ar
Feedback
Maktabus Suffah Ⓡ

Maktabus Suffah Ⓡ

الذهاب إلى القناة على Telegram

▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬   مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ Maktabus Suffah Ⓡ 👇🔻👇🔻👇🔻👇 www.MSuffah.com https://telegram.me/MSuffah https://youtube.com/@msuffah ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬   ♡ ㅤ    ❍ㅤ     ⎙ㅤ ⌲ ˡᶦᵏᵉ  ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ  ˢᵃᵛᵉ  ˢʰᵃʳᵉ

إظهار المزيد
2 710
المشتركون
+524 ساعات
+87 أيام
+1730 أيام

جاري تحميل البيانات...

سحابة العلامات
لا توجد بيانات
هل تواجه مشاكل؟ يرجى تحديث الصفحة أو الاتصال بمدير الدعم الخاص بنا.
الإشارات الواردة والصادرة
---
---
---
---
---
---
جذب المشتركين
يونيو '26
يونيو '26
+25
في 0 قنوات
مايو '26
+62
في 5 قنوات
Get PRO
أبريل '26
+62
في 3 قنوات
Get PRO
مارس '26
+23
في 4 قنوات
Get PRO
فبراير '26
+38
في 3 قنوات
Get PRO
يناير '26
+48
في 2 قنوات
Get PRO
ديسمبر '25
+43
في 4 قنوات
Get PRO
نوفمبر '25
+31
في 1 قنوات
Get PRO
أكتوبر '25
+32
في 2 قنوات
Get PRO
سبتمبر '25
+57
في 3 قنوات
Get PRO
أغسطس '25
+72
في 3 قنوات
Get PRO
يوليو '25
+53
في 5 قنوات
Get PRO
يونيو '25
+61
في 3 قنوات
Get PRO
مايو '25
+90
في 3 قنوات
Get PRO
أبريل '25
+47
في 2 قنوات
Get PRO
مارس '25
+46
في 3 قنوات
Get PRO
فبراير '25
+60
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '25
+120
في 2 قنوات
Get PRO
ديسمبر '24
+168
في 3 قنوات
Get PRO
نوفمبر '24
+167
في 1 قنوات
Get PRO
أكتوبر '24
+208
في 2 قنوات
Get PRO
سبتمبر '24
+135
في 5 قنوات
Get PRO
أغسطس '24
+666
في 6 قنوات
Get PRO
يوليو '24
+83
في 1 قنوات
Get PRO
يونيو '24
+152
في 4 قنوات
Get PRO
مايو '24
+101
في 5 قنوات
Get PRO
أبريل '24
+39
في 2 قنوات
Get PRO
مارس '24
+55
في 1 قنوات
Get PRO
فبراير '24
+53
في 1 قنوات
Get PRO
يناير '24
+138
في 4 قنوات
Get PRO
ديسمبر '23
+90
في 3 قنوات
Get PRO
نوفمبر '23
+106
في 5 قنوات
Get PRO
أكتوبر '23
+78
في 5 قنوات
Get PRO
سبتمبر '23
+43
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '23
+53
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '23
+56
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '23
+16
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '23
+25
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '23
+27
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '23
+18
في 0 قنوات
Get PRO
فبراير '23
+12
في 0 قنوات
Get PRO
يناير '23
+23
في 0 قنوات
Get PRO
ديسمبر '22
+37
في 0 قنوات
Get PRO
نوفمبر '22
+12
في 0 قنوات
Get PRO
أكتوبر '22
+18
في 0 قنوات
Get PRO
سبتمبر '22
+23
في 0 قنوات
Get PRO
أغسطس '22
+21
في 0 قنوات
Get PRO
يوليو '22
+36
في 0 قنوات
Get PRO
يونيو '22
+42
في 0 قنوات
Get PRO
مايو '22
+74
في 0 قنوات
Get PRO
أبريل '22
+35
في 0 قنوات
Get PRO
مارس '22
+316
في 0 قنوات
التاريخ
نمو المشتركين
الإشارات
القنوات
11 يونيو+4
10 يونيو+6
09 يونيو0
08 يونيو+3
07 يونيو+1
06 يونيو+2
05 يونيو+3
04 يونيو+3
03 يونيو+1
02 يونيو0
01 يونيو+2
منشورات القناة
*آخری وصیت اور رحلت* رخصت ہونے سے پہلے، انہوں نے ایک ایسی جاندار وصیت چھوڑی جو آج بھی ہمارے چہروں پر ایک تازیانہ ہے۔ گویا وہ آج بھی ہمارے درمیان کھڑے ہمارا بہتا ہوا خون دیکھ رہے ہیں اور ہم پر دنیا کے درندوں کا ہجوم دیکھ کر پکار رہے ہیں: *"اے عربو! میری بات بالکل صاف اور واضح سن لو۔ اسلام ہی تمہاری زندگی کا سرچشمہ ہے۔ عرب دنیا پانی کے بغیر ایک خشک سمندر کی مانند ہے جب تک کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنا امام اور قائد نہ بنا لے۔ اللہ نے تمہیں کوئی عزت نہیں دی سوائے اس کے کہ تم اسلام سے منسوب ہو۔ اسلام کے پیغام کو لے کر اٹھو اور اس مظلوم دنیا کو یورپ کے ان سرکشوں کے چنگل سے نجات دلاؤ جو اپنی انا، تکبر اور جہالت کے باعث انسانیت کو دفن کر دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہ حق ہے جس کے بارے میں تم سے تمہارے رب کے ہاں سوال ہوگا، اب عرب دنیا دیکھ لے کہ اسے کیا جواب دینا ہے!"* یہ ایک ایسا بصیرت افروز جائزہ تھا جو انہوں نے انسانیت کو کچلنے والے اس مادی جنون کے دور میں لیا۔ آپ نے ۸۵ برس دین کی خدمت میں گزارے۔ اور جب الوداعی گھڑی آئی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک ایسا مثالی انجام چنا جو صرف عظیم لوگوں کے حصے میں آتا ہے: رمضان المبارک کی ۲۳ تاریخ، بروز جمعہ، ۱۴۲۰ ہجری۔ قرآنِ کریم سامنے تھا، روزے کی حالت میں، دنیا سے منقطع، سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتے ہوئے اپنے رب سے ملاقات کی تیاری میں تھے کہ ان کی روحِ پاک پرواز کر گئی۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ رخصت ہو گئے۔ وہ انسان جس نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ حقیقی عبقریت اور لازوال عظمت مغرب کی لیبارٹریوں میں نہیں بنتی، بلکہ یہ ایک ایسے مؤمن کے دل سے جنم لیتی ہے جو ناممکن کو ممکن بنانے اور امت کو بیدار کرنے کا عزم کر لے۔ ناشر : مکتب الصفہ اچلپور https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s

2
*ایک مردِ مجاہد: جو بذاتِ خود ایک امت تھا* ایک تنہا شخص، جو اپنے وزن میں ایک امت کے برابر تھا۔ ایک عجمی (غیر عرب) جس نے فصحائے عرب کو بھی ششددر کر دیا۔ ایک غیر معمولی اسلامی عالم اور ایک مہیب و جامع مفکر۔ مغربی تہذیب اپنے تمام تر دبدبے، جبروت اور سائنسی تجربہ گاہوں کے باوجود اس جیسا انسان کبھی پیدا نہیں کر سکے گی۔ یہ ندوی ہیں! جنہوں نے یورپ کے سرکشوں کو مغلوب کیا۔ وہ ایک ایسا فکری طوفان تھے جو ہندوستان سے اٹھا تاکہ پورے عالم کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ *شیخ العلامہ ابو الحسن علی ندویؒ* آپ خاندانِ ہاشمی کے چشم و چراغ تھے، جن کا شجرۂ نسب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ نو برس کی عمر میں یتیم ہوئے، تو (حکمران وقت نے) انہیں انگریزی تعلیم دینے کی خواہش ظاہر کی تاکہ وہ استعماری نظام کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکیں؛ لیکن ان کی عابدہ، زاہدہ، حافظۂ قرآن اور شاعرہ والدہ نے ایک ایسی تاریخی پکار بلند کی جس نے وقت کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا: *"اگر میرے سو بیٹے بھی ہوتے، تو میں ان سب کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیتی۔* اسی لمحے سے وہ فکری چنگاری روشن ہوئی۔ ایک ایسا ہندوستانی جس نے عرب کے صحرا نہیں دیکھے تھے، لیکن لسانِ عرب (عربی زبان) کو اس طرح اپنے اندر جذب کیا کہ انہیں *"اعرب من العرب"* (عربوں سے بھی زیادہ فصیح عربی جاننے والا) کا لقب ملا۔ *علم و حکمت کا سفر* وہ ہندوستان کی درسگاہوں کے کم عمر ترین طالب علم تھے جنہوں نے صرف الفاظ کا مطالعہ نہیں کیا، بلکہ ان کے معانی و مفاہیم کو اپنے اندر اتار لیا۔ انہوں نے زبانوں پر عبور حاصل کیا؛ فارسی اور اردو میں مہارت حاصل کرنے کے بعد، انگریزی زبان کو اپنی غیر معمولی ذہانت سے اس لیے سیکھا تاکہ وہ مغرب سے مرعوب نہ ہوں، بلکہ ان کے افکار کا نفوذ کر کے ان کی تاریخ کا مطالعہ کر سکیں اور ان کی مادی تہذیب کو اندر سے پرکھ سکیں۔ آپ نے: * ابنِ تیمیہؒ کی فکری عبقریت، * مجدد الف ثانیؒ کی شجاعت، * اور علامہ اقبالؒ کے سوز و جوش سے اپنے شعور کو جلا بخشی، اور ایک ایسا مضبوط فکری مائنڈ سیٹ تیار کیا جسے تسخیر کرنا ممکن نہ تھا۔ *وہ فکری دھماکہ جس نے دنیا کو ہلا دیا* تاریخ کے اس تاریک ترین دور میں، جب دنیا دوسری جنگِ عظیم کے خون میں نہا رہی تھی اور امتِ مسلمہ نفسیاتی شکست خوردگی اور مغرب کی فکری غلامی کی تہہ میں ڈوبی ہوئی تھی، اس تیس سالہ نوجوان نے اپنے قلم کو سنبھالا اور ایک ایسا فکری دھماکہ کیا جس کے اثرات براعظموں کو عبور کر گئے۔ کتاب کا عنوان تھا: *ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین* (مسلمانوں کے زوال سے دنیا کو کیا نقصان پہنچا؟) یہ محض ایک کتاب نہیں تھی، بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی عدالتِ احتساب تھی۔ ایک ایسا فکری تھپڑ جس نے مسلمانوں کو دفاعی پوزیشن اور معذرت خواہانہ رویے سے نکال کر قیادت اور فکری برتری کے منصب پر لا کھڑا کیا۔ انہوں نے مغرور مغرب پر یہ ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کا زوال کوئی مقامی حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ انسانیت پر ٹوٹنے والی سب سے بڑی آفت تھی، جس نے انسان کو مادی جاہلیت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ *عالمی سفیرِ اسلام* وہ خانقاہوں یا گوشۂ تنہائی میں محصور نہیں رہے، بلکہ دنیا بھر میں ایک فکری انقلاب بن کر پھیلے تاکہ مردانِ کار پیدا کر سکیں۔ انہوں نے ایک سفیر کی حیثیت سے براعظموں کا سفر کیا۔ دمشق اور مدینہ منورہ میں خطابات دیے۔ یہاں تک کہ مغرب کے علمی مراکز میں داخل ہو کر *آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز* کے سربراہ بنے اور برطانیہ کے قلب میں اپنی علمی دھاک بٹھائی۔ انہوں نے ہندوستان میں لاکھوں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کی اسلامی شناخت کی حفاظت کی، علمی مجالس قائم کیں اور "رابطہ ادبِ اسلامی" کی بنیاد رکھی۔ یہاں، بیان اور خطابت کے شہسوار *علامہ علی طنطاویؒ* ان کی اس عبقریت کے سامنے حیرت زدہ رہ گئے اور تاریخ کو گواہ بنا کر کہا: "ابو الحسن نے اسلام کے لیے اپنے شاگردوں کے قلوب میں ایسے قلعے تعمیر کیے ہیں جو پتھر کے قلعوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہیں۔ انہوں نے صالح علماء اور مخلص داعیانِ دین پر مشتمل ایک چھوٹی سی امت تیار کی ہے۔" *اعزازات اور زاہدانہ زندگی* آپ پر دنیا کے معزز ترین اعزازات کی بارش ہوئی؛ بشمول شاہ فیصل عالمی ایوارڈ، ایسیسکو (ISESCO) میڈل، اور شخصیتِ اسلام ایوارڈ۔ لیکن یہ دنیاوی چمک دمک ان کے دل کو نہ مبا سکی۔ وہ ہمیشہ ایک زاہد، عاجز اور درویش انسان رہے، جنہیں نہ تو سلاطین کے محلات مرعوب کر سکے اور نہ ہی کوئی ان کی خاموشی کو خرید سکا۔
220
3
اردو ترجمہ 👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s/622
اردو ترجمہ 👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s/622
191
4
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 🌙 اساتذہ کے لیے 100 ذمہ داریاں ایک نظر میں۔ آپ اسے چارٹ بنا کر مکتب کی دیوار پر لگا دیں۔ روز 5 ذمہ داری پڑھ لیں۔ *مکتب کے مدرسین کی 100 ذمہ داریاں - مختصر چارٹ* 📋 *حصہ 1: نیت و عبادت 1-10* 1. نیت خالص - اللہ کی رضا کے لیے پڑھانا 2. ہر کلاس سے پہلے 2 رکعت نفل 3. بچوں کے لیے دعا - "رب زدنی علما" 4. خود قرآن روز پڑھنا 5. توبہ و استغفار - غصہ پر قابو 6. شکر - "الحمدللہ میں خادمِ قرآن ہوں" 7. اخلاص چیک کرنا - تنخواہ نہیں، اجر دیکھنا 8. وضو کے ساتھ پڑھانا 9. درود شریف کثرت سے 10. آخرت کا اجر یاد رکھنا *حصہ 2: اخلاق و کردار 11-20* 11. مسکرا کر ملنا 12. نرم لہجہ رکھنا 13. صبر کرنا - 70 بار سمجھانا 14. غصہ کنٹرول - غصہ آنے پر پانی پینا، جگہ بدلنا 15. انصاف کرنا - امیر غریب برابر 16. وعدہ پورا کرنا 17. عاجزی - خود کو بڑا نہ سمجھنا 18. معاف کرنا - بچے کی غلطی پر 19. غیبت نہ کرنا - والدین/ساتھی استاد کی 20. امانت داری - وقت، پیسہ، بچہ *حصہ 3: حاضری و نظم 21-30* 21. خود وقت پر آنا 22. مکمل وقت دینا 23. حاضری رجسٹر رکھنا 24. کلاس کی صفائی چیک کرنا 25. جوتے سیدھے کروانا 26. لائن بنا کر بٹھانا 27. خاموشی کا اصول بنانا 28. بریک ٹائم مقرر کرنا 29. چھٹی کا اصول واضح کرنا 30. کلاس سے نکلنے کا نظام *حصہ 4: تدریس کا طریقہ 31-45* 31. عمر کے حساب سے پڑھانا 32. آسان سے مشکل کی طرف جانا 33. اجتماعی قرات کروانا 34. انفرادی سبق سننا 35. غلطی فوراً درست کرنا 36. ایکٹیویٹی + ایکشن کے ساتھ پڑھانا 37. 7 منٹ بعد طریقہ بدلنا 38. تصویر/کارڈ استعمال کرنا 39. دہرانا - پرانا سبق روز 40. آواز اونچی نیچی کرنا 41. ہر بچے سے سوال کرنا 42. بورڈ پر بڑا لکھنا 43. مختصر سبق دینا 44. سبق کا خلاصہ کروانا 45. روزانہ ٹیسٹ - 1 سوال *حصہ 5: بچوں کی تربیت 46-60* 46. ہر بچے کا نام یاد رکھنا 47. کندھے پر ہاتھ رکھنا 48. شاباش دینا 49. سٹار/بیج سے انعام 50. کمزور بچے پر محنت 51. شرارتی کو ذمہ دار بنانا 52. ادب سکھانا - استاد، والدین کا 53. صفائی سکھانا 54. سچ بولنا سکھانا 55. سلام سکھانا 56. دعائیں یاد کروانا 57. وضو سکھانا 58. نماز کی عادت ڈالنا 59. بھائی چارہ سکھانا 60. لڑائی ختم کروانا *حصہ 6: والدین + انتظام 61-70* 61. مہینے میں 1 بار کال 62. تعریف کے ساتھ شکایت 63. بچے کی رپورٹ دینا 64. والدین کی عزت کرنا 65. منتظم کی بات ماننا 66. فیس کا حساب شفاف رکھنا 67. شکایت صبر سے سننا 68. میٹنگ میں شرکت 69. مکتب کے رولز فالو کرنا 70. اپنی کمی تسلیم کرنا *حصہ 7: بچوں کی حفاظت 71-80* 71. مار سے بچانا - آخری آپشن 72. چہرہ، سر پر نہ مارنا 73. بچے کو اکیلا نہ چھوڑنا 74. دروازہ بند نہ کرنا 75. بچے کی عزت نفس بچانا 76. ڈانٹ کے بعد محبت کرنا 77. بچے کی بات سننا 78. بدسلوکی روکنا 79. بچے کو پانی پلانا 80. بیمار بچے کا خیال *حصہ 8: خود سازی 81-90* 81. روز 15 منٹ مطالعہ 82. سینئر استاد سے سیکھنا 83. نئی ترکیب آزمانا 84. اپنی غلطی ماننا 85. بچوں سے سیکھنا 86. تقریر/بیان سننا 87. تجوید سیکھنا/بہتر کرنا 88. صحت کا خیال - آواز، نیند 89. موبائل کلاس میں بند 90. لباس شائستہ رکھنا *حصہ 9: خصوصی کام 91-100* 91. تقریب کی تیاری کروانا 92. مقابلہ جات منعقد کرنا 93. حفظ کی ترغیب دینا 94. فارغ بچے کو کام دینا 95. نیا داخلہ ٹیسٹ لینا 96. پرانا بچہ رخصت کرنا - دعا سے 97. سالانہ رزلٹ بنانا 98. مکتب کی ترقی کی سوچ 99. ساتھی اساتذہ سے تعاون 100. ہر روز نئے سرے سے شروع --- *سنہری اصول:* 100/100 کوئی نہیں کر سکتا۔ 70/100 والے استاد بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ان 100 ذمہ داریوں پر عمل کی توفیق دے۔ آمین https://t.me/MSuffah
264
5
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ دیکھو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی دور میں عیسائیت کا پادری کہہ رہا ہے کہ میری نظر میں اصل دین پر مطلب عیسائیت پہ صرف ایک ہی شخص باقی ہے جس نے اس میں تحریف نہیں کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ باقیوں نے تحریف کر ڈالی اور اس اسی وقت عیسائیت مذہب میں تحریف ہو چکی تھی ان کی عیسائیت مذہب کے دین میں خرابی ا چکی تھی
2
6
فلسطین کے حمایتی 'ابو عبیدہ' کا نام دنیا بھر میں بہت مشہور ہوا اور لوگوں نے اسے بہت سنا ہے، لیکن یہ ان کا اصل نام نہیں بلکہ ایک نسبتی لقب ہے۔ انہوں نے یہ نام تاریخی طور پر اسلام کے عظیم صحابی اور فاتحِ شام حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی نسبت سے منتخب کیا ہے، تاکہ تاریخ کے اس عظیم سپہ سالار کی شجاعت، دیانت اور امانت کی یاد تازہ رکھی جا سکے۔ ​حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم سپہ سالار، فاتحِ شام اور ان دس خوشنصیب صحابہ (عشرہ مبشرہ) میں شامل ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت ملی۔ آپ کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے 'امین الامت' (امت کے امین) کا جلیل القدر لقب عطا ہوا، اور آپ کا شمار تاریخِ اسلام کی سب سے مخلص اور زاہد ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ ​اس پی ڈی ایف میں صحابیِ رسول حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کا مختصر اور ایمان افروز واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ https://chat.whatsapp.com/EDJ1Ca6YYiUGYsyUT7PSZB?s=cl&p=a&mlu=2
1
7
sahaba 2.pdf
367
8
قربانی کا حقیقی مفہوم مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ تعالی
قربانی کا حقیقی مفہوم مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ تعالی
650
9
کاپی پیسٹ 🌙🐐 بچوں کی بقرعید — قربانی کا گوشت بانٹنا اور اصل خوشی کا سلیقہ 🐐🌙 عید الاضحیٰ کا نام آتے ہی بچوں کے ذہن میں خوبصورت جانور، مہندی، نئے کپڑے اور لذیذ پکوان گھومنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ عید صرف رونق اور گوشت کھانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے بچوں کے دلوں میں ایثار، قربانی اور دوسروں کا احساس پیدا کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اگر آج ہم نے بچوں کو عید کی اصل روح نہ سکھائی، تو وہ بڑے ہو کر اسے صرف ایک روایتی تہوار سمجھیں گے۔ ╔══════════════╗ 🌟 عید الاضحیٰ پر بچوں کی اخلاقی تربیت کے 4 اہم پہلو 🌟 ╚══════════════╝ ❶ جانوروں سے محبت اور الوداع کہنا سکھائیں بچے عید سے پہلے جانوروں سے بہت مانوس ہو جاتے ہیں۔ قربانی کے وقت انہیں نرمی سے سمجھائیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنی سب سے پیاری چیز قربان کی تھی۔ ہم بھی اللہ کی رضا کے لیے اس جانور کو قربان کرتے ہیں۔ یہ سبق بچوں میں اطاعتِ الٰہی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ❷ اپنے ہاتھ سے گوشت تقسیم کروائیں گوشت کے حصے بناتے وقت بچوں کو ساتھ بٹھائیں۔ انہیں غریبوں، یتیموں اور سفید پوش رشتہ داروں کے حق کے بارے میں بتائیں۔ ممکن ہو تو گوشت کے پیکٹ بچوں کے ہاتھ سے مستحقین تک پہنچوائیں۔ جب وہ کسی ضرورت مند کے چہرے پر خوشی دیکھیں گے، تو ان کے دل میں ہمدردی اور سخاوت پیدا ہوگی۔ ❸ نعمتوں کی قدر اور شکر گزاری سکھائیں بچوں کو بتائیں کہ دنیا میں بہت سے ایسے بچے ہیں جنہیں پورے سال میں صرف اسی عید پر گوشت نصیب ہوتا ہے۔ یہ احساس انہیں ناشکری سے بچائے گا اور اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنا سکھائے گا۔ ❹ صفائی نصف ایمان ہے — عملی سبق قربانی کے بعد صفائی کا خاص اہتمام کریں۔ بچوں کو بھی صفائی مہم میں شامل کریں؛ خون پر مٹی ڈالنا، چونا چھڑکنا اور کچرا مناسب جگہ پر ڈالنا سکھائیں۔ یہ عمل انہیں ذمہ دار شہری بننے کا شعور دے گا۔ ✨ آج کی بات ✨ عید کی اصل خوشی نئے کپڑوں میں نہیں، بلکہ کسی کے اداس چہرے پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔ اپنے بچوں کو “لینے والا” نہیں بلکہ “دینے والا” بنائیں۔ اس عید پر ان کے دلوں کو محبت، قربانی اور خدمت کے جذبے سے روشن کریں۔ 🌸 بریرہ اکیڈمی کی طرف سے آپ سب کو عید الاضحیٰ کی پرخلوص مبارکباد! 🌸 https://chat.whatsapp.com/EDJ1Ca6YYiUGYsyUT7PSZB
763
10
حافظ ابن رجب رحمه الله نے فرمایا : اللہ کی راہ میں دل کا سفر بدن کے سفر سے زیادہ اہم ہے. کتنے ہی مسافر ایسے ہیں جو اللہ کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر گھر کے رب سے دور ہوتے ہیں. کتنے ایسے بھی ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں مگر ان کے دل رب سے جڑے ہوئے ہیں. [ لطائف المعارف - 2/252 ] https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s
738
11
ذبح کا مسنون طریقہ ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ مَکْتَبُ الصُّفَّهْ اچلپور Maktabus Suffah Achalpur 👇🔻👇🔻👇🔻👇 https://t.me/MSuffah ▬▭▭▭▭▭
ذبح کا مسنون طریقہ ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬   مَکْتَبُ الصُّفَّهْ اچلپور Maktabus Suffah Achalpur 👇🔻👇🔻👇🔻👇 https://t.me/MSuffah ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬
832
12
ذبح کے وقت بسم اللہ واللہ اکبر | تسمیہ ( بسم الله پڑھنے) کے مسائل! =•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•= 🔻🔻 ٹیلی گرام چینل 🔻🔻
ذبح کے وقت بسم اللہ واللہ اکبر | تسمیہ ( بسم الله پڑھنے) کے مسائل! =•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•=•= 🔻🔻 ٹیلی گرام چینل 🔻🔻 مَکْتَبُ الصُّفَّهْ اچلپور https://t.me/MSuffah
705
13
ممتحن حضرات کے لیے تحفہ 👆
0
14
imtihan ka tariqa (3).pdf
825
15
‏محمد زکریا اچلپوری ﮐﯽ جانب ﺳﮯ ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ
799
16
آپ خود غور کیجیے!
آپ خود غور کیجیے!
1 161
17
لڑکو کا لباس یہ طے ہوا ہے ۔ مکتب الصفہ اچلپور
لڑکو کا لباس یہ طے ہوا ہے ۔ مکتب الصفہ اچلپور
0
18
لڑکیوں کا لباس یہ طے ہوا ہے۔ 'مرون' (Maroon) کلر مکتب الصفہ اچلپور
لڑکیوں کا لباس یہ طے ہوا ہے۔ 'مرون' (Maroon) کلر مکتب الصفہ اچلپور
0
19
۔
735
20
👆
0