Baloch Yakjehti Committee
Открыть в Telegram
2 844
Подписчики
+124 часа
+137 дней
+330 день
Архив постов
تنظیم کے رکن سید بی بی کی غیر قانونی گرفتاری پاکستانی فسطائیت ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن سید بی بی بلوچ کو ان کے گھر سے بغیر کسی قانونی جواز کے گرفتار کرنا بلوچستان میں پاکستانی فسطائیت ہے۔
آج منگل کی رات تقریباً 9:30 بجے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے سید بی بی بلوچ کی گھر کی چادر و چاردیواری کی پامالی کرکے انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ حالانکہ گزشتہ چار ماہ سے ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے، جس کے باعث وہ ہر ہفتے باقاعدگی سے سی ٹی ڈی کے دفتر میں پیشی دیتے ہیں۔
گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے تربت میں احتجاج کا اعلان کیے جانے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکار مسلسل سید بی بی بلوچ کو فون کر کے ہراساں کرتے رہے۔
فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانون کا حصہ ہے، لیکن بلوچستان میں اس قانون کو سیاسی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، عام شہریوں اور حتیٰ کہ نابالغ بچوں کو ہراساں کرنے اور ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس قانون کے باعث متعدد طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے سے بھی محروم ہو چکے ہیں، جبکہ عوام مسلسل ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ جب بھی کسی شہر میں احتجاج کا اعلان ہوتا ہے، فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو سی ٹی ڈی دفاتر میں طلب کر کے ہراساں کیا جاتا ہے۔
سید بی بی شریف کو اس وقت ویمن پولیس تھانہ تربت میں رکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ یہ طرزِ عمل جابرانہ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کا نوٹس لیں، سید بی بی شریف کی فوری رہائی کے لیے آواز اٹھائیں، اور پاکستان میں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری جبر، شہری آزادیوں پر قدغن اور فسطائی طرزِ حکمرانی کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔
شوکت نواز میر کی گرفتاری عوامی تحریکوں کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن کا تسلسل ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کشمیر کے رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری کو عوامی اور جمہوری جدوجہد کے خلاف ایک اور انتقامی اقدام سمجھتی ہے۔ جب بھی عوام اپنے بنیادی حقوق، معاشی انصاف اور باعزت زندگی کے مطالبات کے لیے منظم ہوتے ہیں، ریاست کا جواب مذاکرات اور مسائل کے حل کے بجائے گرفتاریوں، ہراسانی اور جبر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
شوکت نواز میر کی گرفتاری دراصل ان تمام عوامی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو اپنے لوگوں کے حقوق، وسائل اور مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاست عوامی مطالبات کا سیاسی جواب دینے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔
آج کشمیر ہو یا بلوچستان، عوامی حقوق، انصاف اور سیاسی آزادیوں کے لیے آواز اٹھانے والوں کو مختلف شکلوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوامی رہنماؤں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران حلقے عوامی شعور، منظم جدوجہد اور اجتماعی مزاحمت سے خوفزدہ ہیں اور ہر قیمت پر ان تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر جبر، گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے عوام کے سیاسی شعور اور اجتماعی ارادے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ عوامی تحریکوں کو کچلنے کی یہ کوششیں دراصل حکمران طبقے کی سیاسی ناکامی اور عوامی طاقت کے خوف کا اظہار ہیں۔ جب ریاست کے پاس عوامی مطالبات کا کوئی سیاسی جواب نہیں بچتا تو وہ طاقت، گرفتاریوں اور دباؤ کا سہارا لیتی ہے، مگر ایسی ہتھکنڈے نہ عوامی جدوجہد کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی انصاف، حقوق اور آزادی کے مطالبات کو ختم کر سکتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی شوکت نواز میر اور کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی تحریکوں کو کچلنے کی یہ پالیسیاں نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ خطے میں سیاسی بے چینی، عدم اعتماد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مزید بڑھاوا دیتی ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کلعدم قرار دے کر رہنماؤں کو گرفتار کرنا ، کشمیر کا محاصرہ کرنا اور عوامی تحریک کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش فسطائیت ہے۔ یہ اقدامات نفرت انگیزی کا باعث ہے، ریاست ہوش کے ناخن لے اور جبر کے بجائے مکالمے کا انتخاب کریں۔
فیس لیس ٹرائیل کے خلاف ہائی کورٹ میں جمع پٹیشن کی سماعت بغیر کسی جواز کے موخر کرنا اور دو ماہ بعد کی تاریخ دینا ہائی کورٹ کی جانبدارانہ رویے کے عندیہ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف جج مبین کا جارہانہ رویے اور فیس لیس ٹرائل کے خلاف تنظیم کے وکلاء ٹیم نے آئینی درخواست جمع کرائی تھی ، جس میں کیس کو فوری روکنے، جج محمد علی مبین کی تبدیلی اور مقدمے کو اوپن کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ آئینی درخواست 20 جون 2026 کو دائر کی گئی۔ ہفتہ کے روز ڈویژنل بینچ کی عدم دستیابی کے باعث یہ درخواست پیر، 22 جون 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہونا تھا۔
جب آئینی درخواست کی فائل اور فوری سماعت کی درخواست 22 جون 2026 کی کاز لسٹ میں مقرر کرنے کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش کی گئی، تو چیف جسٹس نے اسے ابتدائی سماعت (کچا پیشی) کے لیے مقرر کرنے کے بجائے، فوری سماعت کی درخواست عجلت میں یہ نوٹ لکھ کر مسترد کر دی کہ “سماعت میں کوئی ہنگامی ضرورت نہیں”، اور درخواست کو 29 جون 2026 کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
بعد ازاں، چیف جسٹس کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست مسترد کیے جانے کے صرف 30 منٹ کے اندر، انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کوئٹہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا، جس کے بعد کاز لسٹ بھی اپ لوڈ کر دی گئی۔
جون 29 کو جب دفاعی وکلاء آئینی درخواست کی سماعت کے لیے ہائی کورٹ پہنچے تو معلوم ہوا کہ درخواست کو کاز لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے اور اس کی سماعت دو ماہ بعد کے لیے تاریخ دی گئی ہے
فیس لیس ٹرائیل، جج کے جانبدارنہ رویے اور بغیر ملزمان کے جج کے کیسسز کو آگے بڑھانے کے روئیے کے خلاف بی وائی سی کے رہنماؤں نے آئینی درخواست جمع کراکر قانونی راستہ اختیار کیا، مگر درخواست پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے اسے طویل عرصے کے لیے مؤخر کر دینا انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔
اس تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ دو ماہ تک یہی متنازع جج بی وائی سی رہنماؤں کے دیگر مقدمات کی سماعت فیس لیس ٹرائل کے زریعے چلاتے رہیں گے، جبکہ ان کی غیر جانبداری خود عدالت میں چیلنج کی جا چکی ہے۔ یہ صورتحال اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ انصاف کی فراہمی کے بجائے ایک مخصوص نتیجہ حاصل کرنے کے لیے پورا عدالتی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔
جب ایک جانب جج کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہوں، دوسری جانب اسی جج کو مقدمات سننے کی مکمل آزادی دی جا رہی ہو، یہ تمام اقدامات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ ریاستی ادارے اور عدالتی ڈھانچہ مل کر بی وائی سی کی قیادت کو ہر قیمت پر سزائیں دلوانے اور سیاسی طور پر خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ بلوچستان میں سیاسی مزاحمت، انسانی حقوق کی جدوجہد اور عوامی نمائندہ آوازوں کے خلاف جاری ایک وسیع ریاستی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ یہ پورا عمل انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ جبر کو قانونی لبادہ پہنانے اور اختلافی سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
بی وائی سی کے رہنماؤں کے خلاف جاری کارروائیاں ریاست کی جمہوری قوتوں سے خوف کی عکاس ہیں، خوف اس حقیقت سے کہ بلوچستان کے عوام آج بی وائی سی کے نظم کے تلے پہلے سے زیادہ باشعور، منظم اور اپنے حقوق کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس عدالتی جبر کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام مزاحمتی میدانوں میں جدوجہد جاری رکھے گی اور بلوچستان میں قانون کے نام پر ہونے والی لاقانونیت کا پردہ پاش کرتی رہے گی۔ ہم انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی دنیا سے بلوچستان کی طرف توجہ کو ناگزیر سمجھتے ہے شفافیت اور احتساب کے لیے دنیا کو اس جبر پر سوال اٹھانا لازمی ہے۔
𝟯𝟬 𝗝𝘂𝗻𝗲 𝟮𝟬𝟮𝟲 – 𝗛𝘂𝗯 𝗖𝗵𝗼𝘄𝗸𝗶, 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻
Pamphleting and wall chalking campaigns were carried out across Bhawani, Jam Colony, Ameerabad, Lasi Road, and Charahi, Hub, Balochistan, to raise awareness about the life imprisonment sentences handed down to Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Jee Baloch.
Further, through these awareness activities, the life imprisonment sentences of the BYC leaders were highlighted. Participants also discussed the continued suppression of political voices in Balochistan and emphasized the importance of raising public awareness about human rights, justice, and accountability. They urged people to remain united, speak out against injustice, and support the peaceful demand for justice, fundamental rights, and the release of the detained BYC leadership.
#ReleaseBYCLeaders
#IStandWithBYCLeaders
28 جون بروز اتوار بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے لواحقین اور آل پارٹیز کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد پی ٹی ایم کے رہنما زبیر شاہ آغا کو پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے زبردستی حراست میں لے لیا، اور اب انہیں 3MPO کے تحت گرفتار ظاہر کیا گیا۔ یہ اقدام ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ریاست 3MPO جیسے کالے اور غیر جمہوری قوانین کو سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں اور ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کرنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
یہ حقیقت واضع ہے کہ 3MPO اب قانون سے زیادہ ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے پرامن سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو ریاست گرفتاریوں، دھمکیوں اور جبر کا سہارا لیتی ہے۔ ہر گرفتاری دراصل اس خوف کا اعتراف ہے جو طاقتور حلقے سچ بولنے والی آوازوں سے محسوس کرتے ہیں۔
زبیر شاہ آغا ایک پُرامن سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے ہمیشہ ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے اور محکوم اقوام کے حقوق، انصاف اور انسانی وقار کی جدوجہد میں مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی گرفتاری کسی جرم کی نہیں بلکہ ان کے سیاسی مؤقف اور حق گوئی کی سزا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زبیر شاہ آغا کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان کے بنیادی و آئینی حقوق کا احترام کیا جائے۔
𝟭𝟱-𝘆𝗲𝗮𝗿-𝗼𝗹𝗱 𝗦𝗮𝗶𝗳 𝗝𝗮𝗻 𝘄𝗮𝘀 𝗲𝘅𝘁𝗿𝗮𝗷𝘂𝗱𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗸𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗯𝘆 𝗱𝗲𝗮𝘁𝗵 𝘀𝗾𝘂𝗮𝗱𝘀 𝗶𝗻 𝗣𝗮𝗻𝗷𝗴𝘂𝗿 𝗮𝗳𝘁𝗲𝗿 𝘁𝗵𝗿𝗲𝗲 𝗺𝗼𝗻𝘁𝗵𝘀 𝗼𝗳 𝗲𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲 𝗱𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲.
𝙅𝙪𝙣𝙚 29, 2026 - 𝙋𝙖𝙣𝙟𝙜𝙪𝙧, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Saif Jan, son of Faiz Muhammad, was a student from Chitkan, Panjgur. He was forcibly disappeared during the month of Ramadan. After three months, on 29 June 2026, his dead body was dumped in Airport Road Panjgur.
The Baloch Yakjehti Committee (BYC) strongly condemns the enforced disappearance and extrajudicial killing of 15-year-old Saif Jan.
When the state sentences BYC leaders to life imprisonment without proving any crime, why does it never take action against those responsible for these killings?
The Baloch Yakjehti Committee appeals to international human rights organizations and the global community to take urgent action. The people of Balochistan continue to face severe oppression, and their voices must not be ignored.
#StopBalochGenocide
ایسا لگ رہا تھا جیسے دھواں آسمان سے نہیں، زمین سے اٹھ رہا ہو۔
لوگ جان بچانے کے لیے گلیوں اور سمندر کی طرف جا رہے تھے۔
اسٹیج سمیت دھرناہ گاہ کوہ روند دیا گیا۔
عورتوں کو گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈالا جا رہا تھا۔
زخمی سمندر کے پانی سے اپنے چہروں پر آنسو گیس کی جلن کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ دوسری طرف لوگوں کی موٹر سائیکلیں، گاڑیاں اور سامان آگ کی نذر کیا جا رہا تھا۔
ڈرون آسمان پر منڈلا رہے تھے۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا شہر ایک کھلی جیل میں بدل چکا ہے۔
رات گئے تک افراتفری جاری رہی۔
پھر گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
شیشے توڑے گئے، سامان تباہ کیا گیا، گاڑیاں جلائی گئیں، زیورات اور نقدی سمیت دیگر قیمتی اشیاء لوٹ رہے تھے، اور بی وائی سی کے کارکنوں کی تلاش میں گلی گلی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔
گوادر پوری رات سو نہ سکا۔
لوگ جاگتے رہے۔۔۔
تیسرے حملے کے انتظار میں۔۔۔
تیسرا حملہ
پانچ دن گزر چکے تھے۔
کرفیو، بھوک، پیاس، بند راستے، بجلی کی بندش اور مسلسل دباؤ۔۔۔
مذاکرات ہوتے، ٹوٹ جاتے، پھر شروع ہوتے۔
آخرکار ایک بار پھر طاقت کا استعمال کیا گیا۔
ایف سی کی گاڑیاں آئیں، شیلنگ ہوئی، لوگوں کو منتشر کیا گیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
مگر احتجاج ختم نہ ہوا۔
دسویں روز مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی۔ چند مطالبات تسلیم کیے گئے، گرفتار افراد رہا ہوئے اور راستے کھول دیے گئے۔
اس کے بعد راجی مُچی اختتام کو پہنچی، مگر اس کی داستان ختم نہ ہوئی۔
بی وائی سی گوادر سے روانہ ہوئی اور ایک مارچ کی صورت میں ان علاقوں کا رخ کیا جہاں لوگوں کی جانیں گئی تھیں، تاکہ ان کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے اور بلوچ عوام تک ان واقعات کی گواہی پہنچائی جا سکے۔
آج بھی جب شام کے وقت سمندر کنارے کھڑا ہوتا ہوں تو لہریں پہلے جیسی ہی دکھائی دیتی ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان کی آواز میں مجھے پانی کی گونج نہیں سنائی دیتی۔
مجھے ان میں چیخیں سنائی دیتی ہیں۔
وہ خون دکھائی دیتا ہے جو انہی سڑکوں پر بہا تھا۔
اور وہ لوگ یاد آتے ہیں جو اس زمین پر زندہ رہنے کی مانگ لے کر آئے تھے مگر وہ خود بے جان لاش بن کر لوٹے، جن کی یادیں آج بھی گوادر کی ہوا، اس کے ساحل اور اس کی لہروں میں زندہ ہیں۔
گوادر میں کیا ہوا؟
انسانی ذہن بھی عجیب شے ہے۔ جن یادوں کو سینے سے لگانا چاہو، وہ دھند میں گم ہو جاتی ہیں، اور جنہیں دفنانا چاہو، وہ ہر رات قبر سے نکل کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ گوادر کی راجی مُچی بھی میری یادوں میں ایسا ہی ایک زخم ہے کہ جس پر وقت کبھی مرہم نہیں رکھ پایا۔
ہم گوادر کے لوگ سمندر کے پالے ہوئے پرزند ہیں۔ ہماری صبحیں جال سمیٹتے اور شامیں انہیں سمندر کے سپرد کرتے گزرتی ہیں۔ اپنی چھوٹی سی کشتی “یکدار” پر بیٹھے ہم نے بھی کبھی ترقی کے خواب دیکھے تھے۔ ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ گوادر بدلے گا، ہماری زندگیاں بدلیں گی، ہمارے بچوں کا مستقبل بدلے گا۔ لیکن بدلنے والی چیز صرف یہ تھی کہ ہمارے اپنے گھر، ہماری زمینیں اور ہمارا سکون ہم سے چھن گیا۔
جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی نے احتجاج کا اعلان کیا تو شاید پہلی بار محسوس ہوا کہ خاموشی کو آواز مل گئی ہے۔
ہم ہر شام سمندر میں جال ڈالنے نکلتے ہیں تاکہ اگلی صبح رزق لے کر لوٹیں، مگر اس شام ہم نے سمندر کا رخ نہیں کیا۔ اس روز ہمارا رزق مچھلیاں نہیں، بلکہ اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا تھا۔
موبائل نیٹورکس انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع پہلے ہی بند کیے جا چکے تھے۔ اب ایک ہی آواز باقی تھی، مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کی، جن سے لوگوں کو راجی مُچی میں شرکت کی دعوت دی جا رہی تھی۔
27 جولائی — پہلا حملہ
صبح ہم سید ظہور شاہ ہاشمی چوک کی طرف روانہ ہوئے۔
گلی سے نکلے تو یوں محسوس ہوا جیسے پورا گوادر گھروں سے نکل آیا ہو۔ پدی زر کی سڑک انسانوں سے بھری ہوئی تھی۔ بوڑھے، نوجوان، عورتیں، بچے۔۔۔ ہر طرف چہروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سمندر کے کنارے ایک اور سمندر اُتر آیا ہے، مگر اس بار پانی کا نہیں، انسانوں کا کہ جسکی لہروں میں حق کی للقار تھی، امید کی کرنیں تھیں، اپنے ہی سرزمین پر چین سے سانس لینے کے خواب تھے۔
سڑک پر جگہ جگہ گھڑے کھود دیے گئے تھے، رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں، لیکن لوگوں کے قدم نہیں رکے۔ ہر لمحہ ایک نیا قافلہ آ رہا تھا۔
دوپہر کے قریب ہم کسی طرح سید ظہور شاہ ہاشمی چوک پہنچے۔ بی وائی سی کی قیادت ابھی نہیں پہنچی تھی کہ اچانک سامنے فوجی گاڑیاں نمودار ہوئیں۔ چند لمحوں میں ایف سی اور آرمی کی کئی گاڑیاں چوک کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔
لوگ نعرے لگا رہے تھے۔
“تم ماروگے ، ہم نکلیں گے”
مظلوم کی یہ للقار، جزبہِ مزاحمت، حاکمِ وقت کو گران گزری، اور عیں تاریخی روایت کے مطابق ظالم اپنے بے بسی کا اظہار تشدد کی صورت میں کرنے لگا۔
پھر اچانک فضا بدل گئی۔
آنسو گیس کے شیل فضا میں بلند ہوئے، اور ان کے فوراً بعد گولیوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
پہلے پہل ہمیں لگا شاید صرف منتشر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اگلے ہی لمحے میرے برابر کھڑا ایک نوجوان لڑکھڑایا اور میرے قدموں میں آ گرا۔
میں چند لمحوں تک ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
اس کے سینے میں دو گولیاں پیوست تھیں۔ خون سڑک پر بہہ رہا تھا۔
چند قدم کے فاصلے پر ایک اور شخص بازو میں گولی لگنے کے بعد تڑپ رہا تھا۔ اس کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کی آواز آج بھی میرے کانوں میں زندہ ہے۔
ہر طرف بھگدڑ تھی۔
عورتوں کی چیخیں، بچوں کا رونا، لوگوں کی دوڑتی ہوئی آہٹیں۔۔۔
میں اسے اٹھانا چاہتا تھا، مگر پیچھے سے آتے ہوئے لوگوں کے ہجوم نے مجھے بھی اپنے ساتھ بہا دیا۔
جب شیلنگ کچھ دیر کے لیے رکی تو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہاں بھی فوج نے قبضہ کر لیا تھا۔ نہ کسی کو زخمیوں سے ملنے دیا گیا، نہ ان کی حالت کے بارے میں کوئی اطلاع دی گئی۔
مگر خوف کے باوجود لوگ واپس آئے۔
جو منتشر ہوئے تھے، وہ دوبارہ جمع ہو گئے۔
بی وائی سی کے رہنما بھی پہنچ چکے تھے۔ اسٹیج بنایا گیا، کیمپ قائم ہوا،
نعرے اُسی جوش و جزبہِ مزاحمت کے کیساتھ بلند ہوئے؛
“گوادر نہ رؤت، تئی واب شُتگ”
اور ڈاکٹر ماہ رنگ نے لوگوں سے خطاب شروع کیا۔
انہوں نے کہا:
“آج ہم گوادر کے مہمان ہیں”
یہ جملہ ختم ہوا ہی تھا کہ لوگ خاموشی سے اپنے گھروں کی طرف چل پڑے۔
کوئی پانی لینے جا رہا تھا، کوئی کھانا، کوئی چٹائیاں اور کوئی برتن۔۔۔
اس لمحے گوادر نے ثابت کیا کہ احتجاج صرف نعروں سے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بن کر بھی کیا جاتا ہے۔
رات تقریباً آٹھ بجے اچانک شور بلند ہوا:
“پکڑو! پکڑو!”
لوگوں نے ایک مشکوک شخص کو پکڑ لیا۔ اس کے قبضے سے واکی ٹاکی، دو موبائل فون اور ایک پستول برآمد ہوا۔ بعد میں اس کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں اس نے اپنے بارے میں اعترافات کیے کہ ریاستی انٹلیجنس اداروں نے ڈاکٹر ماہ رنگ کو “قتل” کرنے کی ٹاسک دی ہے۔
دوسرا حملہ
رات گئے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔
اگلی صبح فوجی گاڑیاں ایک مرتبہ پھر راجی مُچی کی طرف بڑھنے لگیں۔
لوگوں نے چادریں باندھ کر راستہ روکنے کی کوشش کی، مگر تیز رفتار گاڑیوں نے سب کچھ روند ڈالا۔
پھر شیلنگ شروع ہوئی۔
کوئٹہ میں بشیر چوک اور کرانی روڈ پر رات 9 بجے تک جاری دھرنا خواتین مظاہرین کے رہائی کے بعد ختم کر دیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
آج بلوچستان کے شہر کوئٹہ، سریاب روڈ برما ہوٹل کے مقام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے اہلخانہ کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پُرامن احتجاج ریکارڈ کیا گیا، جس میں بی وائی سی کی قیادت کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھاری تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی، جس دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس اقدام کے ردعمل میں پُرامن احتجاج کو کوئٹہ کے مختلف مقامات پر دھرنوں کی صورت میں توسیع دیا گیا۔
بعد ازاں گرفتار کیے گئے چند مظاہرین کو رہا کر دیا گیا، تاہم کچھ راہ گیروں کو بھی پولیس نے حراست میں لیاگیا تھا جو اب بھی بغیر کسی جرم کے قید ہے جنہیں کل رہا کرنے کی یقین دہانی کی گئی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں موجود سول انتظامی نظام کو عملی طور پر عسکری طرزِ انتظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں ایک پُرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بھی برداشت نہیں کیا جارہا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ انسانی حقوق، انصاف اور جبر کے خلاف اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ہم تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائیل کے خاتمے اور غیر منصفانہ سزا کے موخری تک مسلسل آواز بلند کرتے رہینگے۔ تمام شہریوں، سیاسی و سماجی قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں بنیادی حقوق کی پامالیوں اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر عائد قدغنوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
𝗘𝗻𝗱 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲𝘀!
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
کل رات گئے کر اچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ کے گھر پر پولیس و خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے چھاپا مارا۔ چھاپے کے دوران ان کے گھر کے دروازے توڑے گئے، گھر میں تھوڑ پھوڑ کی گئی گھر میں موجود تمام قیمتی سامان چوری کرلیا گیا، کتابیں ضبط کی گئیں اور اہلِ محلہ کو ہراساں کیا گیا۔
سمی دین بلوچ ایک جبری گمشدگیوں سے متاثرہ خاندان ہونے کے ساتھ جمہوری سیاسی کارکن ہیں اور ان کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کے خالی گھر پر اس نوعیت کی کارروائیوں کا مقصد انہیں خوفزدہ کرنا، دباؤ میں لانا اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
ہم سمجھتے ہے کہ یہ کارروائی صرف سمی دین بلوچ کے خلاف نہیں، بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پوری قیادت کے خلاف جاری وسیع ریاستی جبری اقدامات کا تسلسل ہے۔ بی وائی سی کے رہنماؤں کو مسلسل گرفتاریوں، چھاپوں، ہراسانی اور مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ان آوازوں کو خاموش کرنا ہے جنہوں نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
سمی دین بلوچ گزشتہ سترہ برسوں سے اپنے جبری گمشدہ والد، ڈاکٹر دین محمد بلوچ، کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے والد بلکہ تمام جبری لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے لیے امید، استقامت اور مزاحمت کی ایک علامت بن چکی ہیں۔
سترہ برس کی جدوجہد نے انہیں خاموش ہونا نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا سکھایا ہے۔یہ کارروائیاں شاید خوف پھیلانے کے لیے ہوں، مگر سمی دین بلوچ اُن افراد میں سے ہیں جنہوں نے صرف خوف کے سائے میں جینا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہتھکنڈے محض ریاست کے ان عزائم کا عیاں کرتی ہے جو وہ بلوچ نسل کشی کے لیے طے کرچکا ہے۔
ایسے اقدامات شہری آزادیوں، نجی زندگی کے تقدس اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں، جن کا جواب متعلقہ حکام پر لازم ہے
Уже доступно! Исследование Telegram 2025 — ключевые инсайты года 
