Baloch Yakjehti Committee
Open in Telegram
2 846
Subscribers
+624 hours
+197 days
-230 days
Data loading in progress...
Similar Channels
Tags Cloud
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
June '26
June '26
+80
in 1 channels
May '26
+64
in 1 channels
Get PRO
April '26
+68
in 1 channels
Get PRO
March '26
+84
in 0 channels
Get PRO
February '26
+174
in 1 channels
Get PRO
January '26
+113
in 4 channels
Get PRO
December '25
+76
in 1 channels
Get PRO
November '25
+69
in 2 channels
Get PRO
October '25
+72
in 1 channels
Get PRO
September '25
+108
in 0 channels
Get PRO
August '25
+93
in 1 channels
Get PRO
July '25
+156
in 2 channels
Get PRO
June '25
+96
in 3 channels
Get PRO
May '25
+214
in 2 channels
Get PRO
April '25
+152
in 3 channels
Get PRO
March '25
+444
in 5 channels
Get PRO
February '25
+92
in 2 channels
Get PRO
January '25
+284
in 2 channels
Get PRO
December '24
+118
in 1 channels
Get PRO
November '24
+173
in 1 channels
Get PRO
October '24
+243
in 1 channels
Get PRO
September '24
+1 190
in 0 channels
| Date | Subscriber Growth | Mentions | Channels | |
| 29 June | +4 | |||
| 28 June | +7 | |||
| 27 June | +4 | |||
| 26 June | +2 | |||
| 25 June | +2 | |||
| 24 June | +5 | |||
| 23 June | +10 | |||
| 22 June | +4 | |||
| 21 June | +4 | |||
| 20 June | +1 | |||
| 19 June | 0 | |||
| 18 June | +5 | |||
| 17 June | +2 | |||
| 16 June | +1 | |||
| 15 June | +4 | |||
| 14 June | +1 | |||
| 13 June | +2 | |||
| 12 June | +2 | |||
| 11 June | +1 | |||
| 10 June | +1 | |||
| 09 June | +3 | |||
| 08 June | +2 | |||
| 07 June | +1 | |||
| 06 June | +2 | |||
| 05 June | +2 | |||
| 04 June | +3 | |||
| 03 June | +1 | |||
| 02 June | +2 | |||
| 01 June | +2 |
Channel Posts
کوئٹہ میں بشیر چوک اور کرانی روڈ پر رات 9 بجے تک جاری دھرنا خواتین مظاہرین کے رہائی کے بعد ختم کر دیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
آج بلوچستان کے شہر کوئٹہ، سریاب روڈ برما ہوٹل کے مقام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے اہلخانہ کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پُرامن احتجاج ریکارڈ کیا گیا، جس میں بی وائی سی کی قیادت کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھاری تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی، جس دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس اقدام کے ردعمل میں پُرامن احتجاج کو کوئٹہ کے مختلف مقامات پر دھرنوں کی صورت میں توسیع دیا گیا۔
بعد ازاں گرفتار کیے گئے چند مظاہرین کو رہا کر دیا گیا، تاہم کچھ راہ گیروں کو بھی پولیس نے حراست میں لیاگیا تھا جو اب بھی بغیر کسی جرم کے قید ہے جنہیں کل رہا کرنے کی یقین دہانی کی گئی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں موجود سول انتظامی نظام کو عملی طور پر عسکری طرزِ انتظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں ایک پُرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بھی برداشت نہیں کیا جارہا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ انسانی حقوق، انصاف اور جبر کے خلاف اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ہم تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائیل کے خاتمے اور غیر منصفانہ سزا کے موخری تک مسلسل آواز بلند کرتے رہینگے۔ تمام شہریوں، سیاسی و سماجی قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں بنیادی حقوق کی پامالیوں اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر عائد قدغنوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
| 2 | No text... | 30 |
| 3 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 32 |
| 4 | کل رات گئے کر اچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ کے گھر پر پولیس و خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے چھاپا مارا۔ چھاپے کے دوران ان کے گھر کے دروازے توڑے گئے، گھر میں تھوڑ پھوڑ کی گئی گھر میں موجود تمام قیمتی سامان چوری کرلیا گیا، کتابیں ضبط کی گئیں اور اہلِ محلہ کو ہراساں کیا گیا۔
سمی دین بلوچ ایک جبری گمشدگیوں سے متاثرہ خاندان ہونے کے ساتھ جمہوری سیاسی کارکن ہیں اور ان کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کے خالی گھر پر اس نوعیت کی کارروائیوں کا مقصد انہیں خوفزدہ کرنا، دباؤ میں لانا اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
ہم سمجھتے ہے کہ یہ کارروائی صرف سمی دین بلوچ کے خلاف نہیں، بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پوری قیادت کے خلاف جاری وسیع ریاستی جبری اقدامات کا تسلسل ہے۔ بی وائی سی کے رہنماؤں کو مسلسل گرفتاریوں، چھاپوں، ہراسانی اور مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ان آوازوں کو خاموش کرنا ہے جنہوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
سمی دین بلوچ گزشتہ سترہ برسوں سے اپنے جبری گمشدہ والد، ڈاکٹر دین محمد بلوچ، کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے والد بلکہ تمام جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے امید، استقامت اور مزاحمت کی ایک علامت بن چکی ہیں۔
سترہ برس کی جدوجہد نے انہیں خاموش ہونا نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا سکھایا ہے۔یہ کارروائیاں شاید خوف پھیلانے کے لیے ہوں، مگر سمی دین بلوچ اُن افراد میں سے ہیں جنہوں نے صرف خوف کے سائے میں جینا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہتھکنڈے محض ریاست کے ان عزائم کا عیاں کرتی ہے جو وہ بلوچ نسل کشی کے لیے طے کرچکا ہے۔
ایسے اقدامات شہری آزادیوں، نجی زندگی کے تقدس اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں، جن کا جواب متعلقہ حکام پر لازم ہے | 37 |
| 5 | No text... | 29 |
| 6 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 62 |
| 7 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 36 |
| 8 | بشیر چوک میں جاری پُرامن احتجاج کو ختم کرانے کے لیے پولیس کی جانب سے شیلنگ اور طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
پولیس کی کارروائی کے ردِعمل میں مظاہرین نے احتجاجاً کرانی بائی پاس کو بھی بند کر دیا ہے۔ اور یہ واضح کیا ہے کہ گرفتار افراد کی بلاشرط رہائی تک احتجاج کا دائرہ برقرار رہے گا اور اپنے آئینی و جمہوری حقِ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
#ReleaseBYCLeaders | 100 |
| 9 | No text... | 204 |
| 10 | بشیر چوک پر جاری پُرامن دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ایک مرتبہ پھر طاقت کا استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور دھرنا بدستور جاری ہے۔ جب تک گرفتار تمام افراد کو بلاشرط و غیر مشروط رہا نہیں کیا جاتا، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا اور احتجاج مسلسل جاری رہے گا۔
بی وائی سی کی جانب سے کوئٹہ کے تمام باشعور شہریوں، طلبہ، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بشیر چوک پہنچ کر جاری دھرنے میں شرکت کریں اور اس پُرامن جدوجہد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔
#ReleaseBYCLeaders | 115 |
| 11 | No text... | 213 |
| 12 | آج بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے اہلِ خانہ کی جانب سے برما ہوٹل، سریاب، کوئٹہ میں ایک پُرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ اسیر رہنماؤں کی رہائی اور ان کے خلاف جاری کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی جا سکے۔
احتجاج کے آغاز سے قبل ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بھاری نفری مقام پر تعینات تھی۔ جیسے ہی مظاہرین نے اپنا پُرامن احتجاج شروع کیا، انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی چھوٹی بہن سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتاریوں کے خلاف احتجاجاً مظاہرین نے بشیر چوک کو بند کر دیا اور مظاہرے کو دھرنے میں تبدیل کردیا۔ اس وقت بشیر چوک پر دھرنا جاری ہے اور جب تک باقی مظاہرین کو رہا نا کیا جائے گا تب تک مظاہرہ جاری رہے گا۔ ہم کوئٹہ کے با شعور عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے کہ وہ دھرے میں شامل ہو کر اظہارِ یکجہتی کریں اور انصاف، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ | 104 |
| 13 | No text... | 220 |
| 14 | The peaceful protest organized by the families of detained BYC leaders at Burma Hotel, Sariab, Quetta, was met with a heavy crackdown by Quetta Police.
Several peaceful protesters were arrested. As of now, the whereabouts of many of those detained remain unknown, raising serious concerns for their safety and well-being.
The right to peaceful assembly and freedom of expression must be respected. The families’ call for justice was answered with force, and those taken into custody should be accounted for immediately.
We demand that the authorities disclose the whereabouts of all detained protesters, ensure their safety, and uphold their legal rights.
#ReleaseBYCLeaders | 101 |
| 15 | No text... | 195 |
| 16 | Today, the families of detained BYC leaders are set to hold a peaceful protest against the life sentences imposed on Dr. Mahrang and Sibquatullah Shah Jee at Barma Hotel, Sariab, Quetta.
However, the entire area has been heavily cordoned off by the police, with a large number of police vehicles and security personnel deployed. There are serious concerns that the peaceful protest may be disrupted and that participants could face arrests.
We appeal to the people of Sariab and all other areas of Quetta to come out and stand in solidarity. People from every walk of life are encouraged to participate in this peaceful protest and support the families in raising their voices.
#ReleaseBYCLeaders | 124 |
| 17 | No text... | 213 |
| 18 | Resistance is so powerful that it is carried forward by every generation. A nation that faces genocide, killings, fear, suppression, and harassment never falls silent. Instead, these hardships become its strength to raise its voice louder and stronger.
These children and people have overcome fear and now lead the resistance for justice, dignity, and identity. If anyone thinks that bullets, weapons, bloodshed, enforced disappearances, torture, targeted killings, or social media propaganda can silence them, they are making the biggest mistake. They are only making the new generation more mobilized, more determined, and more ready to demand what is rightfully theirs. They will continue to speak about this genocide in every street and through every possible platform.
Long live resistance.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders | 139 |
| 19 | No text... | 127 |
| 20 | 𝗝𝘂𝗻𝗲 𝟮𝟴, 𝟮𝟬𝟮𝟲 – 𝗣𝗼𝗼𝗱𝗴𝗶𝗹𝗶 𝗖𝗵𝗼𝘄𝗸 𝗮𝗻𝗱 𝗦𝗵𝗮𝗵 𝗝𝗶 𝗰𝗵𝗼𝘄𝗸, 𝗦𝗵𝗮𝗮𝗹 (𝗤𝘂𝗲𝘁𝘁𝗮), 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻
Pamphleting, wall chalking and corner meetings campaigns were carried out in Poodgili Chowk, Shah Ji Chowk, Gohar Abad, and Saryab, Shaal (Quetta), to raise awareness about the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch.
Further. In this corner meeting the continued detention of the BYC leaders and the judicial proceedings against them were highlighted. They also discussed the increasing suppression of political voices in Balochistan and urgedu people to remain united, speak out against injustice, and support the peaceful demand for justice, human rights, and the release of the detained BYC leadership.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders | 183 |
Available now! Telegram Research 2025 — the year's key insights 
