ہم فوراً ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اس ہوٹل میں بڑے بڑے کمرے تھے۔ اس میں ہمارے علاوہ دوسرے کوئی مہمان نظر نہیں آئے۔ ہم نے اس کا نام الفندق الکئیب رکھ دیا یعنی اداسی والا ہوٹل۔
مجھے بخار کا فوراً علاج کرنا تھا۔ میں نے reception کے ذمہ دار سے بات کی۔ وہ ایک مصری عیسائی تھا۔ اس سے بات عربی میں ہوئی۔ اس نے کہا: آپ کے بخار کا علاج بہت آسان ہے۔ کھڑکی کے باہر والا منظر دکھاتے ہوئے اس نے کہا: یہ جو نہر نظر آرہی ہے اسے پار کریں، اس پار ویٹیکن (Vatican) ہے۔ قریب میں ایک بلڈنگ ہے، اس میں ایک Help Desk نظر آئے گا، وہاں ڈاکٹر کے بارے میں پوچھیے۔ وہ اس کا انتظام کردے گا۔
چنانچہ ہم وہاں گئے۔ Help Desk والے سے میں نے کہا کہ میں بیمار ہوں، اور مجھے طبی امداد چاہیے۔ اس نے intercom پر اعلان کیا کہ یہاں ایک انگریزی بولنے والا ڈاکٹر فوراً آجائے۔ چند ہی منٹ بعد ایک ڈاکٹر آیا، اس کے ساتھ ایک male نرس بھی تھا۔ نرس کے ہاتھ میں ایک دوفٹ لمبی شیشے کی چیز تھی۔ پتا چلا کہ یہ ان کے یہاں کا تھرما میٹر ہے۔ ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور نسخہ لکھ دیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے یہاں دوائیوں کا انتظام نہیں ہے۔ آپ بازار سے دوا خرید لیں۔ چنانچہ میں نے دوا خرید لی۔ یہ دوا Bactrim نامی antibiotic تھی جسے میں پہلے استعمال کر چکا تھا۔ الحمد للہ اس دوا کا فوری فائدہ ہوا، اور بخار اتر گیا۔
دوسرے دن ہم St. Peter's Basilica دیکھنے گئے جو بہت بڑا گرجا گھر ہے اور
کیتھولک عیسائیت کا مرکز۔ پاپ کی رہائش بھی یہیں ہے۔ اسی complex میں ایک
قدرے چھوٹا چرچ ہے جو Sistine chapel کہلاتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے مشہور ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کی چھت پر سولھویں صدی کے مشہور مصور میکل آنجلو کی بنائی ہوئی
تصویریں ہیں۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں نئے پاپ کا انتخاب ہوتا ہے۔ جب نئے پاپ کے
انتخاب کا وقت آتا ہے تو دنیا بھر کے cardinal یہاں جمع ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں انکی
تعداد تقریباً پچاس ہوتی ہے۔ ان سب کو اس chapel میں بند کر دیا جاتا ہے، اور ضرورت
کی تمام چیزیں یہاں مہیا کر دی جاتی ہیں۔ نئے پاپ کے انتخاب میں عموماً دو تین دن کا وقت
لگتا ہے۔ جب کسی کارڈینل کو پاپ کے طور پر منتخب کر لیا جاتا ہے تو اربابِ حل وعقد کو اس
کی اطلاع دینے کے لیے کارڈینل چمنی میں تھوڑی سی گھاس جلاتے ہیں جس کا کثیف دھواں
دیکھ کر یہ پتا چل جاتا ہے کہ پاپ کا انتخاب ہو چکا ہے۔ فوراً چیپل کا دروازہ کھول کر نئے پاپ
کا استقبال کیا جاتا ہے اور لاطینی زبان میں یہ اعلان کیا جاتا ہے:
Habemus Papam (We have a Pope).
نئے پاپ کو پالکی میں بٹھا کر ان کو دفتر پہنچایا جاتا ہے۔ راستے میں چرچ کا ایک اہل کار
ایک برتن میں کچھ گھاس جلا کر پاپ کے سامنے رکھتا ہے۔ جب گھاس جل کر راکھ بن جاتی
ہے تو اہل کار لاطینی زبان میں پاپ سے کہتا ہے: Papa, sic passit gloria
mundi۔ یعنی پاپائے روم، دنیا کی شان وشوکت اسی طرح ختم ہو جاتی ہے۔
چونکہ پاپ ایک شاہانہ زندگی بسر کرتا ہے، اس عمل سے اس کو دنیا کی بے ثباتی کی یاد
دلائی جاتی ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 195 |
| 4 | گردو غبار میں اَٹا ہوا ایک پُر شوق مسافر دھوپ اور سائے سے بے نیاز ـــــ اُونچے نیچے ریگستانوں کی خاک چھانتا ہوا چلا جا رہا تھا ۔ وہ گرتے پڑتے مکّے میں داخِل ہوئے اور سید ھے مسجد حرام میں چلے گئے ــــــ کیا نازک سفر تھا یہ ــــــ ! وہ اس ہستی کو جانتے پہچانتے تک نہ تھے جس کی تلاش انھیں وطن سے دُور پردیس میں اس طرح کھینچ لائی تھی ــــــ اور دوسروں سے پُوچھتے ہوئے اندیشہ تھا کہ سچائی کے دشمن اُن کی اس آخری اُمید کو توڑ نہ ڈالیں جو زندگی کی ہولناک تاریکیوں میں انھیں روشنی کی واحد کرن محسوس ہو رہی تھی ۔
سُورج چڑھا ــــــ ڈھلنے لگا۔ شام ہو رہی تھی اور اس پر دیسی کے پاس کھانے اور ٹھکانے تک کا کوئی بندوبست نہ تھا ۔ اپنے مہمان کی پزیرائی کے لیے خود خُدا نے ایک پُر خلوص میزبان کو بھیجا ۔ یہ حضرت علیؓ تھے جنھوں نے اس پر دیسی کو دیکھا اور اس کے متعلق کچھ اور پوچھ گچھ کرنے کی کوئی ضرورت سمجھے بغیر مہمان نوازی کے پُر شوق بازو پھیلا دیے ۔ وہ اُنھیں اپنے گھر لے آئے اور استطاعت بھر میزبانی کی لیکن مہمان نے اس رات اپنے راز پر سے نقاب نہ اُٹھایا۔ دُوسرے دن وہ پھر خانہ کعبہ میں جا پہنچے کہ شاید وہ اس آدمی کو پاسکیں جس کے انتظار میں ان کے رُوح و دل میں جذبات نے ہل چل ڈال رکھی تھی دوسری رات وہ پھر حضرت علیؓ کے حصّے میں آئے ــــــ اسی طرح تیسرا دن کٹا اور تیسری رات آپہنچی ــــــ آج بھی وہ علیؓ کے مہمان تھے ۔ آج رات میزبان نے یہ بھی اپنا اخلاقی فرض سمجھا کہ مہمان کا مقصدِ سفر معلوم کر کے اس کام میں اس کا ہاتھ بٹائے ــــــ اور آج رات حضرت ابوذرؓ بھی دِل کی بات ہونٹوں پر لے آئے۔
”مَیں کل صبح تمہیں حضرت محمد ﷺ کے پاس لے چلوں گا۔“
حضرت علیؓ نے مسّرت انگیز آواز میں تسلّی دی ”لیکن اگر راہ میں کوئی ایسا شخص مِل جائے جس کی موجودگی میں تمہارا میرے ساتھ دیکھا جانا مناسب نہ ہو تو میں جوتا ٹھیک کرنے یا پیشاب کرنے کے بہانے رُک جاؤں گا اور تم چلتے رہنا۔“
____
انتظار کی یہ پہاڑ سی رات بھی کٹ گئی ــــــ صبح کی روشنی میں وہ حضرت علیؓ کے ہمراہ درِ رسولﷺ پر حاضری دینے کے لیے چلے جا رہے تھے۔ بارگاہِ رسالت ﷺ میں داخِل ہوئے تو ان کے دِل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور جیسے ہی ان کی پہلی نظر خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن ترین چہرے پر پڑی انھیں محسوس ہوا کہ دل کے ہر ایک دھڑکن میں چراغ سے روشن ہو گئے ہیں عقیدت کا سیلاب تھا جو حضرت ابوذرؓ کے پورے وجود سے پُھوٹ نکلا تھا اور اجنبیت کا سارا احساس ، شکوک و شبہات کے تمام اندھیارے بیک نظر کافور ہو گئے تھے۔ وہ جانچ پرکھ کے جانے کیا کیا ذہنی نقشے بنا کر لائے تھے ــــــ مگر یہاں تو تلاشِ حقیقت کا پورا سفر ایک ہی نظر میں طے ہو گیا ــــــ دو چار باتیں ہوئیں اور دل کی تمام گرہیں ایک ایک کر کے کھلتی چلی گئیں ــــــ قبیلۂ غفار کا جگر پارہ بے تابانہ اُٹھا اور ساری دنیا سے کٹ کے آغوشِ ایمان و اسلام میں آگرا۔
(جاری)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 134 |
| 5 | کیا ہم مسلمان (٤٤) منجدھار سے ساحل تک - پہلی قسط
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
مکّے میں قریش کے ایک صادق وامین شخص نے اعلان کیا ہے کہ ”انسانوں کی فلاح کے لیے میں خدا کا آخری پیغام لایا ہوں۔ “ تیزی سے گشت کرتی ہوئی یہ سنسنی خیز خبر قبیلۂ غفّار کے ایک جویائے حق انسان حضرت ابو ذر غفاریؓ کے کانوں تک بھی پہنچی ـــــ یہ خبر سنتے ہی وہ چونک اُٹھے ـــــ !
چاروں طرف پھیلی ہوئی گھٹا ٹوپ تاریکی میں جیسے کوئی حسین ترین جگنو چمک اُٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر ان کا معصوم دل کیسا کیسا کُڑھتا تھا کہ جھوٹ، گناہ اور ظلم نے انسانی بستیوں میں خوف ناک جنگلوں کی سی فضا پیدا کر دی ہے ۔ درندگی ہے کہ آدمی کی صورت سے ٹپکی پڑتی ہے ـــــ جیسے آگ اور خون کا ایک زبر دست طوفان اُمنڈ پڑا ہے جس کے وحشی تھپیڑوں نے تمام سفینوں کو توڑ پھوڑ ڈالا ہے اور جو لوگ ابھی تک اس طوفان میں غرق نہیں ہوئے وہ سب ٹوٹے ہوئے خستہ حال تختوں سے لپٹے ہوئے ایک ایک کر کے منجدھار میں چکرا رہے ہیں اور کنارے کی حسرت میں تڑپ رہے ہیں ـــــ مگر کوئی نہیں جانتا کہ کنارا کہاں ہے اور وہاں کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟
” کیا عجب ہے کہ یہ خبر درست ہو! حضرت ابوذر غفاریؓ نے دل کی گہرائیوں میں غور کیا، کیا عجب ہے کہ جو بندے خود اپنی جانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ڈالتے ہیں بد نصیبوں پر ان کے حقیقی خدا نے ترس کھایا ہو۔۔۔۔۔“
” حقیقی خدا “ کے تصوّر سے ہی ان کے بے قرار و بے تاب سینے سے ایک زبردست ہوک سی اُٹھی ـــــ ”خدا “ جس کو بھول کر ،جس سے دور بھٹک کر ادمی سوائے جہنّم کے اور کہیں نہیں پہنچ سکتا۔ ”خدا “ کے بغیر سونے چاندی کے خزانے بھی سکون دل کو ڈسنے کے لیے منہ کھولتے ہیں ـــــ ”خدا “ جس کا یقین سینے میں چھپائے ہوئے انسان کفن او ڑھ کر اور خود اپنے خون میں غسل کر کے بھی بے اختیار مسکرا دیتا ہے!
وہ نہ جانے کتنی دیر تک کیا کیا سوچا کیے ـــــ اور جتنا انھوں نے اس خبر پر غور و فکر کیا یہ خبر ان کے لیے اتنی ہی دل کش اور جاں نواز اور پُرمعانی ہوتی چلی گئی۔
”میرے بھائی ! “ آخر انھوں نے ایک عملی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بھائی سے سرگوشی کی ”تمہیں ابھی اور اسی وقت مکّے جانا ہوگا اور اس آدمی کے متعلق سب کچھ معلوم کر کے بہت جلد آنا ہوگا جس نے کہا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ـــــ “
اور ایک بھائی کی اس مقدّس خواہش کے احترام میں دوسرا بھائی تلاشِ حقیقت کے اس حسین سفر پر روانہ ہو گیا ۔بھائی کی جانے کے بعد ان کی بے تابی انتظار امید و بیم کی قیامت سے دوچار تھی ۔ہر شے کی طرف سے نظر ہٹا کر اب وہ صرف مکّے کی طرف اپنے درد کی دوا کے لیے چشم براہ تھے ـــــ ان کا دل بے تاب تھا کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تیزی سے ان کے قریب آئے اور ان کی ایک ایک دھڑکن میں پیوست ہو جائے۔
آخر آخر ۔۔۔۔۔۔
انتظار کی جاں کاہ گھڑیاں بیت گئیں ــــ اُنھوں نے دیکھا کہ اُن کے بھائی مکّے کی طرف سے قبیلۂ غفار میں واپس چلے آرہے ہیں۔ دُور ہی سے انھوں نے آنے والے کے چہرے کا بغور مطالعہ کیا اور سفر کے تاثرات کا بے تابانہ جائزہ لینے کی کوشش کی ۔ یہ محسوس کر کے ان کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں کہ ان کے بھائی کے چہرے پر ایک حسین ترین اُمید کی جاں نواز روشنی دکھائی دے رہی ہے !
” کیا پتہ چلا ……؟“ اُمید اور خوف کے دو آتشہ جذبات نے حضرت ابوذرؓ کے الفاظ میں تھر تھری دوڑا دی تھی ۔
” گھبر ائیے نہیں “ ان کے بھائی نے ان کو دلاسا دیتے ہوئے کہا ” میں ان سے مل کر اور دوسروں سے ان کے متعلق معلومات کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ تو خود بھی بڑے اچّھے آدمی ہیں اور دوسروں کو بھی بڑی اچھی باتیں سکھاتے ہیں ـــــ اور ہاں وہ ایک ایسا عجیب و غریب کلام سناتے ہیں جو نہ شعر ہے اور نہ کہاوت۔۔۔۔۔“
بھائی کا ایک ایک لفظ اُنھوں نے گوشِ دل سے سُنا اور دل کی پیاس کُچھ اور بڑھ گئی ـــــ وہ بے چین ہو گئے کہ کاش میں خود مکّے گیا ہوتا اور اپنی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا ہوتا جس کے تذکروں میں کانوں کے لیے اس قدر مٹھاس ہے ـــــ جذبات شوق کے ہچکولے کھاتے ہوئے وہ فی الفور اُٹھ کھڑے ہوئے اور قطعاً بے سروسامانی کے عالم میں وجد کرتے ہوئے سُوئے مکّہ چل کھڑے ہوئے ۔ وہ دنیا میں دنیا کے بنانے والے کو ڈھونڈنے جا رہے بے تھے ـــــ انھیں اس کھوئی ہوئی سیدھی راہ کی تلاش بے کل بنائے ہوئی تھی جس پر چل کر وہ اپنے معبُود سے ملاقات کر سکیں ۔ | 126 |
| 6 | *اقتباس مطالعہ: 06*
*مسئلہ مشرقی اور پان اسلام ازم*
لیکن حضرات! یقین کیجیے کہ پان اسلام ازم کا فرضی خطرہ جس غرض مخفی سے دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے، بہت کم مسلمان ہیں جن کی نظر اس حقیقی علت پر ہوگی، اس خطرہ کے اعلان پر بریت اور احتیاط کی کوشش بالکل بے فائدہ ہے، کیونکہ اس کی بنیاد جہل نہیں، بلکہ ایک نہایت سخت ابلیسانہ حکمت عملی ہے، قبل اس کے کہ مسلمان پان اسلام ازم کے جرم سے کانوں پر ہاتھ دھریں، ان کو خود یورپ سے پوچھنا چاہیے کہ مسئلہ حقیقی کیا ہے؟ "فما كان جوابهم فهو جوابنا".
کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ آج نصف صدی سے یورپ کے تمام مسیحی طاقتوں نے ایک خاص متفقہ حکمت عملی وضع کی ہے، اور اس کا نام "مشرقی مسئلہ" یا "مشرق کا فیصلہ آخری" رکھا ہے۔ "مشرقی مسئلہ" کی حقیقت غایت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اسلام کے بقیہ قوائے سیاسیہ کا بتدریج خاتمہ کر دیا جائے، اور بالفاظ صاف تریہ کہ دنیا کے جتنے حصے اسلام کے زیر اثر باقی رہ گئے ہیں ان کو یورپ کی مسیحی حکومتیں کسی ایسی تقسیم مساوی کے ساتھ جو "توازن دولی" پر مؤثر نہ ہو، آپس میں بانٹ لیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ "اظہر من الشمس فی نصف النہار" ہے اور جس شخص نے گزشتہ دس برسوں کے اندر کے واقعات سے آنکھیں بند نہیں کر لی ہیں وہ بغیر کسی بصیرت مزید کے اسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر اگر یہ سچ ہے کہ ایک خنجر اسلام کے قلب میں پیوست کردینے کےلئے تیز کیا جا رہا ہے، تو کیا مضایقہ اگر ہم کسی ڈھال کی تیاری میں مصروف ہوں! اگر خدا پرستی سے مسیح پرستی کی دشمنی قدیمی ہے اور یہ کوئی مسیحی سازش نہیں، تو پیروان توحید کا حملہ مشرکین سے بچنے کےلئے "اتحاد اخوت" بھی کوئی نیا حربہ نہیں ہے۔ یورپ جانتا ہے کہ مشرقی مسئلہ کی حکمت عملی کےلئے کوئی بچاؤ اگر اسلام کے پاس ہے تو صرف اس کا حقیقی اتحاد اسلامی ہے، اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس بات پر متفق ہوجانا ہے کہ اپنی قدیمی سیادت اور شرف کو محفوظ رکھیں۔ اسلامی زندگی کی اخری تلوار صرف ترکوں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن ایک ترکی حکومت جس کے کئی قیمتی اجزاء پر مسئلہ مشرقی کی قینچی چل چکی ہے،مسیحی اتحاد کا کیا مقابلہ کرسکتی ہے؟ البتہ اگر چالیس کروڑ قلوب اسلامیہ ہلال کے نیچے جمع ہو جائیں، تو پھر وہ ایسی قوت ہے جس کو سینکڑوں سکندر اور ہنی بال بھی مل کر فنا نہیں کرسکتے۔ یورپ چونکہ یہ جانتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی جانتا ہے کہ غفلت اور اغراض پرستی نے مقامی وطنی سرشاریوں میں مسلمانوں کو مبتلا کر دیا ہے اور ان کے باہمی بین الملی اتحاد کے جسے میں مغربی الحاد کے جراثیم پیدا ہو چکے ہیں اس لیے گو فی الحقیقت کسی ایسے اسلامی اتحاد کا وجود نہیں ہے۔ لیکن وہ وقت سے پہلے پیدا ہونے والی مقاومت کا استیصال کرنا چاہتا ہے؛ اور اس مشہور قاعدہ کی رو سے " اتقاء عن المرض خير من معالجه بعد وقوعه" (بیماری لاحق ہونے کے بعد اس کا علاج کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے ہی اس سے بچاؤ اختیار کیا جائے).. اسلام کے فنا کرنے سے پہلے اس کے بچاؤ کی ڈھال کو فنا کر دینا تدبیروں میں مصروف ہے۔
*(جاری)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی* | 144 |
| 7 | میں نے اُس سے باقی سوالات کے معانی پوچھے، جن کے وہ انگریزی میں درست جوابات لکھ آیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مطلب کسی سوال کا اُسے خاک نہیں آتا تھا۔ مگر نتیجہ آیا تو’رٹّا اسکول‘ نے ’جی کے‘ میں نِنّانوے فی صد نمبردے کر اُسے اوّل بدرجۂ اوّل پاس کردیا تھا‘‘۔
ہم نے تائید کی: ’’جی ہاں! ان جدید تعلیمی اداروں سے ہمارے ننھے منے بچے غیر حقیقی طور پر اورحیرت انگیز حد تک اعلیٰ ترین نمبر لے آتے ہیں۔ گال پر ستارہ بنواکر چلے آتے ہیں۔ سالانہ تقاریب میں ’ایوارڈ‘ کے نام پر پلاسٹک کی تختیاں لے آتے ہیں، اوریہی نہیں، آگے چل کر اسناد اور ڈگریاں بھی وصول کر لاتے ہیں، مگر علم نہیں حاصل کر پاتے۔ ان پر تو وہی مَثَل صادق آتی ہے کہ پڑھنا آئے نہ لکھنا، نام محمد فاضل۔ مگر صاحب! کوئی مردِ خدا ایسا نہیں جو اس اِندھیر کے خلاف سرکار دربار میں آواز اُٹھائے‘‘۔
ہمارے اِن تائیدی کلمات پر پروفیسر صاحب بدک گئے۔ کہنے لگے:
’’تمھارے اس جواب پر وہی قصہ یاد آگیا کہ ایک گدا نے کسی دروازے پر صدا لگائی تو اندر سے آواز آئی کہ بابا! گھر میں کوئی بندہ نہیں۔ بابا نے فہمائش کی، بیٹا!تھوڑی دیر کے لیے تُو ہی بندہ بن جا۔ ارے میاں! ذرا کی ذرا تم ہی مردِ خدا بن جاؤ۔ کچھ اِس موضوع پر بھی لکھ ڈالو۔ لکھو کہ… کچھ علاج اِس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟… کیا انگریزی ذریعۂ تعلیم کے اوزارکی مدد سے ہمارے بچوں سے اُن کے مشاہدے، اُن کے تجربے، اُن کے تجزیے، اُن کے دیکھنے، اُن کے سننے اور اُن کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کرلی جائے گی؟ کیا اُنھیں کلّی طور پر محض اغیار کی اندھی، گونگی اوربہری غلامی ہی کے لیے ’مینوفیکچر‘ کیا جائے گا؟‘‘
عرض کیا: ’’اِس موضوع پرہم پہلے بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور بہت کچھ مزید لکھ سکتے ہیں۔ مگر موضوع کی زَد میں ہمارے کچھ ایسے ساتھی بھی آتے ہیں جو قوم کو غلامی سے نجات دِلانے اور ملک میں انقلاب لانے کے علم بردار ہیں۔ تاہم اپنے نامور نجی اور کاروباری تعلیمی اِداروں میں وہ بھی یہی کچھ کررہے ہیں۔ لہٰذا ہماری طرف سے بھی معذرت اور اپنے سوالات کا وہی جواب قبول کیجیے جو آپ کو آپ کے پوتے نے دیا تھا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا‘‘۔
پروفیسر صاحب نے اپنے مقدّر پر (مُراد اُن کی وسیع وعریض پیشانی سے ہے) ایک ہتّڑ مارا اور فرمایا:
’’ہائے رام! جنرل کنَؤ…لَد گئے!‘‘ | 166 |
| 8 | *غلطی ہائے مضامین*
*’’ہائے رام! جنرل کنَؤ…لَد گئے!‘‘*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
اتوارکے روز ہم پروفیسر صاحب کے گھر پہنچے تو اُنھیں افسردہ پایا۔ ہفتے کے کسی اور دِن پہنچتے تب بھی اُنھیں ایسا ہی پاتے۔ اُردو کے اُستاد ہیں۔ ماضی تمنّائی اور ماضی شکّی بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ پڑھاتے وقت شک اُن کی پیشانی کی ہرہر شکن سے ہویدا ہوتا ہے۔
ایک روز ایک لڑکا اُن سے کمرۂ جماعت ہی میں پوچھنے لگا:
’’سر! ماضی شکّی اور ماضی مشکوک میں کیا فرق ہے؟‘‘
اِس بیہودہ سوال پر اُنھیں اپنا ماضی یاد آگیا۔ مزید کئی دِنوں تک افسردہ رہے۔ خیر، تو اُس روز، یعنی اتوار کے روز ہمیں دیکھ کر فرمایا:
’’ہم تو نئی نسل سے اچھے مستقبل کی تمنّا رکھتے ہیں، مستقبل تمنائی۔ مگر ہمارے ماضی شکّی سے زیادہ اس نسل کا مستقبل مشکوک ہے‘‘۔
پوچھا:’’وہ کیسے؟‘‘
فرمایا: ’’میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا۔ ’پریپ‘ میں تھا۔ میاں اب ’کچی پہلی‘ اور ’پکّی پہلی‘ کا مذاق اُڑتا ہے۔ لیکن ملّتِ اسلامیہ پاکستان کے کسی نومولود بچے کو پنگوڑے سے اُٹھاکر’Play Group’ اور ‘Preparatory Class’ میں بِٹھا دیا جائے اور اُسے اُس کے پوپلے منہ سے’Prep.’ بولنا سکھایا جائے توکسی کو ہنسی آتی ہے نہ مذاق سوجھتا ہے۔ اکبرؔالٰہ آبادی تو صرف اِسی بات کو رو رہے تھے:
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
مگر اُنھیں کیا معلوم تھا کہ خود اُن ہی کی قوم، غلامی میں قومِ بنی اسرائیل سے بھی کئی درجے گئی گزری ہوجائے گی اور فراعنۂ وقت کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قتل کرکرکے اُن پر فخر و مباہات کا اظہار کیاکرے گی۔ خوشی خوشی اُن کے تعلیمی قتل کے صداقت نامے وصول کیا کرے گی‘‘۔
’’پروفیسر صاحب! آخرہُواکیا ہے؟‘‘
’’بھائی! ہوا یہ کہ جب میرا ننھا پوتا امتحان دے کر آیا تو میں نے پوچھا، بیٹا آج کس مضمون کا پرچہ تھا؟ پہلے تو یہ سوال ہی اُس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ جب ماں نے سمجھایا کہ دادا ابو پوچھ رہے ہیں کس سبجیکٹ کا پیپر تھا؟ تو کہنے لگا، جی کے کا‘‘۔ لمحے بھر توقف کیا۔ پھر بولے:
’’بھائی! سوال اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، جواب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے اُس کی ماں کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو بہو نے مجھے پڑھانے والے انداز میں بتایا کہ اباجی! ’جی کے‘ جنرل نالج کوکہتے ہیں…‘‘
پروفیسر صاحب کی بات کاٹ کر عرض کیا:
’’جنرل نالج پر ایک پرانا قصہ یاد آگیا۔ پروفیسر صاحب! آپ کوبھی یاد ہوگا۔ چھٹی جماعت کا قصہ ہے۔ ایک بار ہماری انگریزی کی کلاس میں سیاہ فام خواجہ انجم خلجی نے جو انگریزی کے پُرجوش حامی ہونے کی وجہ سے ’لارڈ میاں کالے‘ کہے جاتے تھے‘ اِسی لفظ کو ’جنرل کنالج‘ پڑھ دیا تھا۔ جس پر قریشی صاحب بہت ہنسے تھے۔ پھر اُنھوں نے انگریزی زبان کی اور بھی کئی بوالعجبیاں ہمیں بتائی تھیں‘‘۔
’’ہاں میاں خوب یاد ہے۔ بلکہ ایک اِس سے بھی زیادہ دلچسپ واقعہ یاد ہے۔ تمھیں بھی یاد ہوگا۔ ایک بار خیرپورناتھن شاہ کے لالہ لچھمن لال نے جو اپنی مثالی کنجوسی کی وجہ سے ’لالہ دمڑچی لال‘کہے جاتے تھے ایک انگریزی اخبار میں’General Knowledge’ کی سرخی دیکھی تو اس کو ’’جنرل کنؤ…لَد گئے‘‘ پڑھ لیا۔ لالہ جی اِسے ’بریکنگ نیوز‘ سمجھے اور یہ خبر پڑھ کر خاصی دیر تک ملول رہے۔ نامعلوم جنرل صاحب کا ’دیہانت‘ ہوجانے پردیر تک سوگوار رہے۔ میں نے بھی دلاسا دیا کہ لالاجی کیوں دُکھی ہوتے ہو؟ آخر ایک نہ ایک دِن ہم تم سب ہی لد جائیں گے۔ آج ’جنرل کنؤرام‘ لدے ہیں، کل کو ہم لادے جائیں گے۔ یہ سن کر لالاجی نے اپنی چندیا سہلاتے ہوئے کہا، سچ کہتے ہو۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘۔
’’بات تو آپ کے ننھے پوتے کی ہورہی تھی جو ’جی کے‘ کا امتحان دے کر آیا تھا‘‘۔
’’ہاں میاں! خوب یاد دِلایا۔ میں نے بچے کا پرچہ دیکھا۔ انگریزی زبان میں چھوٹے چھوٹے معروضی سوالات تھے۔ ارے وہی جو آبجیکٹو ٹائپ کہلاتے ہیں…‘‘
ہم نے پھر بات کاٹی:’’ارے پروفیسر صاحب! ’آبجیکٹو ٹائپ‘ تو ہمارے آپ کے زمانے کے معروضی سوالات کہلاتے تھے۔ نئے زمانے کے یہ سوالات آبجیکٹو ٹائپ نہیں کہلاتے، اب اُنھیں ‘MCQs’ کہاجاتاہے۔
Multiple Choice Questions‘‘۔
’’اماں جو بھی کہا جاتا ہو، بات سنو، بلکہ بپتا سنو۔ بچے سے پرچہ لے کر میں نے دیکھا کہ بچے نے تمام سوالات پرصحیح کا نشان لگا رکھا تھا، سوائے ایک سوال کے۔ میں نے پوچھا، کیوں میاں تم نے اِس سوال پر نشان کیوں نہیں لگایا؟ اُس نے جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ میں نے کہا، یہ تو بہت آسان سوال ہے۔ اُس نے پھر یہی کہا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں نے سوال کا ترجمہ کرتے ہوئے پوتے سے اُردو میں پوچھا، بیٹا! یہ بتاؤ اگر پٹرول پمپ پر ماچس جلائی جائے تو کیا ہوگا؟ بچے نے جھٹ جواب دیا، آگ لگ جائے گی۔ میں نے کہا، بیٹا! اِس سوال کے جواب میں یہی تو لکھنا تھا۔ اُس نے پھر وہی جواب دیا کہ اِس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا تھا۔ اب | 152 |
| 9 | کی کوشش کی ہے لیکن چونکہ تاریخ اور عقیدت و ارادت کے تعلقات کے درمیان تطبیق کی کوئی شکل بھی ایسی نہیں ہو سکتی جو سب کے لئے قابل قبول ہو اس لئے مقدمہ میں جو کوشش کی گئی ہے اسے کامیاب نہیں کہا جا سکتا،
سید صاحب نے ایک خط میں اسد ملتانی صاحب مرحوم کا ایک خط بھی نقل کیا ہے اس خط کے بعض فقرے اس لائق ہیں کہ آج بھی مسلمانوں کو انہیں پڑھنا اور ان سے سبق لینا چاہئے ، مرحوم لکھتے ہیں :-
"سکھوں کی صوفیانہ جماعت میں اسلامی عنصر بہت زیادہ تھا اور ممکن تھا کہ ایک عرصہ کے بعد یہ اسلام میں جذب ہو جائے مگر فرخ سیر وغیرہ کے سیاسی مقابلے نے اس جماعت کو ایک شدید اسلام جنگجو قوم بنا دیا، اس طرح آریہ سماج کی تحریک فی الحقیقت ہندوؤں کو اسلام سے زیادہ قریب لانے والی تھی چنانچہ اس کی ابتدائی نشو ونما بھی مسلمانوں کی سرپرستی میں ہوئی، اگر اس کی طرف زیادہ توجہ کی جاتی تو یہ فرقہ یا تو دھرم سماجوں کی طرح گوشہ گمنامی میں ہوتا یا شاید اسلام میں مل جاتا مگر افسوس ...... مولانا ثناء اللہ کے علمی جہاد نے اس کو نہ صرف ہم سے بلکہ اسلام کا ناچار سخت دشمن بنا دیا" (ص ۲۷۱)
بہرحال یہ مجموعہ تاریخی اور ادبی اعتبار سے ایک خاصہ کی چیز ہے ، آئندہ لوگ اس کو بطور حوالہ استعمال کریں گے۔
*ارسال کردہ: مولانا منیری صاحب*
*نقل کردہ: محمود الحسن مدراسی*
https://t.me/ilmokitab | 164 |
| 10 | میں ایک خط مولانا ابوالکلام آزاد کا بھی ہے جو انھوں نے سید صاحب کے خط کے جواب میں لکھا تھا۔ قطع نظر اس سے کہ مکتوبات سلیمانی میں ایک ایسے خط کو چھاپنے کی ضرورت ہی کیا تھی جس سے ایک مسلمان چہ جائے کہ عالم دین و ترجمان قرآن کی پردہ دری ہوتی ہے یہ خط اس اعتبار سے بڑے کام کی چیز ہے کہ اس سے مولانا آزاد کی شخصیت کے ایک اہم پہلو پر روشنی پڑتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پبلک لائف میں اُن کی خود داری کا رشتہ خود سری اور بالا پنداری سے جا ملا تھا، کسی کو نظر میں لاتے تھے اور نہ کسی کو اپنے درجہ اور مرتبہ کا سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود دین کے معاملہ میں اس قدر منکسر النفس اور متواضع تھے کہ سید صاحب نے مولانا کے تنخواہ یاب ماتحت ہونے کے باوجود انہیں ایک خط میں سرزنش کی تو مولانا نے بے چون و چرا اپنی معصیت کا اقرار غایت ندامت و شرمساری کے ساتھ کر لیا اور آئندہ اُس سے مجتنب رہنے کا عہد و پیمان کیا ، اسی طرح کا ایک اور واقعہ تبصرہ نگار کو ذاتی طور پر معلوم ہے ، مولانا کی وفات سے تین چار برس پہلے کی بات ہے، دلی کے ایک نوجوان قاری صاحب کسی تقریب سے مولانا کی کوٹھی پر پہونچ گئے اور وہاں موقع پا کر دعوت و تبلیغ کا فرض انھوں نے اس طرح ادا کیا کہ "مولانا سے کہا حضرت ! کیا آپ وزیر تعلیم ہو کر اس بات کو بالکل بھول گئے کہ آپ ایک عالم دین اور ترجمانِ قرآن بھی ہیں نئی دلی کی جامع مسجد آپ کے دفتر کے سامنے ہے مگر اس کے باوجود آپ جمعہ کی نماز کے لئے وہاں نہیں آتے ، خود قاری صاحب کا بیان ہے کہ مولانا یہ سنتے ہی آب دیدہ ہو گئے اور بجائے معذرت کرنے کے اپنی کوتاہی کا اقرار کیا اور قاری صاحب سے درخواست کی کہ وہ اُن کے پاس وقتاً فوقتاً آتے رہیں۔ عمر خیام کے بقول :-
آنکس کہ گناہ نکرد چون زیست بگو! گناہ کس سے نہیں ہوتا اور کوتاہی و کمزوری کس میں نہیں پائی جاتی، لیکن اول تو گناہ گناہ میں فرق ہوتا ہے، ایک شخص شراب پیتا ہے مگر چوری اور زنا نہیں کرتا اور دوسرا شراب نہیں پیتا مگر سرقہ اور زنا کا مرتکب ہوتا ہے، ظاہر ہے گنہگار دونوں ہیں لیکن ایک کا گناہ ایسا ہے جو شرافت نفس کے ساتھ (جو بہت سی خوبیوں کا سر چشمہ ہے) جمع ہو سکتا ہے اور دوسرے کا گناہ اُس کے دناءتِ نفس اور کمینہ پن کی دلیل ہے اور پھر ایک انسان کے کیریکٹر کی خوبی اور اُسکے جوہر شرافت و انسانیت کا اصل اندازہ اس چیز سے ہوتا ہے کہ خود اس کا اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کے متعلق رد عمل کیا ہے ؟ اگر وہ ان پر نادم اور محجوب ہے اور اُس کا ذکر سنتے ہی اس کی پیشانی پر عرق انفعال کے قطرے نمودار ہو گئے ہیں تو یقیناً وہ بڑا قابل قدر اور لائق مدح و تحسین انسان ہے، ہم جانتے ہیں کہ وہ لوگ جنہیں مولانا آزاد کے ساتھ خدا واسطے کا بیر ہے وہ اس خط کو اپنی کام جوئی کے لئے استعمال کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ خط مولانا کی عظمت میں اضافہ ہی کرتا ہے نہ کہ کوئی کمی !
معشوق من آنست کہ نزدِ تو زشت است
اور یوں بھی اس خط میں نئی بات ہے کونسی ؟ وہی اعتراف و اقرار جو مولانا نے اپنی کتاب تذکرہ اور غبارِ خاطر میں تشبیہ اور استعارہ کی زبان میں کیا تھا، یہاں بلا ایہام و توریہ کر لیا ہے، تاریخ نہ کسی پر رحم کھاتی ہے اور نہ کسی کی عظمت و شہرت کی رعایت کرتی ہے اس بنا پر ان خطوط سے اگر شخصیت کا کوئی دوسرا رخ بھی نظر آتا ہے تو ان خطوط کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے مگر یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی ذات میں کچھ کمزوریاں ضرور نظر آتی ہیں لیکن ایک انسان کی صحیح قدر و قیمت کا تعین اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ اُس کی خوبیوں اور کمالات کے ساتھ اس کی کمزوریاں ان کے متعلق خود اس کا ردعمل اور پھر عمر میں ترقی اور اضافہ کے ساتھ ان کمزوریوں کی اصلاح اور اُن کو رفع کرنے کی کوشش، ان سب کو بیک وقت سامنے رکھ کر غور کیا جائے، اس حیثیت سے مکاتیبِ سلیمانی کے آئینہ میں سید صاحب اور مولانا آزاد کی شخصیتوں کے جو نقوش اُبھرتے ہیں ان میں بڑی عظمت و بزرگی، بلندئ کردار اور رفعتِ اخلاقی ہے نہ کہ خدانخواستہ کوئی ایسی پستی جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے دامانِ فضیلت پر بدنما داغ کہلا سکے، البتہ مولوی مسعود علی صاحب کے معاملہ سے متعلق جو خطوط ہیں اُن میں سے خط نمبر ۲۱۱ میں سید صاحب مکتوب الیہ کو خود بھی لکھتے ہیں کہ "مکتوب الیہ اس کو چاک کر دیجیے گا" جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب کو اس بات کا احساس تھا کہ اس معاملہ کی تشہیر صرف سید صاحب اور مولوی مسعود علی صاحب کی نہیں بلکہ دارالمصنفین کی بدنامی و رسوائی کا باعث ہوگی، اس بنا پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ مکتوب نگار کی خواہش کے احترام میں یہ اور اس جیسے دوسرے خطوط کو چاک کردیا جاتا اور اگر چاک نہ ہو سکے تھے تو ان کی اشاعت نہ ہوتی، ان سب نزاکتوں اور پیچیدگیوں کا احساس فاضل جامع کو پورے طور پر ہے چنانچہ شروع میں جو مقدمہ ان کے قلم سے ہے اس میں انھوں نے ان سب کے درمیان عملی تطبیق و توفیق کی شکل پیدا کرنے | 146 |
| 11 | *مکتوباتِ سلیمانی*
*تبصرہ نگار: سعید احمد اکبر آبادی*
حوالہ: برہان، دہلی، مارچ ١٩٦٤
مرتبہٗ مولانا عبد الماجد صاحب دریا بادی - تقطیع متوسط ضخامت ۲۹۸ صفحات کتابت و طباعت بہتر، قیمت مجلد پانچ روپے پتہ ۔ صدق جدید بک ایجنسی، کچہری روڈ ۔ لکھنو۔
یہ کتاب مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے اُن دو سو تیس خطوط کا مجموعہ ہے جو مولانا موصوف نے مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی کو لکھے تھے، ان دونوں بزرگوں کا باہم تعلق عنفوانِ شباب میں شروع ہوا اور اگر چہ اُس وقت دونوں کی راہیں بالکل الگ الگ تھیں، ایک اتنا کٹر مولوی کہ اڈیٹر الہلال کی آزاد مشربی کو برداشت نہیں کر سکا اور دوسرا اتناخدا بیزار کہ اپنی تحریروں میں بھی اسے چھپاتا نہیں لیکن اس کے باوجود دونوں میں گہرا رابطۂ اخلاص و مودت تھا جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور ترقی کرتا رہا۔
زیر تبصرہ کتاب صرف جلد اول ہے ، دونوں جلدوں کے خطوط کی مجموعی تعداد تین سو بہتر ہوگی، لائق مکتوب الیہ نے ان خطوط پر جو حواشی لکھے ہیں اُن کی تعداد بھی ایک ہزار سے کم نہیں ، کاتب اور مکتوب الیہ دونوں دنیائے علم وادب کی نامور شخصیتیں ہیں اور خطوط کا زمانہ جو چالیس برس (از ۱۹۱۲ تا ۱۹۵۳) پر پھیلا ہوا ہے، یہی وہ زمانہ ہے جس میں مسلمانوں کی بڑی بڑی علمی تعلیمی اور مذہبی و سیاسی تحریکیں پیدا ہوئیں عظیم الشان ادارے قائم ہوئے اور ہر میدان میں بلند پایہ شخصیتوں کا ظہور ہوا ، اس بنا پر عہد جدید اور مسلمانان ہند کی نشاۃ ثانیہ کی تاریخ میں یہ خطوط اور اُن کے ساتھ یہ حواشی تاریخی اور ادبی اعتبار سے بڑے اہم ہیں، تاریخی اس لئے کہ پرائیویٹ خطوط ایک طرف تو خود اپنے لکھنے والے کی اصل شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں جس میں چہرہ کے اچھے برے خدو خال جن سے شخصیت کی ترکیب و تعمیر ہوتی ہے۔ وہ سب نظر آجاتے ہیں اور دوسری جانب بہت سے واقعات کا جو صحیح علم خطوط کے ذریعہ ہوتا ہے عام روایتی ، کاغذی یا اخباری بیانات سے نہیں ہو سکتا اور ادبی اس لئے کہ ایک بڑا ادیب اور مصنف پرائیویٹ خطوط میں جو زبان استعمال کرتا ہے وہی در اصل اُس کے ادبی شعور اور ادبی مزاج و طبیعت کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ کیوں کہ اس میں آورد کے بجائے آمد ، اور تکلف و اہتمام کے بجائے بے ساختگی اور برجستگی پائی جاتی ہے، ان خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صاحب جتنے بڑے محقق اور مصنف تھے منتظم اور نگراں بھی اُسی درجہ کے تھے، معارف کے علمی معیار کو بلند کرنے ، رفقائے دارالمصنفین کی تربیت کرنے اور دارالمصنفین کو ایک بلند پایہ ادارہ بنانے کے لئے انہوں نے کیا کیا اسکیمیں بنائیں اور اُن کو عمل میں لانے کے لیے کیسی جدو جہد کی، علماء اور فضلاء اور امراء اور رؤسا ان دونوں کا تعاون کس طرح حاصل کیا ؟ علوم جدیدہ کی ان کی نظر میں کتنی اہمیت تھی ؟ اور کس طرح اُن پر ہر وقت کام کی ایک دھن سوار رہتی تھی ؟ ملکی اور بین الاقوامی سیاسیات پر اُن کی نظر کتنی گہری تھی ؟ اس کا اندازہ ان خطوط سے ہوتا ہے جو انھوں نے یورپ سے لکھے ہیں، دینی حمیت اور اخلاقی جسارت کا یہ عالم ہے کہ کلکتہ کے قیام کے زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی رند مشربی گوارا نہ کر سکے، اور اُن کو سخت محتسبانہ خطوط لکھے مگر ساتھ ہی سید صاحب جمالیاتی ذوق سے محروم نہیں تھے ، چناں چہ ان خطوط میں بعض فقرے اس کا ثبوت ہیں کہ سید صاحب دل کے صاف تھے ، اُن کی دوستی اور دشمنی منافقت کے عیب سے پاک تھی ، سید صاحب کو خود انگریزی نہ جاننے کا اتنا ہی افسوس ہے (ص ۲۸٤) جتنا کہ (مسلمان ہو جانے کے بعد) مولانا دریابادی کی مولویانہ نظری سے ان کو شکوہ ہے۔ (ص ۲۸٦)
شاردا ایکٹ جس کے ذریعہ کم سنی کی شادی کو قانوناً ممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا تھا اس کے خلاف مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا اور مولانا محمد علی اور مولانا مفتی محمد کفایت اللہ وغیرہم سب نے ہی اس ایکٹ کو "مداخلت فی الدین" قرار دیا۔ لیکن سید صاحب ان حضرات سے متفق نہیں تھے، چنانچہ خط نمبر ١٩١ میں لکھتے ہیں :-
"نصوص شرعی کے اشارات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نکاح بحالتِ بلوغ مستحسن ہے۔ اگر مسلمانوں کی حالت کا اقتضا ہو کہ عدمِ بلوغ کے غیر مستحسن نکاح سے لوگوں کو روکا جائے تو مسلمانوں کا امام ایسا کر سکتا ہے ، مگر غیر مسلم حکومت میں ایسا نہیں ہو سکتا، بجز اس کے کہ مسلمان قضاۃ کا تقرر ہو اور وہ اسلامی مصالح کی بنا پر کوئی حکم دیں اور اُس پر کوئی تعزیر جاری کریں، مگر نکاح اور اُس کے لوازم نا جائز نہیں ہو سکتے"۔
سید صاحب کی یہ تحریر اس اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ اس میں انھوں نے بعینہ وہی بات کہی ہے جو مسلم پرسنل لا کے سلسلہ میں پچھلے دنوں برہان میں لکھی گئی تھی، علاوہ ازیں با ہمہ عالمانہ و قائدانہ سنجیدگی سید صاحب ضلع جگت کے بادشاہ تھے اور فقرے چست کرنے میں اُنہیں ید طولی حاصل تھا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے نام بگاڑنا مثلاً عبدالحق کا عبد الباطل اور عبدالباری کو عباری لکھنا ان کی شوخی قلم کی ایک ادا تھی، اس مجموعہ | 157 |
| 12 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 29*
1955ء خواجہ حسن نظامی۔
1961ء امجد حیدر آبادی۔ شاعر ،
1962ء ابو طالب نقوی (اے ٹی نقوی)۔ ،
1979ء اسحاق جلیس ندوی۔ مدیر تعمیر حیات لکھنو
1980ء محمد رفیع۔ گلوکار
1980ء محمد رفیع۔ گلوکار
1983ء معین الدین حارث۔ مدیر اجمل بمبئی
1990ء حفیظ الدین صدیقی۔ ،
1990ء محمد رضی عثمانی۔ ،
1993ء اعظم چشتی۔ نعت خواں ،
1993ء شمس صدیقی علیگ۔ ،
1996ء ضیاء الحسن فاروقی۔ پروفیسر
1996ء ضیاء الحسن فاروقی۔
1999ء خالدہ ادیب خانم۔ ترکی سیاست دان ،
1999ء ميرزا ادیب۔ ادیب، افسانہ نگار
2003ء محمد ابراہیم خان (سیاست دان)۔
2004ء صغیر احمد خان۔
2022ء اختر بلوچ۔ مورخ وصحافی ،
2022ء اختربلوچ۔ پاکستانی صحافی
2024ء اسماعیل ہنیۃ۔ فلسطینی مجاہد آزادی
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 207 |
| 13 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 30*
1935ء عزیز لکھنوی (مرزا محمد ہادی)۔ شاعر
1937ء راس مسعود۔ ڈاکٹر، سر، سید، وائس چانسلر
1953ء عبدالرحمٰن دہلوی۔ مولانا ،
1977ء عبدالرزاق قریشی۔
1989ء محمد دلاور خانجی۔ کرنل ، نواب
1989ء نظر جعفری۔ ،
1992ء محمد اعظم خاں۔ ،
1996ء ضیاء الحسن فاروقی۔ پروفیسر
2002ء سہام مرزا۔ ،
2004ء یاور اعظمی (سید یاور حسین رضوی)۔ ،
2008ء محمد اقبال گونڈوی۔ حافظ
2015ء حسرت کاسنگجوی۔ شاعر
2017ء ظفر گورکھپوری۔
2019ء ذو الفقارعلی حسینی۔ نعت خواں
2020ء محمد ضیاء الرحمن اعظمی۔ ڈاکٹر، نو مسلم عالم حدیث
2020ء ناصر زیدی۔
2021ء عبد الخالق سنبھلی۔ مولانا
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 310 |
| 14 | تزوج بإثنتين | 294 |
| 15 | *اقتباس مطالعہ:05*
*جامعہ اسلامیہ یا پان اسلام ازم (مسلمانوں کی عالمی یکجہتی کا تصور)*
جب سے اسلام دنیا میں موجود ہے یہ اخوت و وحدت بھی موجود ہے، مگر یورپ کا دسیسئہ شیطانی اس کو کسی مجہول الحال اور حدیث العہد اسلامی اتحاد سیاسی سے تعبیر کرتا ہے اور اسی اضغاث احلام کی تعبیر اس کو ایک خونفشان ہلال کی صورت میں نظر آتی ہے، وہ کسی ایسے وقت کے تصور سے اپنے تئیں لرزاں و ترساں ظاہر کرتا ہے، جب کہ تمام عالم میں چالیس کروڑ مسلمانوں کی تلواریں یکایک چمک اٹھینگی، عیسائیوں سے ان کے گزشتہ چار سو سال کی مسیحی خونریزی کا حساب لیا جائیگا، خذوه فغلوه ثم الجحيم صلوه كے نعروں کے ساتھ تمام دنیا کے درختوں پر تمام صلیب پرستوں کی معلق اور مصلوب لاشیں ان کے خدائے مصلوب کی لاش کی طرح لٹگنے لگینگی، مگر یہ یورپ کے چہرہء خونین کا عکس ہے جو اس کو عالم اسلام کے آئینہ میں نظر آتا ہے۔
میں نے جب کبھی اس قسم کی تحریریں پڑھی ہیں، تو لکھنے والے کے تعصب پر اس قدر متعجب نہیں ہوا ہوں جس قدر اس کے جواب دینے والے مسلمانوں کی جہالت بلکہ اسلام فروشی پر۔ جب کبھی یورپ کے شیاطین سیاست نے "پان اسلام ازم" کی صدا بلند کی ہے تو معا مسلمانوں نے ڈر ڈر کر اور کسی خونی مجرم کی طرح سہم سہم کر بریت کےلئے بے اثر دلائل کی وظیفہ خوانی شروع کردی ہے۔ اور پھر اکثر اوقات غیروں کو خوش کرنے کےلئے اس میں اس درجہ کا غلو کیا ہے کہ خود اپنے تئیں بھول گئے۔
*(مجاھد آزادی ہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ )*
*خطبات آزاد (ص: 19-20)*
*ترتیب و پیشکش: محمد حارث اکرمی ندوی* | 359 |
| 16 | Matn yo'q... | 311 |
| 17 | کرة القدم | 279 |
| 18 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 29*
1952ء رشید جہاں۔ ڈاکٹر، ترقی پسند ادیبہ
1968ء عبد المسدوسی احمد۔ علامہ ،
1969ء عندلیب شادانی۔ ڈاکٹر ، ادیب، نقاد
1975ء شمس اکبر آبادی (شمس الدین خان)۔ ،
1980ء صفدر آہ سیاپوری۔ ڈاکٹر، شاعر، نغمہ نگار
1984ء اقبال مرزا غزنوی۔ ،
1985ء عبد الحی۔ مولانا ،
1986ء محمد مسعود احمد چشتی صابری۔ مولانا ، شاہ، محمد
1987ء محمد حسن فاروقی چشتی چشتی نظامی قلندری۔ خواجہ
1988ء شیخ منظور الحق۔ شیخ ،
1992ء عبدالسلام۔ پروفیسر ،
1996ء ارونا آصف علی۔ ماہر تعلیم، مجاہد آزادی
2009ء گایتری دیوی۔ راج ماتا جے پور
2018ء بلال احمد۔ مولانا مفتی
2018ء رقیہ صدیق محمد جعفری۔ ڈاکٹر
2021ء خلیل المیس۔ لبنانی فقیہ ومفتی
2024ء عارف عقیل ۔ سیاست دان (مدھیہ پردیش)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 316 |
| 19 | *خاکوں اور وفیات کا ایک اہم زیر ترتیب اشاریہ*
ہمارے پاس وفیات اور خاکوں کی کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ محفوظ ہوگیا ہے، جب ہم نے دس سال قبل اپنے علم و کتاب گروپ پر قارئین کی دلچسپی کے لئے دلچسپ اور نادر خاکوں کو پوسٹ کرنا شروع کیا تھا تو خیال آیا کہ کیوں نہ ان کا اشاریہ بنایا جائے، جس سے خاکوں کی پی ڈیف کتابوں سے استفادہ بھی آسان ہوجائے، اور ان کی افادیت بڑھ جائے۔
جب یہ کام شروع کیا گیا تو پھر خیال آیا کہ خاکوں اور وفیات کے مضامین میں تاریخ وفات کے اندراج کا اہتمام نہیں ہوتا، لہذا اس کا بھی اہتمام کیا جائے، لہذا کسی بڑی منصوبہ بندی کے بغیر اکسل پر تاریخ وفیات اور خاکوں کا ایک بڑا اشاریہ تیار ہوگیا، جس میں ابتک اٹھارہ چھ سو دو (18602) وفیات اور خاکوں کا اندراج ہوچکا ہے۔ اور اس میں روزانہ ترتیب، تدوین اور اضافہ کا سلسلہ جاری ہے، اس کے لئے ہم نے دستیاب خاکوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کتابیں خود سے اسکین کرکے محفوظ کی ہیں، جن میں غیر ملکی اور نئی شائع شدہ کتابیں بھی بہت ساری ہیں۔
اس اشارئے میں ہم نام، لقب، تاریخ، ماہ، سال، مصنف، کتاب کا نام، جلد اور صفحہ کے اندراج کا اہتمام کرتے ہیں۔ جس سے تاریخ، نام، مصنف، کتاب، جلد، اور صفحات کی بنیاد پر بہ آسانی معلومات یکجا مل جاتی ہیں۔
اسی اشارئے سے ہم روازنہ اس دن کی منتخب وفیات کی فہرست پوسٹ کرتے ہیں۔ اس سے جہاں قلم کاروں کو اپنے چہیتی شخصیات پر تازہ مضامین لکھنے خیال آتا ہے، وہیں ہمارے اندراج کی احباب سے تصحیح بھی ہوجاتی ہے۔
چونکہ ابھی یہ اشاریہ مکمل نہیں ہوا، اور نظر ثانی سے نہیں گذرا، لہذا کبھی کسی کی تاریخ وفات میں غلطی نکلتی ہے تو کبھی ایک ہی نام دو تاریخوں میں آجاتا ہے، احباب سے ہماری گذارش ہے کہ اشارئے کی ان لغزشوں پر نظر رکھ کے گروپ ہی میں ہمیں مطلع کرتے رہیں۔ شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن علم وکتاب | 301 |
| 20 | *سچی باتیں (10؍فروری 1941ء)۔۔۔ مرد وعورت میں فرق*
*از : مولانا عبد الماجد دریابادیؒ*
(1) دَور حاضر کے ترقی یافتہ مرد اور عورت کے درمیان، تحقیق جدید کے رہ سے، کچھ فرق ہے؟ اگر ہے، تو کس قدر؟
(2) فرق اگر ہے، تو طبعی اور فطری کس قدر، معاشری حالات کی بناپر کس قدر، اور تعلیم وتربیت کی بناپر کس قدر؟
(3) ان طبعی، معاشری، اور رسمی اختلافات میں تخفیف یا اضافہ کی کس حد تک گنجائش ہے؟
تنقیحات پیدا کئے ہوئے کسی جمود پسند مشرقی کے نہیں، عصر حاضر کے ایک نامور سائنٹسٹ اور مشہور ’’روشن خیال‘‘ والحاد نواز باکمال پروفیسر جولین ہکسلےؔ کے ہیں۔ جوابات بھی اُنھیں کے قلم سے ملاحظہ ہوں:-
’’حمل قرار پاتے ہی مرد وعورت دونوں کی بناوٹ الگ الگ شروع ہوجاتی ہے، ’’کروموزوم ‘‘ کی تعداد کے لحاظ سے ، یعنی اُن ذرّات کے لحاظ سے جن کی بابت پچھلے دس سال کی تحقیقات سے ثابت ہوگیاہے کہ وراثت کے حامل اورصفات وامتیازات پیداکرنے والے بھی ہوتے ہیں(Essays in Popular Science P: 620)
پھردونوں جنسوں کی ساخت میں، اعضائے جنسی کے فرق سے قطع نظرکرکے جوفرق ہے، وہ چاہے بہت زائد نہ ہو، لیکن بہرحال نمایاں تو ہے (ص: 62) قدوقامت، اعضائے جسم کی بڑائی، ہڈیوں اور بالوں کی تعداد، آواز، سب ہی کچھ ایک جنس کو دوسری سے ممتاز کرتارہتاہے۔ (ص: 62) ۔فنّی تفصیلات چھوڑئیے ، خلاصہ سادہ زبان میں یہ کہ
’’فرق بہت کچھ ہے۔ اتنا زائد کی دونوں جنسوں کے محض مساوات کے کوئی معنی ہی نہیں‘‘۔ (ص: 63)
1923ء میں بورڈ آف ایجوکیشن کی طرف سے کمیٹی مقرر ہوئی تھی ثانوی اسکولوں میں لڑکوں لڑکیوں کے نصاب درس کی تحقیق کے لئے۔ اس کمیٹی کی رپوٹ میں یہ تھا کہ لڑکیوں کے نصاب درس کی تحقیق کے لئے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ میں یہ تھا کہ مرد وعورت کے قوائے دماغی میں بہت ہی کم فرق ہے، لیکن
’’دماغوں پر حاکم تو مزاج ہوتاہے، اور مزاج کے لحاظ سے دونوں جنسوں میں بنیادی فرق نہ صرف آج موجود ہے بلکہ موجود رہے گا صدیوں تک نہیں ہزارہا ہزار ، لاکھون سال تک ‘‘۔ (ص: 63)
اتنا ہی نہیں، بلکہ آگے اور سنئے:-
’’میں تو اس پیش گوئی کی جرأت کرتاہوں کہ دونوں جنسوں کے درمیان فرق، رفتار ارتقاء میں ہی نہیں کہ کم نہ ہوگا بلکہ جیسا کہ ماضی میں ہوتارہاہے، اور حال میں جاری ہے، مستقبل میں رسم ورواج کے ذریعہ یہ فرق نمایاں ہوتارہے گا‘‘۔ (ص: 63)
ان روشن خیالی پر فخر کرنے والی بہنیں اور بھائی برائے خدا غور کریں، کہ ہم ’’رجعت پسند‘‘ اور ’’جمود پرست‘‘ اس سے زیادہ کچھ بھی کہتے ہیں جتنا اس نامور برطانوی سائنٹسٹ نے کہہ دیاہے؟ اور یہ شہادت کوئی منفرد ہے ؟ کتنی اور شہادتیں، کتنی بار انھیں صفحات میں، دوسرے مشاہیر کی نہیں پیش ہوچکی ہیں۔ تاریخ کے فاضلوں کی، بیالوجی کے ماہرین کی، سوشیالوجی کے محققین کی؟ خلاصہ سب کا یہی کہ مرد اور عورت گو انسانی حیثیت سے مشترک ہیں(اور اسی بنا پر شریعت نے انسانی حقوق دونوںکے یکساں تسلیم کئے ہیں) لیکن دو الگ الگ جنسیں ہیں۔ دونوں کے قویٰ الگ، میلانات الگ، صلاحیتیں جداگانہ۔ اور اسی بناپر دونوں کے میدان عمل ایک دوسرے سے مختلف ، دونوں کے فرائض جداگانہ۔ بچہ کے لئے ماں اور باپ دونوں اپنی جگہ پر بڑی چیز، اوربغیر دونوں کے اشتراک کے بچہ کا وجود ہی نہیں ہوسکتا۔ اور نہ پوری طرح اس کی پرورش۔ تاہم بچہ کا رشتہ باپ سے کتنا مختلف ہوتاہے ۔ ماں کے رشتہ سے ! اس کی توقعات دونوں سے کتنی مختلف ! تجدد جو تقسیم عمل کے اس فطری وطبعی قاعدہ کو مٹادینا چاہتاہے، مرد پر اور عالم انسانیت پر تو ظلم ہی کررہاہے، خود عورت کے حق میں کیسا ناانصاف کیسا نادان دوست ہے!
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 379 |
