es
Feedback
Baloch Yakjehti Committee

Baloch Yakjehti Committee

Ir al canal en Telegram

Official channel of Baloch Yakjehti Committee

Mostrar más
2 828
Suscriptores
-224 horas
-97 días
-2730 días
Atraer Suscriptores
junio '26
junio '26
+24
en 1 canales
mayo '26
+64
en 1 canales
Get PRO
abril '26
+68
en 1 canales
Get PRO
marzo '26
+84
en 0 canales
Get PRO
febrero '26
+174
en 1 canales
Get PRO
enero '26
+113
en 4 canales
Get PRO
diciembre '25
+76
en 1 canales
Get PRO
noviembre '25
+69
en 2 canales
Get PRO
octubre '25
+72
en 1 canales
Get PRO
septiembre '25
+108
en 0 canales
Get PRO
agosto '25
+93
en 1 canales
Get PRO
julio '25
+156
en 2 canales
Get PRO
junio '25
+96
en 3 canales
Get PRO
mayo '25
+214
en 2 canales
Get PRO
abril '25
+152
en 3 canales
Get PRO
marzo '25
+444
en 5 canales
Get PRO
febrero '25
+92
en 2 canales
Get PRO
enero '25
+284
en 2 canales
Get PRO
diciembre '24
+118
en 1 canales
Get PRO
noviembre '24
+173
en 1 canales
Get PRO
octubre '24
+243
en 1 canales
Get PRO
septiembre '24
+1 190
en 0 canales
Fecha
Crecimiento de Suscriptores
Menciones
Canales
14 junio0
13 junio+2
12 junio+2
11 junio+1
10 junio+1
09 junio+3
08 junio+2
07 junio+1
06 junio+2
05 junio+2
04 junio+3
03 junio+1
02 junio+2
01 junio+2
Publicaciones del Canal
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

2
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شہری کو آئینِ پاکستان، ملکی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق شفاف، منصفانہ اور کھلی سماعت کا حق حاصل ہے، جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کو چودہ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم ان کے مقدمات کی سماعت کے طریقۂ کار کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مقدمات پہلے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں زیرِ سماعت رہے، بعد ازاں جیل ٹرائل کے ذریعے کارروائی کی گئی، جبکہ اب سماعتیں ویڈیو لنک یا ’’فیس لیس کورٹ سسٹم‘‘ کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ نصراللہ بلوچ نے کہا کہ انصاف کے تقاضے صرف فیصلے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ عدالتی عمل کا شفاف، غیر جانبدار اور عوامی اعتماد کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے انتظامات جن سے ملزمان، ان کے وکلاء اور عدالتی کارروائی کے درمیان مؤثر رابطہ محدود ہو، منصفانہ ٹرائل کے حق کے حوالے سے خدشات کو جنم دے سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام قانونی تقاضوں اور بنیادی حقوق کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر زیر حراست رہنماوں کی جیل ٹرائل اور ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت نے عدالتی کارروائی کی شفافیت اور عوامی نگرانی کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کیے ہیں، جن کا ازالہ قانون اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنماوں کے مقدمات کی سماعت ایسے طریقۂ کار کے تحت کی جائے جو شفافیت، منصفانہ ٹرائل اور قانونی حقوق کے تقاضوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہو۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ زیرِ حراست رہنماوں کو اپنے وکلاء تک مؤثر رسائی، اہلِ خانہ سے رابطے اور اپنے دفاع کی تیاری کے لیے تمام قانونی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عدالتی عمل پر عوامی اعتماد برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عدالتی کارروائی نہ صرف منصفانہ ہو بلکہ منصفانہ دکھائی بھی دے، اور تمام فریقین کے آئینی و قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
50
3
*بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رھنماوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔* *سید سلمان بخآری پشتون رھنما تنظیم متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین بھائی صوبہ خیبر پختونخوا*. *بلوچ رھنماوں سربراہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ سمیت ساتھیوں پر بے جاء سیاسی مقدمات ختم کردئیے جائیں*. *بلوچ رھنماوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔انصاف مہیا کرنا عدالتوں کا کام ہے*. *بلوچستان کے رھنماوں کیلے اوپن کورٹ ٹرائل ایک بنیادی حق ہے*.* *بلوچوں مہاجروں پشتونوں سے اپیل ہے کہ 14 تا 16 جون تک تین روزہ عالمی میڈیا کا حصہ بن کر جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ایم کیو ایم متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین بھائی صوبہ خیبر پختونخوا کے اراکین بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رھنماوں کیلے منصفانہ ٹرائل اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہے*. *جاری کردہ* *شعبہ اطلاعات* *متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین بھائی صوبہ خیبر پختونخوا*.
42
4
𝗛𝗼𝘄 𝗖𝗮𝗻 𝗬𝗼𝘂 𝗖𝗼𝗻𝘁𝗿𝗶𝗯𝘂𝘁𝗲? For more than 14 months, detained Baloch Yakjehti Committee (BYC) leaders, including Dr. Mahrang Baloch, have faced a judicial process that has been repeatedly shifted from open court hearings to jail-based proceedings and now to online hearings. These faceless trials undermine transparency, restrict public scrutiny, and raise serious concerns about the right to a fair trial. If You Are a Student or Young Person • Create awareness content for social media. • Share campaign materials with classmates and friends. • Organize discussions and educational sessions. • Create posters, videos, and digital campaigns. If You Are a Journalist or Writer • Publish articles, reports, and opinion pieces. • Highlight concerns regarding faceless proceedings. • Amplify the voices of detained BYC Leaders. If You Are a Lawyer or Legal Expert • Share legal analyses explaining the importance of fair trial standards. • Discuss the implications of jail-based and online trials. • Help educate the public about due process and judicial accountability. If You Are an Artist or Creative Professional • Design posters, infographics, illustrations, and campaign artwork. • Create videos, documentaries, animations, or visual storytelling projects. • Use creative expression to communicate the demand for justice. If You Are Part of a Community Organization • Organize awareness events and public discussions. • Distribute campaign pamphlets and information materials. • Encourage community participation in campaign activities. If You Live Abroad • Raise awareness within your local communities and institutions. • Contact relevant human rights organizations, elected representatives, and advocacy groups. • Encourage institutions to raise concerns regarding fair trial rights and judicial transparency. Online Actions Everyone Can Take • Post campaign messages using campaign hashtags. • Share videos, articles, statements, and artwork. • Comment, repost, and amplify campaign content. • Participate in daily online sessions and webinars. • Invite others to join the campaign. Every Contribution Matters Not everyone can do everything, but everyone can do something. A single post, article, artwork, testimony, conversation, or letter can help bring greater attention to the demand for transparent justice and fair trials. Join the 3-Day Global Media Campaign #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
95
5
Sin texto...
82
6
گومازی میں گھروں کو نذرِ آتش کرنا اور لوٹ مار ریاستی فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کے علاقے گومازی میں پاکستانی فوج کی جانب سے گھروں کو مسمار کرنا، لوٹ مار اور نقصان پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ دو روز قبل گومازی میں متعدد گھروں کو سرچ آپریشن کے بہانے توڑ پھوڑ کرنے کے بعد نذرِ آتش کیا گیا۔ اس گھنونے کاروائی کے دوران خواتین، بچوں اور بزرگوں کو خوف و ہراس کا نشانہ بنایا گیا جبکہ شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس کارروائی میں خلیل نیکی اور لیاقت صاحبداد کے گھروں کو جلا دیا گیا جبکہ رشید بلوچ کے گھر کو ٹریکٹر کے ذریعے مسمار کیا گیا۔ اس کے علاوہ فورسز نے گھروں سے نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی سامان بھی لوٹ کر لے گئے۔ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کی پالیسیاں مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ گھروں کو جلانا، املاک کو تباہ کرنا، آبادیوں کو محاصرے میں لینا اور عوام کو اجتماعی سزا دینا ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ بلوچ نسل کشی پالیسی کا حصہ ہے۔ بلوچستان میں عام شہریوں کی گھروں کو مسمار کرنا، نذرآتش کرنا، اور لوٹ مار نئی پالیسی نہیں ہے، بلکہ کئی دہائیوں سے یہ پالیسی جاری ہے، اس سے قبل نوشکی، زہری، آواران، بولان، مشکےاور پنجگور میں سینکڑوں لوگوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے، ہزاروں لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جاچکا ہے، انکے کھیتوں، ٹیوب ویل حتی کہ سولر پینل تک کو تباہ کیا جاچکا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے اداروں، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ میکانزم اور سول سوسائٹی کے حلقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ گومازی اور بلوچستان بھر میں ہونے والے اس طرح کے پیش آنے والے واقعات کا فوری نوٹس لیں اور عام شہریوں کے املاک کے نقصان دہی اور جبری نقل مکانی کے پاکستان کے اس پالیسی کے خلاف جوابدہ ٹہرائے۔
91
7
Sin texto...
79
8
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
69
9
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
79
10
اوپن کورٹ ٹرائل ایک بنیادی حق ہے۔ انصاف ہونے سے پہلے واضح طور پر انصاف ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے، جب مقدمے کے دوران ہی عدالتی کارروائیاں عوامی نظر سے ہٹا دی جائیں اور جیلوں یا آن لائن نظاموں میں منتقل کر دی جائیں تو نا صرف اعتماد کمزور ہو جاتا ہے بلکہ انصاف کے بارے میں خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ احتجاج شفافیت، جوابدہی اور قانونی عمل (due process) کے احترام کی ایک اپیل ہے۔ ہر ویڈیو، مضمون، بیان، آرٹ ورک اور سوشل میڈیا پوسٹ اس شعور کو بڑھانے اور منصفانہ عدالتی ٹرائل کے مطالبے کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ 14تا 16 جون 2026 کی 3 روزہ عالمی میڈیا مہم کا حصہ بن کر جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ شفافیت، منصفانہ ٹرائل اور BYC رہنماؤں کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں۔ ‏#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
101
11
3- روزہ میڈیا مہم انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے: آن لائن اور جیل ٹرائلز کا خاتمہ، کھلی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت 14 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگر جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو جھوٹے اور سیاسی مقاصد کی بنیاد پر بنائے گئے مقدمات کے تحت حراست میں لینے کے بعد انصاف کے حصول تک رسائی نہیں دی جارہے ۔ اس پورے دورانئیے میں ریاستی ادارے مسلسل ان کیسسز کو طول دینے کے لیے مختلف حربے آزماتے رہے ہیں، پہلے تھری ایم پی او کے تحت ، پھر جھوٹے ایف آئی آر کا سلسلہ، پھر ریمانڈ کا ایک نا رکنے والا سلسلہ ، پھر کورٹ سے جیل ٹرائیل کے طرف منتقلی اور اب جیل ٹرائل سے ویڈیوں ٹرائل تک منتقلی اس بات کو عیاں کر رہی ہے کہ موجودہ طریقہ کار ہر گز انصاف کے حصول کے موزوں نہیں۔ عدالتی کارروائیاں جو کھلی عدالت میں عوامی موجودگی میں ہونی چاہییں تھیں، ابتدا میں جیل کے اندر منتقل کر دی گئیں، جس سے عوامی رسائی اور نگرانی محدود ہو گئی۔ اور اب عدالتی حکم کے بعد ان کارروائیوں کو آن لائن نظام میں منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے شفافیت مزید محدود ہوئی ہے اور عدالتی عمل کی انصاف پسندی اور کھلے پن پر سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں۔ جیل ٹرائل کے دوران جج بی وائی سی رہنماؤں کو مسلسل خاموش رہنے کی سرء عام دھمکی دیتے اور بارہا کھلے الفاظ میں کہتے رہے کہ “ایجنسیوں کے سامنے کمپرومائز کرو ورنا زندگی بھر جیل میں رہوں”۔ اس کے باوجود تنظیم کے رہنما جج کے اس رو یے کے خلاف احتجاج کرتے رہے اور جج کو اسکے فرائض پورا کرنے کے لیے اخلاقی جرت رکھنے کی تلقین کرتے رہے۔ اسی اخلاقی جرت سے آنکھیں چرانے کے لیے اب مقدمے کو جیل کے بجائے آنلائن منتقل کیا گیا ہے۔ بی وائی سی رہنماوں نے اس جبر کے خلاف جیل میں احتجاج شروع کیا ہے اور آنلائن ٹرائیل پر پیش ہونے سے انکار کیا ہے۔ بی وائی سی اس احتجاج کے جیل کے باہر دنیا سے جوڑنے کے لیے تین دن کے عالمی آنلائن احتجاج کا اعلان کرتی ہے، تاکہ رہنماؤں کی مسلسل حراست اور شفاف عدالتی کارروائیوں پر پابندی کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اس احتجاج کا مقصد منصفانہ کھلی عدالت میں ٹرائل کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور جوابدہی، شفافیت اور بنیادی قانونی حقوق کے احترام کا مطالبہ کرنا ہے۔ ہمارے مطالبات  آن لائن اور جیل میں ہونے والے ٹرائلز کا خاتمہ کیا جائے اور کھلی عدالت میں سماعت بحال کی جائے تاکہ عدالتی کارروائی شفاف ہو اور عوام کے لیے قابلِ رسائی رہے۔  موجودہ جج مبین کو تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ روز اول سے مقدمے کے حوالے سے ریاست کی طرف جانبدار رہے ہیں تنظیم کے رہنماؤں نے جج کے بدلنے کے لیے کورٹ پیں ایپلیکشن دائر کی ہے جسے جلد سنا جائے اور اس کیس کی پیروی کے کیے نیے غیر جانب دار جج کو زمہ داری سونپی جائے  جج کے تبادلے اور کورٹ ٹرائیل شروع کرنے تک مقدمہ روک دیا جائے۔ آنلائن احتجاج کی سر گرمیاں اس تین روزہ پروٹسٹ میں بھر پور شرکت کرکے اس احتجاج کو وسیع کریں جس کی آواز 14 مہینوں سے قید تنظیم کی رہنماؤں کی جانب سے لگائی جاچکی ہے۔ دنیا بھر کی غیور افراد اور بلوچ قوم زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر احتجاج کو کامیاب بنائیں۔  ویڈیو پیغامات: ویڈیوز ریکارڈ کریں اور شیئر کریں جن میں بتایا جائے کہ منصفانہ اور شفاف عدالتی ٹرائل کیوں ضروری ہیں۔  مضامین اور بیانات: آرٹیکلز، رائے پر مبنی تحریریں اور بیانات شائع کریں جو آن لائن اور جیل ٹرائلز کے حوالے سے خدشات کو اجاگر کریں۔  زاتی بیانات: نا انصافی اور جبر کے نظام کے تلے لواحقین جو تنظیم کے رہنماؤں کے طویل حراست اور غیر شفاف عدالتی عمل سے متاثر ہوئے ہیں اپنے زاتی غم کے بیانات ریکارڈ کرائیں۔  قانونی نقطۂ نظر: وکلاء، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکن اپنے تجزیے شیئر کریں۔  فن اور تخلیقی اظہار: انصاف اور شفافیت کی جدوجہد کو ظاہر کرنے والے پوسٹرز، خاکے، پینٹنگز اور اشعار دیگر تخلیقی مواد شیئر کریں۔  اوپن لیٹرز: ایسے خطوط شائع کریں جن میں منصفانہ ٹرائل کے حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش اور عدالتی جوابدہی کا مطالبہ ہو۔  سوشل میڈیا مہم: مربوط آن لائن سرگرمی میں حصہ لیں اور مہم کے پیغامات، حقائق اور آگاہی مواد شیئر کریں۔  خاص عوامی مقامات پر اکھٹے ہوکر علامتی احتجاج ریکارڈ کرائیں  تنظیم کے جانب سے جاری کئے گئے پمفلٹ تقسیم کئے جائے  اپنے علاقے یا ملک کے متعلقہ اداروں کو اس جبر سے متعلق آگاہی دی جائے اور انہیں اس مسئلے پر پاکستان کو خط لکھنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔  عوامی مباحثے اور ویبینارز: سہ روزہ احتجاج کے دوران کیس کے بارے میں مزید تفصیلات اور بلوچستان میں جاری جبر اور لاقانو نیت سے متعلق تنظیم کی جانب سے روزانہ آنلائن سیشن کا انعقاد کیا جائے گا، جسے بطور آگائی میسج زیادہ سے زیادہ شامل ہوکر شئر کیا جائے۔ آپ کی شرکت کیوں اہم ہے؟
99
12
+1
Sin texto...
85
13
Artwork and Creative Expression: Share artwork, sketches, posters, paintings, and other creative content reflecting the struggle for justice and transparency. Open Letters: Publish open letters expressing concern over the violation of fair trial rights and demanding judicial accountability. Social Media Campaign: Participate in coordinated online advocacy by sharing campaign materials, facts, messages, and awareness content. Symbolic Protests: Gather at prominent public spaces to record and register symbolic protests. Pamphlet Distribution: Distribute the official pamphlets issued by the organization. Institutional Advocacy: Raise awareness about this oppression with relevant institutions in your respective regions or countries and urge them to write letters to Pakistan regarding this issue. Public Discussions and Webinars: During the three-day protest, the organization will host daily online sessions to provide further details about the case, as well as the ongoing oppression and lawlessness in Balochistan. Join these sessions in large numbers and share them widely as an awareness message. 𝗪𝗵𝘆 𝗬𝗼𝘂𝗿 𝗣𝗮𝗿𝘁𝗶𝗰𝗶𝗽𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗠𝗮𝘁𝘁𝗲𝗿𝘀 A fair trial is a fundamental right. Justice must not only be done but must also be seen to be done. When court proceedings are removed from public view and shifted to jail premises or online formats, public trust in the judicial process is weakened and concerns about transparency naturally arise. This campaign is a call for openness, accountability, and respect for due process. Every video, article, testimony, artwork, statement, and social media post contributes to raising awareness and strengthening the demand for fair courtroom trials. Join the 3-Day Global Media Campaign from 14–15 June 2026 and raise your voice for transparency, fair trials, and justice. The Right to an Open Courtroom Trial #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
106
14
𝟑-𝐃𝐚𝐲 𝐌𝐞𝐝𝐢𝐚 𝐂𝐚𝐦𝐩𝐚𝐢𝐠𝐧 𝐽𝑢𝑠𝑡𝑖𝑐𝑒 𝑀𝑢𝑠𝑡 𝐵𝑒 𝑆𝑒𝑒𝑛: 𝐸𝑛𝑑 𝑂𝑛𝑙𝑖𝑛𝑒 𝑎𝑛𝑑 𝐽𝑎𝑖𝑙 𝑇𝑟𝑖𝑎𝑙𝑠, 𝑅𝑒𝑠𝑡𝑜𝑟𝑒 𝑂𝑝𝑒𝑛 𝐶𝑜𝑢𝑟𝑡𝑟𝑜𝑜𝑚 𝐻𝑒𝑎𝑟𝑖𝑛𝑔𝑠 More than 14 months have passed since the leaders of the Baloch Yakjehti Committee (BYC) were detained under fabricated and politically motivated cases. Throughout this period, state institutions have continuously employed various tactics to prolong these cases, first under 3 MPO (Maintenance of Public Order), followed by a series of false FIRs, then an unending cycle of remands, followed by shifting the case from open court to a jail trial, and now transitioning from a jail trial to a video conference trial. This clearly demonstrates that the current procedure is by no means suitable for obtaining justice. Court proceedings that should have been conducted openly in a courtroom were first shifted to jail premises, limiting public access and scrutiny. Now, a recent court order has moved these proceedings to an online format, further restricting transparency and raising serious questions about the fairness and openness of the judicial process. During the jail trial, the judge openly and repeatedly threatened the BYC leaders to remain silent, explicitly stating, "Compromise before the agencies, or else you will stay in jail for the rest of your lives." Despite this, the leaders of BYC continued to protest against the judge's behavior and urged him to find the moral courage to fulfill his duties. It is precisely to avoid facing this moral courage that the trial has now been shifted from the jail to an online platform. In resistance to this oppression, the BYC leaders have started a protest inside the jail and have refused to appear for the online trial. To connect this protest with the world outside the prison walls, the Baloch Yakjehti Committee announces a three-day global online protest to raise awareness about the continuous detention of the leaders and the restrictions placed on transparent judicial proceedings. The objective of this protest is to highlight the importance of a fair trial in an open court and to demand accountability, transparency, and respect for fundamental legal rights. 𝗢𝘂𝗿 𝗗𝗲𝗺𝗮𝗻𝗱𝘀  End online and jail-based trials and restore open courtroom hearings so that court proceedings are conducted in a transparent manner and remain accessible to the public.  Replace the Presiding Judge and appoint a new, impartial judge to hear this case, as the current judge, Mobeen, has shown state bias from the outset of the proceedings. The application filed by the detained BYC leaders seeking a change of judge must be heard immediately, and a new judge should be assigned without delay.  Stay all judicial proceedings related to this case until a new judge is appointed and open courtroom hearings are restored, ensuring that the trial is conducted fairly, transparently, and in accordance with the principles of justice. Campaign Activities Strengthen and expand this protest by fully participating in this three-day campaign and carrying forward the call of the BYC’s leaders, who have been unjustly imprisoned for the past 14 months. The Baloch nation and people of conscience across the world are urged to participate as widely as possible and play their part in ensuring the success of this protest. Video Messages: Record and share videos explaining why fair and transparent courtroom trials are essential for justice. Articles and Statements: Publish articles, opinion pieces, statements, and written content highlighting concerns regarding online and jail-based trials. Personal Testimonies: Families suffering under this system of injustice and oppression, who have been directly impacted by the prolonged detention of BYC leaders and the non-transparent judicial process, should record and share their personal statements of grief and struggle. Legal Perspectives: Lawyers, legal experts, and human rights activists are encouraged to share their analyses.
110
15
+1
Sin texto...
106
16
تنظیم کے رہنماؤں نے جھوٹے کیسسز میں جاری مقدموں کو کورٹ ٹرائل سے جیل ٹرائیل، اور اب فیس لیس ٹرائیل میں تبدیل کرنے کے خلاف جیل میں احتجاج شروع کی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی پیشی کے موقع پر ریاست پاکستان کی جانب سے مقدمات کو ویڈیو لنک کے ذریعے فیس لیس ٹرائل کی جانب منتقل کرنے کی کوشش ایک بار پھر منصفانہ ٹرائل، عدالتی شفافیت کے بنیادی اصولوں پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ زیرِ حراست رہنماؤں کے قانونی اور آئینی حقوق کو مزید محدود کرنے کی کوشش بھی ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کے مقدمات میں طویل عرصے سے عدالتی طریقۂ کار کو مسلسل تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انتظامی حراست، مختلف مقدمات کا اندراج، مسلسل جسمانی ریمانڈ، جیل ٹرائل اور اب فیس لیس کورٹس کا اجراء جیسے اقدامات پاکستانی عدالتی نظام کی خفیہ اداروں اور فوج کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی واضح ثبوت ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کھلی عدالت میں سماعت، عوامی رسائی اور عدالتی نگرانی منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصول ہیں۔ جب مقدمات کو جیلوں کی دیواروں کے پیچھے یا فیس لیس اور آن لائن طریقۂ کار کے ذریعے چلایا جاتا ہے تو ہم اس کو براہراست بی وائی سی رہنماؤں کو مزید ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کا حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں اور عدالت کو اس میں شریک جرم سمجھتے ہیں۔ زیرِ حراست رہنماؤں نے متعدد مرتبہ جیل ٹرائل کے دوران عدالتی جانبداری اور عدالتی رویّے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد متعلقہ جج کی تبدیلی کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی گئی۔ تاہم یہ درخواست کئی ماہ گزرنے کے باوجود تاحال زیرِ التوا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرحراست رہنما اس وقت جیل کے اندر فیس لیس کورٹ ٹرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف واضح ہے کہ ان کے مقدمات کی سماعت آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں ہونی چاہیے، اور انہیں اپنے وکلاء، اہلِ خانہ اور عوامی نگرانی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فیس لیس ٹرائیل ور جیل ٹرائل کا فوری خاتمہ کیا جائے، مقدمات کو فوری طور پر کھلی عدالت میں منتقل کیا جائے، جج کی تبدیلی سے متعلق درخواست پر فوری سماعت کی جائے، اور زیرِ حراست رہنماؤں کے تمام قانونی اور آئینی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ ہم ریاست پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ریاست کی خام خیالی ہے کہ وہ تنظیم کے رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں قید کرکے عوامی آواز کو مستقل خاموش کر دینگے۔ جبکہ ہم عدالت اور مذکورہ جج کی قانونی جبر کو بھی بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے عیاں کرتے رہے گے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی جیل میں جاری تنظیم کے رہنماوں کے احتجاج کو پوری دنیا تک پہنچائے گی، اور فیس لیس کورٹ و عدالتی جبر کے خلاف آن لائن احتجاج کا اعلان کیا جائے گا۔
134
17
Sin texto...
433
18
𝐓𝐡𝐞𝐦𝐚𝐭𝐢𝐜 𝐑𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 | 𝐒𝐭𝐚𝐠𝐞𝐝 𝐏𝐫𝐞𝐬𝐬 𝐂𝐨𝐧𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐂𝐨𝐧𝐟𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐍𝐚𝐫𝐫𝐚𝐭𝐢
𝐓𝐡𝐞𝐦𝐚𝐭𝐢𝐜 𝐑𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 | 𝐒𝐭𝐚𝐠𝐞𝐝 𝐏𝐫𝐞𝐬𝐬 𝐂𝐨𝐧𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐂𝐨𝐧𝐟𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐍𝐚𝐫𝐫𝐚𝐭𝐢𝐯𝐞𝐬 𝐢𝐧 𝐁𝐚𝐥𝐨𝐜𝐡𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧. 𝗧𝗵𝗲 𝗧𝗿𝘂𝘁𝗵 𝗕𝗲𝗵𝗶𝗻𝗱 𝘁𝗵𝗲 𝗦𝗰𝗿𝗲𝗲𝗻𝘀 State authorities are increasingly using "staged press conferences" to present detainees as having confessed to crimes before any judicial review. These individuals are often held incommunicado and coerced into reciting pre-written scripts to malign peaceful political movements. 𝑇ℎ𝑖𝑠 𝑟𝑒𝑝𝑜𝑟𝑡 𝑠𝑒𝑟𝑣𝑒𝑠 𝑎𝑠 𝑎 𝑑𝑒𝑓𝑖𝑛𝑖𝑡𝑖𝑣𝑒 𝑡𝑒𝑠𝑡𝑖𝑚𝑜𝑛𝑦 𝑡𝑜 𝑡ℎ𝑒𝑠𝑒 𝑝𝑟𝑎𝑐𝑡𝑖𝑐𝑒𝑠. You can access the full report here: https://gofile.io/d/hp6tgB
116
19
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
127
20
انصاف کی فراہمی صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ اور قانون کی حکمرانی کا بنیادی پیمانہ بھی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ ریاستی حکام اس معاملے میں فوری اور مؤثر اقدامات کریں گے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں، بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد برقرار رہے۔
128