es
Feedback
علم و کتاب

علم و کتاب

Ir al canal en Telegram

علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri

Mostrar más
8 208
Suscriptores
-624 horas
+207 días
+6630 días
Archivo de publicaciones
*وفیات مورخہ:ستمبر /01)* 2006ء احمد سعید ناگی۔ ، 2009ء اختر پگانوالہ (میاں محمد)۔ ، 2014ء الیاس شاداں۔ ، 2001ء آذر زوبی (عنایت اللہ )۔ ، 1920ء بال گنگا دھر تلک (لوک مانیۃ تلک)۔ رہنما تحریک آزادی 2021ء ثاقب مظفر پوری (سید ثاقب حسین)۔ 1985ء حبیب صدیقی آلہ آبادی۔ ، 2003ء حمزعلوی۔ ، 1983ء سلیم احمد۔ ادیب 2001ء سید ثروت حسین۔ ، 2021ء سید علی گیلانی۔ کشمیری لیڈر 2003ء سید ہاشم رضا۔ منتظم بلدیہ کراچی 2013ء شبنم سبحانی ( سید عبد الباری)۔ ڈاکٹر 1952ء شری مشرووالا۔ 1952ء شری مشرووالا۔ ، 2005ء صداقت علی خان۔ ، 1990ء عبرت صدیقی بریلوی (تبارک علی)۔ ، 1990ء فرید الدین احمد خان۔ ، 2020ء قاضی محمد قاسم۔ مولانا 1971ء محمد امیر بندیالوی۔ 1985ء محمد ظفر اللہ خاں۔ سر 1994ء والس متھائس۔ Wallis Methias https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

”گیٹ وے آف انڈیا“ برطانوی استعمار کے فن تعمیر کا نمونہ،ایک  بےروح بوجھ جو بمبئی کے حسین ساحل پر ایک بھاری سِل کی طرح رکھا ہوا ہے ـ (روشنائی، سجاد ظہیر)

ایسی ہی بچکانہ اور سادہ لوحانہ عقیدت مندیوں نے کرامتوں کے سلسلے میں اہلِ عقل و فہم میں بڑا غلط رد عمل پیدا کیا ہے، کرامت یقینا برحق ہے لیکن کرامت سازی بالکل برحق نہیں، دوسرے پیغمبروں کو تو کیا کہیے کچھ سرورِ کائنات ﷺ کی پیدائش ایک کافر ہی دایہ کے ہاتھوں ہوئی اور پھر جسد ِ مبارک کو آغوش میںلے لے کر کھلایا، اگر ان کے ایک غلام کی پیدائش انگریز دایہ کے ہاتھوں ہو جاتی اور اس کافرہ کے ہاتھ اس بندۂ خدا کو چھو لیتے تو اس سے ان اوصافِ جمیلہ پر کیا داغ آسکتا تھا جنہیں اس بچے کے مستقبل میں مقدر کر دیا گیا تھا، متذکرہ واقعہ میں کوئی کرامت نہیں، اس طرح کے امور کو کرامت کا عنوان دینا مریض ذہنوں کا کام ہو سکتا ہے اور ایسی ہی غلو آمیزیاں حقیقی کرامات کو بدنام کرنے کا موجب بنتی ہیں۔ تبصرے کا لبِ لباب یہ ہے کہ چند جزئیات کو چھوڑ کر نہایت بلند پایہ، مفید اور ایمان افزا کتاب ہے، اللہ تعالیٰ مؤلف کو بہشت کی بہترین نعمتوں سے نوازیں۔ (ماہنامہ تجلی، مئی،۱۹۶۹ ء) ترتیب: معاویہ محب الله

یہ جلد مؤلف نے اپنی طویل بیماری کے زمانے میں تالیف کی ہے، مسودے کی ترتیب و تدوین کا کام دوسروں سے کرایا، اس کے اثرات جگہ جگہ موجود ہیں، بعض جگہ تشریح ادھوری، کہیں تعبیر و توضیح میں اغلاق و ابہام، کہیں عنوان کا تعلق معنون سے محلِ نظر۔ ’’بعض معجزات کی چھانٹ چھانٹ کر کے وہی روایات نقل کرنا....‘‘(صفحہ ۶۸) ’’کرکے‘‘ فصاحت سے گر گیا، صرف ’’کر‘‘ یا صرف ’’کے‘‘ کافی ہوتا۔ ’’ان دقائق کو وہ شخص کیسے ادراک کر سکتا ہے جو مؤرخین کی صف میں سے نکل کر محدثین کی جماعت میں گھسنے کی کوشش کرتا ہو....‘‘(ص ۷۶) ’’دقائق کو‘‘ تو خیر کتابت کا سہو ہے ’’کا‘‘ہوناچاہئے۔ لیکن یہ فقرہ اور اس سے متصل چند اور فقرے اپنے اسلوب اور الفاظ کے لحاظ سے شاید علمی شانِ گفتار سے نیچے اتر آئے ہیں، مولانا سید سلیمان ندوی ؒاتنے سخت ریمارک کے مستحق ہوں اسے ہمارا وجدان قبول نہیں کرتا۔ صفحہ۸۴ پر اکبر الہ آ بادی کے شعر میں پہلا مصرعہ شاید سہوِ کتابت سے نا موزوں نقل ہوا ہے۔ صفحہ۸۵ پر ’’اسنادوں‘‘ نظر آیا،پتہ نہیں اس طرح جمع الجمع بنانا درست بھی ہے یا نہیں، مثلا خیالاتوں اور مشاغلوں اور تفریحاتوں کہنا تو جائز نہیں معلوم ہوتا۔ ’’لیکن جس میں کہ حیات و شعور پہلے کبھی پیدا نہ ہوئی ہو‘‘(ص۱۰۷) شعور مذکر ہے، حیات و شعور دونوں کے اعتبار سے ’’نہ ہوئے ہوں‘‘ لکھنا بہتر تھا۔ صفحہ۱۶۸ پر حدیث نمبر۱۳۵۰ کا ترجمہ اہل علم کے لیے لائق غور ہے؛ ’’ عبد الرحمن ابن معاذ تیمی کہتے ہیں کہ حضور ﷺنے مقام منیٰ میں ہم کو خطبہ دیا تو ہمارے کان کھل گئے، دوسری روایت ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں رہتے تھے اور حضور ﷺکے ارشادات کو سن لیا کرتے تھے‘‘ ہمارے ناقص خیال میں راوی کا مطلب یہاں صرف ایک وقتی صورتحال کا ذکر کرنا تھا یعنی منیٰ میں جب حضور ﷺنے خطبہ دیا تو تمام حاضرین نے اسے پوری طرح سنا حالانکہ بعض لوگ اتنے فاصلے پر تھے کہ عام اعتبار سے حضورﷺکی آواز صاف صاف ان کے کانوں تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی، نحن فی منازلنا کا ترجمہ جہاں ’’ہم اپنے اپنے گھروں میں‘‘ہو سکتا ہے وہیں یوں بھی ہو سکتا ہے کہ’’ہم میں سے جو جہاں تھا وہیں اس نے حضور کا خطبہ سن لیا‘‘، فرق دونوں ترجموں کا یہ ہے کہ پہلا ترجمہ تو ایک معجزۂ مستقل اور اعجازِ مستمر کی خبر دیتا ہے یعنی اس خطبے کے بعد ہمیشہ ایسا ہوتا رہا کہ حضور ﷺ جہاں بھی بات کر رہے ہیں تمام صحابہ اپنے اپنے گھروں میں اسے سن رہے ہیں، یہ بات تو نہ صرف یہ کہ معتمد علیہ روایات سے ثابت نہیں بلکہ بہتیری روایات اس کی صاف تردید کرنے والی موجود ہیں اور معجزات کا بیان کرنے والے معروف اور معتمد علماء نے اس معجزے کی توثیق نہیں کی ہے۔ دوسرا ترجمہ یہ بتاتا ہے کہ صرف اس خطبہ منیٰ کے موقع پر یہ معجزہ پیش آیا کہ وادی منیٰ میں جتنے بھی صحابہ اس وقت موجود تھے وہ چاہے قریب رہے ہوں یا دور ؛ ان سب نے اس خطبے کو صاف صاف سن لیا۔ہم عرض کر چکے ہیں کہ معجزے کی حقیقت اور تعریف کی بحث میں مؤلف ہی کا نقطہ نظر صاف ہے، مگر بعض روایات ہم اس کتاب میں ایسی بھی پاتے ہیں جو علمی و فنی قوت اپنی پشت پر نہیں رکھتیں، واللہ اعلم بالصواب۔ مؤلف کے مقدمۂ کتاب سے قبل مؤلف کے صاحبزادے آفتاب احمد صاحب نے اپنے رفیع المرتبہ والد کے کچھ حالات بھی بیان کیے ہیں، اس میں مؤلف کے بعض اشعار بھی ہیں سبحان اللہ! دوسرے علوم کے ساتھ فن شعر میں بھی وہ پختہ گو نظر آرہے ہیں، نور اللہ مرقدہ۔ ویسے صاحبزادے کی حیثیت سے آفتاب صاحب اپنا اندازِ تحریر کچھ بدل لیتے تو بہتر ہوتا، ایک بیٹا جب باپ کی شان میں انتہائی ارادت مندانہ اسلوب اختیار کرتا ہے تو چاہے واقعتاً وہ مبالغہ نہ کر رہا ہو مگر ثقہ طبیعتوں کو یہ بات جچتی نہیں، گو ہمارا خیال ہے کہ ان سے مبالغہ بھی سرزد ہو ہی گیا ہے،مثلا ’’کرامات بر وقت ولادت‘‘کا عنوان دے کر بتایا گیا ؛ ’’حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سعادت و قبولیت کے آثار ولادت سے قبل ہی ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے، ولادت کے وقت لیڈی ڈاکٹر انگریز موجود تھی لیکن ولادت میں تاخیر ہو رہی تھی اس نے بہت سعی کی لیکن ناکام رہی، آخر کار اس نے کہا کہ اب تو آپریشن کرنا ہوگا جس میں بچے کا مر جانا ممکن ہے، آخرکار دادا صاحب مرحوم کو اجازت دینی پڑی اور اس نے آپریشن کی تیاری شروع کر دی، صرف اتنے وقفے کے لیے ایک مسلمان سعیدہ دائی آ بیٹھی، بس کیا تھا فورا ولادت ہو گئی، گویا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ انگریز کے ہاتھ میں ایسا جسم مبارک جو اتنی صفات کا مالک ہونے والا تھا دے دیا جائے، چنانچہ ان کا ایک مسلمان عورت کے ذریعے اس دنیا میں آنا مقدر ہوا‘‘(ص ،۱۷)

کھرے کھوٹے: مولانا عامر عثمانی ترجمان السنہ(چہارم) تالیف : مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ شائع کردہ: ندوۃ المصنفین،جامع مسجد دہلی، صفحات۵۱۴،سائز متوسط، کتابت معیاری، طباعت نیم معیاری، قیمت مجلد سولہ روپے۔ مولانا بدر عالم ایک اونچے درجے کے عالم اور صاحبِ کردار و تقوی بزرگ تھے، ’’تھے‘‘ کہتے ہوئے دل دکھتا ہے کہ ابھی تھوڑا ہی زمانہ تو گزرا جب ان کی مغتنم ہستی اپنی فیض رسانی کے ساتھ ہماری دنیا میں موجود تھی، مدینے میں مستقل رہائش اختیار کر لینے کے باوجود ہم دور افتادوں کو برابر ان کی گراں مایا تحریروں سے فیض پہنچتا رہا اور ان کی رفیع الشان تالیف ترجمان السنہ کی ہر نئی جلد نے اہلِ ذوق کو علم و تفقہ کا قیمتی سرمایہ عطا کیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے! بڑے متبع ِسنت اور ماحی ِ بدعت تھے، ترجمان السنہ جلد اول کا مقدمہ جو بجائے خود ایک تصنیف کی حیثیت رکھتا ہے؛ ان کی ظرف نگاہی کا شاہکار ہے، جس میں انہوں نے انکارِ حدیث کے فتنے کا بھرپور تعاقب کیا ہے۔ یہ جلد چہارم چار عنوانات پر مشتمل ہے؛ معجزات، کرامات، امام مہدی، دجال اکبر ؛ پہلی تین جلدوں کی طرح اس کا بھی وہی طرز ہے کہ اوپر متن ِحدیث، اس کے نیچے قدرے جلی قلم سے ترجمہ، اس کے نیچے مفید حواشی، حواشی کا کیا کہنا! اپنے جلیل القدر استاد علامہ انور شاہ کاشمیریؒ کے وسیع علم و مطالعہ کی جھلکیاں وہ ان حواشی میں چھوڑ گئے ہیں، لطف یہ ہے کہ فکری اور ثقافتی اعتبار سے قدامت کے دلدادہ ہونے کے باوجود ان کے اندازِ تحریر میں وہ فرسودگی نہیں ہے جو نئے ذہنوں کو بد مزہ کر دیں بلکہ بڑی طراری، بانکپن اور روانی ہے، تازگی اور رعنائی ہے۔ حقِ تبصرہ ادا نہ ہوگا اگر اس جلد چہارم کے مقدمے کا خصوصی ذکر نہ کیا جائے، یہ مقدمہ۱۲۳ صفحات میں پھیلا ہوا ہے، اس کا تعلق کتاب کے تمام ابواب سے نہیں بلکہ صرف بابِ اول سے ہے یعنی معجزات، دراصل اس مقدمے میں مؤلف نے مولانا سید سلیمان ندوی ؒکا نام لئے بغیر سیرت النبی کے اس حصے پر نقد کیا ہے جس کا تعلق معجزات سے ہے، ظاہر ہے ہم جیسا بے بضاعت اس کا اہل نہیں ہو سکتا کہ اپنے ان دو بڑوں کی بحث میں جج بن کر بیٹھے، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ علامہ اور شیخ ہیں، طاب اللہ سراھما! لیکن فرضِ تبصرہ کی ادائیگی کے تحت واجبی باتیں کہے بغیر چارہ بھی نہیں، مؤلف کے اس مفصل اور مدلل نقد و نظر سے معجزہ جیسے مہتم بالشان موضوع کے سارے ہی جلی و خفی گوشے خوب ابھر کر سامنے آگئے ہیں، اب یہ ہر قاری کا اپنا اپنا مذاق و معیار اور اندازِ نظر ہے کہ کہاں کہاں وہ کس رائے کو قوی یا کمزور تصور کرتا ہے، ہمارا خیالِ ناقص یہ ہے کہ موقف بنیادی طور پر مؤلف ہی کا مضبوط ہے، مولانا ندوی نے معجزات کے سلسلے میں تاویل و توجیہ اور تجزیہ و تحلیل کی جو خوبصورت اور متنوع کوشش سیرت النبی میں کی ہے اس کے سطحی حسن میں کلام نہیں، اس کا انشائی ہیولہ بھی بڑا پر کشش ہے، اس کے پیچھے حسنِ نیت اور جذبۂ خدمت بھی بلا ریب موجود ہے لیکن وہ فی الواقع کہیں کہیں صائب ترین نقطہ نظر سے کچھ ہٹی ہوئی ہے، اس کے مضمرات اور منطقی نتائج بعض اعتبار سے مغالطہ انگیزی کے امکانات سے لبریز ہیں اور ہو سکتا ہے کہ بہت سے ذہنوں میں اس نے معجزے کی ایک ایسی حقیقت اتار دی ہو جو حقیقت کم اور واہمہ زیادہ ہے، مولانا بدر عالم نے جس فکر کو زورِ استدلال اور قوتِ برہان کے ساتھ پیش کیا ہے ناچیز تبصرہ نگار کے خیال میں وہی فکر معجزات کے باب میں واحد صحیح فکر ہے، یہ الگ بات ہے کہ موصوف کا جوشِ نقد جب اس فکر کو اس کی بنیادی نقطے سے آگے لے کر چلا تو اس کی رفتار میں کہیں کہیں تھرتھراہٹ اور ناہمواری آتی چلی گئی۔ دوسرے یہ کہ مؤلف کا لب و لہجہ ذرا زیادہ پر خروش ہے، وہ احقاقِ حق کے جوش اور ابطالِ باطل کے جذبے میں کہیں کہیں ایک جوان العمر مبارز نظر آنے لگتے ہیں، اگرچہ ان جیسی شخصیت کو مولانا ندوی جیسی شخصیت پر برابر کی چوٹ نقد کرنے کا یہ یقینا استحقاق تھا، توہین یا تحقیر کا الزام ان پر نہیں لگایا جا سکتا لیکن ہم جیسے لوگ جو مولانا ندوی سے بھی گہری عقیدت رکھتے ہیں، یہ بہرحال حسرت کریں گے کہ کاش مؤلف کسی اور لہجے میں اپنی بات کہتے، بات بجائے خود جچی تلی ہے، نقد کا غالب حصہ علمی اعتبار سے گرانمایہ ہے، نقطہ نظر قوی اور واضح ہے لیکن شاید اپنے موقف کی صحت کے کامل یقین نے مؤلف کی آواز کو ذرا تند اور آہنگ کو کڑکدار بنا دیا ہے۔ یہاں کوئی خود ہماری تن گفتاریوں کا حوالہ نہ دے، ناچیز تبصرہ نگار تو ایک چھوٹا آدمی ہے، بوڑھا بھی نہیں ہے، وہ نرمی، تحمل اور شیری گفتاری کی حدیں فلانگ جانے کے مرض میں گفتار ہو تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں، بڑا مسئلہ یہ ان جیسے اونچے حضرات کے تعلق سے بنتا ہے جن کی علمی ثقاہت سے لوگ بڑے تحمل اور ٹھہراؤ کی امید رکھتے ہیں۔

عصری تقاضوں میں ادیب کا فرض سندھ کے معروف قلمکار، مولانا غلام محمد گرامی مرحوم لکھتے ہیں: بے شک یہ دور، عالمی نقطۂ نظر سے طوفان انگیز ہے۔ ہر جگہ امن و صلح، محبت اور بھائی چارہ کے متاعِ عزیز کو جھلسایا گیا ہے، ذہن و دماغ کی آبیاری کے سرچشمے خشک ہوچکے ہیں، انسان، انسان کو کاٹنے پر آمادہ ہوچکا ہے، عوام، حیران اور پریشان ہے۔ ایسے دور میں ادیبوں کا فرض ہے کہ وہ امن و صلح، محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے لیے تحریر اور تقریر کے ذریعہ جدوجہد کریں، زخمی دلوں کے لیے آبِ حیات پیدا کریں، جذباتی ماحول میں سکون اور امن پیدا کریں، حقائق اور معرفت کی روشنی میں اپنے شاہکار پیش کریں۔ تاکہ ذہنی اضطراب اور دماغی خلفشار دور ہو اور روحانی بالیدگی اور ذہنی آسودگی کا سامان پیدا ہو۔ اس دور کا یہی تقاضا ہے، اس ماحول کی یہی طلب ہے۔ کاش! ہمارا دانشور طبقہ، سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی کوشش کرے۔ (سہ ماہی مہران، ۳-١٩٦٨ء، صفحہ: ٣/مطالعاتی پیشکش و ترجمانی: طارق علی عباسی) https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

*وفیات مورخہ:اگسٹ /30* 1940ء احسن مارہروی ( سید شاہ علی احسن)۔ مولانا ، شاعر 1951ء جماعت علی شاہ علی پوری۔ مولانا، امیر ملت 1981ء محمد جواد باہنر۔ وزیر اعظم ایران 1981ء محمد علی رجائی۔ صدر ایران 1994ء محی الدین منیری۔ بانی جامعہ اسلامیہ بھٹکل، جامعۃ الصالحات بھٹکل 1998ء عبدالرؤف بریلوی۔ مولانا 1999ء مقصود علی خاں بنگلوری (میر)۔ وزیر ریاست میسور، مدیر سالار بنگلور 2006ء نجیب محفوظ۔ مصری ادیب 2007ء خورشید احمد۔ نعت خواں ، 2014ء محمد اسحاق مفتاحی۔ مولانا 2017ء امتیاز ساغر ( امتیاز احمد خان)۔ شاعر 2021ء سلیم قدوائی۔ مورخ 2022ء میخائیل گورباچوف۔ صدر سوویت یونین 2023ء محمد الفائد۔ مصری نژاد برطانوی تاجر https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

فیض الکتب، الدکتور عبد الحکیم الانیس

ہمارے بچپن میں نیلے اور لال رنگ کی دورنگی موٹی پنسل ملا کرتی تھی ، مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے معلوم ہوا کہ یہ در اصل مطالعہ کتب کی پنسل تھی،حضرت مولانا کے ابتدائی تعلیمی دور میں مصر وغیرہ کی نئی کتابیں کہاں دستیاب ہوتی تھی؟،اس زمانے میں مشکل سے جدید اسلوب میں لکھی استاد احمد امین مصری کی کتاب ”فجر الاسلام“ہاتھ آئی تھی، جس کی اہم اور دلچسپ عبارتوں کو آپ نے رنگین کرکے مکمل پڑھا تھا، اس طرح اہتمام سے کتاب پڑھنے کی وجہ سے احمد امین کی تحریر کے ادبی رنگ سے آپ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکےاور اسے نمونہ بنا کر آپ نے اپنی معرکۃ الاراء کتاب ”ماذا خسر العالم“ لکھی تھی، جس کا پہلا ایڈیشن لجنة التأليف والترجمة والنشر سے احمد امین نے شائع کیا تھا، جب آپ سے ملاقات میں مولانا نے انہیں ”فجر الاسلا م “ کی عبارتوں کو رنگین کرنے اور جگہ جگہ اس کے حاشیہ پر اپنے تاثرات قلم بند کرنے کا ذکر کیاتو استاد احمد امین نےمولانا کے اس نسخے کو دیکھنے کی بڑی خواہش ظاہر کی تھی۔ ایک قاری کسی کتاب کی اہم اور دل کو چھو لینے والی عبارتوں کو منتخب کرتا ہےتو اس کے معلوماتی ذخیرہ میں ایک طرح سے یہ اضافہ ہوتا ہے، اسے مخصوص ڈائری میں قلمبند کرنے کی عادت بہت مفید ثابت ہوتی ہے، یہ لاشعوری طور پر عبارت کی تکرار کے مماثل ہے ، کیونکہ ماہر ین نفسیات کے مطابق ایک مرتبہ لکھنا بیس مرتبہ پڑھنے کے برابر ہوتاہے۔ اس سے غیر شعوری طور پر منتخب عبارتیں یاد داشت کا حصہ بن جاتی ہے اور دوبارہ اس کتاب کو پڑھنے کی ضرورت کم ہی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ یہ منتخب عبارتیں سیاق و سباق سے وابستہ عبارتوں کو ذہن کے سامنے لے آتی ہیں۔ ہمارے مولانا شہباز اصلاحی مرحوم طلبہ کے تقریری مظاہروں میں علامہ شبلی ؒ کے دیباچہ سیرت النبی جیس مشکل عبارتوں کو یاد کروانے کے مخالف تھے، وہ کہتے تھے کہ اس سے بچوں کا وقت بہت ضائع ہوتا ہے، وہ دریافت کرتے تھے کہ کیا آپ نے ان مشکل تقاریر کو ازبر کرکے کسی طالب علم کو بڑا خطیب اور مقرر بنتے دیکھا ہے؟ دراصل طلبہ کو تقاریرایسی ازبر کروانی چاہئے جنہیں وہ آسانی سے سمجھ سکیں اور ان میں مستعمل جملوں کو آئندہ زندگی میںبرت سکیں، ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی نئے لفظ کو ذہن کے ذخیرے میں شامل ہونے کے لئے اسے کم از کم تین مرتبہ مختلف انداز سے زیر استعمال آنا چاہئے، کتاب لغت ازبر کر کے کوئی زبان کا ماہر نہیں بن سکتا ہے۔ حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آج سے چالیس سال قبل اس ناچیز کے استفسار پر بتایا تھا کہ ایک بہترین صاحب قلم بننے کا بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ قاری مطالعاتی زندگی کے آغاز میں کسی عظیم صاحب قلم کی جملہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرے، اس سے لاشعوری طور پر وہ اس مصنف کے فکر او راسلوب کو اپنے ذہن ودماغ میں سمولے گا اور چونکہ چند ایک اسالیب اور معلومات کی تکرار ہوتی رہے گی تو یہ حافظے میں محفوظ رہ جائیں گے، انہیں خاص طور پر ازبر کرنے کی محنت نہیں کرنی پڑے گی اور عبارتوں کو ازبر کرنے کا وہ فائدہ نہیں ہوتا ہے، جو اس طرح پرسکون حالت میں مواد کی تکرار سے ہوتا ہے۔ اس طرح کوئی آسان اسلوب میں لکھی ہوئی مؤثر کتاب ایک طالب علم نقل کرے تو اس کے بھی اسلوب اور تحریر پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ (جاری) WA: 00919008175269 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح؟( 06 ) تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) بڑی کتابیں جو مراجع اور ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہیں، اساتذہ وغیرہ تدریس کی ضرورت کے تحت ان کا مکمل مطالعہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، ورنہ عام قارئین سے اس کی توقع رکھنا مشکل ہوتا ہے، ایسی کتابیں عموما وقتاً فوقتاً اہم مسائل کے رجوع میں کام آتی ہیں، ان کتابوں سے تعلق اور مطالعہ ضروری ہےاور اس کا بہترین طریقہ وہی ہے جو اوپر قرآن و حدیث کے تعلق سے بیان ہوا ہے، ایک قاری کو زندگی میں پیش آنے والے مختلف مسائل کے تعلق سے ان مراجع میں تلاش جاری رکھنی چاہئے اور متعلقہ عبارتوں کو ایک مفتی کی طرح مناسب عنوانات کے تحت نوٹ بک میں جلد اور صفحات کے حوالے کے ساتھ لکھ کر محفوظ کرنا چاہئے، اس میں اس بات کا اہتمام بھی کرنا چاہئے کہ ایک صفحہ پر دو عنوانات کے تحت مواد درج نہ ہو، تاکہ ہر صفحہ ایک کارڈ کی حیثیت اختیار کرےاور موضوع سے متعلق مزید نظر میں آنے والی چیزوں کا اضافہ اس کے نیچے ہوتا رہے، جس کاپی پر لکھا جائے اسے مستقل نمبر دیا جائے اور صفحات کے نمبرات کا اہتمام کیا جائے، تاکہ آئندہ الف بائی ترتیب پر ان کی موضوعات کی ایک فہرست بنائی جاسکے۔ حاصل مطالعہ کے لئے جو بھی نوٹ بک منتخب کی جائے، وہ بہت معیاری ہونی چاہئے، جس میں آئندہ بیسیوں سال تک محفوظ رہنے کی صلاحیت ہوتاکہ جب آپ کے پاس ضروری مراجع دستیاب نہ ہوں تو یہ نوٹس آپ کے لئے ان کا نعم البدل بن سکیںاورقاری کی پیرانہ عمری میں جب ان پر نظر پڑے تو اسے اپنے اوقات کے اس مفید استعمال پر خوشی ومسرت ملےاور یہ اس کے لئے ایک یادگار بن جائے اور اللہ پوتے پوتیوں سے جب نوازے تو انہیں بھی شوق سے دکھا سکے۔ مطالعہ کا ذوق نہ ہونے کا ایک بہت بڑا سبب کتابوں کے انتخاب کی صلاحیت کا فقدان اور باذوق اور قابل مشیروں سے محرومی ہے، کوسنے والے اساتذہ عموما اپنی نااہلی کی وجہ سے اپنے طلبہ کے ساتھ ایسا رویہ اپناتے ہیں، انہیں نونہالوں کے مزاج اور میلان سے آگاہی نہیں ہوتی، بس مطالعہ کے لئے کہنا ایک فیشن بن گیا ہے، ورنہ ایسے اساتذہ کو عموما خود بھی مطالعہ کا ذوق نہیں ہوتا، ایسے اساتذہ اور رہنما عموما اپنے طلبہ کو بڑی مشکل اور غیر دلچسپ اور خالص مذہبی نوعیت کی کتابیں پڑھنے کے لئے کہتے ہیں، جو ایک غلط طریقہ کار ہے۔ ایک طالب علم جو سارا دن نصاب کی خشک کتابوں میں سرکھپاتا ہے، اسے مزید ایسی ہی خشک کتابیں پڑھنے کے لئے کہا جائے گا تو یہ اس کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا، طالب علم کو جب تک کتاب میں مزہ نہ آئے، وہ کبھی اسے ہاتھ نہیں لگائے گا، لہٰذا دماغ پر بوجھ نہ بننے والی دلچسپ کتابیں ذوق مطالعہ پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں، چھوٹے بچوں کو عموما کہانیوں اور کومیکس میں دلچسپی ہوتی ہے، یہ کتابیں ان کے خیالات بلند کرنے میں ممد و معاون بنتی ہیں، لہٰذا آسان کتابوں سے مطالعہ کا آغاز کروانا چاہئےاو راس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایسی کتابیں ان کے ہاتھوں میں دی جائیں جن کا آٹھواں حصہ ان کے لئے نیا ہواور باقی سات حصوں کی معلومات مختلف پیرایوں میں پہلے سے انہیں حاصل ہو، یاجنہیں بغیر استاد یا رہنما کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہو یعنی ایک صفحہ پرپانچ چھ سطر کے تناسب سے مواد ہی ان کے لئے اجنبی ہو، جب ایک قاری کسی کتاب کو پڑھنا شروع کردے گا تو جوآسان سات حصے ہیں ،وہ اس کی معلومات کو دہرانے کا سبب بنیں گےاور یہ معلومات کی تکرار کا کام لاشعوری طور پر کریں گےاور جو آٹھواں حصہ اس کے سامنے ایسا آیا ہے جو نیا ہے، یا استاد یا لغت کی مدد سے اس کی سمجھ میں آیا ہے، یہ تاجر کے منافع کی طرح ، اس کی معلومات میں اضافہ ہے۔ لہٰذا ایک قاری کو اپنے ساتھ ہائی لائٹ کرنے والی ایک لال اور دوسری پیلی یا کسی اور رنگ کی پنسل رکھنی چاہئے، جو بات چونکا دینے والی یا دلچسپ ہو اس پر پیلے رنگ سے اور جو قابل اعتراض ہو اسے لال رنگ سے ہائی لائٹ کرے اور حاشیے پر ان عبارتوں کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کرے۔

یادوں کا سفر (96+97) اخلاق احمد دہلوی

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، اپنے دور میں ریاست یوپی کے ایک مشہور ملی وسماجی رہنما تھے، آپ نے ڈاکٹر عبد الجلیل فریدیؒ، اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی رفاقت میں ایک طویل جد وجہد کی، آپ ملک کے کے مایہ ہفت روزہ ندائے ملت لکھنو کے مدیر بھی رہے، آپ کی وفات مورخہ : ۲۹ اگست ۲۰۰۳ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک یادگار ویڈیو تقریر پیش خدمت ہے۔ لنک https://www.youtube.com/watch?v=iVf6-20o29w&list=PL5AFF3B0018DDC975&index=19

عمر چھوٹی ملی شمع کو زندگی خوب صورت ملی جس کی عمر زیادہ ہوجائے وہ ’معمّر‘کہلانے لگتا ہے۔ کسی آباد مکان کا قصد کرنے کو ’عُمرہ‘ کہا جاتا ہے۔ کعبۃ اللہ ہر وقت آباد رہتا ہے، اسی وجہ سے اُس کی زیارت اور طواف و سعی کرنے کو اصطلاحاً عُمرہ کہتے ہیں۔ حج کرنے والا حاجی اور عمرہ کرنے والا ’معتمر‘ہوتا ہے۔ اب آخری بات۔ آبادی کو ’عُمران‘ کہا جاتا ہے۔ رہنے، بسنے، سماجیات اور معاشرت سے متعلق جو چیز ہو وہ ’عُمرانی‘ قرار پاتی ہے۔ انسان کی مدنی (یعنی شہری) زندگی، اُس کی تاریخ، ارتقا اور کیفیات سے متعلق علم کو ’علمِ عُمرانیات‘(Sociology) کہتے ہیں۔ کوئی قوم زبردستی کسی قوم کی زمین پر قابض ہوکر رہنے بسنے اوراپنا مقبوضہ علاقہ بڑھانے لگے تو وہ قوم ’استعمار‘(Colonizer) ہوتی ہے۔ اُس کی ہر چیز ’استعماری‘ (Colonial)کہلاتی ہے اورہر حکمتِ عملی ’استعماریت‘۔ گو اُردو میں ‘Colony’کے لیے ’نوآبادی‘ کا لفظ موجود ہے تاہم ’کالونی‘ کا لفظ بھی اُردو نے قبول کرلیا ہے۔ ’استعمار‘ سے آزادی کے باوجود وطنِ عزیز میں نئی نئی کالونیاںبنتی رہتی ہیں۔ پورا وطن ہی ’کالونی‘ بن گیا ہے۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ کالونی کے لیے ’مُستعمِرہ‘ کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ اس کی جمع ’مستعمرات‘ ہے۔ چوں کہ ’کالونی‘ کہنا مُستعمِرہ کہنے کی بہ نسبت سہل تھا، لہٰذا سہولت پسندوں نے استعماریت کی مزاحمت کے بجائے استعمار کی ’کالونی‘ بن جانا ہی قبول کرلیا۔ علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

*غلطی ہائے مضامین۔۔۔فریاد سے معمور ہیں ہم* * احمد حاطب صدیقی - August 28, 2026* کئی احباب نے توجہ دلائی کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اکثر ’مامور‘ کو ’معمور‘ لکھ دیتے ہیں۔ حکم دیا کہ اِس پر بھی کچھ لکھیے۔ صاحب کیا لکھیں؟ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کو زبان و بیان کی غلطیوں سے معمور رہنے پر مامور کردیا گیا ہے۔ ان کا تو وہی حال ہے کہ ’’سارے جہاں کا جائزہ، اپنی ’زباں‘ سے بے خبر‘‘۔ ممکن ہے کسی نے اُنھیں دھمکا دیا ہو کہ ’’میاں! درست اُردو لکھو گے یا بولو گے توتمھیں پیسے نہیں ملیں گے‘‘۔ یعنی دولت کا دروازہ تم پر ’معمور‘ ہوجائے گا۔ صاحبو! ’مامور‘ اور’معمور‘ ہم معنی نہیں ہیں۔ ’مامور‘ کے معنی متعین اور مقررکے ہیں۔ ’مامور کرنا‘ متعین کرنا، مقرر کرنا یا کوئی کام سپرد کرنا ہے۔ کسی عہدے یا کسی ذمے داری پر تعینات کرنا ہے۔ جب کہ ’معمور‘ بالکل الگ لفظ ہے۔ ’معمور‘ کے مختلف معانی ہیں۔ اُردو میں اس لفظ کا سب سے زیادہ استعمال جن معنوں میں ہوتا ہے وہ ہیں لبریز، بھرا ہوا، مملو یا پُر۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اقبالؔ نے خدا کے حضور شکوۂ اربابِ وفا اور خوگرِ حمد کا گلہ پیش کرنے سے قبل یہ عذر بھی پیش کیا تھا کہ ساز خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم سورۂ طور کی آیت نمبر چار میں ’’بیت المعمور‘‘ کا ذکر آیا ہے۔ ’بیت المعمور‘ فرشتوں کا خانۂ کعبہ ہے۔ ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے عین اوپر واقع ہے۔ روایات کے مطابق بیت المعمور سے کوئی چیز گرائی جائے تو وہ سیدھی آکر زمین پر واقع خانۂ کعبہ کی چھت پرگرے گی۔ ’’بیت المعمور‘‘ کی وجہِ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ ہر وقت فرشتوں سے بھرا اور آباد رہتا ہے۔ اس قدر پُرہجوم کہ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3207 کے مطابق اس میں ستّر ہزار فرشتے بیک وقت عبادت کررہے ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ جو فرشتہ اس میں سے نکل جاتا ہے اُس کو دوبارہ داخل ہونے کا موقع نصیب نہیں ہوتا۔ فرشتوں کے حرم کی طرح ہمارا کعبہ بھی ’بیت المعمور‘ ہے کہ ہمہ وقت زائرین سے بھرا رہتا ہے۔ ’بھرے ہوئے‘ کے معنوں میں نعت کے اس شعر میں لفظ ’معمور‘ کا استعمال دیکھیے۔ نہیں معلوم کہ شعر ہے کس کا، مگر ہے بہت اعلیٰ: نور سے معمور سینہ مہبطِ وحیِ سکینہ (دوسرے مصرعے کا مطلب ہے:’’سکون پہنچانے والی وحی کے نزول کامقام‘‘) معمور کے ایک اور معنی ہیں، مزیّن یا آراستہ۔اقبالؔ اپنی والدہ مرحومہ کی تربت پر یہ دُعا کرتے نظر آتے ہیں: مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا اسی طرح ’’شمع اور شاعر‘‘ میں اقبالؔ پیش گوئی کرتے ہیں: شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے معمور کے ایک اور معنی بند یا مقفل ہونے کے ہیں۔ میر تقی میرؔ کہتے ہیں: قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہوگیا میر انیسؔ بھی ہمیں یہی خبر دیتے ہیں :’’تھے شہر کے دروازے سرِ شام سے معمور‘‘۔ معمور کے سب سے بھرپور معنی ہیں آباد، بسا ہوا، مسکونہ یا لوگوں سے بھرا ہوا۔ اِنھیں معنوں میں اس زمین اور اِس دنیا کو بھی ’معمورہ‘ کہا جاتا ہے۔ معمورہ سے مراد ہے بھری پُری بستی۔ بہادر شاہ ظفر اپنی ایک غزل میں ؔخالقِ حقیقی کو مختلف مشورے دینے کے بعد اسی غزل کے مقطعے میں یہ سخن گسترانہ مشورہ بھی دے کے فارغ ہوگئے کہ روز معمورۂ دُنیا میں خرابی ہے ظفرؔ ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا اُدھر علامہ اقبالؔ اپنی نظم ’’شکوہ‘‘ میں خدا کے حضور اُمت کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے عرض پرداز ہیں کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے چھڑاکر انھیں ایک اللہ کا بندہ بنانے کے لیے بس مسلمان ہی دنیا بھر میں مارے مارے پھرے، ورنہ: اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی یہود و نصاریٰ نے اس معمورے کے باسیوں سے جو سلوک کیا اُس کا تعلق بھی لفظ ’معمور‘ ہی سے ہے، اس کا ذکر آخر میں۔ یہاں ’معمور‘ کا جو تعلق رہنے، بسنے اور آباد ہونے سے ہے، ان معنوں میں ’معمور‘ کے خاندان کے بہت سے الفاظ اُردو میں آباد ہیں۔ مثلاًرہنے کے لیے جو جگہ بنائی جاتی ہے اُسے ’عمارت‘ کہتے ہیں۔ عمارت بنانا ’تعمیر‘ کرنا ہے۔ تعمیر کرنے والا ’معمار‘ ہے۔ ان تعمیرات میں رہنے بسنے والا ’عامر‘ کہلاتا ہے جو خیبر پختون خوا میں رہ کر عامر خان ہوجاتا ہے۔ ’عامر‘ کا ایک مطلب بھر دینے والا اور مالامال کردینے والا بھی ہے۔ اسی وجہ سے شاہوں اور سلاطین کا خزانہ ’خزانۂ عامرہ‘ کہلاتا تھا۔ مراد تھی بھرا پُرا اور مالامال کردینے والا خزانہ۔ ہمارے ہاں کے ناموں میں سے ایک نام عمار بھی ہے۔ ’عمّار‘ مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے تاعمر قوی الایمان، بُردبار، صاحبِ وقار اوراَمر و نہی پر برقرار رہنے والا۔ دُنیا میں رہنے بسنے کے لیے جو مہلت دی گئی ہے وہ عُمر کہلاتی ہے۔ فنا ؔ نظامی کانپوری عمر اور زندگی کا فرق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں:

*وفیات مورخہ:اگسٹ /28* 1913ء عبد الجبار غزنوی۔ مولانا، سلفی عالم دین 1984ء محمد نجیب۔ کرنل، صدر مصر 1987ء احمد جمال پاشا۔ ادیب 1994ء عبد اللہ درخواستی۔ 1997ء صدیق احمد باندوی۔ مولانا قاری 2000ء کلیم عثمانی۔ 2002ء شفیع محمد جمن۔ گلوکار سندھ ، 2013ء محمد اسحاق۔ 2015ء بشریٰ فاروقی۔ کوہ پیما ، 2016ء محمد شفیع قریشی (عباسی)۔ بھارتی سیاست دان، گورنر 2017ء عبدالناصر۔ مولانا https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

آج اردو کے شاعر نظر حیدر آبادی کا یوم وفات ہے، آپ کی رحلت مورخہ: ۲۷ / اگست ۱۹۶۳ء کو ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کی آواز میں کلام پیش خدمت ہے: اس دور انقلاب میں کلام وآواز: نظر حیدر آبادی https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=daur-e-inqulab, Daur e Inqulab مزید کلام https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=nazar-hyderabadi&t= پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام

*وفیات مورخہ:اگسٹ /27* 1897ء عبد الغفار نشر مہدانوی۔ مولانا 1945ء نکلس، آر اے۔ انگریز مستشرق، مترجم مثنوی مولانا روم 1961ء فانی بدایونی، شوکت علی۔ شاعر 1963ء عنایت اللہ مشرقی۔ علامہ بانی خاکسار تحریک 1963ء نظر حیدرآبادی (حامد اختر)۔ شاعر 1967ء مسعود علی ندوی۔ مولانا، ناظم دار المصنفین اعظم گڑھ 1971ء ایم اے ایچ صدیقی (محمد عبدالحمید)۔ ڈاکٹر ، 1972ء محمد عثمان کلکتوی (سید)۔ قاضی 1976ء محمد اویس ندوی نگرامی۔ استاد تفسیر دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو 1982ء سید ابن حسن شاد۔ ، 1994ء عبد المنعم صالح العلي (محمد احمد الراشد)۔ عراقی مفکر 1998ء قیام الدین احمد۔ ڈاکٹر ، پٹنہ یونیورسٹی، مورخ 2000ء قمر جمیل (قمر احمد فاروقی )۔ شاعر ، 2008ء جعفر بلوچ۔ 2015ء ظفر حسین مرزا۔ جسٹس (ر) ، 2019ء نند کشور وکرم۔ ادیب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

*جلوہ ہائے پابہ رکاب ( ۵۷)۔۔۔ ہندی تلوار* *از: ڈاکٹر ف عبد الرحیم* میں جن دنوں سوڈان کی ام درمان یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا اس وقت ملک کے صدر اسماعیل الازہری تھے۔ ہماری یونیورسٹی کے مدیر ڈاکٹر کامل باقر سے ان کے اچھے روابط تھے۔ 1967ء میں صدر ازہری کا ہندوستانی دورہ عمل میں آیا۔ اس دورے میں ان کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی جانا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ان کی جو تقریر ہوگی اس میں ہندوستان کے ساتھ عربوں کے تعلقات کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔ چنانچہ ہمارے مدیر کے ذریعہ مجھ سے اس بارے میں رابطہ کیا۔ میں نے ان کو کچھ دلچسپ باتیں بتائیں تھیں جن کو انھوں نے اپنی علی گڑھ والی تقریر میں شامل کیا تھا۔ میں یہاں ان باتوں کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں: عربوں کے ہندوستان سے قدیم روابط تھے۔ عربوں میں ہندوستان کی تلوار بہت مشہور تھی، جو عربی میں المُهَنَّد کے نام سے جانی جاتی تھی، یعنی ہندوستان میں تیار کردہ تلوار۔ عرب شعراء نے اپنے اشعار میں اس کا خوب ذکر کیا ہے۔ چنانچہ جاہلی شاعر طرفہ بن العبد کہتا ہے: وَظُلْمُ ذَوِي الْقُرْبَىٰ أَشَدُّ مَضَاضَةً عَلَى الْمَرْءِ مِنْ وَقْعِ الْحُسَامِ الْمُهَنَّدِ یعنی: انسان پر اپنے رشتہ داروں کی طرف سے ہونے والا ظلم و ستم ہندوستان کی تلوار کی کاٹ سے زیادہ دردناک ہوتا ہے۔ صحابی رسول حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ اپنے نعتیہ قصیدہ البردہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فرماتے ہیں: إِنَّ الرَّسُوْلَ لَسَيْفٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ مَسْلُوْلُ یعنی: رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی کھنچی ہوئی ہندی تلوار ہیں جس کی چمک سے ماحول روشن ہو جا رہا ہے۔ جاہلی شاعر عَنْتَرَة بن شَدَّاد ہندوستانی تلوار کو «الحُسَامُ الهِنْدُوَانِي» کے نام سے یاد کرتے ہوئے کہتا ہے: خُلِقَ الرُّمْحُ لِكَفِّي وَالحُسَامُ الهِنْدُوَانِي یعنی: نیزہ اور ہندوستانی تلوار جیسے ہتھیار میرے ہی ہاتھ کے لیے بنے ہیں۔ جاہلی شاعر اَلأَعْشَى کہتا ہے: في فِتْيَةٍ كَسُيُوْفِ الهِنْدِ قَدْ عَلِمُوْا أنْ لَيْسَ يَدْفَعُ عَنْ ذِي الحِيْلَةِ الحِيَلُ یعنی: میں ایسے نوجوانوں کے ساتھ (میکدے گیا ہوں) جو ہندی تلوار کی طرح تیز ہیں، اور اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ تدبیر سے تقدیر ٹل نہیں سکتی۔ دوسرے مصرع کی ایک اور روایت یوں ہے: أَنَّ هَالِكٌ كُلَّ مَنْ يَحْفَى وَيَنْتَعِلُ یعنی: اور اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ ہر انسان کو مرنا ہے خواہ وہ ننگے پیر چلتا ہو یا جوتے پہنتا ہو۔ میں نے اسماعیل الازہری صاحب کو یہ بات بھی بتائی تھی کہ قرآن شریف میں جنت کی لذتوں کو بیان کرنے میں جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں ان میں سے تین الفاظ ہندوستانی نژاد کے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: 1- المِسْكُ (مشک): ارشاد باری ہے: ﴿يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ ﴿٢٥﴾ خِتَامُهُ مِسْكٌ﴾ [المطففین: 25-26] یعنی: ان کو ایسی شراب خالص پلائی جائے گی جس پر مہر لگی ہو گی۔ اس کی مہر مشک کی ہو گی۔ 2- الزَّنْجَبِيْلُ (ادرک / سونٹھ): ارشاد باری ہے: ﴿وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلاً ﴿١٧﴾﴾ [الدھر: 17] یعنی: اور وہاں ان کو ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ کی آمیزش ہو گی۔ 3- الكافور (کافور): ارشاد باری ہے: ﴿إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾﴾ [الدھر: 5]۔ یعنی: نیک لوگ ایسے جام سے مشروبات پیئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہو گی۔ ان آیات کریمہ میں مستعمل ہونے والے پہلے دو لفظ یعنی «مِسْكٌ» اور «زَنْجَبِيل» سنسکرت کے ہیں، اور تیسرا لفظ «کافور» جنوبی ہند کی زبان تمل سے ہے۔ یہ سب الفاظ عربی زبان میں داخل ہو کر عربی رنگ میں رنگ گئے تھے جنہیں عرب اپنی زبان میں استعمال کرتے تھے۔ صدر اسماعیل الازہری نے علی گڑھ میں اسی موضوع پر تقریر کی تھی جو بہت پسند کی گئی۔ ❧☙ https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B

چوتھی وجہ سب سے اہم تھی جس سے برطانوی راج ہل کر رہ گیا تھا اور وہ تھی فروری سن 46 میں ہندوستان کی بحری بغاوت۔ یہ بغاوت بمبئی سے شروع ہوئی اور اس نے کراچی، کلکتہ اور دوسری بندرگاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بحری فوج کے 78جہازوں کے بیس ہزار بحری فوجیوں نے اس بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کو فرو کرنے کے لیے آخرکار برطانوی راج نے ہندوستان کے سیاست دانوں کی مدد حاصل کی۔ آصف جیلانی کے تاثر کو قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ کی اس عبارت سے مزید تقویت ملتی ہے کہ" سارا برٹش انڈیا خانہ جنگی کی مہلک لپیٹ میں گھرا ہوا تھا۔ اس بڑھتے ہوئے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے وائسرائے کے وسائل خوفناک حد تک محدود تھے۔ جنگِ عظیم کی وجہ سے اعلیٰ انتظامی سروسز میں انگریز افسروں کی تعداد پہلے سے نصف رہ گئی تھی۔ برٹش گورنمنٹ کے "سٹیل فریم" (آئی سی ایس) میں پانچ سو سے بھی کم انگریز افسر تھے۔ ان کی اکثریت بھی آزادی سے پہلے ریٹائر ہو کر گھر واپس جانے کے لیے پر تول رہی تھی۔ ہندوستان پر برٹش ایمپائر کا سایہ قائم رکھنے کے لیے ان لوگوں نے بڑے بڑے معرکے سر کیے تھے۔ لیکن اب ایمپائر کا سایہ ڈھل رہا تھا۔ اب محض ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی قتال و جدال میں کوئی نمایاں حصہ لینے میں انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ہندوستان کی مسلح افواج میں بھی برٹش افسروں کی تعداد گیارہ ہزار سے گھٹ کر فقط چار ہزار رہ گئی تھی۔ گورافوج کے یونٹ بھی بڑی سرعت سے انگلستان واپس جا رہے تھے۔ کیونکہ جنگ کے بعد ملک کی تعمیر نو کے لیے برطانیہ کو اپنی افرادی قوت کام پر لگانے کی شدید ضرورت تھی۔ سول اور ملٹری وسائل کی اس تقلیل و تخفیف کے پیشِ نظر برصغیر کے بگڑتے ہوئے حالات پر کنٹرول رکھنا وائسرائے کے بس کا روگ نہ تھا۔ عوامی سطح پر کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ سیاسی سطح پر عبوری حکومت میں مسلم لیگ اور کانگریسی گروپوں کی باہمی کشمکش اور چپقلش روز بروز تلخ سے تلخ تر ہو رہی تھی انتظامی سطح پر غیر جانبدار اور مؤثر وسائل سراسر ناکافی تھے۔ ان تمام حقائق کا جائزہ لے کر لارڈ ویول اس نتیجے پر پہنچا، کہ برطانیہ کے لیے ہندوستان پر مزید حکومت کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس نے برٹش گورنمنٹ کے پاس پرزور سفارش کی کہ برصغیر کا اقتدار مقامی لوگوں کو منتقلی کر کے برطانیہ کو جلد از جلد اپنی اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔(شہاب نامہ ۔ 280۔281) آج ہندوستانی مسلمان جن حالات تک پہنچے ہیں، مسلم قیادت کو ان اسباب کا درک ہونا چاہئے، آج سوسال بعد محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کا پہیہ پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ رہا ہے، ماضی میں جو غلطیاں ہوگئیں ان پر آنسو بہانے اور کسی کو مورد الزام لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن اس سے ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے ان سے بچ سکتے ہیں ، اس کے لئے ہمیں اپنی تاریخ کو منقبت کے انداز میں پڑھنے کے بجائے، سنجیدہ ، تحقیقی اور غیر جانب دارانہ انداز سے اس کا مطالعہ اور تجزیہ کرکے سابقہ غلطیوں کو دہرائے بغیر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ 2026-08-25 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B