Baloch Yakjehti Committee
الذهاب إلى القناة على Telegram
2 920
المشتركون
-124 ساعات
-107 أيام
-230 أيام
جاري تحميل البيانات...
القنوات المماثلة
سحابة العلامات
الإشارات الواردة والصادرة
---
---
---
---
---
---
جذب المشتركين
أغسطس '26
أغسطس '26
+84
في 1 قنوات
يوليو '26
+154
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '26
+83
في 1 قنوات
Get PRO
مايو '26
+64
في 1 قنوات
Get PRO
أبريل '26
+68
في 1 قنوات
Get PRO
مارس '26
+84
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '26
+174
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '26
+113
في 4 قنوات
Get PRO
ديسمبر '25
+76
في 1 قنوات
Get PRO
نوفمبر '25
+69
في 2 قنوات
Get PRO
أكتوبر '25
+72
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '25
+108
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '25
+93
في 1 قنوات
Get PRO
يوليو '25
+156
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '25
+96
في 3 قنوات
Get PRO
مايو '25
+214
في 2 قنوات
Get PRO
أبريل '25
+152
في 3 قنوات
Get PRO
مارس '25
+444
في 5 قنوات
Get PRO
فبراير '25
+92
في 2 قنوات
Get PRO
يناير '25
+284
في 2 قنوات
Get PRO
ديسمبر '24
+118
في 1 قنوات
Get PRO
نوفمبر '24
+173
في 1 قنوات
Get PRO
أكتوبر '24
+243
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '24
+1 190
في 0 قنوات
| التاريخ | نمو المشتركين | الإشارات | القنوات | |
| 30 أغسطس | +1 | |||
| 29 أغسطس | +1 | |||
| 28 أغسطس | +4 | |||
| 27 أغسطس | 0 | |||
| 26 أغسطس | +1 | |||
| 25 أغسطس | +4 | |||
| 24 أغسطس | +2 | |||
| 23 أغسطس | 0 | |||
| 22 أغسطس | +2 | |||
| 21 أغسطس | +3 | |||
| 20 أغسطس | +4 | |||
| 19 أغسطس | +4 | |||
| 18 أغسطس | +5 | |||
| 17 أغسطس | 0 | |||
| 16 أغسطس | +4 | |||
| 15 أغسطس | +1 | |||
| 14 أغسطس | +3 | |||
| 13 أغسطس | +8 | |||
| 12 أغسطس | +6 | |||
| 11 أغسطس | +2 | |||
| 10 أغسطس | +4 | |||
| 09 أغسطس | +3 | |||
| 08 أغسطس | +1 | |||
| 07 أغسطس | +1 | |||
| 06 أغسطس | +8 | |||
| 05 أغسطس | +1 | |||
| 04 أغسطس | +4 | |||
| 03 أغسطس | +2 | |||
| 02 أغسطس | +2 | |||
| 01 أغسطس | +3 |
منشورات القناة
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
| 2 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 15 |
| 3 | لا يوجد نص... | 26 |
| 4 | میں معصومہ بلوچ ہوں۔
30 اگست، جب دنیا جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے، وہ دن ہے جو دنیا بھر میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور اس ظلم کو یاد رکھنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
یہ ایسا ظلم ہے جسے دنیا کے کسی بھی آئین اور قانون میں قبول نہیں کیا جاتا۔ کسی انسان کو اغوا کرکے ٹارچر سیلوں میں رکھنا، اس کے خاندان کو برسوں تک اس کی زندگی اور خیریت سے بے خبر رکھنا کسی بھی قانون اور انسانی اصول کے مطابق قابلِ قبول نہیں۔
مگر بلوچستان میں یہ ظلم ایک معمول بن چکا ہے۔ بلوچستان میں آج کوئی بھی محفوظ نہیں۔ کسی کے والد کو، کسی کے بھائی کو، کسی کی بہن کو، حتیٰ کہ خواتین کو بھی جبری گمشدگی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
اور میں بھی اسی ظلم کا شکار ہوں۔
میرے والد، جہانزیب بلوچ، گزشتہ گیارہ سال سے انہی ٹارچر سیلوں میں قید ہیں۔ جب میرے والد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اُس وقت میں صرف تین ماہ کی تھی۔ آج میں گیارہ سال کی ہو چکی ہوں۔
مجھے نہیں معلوم کہ والد کی محبت کیا ہوتی ہے، والد کی شفقت کیا ہوتی ہے، یا والد کی خوشبو کیا ہوتی ہے۔جب میں دوسری بچیوں کو اپنے والد کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھتی ہوں تو میرے دل میں صرف ایک ہی خیال آتا ہے: کاش میرے والد بھی آج میرے ساتھ ہوتے، تو میں بھی ان کے ساتھ گھومنے جاتی، ان کا ہاتھ تھامتی اور ان کی محبت محسوس کرتی۔
مگر اس ظلم نے ہم سے نہ صرف والد کی محبت چھین لی ہے، بلکہ ہمیں بھائی، ماں اور بہن کی محبت سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ ظلم اب بلوچستان کے تقریباً ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔
جبری گمشدگی صرف ایک فرد کو نہیں چھینتی، بلکہ پورے خاندان کی زندگی، خوشیاں اور مستقبل چھین لیتی ہے۔ میرے والد کو گیارہ سال ہو چکے ہیں، مگر آج بھی ہمارا سوال وہی ہے:
میرے والد کہاں ہیں؟
#EndEnforcedDisappearances
#InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances | 25 |
| 5 | بلوچ خواتین کو مسلسل جبری گمشدگیوں کا نشانہ بناکر جبری بیانات درج کروانا بلوچستان میں ریاستی بیانیے کے شکست کی علامت ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد کرکی کیچ میں ریاستی فورسز نے 28 جولائی 2026 کو عارف عیسیٰ کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مار کر وہاں موجود شہناز بلوچ، شراناز عارف، عارف عیسیٰ ، شہناز کی ماں ، دو بہن، چاچی اوربھائی مہیم بلوچ کو جبری طور پر اپنے ساتھ لے گئے بعدازان باقی افراد کو رہا کیا گیا لیکن عارف عیسی، شہناز اور شراناز کو جبری گمشدہ رکھا گیا۔
اس سے قبل 18 جون 2026 کو بھی شہناز کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا، جہاں شہناز اور شراناز کو ایک ماہ تک حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں رہا کیا گیا۔ اور اس سے پہلے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے شہناز کے شوہر آصف بلوچ کو 8 مارچ 2026 کو قتل کیا تھا۔
اب ایک ماہ سے زائد جبری گمشدگی کے بعد شراناز اور شہناز بلوچ کو حکومت بلوچستان کے اہلکاروں کے ساتھ فرضی ناموں کے ساتھ جبری پریس کانفرنس کراکر ریاستی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ بلوچ خواتین کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے بعد جبری پریس کانفرنس کروانا نہ صرف ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ کئی دہائیوں سے مسلط کیے گئے ریاستی بیانیے کی کمزوری اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اختیار کیے جانے والے جابرانہ طریقوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہے کہ اپنے جبری گمشدہ کئے گئے افراد کے کیسسز رجسٹر کروائیں تاکہ ریاستی اداروں کا جبر عیاں ہوتا رہے۔ اگر ہم خاموش رہے اور اپنے پیاروں کے کیسسز رجسٹر نا کرائے تو ریاست جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کو زبردستی پریس کانفرنسوں میں پیش کرکے بلوچستان میں جاری جبر کو اپنے ریاستی بیانیے کے طور پر پیش کرتی رہے گی،اور نوجوانوں کو جعلی مقابل میں قتل کرتی رہے گی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم اور پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام سے اپیل کرتی ہے کہ مین اسٹریم میڈیا پر بلوچستان سے متعلق نشر ہونے والی خبروں پر یقین کرنے سے پہلے خود حقائق کی جانچ کریں۔ بلوچستان میں ہر روز ہونے والے انسانیت سوز مظالم کو جواز فراہم کرنے کے لیے جبری پریس کانفرنسز کروا کر جھوٹا بیانیہ عوام تک پہنچایا جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عوام سچ اور پروپیگنڈے میں فرق کریں اور حقائق کو خود جاننے کی کوشش کریں۔ | 48 |
| 6 | لا يوجد نص... | 39 |
| 7 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 57 |
| 8 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 57 |
| 9 | 30 August , International Day of the Victims of Enforced Disappearances
Across the world, this day is observed to remember those who have been forcibly disappeared.
But for the Baloch people, enforced disappearance is not only something to remember once a year—it is a daily reality.
Every day, Baloch families live with the fear that another loved one may be taken away and disappeared. Mothers wait for their sons. Children wait for their fathers. Families wait for answers that may never come.
For Balochistan, every day is a day of enforced disappearances.
The world must not remain silent while families continue to wait between hope and unbearable pain.
End Enforced Disappearances.
End the suffering of Baloch families.
#InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances
#EndEnforcedDisappearances | 55 |
| 10 | السلام علیکم بلوچ راج،
میں مہرگل مری کی بہن ہوں۔ آج میں آپ سے اپنے خاندان کی وہ داستان بیان کرنے کے لیے مخاطب ہوں جس کا درد ہم گزشتہ گیارہ سال سے اپنے سینے میں لیے ہوئے ہیں۔
آپ سب جانتے ہیں کہ میرے بھائی مہرگل مری کو جبری طور پر لاپتہ ہوئے گیارہ سال گزر چکے ہیں۔
مہرگل مری ایک ڈیوٹی ڈائریکٹر اور 18 گریڈ کے سرکاری افسر تھے۔
2015 میں رات تقریباً 3 بجے سرکاری اداروں کے اہلکاروں نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور میرے بھائی مہرگل مری کو ہمارے سامنے سے اٹھا کر لے گئے۔
اس دن کے بعد سے آج تک ہمیں اپنے بھائی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے میں نے برسوں سڑکوں پر بیٹھ کر جدوجہد کی۔ میں نے دربدری، تکلیف، خوف اور بے شمار مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے بھائی کی بازیابی کی امید کبھی نہیں چھوڑی۔
میرے بھائی کی جبری گمشدگی نے صرف ایک فرد کو ہم سے جدا نہیں کیا بلکہ پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا۔
میری والدہ اپنے بیٹے کی جدائی، مسلسل پریشانی اور ذہنی اذیت کے باعث اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں اور بالآخر اسی غم میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
مہرگل مری کے لاپتہ کیے جانے کے بعد بھی ہمارے خاندان کو مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا۔
ہمارے گھر پر بار بار چھاپے مارے گئے، ہمیں ذہنی اذیت دی گئی اور مجھے خود بھی گرفتار کرکے لے جایا گیا۔
یہ صرف میرے خاندان کی کہانی نہیں ہے۔ بلوچستان میں جو لوگ لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، انہیں بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھائی تو انہیں قید کر دیا گیا، جبکہ نظر مری، جو خود لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے تھے، آج ایک سال سے لاپتہ ہیں اور ان کے خاندان کو بھی یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔
یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے کہ جو لوگ لاپتہ افراد کی آواز بنتے ہیں، آخر انہیں بھی کیوں خاموش کیا جاتا ہے؟
آج میں اسی لیے یہاں بیٹھی ہوں۔
میں اس لیے جدوجہد کر رہی ہوں کیونکہ 30 اگست بلوچ لاپتہ افراد کے دن کے طور پر ہمارے لیے اپنے پیاروں اور تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی آواز بلند کرنے کا دن ہے۔
میں اپنی باشعور بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ 30 اگست کو ان تمام خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
میں خود ایک لاپتہ شخص کی بہن ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ انتظار کیا ہوتا ہے، دروازے پر ہر دستک کے ساتھ امید باندھنا کیا ہوتا ہے، اور ہر گزرتے دن اپنے پیارے کی خیریت کے بارے میں بے یقینی میں زندگی گزارنا کیا ہوتا ہے۔
آج بلوچستان میں آئے روز ہمارے لوگ لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ خواتین بھی اس عمل سے محفوظ نہیں رہیں۔ ہمارے گھروں پر مسلسل چھاپے مارے جاتے ہیں۔ آج ایک گھر کی باری ہے تو کل کسی دوسرے گھر پر چھاپہ مارا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، یہ پورے بلوچ معاشرے کا مسئلہ ہے۔
میں بلوچ قوم، خصوصاً اپنی مری قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ 30 اگست کو ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔
لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں اور مطالبہ کریں کہ تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں سچ اور معلومات فراہم کی جائیں۔
ہم برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔
میرا بھائی مہرگل مری کہاں ہے؟
یہ سوال صرف میرا نہیں، بلکہ ان تمام ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور خاندانوں کا سوال ہے جو اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی۔
مہرگل مری سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی تک ہماری آواز بلند ہوتی رہے گی۔
#ReleaseMeherGulMarri
#EndEnforcedDisappearances | 70 |
| 11 | لا يوجد نص... | 68 |
| 12 | میں داد شاہ بلوچ کی والدہ ہوں۔ میرے بیٹے کی جبری گمشدگی کو آج پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ اسے گھر سے اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اور یہ دوسری مرتبہ ہے کہ میرے بیٹے کو اس اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
30 اگست، جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع پر میری اپیل ہے کہ تمام لاپتہ افراد کے ساتھ میرے بیٹے داد شاہ بلوچ کے لیے بھی آواز اٹھائی جائے۔
#ReleaseDaadShahBaloch #EndEnforcedDisappearances | 96 |
| 13 | لا يوجد نص... | 98 |
| 14 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 24 |
| 15 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 142 |
| 16 | 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗬𝗮𝗸𝗷𝗲𝗵𝘁𝗶 𝗖𝗼𝗺𝗺𝗶𝘁𝘁𝗲𝗲 𝗔𝗻𝗻𝗼𝘂𝗻𝗰𝗲𝘀 𝗢𝗻𝗲-𝗗𝗮𝘆 𝗦𝗼𝗰𝗶𝗮𝗹 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗮 𝗖𝗮𝗺𝗽𝗮𝗶𝗴𝗻
On 30 August, the International Day of the Victims of Enforced Disappearances, the Baloch Yakjehti Committee is announcing a one-day social media campaign to highlight the ongoing human rights violations and enforced disappearances in Balochistan.
For many years, Thousands of families in Balochistan have been waiting for their loved ones who were forcibly disappeared. These families continue to live with pain and uncertainty, without knowing whether their loved ones are alive or dead.
Families of disappeared persons share detailed accounts of their loved ones, including their lives, the circumstances of their disappearance, and the suffering and uncertainty they have endured while waiting for their return.
Through this campaign, we call for the immediate disclosure of the whereabouts of all disappeared persons and for their families to be given truthful information.
We also call on human rights organisations, journalists, civil society and people around the world to raise their voices for the victims of enforced disappearances and their families.
Every disappeared person has a family waiting for them. Their families have the right to truth and justice.
Date: 30 August 2026
#EndEnforcedDisappearances | 175 |
| 17 | لا يوجد نص... | 141 |
| 18 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 151 |
| 19 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 156 |
| 20 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 145 |
