The Imam 2.0
📈 تحلیل کانال تلگرام The Imam 2.0
کانال The Imam 2.0 (@imamisback) در بخش زبانی اردو بازیگری فعال است. در حال حاضر جامعه شامل 11 458 مشترک است و جایگاه 17 116 را در دسته اخبار و رسانهها و رتبه 36 388 را در منطقه الهند دارد.
📊 شاخصهای مخاطب و پویایی
از زمان ایجاد در невідомо، پروژه رشد سریعی داشته و 11 458 مشترک جذب کرده است.
بر اساس آخرین دادهها در تاریخ 17 ژوئن, 2026، کانال فعالیت پایداری دارد. در ۳۰ روز گذشته تغییر اعضا برابر -278 و در ۲۴ ساعت گذشته برابر -7 بوده و همچنان دسترسی گستردهای حفظ شده است.
- وضعیت تأیید: تأیید نشده
- نرخ تعامل (ER): میانگین تعامل مخاطب 14.79% است و در ۲۴ ساعت نخست پس از انتشار، محتوا معمولاً 5.74% واکنش نسبت به کل مشترکان کسب میکند.
- دسترسی پستها: هر پست به طور میانگین 1 694 بازدید دریافت میکند. در اولین روز معمولاً 657 بازدید جمعآوری میشود.
- واکنشها و تعامل: مخاطبان بهطور فعال حمایت میکنند؛ میانگین واکنش به هر پست 18 است.
📝 توضیح و سیاست محتوایی
نویسنده این فضا را محل بیان دیدگاههای شخصی توصیف میکند:
“Join me for News and stolen memes”
به لطف بهروزرسانیهای پرتکرار (آخرین داده در تاریخ 18 ژوئن, 2026)، کانال همواره بهروز و دارای دسترسی بالاست. تحلیلها نشان میدهد مخاطبان بهطور فعال با محتوا تعامل دارند و آن را به نقطه اثرگذاری مهم در دسته اخبار و رسانهها تبدیل کردهاند.
در حال بارگیری داده...
| تاریخ | رشد مشترکین | اشارات | کانالها | |
| 18 ژوئن | +4 | |||
| 17 ژوئن | 0 | |||
| 16 ژوئن | 0 | |||
| 15 ژوئن | +1 | |||
| 14 ژوئن | 0 | |||
| 13 ژوئن | 0 | |||
| 12 ژوئن | +6 | |||
| 11 ژوئن | +6 | |||
| 10 ژوئن | 0 | |||
| 09 ژوئن | 0 | |||
| 08 ژوئن | +1 | |||
| 07 ژوئن | +1 | |||
| 06 ژوئن | 0 | |||
| 05 ژوئن | 0 | |||
| 04 ژوئن | 0 | |||
| 03 ژوئن | 0 | |||
| 02 ژوئن | 0 | |||
| 01 ژوئن | 0 |
| 2 | کولیگ: یارا جنگ ختم ہو گئی ہے؟
امام: ہاں فلحال کے لیئے تو ختم ہے۔
کولیگ: تو یہ جو جمعے کی چھٹی چل رہی ہے یہ تو جنگ کی وجہ سے تھی۔
امام: ٹینشن نا لے۔ نیتھن ب چ یاہو کی کنجرانا صلاحیتوں پر بھروسہ رکھ۔ وہ کچھ نا کچھ ضرور کرے گا۔ میرے کرن ارجن ضرور آئیں گے۔ | 526 |
| 3 | https://t.me/AMK_Mapping/31988 | 518 |
| 4 | کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور قانونی پیچیدگیاں
طویل قانونی عمل: مجرموں کو سزا دلوانے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔
مالی نقصان: اس دوران وکیل، کورٹ کچہری اور پیٹرول
کے اخراجات چھینے گئے سامان سے زیادہ ہو گئے۔
سامان کی ضبطگی کیس کا فیصلہ ہونے تک 10 لاکھ کا سامان اور موبائل فونز پولیس کے پاس ہی ضبط رہے۔
لائسنس یافتہ اسلحہ:شہریوں کے پاس موجود قانونی اسلحے پر بلاوجہ تنگ نہیں کرنا چاہیے تاکہ وہ خود اپنی حفاظت کر سکیں۔
فٹے منہ ایسے نظام انصاف پر | 497 |
| 5 | ویرے ، ایسا لگتا نہیں کہ اسرائیل کا مقصد اس ڈیل کو مکمل طور پر sabotage کرنا ہے اسکے بجائے لگتا ہے فحال اسکا مقصد ڈیل کی شرائط کو سخت سے سخت کروانا (جیسے ایٹمی پروگرام کے مسلسل معائنے کے قوانین ، میزائل پروگرام پر پابندیاں، ایرانی پراکسی کا غیر فعال کرانا وغیرہ ) اور زیادہ فوائد سمیٹنا ہے ۔۔اور جس قسم کی اپڈیٹس ہیں ان سے بھی مجھے یہی لگتا ہے کہ اسرائیل کے سخت بیانات صرف ایک سفارتی "بلف" یا سودے بازی (Bargaining) کی چال ہے ۔
آپ دیکھیں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ انہوں نے اسرائیل کو اس معاہدے کی شقوں سے دور رکھا ہے، محض ایک سیاسی بیان (Political Narrative) ہے تاکہ وہ امریکی عوام اور دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر امریکی مفاد میں آزادانہ لیا گیا ہے۔ دوسری جانب انکے داماد جے ڈی وینس اس ڈیل میں پیش پیش ہیں یہ ناممکن ہے کہ جے ڈی وینس جیسے کٹر اسرائیل نواز رہنما کی موجودگی میں کوئی ایسا معاہدہ تیار ہو جائے جس کی ایک ایک شق پر تل ابیب کے اعلیٰ حکام سے مشاورت نہ کی گئی ہو۔ تو یہ دعویٰ کہ اسرائیل اس ڈیل سے بے خبر ہے نری بکواس ہے حقیقت یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہے ۔۔۔۔پھر کل اور آج کے دو بیان دیکھیں ۔۔۔کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کے آج کا اور کل دیگر جی 7 رہنماؤں کا ۔۔۔یہ اس معاہدے کو ایسے ہی "گیم چینجر" نہیں کہہ رہے۔ اگر اس ڈیل کی بنیادی شقوں کو دیکھا جائے، تو ان سے سب سے بڑا سیکیورٹی ریلیف اسرائیل کو مل رہا ہے
اس ڈیل کا بنیادی نقطہ ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا ہے۔ یہ اسرائیل کا پچھلی کئی دہائیوں سے سب سے بڑا مطالبہ رہا ہے۔ اگر یہ ہدف بغیر کسی نئی جنگ کے حاصل ہو رہا ہے، تو یہ اسرائیل کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ پھر براہِ راست جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے ۔ اسرائیل بیک وقت کئی محاذوں پر نبرد آزما ہے جس سے اس کی معیشت اور فوج پر شدید دباؤ ہے۔ ایران کے ساتھ ایک بڑی اور تباہ کن جنگ (جیسے جیسے وقت گزرے گا ایرانی چھترول سامنے آتی جائے گی) کا فوری خطرہ ٹل جانا خود اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف ہے۔ پھر شمالی محاذ (لبنان) میں جنگ بندی ۔ اس سے اسرائیل کے شمالی علاقوں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں یہودی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے، یہ اسرائیلی حکومت کے لیے ایک سنگین اندرونی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پھر اسرائیل اس ڈیل کی مخالفت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے امریکہ سے مزید جدید ترین ہتھیاروں، ایف-35 طیاروں اور اربوں ڈالرز کے دفاعی پیکج کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یعنی مخالفت کر کے وہ امریکہ سے اپنی سیکیورٹی کی مزید پکی ضمانتیں وصول کر رہا ہے۔ پھر ایران کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سمندری راستے کھولے۔ اس کا فائدہ بھی اسرائیل کی معیشت اور اس کی بحری تجارت کو محفوظ بنا کر پہنچے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ڈیل اسرائیل کے حق میں ہے، تو وہ اس کے خلاف شور کیوں مچا رہا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ "سیاسی سودے بازی" ہے۔ اسرائیل جتنا زیادہ اس ڈیل کے خلاف شور مچائے گا، امریکہ پر اتنا ہی اخلاقی اور سیاسی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اسرائیل کو "مطمئن" کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ اسرائیل اس ناراضگی کے بدلے امریکہ سے جدید ترین ہتھیاروں کے نئے پیکج اور مستقبل کے لیے بڑی دفاعی ضمانتیں لے رہا ہے۔ ظاہری مخالفت کے ذریعے اسرائیل یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ ڈیل ایران کے لیے بہت نرم ہے، تاکہ ایران کے اندرونی حلقے یہ نہ سمجھیں کہ ان کے ملک نے کوئی کمزور ڈیل سائن کی ہے۔ ایرانی صدر کا بیان ان ہی حلقوں کے لئیے ہے اسپر پھر کھبی بات کریں گے | 468 |
| 6 | Gold crash | 397 |
| 7 | گڈ مارننگ | 397 |
| 8 | @admin Imam kabi socha na tha aise din bi aye gain 😔 | 402 |
| 9 | گڈ مارننگ اور شدید مزمت | 394 |
| 10 | گوادر پر نئی برتھوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کی گہرائی پر بھی کام ہونے والا ہے
دس پندرہ سال پہلے اس کی گہرائی چودہ ساڑھے چودہ میٹر تھی جو اب کم ہو کر تقریباً ساڑھے بارہ پر آ گئی ہے
اتنی کم گہرائی پر تو مشکل سے درمیانے درجے کے شپ لنگر انداز ہو سکتے ہیں
یہ بھی ہمیں اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا نے لالی پاپ دے رکھا تھا کہ گوادر دنیا کی سب سے گہری بندرگاہ ہے 😂
اس بات پر ایک سئنیر تجزیہ نگار سے اس کے کالم پر منہ ماری بھی ہو چکی ہے جو سال دو سال پہلے 92 نیوز میں چھپا تھا، چند دن پہلے فرحان ملک کی بھی اس معاملے پر تصیح کی ہے کہ گوادر پر بات کرنے سے پہلے اس کی حالت زار چیک کر لیا کرو | 385 |
| 11 | گوادر بندرگاہ اب کون سی مضبوط ہے؟؟
ساڑھے بارہ میٹر گہرائی اور چند برتھوں کے ساتھ پہلے وہ کونسا ٹاپ پر تھی؟؟ کراچی پورٹ اور بن قاسم پورٹ گوادر کے مقابلے کافی بڑی اور گہری بندرگاہیں ہیں۔ گوادر پر اس وقت تین چار برتھ ہیں جبکہ کراچی پورٹ پر , 40 چالیس ہیں بن قاسم پر بھی 15,20 ہونی۔
گوادر پورٹ پورے خطے کی سب سے چھوٹی بندرگاہ ہے اگر اس کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت کا فایدہ اٹھانا ہے تو اس پر کم از کم 50 برتھیں ہونا ضروری ہیں۔۔
ایران اگر سرمایہ کاری اور معاشی معاملات میں چین کے بجائے مغرب پر انحصار کرتا ہے تو یہ اس کی بھیانک غلطی ہو گی، اگلی جنگ میں اگلوں نے معاشی شہ رگ سے ہی پکڑنا ہے جو ایرانیوں سے برداشت نہیں ہو گا اور میرا نہیں خیال کہ ایرانی اتنے بے وقوف ہوں گے، ہاں اپ کو ایک ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے مختلف ممالک پر تھوڑا تھوڑا انحصار اچھی بات ہے لیکن چین سے موڑ کر مغرب پر کرنے کی تک سمجھ نہیں آتی۔
پاک ایران گیس پائپ لائن بھی کوئی بہت خوش آئند معاہدہ نہیں ہے، انتہائی مہنگے ریٹس پر ہم نے گیس لینی تھی۔ مطلب جتنی مہنگی گیس کا معاہدہ ہم نے قطر سے کیا تھا تقریباً ملتے جلتے ریٹ ہی ایران کے ساتھ طے ہوئے تھے۔
وہ تو عمران خان دور میں ہم نے قطر سے معاہدے پر نظرثانی کروائی جس کا اب ہمیں کافی فائدہ ہو رہا ہے، فی الحال قطری گیس ایرانی معاہدے سے بیس بائیس فیصد سستی مل رہی ہے۔
لہذا اگر ایران سے گیس لینی ہے تو نرخ پر نظرثانی کروا لیں، ساتھ یہ بھی شق ڈلوا لیں کہ ایران پر مستقبل کی کسی قسم کی امریکی پابندیوں کے بعد اگر پاکستان ایران سے گیس نہ خرید سکا تو ایرانی ہمیں جرمانہ نہیں کر سکیں گے۔ | 420 |
| 12 | Canadian Prime Minister Carney was caught on a hot mic with Trump.
He can be heard saying: “less than 3% of our product,” “49,000 cars,” “capped,” and “I thought you’d actually like that,” while making a cutting-off gesture before walking away. | 741 |
| 13 | @Middle_East_Spectator | 654 |
| 14 | شدید گڈ مارننگ یا امام | 803 |
| 15 | JD Vance on Iran:
Trump never said that his goal was to install Reza Pahlavi to become the new leader of Iran.
What he said is, if the Iranian people want to rise up, great. That's their business. That's between them and their government.
What we want is a cessation of their nuclear program.
Source: Megyn Kelly | 717 |
| 16 | عوقے | 711 |
| 17 | امام اس سے جو پکچر بن رہی ہے اسکے اثرات صرف چین یا پاکستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیکورٹی اور معاشی ڈھانچے کو بدل کر رکھ دے گی۔ انکل سیم کا یہ کارڈ دراصل ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ 300 بلین امریکی ٹیکس گزاروں کا پیسہ نہیں جبکہ جے ڈی وینس کے مطابق، یہ فنڈ خلیجی ممالک کے اتحاد اور یورپ و ایشیا کی نجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر مبنی ہوگا. اور اسکے ساتھ سخت شرائط بھی ہیں کہ پہلے تو جوہری پروگرام ترک کرنا یوگا اور ساتھ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اسکی رسائی بھی ۔۔۔پھر تجارتی راستوں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بھی فوری کھولا جائے گا وغیرہ ۔۔
دوسری جانب چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ تقریبا $400 بلین کا اسٹریٹجک معاہدہ کر رکھا ہے. اگر ایران کے تعلقات مغرب سے ہموار ہوتے ہیں تو ایران پر چین کی معاشی اجارہ داری ختم ہو جائے گی. ایران کو بھی بیجنگ پر انحصار کرنے کے بجائے عالمی برادری اور مغربی کمپنیوں کی صورت میں ایک بہت بڑا متبادل مل جائے گا۔ ان شارٹ جیو پولیٹیکل توازن ہل جانا ہے ۔ مڈل ایسٹ میں بی آر آئی (Belt and Road Initiative) کے تحت چین کا جو اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا، امریکہ اس فنڈ کے ذریعے اسے براہ راست چیلنج کر رہا ہے. بہت رامی ہیں انکل سیم
اب پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات میں ایک طرف تو پائپ لائن کی راہ ہموار ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اگر یہ معاہدہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے اور ایران پر سے امریکی پابندیاں ختم ہوتی ہیں، تو پاکستان پر پاک-ایران گیس پائپ لائن بلا خوف مکمل کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی دوسری جانب گوادر بمقابلہ ایرانی بندرگاہیں والا سین بن رہا ہے۔ ایران میں بیرونی سرمایہ کاری سے ایرانی بندرگاہیں گوادر کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہیں، جو سی پیک (CPEC) کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے. یہ ہمارے سفارتی توازن کا امتحان بن جانا یے ۔۔۔ پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے گہرے سٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے، اس نئے امریکی-خلیجی بلاک کے ساتھ بھی توازن قائم کرنا ہوگا.
آبنائے ہرمز کھلنے اور ایرانی خطرہ کم ہونے سے خلیجی ممالک کی اپنی تیل کی تجارت محفوظ ہو جائے گی۔تہران کے نرم پڑنے سے خلیجی ممالک اور اسرائیل کے مابین "ابراہام اکارڈز" کو مزید وسعت ملے گی۔ فٹے منہ ان پر یہ کٹا ابھی پھر سر اٹھائے گا
امریکی پابندیاں ہٹنے سے بھارت کی چاہ بہار بندرگاہ میں انویسٹمنٹ راتوں رات محفوظ اور انتہائی منافع بخش ہو جائے گی۔بھارت کو بھی پاکستان کو بائی پاس کر کے افغانستان اور وسطی ایشیا تک محفوظ تجارتی راستہ مل جائے گا۔ دوسری جانب بھارت کے لیے چین کو کاؤنٹر کرنے کے امریکی منصوبے میں حصہ بننا مزید آسان ہو جائے گا۔
اسرائیل کا ردعمل دیکھنے والا ہو گا وہ اس معاہدے کو آسانی سے ہضم نہیم کر سکے گا اسکی کوشیش رہے گی اگر ایران کو یہ فنڈ چاہیے تو اسے حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کی فنڈنگ مکمل بند کرنی ہوگی۔ وہ ایرانی پروکسی نیٹ ورکس کا خاتمہ چاہے گا خصوصا
عل (حزب اللہ، حوثی) انھوں نے اسکی بجا رکھی ہے | 701 |
| 18 | 🇱🇧🇮🇱 Hezbollah publishes drone strikes on Israeli tanks in southern Lebanon
Hezbollah has released new footage of FPV drone strikes on Israeli military vehicles in southern Lebanon. According to the material, a Merkava Mk.4M tank, M113 infantry fighting vehicle and Namer troop carrier were hit.
Larger concentrations of military equipment can also be seen in the video, some of which are equipped with simple protective nets. These are presented as potential targets for further attacks.
The publication highlights the increasing use of inexpensive drones against armored vehicles - a tactic that has proven effective in the Lebanon conflict.
#Israel #Lebanon
🔰 Don't miss out!
Subscribe here: @MilitaryNewsEN | 801 |
| 19 | 🇱🇧🇮🇱 Hezbollah drone attacks Israeli Merkava tank
In Zawtar al-Sharqiyah in southern Lebanon, Hezbollah said it attacked an Israeli Merkava tank. An “Ababil” FPV drone with fiber optic control was used, armed with a PG-7(L) anti-tank grenade.
The use of cable-controlled drones makes defense through electronic countermeasures much more difficult. The attack shows how Hezbollah retains offensive capabilities despite Israeli military operations in southern Lebanon.
#Israel #Lebanon
🔰 Don't miss out!
Subscribe here: @MilitaryNewsEN | 783 |
| 20 | میں نے اسرائیلیوں کو مشورہ دیا ہے کہ حزب سے نمٹنے کا کام شام کے حوالے کر دیں۔ وہ حزب کو بہتر طریقے سے ہینڈل کر لیں گے۔ ٹرمپ | 813 |
اکنون در دسترس! پژوهش تلگرام ۲۰۲۵ — مهمترین بینشهای سال 
