Baloch Yakjehti Committee
Открыть в Telegram
2 908
Подписчики
+424 часа
+257 дней
+7130 день
Загрузка данных...
Похожие каналы
Облако тегов
Входящие и исходящие упоминания
---
---
---
---
---
---
Привлечение подписчиков
июль '26
июль '26
+90
в 2 каналах
июнь '26
+83
в 1 каналах
Get PRO
май '26
+64
в 1 каналах
Get PRO
апрель '26
+68
в 1 каналах
Get PRO
март '26
+84
в 0 каналах
Get PRO
февраль '26
+174
в 1 каналах
Get PRO
январь '26
+113
в 4 каналах
Get PRO
декабрь '25
+76
в 1 каналах
Get PRO
ноябрь '25
+69
в 2 каналах
Get PRO
октябрь '25
+72
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '25
+108
в 0 каналах
Get PRO
август '25
+93
в 1 каналах
Get PRO
июль '25
+156
в 2 каналах
Get PRO
июнь '25
+96
в 3 каналах
Get PRO
май '25
+214
в 2 каналах
Get PRO
апрель '25
+152
в 3 каналах
Get PRO
март '25
+444
в 5 каналах
Get PRO
февраль '25
+92
в 2 каналах
Get PRO
январь '25
+284
в 2 каналах
Get PRO
декабрь '24
+118
в 1 каналах
Get PRO
ноябрь '24
+173
в 1 каналах
Get PRO
октябрь '24
+243
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '24
+1 190
в 0 каналах
| Дата | Привлечение подписчиков | Упоминания | Каналы | |
| 13 июля | +5 | |||
| 12 июля | +6 | |||
| 11 июля | +4 | |||
| 10 июля | +13 | |||
| 09 июля | +6 | |||
| 08 июля | +9 | |||
| 07 июля | +2 | |||
| 06 июля | +3 | |||
| 05 июля | +13 | |||
| 04 июля | +18 | |||
| 03 июля | +9 | |||
| 02 июля | +1 | |||
| 01 июля | +1 |
Посты канала
بلوچستان میں سابقہ افغان فوجی اہلکاروں کی بلوچ نسل کشی میں براہ راست شمولیت اک تشویشناک امر ہے۔
بلوچ اور افغان اقوام کے تعلقات محض دو ہمسایہ خطوں کے درمیان تعلقات نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی، تہذیبی اور انسانی رشتے کی داستان ہیں۔ دونوں اقوام نے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرکت کی ہے، ایک دوسرے کے مہمان بنے ہیں، ایک دوسرے کی سرزمینوں پر پناہ پائی ہے، اور تاریخ کے کٹھن ترین ادوار میں بھی باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ اس پورے تاریخی سفر میں بلوچ اور افغان عوام نے کبھی کسی سامراجی طاقت یا بیرونی قوت کے مفادات کے تحت ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ اور افغان تعلقات باہمی اعتماد، عزت اور مشترکہ تاریخی تجربات کی بنیاد پر استوار رہے ہیں۔
لیکن آج ایک نہایت تشویشناک اور افسوسناک صورتِ حال جنم لے رہی ہے، جو نہ صرف بلوچ عوام کے لیے باعثِ تشویش ہے بلکہ بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان موجود تاریخی رشتے کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ایسی اطلاعات آرہے ہیں کہ سابق افغان فوج سے وابستہ بعض افراد پاکستانی ریاستی فورسز کے ساتھ مختلف فوجی جارحیت اور بربریت میں شریک ہیں۔ یہ عمل بلوچ عوام میں شدید نفرت، غم اور تشویش پیدا کر رہی ہیں۔
بلوچستان کے متعدد علاقوں کے مقامی لوگوں نے پاکستانی فوجی بربریت میں ایسے افراد کو دیکھا ہے جو سابق افغان فوج سے تعلق رکھتے تھے اور اب پاکستانی فورسز کے ساتھ سرگرم ہیں۔ زہری سمیت بعض علاقوں میں ہونے والی فوجی بربریت میں بھی سابق افغان فوج کے اہلکار باقاعدہ شامل تھے۔ اسی طرح مستونگ کے عام عوام شکایت کر رہے ہیں کہ افغان فوج کے سابق اہلکاروں نے پاکستانی فوج کی آشیرباد سے ایک اسکول پر قبضہ کیا ہے اور وہاں اپنا کیمپ قائم کیا ہے۔
میں افغانستان کے سابقہ حکومت کے تمام قیادت کی توجہ اس حساس مسئلے کی جانب مبذول کرانا چاہتی ہوں۔ تاریخ بعض اوقات ایسی آزمائشیں لے کر آتی ہے جہاں خاموشی بھی ایک موقف بن جاتی ہے۔ آج افغان قیادت کے سامنے بھی ایک ایسا ہی لمحہ موجود ہے۔ آج اگر آپ کے لوگ جو معمولی مفادات، مراعات یا پناہ کے عوض بلوچ عوام کے خلاف ہونے والی ظلم و جبر میں شریک ہو رہے ہیں تو یہ صرف بلوچوں کے خلاف ایک عمل نہیں بلکہ افغان قوم کی تاریخی روایات اور وقار کے بھی منافی ہے۔
افغان عوام خود جنگ، جبر، بے دخلی اور خونریزی کی طویل تاریخ سے گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنی سرزمین پر طاقتور قوتوں کی مداخلت اور تباہ کاریوں کے نتائج بھگتے ہیں۔ اسی لیے افغان قوم سے زیادہ کوئی اور یہ نہیں سمجھ سکتا کہ جب کسی ماں سے اس کا بیٹا چھین لیا جائے، جب کسی بچے کا مستقبل بارود کے دھوئیں میں گم ہو جائے، اور جب کسی قوم کے اجتماعی وجود کو خوف اور تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جائے تو اس کے زخم کتنے گہرے ہوتے ہیں۔
تاریخ صرف یہ یاد نہیں رکھتی کہ کون طاقتور تھا اور کون کمزور؛ تاریخ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ ظلم کے وقت کون خاموش رہا اور کون اس کے خلاف کھڑا ہوا۔ اگر چند افراد وقتی مفادات کے لیے بلوچ عوام کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ چند سکوں، چند مراعات یا عارضی تحفظ کے بدلے حاصل ہونے والے فائدے ہمیشہ کے لیے بدنامی کا سبب بن سکتے ہیں۔ آنے والی نسلیں یہ سوال کریں گی کہ جب ایک قوم اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی تھی تو آپ کس کے ساتھ کھڑے تھے؟
میں افغان قیادت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے، اس حوالے سے تحقیقات کرے اور ایسے عناصر کو بلوچ عوام کی نسل کشی میں شریک ہونے سے روکے۔ بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان موجود تاریخی رشتہ باہمی احترام، بھائی چارے اور مشترکہ جدوجہد کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس رشتے کو کسی ریاستی منصوبے، کسی وقتی مفاد یا کسی عارضی سیاسی بندوبست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
بلوچ اور افغان عوام کی تاریخ بھائی چارے، قربانی اور باہمی احترام کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ پر ایسا کوئی سیاہ دھبہ نہیں لگنا چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ افغان قیادت اپنے اخلاقی، قومی اور تاریخی کردار کا مظاہرہ کرے اور اپنے لوگوں کو بلوچ عوام کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائیوں میں استعمال ہونے سے روکے، تاکہ دونوں اقوام کے درمیان صدیوں پر محیط اعتماد اور احترام کا رشتہ محفوظ رہ سکے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
10 جولائی 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
| 2 | Нет текста... | 677 |
| 3 | 𝗖𝗧𝗗 𝗧𝗼𝗿𝘁𝘂𝗿𝗲 𝗖𝗹𝗮𝗶𝗺𝘀 𝗔𝗻𝗼𝘁𝗵𝗲𝗿 𝗟𝗶𝗳𝗲: 𝗥𝗶𝗮𝘇 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗗𝗶𝗲𝘀 𝗪𝗲𝗲𝗸𝘀 𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 𝗮𝗻𝗱 𝗖𝘂𝘀𝘁𝗼𝗱𝗶𝗮𝗹 𝗧𝗼𝗿𝘁𝘂𝗿𝗲
July 10, 2026 — Dera Bugti, Balochistan
Riaz Baloch, son of Sajin Baloch, a 35-year-old tractor driver from Dera Bugti, was forcibly disappeared by the Counter Terrorism Department (CTD) during a raid on his home on 12 June 2026. The raid was led by CTD SHO Umar Khosa, who detained Riaz without legal process. During his detention, he was subjected to severe torture.
According to his family, CTD officials demanded PKR 5 million for his release. After the payment, Riaz was released on 13 June 2026 in critical condition. Due to the extent of the torture inflicted upon him, he was shifted to Aga Khan University Hospital, Karachi, for medical treatment, where he succumbed to his injuries on 10 July 2026.
The death of Riaz Baloch highlights the pattern of enforced disappearances, custodial torture, and extortion carried out under the guise of counterterrorism operations in Balochistan. Instead of upholding the law, security institutions continue to target civilians, subjecting them to illegal detention, torture, and financial exploitation, leaving families devastated and without justice.
Similar operations have become common in Dera Bugti, where homes are raided, individuals are forcibly disappeared, and families are pressured into paying large sums of money to secure the release of their loved ones. Many cases remain undocumented due to fear of government pressure, while several individuals remain in CTD custody, raising serious concerns for their safety.
International human rights organizations must urgently act to stop these violations and hold Pakistan accountable.
#StopBalochGenocide | 170 |
| 4 | Нет текста... | 152 |
| 5 | 𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 156 |
| 6 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 156 |
| 7 | برنال اس نئی صورتحال کو آف شور سول سوسائٹی (Offshore Civil Society) کا نام دیتی ہیں۔ یہ تصور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اریٹیریا کی اہم سیاسی بحثیں، تنقیدی مکالمے اور شہری سرگرمیاں بتدریج ملک کے اندر سے نکل کر بیرونِ ملک منتقل ہو رہی تھیں۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی۔ عام طور پر سول سوسائٹی ریاست کے اندر موجود سماجی اداروں، انجمنوں، اخبارات اور عوامی تنظیموں کے ذریعے کام کرتی ہے۔ لیکن اریٹیریا میں ان اداروں کے لیے جگہ محدود ہو گئی تھی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کا ایک بڑا حصہ سرحدوں سے باہر منتقل ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ برنال کے نزدیک ڈائیسپورا ویب سائٹس صرف مواصلاتی ذرائع نہیں تھیں بلکہ وہ ایک متبادل سیاسی انفراسٹرکچر (Political Infrastructure) بن چکی تھیں۔ یہ پلیٹ فارمز لوگوں کو وہ مواقع فراہم کر رہے تھے جو ریاستی حدود کے اندر دستیاب نہیں تھے: آزاد اظہارِ رائے، سیاسی تنقید، حکومتی پالیسیوں پر بحث متبادل، تاریخی بیانیے، اجتماعی سیاسی تنظیم، اس لحاظ سے سائبر اسپیس ایک نئی قسم کے شہری میدان میں تبدیل ہو گئی۔
©️Nation as Network کا فکری مطالعہ
کتابچہ ٹیلیگرام چینل پر درج ذیل لنک کے ذریعے مکمل حاصل کر سکتے ہیں
https://t.me/bycofficial/4085
کتابچہ اس لنک سے بھی حاصل کر سکتے ہیں
https://gofile.io/d/CLNESi | 210 |
| 8 | Нет текста... | 193 |
| 9 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 223 |
| 10 | برنال کے مطابق ان ابتدائی برسوں میں سائبر اسپیس ریاست اور قوم کے درمیان فرق کو کمزور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ڈیجیٹل نیٹ ورکس قومی خودمختاری کے دفاع کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور ڈائیسپورا خود کو ریاستی منصوبے کا حصہ سمجھتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ یہی صورتحال بدلنے لگتی ہے۔ جب ریاست کے اندر اختلافِ رائے کے لیے جگہ محدود ہونے لگی، تو وہی انٹرنیٹ جو پہلے ریاستی خودمختاری کے دفاع کا ذریعہ تھا، بعد میں ریاستی طاقت پر تنقید اور متبادل سیاسی تصورات کی تشکیل کا ذریعہ بن گیا۔ یہ تبدیلی انفوپولیٹکس کے تصور کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ برنال کے نزدیک معلومات کبھی مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں نہیں رہتیں۔ ایک بار جب معلوماتی نیٹ ورکس وجود میں آ جائیں تو وہ نئی سیاسی امکانات بھی پیدا کرتے ہیں۔ اسی مقام سے اریٹیرین سائبر اسپیس ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے، جہاں آن لائن پلیٹ فارمز صرف قومی اتحاد کے ذرائع نہیں رہتے بلکہ اختلاف، تنقید، سول سوسائٹی اور متبادل قوم پرستی کے مراکز میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔
©️Nation as Network کا فکری مطالعہ
کتابچہ ٹیلیگرام چینل پر درج ذیل لنک کے ذریعے مکمل حاصل کر سکتے ہیں
https://t.me/bycofficial/4085
کتابچہ اس لنک سے بھی حاصل کر سکتے ہیں
https://gofile.io/d/CLNESi | 210 |
| 11 | Нет текста... | 188 |
| 12 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 190 |
| 13 | سبغت اللہ شاہ جی کا عوامی اجتماع سے خطاب:
ایک ہو کر رہنا اور اپنی یکجہتی کو برقرار رکھنا ہی وہ طاقت ہے جو آپ کو قائم رکھ سکتی ہے۔ یاد رکھیں، آپ کی شکست اُس دن ہوگی جب آپ تقسیم ہو جائیں گے۔
دشمن ہر روز ہزاروں طریقوں سے آپ کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ہمارے درمیان اختلافات پیدا کرے، مسائل کھڑے کرے اور ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کر دے۔ لیکن آپ نے یہی کوشش کرنی ہے کہ دشمن کی سازشوں پر کان نہ دھریں اور انہیں ہر حال میں ناکام بنائیں۔
دشمن کو کامیابی صرف اُس وقت ملتی ہے جب ہم اس کی باتوں اور پروپیگنڈے کو اپنے ذہنوں میں جگہ دیتے ہیں۔ اگر ہم اس کی باتوں پر دھیان نہ دیں اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں، تو آخرکار وہ خود مایوس ہو جائے گا۔
#ReleaseBYCLeaders | 212 |
| 14 | Нет текста... | 659 |
| 15 | 𝟮𝟬-𝘆𝗲𝗮𝗿-𝗼𝗹𝗱 𝗙𝗦𝗰 𝘀𝘁𝘂𝗱𝗲𝗻𝘁, 𝗞𝗮𝗺𝗿𝗮𝗻 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵, 𝗧𝗮𝗿𝗴𝗲𝘁𝗲𝗱 𝗮𝗻𝗱 𝗞𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗯𝘆 𝗗𝗲𝗮𝘁𝗵 𝗦𝗾𝘂𝗮𝗱𝘀 𝗶𝗻 𝗞𝗵𝘂𝘇𝗱𝗮𝗿
𝙅𝙪𝙡𝙮 8, 2026– 𝙆𝙝𝙪𝙯𝙙𝙖𝙧, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Kamran Baloch, son of Lal Baksh, was a 20-year-old FSc student from the Moola area of Khuzdar.
On 8 July 2026, Kamran Baloch was targeted and killed by death squads in Khuzdar.
The brutal killing of Kamran Baloch is yet another tragic reminder of the continuing violence against the Baloch people and the deepening human rights crisis in Balochistan.
In Balochistan, the cycle of Baloch genocide continues to intensify with each passing day. Hardly a day goes by without another Baloch life being lost. Families are repeatedly forced to receive the dead bodies of their loved ones instead of welcoming them home. Fear, grief, and loss have become a daily reality for countless Baloch families.
If justice and the rule of law prevailed in Balochistan, such atrocities would not continue. Target killings, extrajudicial killings, fake encounters, and enforced disappearances have created an atmosphere of constant fear, where no Baloch feels safe. Every time a child leaves home, their family is left wondering whether they will return alive or whether only their dead body will come back.
The Baloch Yakjehti Committee calls upon the international community, the United Nations, international human rights organizations, and all those who stand for justice and human rights to urgently take notice of the grave human rights situation in Balochistan. No one is safe not students, not teachers, not doctors, not labourers, nor ordinary civilians. People continue to face enforced disappearances, targeted killings, and other grave human rights violations without justice or accountability.
#StopBalochGenocide | 243 |
| 16 | Нет текста... | 648 |
| 17 | 𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide | 215 |
| 18 | مجاہد اور فرید کی گرفتاری کا دعویٰ جبری گمشدگی کے جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
فرید ولد اعجاز، 17 سالہ طالب علم، سکنہ سنگ آباد کرکی، ضلع کیچ، کو 19 دسمبر 2025 کو دوپہر تقریباً 2 بجے تجابان ایف سی کیمپ میں بلانے کے بعد حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح مجاہد دلوش ولد دلوش، 18 سالہ طالب علم، سکنہ کرکی تجابان، ضلع کیچ، کو 23 دسمبر 2025 کی رات تقریباً ایک بجے سی ٹی ڈی اور ایم آئی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔ دونوں نوجوان کئی ماہ تک ریاستی تحویل میں لاپتہ رہے جبکہ ان کے اہلِ خانہ مسلسل بے بسی، ذہنی اذیت اور غیر یقینی کی کیفیت میں انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہے۔
اب 7 جولائی کو سی ٹی ڈی نے انہی دونوں نوجوانوں کو کراچی سے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران گرفتار ظاہر کرتے ہوئے انہیں بی ایل اے سے وابستہ قرار دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ نہ صرف ناقابلِ یقین ہے بلکہ خود ریاستی اداروں کے بیانیے کو جھٹلاتا ہے، کیونکہ دسمبر 2025 میں ہی بلوچ یکجہتی کمیٹی ان دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی تفصیلات اور شواہد عوام کے سامنے لا چکی تھی۔ اگر یہ نوجوان کئی ماہ سے ریاستی اداروں کی تحویل میں تھے تو انہیں آج ایک نئی کارروائی میں گرفتار ظاہر کرنا درحقیقت جبری گمشدگی کے جرم پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
یہ محض دو نوجوانوں کا معاملہ نہیں بلکہ بلوچستان میں ریاست پاکستان کی جانب سے جاری بلوچ نسل کشی پالیسی کا حصہ ہے۔ پہلے نوجوانوں کو غیرقانونی طور پر اغوا کیا جاتا ہے، مہینوں تک خفیہ حراست میں رکھا جاتا ہے، انہیں آئین، قانون اور عدالتوں کے تحفظ سے محروم رکھا جاتا ہے، ان کے اہلِ خانہ کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا جاتا ہے، اور پھر کئی ماہ بعد انہی افراد کو کسی انٹیلیجنس آپریشن، مقابلے یا دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار ظاہر کرکے پوری جبری گمشدگی کو قانونی کارروائی کا روپ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں قانون انصاف کی فراہمی کے لیے نہیں بلکہ ریاستی جبر کو قانونی جواز دینے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری جبری گمشدگیاں باقاعدہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ ریاست ایک طرف اس جرم کے وجود سے انکار کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف لاپتہ افراد کے لیے کمیشن قائم کرتی ہے، اور اب اسی پالیسی کے اگلے مرحلے میں پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو دہشت گرد قرار دے کر اپنی غیرقانونی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی وائی سی اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ جبری گمشدگیوں اور بلوچ نسل کشی کے سنگین مسئلے پر ریاست پاکستان کو جوابدہ کیا جائے۔ | 271 |
| 19 | Нет текста... | 235 |
| 20 | برنال اس عمل کو "Electronic Mourning" یعنی الیکٹرانک سوگ کا نام دیتی ہیں۔ روایتی طور پر سوگ مقامی اور خاندانی عمل ہوتا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ نے پہلی مرتبہ مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے افراد کو ایک مشترکہ سوگ میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ ایک شخص کینیڈا میں بیٹھ کر کسی شہید کی تصویر دیکھ سکتا تھا، اس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا تھا، تعزیتی پیغام لکھ سکتا تھا اور اجتماعی یادداشت کی تعمیر میں حصہ لے سکتا تھا۔ اس طرح سوگ ایک نجی عمل کے بجائے ایک عوامی اور قومی عمل میں تبدیل ہو گیا۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے یادداشت کو سرحدوں سے آزاد کر دیا۔ قوم کی یادداشت اب صرف سرکاری یادگاروں یا ریاستی تقریبات کے ذریعے تشکیل نہیں پا رہی تھی بلکہ عام شہری بھی اس عمل میں شریک ہو رہے تھے۔
©️Nation as Network کا فکری مطالعہ
کتابچہ ٹیلیگرام چینل پر درج ذیل لنک کے ذریعے مکمل حاصل کر سکتے ہیں
https://t.me/bycofficial/4085
کتابچہ اس لنک سے بھی حاصل کر سکتے ہیں
https://gofile.io/d/CLNESi | 242 |
