uz
Feedback
Baloch Yakjehti Committee

Baloch Yakjehti Committee

Kanalga Telegram’da o‘tish

Official channel of Baloch Yakjehti Committee

Ko'proq ko'rsatish
2 833
Obunachilar
Ma'lumot yo'q24 soatlar
-97 kunlar
-3030 kunlar
Postlar arxiv
𝐓𝐡𝐞𝐦𝐚𝐭𝐢𝐜 𝐑𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭: 𝐒𝐭𝐚𝐠𝐞𝐝 𝐏𝐫𝐞𝐬𝐬 𝐂𝐨𝐧𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐍𝐚𝐫𝐫𝐚𝐭𝐢𝐯𝐞𝐬 𝐢𝐧 𝐁𝐚𝐥𝐨𝐜𝐡𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝗧𝗵𝗲 𝗖𝗼𝘀𝘁 𝗼𝗳 𝗦𝗶𝗹𝗲𝗻𝗰𝗲 From student activists to professors, no one is safe from arbitrary detention. Families are being subjected to "collective punishment," where the release of a disappeared loved one is made conditional on the relative abandoning their struggle for human rights. 𝗧𝗵𝗶𝘀 𝗿𝗲𝗽𝗼𝗿𝘁 𝗱𝗼𝗰𝘂𝗺𝗲𝗻𝘁𝘀 𝘁𝗵𝗲 𝗵𝗲𝗮𝘃𝘆 𝗽𝗿𝗶𝗰𝗲 𝗼𝗳 𝗱𝗶𝘀𝘀𝗲𝗻𝘁: • 𝑇𝑎𝑟𝑔𝑒𝑡𝑖𝑛𝑔 𝐼𝑛𝑡𝑒𝑙𝑙𝑒𝑐𝑡𝑢𝑎𝑙𝑠: Highly educated individuals, such as university professor Dr. Muhammad Usman Qazi, are subjected to enforced disappearance and coerced into televised confessions after days of incommunicado detention. • 𝐸𝑥𝑝𝑙𝑜𝑖𝑡𝑖𝑛𝑔 𝐹𝑎𝑚𝑖𝑙𝑦 𝐵𝑜𝑛𝑑𝑠: Human rights defenders like Fozia Baloch and Adeeba Zaheer are explicitly told that their disappeared brothers or husbands will only be released if they publicly relinquish their affiliation with the Baloch Yakjehti Committee (BYC). • 𝑊𝑒𝑎𝑝𝑜𝑛𝑖𝑧𝑖𝑛𝑔 𝐹𝑒𝑎𝑟: Families are forced into staged press conferences where they must recite pre-written scripts, apologize for demanding justice, and swear loyalty to the state under duress. • 𝐸𝑟𝑜𝑑𝑖𝑛𝑔 𝐶𝑜𝑚𝑚𝑢𝑛𝑖𝑡𝑦 𝑇𝑟𝑢𝑠𝑡: These practices of attacking women and children terrorize the Baloch nation, leading to a total erosion of trust in state and government institutions. The silence ends here. This report stands as a testimony to those who refuse to be silenced despite the cost. 𝐃𝐨𝐰𝐧𝐥𝐨𝐚𝐝 𝐭𝐡𝐞 𝐟𝐮𝐥𝐥 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭: https://gofile.io/d/hp6tgB

𝟮𝟴-𝘆𝗲𝗮𝗿-𝗼𝗹𝗱 𝗡𝗼𝘀𝗵𝗮𝗱 𝗔𝗵𝗺𝗲𝗱 𝗧𝗮𝗿𝗴𝗲𝘁𝗲𝗱 𝗮𝗻𝗱 𝗞𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗶𝗻 𝗧𝗮𝘀𝗽, 𝗣𝗮𝗻𝗷𝗴𝘂𝗿 𝗯𝘆 𝗦𝘁𝗮𝘁𝗲 𝗯𝗮𝗰𝗸𝗲𝗱 𝗗𝗲𝗮𝘁𝗵 𝗦𝗾𝘂𝗮𝗱𝘀. 𝙅𝙪𝙣𝙚 1, 2026 - 𝙏𝙖𝙨𝙥, 𝙋𝙖𝙣𝙟𝙜𝙪𝙧, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣 Noshad Ahmed, son of Jameel Ahmed, a 28-year-old resident of Tasp, Panjgur, was targeted and killed by a state backed death squad on June 1, 2026, on Chedagi Road in the Tasp area of Panjgur, Balochistan. The incident took place between Asr and Maghrib prayers when armed members of death squads in a white Axio car opened fire on Noshad Ahmed. He sustained fatal gunshot injuries and was martyred on the spot. Noshad Ahmed was lived in Tasp with his family. His killing has left his family, relatives, and loved ones devastated and in deep mourning. The attack, carried out openly on a public road, has intensified fear and concern among local residents. Such incidents continue to have a profound impact on affected families and communities, who are left struggling with loss and seeking justice for their loved ones. The killing of Noshad Ahmed highlights the ongoing human rights concerns in Balochistan, where civilians continue to face violence and insecurity. Families affected by such incidents often endure immense suffering while seeking accountability and justice. The Baloch Yakjehti Committee (BYC) strongly condemns the killing of Noshad Ahmed and demands accountability for those responsible. His killing is yet another example of the ongoing violence and human rights violations in Balochistan, where civilians continue to lose their lives with no accountability. BYC urge human rights organizations to take serious notice of this incident and the broader human rights situation in Balochistan. Justice must be ensured for Noshad Ahmed, and those responsible for his killing must be brought to justice. The repetition of such killings reflects a disturbing pattern of violence in Balochistan, where families are repeatedly left seeking answers, justice, and accountability for their loved ones. #StopBalochGenocide

بلوچ، پشتون، سندھی، گلگتی، بلتی اور کشمیری عوام کی اپنے حقوق، وقار، قومی شناخت اور انصاف کے لیے جدوجہد زندہ باد۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ہدہ جیل 10 جون 2026

میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی اور پاکستان میں آباد محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کے خلاف ریاست کے مسلسل جابرانہ رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب پابندیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور سیاسی عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں عوامی تحریکوں اور جمہوری مطالبات کا جواب اکثر طاقت، جبر اور قدغنوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔ آج اس قید خانے کی خاموشی میں میرا دل سب سے پہلے کشمیر کے ان مظاہرین، زخمیوں، سوگوار خاندانوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے اور جنہیں جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان سے کشمیر تک فاصلے ہزاروں کلومیٹر کے سہی، مگر دکھ ایک جیسے ہیں، زخم ایک جیسے ہیں اور انصاف کی خواہش بھی ایک جیسی ہے۔ میں کشمیری عوام کی استقامت، حوصلے اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔ جیل کی یہ دیواریں بلند ضرور ہیں، مگر اتنی بلند نہیں کہ وہ قوموں کے دکھ، ماؤں کی آہیں اور انصاف کی پکار کو اپنے اندر قید کر سکیں۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی میں بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سے اٹھنے والی ان آوازوں کو سن سکتی ہوں جو اپنے بنیادی حقوق، عزت، شناخت اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ریاستی جبر کا ایک پرانا طریقۂ کار ہے۔ پہلے عوام کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر اسے بدنام کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور آخرکار طاقت کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پُرامن تحریک کو جس ریاستی جبر کا سامنا ہے، وہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں محکوم قوموں کی سیاسی جدوجہد کو بارہا طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھی اسی جابرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیاں، گرفتاریاں اور تشدد قوموں کی یادداشت کو مٹا سکتے ہیں۔ لیکن ظلم کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ ظلم صرف زخم پیدا کرتا ہے، اور زخم ایک دن سوال بن جاتے ہیں۔ جب یہی سوال پورے معاشرے کے سوال بن جائیں تو پھر کوئی دیوار، کوئی جیل اور کوئی پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔ بلوچستان میں جب مائیں اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکلیں تو انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو، جن کی گمشدگیوں کے بارے میں وہ انصاف مانگ رہی تھیں، دہشت گرد قرار دے کر ان کے درد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ پختونخواہ میں جب عوام نے اپنے حقوق کی بات کی تو ان کی آواز کو دبانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔ آج کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے، خاموشی نہیں۔ عوام جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت سے دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو جرم اور مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، یا جو انصاف کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان کی مائیں ہوں، پختونخواہ کے خاندان ہوں، سندھ اور گلگت بلتستان کے کارکن ہوں یا کشمیر کے مظاہرین، ان کا درد ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ ہماری جدوجہد نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، برابری اور قومی حقوق کے لیے ہے۔ ہم اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب کسی ماں کو اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھا کر سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے، جب کسی طالب علم کو اپنے سیاسی نظریات کی قیمت آزادی سے محرومی کی صورت میں نہ چکانی پڑے، جب کسی انسان کو اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے مطالبے کی پاداش میں قتل، قید یا لاپتہ نہ کیا جائے، اور جب عوامی مطالبات کا جواب گولی، پابندی اور جبر نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور جمہوری عمل ہو۔ اگر سچ بولنا جرم ہے تو تاریخ کے ہر باوقار انسان نے یہ جرم کیا ہے۔ اور اگر انصاف کا مطالبہ بغاوت ہے تو یہ بغاوت انسان کے ضمیر سے جنم لیتی ہے، کسی سازش سے نہیں۔ قوموں کی آوازیں خاموش نہیں ہوں گی۔ انصاف کا مطالبہ ختم نہیں ہوگا۔ اور امید، ہر اندھیرے کے باوجود، زندہ رہے گی۔

photo content
+1

𝟭𝟴-𝘆𝗲𝗮𝗿-𝗼𝗹𝗱 𝗜𝗿𝘀𝗵𝗮𝗱 𝗔𝗹𝗮𝗺 𝘄𝗮𝘀 𝗸𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗮𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗯𝗲𝗶𝗻𝗴 𝘀𝘂𝗯𝗷𝗲𝗰𝘁𝗲𝗱 𝘁𝗼 𝗮𝗻 𝗲𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗱𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 𝗮𝘁 𝗕𝗮𝘀𝗶𝗺𝗮 𝗮𝗿𝗲𝗮 𝗼𝗳 𝗪𝗮𝘀𝗵𝘂𝗸, 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻. 𝙅𝙪𝙣𝙚 8, 2026 – 𝘽𝙖𝙨𝙞𝙢𝙖, 𝙒𝙖𝙨𝙝𝙪𝙠, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣 Irshad Alam, the 18-year-old son of Alam Khan, was a young businessman from Bidrang, Gresha Naal. On April 30, 2026, he became a victim of enforced disappearance, joining the long list of Baloch individuals whose families continue to search for truth and justice. After weeks of anguish and uncertainty, the family’s worst fears were realized on June 8, 2026, when his lifeless body was found in Basima, Washuk. A young life filled with dreams, determination, and promise was cut short. His death has left another Baloch family grieving an immeasurable loss and has deepened the pain felt across the Baloch nation. The ongoing enforced disappearances and killings of Baloch youth continue to fuel grief, anger, and resistance throughout Balochistan. Despite intimidation and fear, families of the victims persist in their struggle for truth, justice, and accountability. Their resilience stands as a testament to the determination of a people who refuse to allow their loved ones to be forgotten. Baloch Yakjehti Committee (BYC) strongly condemns the enforced disappearance and killing of Irshad Alam and all violations of fundamental human rights. BYC calls upon international human rights organizations, the United Nations, and the global community to take immediate and meaningful action to investigate these abuses, ensure accountability, and support the families seeking justice. #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
+1
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocid
𝗥𝗘𝗟𝗘𝗔𝗦𝗘𝗗- 𝗩𝗶𝗰𝘁𝗶𝗺 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide
+1
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀! #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

آئیے، ہم سب مل کر اپنی توانا آوازوں سے اس غافل اور جابر نظام کو للکاریں اور یہ واضح پیغام پہنچائیں کہ جبری گمشدگی ایک ناقابلِ قبول جرم ہے۔ اس ریاستی جبر کو کسی بھی صورت نارملائز نہیں بنایا جا سکتا۔ بلوچ قوم اپنے اسیران اور لاپتہ افراد کو بھولنے کے لیے تیار نہیں، اور نہ ہی ان کی بازیابی کے لیے جاری جدوجہد سے دستبردار ہوگی۔ ان کی رہائی اور واپسی کے لیے یہ جدوجہد اب ایک اجتماعی عہد بن چکی ہے، جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہر لاپتہ فرد اپنے خاندان اور اپنے لوگوں کے درمیان واپس نہیں آ جاتا۔

8 جون بلوچ قومی مزاحمت اور یادِ اسیران بلوچ قوم کے نام 8 جون بلوچ قوم کی تاریخ میں صرف ایک یاد کا دن نہیں بلکہ ایک کھلا سیاسی اعلان ہے کہ ظلم، جبر اور ریاستی تشدد کو بھلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی قبول کیا جا سکتا ہے۔ یہ دن ان ہزاروں بلوچ نوجوانوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی یاد میں ہے جنہیں ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی قید، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور انسانی وقار کی سنگین پامالیوں کا نشانہ بنایا گیا یہ وہ دن ہے جب ہم اجتماعی طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ظلم کو خاموشی سے برداشت کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ 8 جون مزاحمت، انکار اور تسلسلِ جدوجہد کا اعلان ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستی جبر کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی پالیسی ہے جس کا مقصد بلوچ قوم کو خوف، خاموشی اور تقسیم میں مبتلا رکھنا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبر جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی گہری ہوتی ہے۔ وہ نوجوان جو قید و بند اور جبری گمشدگی کا شکار ہوئے، وہ آج بھی اپنی قوم کے شعور میں زندہ ہیں۔ ان کی قربانیاں خاموش نہیں بلکہ ایک جاری سیاسی بغاوت کی بنیاد ہیں۔ با وقار شہریوں ! بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب کوئی انفرادی یا اتفاقی عمل نہیں رہیں۔ یہ ایک منظم ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں، جس کا مقصد سیاسی اختلاف کو کچلنا، اجتماعی شعور کو توڑنا اور خوف کو بطورِ حکمرانی استعمال کرنا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں آواز اٹھانے والوں کو غائب کر دیا جاتا ہے، سوال کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور پورے معاشرے کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ کوششیں اب مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ جبر خود اس حد تک ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے کہ اسے مزید چھپایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک گہرے زخم کی مانند ہر فرد کے سامنے ریاستی بربریت کے ثبوت کے طور پر عیاں ہو چکا ہے۔ جس اجتماعی شعور کو توڑنے کے لیے اس ہتھیار کو استعمال کیا گیا، آج وہی اجتماعی شعور اس کے خلاف مزید مضبوط اور بیدار ہو رہا ہے۔ یوں جبری گمشدگیوں کی یہ پالیسی، اجتماعی مزاحمت کو کمزور کرنے کے بجائے، اس کی آبیاری اور تقویت کا سبب بن رہی ہے۔ بلوچستان کی نڈر آوازوں! جبر کا سب سے بڑا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ مزاحمت کو ختم کر سکتا ہے، لیکن بلوچستان نے اس دعوے کو بار بار جھوٹ ثابت کیا ہے۔ ہم نے بلوچستان میں اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے کہ متاثرہ خاندان صرف متاثرین نہیں بلکہ مزاحمت کی پہلی صف ہیں ۔ مائیں جو سڑکوں پر کھڑی ہیں وہ ریاست کے جھوٹ کے خلاف زندہ احتجاج ہیں، بہنیں جو انصاف مانگتی ہیں وہ خاموشی کے نظام کو چیلنج کر رہی ہیں، بچے جو اپنے والد کے بارے میں سوال کرتے ہیں وہ ریاستی بیانیے کو توڑ رہے ہیں ،یہ وہ سیاسی حقیقت ہے جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا انتظار اب ایک سیاسی سوال میں بدل چکا ہے، جبر و تشدد سے ریاست حقائق کو مسخ تو کر سکتی ہے مگر وہ مزاحمت کو روک نہیں سکتی جو جبری گمشدہ افراد کے درد سے توانائی حاصل کر رہی ہےَ فکری ساتھیوں! ریاستی طاقت نے جبری گمشدگیوں کو چھپانے، ان کا جواز پیش کرنے اور ان کی سنگینی کو کم کرکے دکھانے کے لیے مختلف ادارے، کمیشن اور بیانیے تشکیل دیے، مگر یہ تمام کوششیں ایک گہری ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔ اس مسئلے پر قائم کی گئی بیانیہ سازی خود اپنے ہی بوجھ تلے منہدم ہو چکی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف اٹھنے والی توانا آوازوں کو قید کرکے اور ان پر پابندیاں عائد کرکے ریاست خود اپنی بوکھلاہٹ اور بے بسی کا اظہار کر چکی ہے۔ یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ریاست کے پاس اس جرم کو جاری رکھنے کا نہ کوئی مضبوط قانونی جواز موجود ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ دفاع سیاسی دلیل۔ مسئلہ محض چند ریاستی اداروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے اس نظام کا حصہ ہے جس کی تشکیل اور بقا میں جبر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لیے یہ نظام انتہائی سفاکی کے ساتھ اس پالیسی پر قائم ہے، کیونکہ اس کے پاس ہماری سرزمین کے وسائل پر قبضے، استحصال اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔ با شعور بلوچ عوام 8 جون ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ جبر کے ساتھ شراکت داری ہے۔ آج ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھائے، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہو ،ریاستی جبر کو بے نقاب کرے، اور اس سیاسی نظام کو چیلنج کرے جو خوف پر قائم ہے۔ ہمیں اس مسئلے کے خلاف یکجاں ہوکر توانا فکری اور عملی جدوجہد کی ضرورت ہے کیونکہ جو قوم اپنے لاپتہ افراد کے لیے نہیں بولتی، وہ اپنے مستقبل کے لیے بھی خاموشی قبول کر لیتی ہے۔

photo content
+1

آئیے، ہم سب مل کر اپنی توانا آوازوں سے اس غافل اور جابر نظام کو للکاریں اور یہ واضح پیغام پہنچائیں کہ جبری گمشدگی ایک ناقابلِ قبول جرم ہے۔ اس ریاستی جبر کو کسی بھی صورت نارملائز نہیں بنایا جا سکتا۔ بلوچ قوم اپنے اسیران اور لاپتہ افراد کو بھولنے کے لیے تیار نہیں، اور نہ ہی ان کی بازیابی کے لیے جاری جدوجہد سے دستبردار ہوگی۔ ان کی رہائی اور واپسی کے لیے یہ جدوجہد اب ایک اجتماعی عہد بن چکی ہے، جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہر لاپتہ فرد اپنے خاندان اور اپنے لوگوں کے درمیان واپس نہیں آ جاتا۔

8 جون: بلوچ قومی مزاحمت اور اسیرانِ ظلم کا دن بلوچ قوم کے نام 8 جون بلوچ قوم کی تاریخ میں صرف ایک یاد کا دن نہیں بلکہ ایک کھلا سیاسی اعلان ہے کہ ظلم، جبر اور ریاستی تشدد کو بھلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی قبول کیا جا سکتا ہے۔ یہ دن ان ہزاروں بلوچ نوجوانوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی یاد میں ہے جنہیں ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی قید، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور انسانی وقار کی سنگین پامالیوں کا نشانہ بنایا گیا یہ وہ دن ہے جب ہم اجتماعی طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ظلم کو خاموشی سے برداشت کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ 8 جون مزاحمت، انکار اور تسلسلِ جدوجہد کا اعلان ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستی جبر کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی پالیسی ہے جس کا مقصد بلوچ قوم کو خوف، خاموشی اور تقسیم میں مبتلا رکھنا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبر جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی گہری ہوتی ہے۔ وہ نوجوان جو قید و بند اور جبری گمشدگی کا شکار ہوئے، وہ آج بھی اپنی قوم کے شعور میں زندہ ہیں۔ ان کی قربانیاں خاموش نہیں بلکہ ایک جاری سیاسی بغاوت کی بنیاد ہیں۔ با وقار شہریوں ! بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب کوئی انفرادی یا اتفاقی عمل نہیں رہیں۔ یہ ایک منظم ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن چکی ہیں، جس کا مقصد سیاسی اختلاف کو کچلنا، اجتماعی شعور کو توڑنا اور خوف کو بطورِ حکمرانی استعمال کرنا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس میں آواز اٹھانے والوں کو غائب کر دیا جاتا ہے، سوال کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور پورے معاشرے کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ کوششیں اب مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ جبر خود اس حد تک ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے کہ اسے مزید چھپایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک گہرے زخم کی مانند ہر فرد کے سامنے ریاستی بربریت کے ثبوت کے طور پر عیاں ہو چکا ہے۔ جس اجتماعی شعور کو توڑنے کے لیے اس ہتھیار کو استعمال کیا گیا، آج وہی اجتماعی شعور اس کے خلاف مزید مضبوط اور بیدار ہو رہا ہے۔ یوں جبری گمشدگیوں کی یہ پالیسی، اجتماعی مزاحمت کو کمزور کرنے کے بجائے، اس کی آبیاری اور تقویت کا سبب بن رہی ہے۔ بلوچستان کی نڈر آوازوں! جبر کا سب سے بڑا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ مزاحمت کو ختم کر سکتا ہے، لیکن بلوچستان نے اس دعوے کو بار بار جھوٹ ثابت کیا ہے۔ ہم نے بلوچستان میں اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے کہ متاثرہ خاندان صرف متاثرین نہیں بلکہ مزاحمت کی پہلی صف ہیں ۔ مائیں جو سڑکوں پر کھڑی ہیں وہ ریاست کے جھوٹ کے خلاف زندہ احتجاج ہیں، بہنیں جو انصاف مانگتی ہیں وہ خاموشی کے نظام کو چیلنج کر رہی ہیں، بچے جو اپنے والد کے بارے میں سوال کرتے ہیں وہ ریاستی بیانیے کو توڑ رہے ہیں ،یہ وہ سیاسی حقیقت ہے جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا انتظار اب ایک سیاسی سوال میں بدل چکا ہے، جبر و تشدد سے ریاست حقائق کو مسخ تو کر سکتی ہے مگر وہ مزاحمت کو روک نہیں سکتی جو جبری گمشدہ افراد کے درد سے توانائی حاصل کر رہی ہےَ فکری ساتھیوں! ریاستی طاقت نے جبری گمشدگیوں کو چھپانے، ان کا جواز پیش کرنے اور ان کی سنگینی کو کم کرکے دکھانے کے لیے مختلف ادارے، کمیشن اور بیانیے تشکیل دیے، مگر یہ تمام کوششیں ایک گہری ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔ اس مسئلے پر قائم کی گئی بیانیہ سازی خود اپنے ہی بوجھ تلے منہدم ہو چکی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف اٹھنے والی توانا آوازوں کو قید کرکے اور ان پر پابندیاں عائد کرکے ریاست خود اپنی بوکھلاہٹ اور بے بسی کا اظہار کر چکی ہے۔ یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ ریاست کے پاس اس جرم کو جاری رکھنے کا نہ کوئی مضبوط قانونی جواز موجود ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ دفاع سیاسی دلیل۔ مسئلہ محض چند ریاستی اداروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے اس نظام کا حصہ ہے جس کی تشکیل اور بقا میں جبر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لیے یہ نظام انتہائی سفاکی کے ساتھ اس پالیسی پر قائم ہے، کیونکہ اس کے پاس ہماری سرزمین کے وسائل پر قبضے، استحصال اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔ با شعور بلوچ عوام 8 جون ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ جبر کے ساتھ شراکت داری ہے۔ آج ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھائے، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہو ،ریاستی جبر کو بے نقاب کرے، اور اس سیاسی نظام کو چیلنج کرے جو خوف پر قائم ہے۔ ہمیں اس مسئلے کے خلاف یکجاں ہوکر توانا فکری اور عملی جدوجہد کی ضرورت ہے کیونکہ جو قوم اپنے لاپتہ افراد کے لیے نہیں بولتی، وہ اپنے مستقبل کے لیے بھی خاموشی قبول کر لیتی ہے۔

photo content
+1