uz
Feedback
Baloch Yakjehti Committee

Baloch Yakjehti Committee

Kanalga Telegram’da o‘tish

Official channel of Baloch Yakjehti Committee

Ko'proq ko'rsatish
2 824
Obunachilar
-624 soatlar
-67 kunlar
-1830 kunlar
Obunachilarni jalb qilish
Iyun '26
Iyun '26
+42
1 kanalda
May '26
+64
1 kanalda
Get PRO
Aprel '26
+68
1 kanalda
Get PRO
Mart '26
+84
0 kanalda
Get PRO
Fevral '26
+174
1 kanalda
Get PRO
Yanvar '26
+113
4 kanalda
Get PRO
Dekabr '25
+76
1 kanalda
Get PRO
Noyabr '25
+69
2 kanalda
Get PRO
Oktabr '25
+72
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '25
+108
0 kanalda
Get PRO
Avgust '25
+93
1 kanalda
Get PRO
Iyul '25
+156
2 kanalda
Get PRO
Iyun '25
+96
3 kanalda
Get PRO
May '25
+214
2 kanalda
Get PRO
Aprel '25
+152
3 kanalda
Get PRO
Mart '25
+444
5 kanalda
Get PRO
Fevral '25
+92
2 kanalda
Get PRO
Yanvar '25
+284
2 kanalda
Get PRO
Dekabr '24
+118
1 kanalda
Get PRO
Noyabr '24
+173
1 kanalda
Get PRO
Oktabr '24
+243
1 kanalda
Get PRO
Sentabr '24
+1 190
0 kanalda
Sana
Obunachilarni jalb qilish
Esdaliklar
Kanallar
21 Iyun+4
20 Iyun+1
19 Iyun0
18 Iyun+5
17 Iyun+2
16 Iyun+1
15 Iyun+4
14 Iyun+1
13 Iyun+2
12 Iyun+2
11 Iyun+1
10 Iyun+1
09 Iyun+3
08 Iyun+2
07 Iyun+1
06 Iyun+2
05 Iyun+2
04 Iyun+3
03 Iyun+1
02 Iyun+2
01 Iyun+2
Kanal postlari
جب ہم ریاست کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد صرف عسکری اسٹیبلشمنٹ نہیں ہوتی، بلکہ وہ تمام ادارے بھی شامل ہوتے ہیں جو آئینی حدود اور اپنی قانونی ذمہ داریوں سے ہٹ کر طاقت کے غیر جوابدہ ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ، جس کا بنیادی فرض شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے، سیاسی انجینئرنگ اور غیر نمائندہ انتخابی عمل کے نتیجے میں عوامی نمائندگی کے بجائے ریاستی اداروں کی ترجمان بنتی چلی گئی ہے۔بلوچستان اسمبلی کی موجودہ ساخت اس بحران کی ایک مثال ہے، جہاں عوامی نمائندوں کے بجائے ایسے عناصر موجود ہیں جو عوامی مفادات سے زیادہ اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے محافظ دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کی جان، مال اور وقار کے تحفظ میں یہ ادارے مسلسل ناکام رہے ہیں۔ بلوچ قومی رہنما خیر بخش مری نے بھی اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد اسے غیر مؤثر قرار دیا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ ادارہ قومی حقوق کے تحفظ کے بجائے طاقتور حلقوں کی پالیسیوں کو قانونی شکل دینے کا ذریعہ بن چکا تھا۔اسی طرح بیوروکریسی بھی ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ یوں طاقت، قانون اور انتظامیہ کا ایک ایسا ڈھانچہ وجود میں آتا ہے جو انصاف کے بجائے جبر کو دوام بخشتا ہے۔ جیل کے اندر ہمارا یہ احتجاج صرف ہماری ذات یا ہماری رہائی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان اپنے خلاف قائم تمام مقدمات اور مسلسل جبر کے باوجود اپنے سیاسی مؤقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ہم اپنے قومی اور انسانی حقوق کے لیے ہر جمہوری اور سیاسی راستہ اختیار کرتے رہیں گے۔ ہم ہر اس قانون، پالیسی اور عدالتی عمل پر سوال اٹھائیں گے جو بلوچ عوام کے خلاف ناانصافی اور جبر کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی پر عوام کے اعتماد کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ریاستی اداروں کی نااہلی اور جانبداری کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ آج ہمارا فیس لیس ٹرائل بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان کتنا بڑا تضاد موجود ہے۔ ہمارے مقدمات کو روزانہ کی بنیاد پر چلانے اور غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھانے کا مقصد بظاہر انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ ہمیں سزا کی طرف دھکیلنا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قید، جبر اور تشدد کبھی بھی مظلوم کے سوال کو ختم نہیں کر سکتے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان نے عدالت کو صرف اپنے دفاع کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اسے ایک سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا ہے۔ جو سوال ہم جلسوں، احتجاجوں اور عوامی اجتماعات میں اٹھاتے تھے، آج وہی سوال ہم عدالت کے اندر اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے مقدمات کی غیر منصفانہ کارروائیاں صرف ہماری ذات کے خلاف نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر انصاف واقعی موجود ہے تو اسے کھلے اور شفاف طریقے سے سامنے آنا چاہیے۔ اور اگر انصاف سے انکار کیا جاتا ہے تو یہی انکار عوام کے سامنے اس نظام کی اصل حقیقت کو آشکار کر دے گا۔ یہ دھرنا، یہ قید، اور یہ مزاحمت ہماری سیاسی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حق اور انصاف کی جدوجہد کبھی عدالتوں، جیلوں یا طاقت کے مراکز میں ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ ہر اس دل میں زندہ رہتی ہے جو ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ 20 جون 2026 ہدہ جیل کوئٹہ

2
گزشتہ آٹھ روز سے ہم جیل کے اندر احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں اور بطور احتجاج فیس لیس عدالتوں میں پیش ہونے سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہمارے لیے سرکاری وکلا مقرر کر دیے گئے ہیں، حالانکہ ہمیں بلوچستان کے بہترین وکلاء کی ٹیم دفاع کر رہی ہے اور ہم کسی سرکاری وکیل کی طلب نہیں کیں اور نہ ہی اس کی اجازت دی۔ آج تک ہمیں اپنے وکلا، سید سلطان شاہ، نعیم کُکلاچی، بلال محسن، اقبال شاہ، مختیار احمد، اور اکبر شاہ، سے ملاقات تک نہیں ہوئی ، لیکن وہ عدالت میں ہمارے نمائندوں کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے قانونی حقِ دفاع کی نفی ہے بلکہ پورے عدالتی عمل پر ایک سنگین سوال بھی اٹھاتا ہے۔گوادر راجی مچی کے دوران بلوچ عوام پر جس بے رحمی سے تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین مظاہرین کو شہید کیا گیا ، اس کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مذاکرات کے ذریعے دھرنے کے خاتمے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ حقیقت ہماری تحریک کے پُرامن اور سیاسی کردار کا واضح ثبوت ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج ہمارے خلاف مقدمات اس انداز میں چلائے جا رہے ہیں کہ صرف ایک ہفتے کے دوران گوادر کیس میں چار ایف سی اہلکاروں کے بیانات ہمارے اور ہمارے وکلا کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے، اور 22 جون کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ جس طرح مقدمے کے دوران قانونی تقاضوں اور منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس کے بعد ہمیں اس فیصلے کے بارے میں کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں۔ مگر شاید یہی ہماری جدوجہد کی کامیابی بھی ہے۔ ہماری گرفتاریوں، ہماری طویل قید، اور ہماری تنظیم کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کے باوجود ریاستی ادارے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ اسی لیے اب عدالتی عمل کو بھی عسکری قوتوں کے غیر قانونی مقاصد کے تابع بنا دیا گیا تاکہ وہ نتائج حاصل کیے جا سکیں جو سیاسی میدان میں حاصل نہیں کیے جا سکے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا چند سیاسی کارکنوں کو قید کر دینے سے بلوچ قومی تحریک کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا جیلوں کی دیواریں ایک قوم کی اجتماعی یادداشت، اس کے دکھوں اور اس کی جدوجہد کو قید کر سکتی ہیں؟ اور اس طرزِ حکمرانی کے ذریعے بلوچستان کے لوگوں کو آخر کیا پیغام دیا جا رہا ہے ایک طرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف مسلسل میڈیا ٹرائل جاری ہے، اسے بلوچستان کی سب سے منظم عوامی تحریک ہونے کے باوجود دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف ریاستی ادارے خود فئیر ٹرائل کے اصولوں اور اپنے قانونی تقاضوں سے انحراف کرتے ہوئے ہمیں ہمارے بنیادی حقِ دفاع سے محروم کر رہے ہیں۔ ہماری چودہ ماہ پر محیط قید، مقدمات کا غیر معمولی طریقۂ کار اور عدالتی عمل میں مسلسل رکاوٹیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عدالتی نظام کو پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمارے وکلاء کو مقدمات چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ہراساں کیا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں، جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، اور بعض مواقع پر عدالتوں کے احاطے میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے باوجود ہمارے وکلاء نے پیشہ ورانہ ذمہ داری، اور اصولی مؤقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری قانونی نمائندگی جاری رکھی، جس کے لیے ہم ان کے ممنون ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی جمہوری معاشرے میں عدلیہ کا کردار ایسا ہوتا ہے؟ جمہوری نظام میں عدلیہ ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا اور ریاستی اداروں کو آئین اور قانون کی حدود کے اندر رکھنا ہوتا ہے۔ ایک جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی، سماجی اور انتظامی دباؤ سے بالاتر ہو کر صرف قانون، انصاف اور آئین کی روشنی میں فیصلے کرے۔ عدلیہ کی آزادی اسی لیے جمہوری معاشروں کی بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کا کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ بارہا ایسا ہوا کہ عدالتوں نے مارشل لا، آئین کی معطلی اور غیر جمہوری اقدامات کو ’’ریاستی ضرورت‘‘ اور ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر قانونی جواز فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں بھی عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں کو ریاستی پالیسیوں کے معاون اداروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
14
3
آج جیل میں ہمارے دھرنے کا آٹھواں دن ہے۔ اس دھرنے میں بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ شامل ہیں۔ جیل کے اندر یہ ہمارا پانچواں دھرنا ہے، تاہم یہ پہلا دھرنا ہے جو 192 گھنٹوں سے جاری ہے۔ 13 جون کو جب ہمیں پیشی کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لے جایا گیا تو وہاں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ہم نے فوری طور پر احتجاج کیا اور اپنے بیرکوں میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تب سے ہم جیل کے احاطے میں اپنا پرامن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دھرنے نے ہماری مزاحمتی جدوجہد کی بے شمار یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سردی ہو یا گرمی، ریاستی تشدد ہو یا پابندیاں، ہم نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے۔ وہ تمام چہرے، جو جبری گمشدگیوں، قتل و جبر اور مسلسل ریاستی تشدد کے باوجود ثابت قدم رہے، آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔ ہم نے اماں حوری، لمہ زرگل ، ادی مہر جان اور ان تمام ماؤں کو یاد کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کے باوجود ہمت اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اسی طرح راجی مچی اور 22 مارچ کوئٹہ دھرنے کے وہ تمام مناظر بھی ہمارے سامنے آگئے، جب پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ یہ تمام یادیں محض ماضی کے واقعات نہیں بلکہ ہماری اجتماعی مزاحمتی یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہی یادداشتیں ہماری اصل وراثت ہیں، ایک ایسی وراثت جسے کوئی ریاست، کوئی جبر اور کوئی قید ہم سے چھین نہیں سکتی۔ ہمارے دھرنے کے دو بنیادی مطالبات ہیں: اول، ہمارے مقدمات کی سماعت اوپن کورٹ میں کی جائے؛ دوم، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی مبین کا تبادلہ کیا جائے۔ ہمیں ابتدا میں 3MPO کے تحت حراست میں لیا گیا، اس کے بعد اٹھہتر دن تک ریمانڈ پر رکھا گیا۔ 11 اکتوبر سے ہمارے جیل ٹرائل کا آغاز ہوا، اور اب 12 جون کو چیف سیکریٹری کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں قانون جمہوری اصولوں کے مطابق چل رہا ہے؟ کیا بلوچ کو واقعی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جب مقدمات کی شفاف سماعت کے بجائے ایسے طریقہ کار اختیار کیے جائیں جو ملزمان اور ان کے وکلاء کو مزید محدود کر دیں، تو انصاف کی فراہمی کے دعوے اپنی معنی کھو دیتے ہیں۔انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں حالیہ ترامیم نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت محض شک کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو طویل مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ انہی قوانین کے تحت نام نہاد انٹرنمنٹ یا ڈیٹنشن مراکز میں میرے کزن سیف اللہ سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو قید رکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ قانون کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے یا ریاستی طاقت کو مزید وسعت دینا؟ ہمارے مقدمات کے دوران عدالتی عمل کے کئی ایسے پہلو سامنے آئے جنہوں نے ہمارے خدشات کو مزید گہرا کیا۔ ایک پیشی کے دوران بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل خود کمرۂ عدالت میں موجود تھے اور جج پر زور دے رہے تھے کہ مقدمات کو تیزی سے چلایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے تاکہ جلد از جلد فیصلے سنائے جا سکیں۔ اس موقع پر جج نے انہیں جواب دیا کہ مقدمات کا فیصلہ ان کے نہیں بلکہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے قبل انہی نوعیت کے متعدد مقدمات میں ہمیں ضمانتیں دی جا چکی تھیں، مگر 16 نومبر کو جج محمد علی مبین نے مختلف مقدمات میں ہماری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک ہی مقدمے میں میری ضمانت منظور کی گئی جبکہ اسی مقدمے میں بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔ اس طرح تمام کیسیز پر میریٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے ضمانت کے کیسیز کو بیلینس کیا گیا جس سے ہمیں قید بھی رکھا جاسکے اور عدالت کے غیر منصفانہ کاروائی پر پردہ بھی ڈالا جاہیں ۔دورانِ سماعت ہمیں بارہا کہا گیا کہ ’’جا کر اپنا مسئلہ کہیں اور حل کریں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ ہمارا جواب ہمیشہ یہی تھا کہ آپ کے سامنے قانون موجود ہے، آپ قانون اور انصاف کے مطابق فیصلہ کریں۔
14
4
+3
Matn yo'q...
15
5
𝗡𝗶𝗻𝘁𝗵 𝗗𝗮𝘆 𝗼𝗳 𝗝𝗮𝗶𝗹 𝗦𝗶𝘁-𝗜𝗻: 𝗚𝗿𝗼𝘄𝗶𝗻𝗴 𝗙𝗲𝗮𝗿𝘀 𝗳𝗼𝗿 𝗕𝗲𝗯𝗮𝗿𝗴 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵’𝘀 𝗛𝗲𝗮𝗹𝘁𝗵 𝗮𝘀 𝗗𝗲𝘁𝗮𝗶𝗻𝗲𝗱 𝗕𝗬𝗖 𝗟𝗲𝗮𝗱𝗲𝗿𝘀 𝗗𝗲𝗺𝗮𝗻𝗱 𝗙𝗮𝗶𝗿 𝗧𝗿𝗶𝗮𝗹𝘀 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝 𝙔𝙖𝙠𝙟𝙚𝙝𝙩𝙞 𝘾𝙤𝙢𝙢𝙞𝙩𝙩𝙚𝙚 Today marks the ninth day of the ongoing sit-in protest inside the Hudda jail premises by BYC Leaders including, Dr. Mahrang Baloch, Bebarg Baloch, Shah Jee Baloch, Beebow Baloch, and Gulzadi Baloch. The detained BYC leaders launched this protest against the faceless trials and the continued denial of their fundamental legal rights. Despite their clear rejection of these proceedings and the lawyers appointed on their behalf, court proceedings have continued without their consent, while state appointed lawyers have been imposed upon them against their wishes. Faceless trials not only violate the principles of transparent justice but also deprive detainees of their fundamental right to defend themselves. When families are denied access to meet their loved ones and judicial proceedings are conducted away from public scrutiny, concerns regarding fairness and due process become even more serious. The current situation began when the Prosecutor General of Balochistan appeared during a trial proceeding, pressured the presiding judge, and stated that he had been sent by the Home Department of Balochistan. Following this intervention, the trials were converted into faceless proceedings with day-to-day hearings. For the past nine days, Dr. Mahrang Baloch and the other detained BYC leaders have continued their protest under extreme weather conditions and without basic facilities, enduring the scorching heat. Through this peaceful protest, they are demanding transparent and fair trials and the restoration of their legal rights. There is also growing concern regarding the health of the protesters. In particular, Bebarg Baloch, who is a person with disabilities, continues to participate in the sit-in despite his condition. He previously underwent an operation, and he is now experiencing an infection as a result of sitting in the protest. This raises serious concerns regarding his deteriorating health and overall well-being. BYC remains deeply concerned about the health and safety of all the detained BYC leaders, who continue their peaceful protest under harsh conditions while seeking the protection of their constitutional and legal rights.
71
6
Matn yo'q...
202
7
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
58
8
Rosa, Hinara e.V stands in unwavering solidarity with Balochistan and with the imprisoned BYC Leaders who continue to raise t
Rosa, Hinara e.V stands in unwavering solidarity with Balochistan and with the imprisoned BYC Leaders who continue to raise their voices for truth and justice despite state repression, violence, and injustice. She views their resistance as a living struggle that cannot be silenced by prison walls. She clearly states that silence in the face of oppression is not an option, and the resistance of Baloch women is a powerful force that cannot be broken by imprisonment or pressure. Raise Your Vouce. Sign the petition. https://c.org/mWCTmNvMrc
75
9
Caro, Rozalia from Democratic Young Women organization stands firmly in solidarity with the people of Balochistan, especially
Caro, Rozalia from Democratic Young Women organization stands firmly in solidarity with the people of Balochistan, especially Baloch women activists who are courageously raising their voices against oppression and injustice. She fully supports their resistance struggle and the right to speak out against state violence and suppression, and she strongly condemns all attempts to silence or crush their movement. Raise Your Vouce. Sign the petition. https://c.org/mWCTmNvMrc
91
10
𝗗𝗿. 𝗦𝗮𝗯𝗶𝗵𝗮 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵, 𝗖𝗲𝗻𝘁𝗿𝗮𝗹 𝗠𝗲𝗺𝗯𝗲𝗿 𝗼𝗳 𝗕𝗬𝗖, 𝗼𝗻 𝗙𝗮𝗰𝗲𝗹𝗲𝘀𝘀 𝗧𝗿𝗶𝗮𝗹𝘀 𝗮𝗻𝗱 𝘁𝗵𝗲 𝗗𝗲𝘁𝗲𝗻𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗼𝗳 𝗕𝗬𝗖 𝗟𝗲𝗮𝗱𝗲𝗿𝘀 The detained BYC leaders have been protesting for the last nine days against the newly introduced system of faceless trials. Dr. Sabiha Baloch has described these proceedings as "shameless trials." She explained that in such proceedings, the accused, their lawyers, and their families are unable to see the state prosecutors, witnesses, or the evidence being presented. They are also denied the opportunity to cross-examine witnesses or challenge the evidence. Clearly, under such a system, decisions can be made unilaterally. The detained BYC leaders are protesting against this injustice. Dr. Sabiha Baloch said that these developments raise serious questions about the intentions of the state. If we look at the situation in Balochistan over the past one and a half years, enforced disappearances have increased, and the dumping of mutilated bodies has also risen. In the name of security, raids, operations, looting, the burning of homes and the humiliation of people continue. For speaking against these injustices, BYC leaders have been illegally detained in jail. We have repeatedly stated that the slogans, aims, and objectives of BYC are neither complicated nor difficult for conscious people to understand. They are simple and clear: stop the Baloch genocide, ensure the right to live with dignity, and make the state respect its own laws, Constitution, and legal principles. However, these slogans are being deliberately distorted. The manner in which BYC leaders have been detained, the fabricated FIRs registered against them, the false allegations, and the misleading narratives promoted through the media clearly demonstrate that not only security forces but an entire system has been created to sustain the Baloch genocide. Today, the treatment being meted out to BYC leaders in prison and in court is not merely an attempt to punish our colleagues. I would say that this system itself is being dragged into the mud. It is being deeply corrupted. A prosecutor general, who promised elevation to the position of judge, came and pressured the current judge, demanding that these cases be concluded within ten days. Methods are being used in which no one is given the opportunity to question witnesses or challenge evidence, yet these proceedings are being called video trials or faceless trials. The detained BYC leaders continue their protest, while the organization has also launched a three-day online Protest against these faceless proceedings. The BYC leaders do not accept these faceless trials, and they have the legal right to decide through which lawyer they wish to pursue their cases. Despite this, proceedings have continued in their absence and lawyers have also been harassed. One of the cases, in which a decision is expected on Monday, appears to be used as a pressure tactic. If the principal accused has already been acquitted, how can the others be punished? Dr. Sabiha Baloch stated that those who are involved in these actions are betraying both their professions and the law. They are corrupting the very institutions they are supposed to uphold. She reiterated: "Our position is clear. We are against the Baloch genocide, and we will continue to speak about it because it is a question of our lives and our dignity. Those who have a problem with our existence, and those who are troubled by our raising the issue of the Baloch genocide, are the ones carrying out these actions today." Finally, she urged all civil society groups across Pakistan to speak out against these cases and against faceless trials. She called on journalists, judges, lawyers, and members of civil society to write and speak about the injustices taking place in Balochistan. "If you remain silent and fail to uphold justice, then you too become complicit."
104
11
Matn yo'q...
289
12
اظہارِ لاتعلقی / وضاحتی بیان انصاف لائرز فورم بلوچستان کے صوبائی صدر اور سیکرٹری جنرل کی ہدایات کی روشنی میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ اگر انصاف لائرز فورم کے نام سے منسلک کوئی بھی رکن بلوچستان یکجہتی کمیٹی (BYC) کے خلاف مقدمات میں پیش ہوتا ہے یا کسی بھی نوعیت کی قانونی نمائندگی انجام دیتا ہے، تو اس عمل کا انصاف لائرز فورم بلوچستان سے کوئی تعلق تصور نہیں کیا جائے گا۔ ایسے تمام اقدامات متعلقہ وکیل کی ذاتی اور انفرادی حیثیت میں شمار ہوں گے، اور ان کے خیالات، مؤقف، بیانات یا قانونی سرگرمیاں انصاف لائرز فورم بلوچستان کے سرکاری مؤقف یا پالیسی کی نمائندگی نہیں کریں گی۔ انصاف لائرز فورم بلوچستان اپنی تنظیمی پالیسیوں، فیصلوں اور اصولی مؤقف کی خود ذمہ دار ہے اور کسی فرد کی ذاتی یا پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔ جاری کردہ: گل اکبر دومڑ سیکرٹری اطلاعات انصاف لائرز فورم بلوچستان
128
13
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
127
14
Nele, Gemeinsam Kämpfen stands in full solidarity with the people of Balochistan and strongly supports the Baloch movement ag
Nele, Gemeinsam Kämpfen stands in full solidarity with the people of Balochistan and strongly supports the Baloch movement against state suppression. She condemns the ongoing situation in the region, including extrajudicial killings, enforced disappearances, baloch genocide and the faceless trials of BYC leaders, and calls for justice, accountability, and respect for human rights. Raise your voice. Sign the petition. https://c.org/mWCTmNvMrc
140
15
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
125
16
𝗠𝗮𝗸𝗲 𝗬𝗼𝘂𝗿 𝗩𝗼𝗶𝗰𝗲 𝗖𝗼𝘂𝗻𝘁. 𝗦𝗶𝗴𝗻 𝘁𝗵𝗲 𝗽𝗲𝘁𝗶𝘁𝗶𝗼𝗻. The imprisonment of human rights defenders and lawyers for peaceful advocacy is an attack on justice itself. We demand the immediate release of detained BYC leaders including Dr Mahrang Baloch, Beebagr Zehri, Sibqatullah Shahji, Beebow Baloch, Gullzadi Baloch and lawyers Iman Mazari, and Hadi Ali Chattha. Raise your voice. Sign the petition. https://c.org/mWCTmNvMrc
128
17
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
123
18
+2
Matn yo'q...
134
19
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے لواحقین کو اپنے اسیر عزیزوں سے ملاقات کی اجازت دیے جانے کے بعد ہدہ جیل کے سامنے جاری پُرامن احتجاجی دھرنا اختتام پذیر کر دیا گیا ہے۔ یہ احتجاج اس بنیادی حق کے حصول کے لیے تھا جس سے اہلِ خانہ کو کئی دنوں سے محروم رکھا گیا تھا۔ ہم ان تمام افراد، سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور انصاف پسند عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پُرامن، منظم اور اصولی جدوجہد اپنی اہمیت اور اثر رکھتی ہے۔ تاہم اسیران کے خلاف جاری غیر شفاف عدالتی کارروائیوں، فیس لیس ٹرائل اور بنیادی قانونی حقوق سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں۔
110
20
ریاست وھدے کہ بلوچ ءِ توار ءَ پہ سلاھ ھاموش کنگ ءَ بے سوب بیت گڑا بیگواھی، لاشانی دور دیگ ءُ آزار دیگ ءِ درچ بلوچ راج ءَ پہ وتی رژنائیں باندات ءِ ھاتر ءَ جھد ءُ کوشست کنگ ءَ چہ داشت نہ کنت ھمے وھد ءَ ریاست لاءپیئر ءِ شوربندی ءَ دیم ءَ کار ایت، بی وائی سی ءِ درگت ءَ اگاں ریاست ءِ لاءپیئر ءِ شوربندیاں ھُرتی ءَ بہ چار ایں گڑا بندات ءَ ماں لانگ مارچ ءَ اسپانک سازی بندات کنگ بیت ریاستی وزیرانی پریس کانپرنسانی درچے بندات بیت، استان ءِ ھوالکارانی ماں رسانکدر ءَ ھمے اسپانکانی گیش توانگر کنگ ءِ ھاتر ءَ ٹاک شوو، مراگش، پوجی سروکانی تران جنزینگ بنت اھوالکار ماں لانگ مارچ ءَ برجاھیں کیمپاں پہ مردمانی تُرسینگ ءَ دیم دیگ بنت۔ ایشی ءَ پد ریاست اے بیانیہ سازی ءِ اَمّل ءَ برجاہ دار ایت ءُ ماں راجی مچی ءَ داں وتی سرجمیں تاکت ءَ کارمرز کنت ءُ پہ زور ءُ تاکت بی وائی سی ءِ دارگ ءِ جھد بیت انت بلے انگت ریاست سوبین نہ بیت ۔ راجی مچی ءِ آسر بوگ ءَ پد ریاست لاءپیئر ءِ کارمرزگ ءَ بندات کنت کہ سیاسی سروکانی سر ءَ ایپ آئی آر کنت اے دابیں ایپ آئی آر لانگ مارچ ءِ واتر کنگ ءِ ساھتاں اوں کنگ بیت انت بلے آیانی بیانیہ مھکم نہ بیت، ریاست انگت ایشانی مھکم کنگ ءِ ھاتر ءَ گیش بیانیہ سازی ءَ برجاہ دار اِیت راجی مچی ءَ پد ماں شال ءَ ریاست وتی اسپانکانی برورد ءَ کانود جوڑ کنگ ءَ سوبیں بیت ءُ ایم پی او دابیں کانودے جوڑ کنگ بیت ءُ ایمنی ءِ نام ءَ رھشون دستگیر کنگ بنت۔ بندات ءَ ھمے دستگیری ءِ مدت سے ماہ بیت بلے میزان میزان ءَ ریاست وتی لاءپیئر ءِ شوربندیاںی بنیاد ءَ ھمے مدت ءَ دراج کش کنان بیت ھمے داب ءَ زورانسری گار ءُ بیگواھی اوں کانودی بنیاد ءَ روا کنگ بیت کہ اگاں کسے اوں بیگواہ کنگ بیت داں سئے ماہ ءَ آمیدگس ءُ پولیس ءِ گْور ءَ آرگ نہ بیت گڑا کانودی داب ءَ ایشی ءِ اجازت ھست انت، جھانی ھچ کانود اے کار ءَ روا کت نہ کنت کہ یک انسانے ءِ بندیگ کنگ ءُ آئی ءِ انساپ گرگ ءِ راہ ءُ در بند کنگ بہ بنت بلے پاکستان ءِ لاءپیئر ءِ کارمرزگ ایشی ءِ اجازت ءَ دنت۔ مدامی اگاں بلوچ چاگرد ءَ زرمبشتے بنا بوتگ گڑا ھمے زرمبشت ءِ ایرموش کنگ ءِ ھاتر ءَ ریاست ءِ اولی شوربندی بلوچ رھشونان چہ مھلوک ءَ گِستا کنگ بوتگ باز بری آ شھید کنگ بوتگ انت، باز ماں زندانان بندیگ کنگ بوتگ انت ءُ باز بیگواہ کنگ بوتگ انت کہ یک ترسے ماں بلوچ چاگرد ءَ جوڑ کنگ بہ بیت انت۔ لس مھلوک چہ رھشونانی نہ بوگ ءَ نااُمیت بہ بیت ءُ استاں ءِ زوراکیاں ھاموشی ءَ گوں اوپار بکنت۔ماں بی وائی سی ءِ درگت ءَ اوں ھمے رنگ ءَ رھشونانی بندیگ کنگ ءِ مول ءُ مراد ھمے درا بیت انت۔ ماں ملک ءِ جتا جتائیں جاھاں 144 دروگیں کیس ءِ جوڑ کنگ وھدے یک کیسے کہ ھلاس بیت گڑا دومی ءَ بندات کنت، ھما مدت ءَ دراج کش کنگ ءَ انت اد ءَ لاءپیئر ریاست ءِ مھکمیں سلاھے درا بیت انت ۔ وھدے کہ بلوچ رھشوں ماں بندات ءَ بندیگ کنگ بوتگ ات انت گڑا آمیدگسی کار ءُ کیسانی گوشدارگ ءِ اَمل ماں آمیدگساں بوت انت بلے میزان میزان استان ءَ اے ھلاس کت کہ مھلوک وتی رھشوناں ھچ وڑ ءَ دیست مہ کنت ءُ آمیدگسی کاروایانی ماں جیل ءَ گوشدارگ بندات بیت کہ کس مہ زانت کہ چے بوگ ءَ انت۔ ماں جھان ءِ دیم ءَ ھاموشی یے بہ بیت انت داں اود ءَ جج ءِ بدیں روِشت ءُ یک پلوی پدر مہ بیت لاءپیئر ءِ شوربندی پدر مہ بنت۔ زوتاں بلوچ رھشونانی کیس آنلائن کنگ بوتگ انت اے اَمل ھما لاءپیئر ءِ بدتریں رنگ انت کہ ریاست کانود ءَ کارمرز کنان ءَ بندیگاں مجبور کنگ لوٹ ایت کہ آ ریاست ءِ گُشگ ءِ پد ءَ وتی راجی مپاداں چہ پدکنز بہ بنت اگاں نا گڑا ریاست وتی زوراکیاں انچو برجم دار اِیت انت ۔ اے درگت ءَ آمیدگس ءِ جج گوں ساپیں لبزاں گُش اِیت "گون چیریں ادارھاں تران بکن ات ءُ ماپی بہ لوٹ ات ۔" ناانساپیں آمیدگسی کاروائی پدر کنت کہ ماں پاکستاں ءَ کانود یک سلاھے ءَ ابید ھچے نہ انت کہ اد ءَ تھنا بلوچ لس مھلوک ءُ سیاسی رھشوں گیش زوراکیانی آماچ کنگ بنت۔
104