uz
Feedback

Firibgarlarga uchmang! Telemetrio bunday kanallarni topadi va belgilaydi 👉 Belgini ko‘rmoqchi bo‘lsangiz, obuna bo‘ling

علم و کتاب

علم و کتاب

Kanalga Telegram’da o‘tish

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Ko'proq ko'rsatish
7 967
Obunachilar
-524 soatlar
-277 kun
-9730 kun
Postlar arxiv
جدوجہدِ اعمال اور اخلاص کی تکمیل شیخ الاسلام حضرت الاقدس مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللّٰه علیہ نے ارشاد فرمایا: انسان کے اعمال میں نقائص کا ہونا فطری امر ہے، مگر انسان کا فرض یہ ہے کہ نقائص کے ازالہ میں کوشاں رہے اور "اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن" ہر نماز میں اخلاص سے کہتا رہے۔ جناب رسول اللّٰه ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: (دعا میں) "مَا عَرَفْنٰکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ وَمَا عَبَدْنٰکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ". (او کما قال) غرض کہ اپنی طرف سے جدوجہدِ اعمال کی تتمیم و اخلاص کی تکمیل ہمیشہ جاری رہنی چاہیے اور بارگاہِ خداوندی میں اقرار بالتقصیر کے ساتھ جو کہ واقعی امر ہے، معافی کی درخواست ہمیشہ جاری رہنی چاہیے اور قبولیت کی امید رکھتے ہوئے ہر وقت خائف عن غضبِہ تعالیٰ بھی رہنا ضروری ہے۔ "اَلْإِیْمَانُ بَیْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ". (مکتوبات شیخ الاسلام، جلد دوم، صفحہ: ۲۵۴/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی) https://t.me/ilmokitab

فخر المحدثین کا امتحان کسی نے کہا کہ بنگال کی طرف فخرالمحدثین کا ایک امتحان مولوی فاضل کی طرح نکلا ہے۔ فرمایا: انہیں پڑھاتا کون ہوگا؟ کچھ دن رہ کر ف گرجائے گی۔ (ملفوظات حکیم الامت، جلد: ٢٦، صفحہ: ٣٢٨) https://t.me/ilmokitab

سینیٹر عبد الرحمن السید نماز جمعہ کی امامت کرتے ہوئے، ایک تصحیح: موصوف چار مرتبہ نجی دورہ پر بھٹکل تشریف لاچکے ہیں

[11/6, 5:57 PM] Abdul Mateen Muniri: https://www.youtube.com/live/EJFzD-m5hqA?si=Gck50LgymknVAKu- [11/6, 5:57 PM] Abdul Mateen Muniri: *سینیٹر عبد الرحمن السید نماز جمعہ کی امامت کرتے ہوئے*، *ایک تصحیح*: *موصوف چار مرتبہ نجی دورہ پر بھٹکل تشریف لاچکے ہیں*

پاتے جو بچپن سے ان کی زبان پر چڑھ گیا ہے۔پس اے صاحبو! خود کو بدلنے کا مرحلہ بہت مشکل مرحلہہے۔ یہ کام بڑے بڑوں سے نہیں ہو پاتا۔ بلکہ بڑوں پر تو اقبالؔ بھی کُڑھا کرتے تھے کہ خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق یہ شعر’ضربِ کلیم‘ میں ہے۔مگر اسی خیال کو اقبالؔ نے ’بال جبریل‘ میں بھی پیش کیا ہے۔بس الفاظ مختلف ہیں : احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند یہ ’پاژند‘ کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔زرتشت کی کتاب ”اوستا“ کی ”ژند“ زبان جب ناقابلِ فہم اور متروک ہوگئی، بلکہ بقولِ البیرونی اس کے پڑھنے سے طبیعت گھبرانے لگی، تو اس کے مفسرین نے ”پاژند“ نامی زبان میں ایک نئی کتاب تصنیف کر لی۔خود بدلنے کے بجائے کتاب ہی بدل ڈالی۔ یہی کام قرآن سے قبل نازل ہونے والی آسمانی کتابوں کے ساتھ بھی ہوا۔ہم پڑھیں تو پتا چلے نا۔ لو صاحبو! پڑھنے سے بات شروع ہوئی تھی پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی۔کہنے کی بات یہ تھی کہ اُردو میں لکھنے والوں کو اور اُردو میں نشریات پیش کرنے والوں کو اپنی تضحیک سے بچنے کے لیے اُردو کی معیاری کتابوں کو ضرور پڑھ لینا چاہیے۔وہ لوگ جو یہ کہتے اور لکھتے ہیں کہ اُردو علمی زبان نہیں ہے، اُنھیں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے۔ اُردو کے ذخیرۂ علوم سے استفادہ کرنا چاہیے۔ جن لوگوں کا قلم اور جن کی زبان یہ کہتے نہیں تھکتی کہ اُردو میں سائنسی علوم کی تعلیم نہیں دی جاسکتی، اُن کی اِس بات سے اُردو کی کمی یا کوتاہی کی نہیں ، خود اُن کی علمی کمی کوتاہی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اُن لوگوں کو اُردو کی سائنسی کتب پڑھنے کی شدید ضرورت ہے۔ دیکھیے، کیسی پتے کی بات جون ایلیا کہہ گئے تھے: ”بہت سے لوگ جنھیں پڑھنا چاہیے تھا، وہ لکھ رہے ہیں “۔ ٭٭

*غلطی ہائے مضامین* *وہ لکھ رہے ہیں* *احمد حاطب صدیقی (ابونثر)* کہنے والے کہا کیے کہ” لکھنے والو پڑھا کرو“۔پَر لکھنے والے لکھا کیے اورلکھ لکھ کر اپنے پڑھنے والوں پر ہنسا کیے کہ” پڑھنے کی ایسی تیسی‘۔بے پڑھے لکھنے والے لکھاریوں کی ایسی ایسی تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ اُن پر تو اب کُڑھنے کا بھی جی نہیں چاہتا۔یہ زمانہ برقی ذرائع ابلاغ کا زمانہ ہے۔ ہر شے کا ابلاغ برق رفتاری سے ہو رہا ہے۔ علم کا بھی، لاعلمی کا بھی۔ ’تیار مال‘مل جائے توپڑھنے میں کون سر کھپائے؟ وہاں سے نقل کرو، یہاں چسپاں کر دو۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔تحقیق ہو گئی۔محقق کی سند مل گئی۔ لوگ ’ڈاک ساب، ڈاک ساب‘ کہہ کر پُکارنے لگے۔’ڈاک ساب‘ خوش ہو ہو کر دُم ہلانے لگے۔ لکھنے والے یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جو جی میں آئے لکھ دیجے، قاری دُم ہلاتا ہوا پڑھنے آجائے گا۔مگر صحیح سمجھے تو نصیر پروازؔ سمجھے کہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا، سارے لکھنے والے تھے ہر اُجلے کاغذ پر کتنے دھبے کالے کالے تھے اب سے کئی برس پہلے کا قصہ ہے۔ سعودی عرب سے ہمارے مربی سید شہاب الدین نے پاکستان کے ایک وقیع اُردو اخبار کے ایک اداریے کا تراشہ بھیجا۔ تراشے کے ساتھ ہی اپنا دل بھی تراش کر بھیج دیا۔ فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ یہ آج کے اخبار کا اداریہ ہے۔ اس میں ایک شعر علامہ اقبالؔ سے منسوب کیا گیا ہے،جب کہ یہ شعر اقبالؔ کا نہیں ، مولانا ظفرؔ علی خان کا ہے۔شعر کے دوسرے مصرعے میں غلطی بھی ہے۔مصرعے کی غلطی برداشت بھی کر لی جائے تو شعر کے شاعر کا نام غلط لکھنا کیسے برداشت کیا جائے؟سماجی ذرائع ابلاغ پر تو اقبالؔ کے نام سے نہ جانے کیا کیا الا بلا پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر ایک مؤقر قومی روزنامے سے اس جہل کا صدور ناقابلِ معافی ہے“۔ ہوگاناقابل معافی مگرہمیں یقین ہے صاحب! کہ اداریہ نگارنے بڑی فراخ دلی سے اپنے آپ کو معاف کر دیا ہوگا۔شعر یہ تھا: خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا اکثر لکھنے والے اس شعر کو لاوارث جان کراس پر ترس کھاتے ہوئے اِسے کبھی مولاناحالیؔ سے منسوب کردیتے ہیں ، کبھی علامہ اقبالؔ سے۔ حالاں کہ یہ شعر مولانا ظفرؔ علی خان کے شعری مجموعے ”بہارستان“ میں شامل ہے۔ مولانا کا یہ مجموعہ1937ء میں شائع ہوا تھا،جب اقبال ؔابھی بقیدِ حیات تھے۔ اس شعر کامرکزی خیال قرآنِ مجید کی ایک آیت سے ماخوذ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑے بڑے علما فضلا اس آیت کو قوم کی حالت میں مثبت تبدیلی لانے کی شرط کے طور پرپیش کرتے ہیں ۔ اس آیت کا حوالہ دے کر عموماًیہی کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی قوم اپنی خراب حالی کو خود نہ بدلناچاہے تو اللہ بھی اس قوم کی بُری حالت کو نہیں بدلتا۔ جب کہ قرآنِ حکیم میں اس کا سیاق و سباق مختلف ہے۔ وہاں ’خود کردہ‘ کو قومی خوش حالی کے بدحالی میں تبدیل ہوجانے کا سبب بتایا گیا ہے۔یعنی اللہ کسی قوم کے اچھے حالات اُس وقت تک برباد نہیں کرتا جب تک وہ قوم بحیثیتِ مجموعی خود ہی اپنی بربادیوں پر نہ تُل جائے۔ اس آیت سے قبل کی آیات میں ’ فرعونیوں ‘ کو عذابِ الٰہی اور بربادی میں مبتلا کرنے کا ذکرکرنے کے بعدارشاد ِ باری تعالیٰ ہوا کہ ”ایسا اس وجہ سے ہوا کہ اللہ کسی قوم کو جو نعمت دیتا ہے اُسے اُس وقت تک نہیں بدلتا (یعنی اُس قوم سے نہیں چھینتا) جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدل ڈالے“۔( سورۃ الانفال ، آیت: ۵۳) اسی طرح سورۃ الرعد کی آیت نمبر ۱۱ میں ارشاد ہوا: ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کونہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش نہ بدل دے۔پھر اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تووہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی۔ نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گارہو سکتا ہے“۔ خیر، یہ تو سیاق و سباق نہ جاننے کے (اور جاننے کے لیے نہ پڑھنے) کی وجہ سے کی جانے والی’ غلطی ہائے مضامین‘ کا ذکر تھا۔ورنہ حقیقت یہی ہے کہ برے حالات کو بدلنے کے لییمثبت تبدیلی بھی اُس وقت تک رُونما نہیں ہوتی جب تک کوئی قوم خود اپنے اندر مثبت تبدیلیاں نہ لے آئے۔ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 96 میں ارشاد ہوا:”اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اورتقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“۔ گویا رزق کی فراوانی ہو جاتی۔ بد حالی کی جگہ خوش حالی آجاتی۔مگرایمان لانااتنا آسان نہیں ۔دیکھیے، ہم من حیث القوم تو سُود کے حرام ہونے پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ،مگر جس طرح خنزیر کا گوشت کھانے سے بچتے ہیں ، اُسی طرح سُود کھانے سے بچنے کو تیار نہیں ہوتے۔ بلکہ سُود سے بچنے کو ناممکن بتاتے ہیں ۔ سُود نہ کھائیں تو IMF کی حکم عدولی ہوگی اوربہت بڑا پاپ ہو جائے گا۔ بس اسی وجہ سے تقویٰ کی روش اختیار نہیں کرتے۔بے شک بدحالی میں مبتلا رہنا پڑے۔سو، اپنے مفروضات،اپنے رویوں اور اپنی رَوِش میں تبدیلی لانا کوئی آسان کام نہیں ۔ ارے بھئی، لوگ تو کسی لفظ کے اُس غلط تلفظ کو بھی تبدیل نہیں کر

*وفیات مورخہ:نومبر /06* 1445ء  شہاب الدین دولت آبادی۔  قاضی 1966ء  وحید قریشی۔  کہانی نویس 1975ء  شیوا بریلوی (صابر حسن)۔   ، 1977ء  محمد یٰسین علی خان ملیح آبادی۔   ، 1981ء  میاں عبد الرشید۔  چیف جسٹس پاکستان 1997ء  عبد العزیز محمد الغماری۔  مراکشی محدث 2006ء  عتیق احمد۔  پروفیسر ، 2008ء  محمود عبد اللہ ہارون۔  بانی ڈان کراچی   Https://telegram.me/ilmokitab

*وفیات مورخہ:نومبر /05* 1615ء  ملا عبد القادر بدایونی۔  مورخ 1851ء  جان محمد لاہوری۔  خطیب لاہور 1915ء  فیرز شاہ مہتہ۔  پارسی وکیل، کانگریسی رہنما 1965ء  طاہر سیف الدین۔  سیدنا، ملا، بوہرہ داعی مطلق 1977ء  اکبر علی سہارنپوری۔  مولانا، مترجم اظہار الحق 1982ء  شباب کیرانوی۔  ہدایت کار، نغمہ نگار 2001ء  خورشید احمد فارق۔  ڈاکٹر، پروفیسر عربی و اسلامیات 2001ء  عدیم ہاشمی۔  شاعر 2001ء  ہر چرن داس چاولہ۔  افسانہ نگار 2002ء  مشتاق قادری عطاری۔  سنی دعوت اسلامی 2008ء  بی آر چوپڑہ۔  فیلم ڈائرکٹر 2009ء  قیوم راہی (عبدالقیوم خان)۔  افسانہ نگار 2012ء  سکندر صنم (محمد سکندر)۔  ٹی وی اداکارہ 2017ء  منیر احمد نقشبندی۔  قاری 2021ء  خواجہ محمد شریف۔  جسٹس   Https://telegram.me/ilmokitab

*امریکی سینیٹر عبد الرحمن السید کی سسرال* مصری نژاد داماد عبد الرحمن السید کی امریکی سینیٹ کے انتخاب میں کامیابی ہم مسلمانوں کے لئے بڑا نیک فال ہے، عبد الرحمن السید بھٹکل کے داماد ہیں، یہ اور بات ہے کہ انہوں نے ابھی تک بھٹکل دیکھا نہیں ہے۔ لہذا ہماری ان سے واقفیت میڈیا کی حد تک ہے، لیکن ان کے سسر ڈاکٹر محمد طیب جوکاکو صاحب سے ہماری شناسائی چالیس سال سے ہے، جب آپ اپنے پیشے کے مطابق ملازمت کے لئے امارات آئے تھے، موصوف گردوں کے بڑے ماہر ڈاکٹر ہیں، امارات میں آپ نے محسوس کیا کہ یہاں تنخواہ تو بڑی ملے گی، لیکن انہیں اپنے فن میں آگے بڑھنے کے موقع نہیں ملیں گے، لہذا انہوں نے امریکہ جانا مناسب سمجھا جہاں ان کے ایک عزیز بڑے کاروبار سے وابستہ تھے، اور ملازمت کی تلاش میں بھٹکلی افراد کا امریکہ جانا شروع ہورہا تھا۔ ڈاکٹر محمد طیب کے والد شمس الدین جوکاکو مرحوم کا شمار بھٹکل کے نمایاں رہنمائے قوم اور سیاست دانوں میں ہوتا ہے، تقسیم ہند سے قبل ۱۹۴۵ء کے آخری الیکشن میں آپ بھٹکل حلقہ سے بمبئی اسمبلی کے لئے چنے گئے تھے، آزادی کے بعد وزیر اعلی بی ڈی جٹی کے زمانے میں ڈپٹی منسٹر برائے الکٹرک بنے، بھٹکل میں الکٹرک آپ کے دور میں داخل ہوئی، ساتھ ہی میٹھے پانی کا ڈیم بھی بنا۔ آپ جماعت المسلمین بھٹکل اور انجمن حامی مسلمین بھٹکل میں ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کرتے رہے۔ آپ بہت دیندار اور سادہ طبیعت کے مالک تھے، کرناٹک اسمبلی میں دوران سیشن نماز پڑھنے کی روایت آپ ہی نے قائم کی تھی۔ آپ کی وفات ۱۹۶۴ء میں ہوئی تھی۔ ان کی اولاد میں اپنے والد ماجد کی سادگی اور دینداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ آپ کے بڑے فرزند عبد الرحیم جوکاکو مرحوم سے چالیس سال تک ہماری رفاقت رہی، وہ بھی اپنے والد ماجد کی طرح قومی زندگی میں فعال رہے، انجمن حامی مسلمین کے صدر رہے، ان کی دختر رشید خاتون ، انجمن اسکول کی ہیڈ مسٹرس رہیں، جن کے ہاتھوں پر سینکڑوں ہزاروں بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہوں، آپ کے بیٹے ڈاکٹر محمد طیب جوکاکو چالیس سال سے امریکہ میں مقیم ہیں، اور دینی اور اجتماعی میداں میں بڑی قربانیاں دے رہے ہیں، سننے میں آیا ہے کہ گھنٹے دو گھنٹے سفر کرکے پابندی سے مسجد جاتے ہیں، مسجد کھولتے ہیں امامت اور خطابت بھی کبھی خود کرتے ہیں، اور وہاں کے مسلمانوں کو اجتماعیت سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ان کے داماد کو انتخابی سیاست میں جس طرح نشانہ بنایا گیا اس سے پہلے شاید ہی کسی کو بنایا گیا ہو۔ سنا ہے کہ انہیں الیکشن سے قبل ہی بھٹکل سے جوڑ دیا گیا تھا، اور ان سے وہ وہ باتیں منسوب کی گئی تھیں کہ جو شاید انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچی تھی۔ لیکن ﴿وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (الأنفال: 30) عبد المتین منیری۔ بھٹکل 2026-11-05

+1
داستان جاری ہے۔ ابو الحسن نغمی قسط (06+07)

صدیقی کا بڑا حصہ تھا ۔ وہ بے حد سادہ منکسرالمزاج اور متواضع انسان تھے۔ ان کے مہمان خانے میں ہندوستان بھر کے لوگ نظر آتے تھے جن کو وہ کھانا بھی کھلاتے تھے اور ان کاکام بھی کرتے تھے۔ ان کے بچپن کے ساتھی عزیز الحسن صدیقی کہتے ہیں کہ ”میں نے اپنی زندگی میں بس ایک ہی شخص سے دوستی کی تھی اور وہ تھے ہاشمی صاحب۔ ان کے جیسا ساتھی اور دوست نہیں ہوسکتا۔“ مولانا ہاشمی کے دیگر دوستوں اور قدر دانوں میں جناب چندر جیت یادو، بوہرہ فرقہ کے مذہبی پیشوا سید برہان الدین، بمبئی کی اہم سیاسی شخصیت جناب اے اے خان وغیرہ کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔ جبکہ دہلی میں ان کے ہمہ وقت معاونین میں سابق میونسپل کونسلر سید حامد حسین خضر، صاحبزادے خالد ہاشمی، زاہد ہاشمی کے علاوہ محمد جیلانی اور مولانا مختاراحمد قابل ذکرہیں۔ مولانا کی وفات 4نومبر 2001ء کو دہلی میں ہوئی اورانہیں یہیں سپرد خا کیاگیا۔

انہوں نے کبھی اپنی ملی اور دینی حیثیت کو سیاسی گلیاروں میں گم نہیں کیا بلکہ وہاں بھی اپنا وقار بنائے رکھا۔ وہ 12 سال مسلسل راجیہ سبھا کے ممبر رہے اور اپنی اسی آن بان اور قلندرانہ شان کے ساتھ ایوان میں آتے اور مسائل پر پوری بے باکی اور خود اعتمادی کے ساتھ بولتے تھے۔ سینکڑوں پارلیمانی تقریریں اس کی گواہ ہیں۔ مولانا سید احمد ہاشمی کے آباواجداد کا وطن غازی پور تھا۔ ان کے والد حافظ محمد شفیع نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تعلیم حاصل کی تھی اور وہ علامہ سید سلیمان ندوی کے ہم عصر اور ساتھی تھے۔ ان کا زیادہ تر قیام کلکتہ میں رہا کرتا تھا اور وہی ان کا میدان عمل بھی تھا۔ کلکتہ میں وہ ایک قومی رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ جیل کی سزا بھی کاٹ چکے تھے۔ خلافت اور دوسری تحریکوں سے وابستہ تھے۔ مولانا سید احمدہاشمی 18/جنوری 1932 کو غاز ی پور میں پیدا ہوئے اور ابھی گود میں تھے کہ والدین کے سایہ سے محروم ہوگئے۔ ان کی پرورش اور تربیت کے لئے بڑے بھائی حافظ سید محمدہاشمی اور ان کی اہلیہ رہ گئی تھیں۔ ہاشمی صاحب جب ذرابڑے ہوگئے تو ابتدائی تعلیم کے لئے ان کو غازی پور کی مشہور دینی درس گاہ مدرسہ دینیہ میں داخل کیاگیا جہاں انہوں نے عربی کی پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد بڑے بھائی کلکتہ لے گئے اور مدرسہ عالیہ میں داخل کردیا جہاں سے انہوں نے ”ممتاز المحدثی“ کی ڈگری حاصل کی پھر دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کی تکمیل کی اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے قریب ہوئے۔ دیوبند سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ تک دہلی میں رہے اور پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات دیئے۔ دہلی کے زمانہ قیام میں مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کے قریب آئے، مولانا حفظ الرحمن اسلاف کی طرح مردم سازی کا گر بھی جانتے تھے، جمعیۃ علماء کے دفتر میں برابر آنا جانا تھا۔ مولانا کی صحبت ومعیت سونے پرسہاگہ کاکام کررہی تھی۔ مولانا ہاشمی کی اٹھان چونکہ غازی پور کے مدرسہ دینیہ میں ہوئی تھی۔ یہ مدرسہ بھی شیخ الاسلام کی فکر کا حامل اور آزادی کی چھاؤنی تھا اس لئے غازی پور سے دہلی تک انہیں یکساں ماحول سے سابقہ پڑا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد بڑے بھائی حافظ سید محمد صاحب جو باپ کا بھی رول ادا کررہے تھے، یہ چاہتے تھے کہ ان کا بھائی تجارت کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک وملت کی جوخدمت ممکن ہوکرے۔ چنانچہ کلکتہ میں ایک دکان لے لی گئی مگر ابھی کاروبار شروع نہیں ہوا تھا کہ1964 میں کلکتہ کا ہولناک فساد شروع ہوگیا۔ ہاشمی صاحب ان دنوں جمعیۃ علماء مغربی بنگال کے جنرل سکریٹری تھے۔ وہ فرقہ واریت کی سلگتی آگ میں کود پڑے، کلکتہ بری طرح لٹ چکا تھا اور پورا صوبہ تباہ حال تھا۔ ہاشمی صاحب نے بڑی جی داری سے حالات کا مقابلہ کیا اور لوگوں کی زبانوں پر بے اختیار ”مجاہد ملت ثانی“ کے الفاظ آنے لگے۔ کلکتہ سے ہی مولانا ہاشمی نے ہفتہ وار اخبار ”ارمغان“ اور ”سچ بات“ جاری کیا۔ بعد کو حکومت مغربی بنگال نے ”ارمغان“ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا اور اس کا ٹائٹل ضبط کرلیاگیا۔ ان کی تحریروں کو پڑھنے والے کہتے ہیں کہ اگر وہ صحافت کی دنیا آباد کرتے تو بہت کامیاب صحافی ہوتے۔ 1965 میں جمعیۃ علما ہند نے دہلی میں مسلم کنونشن کرنے کا فیصلہ کیا اور ہاشمی صاحب اس کنونشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے دہلی آگئے۔ یہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور دہلی ان کا گھر بنتا گیا۔ وہ دہلی بسنے کے لئے نہیں آئے تھے ان کا وطن غازی پور تھا۔ جہاں ان کے اعزاء تھے، بھرا پُرا خاندان تھا مگر دہلی نے ان کے قدم تھام لئے۔ الجمعیۃ کے جنرل منیجر بنائے گئے۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی کا منصب جلیل سونپا گیا اور حق یہ ہے کہ انہوں نے اس کا حق ادا کردیا۔ 1977 میں انہیں دہلی وقف بورڈ کا چیئرمین بنایاگیا۔ وہ 1974 سے 1986 تک دوبار راجیہ سبھا کے ممبر بنے۔ پہلی بار انہیں کانگریس اور دوسری بار چرن سنگھ کی پارٹی لوک دل نے رکن پارلیمنٹ بنایا اور اس عہدے پر رہ کر بھی انہوں نے ملک وملت کی بے لوث خدمات انجام دیں۔ وہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے بانی ارکان میں سے تھے اور آخری وقت تک اس سے وابستہ رہے۔ 1985ء میں بستی اور 1991 ء میں غازی پور سے لوک سبھا سیٹ کے لئے وہ کانگریس کے امیدوار ہوئے اور بہت معمولی ووٹوں سے ہارے۔ سابق مرکزی وزیر سی کے جعفر شریف جب ریلوے کے وزیر بنے تو مولانا ہاشمی کو مسافروں کی سہولتوں سے متعلق کمیٹی (PAC) کا ممبر اور پھر چیئرمین بنایاگیا۔ انہوں نے متعدد پارلیمانی وفود کے ساتھ غیرملکی دورے بھی کئے جن میں روس، چیکو سلواکیہ، یوگوسلاویہ، سعودی عرب اور کویت وغیرہ شامل ہیں۔ بڑے بڑے عہدوں پر رہے مگر شان وہی قلندران رہی۔ توکل، استغنا اور بے نیازی اور ایفائے عہد ان کی اعلیٰ صفات تھیں۔ سیاست کو انہوں نے طلب زر اور حصول منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کی شخصیت اور کردار سازی میں ان کے اساتذہ بانیان مدرسہ دینیہ مولانا عمر فاروق اور مولانا ابوالحسن

مولانا سید احمد ہاشمی کی یاد میں معصوم مرادآبادی آج نامور ملی وقومی رہنما اورصحافی مولانا سیداحمدہاشمی کا یوم وفات ہے۔ انھوں 4 نومبر 2001 کو دہلی میں وفات پائی۔مولانا سید احمد ہاشمی جنھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پرانی دہلی کی ایک گنجان آبادی کے تنگ مکان میں گزارا اور ممبر پارلیمنٹ بن جانے کے باوجود سرکاری مراعات تک نہ لیں، ہمارے قائدین کی اس صف کے آخری لوگوں میں تھے جنہوں نے ملک کی آزادی اور پھر تقسیم وطن کے بعد نہایت سخت حالات میں کام کیا۔ انہوں نے اپنے اکابرسے باعزت اور باوقا زندگی جینے کا جو ہنر سیکھا تھا، وہ آخری دم تک اس پر کاربند رہے۔ان کے پاس جب بھی کوئی مسائل زدہ شخص آتا تو بیماری نقاہت اور کمزوری کے باوجود اٹھ کھڑے ہوتے اور اس کے ساتھ جانے کی ہمت تک باندھ لیتے تھے۔ فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا اقلیتوں کے حقوق کی پامالی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا مسئلہ ہو یا بابری مسجد تحریک، ہر میدان میں مولانا ہاشمی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ موجود نظر آتے ہیں۔ نامساعد حالات میں کام کرنے اور ہر مصیبت کے وقت میدان عمل میں کود پڑنے کا ان میں جو حوصلہ تھا وہ ان کے ہم عصر قائدین میں کم ہی نظر آتا ہے۔ راقم الحروف نے مولانا ہاشمی کے ساتھ کئی فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ وہ کسی بھی فساد کے بعد وہاں پہنچ کر مظلوموں کی دادرسی کرنے والے اولین قائدین میں ہوتے تھے اور کسی بھی خطرے کی پروا کئے بغیر کرفیوزدہ علاقوں میں جانے سے گریز نہیں کرتے تھے۔فساد زدگان کی داد رسی، زخمیوں کی عیادت، ریلیف کی تقسیم سے لے کر پولیس اور انتظامی افسران کی نااہلی اور جانبداری کے خلاف ان سے سیدھے بازپرس کرنا اور پھر دہلی آکرصاحبان اقتدار تک حالات پہنچانا، مظلوموں کو انصاف اور ظالموں کو سزا دلوانے تک وہ چین سے نہ بیٹھتے تھے۔ انہوں نے کسی واقعہ یا سانحہ پر ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بیان دینے اور اسے باتصویر چھپوانے جیسے آسان راستے کو ترجیح نہیں دی، نہ ہی سمیناروں، کانفرنسوں اور جلسوں میں دھواں دھار تقریریں کرکے کام تمام کردینے کا طریقہ اپنایا بلکہ ہر موقع پر خود پہنچنا اور حالات کی براہ راست جانکاری حاصل کرنا ان کاطریقہ تھا۔ آسام، بھیونڈی، ناگپور، بھاگلپور، کلکتہ، میرٹھ، مرادآباد، علی گڑھ وہ کون سا فساد زدہ شہر تھا جہاں مولانا ہاشمی نہ پہنچے ہوں۔ مولانا ہاشمی حالات پر بہت گہری نظر رکھتے تھے۔ وہ صحیح معنوں میں ایک دور اندیش قائد تھے۔ میں نے بارہا سلگتے ہوئے مسائل پر ان کے انٹرویوز لئے۔ وہ ہر موضوع پر پوری جرأت کے ساتھ اظہار خیال کرتے تھے اور ان کی رائے بڑی نپی تلی ہوتی تھی۔ان کے جملے دل میں اترتے چلے جاتے تھے۔ الفاظ کے انتخاب میں وہ بے حد محتا ط واقع ہوئے تھے اور خوبصورت جملوں کی تشکیل وترتیب ان کی گفتگو کا ہنر تھا۔ وہ جب بولتے تو پوری طرح اس موضوع میں ڈوب جاتے تھے اور پھر شاید ہی کسی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوں۔ الفاظ کو چبانے یا انہیں غلطاں کرنے کی انہیں قطعی عادت نہیں تھی۔ مولانا ہاشمی اپنے چھوٹوں سے بے پناہ شفقت کرتے تھے اور حوصلہ افزائی کے معاملہ میں کسی بخل سے کام نہ لیتے تھے۔ ان کو اردو زبان پر بلاکی قدرت تھی۔ اردو لغت کے کئی نامانوس الفاظ میں نے پہلی بار انہیں کی زبانی سنے اور انہیں اپنی تحریروں میں استعمال کیا۔ وہ اگر چاہتے تو ایک نووارد اخبارنویس سے رواروی کا واسطہ رکھ سکتے تھے۔ لیکن ان کی محبت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ اگر ان سے ملاقات یا بات ہوئے کچھ روز گزرجاتے تو خود فون کرکے مزاج پرسی کرتے۔ تواضع اور مہمان نوازی کے معاملے میں بھی وہ بڑے فراخ دل واقع ہوئے تھے۔ وہ اپنے مخالفین کے بارے میں بھی کبھی بدگوئی نہیں کرتے تھے بلکہ ایسے معاملات میں خاموشی ہی ان کا سب سے مؤثر بیان ہوتا تھا۔ مولانا اسعد مدنی سے اختلافات اور علیحدگی کے زمانے میں بھی انہوں نے کبھی کوئی کمزور بیان نہیں دیا اور نہ ہی کوئی ایسی مخالفانہ کوشش کی جس سے ان کا وقار مجروح ہوتا۔ وہ نظریاتی یا عملی اختلافات کو ذاتی رنجش میں بدلنے کے خلاف تھے۔ انہوں نے وسیع ملی مفاد کی خاطر ہمیشہ گروہی مفادات کو پس پشت ڈالا۔ ان میں بلا کی قوت ارادی تھی اور وہ کسی بھی معاملہ میں الجھاؤ یا تذبذب کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ آج مسلمانوں کو جس باشعور قیادت کی ضرورت ہے مولانا ہاشمی اس کی ہر کسوٹی پر کھرے اترے، انہوں نے نری جذباتیت اور اشتعال انگیزی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ وہ میانہ روی کے قائل تھے۔ بابری مسجد تحریک میں ان کی شمولیت اور انداز فکر اس کا گواہ ہے۔ وہ عوام کے پیچھے چلنے والوں میں ہرگز نہیں تھے بلکہ ایک قائد کے طورپر عوام کو صحیح راستہ بتانے اور خود سب سے آگے رہنے والوں میں تھے۔ آج مسلمانوں کو دینی اور ملی اعتبار سے اپنے مسائل کے لئے جو بصیرت اور صحیح رہنمائی درکار ہے وہ مولانا ہاشمی میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ وہ ہر نازک موقع پر میدان عمل میں نظر آتے تھے۔

04 اناونسر ۔ اخلاق احمد دہلوی.pdf1.05 MB

*مانگے کا اجالا* ----- ایک دفعہ مولانا ظفر علی خان کے نام مہاشہ کرشنؔ، ایڈیٹر ’’پرتاب‘‘ کا ایک دعوت نامہ آیا جس میں لکھا تھا: *’’(فلاں) دن پروشنا (فلاں) سمت بکرمی میرے سُپّتر ویرندر کا مُونڈن سنسکار ہوگا۔ شریمان سے نویدن ہے کہ پدھار کر مجھے اور میرے پریوار پر کرپا کریں‘‘ (شُبھ چنتک کرشن)* (ترجمہ : فلاں دن میرے بیٹے ویرندر کی سرمنڈائی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ تشریف لاکر مجھ پر اور میرے خاندان پر مہربانی کریں) مولانا نے آواز دی: ’’سالک صاحب! ذرا آیئے گا۔ فرمایا کہ مہربانی کرکے اس دعوت نامے کا جواب میری طرف سے آپ ہی لکھ دیجیے۔ برسات کے دن ہیں، بارش تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ میں کہاں جاؤں گا۔ معذرت کردیجیے‘‘۔ میں نے اسی وقت قلم اٹھایا اور لکھا: *’’جمیل المناقب، عمیم الاحسان معلی الالقاب، مدیرِ پرتاب السلام علیٰ من التبع الہدیٰ - نامۂ عنبر شمامہ شرفِ صدور لایا۔ از بسکہ تقاطرِ امطار بحدے ہے کہ مانعِ ایاب و ذہاب ہے۔ لہٰذا میری حاضری متعذّر ہے۔ العُذر عِندَ کِرامِ النَّاسِ مقبول‘‘ (الرّاجی الی الرحمۃ والغفران ظفر علی خان)* مہاشہ کرشن نے یہ خط پڑھنے کی کوشش کی۔ کچھ پلے پڑنا تو درکنار، وہ پڑھنے میں بھی ناکام رہے۔ آخر مولانا کو دفتر ’’زمیندار‘‘ ٹیلی فون کرکے پوچھا: ’’مولانا! آپ کا خط تو مل گیا، لیکن یہ فرمایئے کہ آپ آسکیں گے یا نہیں؟‘‘ اس پر مولانا ظفر علی خان نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور مہاشہ جی سے کہا: ’’آپ کا خط میں نے ایک پنڈت جی سے پڑھوایا تھا۔ آپ بھی کسی مولوی صاحب کو بلاکر میرا خط پڑھوا لیجیے‘‘۔

*وفیات مورخہ:نومبر /04* 1210ء  قطب الدین ایبک۔  شاہ دہلی 1957ء  شوقی آفندی ربانی۔  1971ء  سید عبد اللطیف۔  ڈاکٹر ، مترجم قرآن 1979ء  اختر حسین۔   ، 1984ء  واصف القادری نانپاروی۔  شاعر 1994ء  انور دہلوی (محمد انوار الحسن )۔   ، 1998ء  غلام قادر وانی۔  کشمیری اسکالر 1999ء  اشتیاق اظہر(سید)۔   ، 1999ء  عبد الصمد (اے اے کے)۔  بھارتی سیاست دان 2001ء  سید احمد ہاشمی۔  بھارتی مسلم سیاست داں 2004ء  نثار احمد فاروقی۔  پروفیسر ، محقق 2006ء  عبد الستار افغانی۔  میئر کراچی 2007ء  احمد مقصود حمیدی۔   ، 2010ء  اقبال جعفری۔   ، 2019ء  راز ناتھن شاہی۔  2022ء  بلخ شیر مزاری۔  نگران وزیر اعظم پاکستان 2025ء  گوپی چند پرمانند ہندوجا۔    HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB

خالد علیگ