Maktabus Suffah Ⓡ
الذهاب إلى القناة على Telegram
▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ مَکْتَبُ الصُّفَّهْ : دینی تعلیمی ادارہ مقصد : نئی نسل کے ایمان کا تحفظ Maktabus Suffah Ⓡ 👇🔻👇🔻👇🔻👇 www.MSuffah.com https://telegram.me/MSuffah https://youtube.com/@msuffah ▬▭▭▭▭▭▭▭▭▭▬ ♡ ㅤ ❍ㅤ ⎙ㅤ ⌲ ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
إظهار المزيد2 747
المشتركون
+224 ساعات
+167 أيام
+4430 أيام
أرشيف المشاركات
2 747
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی مشہورِ زمانہ تصنیف "اصلاحی خطبات" میں 12 ربیع الاول، عید میلاد النبی، اور سیرتِ طیبہ سے متعلق تفصیلی مواد بنیادی طور پر جلد نمبر 1 ، 2 اور جلد نمبر 20 میں مل جائے گا۔مختلف جلدوں میں موجود متعلقہ بیانات (خطبات) کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ اصلاحی خطبات (جلد اول - 1) اگر آپ عید میلاد النبی یا دیگر رسومات کے شرعی تجزیے اور اصلاحی پہلو پر مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو اس جلد کا یہ خطبہ بھی معاون ہے: *بدعت ایک سنگین گناہ ہے:* اس خطبے میں دین میں اپنی طرف سے چیزیں شامل کرنے (بدعات) کے نقصانات پر تفصیلی اصلاحی گفتگو کی گئی ہے۔
2 اصلاحی خطبات (جلد دوم - 2) اس جلد میں ربیع الاول اور سیرت کے حوالے سے دو انتہائی اہم اور تفصیلی خطبات موجود ہیں: *سیرتِ النبی ﷺ اور ہماری زندگی:* اس خطبے میں آپ ﷺ کی مبارک زندگی کو نمونہ بنانے اور اس کے عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ *سیرتِ النبی ﷺ کے جلسے اور جلوس:* اس میں ربیع الاول کے مہینے میں ہونے والی تقاریب، جلسوں اور جلوسوں کی شرعی حیثیت اور ان کی اصلاح کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔
3۔ اصلاحی خطبات (جلد بیسویں - 20) اس جلد میں ماہِ ربیع الاول کے اصل پیغام پر بات کی گئی ہے: *ماہِ ربیع الاول کا کیا تقاضا ہے؟* اس خطبے میں خاص طور پر ربیع الاول کی آمد پر مسلمانوں کی ذمہ داریوں اور اس مہینے کے حقیقی اصلاحی پیغام کو واضح کیا گیا ہے۔
من جانب : خطاب جمعہ گروپ
https://chat.whatsapp.com/CJdWQ6OExY0LSBiWGGtxSy
2 747
اس طرح سے صالحہ لڑکی نے باپ کو سمجھایا اور حضور پاک ﷺ کی عظمت کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ فورا جائیے معافی مانگ کر رضامندی کا اظہار کیجئے! میں تو شادی کے لئے دل وجان سے تیار ہوں۔ چنانچہ وہ صحابی اسلمی کے پہنچنے سے پہلے آپ کی خدمت میں پہنچ گئے اور اپنی نادانی کا اظہار کرکے خوشی خوشی اس نسبت کے لئے تیار ہوگئے (بحوالہ شمع راہ)
شادی بار بار نہیں کی جاتی اس لئے لڑکی اور لڑکے کے والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اچھا ماحول اچھا گھرانہ ملے۔ لڑکا خوبصورت اور خوب سیرت ہو، لڑکے کے والدین کی بھی دلی تمنا ہوتی ہے کہ لڑکی صورت اور سیرت کی جامع ہو، لڑکے کی طبیعت کے موافق ہو، بسا اوقات تو نباہ کی صورت مشکل ہوجاتی ہے۔ اس واقعہ میں بھی اگر حضرت بریدہ اسلمی بذات خود لڑکی کے پاس پیغام لے کر جاتے تو لڑکی انکار کر جاتی لیکن حکم تھا رسولؐ کا، اشارہ تھا آقا مدنی کا، اس لئے اس صحابیہ نے اپنی خواہشات اور جذبات کو قربان کر دیا اور اس نے اس رشتے کو خوشی خوشی قبول کر لیا۔
کیا اطاعت اور جانثاری کی ایسی مثال دنیا میں مل سکتی ہے!
اطاعت و تابعداری، جاں نثاری و قربانی اور نقل و اتباع کی ایسی مثال دنیا کی کوئی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔ در اصل صحابہ کرام کی زندگی نقل و اتباع، اطاعت وانقیاد کی بہترین تصویر تھی انہوں نے اپنی زندگی کے رخ کو اس ذات کی طرف کر دیا تھا جس سے بڑھ کر کسی کی زندگی قابلِ تقلید اور لائق اتباع نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے ساری محبت و عظمت کا محور اسی ذات کو قرار دیا تھا جس نے ان کو نئی زندگی عطا کی تھی۔ اس کے آگے کسی محبت و عظمت کی کوئی وقعت اور حیثیت نہیں تھی۔اور تھی تو اسی کے واسطے سے تھی، اس ذات کے اشارے کے آگے جانیں قربان تھیں۔ صحابہ کرامؓ آپ کے ہر ہر فیصلے پر صرف سرِ تسلیم خم ہی نہیں کرتے بلکہ اس میں شک و تذبذب کی راہ پیدا کرنے والے کو کیفر کردار تک پہنچا دیتے۔
جو رسولؐ کے فیصلہ پر راضی نہیں اس کا یہی صلہ ہے۔
دورِ نبویؐ میں ایک یہودی کا کسی مسلمان سے جھگڑا ہو گیا، بتایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان منافق تھا۔ اس لڑائی میں فیصلے کے لئے یہودی نے پیغمبر اسلام رسولؐ اکرم کے پاس جانے کا مشورہ دیا کیوں کہ اس کو یقین تھا کہ آپؐ حق کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتے، بشر نامی منافق جو بظاہر مسلمان تھا اس نے یہود کے سردار کعب بن اشرف کے پاس مقدمہ لے جانے کی رائے دی، تادیر گفتگو کے بعد رسولؐ کے پاس فیصلے کے لئے پہنچے، آپؐ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمادیا، مسلمان آپؐ کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور حضرت عمرؓ کے پاس یہ مسئلہ لے جانے پر اس نے یہودی کو راضی کر لیا، اس نے سمجھا کہ حضرت عمرؓ کفار کے معاملے میں سخت ہیں۔ وہ یہودی کے حق میں فیصلہ دینے کے بجائے میرے حق میں فیصلہ دیں گے۔ فاروق اعظمؓ کے پاس جب یہ دونوں پہنچے اور ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص جو اپنے بارے میں مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتاہے۔ اس نے اللہ کے نبیؐ کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے تو وہ اندر تشریف لے گئے اور ایک تلوار لاکر اس کو یہ کہتے ہوئے قتل کر دیا کہ جو شخص رسولؐ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اس کا یہی صلہ ہے۔ اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
فلا وربک لا یومنون حتی یحکمون فیما شجر بینھم ثم لا یجدوافی أنفسھم حرجا مما قضیت ویسلمو تسلیما (النساء ۶۵)سو آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک کہ یہ لوگ اس جھگڑے میں جو ان کے آپس میں ہوں آپ کو حکم نہ بنا لیں اور پھر جو فیصلہ آپ کردیں اس سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور اس کو پورا تسلیم کر لیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے احکام القرآن)
محبت رسولؐ اور طریقۂ رسول ہی ہماری کامیابی کا زینہ ہے:
لہذا ضرورت ہے کہ ہم مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں آنحضرت ؐ کے رجحانات وخیالات کو سو فیصد اپنانے کی کوشش کریں۔ آپؐ سے نسبت رکھنے والی ایک ایک چیز کی عظمت و محبت ہمارے دل میں ہو۔ آپ کی تعلیمات اور طریقہ ہر چیز پر مقدم ہو۔ بڑی سے بڑی خواہش کی اس کے سامنے کوئی وقعت اور حیثیت نہ ہو۔ جب حضوراکرمؐ کا حکم اور فرمان سامنے آئے تو ہر چیز صحیح ہے۔ جو کھانا آپؐ کو لذیذ اور مرغوب تھا وہ ہمیں مرغوب ہو جو لباس آپؐ کو پسند تھا وہ ہمیں بھی پسند ہو اور الغرض جو چیزیں آپ کو پسند تھیں وہ ہمیں پسند ہو، پھر کیا ہے؟
کی محمد ؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں*ہی
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
نوٹ / اس خطاب جمعہ کو زیادہ سے زیادہ ائمہ و خطباء حضرات تک پہنچائیں، تاکہ اس کی روشنی میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت و اہمیت کو سمجھایا جائے ۔
https://t.me/MSuffah
2 747
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ ایک دن رسولؐ نے مجھ کو کسم کا رنگا ہوا گلابی زعفرانی رنگ کا کپڑا پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں اس ارشاد گرامی سے سمجھا کہ آپؐ نے میرے اس کپڑے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے، چنانچہ میں فورا گیا اور اس کپڑے کو جلا ڈالا، تو آنحضرت ﷺ نے پوچھا تم نے اس کپڑے کو کیا کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اس کو جلا ڈالا، آپؐ نے فرمایا: تم نے اس کپڑے کو اپنی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا؟ کیوں کہ عورت کے لئے اس قسم کے کپڑے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مشکوۃ)
چونکہ آنحضرت ﷺ کے اولین مخاطب حضرات صحابہؓ تھے اور انہی کے واسطے سے پوری دنیا میں اسلام کی اشاعت ہونی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو منتخب بنایا تھا۔ اس جماعت کے دل ودماغ پر آنحضرت ﷺ کی محبت و عظمت کے جو گہرے نقوش ثبت ہوئے تھے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ حضرات صحابہ کرام آپ کے جذبات و رجحانات پر بھی دل وجان سے قربان تھے۔ آپ کے فیصلے ان کے لئے آخری فیصلے ہوا کرتے تھے۔ صحابہ کرام کی زندگی میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملے گی کہ کسی معمولی صحابی نے بھی آنحضرت ﷺ کے احکام، ارشادات و فرمودات سے سرموانحراف کیا ہو۔
*صحابیات* کی محبت رسولؐ
آنحضرت ﷺ سے یہ عشق و محبت اور جاں نثاری صرف مردوں کے ساتھ خاص نہیں تھی، بلکہ صحابیات کے اندر بھی عشق نبی اور محبت رسول کا کامل جذبہ موجود تھا، ان کے دلوں میں آنحضرتؐ کے لئے نفس کی قربانی، خواہشات کی قربانی اور جذبات کی قربانی مکمل طور پر پائی جاتی تھی، جس کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔
ایک مرتبہ بریدہ اسلمی نامی ایک صحابی بہت رنجیدہ خاطر ہو کر دربار رسالت میں حاضر ہوئے۔ چہرہ سے حزن وملال ٹپک رہا تھا کچھ کہنا چاہتے تھے مگر جھجھک رہے تھے، ان کو جب آپؐ نے اس حال میں دیکھا تو شفقت سے پوچھا اسلمی! کیوں اس قدر مغموم ہو، کون سی آفت آ پڑی ؟ اللہ نے چاہا تو تمہارا غم راحت میں بدل جائے گا۔ انہوں نے عرض کیا: آپؐ پر میرے ماں باپ قربان ہوں! غلام کی مدت سے آرزو ہے کہ اس کی شادی ہوجائے لیکن اس کی یہ آرزو تو بس ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ میری بد صورتی کی وجہ سے شادی کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے، جہاں بھی پیغام دیا، نفرت وحقارت سے ٹھکرا دیا گیا، اتنا کہنے کے بعد اسلمی کے چہرے پر دکھ درد کے آثار اور بڑھ گئے، محسنِ انسانیت سے رہا نہ گیا فرمایا ’’اسلمی‘‘ جاؤ معلوم کرو کہ اس وقت عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت کون سی لڑکی ہے؟ میں اس سے تمہاری شادی کراؤں گا۔
اسلمی نے حیرت اور تعجب سے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو سنا اور نہایت لجاجت سے عرض کیا! پیارے آقا! بدصورت کی کیا ایسی قسمت کہ کوئی معمولی لڑکی بھی مل جائے، آپ مجھے آزمائش میں نہ ڈالئے۔ سرکار نے دلاسہ دیتے ہوئے فرمایا ’’اسلمی! خدا کی ذات پر بھروسہ رکھو، ان شاء اللہ عرب کی منتخب اور خوب صورت لڑکی سے تمہارا نکاح کرایا جائے گا۔ جاؤ تم تحقیق کرو اور مجھے اطلاع دو۔ اسلمی فرمانِ رسول قبول کرتے ہوئے نکل پڑے اور دریافت کرکے خبر دی کہ فلاں قبیلے کے سردار کی لڑکی سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔ آپؐ نے کہا: اسلمی جاؤ لڑکی کے باپ کو میرا سلام کہو اور کہو کہ محمدؐ نے تمہاری لڑکی کے لئے منتخب کرکے بھیجا ہے۔ اسلمی ان کے گھر گئے اور ’’علیک سلیک‘‘ کے بعد رسولؐ کا یہ پیغام سنا دیا، اس پر لڑکی کے والد نے برانگیختہ ہو کر اسلمی کو بہت سخت وسست الفاظ کہا اور نہایت حقارت آمیز سلوک کرکے وہاں سے بھگا دیا: وہ مایوس اور بوجھل طبیعت ہوکر لوٹنے لگے۔
ادھر لڑکی نے باپ کو یوں غصہ ہوتے دیکھ کر پوچھا! ابا جان کون آیا ہے اور آپ اس قدر خفا کیوں ہو رہے ہیں؟ باپ نے بیٹی سے کہا تم بریدہ اسلمی کو جانتی ہو، بیٹی نے جواب دیا ہاں، ابا جان اچھی طرح جانتی ہوں، عرب کا وہ بدصورت جس کی بدصورتی ضرب المثل بن گئی ہے۔ باپ نے لا پرواہی سے جواب دیتے ہوئے کہا: ہاں وہی آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ رسولؐ نے اس کو تمہارے لئے منتخب کرکے بھیجا ہے۔ تو آپ نے کیا جواب دیا؟ لڑکی نے چونک کر پوچھا۔
کیا جواب دیتا جھڑک کر نکال دیا۔ جی تو یہ چاہ رہا تھا کہ زبان کھینچ لوں۔ کمبخت پیام دینے بھی آیا تو میری چاند جیسی بیٹی کو جس کے لئے شرفاء عرب کے کئی نوجوان اپنی پلکیں بچھانے کے لئے تیار ہیں۔ یہ صورت اور یہ ارادے۔
لڑکی نے بے چین ہوکر کہا: ابا جان یہ آپ نے کیا کیا، میں خوب جانتی ہوں کہ آنے والا شخص نہایت بدصورت ہے اور ہرگز آپ کا داماد بننے کے لائق نہیں۔ لیکن ذرا یہ تو دیکھئے کس نے بھیجا ہے؟ شاعر کی زبان میں لڑکی نے یوں جواب دیا:
غورکر ابا، نہ اس کے رنگ کالے کو دیکھ
میں یہ کہتی ہوں کہ اس کے بھیجنے والے کو دیکھ
میں نے یہ مانا کہ کالا حسن میں بھی ماند ہے
بھیجنے والا تو ابا چودہویں کا چاندہے
2 747
خطاب جمعہ ۔۔۔۔۔.21/ اگست
محبت رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔
مدرسہ، نور الاسلام، موئی کلاں، کنڈہ، پرتاپگڑھ
پاکیزہ عقیدہ دیا تہذیب عطا کی
تاریخ نہ بھولے گی یہ احسان محمد
بے مثل صحیفے کی طرح سینئہ اطہر
جزدان کے مانند گریباں محمد۔۔۔۔۔۔۔
گھبرا کے مسلمان یہ کیا ڈھونڈ رہا ہے
کیا چھوٹ گیا ہاتھ سے دامان محمد
دوستو بزرگو اور بھائیو!
تکمیل ایمان کے لئے محبتِ رسولؐ شرطِ اول ہے۔ صحیح اور سچ بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
ایک مومن کے کامل اور سچا مومن ہونے کے لئے شرط ہے ، کہ اس کے دل میں رسول اللہ ﷺ سے سچی اور حقیقی محبت گہرا تعلق، اور صحیح عشق ہو۔ وہ اپنی خواہشات کو، اپنی چاہت کو احکام شریعت اور ذات رسالت مآب کے لئے فنا کر دینے والا ہو، اس کی نگاہ میں والدین، اولاد اور سارے لوگوں کے مقابلہ میں حضور اکرم ﷺ کی ذات سب سے محبوب مکرم اور محترم ہو۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اگر ہو اس میں خامی تو ایماں نامکمل ہے
آنحضرت ﷺ نے خود ایک موقع پر فرمایا ،،لا یؤمن أحدکم حتی أکون احب إلیہ من والدہ و ولدہ والناس أجمعین،،۔ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتا،جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔
روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول! ہر ایک کی محبت مغلوب ہو چکی ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اپنی ذات سے تعلق زیادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا عمر ابھی نہیں، حضرت عمرؓ نے قدرے توقف کے بعد فرمایا کہ اب تو اپنی ذات سے زیادہ آپ کی محبت معلوم ہوتی ہے فرمایا ہاں اب (ایمان مکمل ہوا)، الغرض ایمان جب ہی مکمل ہے اور ایک مسلمان پورا مومن تب ہی ہو سکتا ہے، کہ دنیا کے تمام رشتوں سے اور دنیا کے تمام انسانوں سے حتی کہ اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ اس کو رسول ﷺ سے محبت ہو۔
حضرت عروہ بن مسعودؓ کا آنکھوں دیکھا حال:
یہی وجہ ہے کہ حضرات صحابہؓ کی رسول اللہ ﷺ سے محبت و عقیدت کا یہ حال تھا کہ مشرکین نے بھی اس کی گواہی دی۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عروہ بن مسعود ثقفیؓ جب آنحضرت ﷺ سے گفتگو کرکے مشرکین مکہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے عرب وعجم کے بادشاہوں کو دیکھا ہے۔ ان کے درباروں میں گیاہوں، لیکن بخدا میں نے محمد ﷺ کے ساتھیوں کو جتنا محمد کافدائی اور شیدائی دیکھا،اس کی مثال مجھے کہیں نہیں ملی، وہ تھوکتے ہیں تو تھوک زمین پر گرنے نہیں پاتا، وضو کرتے ہیں تو وضو کا پانی وہ اپنے ہاتھوں میں لے کر ملتے ہیں۔
حضراتِ صحابہ کا عشقِ رسولؐ
حضرت خبیبؓ کو جب پھانسی پر لٹکایا گیا تو، کسی مشرک نے کہا ہاں اب تو یہ سوچتے ہوں گے کہ (معاذ اللہ) محمد (ﷺ) تمہاری جگہ ہوتے اور تم چھوٹ جاتے، حضرت خبیبؓ نے فرمایا کہ مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ آپ کے قدم مبارک میں کانٹا چبھے اور میں چھوٹ جاؤں۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و عقیدت کا یہ حال تھا کہ آپؐ کے چشم ابرو کے وہ منتظر رہتے، حکم اور اشارہ ملتے ہی، پہلے مرحلے میں عمل شروع فرما دیتے، کبھی کبھی تفصیل ووضاحت اس کی بعد میں ہوتی، چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ آپؐ خطبہ دے رہے تھے حضرت ابن مسعود مسجد نبوی کے دروازے تک پہنچے تھے کہ آپؐ نے اعلان فرمادیا کہ تمام لوگ بیٹھ جائیں وہ وہیں بیٹھ گئے، آپؐ نے فرمایا اندر آجاؤ، انہوں نے فرمایا کہ آپ کے ارشاد کے بعد اس کی گنجائش ہی کہاں تھی کہ ام عبد کا بیٹا کھڑا رہتا۔
صحابہ کرام کو رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کا خطاب اور لقب ہی اس بنا پر ملا کہ وہ سب رسول اللہ کے اتنے عاشق اور چاہنے والے تھے کہ دنیا کی تمام چاہتیں ان پر قربان تھیں۔ صحابہ کرامؓ آپ کے حکم ہی کے منتظر نہیں رہتے، بلکہ کوئی علامت یا اشارہ بھی مل جاتا جس سے آپ کے رجحان اور قلبی میلان کا پتہ چلتا تو فوراً اسے اپنے سینے سے لگا لیتے اور اسی وقت اس پر عمل شروع کر دیتے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ کہیں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں ایک انصاری صحابیؓ کے دروازے پر نظر پڑی جس پر ایک خوبصورت سا قبہ بنا ہوا تھا جس سے بظاہر ٹیپ ٹاپ کا احساس ہو رہا تھا۔ صحابہ کرامؓ سے آپؐ نے دریافت کیا کہ یہ مکان کس کا ہے؟ حاضرین نے جواب دیا کہ فلاں شخص کا یہ مکان اور قبہ ہے، آپؐ نے ارشاد فرمایا اس طرح کا مال اس کے مالک کے لئے قیامت کے دن وبال جان ہوگا۔ اس قبہ کے مالک انصاری صحابی کو جب آپ کی کراہت اور ناپسندیدگی کا علم ہوا تو انہوں نے فورا قبہ توڑ دیا، دوبارہ جب رسول اکرم ﷺ کا اس راستے سے گزر ہوا تو قبہ نظر نہیں آیا، آپؐ نے قبہ کے بارے میں صحابہ کرامؓ سے پوچھا، تو جواب ملا کہ آپؐ کی ناپسندیدگی کے سبب اس نے قبہ توڑ دیا، آپؐ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے۔ (ابن ماجہ)
2 747
👆جب چاروں قواعد مکمل ہو جائے تو آخر میں چاروں قواعد کی حروف تہجی میں مشق کراءیں
یعنی نون ساکن یا تنوین کو ہر حرف سے ملا کر مشق کرائی جائے اور قاعدہ پوچھیں
2 747
مکاتب کو اعلی درجہ کی عبادت اور دینی خدمت تصور کریں
مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ الله تعالی
2 747
اختلاف کا ادب
امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد تھے، جن کا نام یونس تھا۔ ایک مسئلے میں ان کا اپنے استاد امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف ہو گیا۔ یونس ناراض ہو کر درس چھوڑ گئے اور اپنے گھر چلے گئے۔
رات ہوئی تو کسی نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ یونس کہتے ہیں: جب میں نے دروازہ کھولا تو سامنے امام شافعی رحمہ اللہ کھڑے تھے۔ آپ نے فرمایا:
"اے یونس! سینکڑوں مسائل ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، کیا ایک ہی مسئلہ ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دے؟!"
پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے نہایت قیمتی نصیحتیں فرمائیں:
اے یونس! ہر اختلاف میں اپنی بات منوانے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ بعض اوقات دل جیتنا، موقف جیتنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
اے یونس! ان رشتوں اور پلوں کو مت توڑو جنہیں تم نے محبت سے بنایا ہے، ممکن ہے ایک دن تمہیں انہی کے ذریعے واپس لوٹنا پڑے۔
میں ہمیشہ غلطی سے نفرت کرتا ہوں، مگر غلطی کرنے والے سے نہیں۔ میں معصیت کو ناپسند کرتا ہوں، لیکن گناہ گار کے لیے میرے دل میں رحمت، معافی اور اصلاح کی خواہش رہتی ہے۔
اے یونس! بات یا رائے پر تنقید کرو، مگر کہنے والے کی عزت برقرار رکھو؛ کیونکہ ہمارا مقصد مرض (خرابی) کا خاتمہ ہے، مریض (انسان) کو ختم کرنا نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اختلاف کے باوجود حسنِ اخلاق، احترام اور محبت کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s
2 747
(46) جب طلبہ کو مارنے کا جی چاہے تو مصلّٰی بچھا کر ان کے لیے دعا فرمائیں۔
(47) عملہ میں باہم تعاون نہ ہو، دلوں میں جوڑ نہ ہو، تو وہ اس دیوار کی طرح ہیں جس میں سیمنٹ نہ ہو۔
طے
(48) حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی نے فرمایا: قاری صدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شفقت اور انتظام میں عدم مداخلت کی وجہ سے ہم پچاس سال سے ہتورا میں بیٹھے ہیں۔
(49) داعی صلاحیتوں کا بھوکا ہوتا ہے۔
(50) بے پردگی کسی قسم کی برداشت نہیں ہونی چاہیے۔
از
مفتی ارشد قاسمی
مفتی ملتزم قاسمی
خادم مدرسہ مدینۃ العلوم کھوری گلی لاتور
https://whatsapp.com/channel/0029VaAXunpBlHpVz1X9nJ2s/667
2 747
*ملفوظات حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر صاحب قاسمی دامت برکاتہم
ناظم ادارہ کہف الایمان حیدر اباد*
بتاریخ 29 جولائی 2026ء کو مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم کھوری گلی لاتور مہاراشٹر میں منعقدہ "تدریب المعلمین والمعلمات" کے پروگرام میں حضرت مولانا مفتی ابو بکر جابر صاحب قاسمی، دامت برکاتہم کے کیے گئے خطاب سے منتخب پچاس ملفوظات
(1) قیادت کا بحران نہیں ہے بلکہ متبعین کا فقدان ہے۔
(2) بدگمانی سے کوئی اجتماعیت چل نہیں سکتی۔
(3) سورۂ حجرات وحدتِ امت کی بنیاد ہے۔
(4) بہت بڑے عارف باللہ دامت برکاتہم نے فرمایا چوروں ڈاکوؤں کے بڑے بڑے کام حسن ظن سے ہوتے ہیں اور دین کے خادموں کے کام بدگمانی سے ہوتے ہیں ۔
(5) حضرت مولانا عمر صاحب پالنپوری رحمہ اللہ نے فرمایا: "کچھ گھروں میں چولہا بجھتا ہے تو کچھ گھروں میں دین کا چراغ جلتا ہے۔"
(6) کسی بھی کام کی ترقی کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں:
(1) اطلاعِ احوال
(2) اتباعِ ہدایات
(7) تنبیہ کے بغیر کہیں ترقی نہیں ہوتی۔
(8) آدمی زندہ ہے فکر کی زندگی سے۔
(9) آدمی بڑا بنتا ہے چھوٹوں کی قدر کرنے سے۔
(10) مقبول بندوں کی دو علامتیں:
(1) چھوٹوں میں مقبول ہوتے ہیں
(2) بڑوں کے معتمد ہوتے ہیں۔
(11) مردود بندوں کی دو علامتیں:
(1) چھوٹوں پر مسلط ہوتے ہیں
(2) بڑوں کے چاپلوس ہوتے ہیں۔
(12) مدرسے کی بات گھر پر نہ جائے اور گھر کی بات مدرسے میں نہ آئے۔
(13) اصل بنیاد اہلیت ہے۔ نہ قربت کو دیکھا جائے اور نہ قرابت کو دیکھا جائے۔ حضرت مولانا سلمان صاحب بجنوری دامت برکاتہم نے اپنی نجی مجلس میں فرمایا کہ اہلیت کے ساتھ قرابت یا قربت ہے تو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
(14) چار ضرورتیں جب تک عملہ کی پوری نہیں ہوں گی، یکسوئی حاصل نہیں ہو سکتی۔
- (1) مہینے کا راشن
- (2) پُرامن رہائش
- (3) علاج
- (4) بچوں کی تعلیم
(15) مفتی احمد صاحب خان پوری دامت برکاتہم فرماتے ہیں: تدریس مزاجِ نبوت کے منتقلی کا نام ہے۔
(16) حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب فرماتے ہیں: بڑے کام بڑے ظرف والوں سے ہوتے ہیں، چھوٹے ظرف والوں سے بڑے کام نہیں ہوتے۔
(17) معاشرتی زندگی اخلاق سے چلتی ہے، قانون سے نہیں۔
(18) سب سے بڑی بیماری ہے احساس کا ختم ہو جانا۔
(19) عاملہ کا بننا اصل ہے، عمارت کا بننا اصل نہیں۔
(20) جان و مال کی قربانی آسان ہے، رائے کو قربان کرنے سے۔
(21) جن بندوں سے اللہ نے کام لیا، وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم کام کی بدولت چل رہے ہیں، کام ہماری بدولت نہیں چل رہا ہے۔
(22) فتوحات کو اللہ کی طرف اور ناکامیوں کو اپنی طرف منسوب کرنا، یہ مزاجِ نبوت ہے۔
(23) مولانا احمد عبداللہ طیب صاحب نے فرمایا: طلبہ کو مانوس کرو، مایوس نہیں۔ اگر وہ نہیں پڑھے گا تو اس کی اولاد پڑھے گی۔
(24) جب بندہ اختیاری تربیت نہیں کرتا تو اللہ اضطراری تربیت کراتے ہیں۔
(25) حضرت ہردوئی رحمہ اللہ نے فرمایا: اصول سے کام ہو تو ادارے مقروض نہیں ہو سکتے۔
(26) دین کا کام چلتا ہے علماء کے علم سے، اغنیاء کے مال سے، غرباء کی دعاؤں سے، سیاست دانوں کے قانون سے۔
(27) قناعت زوال کی ابتدا ہے۔ دنیاوی چیزوں میں قناعت ٹھیک ہے، علم میں نہیں۔
(28) تحمل اور تسلسل کے ساتھ محنت کرے، اللہ کامیاب کریں گے۔
(29) وہ لوگ بڑے بیوقوف ہوتے ہیں جو دوسروں کی تحقیر میں اپنی عزت سمجھتے ہیں۔
(30) حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمایا: اتحاد نام ہے اشتراک کا، نہ کہ انضمام کا۔
(31) اپنی انفرادیت باقی رکھتے ہوئے اجتماعیت میں شامل ہونے سے اتحاد پیدا ہوتا ہے۔
(32) ایک سالانہ جلسے سے سال بھر کے جرائم پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔
(33) حضرت مفتی سبیل صاحب، دامت برکاتہم نے فرمایا: یہ سرپرستی نہیں بلکہ زبردستی ہے کہ سرپرست سے کوئی مشورہ نہ کیا جائے۔
(34) ہمیں کسی مربی سے رابطہ پیدا کرنا چاہیے۔
(35) پڑھانے والے اندھوں کو بھی پڑھا دیتے ہیں، اور نہ پڑھانے والے صحت مندوں کو بھی بھگا دیتے ہیں۔
(36) حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے فرمایا: کریم ابن الکریم،ابن الکریم، یعنی حضرت یوسف علیہ السلام فرماتے ہیں: وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي اور ہم اپنے نفس سے بے خبر ہیں۔
(37) حضرت علی میاں رحمہم اللہ نے فرمایا: جہالت گوارا ہے، بے حیائی گوارا نہیں۔
(38) اپنی ذات کے لیے غیروں سے نہ مانگیں، ہاں طلبہ کے لیے کوشش کریں۔
(39) حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ایسے آدمی سے چندہ لو جسے اپنے چندے کی بے حیثیتی کا اعتراف ہو۔
(40) اغنیاء کے بجائے فقراء کے چندے پر زور دیا جائے۔
(41) باسی مطالعے سے تازہ فتنوں کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے؟
(42) مدارس کو جزیرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مدارس کی جڑیں اطراف و اکناف کے علاقوں میں ہونی چاہئیں۔
(43) نظام انجمن کے استحکام کے بغیر گونگے مولوی پیدا ہوں گے۔
(44) بچوں میں شرارت نہیں بڑھی، بلکہ ہم میں حلم کم ہو گیا۔
(45) امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: علم ڈھلان کی طرف آتا ہے، اونچائی کی طرف نہیں۔
2 747
https://youtu.be/TdZKmAkVAYc?si=v6LBuwlgOCVaY0no
*بیانِ جمعہ بعنوان عیادت کے آداب و احکام*
*خطاب مستطاب:* حضرت اقدس مفتی ابو القاسم نعمانی حفطہ اللہ و رعاہ
مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند
*بمقام:* مسجد قدیم، دارالعلوم دیوبند
*بتاریخ:* 16 صفر 1448ھ = 31 جولائی 2026ء
*پیش کش: دار المعارف النعمانیہ، للتحقیق و النشر*
https://linktr.ee/muftiabulqasimnomani
2 747
📱 *حاضری ایپ (DMS App)* 📱
کیا آپ کو اپنے مکتب یا مدرسے کے بچوں کی حاضری و غیر حاضری کے لیے ایک بہترین بلکل آسان ڈیجیٹل سسٹم کی ضرورت ہے؟ وہ بھی مکمل کنٹرول صرف آپ کےموبائل سے۔ 🤔
اگر ہاں، تو ابھی اس گروپ کو جوائن کرلیجیے! 👇
🔗 https://chat.whatsapp.com/HSmqGyXbBap9O1aftVYdcg?mode=gi_t
*✨ ایپ کی نمایاں خصوصیات ✨*
📲 سارا کام صرف آپ کے موبائل سے
👥 چار مختلف یوزرز کے لیے الگ انٹرفیس:
1️⃣ صدر یا مہتمم کے لیے 👨💼
2️⃣ اساتذہ / معلمین کے لیے 👨🏫
3️⃣ والدین یا سرپرست کے لیے 👨👩👧👦
4️⃣ خادمین / خزانچی کے لیے 💰
✅ بچوں کے داخلے کا مکمل نظام 📝
✅ روزانہ کی حاضری و غیر حاضری کا انتظام 🗓️
✅ والدین کے اعتماد کا بہترین ذریعہ 🤝
✅ فنانس اور مالیاتی نظام (آمدنی و اخراجات) 💵
✅ فیس کی وصولی کا آسان طریقہ 💳
✅ معلمین کی حاضری اور تنخواہ کا نظم 📑
✅ تعارف کے لیے پبلک پیج کی سہولت 🌐
...اور بہت کچھ! جو ایک پوسٹ میں بتانا ممکن نہیں
اگر آپ بھی اپنے مکتب، مدرسہ، مسجد یا اسکول کو منظم اور مؤثر بنانا چاہتے ہیں، تو اس ایپ کے بارے میں ضرور جانیں۔ 🚀
اس ایپ سے متعلق ویڈیوز اس لنک پر موجود ہیں 👇
https://youtube.com/playlist?list=PLvkamYdddMBs9u5ZYYWIdt3v6giSPIBKS&si=GGZo5xR6XFz-zSRM
رابطہ نمبر : مولانا عبید اللہ غازی
+919557237119
2 747
’’تربیتِ اطفال اور خیر کی بنیاد‘‘
عربی سے اردو ترجمہ
’’جان لیجیے کہ بہترین دل وہ ہے جو خیر کو سب سے زیادہ جذب کرنے والا ہو اور جس دل سے بھلائی کی سب سے زیادہ امید کی جا سکتی ہے وہ وہ ہے جس میں بچپن ہی سے شر داخل نہ ہوا ہو۔
اس لیے نصیحت کرنے والوں کے لیے سب سے اہم کام اور اجر کے طالبوں کے لیے *سب سے پسندیدہ چیز یہ ہے کہ وہ مومنوں کے بچوں کے دلوں تک خیر پہنچائیں* تاکہ وہ ان میں راسخ ہو جائے۔ اور انہیں دین کے شعائر اور شریعت کی حدود سے آگاہ کریں تاکہ وہ ان کے عادی ہو جائیں۔ ان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا عقیدہ رکھنا ان کے دلوں پر اور جن پر عمل کرنا ان کے اعضاء پر لازم ہے۔
کیونکہ روایت میں ہے کہ ’’بچوں کو اللہ کی کتاب کی تعلیم دینا اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بچپن کی تعلیم پتھر پر نقش کی مانند ہوتی ہے۔‘‘....حدیث میں آیا ہے کہ ’’بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں سرزنش کرو اور ان کے بستر الگ کر دو۔‘‘ اسی طرح مناسب یہ ہے کہ بچوں کو بلوغت سے پہلے ہی اللہ تعالی کے فرائض سکھا دیے جائیں تاکہ جب وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھیں تو دین ان کے دلوں میں گھر کر چکا ہو، ان کے نفس اس پر مطمئن ہوں اور ان کے اعضاء ان اعمال سے مانوس ہو چکے ہوں۔‘‘
(الإمام ابن أبي زيد القيرواني رحمه الله ٣٨٦هـ | المقدمة لكتابه الرسالة، صـ ٥٤)
