uk
Feedback
Baloch Yakjehti Committee

Baloch Yakjehti Committee

Відкрити в Telegram

Official channel of Baloch Yakjehti Committee

Показати більше
2 928
Підписники
Немає даних24 години
+137 днів
+8030 день
Архів дописів
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

On August 27, 2025, Nazar Marri was taken and since then, there has been nothing but silence. Eleven months have passed with
On August 27, 2025, Nazar Marri was taken and since then, there has been nothing but silence. Eleven months have passed with no charges, no court appearance, and no legal justification. His absence is not just personal, it reflects a deeper crisis of rights. Nazar Marri is still missing. #ReleaseNazarMarri #ReleaseBYCLeaders

نوشکی میں فوجی محاصرہ اور کرفیو بلوچ عوام کو اجتماعی سزا دینے کی ریاستی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نوشکی میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری فوجی محاصرہ، کرفیو، گھروں پر چھاپے اور جبری گمشدگیوں کا تسلسل بلوچ عوام کے خلاف اجتماعی سزا کی ایک منظم ریاستی پالیسی ہے، جس کا مقصد سیاسی شعور، سماجی زندگی اور قومی مزاحمت کو دبانا ہے۔ چھ ماہ گزر جانے کے باوجود معمولاتِ زندگی کی بحالی کے بجائے کرفیو میں مسلسل توسیع اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست پاکستان تشدد، بربریت اور محاصرے کے ذریعے اپنی رٹ قائم رکھنا چاہتی ہے۔ نوشکی کو عملاً ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں محنت کش، دیہاڑی دار، طلبہ، مریض، خواتین اور بچے سب ریاستی پالیسیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ روزگار کے ذرائع بند کر دیے گئے ہیں، نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے، علاج اور خوراک تک رسائی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ پوری آبادی کو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ کسی پوری آبادی کو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم رکھنا اجتماعی سزا کی بدترین شکل اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر چھاپوں، اجتماعی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ متعدد افراد کو حراست میں لے کر مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ کئی شہریوں کو گھروں پر چھاپوں کے دوران جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا، جن کے اہلِ خانہ مسلسل اذیت، خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ جبری گمشدگیاں، فوجی محاصرہ، کرفیو اور اجتماعی سزا ایک ہی ریاستی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو ہیں۔ بلوچستان میں قانون، آئین اور عدالتی عمل کی جگہ بربریت اور جبر کو حکمرانی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ پالیسیاں درحقیقت ریاست کی سیاسی ناکامی، عوامی حمایت سے محرومی اور عوامی شعور کے سامنے اس کی بے بسی کا اظہار ہیں۔ آج نوشکی بلوچستان میں نافذ ریاستی جبر، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کی ایک زندہ تصویر ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی برادری اور تمام انصاف پسند قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان، بالخصوص نوشکی میں جاری فوجی محاصرے، جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کی پالیسی کا فوری نوٹس لیں، ریاستی بے لگام طاقت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، اور بلوچ عوام کے جان، مال، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان پر عملی دباؤ بڑھائیں۔

photo content

𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

کشمیر میں عوامی تحریک پر ریاستی بربریت پاکستان کے جبر کے نظام کو بے نقاب کر رہی ہے بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ یکجہتی کمیٹی کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال، براہِ راست فائرنگ، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ہم ان اقدامات کو اس وسیع ریاستی پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں جس کے تحت عوامی آوازوں اور سیاسی مزاحمت کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عوامی مطالبات کا جواب سیاسی عمل کے بجائے گولی، گرفتاری اور جبر سے دینا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستِ پاکستان اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے۔ کشمیر میں گزشتہ 52 روز سے جاری عوامی تحریک اس امر کا واضح اظہار ہے کہ محکوم اقوام اپنے بنیادی حقوق، وسائل، شناخت اور سیاسی اختیار کے لیے جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوتیں۔ تاہم، ان مطالبات کو سننے اور ان کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے ریاست نے طاقت کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں براہِ راست فائرنگ، تشدد، گرفتاریوں اور محاصروں کے ذریعے عوامی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ریاستی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نزدیک یہ صورتحال اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ریاست عوامی مطالبات کا سیاسی حل نکالنے کی صلاحیت اور آمادگی سے محروم ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے وہ منظم عوامی شعور، اجتماعی مزاحمت اور سیاسی بیداری سے خوفزدہ ہو کر جبر اور طاقت کا سہارا لے رہی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال بلوچستان، پشتونخوا، سندھ اور دیگر محکوم خطوں میں اختیار کی جانے والی انہی پالیسیوں کا تسلسل ہے، جہاں عوامی حقوق، وسائل اور سیاسی اختیار کے مطالبات کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو ریاست محکوم قوموں کے وسائل پر قبضے اور انہیں جبر کے ذریعے خاموش رکھنے کی بنیاد پر قائم ہو، وہ مکالمے اور انصاف کے بجائے بندوق، تشدد اور ریاستی طاقت کو اپنی حکمرانی کا بنیادی ذریعہ بناتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں عوامی حقوق کی تحریکوں کے خلاف طاقت کے استعمال، ماورائے قانون اقدامات، غیرقانونی گرفتاریوں، شہری آزادیوں پر قدغن اور احتجاج کے بنیادی حق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات کی آزاد، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، اور بین القوامی فورم پر پاکستان کا احتساب کیا جائے، اور پاکستان پر مؤثر سفارتی و قانونی دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے، طاقت کے استعمال کا خاتمہ کرے، اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق، بالخصوص پرامن اجتماع، اظہارِ رائے اور سیاسی شرکت کے حق کا احترام یقینی بنائے۔

photo content

It was never just a moment. It was hope. It was a voice. The Baloch Raji Muchi was a gathering where only one identity mattered,the Baloch identity. There was no division of religion, sect, or tribe. There was only one nation, united by a shared history, a shared pain, and a shared hope. Raji Muchi means the national gathering of the Baloch ,a place where Baloch people came together under one name, one identity, and one purpose. From every corner of Balochistan to Marine Drive in Gwadar, an ocean of people filled the roads. That sea of humanity reflected the unity, determination, and collective spirit of the Baloch nation. The Baloch Raji Muchi did not end on 28 July. Wherever Baloch people stand together with unity, dignity, and a shared purpose, the spirit of the Baloch Raji Muchi lives on. Because the Baloch Raji Muchi is not confined to one place or one day. It lives wherever the Baloch gather as one nation. It lives in every united voice. It lives in every step taken together. It lives in every heart that refuses to give up hope. #2YearsOfRaajiMuchi #BalochNationalGathering

بلوچ راجی مچی صرف ایک اجتماع نہیں تھا، بلکہ بلوچ قوم کے اجتماعی شعور، اتحاد اور قومی عزم کا ایک تاریخی مظاہرہ تھا۔ اس کی کامیابی نے ثابت کیا کہ بلوچ عوام اپنے حقوق، شناخت اور انصاف کے مطالبات پر متحد ہیں۔ راجی مچی نے قومی یکجہتی، عوامی شرکت اور پُرامن جدوجہد کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔ یہ کامیابی بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ راجی مچی ایک عارضی پروگرام نہیں، بلکہ بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین کے لیے مزاحمت کا تسلسل ہے۔ ریاست نے اس مچی کو روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کی، لیکن بلوچوں کے عزم کے سامنے اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ راجی مچی کو روکنے کے لیے ریاست نے پورے گوادر کو سیل کر دیا تاکہ بلوچوں کو کھانے پینے کی اشیاء میسر نہ ہوں اور وہ واپس چلے جائیں، لیکن بلوچ قوم کو ریاستی رکاوٹیں روک نہ سکیں۔ کئی لوگوں کو شہید کیا گیا اور کئی افراد شدید زخمی ہوئے۔ گوادر، تلار اور مستونگ سمیت پورا بلوچستان کربلا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ لوگوں کو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں تھا، جبکہ گرمی اور پیاس اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھیں۔ اسی دوران پاکستانی فوج کی جانب سے ہمارے لوگوں پر براہِ راست گولیاں چلائی جا رہی تھیں۔ وہ لمحات اور ریاستی جبر بلوچ قوم کی یادداشت سے کبھی بھی نہیں جائیں گے۔ مزاحمت کی راہ ہمارے لیے ایک روشن چراغ ہے۔ ہم مزاحمت کرتے رہیں گے اور اسی مزاحمت کے ذریعے اس ظلم سے نجات حاصل کریں گے۔

photo content

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

28 July 2026 – Mastung As part of the campaign marking two years of the Baloch National Gathering (Raaji Muchi), a pamphleting campaign was carried out across Mastung Bazaar, Killi Behram Shahi, Killi Muhammad Shahi, Killi Abizai, Killi Shaikhan, Ashkana, Raaji Muchi Cross (Killi Maari Nawab Hotel), Killi Lada, Killi Teri, Mastung Road, and Sorang Bazaar. The campaign aimed to raise public awareness about the historical significance of Raaji Muchi, reminding people that it was not merely a gathering but a historic movement that united the Baloch nation and strengthened its collective voice. The outreach also encouraged communities to preserve the memory of this movement and continue promoting awareness, unity, and collective resistance against injustice. #2YearsOfRaajiMuchi #BalochNationalGathering

photo content
+9

28 July 2026 – Quetta Public Awareness Campaign Marks Two Years of the Baloch National Gathering (Raaji Muchi) As part of the campaign marking two years of the Baloch National Gathering (Raaji Muchi), awareness activities were carried out across different areas of Quetta to highlight the historical significance of Raaji Muchi. Pamphleting and wall chalking were conducted in Sofi Noor Muhammad Street (Barori), Hudda, Killi Ismail, and Gohar Abad. In Hazar Ganji, pamphleting, wall chalking, and a corner meeting were held, engaging local communities and discussing the importance of Raaji Muchi. It also called on people to remember this movement, recognising that preserving its legacy and standing together against injustice is a shared responsibility. #2YearsOfRaajiMuchi #BalochNationalGathering