ar
Feedback
⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

الذهاب إلى القناة على Telegram

Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights. AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1 https://twitter.com/AIMPLB_Official https://www.youtube.com/AIMPLB_Official http://fb.me/AIMPLB.Official Wtsp:8788657771

إظهار المزيد

📈 نظرة تحليلية على قناة تيليجرام ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

تُعد قناة ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖ (@aimplb_official) في القطاع اللغوي الأردو لاعباً نشطاً. يضم المجتمع حالياً 26 455 مشتركاً، محتلاً المرتبة 2 750 في فئة الدين والقيم الروحية والمرتبة 15 380 في منطقة الهند.

📊 مؤشرات الجمهور والحراك

منذ تأسيسه في невідомо، حقق المشروع نمواً سريعاً وجمع 26 455 مشتركاً.

بحسب آخر البيانات بتاريخ 03 سبتمبر, 2026، تحافظ القناة على نشاط مستقر. خلال آخر 30 يوماً تغيّر عدد الأعضاء بمقدار -171، وفي آخر 24 ساعة بمقدار 3، مع بقاء الوصول العام مرتفعاً.

  • حالة التحقق: موثّقة (مؤكدة رسمياً من تيليجرام)
  • معدل التفاعل (ER): يبلغ متوسط تفاعل الجمهور 29.46‎%. وخلال أول 24 ساعة من النشر يحصد المحتوى عادةً 4.73‎% من ردود الفعل نسبةً إلى إجمالي المشتركين.
  • وصول المنشورات: يحصل كل منشور على متوسط 7 795 مشاهدة. وخلال اليوم الأول يجمع عادةً 1 251 مشاهدة.
  • التفاعلات والاستجابة: يتفاعل الجمهور بانتظام؛ متوسط التفاعلات لكل منشور يبلغ 27.

📝 الوصف وسياسة المحتوى

يصف المؤلف القناة بأنها مساحة للتعبير عن الآراء الذاتية:
Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights. AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1 https://twitter.com/AIMPLB_Official https://www.youtube.com/AIMPLB_Official http://fb.me/AIMPLB.Official Wtsp:8788657771

بفضل وتيرة التحديث المرتفعة (أحدث البيانات بتاريخ 04 سبتمبر, 2026) تحافظ القناة على حداثتها ومستوى وصول مرتفع. وتُظهر التحليلات تفاعلاً نشطاً من الجمهور، ما يجعلها نقطة تأثير مهمة ضمن فئة الدين والقيم الروحية.

26 455
المشتركون
+324 ساعات
-417 أيام
-17130 أيام

جاري تحميل البيانات...

سحابة العلامات
لا توجد بيانات
هل تواجه مشاكل؟ يرجى تحديث الصفحة أو الاتصال بمدير الدعم الخاص بنا.
الإشارات الواردة والصادرة
---
---
---
---
---
---
جذب المشتركين
سبتمبر '26
سبتمبر '26
+5
في 0 قنوات
أغسطس '26
+87
في 3 قنوات
Get PRO
يوليو '26
+87
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '26
+52
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '26
+64
في 3 قنوات
Get PRO
أبريل '26
+139
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '26
+13
في 4 قنوات
Get PRO
فبراير '26
+139
في 3 قنوات
Get PRO
يناير '26
+88
في 2 قنوات
Get PRO
ديسمبر '25
+104
في 3 قنوات
Get PRO
نوفمبر '25
+61
في 3 قنوات
Get PRO
أكتوبر '25
+104
في 3 قنوات
Get PRO
سبتمبر '25
+86
في 3 قنوات
Get PRO
أغسطس '25
+146
في 2 قنوات
Get PRO
يوليو '25
+47
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '25
+80
في 3 قنوات
Get PRO
مايو '25
+103
في 3 قنوات
Get PRO
أبريل '25
+558
في 4 قنوات
Get PRO
مارس '25
+291
في 4 قنوات
Get PRO
فبراير '25
+116
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '25
+121
في 3 قنوات
Get PRO
ديسمبر '24
+182
في 1 قنوات
Get PRO
نوفمبر '24
+188
في 2 قنوات
Get PRO
أكتوبر '24
+327
في 3 قنوات
Get PRO
سبتمبر '24
+1 516
في 6 قنوات
Get PRO
أغسطس '24
+582
في 5 قنوات
Get PRO
يوليو '24
+158
في 2 قنوات
Get PRO
يونيو '24
+152
في 5 قنوات
Get PRO
مايو '24
+404
في 4 قنوات
Get PRO
أبريل '24
+321
في 5 قنوات
Get PRO
مارس '24
+536
في 4 قنوات
Get PRO
فبراير '24
+388
في 4 قنوات
Get PRO
يناير '24
+495
في 3 قنوات
Get PRO
ديسمبر '23
+343
في 2 قنوات
Get PRO
نوفمبر '23
+542
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '23
+618
في 1 قنوات
Get PRO
سبتمبر '23
+413
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '23
+678
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '23
+1 466
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '23
+633
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '23
+482
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '23
+650
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '23
+780
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '23
+492
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '23
+587
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '22
+544
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '22
+438
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '22
+437
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '22
+563
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '22
+409
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '22
+566
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '22
+909
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '22
+1 869
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '22
+370
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '22
+492
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '22
+934
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '22
+771
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '21
+720
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '21
+621
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '21
+704
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '21
+794
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '21
+1 163
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '21
+938
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '21
+796
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '21
+880
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '21
+1 045
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '21
+1 128
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '21
+1 371
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '21
+1 692
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '20
+8 555
في 0 قنوات
التاريخ
نمو المشتركين
الإشارات
القنوات
04 سبتمبر0
03 سبتمبر+5
02 سبتمبر0
01 سبتمبر0
منشورات القناة
*📢 ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के "संविधान और शरीयत संरक्षण आंदोलन" के उद्देश्य क्या हैं? यह क्यों जरूरी है और इसकी कार्ययोजना (Action Plan) क्या होगी?* ​📌 पूरी जानकारी के लिए 👇इन पोस्टर्स को देखें और इस लोकतांत्रिक संघर्ष का हिस्सा बनें! ​#AIMPLB #SaveConstitution #SaveSharia #संविधान_और_शरीयत_संरक्षण_आंदोलन

2
+2
لا يوجد نص...
710
3
*📢 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی* ❓*”تحریک تحفظِ دستور و شریعت“ کے مقاصد کیا ہیں؟* ❓*یہ کیوں ضروری ہے؟* اور ❓*اس کا لائحہ عمل (Action Plan) کیا ہوگا؟* ​📌 تفصیلات 👇 ان پوسٹرز میں دیکھیں اور اس جمہوری جدوجہد کا حصہ بنیں! ​#AIMPLB #SaveConstitution #SaveSharia #تحریک_تحفظ_دستور_و_شریعت
668
4
+2
لا يوجد نص...
658
5
Khitab e juma 04 September 2026.pdf
2 159
6
لا يوجد نص...
3 326
7
Press Statement Urdu_31-08-2026.pdf
3 191
8
5۔ چارٹر آف ڈیمانڈ (Charter of Demands) ہر ریاست میں گورنر اور ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدرِ جمہوریہ ہند کو ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا، جس میں آئینی حقوق کے تحفظ، نفرت انگیز جرائم کے خاتمے، مذہبی آزادی، غیر قانونی انہدام کی روک تھام، اوقافی املاک اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور قانون کی مساوی عملداری سے متعلق مطالبات شامل ہوں گے۔ 6۔ میڈیا اور سوشل میڈیا مہم تحریک کے ہر مرحلے پر پریس کانفرنسوں، میڈیا بریفنگ، ویڈیو ڈاکومنٹیشن، سوشل میڈیا مہمات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس (X)، پر مربوط ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔ 7۔ دہلی میں عظیم الشان قومی اجتماع تحریک کے ایک اہم مرحلے پر نئی دہلی میں ایک بڑا عوامی اجتماع و احتجاج منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے مختلف طبقات، مذاہب اور مکاتبِ فکر کے نمائندوں کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اجتماع میں تحریک کے آئندہ مرحلے کے لائحۂ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ 📣 ہماری اپیل تحریک برائے تحفظِ ملک و ملت کسی ایک طبقے یا برادری کی تحریک نہیں، بلکہ ہندوستان کے دستور، جمہوریت کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی یکجہتی اور امن و اخوت کے تحفظ کی مشترکہ قومی جدوجہد ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ انصاف، محبت، مکالمہ، باہمی احترام اور آئینی جدوجہد ہی ہندوستان کے روشن، مضبوط اور پرامن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہیں۔ اسی یقین کے ساتھ ہم ملک کے ہر انصاف پسند، جمہوریت پسند اور امن پسند شہری، ہر سماجی و مذہبی تنظیم اور سول سوسائٹی کے ہر ذمہ دار فرد کو اس قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ 🎙️ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے 1. جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر، جماعتِ اسلامی ہند و نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 2. مولانا محمد علی محسن تقوی نائب صدر،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 3. مولانا محمد فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ 4. مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند 5. مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 6. جناب عارف مسعود ایم ایل اے رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 7. مولانا محمد ابو طالب رحمانی رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 8. ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
3 159
9
🔰 *تحریک تحفظِ دستور و شریعت* زیر اہتمام: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ _(عدل و انصاف، دستوری بالادستی، مذہبی آزادی، قومی یکجہتی اور امن و امان کے فروغ کے لیے ایک ملک گیر عوامی تحریک)_ https://www.facebook.com/share/p/1EVVwA68ex/ ------------------------------------------ نئی دہلی : 31/اگست 2026 ہندوستان کا دستور تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ، عزت و وقار اور قانون کے مساوی نفاذ کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے حالات مسلسل پیدا ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ملک کے کمزور و محروم طبقات بالخصوص مسلمان، مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر شدید دباؤ، عدمِ تحفظ اور امتیازی رویّوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہجومی تشدد، ماورائے قانون بلڈوزر کارروائیاں، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنانا، اوقافی املاک اور قبرستانوں پر ناجائز قبضے، مسلم نوجوانوں کی بے بنیاد مقدمات کے تحت بے جا گرفتاریاں، مذہبی آزادی میں مداخلت، یو سی سی کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کو بے اثر بنانے کی کوششیں، وندے ماترم کے لزوم کے ذریعہ اقلیتوں کے عقائد پر ضرب لگانے کی کوششیں، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے چھیڑ چھاڑ اور تعلیمی اداروں میں ایسے اقدامات جن سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں، ان سب اقدامات نے نہ صرف ملک کی ایک بڑی آبادی میں احساسِ عدمِ تحفظ کو گہرا کیا ہے بلکہ دستورِ ہند، قانون کی حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لئے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر دئے ہیں ۔یہ صورتِ حال محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثے کا معاملہ ہے۔ ان ہی حالات کے پیشِ نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند، امن پسند اور دستور پر یقین رکھنے والے تمام طبقات، مذہبی و سماجی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے اشتراک سے ’’تحریک تحفظِ دستور و شریعت‘‘ کے عنوان سے ایک ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز کر رہا ہے۔ اس تحریک کا مقصد دستور کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدل و انصاف، مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ تحریک “مجلسِ عمل” کے ذریعے درج ذیل منصوبے کے مطابق چلائی جائے گی۔ تحریک کے بنیادی مقاصد: * دستورِ ہند اور قانون کی بالادستی کا تحفظ۔ * عدل و انصاف اور بنیادی شہری حقوق کے حق میں قومی رائے عامہ ہموار کرنا۔ * مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے منظم اور مؤثر جدوجہد۔ * نفرت، فرقہ واریت اور تشدد کے مقابلے میں امن، اخوت، محبت اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنا۔ * ظلم و ناانصافی کے متأثرین کو قانونی، سماجی اور عوامی تعاون فراہم کرنا۔ * مسلمانوں کی جان و مال، مذہبی آزادی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات کرنا۔ * یو سی سی کے نفاذاور وندے ماترم کے لزوم کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا۔ * انصاف پسند افراد، تنظیموں اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ قومی پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔ یہ تحریک مکمل طور پر آئینی، جمہوری، پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی۔ تحریک کا ہر پروگرام اس انداز سے ترتیب دیا جائے گا کہ کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی، تشدد یا امن و امان میں خلل پیدا نہ ہو، بلکہ ملک میں امن، بھائی چارے، مکالمے اور دستور پسندی کو فروغ ملے۔ اہم سرگرمیاں 1۔ عوامی اجتماعات اور احتجاج ملک کے مختلف بڑے شہروں میں آئینی و پرامن عوامی اجتماعات اور احتجاجی پروگرام منعقد کئے جائیں گے، جن سے ممتاز علماء، مختلف مذاہب کے رہنما، دانشور، سماجی و سیاسی شخصیات خطاب کریں گی۔ 2۔ وہائٹ پیپر (White Paper) کی اشاعت مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات، آئینی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر مشتمل ایک جامع وہائٹ پیپر تیار کیا جائے گا، جسے میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں، عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا۔ 3۔ قانونی رہنما کتابچہ (Legal Booklet) غیر قانونی انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، اوقافی املاک، قبرستانوں، مساجد اور مدارس کے تحفظ سے متعلق قانونی حقوق، عدالتی رہنمائی اور عملی اقدامات پر مشتمل ایک جامع قانونی رہنما کتابچہ شائع کیا جائے گا۔ 4۔ ہجومی تشدد (Mob Lynching) پر جامع اعلامیہ ہجومی تشدد کے مسئلے پر ایک جامع اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس میں قانون کی بالادستی، ریاست و انتظامیہ کی ذمہ داریاں، متأثرین کے قانونی حقوق اور ملکی قوانین کے مطابق جان و مال کے تحفظ کے حق کو واضح کیا جائے گا۔
2 468
10
Khitab e juma 28 August 2026.pdf
4 650
11
Khitab e juma 21 Aug 2026.pdf
8 043
12
Khitab E Juma 14 August 2026.pdf
10 804
13
Khitab e juma 07 August 2026.pdf
13 201
14
نئی دہلی: 4 ؍اگست 2026 انیس برس بعد ہندوستان واپس آنے والی بنگلہ دیش کی متنازعہ اور مفرور مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کولکاتا میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے یونیفارم سول کوڈ اور دینی مدارس کے بارے میں نہایت اشتعال انگیز، گمراہ کن اور حقائق سے عاری بیانات دیے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اسے ہندوستان کے داخلی معاملات میں ایک غیر ملکی کی غیر ذمہ دارانہ مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کہنا کہ دینی مدارس انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں یا وہاں سے ’’جہادی‘‘ تیار ہوتے ہیں، صریح بہتان، کھلی کذب بیانی اور ایک پوری مذہبی و تعلیمی روایت کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ ایسے بے بنیاد الزامات نہ صرف کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو بھی پراگندہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ ایک غیر ملکی، جو خود ہندوستان میں پناہ کی زندگی گزار رہی ہے، اسی ملک کے مذہبی، آئینی اور سماجی معاملات پر نفرت انگیز تبصرے کر رہی ہے۔ ہندوستان کی سرزمین کسی کو آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت پھیلانے، مذہبی اداروں کو بدنام کرنے یا ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔ حکومتِ ہند کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کو واضح طور پر ان کی قانونی حدود کا پابند بنائے اور مستقبل میں اس قسم کی اشتعال انگیز بیان بازی کی روک تھام کرے۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ تسلیمہ نسرین نے بنگلہ دیش کے بارے میں بھی جو زبان استعمال کی ہے، وہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ہندوستان کی متوازن خارجہ پالیسی سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ ایسے بیانات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو متأثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے حکومتِ ہند کو اس پہلو کا بھی فوری نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف اس نوعیت کی پروپیگنڈا مہم کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں بارہا ایسے الزامات عائد کیے گئے، لیکن آج تک نہ کوئی الزام لگانے والا ایک بھی معتبر ثبوت پیش کر سکا اور نہ ہی ملک کی کسی تحقیقاتی یا سکیورٹی ایجنسی نے ان دعوؤں کی توثیق کی۔ اس کے باوجود دینی مدارس کو بدنام کرنا ایک منظم سیاسی اور نظریاتی مہم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دینی مدارس سرکاری خزانے پر ایک روپیہ بھی بوجھ ڈالے بغیر لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ انہی مدارس کے ہزاروں فضلاء ملک کی ممتاز جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے عدلیہ، تعلیم، صحافت، سول سروس، سماجی خدمات اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے قومی خدمات انجام دینے والے اداروں کو بدنام کرنا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ ملک کی تعلیمی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس اشتعال انگیز بیان بازی کا سنجیدگی سے نوٹس لے، غیر ملکی پناہ گزینوں کو ہندوستان کے داخلی اور مذہبی معاملات میں مداخلت سے روکے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک کا آئینی و سماجی ماحول کسی بیرونی فرد کی نفرت انگیز سیاست کا شکار نہ بنے۔ ✍️ جاری کردہ: *ڈاکٹر وقارالدین لطیفی* آفس سکریٹری https://www.facebook.com/share/p/19GUwgPbqX/
11 056
15
[04/08, 4:18 pm] Wiqar Latifi Sahb Admin Panel Smd: PRESS RELEASE AIMPLB Condemns Defamatory Remarks Against Madrasas by Bangladeshi Fugitive Writer Urges Government of India to Prevent Foreign Refugees from Interfering in the Country’s Internal Affairs All India Muslim Personal Law Board New Delhi, August 4, 2026: The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has strongly condemned the inflammatory, misleading, and factually baseless remarks made by the controversial Bangladeshi fugitive writer Taslima Nasrin, who recently returned to India after a gap of nineteen years. Speaking to the media in Kolkata, she made highly provocative statements regarding the Uniform Civil Code and Islamic seminaries (madrasas). The Board has described her comments as an irresponsible attempt by a foreign national to interfere in India’s internal affairs. In a press statement, AIMPLB Spokesperson Dr. S. Q. R. Ilyas said that alleging that Islamic seminaries promote extremism or produce “jihadis” is nothing but a blatant falsehood, a malicious slander, and a deliberate attempt to malign an entire religious and educational tradition. Such baseless accusations not only hurt the religious sentiments of millions of Indian Muslims but also appear to be a calculated effort to vitiate the country’s communal harmony. Dr. Ilyas said it is deeply regrettable that a foreign national, who herself is living in India as a refugee, is making inflammatory comments on the country’s religious, constitutional, and social issues. He emphasized that India cannot permit anyone, under the guise of freedom of expression, to spread hatred, defame religious institutions, or interfere in the country’s internal affairs. He urged the Government of India to ensure that such individuals remain within the bounds of the law and to prevent the recurrence of such provocative statements. Referring to Taslima Nasrin’s comments on Bangladesh, Dr. Ilyas said that her remarks were equally irresponsible and inconsistent with India’s balanced foreign policy. Such statements have the potential to adversely affect bilateral relations between the two neighbouring countries, and the Government of India should take serious note of this aspect as well. Dr. Ilyas further observed that the campaign to malign Islamic seminaries is not new. Similar allegations have been made repeatedly over the past several decades, yet neither those making these accusations have ever produced any credible evidence, nor has any investigative or security agency in the country substantiated such claims. Despite this, vilifying madrasas has become part of an organised political and ideological campaign. He pointed out that the reality is that thousands of madrasas across India provide education to millions of children without placing any financial burden on the national exchequer. Thousands of their graduates go on to obtain higher qualifications from leading universities and serve the nation with distinction in the judiciary, academia, journalism, civil services, social work, and many other fields. Defaming such institutions, which render invaluable national service, is not only unjust but also detrimental to the country’s educational and social harmony. The All India Muslim Personal Law Board calls upon the Government of India to take serious cognisance of these inflammatory remarks, prevent foreign refugees from interfering in India’s internal and religious affairs, and ensure that the country’s constitutional and social fabric is not allowed to become a casualty of the hate-driven politics of any foreign individual. Issued by: Dr. Vaquar Uddin Latifi Office Secretary [04/08, 7:56 pm] Noor Bhai New Smd: *بنگلہ دیش کی مفرور مصنفہ کی دینی مدارس کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابلِ برداشت* *حکومتِ ہند غیر ملکی پناہ گزینوں کو ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکے:* آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
4 733
16
لا يوجد نص...
3 375
17
*AIMPLB Condemns Defamatory Remarks Against Madrasas by Bangladeshi Fugitive Writer* *Urges Government of India to Prevent Foreign Refugees from Interfering in the Country’s Internal Affairs:* All India Muslim Personal Law Board New Delhi, August 4, 2026: The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has strongly condemned the inflammatory, misleading, and factually baseless remarks made by the controversial Bangladeshi fugitive writer Taslima Nasrin, who recently returned to India after a gap of nineteen years. Speaking to the media in Kolkata, she made highly provocative statements regarding the Uniform Civil Code and Islamic seminaries (madrasas). The Board has described her comments as an irresponsible attempt by a foreign national to interfere in India’s internal affairs. In a press statement, AIMPLB Spokesperson Dr. S. Q. R. Ilyas said that alleging that Islamic seminaries promote extremism or produce “jihadis” is nothing but a blatant falsehood, a malicious slander, and a deliberate attempt to malign an entire religious and educational tradition. Such baseless accusations not only hurt the religious sentiments of millions of Indian Muslims but also appear to be a calculated effort to vitiate the country’s communal harmony. Dr. Ilyas said it is deeply regrettable that a foreign national, who herself is living in India as a refugee, is making inflammatory comments on the country’s religious, constitutional, and social issues. He emphasized that India cannot permit anyone, under the guise of freedom of expression, to spread hatred, defame religious institutions, or interfere in the country’s internal affairs. He urged the Government of India to ensure that such individuals remain within the bounds of the law and to prevent the recurrence of such provocative statements. Referring to Taslima Nasrin’s comments on Bangladesh, Dr. Ilyas said that her remarks were equally irresponsible and inconsistent with India’s balanced foreign policy. Such statements have the potential to adversely affect bilateral relations between the two neighbouring countries, and the Government of India should take serious note of this aspect as well. Dr. Ilyas further observed that the campaign to malign Islamic seminaries is not new. Similar allegations have been made repeatedly over the past several decades, yet neither those making these accusations have ever produced any credible evidence, nor has any investigative or security agency in the country substantiated such claims. Despite this, vilifying madrasas has become part of an organised political and ideological campaign. He pointed out that the reality is that thousands of madrasas across India provide education to millions of children without placing any financial burden on the national exchequer. Thousands of their graduates go on to obtain higher qualifications from leading universities and serve the nation with distinction in the judiciary, academia, journalism, civil services, social work, and many other fields. Defaming such institutions, which render invaluable national service, is not only unjust but also detrimental to the country’s educational and social harmony. The All India Muslim Personal Law Board calls upon the Government of India to take serious cognisance of these inflammatory remarks, prevent foreign refugees from interfering in India’s internal and religious affairs, and ensure that the country’s constitutional and social fabric is not allowed to become a casualty of the hate-driven politics of any foreign individual. ✍️ Issued by: *Dr. Vaquar Uddin Latifi* _Office Secretary_ https://www.facebook.com/share/p/197aBpzzke/
4 656
18
+1
لا يوجد نص...
4 314
19
*وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہے:* آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نئی دہلی: 31 /جولائی 2026 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ترمیمی بل منظور کرکے وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے آئینی، سیکولر اور جمہوری مزاج کے منافی اور شہریوں کی مذہبی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ بورڈ کے مطابق قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو ملک کے تمام شہریوں پر مسلط کرنا دستورِ ہند کی بنیادی روح سے متصادم ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ وندے ماترم کو قانونی جبر کے ذریعے تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازم کرنے کی کوشش نہ صرف نازیبا بلکہ دستور کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور سازی کے مرحلے میں دستور ساز اسمبلی نے گہرے غور و خوض کے بعد وندے ماترم کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ اس کے دیگر حصوں کے مذہبی مفاہیم کو ملک کے سیکولر کردار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا تھا۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وندے ماترم کے بعض مندرجات ایسے مذہبی تصورات پر مبنی ہیں جن میں وطن کو ایک دیوی کی صورت میں پیش کرکے اس کی وندنا کی دعوت دی گئی ہے۔ مسلمان کے لیے یہ تصور اس کے بنیادی عقیدۂ توحید سے صریحاً متصادم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان صرف اللہ وحدۂ لاشریک کی عبادت کرتا ہے اور اس کی ذات، صفات، حقوق واختیارات میں کسی بھی درجے کا شرک اس کے ایمان کے منافی ہے۔ چنانچہ کسی مسلمان کو اس کے عقیدے کے خلاف کسی مذہبی مفہوم کے حامل گیت، نعرے یا عمل میں شرکت پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستورِ ہند کی دفعہ 25 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی پیروی کی آزادی عطا کرتی ہے، جبکہ دفعہ 19 اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ ان آئینی ضمانتوں کا واضح تقاضا ہے کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور ضمیر کے خلاف کسی گیت، نعرے، نظریے یا علامت کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ ترجمان نے سپریم کورٹ کے معروف فیصلہ Bijoe Emmanuel بنام ریاستِ کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ نے حتیٰ کہ قومی ترانے جن گن من کے معاملے میں بھی یہ اصول تسلیم کیا کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے کسی مخصوص عمل میں شرکت سے روکتا ہو تو اسے محض عدمِ شرکت کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی میں بعض حالات میں خاموش رہنے کا حق بھی شامل ہے اور احترام کے ساتھ عدمِ شرکت کو بے احترامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وطن سے محبت اور وطن کی پوجا دو الگ تصورات ہیں۔ مسلمان اپنے وطن سے محبت کو اپنے دینی و شہری فریضے کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن وہ وطن کو معبود یا دیوی کا درجہ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کا معیار کسی مخصوص نعرے یا گیت کی ادائیگی نہیں بلکہ ملک، اس کے آئین، عوام اور ان کے حقوق کے ساتھ وفاداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے حساس اور تقسیم پیدا کرنے والے اقدامات کے بجائے ملک کو درپیش حقیقی مسائل—بے روزگاری، مہنگائی، غربت، تعلیم، صحت، معاشی عدمِ مساوات اور سماجی ناانصافی—کے حل پر توجہ مرکوز کرے۔ عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر جذباتی اور مذہبی تنازعات کو ہوا دینا نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی جمہوریت کے۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد ہندوستان وہی ہوگا جہاں ہر شہری کو مساوی عزت، انصاف اور آزادی حاصل ہو، جہاں کسی کی حب الوطنی کو اس کے مذہبی عقیدے کے ترازو میں نہ تولا جائے اور جہاں آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ ✍️ جاری کردہ *ڈاکٹر وقار الدین لطیفی* _آفس سکریٹری_ https://www.facebook.com/share/p/1Bc1jwRBuc/
5 920
20
+1
لا يوجد نص...
4 861