2 842
订阅者
-424 小时
+77 天
无数据30 天
数据加载中...
标签云
进出提及
---
---
---
---
---
---
吸引订阅者
七月 '26
七月 '26
+2
在0个频道中
六月 '26
+83
在1个频道中
Get PRO
五月 '26
+64
在1个频道中
Get PRO
四月 '26
+68
在1个频道中
Get PRO
三月 '26
+84
在0个频道中
Get PRO
二月 '26
+174
在1个频道中
Get PRO
一月 '26
+113
在4个频道中
Get PRO
十二月 '25
+76
在1个频道中
Get PRO
十一月 '25
+69
在2个频道中
Get PRO
十月 '25
+72
在1个频道中
Get PRO
九月 '25
+108
在0个频道中
Get PRO
八月 '25
+93
在1个频道中
Get PRO
七月 '25
+156
在2个频道中
Get PRO
六月 '25
+96
在3个频道中
Get PRO
五月 '25
+214
在2个频道中
Get PRO
四月 '25
+152
在3个频道中
Get PRO
三月 '25
+444
在5个频道中
Get PRO
二月 '25
+92
在2个频道中
Get PRO
一月 '25
+284
在2个频道中
Get PRO
十二月 '24
+118
在1个频道中
Get PRO
十一月 '24
+173
在1个频道中
Get PRO
十月 '24
+243
在1个频道中
Get PRO
九月 '24
+1 190
在0个频道中
| 日期 | 订阅者增长 | 提及 | 频道 | |
| 02 七月 | +1 | |||
| 01 七月 | +1 |
频道帖子
July 1, 2026 – Lyari, Karachi
Corner meeting was carried out in different areas of Lyari to raise awareness about the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch.
During the campaign, the detention of the BYC leaders and the recent court verdict were highlighted. The awareness campaign focused on the shrinking space for peaceful political expression in Balochistan and emphasized that silencing political voices cannot silence the demand for justice, dignity, and human rights. People were encouraged to remain informed, support the detained BYC leadership, and peacefully raise their voices against injustice.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
| 2 | 𝗝𝘂𝗹𝘆 𝟭, 𝟮𝟬𝟮𝟲 – 𝗟𝘆𝗮𝗿𝗶, 𝗞𝗮𝗿𝗮𝗰𝗵𝗶
Pamphleting and wall-chalking campaigns were carried out in different areas of Lyari to raise awareness about the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch.
During the campaign, the detention of the BYC leaders and the recent court verdict were highlighted. The awareness campaign focused on the shrinking space for peaceful political expression in Balochistan and emphasized that silencing political voices cannot silence the demand for justice, dignity, and human rights. People were encouraged to remain informed, support the detained BYC leadership, and peacefully raise their voices against injustice.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders | 18 |
| 3 | 没有文字... | 33 |
| 4 | تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قلم، علم اور پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی گئی، حقیقت اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئی۔ میں ایک بار پھر واضح کرتی ہوں کہ یہ الزامات ہمیں نہیں روک سکتے کیونکہ ہماری قومی مزاحمت ہی ہماری زندگی کا مقصد بن چکا ہے اور بلوچ عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
#ReleaseBYCLeaders | 89 |
| 5 | ریاست بی وائی سی کی عوامی حمایت سے خوفزدہ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ زون کی جانب سے آج تربت میں ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے ریاست نے کل سے ہی تربت میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، کل رات گئے بی وائی سی کی رکن سید بی بی بلوچ کو انکے گھر سے بغیر کسی قانونی جواز کے گرفتار کرلیا گیا اور کہا گیا 24 گھنٹے بعد یعنی احتجاج کے بعد رہا کیا جائے گا۔ آج پورے شہر میں عملاً کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے موبائیل نیٹورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے اور ایک درجن سے زائد متعدد افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
یہ تمام اقدامات ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال اور کھلی جبر آمیز پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف عدلیہ کو سیاسی مخالفین کے خلاف من مانے فیصلوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف انہی فیصلوں کے خلاف اٹھنے والی پُرامن عوامی آواز کو گرفتاریوں، پابندیوں، شیلنگ اور خوف کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب اس بات کی عیاں کرتے ہے کہ ریاست سیاسی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے اور بی وائی سی کی عوامی حمایت سے حد درجہ خوفزدہ ہے۔ | 136 |
| 6 | 没有文字... | 121 |
| 7 | 𝗝𝘂𝗹𝘆 𝟭, 𝟮𝟬𝟮𝟲 – 𝗛𝘂𝗯 & 𝗚𝗮𝗱𝗱𝗮𝗻𝗶, 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻
Pamphleting and wall-chalking campaigns were carried out in different areas of Hub and Gaddani, including Sakran Road Ameerabad, Wadera Khuda Bakhsh Village, Badal Pendu Village, Ganjal Village, Hassan Dildar Village, Mazaar Village, and Swali Village, to raise awareness about the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch.
During the campaign, people were engaged in discussions about the continued detention of the BYC leaders, concerns regarding the judicial proceedings, the faceless trials, and the life imprisonment sentences imposed to BYC leaders without evidence. They were encouraged to raise their voices for those who have consistently stood against the Baloch genocide and state brutality. Also discussed the current situation in Quetta, where the families were subjected to violence and prevented from exercising their fundamental rights to peaceful protest and freedom of expression. Further, highlighted the ongoing suppression of political voices in Balochistan and called on the public to stand in solidarity with the detained BYC leadership by raising their voices for justice.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders | 114 |
| 8 | 没有文字... | 111 |
| 9 | تنظیم کے رکن سید بی بی کی غیر قانونی گرفتاری پاکستانی فسطائیت ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن سید بی بی بلوچ کو ان کے گھر سے بغیر کسی قانونی جواز کے گرفتار کرنا بلوچستان میں پاکستانی فسطائیت ہے۔
آج منگل کی رات تقریباً 9:30 بجے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے سید بی بی بلوچ کی گھر کی چادر و چاردیواری کی پامالی کرکے انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ حالانکہ گزشتہ چار ماہ سے ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے، جس کے باعث وہ ہر ہفتے باقاعدگی سے سی ٹی ڈی کے دفتر میں پیشی دیتے ہیں۔
گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے تربت میں احتجاج کا اعلان کیے جانے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکار مسلسل سید بی بی بلوچ کو فون کر کے ہراساں کرتے رہے۔
فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانون کا حصہ ہے، لیکن بلوچستان میں اس قانون کو سیاسی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، عام شہریوں اور حتیٰ کہ نابالغ بچوں کو ہراساں کرنے اور ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس قانون کے باعث متعدد طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے سے بھی محروم ہو چکے ہیں، جبکہ عوام مسلسل ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ جب بھی کسی شہر میں احتجاج کا اعلان ہوتا ہے، فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو سی ٹی ڈی دفاتر میں طلب کر کے ہراساں کیا جاتا ہے۔
سید بی بی شریف کو اس وقت ویمن پولیس تھانہ تربت میں رکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ یہ طرزِ عمل جابرانہ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کا نوٹس لیں، سید بی بی شریف کی فوری رہائی کے لیے آواز اٹھائیں، اور پاکستان میں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری جبر، شہری آزادیوں پر قدغن اور فسطائی طرزِ حکمرانی کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔ | 163 |
| 10 | 没有文字... | 148 |
| 11 | شوکت نواز میر کی گرفتاری عوامی تحریکوں کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن کا تسلسل ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کشمیر کے رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری کو عوامی اور جمہوری جدوجہد کے خلاف ایک اور انتقامی اقدام سمجھتی ہے۔ جب بھی عوام اپنے بنیادی حقوق، معاشی انصاف اور باعزت زندگی کے مطالبات کے لیے منظم ہوتے ہیں، ریاست کا جواب مذاکرات اور مسائل کے حل کے بجائے گرفتاریوں، ہراسانی اور جبر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
شوکت نواز میر کی گرفتاری دراصل ان تمام عوامی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو اپنے لوگوں کے حقوق، وسائل اور مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاست عوامی مطالبات کا سیاسی جواب دینے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔
آج کشمیر ہو یا بلوچستان، عوامی حقوق، انصاف اور سیاسی آزادیوں کے لیے آواز اٹھانے والوں کو مختلف شکلوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوامی رہنماؤں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران حلقے عوامی شعور، منظم جدوجہد اور اجتماعی مزاحمت سے خوفزدہ ہیں اور ہر قیمت پر ان تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر جبر، گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے عوام کے سیاسی شعور اور اجتماعی ارادے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ عوامی تحریکوں کو کچلنے کی یہ کوششیں دراصل حکمران طبقے کی سیاسی ناکامی اور عوامی طاقت کے خوف کا اظہار ہیں۔ جب ریاست کے پاس عوامی مطالبات کا کوئی سیاسی جواب نہیں بچتا تو وہ طاقت، گرفتاریوں اور دباؤ کا سہارا لیتی ہے، مگر ایسی ہتھکنڈے نہ عوامی جدوجہد کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی انصاف، حقوق اور آزادی کے مطالبات کو ختم کر سکتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی شوکت نواز میر اور کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی تحریکوں کو کچلنے کی یہ پالیسیاں نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ خطے میں سیاسی بے چینی، عدم اعتماد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مزید بڑھاوا دیتی ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کلعدم قرار دے کر رہنماؤں کو گرفتار کرنا ، کشمیر کا محاصرہ کرنا اور عوامی تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش فسطائیت ہے۔ یہ اقدامات نفرت انگیزی کا باعث ہے، ریاست ہوش کے ناخن لے اور جبر کے بجائے مکالمے کا انتخاب کریں۔ | 165 |
| 12 | 没有文字... | 130 |
| 13 | فیس لیس ٹرائیل کے خلاف ہائی کورٹ میں جمع پٹیشن کی سماعت بغیر کسی جواز کے موخر کرنا اور دو ماہ بعد کی تاریخ دینا ہائی کورٹ کی جانبدارانہ رویے کے عندیہ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف جج مبین کا جارہانہ رویے اور فیس لیس ٹرائل کے خلاف تنظیم کے وکلاء ٹیم نے آئینی درخواست جمع کرائی تھی ، جس میں کیس کو فوری روکنے، جج محمد علی مبین کی تبدیلی اور مقدمے کو اوپن کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ آئینی درخواست 20 جون 2026 کو دائر کی گئی۔ ہفتہ کے روز ڈویژنل بینچ کی عدم دستیابی کے باعث یہ درخواست پیر، 22 جون 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہونا تھا۔
جب آئینی درخواست کی فائل اور فوری سماعت کی درخواست 22 جون 2026 کی کاز لسٹ میں مقرر کرنے کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش کی گئی، تو چیف جسٹس نے اسے ابتدائی سماعت (کچا پیشی) کے لیے مقرر کرنے کے بجائے، فوری سماعت کی درخواست عجلت میں یہ نوٹ لکھ کر مسترد کر دی کہ “سماعت میں کوئی ہنگامی ضرورت نہیں”، اور درخواست کو 29 جون 2026 کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
بعد ازاں، چیف جسٹس کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست مسترد کیے جانے کے صرف 30 منٹ کے اندر، انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کوئٹہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا، جس کے بعد کاز لسٹ بھی اپ لوڈ کر دی گئی۔
جون 29 کو جب دفاعی وکلاء آئینی درخواست کی سماعت کے لیے ہائی کورٹ پہنچے تو معلوم ہوا کہ درخواست کو کاز لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے اور اس کی سماعت دو ماہ بعد کے لیے تاریخ دی گئی ہے
فیس لیس ٹرائیل، جج کے جانبدارنہ رویے اور بغیر ملزمان کے جج کے کیسسز کو آگے بڑھانے کے روئیے کے خلاف بی وائی سی کے رہنماؤں نے آئینی درخواست جمع کراکر قانونی راستہ اختیار کیا، مگر درخواست پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے اسے طویل عرصے کے لیے مؤخر کر دینا انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔
اس تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ دو ماہ تک یہی متنازع جج بی وائی سی رہنماؤں کے دیگر مقدمات کی سماعت فیس لیس ٹرائل کے زریعے چلاتے رہیں گے، جبکہ ان کی غیر جانبداری خود عدالت میں چیلنج کی جا چکی ہے۔ یہ صورتحال اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ انصاف کی فراہمی کے بجائے ایک مخصوص نتیجہ حاصل کرنے کے لیے پورا عدالتی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔
جب ایک جانب جج کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہوں، دوسری جانب اسی جج کو مقدمات سننے کی مکمل آزادی دی جا رہی ہو، یہ تمام اقدامات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ ریاستی ادارے اور عدالتی ڈھانچہ مل کر بی وائی سی کی قیادت کو ہر قیمت پر سزائیں دلوانے اور سیاسی طور پر خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ بلوچستان میں سیاسی مزاحمت، انسانی حقوق کی جدوجہد اور عوامی نمائندہ آوازوں کے خلاف جاری ایک وسیع ریاستی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ یہ پورا عمل انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ جبر کو قانونی لبادہ پہنانے اور اختلافی سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
بی وائی سی کے رہنماؤں کے خلاف جاری کارروائیاں ریاست کی جمہوری قوتوں سے خوف کی عکاس ہیں، خوف اس حقیقت سے کہ بلوچستان کے عوام آج بی وائی سی کے نظم کے تلے پہلے سے زیادہ باشعور، منظم اور اپنے حقوق کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس عدالتی جبر کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام مزاحمتی میدانوں میں جدوجہد جاری رکھے گی اور بلوچستان میں قانون کے نام پر ہونے والی لاقانونیت کا پردہ پاش کرتی رہے گی۔ ہم انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی دنیا سے بلوچستان کی طرف توجہ کو ناگزیر سمجھتے ہے شفافیت اور احتساب کے لیے دنیا کو اس جبر پر سوال اٹھانا لازمی ہے۔ | 156 |
| 14 | 没有文字... | 134 |
| 15 | 没有文字... | 159 |
| 16 | 𝟯𝟬 𝗝𝘂𝗻𝗲 𝟮𝟬𝟮𝟲 – 𝗛𝘂𝗯 𝗖𝗵𝗼𝘄𝗸𝗶, 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻
Pamphleting and wall chalking campaigns were carried out across Bhawani, Jam Colony, Ameerabad, Lasi Road, and Charahi, Hub, Balochistan, to raise awareness about the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch.
Further, through these awareness activities, the life imprisonment sentences of the BYC leaders were highlighted. Participants also discussed the continued suppression of political voices in Balochistan and emphasized the importance of raising public awareness about human rights, justice, and accountability. They urged people to remain united, speak out against injustice, and support the peaceful demand for justice, fundamental rights, and the release of the detained BYC leadership.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders | 193 |
| 17 | 没有文字... | 195 |
| 18 | 28 جون بروز اتوار بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے لواحقین اور آل پارٹیز کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد پی ٹی ایم کے رہنما زبیر شاہ آغا کو پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے زبردستی حراست میں لے لیا، اور اب انہیں 3MPO کے تحت گرفتار ظاہر کیا گیا۔ یہ اقدام ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ریاست 3MPO جیسے کالے اور غیر جمہوری قوانین کو سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں اور ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کرنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
یہ حقیقت واضع ہے کہ 3MPO اب قانون سے زیادہ ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے پرامن سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو ریاست گرفتاریوں، دھمکیوں اور جبر کا سہارا لیتی ہے۔ ہر گرفتاری دراصل اس خوف کا اعتراف ہے جو طاقتور حلقے سچ بولنے والی آوازوں سے محسوس کرتے ہیں۔
زبیر شاہ آغا ایک پُرامن سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے ہمیشہ ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے اور محکوم اقوام کے حقوق، انصاف اور انسانی وقار کی جدوجہد میں مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی گرفتاری کسی جرم کی نہیں بلکہ ان کے سیاسی مؤقف اور حق گوئی کی سزا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زبیر شاہ آغا کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان کے بنیادی و آئینی حقوق کا احترام کیا جائے۔ | 180 |
| 19 | 没有文字... | 525 |
| 20 | 𝟭𝟱-𝘆𝗲𝗮𝗿-𝗼𝗹𝗱 𝗦𝗮𝗶𝗳 𝗝𝗮𝗻 𝘄𝗮𝘀 𝗲𝘅𝘁𝗿𝗮𝗷𝘂𝗱𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗸𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗯𝘆 𝗱𝗲𝗮𝘁𝗵 𝘀𝗾𝘂𝗮𝗱𝘀 𝗶𝗻 𝗣𝗮𝗻𝗷𝗴𝘂𝗿 𝗮𝗳𝘁𝗲𝗿 𝘁𝗵𝗿𝗲𝗲 𝗺𝗼𝗻𝘁𝗵𝘀 𝗼𝗳 𝗲𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲 𝗱𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲.
𝙅𝙪𝙣𝙚 29, 2026 - 𝙋𝙖𝙣𝙟𝙜𝙪𝙧, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Saif Jan, son of Faiz Muhammad, was a student from Chitkan, Panjgur. He was forcibly disappeared during the month of Ramadan. After three months, on 29 June 2026, his dead body was dumped in Airport Road Panjgur.
The Baloch Yakjehti Committee (BYC) strongly condemns the enforced disappearance and extrajudicial killing of 15-year-old Saif Jan.
When the state sentences BYC leaders to life imprisonment without proving any crime, why does it never take action against those responsible for these killings?
The Baloch Yakjehti Committee appeals to international human rights organizations and the global community to take urgent action. The people of Balochistan continue to face severe oppression, and their voices must not be ignored.
#StopBalochGenocide | 159 |
现已上线!2025 年 Telegram 研究 — 年度关键洞察 
