علم و کتاب
Kanalga Telegram’da o‘tish
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Ko'proq ko'rsatish8 142
Obunachilar
-3524 soatlar
-467 kunlar
+7730 kunlar
Ma'lumot yuklanmoqda...
O'xshash kanallar
Taglar buluti
Ma'lumot yo'q
Muammo bormi? Iltimos, sahifani yangilang yoki bizning qo'llab-quvvatlash boshqaruvchimizga murojaat qiling>.
Kirish va chiqish esdaliklari
---
---
---
---
---
---
Obunachilarni jalb qilish
Iyul '26
Iyul '26
+68
0 kanalda
Iyun '26
+218
0 kanalda
Get PRO
May '26
+228
1 kanalda
Get PRO
Aprel '26
+163
1 kanalda
Get PRO
Mart '26
+62
2 kanalda
Get PRO
Fevral '26
+89
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '26
+95
2 kanalda
Get PRO
Dekabr '25
+81
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '25
+109
1 kanalda
Get PRO
Oktabr '25
+105
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '25
+119
1 kanalda
Get PRO
Avgust '25
+173
2 kanalda
Get PRO
Iyul '25
+151
2 kanalda
Get PRO
Iyun '25
+140
2 kanalda
Get PRO
May '25
+95
1 kanalda
Get PRO
Aprel '25
+105
0 kanalda
Get PRO
Mart '25
+153
2 kanalda
Get PRO
Fevral '25
+131
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '25
+278
1 kanalda
Get PRO
Dekabr '24
+403
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '24
+500
2 kanalda
Get PRO
Oktabr '24
+487
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '24
+322
0 kanalda
Get PRO
Avgust '24
+322
3 kanalda
Get PRO
Iyul '24
+323
4 kanalda
Get PRO
Iyun '24
+341
0 kanalda
Get PRO
May '24
+331
1 kanalda
Get PRO
Aprel '24
+300
3 kanalda
Get PRO
Mart '24
+265
1 kanalda
Get PRO
Fevral '24
+321
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '24
+403
3 kanalda
Get PRO
Dekabr '23
+376
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '23
+132
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '23
+124
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '23
+92
0 kanalda
Get PRO
Avgust '23
+121
0 kanalda
Get PRO
Iyul '23
+116
0 kanalda
Get PRO
Iyun '23
+77
0 kanalda
Get PRO
May '23
+253
0 kanalda
Get PRO
Aprel '23
+81
0 kanalda
Get PRO
Mart '23
+49
0 kanalda
Get PRO
Fevral '23
+126
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '23
+137
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '22
+123
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '22
+209
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '22
+119
0 kanalda
Get PRO
Sentabr '22
+62
0 kanalda
Get PRO
Avgust '22
+40
0 kanalda
Get PRO
Iyul '22
+44
0 kanalda
Get PRO
Iyun '22
+138
0 kanalda
Get PRO
May '22
+42
0 kanalda
Get PRO
Aprel '22
+17
0 kanalda
Get PRO
Mart '22
+31
0 kanalda
Get PRO
Fevral '22
+28
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '22
+56
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '21
+112
0 kanalda
Get PRO
Noyabr '21
+52
0 kanalda
Get PRO
Oktabr '21
+112
0 kanalda
Get PRO
Sentabr '21
+64
0 kanalda
Get PRO
Avgust '21
+43
0 kanalda
Get PRO
Iyul '21
+63
0 kanalda
Get PRO
Iyun '21
+164
0 kanalda
Get PRO
May '21
+38
0 kanalda
Get PRO
Aprel '21
+60
0 kanalda
Get PRO
Mart '21
+103
0 kanalda
Get PRO
Fevral '21
+80
0 kanalda
Get PRO
Yanvar '21
+211
0 kanalda
Get PRO
Dekabr '20
+1 362
0 kanalda
| Sana | Obunachilarni jalb qilish | Esdaliklar | Kanallar | |
| 10 Iyul | +3 | |||
| 09 Iyul | +6 | |||
| 08 Iyul | +5 | |||
| 07 Iyul | +7 | |||
| 06 Iyul | +4 | |||
| 05 Iyul | +12 | |||
| 04 Iyul | +3 | |||
| 03 Iyul | +3 | |||
| 02 Iyul | +9 | |||
| 01 Iyul | +16 |
Kanal postlari
*وفیات مورخہ:جولائی/ 11*
1869ء مصطفی خان شیفتہ۔ شاعر
1905ء محمد عبدہ۔ مفتی مصر
1950ء حبیب الرحمٰن خان شیروانی۔ مولانا ، صدر الصدور
1957ء آغاخان سوم (سرسلطان محمد شاہ)۔ روحانی پیشوا خوجہ اسماعیلی جماعت ،
1957ء محمد مظہر بقا۔
1985ء محمد اقبال حمید سہروردی، چودھری۔
1993ء سیف الدین سیف۔ شاعر
1995ء عبدالصمد انصاری (فقیرشاہ)۔ ڈاکٹر ،
1995ء محمود انصاری۔ ڈاکٹر ،
1996ء قاضی جلیل عباسی۔ مسلم سیاست داں
2000ء اکبر جہاں۔ بیگم شیخ عبد اللہ
2001ء سلامت علی خان۔ گایک
2001ء قتیل شفائی (اورنگ زیب خان)۔ شاعر ،
2008ء سید محمود علی۔
2011ء میاں ایس اے (سلیم احمد میاں)۔
2016ء مہدی حسن۔
2017ء محمد یونس جون پوری۔ شیخ الحدیث مولانا، مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور
2019ء صوفی محمد۔ سربراہ تحریک نفاذ شریعت
2020ء موسیٰ پاشا عبدالرحمٰن صدیقی۔
2021ء خواجہ صغیر علی خواجہ۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
| 2 | آج اردو کے نامور ادیب وافسانہ نگار مدیر فنون لاہور کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۱۰ جولائی ۲۰۰۶ء کو ہوئی تھی ، اس مناسبت سے آپ کے دوست اور نامور ادیب محمد کاظم(سباق) کا لکھا ہوا خاکہ پیش خدمت ہے۔ | 132 |
| 3 | ‘کہربا’ مصنوعی بجلی کو کہتے ہیں۔ عالمِ عرب میں 'Electricity' کو ‘کہربا’ ہی کہا جاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی ہر چیز ‘کہربائی’ ہوتی ہے۔ بجلی کا کام کرنے والا شخٰص یعنی الیکٹریشین بھی ‘کہربائی’ ہو جاتا ہے۔ لیکن اردو میں مصنوعی بجلی بھی برق ہے۔ پر برقی رَو کم کم ہی آتی ہے، جاتی زیادہ ہے۔ کسی سے کوئی کام پُھرتی سے کروانا ہو تو پہلے کہا جاتا تھا کہ ‘‘بجلی کی طرح جائیو اور بجلی کی طرح آئیو’’۔ مگر یہ محاورہ اب متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر کسی نے اس پر عمل کیا تو سمجھو گھنٹوں کے لیے گیا۔بجلی سے چلنے والی مشینوں کا شمار کبھی ہم ‘برقی آلات’ میں کرتے تھے۔ برقی جھاڑو، برقی پنکھا، برقی زینہ اوربرقی ترازو وغیرہ۔ ‘ہائیڈرو الیکٹری سٹی’ یعنی پانی سے بننے والی بجلی کے لیے ہم نے علمِ طبیعیات میں ‘برقاب’ کی اصطلاح پڑھی تھی۔ کیا دل کش اصطلاح ہے: ‘برقِ آب’۔پازیٹو یا نیگیٹو الیکٹرک چارج کے لےطبیعیات میں ‘مثبت یا منفی برقی بار کے مختصر الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ الیکٹرو میگنیٹک ویوز کو ‘برقناطیسی لہریں’ کہتے تھے اور کسی چیز کی ‘الیکٹر ی فکیشن’ کو ‘برقانا’کہا جاتا تھا۔ الیکٹرون کو ‘برقیہ‘ کہتے تھے۔ٹیلی گرام سے بھیجا جانے والا پیغام بھی‘برقیہ’ تھا۔‘الیکٹرونک میل’ یا ‘ای میل’ کے لیے اردو میں اِس چھوٹے سے حسین لفظ کو استعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو کتنا اچھا ہو۔ مسلسل استعمال سے یہ لفظ یقیناً عام اور مانوس ہوسکتا ہے۔ جب تک قرضے کا ڈنڈادِکھا کر انگریزی زبان کو ہم پر بزور مسلط نہیں کیا گیا تھا، ہمارے اداروں کے نام اُردو میں بھی لکھے جاتے تھے۔ مثلاً KDA ‘ادارۂ ترقیاتِ کراچی’ ہوتا تھا، KMCبلدیہ عظمیٰ کراچی، KESC(موجودہ ‘کے الیکٹرک’)‘ادارۂ فراہمیِ برق کراچی’ اور KW&SBکو ‘ادارۂ فراہمی و نکاسیِ آب، کراچی’ کہتے تھے۔ اسی طرح WAPDA‘ادارۂ ترقیاتِ برق و آب’ تھا۔اگرLDA اور CDAکا نام بھی علی الترتیب ‘ادارۂ ترقیاتِ لاہور’ اور ‘ادارہ ترقیاتِ دارالحکومت’ رکھ دیا جائے تو کیا ولایتی قرضے(اونچی شرحِ سود پر) ملنا بند ہو جائیں گے؟ صاحب!ولایتی ملکوں نے تو اپنے ہر ادارے کا نام اپنی ہی زبان میں رکھا ہے۔تو اُن کی نقل کیجیے نا! ہم اپنے ملک کے کسی محکمے میں داخل ہوں تو ان محکموں سے کوئی اپنائیت محسوس نہیں ہوتی۔ کمروں پر لگی تختیوں اور میز پر دھرے کاغذوں کی زبان دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم غلطی سے برطانیہ کے کسی دفتر میں داخل ہو گئے ہوں۔ یہی حال بڑے بڑے بازاروں اور بڑی بڑی شاہراہوں کاہے۔
٭٭ | 142 |
| 4 | *غلطی ہائے مضامین*
*بجلی بجلی ہوتی ہے*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
ہمارے نام ایک ‘برق نامہ’ (یا ‘برقیہ’)آیا ہے۔ اس برقنامے کے مُرسِل نے سوال فرمایا ہے کہ
‘‘برق گرتی ہے یاچمکتی ہے؟’’
صاحبو! آج کل تو ہر چیز ‘برقی’ ہو تی جا رہی ہے۔بلکہ یوں کہہ لیجے کہ ہر شے ‘برقائی’ جا رہی ہے۔ نامہ ہی نہیں نامہ بر بھی۔ایک زمانہ تھا کہ حضرتِ داغؔ قاصد کو روانہ کرنے کے بعد گھر کے باہر ٹیڑھے ٹیڑھے کھڑے ہو کر اُس کی رفتار، اُس کے چال چلن اور اُس کی چال ڈھال کا بغور معائنہ فرمایا کرتے تھے اور زیرِ لب بڑبڑایا کرتے تھے کہ
قاصد یہاں سے برق تھا پر نصف راہ سے
بیمار کی ہے چال، قدم ناتواں کے ہیں
مگر اب قاصد کی بیماری و ناتوانی کا برقی علاج کر دیا گیا ہے۔ بجلی کے جھٹکوں نے اسے چاق چوبند کر کے رکھ دیا ہے۔ برقی قاصد اب ہماری اُنگلیوں کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ انگلیاں تختۂ کلید پر تھرکتی رہتی ہیں ۔ جوں ہی خط مکمل ہوتا ہے، ہمارا برقی ‘نامہ بر’ ایک اشارۂ انگشت پر فقط لمحے بھر میں ‘نامہ بنامِ یار’ سات سمندر پار پہنچا آتا ہے۔ اس سے زیادہ برق رفتاری اور کیا ہوگی؟
ہاں، تو سوال یہ تھا کہ‘‘ برق گرتی ہے یا چمکتی ہے؟’’
حضرت! لغت کے لحاظ سے تو ‘برق’ چمکتی ہے۔ بادلوں کی رگڑ سے چمک چمک جانے والی بجلی کو برق کہا جاتا ہے۔ جب کہ زمین پر گرنے والی بجلی ‘صاعقہ’ کہلاتی ہے۔اپنی زمین پر اِدھر اُدھر دیکھیے تو نہ جانے کتنی ‘صاعقائیں’ لوگوں پر بجلی گراتی نظر آئیں۔ اسی وجہ سے اِدھر اُدھر دیکھنے کو منع کیاِ جاتا ہے۔ مگر علامہ اقبالؔ نے مسلمانوں پر گرنے والی ہر آسمانی ‘صاعقہ’ کو برق گردانا ہے:
‘‘برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر’’
اقبالؔ ہی نے نہیں، اُردو کے دیگر شعرا نے بھی ‘برق گرنے’ یا ‘برق بن کر گرنے’ کی تراکیب استعمال کی ہیں ۔برق، صاعقہ، رعد اور کہربا میں کیا تیکنیکی فرق ہے؟یہ لمبی بحث ہے۔ فی الحال اس بحث کاخاتمہ ہم ‘‘کلیۂ رئیسانی’’ سے کیے دیتے ہیں کہ چوں کہ اُردو میں برق، رعد، صاعقہ اور کہربا سب کو بجلی کہا جاتا ہے۔لہٰذا:
‘‘بجلی بجلی ہوتی ہے، گرے یا چمکے’’۔( یا چلی جائے)
ویسے برق کے لفظی معنی ظاہر ہونے، چمکنے یا روشن ہونے کے ہیں۔ مجازاً چمکتی چیزوں کو بھی برق سے تشبیہ دے دی جاتی ہے۔ اگر کسی کا لباس اُجلا ہو اور خوب چمک رہا ہو تو کہا جاتا ہے کہ
‘‘سفید بَرّاق لباس زیب تن کر رکھا ہے’’۔
‘بَرّاق’انتہائی سفید کے معنوں میں ہے، مثلاً ‘زاغِ شب بگلے کے پر سے بھی کہیں بَرّاق ہو’۔ زاغِ شب کا مطلب ہے رات کا کوّا۔ یہ سیاسی پرندہ رات بھر ٹی وی پر کائیں کائیں کرتا رہتا ہے۔ بہر حال لغوی برق تو کوندتی ہے۔‘رعد’ اُس آواز کو کہتے ہیں جو بادلوں کی رگڑ سے پید ا ہو۔ اسے کڑک، گرج یا "Thunder" کہا جاتا ہے۔ اُردو میں ‘‘تھنڈر’’ کا رشتہ بھی بجلی ہی سے جوڑتے ہیں ۔ لہٰذا اِس دل دہلاتی آواز کو ‘‘بجلی کا کڑکا’’ کہا گیا۔ مولانا حالیؔ نے مسدسِ حالیؔ مں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی دعوتی پُکار کوبھی ‘‘تھنڈر’’ قرار دیاہے:
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادیؐ
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی
اِک آواز میں سوتی بستی جگا دی
‘بجلی کڑکنے’ کی آواز کو ‘بادل گرجنا’ بھی کہتے ہیں۔ اللہ جانے کہاوتیں کہنے والوں سے کس نے کہہ دیا کہ ‘‘جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں’’۔بھلا آسمان پر چڑھ کر کس نے تصدیق کی ہے؟ ‘صاعقہ’جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، زمین پر گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں۔اردو نثر میں ان معنوں میں اس لفظ کااستعمال کثرت سے نہیں ہوا۔ شعروں میں البتہ ہوا ہے۔ انیسؔ کا ایک شعر ہے:
اِک صاعقہ گرتے ہوئے جو دُور سے دیکھا
موسیٰ نے اسی نور کو تھا طور سے دیکھا
اس شعر سے پتا چلتا ہے کہ صاعقہ مذکر ہے۔ اہلِ لغت نے بھی اس لفظ کو‘اسمِ مذکر’ ہی لکھا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں مؤنث ہی کا‘ اسم’ صاعقہ ہوتا ہے۔ شعرا نے صاعقہ کا لفظ بالعموم طُور پر گرنے والی بجلی کے لے استعمال کیا ہے۔‘‘محاصرۂ ادرنہ’’ میں اقبالؔ بتاتے ہیں کہ محصور ہو جانے کے بعد شکریؔ نے ‘آئین جنگ’(Martial Law) نافذ کر کے ذمیوں کو اپنا مال ذخیرۂ لشکر میں جمع کرانے کا حکم دیا:
لیکن فقیہِ شہر نے جس دم سنی یہ بات
گرما کے مثل صاعقۂ طور ہو گیا
ذمی کا مال لشکرِ مسلم پہ ہے حرام
فتویٰ تمام شہر میں مشہور ہو گیا
‘صاعقہ’ کے لے شعر میں بھی برق یابجلی کے الفاظ زیادہ استعمال کیے گئے ہںں۔ؔ ‘برقِ حوادث اللہ اللہ+جھوم رہی ہے شاخِ نشیمن’۔ ‘برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں’۔ ‘گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو’۔ ‘بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو’۔ وغیرہ۔ | 118 |
| 5 | علم کا جوہر، عاجزی اور حق پسندی
مخدوم المحترم مولانا ڈاکٹر پروفیسر سید سلمان ندوی صاحب حفظہ اللّٰه تعالیٰ نے یکم اپریل ٢٠٢٦ء کی ایک مجلس میں ارشاد فرمایا:
ہم جو کچھ پڑھیں یا پڑھائیں، اس پر استقامت ہونی چاہیے، یہ سب چیزیں اللّٰه تعالیٰ کے ہاں پیش ہونی ہیں، رضا فقط اللّٰه تعالیٰ کی مطلوب ہو، اس لیے اخلاص کی ضرورت ہے، پہلے ہمارے علماء جب دستخط کرتے تھے تو اپنے نام سے غفرلہٗ وغیرہ لکھتے تھے، اب تو ایسی چیزیں ختم ہوگئی ہیں، لکھ تو ہم رہے ہیں، لیکن کوئی انہیں پڑھ کر سنائے گا بھی۔ تو اس لیے احتیاط کرنی چاہیے، یہ مزاج نہ ہونا چاہیے کہ مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ عجز و انکساری رکھنے کی ضرورت ہے، عالم ہونے کے معنیٰ یہ نہیں کہ ہم سے غلطی نہ ہوگی، بلکہ ہم سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔ میرے والد (علامہ سید سلیمان ندویؒ) کے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ شیخ تھے، مگر مولانا تھانویؒ نے جو بات لکھ دی یا کہہ دی ہے، وہ حرفِ آخر ہے، ان کے ہاں ایسا نہیں تھا۔ میرے والد کا بعض باتوں میں اختلاف ہوتا تھا۔ اسی لیے تو والد صاحب نے کسی سے کہا کہ مولانا تھانویؒ نے لکھا ہے، میں نے تو نہیں لکھا۔ یہ چیزیں سمجھنے کی ہیں۔
(ناقل و راوی: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab | 290 |
| 6 | کا انتقال ہوا، اس وقت تحفیظ القرآن میں اپنے دن کی پوری ڈیوٹی انجام دے کر گھر واپس جارہے تھے تو سینے میں کچھ جلن محسوس ہوئی، پھر وہاں سے بلاوا آگیا جہاں سے کوئی دوبارہ واپس نہیں لوٹتا، محمد اشفاق ہماری ظاہری آنکھوں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہوگئے، لیکن ان کی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی، جامعہ کے درو دیوار سے ان کی خوشبو ہمیشہ مہکتی رہے گی۔ ، کتنی معصوم زندگی گذاری انہوں نے، اور کیسے پاک وصاف ہوکر اپنے خالق کی طرف وہ لوٹے ہیں، ان جیسوں کے درجات کی بلندی کے لئے دست بہ دعا ہونا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے، لیکن کیا یہ درست نہیں کہ یہ حضرات ہماری دعاؤں سے بہت بلند ہیں۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ
2026-07-09 | 284 |
| 7 | *حافظ محمد اشفاق محمد حسینا، جنت کا راہی*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
کل مورخہ ۷ / جولائی ملیہ مسجد میں ابھی نماز مغرب کے لئے صف بند ھ رہی تھی کہ اطلاع آئی کہ حافظ محمد اشفاق محمد حسینا صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہا،اللہ تعالی نے انہیں رحم مادر ہی سے بینائی سے محروم اس دنیا میں بھیجا تھا، لیکن انہوں نے بینائی سے آنکھ کی محرومی کو دل کے بصیرت سے بدل دیا۔
یہ جناب الحاج محی الدین منیری کا دور نظامت تھا، ان کے والد ماجد نے اپنے نونہال کو جو بینائی سے مکمل محروم تھا، اور کسی شخص کے سہارے کے بغیرایک قدم چلنا بھی مشکل تھا، جامعہ آباد لے آئے تھے، انہیں اپنے بچے کو حافظ بنانے کی تڑپ تھی، کیونکہ اس بچے کو آنکھوں کی بینائی سے محرومی کے باوجود قرآن سے جو محبت تھی، اور اسے پڑھنے کی جو لگن تھی، اسے دیکھ کر آپ کی چھٹی حس کہ رہی تھی کہ اگر خاطر خواہ توجہ دی جائے تو یہ بچہ ایک نہ ایک دن قرآن کا حافظ بن کر ان کی نجات کا ذریعہ بنے گا۔
اسی نیک جذبے کے ساتھ ان کے والد نے ایک نہیں تین بار جامعہ کے چکر کاٹے تھے، اور انہیں یہاں سے حافظ قرآن بناکر نکالنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن چونکہ یہ بچہ بغیر سہارے ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا تھا،تو ذمہ داران نے جن میں ناظم جامعہ بھی شامل تھے، اس بچے کو جامعہ میں داخل کرنے سے معذرت کا اظہار کررہے تھے۔ لیکن وہ جامعہ سے باربار کے انکار سننے کے باوجود مایوس نہ ہوئے، بالآخر درجہ حفظ کے ایک استاد حافظ شمیم صاحب کو یہ دیکھ کر ترس آگیا، اور انہوں نے ناظم جامعہ کو یقین دلایا کہ آپ فکر نہ کریں، اسے حافظ بنانے کی ذمہ داری ان شاء اللہ میں لیتا ہوں۔
حافظ صاحب شمالی ہند سے تعلق رکھتے تھے، منیری صاحب کو اپنے قائم کردہ جامعۃ الصالحات کی بڑی فکر رہتی تھی، اور انہوں نے ابتدا میں مالیگاؤں سے جامعۃ الصالحات کی فارغ التحصیل استانیوں کو بھٹکل میں بسا کر ان کی یہاں پر خدمات حاصل کرنے کے لئے بڑے جتن کئے تھے، مالیگاؤں سے آنے والی استانیوں میں محترمہ شکیلہ بھی تھیں، جو مولانا عبد الستار معروفی سابق شیخ الحدیث دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی پوتی تھیں، منیری صاحب نے ذاتی دلچسپی لے حافظ شمیم کے ساتھ شکیلہ آپا کا گھر بسایا تھا۔
حافظ شمیم صاحب نے اس معذور بچے پر خوب محنت کی، درجے کے اوقات میں بھی اور علاوہ بھی اس کی فکر میں مسلسل لگے رہے، کبھی جامعہ آباد سے دور شہر میں جا کر بھی غیر درسی اوقات میں انہیں پڑھاتے تھے، تجوید کے لئے ان کی منہ میں انگلیاں ڈال کر قواعد بتاتے تھے، اس طرح آپ نے چند سالوں میں حفظ قرآن مکمل کیا، یہ سنہ ۱۹۹۳ء کی بات ہے، اپنے فرزند کو حافظ دیکھ کراپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاکر آپ تھوڑے ہی عرصہ بعد اللہ کو پیارے ہوگئے، پھر دو مہینے سے بھی کم عرصہ میں ان کے بڑے بھائی الطاف نے بھی اس دنیا کو داغ مفارقت دے دی، اور ان کے کمزور کندھوں پر اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی بہن کی کفالت کی ذمہ داری آگئی۔
ان کی زندگی کا ایک زمانہ وہ تھا جب وہ سبھی پر بار بنے ہوئے تھے،اور اب وہ زمانہ آگیا تھاکہ ان کے ناتوان کندھوں پر اتنا بڑا بوجھ آگیا۔ لیکن اللہ مسبب الاسباب ہے، آپ جامعہ کے شعبہ تحفیظ قرآن مین محفظ کی حیثیت سے وابستہ ہوئے، اور پورے ۲۹ سال تک بحسن وخوبی یہ ذمہ داری انجام دیتے، اور آپ کے سامنے زانو پھیلا کرسینکڑوں حفاظ کرام تکمیل حفظ کے زیور سے آراستہ ہوئے، پھر آپ کو بھٹکل کی قاضیا مسجد میں امامت کی ذمہ داری مل گئی، اس طرح آپ نے عزت نفس کے ساتھ زندگی ذمہ داریوں کا جو بوجھ اٹھایا وہ ایک مثال بن گیا۔
الحاج محی الدین منیری مرحوم کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹکل کو دور حاضر کا پہلا حافظ قرآن مرحمت فرمایا تھا، انہیں بھٹکل کے اس پہلے نابینا حافظ قرآن کی سرپرستی کا بھی شرف حاصل ہوا۔ کیونکہ ان کے حفظ قرآن میں داخلہ کے بعد انہیں لانے لے جانے کے لئے ایک رفیق کا بھی آپ نے انتظام اس وقت کردیا تھا، اور ایک وقت ایسا آیا کہ جامعہ سے سرکاری تینگنگڈی بس پر بیٹھ کر آپ جامعہ آباد سے گھر لوٹ رہے تھے، تو ایک سیٹ پر حافظ اشفاق شہر جانے کے لئے کونے پر بیٹھے تھے، منیری صاحب آہستہ سے ان کی بغل میں سیٹ پر بیٹھ گئے، اور نرمی سے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معافی طلب کی کہ میں نے تین مرتبہ آپ کے داخلہ سے انکار کیا تھا، لیکن آپ پرعزم نکلے، اوراپنے مقصد میں کامیاب وکامران ہوکر نکلے ، کردار کے یہ کیسے بلند لوگ تھے!، زندگی میں انہیں دیکھنا ہم جیسوں کے لئے کتنا بڑا اعزاز ہے؟۔
حافظ اشفاق نے اس دنیائے فانی میں زندگی کی (۵۵) بہاریں دیکھیں، ان میں سے گذرنے والا ہر دن آپ کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں تھا، آنکھوں کی تاریکی کو آپ نے قرآن کریم کی روشنی سے منور کردیا،معذوری کے باوجود اپنی زندگی بڑے باوقار انداز سے، عزت نفس کے ساتھ گذار دی، شادی بھی کی ، اور بچے کے والد بھی بنے، جس شام آپ | 307 |
| 8 | سچی باتیں (27؍جنوری 1941ء)۔۔۔ قدیم جاہلیت
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
پچھلی عیسوی صدی کے ثلث آخر کے مشاہیر یورپ میں ایک صاحب پروفیسر رابرٹسن اسمتھ ہوئے ہیں، کیمبرج یونیورسٹی میں عربی زبان کے استاد تھے، اور عرب ومتعلقات عرب پر ان کی تحقیق آج تک مستند چلی آتی ہے۔ سامی مذہب پر متعدد فاضلانہ لکچر دئیے۔ ان کا مجموعہ بعد کو Religion of the Semitesسامیوں کا مذہب، کے عنوان سے شائع ہوگیا۔ باب دوم کے آغاز میں لکھتے ہیں:-
’’جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکاہے، ادیان قدیم کا بجائے مجموعۂ معتقدات ومسائل کے ایک رواج یا دستور کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ قدیم مذہب ایک جزو ہوتاتھا اُسی نظام معاشرت کا جس کے ماتحت اس کے پیرو رہاکرتے تھے۔ اس لئے قدیم مذاہب کے ساتھ لفظ ’’سسٹم‘‘ کا استعمال صرف اسی معنی میں درست ہے جیسے کسی سیاسی ’’سسٹم‘‘ کا ذکر کیاجاتاہے، نہ اس معنیٰ میں کہ ان مذاہب کے کچھ مخصوص عقائد اور اصول تھے۔ عام طور پر یہ سمجھئے کہ مذہب نام تھا چند اعمال ورسوم کا جن کے صحیح ادا کرنے پر مدارتھا دیوتاؤں کی خوشی اور ناخوشی کا۔اور ان مراسم میں شرکت پر ہر شخص اس بنا پر مجبور تھا کہ وہ پیدا اُسی خاندان یا اُس قبیلہ میں ہوا ہے ، یا یہ کہ اُسے فلاں مرتبہ یا منصب حاصل ہے۔ اپنے ارادہ اور پسند سے مذہب اختیار کرنے کے کوئی معنیٰ نہ تھے۔ مذہب تو گویا ورثہ میں مل ہی جاتاتھا جیسے اور خاندانی رسم ورواج ملتے تھے۔ اور ہر فرد کوکم وبیش مذہبی ہوناہی پڑتاتھا، جیسے آج ہرشخص کو کم وبیش وطن کا خیال رکھنا ہی پڑتاہے‘‘۔ (ص: 28)
گویا دین جاہلی کوئی جسم متحرک نامی، زندہ تھا ہی نہیں، ایک جامد مردہ لاشہ تھا۔ ایک مجموعہ تھا دستوروں، رسموں، رواجوں کا۔ نہ عقل سے کوئی تعلق تھا، نہ عقل اعلیٰ یا وحی سے۔ ہر قوم یا قبیلہ میں ایک بنابنایا سانچہ۔ کچھ عقائد ورسوم کا پشتہا پشت سے چلاآتا رہتاتھا، قوم یا قبیلہ میں جو بچہ آنکھ کھولتا، وہ طبعًا واضطرارًا اُن ہی کی آبائی رسوم وعقائد کی راہ پرپڑلینا۔ دخل نہ اس میں کسب واختیار کوہوتا نہ غور وتدبر کو۔ اسی لئے اس جاہلی تخیل میں کسی نئے مذہب کے قبول واختیار کرنے اور قدیم مذہب کو ترک کرنے کے کوئی معنی ہی نہ تھے……دانایان فرنگ تو اس نتیجہ تک اب پہونچے ہیں۔ قرآن ساڑھے تیرہ سو چودہ سو برس ہوئے اس ذہنیت کو دین جاہلی کے سلسلہ میں ماوجدنا علیہ آباء نا، ما ألفینا علیہ آباء نا ، ما سمعنا بھذا فی آباء نا الأوّلین وغیرہ مختلف عنوانات کے ذریعہ سے روشناس کرچکاہے۔
تیرہ سو برس کے بعد ہَوا پھر وہی چلی ہے۔ ’’روشن خیالوں‘‘ نے دین کو ایک ’’موروثی‘‘ ’’آبائی‘‘ چیز سمجھ لیاہے۔ اور دین کی زندہ حقیقت کو ’’قوم‘‘ کی مُردہ رسمیت کے اندر گم کردیاہے۔ مذہب کا جاہلی تخیل نئے سرے سے زندہ ہواہے بس مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانا اور مسلمان کا سا نام رکھ لینا بالکل کافی ہے۔ قانون اسلام کے بہترین شارحین اور Juristsپر دل کھول کر مضحکہ کیجئے، احادیث رسولؐ ورجال کی جانچ پرتال میں عمریں صرف کردینے والے محدثین بلکہ رسول کے صحابیوں تک پر بازاری زبان میں پھبتیاں کسئے، اقوالِ رسول کی حجیت سے انکار کردیجئے، قرآن کی تعلیمات سے بے کھٹکے انکار کرتے چلے جائیے، یہ کہتے جائیے کہ اسلام کا قانونِ سود قابلِ ترمیم ہے، شریعت کا قانون وراثت قابل تنسیخ ہے، ضابطۂ فوجداری ناقابل عمل ہے، قرآن کے زبان کو، قرآن کے رسم الخط کو بس چلے تو جرم قرار دے دیجئے، رسولؐ کی زبان میں اذان اور نماز دونوں کی ممانعت کردیجئے، گھر کی عورتوں کو بے نقاب اور بے حجاب باہر نکالئے، لباس اُنھیں نیم برہنہ پہنائیے، ان کے جسم کی زینتوں کو نمایاں سے نمایاں تر کیجئے، گانے کو ، بجانے کو ، ناچنے کو، اداکاری کو نصاب تعلیم کا جزو بنائیے۔ فخر اپنے دین پر نہیں، اپنے وطن پر کیجئے،اور جب کوئی احتساب پر آمادہ ہو، تو اُس کا منہ یہ کہہ کر نوچ لیجئے، کہ ’’تم ہوتے کون ہو ہمارے ایمان، ہمارے اسلام میں شک کرنے والے،ہمارے عقائد پر جرح کرنے والے؟ دیکھتے نہیں ہو کہ ہمارا نام مجتبیٰ جمال ہے، عبد التواب ہے، علی رضا ہے، اور دیکھتے نہیں ہو کہ ہم کتنے کام مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے کرچکے ہیں، اور ملّت کی راہ سے کتنی دشواریاں دور کرچکے ہیں! گویا جس طرح پیدائشی برہم سے برہمنیت اور شودر کے گھر میں پیداہوجانے والے سے شودریت کسی طرح الگ نہیں ہوسکتی، اسی طرح اسلام ہے، کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوجانے والے کے ساتھ ہرحال میں چمٹا ہی رہتاہے!……چور کو اتنا اقتدار کوتوال پر، اس دَور سے قبل، کبھی کیوں حاصل ہواہوگا؟
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 368 |
| 9 | ""اس شخص کے قتل کا فیصلہ منسُوخ ـــــ ! صرف حراست میں ڈال دیا جائے اور بس۔۔۔!
اور پھر اس حراست کے در و دیوار بھی امام شافعیؒ کی عظمتِ علمی کی دُوسری دھمک سے زمین پر آرہے ـــــ ! انھوں نے دربار کے ایک زبردست علمی مباحثے پر ایسی وقیع رائے دی کہ ہارون رشید فرطِ عقیدت سے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور پکار اُٹھا:
"اس ہستی کو آزاد کرو اور اسی وقت اس کے قدموں پر پانچ سو دینارلٹا دیے جائیں۔۔۔"
لیکن امامؒ کے یہ علمی جوہر کُھلنے کے بعد جب ہارون رشید نے سلطنت کا عہدۂ قضا پیش کرنا چاہا تو وہی امام شافعیؒ جو سیاست کو دینی زندگی کا حرام گوشت نہ سمجھتے تھے اور اسی لیے نجران کا والی ہونا منظور فرمالیا تھا اور سیاست کی تلوار سے اصلاح و انقلاب کا وہی کارنامہ سرانجام دیا تھا جس کے لیے ان کے علمی وجود کے زبان و قلم وقف تھے ـــــ عہدۂ قضا کا نام سن کر تھرّا گئے کہ شاہی تلواروں کے سائے میں بیٹھ کر اس مذہبی عہدے کا حق ادا کرنا جیتے جی نا ممکن ہے اور نہ یہ بات کسی طرح ممکن ہے کہ جینے کے لیے حق کو موت کی نیند سُلا دیا جائے ـــــ چناں چہ اس عظیم پیش کش کی طرف لپکنے کے بجائے اُسے دُور ہی دُور سے ٹھکراتے ہوئے بڑی نفرت و بیزاری کے ساتھ صاف کہا:-
"! "مجھے تو اس عہدے سے معاف ہی رکھیے ــــ
دل تڑپ اُٹھتا ہے کہ کیا یہ اسی دنیا کا واقعہ ہے ــــ ؟ جہاں ہم پھٹی پھٹی آنکھوں سے آج یہ منظرِ خوں چکاں دیکھ رہے ہیں کہ سرکاری امداد کی چند پُھوٹی کوڑیاں اور سرکاری خطابات کے چند کھو کھلے لفظ پاکر علماء اپنا علم بے تکلف بیچ ڈالتے ہیں اور سود خوروں کی ایک لذیذ دعوت کھانے کے لیے زہّاد زہد و پارسائی کا خون کر ڈالتے ہیں ـــــ ؟ سچ بتا اے تاریخ ! کیا کبھی اس دنیا کے مومنوں کو وہ عظیم و زرنگار " عہدۂ قضا" بھی منظور نہ تھا جو حق کے خطروں میں پڑ جانے کا دُور دراز اندیشہ یاد دلائے تو خوف آخرت سے لرزتے ہوئے دِل پر موت کا سا کرب طاری ہو جائے ؟
پھر آخرت کے لیے دنیا کی قربانی کا یہ منظران امام شافعیؒ کی زندگی پیش کر رہی تھی جن کی ابتدائی عمر کے سینے پر افلاس و ناداری کے گہرے کھرونچ تھے. لیکن حصول کمال کی ایک طویل عمر جب خون پسینہ ایک کر چکی اور ایوانِ حکومت سے لے کر عوام وخواص کی گزر گاہوں تک اس شخصیت پر سونے چاندی کی بارش کی گئی تو دنیائے فانی کی اس سُنہری گرد سے وہ فقر کا دامن جھاڑ کر اُٹھا اور خُدا کے قدموں میں گر کر دولتِ دل کے لیے رو پڑا:-
"میرے مالک ! اپنے خونِ جگر کی یہ قیمت مجھے منظور نہیں جو تیرے بندوں کے ہاتھ سے ملے ۔ میری مزدوری تو تیرے پاس ہے جو میں قیامت کے ہوش رُبا دن تیرے دستِ خاص سے چاہتا ہوں ۔ میں اِس دنیا میں جینے کا آرزو مند نہیں جس کا آخری تحفہ موت ہے ـــــ موت ـــــ!"
ایک بار ہارون رشید نے پچاس ہزار دینار بھیجے تو یہ مردِ مومن ــــــ امام شافعیؒ اس رقم سے غریبوں ،یتیموں اور بیواؤں کے آنسو پونچھتا ہوا ٹھنڈے چولھے روشن کراتا اور تاریک گھروں میں دِیے جلاتا اپنے گھر میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھوں میں صرف دس ہزار دینار بچے رہ گئے تھے انفاق و خیرات کا یہ راز افشاء ہوا اور راعی اور رعیّت دونوں نے اس کے جواب میں ہزاروں دینار اور بھیجے تو امام شافعیؒ نے اپنے اِس درد بھرے جذبے پر رات کی تاریکی کے ہزاروں پردے گرا دیے ـــــ جب نیند کے نرم وگرم بستر پر لیٹ کر دنیا والے آنکھیں بند کر کے پاؤں پھیلا کر گہری نیند کے مزے لیتے ، خدا ـــــ اکیلا خدا دیکھتا کہ اس کا یہ پرستار بے چین ہو کر اُٹھا ـــــ دبے دبے پاؤں گھر سے نکلا اور بے نواؤں کی پکار سُننے کے لیے در در مارا پھرا اور جب دنیا کے غم زدوں پر دولتِ دنیا لٹا کر خالی ہاتھ واپس ہوا تو رہ رہ کر اس کے بے قرار ہا تھ دُعا کے لیے پھیلتے گئے۔
"الہی ـــــ مجھے حرصِ دنیا سے ہمیشہ محفوظ رکھنا ـــــ "
______
(جاری) | 420 |
| 10 | *کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات (تيسری قسط)*
*تحریر: شمس نوید عثمانیؒ*
تفقّہ اور افتاءکی اس منزل پر پہنچ کر اب امام شافعیؒ چین سے نہیں بیٹھ گئے ۔ ان کی نظر میں ایک مومن کی شخصیّت محض قرطاس و قلم تک محدود نہ تھی، بلکہ قلم اور تلوار دونوں کا یہ مجاہد مختلف علوم اور زندگی کی مختلف راہوں کا امام ہونا چاہتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے ایک طرف تیراندازی سیکھی تو دوسری طرف لغت ، تاریخ، نحو و عروض اور علم فراست وغیرہ میں دست گاهِ کامل حاصل کی ۔ وہ جس طرح باکمال علماءکے قلم کی حرکت پر وجد کرتے تھے ٹھیک اسی طرح ایک تیر انداز کا کمالِ تیر افگنی ان کی مجاہدانہ عقید توں کو بیدار کر دیتا تھا۔ چنانچہ ایک بار وہ کہیں جا رہے تھے تو اثنائے راہ میں کسی کو دیکھا کہ تیر اندازی کی مشق کر رہا ہے ۔ اچانک اس کا تیر ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگا تو امام شافعیؒ جھوم اُٹھے ـــــ بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا مگر وہاں صرف تین دینار پائے۔ لجاجت اور عقیدت سے لبریز آواز میں فرمایا:
"یہ تین دینار انعام میں دیتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے ـــــ مگر کیا کروں اس وقت میرے پاس اور کچھ ہے نہیں۔۔۔۔"
____________
علم و فراست جیسے خالص عقلی علم کو انھوں نے خالص مومنانہ نقطۂ نظر سے سیکھا تو سچ مچ اس حدیث رسول ﷺ کا مصداق بن گئے۔
" "مومن کی فراست سے بچو ـــــ ! وہ خدا کی روشنی میں دیکھتا ہے ـــــ
اس ذیل میں متعدد حیران کن واقعات میں ایک یہی واقعہ ایسا ہے جس سے اس علم میں ان کی دست گاہ کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔
امام بہیقی مُزنیؒ کے ذریعہ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ میں جامع مسجد میں امام شافعیؒ کے ساتھ تھانا گاہ ایک شخص آیا اور سوتے ہوئے آدمیوں میں کسی کو تلاش کرنے لگا ۔ امام شافعیؒ نے بیک نظر سمجھ لیا کہ ڈھونڈنے والا کسی ایسے حبشی غلام کو ڈھونڈ رہا ہے جس کی آنکھ میں کوئی نقص ہے چناں چہ شخصِ مذکور نے اس بات کی حرف بہ حرف تصدیق کی ۔ اس کے بعد امام شافعیؒ نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ "جس کی تمہیں تلاش ہے وہ قید خانے میں ہے ـــــ" اور واقعی وہ قید خانے میں ملا۔ بعد میں امام صاحبؒ نے بتایا:-
اس کے اس طرح ڈھونڈنے کے انداز سے میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کِسی مفرور کی تلاش میں ہے ـــــ جب وہ مسجد کے اس حصّے میں گیا جہاں سیاہ فام سورہے تھے اور مَیں نے پھر غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ بائیں آنکھ والوں پر وہ گہری نظر ڈال رہا ہے ـــــ چناں چہ میں نے نتیجہ نکالا کہ اس کا کوئی آنکھ کا عیبی حبشی غلام بھاگ گیا ہے اور میرا تجربہ ہے کہ غلام جب بھوکا ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے اور پیٹ بھرا ہوتا ہے تو زنا کرتا ہے ـــــ میں نے سوچا کہ ان دونوں باتوں میں سے ایک نہ ایک بات ضرور ہوگی اور اس کے نتیجے میں غلام قید ہو گیا ہو گا ۔"
ـــــ علم ہیئت و نجوم میں اس بلا کا درک ہو چکا تھا کہ کسی دوست کا زا ئچہ دیکھ کر پیشین گوئی کی:
"٢٧دن کے بعد تمہارے یہاں ایک بچّہ پیدا ہوگا ، جس کی بائیں ران پر سیاہ تل ہوگا ـــــ ٢٤ گھنٹے زندہ رہ کر دفعتًا مر جائے گا۔"
چناں چہ لفظ بہ لفظ پیشین گوئی پُوری ہوئی تو اپنے کمال پر خوش ہونے کے بجائے اسی دن علم نجوم کی ساری کتابیں جلا ڈالیں اور آيندہ کسی کے سوال کا جواب نہ دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے دینی عقائد میں فساد رونما ہو جائے تو دنیا میں یہ تعریفوں کی بھرمار زلزلۂ حشر کے دن وبالِ جان بن کر سامنے آئے ـــــ ! اس ایک "دن" کے خوف سے جس کا نام " قیامت " ہے سالہا سال کی عرق ریز کاوشوں کو اپنے ہاتھ سے سوخت کر دینا خدا کی قسم ایک سچّے مؤمن کے سوا کسی کے بس کا کام ہی نہیں۔
_____
اِس دنیا کی ہر چیز کی طرح شہرت و قابلیت بھی ایک نازک آزمائش ہے ۔ جب حکومت نے امام شافعیؒ کا شہرہ سُنا اور قدر افزائی کے طور پر انھیں نجران کا والی بنا دیا گیا تو وہاں جا کر حضرت امامؒ نے دیکھا کہ مقدمات کے فیصلے رشوت سے ہو رہے ہیں۔ امام صاحب نے جاتے ہی اس فتنے پر بند لگائے اور حق پسندی کے آزاد فیصلوں سے رشوت ستانوں کی کمر توڑ دی ۔ نتیجہ اُسی قدرشناسی کی شکل میں نکلا جو اس دنیائے فانی کا خاصّہ ہے ۔ امام صاحبؒ کے خلاف ناپاک سازشیں شروع ہوئیں اور حکومت کے مرکزی ایوان میں جا کر یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ امام صاحبؒ یمن والوں میں بے حد مقبول ہیں اور اس مقبولیت سے فائدہ اُٹھا کر حکومت کا تختہ اُلٹ دینا چاہتے ہیں ـــــ!
بس پھر کیا تھا ـــــ اقتدار و حکومت کی نازک مزاجی شعلہ جوالہ بن کر اُٹھی اور پابجولاں کر کے حضرت امامؒ قتل کے لیے لائےگئے۔ لیکن ٹھیک اُس وقت جب جلّاد کی بے رحم تلوار سر پر سر تراشتی ہوئی مقتولین کی صف میں امام شافعیؒ تک پہنچی تو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی زبر دست علمی عظمتوں اور عقل و فراست کی مجاہدانہ صلاحیتوں نے حق کا اعلان اس شان سے کیا کہ جھوٹ اور سازش کے پر خچے فضا میں اُڑتے نظر آئے اور ہارون رشید نے تڑپ کر یہ اعلان کیا تو عقیدت سے آواز کانپ رہی تھی: | 350 |
| 11 | مسلمان کی قیامت سے بے خبری
علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں:
آج کل مسائلِ اعتقادی میں جس اعتقاد سے سب سے زیادہ غفلت برتی جا رہی ہے، وہ یوم الدین اور روزِ قیامت کا مسئلہ ہے۔ قیامت سے قیامت کی غفلت ہے۔ کافر تو کافر، مسلمان تک اگر اس سے غفلت نہیں تو تغافل ضرور برت رہے ہیں۔ یعنی ایماناً تو بہرحال اس کا عقیدہ ظاہر کرتے ہیں، لیکن عملاً اس عقیدہ پر یقین ہونے کی صورت میں ان کے طرزِ عمل میں جو تبدیلی ہونی چاہئے، وہ نہیں ہے، اس لیے بطورِ نظریہ کے تو وہ مانتے ہیں، لیکن زندگی کے کاروبار اور اعمال میں اس ایمان سے اگر وہ کامل ہوتا، جس نتیجہ کی امید تھی، وہ پوری نہیں ہو رہی ہے اور سمجھتے ہیں۔
اب تو آرام سے گزرتی ہے
عاقبت کی خبر خدا جانے
حالانکہ یہ آرام ویسے ہی ہے، جیسے جانوروں کو مُزبَلَہ میں اور کیڑوں کو نجاستوں اور گندگیوں میں ملتا ہے۔
ہم ایسے رہے یہاں کہ ویسے رہے
وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے
(علمِ معاش و معاد کی صحیح حیثیت، صفحہ: ۱۹/۲۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/muniri | 399 |
| 12 | دوسرا عنصر ہے بلاغت۔ بلاغت کے لغوی معنی ہیں’پہنچنا،انتہا کو پہنچنا، یامقررہ حد تک پہنچ جانا‘۔ ادبی اصطلاح میں اس سے مراد ہے موقعے اور محل کے مطابق، سامع یا قاری کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے، بامقصد، مختصر اور مؤثر انداز میں بات کرنا۔بات کو قاری کے ذہن و قلب تک پہنچا دینا۔بلاغت کی بہترین مثالیں قرآنِ کریم کی معجزانہ آیات میںملتی ہیں۔ عربوں میں ’’قتل کے بدلے قتل‘‘ کا مقولہ رائج تھا۔ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 179میں قرآن نے ’’وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ‘‘( تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے)کے مختصر الفاظ میں وہ حقیقت بیان کردی جس پر کتابوں کی کتابیں تحریر کی جا سکتی ہیں۔ فصاحت و بلاغت کے متعلق اکبرؔالٰہ آبادی کیا خوب کہہ گئے:
سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں
اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
حاصلِ کلام یہ کہ اپنی تحریر میں اثر آفرینی کے لیے اگر آپ چار باتوں کا خیال رکھیں تو تحریر میں چار چاند لگ جائیں:
۱۔صداقت اور خلوص۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے۔یہ اثر آفرینی کی پہلی شرط ہے۔
۲۔ایجاز و اختصار۔ بات کو طویل اوراُکتا دینے والی چیزنہ بنانا۔ کم سے کم الفاظ میں اپنی پوری بات کہہ دینا۔ چھوٹے چھوٹے فقرے لکھنا۔’اطناب‘ یعنی بات کو لمبا کھینچنے یا گفتگو دراز کرنے سے بچنا۔ایسا نہ ہو کہ پڑھنے والا ضمیرؔ جعفری کی طرح اپنا سر ہی پیٹتا رہ جائے:
لکھنے والے مجھے تُو نے کیا لکھ دیا؟
خط لکھا یا خطِ استوا لکھ دیا
۳۔روانی اور تسلسل۔ تحریر میں دریا جیسی روانی ہونی چاہیے۔ جملوں کا آپس میں ایسا ربط ہو کہ قاری ایک جملہ پڑھے تو اگلا جملہ پڑھنے کے لیے بے چین ہوجائے۔پڑھنا شروع کرے تو پڑھتا ہی چلا جائے۔ روکے نہ رُک سکے۔
۴۔موقع محل کا لحاظ۔ خوشی کے موقعے پر شگفتہ اور غم پر درد انگیز اسلوب اختیار کرنا۔جلال کی جگہ جلال اور جمال کی جگہ جمال ہو۔
اگر آپ اپنے بیان یا تحریر میں اثر پیدا کرنا چاہتے ہیں، تومزید تین باتیں یاد رکھیے۔ایک یہ کہ جتنا وسیع مطالعہ ہوگا، الفاظ کا ذخیرہ بھی اتنا ہی وسیع اور پُرکشش ہوگااورجتنا اچھا مشاہدہ ہوگا تحریر اتنی ہی پُراثر ہوگی۔دوسری بات یہ کہ سادگی میں سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ پیچیدہ اور مشکل الفاظ کا زبردستی استعمال تحریر کو بوجھل بنا دیتا ہے۔مختصر جملے آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔اورتیسری بات یہ کہ لکھنے والے کو اپنی تحریر کے قاری کی نفسیات کا ادراک ہونا چاہیے۔علم ہونا چاہیے کہ وہ کس سے مخاطب ہے؟ بچوں سے، نوجوانوں سے، یا اہل علم سے؟
بہ شکریہ۔ فرائیڈے اسپیشل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 674 |
| 13 | غلطی ہائے مضامین
لکھنے والے مجھے تو نے کیا لکھ دیا؟
احمد حاطب صدیقی (ابونثر)
گفتگو کا موضوع تھا ’’اُسلوبِ بیان اور اثرآفرینی کا فن‘‘۔گفتگو کا مقام تھا ادارۂ معارفِ اسلامی، فیڈرل بی ایریا کراچی۔ اوراِس مہا بَکّو کو وہاں گفتگو کرنے کا موقع دیا تھا جناب محمودالحق صدیقی نے۔ ہوا یوں کہ گزشتہ ہفتے ادارۂ معارفِ اسلامی، کراچی نے اپنے کتب خانے کی سماعت گاہ میں اساتذہ، طلبہ اور محققین کے لیے سہ روزہ تربیتی تدریس کا اہتمام کیا۔ خطا اُن سے یہ ہوئی کہ تدریس کے آخری دن اِس کالم نگار کو بھی بطور مربی مدعو کرلیا۔ بس پھر اللہ دے اور بندہ لے۔ نشست دو گھنٹے سے زائد دورانیے پر محیط ہوگئی۔ مگر رہی بہت پُرلطف۔ سوالات ہوئے۔ جوابات دیے گئے اور اُسلوبِ بیان کی مثالیں دینے کو پُراثر اقتباسات، پُرتجسس قصے اور قہقہہ آور لطیفے سنائے گئے۔ بہرحال خوشی یہ ہوئی کہ اس ’خانقاہ‘ سے لوگ خوشی خوشی اُٹھے۔ اقبالؔ کی طرح غم ناک نہیں اُٹھ گئے کہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ۔
ساری گفتگو تو صفحے بھر میں سمیٹی نہیں جا سکتی۔ ہاں کچھ اہم نِکات ایسے ہیں جو ہمارے کالموں کے قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ چناں چہ چند ترامیم کے ساتھ اُس روزکی گفتگو کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ بس اسی ملخص کو آج کا کالم جانیے۔
صاحبو! ’بیان‘ کے بنیادی معنی ہیں کسی بات کی وضاحت، انکشاف یا کسی معاملے کو اپنے الفاظ میں پیش کرنا۔ گفتگو اور اظہار۔ قول، کلام، تقریر اورکسی بھی نکتے کو تحریری یا زبانی طور پر ’واضح کرنا‘۔ کسی موضوع یا واقعے کی تفصیل بتانا۔ ہاں، پولیس یا عدالت کے روبرو گواہوں اور مدعی کا اظہار بھی ’بیان‘ کہلاتا ہے۔ مگر اردو ادب میں ’بیان‘ سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے سے عبارت کو زیادہ فصیح اور واضح انداز میں اور مختلف طریقوں سے پیش کیا جاسکے۔ دیکھیے غالبؔ نے اپنے اشعار میں تصوف کے اسرار و رموز بیان کیے تو اس بات کو یوں پیش کیا:
یہ مسائلِ تصوف، یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
گویا بادہ خوار ہوتے ہوئے بھی چچا خود کو کسی ولی سے کم نہیں جانتے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ
اہلِ وَرَع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
پر عاصیوں کے زُمرے میں مَیں برگزیدہ ہوں
بات کو یوں بیان کرنا غالبؔ کا اُسلوب تھا۔ اُسلوب عربی الاصل لفظ ہے۔ اس کی جمع اسالیب ہے۔ لغوی معنی ہیں طریقہ، طرز، چال ڈھال اور اندازِ بیان۔ اسلوب طرزِ تحریرکو بھی کہتے ہیں۔ کسی مصنف، شاعر یا عام انسان کا بات کہنے یا لکھنے کا اپنا ڈھنگ، سلیقہ اور طور طریقہ۔ ہر ادیب کے لکھنے کا انداز یا اسلوب، اُس کے طرزِفکر اور مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلوب شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے، بلکہ یوں کہیے کہ اسلوب شخصیت ہی کا دوسرا نام ہے۔ (یہاں شرکا کو مولانا مودودی، ملا واحدی اور مختار مسعود کے اسالیب سے مثالیں دی گئیں۔)
اُسلوب پُرکشش ہو، تو بات قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ اسی کو ’اثرآفرینی‘ کہتے ہیں۔ فارسی مصدر آفریدن سے ’آفرینی‘ بنا ہے۔ آفریدن کا مطلب ہے پیدا کرنا۔ شیخ سعدیؔ کی مقبول کتاب ’’بوستان‘‘ کا آغاز ایک حمدیہ شعر سے ہوتا ہے:
بنامِ جہاں دارِ جان آفریں
حکیمے سخن بر زبان آفریں
دنیا کے مالک کے نام سے جس نے جان پیدا کی۔ وہ ایسی حکمت والا ہے کہ اس نے زبان میں بات کرنے کی طاقت پیدا کردی۔ ’اثر آفرینی‘ کا مطلب ہے متاثر کرنے کی صلاحیت۔ تاثیر پیدا کرنے کا عمل۔کسی بات، تحریر، یا کسی عمل کے ذریعے سے سامعین و ناظرین و قارئین کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑنا۔ انھیں متاثر کرنا۔ کسی شے کا اتنا پُراثر اورحسین ہونا کہ دیکھنے یا سننے والا اس کی طرف کھنچا چلا جائے۔ کسی اقدام یا کوشش کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہونا اور اپنے ہدف کو مؤثر انداز میں حاصل کرنا۔ یہ ’اثرآفرینی‘ میں شمار ہوتا ہے۔ شعر و ادب میں بھی اس ترکیب کا استعمال اسی تناظر میں ہوتا ہے۔ یعنی کلام میں ایسی معنویت و جذباتیت پیدا ہوجانا کہ پڑھنے والے کا دل چھولے۔
اسلوبِ بیان کیا ہے؟ موقعے اور محل کے مطابق موزوں ترین الفاظ کا استعمال۔ عمدہ طرزِ ادا۔ جملوں کی ساخت اور ان کا باہمی ربط۔ تشبیہات و استعارات کا استعمال۔ تحریر کو پُرکشش بنانے کے لیے علامتی انداز اختیار کرنا اور اپنے مخصوص انداز میں لکھنا یا بولنا وغیرہ۔
اُسلوب میں اثرآفرینی کے لیے متعدد عناصر سے کام لیا جاتا ہے۔مگر دو بنیادی عناصر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے پہلا عنصر ہے فصاحت۔ فصاحت کا لغوی مطلب ’ظاہر اور صاف ہونا‘ ہے۔ مگر ادب کی اصطلاح میں فصاحت سے مراد ایسی زبان، کلمہ یا کلام ہے جو بولنے اور سننے میں رواں، شستہ، اور بامحاورہ ہو، جس میں کوئی لفظ نامانوس نہ ہو، کوئی فقرہ کانوں کو ناگوار نہ گزرے۔ ہر جملہ قواعد کے مطابق ہو۔ سننے میں بھلا لگے اور زبان پر بھاری نہ پڑے، وغیرہ وغیرہ۔ | 502 |
| 14 | ’’اردو تنقید میں جن موضوعات پر ٹھوس گفتگو اور سوالات کی کمی رہی، ان میں ’منقبت‘ اور ’سلام‘ بھی سرفہرست ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ تشنگی نقدِ نعت کا مقدر بھی رہی مگر اب کئی گوشے سیراب ہوچکے ہیں۔ غلام مصطفیٰ دائم نے ’منقبت‘ اور ’سلام‘ کے مفہوم، موضوعات اور مسائل پر یوں قلم اٹھایا ہے کہ غیر اہم نکات کی تکرار سے محفوظ رہے اور کسی ضروری پہلو سے صرفِ نظر نہیں کیا۔ دائم نے جس طرح منقبت کے فکر و فن پر اثرانداز مذہبی، اخلاقی، تہذیبی، روحانی اور سماجی عوامل کا مطالعہ کیا ہے، اس کی اہمیت وقت کے ساتھ مزید واضح ہوگی اور اس کی روشنی میں جدید منقبت گوئی کے مسائل کو سمجھنا آسان ہوتا جائے گا۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ پیشِ نظر کتاب اردو کی مذہبی اصنافِ ادب، خصوصاً منقبت اور سلام کے علمی و تنقیدی مطالعے میں ایک اہم اور خوش آئند اضافہ ہے۔ اس میں تحقیق کی سنجیدگی، تنقید کا توازن، فکری وسعت اور اسلوب کی شائستگی یکجا ہوگئی ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب نہ صرف محققین، ناقدین، طلبہ اور تقدیسی ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگی بلکہ آئندہ منقبت اور سلام کی تنقیدی روایت کی تشکیل اور ارتقا میں بھی ایک معتبر اور ناگزیر حوالے کی حیثیت اختیار کرے گی۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل | 318 |
| 15 | *منقبت اور سلام: روایت، رسومیات اور جدید تناظر*
*ڈاکٹر محمد سہیل شفیق* - July 3, 2026
منقبت اور سلام: روایت، رسومیات اور جدید تناظر
مصنف : غلام مصطفیٰ دائم
صفحات : 140
قیمت: 900 روپے
ناشر : نعت ریسرچ سنٹر، کراچی
رابطہ : 03222668266
اردو ادب کی مروجہ تنقیدی روایت میں اگرچہ منقبت کو ایک مستقل صنفِ سخن کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے، تاہم اسے وہ علمی اور تنقیدی توجہ کبھی میسر نہ آسکی جس کی یہ بجا طور پر مستحق تھی۔ نعت اور مرثیے کے مقابلے میں منقبت پر تحقیقی و تنقیدی سرمایہ نہایت محدود، بلکہ بعض پہلوؤں سے ناپید محسوس ہوتا ہے۔ جو کچھ دستیاب ہے، وہ زیادہ تر تذکرہ نگاری کے روایتی سانچے میں منقبت گو شعرا کے تعارف تک محدود ہے یا پھر منتشر اور غیر منضبط مباحث پر مشتمل ہے۔ نتیجتاً اس صنف کی فکری اساس، موضوعاتی حدود، فنی تقاضوں اور جمالیاتی خصوصیات کو کسی جامع اور منہاجی تنقیدی مطالعے کا موضوع نہیں بنایا جاسکا۔
پیشِ نظر کتاب ’’منقبت اور سلام: روایت، رسومیات اور جدید تناظر‘‘ اسی علمی و تنقیدی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ، منظم اور قابلِ قدر کاوش ہے۔ جواں سال محقق اور بالغ نظر نقاد غلام مصطفیٰ دائم نے اس میں منقبت اور سلام، دونوں اصناف کا محض تعارفی جائزہ پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے فکری، فنی اور تہذیبی پس منظر کو جدید تنقیدی زاویۂ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
کتاب میں منقبت کے معنی و مفہوم، اس کے فکری تناظرات، رسومیاتِ متن سازی، فنی و موضوعاتی مسائل، جدید منقبت کے رجحانات، نیز سلام نگاری کے مفہوم، تشکیل اور ارتقائی مراحل کو تحقیقی استناد کے ساتھ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مصنف کی بنیادی کوشش یہ ہے کہ منقبت اور سلام کو محض اظہارِ عقیدت کی ادبی صورتیں قرار دینے کے بجائے انہیں ایک منظم فکری اور تہذیبی نظام کے طور پر دیکھا جائے۔ بالخصوص منقبت کی فکری حدود، موضوعاتی انسلاک، مظاہرِ عظمت کی شعری تشکیل اور تقدیس و ادب کے تقاضوں جیسے مباحث کو اصولی اور تنقیدی انداز میں واضح کرنے کی سعی اس کتاب کا نمایاں وصف ہے۔
دائم نے منقبت کے پورے تاریخی منظرنامے کا جائزہ لینے کے بعد اس کی درجِ ذیل جامع تعریف پیش کی ہے:
’’سابقہ انبیا و مرسلین، صحابۂ کرام، بالخصوص خلفائے راشدین، اہلِ بیتِ نبی ﷺ، اولیائے عظام اور مذہبی عقیدے کی بنیاد پر دیگر اسلامی ہیروز اور مذہبی شعائر کی مدح میں منظوم کلام کہنا، جو کسی مخصوص صنفی ہیئت کا پابند نہ ہو، منقبت کہلاتا ہے۔‘‘
اس تعریف کی توضیح و توجیہ کتاب میں دلائل کے ساتھ پیش کی گئی ہے، جس سے مصنف کے استدلال اور موضوع پر گہری گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔
جدید تقدیسی شاعری کے مطالعے میں مصنف نے اس اہم سوال پر بھی غور کیا ہے کہ معاصر تقدیسی شاعری اپنی مطلوبہ تاثیر سے کیوں محروم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک جدید تقدیسی شاعری کو عقیدے کے ناقابلِ فہم اور پراسرار پہلوؤں کی محض ’’بے عکس پرچھائیں‘‘ کی تجسیم نہیں بننا چاہیے، بلکہ اس میں فکری صداقت، جمالیاتی حسن اور روحانی تاثیر کا ایسا امتزاج ہونا چاہیے جو قاری کے قلب و ذہن دونوں کو متاثر کرسکے۔
اسی طرح سلام گوئی کے حوالے سے دائم نے واضح کیا ہے کہ:
’’سلام محض تحیت ہی نہیں بلکہ وہ صنفِ شعر ہے جو اسلامی تاریخ کے معرکہ ہائے حق و باطل میں اصابتِ حق کے جملہ مظاہر، خواہ وہ حضراتِ صحابۂ کرام ہوں یا اہلِ بیت، یا قرونِ اولیٰ کے دیگر مجاہدینِ حق کو اپنا فکری سرچشمہ بناتے ہوئے ہمہ گیر اقداری شعور کا اظہاریہ بنے۔‘‘
مصنف نے اس باریک نکتے پر بھی بصیرت افروز گفتگو کی ہے کہ سلام گوئی کس طرح رثائی ادب سے امتیاز حاصل کرتی ہے اور اپنی مستقل صنفی شناخت قائم کرتی ہے۔ شعری تنقید میں واقعۂ کربلا کے کرداروں کی تہذیبی معنویت پر غزل اور نظم کے حوالے سے اگرچہ متعدد ناقدین نے اظہارِ خیال کیا ہے، لیکن سلام گوئی کے تناظر میں اس نوعیت کا منظم تنقیدی محاکمہ نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے۔ دائم نے اس خلا کو پُر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔
فاضل مصنف نے قدیم و جدید تنقیدی مباحث سے استفادہ کرتے ہوئے منقبت کی رسومیات، شعری ساخت اور فنی جہات کا متوازن تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کا اسلوب علمی سنجیدگی، استدلال، اعتدال اور تحقیقی دیانت کا آئینہ دار ہے، جبکہ حوالہ جاتی استناد اور موضوع پر مضبوط گرفت کتاب کی علمی وقعت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تصنیف محض ایک تعارفی مطالعہ نہیں بلکہ آئندہ تحقیقی کاوشوں کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ممتاز نعت گو شاعر، محقق اور نقاد سید صبیح رحمانی نے بجا طور پر کتاب کی اہمیت کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھا ہے: | 351 |
| 16 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 04*
1902ء سوامی وی ویکانند۔ آریہ سماجی لیڈر
1961ء عبدالغفار شاہ راشدی، سید۔ حکیم پیر
1972ء عبد الواحد آدم جی۔
1974ء خستہ دہلوی (ایس ایس فالس)۔ شاعر
1974ء سید اصغر علی غافل۔ ،
1974ء محمد اسماعیل سنبھلی۔
1974ء محمد امین الحسینی۔ مفتی فلسطین
1981ء مرغوب احمد۔ ،
1982ء رکن عالم صدیقی۔ ،
1991ء محمد یوسف۔ مولانا ، امیر جماعت اسلامی ہند
1994ء حنیف سولجر، محمد۔ ،
1996ء محمود سروش۔ شاعر، ادیب
1998ء زہیرا کرم ندیم۔ ،
2000ء الن فقیر (علی فقیر)۔
2011ء عمر درا ز ساجد۔ ،
2015ء عبد اللہ حسین۔
2018ء حافظ محمد طیب۔ مولانا
2020ء امان اللہ قاسمی۔ مولانا
2025ء شکیل فاروقی۔ صحافی، بروڈکاسٹر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 287 |
| 17 | آج مورخہ: 4/ جولائی مولانا محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ سابق امیر جماعت اسلامی ہند کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 1991ء میں ہوئی تھی۔ آپ نے بڑے کٹھن وقت میں جماعت کی امارت سنبھالی تھی،آپ نے ایمرجنسی کی پوری مدت جیل میں گذاری، آپ بہت ہی پاک وصاف زندگی کے مالک تھے، ان شاء اللہ فرصت ملنے پر مولانا کے مشاہدات پر کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا، 1982ء میں اس ناچیز نے مولانائے مرحوم سے گذارش کی تھی کہ مولانا مودودیؒ کی تقریر تحریک اسلامی کے انتیس سال کی تکمیل کرتے ہوئے ہندوستان کی جماعت کی تاریخ پر مبنی ایک تقریر ریکارڈ کروائیں، جسے منظور کرتے ہوئے آپ نے ایک تقریر کی تھی، جس کا ایک حصہ پیش خدمت ہے، اس کے علاوہ ہم نے مولانا ابو الکلام یوسف سابق جنرل سکریٹری جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے بھی ایک تقریر ریکارڈ کروائی تھی، افسوس کے جماعت کے حلقہ نے اس نادر ریکارڈ کی قدر نہیں کی اور وہ ضائع ہوگئی۔
https://youtu.be/flw2OkBdDlg?si=kpP-F1sNwMzPV81R | 329 |
| 18 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 04*
1902ء سوامی وی ویکانند۔ آریہ سماجی لیڈر
1961ء عبدالغفار شاہ راشدی، سید۔ حکیم پیر
1972ء عبد الواحد آدم جی۔
1974ء خستہ دہلوی (ایس ایس فالس)۔ شاعر
1974ء سید اصغر علی غافل۔ ،
1974ء محمد اسماعیل سنبھلی۔
1974ء محمد امین الحسینی۔ مفتی فلسطین
1981ء مرغوب احمد۔ ،
1982ء رکن عالم صدیقی۔ ،
1991ء محمد یوسف۔ مولانا ، امیر جماعت اسلامی ہند
1994ء حنیف سولجر، محمد۔ ،
1996ء محمود سروش۔ شاعر، ادیب
1998ء زہیرا کرم ندیم۔ ،
2000ء الن فقیر (علی فقیر)۔
2011ء عمر درا ز ساجد۔ ،
2015ء عبد اللہ حسین۔
2018ء حافظ محمد طیب۔ مولانا
2020ء امان اللہ قاسمی۔ مولانا
2025ء شکیل فاروقی۔ صحافی، بروڈکاسٹر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 324 |
| 19 | *وفیات مورخہ:جولائی/ 04*
1902ء سوامی وی ویکانند۔ آریہ سماجی لیڈر
1961ء عبدالغفار شاہ راشدی، سید۔ حکیم پیر
1972ء عبد الواحد آدم جی۔
1974ء خستہ دہلوی (ایس ایس فالس)۔ شاعر
1974ء سید اصغر علی غافل۔ ،
1974ء محمد اسماعیل سنبھلی۔
1974ء محمد امین الحسینی۔ مفتی فلسطین
1981ء مرغوب احمد۔ ،
1982ء رکن عالم صدیقی۔ ،
1991ء محمد یوسف۔ مولانا ، امیر جماعت اسلامی ہند
1994ء حنیف سولجر، محمد۔ ،
1996ء محمود سروش۔ شاعر، ادیب
1998ء زہیرا کرم ندیم۔ ،
2000ء الن فقیر (علی فقیر)۔
2011ء عمر درا ز ساجد۔ ،
2015ء عبد اللہ حسین۔
2018ء حافظ محمد طیب۔ مولانا
2020ء امان اللہ قاسمی۔ مولانا
2025ء شکیل فاروقی۔ صحافی، بروڈکاسٹر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B | 344 |
| 20 | بھٹکلیس یوٹیوب چینل کی پیشکش
اسباب عروج و زوال
(01)
ویڈیو بیان: مولانا سید سلیمان حسینی ندویؒ
آج سے اڑتیس سال قبل مورخہ 31-12-1988ء اہل بھٹکل کی ایک نادر تقریر کا پہلا حصہ
لنک
https://www.youtube.com/watch?v=oHjTDGl82Rc&t=128s
مزید تقاریر کے لئے ویزٹ کریں یوٹیوب چینل
Bhatkallys | 337 |
