⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights. AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1 https://twitter.com/AIMPLB_Official https://www.youtube.com/AIMPLB_Official http://fb.me/AIMPLB.Official Wtsp:8788657771
Ko'proq ko'rsatish📈 Telegram kanali ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖ analitikasi
⚖All India Muslim Personal Law Board⚖ (@aimplb_official) Urdu til segmentidagi kanali faol ishtirokchi. Hozirda hamjamiyat 26 669 obunachidan iborat bo'lib, Din & Maʼnaviyat toifasida 2 757-o'rinni va Hindiston mintaqasida 15 773-o'rinni egallagan.
📊 Auditoriya ko‘rsatkichlari va dinamika
невідомо sanasidan buyon loyiha tez o‘sib, 26 669 obunachiga ega bo‘ldi.
25 Iyul, 2026 dagi oxirgi ma’lumotlarga ko‘ra kanal barqaror faollikka ega. Oxirgi 30 kunda obunachilar soni -216 ga, so‘nggi 24 soatda esa -8 ga o‘zgardi va umumiy qamrov yuqori darajada qolmoqda.
- Tasdiqlash holati: Tasdiqlangan (Telegram tomonidan rasmiy tasdiq)
- Jalb etish (ER): Auditoriya o‘rtacha 11.37% darajada jalb etiladi. Nashrdan keyingi dastlabki 24 soatda kontent odatda umumiy obunachilar sonining 3.70% ini tashkil etuvchi reaksiyalarni to‘playdi.
- Post qamrovi: Har bir post o‘rtacha 3 031 marta ko‘riladi; birinchi sutkada odatda 987 ta ko‘rish yig‘iladi.
- Reaksiyalar va o‘zaro ta’sir: Auditoriya faol: har bir postga o‘rtacha 7 ta reaksiya keladi.
📝 Tavsif va kontent siyosati
Muallif resursni shaxsiy fikrni ifoda etish maydoni sifatida ta’riflaydi:
“Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights.
AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1
https://twitter.com/AIMPLB_Official
https://www.youtube.com/AIMPLB_Official
http://fb.me/AIMPLB.Official
Wtsp:8788657771”
Yuqori yangilanish chastotasi (oxirgi ma’lumot 26 Iyul, 2026 da olingan) sababli kanal doimo dolzarb va katta qamrovli bo‘lib qoladi. Analitika auditoriya kontent bilan faol hamkorlik qilishini, uni Din & Maʼnaviyat toifasidagi muhim ta’sir nuqtasiga aylantirishini ko‘rsatadi.
Ma'lumot yuklanmoqda...
| Sana | Obunachilarni jalb qilish | Esdaliklar | Kanallar | |
| 25 Iyul | +1 | |||
| 24 Iyul | +10 | |||
| 23 Iyul | +3 | |||
| 22 Iyul | +1 | |||
| 21 Iyul | 0 | |||
| 20 Iyul | 0 | |||
| 19 Iyul | 0 | |||
| 18 Iyul | 0 | |||
| 17 Iyul | +6 | |||
| 16 Iyul | 0 | |||
| 15 Iyul | +4 | |||
| 14 Iyul | 0 | |||
| 13 Iyul | 0 | |||
| 12 Iyul | 0 | |||
| 11 Iyul | 0 | |||
| 10 Iyul | +9 | |||
| 09 Iyul | +4 | |||
| 08 Iyul | +3 | |||
| 07 Iyul | 0 | |||
| 06 Iyul | 0 | |||
| 05 Iyul | 0 | |||
| 04 Iyul | 0 | |||
| 03 Iyul | +10 | |||
| 02 Iyul | +1 | |||
| 01 Iyul | +6 |
| 2 | ایک، قبلہ ایک اور دین ایک ہے۔
اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے نہایت مؤثر انداز میں علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار نقل کیے ہیں:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
یہ پیغام دراصل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ہر دور کی قیادت کا مشترکہ پیغام بھی ہے کہ تحفظِ شریعت کا راستہ اتحادِ ملت سے ہو کر گزرتا ہے، اور اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا ہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
موجودہ حالات اور ملت کی اجتماعی ذمہ داری
ملتِ اسلامیہ ہند اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن دور سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف مذہبی آزادی، اسلامی تشخص اور دستوری حقوق سے متعلق نئے نئے چیلنج سامنے آرہے ہیں، تو دوسری جانب مسلمانوں کے عائلی قوانین، اوقاف اور مذہبی اداروں سے متعلق ایسے معاملات پیدا ہورہے ہیں جن کا مقابلہ صرف قانونی جدوجہد سے نہیں بلکہ مضبوط ملی اتحاد، اجتماعی بصیرت اور منظم حکمتِ عملی سے کیا جاسکتا ہے۔
ایسے حالات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ ملت کے مشترکہ شعور، اجتماعی فکر اور تحفظِ شریعت کی نمائندہ آواز ہے۔ اس ادارے کی قوت اس کے دستور میں نہیں بلکہ اس اتحاد میں ہے جس نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک مختلف مکاتبِ فکر کو ایک مرکز پر جمع رکھا ہے۔
تیسواں اجلاس عام — وقت کی ایک اہم ضرورت
اسی پس منظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا تیسواں سالانہ اجلاس 2 تا 4 اکتوبر 2026ء، احمد آباد (گجرات) میں منعقد ہونے جارہا ہے۔ اس اجلاس میں بورڈ کے اراکین، مختلف دینی و ملی اداروں کے ذمہ داران، اکابر علماء اور مدعو شخصیات شریک ہوں گی تاکہ ملت کو درپیش اہم مسائل پر غور کیا جاسکے۔
خصوصی طور پر وقف (ترمیمی) قانون، یونیفارم سول کوڈ (UCC) اور مسلمانوں کے مذہبی و دستوری حقوق سے متعلق امور اس اجلاس کے اہم موضوعات ہوں گے۔ ایسے وقت میں یہ اجتماع صرف ایک تنظیمی اجلاس نہیں بلکہ ملت کے اجتماعی ضمیر کی آواز، فکری رہنمائی اور آئندہ کے لائحۂ عمل کی تشکیل کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
وقت کا سب سے بڑا تقاضا
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے داخلی اختلافات سے بلند ہوکر ایک صف میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت، وقار اور کامیابی عطا فرمائی، اور جب وہ گروہوں، جماعتوں اور مسلکی نزاعات میں الجھے تو ان کی اجتماعی قوت کمزور پڑگئی۔
آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات کو اختلاف ہی کی حد تک رکھا جائے اور مشترکہ دینی و ملی مفادات کو سب سے مقدم سمجھا جائے۔ تحفظِ شریعت، اوقاف کی حفاظت، دینی شناخت کی بقا اور آئینی حقوق کے دفاع جیسے مسائل کسی ایک جماعت یا مسلک کے نہیں بلکہ پوری ملت کے مشترکہ مسائل ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی نصف صدی سے زیادہ کی تاریخ یہی سبق دیتی ہے کہ اجتماعیت ہی قوت ہے، اتحاد ہی بقا ہے اور مشترکہ جدوجہد ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
صدورِ بورڈ کا مشترکہ پیغام
اگر بورڈ کی پوری تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ اس کے تمام صدورِ کرام نے، خواہ وہ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ہوں، مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ، حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ یا موجودہ صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم، سب نے اپنے اپنے دور میں ایک ہی پیغام دیا:
"اختلافات کو ہوا نہ دو، امت کو جوڑو؛ شخصیتوں کو نہیں، اجتماعیت کو مضبوط کرو؛ اور شریعتِ اسلامی کے تحفظ کے لیے سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع رکھو۔"
یہی وہ فکر ہے جس نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو ہندوستان کی سب سے مؤثر، باوقار اور ہمہ گیر ملی تنظیم بنایا، اور یہی اس کے مستقبل کی کامیابی کی بھی ضمانت ہے۔
آج جبکہ ملتِ اسلامیہ ہند کو اتحاد، حکمت اور بصیرت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، ہر صاحبِ درد مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر اپنے ملی اداروں کا تعاون کرے، اکابر علماء کی قیادت پر اعتماد رکھے اور تحفظِ شریعت کی اس مشترکہ جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے۔
قرآنِ کریم کی یہ ہدایت آج بھی ہماری کامیابی کا ابدی منشور ہے:
«﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾»
اور علامہ اقبالؒ کی یہ صدا آج بھی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک | 623 |
| 3 | آپ کی قیادت نے اس حقیقت کو مزید مستحکم کیا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ صرف ایک قانونی ادارہ نہیں بلکہ ملت کی اجتماعیت، اتحاد اور مشترکہ شعور کی علامت ہے۔
حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ — اکیسویں صدی میں اتحادِ ملت کی استوار قیادت
23 جون 2002ء کو حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ملتِ اسلامیہ ہند داخلی انتشار، بیرونی چیلنجوں اور بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات سے دوچار تھی۔ ایسے نازک مرحلے میں بورڈ کے اراکین نے مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ کو بورڈ کا صدر منتخب کیا۔ یہ انتخاب کسی شخصیت کا نہیں، بلکہ اعتدال، بصیرت، وقار اور اتحادِ امت کی اس فکر کا انتخاب تھا جس کے وہ ایک روشن ترجمان تھے۔
حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ تقریباً اکیس برس تک مسلسل بورڈ کی صدارت پر فائز رہے۔ یہ طویل عرصہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ملت کے مختلف مکاتبِ فکر کو ان کی دیانت، وسعتِ نظر، حلم و بردباری اور غیر جانب دارانہ قیادت پر کامل اعتماد حاصل تھا۔ آپ نے اپنے دورِ صدارت میں ہمیشہ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصل قوت اس کے دستور یا تنظیمی ڈھانچے میں نہیں، بلکہ اس اتحاد و اجتماعیت میں مضمر ہے جس نے مختلف مسالک اور جماعتوں کو ایک مقصد کے لیے یکجا کر رکھا ہے۔
اختلافات سے بلند ہو کر ملی اجتماعیت
حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار تھی کہ ملت کی بقا اختلافات کو ہوا دینے میں نہیں، بلکہ مشترکہ مقاصد پر متحد ہونے میں ہے۔ آپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور اجتہادی اختلافات اپنی جگہ ایک علمی حقیقت ہیں، لیکن ان اختلافات کو امت کے شیرازے کو منتشر کرنے کا ذریعہ بنانا نہ دانش مندی ہے اور نہ ہی شرعی مزاج کے مطابق۔
اسی جذبۂ اتحاد کے تحت آپ نے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء، دانشوروں اور ملی قائدین کو قریب لانے کی مسلسل کوشش فرمائی۔ آپ کی خواہش تھی کہ مسلمانوں کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط ہو اور ملت کے مشترکہ مسائل پر ایک مضبوط، متحد اور مؤثر آواز بلند ہو۔
اتحادِ ملت کانفرنس — ایک تاریخی اقدام
حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ کی ملی بصیرت کا ایک نمایاں مظہر وہ تاریخی اتحادِ ملت کانفرنس تھی، جس کا انعقاد دہلی میں کیا گیا۔ اس کانفرنس میں ملک کے مختلف مکاتبِ فکر، جماعتوں اور تنظیموں سے وابستہ ممتاز علماء و قائدین نے شرکت کی۔
اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا نے نہایت درد مندانہ انداز میں فرمایا:
"ملی مسائل کے حل کے لیے ایک ساتھ جمع ہونا اور سبھی کا ساتھ بیٹھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اتحاد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے، قرآن و حدیث کے ماہرین باہم مشورہ کریں اور ملت کے اجتماعی تقاضوں کو سامنے رکھ کر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔"
یہ چند جملے درحقیقت ان کی پوری فکر کا خلاصہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ امت کی قوت اس کے افراد کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس کے اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔
اتحاد — حضرت رابع حسنیؒ کی قیادت کا امتیاز
حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ نے اپنے دورِ صدارت میں کبھی کسی مسلک یا جماعت کو اپنے سے دور نہیں سمجھا۔ آپ کے دروازے سب کے لیے کھلے رہتے، آپ کی مجلس سب کے لیے یکساں تھی، اور آپ کی زبان سے ہمیشہ خیرخواہی، اعتدال اور محبت کی بات نکلتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملت کو کوئی بڑا مسئلہ درپیش آیا، آپ نے تمام دینی جماعتوں، تنظیموں اور مکاتبِ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ آپ سمجھتے تھے کہ اختلافات کی بنیاد پر صفوں کو تقسیم کرنا دشمنانِ ملت کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، جبکہ اتحاد و اجتماعیت مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
13 اپریل 2023ء کو حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے، لیکن اتحادِ ملت، اعتدالِ فکر اور اجتماعیت کا جو روشن چراغ انہوں نے فروزاں کیا، وہ آج بھی ملت کی راہوں کو منور کر رہا ہے۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم — اتحاد کی روایت کے امین
حضرت مولانا رابع حسنی ندویؒ کے وصال کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم کے سپرد ہوئی۔ یہ ذمہ داری ایک ایسے وقت میں ملی جب ملک کے حالات مسلسل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے تھے اور ملت کو پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد، بصیرت اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت تھی۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ کی علمی، فقہی اور ملی خدمات محتاجِ تعارف نہیں۔ تاہم ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ وہ اتحادِ امت کو موجودہ دور کی سب سے بڑی ملی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب سیاسی جماعتیں اپنے نظریاتی اختلافات بھلا کر مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہو سکتی ہیں، تو مسلمانوں کے پاس تو اتحاد کی بنیادیں کہیں زیادہ مضبوط ہیں؛ ان کا رب ایک، رسول ایک، قرآن | 413 |
| 4 | 1983ء میں حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ کی وفات کے بعد 28 دسمبر 1983ء کو چنئی کے اجلاس میں ملتِ اسلامیہ ہند کی نظریں جس شخصیت پر جا کر ٹھہریں، وہ مفکرِ اسلام، مصلحِ امت اور عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ تھے۔ یہ انتخاب محض ایک صدر کے تقرر کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ اس فکر کی توثیق تھی کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت ایسے صاحبِ نظر اور صاحبِ دل انسان کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے، جو امت کے مختلف طبقات کو محبت، اخلاص اور اعتماد کے رشتے میں پرو سکے۔
حضرت علی میاںؒ کی شخصیت وسعتِ قلب، اعتدالِ فکر اور اخوتِ اسلامی کا حسین مرقع تھی۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے اکابر سے بھی والہانہ محبت رکھتے تھے اور ندوۃ العلماء کے علمی مزاج کے بھی حقیقی ترجمان تھے۔ آپ نے کبھی کسی جماعت یا مسلک کو امت سے الگ نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ اس حقیقت کو اجاگر فرمایا کہ مسلمانوں کی اصل قوت ان کے مشترکات میں ہے، نہ کہ اختلافات میں۔
اختلاف نہیں، اجتماع امت اصل سرمایہ ہے
حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ بارہا اس حقیقت پر زور دیتے تھے کہ مسلمان اگر اپنے فقہی اور مسلکی اختلافات کو علمی حدود میں رکھیں اور اجتماعی مسائل میں ایک دوسرے کا دست و بازو بن جائیں تو کوئی طاقت ان کی دینی شناخت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
اسی فکر کے تحت جب آپ ایران تشریف لے گئے تو وہاں بھی شیعہ اور سنی علماء کو قریب آنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور مشترکہ مسائل پر متحد ہونے کی دعوت دی۔ ہندوستان میں بھی آپ ہمیشہ اس بات پر افسوس کا اظہار فرماتے تھے کہ مسلکی کشیدگی امت کی توانائیوں کو کھا رہی ہے، حالانکہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی مشترکہ بنیادوں کو مضبوط کریں۔
مسلم پرسنل لا — اسلامی تشخص کا محافظ
حضرت علی میاںؒ نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے مختلف اجلاسوں میں اپنے صدارتی خطابات کے ذریعے بارہا اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ مسلم پرسنل لا محض چند قانونی دفعات کا نام نہیں، بلکہ یہ مسلمانوں کی دینی آزادی، تہذیبی شناخت اور اسلامی خاندانی نظام کا محافظ ہے۔
آپ فرماتے تھے کہ اگر مسلمان اپنے عائلی قوانین سے محروم ہوگئے تو وہ اپنی تہذیبی انفرادیت کا ایک اہم ستون کھو دیں گے۔ اسی لیے آپ نے پرسنل لا کے تحفظ کو اسلامی غیرت، ملی حمیت اور دینی ذمہ داری کا تقاضا قرار دیا۔
قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ — اجتماعیت کے امین
31 دسمبر 1999ء کو حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کے وصال کے بعد ملت ایک مرتبہ پھر ایک نازک مرحلے سے دوچار ہوئی۔ ایسے وقت میں 23 اپریل 2000ء کو لکھنؤ کے خصوصی اجلاس میں حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا تیسرا صدر منتخب کیا گیا۔
قاضی مجاہد الاسلامؒ کی ذات اس دور میں اتحادِ ملت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ آپ نے صدارت کا منصب اعزاز کے طور پر نہیں بلکہ ایک بھاری امانت سمجھ کر قبول کیا۔ آپ جانتے تھے کہ اگر اس مرحلے پر امت کی شیرازہ بندی کمزور ہوئی تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے؛ چنانچہ آپ نے پوری قوت کے ساتھ اجتماعیت کی حفاظت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔
اتحادِ امت آپ کی دعوتِ حیات تھی
قاضی صاحبؒ اختلاف و انتشار، مسلکی عصبیت، علاقائی تعصب اور جماعتی کشمکش کو امت کے زوال کی بنیادی وجوہات قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں بھی تشریف لے جاتے، اتحادِ امت کا پیغام دیتے، دلوں کو جوڑتے، غلط فہمیوں کو دور کرتے اور علماء و قائدین کو قریب لانے کی کوشش فرماتے۔
آپ کے نزدیک امت کی طاقت افراد کی کثرت میں نہیں بلکہ دلوں کی وحدت میں تھی۔ آپ کا یقین تھا کہ جب تک مسلمان اپنے مشترکہ مقاصد پر جمع نہیں ہوں گے، وہ اپنے دینی، سماجی اور قومی حقوق کا مؤثر تحفظ نہیں کر سکیں گے۔
ملک کے طول و عرض میں آپ نے بے شمار ایسے اختلافات ختم کرائے جنہوں نے برسوں سے دلوں میں فاصلے پیدا کر رکھے تھے۔ آپ کی مجلس میں آنے والے مختلف مسالک کے علماء یہ محسوس کرتے تھے کہ وہ کسی مخصوص جماعت کے قائد نہیں بلکہ پوری ملت کے خیرخواہ سے گفتگو کر رہے ہیں۔
ایک ہمہ وقت مضطرب دل
قاضی مجاہد الاسلامؒ کا دل ملت کے درد سے لبریز تھا۔ مسلمانوں کی علمی پسماندگی، باہمی انتشار، تہذیبی یلغار اور شریعت پر بڑھتے ہوئے حملے آپ کو ہمیشہ بے چین رکھتے تھے۔ آپ قریہ قریہ، شہر شہر اور ملک ملک سفر کرتے اور ایک ہی پیغام دیتے کہ اگر امت نے اپنی اجتماعیت کو محفوظ نہ رکھا تو اس کی قوت بکھر جائے گی، لیکن اگر اس نے قرآن و سنت کی بنیاد پر اتحاد قائم کر لیا تو کوئی طاقت اسے مغلوب نہیں کر سکتی۔
اسی لیے آپ کی پوری زندگی اس قرآنی حکم کی عملی تفسیر بن گئی:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" | 383 |
| 5 | *🎯 بورڈ کے صدورِ گرامی کا محور و مرکز: اتحادِ امت*
✍️ تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
https://www.facebook.com/share/p/1Ed5gi6Kn3/
------------------------------------------
امتِ مسلمہ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی اس نے وحدت و اجتماعیت کو مضبوطی سے تھاما، عزت، وقار اور غلبہ اس کا مقدر بنا؛ اور جب باہمی نزاعات، مسلکی تعصبات اور جماعتی کشاکش نے اس کے شیرازے کو منتشر کیا تو اس کی اجتماعی قوت بھی کمزور پڑتی چلی گئی۔ قرآنِ کریم نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں یوں بیان فرمایا:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
اور رسول اللہ ﷺ نے جماعت اور اجتماعیت کو امت کی سلامتی، قوت اور بقا کی بنیاد قرار دیا۔
ہندوستان جیسے کثیر المذاہب اور کثیر الثقافات ملک میں مسلمانوں کی دینی، تہذیبی اور قانونی شناخت کے تحفظ کے لیے جس ادارے نے سب سے زیادہ مؤثر اور تاریخی کردار ادا کیا، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہے۔ اس ادارے کی سب سے نمایاں خصوصیت صرف یہ نہیں کہ اس نے مسلم عائلی قوانین کی حفاظت کے لیے مسلسل جدوجہد کی، بلکہ اس کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس نے مختلف فقہی مکاتب، مسالک، جماعتوں اور تنظیموں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔
اتحادِ ملت — بورڈ کی بنیاد اور شناخت
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے دستور میں بھی یہ حقیقت واضح طور پر درج ہے کہ اس کا ایک بنیادی مقصد مسلمانوں کے مختلف فقہی مکاتب کے درمیان خیرسگالی، اخوت، باہمی تعاون اور اعتماد کو فروغ دینا، اور شریعتِ اسلامی کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کو منظم کرنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بورڈ کے پلیٹ فارم پر دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، شیعہ، حنفی، شافعی، بوہرہ اور دیگر مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء ایک ہی مقصد کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر جب شریعتِ اسلامی، مسلم پرسنل لا، اوقاف یا دینی تشخص کا مسئلہ سامنے آیا تو تمام مسالک نے ایک صف میں کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا کہ امت کی مشترکہ بنیادیں اختلافات سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی معاصر اسلامی تاریخ میں اگر کسی ادارے نے "اختلاف میں اتحاد" کی عملی تصویر پیش کی ہے تو وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہے۔ یہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ، سب سے عظیم کارنامہ اور سب سے روشن باب ہے۔
قیادت کا امتیاز
اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ اس ادارے کی باگ ڈور ہمیشہ ایسی شخصیات کے ہاتھوں میں رہی جنہوں نے منصبِ صدارت کو اقتدار نہیں بلکہ خدمتِ ملت کی امانت سمجھا۔ ان کے نزدیک شخصیتوں سے زیادہ اہم امت تھی، جماعتوں سے زیادہ قیمتی اتحاد تھا اور مسلکی وابستگیوں سے بڑھ کر شریعتِ اسلامیہ کا تحفظ تھا۔
یہی وجہ ہے کہ بورڈ کے ہر صدر نے اپنے دور میں اختلافات کو کم کرنے، اعتماد کو بڑھانے اور ملت کو ایک مرکز پر جمع رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بورڈ کے صدور کی زندگیوں کا ایک مشترکہ عنوان منتخب کیا جائے تو وہ صرف ایک ہوگا:
"اتحادِ امت اور اجتماعیتِ ملت۔"
حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ — اتحاد کے اولین معمار
17 اپریل 1973ء کو حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ملت کو ایسے قائد کی ضرورت ہے جو اپنے علم، اعتدال، وسعتِ نظر اور حسنِ تدبر کے ذریعے مختلف حلقوں کو ایک مرکز پر جمع رکھ سکے۔
حضرت قاری طیبؒ کی پوری زندگی اعتصام باللہ، وسعتِ فکر اور اتحادِ امت کی عملی تفسیر تھی۔ وہ فقہی جمود، مسلکی تعصب اور جماعتی تنگ نظری سے بلند ہو کر اسلام کے آفاقی مزاج کو سامنے رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک اختلاف اگر علم و تحقیق کی بنیاد پر ہو تو رحمت ہے، لیکن اگر وہ امت کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کر دے تو فتنہ بن جاتا ہے۔
ان کی بے نفسی، تحمل اور اخلاص کا اندازہ اس تاریخی واقعہ سے ہوتا ہے کہ وحدتِ ملت کی خاطر وہ حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ اور دیگر اکابر کے ساتھ مولانا برہان الحق رضویؒ کی مجلس میں تشریف لے گئے اور نہایت انکسار کے ساتھ وہیں بیٹھے جہاں جوتے اتارے جاتے تھے۔ یہ منظر دراصل اتحادِ امت کے لیے ان کی عملی قربانی اور عظیم ظرف کی روشن دلیل تھا۔
حضرت قاری طیبؒ نے تقریباً ایک دہائی تک بورڈ کی قیادت کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ مختلف الخیال افراد کو ایک مقصد پر جمع کرنا ہی حقیقی قیادت کا جوہر ہے۔ ان کے دور میں بورڈ نے مضبوط بنیادیں حاصل کیں، اعتماد پیدا ہوا اور تحفظِ شریعت کی تحریک ایک ہمہ گیر ملی تحریک بن کر ابھری۔
مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ — وسعتِ نظر اور وحدتِ ملت کے علمبردار | 478 |
| 6 | Matn yo'q... | 474 |
| 7 | Khitab e juma 24 July 2026.pdf | 2 595 |
| 8 | ہونے کی امید بھی۔
یقینا یہ مصلحتیں ایسی نہیں ہیں، جنہیں نظر انداز کردیاجائے، اس لئے قانون ایسا بنانا چاہئے جس میں مفادات کو حاصل بھی کیاجائے اور نقصانات سے حفاظت بھی ہو، یہ کہاجاسکتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، نابالغی کے نکاح سے بچا جائے، اگر باپ اور دادا کے علاوہ دوسرے اولیاء نکاح کریں یا باپ یا دادا ہی نکاح کریں، لیکن وہ اپنے اختیارات کا صحیح استعمال کرنے کے اہل نہ ہوں توبالغ ہونے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کو اس نکاح کے باقی رکھنے یا ختم کردینے کا اختیار دیاجائے، یہ حدود و قیود جن کی اسلام میں رعایت کی گئی ہے، اگر ملحوظ ہوں تو کم سنی کے نکاح کی مضرتوں سے بچا بھی جاسکتا ہے، اور اس کی مصلحتیں حاصل بھی کی جاسکتی ہیں۔
بعض حضرات غلط فہمی پیدا كرتے هیں کہ اسلام میں نکاح نابالغہ کی اجازت نہیں دی گئی ہے، علماء اسلام نے اپنے طور پر اس طرح کی بات لکھ دی ہے؛حالانکہ یہ بالکل غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ حالت نابالغی کے نکاح کا درست ہونا قرآن مجید سے بھی ثابت ہے، ( طلاق: ۴) احادیث سے بھی (مسلم: ۱۴۴۲۲، ابو داؤد:۲۱۲۱، نسائی: ۳۲۵۵، مصنف ابن شیبه: ۱۶۰۱۰) اور اجماع امت سے بھی، (المغنی: ۹؍ ۳۹۸، كتاب النكاح، موسوعه الاجماع فی الفقه الاسلامی: ۳؍۱۱۸۵) نیز جب لڑکے اور لڑکیاں جسمانی طور پر بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح جلد کردینا چاہئے، اس کاحکم بھی قرآن و حدیث میں موجود ہے اور فقہاء اسلام نے بھی اس کی صراحت کی ہے۔
جب لڑکے یا لڑکیاں بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح جلد کردینا چاہئے؛تاکہ وہ گناہ میں مبتلا نہ ہوں؛چنانچہ قران مجید میں بھی غیر شادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کاحکم دیا گیا ہے، ارشاد ہے:وَأَنکِحُوا الْأَیَامَیٰ مِنْکُمْ (سورۂ نور:۲۳) اس کے علاوہ متعدد حدیثوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے ۔ (مسلم: ۳۳۹۸، بیهقی فی شعب الایمان:۸۶۶۹)
حاصل یہ ہے کہ اسلام نے کم سنی میں لڑکے یا لڑکی کے نکاح کی ترغیب نہیں دی ہے؛البتہ اس سے منع بھی نہیں کیا ہے اور اس کی گنجائش رکھی ہے، جس کا ثبوت قرآن مجید سے بھی ہے، حدیث سے بھی ہے، آثار صحابہ سے بھی ہے اور اس امت کا اجماع و اتفاق بھی ہے، نیز یہ حکم بعض مصالح پر مبنی ہے۔
البتہ بالغ ہونے کے بعد تاکید کے ساتھ نکاح میں عجلت کا حکم دیا گیا ہے؛کیونکہ اس سے اخلاقی اقدار کا تحفظ متعلق ہے اور نکاح میں تاخیر سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، جو ایک پاکیزہ سماج کے لئے ہرگز مناسب نہیں، نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں کم سنی کی شادی کا رواج بمقابلہ برادران وطن سے بہت کم ہے اور خیار بلوغ کے ذریعہ اس کی تلافی کی گنجائش موجود ہے۔
٭٭٭ | 3 126 |
| 9 | ہریانہ وغیرہ کے بعض علاقوں میں ہندو سماج میں بہت ہی کم سنی میں نکاح کا رواج پایاجاتا ہے اور اس کا تناسب مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے،مثلاً ۱۱۰۲ ء کے ایک سرکاری سروے رپورٹ کے مطابق ١٠؍سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کا تناسب ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس طرح ہے:
ہند ولڑکے: 3,56 مسلم لڑکے : 0,49
ہندو لڑکیاں: 6,65 مسلمان لڑکیاں : 0,88
کم سنی کے نکاح زیادہ تر چونکہ دیہاتوں میں ہوتے ہیں ، اس لئے شہر اور دیہاتوں کے اعتبار سے بھی اس کا تناسب ذکر کیا گیا ہے:
دیہی علاقہ
ہندو لڑکیاں
50,34فی لاکھ
مسلمان لڑکیاں
2,62فی لاکھ
ہندو لڑکے
23,93فی لاکھ
مسلمان لڑکے
5,34فی لاکھ
شہری علاقے
ہندو لڑکیاں
16,16فی لاکھ
مسلمان لڑکیاں
3,39فی لاکھ
ہندو لڑکے
11,67فی لاکھ
مسلمان لڑکے
2,29فی لاکھ
(Source: Census of India/India Spend)
اصل مسئلہ ان رواجات کو روکنا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ ہندو معاشرہ میںنکاح کے معاملہ میں لڑکی رضامندی اور ناراضگی کوبہت کم اہمیت دی جاتی ہے اور ان پر رشتے تھوپ دیئے جاتے ہیں،خاص کر کم عمری میں کئے گئے نکاح میں اصل عاقدین کاکوئی حصہ نہیں ہوتا،مگر اسلام میں اکثر حالات میں نابالغی کے نکاح کی صورت میں بالغ ہونے کے بعد لڑکے اور لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہوتاہے اور وہ اس نکاح کو رد کرسکتے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، ایسا نہیں ہے کہ اسلام میں کم سنی اور نابالغی کے نکاح کو زیادہ بہتر قرار دیا گیا ہے، مسلم معاشرہ میں ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے بالغ ہونے کے بعد ہی ان کا نکاح کیاجاتا ہے، خود قرآن مجید نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، کہ یتیموں کو آزمائو، جب وہ نکاح کو پہنچ جائیں اور تم ان سے ہوش مندی محسوس کرو تو ان کا مال ان کے حوالہ کردو۔ (نساء:۶)
نکاح کو پہنچنے سے مراد بالغ ہونا ہے؛چنانچہ امام ابوبکر جصاص رازیؒ اور مشہور مفسر علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:نکاح کو پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ وہ احتلام کی وجہ سے نکاح کے اہل ہوجائیں۔ (احكام القرآن :۲؍۶۳، جلالین:۷۰)
ان آیات سے واضح ہے کہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کئے جائیں۔
پھر اسلام میں رشتہ کے انتخاب کی جو آزادی عاقدین کو دی گئی ہے، اور اس سلسلہ میں لڑکوں کی طرح لڑکیوں کو بھی اپنی ذات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا جو اختیار دیاگیا ہے، اس کا تقاضا بھی یہی ہے؛کیوں کہ بالغ ہونے کے بعد ہی وہ قانونا اس اختیار کو استعمال کرنے کے اہل ہوںگے اور اس عمر کو پہنچنے کے بعد ہی انسان کے اندر بھلے اور برے کی تمیز بھی پیدا ہوتی ہے، خود پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی صاحبزادیوں کا نکاح عمر بلوغ کو پہنچنے کے بعد ہی فرمایا ہے، اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ اصل یہی ہے کہ بالغ ہونے کے بعدنکاح ہو؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے بالغ ہونے سے پہلے بھی نکاح کی گنجائش رکھی ہے، اور مختلف صحابہ نے کم عمری میں بچوں کے نکاح کئے ہیں۔
یہ اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ بعض دفعہ مصلحت کا تقاضا یہی ہوتا ہے، اس سلسلہ میں دو مصلحتیں تو بہت ہی بنیادی ہیں، ایک یہ کہ بعض اوقات اخلاقی بگاڑ کا اندیشہ ہوتا ہے، نکاح کی وجہ سے ایک جائز راستہ کھل جاتا ہے، اور یہ بات اسے ناجائز رخ پر لے جانے سے بچاتی ہے، اگر ایسے حالات سامنے ہوں اور ١٨؍ سال تک نکاح کو روکے رکھا جائے تو اس سے بہت سے اخلاقی مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں، اور یہ اخلاقی بگاڑ بیک وقت صحت جسمانی کے لئے بھی مضر ہے، اور ساتھ ہی ساتھ سماج کے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں؛کیونکہ کوئی شخص جب اخلاقی مفاسد کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے لئے سماج ہی میں اپنی غذا تلاش کرتا ہے، اسلام میں حفاظت اخلاق کی بڑی اہمیت ہے، اور والدین بھی اس سلسلہ میں جوابدہ ہیں، چنانچہ حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو بچہ ہو، تو اسے چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اور اس کی تربیت کرے، پھر جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کردے، اگربالغ ہونے کے باوجود اس کا نکاح نہیں کیا، اور وہ گناہ میں مبتلا ہوگیا تو اس کے باپ پر بھی اس کا گناہ ہوگا:’’فإنما إثمہ علی أبیہ‘‘(شعب الایمان ، حقوا لاولاد والہلین، حدیث نمبر:۹۹۲۸)۔
دوسری اہم مصلحت یہ ہے کہ بعض دفعہ باپ لب گور ہوتا ہے، ظاہری حالات کے تحت اندیشہ ہے کہ اس کے بچوں کو یتیمی کا داغ لگنے والا ہے، اور اس کی موت کے بعد خاندان میں ایسے ذمہ دار اور دیانت دار لوگ نہیں ہیں، جن سے امید رکھی جاسکے کہ وہ صحیح طور پر بچوں کی تربیت کرسکیں گے اور مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کے بے سہارا بچوں کی شادی کریں گے، ابھی بچے نابالغ ہیں؛ لیکن ایک موزوں اور مناسب رشتہ ہاتھ آرہا ہے، تو ایسی صورت میں یقینا مصلحت یہی ہے کہ اس وقت اس کا نکاح کردیاجائے کہ اس میں اس کے لب گور سرپرست کے لئے سکون قلب بھی ہے، اور اس کے بچوں کے مستقبل کے محفوظ | 2 778 |
| 10 | *🎯 ۱۸ اور ۲۱ سے پہلے نكاح*
🖋 *حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب* _(صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
https://www.facebook.com/share/p/1BRqN5UWx4/
------------------------------------------
بد قسمتی سے اس وقت بر سر اقتدار پارٹی مسلم شناخت كو مٹانے؛ بلكه سچائی یه هے كه دستور هند كا قتل كرنے اور سیكولرزم پر هتھوڑا چلانے كی كوشش كر رهی هے، ایسی هی ناروا كوششوں میں ایك یونیفارم سول كوڈ لانا اور مختلف قوموں، بالخصوص مسلمانوں كے پرسنل لا كو ختم كرنا هے، یونیفارم سول كوڈ كے نام پر جن مسائل كو بهت قوت كے ساتھ اٹھایا جاتا هے، اور جن كو مختلف ریاستوں میں قانونی حیثیت دے دی گئی هے، ان میں ایك ۲۱؍ سال سے پهلے لڑكوں اور ۱۸؍ سال سے پهلے لڑكیوں كے نكاح كا مسئله هے، برادران وطن كو یه تصور دیا گیا هے كه مسلمانوں كی كثیر آبادی كا ایك بنیادی سبب كم عمر میں لڑكوں اور لڑكیوں كا نكاح هے۔
ایك مخصوص عمر كے بعد نكاح كے سلسلہ میں کئی باتیں قابل غور ہیں:
اول یہ کہ جسمانی نشوونما تمام لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں نہیں ہوتی، موسمی حالات، غذا، ماحول اور موروثی اثرات کے تحت بلوغ کی عمر مختلف ہوتی ہے، اور جسمانی قویٰ اور تولید کی صلاحیت میں بھی فرق ہوتا ہے، نہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ ١٨؍ سال سے کم عمر کی ہر لڑکی کے لئے ماں بننا نقصان دہ ہے، اور نہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ ١٨؍ سال کے بعد لڑکیوں میں لا محالہ ایسی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ ماں بننا ان کی صحت کے لئے مضرت رساں نہ ہو؛اس لئے ١٨؍ سال ہی کی تعیین قابل فہم نہیں، قانون فطرت کے تحت عورت کی اس صلاحیت کا اصل معیار وہی ہے کہ جب وہ بالغ ہوجاتی ہے تو اس میں بنیادی طور پر حاملہ ہونے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس وقت ٹی وی کے فروغ، فحش رسائل کی کثرت، انٹرنیٹ اوربے ہودہ فلموں کے ویڈیوز اور ان فلموں تک کم عمر لڑکوں کی رسائی کی وجہ سے صورت حال یہ ہے کہ نابالغ بچے تک جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہورہے ہیں، شادی سے پہلے ناجائزاسقاط حمل کی کثر ت ہوگئی ہے، سوال یہ ہے کہ کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا کم عمری کے جنسی تجربات ؟یقینا بے قید جنس پرستی زیادہ مضرہے،تو اگرایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ ماںباپ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے اخلاق و کردار کی حفاظت کے لئے بلوغ کے بعد جلد سے جلد ان کا نکاح کردینا مناسب سمجھتے ہوں تو کیا یہ بات مناسب نہیں ہوگی کہ انہیں اس عمر سے پہلے ہی نکاح کی اجازت دی جائے؛تاکہ وہ اپنے بچوں کو فساد اور بگاڑ کے گڑھے میں جانے سے بچا سکیں، اصل مسئلہChild Marraigeکا نہیں، بلکہ Child Sexکا ہے، حکومت کو اور سماجی تنظیموں کو چاہئے کہ یہ جو بے راہ روی کا طوفان ملک میں آرہا ہے، اور ہماری تعلیم گاہوں کو اپنا ہدف بنارہا ہے، پہلے اس کے سدباب کی کوشش کریں،مثلا امریکہ میں ۱۷؍ سے ٢١؍ سال کے بچوں کی طرف سے دوسرے بچوں کے ساتھ جو جنسی زیادتی ۲۰۰۴ء میں ریکارڈ کی گئی ہے، وہ لڑکوں کی طرف سے۰۵۴۲۱ اور لڑکیوں کی طرف سے ۹۷۹ ہے۔
(Source: US Department of Justice, Federal Bereau of Investigation-2004)
اگرچہ یہ امریکہ کے اعداد و شمار ہیں، ہندوستان کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوسکے؛ لیکن اگر صحیح صورت حال سامنے آئے تو شاید ہندوستان کی صورت حال اس سے مختلف نہ ہو۔
تیسری بات یہ ہے کہ کم سنی کے نکاح کے واقعات اب خود ہی کم ہوتے جارہے ہیں، چودہ پندرہ سال کی عمر میں تو لڑکے اور لڑکیاں میٹرک کرتے ہیں، اب لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں میں بھی اعلی تعلیم کا رجحان روز افزوں ہے،اور تعلیم کے درمیان عام طور پر شادی نہیں کی جاتی، لڑکوں کے لئے تو تعلیم کے بعد حصول روزگار کا بھی مسئلہ ہے، اس لئے اس تلاش روزگار میں کئی سال نکل جاتے ہیں، اور اس کے بعد ہی لڑکے شادی کی طرف راغب ہوتے ہیں، اس طرح قانون میں جو عمر متعین کی گئی ہے، عام طور پر اس سے کہیں زیادہ عمر میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں، جوں جوں تعلیم بڑھتی جائے گی، خود کم سنی میں نکاح کا رجحان کم ہوتاجائے گا، اور جب تک تعلیم عام نہ ہوگی، صرف قانون کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل نہیں کیاجاسکتا؛کیونکہ ایسی شادی کے واقعات شہر میں بہت کم پیش آتے ہیں، زیادہ تر دوردراز دیہاتوں میں اس طرح کا رواج پایاجاتا ہے اور اس کی نوبت بہت کم آتی ہے کہ وہ معاملات عدالت کے سامنے آئیں؛اس لئے ایسے واقعات قانون کے دائرہ سے باہر ہی رہتے ہیں،اس کا اندازہ ١٨؍ سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں درج ذیل اعداد و شمارسے لگایاجاسکتا ہے:
43,4 : 1981
35,3 : 1991
14,4 : 2001
3,7 : 2011
2,1 2025
چوتھی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس کو مسلمانوں کے ایک سماجی مسئلہ کی نظر سے دیکھتے ہیں؛حالانکہ کم سنی کی شادی کے واقعات مسلمانوں میں بہت کم ہیں، خود ہندوؤں میں ان سے کہیں زیادہ ہیں، راجستھان میں اب بھی ’’اکھاتیج‘‘ کے موقع پر ہزاروں شیر خوار لڑکیوں کی شادی کردی جاتی ہے، راجستھان، مدھیہ پردیش، اڑیسہ اور | 1 982 |
| 11 | Matn yo'q... | 1 806 |
| 12 | *Withdraw the Demolition Notice Issued to Mohammad Ali Jauhar University:* All India Muslim Personal Law Board
New Delhi, July 17, 2026:
The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has strongly condemned the demolition notice issued by the Rampur Development Authority (RDA) for 38 buildings of Mohammad Ali Jauhar University, describing it as a biased, vindictive, and unjust action. The Board has urged the Government of Uttar Pradesh to immediately halt the proposed action and withdraw the demolition notice.
In a statement, the Spokesperson of the Board, Dr. S. Q. R. Ilyas, said that this action is not merely directed against an educational institution but also against the educational advancement of the Muslim community. He observed that while governments have failed to adequately address the educational backwardness of Muslims, institutions established through public initiative, sacrifice, and sustained efforts are being targeted on one pretext or another through administrative and legal measures. According to him, the present action reflects political vendetta against Azam Khan and, at the same time, seeks to further undermine the educational progress of the Muslim community.
Dr. Ilyas also rejected the RDA’s claim that 38 out of the University’s 40 buildings had been constructed without obtaining the necessary approvals. He pointed out that, according to the University administration, the buildings in question were constructed at a time when the area did not fall within the jurisdiction of the Rampur Development Authority. Consequently, there was no legal requirement to obtain approval of building plans from the RDA.
He further stated that even if any technical or legal deficiencies exist, they can be resolved through due legal process. Ordering the demolition of 38 buildings of a university established after years of hard work, public support, and substantial investment is not only a disproportionate and arbitrary measure but is also contrary to the larger interests of education in the country. Such an action would not merely affect one institution or one community; it would inflict irreparable damage on the nation’s educational assets.
The All India Muslim Personal Law Board has called upon the Government of Uttar Pradesh and the Rampur Development Authority to immediately review their decision, withdraw the demolition notice, resolve any legal or technical issues through dialogue and due process, and ensure the protection of this important educational institution.
✍️ Issued by:
*Dr. Vaquar Uddin Latifi*
Office Secretary
https://www.facebook.com/share/p/1886BaZa8L/ | 3 683 |
| 13 | Matn yo'q... | 2 997 |
| 14 | *محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے:*
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
نئی دہلی: 17؍ جولائی 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام کے لیے جاری نوٹس کو جانبدارانہ، انتقامی اور غیر منصفانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ بورڈ نے حکومتِ اتر پردیش سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کارروائی کو فوری طور پر روکا جائے اور انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک تعلیمی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں ایک طرف مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں ناکام رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف جو ادارے عوامی جدوجہد اور قربانیوں سے قائم ہوئے ہیں، انہیں مختلف انتظامی اور قانونی بہانوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایک جانب اعظم خان کے خلاف سیاسی انتقام کی عکاسی کرتا ہے اور دوسری جانب مسلم معاشرے کو تعلیمی میدان میں مزید کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے آر ڈی اے کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ عمارتیں اس وقت تعمیر ہوئی تھیں جب یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا، اس لیے اس وقت آر ڈی اے سے نقشہ منظور کرانے کی کوئی قانونی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی قسم کی تکنیکی یا قانونی خامی موجود بھی ہو تو اسے قانونی طریقۂ کار کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔ برسوں کی محنت، وسائل اور عوامی تعاون سے قائم ہونے والی ایک جامعہ کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ نہ صرف غیر مناسب اور جابرانہ ہے بلکہ ملک کے تعلیمی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ اس سے صرف ایک ادارہ یا ایک طبقہ متأثر نہیں ہوگا بلکہ قومی تعلیمی سرمائے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومتِ اتر پردیش اور رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرتے ہوئے انہدام کا نوٹس واپس لے، قانونی مسائل کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرے اور ملک کے اس اہم تعلیمی ادارے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقارالدین لطیفی*
_آفس سکریٹری_
https://www.facebook.com/share/p/1GcMFvH95n/ | 2 941 |
| 15 | Matn yo'q... | 2 126 |
| 16 | آج کا دور مسلمانوں سے غیر معمولی بصیرت اور سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے ایمان، اپنے خاندان اور اپنی نئی نسل کی دینی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ شریعت کا تحفظ صرف اجتماعات، قراردادوں یا بیانات سے نہیں ہوگا، بلکہ اس وقت ہوگا جب ہر مسلمان اپنے گھر کو شریعت کا نمونہ بنائے، اپنے معاملات میں دیانت اختیار کرے، اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے وابستہ رکھے اور اپنے کردار سے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرے۔
اسی کے ساتھ ملت کو اپنے اجتماعی اداروں، دینی مراکز اور نمائندہ تنظیموں سے مضبوط تعلق قائم رکھنا چاہیے۔ اجتماعی مسائل کا حل انفرادی آوازوں سے نہیں بلکہ منظم، متحد اور آئینی جدوجہد سے حاصل ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے اکابر کی قیادت میں متحد ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں۔
امید، حکمت اور استقامت کا راستہ
حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، مسلمان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کا سرمایۂ حیات ایمان، صبر، دعا، حکمت اور مسلسل جدوجہد ہے۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ حق کی حفاظت صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم، کردار، اتحاد، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل سے ہوتی ہے۔
اس لیے وقت کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنے دینی تشخص، آئینی حقوق اور قومی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے ملک میں امن، عدل، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ یہی اکابرِ امت کا راستہ ہے، یہی دستورِ ہند کی روح ہے اور یہی ایک باشعور، باوقار اور ذمہ دار شہری کی پہچان بھی ہے۔
[17/07, 5:19 pm] Noor Bhai New Smd: *محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے:*
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
نئی دہلی: 17؍ جولائی 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام کے لیے جاری نوٹس کو جانبدارانہ، انتقامی اور غیر منصفانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ بورڈ نے حکومتِ اتر پردیش سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کارروائی کو فوری طور پر روکا جائے اور انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک تعلیمی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں ایک طرف مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں ناکام رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف جو ادارے عوامی جدوجہد اور قربانیوں سے قائم ہوئے ہیں، انہیں مختلف انتظامی اور قانونی بہانوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایک جانب اعظم خان کے خلاف سیاسی انتقام کی عکاسی کرتا ہے اور دوسری جانب مسلم معاشرے کو تعلیمی میدان میں مزید کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے آر ڈی اے کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ عمارتیں اس وقت تعمیر ہوئی تھیں جب یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا، اس لیے اس وقت آر ڈی اے سے نقشہ منظور کرانے کی کوئی قانونی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی قسم کی تکنیکی یا قانونی خامی موجود بھی ہو تو اسے قانونی طریقۂ کار کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔ برسوں کی محنت، وسائل اور عوامی تعاون سے قائم ہونے والی ایک جامعہ کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ نہ صرف غیر مناسب اور جابرانہ ہے بلکہ ملک کے تعلیمی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ اس سے صرف ایک ادارہ یا ایک طبقہ متأثر نہیں ہوگا بلکہ قومی تعلیمی سرمائے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومتِ اتر پردیش اور رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرتے ہوئے انہدام کا نوٹس واپس لے، قانونی مسائل کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرے اور ملک کے اس اہم تعلیمی ادارے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقارالدین لطیفی*
_آفس سکریٹری_
https://www.facebook.com/share/p/1GcMFvH95n/ | 2 131 |
| 17 | گزشتہ چند برسوں میں وقف سے متعلق قانونی تبدیلیوں اور مجوزہ ترامیم نے ملک بھر کے مسلمانوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ ان خدشات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وقف کی خود مختاری، اس کے انتظامی ڈھانچے اور اس کی املاک کے تحفظ سے متعلق متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر علماء، ماہرینِ قانون اور مختلف ملی تنظیموں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا ہے اور آئینی طریقوں سے اپنی آراء متعلقہ اداروں تک پہنچائی ہیں۔
ایسے معاملات میں جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ علمی بحث، آئینی شعور اور قانونی جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں مؤثر اور دیرپا نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ اختلافِ رائے کا اظہار بھی قانون اور دستور کے دائرے میں ہونا چاہیے، کیونکہ یہی جمہوری طرزِ عمل کی علامت ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مؤقف اور کردار
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہمیشہ وقف کے تحفظ کو ملت کا ایک اہم اجتماعی مسئلہ قرار دیا ہے۔ بورڈ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وقف سے متعلق کسی بھی قانون سازی میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات، شرعی اصولوں، آئینی حقوق اور متعلقہ فریقوں کی آراء کو پوری سنجیدگی سے ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
اسی مقصد کے تحت بورڈ نے مختلف مواقع پر علماء، ماہرینِ قانون، دانشوروں اور عوام کے درمیان بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قانونی اور جمہوری ذرائع اختیار کرتے ہوئے اپنی رائے مؤثر انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچائیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ملت اپنے مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ آئین، قانون اور اجتماعی حکمت کے اندر تلاش کرنا چاہتی ہے۔
وقت کا اہم تقاضا: اتحاد، شعور اور مثبت کردار
موجودہ حالات کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اپنے مشترکہ مسائل پر متحد ہوں۔ اختلافِ مسلک یا فقہی تنوع اپنی جگہ ایک علمی حقیقت ہے، لیکن جب معاملہ شریعت، مذہبی آزادی، دینی اداروں اور ملی تشخص کا ہو تو امت کی وحدت ہی اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
اس وقت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دینی شعور میں اضافہ کرے، نوجوان نسل کو شریعت کی اہمیت سے آگاہ کرے، اپنے دستوری حقوق کو سمجھے، اور ہر ایسے اجتماعی اقدام میں شریک ہو جو ملک کے آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے مذہبی آزادی، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہو۔
ملت کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی اس نے اتحاد، صبر، حکمت اور بصیرت کو اپنا شعار بنایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیے۔ آج بھی کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے تدبر، انتشار کے بجائے اجتماعیت، اور مایوسی کے بجائے امید و استقامت کو اختیار کریں۔
یکساں سول کوڈ، ہندوستان کی تکثیری شناخت اور مسلم پرسنل لا کی آئینی حیثیت
ہندوستان اپنی سرزمین، تاریخ اور تہذیب کے اعتبار سے ایک ایسا منفرد ملک ہے جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، تہذیبوں، زبانوں اور ثقافتوں کے ماننے والے باہمی احترام اور بقائے باہمی کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔ یہی مذہبی و ثقافتی تنوع ہندوستان کی اصل شناخت اور اس کی جمہوری روح ہے۔ دستورِ ہند نے بھی اسی تاریخی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، تہذیبی انفرادیت اور اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے کا بنیادی حق عطا کیا ہے۔
اسی تناظر میں مسلم پرسنل لا محض ایک قانونی نظام نہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی شناخت، عائلی زندگی اور شرعی احکام سے وابستگی کا عملی اظہار ہے۔ نکاح، طلاق، خلع، وراثت، وصیت اور خاندانی معاملات اسلام کے نزدیک صرف سماجی رسمیں نہیں بلکہ دینی احکام ہیں، جن کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ اس لیے مسلمان انہیں محض قانونی ضابطوں کے طور پر نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر اختیار کرتے ہیں۔
اتحاد میں قوت، تنوع میں حسن
یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہندوستان کا حسن اس کی وحدت میں پوشیدہ تنوع ہے۔ مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات کا احترام ہی اس ملک کی اجتماعی طاقت رہا ہے۔ چنانچہ ایسا کوئی بھی قومی مکالمہ جو شخصی قوانین یا دیگر حساس موضوعات سے متعلق ہو، اس میں تمام متعلقہ طبقات کے تحفظات، آراء اور دستوری حقوق کو سنجیدگی سے سننا اور ملحوظ رکھنا جمہوری روایت کا تقاضا ہے۔
ملتِ اسلامیہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے موقف کو دلیل، حکمت، آئینی شعور اور پُرامن ذرائع کے ساتھ پیش کرے۔ جذباتی ردِّعمل یا باہمی انتشار کسی بھی اجتماعی مقصد کو کمزور کرتا ہے، جبکہ اتحاد، بردباری اور منظم کوششیں دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔
موجودہ حالات میں ہماری اجتماعی ذمہ داریاں | 1 628 |
| 18 | مسلم پرسنل لا کسی مخصوص طبقے کو حاصل کوئی خصوصی رعایت یا وقتی قانونی استثنا نہیں، بلکہ یہ ہندوستان کے دستور میں تسلیم شدہ مذہبی آزادی کا ایک فطری اور آئینی تقاضا ہے۔ اس کی بنیاد مسلمانوں کے اس بنیادی حق پر قائم ہے کہ وہ اپنی عائلی زندگی—نکاح، طلاق، خلع، وراثت، وصیت اور خاندانی معاملات—کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق منظم کریں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم پرسنل لا کو محض ایک قانونی ضابطہ قرار دینا اس کے حقیقی مقام و مرتبہ کو محدود کر دینا ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کے دینی تشخص، تہذیبی انفرادیت اور مذہبی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔
ہندوستان کا آئین مذہبی آزادی، تہذیبی تنوع اور ثقافتی کثرت کا ضامن ہے۔ دستورِ ہند کی روح یہ ہے کہ اس ملک میں آباد ہر مذہبی گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی تہذیب کو محفوظ رکھنے اور اپنے مذہبی و عائلی معاملات کو اپنے عقیدے کے مطابق انجام دینے کی آزادی حاصل رہے۔ یہی ہندوستان کی صدیوں پر محیط گنگا جمنی تہذیب، قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کی بنیاد بھی ہے۔
اسی حقیقت کے پیشِ نظر مسلم پرسنل لا کا تحفظ کسی ایک طبقے یا جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی اور ہندوستان کے تکثیری تشخص کے تحفظ کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر کسی ایک مذہبی طبقے کے مسلمہ مذہبی حقوق کو محدود کرنے کی روایت قائم ہو جائے تو اس کے اثرات دیگر مذہبی اور ثقافتی اکائیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں، بلکہ ہندوستان کے دستوری مزاج اور جمہوری روایت سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داریاں
موجودہ حالات مسلمانوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ جذباتیت، انتشار اور باہمی اختلافات سے بلند ہو کر حکمت، اتحاد اور بصیرت کے ساتھ اپنے دینی اور دستوری حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ملت نے اتحاد کا دامن مضبوطی سے تھاما، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں، اور جب اختلافات نے جگہ لی تو اجتماعی قوت کمزور ہوئی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے اندر شریعت سے وابستگی کو مضبوط کرے، اپنے خاندان میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دے، نوجوان نسل کو اسلامی تہذیب سے جوڑے، اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے تمام اجتماعی اقدامات کا حصہ بنے جو مذہبی آزادی، ملی تشخص اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ ہوں۔
اس موقع پر یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک علمی حقیقت ہے، لیکن مشترکہ ملی مسائل میں اتحاد، باہمی اعتماد اور حسنِ ظن وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ملت اپنی دینی شناخت بھی محفوظ رکھ سکتی ہے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی موجودہ اہمیت
ان حالات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ذمہ داری اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ ادارہ نصف صدی سے مسلمانوں کے مذہبی و عائلی حقوق کی آئینی اور پُرامن انداز میں ترجمانی کرتا چلا آرہا ہے۔ اس نے ہر دور میں مسلمانوں کو صبر، حکمت، اعتدال، اتحاد اور قانونی جدوجہد کا راستہ دکھایا ہے، اور یہی وہ اسلوب ہے جو ایک جمہوری معاشرے میں دیرپا نتائج کا ضامن بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت اس اجتماعی پلیٹ فارم کو مضبوط کرے، اس کی جائز اور آئینی کوششوں کا تعاون کرے، اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ان مسائل میں متحد ہو جائے جن کا تعلق پوری ملت کے مستقبل، دینی تشخص اور مذہبی آزادی سے ہے۔
وقف، موجودہ قانونی چیلنجز اور اجتماعی بیداری کی ناگزیر ضرورت
وقف اسلامی تہذیب کا ایک ایسا روشن اور زندہ ادارہ ہے جس نے صدیوں تک دینی، تعلیمی، سماجی اور رفاہی خدمات کی آبیاری کی ہے۔ اسلام نے مال و دولت کو محض ذاتی منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اس کے ایک حصے کو دائمی خیر اور اجتماعی فلاح کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں مساجد، مدارس، مکاتب، خانقاہیں، یتیم خانے، شفاخانے، مسافر خانے، قبرستان اور بے شمار رفاہی ادارے وقف ہی کے وسائل سے قائم اور آباد رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وقف محض زمین یا جائیداد کا نام نہیں، بلکہ امت کی دینی، علمی اور تہذیبی زندگی کا ایک مضبوط ستون ہے۔
ہندوستان میں بھی وقف کی جائیدادیں مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور سماجی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ جائیدادیں کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام پر امت کے اجتماعی مفاد کے لیے مخصوص ہیں۔ اس لیے ان کا تحفظ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک شرعی، اخلاقی اور ملی ذمہ داری بھی ہے۔
وقف کے سلسلے میں موجودہ چیلنج | 1 896 |
| 19 | [16/07, 7:56 pm] Noor Bhai New Smd: *مسلم پرسنل لا کی اہمیت و افادیت اور موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داری*
*آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ:* تحفظِ شریعت کی نصف صدی پر محیط درخشاں جدوجہد
✍️ از: *_ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی_*
https://www.facebook.com/share/p/1Kxf1B4rTG/
------------------------------------------
اسلام محض چند عبادات یا مذہبی رسوم کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا کامل، جامع اور ابدی نظامِ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر انفرادی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی، خاندانی، عدالتی اور اخلاقی شعبے کے لیے خدائی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نکاح و طلاق، وراثت، وصیت، خاندان، معاملات اور معاشرت سے متعلق جو احکام قرآن و سنت نے عطا کیے ہیں، وہی اسلامی اصطلاح میں مسلم پرسنل لا یا اسلامی عائلی قانون کہلاتے ہیں۔ یہی قوانین مسلمان کے دینی تشخص، خاندانی استحکام، مذہبی آزادی اور تہذیبی انفرادیت کے ضامن ہیں۔
ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور تکثیری معاشرے میں مسلم پرسنل لا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دستورِ ہند نے ہر مذہبی جماعت کو اپنے مذہبی عقائد اور عائلی قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا بنیادی حق عطا کیا ہے۔ اس لیے مسلم پرسنل لا کا تحفظ محض ایک قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، آئینی حقوق، تہذیبی شناخت اور دستوری اقدار کے تحفظ کا عنوان بھی ہے۔
موجودہ حالات میں جبکہ مسلم پرسنل لا، وقف املاک، مذہبی آزادی اور یکساں سول کوڈ جیسے حساس موضوعات قومی سطح پر زیرِ بحث ہیں، ملتِ اسلامیہ کی ذمہ داری دوچند ہوجاتی ہے کہ وہ حکمت، بصیرت، اتحاد اور آئینی شعور کے ساتھ اپنے دینی و دستوری حقوق کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد کرے۔ ایسے نازک حالات میں ایک ایسے متحدہ اور نمائندہ پلیٹ فارم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے جو ملت کی اجتماعی ترجمانی کرسکے اور اس کی جائز آئینی و مذہبی آواز کو مؤثر انداز میں پیش کرسکے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ: اتحادِ ملت کی روشن علامت
اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت سنہ 1973ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ادارہ آج ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا، معتبر، نمائندہ اور مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جس نے نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران ہر نازک مرحلے پر ملتِ اسلامیہ کی دینی، قانونی اور آئینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔
اس ادارے کا قیام اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے فقہی، مسلکی اور جماعتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر شریعتِ اسلامی، مذہبی آزادی اور مشترکہ ملی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں۔ یہی اس ادارے کی سب سے بڑی قوت اور اس کی تاریخی کامیابی ہے۔
بصیرت، عزیمت اور استقامت کی درخشاں روایت
مفکرِ اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
«"مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاریخ ایمان و یقین کے متوالوں کی تاریخ ہے، بصارت و بصیرت، جرأت و عزیمت کی تاریخ ہے، صبر و تحمل، حکمت و احتیاط اور سوز و دروں کے ساتھ جذبۂ عمل کی تاریخ ہے۔ وہ احتیاط جو بزدلی پیدا کرے، وہ پرہیز جو حالات سے فرار سکھائے، وہ صبر جو ظلم کے سامنے بے حسی بن جائے اور وہ برداشت جو بے عملی تک پہنچا دے، زندہ افراد اور زندہ اداروں کے لیے ہرگز قابلِ قبول نہیں۔"»
یہ چند جملے دراصل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی نصف صدی پر محیط جدو جہد کا جامع تعارف ہیں۔ اس ادارے نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے بجائے حکمت، تصادم کے بجائے آئینی جدو جہد، اور انتشار کے بجائے اتحادِ امت کو اپنی حکمتِ عملی بنایا ہے۔ یہی اس کی مقبولیت، استحکام اور اعتماد کا اصل راز ہے۔
قیام کے مقاصد اور امتیازی خصوصیات
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مقصد صرف مسلم عائلی قوانین کا تحفظ نہیں، بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے تمام فقہی مکاتبِ فکر اور دینی جماعتوں کے درمیان خیر سگالی، اخوت، تعاون اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا بھی ہے، تاکہ ملت کے مشترکہ دینی، ملی اور آئینی مسائل میں ایک مضبوط، مؤثر اور متفقہ آواز سامنے آسکے۔
بورڈ نے اپنے قیام ہی کے وقت یہ اصول طے کردیا تھا کہ اتحادِ امت کا مطلب مسالک کا انضمام یا فقہی اختلافات کا خاتمہ نہیں، بلکہ اپنے اپنے فقہی موقف پر پوری دیانت کے ساتھ قائم رہتے ہوئے مشترکہ دینی و ملی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہے۔
اسی حکیمانہ فکر کا نتیجہ ہے کہ اس پلیٹ فارم پر دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، شیعہ، حنفی، شافعی، مقلد، غیر مقلد اور بوہرہ سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، دانشور اور قائدین ایک ہی صف میں ملت کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے شریکِ سفر رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ اتحاد ہندوستانی مسلمانوں کی اجتماعی بصیرت، دینی شعور اور ملی یکجہتی کی ایک درخشاں مثال ہے۔
مسلم پرسنل لا: مذہبی آزادی، آئینی تحفظ اور تہذیبی شناخت کی اساس | 2 461 |
| 20 | Matn yo'q... | 2 342 |
