uk
Feedback
Baloch Yakjehti Committee

Baloch Yakjehti Committee

Відкрити в Telegram

Official channel of Baloch Yakjehti Committee

Показати більше
2 913
Підписники
-424 години
-167 днів
-1630 днів

Триває завантаження даних...

Залучення підписників
вересень '26
вересень '26
+3
в 0 каналах
серпень '26
+86
в 1 каналах
Get PRO
липень '26
+154
в 2 каналах
Get PRO
червень '26
+83
в 1 каналах
Get PRO
травень '26
+64
в 1 каналах
Get PRO
квітень '26
+68
в 1 каналах
Get PRO
березень '26
+84
в 0 каналах
Get PRO
лютий '26
+174
в 1 каналах
Get PRO
січень '26
+113
в 4 каналах
Get PRO
грудень '25
+76
в 1 каналах
Get PRO
листопад '25
+69
в 2 каналах
Get PRO
жовтень '25
+72
в 1 каналах
Get PRO
вересень '25
+108
в 0 каналах
Get PRO
серпень '25
+93
в 1 каналах
Get PRO
липень '25
+156
в 2 каналах
Get PRO
червень '25
+96
в 3 каналах
Get PRO
травень '25
+214
в 2 каналах
Get PRO
квітень '25
+152
в 3 каналах
Get PRO
березень '25
+444
в 5 каналах
Get PRO
лютий '25
+92
в 2 каналах
Get PRO
січень '25
+284
в 2 каналах
Get PRO
грудень '24
+118
в 1 каналах
Get PRO
листопад '24
+173
в 1 каналах
Get PRO
жовтень '24
+243
в 1 каналах
Get PRO
вересень '24
+1 190
в 0 каналах
Дата
Залучення підписників
Згадування
Канали
02 вересня+1
01 вересня+2
Дописи каналу
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

2
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
131
3
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
117
4
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
176
5
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
31
6
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
184
7
خاموش چیخ نجانے وہ کب سے چھت پر بیٹھی ہوئی چاند کو دیکھ کر انہی حسین لمحات کو یاد کر رہی تھی۔ چودھویں کا چاند شاید پہلے اتنا دردناک نہ تھا۔ وہ اپنے بھائی کے ان لمحات کو یاد کر رہی تھی کہ کیسے نقاب پوش وردی میں ملبوس اہلکار اس کے بھائی کو مار کر لے جا رہے تھے اور وہ خوف کی اس ساکت حالت میں کچھ نہ کر سکی۔ اسی دوران جب بڑی بہن نے زور سے کہا کہ میرے بھائی کے پاؤں میں راڈ ہیں، اسے بخش دو۔ لیکن ایک قہقہ گونج اٹھا۔ بوٹوں اور لاٹھیوں کا رخ اس زخمی حصے کی طرف کیا، پھر پورا محلہ بھائی کی چیخوں سے لرز اٹھا۔ اسی دوران گھر والے اس کی بڑی بہن کو سنبھالتے ہوئے خود ٹوٹ گئے۔ جس بھائی کے ارمانوں کو پورا کرنے کے لیے بہنوں نے اپنے گہنے گروی رکھے، لیکن آج ان پر آسمان گر پڑا ہے اور سب یہی دعا کر رہے تھے کہ کاش اس لمحے سے پہلے زمین پھٹ جاتی اور ہم سب اس میں سما جاتے! اسی دوران ایک فون کال چاروں سمت کی خاموشی کو چیرتی ہوئی اسے جھنجھوڑتی ہے کہ تیس اگست کی کانفرنس میں بھائی کی رہائی کے لیے اپیل کرنا ہے۔ وہ نوٹ بک لیے چھت پر لفظوں کی تلاش میں آسمان کو تکتی جا رہی ہے۔ اسے بھائی کا وہ مذاق یاد آ رہا تھا کہ، "اڑے گھارک ، بس کن تو چینکس گپ جن ئے " یعنی، پیاری بہن، بس کرو، اور کتنا بولو گی۔ وہ نوٹ بک کا پہلا صفحہ پھاڑ دیتی ہے کیونکہ اس کے آنسو ٹپک ٹپک کر الفاظ کی جگہ لے رہے تھے۔ وہ ہمت کر کے لکھنا شروع کر دیتی ہے کہ "ایلم جان"، لیکن آگے ہمت نہ کر کے خیالات میں گم ہو جاتی ہے کہ تمہاری باتونی بہن کے لیے اب ایک لفظ کا لکھنا کتنا مشکل بن چکا ہے۔ لفظ اس کے جذبات کی ترجمانی نہیں کر پا رہے، کیونکہ درد وہ اذیت ہے جس کو ہزاروں کتابیں بھی بیان نہ کر سکیں۔ وہ بہ مشکل لفظوں کو جوڑ توڑ کر چار لفظوں کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اب وہ کانفرنس میں بیٹھی اپنے باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اسی لمحے وہ اپنے جیسی دیگر بہنوں اور ماؤں کو دیکھ کر درد کی یکجائی کو محسوس کر رہی تھی کہ کس طرح یہاں لختِ جگر کو یاد کرتے ہوئے اجتماعی درد کو بیان کیا جا رہا تھا۔ وہ اپنی نوٹ بک کو اپنے کمزور ہاتھوں میں تھامے، ان بکھرے لفظوں کو اپنی یادداشت میں سمو رہی تھی کہ اچانک اس کا نام پکارا جاتا ہے۔ وہ اپنے چھوٹے قدموں سے اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسٹیج ویسے تو بیس قدم کے فاصلے پر تھا، لیکن آج اس کے لیے ایک طویل اور مشکل سفر تھا، کیونکہ اب اس کے لیے ہندسوں کے معنی بدل رہے تھے اور اب وہ لمحوں کو صدیوں کی طرح جی رہی تھی۔ بالآخر وہ اسٹیج پر اپنے مائیک کو سنبھالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے بہن کی وہ مسکراہٹ آ جاتی ہے جس کے متعلق اماں جان نے کہا تھا کہ، "شنکو، اللہ تمہیں نظرِ بد سے بچائے۔" وہ ایک ہی وقت میں ہزاروں لمحوں کو جی رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھوں سے مائیک گر پڑتا ہے اور اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ بس اپنے مہروان بھائی کی تصویر بلند کرتی ہے، جس پر اس کے بھائی کی جبری گمشدگی کی تفصیلات لکھی ہوئی تھیں، اور وہ بوجھل قدموں کے ساتھ واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
209
8
Немає тексту...
179
9
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
222
10
30 اگست جبری گمشدگی کے متاثرین کا عالمی دن ہے۔ چھ سال ہو چکے ہیں کہ میرے شوہر لاپتہ ہیں۔ یہ ظلم کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ میں عدالتوں میں پیش ہوئی ہوں، اسلام آباد گئی ہوں، گوادر گئی ہوں اور ہر تاریخ پر پیش ہوتی رہی ہوں۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ میرے شوہر کا جو بھی قصور ہے، انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر وہ بے گناہ ہیں تو انہیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ میرے معصوم بچے دربدر ہیں۔ ہمارا کوئی گھر نہیں، میرے بچے بے گھر ہیں۔ کبھی ایک وقت کا کھانا ملتا ہے تو دوسرے وقت کے کھانے کا بھی کوئی یقین نہیں ہوتا۔ خدارا میرے شوہر کو عدالت میں پیش کریں۔ میرے شوہر بے گناہ اور بے قصور ہیں۔ میں اور میرے بچے چھ سال سے دربدر ہیں۔ بلوچوں کو مسلسل لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ لاپتہ افراد کے خاندان شدید اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے بچے بھی بہت تکلیف میں ہیں۔ وہ اپنے ابو کی تصویر ہاتھ میں اٹھا کر مجھ سے پوچھتے ہیں: ہمارے ابو کب آئیں گے؟ کب ہمارے ابو دوبارہ گھر میں ہوں گے؟ میرے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ ان کی زندگی اپنے والد کی جدائی اور مسلسل انتظار میں گزر رہی ہے۔ میں ایک بار پھر اپیل کرتی ہوں کہ میرے شوہر کا اگر کوئی قصور ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ میں آج بھی اس امید میں ہوں کہ میرے شوہر واپس آئیں گے۔ مجھے اور میرے بچوں کو مزید تکلیف نہ دیں۔ گزشتہ چھ سال سے میں اور میرے بچے یہ اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ میرا ایک بیٹا بہت بیمار ہے، لیکن اس کے علاج کے لیے بھی میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میرے شوہر بے گناہ ہیں، انہیں بازیاب کیا جائے۔ InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances #EndEnforcedDisappearances
198
11
Немає тексту...
170
12
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
166
13
جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن محض کیلنڈر پر درج ایک دن نہیں، بلکہ دنیا بھر میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد اور اُن کے خاندانوں کے مسلسل کرب، بے یقینی اور طویل انتظار کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ دن اُن تمام خاندانوں کی آواز دنیا تک پہنچانے اور اُن کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کی یاد دہانی ہے، جن کے پیاروں کو اُن سے جدا کر کے ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔جس کا کوئی اختتام مقرر نہیں۔ یہ دن ہمیں اُن ہزاروں خاندانوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو اپنے پیاروں کی واپسی، اُن کے بارے میں سچ اور انصاف کے انتظار میں ہر روز ایک نئے کرب سے گزرتے ہیں۔ جبری گمشدگی صرف ایک انسان کی آزادی چھیننے کا عمل نہیں، بلکہ اُس کے پورے خاندان کو ایک ایسی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس کی کوئی مدت، کوئی حد اور کوئی واضح انجام نہیں ہوتا۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر تھامے اُس کی واپسی کی منتظر رہتی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کے لوٹ آنے کی امید میں راستہ تکتی ہے، اور بچے اپنے والد کی واپسی کے سوال کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے ہر گزرتی صبح ایک ہی سوال سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات اُسی سوال پر ختم ہوتی ہے... وہ کہاں ہے؟ سڑکوں پر بیٹھنے والی مائیں، اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی تصاویر اٹھانے والی بہنیں، اپنے والد کی واپسی کے منتظر بچے اور برسوں سے انصاف کے دروازوں پر دستک دینے والے خاندان۔ اِن کی جدوجہد کسی ایک دن کی جدوجہد نہیں۔ یہ اُن کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ عالمی دن صرف اُس مسلسل جدوجہد کو دنیا کے سامنے رکھنے اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ کسی انسان کو لاپتہ کر دینا اُس کے وجود کو ختم نہیں کرتا اور نہ ہی اُس کے خاندان سے اُس کا تعلق مٹایا جا سکتا ہے۔ اُس کی واپسی کی امید ہر گزرتے دن کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ ہر خاندان کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اُس کا پیارا کہاں ہے، اُس کے ساتھ کیا ہوا، اور اُس کی زندگی، آزادی اور سلامتی کے بارے میں فیصلہ کس اختیار اور کس قانون کے تحت کیا گیا۔ جبری گمشدگی کے خلاف جدوجہد دراصل انسان کے بنیادی حق، زندگی، آزادی، شناخت اور انصاف کے دفاع کی جدوجہد ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہر انسان کو اپنی آزادی اور اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے، اور ہر خاندان کو اپنے پیارے کے بارے میں سچ جاننے کا حق ہے۔ یہ دن ہمیں صرف لاپتہ افراد کو یاد کرنے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ ہم اُن خاندانوں کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ دن ہمیں صرف ماضی کے واقعات یاد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اُن تمام لوگوں کی موجودہ حالت پر توجہ دینے کے لیے بھی مجبور کرتا ہے جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ جبری گمشدگی محض ایک قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا اور جاری انسانی المیہ ہے، جو ایک فرد کے ساتھ ساتھ اُس کے پورے خاندان کو طویل انتظار، بے یقینی اور اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہر متاثرہ خاندان کو اپنے پیارے کے بارے میں سچ جاننے، اُس کی خیریت اور موجودگی سے آگاہ ہونے اور انصاف حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ کسی بھی خاندان کو اپنے عزیز کی قسمت سے بے خبر رکھنا اور اسے مسلسل انتظار کی اذیت میں مبتلا رکھنا انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ #InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances #EndEnforcedDisappearances
169
14
+1
Немає тексту...
134
15
Yasir Nameed was forcibly disappeared on October 11, 2024, from Kalat, while Junaid Hamed was forcibly disappeared on October 8, 2024, from Hub Chowki by security forces. Nearly two years have passed, yet their families are still waiting for answers and their safe return. No family should be forced to live with the endless pain and uncertainty of an enforced disappearance. International community and human rights organizations must take urgent notice, demand their immediate and safe release, and hold those responsible accountable. #InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances #EndEnforcedDisappearances
160
16
Немає тексту...
128
17
𝗔𝗠𝗠𝗔 𝗛𝗔𝗨𝗥𝗜 — 𝗦𝗛𝗘 𝗪𝗔𝗜𝗧𝗘𝗗 𝗨𝗡𝗧𝗜𝗟 𝗛𝗘𝗥 𝗟𝗔𝗦𝗧 𝗕𝗥𝗘𝗔𝗧𝗛 On 30 August, the International Day of the Disappeared, we remember Amma Hauri, a mother who spent years searching for her disappeared son. She knocked on doors, raised her voice, demanded answers, and carried the pain of a mother who was never told where her son was or what had happened to him. But Amma Hauri passed away without seeing her son return. She left this world with the same question she had carried for years: “Where is my son?” Her death is a painful reminder of what enforced disappearance does to families. It does not disappear with the passing of time. It steals years from mothers, turns waiting into a lifetime, and leaves families trapped between hope and grief. Amma Hauri is gone, but her question remains. How many more mothers must die waiting for their children? On this International Day of the Disappeared, we remember Amma Hauri and every mother whose life has been consumed by the pain of enforced disappearance.Their families deserve answers. No mother should die waiting. #EndEnforcedDisappearances #InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances
145
18
Немає тексту...
124
19
میں سعید احمد کی والدہ ہوں۔ 30 اگست جبری گمشدگیوں کا عالمی دن ہے۔ آج میرے بیٹے کو جبری طور پر لاپتہ ہوئے 13 سال گزر چکے ہیں، مگر ایک ماں کا انتظار آج بھی ختم نہیں ہوا۔ 13 سال سے میں اپنے بیٹے کو تلاش کر رہی ہوں۔ ہر دن اس امید کے ساتھ گزرتا ہے کہ شاید آج میرا بیٹا واپس آ جائے گا، شاید آج مجھے اس کے بارے میں کوئی خبر مل جائے گی۔ لیکن 13 سال گزر گئے، نہ میرا بیٹا واپس آیا اور نہ ہمیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہے۔ میں پوچھتی ہوں: ہمارے بیٹے کہاں ہیں؟ ہمارے بچوں کو کہاں رکھا گیا ہے؟ کسی ماں سے اس کے بیٹے کو چھین لینا صرف ایک فرد کو لاپتہ کرنا نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کو برسوں کے انتظار، اذیت اور بے یقینی میں مبتلا کرنا ہے۔ بلوچستان کی مائیں اپنے بچوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ہم اپنے پیاروں کے بارے میں سچ جاننا چاہتے ہیں۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اور اگر کوئی جرم نہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ہماری آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہر وہ ماں اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گی جب تک اس کے بیٹے اپنے گھروں کو واپس نہیں آتے۔ میرے بیٹے کو 13 سال ہو گئے، مگر میرا انتظار آج بھی زندہ ہے۔ #EndEnforcedDisappearances #InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances
142
20
Немає тексту...
124