ru
Feedback
Baloch Yakjehti Committee

Baloch Yakjehti Committee

Открыть в Telegram

Official channel of Baloch Yakjehti Committee

Больше
2 829
Подписчики
-324 часа
-47 дней
-2030 день

Загрузка данных...

Привлечение подписчиков
июнь '26
июнь '26
+32
в 1 каналах
май '26
+64
в 1 каналах
Get PRO
апрель '26
+68
в 1 каналах
Get PRO
март '26
+84
в 0 каналах
Get PRO
февраль '26
+174
в 1 каналах
Get PRO
январь '26
+113
в 4 каналах
Get PRO
декабрь '25
+76
в 1 каналах
Get PRO
ноябрь '25
+69
в 2 каналах
Get PRO
октябрь '25
+72
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '25
+108
в 0 каналах
Get PRO
август '25
+93
в 1 каналах
Get PRO
июль '25
+156
в 2 каналах
Get PRO
июнь '25
+96
в 3 каналах
Get PRO
май '25
+214
в 2 каналах
Get PRO
апрель '25
+152
в 3 каналах
Get PRO
март '25
+444
в 5 каналах
Get PRO
февраль '25
+92
в 2 каналах
Get PRO
январь '25
+284
в 2 каналах
Get PRO
декабрь '24
+118
в 1 каналах
Get PRO
ноябрь '24
+173
в 1 каналах
Get PRO
октябрь '24
+243
в 1 каналах
Get PRO
сентябрь '24
+1 190
в 0 каналах
Дата
Привлечение подписчиков
Упоминания
Каналы
17 июня+2
16 июня+1
15 июня+4
14 июня+1
13 июня+2
12 июня+2
11 июня+1
10 июня+1
09 июня+3
08 июня+2
07 июня+1
06 июня+2
05 июня+2
04 июня+3
03 июня+1
02 июня+2
01 июня+2
Посты канала
پاکستان میں عدالتی نظام پر ہر وقت سوال اٹھایا جا رہا ہے، کہ یہ عدالتی نظام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں بُری طرح ناکام ہو چکاہے، بین الاقوامی سطح پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے، یہ عدالتی نظام مکمل طورپر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے احکامات کے ذریعے چلایا جارہا ہے، یہاں ایلیٹ کلاس اور عوام کیلئے الگ الگ قوانین بنائے گئے ہیں، اس عدالتی نظام کے تحت اس وقت سب سے زیادہ بلوچ عوام متاثر ہورہی ہے، آئے روز ماورائے عدالت قتل، اغوا نما گرفتاریاں، چادرو چاردیوری کی پامالی، بلوچ خواتین کی بے حُرمتی، بلا جواز گرفتاریاں، قیدو بند وغیرہ شامل ہیں ، جسکی واضح مثال ماہ رنگ بلوچ اور انکے ساتھیوں کی بلا جواز گرفتاریاں اور ناانصافی پر مبنی مقدمات اور گذشتہ چودہ مہینوں سے بے گناہ پابندِ سلاسل رکھنا سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں، اور پانچ بلوچ خواتین کو جبری گمشدہ کیا گیا ہے اور جنکے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا جارہا ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں رکھے گئے ہیں۔ بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہےجو کہ بین الاقوامی اور ملکی آئین اور قوانین کی صریحاََخلاف ورزی ہے۔بلوچ نوجوانوں کو غیر قانونی و غیر آئینی طریقے پر اغوا کرکے انکی لاشیں پھینکنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ بی وائی سی کی قائد ماہ رنگ بلوچ اور زیلی قیادت کو غیر قانونی و غیر آئینی مقدمات کے ذریعے پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے اور انکے وکلا، اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔چونکہ ڈاکٹر ماھرنگ بلوچ اور انکے ساتھی ملکی آئین و قانون کے عین مطابق پُر امن جدوجہد کررہے ہیں، انہوں نے کبھی بھی ملکی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، ماھرنگ بلوچ تاحال یہی مطالبہ کررہی ہیں کہ اُن پر جو مقدمات درج کئے ہیں ان مقدمات کو کھلی عدالت میں چلایا جائے۔ لہٰذا ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ماہرنگ بلوچ اور ساتھیوں پر درج مقدمات عین قانون کے مطابق اوپن کورٹ میں چلائے جائیں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ماہرنگ بلوچ اور انکے ساتھیوں پر بلا جواز جھوٹے مقدمات فی الفور ختم کئے جائیں اور انہیں فوری طور پر باعزت بری کیا جائے۔ عصا ظفر بلوچ

2
Нет текста...
43
3
Set a reminder for the upcoming online Discussion! Title: 𝙏𝙝𝙚 𝙋𝙤𝙡𝙞𝙩𝙞𝙘𝙨 𝙤𝙛 𝙄𝙙𝙚𝙣𝙩𝙞𝙩𝙮 𝙖𝙣𝙙 𝙩𝙝𝙚 𝙁𝙞𝙜𝙝𝙩 𝙛𝙤𝙧 𝙀𝙭𝙞𝙨𝙩𝙚𝙣𝙘𝙚 https://x.com/balochyakjehtic/status/2067287792040726739?s=46
60
4
منصفانہ ٹرائل صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد ہے۔ جب عدالتی کارروائیاں عوامی نگرانی سے دور منتقل کی جاتی ہیں تو
منصفانہ ٹرائل صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد ہے۔ جب عدالتی کارروائیاں عوامی نگرانی سے دور منتقل کی جاتی ہیں تو انصاف کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔ بی وائی سی رہنماؤں کو بھی وہی حق حاصل ہے جو ہر شہری کو حاصل ہے۔ انصاف کو دیواروں اور اسکرینوں کے پیچھے نہیں، بلکہ عوام کی نظروں کے سامنے ہونا چاہیے۔ #EndUnFairTrialOfBYCLeaders
61
5
𝗝𝘂𝗻𝗲 𝟭𝟳, 𝟮𝟬𝟮𝟲 - 𝗧𝘂𝗿𝗯𝗮𝘁 𝗞𝗲𝗰𝗵, 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻. Today, pamphlets were distributed in Turbat city to raise public awareness about the faceless trials being conducted against BYC leaders and how the state is attempting to silence resistance voices. BYC leaders have been imprisoned for the past 14 months because they chose the path of resistance and raised their voices for Balochistan and the Baloch people. They spoke out against enforced disappearances, extrajudicial killings, targeted killings, and the ongoing suffering of the Baloch people. The state’s decision to detain BYC leaders has now been followed by faceless trials, an attempt to suppress dissenting voices and resistance movements. #EndUnfairTrialsOfBYCLeaders
71
6
+1
Нет текста...
69
7
+9
Нет текста...
61
8
+9
Нет текста...
55
9
+9
Нет текста...
67
10
انہوں نے حقوق، انصاف اور سچ کے لیے آواز بلند کی، مگر جواب دلیل اور مکالمے کے بجائے قید، مقدمات اور غیر شفاف عدالتی کارروائیوں
انہوں نے حقوق، انصاف اور سچ کے لیے آواز بلند کی، مگر جواب دلیل اور مکالمے کے بجائے قید، مقدمات اور غیر شفاف عدالتی کارروائیوں کی صورت میں دیا گیا۔ کھلی عدالتوں سے جیل ٹرائل اور اب فیس لیس ٹرائل تک کا سفر اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کو عوامی نگرانی اور شفافیت سے دور رکھا جا رہا ہے۔ جب عدالتی عمل کھلی سماعت کے بجائے بند دروازوں اور آن لائن طریقۂ کار تک محدود ہو جائے تو یہ سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ آیا قانون واقعی آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے یا طاقتور حلقوں کے اثر و رسوخ کے تحت انصاف کو طاقت کے زور پر دبایا جارہا ہے۔ #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
66
11
𝗣𝗮𝗺𝗽𝗵𝗹𝗲𝘁 𝗗𝗶𝘀𝘁𝗿𝗶𝗯𝘂𝘁𝗲𝗱 𝗶𝗻 𝗦𝗵𝗮𝗹𝗹 𝘁𝗼 𝗥𝗮𝗶𝘀𝗲 𝗔𝘄𝗮𝗿𝗲𝗻𝗲𝘀𝘀 𝗥𝗲𝗴𝗮𝗿𝗱𝗶𝗻𝗴 𝘁𝗵𝗲 𝗙𝗮𝗰𝗲𝗹𝗲𝘀𝘀 𝗮𝗻𝗱 𝗨𝗻𝗳𝗮𝗶𝗿 𝗧𝗿𝗶𝗮𝗹 𝗼𝗳 𝗕𝗬𝗖 𝗟𝗲𝗮𝗱𝗲𝗿𝘀 Today, the Shaal Zone of the Baloch Yakjehti Committee carried out a pamphlet distribution campaign in various areas, including Killi Qambrani, Sariab, Sariab Mill, Brewery Road, Liaqat Bazar and different parts of the market. The purpose of this campaign was to raise public awareness about the unlawful detention of BYC leaders and the issue of faceless trials. It highlighted how peaceful activists who raise their voices for justice are being suppressed, and how efforts are made to silence those who stand for truth. This campaign aims to expose violations of the right to a fair trial and to show how legal processes are being misused to target human rights defenders. #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
73
12
+3
Нет текста...
65
13
+9
Нет текста...
62
14
+9
Нет текста...
62
15
𝗢𝗻𝗹𝗶𝗻𝗲 𝗗𝗶𝘀𝗰𝘂𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻 𝘿𝙖𝙮 3: 𝙏𝙝𝙚 𝙋𝙤𝙡𝙞𝙩𝙞𝙘𝙨 𝙤𝙛 𝙄𝙙𝙚𝙣𝙩𝙞𝙩𝙮 𝙖𝙣𝙙 𝙩𝙝𝙚 𝙁𝙞𝙜𝙝𝙩 𝙛𝙤𝙧 𝙀�
𝗢𝗻𝗹𝗶𝗻𝗲 𝗗𝗶𝘀𝗰𝘂𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻 𝘿𝙖𝙮 3: 𝙏𝙝𝙚 𝙋𝙤𝙡𝙞𝙩𝙞𝙘𝙨 𝙤𝙛 𝙄𝙙𝙚𝙣𝙩𝙞𝙩𝙮 𝙖𝙣𝙙 𝙩𝙝𝙚 𝙁𝙞𝙜𝙝𝙩 𝙛𝙤𝙧 𝙀𝙭𝙞𝙨𝙩𝙚𝙣𝙘𝙚 Speakers: Mohsin Dawar & Dr. Sabiha Baloch Time: 10:00 PM – 11:00 PM Live at X (Formerly Twitter) 𝗗𝗶𝘀𝗰𝘂𝘀𝘀𝗶𝗼𝗻 𝗤𝘂𝗲𝘀𝘁𝗶𝗼𝗻𝘀: • Why do oppressed communities see identity, culture, and collective rights as essential for their survival? • Why are identity-based movements often viewed as threats to state stability? • What role do grassroots movements play when people lose faith in parliamentary politics? • What common concerns and aspirations unite Pashtun, Baloch, Sindhi, Gilgiti, Kashmiri, and other oppressed movements? • Can political stability exist without addressing the demands of oppressed nations? • When communities describe their struggle as a fight for existence, what specific threats do they believe endanger their collective survival. #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
77
16
یہ صرف ایک خاکہ نہیں، بلکہ اُس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے جس کا بلوچستان برسوں سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ یہاں انصاف کی ترازو کو آزاد او
یہ صرف ایک خاکہ نہیں، بلکہ اُس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے جس کا بلوچستان برسوں سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ یہاں انصاف کی ترازو کو آزاد اور غیر جانبدار نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ اسے طاقت کے مراکز کے اشاروں کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جب طاقتور حلقے قانون سے بالاتر ہو جائیں تو عدالتیں انصاف کی علامت نہیں رہتیں بلکہ جبر کو قانونی جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ جب فیصلے قانون، شواہد اور انصاف کے اصولوں کے بجائے طاقت کے مفادات کے تابع ہونے لگیں، تو مسئلہ کسی ایک مقدمے یا ایک فرد کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظامِ انصاف کی ساکھ سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ کھلی عدالتوں سے جیل ٹرائل اور پھر فیس لیس ٹرائل تک کا سفر اسی بحران کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں شفافیت کی جگہ رازداری اور انصاف کی جگہ اختیار نے لے لی ہے۔ #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
78
17
جبر کو للکارنا ہے بلوچ راج! بلوچستان میں جاری انسانی اور قومی حقوق کی پامالیوں کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ یہاں جاری ظلم و جبر سے اب کوئی بھی گھر محفوظ نہیں رہا۔ انسانی زندگی کی قیمت اس قدر کم کر دی گئی ہے کہ صرف بلوچ شناخت کے ساتھ جڑ جانے والا فرد بھی ریاست کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ آئے روز بلوچستان میں بلوچ فرزندوں کی لاشیں پھینکی جاتی ہیں، معصوم شہریوں کو آئے روز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں آئے روز بلوچوں کے گھروں کو ریاستی فورسز نذرِ آتش کر دیتی ہیں۔ ان تمام ظلم و جبر کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی ہی وہ شعوری آواز رہی ہے جس نے بلوچ قوم کو متحد کرکے دنیا تک اس کے دکھ، درد اور مطالبات پہنچانے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ہمیشہ بلوچ قوم کے خلاف جاری ظلم و جبر کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ کبھی بلوچ نوجوانوں کی لاشیں پھینک کر انہیں مسلح تنظیموں سے جوڑا جاتا ہے، تو کبھی کسی بلوچ خاتون کو جبری گمشدگی کا شکار بنا کر اسے بزور جبر پریس کانفرنس کرایا جاتا ہے۔ آج بھی اسی طرزِ عمل کے تحت بلوچ سیاسی رہنماؤں کو بیرونی ایجنٹ یا تشدد پسند قرار دے کر ایک بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ انہیں مزید عرصے تک غیر قانونی اور غیر انسانی طریقوں سے جیلوں میں رکھا جا سکے۔ باشعور عوام! بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے قیام کے دن سے ہی بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف شعوری جدوجہد کرتی آ رہی ہے اور آج بھی اسی راستے پر قائم ہے۔ چاہے شہید حیات بلوچ کا بے دردی سے قتل ہو یا شہید بالاچ مولا بخش سمیت سینکڑوں بلوچ سپوتوں کا جعلی مقابلوں میں قتل عام، ان تمام مظالم کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی ہمیشہ صفِ اول میں کھڑی رہی ہے۔ آج انہی جدوجہدوں اور آوازوں کو پاکستان جرم قرار دے رہی ہے، اور اس کے پاداش میں بی وائی سی کی قیادت کو غیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما آج چودہ ماہ سے زائد عرصے سے پابندِ سلاسل ہیں، صرف اس لیے کہ وہ بلوچ قوم کی آواز بنے۔ مگر بی وائی سی کے رہنما نہ صرف ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ عزم اور شدت کے ساتھ اپنی قوم کی رہنمائی کے لیے تیار ہیں۔ آج بلوچ قوم کو اجتماعی آواز اور یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ ان رہنماؤں کی رہائی اور بلوچ قوم کے بنیادی انسانی و قومی حقوق کے لیے جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ریاست پاکستان اپنے اس جبر کو جاری رکھنے کے لیے تنظیم کے رہنماؤں کو جیل میں رکھ کر نا صرف ان سے انصاف کا حق چھین رہی ہے، بلکہ انکی آوازوں کو خاموش رکھ کر بلوچ نسل کشی خاموشی سے آگے بڑھانا چاہتی ہے، پاکستان اس بلوچ شعور سے خوفزدہ ہے جو للکار بننا جانتی ہے، اس لیے ہر جمہوری آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے۔ یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم ان عزائم کو نا کام بنادے، ہم شعور کو قید ہونے نا دے، ہم وہ آواز بنے جسے خاموش کرنا نا ممکن ہو ہم اپنے نسل کشی کے خلاف وہ ڈھال بنے جو اپنے نسلوں کی حفاظت کریں۔ آج ہماری سیاسی جدوجہد ہماری نسلوں کی ضمانت ہے، اپنے خلاف ہونے والے ہر ظلم کے خلاف خاموش نہ رہے، بی وائی سی کے پلیٹ فارم پر متحد ہوکر ہر جبر کے خلاف آواز اٹھائیں، اپنے رہنماؤں کی آواز بنے اور جابر کو للکاریں کہ وہ ان شعوری آوازوں کو اب مزید قید نہیں رکھ سکتی جو جبر کے خلاف ہے، ہر بلوچ جب بی وائی سی کی آواز بنے گی، ہر بلوچ جب اپنے رہنماؤں کے مقصد کے ساتھ جڑ جائے گی، تبھی اس نسل کشی روکا جاسکے گا، جب ہر بلوچ جبر کے خلاف للکار ہوگی تو تنظیم کے رہنماؤں کو قید میں رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ با شعور بلوچ قوم منظم سیاسی جدوجہد ہی بقا کا آخری سوال ہے، اس پیغام کو ہر گھر میں پہنچائیں، قومی شعور کا سوال ہر بلوچ کو تھما دے اور اس دن کے لیے فکری و شعوری طور پر تیار ہو جائے جب ہم سب سڑکوں پر نکلے تو سیسہ پلائی دیوار بن جائے،اور ریاستی جیلوں و زندانوں سے اپنے پیاروں کو بہ سلامت واپس لائیں، ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں مگر پانے کو بہت کچھ ہے، ہمارے پاس زندگی کا سوال ہے جس کے لیے ہمیں منظم تحریک اور جدوجہد کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ میسر نہیں۔
87
18
+1
Нет текста...
77
19
من مات ءَ اے ھم ھال دیاں کہ مئے رھشون انگت ءَ مھکم انت، انگت ءَ نہ پرشتگ انت، انگت ءَ پُر امیت انت، انگت ءَ پد نہ کنز اتگ انت ءُ انگت ءَ گھگیری کنگ ءَ انت۔ بلئے ھو اے ھبر نوں ھرکس ءَ منّ اتگ کہ زورگیر ءِ کانود مارا انساپ نہ دنت۔ نزاناں مات کیمپین ءَ سرپد بیت کہ نا بلئے من آئی ءَ ھال دیاں کہ ھمے چیریں اونلائن پیشیانی ھلاپ ءَ زندان ءِ تہ ءَ مئے رھشون زھرشانی کنگ ءَ انت ءُ اے درکانودی اَمَل ءِ ھلاپ ءَ سئے روچی کیمپینے جُنزگ ءَ بوتگ۔ مارا وَ بے نٹی ءَ جتگ اگاں بوتیں الّم مات ءِ تامُرے پہ آئی ءِ دوستیں رھشوناں جوڑ کتگ ات ءُ زاناں مات ھم گل بوتگ ات۔ بلئے اگاں من مات ءَ ھال بہ دیاں کہ ھما مردم کہ زی لکانی ھساب ءَ آئی ءِ گوما اوشتوک بوتگ انت، ھما مردم کہ پہ آیانی وشھالی ءِ ھاتر ءَ اے رھشوناں جھد کتگ ءُ پہ آیاں زندان ءِ ازیتاں اوپار کنگ ءَ انت۔ مرچی پہ آیانی پلہ مرزی ءَ بوَکیں کیمپین ءَ آ مردم گار انت، ھسابی مردم پہ آیان نبشتہ کنگ ءَ انت، تامر جوڑ کنگ ءَ انت، توار چست کنگ ءَ انت زاناں مات ءَ سک تور ایت پمیشکہ اے ھال ءَ نہ دیاں۔ گُڈی ءَ مات ءَ اے ھال دیاں کہ آئی ءِ اے مھر ءُ پد ءَ بے آرامی ءُ رھشونانی دیدار ءِ واھشت ءِ کسہ من نبشتہ کتگ۔ آ الّم گل بیت۔ #EndUnFairTrailOfBYCLeaders
90
20
ڈاکٹر ماہ رنگ ءِ دید ءَ زروکیں مات 2024 ات موکلاں میتگ ءَ شتاں، اے رندی میتگ من ءَ باز وش بوگ ءَ ات، اے رندی میتگ ءَ مزنیں مٹّی یے اتکگ ات، آ مٹّی سوچ ئیگ ات، پِکر ئیگ انت، مردمانی ترانانی ات، چد ءُ پیسر کہ من میتگ ءَ شتگاں یک چیزے ءَ من ءَ مدام تکانسر کتگ، آ مردمانی وت ماں وتی جیڑھانی یا بے سریں باوست بوتگ انت، بلئے اے رندی انا، اے رندی بلوچ ءِ گپ ات، آوارجتگیں بلوچانی گپ ات، ھمک چُک، زالبول، کماش، ورنا ھرکس ءِ دپ ءَ یک نامے ات ماہ رنگ، ڈاکٹر ماہ رنگ! ھرکس آئی ءِ گِندگ ءَ مرادی ات، بازیں مردمانی موبائلانی دیم ءِ اکس ماہ رنگ ئیگ ات، بازینے ءَ وتی لوگاں ڈاکٹر ءِ اکس جتگ ات، مردمانی گاڑیاں، سیکلانی نمبر پلیٹاں ھر جاگہ ڈاکٹر ءِ اکس ات، ھر کجا ڈاکٹر ءِ گپ ات۔ چوشکہ میتگ ءَ نٹ نیست ءُ من شھر ءَ چہ نوک اتکگ اتاں گڑا ھرکس کہ دچار کپت، جاورانی جُست اش کت، ڈاکٹر ءِ ترانانی تامر اش لوٹ ات انت۔ من ءَ لھتیں تامر گوں ات من دات انت بلئے من ھچبر نہ جیڑ اتگ ات کہ اے مردمانی تہ ءَ چوشیں مٹی یے کیت بلئے اے رندی من گوں چماں گِندگ ءَ اتاں، گل اتاں بلکیں ایوک ءَ من نا ھرکس ءِ دل ءَ گرکے جتگ ات، ماہ رنگ پہ سرجمیں راج ءَ رژنائیں بانداتے ءِ امیت ات۔ نوک ٹک داتگیں رژنائیں بامے ات۔ آ روچ ءَ پد کجام ھم وھد ءَ کہ من نٹ ءَ شتاں یا شھرے ءَ چہ واترگ ءِ وھد ءَ مات پون‌ کت اماں لوگ ءَ چی کار ھست چی بیاراں گوں؟ مات ءَ مدام پسہ دات ماہ رنگ ءِ تامُراں بیار گوں دگے کار نیست۔ لوگ ءَ کہ سربوتاں آپ ءُ چاہ ءَ پد من، مات ءُ اے دگے برات ءُ گْوھار اگاں پت اود ءَ ات ھم گون ات ما ھور نشتیں ءُ ڈاکٹر ءِ تران گوشداشت انت۔ ترانانی تہ ءَ وھدے ڈاکٹر ءَ براھوئی ءَ گپ کت من یک یک گپ مات ءَ سرپد کت کہ چی گْوشگ ءَ انت۔ گُشئے نوکیں آشوبے بنا بوتگ یا اتکگ ات۔ سالے کپے ءَ سرجمیں بلوچستان، دراھیں بلوچ راج ءِ تہ ءَ مزنیں مٹی یے اتکگ ات۔ وھد گْوزان ات راجی مچی بوت، دالبندن ءِ جلسہ بوت، مردمان استانی زوراکی گوں چماں دیست انت، ھرکس چہ زوراکیں استان ءِ زوراکیاں، مکّاریان، شوربندیاں چہ آژنا بوتگ ات۔ سرجمیں لس مھلوک ءِ امیت بس گوں یک پاٹی یے ءَ بندوک ات انت بی وائی سی ءَ گوں بازیں مزن امریں مردم کہ آیاں گْوستگیں وھد ءِ کریک ڈاون دیستگ زانتگ ات کہ استان مارا چہ یکروچے اے رھشونان پُلیت۔ مارچ 2025 بوت ھرچیز مٹ بوت، ھمک زھرشانیانی سر ءَ استان ءَ اُرش کت، تیرگواری کت، پُرایمنیں جھد ءِ دراھیں در بند کت انت، مئے رھشون، مئے اوست، مئے رژنائیں باندات ءِ چراگ زندانی کت انت۔ نوں جولائی 2025 انت پد ءَ موکلان لوگ ءَ اتکگاں اے رندی مات پُرسیگ ات، ھرکس ھیران ات، ھرکس ءِ زھن ءَ ھزاراں جُست سر کشگ ءَ ات نوں چی بیت؟ مات ءَ جُست کت منی چُک ڈاکٹر ءِ ھال نیست؟ من گْوشت انا اماں بند انت۔ مات ءَ دپ پچ لگوشت دوا کت اللہ اے زالمان گار کنات۔ پد ءَ ھمک رند کہ شتاں مات ءِ جست بس ھمیش ات ڈاکٹر ءِ ھال۔۔۔ مرچی جون 2026 انت بی وائی سی ءِ رھشونانی زندانی ءَ 14 ماہ سرجم انت، آ پہ وتی راج ءَ پُرایمنیں بانداتے ءِ لوٹ ءِ سزا ءَ اوپار کنگ ءَ انت، 14 ماہ ءَ استان ءَ وتی سرجمیں زور جت نہ پہ بلوچان راستی مٹ کت کو، نہ مئے رھشون دمبرائینت کت انت۔ نوں آیانی ٹرائلے ھم اونلائن کتگ انت دانکہ کس آیاں دیست مکنت، استان ھرچی بکنت من ءَ بیسہ انت منی مات ءِ وڑیں پیریں ھزاراں ماتانی دل انگت ءَ پہ وتی رھشوناں دریک ایت۔ نوں اے رندی کہ پد ءَ من لوگ ءَ سر گپتگاں۔ لوگ ءَ روگ ءَ پیش الّم مات ءَ پون‌ کناں جست کناں، "اماں من پیداکاں ترا چی کار ھست چی بیاراں گوں؟" زاناں اے رندی مات ڈاکٹر ءِ تامران نہ لوٹ ایت بلئے وھدے من سر باں من سدّکاں کہ مات چو مدامی وڑ ءَ اے جُست ءَ من ءَ الّم کنت، "منی چُک ڈاکٹر زیانی ھال نیست؟" بلئے اے رندی منی پسّہ پیسری ئیں نہ بیت، من نہ گُشاں "انا اماں". اے رندی من مات ءَ دراھیں کسھاں ھال دیاں، من مات ءَ ھال دیاں کہ اد ءَ کانود نیست، من مات ءَ ھال دیاں کہ اے مُلک ءِ کانود بس وتی بدیں کار، نا روائیں روشت ءُ زوراکیانی جواز دیگ ءَ پہ ٹھینگ بوتگ، من مات ءَ ھال دیاں کہ زیک ءَ تاں ھما رھشونان کہ اے لوٹ کتگ مئے مردم کانود ءِ رد ءَ آمیدگساں آرگ بہ بنت ءُ سزا ءُ جزا دیگ بہ بنت مرچی مئے ھما رھشون وت درکانودی زندانی انت، من مات ءَ ھال دیاں کہ جیل ءَ مئے رھشون چنچو ازیت دیگ بوگ ءَ انت، آیانی گوں ءَ چونیں زوراکی بوگ ءَ انت۔ من آئی ءَ ھال دیاں کہ مرچی مئے رھشون آمیدگس ءَ ھم آرگ نہ بنت، استان آیانی میاربار کنگ ءَ بے سوب بوتگ ءُ نوں چیریں پیشیانی رد ءَ آیانی ٹرائل بنت نوں آیاں کس نہ گِند ایت۔
83