Baloch Yakjehti Committee
Ir al canal en Telegram
2 917
Suscriptores
-324 horas
-77 días
-930 días
Carga de datos en curso...
Canales Similares
Nube de Etiquetas
Menciones Entrantes y Salientes
---
---
---
---
---
---
Atraer Suscriptores
agosto '26
agosto '26
+86
en 1 canales
julio '26
+154
en 2 canales
Get PRO
junio '26
+83
en 1 canales
Get PRO
mayo '26
+64
en 1 canales
Get PRO
abril '26
+68
en 1 canales
Get PRO
marzo '26
+84
en 0 canales
Get PRO
febrero '26
+174
en 1 canales
Get PRO
enero '26
+113
en 4 canales
Get PRO
diciembre '25
+76
en 1 canales
Get PRO
noviembre '25
+69
en 2 canales
Get PRO
octubre '25
+72
en 1 canales
Get PRO
septiembre '25
+108
en 0 canales
Get PRO
agosto '25
+93
en 1 canales
Get PRO
julio '25
+156
en 2 canales
Get PRO
junio '25
+96
en 3 canales
Get PRO
mayo '25
+214
en 2 canales
Get PRO
abril '25
+152
en 3 canales
Get PRO
marzo '25
+444
en 5 canales
Get PRO
febrero '25
+92
en 2 canales
Get PRO
enero '25
+284
en 2 canales
Get PRO
diciembre '24
+118
en 1 canales
Get PRO
noviembre '24
+173
en 1 canales
Get PRO
octubre '24
+243
en 1 canales
Get PRO
septiembre '24
+1 190
en 0 canales
| Fecha | Crecimiento de Suscriptores | Menciones | Canales | |
| 31 agosto | +2 | |||
| 30 agosto | +1 | |||
| 29 agosto | +1 | |||
| 28 agosto | +4 | |||
| 27 agosto | 0 | |||
| 26 agosto | +1 | |||
| 25 agosto | +4 | |||
| 24 agosto | +2 | |||
| 23 agosto | 0 | |||
| 22 agosto | +2 | |||
| 21 agosto | +3 | |||
| 20 agosto | +4 | |||
| 19 agosto | +4 | |||
| 18 agosto | +5 | |||
| 17 agosto | 0 | |||
| 16 agosto | +4 | |||
| 15 agosto | +1 | |||
| 14 agosto | +3 | |||
| 13 agosto | +8 | |||
| 12 agosto | +6 | |||
| 11 agosto | +2 | |||
| 10 agosto | +4 | |||
| 09 agosto | +3 | |||
| 08 agosto | +1 | |||
| 07 agosto | +1 | |||
| 06 agosto | +8 | |||
| 05 agosto | +1 | |||
| 04 agosto | +4 | |||
| 03 agosto | +2 | |||
| 02 agosto | +2 | |||
| 01 agosto | +3 |
Publicaciones del Canal
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
| 2 | 30 اگست جبری گمشدگی کے متاثرین کا عالمی دن ہے۔
چھ سال ہو چکے ہیں کہ میرے شوہر لاپتہ ہیں۔ یہ ظلم کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ میں عدالتوں میں پیش ہوئی ہوں، اسلام آباد گئی ہوں، گوادر گئی ہوں اور ہر تاریخ پر پیش ہوتی رہی ہوں۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ میرے شوہر کا جو بھی قصور ہے، انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر وہ بے گناہ ہیں تو انہیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
میرے معصوم بچے دربدر ہیں۔ ہمارا کوئی گھر نہیں، میرے بچے بے گھر ہیں۔ کبھی ایک وقت کا کھانا ملتا ہے تو دوسرے وقت کے کھانے کا بھی کوئی یقین نہیں ہوتا۔
خدارا میرے شوہر کو عدالت میں پیش کریں۔ میرے شوہر بے گناہ اور بے قصور ہیں۔ میں اور میرے بچے چھ سال سے دربدر ہیں۔ بلوچوں کو مسلسل لاپتہ کیا جا رہا ہے۔
میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ لاپتہ افراد کے خاندان شدید اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے بچے بھی بہت تکلیف میں ہیں۔ وہ اپنے ابو کی تصویر ہاتھ میں اٹھا کر مجھ سے پوچھتے ہیں: ہمارے ابو کب آئیں گے؟ کب ہمارے ابو دوبارہ گھر میں ہوں گے؟
میرے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ ان کی زندگی اپنے والد کی جدائی اور مسلسل انتظار میں گزر رہی ہے۔
میں ایک بار پھر اپیل کرتی ہوں کہ میرے شوہر کا اگر کوئی قصور ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ میں آج بھی اس امید میں ہوں کہ میرے شوہر واپس آئیں گے۔
مجھے اور میرے بچوں کو مزید تکلیف نہ دیں۔ گزشتہ چھ سال سے میں اور میرے بچے یہ اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ میرا ایک بیٹا بہت بیمار ہے، لیکن اس کے علاج کے لیے بھی میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔
میرے شوہر بے گناہ ہیں، انہیں بازیاب کیا جائے۔
InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances
#EndEnforcedDisappearances | 136 |
| 3 | Sin texto... | 121 |
| 4 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 115 |
| 5 | جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن
جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن محض کیلنڈر پر درج ایک دن نہیں، بلکہ دنیا بھر میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد اور اُن کے خاندانوں کے مسلسل کرب، بے یقینی اور طویل انتظار کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ دن اُن تمام خاندانوں کی آواز دنیا تک پہنچانے اور اُن کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کی یاد دہانی ہے، جن کے پیاروں کو اُن سے جدا کر کے ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔جس کا کوئی اختتام مقرر نہیں۔ یہ دن ہمیں اُن ہزاروں خاندانوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو اپنے پیاروں کی واپسی، اُن کے بارے میں سچ اور انصاف کے انتظار میں ہر روز ایک نئے کرب سے گزرتے ہیں۔
جبری گمشدگی صرف ایک انسان کی آزادی چھیننے کا عمل نہیں، بلکہ اُس کے پورے خاندان کو ایک ایسی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس کی کوئی مدت، کوئی حد اور کوئی واضح انجام نہیں ہوتا۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر تھامے اُس کی واپسی کی منتظر رہتی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کے لوٹ آنے کی امید میں راستہ تکتی ہے، اور بچے اپنے والد کی واپسی کے سوال کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے ہر گزرتی صبح ایک ہی سوال سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات اُسی سوال پر ختم ہوتی ہے... وہ کہاں ہے؟
سڑکوں پر بیٹھنے والی مائیں، اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی تصاویر اٹھانے والی بہنیں، اپنے والد کی واپسی کے منتظر بچے اور برسوں سے انصاف کے دروازوں پر دستک دینے والے خاندان۔ اِن کی جدوجہد کسی ایک دن کی جدوجہد نہیں۔ یہ اُن کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ عالمی دن صرف اُس مسلسل جدوجہد کو دنیا کے سامنے رکھنے اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
کسی انسان کو لاپتہ کر دینا اُس کے وجود کو ختم نہیں کرتا اور نہ ہی اُس کے خاندان سے اُس کا تعلق مٹایا جا سکتا ہے۔ اُس کی واپسی کی امید ہر گزرتے دن کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ ہر خاندان کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اُس کا پیارا کہاں ہے، اُس کے ساتھ کیا ہوا، اور اُس کی زندگی، آزادی اور سلامتی کے بارے میں فیصلہ کس اختیار اور کس قانون کے تحت کیا گیا۔
جبری گمشدگی کے خلاف جدوجہد دراصل انسان کے بنیادی حق، زندگی، آزادی، شناخت اور انصاف کے دفاع کی جدوجہد ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہر انسان کو اپنی آزادی اور اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے، اور ہر خاندان کو اپنے پیارے کے بارے میں سچ جاننے کا حق ہے۔
یہ دن ہمیں صرف لاپتہ افراد کو یاد کرنے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ ہم اُن خاندانوں کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ دن ہمیں صرف ماضی کے واقعات یاد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اُن تمام لوگوں کی موجودہ حالت پر توجہ دینے کے لیے بھی مجبور کرتا ہے جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ جبری گمشدگی محض ایک قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا اور جاری انسانی المیہ ہے، جو ایک فرد کے ساتھ ساتھ اُس کے پورے خاندان کو طویل انتظار، بے یقینی اور اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہر متاثرہ خاندان کو اپنے پیارے کے بارے میں سچ جاننے، اُس کی خیریت اور موجودگی سے آگاہ ہونے اور انصاف حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ کسی بھی خاندان کو اپنے عزیز کی قسمت سے بے خبر رکھنا اور اسے مسلسل انتظار کی اذیت میں مبتلا رکھنا انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
#InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances
#EndEnforcedDisappearances | 122 |
| 6 | Sin texto... | 88 |
| 7 | Yasir Nameed was forcibly disappeared on October 11, 2024, from Kalat, while Junaid Hamed was forcibly disappeared on October 8, 2024, from Hub Chowki by security forces.
Nearly two years have passed, yet their families are still waiting for answers and their safe return. No family should be forced to live with the endless pain and uncertainty of an enforced disappearance.
International community and human rights organizations must take urgent notice, demand their immediate and safe release, and hold those responsible accountable.
#InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances
#EndEnforcedDisappearances | 105 |
| 8 | Sin texto... | 95 |
| 9 | 𝗔𝗠𝗠𝗔 𝗛𝗔𝗨𝗥𝗜 — 𝗦𝗛𝗘 𝗪𝗔𝗜𝗧𝗘𝗗 𝗨𝗡𝗧𝗜𝗟 𝗛𝗘𝗥 𝗟𝗔𝗦𝗧 𝗕𝗥𝗘𝗔𝗧𝗛
On 30 August, the International Day of the Disappeared, we remember Amma Hauri, a mother who spent years searching for her disappeared son.
She knocked on doors, raised her voice, demanded answers, and carried the pain of a mother who was never told where her son was or what had happened to him.
But Amma Hauri passed away without seeing her son return. She left this world with the same question she had carried for years:
“Where is my son?”
Her death is a painful reminder of what enforced disappearance does to families. It does not disappear with the passing of time. It steals years from mothers, turns waiting into a lifetime, and leaves families trapped between hope and grief.
Amma Hauri is gone, but her question remains.
How many more mothers must die waiting for their children?
On this International Day of the Disappeared, we remember Amma Hauri and every mother whose life has been consumed by the pain of enforced disappearance.Their families deserve answers. No mother should die waiting.
#EndEnforcedDisappearances
#InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances | 110 |
| 10 | Sin texto... | 99 |
| 11 | میں سعید احمد کی والدہ ہوں۔
30 اگست جبری گمشدگیوں کا عالمی دن ہے۔ آج میرے بیٹے کو جبری طور پر لاپتہ ہوئے 13 سال گزر چکے ہیں، مگر ایک ماں کا انتظار آج بھی ختم نہیں ہوا۔
13 سال سے میں اپنے بیٹے کو تلاش کر رہی ہوں۔ ہر دن اس امید کے ساتھ گزرتا ہے کہ شاید آج میرا بیٹا واپس آ جائے گا، شاید آج مجھے اس کے بارے میں کوئی خبر مل جائے گی۔ لیکن 13 سال گزر گئے، نہ میرا بیٹا واپس آیا اور نہ ہمیں بتایا گیا کہ وہ کہاں ہے۔
میں پوچھتی ہوں: ہمارے بیٹے کہاں ہیں؟ ہمارے بچوں کو کہاں رکھا گیا ہے؟
کسی ماں سے اس کے بیٹے کو چھین لینا صرف ایک فرد کو لاپتہ کرنا نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کو برسوں کے انتظار، اذیت اور بے یقینی میں مبتلا کرنا ہے۔
بلوچستان کی مائیں اپنے بچوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ہم اپنے پیاروں کے بارے میں سچ جاننا چاہتے ہیں۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اور اگر کوئی جرم نہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ہماری آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہر وہ ماں اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گی جب تک اس کے بیٹے اپنے گھروں کو واپس نہیں آتے۔
میرے بیٹے کو 13 سال ہو گئے، مگر میرا انتظار آج بھی زندہ ہے۔
#EndEnforcedDisappearances
#InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances | 107 |
| 12 | Sin texto... | 99 |
| 13 | آزمانک
بیگْواہ
سال 1960 اِنت۔ زمستان اِنت۔ جاگہ کوچو اِنت۔ ورنائیں جنین روتاپ ءَ نشتگ۔ برے دریگ ءَ چار اِیت، برے دروازگ ءَ، ءُ برے چَمّاں کاپر ءَ سَکّ دنت۔
پاد اَتک، دروازگ ءِ دپ ءَ اوشتات، کبلہ ءَ راہ ءَ چارگ ءَ لگ اِت، پد ءَ دروازگ ءَ کُبلے جت ئِے۔ دریگ ءِ نیمگ ءَ اَتک، ارس ئِے پھک کت اَنت، دوبر روتاپ ءَ نشت ءُ گد دوچگ ءَ لگ اِت۔
الکاپیں ساھتے گْوست۔ جنین ءَ آزمان چار اِت۔ سْیاھیں چادر ئِے مانپوشت۔ گْونڈو لیب ءَ اِت اَنت، یکّے کَش ءَ نشت ئِے، گوں گْونڈو ءِ چارگ ءَ دست ئِے پندول ءَ بُرت، بُتُکّے دَر ئِے کت۔
”گلیوگ ءَ ئے؟“ گْونڈو ءَ کند اِت۔
دست ئِے گْونڈو ءِ سر ءَ مَرز اِت۔ بُتُکّے چُک اِت ءُ پندول ءَ ئِے کت۔ پد ءَ چَہ پندول ءَ چابی یے دَر ئِے کت۔ ”دروازگ ءَ گِندئے. ایشی واھُند، داں شپیگ ءَ کیت، رند ءَ نہ گْریواں۔“
سال 1980 اِنت۔ گرماگی سُھبے۔ جاگہ پِٹّوک اِنت۔ چِل سالی بُرز ءُ پْراہ پیشانیگیں جنینے، گْونڈواں وانینگ ءَ اِنت۔ گْونڈوے شیتانی ءَ لگ اِت، نام ئِے توار جت۔ گْونڈو اَتک۔
”کولیگ باتوں۔ شیتانی شَرّیں کارے نہ اِنت۔“ اَرس ئِے رِتک اَنت۔ دیم ءَ نشتگیں جِنکّویے پاد اَتک۔ ”باجی تو چو کسان دل ئے؟“
شیتانیں گْونڈو ءِ پیشانیگ ئِے چُک اِت۔ ”تئی نام جہانگول چوں شوک اِنت۔ ھمیشی ءَ گْریوائینت۔“
سْیاھیں چادر ئِے مانپوشت۔ دست ئِے پندول ءَ بُرت۔ چابی دَر ئِے کت، چارگ ءَ ئِے لگ اِت۔ ”آئی ءِ گْور ءَ ھم چابی یے اَست۔ اگاں پیسر ءَ دانکہ شپیگ ءَ لوگ ءَ روت۔“
سال 1990 اِنت۔ جاگہ کوئٹہ سول نادْراہجاہ اِنت۔ پنجاہ سالی لاگریں نرسے، چَمّانی کوس ئِے سْیاہ تَر اِتگ اَنت۔ سْیاھیں چادرے سر ءَ ئِے۔
نوک آؤرتگیں نادْراھے پریات ءَ اَت۔ ”من مِراں، داکتر کُج اِنت؟“
نرس ءَ نادْراہ ءِ ھال گِپت۔ گوں دگہ نرسے ءِ کَمَک ءَ تھتے ءَ واپینت ئِے۔ ڈرپے جَت ئِے، رند ءَ گوں نادْراہ ءَ گْوشت ئِے۔ ”اوپار کُرت کن ئے، آ دانکہ شپیگ ءَ کیت۔“
سال 2022 اِنت۔ شہر گْوادر اِنت۔ جَنّت بازار اِنت۔ بَلّکے دکانے ءَ نشتگ۔ سْیاھیں چادرے سر ءَ اِنت ئِے۔ چیز بہا گِروکے اَتک، ماسکے جَتگ اِتگ ئِے، روک روک ءَ چارگ ءَ لگ اِت۔ ”بَلُّک بَے ماسک ءَ اِد ءَ چے کن ئے، کرونا ءِ وَیل شنگ اِنت۔ تو اے اُمر ءَ لوگ ءَ بہ نند۔“
”دُکّان منیگ اِنت، تو چے زُورئے؟“
گِراک ءَ چیز زُرت۔ ھزاریگی دات ئِے۔ بَلّک ءَ پہ پَچیں زَرّاں دست پندول ءَ بُرت۔ پندول ءِ دْرائیں چیز ئِے دَر کت اَنت۔ زَرّاں ھساب ءَ لگ اِت۔
دست ئِے دْرھگ ءَ اِت اَنت۔
”بَلّک آ دگہ زَر تئیگ اَنت۔“ گِراک ءَ بچکند اِت۔ ”چابی وَ دکان ئیگ اِنت، بلے اے بُتُک چی ءَ پندول ءَ اَت؟ بِگِندئے شِرک ءُ پال کن ئے؟“
بُتُک ئِے دل سر ءَ داشت۔ ”اِنّاں۔ چابی دو اَنت۔ من ءَ رَوَگ ءَ دیر بیت۔ آ دانکہ شپیگ ءَ کیت، لوگ ءِ چابی یے گون اِنت ئِے۔“
21 اگست 2026، روچ آدینگ اِنت۔ جاگہ تربت سنٹرل جیل اِنت۔ مردم کیزیانی چارگ ءَ آیگ ءُ روان اَنت۔ شکستیں بَلُّکے، جیل ءِ مزنیں دروازگ ءِ کَش ءَ دیوال ءِ بُن ءَ لَٹّ ءِ کُمَک ءَ نشتگ۔ چَمّ ئِے پِچّ ءَ پُر اَنت، دیم ئِے کْرچک اِنت۔ دنتان ئِے مان نیست۔
شَست سالی کماشے ءِ اناگہ چَم ئِے کپت اَنت، روک روک ءَ چار اِت ئِے۔ ”نرس تو پرے واری ءَ؟“ سنگت ئِے توار جت، آ گوں جیل دروازگ ءِ گاٹی پولیس ءَ وژگَپّی ءَ اَت۔ ھما اتک ءُ ھیران بوت۔ ”باجی تو؟“
دگہ ورناھے ءَ جیلی سْیاد چار اِتگ اَت۔ گاڑی ءِ نیمگ ءَ روان اَت، پد ءَ ھمیشانی نیمگ ءَ اَتک، پہ بَلُّک ءِ کُمَک ءَ دستے کیسّگ ءَ بُرت، جیڑگے ءَ کپت۔ ”بَلّک تو ھما دکان ءِ واھُند نہ ئے؟“
جیل دپ ءِ گاٹ اَتک۔ ”بَلّک مرچی ھم تئی مردم نہ یَتک؟“
بَلّک ءَ بُتُک کَش اِت، کَلَھے بچکند اِت ئِے۔ ”پرواہ نیست۔ چابی یے گون ئِے، انشپی کیت۔“
گاٹی سپاھیگ ءَ گوں ھمے اوشتاتگیناں گپ جت۔ ”پیسر ءَ اِد ءَ منی پت گاٹ بوتگ، ھمائی ءَ من ءَ گْوشتگ؛ جنین چَہ 1960 ءَ ھَمُک آدینگ اِد ءَ کَیت.“ گاٹ دمانکے ھاموش بوت۔ ”پِت ءَ رند، من دارگ بوتگاں، چا کہ من ءَ یات کنت، ھَمُک آدینگ ھمد ءَ اِنت۔“
بَلّک لَٹّ ءِ کُمَک ءَ پاد اَتک، سْرین ئِے دوتل اَت، دست ئِے دْرھگ ءَ اِت اَنت۔ سْیاھیں چادر ئِے شر کت۔ "جہانگول گار ءُ بیگْواہ اِنت۔ چَہ لوگ ءَ سپاھیگاں بُرت؛ لھتے ءَ گْوشت؛ ”مُرتگ۔“ سْیاداں سکین دات؛ ”سانگے بہ کن۔“ من دائم گْوشت۔ ”بے وپایے نیاں۔“
لنککے گاٹی پولیس ءِ نیمگ ءَ شھار ئِے دات۔ ” ایشی ءِ پت زانت کہ جہانگول کجا بُرتگ اِش۔“
چابی چُک اِت ئِے۔ ”اے مئے لوگ ءِ چابی اِنت۔ من گُد دوتک ءُ ونت، باجی یے بوتاں، گیشتر ونت، نادْراجاہ ءَ نرس ءِ کارے رَس اِت۔ نوکری ءَ رند، دکانے پَچ کت۔“ ساھتے ءَ رند آھے کَش اِت ئِے۔ ”بلے ودار انگت ورناہ اِنت. آ دانکہ شپیگ ءَ کیت، آئی ءِ گْور ءَ ھم چابی ہے اَست۔“
لُنٹ ئِے دْرہ اِت اَنت، بُتُکّے چُک اِت ءُ کپت!
نثار احمد | 112 |
| 14 | Sin texto... | 117 |
| 15 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 122 |
| 16 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 127 |
| 17 | Sin texto... | 123 |
| 18 | میں معصومہ بلوچ ہوں۔
30 اگست، جب دنیا جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے، وہ دن ہے جو دنیا بھر میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور اس ظلم کو یاد رکھنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
یہ ایسا ظلم ہے جسے دنیا کے کسی بھی آئین اور قانون میں قبول نہیں کیا جاتا۔ کسی انسان کو اغوا کرکے ٹارچر سیلوں میں رکھنا، اس کے خاندان کو برسوں تک اس کی زندگی اور خیریت سے بے خبر رکھنا کسی بھی قانون اور انسانی اصول کے مطابق قابلِ قبول نہیں۔
مگر بلوچستان میں یہ ظلم ایک معمول بن چکا ہے۔ بلوچستان میں آج کوئی بھی محفوظ نہیں۔ کسی کے والد کو، کسی کے بھائی کو، کسی کی بہن کو، حتیٰ کہ خواتین کو بھی جبری گمشدگی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
اور میں بھی اسی ظلم کا شکار ہوں۔
میرے والد، جہانزیب بلوچ، گزشتہ گیارہ سال سے انہی ٹارچر سیلوں میں قید ہیں۔ جب میرے والد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اُس وقت میں صرف تین ماہ کی تھی۔ آج میں گیارہ سال کی ہو چکی ہوں۔
مجھے نہیں معلوم کہ والد کی محبت کیا ہوتی ہے، والد کی شفقت کیا ہوتی ہے، یا والد کی خوشبو کیا ہوتی ہے۔جب میں دوسری بچیوں کو اپنے والد کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھتی ہوں تو میرے دل میں صرف ایک ہی خیال آتا ہے: کاش میرے والد بھی آج میرے ساتھ ہوتے، تو میں بھی ان کے ساتھ گھومنے جاتی، ان کا ہاتھ تھامتی اور ان کی محبت محسوس کرتی۔
مگر اس ظلم نے ہم سے نہ صرف والد کی محبت چھین لی ہے، بلکہ ہمیں بھائی، ماں اور بہن کی محبت سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ ظلم اب بلوچستان کے تقریباً ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔
جبری گمشدگی صرف ایک فرد کو نہیں چھینتی، بلکہ پورے خاندان کی زندگی، خوشیاں اور مستقبل چھین لیتی ہے۔ میرے والد کو گیارہ سال ہو چکے ہیں، مگر آج بھی ہمارا سوال وہی ہے:
میرے والد کہاں ہیں؟
#EndEnforcedDisappearances
#InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances | 119 |
| 19 | بلوچ خواتین کو مسلسل جبری گمشدگیوں کا نشانہ بناکر جبری بیانات درج کروانا بلوچستان میں ریاستی بیانیے کے شکست کی علامت ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد کرکی کیچ میں ریاستی فورسز نے 28 جولائی 2026 کو عارف عیسیٰ کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مار کر وہاں موجود شہناز بلوچ، شراناز عارف، عارف عیسیٰ ، شہناز کی ماں ، دو بہن، چاچی اوربھائی مہیم بلوچ کو جبری طور پر اپنے ساتھ لے گئے بعدازان باقی افراد کو رہا کیا گیا لیکن عارف عیسی، شہناز اور شراناز کو جبری گمشدہ رکھا گیا۔
اس سے قبل 18 جون 2026 کو بھی شہناز کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا، جہاں شہناز اور شراناز کو ایک ماہ تک حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں رہا کیا گیا۔ اور اس سے پہلے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے شہناز کے شوہر آصف بلوچ کو 8 مارچ 2026 کو قتل کیا تھا۔
اب ایک ماہ سے زائد جبری گمشدگی کے بعد شراناز اور شہناز بلوچ کو حکومت بلوچستان کے اہلکاروں کے ساتھ فرضی ناموں کے ساتھ جبری پریس کانفرنس کراکر ریاستی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ بلوچ خواتین کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے بعد جبری پریس کانفرنس کروانا نہ صرف ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ کئی دہائیوں سے مسلط کیے گئے ریاستی بیانیے کی کمزوری اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اختیار کیے جانے والے جابرانہ طریقوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہے کہ اپنے جبری گمشدہ کئے گئے افراد کے کیسسز رجسٹر کروائیں تاکہ ریاستی اداروں کا جبر عیاں ہوتا رہے۔ اگر ہم خاموش رہے اور اپنے پیاروں کے کیسسز رجسٹر نا کرائے تو ریاست جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کو زبردستی پریس کانفرنسوں میں پیش کرکے بلوچستان میں جاری جبر کو اپنے ریاستی بیانیے کے طور پر پیش کرتی رہے گی،اور نوجوانوں کو جعلی مقابل میں قتل کرتی رہے گی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم اور پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام سے اپیل کرتی ہے کہ مین اسٹریم میڈیا پر بلوچستان سے متعلق نشر ہونے والی خبروں پر یقین کرنے سے پہلے خود حقائق کی جانچ کریں۔ بلوچستان میں ہر روز ہونے والے انسانیت سوز مظالم کو جواز فراہم کرنے کے لیے جبری پریس کانفرنسز کروا کر جھوٹا بیانیہ عوام تک پہنچایا جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عوام سچ اور پروپیگنڈے میں فرق کریں اور حقائق کو خود جاننے کی کوشش کریں۔ | 127 |
| 20 | Sin texto... | 440 |
