Baloch Yakjehti Committee
Открыть в Telegram
2 923
Подписчики
-424 часа
-77 дней
+830 день
Архив постов
نذر مری کی ایک سالہ جبری گمشدگی خاموشی نہیں، انصاف کا سوال ہے۔
نذر مری کی گمشدگی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر ایک سال کی خاموشی اس سوال کو ختم نہیں کر سکی کہ ایک پرامن سیاسی کارکن کو آخر کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ نذر مری ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اپنے لوگوں کے دکھ، محرومی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ مگر اس کی آواز کو دبانے کے لیے اسے گمشدگی کے اندھیرے میں دھکیل دیا گیا۔
نذر مری صرف ایک نام نہیں، بلکہ اس آواز کی علامت ہے جو ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے سامنے خاموش ہونے سے انکار کرتی ہے۔ وہ ایک پرامن بلوچ سیاسی کارکن ہے جس نے اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کے لیے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ مگر 27 اگست 2025 کو کوئٹہ کے گولیمار چوک سے اس کی جبری گمشدگی کو ایک سال گزر چکا ہے، اور اس طویل عرصے کے باوجود نذر مری کے مقام، حالت اور سلامتی کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
نذر مری کی گمشدگی محض ایک فرد کو اس کے خاندان سے جدا کرنے کا واقعہ نہیں، یہ انسانی حقوق کی پامالی، آزادیِ اظہار پر حملہ اور سیاسی اختلاف کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایک ایسے شخص کو غائب کر دینا جو پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتا ہو، اس کے خاندان کو طویل انتظار اور بے یقینی میں مبتلا رکھنا اور اس کے بارے میں کوئی واضح جواب نہ دینا انسانی حقوق اور انسانی وقار کی کھلی توہین ہے۔
مگر نذر مری کی جدوجہد محض اس کی ذات تک محدود نہیں۔ یہ اس بنیادی اصول کی جدوجہد ہے کہ ہر انسان کو اپنی بات کہنے، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کا حق حاصل ہے۔ خوف، جبر اور جبری گمشدگیاں کسی شعور کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جس سیاسی شعور سے خوفزدہ ہو کر لوگوں کو غائب کیا جاتا ہے، اسے دبانے کے بجائے اس کے وجود کو سمجھنے اور اس کے ساتھ مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر پرامن سیاست کو خطرہ سمجھ کر سیاسی کارکنوں کی آوازیں خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور مکالمے کے تمام راستے بند کیے جاتے رہے تو اس کے نتائج نہ صرف مزید بے یقینی اور کشیدگی کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ ان حالات کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوگی جو پرامن سیاسی اظہار کے راستے محدود کر رہی ہیں۔
نذر مری کی آزادی صرف ایک فرد کی آزادی کا مطالبہ نہیں، بلکہ انسانی وقار، سیاسی آزادی، آزادیِ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ ہے۔
#ReleaseNazarMarri
#EndEnforcedDisappearances
𝗦𝗮𝗿𝗱𝗶𝗹 𝗦𝗵𝗲𝗿𝗸𝗵𝗮𝗻 𝗘𝘅𝘁𝗿𝗮𝗷𝘂𝗱𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗞𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗮𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗺𝗼𝗻𝘁𝗵𝘀 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 𝗯𝘆 𝗠𝗜 𝗶𝗻 𝗣𝗮𝘀𝗻𝗶
𝗠𝗮𝘆 𝟯𝟬, 𝟮𝟬𝟮𝟲 — 𝗦𝗵𝗮𝗱𝗶-𝗞𝗮𝘂𝗿, 𝗣𝗮𝘀𝗻𝗶, 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻
Sardil Sherkhan, a resident of Shadi-Kaur in Pasni, was forcibly disappeared on 22 November 2025, by Pakistan’s military intelligence (MI). He remained missing for approximately six months, during which his family had no information about his whereabouts and continued to wait for his return.
On 30 May 2026, Sardil’s family received devastating news: his body was found dumped in a remote area. After six months of uncertainty and waiting, the family was left to mourn a loved one whose life had been taken, while many questions about his disappearance and death remain unanswered.
A family that spent months waiting for a knock on the door and hoping to see their son return home instead received his dead body. Their grief is compounded by the absence of answers and accountability.
Balochistan continues to face enforced disappearances, extrajudicial killings, target killings, and deaths in fake encounters. Families across the region continue to demand information about their missing loved ones, accountability for those responsible, and justice for those who have been killed.
The case of Sardil Sherkhan must not be ignored. Independent and credible investigations are needed to establish the circumstances surrounding his disappearance, detention, and death, and to ensure that those responsible are held accountable.
International human rights organisations and independent observers must pay greater attention to the situation in Balochistan. They should investigate enforced disappearances and extrajudicial killings, document victims’ cases, and ensure that the voices of affected families are heard.
Balochistan is witnessing a continuing human rights crisis. The world must not remain silent. Families deserve truth, justice, and accountability.
#StopBalochGenocide
𝗦𝗔𝗠𝗠𝗜 𝗗𝗘𝗘𝗡 𝗕𝗔𝗟𝗢𝗖𝗛 𝗔𝗣𝗣𝗘𝗔𝗟𝗦 𝗧𝗢 𝗕𝗔𝗟𝗢𝗖𝗛 𝗙𝗔𝗠𝗜𝗟𝗜𝗘𝗦 𝗔𝗛𝗘𝗔𝗗 𝗢𝗙 𝗜𝗡𝗧𝗘𝗥𝗡𝗔𝗧𝗜𝗢𝗡𝗔𝗟 𝗗𝗔𝗬 𝗢𝗙 𝗧𝗛𝗘 𝗗𝗜𝗦𝗔𝗣𝗣𝗘𝗔𝗥𝗘𝗗
Sammi Deen Baloch, The Central Member of BYC, has appealed to families of victims of enforced disappearances to raise their voices on 30 August, the International Day of the Disappeared.
Highlighting the case of Nazar Marri, a Baloch youth, student and BYC member who has completed one year in enforced disappearance, Sami questioned the continued silence over his whereabouts and condition. The Commission has disposed of his case, claiming that his brother was responsible, while his family remains unaware of any such development.
He also highlighted how families face closed doors: cases are not properly registered, FIRs are denied, and hundreds of cases are disposed of without satisfactory answers.
When even the Commission fails to provide justice, where should families go?
On 30 August, BYC will launch a media campaign to highlight enforced disappearances in Balochistan. Sami has urged victim families to record and share their stories and called on everyone to raise their voices, highlight these cases, and bring them before the world.
نظر مری اُن سیاسی جہدکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی زندگی پُرامن سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کی۔ نظر مری کا خاصہ یہی رہا ہے کہ انہوں نے ہر مشکل حالات میں تنظیم اور بالخصوص بلوچ قوم کے لیے ثابت قدمی سے کھڑے رہے۔ لیکن بدقسمتی سے دیگر سیاسی اسیران کی طرح نظر مری کو بھی زندانوں میں مقید کیا گیا۔ تاہم، زندانیں نظر مری جیسے نوجوانوں کے لیے حقیر ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ اب تک کوئی ایسا عقوبت خانہ قائم نہیں کیا جا سکا جہاں نظریات کو شکست دی جا سکے۔
#ReleaseNizarMarri
#EndEnforcedDisappearances
𝗡𝗮𝘇𝗮𝗿 𝗠𝗮𝗿𝗿𝗶 𝗙𝗼𝗿𝗰𝗶𝗯𝗹𝘆 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗲𝗱 𝗼𝗻 𝗔𝘂𝗴𝘂𝘀𝘁 𝟮𝟳, 𝟮𝟬𝟮𝟱
Standing for human rights is not a crime. It is the responsibility of every person who believes in humanity.
#ReleaseNizarMarri
#EndEnforcedDisappearances
𝗢𝗻𝗲 𝗬𝗲𝗮𝗿 𝗪𝗶𝘁𝗵𝗼𝘂𝘁 𝗡𝗮𝘇𝗮𝗿 𝗠𝗮𝗿𝗿𝗶 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵
One year has passed, but Nazar Marri Baloch has still not been released.
For one year, his family has waited for their son, they have lived with silence, uncertainty, and unanswered questions.
They have not even been properly informed about what happened to Nazar or where he is being kept.
Every day, a family waits for the sound of the door opening, hoping their son will return home. But they never returned, and Nazar is still missing.
One year of enforced disappearance.
One year of waiting.
One year without answers.
Where is Nazar Marri Baloch?
#ReleaseNazarMarri
#EndEnforcedDisappearances
سیاست جرم نہیں، سیاسی شعور جرم نہیں، اپنی شناخت کے ساتھ جینا اور اپنے لوگوں کے حق میں آواز اٹھانا جرم نہیں۔
جرم یہ ہے کہ کسی انسان کو قانون کے دائرے سے باہر لے جا کر جبری گمشدگی کا شکار بنا دیا جائے۔
27 اگست 2025 کو کوئٹہ کے گولیمار چوک پر واقع بلال کیفے سے نذر مری کو CTD اور خفیہ اداروں کی اہلکاروں نے جبری طور پر اٹھا لیا۔ اس دن کے بعد سے نذر مری کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہیں آ سکیں اور اس کے اہلِ خانہ آج تک اس کے بارے میں جواب کے منتظر ہیں۔
نذر مری کون ہے؟
نذر مری کوئی مجرم نہیں، بلکہ ایک کمٹڈ بلوچ سیاسی کارکن ہے جو پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے سیاسی شعور اور وابستگی کے ذریعے اپنے لوگوں کے خلاف ہونے والے جبر، ظلم اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے۔ دباؤ، ہراسانی اور ذہنی اذیت جیسے حالات کے باوجود اپنے سیاسی مؤقف پر ثابت قدم رہنا اس کے عزم اور مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے۔
نذر مری کا جرم کیا ہے؟
اس ریاستی نظام میں بلوچ کے لیے سیاست کرنا، اپنے لوگوں کے حقوق کی بات کرنا اور اپنی سیاسی و قومی شناخت کے ساتھ کھڑا ہونا ہی جرم بنا دیا گیا ہے۔ہزاروں بلوچ سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو اسی سیاسی شعور اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں قتل کیا گیا یا جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اور یہ سلسلہ آج بھی شدت کے ساتھ جاری ہے۔
نذر مری کا معاملہ بھی اسی وسیع تر جبر کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کسی پرامن سیاسی کارکن کو اس کے سیاسی نظریات یا شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ریاست کے پاس سیاسی شعور اور دلیل کا جواب دینے کے لیے کوئی دلیل نہیں، اسی لیے طاقت اور جبر کا سہارا لے کر پرامن سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے جبری گمشدگی جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔
#ReleaseNazarMarri
#EndEnforcedDisappearances
شادی کور کی آبادی کی جبری بے دخلی بلوچوں کی زمین اور بقا پر ریاستی حملہ ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی
پسنی کے علاقے شادی کور میں بلوچ آبادی کو ان کی اپنی زمین سے بے دخل کرنا بلوچ قوم کی بقا پر حملہ ہے۔ 11 اور 12 جولائی کو تقریباً پانچ ہزار افراد کو اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، جو بلوچستان میں پاکستانی جبر کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
5 مئی کو پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے ایم آئی کے اہلکاروں نے شادی کور کے لوگوں کو ایک مقام پر جمع کرکے بڑی تعداد میں مردوں کو حراست میں لیا اور انہیں تشدد اور تذلیل آمیز سلوک کا نشانہ بنایا۔ اس دوران تقریباً 40 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرکے شادی کور ڈیم میں قائم فوجی کیمپ منتقل کیا گیا۔ ان میں سے بعض افراد کو بعد ازاں رہا کردیا گیا، جبکہ متعدد افراد کو پسنی اور گوادر سمیت مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔ جو تاحال لاپتہ ہیں۔
اسی دوران لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں اور خوراک سمیت دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی پر پابندی نے شادی کور کی پوری آبادی کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔ پسنی سے اپنے گھروں کے لیے راشن لے کر واپس آنے والے لوگوں کو گبڈی چیک پوسٹ پر روک کر واپس بھیج دیا گیا، جبکہ راستوں کی بندش کے باعث عام آبادی کو خوراک اور دیگر ضروری اشیا کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پوری آبادی کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھنا اور اسے اجتماعی سزا کا نشانہ بنانا ریاستی جبر کی انتہائی سنگین صورت ہے۔
اسی جبر کے دوران سردل ولد شیر خان، جو تقریباً سات ماہ قبل ایم آئی کے اہلکاروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے، عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز قتل کردیے گئے اور ان کی مسخ شدہ لاش پسنی کے علاقے چُر کراس پر پھینک دی گئی۔ ان کے ساتھ لاپتہ کیے گئے حاطر ولد لغاری کو بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ ایک جانب لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے اور دوسری جانب پوری آبادی کی نقل و حرکت اور روزمرہ زندگی کو محدود کیا جارہا ہے۔
9 اور 10 جولائی کو پاکستانی فوج نے مقامی لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات دیے۔ انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے علاقہ خالی نہ کیا تو ان کے گھروں کو بھی جلا کر راکھ کردیا جائے گا۔ اس دھمکی کے بعد 11 اور 12 جولائی کو تقریباً پانچ ہزار افراد اپنے گھر، کھیت اور ذرائعِ روزگار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ آج متعدد خاندان پسنی، اورماڑہ، تربت اور دیگر علاقوں میں عارضی خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
شادی کور کا واقعہ بلوچ نسل کشی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ گھروں کو مسمار کرنا، لوگوں کو ان کی زمینوں سے محروم کرنا، ان کے ذرائعِ روزگار چھیننا اور پھر خوف اور خاموشی مسلط کرنا جبر کی وہ صورتیں ہیں جن کے ذریعے ریاست پوری بلوچ قوم کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچوں کو ان کی اپنی ہی زمین پر بے گھر کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری بے لگام ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، شہریوں کی حراست، نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور جبری بے دخلی کا فوری نوٹس لیں۔ شادی کور کے بے گھر خاندانوں کو اپنے گھروں اور زمینوں پر محفوظ اور باعزت واپسی کا حق دیا جائے اور جبری بے دخلی، خوف و ہراس اور ریاستی جبر پر مبنی اس پورے عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔
𝗕𝗬𝗖 𝗔𝗡𝗡𝗢𝗨𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗙𝗨𝗟𝗟-𝗗𝗔𝗬 𝗦𝗢𝗖𝗜𝗔𝗟 𝗠𝗘𝗗𝗜𝗔 𝗖𝗔𝗠𝗣𝗔𝗜𝗚𝗡 𝗙𝗢𝗥 𝗡𝗔𝗭𝗔𝗥 𝗠𝗔𝗥𝗥𝗜
Tomorrow marks one year since Nazar Marri was subjected to enforced disappearance and state violence.
To mark the completion of one year, Baloch Yakjehti Committee (BYC) is launching a full-day social media campaign to break the silence surrounding Nazar Marri’s case and bring his story, suffering, and unwavering resistance to the world.
We call on everyone to join the campaign, raise their voices, share his story, and demand an end to enforced disappearances and state repression.
Date: 27 August
#ReleaseNazarMarri
#EndEnforcedDisappearances
𝗠𝗶𝘁𝗵𝗮 𝗞𝗵𝗮𝗻, 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗰𝗮𝗹 𝗦𝘁𝘂𝗱𝗲𝗻𝘁, 𝗞𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗮𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 𝗯𝘆 𝗖𝗧𝗗 𝗮𝗻𝗱 𝗙𝗖 𝗶𝗻 𝗠𝗮𝗰𝗵.
𝘼𝙪𝙜𝙪𝙨𝙩 24, 2026 — 𝙈𝙖𝙘𝙝, 𝘽𝙤𝙡𝙖𝙣, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Mitha Khan, son of Nawab Khan and a student at Bolan Medical College, was forcibly disappeared from Mach along with his brother, Hafiz Muhammad Waqas. Both brothers were taken by CTD and killed on the same day. Their bodies were found on 24 August 2026.
Two brothers were taken together, and neither was allowed to return home alive. For their mother, the loss is unimaginable. The sons she raised, protected, and dreamed of seeing build their futures were taken away from her at once. She is now left to mourn two children instead of welcoming them home. No mother should ever have to endure the pain of losing two sons in such circumstances. Mitha Khan was a medical student with a future ahead of him. He had dreams, and hopes. His future was brutally cut short.
Balochistan continues to face a grave human rights crisis. Enforced disappearances, torture, harassment, killings, and attacks continue across the region, while security forces operate with no regard for civilian lives and fundamental rights. The case of Mitha Khan and Hafiz Muhammad Waqas shows the devastating consequences of this unchecked power.
The security forces in Pakistan must not be above the law. No authority has the right to take people away, deprive them of due process, and return them to their families as dead bodies. Every person has the right to life, dignity, and justice.
And while Baloch families continue to bury their sons, the world remains largely silent. The international community cannot continue to look away while enforced disappearances and extrajudicial killings become a recurring reality in Balochistan.
#StopBalochGenocide
