en
Feedback
Baloch Yakjehti Committee

Baloch Yakjehti Committee

Open in Telegram

Official channel of Baloch Yakjehti Committee

Show more
2 921
Subscribers
-124 hours
-57 days
-1130 days
Attracting Subscribers
September '26
September '26
+13
in 0 channels
August '26
+86
in 1 channels
Get PRO
July '26
+154
in 2 channels
Get PRO
June '26
+83
in 1 channels
Get PRO
May '26
+64
in 1 channels
Get PRO
April '26
+68
in 1 channels
Get PRO
March '26
+84
in 0 channels
Get PRO
February '26
+174
in 1 channels
Get PRO
January '26
+113
in 4 channels
Get PRO
December '25
+76
in 1 channels
Get PRO
November '25
+69
in 2 channels
Get PRO
October '25
+72
in 1 channels
Get PRO
September '25
+108
in 0 channels
Get PRO
August '25
+93
in 1 channels
Get PRO
July '25
+156
in 2 channels
Get PRO
June '25
+96
in 3 channels
Get PRO
May '25
+214
in 2 channels
Get PRO
April '25
+152
in 3 channels
Get PRO
March '25
+444
in 5 channels
Get PRO
February '25
+92
in 2 channels
Get PRO
January '25
+284
in 2 channels
Get PRO
December '24
+118
in 1 channels
Get PRO
November '24
+173
in 1 channels
Get PRO
October '24
+243
in 1 channels
Get PRO
September '24
+1 190
in 0 channels
Date
Subscriber Growth
Mentions
Channels
04 September+6
03 September+1
02 September+4
01 September+2
Channel Posts
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

2
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
146
3
تربت میں ٹک ٹاکرز کے وی آئی پی پروٹوکول کے لیے کرفیو نما صورتحال بنانا اور شہریوں پر تشدد کرنا قابلِ مذمت ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے اپنی من مانی کے تحت سڑکیں بند کرنا، شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنا اور عوام پر تشدد کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ تربت میں اسلام آباد سے لائے گئے ٹک ٹاکرز اور کانٹینٹ کریٹرز کو وی آئی پی پروٹوکول دینے کے لیے شہریوں کی آمدورفت روکی گئی اور کئی گھنٹوں تک سڑکیں بند رکھی گئیں، جس کے باعث اسکول جانے والے بچوں، مریضوں، ڈاکٹروں، اسپتال کے عملے اور کاروباری افراد سمیت ہزاروں شہری شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔ سڑکوں کے بندش پر جب مریضوں اور سینیر ڈاکٹروں نے سوال اٹھایا، تو ایف سی کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایک ڈاکٹر پر بندق تانا گیا اور گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔ تشدد کا شکار ہونے والے مریضوں میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔ اس واقعے کے خلاف تربت ٹیچنگ ہسپتال میں عوام، مریضوں اور اسپتال کے عملے نے احتجاج کرتے ہوئے ڈیوٹی سے بایئکاٹ کیا ، کرفیو نما صورتحال کے خاتمے اور شہریوں پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ بلوچستان میں نام نہاد ’’فیک نیرٹیو‘‘ تشکیل دینے کے لیے وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسی مقصد کے لیے عام شہریوں کو محصور کرکے ان کی بنیادی آزادیِ نقل و حرکت سلب کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی کے نام پر بلوچستان میں شہری زندگی کو مسلسل پابندیوں اور جبر میں رکھنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ہم متعلقہ اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طرح کے غیر انسانی واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے، اور شہریوں پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف شفاف کارروائی کی جائے اور بلوچستان میں کرفیو نما پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہیں کہ بلوچستان میں شہریوں کے ساتھ ہونے والے جبری اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور حکام کوانسانی حقوق کے لیے پابند کریں۔ تربت کے عوام اور اسپتال کے عملے کی جانب سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے ریکارڈ کرائے گئے احتجاج جبر کے خلاف مزاحمت ہے ہم بلوچ عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے حقوق اور آزادیوں کے دفاع میں اپنی آواز پُرامن اور مسلسل انداز میں بلند کرتے رہیں کیونکہ خاموش ظلم کو مزید توانا کرتی رہے گی۔
188
4
No text...
164
5
𝗦𝘆𝗲𝗱 𝗕𝗶𝗯𝗶 𝗥𝗲𝗹𝗲𝗮𝘀𝗲𝗱 𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗧𝘄𝗼 𝗠𝗼𝗻𝘁𝗵𝘀 𝗼𝗳 𝗗𝗲𝘁𝗲𝗻𝘁𝗶𝗼𝗻 On 1 July 2026, Syed Bibi was detained from her home during a raid by the CTD. Following protests in Turbat against the life imprisonment of Dr. Mahrang and Sibghatullah Shahji, she was released on 2 July. Yet, only a day after her release, on 3 July, she was detained again and held for two months under the 3MPO. On 31 August 2026, she was finally released from prison. During those months in detention, she witnessed the suffering and injustice faced by many Baloch people behind prison walls. The experience deepened her understanding of the human cost of repression and strengthened her commitment to human rights and justice. Her body was confined, but her conscience remained free.
183
6
No text...
179
7
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
216
8
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
251
9
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
238
10
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
216
11
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
229
12
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
31
13
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
222
14
خاموش چیخ نجانے وہ کب سے چھت پر بیٹھی ہوئی چاند کو دیکھ کر انہی حسین لمحات کو یاد کر رہی تھی۔ چودھویں کا چاند شاید پہلے اتنا دردناک نہ تھا۔ وہ اپنے بھائی کے ان لمحات کو یاد کر رہی تھی کہ کیسے نقاب پوش وردی میں ملبوس اہلکار اس کے بھائی کو مار کر لے جا رہے تھے اور وہ خوف کی اس ساکت حالت میں کچھ نہ کر سکی۔ اسی دوران جب بڑی بہن نے زور سے کہا کہ میرے بھائی کے پاؤں میں راڈ ہیں، اسے بخش دو۔ لیکن ایک قہقہ گونج اٹھا۔ بوٹوں اور لاٹھیوں کا رخ اس زخمی حصے کی طرف کیا، پھر پورا محلہ بھائی کی چیخوں سے لرز اٹھا۔ اسی دوران گھر والے اس کی بڑی بہن کو سنبھالتے ہوئے خود ٹوٹ گئے۔ جس بھائی کے ارمانوں کو پورا کرنے کے لیے بہنوں نے اپنے گہنے گروی رکھے، لیکن آج ان پر آسمان گر پڑا ہے اور سب یہی دعا کر رہے تھے کہ کاش اس لمحے سے پہلے زمین پھٹ جاتی اور ہم سب اس میں سما جاتے! اسی دوران ایک فون کال چاروں سمت کی خاموشی کو چیرتی ہوئی اسے جھنجھوڑتی ہے کہ تیس اگست کی کانفرنس میں بھائی کی رہائی کے لیے اپیل کرنا ہے۔ وہ نوٹ بک لیے چھت پر لفظوں کی تلاش میں آسمان کو تکتی جا رہی ہے۔ اسے بھائی کا وہ مذاق یاد آ رہا تھا کہ، "اڑے گھارک ، بس کن تو چینکس گپ جن ئے " یعنی، پیاری بہن، بس کرو، اور کتنا بولو گی۔ وہ نوٹ بک کا پہلا صفحہ پھاڑ دیتی ہے کیونکہ اس کے آنسو ٹپک ٹپک کر الفاظ کی جگہ لے رہے تھے۔ وہ ہمت کر کے لکھنا شروع کر دیتی ہے کہ "ایلم جان"، لیکن آگے ہمت نہ کر کے خیالات میں گم ہو جاتی ہے کہ تمہاری باتونی بہن کے لیے اب ایک لفظ کا لکھنا کتنا مشکل بن چکا ہے۔ لفظ اس کے جذبات کی ترجمانی نہیں کر پا رہے، کیونکہ درد وہ اذیت ہے جس کو ہزاروں کتابیں بھی بیان نہ کر سکیں۔ وہ بہ مشکل لفظوں کو جوڑ توڑ کر چار لفظوں کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اب وہ کانفرنس میں بیٹھی اپنے باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اسی لمحے وہ اپنے جیسی دیگر بہنوں اور ماؤں کو دیکھ کر درد کی یکجائی کو محسوس کر رہی تھی کہ کس طرح یہاں لختِ جگر کو یاد کرتے ہوئے اجتماعی درد کو بیان کیا جا رہا تھا۔ وہ اپنی نوٹ بک کو اپنے کمزور ہاتھوں میں تھامے، ان بکھرے لفظوں کو اپنی یادداشت میں سمو رہی تھی کہ اچانک اس کا نام پکارا جاتا ہے۔ وہ اپنے چھوٹے قدموں سے اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسٹیج ویسے تو بیس قدم کے فاصلے پر تھا، لیکن آج اس کے لیے ایک طویل اور مشکل سفر تھا، کیونکہ اب اس کے لیے ہندسوں کے معنی بدل رہے تھے اور اب وہ لمحوں کو صدیوں کی طرح جی رہی تھی۔ بالآخر وہ اسٹیج پر اپنے مائیک کو سنبھالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے بہن کی وہ مسکراہٹ آ جاتی ہے جس کے متعلق اماں جان نے کہا تھا کہ، "شنکو، اللہ تمہیں نظرِ بد سے بچائے۔" وہ ایک ہی وقت میں ہزاروں لمحوں کو جی رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھوں سے مائیک گر پڑتا ہے اور اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ بس اپنے مہروان بھائی کی تصویر بلند کرتی ہے، جس پر اس کے بھائی کی جبری گمشدگی کی تفصیلات لکھی ہوئی تھیں، اور وہ بوجھل قدموں کے ساتھ واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
263
15
No text...
228
16
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
287
17
30 اگست جبری گمشدگی کے متاثرین کا عالمی دن ہے۔ چھ سال ہو چکے ہیں کہ میرے شوہر لاپتہ ہیں۔ یہ ظلم کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ میں عدالتوں میں پیش ہوئی ہوں، اسلام آباد گئی ہوں، گوادر گئی ہوں اور ہر تاریخ پر پیش ہوتی رہی ہوں۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ میرے شوہر کا جو بھی قصور ہے، انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر وہ بے گناہ ہیں تو انہیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ میرے معصوم بچے دربدر ہیں۔ ہمارا کوئی گھر نہیں، میرے بچے بے گھر ہیں۔ کبھی ایک وقت کا کھانا ملتا ہے تو دوسرے وقت کے کھانے کا بھی کوئی یقین نہیں ہوتا۔ خدارا میرے شوہر کو عدالت میں پیش کریں۔ میرے شوہر بے گناہ اور بے قصور ہیں۔ میں اور میرے بچے چھ سال سے دربدر ہیں۔ بلوچوں کو مسلسل لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ لاپتہ افراد کے خاندان شدید اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے بچے بھی بہت تکلیف میں ہیں۔ وہ اپنے ابو کی تصویر ہاتھ میں اٹھا کر مجھ سے پوچھتے ہیں: ہمارے ابو کب آئیں گے؟ کب ہمارے ابو دوبارہ گھر میں ہوں گے؟ میرے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ ان کی زندگی اپنے والد کی جدائی اور مسلسل انتظار میں گزر رہی ہے۔ میں ایک بار پھر اپیل کرتی ہوں کہ میرے شوہر کا اگر کوئی قصور ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ میں آج بھی اس امید میں ہوں کہ میرے شوہر واپس آئیں گے۔ مجھے اور میرے بچوں کو مزید تکلیف نہ دیں۔ گزشتہ چھ سال سے میں اور میرے بچے یہ اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ میرا ایک بیٹا بہت بیمار ہے، لیکن اس کے علاج کے لیے بھی میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میرے شوہر بے گناہ ہیں، انہیں بازیاب کیا جائے۔ InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances #EndEnforcedDisappearances
240
18
No text...
204
19
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
221
20
جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن محض کیلنڈر پر درج ایک دن نہیں، بلکہ دنیا بھر میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد اور اُن کے خاندانوں کے مسلسل کرب، بے یقینی اور طویل انتظار کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ دن اُن تمام خاندانوں کی آواز دنیا تک پہنچانے اور اُن کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کی یاد دہانی ہے، جن کے پیاروں کو اُن سے جدا کر کے ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔جس کا کوئی اختتام مقرر نہیں۔ یہ دن ہمیں اُن ہزاروں خاندانوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو اپنے پیاروں کی واپسی، اُن کے بارے میں سچ اور انصاف کے انتظار میں ہر روز ایک نئے کرب سے گزرتے ہیں۔ جبری گمشدگی صرف ایک انسان کی آزادی چھیننے کا عمل نہیں، بلکہ اُس کے پورے خاندان کو ایک ایسی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے جس کی کوئی مدت، کوئی حد اور کوئی واضح انجام نہیں ہوتا۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر تھامے اُس کی واپسی کی منتظر رہتی ہے، ایک بہن اپنے بھائی کے لوٹ آنے کی امید میں راستہ تکتی ہے، اور بچے اپنے والد کی واپسی کے سوال کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے ہر گزرتی صبح ایک ہی سوال سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات اُسی سوال پر ختم ہوتی ہے... وہ کہاں ہے؟ سڑکوں پر بیٹھنے والی مائیں، اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی تصاویر اٹھانے والی بہنیں، اپنے والد کی واپسی کے منتظر بچے اور برسوں سے انصاف کے دروازوں پر دستک دینے والے خاندان۔ اِن کی جدوجہد کسی ایک دن کی جدوجہد نہیں۔ یہ اُن کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ عالمی دن صرف اُس مسلسل جدوجہد کو دنیا کے سامنے رکھنے اور اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ کسی انسان کو لاپتہ کر دینا اُس کے وجود کو ختم نہیں کرتا اور نہ ہی اُس کے خاندان سے اُس کا تعلق مٹایا جا سکتا ہے۔ اُس کی واپسی کی امید ہر گزرتے دن کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ ہر خاندان کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اُس کا پیارا کہاں ہے، اُس کے ساتھ کیا ہوا، اور اُس کی زندگی، آزادی اور سلامتی کے بارے میں فیصلہ کس اختیار اور کس قانون کے تحت کیا گیا۔ جبری گمشدگی کے خلاف جدوجہد دراصل انسان کے بنیادی حق، زندگی، آزادی، شناخت اور انصاف کے دفاع کی جدوجہد ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہر انسان کو اپنی آزادی اور اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے، اور ہر خاندان کو اپنے پیارے کے بارے میں سچ جاننے کا حق ہے۔ یہ دن ہمیں صرف لاپتہ افراد کو یاد کرنے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ ہم اُن خاندانوں کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ دن ہمیں صرف ماضی کے واقعات یاد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اُن تمام لوگوں کی موجودہ حالت پر توجہ دینے کے لیے بھی مجبور کرتا ہے جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ جبری گمشدگی محض ایک قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا اور جاری انسانی المیہ ہے، جو ایک فرد کے ساتھ ساتھ اُس کے پورے خاندان کو طویل انتظار، بے یقینی اور اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہر متاثرہ خاندان کو اپنے پیارے کے بارے میں سچ جاننے، اُس کی خیریت اور موجودگی سے آگاہ ہونے اور انصاف حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ کسی بھی خاندان کو اپنے عزیز کی قسمت سے بے خبر رکھنا اور اسے مسلسل انتظار کی اذیت میں مبتلا رکھنا انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ #InternationalDayOfTheVictimsOfEnforcedDisappearances #EndEnforcedDisappearances
218