uz
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Kanalga Telegram’da o‘tish

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Ko'proq ko'rsatish
8 176
Obunachilar
+724 soatlar
+517 kunlar
+14730 kunlar

Ma'lumot yuklanmoqda...

Taglar buluti
Ma'lumot yo'q
Muammo bormi? Iltimos, sahifani yangilang yoki bizning qo'llab-quvvatlash boshqaruvchimizga murojaat qiling>.
Kirish va chiqish esdaliklari
---
---
---
---
---
---
Obunachilarni jalb qilish
Iyun '26
Iyun '26
+218
0 kanalda
May '26
+228
1 kanalda
Get PRO
Aprel '26
+163
1 kanalda
Get PRO
Mart '26
+62
2 kanalda
Get PRO
Fevral '26
+89
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '26
+95
2 kanalda
Get PRO
Dekabr '25
+81
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '25
+109
1 kanalda
Get PRO
Oktabr '25
+105
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '25
+119
1 kanalda
Get PRO
Avgust '25
+173
2 kanalda
Get PRO
Iyul '25
+151
2 kanalda
Get PRO
Iyun '25
+140
2 kanalda
Get PRO
May '25
+95
1 kanalda
Get PRO
Aprel '25
+105
0 kanalda
Get PRO
Mart '25
+153
2 kanalda
Get PRO
Fevral '25
+131
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '25
+278
1 kanalda
Get PRO
Dekabr '24
+403
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '24
+500
2 kanalda
Get PRO
Oktabr '24
+487
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '24
+322
0 kanalda
Get PRO
Avgust '24
+322
3 kanalda
Get PRO
Iyul '24
+323
4 kanalda
Get PRO
Iyun '24
+341
0 kanalda
Get PRO
May '24
+331
1 kanalda
Get PRO
Aprel '24
+300
3 kanalda
Get PRO
Mart '24
+265
1 kanalda
Get PRO
Fevral '24
+321
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '24
+403
3 kanalda
Get PRO
Dekabr '23
+376
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '23
+132
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '23
+124
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '23
+92
0 kanalda
Get PRO
Avgust '23
+121
0 kanalda
Get PRO
Iyul '23
+116
0 kanalda
Get PRO
Iyun '23
+77
0 kanalda
Get PRO
May '23
+253
0 kanalda
Get PRO
Aprel '23
+81
0 kanalda
Get PRO
Mart '23
+49
0 kanalda
Get PRO
Fevral '23
+126
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '23
+137
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '22
+123
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '22
+209
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '22
+119
0 kanalda
Get PRO
Sentabr '22
+62
0 kanalda
Get PRO
Avgust '22
+40
0 kanalda
Get PRO
Iyul '22
+44
0 kanalda
Get PRO
Iyun '22
+138
0 kanalda
Get PRO
May '22
+42
0 kanalda
Get PRO
Aprel '22
+17
0 kanalda
Get PRO
Mart '22
+31
0 kanalda
Get PRO
Fevral '22
+28
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '22
+56
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '21
+112
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '21
+52
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '21
+112
0 kanalda
Get PRO
Sentabr '21
+64
0 kanalda
Get PRO
Avgust '21
+43
0 kanalda
Get PRO
Iyul '21
+63
0 kanalda
Get PRO
Iyun '21
+164
0 kanalda
Get PRO
May '21
+38
0 kanalda
Get PRO
Aprel '21
+60
0 kanalda
Get PRO
Mart '21
+103
0 kanalda
Get PRO
Fevral '21
+80
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '21
+211
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '20
+1 362
0 kanalda
Sana
Obunachilarni jalb qilish
Esdaliklar
Kanallar
30 Iyun+9
29 Iyun+9
28 Iyun+7
27 Iyun+10
26 Iyun+11
25 Iyun+10
24 Iyun+11
23 Iyun+12
22 Iyun+2
21 Iyun+7
20 Iyun+5
19 Iyun+9
18 Iyun+2
17 Iyun+2
16 Iyun+3
15 Iyun+10
14 Iyun+3
13 Iyun+3
12 Iyun+13
11 Iyun+14
10 Iyun+5
09 Iyun+6
08 Iyun+13
07 Iyun+5
06 Iyun+4
05 Iyun+12
04 Iyun+1
03 Iyun+4
02 Iyun+7
01 Iyun+9
Kanal postlari
دور الداعية الإسلامي في المجتمع المعاصر. للشيخ سلمان الحسيني الندوي https://youtube.com/watch?v=UL6ejy4RO1U&feature=shared

2
سچی باتیں (20؍جنوری 1941ء(۔۔۔ موت کی گھڑی از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ دہلی۔ 6؍جنوری ۔ صبح کُہرا خوب پڑرہاہے۔ دن نکل آیا۔ آفتاب بلند ہوگیا۔ فضا اب بھی بدستور دُھندلی۔ لیکن ریل اور جہاز اور ہوائی جہاز بھلا کہیں ان موسمی اور فضائی تغیرات سے رُک سکتے ہیں۔ اپنے وقتِ مقرر پر، ’’برٹش اُوَرسیز ایرویز‘‘ کا طیارہ اُڑا، اور ہَوا میں بلند ہوکر اُس نے لاسلکی سے خبردی، کہ اوپر کی فضا بالکل صاف ہے، کُہرے کی…صرف ایک ہزار فٹ کی ہے۔ اب باری دوسرے طیارہ کی آتی ہے۔ یہ مشین ’’انڈین نیشنل ایرویز‘‘ کی ہے۔ طیارہ پردومسافر سوا، اور دونوں اعلیٰ انگریز افسر۔ طیّارچی ایک ماہر فن آزمودہ کارمسلمان۔ طیّارہ اُڑتاہے، لیکن اُڑتے ہی پھر زمین پر اُترنے کی نیت سے چکّر کاٹنے، منڈلانے لگتاہے۔ہوائی اسٹیشن دور کچھ بھی نہیں، لیکن قبل اس کے کہ امداد کسی قسم کی پہونچ سکے، مشین دھماکہ کے ساتھ زمین سے ٹکراتی ہے، اورمعًا آگ لگ جاتی ہے۔ دَم کے دَم میں مشین جل کر خاکستر، اور تینوں زندہ ہستیاں مردہ!……امداد کی ساری کوششیں ناکام، انسانی تدبیر وحکمت کی ہر طبع آزمائی بے اثر۔ تقدیر کی فرماں روائی ، شہنشاہی، جوں کی توں قائم، بلکہ دائم! لندن۔6؍جنوری ۔موسم خراب ہے۔ لیکن آج اُڑنے والی بھی تو دنیائے ہوابازی کی وہ شہرۂ آفاق خاتون مس ایمی جانسن (کچھ عرصہ تک ’’مسز‘‘ السین رہنے کے بعد پھر ’’مس‘‘ جانسن ہوجانے والی ہیں، جو لندن سے آسٹریلیا تک ، لندن سے کیپ ٹاؤن تک،لند ن سے امریکہ تک، لندن سے ٹوکیو تک اُڑان کے ’’ریکارڈ‘‘ پر ’’ریکارڈ‘‘ قائم کرچکی ہیں، اور خدا معلوم کتنے ماہر فن مَردوں کومات دے چکی ہیں۔ انھیں موسم کی خرابی کی کیا پروا۔ کہتی ہوئی اُڑیں کہ ’’میں ابھی بادلوں کو پارکرکے ان کے اوپر پہونچی جاتی ہوں‘‘۔ اور پھر سفر بھی ان کا کوئی بڑا اور لمبا نہیں۔ کُل ایک گھنٹہ کا ارادہ۔ پٹرول احتیاطًا اتنی مقدار میں لے لیا، جو بجائے ایک گھنٹہ کے پونے پانچ گھنٹے کے لئے کافی ہوسکے۔ اب ڈر ہی کیا۔ لاسلکی جہاز میں موجود ہے۔ منٹ منٹ کی خبر زمین والوں کو مل سکتی ہے……مس صاحبہ زمین سے بلند ہوگئیں، اور راستہ بھول گئیں، سمت نہ پہچان سکیں۔ گھنٹہ کی جگہ دو گھنٹہ ، تین گھنٹہ، چارگھنٹہ، یہاں تک کہ پونے پانچ گھنٹہ پورے گزر گئے۔ پٹرول ختم ہوگیا۔ اور میم صاحب ہوائی چھتری کے سہارے دریائے ٹیمس میں کودیں، ایک انگریزی کشتی نے دیکھا، اور وہ مدد کے لئے تیزی سے چھپٹی۔ فرشتۂ قضا کی رفتار اس سے بھی تیز تر تھی۔ قبل اس کے کہ انسانی امداد پہونچ سکے، موصوفہ دریا کے آغوش فنا میں پہونچ چکی تھیں!……کشتی کے کپتان جومدد کے لئے دوڑے تھے، خود گردابِ فنا میں آگئے۔ ایک موٹر کشتی خود ان کے امداد کے لئے پہونچی، لیکن کپتان صاحب اسپتال پہونچتے پہونچتے ختم تھے! ایک ہی تاریخ میں،لندن اور دہلی دونوں جگہ ایک ہی قسم کے عبرتناک واقعات، چشم بصیرت کے لئے کوئی معمولی ہیں؟ اور عبرت کے لئے تو مومن وکافر کی کوئی قید نہیں۔ سبق اپنی بسی کا، اور قادر مطلق کی قدرتِ کاملہ کا، مسلم وغیر مسلم سب ہی کے واقعاتِ موت وہلاکت سے لیا جاسکتاہے……اوریہ مشاہدے تواُن لوگوں کے بے بسی اور بے کسی کے ہیں، جو ہرطرح زور والے اور طاقت والے، عقل والے اور حکمت والے ہیں، غرض اگر فرعون بھی ہیں تو ’’ہامان‘‘ ۔ چہ جائیکہ ہم لوگ جو زور وطاقت سے محروم اور تدبیر وحکمت سے معرّٰی ہیں! ہم اگر اپنی ظاہری تدبیروں پر ذرا بھی غرہ کرنے لگیں، توہم سے بڑھ کر صحیح معنی میں ’’فرعون بے سامان‘‘ اور کون ہوگا؟ وقت موعود کا آنا برحق ، لمحہ ودقیقہ کی پابندی کے ساتھ آنا برحق، مبارک ہیں جو اس اٹل گھڑی کو یادرکھیں، اپنے ہرقول اور ہر عمل میں،بدنصیب ہیںوہ جو اس گھڑی کو دَور سمجھیں، اور اپنے کو بھلاوے اور دھوکے میں ڈالے رکھیں! https://telegram.me/ilmokitab
236
3
امام شافعیؒ بھی شریکِ درس تھے ـــــ مسئلہ اور اس کا جواب سنتے کے بعد ان کے ذہن میں ایک خلش باقی رہ گئی تھی ۔ وہ استاد کے علم اور ان کی عقل و رائے پر بے حد اعتماد کرتے تھے انہیں استاد کے فقہی فیصلے کا احترام بھی آخری حد تک تھا۔ لیکن اس احترام و اعتماد کی جڑیں شخصیت پرستی میں نہیں حقیقت شناسی اور اُصول پسندی میں تھیں ۔ یہ خالص علمی و دینی تقاضوں کا وہ عظیم دَور تھا جب شریعت کے مسائل دو پیسے کی روشنائی سے نہیں خونِ دل و جگر سے تحریر کیے جاتے تھے۔ جب مفتی کی نظر میں دار الافتاء کی مسند پر بیٹھنا ایسا ہی نازک کام تھا جیسا خدا کے آگے جائے نماز پر دست بستہ کھڑا ہونا ـــــ جب شخصیت پرستی کی آنکھیں اندھی نہیں ہو چکی تھیں ، بلکہ دیدہ و دل کی روشنی میں اصول و حقائق کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ چنانچہ استاد کے جواب سے امام شافعیؒ کی تسلّی نہ ہوئی علمِ دین کے آداب نے انھیں اطمینان سے بیٹھے رہنے کا مشورہ نہیں دیا وہ بے چینی کے ساتھ چُپکے سے اُٹھے اور جانے والے سائل کو کچھ دور پرجا لیا تو آہستہ سے سوال کیا: تمہاری قمری کا صحیح حال کیا ہے ـــــ ؟ یعنی وہ اکثر بولتی ہے یا بیشتر چپ رہتی ہے ؟"    دِل شکستہ اور مایوس شخص نے ایک نوجوان عالم کی یہ بات سُنی اور امام مالکؒ کے فتوے کے بعد اس نوجوان کو کوئی اہمیّت دیے بغیر جواب دیا:    "وہ اکثر بولتی ہے ـــــ ہاں کبھی کبھی چپ بھی رہتی ہے ۔"    "پھر تو مطمئن رہو" امام شافعیؒ کا چہرہ خوشی سے کھل گیا " تمہاری بیوی کو طلاق نہیں ہوئی ۔"    "اچھا!" سائل کا مُنہ کھلے کا کھلا رہ گیا ـــــ لیکن امام شافعیؒ اس کے بعد ایک منٹ کے لیے رُکے بغیر پھر اسی جگہ درس میں آکر بیٹھ گئے ۔ وہ شخص کشاں کشاں ان کے پیچھے آیا اور امام مالکؒ کے پاس آکر تشویش اور اُمید کے انداز میں عرض کیا    "جناب والا ـــــ   !  میرے معاملے پر پھر سے غور فرمائیے۔ "    امام مالکؒ اس کی واپسی کا کوئی خاص مطلب اس کے سِوا نہ سمجھے کہ یہ ذہنی پریشانی میں اس طرح مارا مارا پھر رہا ہے اس لیے اس کی اس خلل اندازی پر خفا ہونے کے بجائے پوری پوری دردمندانہ توجہ کی گئی اور مسئلے کا وہی جواب دُہرا دیا گیا ۔    "لیکن حضرت !" سائل نے حیرت اور دبی دبی شکایت کے انداز میں امام شافعیؒ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " یہ نوجوان شخص جو آپ کے درس میں شریک ہے ابھی ابھی میرے پیچھے آیا تھا اور مجھ سے پوچھا تھا کہ میری قمری اکثر بولتی ہے یا اکثر چُپ رہتی ہے اور پھر میرا جواب سُن کر اس نے مجھے اطمینان دلایا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔۔۔۔۔"    شاگرد کی اس قطعاً غیر متوقع جرأت کو سُنا تو امام مالکؒ چونک اُٹھے ـــــ قمری کے بولنے کے سلسلے میں ان کی مخصوص نازک مزاجی کو ٹھیس لگی اور کسی قدر برہمی کے ساتھ فرمایا:     "آخر اس میں یہ کثرت وقلت کی کیا بحث ہے ......؟"    ذہین اور انتہائی حسّاس شاگرد نے موقعے کی نزاکت محسوس کی اور فوراً ایسا جواب عرض کیا کہ سچّی بات کہ دی گئی اور اُستاد کی قدر و منزلت میں بھی ذرا فرق نہ آنے دیا ـــــ عرض کیا:       "آں جناب ہی نے مجھے عبداللہ بن زیاد کے حوالے سے یہ روایت تلقین فرمائی تھی کہ فاطمہ بنت قیس آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا کہ معاویہؓ اور ابو جہمؓ نے مجھے شادی کا پیام بھیجا ہے ۔ فرمائیے کس کا انتخاب کروں ـــــ ؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ معاویہؓ تنگ دست ہے اور ابو جہمؓ کبھی کاندھے سے لکڑی نہیں اُتارتا ـــــ حالاں کہ حضور ﷺ جانتے تھے کہ ابو جہمؓ سوتا بھی ہے اور دیگر ضرورتوں میں بھی مصروف ہوتا ہے ۔ بس اسی کی روشنی میں مَیں نے یہ فتویٰ دیا کہ چوں کہ قمری اکثر بولتی ہے اس لیے نہ غلط بیانی ہوئی اور نہ طلاق واقع ہوئی ۔"    مسندامامت پر بیٹھے ہوئے امام مالکؒ ایک شاگرد کے اس حق کوشانہ تفقہ پر خوشی اور فخر سے جھوم اُٹھے ـــــ احقاقِ حق کا خیر مقدم کرنے کے لیے وہ کس خوشی سے شاگرد کے سامنے بھری محفل میں ہتھیار ڈال رہے تھے ـــــ "ہاں بھائی" اُنھوں نے سائل کی طرف رُخ کیا " ہاں بھائی  ! جاؤطلاق نہیں ہوئی۔ شافعیؒ کا استدلال صحیح ہے ۔"  شاگردِ رشید کے حق کوشی اور دقیقہ سنجی کی اتنی ہی پذیرائی پر بس نہ کیا بلکہ اعلان فرما دیا کہ ائندہ بھی اس شخص کو افتاء کی مخصوص اجازت دی گئی۔ ______ )جاری(  https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
342
4
*کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات  (دوسری قسط)*   *تحریر: شمس نوید عثمانیؒ*   مکّے میں پہلے تو عربوں کے دستور کے مطابق ان کی ہوش مند ماں نے انھیں  "حسب و نسب کا علم"حاصل کرنے بھیجا ـــــ اس کی تحصیل کے فوراً ہی بعد ماں کی بہترین مامتا نے حکم دیا کہ " جاؤ اب علمِ دین کی خوشہ چینی کرو ـــــ" چنانچہ حضرت امامؒ نے مکّے کے شہرہ آفاق مفتیوں کی مجلس میں زانوے ادب تہہ کیا ـــــ بچپن اور لڑکپن کے زمانے ہی سے عالموں کی باتوں کو ہڈیوں پر لکھ لکھ کر ہیرے جواہرات کی طرح محفوظ رکھنے والا عظیم علمی مجلسوں میں پہنچا تو دیدہ و دل فرشِ راہ کر دیے ۔ مکّے کے بڑے ہی جوہر شناس فقیہ مسلم بن خالد زنجیؒ نے پہلی ہی نظر امام شافعیؒ کے جوہر پرکھ لیے تھے ـــــ چنانچہ مسلسل تین سال تک اس زرخیز مٹی پر علمی فیوض کی بارش کرنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ امام مالکؒ کی مجلس اسے مل گئی تو اس قیمتی جو ہر کو کُندن بنا دے گی ۔ ادھر خود امام شافعیؒ امام مالکؒ کے لیے بے چین تھے ۔ اُستاد کی زبان سے ان کے کمالات کے تذکرے سُن سُن کر انھیں امام صاحبؒ کی ذات سے غائبانہ عقیدت ہو چکی تھی۔ اُستاد کا حکم پاتے ہی وہ مدینے کی طرف چلے تو چاہنے والے استاد نے ایک غیر معمولی سفارشی خط بھی ساتھ کر دیا ۔    شوق کی فراوانیوں میں انھوں نے ڈرتے ڈرتے حضرت امامؒ کے دروانے پر دستک دی:     "آپ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں ؟“ ایک مہذب خادمہ نے دروازے سے پر اگر پوچھا اور نام وغیرہ معلوم کر کے گھر میں واپس چلی گئی ۔ اس کے جواب میں امام مالکؒ باہر تشریف لائے ان کی بزرگانہ شفقت اور حسنِ اخلاق کی سنجیدہ  اداؤں نے امام شافعیؒ کے دل پر بلا کا اثر کیا۔ اب انھوں نے وہ تعارفی خط نکالا جس میں استاد نے اپنے شاگردِ رشید کی صلاحیتوں کا بڑی اہمیت سے ذکر کر کے لکھا تھا کہ :  "یہ آپ کی علمی برکات سے مستفید ہونے کا واقعی مستحق ہے۔" مگر یہ دیکھ کر امام شافعیؒ چکرائے اور سہم گئے کہ یہ خط پڑھتے پڑھتے امام مالکؒ کے چہرے پر خوشی اور قدرشناسی کے بجائے غم و غصّہ اور روحانی کبیدگی کے درد ناک آثار ظاہر ہورہے ہیں خط ختم کرتے کرتے ان کے جذبات کی یہ کیفیت ہو گئی کہ یہ خط زمین پر پھینک دیا اور دل ریشی کی شدید کیفیت میں رو دینے کے انداز سے فرمایا: الله الله !! کیا …… اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اس قابل ہو گیا ہے کہ اسے سفارشوں کے ذریعے حاصل کیا جائے ۔"" پہلے ہی قدم پر اس طرح امام مالکؒ کی بارگاہ میں پہنچ کر امام شافعیؒ نے علمِ دین کے آخری آداب سیکھے ۔ موقع کی اس نزاکت کو سنبھالنے کے لیے اپنی بے نوائی اور علمی تڑپ کا اظہار کر کے اتنے حسین انداز میں معذرت چاہی کہ امام مالکؒ اپنے غم و غصہ کو بُھول گئے اور قدرشناسی کی بے لوث تڑپ کے ساتھ ان پر سر سے پاؤں تک نظر ڈالتے ہوئے پوچھا:    "تمھارا نام کیا ہے ؟" "محمد بن ادریس " امام شافعیؒ نے سر جھکائے ہوئے جواب دیا ۔ ایک لمحہ کے لیے دونوں طرف گہری خاموشی چھا گئی اور پھر حضرت امامؒ کی یہ دل نشین آواز سنائی دی جو زندگی کا پہلا بنیادی درس بھی تھی اور کامیابی کی آخری دعا بھی ۔ "اتّق الله ـــــ ! فسيكون  لك شان ـــــ خدا سے ڈرتے رہنا ـــــ ! تاکہ عن قریب تمھیں خاص درجہ عطا ہو-"    علم دین کے احترام کے لیے اُستاد کی بھی وہ ذکاوتِ حس تھی جس نے امام شافعیؒ  کو کتاب وسنت کے سامنے سراپا ادب و نیاز بنا چھوڑا تھا۔ حد یہ ہے کہ درس کے دَوران میں وہ کتابوں کے ورق الٹتے تو اس کا پُورا خیال رکھتے کہ ان کی ہلکی سے ہلکی سرسراہٹ بھی اس گہری خاموشی میں خلل انداز نہ ہونے پائے ۔ آخر " با ادب بانصیب ۔" ہونے کی وہ منزل بہت جلد آ گئی جہاں امام مالکؒ جیسے محتاط فقیہہ نے شاگرد کو افتاء کا کلیدی مقام عطا کر دیا۔    واقعہ یوں پیش آیا ـــــ امام مالکؒ کے حلقۂ درس میں کسی نے آکر یہ مسئلہ پیش کیا کہ: "میں قمریوں کا تاجر ہُوں ـــــ ایک شخص کے ہاتھ ایک قمری فروخت کی اور یہ بھی کہا کہ قمری خوب بولتی ہے ۔“ تھوڑی دیر بعد وہ خریدار واپس آیا اور شکایت کی کہ قمری نہیں بولتی ـــــ بات گرما گرم بحث و مباحثہ تک پہنچ گئی اور جوش کے عالم میں میرے منہ سے یہ نکل گیا " میری قمری کبھی خاموش نہیں رہتی اگر رہے تو میری بیوی کو طلاق ہے ـــــ"    تمام اہل مجلس نے یہ واقعہ گہری دل چسپی اور قلبی تشویش کے ساتھ سُنا ۔ یہاں تک کہنے کے بعد اس نے بے چارگی کے دُکھ بھرے انداز میں امامؒ سے پوچھا:-    فرمائیے میری بیوی کو طلاق تو نہیں ہوگئی .....؟" " "تمہاری بیوی کو طلاق ہوگئی"   امام صاحبؒ نے سائل کو یہ درد ناک خبر سُنائی اور پھر افسوس کے ساتھ سر جھکا لیا ۔ تمام مجلس پر سنّاٹا چھا گیا۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر سائل کا منہ ذرا سا نِکل آیا اور وہ کفِ افسوس ملتا ہوا واپس ہو گیا ۔
247
5
*وفیات مورخہ: 29/جون* 1940ء خواجہ عبد الرؤف عشرت لکھنوی۔ ادیب ، صحافی ، 1961ء بلدیو سنگھ۔ ادیب 1979ء عباس علی۔ بیرسٹر ، 1979ء وزیر حسن عابدی, سید۔ فارسی زبان کے عالم 2004ء عبدالرب مظاہری۔ 2009ء پرنم الہ آبادی (محمد موسی ہاشمی)۔ شاعر 2020ء سید آل عمران۔ 2023ء شکیل ( یوسف کمال)۔ پی ٹی وی اداکار https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
194
6
بات سے بات : شھربانو ۔ تبصروں پر تبصرہ از: عبد المتین منیری کل ہم نے اپنے کالم "تعزیہ ماتم اور مرثیہ" میں شہربانو نامی خاتون کا تذکرہ کیا تھا، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آخری ساسانی بادشاہ یزدگر کی دختر اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، حضرت علی زین العابدین بن الحسین ؒ آپ کے فرزند تھے، اور شیعوں کے بقیہ (۹) اماموں کی آپ پردادی تھیں۔ ہمارے کالم پر چند تبصرے موصول ہوئے ہیں، ان کی وضاحت ہمارے لئے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، لیکن اس سلسلے میں چند باتیں عرض کرنے میں بھی مضائقہ نہیں، ممکن ہے یہ احباب کے علم میں کچھ نئی باتیں لانے کا باعث بنیں۔ ۔ حضرت حسین ؓ کی والدہ کون تھیں، ان کا نام کیا تھا؟، اس کی تحقیق میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس بحث کا ہمیں کوئی دینی فائدہ بھی محسوس نہیں ہوتا، لہذا کوئی ہماری بات کی تردید کرتا ہے،تو اسے دل پر نہیں لیتے، اس کی صفائی کرنا ہم وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ ۔ ہمارےلئے شھر بانو کی اہمیت صرف اس لئے ہے کہ شیعہ مورخین انہیں یزدگرد کی بیٹی، حضرت حسینؒ کی اہلیہ اور اپنے اماموں کی دادی سمجھتے ہیں، صحیح یا غلط انہوں نے آخری ساسانی بادشاہ کی بیٹی کی نسل میں امامت جاری کرکے اپنی قومی انا کو تسکین دی ہے۔ ۔ اگر قریبی دور کے شیعہ مورخین نے اعتراض سے بچنے کے لئے شھربانو کو جنگ کربلا کے دوران وفات پائے جانے کے نظریہ کو فروغ دیا ہے، تو بھی فرق نہیں پڑتا، ساسانی نسل میں امامت جاری کرکے اپنی ساسانی نخوت کے الزام سے وہ بچ نہیں سکتے۔ ۔ باطل مذاہب کے بطلان کے لئے ہمارے اپنے مراجع کا حوالہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، ہمارے لئے وہ مراجع اہم ہیں جن پر مخالف زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ جن کتابوں کو وہ سرے سے نہیں مانتے ان کے حوالے کا کیا فائدہ؟، جب وہ ہمارے مرجع کو سرے سے نہیں مانتا تو پھر، اس میں ہم سر کیوں کھپائیں؟ ۔ کچھ عرصہ پہلے تک انجیل برناباس کا بہت تذکرہ آتا تھا، لیکن اس کی اہمیت ہمیں سمجھ میں نہیں آئی، عیسائی اسے اصل انجیل نہیں مانتے، اس میں چند سچی باتوں کی موجودگی کے باوجود ہم مسلمان بھی اسے تحریف شدہ انجیل ہی سمجھتے ہیں، اب جسے نہ وہ مانتے ہیں، نہ ہم تو تو اس کی کیا اہمیت!، ہمیں حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کے لئے قرآن کریم کافی ہے، قرآن کی تقویت کے لئے کسی تحریف شدہ کتاب کے حوالہ کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔ ہم نے حوالہ میں استاد ولید الاعظمی کی کتاب کا حوالہ دیا تھا، اس کتاب پر ایک مایہ ناز شامی عالم دین مفسر شیخ سعید حوی کا مقدمہ ہے، ولید الاعظمی تعلق عراق کے الاعظمیۃ سے تھا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی مسجد کے پڑوس میں آپ نے آنکھیں کھولی تھیں، اور وہاں کے معتبر اساتذہ سےآپ نے فیض پایا تھا، آپ کے اساتذہ میں ڈاکٹر محمد تقی الدین الھلالی المراکشیؒ، اور علامہ امجد الزھاوی جیسے علماء کا نام آتا ہے، آپ کی شناخت دور حاضر کے عظیم ترین اسلامی شاعر، اور خطاط قرآن کی رہی ہے۔ جن شخصیات کے ماتحت اس ناچیز نے کافی وقت گذارا ہے، ان میں سے ایک نام عراق کے شیخ عبد المنعم صالح العلی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے، ۱۹۶۰ء کی دہائی میں جب انکار حدیث کا فتنہ اٹھا تھا، تو آپ کی لکھی ہوئی کتاب دفاع عن ابی ھریرۃ ؓ اپنے موضوع پر اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتی تھی۔ آپ نے محمد احمد الراشد کے نام سے بھی کئی ساری فکری اور دعوتی کتابیں لکھیں،قریبی دور میں وہ ایک اہم ترین اسلامی مفکرین میں شمار ہوتے تھے، آپ ولید الاعظمی کے ہم جولیوں میں تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ ولید الاعظمی نے خطاط اور شاعر کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن شیعیت کو جڑوں تک پہچاننے والا آپ سے بڑا پارکھ کوئی نہیں ہے۔ اس کا اندازہ آپ کی شہرہ آفاق کتاب " السیف الیمانی فی نحر الاصفھانی صاحب الاغانی" سے لگایا جاسکتا ہے، جس نے ادبائے عرب کی سب سے چہیتی کتاب الاغانی کی ہوا نکال دی تھی۔ اور ایک ایسی کتاب کی مرعوبیت دلوں سے ختم کردی تھی، جس سے طہ حسین جیسے ادیبوں نے ادب سیکھا تھا، جس کے اختصار “رنات المثالث و المثانی” کو ڈاکٹر محمد تقی الدین ہلالی جیسے پختہ عقیدہ کے حامل اساتذہ نے ہمارے یہاں شامل درس کیا تھا، اور جس کے اسلوب کو نمونہ بنا کر “اذا ھبت ریح الایمان” جیسے شاہکار تصنیف پائے تھے۔ علمی بحثوں میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ اختصاص کی اپنی ایک اہمیت ہے، ایک بڑے عالم دین کی رائے کسی موضوع پر اہم ہوسکتی ہے، لیکن کسی فن پر صاحب فن کی رائے کا اپنا وزن ہوگا، اس کی اہمیت ہمیشہ باقی رہتی ہے، ختم نہیں ہوتی۔ 2026-06-28
191
7
’’جو کچھ صبر و استقلال شجاعت و ہمدردی و فاداری غیرت وحمیت و عزم بالجزم و دیگر اخلاق فاضلہ خود امام ہمام اور ان کے عزیزوں اور دوستوں سے معرکۂ کربلا میں ظاہر ہوئے وہ مافوق طاقتِ بشری اور خوارق عادات سے تھے چنانچہ کبھی ان کی پیروی کا خیال بھی دل میں نہ تھا...... انیس بھی محض مصوری پر قانع ہو جاتے ہیں۔ اس مصوری کے لیے ایسی قدروں کا انتخاب نہیں کرتے جو زندگی میں ایک نشتر بن جائیں اور سماج میں وہ عزم و استقامت وہ حق پرستی وہ مجاہدانہ اسپرٹ بے باکی صداقت وہ مصیبت میں صبر اور مخالفت میں استقلال دکھائیں ۔ ایسا ہو سکتا تھا مگر کیوں نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ انیس بھی آخر اپنے ماحول کے ایک فرد تھے۔ وہ صرف شہہ کی ثنا کو کافی سمجھتے تھے۔ یہ ثنا خوانی نجات اور ذہنی تسکین کا باعث تھی ۔‘‘ انیس کے مرثیوں میں کربلا کی معزز خواتین لکھنؤ کی جملہ رسوم و توہمات میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ وہ بچوں پر نظر بد سے بچانے کے لیے اسپند کرتی ہیں۔ دلہن کے لیے گھونگھٹ ہوتے ہیں اور پیشانی میں صندل لگا ہوتا ہے۔ ماتھے پر افشاں چنی ہوتی ہے اور ہاتھوں میں مہندی لگی ہوتی ہے حتیٰ کہ پان سے اس کے ہونٹ لال ہوتے ہیں۔ جب وہ بیوہ ہوتی ہیں تو ہندوستانی بیوہ کی طرح ناک سے نتھ اتاری جاتی ہے۔ اور تاش کے جوڑے میں آگ لگا دی جاتی ہے۔ وہ کالی کفنی پہننا چاہتی ہیں۔ کنگن اتار دیتی ہے۔ مرد دلہن کے پاؤں پر سر رکھ دیتے ہیں۔ خواتین جب گھر سے ڈیوڑھی پر سوار ہونے کے لیے آتی ہیں تو بالکل لکھنؤ کے امراء کی ڈیوڑھی پر ایسے مواقع پر جو کیفیت ہوتی تھی سامنے آ جاتی ہے۔ میر انیس نے خاندان رسالت کے بچوں کو بھی لکھنوی لباس اور وضع قطع میں پیش کیا ہے۔ حتیٰ کہ ان کے گیسو گوندھے ہوئے اور کانوں میں بندے پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور گلے میں ہنسلیاں ہوتی ہیں۔ علامہ شبلی کی کتاب موازنہ انیس ودبیر اردو ادبی تنقید میں ایک سنگ میل سمجھی جاتی ہے، اسے حالی کی مقدمہ شعروشاعری کے بعد اردو تنقید میں دوسری کتاب کا درجہ حاصل ہے، اس کے عنوان سے سمجھا گیا ہے کہ مولانا نے مرثیہ کو اہمیت دے کر انیس و دبیر کا موازنہ کیا ہے۔جبکہ علامہ اپنی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: "مدت سے میرا ارادہ تھا کہ کسی ممتاز شاعر کے کلام پر تقریظ و تنقید لکھی جائے جس سے اندازہ ہو سکے کہ اردو شاعری باوجود کم مائیگی زبان کیا پایہ رکھتی ہے۔ اس غرض کے لئے میر انیس سے زیادہ کوئی شخص انتخاب کے لئے موزوں نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ ان کے کلام میں شاعری کے جس قدر اصناف پائے جاتے ہیں اور کسی کے کلام میں نہیں پائے جاتے۔ شکر ہے کہ آج اس ارادے کے پورا ہونے کی نوبت آئی اور یہ کتاب ناظرین کی خدمت میں پیش کش ہے۔ اس کتاب میں میر انیس کا موازنہ بھی مرزا دبیر سے کیا گیا ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام موازنہ ہے۔“ اس سلسلے میں ڈاکٹر ریاض الہاشم کا کہنا ہے کہ: "موازنہ کی جہاں تک ادبی اہمیت کا سوال ہے وہ شبلی کا دوسرا بڑا کارنامہ ہے جہاں تک مرثیے کی تاریخ اور انیس و دبیر کی ذاتی زندگی اور شخصیت کے متعلق ضروری معلومات کا سوال ہے اس لحاظ سے موازنہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ بلکہ میر انیس کے کلام کی روشنی میں اردو شاعری کے ارتقاء، رفتار اور مدارج کے ادبی جائزے تک اسے محدود رکھا گیا ہے علامہ شبلی نے یہ کتاب ۱۹۰۲ء میں حیدرآد دکن میں لکھی تھی، اس وقت وہ ندوۃ العلماء سے وابستہ نہیں ہوئے تھے، اردو میں جو مرثئے لکھے گئے ہیں ان کی ادبی اہمیت سے انکار نہیں ہے، اس کی منظر کشی، عبارت آرائی، اور اسالیب زبان سے ایک طالب علم و خطیب مستغنی نہیں ہوسکتا، ایک اردو داں کو ان سے استفادہ کئے بغیر چارہ نہیں، رہی اس کی دینی و تاریخی اہمیت تو شیعہ حضرات کے پاس ہوتو ہو، ہم اسے کسی طور معتبر نہیں سمجھتے۔ رہی بات علامہ شبلی کی تو اس کے عنوان نے بلاضرورت مرثیہ کو اہمیت دے دی ہے، ورنہ یہ تو ادبی تنقید میں ایک ابتدائی دور کی کتاب ہے، ایک صدی سے زیادہ عرصہ میں اردو تنقید حالی و شبلی کے دور سے بہت آگے گذر گئی ہے۔ شبلی کے حوالے سے مرثیہ کو اہمیت دینا حقیقت کے قریب محسوس نہیں ہوتا۔ نوٹ: اس مضمون کے لئے مندرجہ ذیل مضامین اور کتابوں سے مدد لی گئی ہے 1. الخمينية ۔ ولید الاعظمی 2. شیعیان ہند۔ جان نارمن ہالسٹر 3. لکھنو کے شعر وادب کا تہذیبی و ثقافتی پس منظر۔ ڈاکٹر سید عبد الباری 4. اردو مرثیہ کی تنقید میں موازنہ انیس ودبیر کی اہمیت۔ ڈاکٹر ریاض الہاشم 5. مضمون محمد فھد حارث https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
176
8
*بات سے بات : تعزیہ ماتم اور مرثیہ(02)* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* کہا جاتا ہے کہ تیمور لنگ (۸۰۸ھ۔۱۴۰۵ء) کے دور میں قبر حسین کی شبیہوں کو پھرانے کی رسم شروع ہوئی تھی۔ سنہ ۱۵۰۱ء میں اسماعیل صفوی کے ہاتھوں ایران میں سلطنت صفوی قائم ہوئی، جو دوسو صدیوں سے زیادہ عرصہ ۱۷۳۶ ء تک قائم رہی۔ صفوی سلطنت کے آغاز تک ایران سو فیصد سنی آبادی کا مذہب تھے، رے، شیراز، اصفہان ، سبھی شہر سنیوں سے بھرے پڑے تھے، صفویوں نے ایران کو شیعہ اثنا عشری مذہب میں تبدیل کیا، اور پھر وہاں اہل بیت سے محبت کے نام پر وہ وہ رسومات ایجاد کیں جن کا وجود بن بویہ اور دیلمیوں کے دور حکومت میں نہیں تھا، ماتم ، تعزیہ وغیرہ کو نئی شکل دی گئی۔ مرثیہ جو ادب کی ایک عمومی شاخ تھی، اس کے اطلاق سے امام حسینؓ کی شان میں مرثیہ کا اطلاق یہیں سے شروع ہوا۔ ہندوستان میں صفوی دور میں جب کہ سلطنت مغلیہ اورعادل شاہی میں شیعی اثرات رونما ہونے لگے، لیکن صفویوں کا سب زیادہ اثر سلطنت اودھ پر پڑا، اس سلطنت کا بانی میر محمد امین موسوی اپنا شجرہ نسب امام موسی کاظم سے جوڑتا تھا، اس نے خراسان میں نیشاپور میں اپنی طویل سکونت کے دوران میں ایک قابلِ عزت مقام حاصل کر لیا تھا۔ اس کا باپ بہادر شاہ کا ملازم رہا تھا اور اس کی موت کے بعد، اس کا بیٹا ہندوستان چلا آیا۔ اسے محمد شاہ نے بہادر کا لقب دیا اور پھر سنہ ۱۷۲۲ء میں اودھ کی گورنری عطا کر دی۔ یہ صوبہ بابر کے عہد سے ہی سلطنت مغلیہ کا حصہ چلا آتا تھا۔ جلد ہی اسے ’’برہان الملک‘‘ کا خطاب مل گیا۔ میر محمد، جسے سعادت خان کے نام سے جانا جاتا ہے، زیادہ وقت ایودھیا میں گزارتا تھا۔ نوابان اودھ کی سلطنت ۱۸۵۸ء تک تقریبا (۱۳۶) سال تک رہی۔ اس دور میں مرثیہ امام حسین ؒ کی سب سے زیادہ پذیرائی ہوئی۔ اور اسے عروج حاصل ہوا۔ اس دور کے مرثیہ میں حقیقی واقعات کربلا کی روشنی میں اہل بیت کے جذبات کے بجائے اپنے عہد کے عام انسانوں لے جذبات کی سطح پر واقعات پیش کئے جانے لگے مثلا فضلی کی "کربل کتھا" کے ایک نوحے میں حضرت قاسم کی شہادت میں ان کی بیوہ جس طرح فریاد کناں ہیں اس میں خالص ایک ہندوستانی بیوہ کے جذبات کا عکس نظر آتا ہے۔ وہی توہمات، وہی غلط عقائد اور وہی مزخرفات جلوہ فرما ہیں جو اس وقت کے ہندوستان میں عوام کے اندر پیوست تھے اس عہد کے مراثی میں بقول پروفیسر مسیح الزماں اعلیٰ اخلاقی تعلیمات اور مقصدِ شہادت کی طرف بھی گو اشارے ملتے ہیں لیکن اصل مقصد ان کا عوام کے جذباتِ غم کو ابھارنا ہے اور اس کے لیے وہ مقامی رنگ بھرنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں چنانچہ ”رسم ورواج، آدابِ معاشرت، خیالات، معتقدات، لہجہ، گفتگو اور جذباتی ردعمل میں ان مرثیوں کے کردار بڑی حد تک اس معاشرت کے معیاری کردار ہیں جس کے لیے یہ مرثیے لکھے جا رہے تھے۔ جس طرح اسٹیج کے لیے ڈرامے لکھنے والا اپنے ناظرین کا پابند ہوتا ہے اسی طرح مرثیہ گو اپنے سامعین کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا اور ان کے دلوں کے تار کو چھونے ان کو گیارہ صدی پیچھے کے واقعات کی حرارت محسوس کرانے کے لیے اسے ایسی علامتوں کی ضرورت تھی جو سننے والوں کے اردگرد کی زندگی سے لی گئی ہوں"۔ بقول مولانا حالی ”مرثیہ میں رزم بزم اور فخر و خودستائی اور سراپا وغیرہ کو داخل کرنا لمبی لمبی تمہیدیں اور توڑے باندھنا گھوڑے اور تلواروں وغیرہ کی تعریف میں نازک خیالیاں اور بلند پردازیاں کرنی اور شاعرانہ ہنر دکھانے مرثیہ کے موضوع کے خلاف ہیں اور بعینہ ایسی بات ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے مرنے پر اظہار حزن و ملال کے لیے سوچ سوچ کر رنگین و مسجع فقرے انشا کرے اور بجائے حزن و ملال کے اپنی فصاحت و بلاغت ظاہر کرے۔“ اودھ میں میر انیس اور دبیر نے مرثیہ نگاری کو اپنے عروج تک پہنچایا، لیکن آل احمد سرور جیسے نقادوں کے بقول "رزمیہ کے معنی ان کے نزدیک لڑائی نہیں۔ گھوڑے اور تلوار کی تعریف کے ہیں، مناظرفطرت میں صبح کا سماں اور گرمی کی شدت کا بیان ہے اور چونکہ ان میں کسی چیز کو شاعر نے اپنی آنکھ سےنہیں دیکھا ہے بلکہ تخیل اور عقیدہ کی مدد سے خلق کیا ہے اس لیے کہیں وہ زندہ نہیں نظر فریب ضرور ہیں۔" انیس کی شاعری میں بھی دیگر مرثیہ نگاروں کی طرح نام و کردار و واقعات عربی ہیں مگر جذبات عام انسانی جذبات ہیں جو لکھنؤ کے لب و لہجہ میں پیش کر دیے گئے ہیں۔ انیس کے الفاظ میں شاعر مورخ نہیں داستان گو کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اس نے لکھنؤ کی سوسائٹی کے سامنے ایسا خیالی منظر پیش کیا ہے جس میں اس سوسائٹی کی تہذیب جابجا جھلکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ کردار اپنے اخلاقی اوصاف سے زیادہ شاعر کے حسن بیان کی وجہ سے زندہ ہیں
210
9
علم، بغیر تزکیۂ نفس کے بہت خطرناک چیز ہے مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا: علم کے ساتھ اگر تزکیۂ نفس نہیں ہے تو علم سے زیادہ کوئی خطرناک چیز نہیں ہے اور اس دنیا میں جو فساد ہے، وہ اسی وجہ سے ہے کہ علم رہنما سے الگ ہوکر، تزکیہ اور تربیت سے الگ ہوکر علم کا بہت فروغ ہو رہا ہے، اس نے بڑی تباہی مچائی ہے۔ (۱۳ دسمبر ۲۰۱۲ء دارِ عرفات یوٹیوب چینل پر نشر ہوئے ایک بیان سے ماخوذ/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://telegram.me/ilmokitab
289
10
https://telegram.me/ilmokitab
281
11
کیا وہ امام حسین کے ساتھ نہیں نکلی تھیں؟ کیا انہیں ابھارنے، باہر نکالنے اور انقلاب پر آمادہ کرنے میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا؟ اے معزز قاری! کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا کوئی ذکر یا خبر کیوں نہیں آئی؟ کیونکہ وہ کسریٰ (شاہِ فارس) کی بیٹی ہیں، لہٰذا ان کا پردہ چاک کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ وہ مقدس ہیں، اور ان کا محفوظ رہنا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ اگر انہیں ان مصائب میں سے کچھ پہنچا بھی ہو جو اہل بیتِ نبوت کو پہنچے، تو اسے بھلا دینا واجب ہے اور اس کا ذکر نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ توہین اور رسوا کن تصویر عجم (فارس) کے بادشاہوں کی بیٹیوں کے لائق نہیں ہے، بلکہ وہ (ان کے نزدیک) نبوت کے گھرانے کی بیٹیوں کے لائق ہے۔ پس اس مکر و خباثت پر غور کیجیے اور اسے اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیے، اور آپ کو اس جیسی کئی مثالیں ملیں گی اگر آپ عجم کی اس سیاہ تاریخ کا جائزہ لیں گے جو جھوٹ، دجل اور تحریف سے بھری پڑی ہے۔ ایک مسلمان کے نزدیک سب سے مقدس اور محترم شخصیات میں بالترتیب حضور اکرم ﷺ اور خلفائے اربعۃ کا نام آتا ہے، صحابۃ کرام میں کئی سارے ایسے تھے جن کا فن شاعری میں بہت بڑا مقام تھا، لیکن جب حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کی رحلت واقع ہوئی، اور بقیہ تینوں خلفاء حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، اور حضرت علیؓ کی شہادت واقع ہوئی، تو اس پر بہت ہی قلیل مرثئے ملتے ہیں، اس طرح آپ کی عزا داری کے واقعات بھی نہیں ملتے، عام طور پرسنت بھی یہی ہے کہ تعزیت وفات کی تین دن کے اندر کی جائے ۔ لیکن نواسہ رسول ﷺ حضرت حسین رضی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے چوتھی صدی ہجری سے مسلمانوں کے ایک طبقہ کا رویہ امت میں رائج معمول سے کچھ الگ نظر آتا ہے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ ۳۳۴ ہجری میں جب ایرانی النسل دیلمی حکمران معزالدولہ بن بویہ کو بعہدِ خلافتِ عباسیہ خودمختار وزیر کی حیثیت سے بغداد میں منصب ملا تو حادثۂ کربلا کے تقریباً تین سو برس بعد ۳۵۲ ہجری میں اس نے ماتمِ حسینؓ اور تعزیہ داری کی بدعات کا اجراء کروایا۔ عباسی خلیفہ خود اس وقت اس قدر کمزور ہوچکا تھا کہ وہ اس بابت نہ کچھ کہہ سکا اور نہ کرسکا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ۳۵۲ ہجری میں ماہِ محرم کی دسویں تاریخ کو معزالدولہ دیلمی نے حکم دیا کہ بازار سارے بند رکھے جائیں، عورتیں ماتمی لباس پہن کر چہرے کھولے، بال بکھیرے اور منہ و رخسار پیٹتی ہوئی بغداد کے بازاروں میں ماتمِ حسینؓ کرتی پھریں۔ روافض نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی ۔ تاہم پہلے سال تو کوئی فساد برپا نہ ہوا لیکن اگلے سال اہلسنت یہ بدعات و خرفات برداشت نہ کرسکے اور ۳۵۳ ہجری میں ماہِ محرم میں جب دوبار ان بدعات کا اعادہ کیا گیا تو شیعہ سنی فساد برپا ہوگیا اور کثیر تعداد میں فریقین مارے گئے۔ معزالدولہ نے صرف اسی پر بس نہ کیا بلکہ اگلے سال "عیدِ غدیر" جیسی بدعی عید منانے کا بھی اجراء کیا جس کے لئے اس کے حکم سے شہر کے بازار آراستہ کئے گئے اور چراغاں اور آتش بازی کا اہتمام کروایا گیا۔ عیدِ غدیر منانے کے لئے ۱۸ ذی الحجہ کی تاریخ کو منتخب کیا گیا جس کے پسِ پردہ اصل میں تو سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خوشی منانا تھا لیکن پیشِ منظر میں اس کو سیدنا علیؓ سے متعلق وصیتِ رسول اللہ ﷺ سے جوڑا گیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر مدینہ واپسی پر ایک برساتی نالے خم پر آپﷺ نے سیدنا علیؓ کا ہاتھ اٹھا کر نہ صرف ان کو "مولا" کے لقب سے نوازا بلکہ اپنے بعد ان کی جانشینی کی وصیت بھی کرگئے۔۔۔۔ معزالدولہ نے صرف اسی پر بس نہ کیا بلکہ اگلے سال "عیدِ غدیر" جیسی بدعی عید منانے کا بھی اجراء کیا جس کے لئے اس کے حکم سے شہر کے بازار آراستہ کئے گئے اور چراغاں اور آتش بازی کا اہتمام کروایا گیا۔ عیدِ غدیر منانے کے لئے ۱۸ ذی الحجہ کی تاریخ کو منتخب کیا گیا جس کے پسِ پردہ اصل میں تو سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خوشی منانا تھا۔۔۔ جب اس کے نتیجے میں بغداد میں شیعہ سنی فسادات پھوٹ پڑے جس کی وجہ سے وقتی طور پر ان رسومات پر پابندی عائد کی گئی۔اور پھر معزالدولہ کے بھتیجے عضدالدولہ نے جب یہ دیکھا کہ لوگ ان بدعات کو بھولنے لگے ہیں تو ان کو مستقل بنیادوں پر رواج دینے کی غرض سے اس نے اپنے دورِ وزارت میں عراق میں دو متبرک مقامات "دریافت" کرلئے۔ سیدنا علیؓ کی وفات کے تقریباً سوا تین سو برس بعد ۳۶۹ ہجری میں عراق میں نجف کے علاقے میں ان کی قبر دریافت کرکے اسکو "مشہد علیؓ " کا نام دیا گیا جبکہ سیدنا علیؓ کی قبر عرصۂ دراز سے نامعلوم تھی ۔ اس کے ساتھ ہی حادثہ کربلا کے تین سو دس برس کے بعد ۳۷۰ ہجری میں سیدنا حسینؓ کی قبر کو از سرِ نو دریافت کرکے اسکو "مشہدِ حسینؓ" کے نام سے موسوم کیا گیا۔ خلیفہ عباسی المتوکل علی اللہ عباسی نے ۲۳۶ہجری میں حکم دیا کہ مزعومہ قبر حسین بن علیؒ کو ڈھا دیا جائے۔لیکن دیلمیوں نے ۱۳۵ سال بعد ۳۷۰ہجری میں دوبارہ مشہد حسین تعمیر کروایا۔ تقریبا ایک سو سال بعد سلجوقی حکمرانوں نے اس سر نو ان سے نجات دلوائی۔ جاری
276
12
*بات سے بات : تعزیہ ماتم اور مرثیہ(01)* *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)* گذشتہ چند روز سے آپ کی اس بزم علم وکتاب میں کچھ فعالیت نظر آرہی ہے، اور وقفہ وقفہ سے ایسے موضوعات زیر بحث آرہے ہیں،جن سے محفل گرم ہوجاتی ہے، اور کچھ جذباتیت بھی اس پر چھاجاتی ہے، لیکن یہ جذباتیت ہمیشہ بری بات نہیں ہے، دو روز قبل اس بزم میں میر انیس اور مرثیہ کی بحث چھڑی تھی، چند احباب نے ایک مدرسے کے پروگرام میں میر انیس کے مرثیہ کو پیش کرنا پسند نہیں کیا تھا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس بحث میں یہ ناچیز بھی شریک ہوکر کچھ اظہار خیال کرے۔ جب مرثیہ امام حسینؒ اور ایران کا تذکرہ آتا ہے تو نصف صدی پرانی کئی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ ہمارا اس نسل سے تعلق ہے جنہیں شعور سبنھالتے ہی عالم اسلام کے حالات و اخبار سے دلچسپی رہی، غالبا ابھی انقلاب ایران کی کونپل بھی نہ پھوٹی تھی تو وہاں کے حالات سے واقفیت ہونے لگی تھی، آیۃ اللہ شریعت مداری جنہوں نے ۱۹۵۵ء میں خمینی کو آیۃ اللہ کا درجہ دے کر سزائے موت سے بچایا تھا،ایران کے اس وقت ایران کے آیۃ اللہ العظمی تھے،قم میں ان کے ادارے سے ماہنامہ الھادی اور لٹریچر پہنچتا تھا۔ جب انقلاب کی تحریک شروع ہوئی تو اندرون ایران وہی قیادت کررہے تھے، پھر ایک ایسا وقت آیا کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد انہیں گھر میں بند کرکے ، ان کا عمامہ اتارا گیا اور قبا نوچی گئی، اور ان کی بدترین توہین کی گئی۔ جب ۱۹۷۹ء میں ہمارا دبی آنا ہوا تو سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا محمد یوسف صاحب یہاں اپنے بچوں کے پاس آتے تھے تو ان سے معلوم ہوا کہ ایرانی نخوت خمینی صاحب میں بھری ہوئی ہے، وہ عربی جانتے ہیں ،لیکن جب یوسف صاحب رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے وفد کو لے کر ان کے پاس گئے تو انہوں نے فارسی میں مترجم کے ذریعہ بات کی تھی، مولانا کا اس سفر کے بعد تاثر تھا کہ یہ اسلامی نہیں فارسی انقلاب تھا۔ شیعیت اور ایران کے بارے میں کتابیں تو اس ناچیز کو اتنی ہاتھ لگیں جو کئی سارے شیعہ مجتہدین نے کبھی نہ دیکھی ہوں گی، ان کتابوں میں ایک چھوٹی سی کتاب تھی عراقی شاعر وخطاب ولید الاعظمی کی " الخمینیۃ"۔ اس کے ایک اقتباس نے دل ودماغ پر ایسا اثر چھوڑا کہ مرثیہ کا جب بھی ذکر آتا ہے تو وہ عبارت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ یہاں ایک اور کتاب کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا، جو اسی زمانے میں شائع ہوئی تھی، اس کا عنوان تھا ،" وجاء دور المجوس" اس پر مصنف کا نام عبد اللہ محمد الغریب درج تھا، لیکن مشہور ہے کہ یہ محمد سرور زین العابدین مرحوم کی ہے، جوبرطانیہ سے مجلۃ السنۃ نکالا کرتے تھے۔ ولیدالاعظمی مرحوم نے اپنی کتاب میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ایران کا شیعہ مذہب بنیادی طور پر عربوں کی حقارت، کسری کی عظمت اور ایرانیوں کے تہذیب کی اعلی اقدار کے محافظ ہونے کے طور پر قائم ہے، ان کی امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے دشمنی کی بنیادی وجہ آپ کے دور خلافت میں کسری ایران کی سلطنت کے اختتام اور شہنشاہ یزدگرد کی ہار ہے، اس ہار سے انہوں نے اپنی انا کو تسکین اس طرح دی کہ حضرت علی کے بڑے فرزند خلیفہ راشد حضرت حسن ؓ سے امامت کا سلسلہ چلانے کے بجائے یزدگر د کی بیٹی ، جسے اردو والے شہربانو ، اور ایرانی شاہ زنان کہتے ہیں کے بیٹے علی زین العابدین سجاد ؒ اور ان کی اولاد میں چلادی، واضح رہے کہ شہربانو یا شاہ زنان یزدگرد کی بیٹی، حضرت حسین ؓ کی اہلیہ اور بقیہ نو اماموں کی پردادی تھیں۔ ولید الاعظمی مرحوم نے کیا خوب نکتہ اٹھایا ہے کہ شیعوں نے بیت نبوت کی بیٹیوں اور خواتیں کے جو بنو ہاشم سے تھیں ،یزید کے دربار میں ماتم کرنے کی جو منظر کشی کی ہے ، اس سے یہ عصمت مآب خواتین پیشہ ور ماتم کرنے والی نظر آتی ہیں، اس کے مقابلے میں جس خاتون کو سب سے زیادہ غم کی صورت بننا تھا، اس کے سلسلے میں پورا لٹریچر خاموش ہے، ولید الاعظمی کی عبارت آپ خود بھی دیکھئے، کہتے ہیں: "انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی ایک کہانی اور ڈرامہ تیار کیا، اور ان کے اہل بیت کی شبیہ سازی کی (سوانح یا کردار نگاری کی)، بالکل اسی طرح جیسے دو فارسی قبیلوں کے درمیان ہوا تھا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی کہانی میں جو کچھ ہمیں ملتا ہے اور ان کے اہل بیت، بالخصوص خواتین پر جو مصائب آنے کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے، اس کے مطابق کہانی انہیں اس طرح پیش کرتی ہے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں، ان کے پردے چاک ہیں، ان کے خون ان کے گالوں اور گردنوں پر بہہ رہے ہیں، ان کی چیخ و پکار اور رونا بلند ہو رہا ہے، بنو امیہ کے کوڑے ان کے چہروں پر برس رہے ہیں، اور گھوڑوں کے ٹاپ ان کے سینوں اور پسلیوں کو روند رہے ہیں۔ لیکن یہ کہانی (امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ) "شاہ زنان" کے بارے میں خاموش ہے، اور کہانی میں ان کا ذکر کبھی نہیں آیا، نہ ہم نے ان کے بارے میں کچھ سنا، اور نہ ہی ہمیں ان کی کوئی خبر ملی۔۔۔ کیوں؟
254
13
مورخہ ۲۶ جون اردو کے عظیم صحافی و ادیب چراغ حسن حسرت کو یوم وفات ہے، آپ کی وفات سنہ ۱۹۵۵ء میں ہوئی تھی۔ حسرت مرحوم کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک نادر آڈیو اردو اڈیو ڈاٹ کام میں پیش کی جارہی ہے۔ https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=mashriqi-bengual, Mashriqi Bengual علم وکتاب
338
14
جاتا ہے اور لکھ دیا جاتا ہے۔ کچھ بڑے بڑے اُردو نشریاتی اداروں سے نشر ہونے والی مختلف نشریات سے چند فقرے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کو ہم نے چُن رکھے ہیں ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اے مدعیِ اُردو صحافت! ذرا یہ”اُردوفقرے“ پڑھتا جا، شرماتا جا: ”کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کا ریشو ایک بار پھر انکریز ہو گیا ہے“۔ ”ہماری ینگ جنریشن بہت انٹیلی جینٹ ہے۔اسے ایپروپری ایٹ گائیڈنس کی ضرورت ہے“۔ ”کیا آپ کے ہزبینڈ آپ پر فُل ٹرسٹ کرتے ہیں؟ کیا وہ گھرآکر کمفرٹیبل فِیل کرتے ہیں؟“ ”موسٹ آف ویورز انٹرٹینمنٹ ٹرانسمیشنز میں انٹرسٹ لیتے ہیں“۔ کوئی ان نشرکاروں سے پوچھے کہ جب آپ اُردو سے بالکل ہی پیدل ہیں تو آخر آپ کو کیا مار آئی ہوئی ہے کہ اُردو نشریات میں نمودار ہوں؟اُردو کی جگہ انگریزی نشریات کا بیڑا کیوں نہیں غرق کرتے؟ اُن کے پاس تو شاید اس سوال کا کوئی جواب نہ ہو، ہمارے پاس ہے۔ پاکستان میں انگریزی نشریات دیکھنے والے شاید اشرافیہ میں بھی کم کم ملیں، عوام میں تو بالکل نہیں ملتے۔ یہی وجہ ہے ملک کے تمام انگریزی نشریاتی چینل ناظرین کی عدم دستیابی کے باعث بند ہو گئے۔ پاکستان میں ابلاغ کی زبان اور عوامی رابطے کی زبان اُردو ہے۔ عوام تک کسی بات کا ابلاغ کرنا ہو تو مجبوراً اُردو ہی کو ذریعۂ ابلاغ بنانا پڑتا ہے۔ جب یہ مجبوری ہے تو (مجبوراً سہی) اُردو کیوں نہیں سیکھ لیتے؟ اوپر چُنے گئے فقرے اگر یوں کہے گئے ہوتے توسمجھنے میں کتنے آسان اور سننے میں کتنے بھلے لگتے: ”کراچی کے گلی کوچوں میں جرائم کی شرح ایک بار پھر بڑھ گئی ہے“۔ ”ہماری نئی نسل بہت ذہین ہے۔ اسے مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے“۔ ”کیا آپ کے شوہر آپ پر مکمل بھروسا کرتے ہیں؟کیا وہ گھر آکر آرام محسوس کرتے ہیں؟ ”ناظرین کی اکثریت تفریحی نشریات سے دلچسپی رکھتی ہے“۔ دونوں قسم کے فقروں میں جو تہذیبی، ذ ہنی اور نفسیاتی فرق ہے، اس فرق کو پڑھنے والا بھی محسوس کر سکتا ہے اور سننے والا بھی۔ ٭٭
351
15
*غلطی ہائے مضامین* *ہاں دیکھ کے چل، دیکھ کے چل، کہتے رہیں گے!* *احمد حاطب صدیقی(ابونثر)* دوسروں پر کیوں الزام دھریں؟ ہمارے اپنے ملک میں اُردو زبان کے حُلیے کاہمہ گیر بگاڑ ہمارے اپنے ذرائع ابلاغ کے کرتوتوں کا شہکار ہے۔ سب اس میں شریک ہیں،خواہ مطبوعہ ذرائع ابلاغ ہوں، برقی ذرائع ابلاغ ہوں یا سماجی ذرائع ابلاغ۔ پھراس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب ذرائع ابلاغ کی زبان بگڑتی ہے تو اُن لوگوں کی زبان بھی بگڑ جاتی ہے جن تک اس زبان کا ابلاغ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی زبان کے بگاڑ پر مزید گفتگو سے پہلے، بتاتے چلیں کہ اُردو کے ادبی رسائل و جرائد، نصابی کتب اور شعری و ادبی تصانیف میں زبان کے بگاڑ کا تناسب آج بھی وہی ہے جوپہلے تھا۔بھلاکب نہیں کہا گیا کہ ”زباں بگڑی تو بگڑی تھی……“ صاحبو! زبان و بیان کی غلطیاں ہر دور کے لوگوں سے سرزد ہوتی رہی ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو سیمابؔ اکبر آبادی کی کتاب ”دستور الاصلاح“ سے لے کر پروفیسر آسی ضیائی کی ”درست اُردو“، طالب الہاشمی کی ”اصلاحِ تلفظ و املا“ اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی ”صحت زبان“ تک بے شمار کتب وجود میں نہ آئی ہوتیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ جو اَکابر زبان و بیان پر سند تسلیم کیے جاتے تھے، وہ بھی ایک دوسرے کی پونچھ پکڑتے پھرتے تھے۔مولانا ماہرؔ القادری جہاں دوسروں کی اغلاط کی نشان دہی کرتے تھے وہیں اپنی غلطیوں کااعتراف بھی بر سرِ تحریر کر لیا کرتے تھے کہ غلطیوں سے مبرا کوئی نہیں۔ مولاناکا اعتراف اُن کی کتاب ”قلمی معرکے“، باب ”توجیہ و وضاحت“ میں ”غلطیاں“ کے عنوان کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ مولانا ماہرؔ القادری نے تو جوشؔ ملیح آبادی جیسے مشاق ماہرزبان کی فاش اور فحش غلطیاں بھی پکڑ لیں اور دلچسپ انداز میں ان کی نشان دہی کی۔ ”یادوں کی برات“ پرتبصرہ کرتے ہوئے مولانانے جو غلطیاں پکڑیں اُن میں سے صرف چار مثالیں قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ واوین میں فقرے جوشؔ ملیح آبادی کے ہیں اور قوسین میں تبصرہ مولانا ماہرؔ القادری کا۔ ”عورت ڈھیٹ تھی ڈری نہیں اور بانکے سپہیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی …… تم ڈاکو ہو، اچھا ل چھکا ہو“۔ ص: 68 (حالاں کہ ”اچھال چھکا“ مرد کے لیے نہیں عورت اور صرف بدچلن عورت کے لیے بولا جاتا ہے) ”میرا نکاح بڑی ضدم ضدا اور چوٹم چاٹا کا نکاح تھا“۔ ص: 131 (”چوٹم چاٹا“یہ کہاں کی زبان ہے۔) ”پاؤں میں چھاگل اور جھانجھیں“۔ص: 201 (جھانجھ یا جھانج تو ایک قسم کا بڑا مجیرا ہے جو تاشے اور ڈھول کے ساتھ بجایا جاتا ہے]نوراللغات[ عورتیں پیروں میں جھانجھ نہیں ”جھانجن“ پہنتی ہیں) ”وہ نہایت عقیدت کے ساتھ مکالمت کرتے رہے“۔ ص: 427 (اس طرح کون بولتا ہے؟) بولنے اور لکھنے کے قواعد اُردو زبان میں انشا اللہ خان انشا کے زمانے سے مرتب کیے جا رہے ہیں۔انشاؔ کی کتاب ”دریائے لطافت“ کو اُردو قواعد پر لکھی گئی پہلی باقاعدہ کتاب تسلیم کیا جاتا ہے۔جیسے جیسے زبان ترقی کرتی جاتی ہے زبان و بیان کے قواعد میں بھی ترمیم اور تبدیلی ہوتی جاتی ہے۔ نئی نئی کتابیں آجاتی ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے کے قواعد و قوانین کی خلاف ورزی پر، خلاف ورزی کرنے والوں کو ٹوکا جاتا ہے، پکڑا جاتا ہے۔ زبان کے قواعد کی خلاف ورزی پر کیوں نہ ٹوکا جائے؟ کوئی معقول وجہ؟ کلیم عاجزؔ تو ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں: ہر ایک قدم پر ہم اس آوارہ قدم کو ہاں دیکھ کے چل، دیکھ کے چل، کہتے رہیں گے بات بگاڑ سے شروع ہوئی تھی۔بگاڑ تب سے شروع ہوا جب سے وطن عزیز میں نشریاتی اداروں کا ’جمعہ بازار‘ لگا۔ بقولِ غالبؔ: ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی اب آبروئے شیوۂ اہلِ نظر گئی اس مارا ماری سے پہلے ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی وژن اور قومی اخبارات میں صحت زبان کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ زبان و بیان کی غلطیوں کی اصلاح کرنے والے ماہرین ان اداروں میں مقرر کیے جاتے تھے۔ بھئی ابلاغ کاتوسارا کاروبار ہی زبان کے بل پر چلتا ہے۔ مگرآج کل اُردو زبان میں اخبارات شائع کرنے اور نشریات پیش کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ جس مال کے تاجر ہیں وہی مال ندارد۔ زبان و بیان کی غلطیوں کی نشان دہی تو اُس وقت فائدے مند ہوگی جب اُردو زبان لکھی اور بولی جا رہی ہو۔ہمارے نشریاتی اداروں سے جو زبان نشر کی جا رہی ہے اورجن حروفِ تہجی میں تحریر کی جا رہی ہے، اُسے کوئی بھی نام دے لیجے، وہ اُردو زبان تو نہیں کہی جا سکتی۔ ہر چند کہ معدودے چند نشریاتی ادارے خبروں کے متن کی حد تک اب اُردو اصطلاحات استعمال کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں، مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک فرد ایسا ہے جو زبان کا خیال رکھتا ہے۔ کیوں کہ ایک ہی نشریاتی ادارے کی مختلف خبروں کی زبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ صبح کی خبروں میں اگر یہ فقرہ کہاگیا کہ ”تمام فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ……“تو رات کی خبروں میں یہی فقرہ اس طرح پڑھا گیا کہ ’تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ……“اکثر اوقات ”دونوں فریقین“ بھی کہہ دیا
334
16
*وفیات مورخہ: 26/جون* 1950ء غلام علی چاگلا۔ 1955ء چراغ حسن حسرت۔ ادیب، صحافی 1957ء مجید لاہوری۔ مزاحیہ شاعر 1957ء مجید لاہوری (عبدالمجید چوہان)۔ مزاحیہ شاعر 1963ء اثر صہبائی (عبد السمیع پال)۔ شاعر ، 1963ء بیگم رضا اللہ (امتہ الحمید بیگم)۔ ، 1967ء عبدالکریم پڑھیار۔ 1968ء ایوب، ایم۔ ، 1972ء درد کاکوروی (میر نذر علی)۔ نعت گو شاعر 1976ء انور عادل۔ ، 1981ء محمد منیر۔ جسٹس (ر) ، 1987ء عمر منشی۔ 1988ء وقار انبالوی (ناظم علی)۔ شاعر، افسانہ نگار، صحافی 1997ء ثروت صولت۔ تاریخ نویس ، 1999ء جمال الدین الفندی۔ سوڈانی ماہر فلکیات 1999ء ممتاز نورانی۔ بیگم 2002ء حمیرا بیگم۔ بیگم ظاہر شاہ افغانستان 2004ء یش جوہر۔ فلم ڈائرکٹر 2010ء سید عاشور کاظمی۔ 2017ء انیس شاہ جیلانی، سید۔ ادیب 2018ء محمد انعام اللہ، سید۔ سفارت کار 2020ء منور حسن، سید۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان 2021ء میر ہزار خان کھوسو۔ https://telegram.me/ilmokitab
398
17
یادوں کا سفر ۔ اخلاق احمد دہلوی ۔ سابقہ قسطیں۔۔۔۔ https://drive.google.com/drive/folders/1RMSP2wbQwBtgWl8VkRgu0AojZ_UV8PFE?usp=sharing
364
18
قواعد املا کمیٹیوں کو غور و فکر پر متوجہ کرنے والی کتاب جدید قواعد املا کی وجہ سے اردو میں مستعمل بہت سے عربی الفاظ کے مادہ کے حروف تک کٹ جاتے ہیں، جیسے خود ”املاء“ کو ”املا“ اور ”اجراء“ کو ”اجرا“ لکھنا وغیرہ۔ اس کتاب میں اس جیسے کئی موضوعات شامل ہیں۔ بادی النظر میں سرورق دیکھ کر مجھے لگا کہ املا کی کتاب میں سرورق پر ہی املا کی غلطی؟ استفسار پر مصنفِ کتاب نے جواباً لکھا: ”اردو میں رائج عربی کا لفظ ”املاء“ بغیر ہمزہ کے ”املا“ درست نہیں ہے، بغیر ہمزہ کے املا 1944ء میں رائج کرنے کی کوشش کی گئی، جو رائج نہیں ہوسکا، چونکہ بغیر ہمزہ کے املا مہمل ہے، کتاب میں اسی پر بحث ہے، کتاب کا مطالعہ کریں۔ جزاکم اللہ خیرا“ تب مجھے لگا کہ یہ کتاب طلبہ و علماء کے ساتھ زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے ہر قاری کو پڑھنی چاہیے۔ نیز یہ کتاب املا کمیٹیوں کو مزید غور و خوض پر متوجہ کرے گی۔ کتاب کا نام: اردو میں عربی و فارسی کے الفاظ: املاء و رسم الخط مصنفہ: مولانا ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی شمسی (سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ و مصنف ”تذکرہ علمائے بہار“) ناشر و ملنے کا پتہ: براؤن بکس شمشاد مارکیٹ علی گڑھ 202001 قیمت: 300 روپے موبائل: 7088884468 ای میل ایڈریس: bbpulication@gmail.com محمد روح الامین قاسمی ضلع میُوربھنج، اڈیشا 10 محرم الحرام 1448ھ مطابق 25 جون 2026ء، بہ روز منگل
463
19
Matn yo'q...
368
20
بہادر خان سا آدمی صدیوں میں پیدا ہوتا ہے، اور جب پیدا ہوتا ہے انقلاب انگیز ہوتا ہے، اس کی ذات سے امت اسلامی کو بڑی بڑی امیدیں قائم تھیں، اور خصوصیت کے ساتھ دکن کے مسلمانوں کے حق میں اس کا وجود آبِ حیات کا حکم رکھتا تھا، تاہم انسان ناچارہے، اس کی ناچاری کا راز ایسے ہی موقعوں پر کھل جاتا ہے تقدیر کا نوشتہ اور قضا کا حکم ناقابل تغیر ہے۔ فاذا جآء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔[الاعراف:۳۴] ۲۵؍ جون ۱۹۴۴ء؁ کو دفعتہ وہ حکم آیا اور بندہ نے بلاچون و چرا ایک لمحہ کے اندر اس کی دعوت پر لبیک کہا، اور اس دنیائے دوں سے چل بسا اس پر اﷲ تعالیٰ کی صدہا رحمتیں ہوں اور بے شمار نوازشیں، غالباً مارچ ۱۹۴۴ء؁ کی کوئی تاریخ تھی، نواب دوست محمد خان (جاگیردار) کے یہاں دعوت تھی، جو مرحوم کے بڑے دوستوں میں تھے، احباب کا مجمع تھا، گفتگو علمی اور مذہبی تھی، مرحوم نے بڑے پُر اثر انداز میں کہا، آج قرآن پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے جب وہ مصر سے نکل کر مدین پہنچے ہیں، یہ دعا تلاوت میں آئی۔ رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر[القصص:۲۴] (اے میرے پروردگار! تو میرے لیے بہتری کا جو سامان بھی مہیا فرمائے میں اس کا محتاج ہوں) مرحوم نے اس موثر دعا کے ایک ایک لفظ کو بڑی تاثیر کی حالت میں پڑھا، اور سامعین کے سامنے اس کی تشریح کی، خدائے بے نیاز کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اے بارالٰہا! آج جب اس دعا کا خوستگار تیری حضور میں ہے، اور تیرے گھر مہمان، تو تو اس کے لیے وہی فرما جس کا وہ محتاج ہے۔ (’’س‘‘، اگست ۱۹۴۴ء https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
475