علم و کتاب
Відкрити в Telegram
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Показати більше8 183
Підписники
-724 години
+247 днів
+14230 день
Архів дописів
8 182
دوسرا عنصر ہے بلاغت۔ بلاغت کے لغوی معنی ہیں’پہنچنا،انتہا کو پہنچنا، یامقررہ حد تک پہنچ جانا‘۔ ادبی اصطلاح میں اس سے مراد ہے موقعے اور محل کے مطابق، سامع یا قاری کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے، بامقصد، مختصر اور مؤثر انداز میں بات کرنا۔بات کو قاری کے ذہن و قلب تک پہنچا دینا۔بلاغت کی بہترین مثالیں قرآنِ کریم کی معجزانہ آیات میںملتی ہیں۔ عربوں میں ’’قتل کے بدلے قتل‘‘ کا مقولہ رائج تھا۔ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 179میں قرآن نے ’’وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ‘‘( تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے)کے مختصر الفاظ میں وہ حقیقت بیان کردی جس پر کتابوں کی کتابیں تحریر کی جا سکتی ہیں۔ فصاحت و بلاغت کے متعلق اکبرؔالٰہ آبادی کیا خوب کہہ گئے:
سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں
اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
حاصلِ کلام یہ کہ اپنی تحریر میں اثر آفرینی کے لیے اگر آپ چار باتوں کا خیال رکھیں تو تحریر میں چار چاند لگ جائیں:
۱۔صداقت اور خلوص۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے۔یہ اثر آفرینی کی پہلی شرط ہے۔
۲۔ایجاز و اختصار۔ بات کو طویل اوراُکتا دینے والی چیزنہ بنانا۔ کم سے کم الفاظ میں اپنی پوری بات کہہ دینا۔ چھوٹے چھوٹے فقرے لکھنا۔’اطناب‘ یعنی بات کو لمبا کھینچنے یا گفتگو دراز کرنے سے بچنا۔ایسا نہ ہو کہ پڑھنے والا ضمیرؔ جعفری کی طرح اپنا سر ہی پیٹتا رہ جائے:
لکھنے والے مجھے تُو نے کیا لکھ دیا؟
خط لکھا یا خطِ استوا لکھ دیا
۳۔روانی اور تسلسل۔ تحریر میں دریا جیسی روانی ہونی چاہیے۔ جملوں کا آپس میں ایسا ربط ہو کہ قاری ایک جملہ پڑھے تو اگلا جملہ پڑھنے کے لیے بے چین ہوجائے۔پڑھنا شروع کرے تو پڑھتا ہی چلا جائے۔ روکے نہ رُک سکے۔
۴۔موقع محل کا لحاظ۔ خوشی کے موقعے پر شگفتہ اور غم پر درد انگیز اسلوب اختیار کرنا۔جلال کی جگہ جلال اور جمال کی جگہ جمال ہو۔
اگر آپ اپنے بیان یا تحریر میں اثر پیدا کرنا چاہتے ہیں، تومزید تین باتیں یاد رکھیے۔ایک یہ کہ جتنا وسیع مطالعہ ہوگا، الفاظ کا ذخیرہ بھی اتنا ہی وسیع اور پُرکشش ہوگااورجتنا اچھا مشاہدہ ہوگا تحریر اتنی ہی پُراثر ہوگی۔دوسری بات یہ کہ سادگی میں سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ پیچیدہ اور مشکل الفاظ کا زبردستی استعمال تحریر کو بوجھل بنا دیتا ہے۔مختصر جملے آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔اورتیسری بات یہ کہ لکھنے والے کو اپنی تحریر کے قاری کی نفسیات کا ادراک ہونا چاہیے۔علم ہونا چاہیے کہ وہ کس سے مخاطب ہے؟ بچوں سے، نوجوانوں سے، یا اہل علم سے؟
بہ شکریہ۔ فرائیڈے اسپیشل
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
غلطی ہائے مضامین
لکھنے والے مجھے تو نے کیا لکھ دیا؟
احمد حاطب صدیقی (ابونثر)
گفتگو کا موضوع تھا ’’اُسلوبِ بیان اور اثرآفرینی کا فن‘‘۔گفتگو کا مقام تھا ادارۂ معارفِ اسلامی، فیڈرل بی ایریا کراچی۔ اوراِس مہا بَکّو کو وہاں گفتگو کرنے کا موقع دیا تھا جناب محمودالحق صدیقی نے۔ ہوا یوں کہ گزشتہ ہفتے ادارۂ معارفِ اسلامی، کراچی نے اپنے کتب خانے کی سماعت گاہ میں اساتذہ، طلبہ اور محققین کے لیے سہ روزہ تربیتی تدریس کا اہتمام کیا۔ خطا اُن سے یہ ہوئی کہ تدریس کے آخری دن اِس کالم نگار کو بھی بطور مربی مدعو کرلیا۔ بس پھر اللہ دے اور بندہ لے۔ نشست دو گھنٹے سے زائد دورانیے پر محیط ہوگئی۔ مگر رہی بہت پُرلطف۔ سوالات ہوئے۔ جوابات دیے گئے اور اُسلوبِ بیان کی مثالیں دینے کو پُراثر اقتباسات، پُرتجسس قصے اور قہقہہ آور لطیفے سنائے گئے۔ بہرحال خوشی یہ ہوئی کہ اس ’خانقاہ‘ سے لوگ خوشی خوشی اُٹھے۔ اقبالؔ کی طرح غم ناک نہیں اُٹھ گئے کہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ۔
ساری گفتگو تو صفحے بھر میں سمیٹی نہیں جا سکتی۔ ہاں کچھ اہم نِکات ایسے ہیں جو ہمارے کالموں کے قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ چناں چہ چند ترامیم کے ساتھ اُس روزکی گفتگو کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ بس اسی ملخص کو آج کا کالم جانیے۔
صاحبو! ’بیان‘ کے بنیادی معنی ہیں کسی بات کی وضاحت، انکشاف یا کسی معاملے کو اپنے الفاظ میں پیش کرنا۔ گفتگو اور اظہار۔ قول، کلام، تقریر اورکسی بھی نکتے کو تحریری یا زبانی طور پر ’واضح کرنا‘۔ کسی موضوع یا واقعے کی تفصیل بتانا۔ ہاں، پولیس یا عدالت کے روبرو گواہوں اور مدعی کا اظہار بھی ’بیان‘ کہلاتا ہے۔ مگر اردو ادب میں ’بیان‘ سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے سے عبارت کو زیادہ فصیح اور واضح انداز میں اور مختلف طریقوں سے پیش کیا جاسکے۔ دیکھیے غالبؔ نے اپنے اشعار میں تصوف کے اسرار و رموز بیان کیے تو اس بات کو یوں پیش کیا:
یہ مسائلِ تصوف، یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
گویا بادہ خوار ہوتے ہوئے بھی چچا خود کو کسی ولی سے کم نہیں جانتے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ
اہلِ وَرَع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیل
پر عاصیوں کے زُمرے میں مَیں برگزیدہ ہوں
بات کو یوں بیان کرنا غالبؔ کا اُسلوب تھا۔ اُسلوب عربی الاصل لفظ ہے۔ اس کی جمع اسالیب ہے۔ لغوی معنی ہیں طریقہ، طرز، چال ڈھال اور اندازِ بیان۔ اسلوب طرزِ تحریرکو بھی کہتے ہیں۔ کسی مصنف، شاعر یا عام انسان کا بات کہنے یا لکھنے کا اپنا ڈھنگ، سلیقہ اور طور طریقہ۔ ہر ادیب کے لکھنے کا انداز یا اسلوب، اُس کے طرزِفکر اور مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلوب شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے، بلکہ یوں کہیے کہ اسلوب شخصیت ہی کا دوسرا نام ہے۔ (یہاں شرکا کو مولانا مودودی، ملا واحدی اور مختار مسعود کے اسالیب سے مثالیں دی گئیں۔)
اُسلوب پُرکشش ہو، تو بات قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ اسی کو ’اثرآفرینی‘ کہتے ہیں۔ فارسی مصدر آفریدن سے ’آفرینی‘ بنا ہے۔ آفریدن کا مطلب ہے پیدا کرنا۔ شیخ سعدیؔ کی مقبول کتاب ’’بوستان‘‘ کا آغاز ایک حمدیہ شعر سے ہوتا ہے:
بنامِ جہاں دارِ جان آفریں
حکیمے سخن بر زبان آفریں
دنیا کے مالک کے نام سے جس نے جان پیدا کی۔ وہ ایسی حکمت والا ہے کہ اس نے زبان میں بات کرنے کی طاقت پیدا کردی۔ ’اثر آفرینی‘ کا مطلب ہے متاثر کرنے کی صلاحیت۔ تاثیر پیدا کرنے کا عمل۔کسی بات، تحریر، یا کسی عمل کے ذریعے سے سامعین و ناظرین و قارئین کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑنا۔ انھیں متاثر کرنا۔ کسی شے کا اتنا پُراثر اورحسین ہونا کہ دیکھنے یا سننے والا اس کی طرف کھنچا چلا جائے۔ کسی اقدام یا کوشش کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہونا اور اپنے ہدف کو مؤثر انداز میں حاصل کرنا۔ یہ ’اثرآفرینی‘ میں شمار ہوتا ہے۔ شعر و ادب میں بھی اس ترکیب کا استعمال اسی تناظر میں ہوتا ہے۔ یعنی کلام میں ایسی معنویت و جذباتیت پیدا ہوجانا کہ پڑھنے والے کا دل چھولے۔
اسلوبِ بیان کیا ہے؟ موقعے اور محل کے مطابق موزوں ترین الفاظ کا استعمال۔ عمدہ طرزِ ادا۔ جملوں کی ساخت اور ان کا باہمی ربط۔ تشبیہات و استعارات کا استعمال۔ تحریر کو پُرکشش بنانے کے لیے علامتی انداز اختیار کرنا اور اپنے مخصوص انداز میں لکھنا یا بولنا وغیرہ۔
اُسلوب میں اثرآفرینی کے لیے متعدد عناصر سے کام لیا جاتا ہے۔مگر دو بنیادی عناصر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے پہلا عنصر ہے فصاحت۔ فصاحت کا لغوی مطلب ’ظاہر اور صاف ہونا‘ ہے۔ مگر ادب کی اصطلاح میں فصاحت سے مراد ایسی زبان، کلمہ یا کلام ہے جو بولنے اور سننے میں رواں، شستہ، اور بامحاورہ ہو، جس میں کوئی لفظ نامانوس نہ ہو، کوئی فقرہ کانوں کو ناگوار نہ گزرے۔ ہر جملہ قواعد کے مطابق ہو۔ سننے میں بھلا لگے اور زبان پر بھاری نہ پڑے، وغیرہ وغیرہ۔
8 182
’’اردو تنقید میں جن موضوعات پر ٹھوس گفتگو اور سوالات کی کمی رہی، ان میں ’منقبت‘ اور ’سلام‘ بھی سرفہرست ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ تشنگی نقدِ نعت کا مقدر بھی رہی مگر اب کئی گوشے سیراب ہوچکے ہیں۔ غلام مصطفیٰ دائم نے ’منقبت‘ اور ’سلام‘ کے مفہوم، موضوعات اور مسائل پر یوں قلم اٹھایا ہے کہ غیر اہم نکات کی تکرار سے محفوظ رہے اور کسی ضروری پہلو سے صرفِ نظر نہیں کیا۔ دائم نے جس طرح منقبت کے فکر و فن پر اثرانداز مذہبی، اخلاقی، تہذیبی، روحانی اور سماجی عوامل کا مطالعہ کیا ہے، اس کی اہمیت وقت کے ساتھ مزید واضح ہوگی اور اس کی روشنی میں جدید منقبت گوئی کے مسائل کو سمجھنا آسان ہوتا جائے گا۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ پیشِ نظر کتاب اردو کی مذہبی اصنافِ ادب، خصوصاً منقبت اور سلام کے علمی و تنقیدی مطالعے میں ایک اہم اور خوش آئند اضافہ ہے۔ اس میں تحقیق کی سنجیدگی، تنقید کا توازن، فکری وسعت اور اسلوب کی شائستگی یکجا ہوگئی ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب نہ صرف محققین، ناقدین، طلبہ اور تقدیسی ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگی بلکہ آئندہ منقبت اور سلام کی تنقیدی روایت کی تشکیل اور ارتقا میں بھی ایک معتبر اور ناگزیر حوالے کی حیثیت اختیار کرے گی۔
بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
8 182
*منقبت اور سلام: روایت، رسومیات اور جدید تناظر*
*ڈاکٹر محمد سہیل شفیق* - July 3, 2026
منقبت اور سلام: روایت، رسومیات اور جدید تناظر
مصنف : غلام مصطفیٰ دائم
صفحات : 140
قیمت: 900 روپے
ناشر : نعت ریسرچ سنٹر، کراچی
رابطہ : 03222668266
اردو ادب کی مروجہ تنقیدی روایت میں اگرچہ منقبت کو ایک مستقل صنفِ سخن کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے، تاہم اسے وہ علمی اور تنقیدی توجہ کبھی میسر نہ آسکی جس کی یہ بجا طور پر مستحق تھی۔ نعت اور مرثیے کے مقابلے میں منقبت پر تحقیقی و تنقیدی سرمایہ نہایت محدود، بلکہ بعض پہلوؤں سے ناپید محسوس ہوتا ہے۔ جو کچھ دستیاب ہے، وہ زیادہ تر تذکرہ نگاری کے روایتی سانچے میں منقبت گو شعرا کے تعارف تک محدود ہے یا پھر منتشر اور غیر منضبط مباحث پر مشتمل ہے۔ نتیجتاً اس صنف کی فکری اساس، موضوعاتی حدود، فنی تقاضوں اور جمالیاتی خصوصیات کو کسی جامع اور منہاجی تنقیدی مطالعے کا موضوع نہیں بنایا جاسکا۔
پیشِ نظر کتاب ’’منقبت اور سلام: روایت، رسومیات اور جدید تناظر‘‘ اسی علمی و تنقیدی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ، منظم اور قابلِ قدر کاوش ہے۔ جواں سال محقق اور بالغ نظر نقاد غلام مصطفیٰ دائم نے اس میں منقبت اور سلام، دونوں اصناف کا محض تعارفی جائزہ پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے فکری، فنی اور تہذیبی پس منظر کو جدید تنقیدی زاویۂ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
کتاب میں منقبت کے معنی و مفہوم، اس کے فکری تناظرات، رسومیاتِ متن سازی، فنی و موضوعاتی مسائل، جدید منقبت کے رجحانات، نیز سلام نگاری کے مفہوم، تشکیل اور ارتقائی مراحل کو تحقیقی استناد کے ساتھ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مصنف کی بنیادی کوشش یہ ہے کہ منقبت اور سلام کو محض اظہارِ عقیدت کی ادبی صورتیں قرار دینے کے بجائے انہیں ایک منظم فکری اور تہذیبی نظام کے طور پر دیکھا جائے۔ بالخصوص منقبت کی فکری حدود، موضوعاتی انسلاک، مظاہرِ عظمت کی شعری تشکیل اور تقدیس و ادب کے تقاضوں جیسے مباحث کو اصولی اور تنقیدی انداز میں واضح کرنے کی سعی اس کتاب کا نمایاں وصف ہے۔
دائم نے منقبت کے پورے تاریخی منظرنامے کا جائزہ لینے کے بعد اس کی درجِ ذیل جامع تعریف پیش کی ہے:
’’سابقہ انبیا و مرسلین، صحابۂ کرام، بالخصوص خلفائے راشدین، اہلِ بیتِ نبی ﷺ، اولیائے عظام اور مذہبی عقیدے کی بنیاد پر دیگر اسلامی ہیروز اور مذہبی شعائر کی مدح میں منظوم کلام کہنا، جو کسی مخصوص صنفی ہیئت کا پابند نہ ہو، منقبت کہلاتا ہے۔‘‘
اس تعریف کی توضیح و توجیہ کتاب میں دلائل کے ساتھ پیش کی گئی ہے، جس سے مصنف کے استدلال اور موضوع پر گہری گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔
جدید تقدیسی شاعری کے مطالعے میں مصنف نے اس اہم سوال پر بھی غور کیا ہے کہ معاصر تقدیسی شاعری اپنی مطلوبہ تاثیر سے کیوں محروم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک جدید تقدیسی شاعری کو عقیدے کے ناقابلِ فہم اور پراسرار پہلوؤں کی محض ’’بے عکس پرچھائیں‘‘ کی تجسیم نہیں بننا چاہیے، بلکہ اس میں فکری صداقت، جمالیاتی حسن اور روحانی تاثیر کا ایسا امتزاج ہونا چاہیے جو قاری کے قلب و ذہن دونوں کو متاثر کرسکے۔
اسی طرح سلام گوئی کے حوالے سے دائم نے واضح کیا ہے کہ:
’’سلام محض تحیت ہی نہیں بلکہ وہ صنفِ شعر ہے جو اسلامی تاریخ کے معرکہ ہائے حق و باطل میں اصابتِ حق کے جملہ مظاہر، خواہ وہ حضراتِ صحابۂ کرام ہوں یا اہلِ بیت، یا قرونِ اولیٰ کے دیگر مجاہدینِ حق کو اپنا فکری سرچشمہ بناتے ہوئے ہمہ گیر اقداری شعور کا اظہاریہ بنے۔‘‘
مصنف نے اس باریک نکتے پر بھی بصیرت افروز گفتگو کی ہے کہ سلام گوئی کس طرح رثائی ادب سے امتیاز حاصل کرتی ہے اور اپنی مستقل صنفی شناخت قائم کرتی ہے۔ شعری تنقید میں واقعۂ کربلا کے کرداروں کی تہذیبی معنویت پر غزل اور نظم کے حوالے سے اگرچہ متعدد ناقدین نے اظہارِ خیال کیا ہے، لیکن سلام گوئی کے تناظر میں اس نوعیت کا منظم تنقیدی محاکمہ نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے۔ دائم نے اس خلا کو پُر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔
فاضل مصنف نے قدیم و جدید تنقیدی مباحث سے استفادہ کرتے ہوئے منقبت کی رسومیات، شعری ساخت اور فنی جہات کا متوازن تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کا اسلوب علمی سنجیدگی، استدلال، اعتدال اور تحقیقی دیانت کا آئینہ دار ہے، جبکہ حوالہ جاتی استناد اور موضوع پر مضبوط گرفت کتاب کی علمی وقعت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تصنیف محض ایک تعارفی مطالعہ نہیں بلکہ آئندہ تحقیقی کاوشوں کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ممتاز نعت گو شاعر، محقق اور نقاد سید صبیح رحمانی نے بجا طور پر کتاب کی اہمیت کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھا ہے:
8 182
*وفیات مورخہ:جولائی/ 04*
1902ء سوامی وی ویکانند۔ آریہ سماجی لیڈر
1961ء عبدالغفار شاہ راشدی، سید۔ حکیم پیر
1972ء عبد الواحد آدم جی۔
1974ء خستہ دہلوی (ایس ایس فالس)۔ شاعر
1974ء سید اصغر علی غافل۔ ،
1974ء محمد اسماعیل سنبھلی۔
1974ء محمد امین الحسینی۔ مفتی فلسطین
1981ء مرغوب احمد۔ ،
1982ء رکن عالم صدیقی۔ ،
1991ء محمد یوسف۔ مولانا ، امیر جماعت اسلامی ہند
1994ء حنیف سولجر، محمد۔ ،
1996ء محمود سروش۔ شاعر، ادیب
1998ء زہیرا کرم ندیم۔ ،
2000ء الن فقیر (علی فقیر)۔
2011ء عمر درا ز ساجد۔ ،
2015ء عبد اللہ حسین۔
2018ء حافظ محمد طیب۔ مولانا
2020ء امان اللہ قاسمی۔ مولانا
2025ء شکیل فاروقی۔ صحافی، بروڈکاسٹر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
آج مورخہ: 4/ جولائی مولانا محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ سابق امیر جماعت اسلامی ہند کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 1991ء میں ہوئی تھی۔ آپ نے بڑے کٹھن وقت میں جماعت کی امارت سنبھالی تھی،آپ نے ایمرجنسی کی پوری مدت جیل میں گذاری، آپ بہت ہی پاک وصاف زندگی کے مالک تھے، ان شاء اللہ فرصت ملنے پر مولانا کے مشاہدات پر کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا، 1982ء میں اس ناچیز نے مولانائے مرحوم سے گذارش کی تھی کہ مولانا مودودیؒ کی تقریر تحریک اسلامی کے انتیس سال کی تکمیل کرتے ہوئے ہندوستان کی جماعت کی تاریخ پر مبنی ایک تقریر ریکارڈ کروائیں، جسے منظور کرتے ہوئے آپ نے ایک تقریر کی تھی، جس کا ایک حصہ پیش خدمت ہے، اس کے علاوہ ہم نے مولانا ابو الکلام یوسف سابق جنرل سکریٹری جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے بھی ایک تقریر ریکارڈ کروائی تھی، افسوس کے جماعت کے حلقہ نے اس نادر ریکارڈ کی قدر نہیں کی اور وہ ضائع ہوگئی۔
https://youtu.be/flw2OkBdDlg?si=kpP-F1sNwMzPV81R
8 182
*وفیات مورخہ:جولائی/ 04*
1902ء سوامی وی ویکانند۔ آریہ سماجی لیڈر
1961ء عبدالغفار شاہ راشدی، سید۔ حکیم پیر
1972ء عبد الواحد آدم جی۔
1974ء خستہ دہلوی (ایس ایس فالس)۔ شاعر
1974ء سید اصغر علی غافل۔ ،
1974ء محمد اسماعیل سنبھلی۔
1974ء محمد امین الحسینی۔ مفتی فلسطین
1981ء مرغوب احمد۔ ،
1982ء رکن عالم صدیقی۔ ،
1991ء محمد یوسف۔ مولانا ، امیر جماعت اسلامی ہند
1994ء حنیف سولجر، محمد۔ ،
1996ء محمود سروش۔ شاعر، ادیب
1998ء زہیرا کرم ندیم۔ ،
2000ء الن فقیر (علی فقیر)۔
2011ء عمر درا ز ساجد۔ ،
2015ء عبد اللہ حسین۔
2018ء حافظ محمد طیب۔ مولانا
2020ء امان اللہ قاسمی۔ مولانا
2025ء شکیل فاروقی۔ صحافی، بروڈکاسٹر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
*وفیات مورخہ:جولائی/ 04*
1902ء سوامی وی ویکانند۔ آریہ سماجی لیڈر
1961ء عبدالغفار شاہ راشدی، سید۔ حکیم پیر
1972ء عبد الواحد آدم جی۔
1974ء خستہ دہلوی (ایس ایس فالس)۔ شاعر
1974ء سید اصغر علی غافل۔ ،
1974ء محمد اسماعیل سنبھلی۔
1974ء محمد امین الحسینی۔ مفتی فلسطین
1981ء مرغوب احمد۔ ،
1982ء رکن عالم صدیقی۔ ،
1991ء محمد یوسف۔ مولانا ، امیر جماعت اسلامی ہند
1994ء حنیف سولجر، محمد۔ ،
1996ء محمود سروش۔ شاعر، ادیب
1998ء زہیرا کرم ندیم۔ ،
2000ء الن فقیر (علی فقیر)۔
2011ء عمر درا ز ساجد۔ ،
2015ء عبد اللہ حسین۔
2018ء حافظ محمد طیب۔ مولانا
2020ء امان اللہ قاسمی۔ مولانا
2025ء شکیل فاروقی۔ صحافی، بروڈکاسٹر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
بھٹکلیس یوٹیوب چینل کی پیشکش
اسباب عروج و زوال
(01)
ویڈیو بیان: مولانا سید سلیمان حسینی ندویؒ
آج سے اڑتیس سال قبل مورخہ 31-12-1988ء اہل بھٹکل کی ایک نادر تقریر کا پہلا حصہ
لنک
https://www.youtube.com/watch?v=oHjTDGl82Rc&t=128s
مزید تقاریر کے لئے ویزٹ کریں یوٹیوب چینل
Bhatkallys
8 182
عدد السنین والحساب۔
ان میں دو مضامین ایسے بھی ہیں جو مولانا مرحوم کے ابتدائی زمانے کی تحریریں ہیں، جب معارف میں شائع ہونے والے مضامین پر ان کا نام شائع نہیں ہوا کرتا تھا۔ مولانا نے ایک طویل مقالہ سورہ نمل پر لکھا تھا جو رسالہ طلوعِ اسلام میں بڑی قطع و برید کے بعد شائع ہوا۔ یہ مقالہ اپنی مکمل صورت میں آٹھ عنوانات کے ساتھ اس کتاب میں بھی شامل ہے۔
قرآن مجید کی تشریح و تفسیر کے باب میں مولانا مرحوم کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اسے یکسر نظر اندازنہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا بجا طور پر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ تشنگانِ علم و تحقیق مولانا کی عالمانہ اور سیرحاصل تشریح و تفسیر سے ضرور مستفید ہوں گے۔
8 182
"اعلام القرآن (مجموعہ مضامین)"
تحقیق و تصنیف : مولانا ابوالجلال ندوی،
تدوین و تہذیبِ نو: معظم جاوید بخاری ،
، صفحات:460، قیمت:1600 روپے،
پیشِ نظر کتاب دارالمصنفین اعظم گڑھ کے سابق رفیق اور ماہر لسانیات مولانا ابوالجلال مرحوم (1894ء۔1984ء) کی جدیداثری تحقیقات کی روشنی میں "اعلام القرآن" کے موضوع پر اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے۔
مولانا مرحوم کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں کے ساتھ قدیم زبانوں عبرانی اور سنسکرت کے بھی ماہر تھے۔ عبرانی پر اس قدر عبور حاصل تھا کہ اعلام القرآن میں عبرانی مآخذ کے براہِ راست حوالے اور جابجا عبرانی بائبل اور صحف ِبنی اسرائیل کے اقتباسات درج کیے ہیں۔اہلِ کتاب کے مآخذو مصادر پر مولانا پوری دستگاہ رکھتے تھے اور اہل ِکتاب کے مقدس اسفار براہ راست پڑھتے اور سمجھتے تھے ۔ مولانا مرحوم کئی ایک علوم میں یکتا تھے۔ البتہ لسانیات، علم الاشتقاق اور تقابل ِادیان مولانا کی دلچسپی اور تحقیق کے خاص موضوعات تھے۔مولانا کی تحقیقات،بالخصوص مضامین ِاعلام القرآن اور تنقیدی تبصرے ْباب التقریظ والانتقادٗ کے عنوان سے ماہنامہ معارف (اعظم گڑھ) کے صفحات کی زینت بنے۔
1949ء میں سید سلیمان ندوی کی فرمائش پر مولانامرحوم نے "اعلام القرآن" کے نام سے کتاب لکھنا شروع کی تھی جس کے وہ چند ہی مضامین لکھ پائے تھے کہ یہ سلسلہ رک گیا اور بوجوہ یہ کتاب مکمل نہ ہوسکی۔ پیشِ نظر کتاب میں وہ تمام مضامین شامل ہیں جو مولانا نے اس سلسلے میں پون صدی پہلے لکھے تھے اور ماہنامہ معارف (اعظم گڑھ) میں شائع ہوئے تھے، ان کے علاوہ دیگر مضامین بھی شاملِ کتاب ہیں جو قرآن ِ مجید کی تشریح و تفسیر پر مبنی ہیں۔ قرآن مجید کی تشریح و تفسیرکے حوالے سے مولانا مرحوم جمہور علماء سے مختلف رائے رکھتے تھے جس کا اظہار ان کے مقالات و مضامین میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ مضامین علمی و تحقیقی اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور اپنی پہلی اشاعت ہی پر پاک و ہند کے نامور اہل ِ علم ودانش سے خراجِ تحسین وصول کرچکے ہیں۔
قرآن مجید میں بیان کردہ انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات میں غیر معمولی اختصار پایا جاتا ہے۔ جسے بالعموم مفسرین اسرائیلی روایات سے پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ مولانا قرآن مجید کی تشریح و تفسیر کو بے سروپا دیومالائی اور مافوق الفطرت قصے کہانیوں کے بجائے عقلی دلائل اور جدید اثری تحقیقات کی روشنی میں دیکھتے تھے اور سابقہ طرزِ بیان سے اختلاف بھی رکھتے تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ مختلف آیات ِ مبارکہ کی تفسیر میں تحریف شدہ اسرائیلی روایات و قصص کے تسلسل نے ان کی حقیقی افادیت کو اوجھل کردیا ہے۔
مولانا مرحوم پر جن جن اہلِ علم نے قلم اٹھایا، انھوں نے ہمیشہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ کوئی ان بکھرے ہوئے مضامین کو یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کردے تا کہ قاری کو مختلف پرانے رسائل کی تلاش نہ کرنا پڑے جو اب کمیاب ہوتے جارہے ہیں۔ یہ سعادت جناب معظم جاوید بخاری کے نصیب میں لکھی تھی۔ انھوں نے اپنی تلاش و جستجو سے مولانا مرحوم کے اس موضوع پر تقریباً تمام دستیاب مضامین کو مرتب کردیا ہے۔ علاوہ ازیں مولانا مرحوم کے نواسے جناب یحییٰ بن زکریا صدیقی کی معاونت سے مولانا کے چند غیر مطبوعہ مضامین بھی کتاب میں شامل کردیے ہیں۔ اس طرح اس موضوع پر مولانا کے مطبوعہ و غیر مطبوعہ مضامین کا ایک عمدہ مجموعہ مرتب اور شائع ہوگیا ہے۔جس کے لیے فاضل مرتب لائق ِ تحسین ہیں۔ بخاری صاحب اس سے قبل مولانا کے دیگر متفرق مضامین کو "جمع المتفرقات" کے عنوان سے مرتب اور شائع کرچکے ہیں۔جس کا ذکر ان ہی صفحات (فرائیڈے اسپیشل، 28جولائی 2023ء) میں پیش کیا جاچکا ہے۔
پیش نظر کتاب میں مولانا عبدالجلال ندوی کے درجِ ذیل مضامین شامل ہیں:1۔ آغازِکلام، 2۔ اللہ، رحمٰن، رحیم، 3۔ تخلیقِ آدم کے مراحل، 4۔ عربی زبان کا فلسفہ لغت، 5۔ آذر۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد، 6۔ داستانِ خلیل علیہ السلام، 7۔ بکہ مبارکہ، 8۔ شہر بابل، 9۔ ہاروت و ماروت، 10۔ گو سالہ سامری، 11۔ السّامری ، 12 ۔ ایذائے موسیٰ علیہ السلام، 13۔ حضرت ایوب علیہ السلام، 14۔ الرّوم، 15۔ بشاراتِ دانیال علیہ السلام، 16۔ سورہ روم کا اندازِ استدلال، 17۔ سنگِ شبام، 18۔ نمل اور نملۃ، 19۔ طٰس۔ نشان زدہ مستحق ِنجات لوگ، 20۔ یدِ بیضاء و عصائے موسیٰ علیہ السلام، 21۔ ذکرِ سلیمان علیہ السلام، 22۔ وادی نمل، 23۔ قصہ نملہ، 24۔ النمل کی وجہ تسمیہ، 25۔ ملکہ سبا، 26۔ فزعِ اکبر۔ سورہ سبا، 27۔ ذوالکفل علیہ السلام، 28۔ مریم بنتِ عمران، اخت ہارون علیہ السلام، 29۔ تاریخِ یمن پر ایک سطر، 30۔ کتبات حصن غراب، 31۔ عمرو بن عامر عرف مزیقیا کے عہد کا سیل ِعرم، 32۔ جنت ِسبا، 33۔ اسرائیل، وجہ تسمیہ اور تاریخ، 34۔ اصحاب الاخدود، 35۔ اصحاب الفیل کا واقعہ، 36۔ اصحاب الفیل کا واقعہ (تصحیح)، 37۔ ذو حجر، 38۔ فرقلیط موعود اور محمدﷺ، 39۔
8 182
اسباب عروج وزوال (01)
خطاب: مولانا سید سلمان حسینی ندوی ؒ
31-12-1988ء کو احباب بھٹکل میں ہوئے خطاب کی پہلی قسط
https://youtu.be/_5jtcL5PQMY?si=ISgpruskJ00tHWkp
8 182
* جلوہ ہائے پابہ رکاب (۵۴ )۔۔۔ امتحان کے پرچے میں کہنی کا نقشہ*
*از: ڈاکٹر ف۔ عبد الرحیم*
میں جس وقت جامعہ اسلامیہ میں پڑھا رہا تھا، شعبۃ اللغۃ (غیر عربوں کو عربی سکھانے کا ادارہ) میں ایک پاکستانی طالب علم کا داخلہ ہوا۔ وہ عام طالب علم نہیں تھے وہ ایک فوجی تھے اور ان کا نام میجر اسلم تھا، حالانکہ وہ بڑی عمر کے تھے لیکن استثنائی طور پر ان کو داخلہ دیا گیا۔
شعبۃ اللغۃ کا کورس ختم کرنے کے بعد انہوں نے کلیۃ الدعوۃ میں داخلہ لیا۔ چار سال کے بعد وہ فارغ التحصیل ہو گئے۔ فائنل امتحان کے فقہ کے پرچے میں ان کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ پیش آیا۔ پرچے میں وضو کے احکام پر ایک سوال تھا۔ ظاہر ہے اس میں اعضائے وضو کا ذکر ہونا تھا۔ انہوں نے سب کچھ ٹھیک طور پر لکھ دیا، لیکن ان کو اس وقت «مرفق» یعنی کہنی کا لفظ یاد نہیں رہا۔ جب لفظ یاد نہیں آیا تو انہوں نے کہنی کا نقشہ بنا دیا، اور لکھ دیا: ”یہاں تک“۔ ممتحن شش و پنج میں پڑ گئے، اس جواب کا نمبر دیں یا نہ دیں۔ انہوں نے خود اس کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں سمجھا، اور اس مسئلہ کو امتحان کی خصوصی کمیٹی کی صوابدید پر چھوڑ دیا۔ کمیٹی نے غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ طالب علم کو اس جواب کے پورے نمبرات ملنے چاہئیں۔ یہ پرچہ فقہ کا ہے اور طالب علم نے وضو کے صحیح احکام بتا دیے ہیں۔ جب اس کو «مرفق» کا لفظ یاد نہیں آیا تو اس نے نقشہ کے ذریعہ اپنا عندیہ واضح کر دیا ہے۔ اگر یہ پرچہ عربی زبان کا ہوتا تو اس کو نمبر نہیں ملتا۔ لیکن فقہ کے پرچے میں اس نے وضو کے احکام صحیح طور پر واضح کر دیے ہیں، اس لیے اس کو مطلوبہ نمبر دیے جائیں گے۔ کمیٹی کے اس فیصلہ کے بعد طالب علم کو پورے نمبر مل گئے اور وہ کامیاب ہو گئے۔
فراغت کے بعد مکتب الدعوۃ کی طرف سے ان کا تعین امریکہ کے شہر بالٹی مور میں ہوا ۔ کچھ دنوں بعد ایک مجرم کے ہاتھوں ان کا قتل ہو گیا۔ رحمہ اللہ وغفر لہ۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
*وفیات مورخہ:جولائی/ 02*
1918ء میاں شاہ دین۔
1950ء ہوسف مہر علی۔ میئر ممبئی
1982ء کامل القادری (سید شاہ محمد )۔
1990ء ارشد حسین ندوی۔ ڈاکٹر
1992ء مامین محمد ی۔ پروفیسر
2003ء مختار زمن۔ براڈکاسٹر، ادیب
2019ء محمد اسرائیل ندوی۔ عالم حدیث
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
*وفیات مورخہ:جولائی/ 01*
251ء دقیانوس۔ رومن شہنشاہ
1277ء الملک الظاہر رکن الدین بیبرس۔
1941ء نجم الغنی خان رامپوری نجمی۔ مورخ
1962ء پرشوتم داس ٹنڈن۔ وزیر اعلی اتر پردیش
1968ء زیبا ردولوی (علی حسنین رضوی)۔ ،
1974ء آل مصطفی ماہروی۔ سید العلماء (بریلوی مکتب فکر)
1983ء محمد صالح لہڑی۔ ملک
2002ء اقلیم اختر۔ جنرل رانی
2007ء فرید احمد برکاتی، سید۔ ڈاکٹڑ
2022ء نہاد یاسین محمود الموسی۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
دور الداعية الإسلامي في المجتمع المعاصر. للشيخ سلمان الحسيني الندوي
https://youtube.com/watch?v=UL6ejy4RO1U&feature=shared
8 182
سچی باتیں (20؍جنوری 1941ء(۔۔۔ موت کی گھڑی
از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
دہلی۔ 6؍جنوری ۔ صبح کُہرا خوب پڑرہاہے۔ دن نکل آیا۔ آفتاب بلند ہوگیا۔ فضا اب بھی بدستور دُھندلی۔ لیکن ریل اور جہاز اور ہوائی جہاز بھلا کہیں ان موسمی اور فضائی تغیرات سے رُک سکتے ہیں۔ اپنے وقتِ مقرر پر، ’’برٹش اُوَرسیز ایرویز‘‘ کا طیارہ اُڑا، اور ہَوا میں بلند ہوکر اُس نے لاسلکی سے خبردی، کہ اوپر کی فضا بالکل صاف ہے، کُہرے کی…صرف ایک ہزار فٹ کی ہے۔ اب باری دوسرے طیارہ کی آتی ہے۔ یہ مشین ’’انڈین نیشنل ایرویز‘‘ کی ہے۔ طیارہ پردومسافر سوا، اور دونوں اعلیٰ انگریز افسر۔ طیّارچی ایک ماہر فن آزمودہ کارمسلمان۔ طیّارہ اُڑتاہے، لیکن اُڑتے ہی پھر زمین پر اُترنے کی نیت سے چکّر کاٹنے، منڈلانے لگتاہے۔ہوائی اسٹیشن دور کچھ بھی نہیں، لیکن قبل اس کے کہ امداد کسی قسم کی پہونچ سکے، مشین دھماکہ کے ساتھ زمین سے ٹکراتی ہے، اورمعًا آگ لگ جاتی ہے۔ دَم کے دَم میں مشین جل کر خاکستر، اور تینوں زندہ ہستیاں مردہ!……امداد کی ساری کوششیں ناکام، انسانی تدبیر وحکمت کی ہر طبع آزمائی بے اثر۔ تقدیر کی فرماں روائی ، شہنشاہی، جوں کی توں قائم، بلکہ دائم!
لندن۔6؍جنوری ۔موسم خراب ہے۔ لیکن آج اُڑنے والی بھی تو دنیائے ہوابازی کی وہ شہرۂ آفاق خاتون مس ایمی جانسن (کچھ عرصہ تک ’’مسز‘‘ السین رہنے کے بعد پھر ’’مس‘‘ جانسن ہوجانے والی ہیں، جو لندن سے آسٹریلیا تک ، لندن سے کیپ ٹاؤن تک،لند ن سے امریکہ تک، لندن سے ٹوکیو تک اُڑان کے ’’ریکارڈ‘‘ پر ’’ریکارڈ‘‘ قائم کرچکی ہیں، اور خدا معلوم کتنے ماہر فن مَردوں کومات دے چکی ہیں۔ انھیں موسم کی خرابی کی کیا پروا۔ کہتی ہوئی اُڑیں کہ ’’میں ابھی بادلوں کو پارکرکے ان کے اوپر پہونچی جاتی ہوں‘‘۔ اور پھر سفر بھی ان کا کوئی بڑا اور لمبا نہیں۔ کُل ایک گھنٹہ کا ارادہ۔ پٹرول احتیاطًا اتنی مقدار میں لے لیا، جو بجائے ایک گھنٹہ کے پونے پانچ گھنٹے کے لئے کافی ہوسکے۔ اب ڈر ہی کیا۔ لاسلکی جہاز میں موجود ہے۔ منٹ منٹ کی خبر زمین والوں کو مل سکتی ہے……مس صاحبہ زمین سے بلند ہوگئیں، اور راستہ بھول گئیں، سمت نہ پہچان سکیں۔ گھنٹہ کی جگہ دو گھنٹہ ، تین گھنٹہ، چارگھنٹہ، یہاں تک کہ پونے پانچ گھنٹہ پورے گزر گئے۔ پٹرول ختم ہوگیا۔ اور میم صاحب ہوائی چھتری کے سہارے دریائے ٹیمس میں کودیں، ایک انگریزی کشتی نے دیکھا، اور وہ مدد کے لئے تیزی سے چھپٹی۔ فرشتۂ قضا کی رفتار اس سے بھی تیز تر تھی۔ قبل اس کے کہ انسانی امداد پہونچ سکے، موصوفہ دریا کے آغوش فنا میں پہونچ چکی تھیں!……کشتی کے کپتان جومدد کے لئے دوڑے تھے، خود گردابِ فنا میں آگئے۔ ایک موٹر کشتی خود ان کے امداد کے لئے پہونچی، لیکن کپتان صاحب اسپتال پہونچتے پہونچتے ختم تھے!
ایک ہی تاریخ میں،لندن اور دہلی دونوں جگہ ایک ہی قسم کے عبرتناک واقعات، چشم بصیرت کے لئے کوئی معمولی ہیں؟ اور عبرت کے لئے تو مومن وکافر کی کوئی قید نہیں۔ سبق اپنی بسی کا، اور قادر مطلق کی قدرتِ کاملہ کا، مسلم وغیر مسلم سب ہی کے واقعاتِ موت وہلاکت سے لیا جاسکتاہے……اوریہ مشاہدے تواُن لوگوں کے بے بسی اور بے کسی کے ہیں، جو ہرطرح زور والے اور طاقت والے، عقل والے اور حکمت والے ہیں، غرض اگر فرعون بھی ہیں تو ’’ہامان‘‘ ۔ چہ جائیکہ ہم لوگ جو زور وطاقت سے محروم اور تدبیر وحکمت سے معرّٰی ہیں! ہم اگر اپنی ظاہری تدبیروں پر ذرا بھی غرہ کرنے لگیں، توہم سے بڑھ کر صحیح معنی میں ’’فرعون بے سامان‘‘ اور کون ہوگا؟ وقت موعود کا آنا برحق ، لمحہ ودقیقہ کی پابندی کے ساتھ آنا برحق، مبارک ہیں جو اس اٹل گھڑی کو یادرکھیں، اپنے ہرقول اور ہر عمل میں،بدنصیب ہیںوہ جو اس گھڑی کو دَور سمجھیں، اور اپنے کو بھلاوے اور دھوکے میں ڈالے رکھیں!
https://telegram.me/ilmokitab
8 182
امام شافعیؒ بھی شریکِ درس تھے ـــــ مسئلہ اور اس کا جواب سنتے کے بعد ان کے ذہن میں ایک خلش باقی رہ گئی تھی ۔ وہ استاد کے علم اور ان کی عقل و رائے پر بے حد اعتماد کرتے تھے انہیں استاد کے فقہی فیصلے کا احترام بھی آخری حد تک تھا۔ لیکن اس احترام و اعتماد کی جڑیں شخصیت پرستی میں نہیں حقیقت شناسی اور اُصول پسندی میں تھیں ۔
یہ خالص علمی و دینی تقاضوں کا وہ عظیم دَور تھا جب شریعت کے مسائل دو پیسے کی روشنائی سے نہیں خونِ دل و جگر سے تحریر کیے جاتے تھے۔ جب مفتی کی نظر میں دار الافتاء کی مسند پر بیٹھنا ایسا ہی نازک کام تھا جیسا خدا کے آگے جائے نماز پر دست بستہ کھڑا ہونا ـــــ جب شخصیت پرستی کی آنکھیں اندھی نہیں ہو چکی تھیں ، بلکہ دیدہ و دل کی روشنی میں اصول و حقائق کا جائزہ لیا جاتا تھا۔ چنانچہ استاد کے جواب سے امام شافعیؒ کی تسلّی نہ ہوئی علمِ دین کے آداب نے انھیں اطمینان سے بیٹھے رہنے کا مشورہ نہیں دیا وہ بے چینی کے ساتھ چُپکے سے اُٹھے اور جانے والے سائل کو کچھ دور پرجا لیا تو آہستہ سے سوال کیا:
تمہاری قمری کا صحیح حال کیا ہے ـــــ ؟ یعنی وہ اکثر بولتی ہے یا بیشتر چپ رہتی ہے ؟"
دِل شکستہ اور مایوس شخص نے ایک نوجوان عالم کی یہ بات سُنی اور امام مالکؒ کے فتوے کے بعد اس نوجوان کو کوئی اہمیّت دیے بغیر جواب دیا:
"وہ اکثر بولتی ہے ـــــ ہاں کبھی کبھی چپ بھی رہتی ہے ۔"
"پھر تو مطمئن رہو" امام شافعیؒ کا چہرہ خوشی سے کھل گیا " تمہاری بیوی کو طلاق نہیں ہوئی ۔"
"اچھا!" سائل کا مُنہ کھلے کا کھلا رہ گیا ـــــ لیکن امام شافعیؒ اس کے بعد ایک منٹ کے لیے رُکے بغیر پھر اسی جگہ درس میں آکر بیٹھ گئے ۔ وہ شخص کشاں کشاں ان کے پیچھے آیا اور امام مالکؒ کے پاس آکر تشویش اور اُمید کے انداز میں عرض کیا
"جناب والا ـــــ ! میرے معاملے پر پھر سے غور فرمائیے۔ "
امام مالکؒ اس کی واپسی کا کوئی خاص مطلب اس کے سِوا نہ سمجھے کہ یہ ذہنی پریشانی میں اس طرح مارا مارا پھر رہا ہے اس لیے اس کی اس خلل اندازی پر خفا ہونے کے بجائے پوری پوری دردمندانہ توجہ کی گئی اور مسئلے کا وہی جواب دُہرا دیا گیا ۔
"لیکن حضرت !" سائل نے حیرت اور دبی دبی شکایت کے انداز میں امام شافعیؒ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " یہ نوجوان شخص جو آپ کے درس میں شریک ہے ابھی ابھی میرے پیچھے آیا تھا اور مجھ سے پوچھا تھا کہ میری قمری اکثر بولتی ہے یا اکثر چُپ رہتی ہے اور پھر میرا جواب سُن کر اس نے مجھے اطمینان دلایا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔۔۔۔۔"
شاگرد کی اس قطعاً غیر متوقع جرأت کو سُنا تو امام مالکؒ چونک اُٹھے ـــــ قمری کے بولنے کے سلسلے میں ان کی مخصوص نازک مزاجی کو ٹھیس لگی اور کسی قدر برہمی کے ساتھ فرمایا:
"آخر اس میں یہ کثرت وقلت کی کیا بحث ہے ......؟"
ذہین اور انتہائی حسّاس شاگرد نے موقعے کی نزاکت محسوس کی اور فوراً ایسا جواب عرض کیا کہ سچّی بات کہ دی گئی اور اُستاد کی قدر و منزلت میں بھی ذرا فرق نہ آنے دیا ـــــ عرض کیا:
"آں جناب ہی نے مجھے عبداللہ بن زیاد کے حوالے سے یہ روایت تلقین فرمائی تھی کہ فاطمہ بنت قیس آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا کہ معاویہؓ اور ابو جہمؓ نے مجھے شادی کا پیام بھیجا ہے ۔ فرمائیے کس کا انتخاب کروں ـــــ ؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ معاویہؓ تنگ دست ہے اور ابو جہمؓ کبھی کاندھے سے لکڑی نہیں اُتارتا ـــــ حالاں کہ حضور ﷺ جانتے تھے کہ ابو جہمؓ سوتا بھی ہے اور دیگر ضرورتوں میں بھی مصروف ہوتا ہے ۔ بس اسی کی روشنی میں مَیں نے یہ فتویٰ دیا کہ چوں کہ قمری اکثر بولتی ہے اس لیے نہ غلط بیانی ہوئی اور نہ طلاق واقع ہوئی ۔"
مسندامامت پر بیٹھے ہوئے امام مالکؒ ایک شاگرد کے اس حق کوشانہ تفقہ پر خوشی اور فخر سے جھوم اُٹھے ـــــ احقاقِ حق کا خیر مقدم کرنے کے لیے وہ کس خوشی سے شاگرد کے سامنے بھری محفل میں ہتھیار ڈال رہے تھے ـــــ
"ہاں بھائی" اُنھوں نے سائل کی طرف رُخ کیا " ہاں بھائی ! جاؤطلاق نہیں ہوئی۔ شافعیؒ کا استدلال صحیح ہے ۔"
شاگردِ رشید کے حق کوشی اور دقیقہ سنجی کی اتنی ہی پذیرائی پر بس نہ کیا بلکہ اعلان فرما دیا کہ ائندہ بھی اس شخص کو افتاء کی مخصوص اجازت دی گئی۔
______
)جاری(
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
8 182
*کیا ہم مسلمان (٤٣)خون دل و جگر سے ہے سَرمایۂ حیات (دوسری قسط)*
*تحریر: شمس نوید عثمانیؒ*
مکّے میں پہلے تو عربوں کے دستور کے مطابق ان کی ہوش مند ماں نے انھیں "حسب و نسب کا علم"حاصل کرنے بھیجا ـــــ اس کی تحصیل کے فوراً ہی بعد ماں کی بہترین مامتا نے حکم دیا کہ " جاؤ اب علمِ دین کی خوشہ چینی کرو ـــــ" چنانچہ حضرت امامؒ نے مکّے کے شہرہ آفاق مفتیوں کی مجلس میں زانوے ادب تہہ کیا ـــــ بچپن اور لڑکپن کے زمانے ہی سے عالموں کی باتوں کو ہڈیوں پر لکھ لکھ کر ہیرے جواہرات کی طرح محفوظ رکھنے والا عظیم علمی مجلسوں میں پہنچا تو دیدہ و دل فرشِ راہ کر دیے ۔
مکّے کے بڑے ہی جوہر شناس فقیہ مسلم بن خالد زنجیؒ نے پہلی ہی نظر امام شافعیؒ کے جوہر پرکھ لیے تھے ـــــ چنانچہ مسلسل تین سال تک اس زرخیز مٹی پر علمی فیوض کی بارش کرنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ امام مالکؒ کی مجلس اسے مل گئی تو اس قیمتی جو ہر کو کُندن بنا دے گی ۔ ادھر خود امام شافعیؒ امام مالکؒ کے لیے بے چین تھے ۔ اُستاد کی زبان سے ان کے کمالات کے تذکرے سُن سُن کر انھیں امام صاحبؒ کی ذات سے غائبانہ عقیدت ہو چکی تھی۔ اُستاد کا حکم پاتے ہی وہ مدینے کی طرف چلے تو چاہنے والے استاد نے ایک غیر معمولی سفارشی خط بھی ساتھ کر دیا ۔
شوق کی فراوانیوں میں انھوں نے ڈرتے ڈرتے حضرت امامؒ کے دروانے پر دستک دی:
"آپ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں ؟“ ایک مہذب خادمہ نے دروازے سے پر اگر پوچھا اور نام وغیرہ معلوم کر کے گھر میں واپس چلی گئی ۔ اس کے جواب میں امام مالکؒ باہر تشریف لائے ان کی بزرگانہ شفقت اور حسنِ اخلاق کی سنجیدہ اداؤں نے امام شافعیؒ کے دل پر بلا کا اثر کیا۔ اب انھوں نے وہ تعارفی خط نکالا جس میں استاد نے اپنے شاگردِ رشید کی صلاحیتوں کا بڑی اہمیت سے ذکر کر کے لکھا تھا کہ :
"یہ آپ کی علمی برکات سے مستفید ہونے کا واقعی مستحق ہے۔"
مگر یہ دیکھ کر امام شافعیؒ چکرائے اور سہم گئے کہ یہ خط پڑھتے پڑھتے امام مالکؒ کے چہرے پر خوشی اور قدرشناسی کے بجائے غم و غصّہ اور روحانی کبیدگی کے درد ناک آثار ظاہر ہورہے ہیں خط ختم کرتے کرتے ان کے جذبات کی یہ کیفیت ہو گئی کہ یہ خط زمین پر پھینک دیا اور دل ریشی کی شدید کیفیت میں رو دینے کے انداز سے فرمایا:
الله الله !! کیا …… اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اس قابل ہو گیا ہے کہ اسے سفارشوں کے ذریعے حاصل کیا جائے ۔""
پہلے ہی قدم پر اس طرح امام مالکؒ کی بارگاہ میں پہنچ کر امام شافعیؒ نے علمِ دین کے آخری آداب سیکھے ۔ موقع کی اس نزاکت کو سنبھالنے کے لیے اپنی بے نوائی اور علمی تڑپ کا اظہار کر کے اتنے حسین انداز میں معذرت چاہی کہ امام مالکؒ اپنے غم و غصہ کو بُھول گئے اور قدرشناسی کی بے لوث تڑپ کے ساتھ ان پر سر سے پاؤں تک نظر ڈالتے ہوئے پوچھا:
"تمھارا نام کیا ہے ؟"
"محمد بن ادریس " امام شافعیؒ نے سر جھکائے ہوئے جواب دیا ۔
ایک لمحہ کے لیے دونوں طرف گہری خاموشی چھا گئی اور پھر حضرت امامؒ کی یہ دل نشین آواز سنائی دی جو زندگی کا پہلا بنیادی درس بھی تھی اور کامیابی کی آخری دعا بھی ۔
"اتّق الله ـــــ ! فسيكون لك شان ـــــ خدا سے ڈرتے رہنا ـــــ ! تاکہ عن قریب تمھیں خاص درجہ عطا ہو-"
علم دین کے احترام کے لیے اُستاد کی بھی وہ ذکاوتِ حس تھی جس نے امام شافعیؒ کو کتاب وسنت کے سامنے سراپا ادب و نیاز بنا چھوڑا تھا۔ حد یہ ہے کہ درس کے دَوران میں وہ کتابوں کے ورق الٹتے تو اس کا پُورا خیال رکھتے کہ ان کی ہلکی سے ہلکی سرسراہٹ بھی اس گہری خاموشی میں خلل انداز نہ ہونے پائے ۔ آخر " با ادب بانصیب ۔" ہونے کی وہ منزل بہت جلد آ گئی جہاں امام مالکؒ جیسے محتاط فقیہہ نے شاگرد کو افتاء کا کلیدی مقام عطا کر دیا۔
واقعہ یوں پیش آیا ـــــ
امام مالکؒ کے حلقۂ درس میں کسی نے آکر یہ مسئلہ پیش کیا کہ:
"میں قمریوں کا تاجر ہُوں ـــــ ایک شخص کے ہاتھ ایک قمری فروخت کی اور یہ بھی کہا کہ قمری خوب بولتی ہے ۔“ تھوڑی دیر بعد وہ خریدار واپس آیا اور شکایت کی کہ قمری نہیں بولتی ـــــ بات گرما گرم بحث و مباحثہ تک پہنچ گئی اور جوش کے عالم میں میرے منہ سے یہ نکل گیا " میری قمری کبھی خاموش نہیں رہتی اگر رہے تو میری بیوی کو طلاق ہے ـــــ"
تمام اہل مجلس نے یہ واقعہ گہری دل چسپی اور قلبی تشویش کے ساتھ سُنا ۔ یہاں تک کہنے کے بعد اس نے بے چارگی کے دُکھ بھرے انداز میں امامؒ سے پوچھا:-
فرمائیے میری بیوی کو طلاق تو نہیں ہوگئی .....؟" "
"تمہاری بیوی کو طلاق ہوگئی" امام صاحبؒ نے سائل کو یہ درد ناک خبر سُنائی اور پھر افسوس کے ساتھ سر جھکا لیا ۔ تمام مجلس پر سنّاٹا چھا گیا۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر سائل کا منہ ذرا سا نِکل آیا اور وہ کفِ افسوس ملتا ہوا واپس ہو گیا ۔
Вже доступно! Дослідження Telegram за 2025 — головні інсайти року 
