en
Feedback
ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Open in Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Show more
1 419
Subscribers
No data24 hours
-17 days
-1330 days
Posts Archive
تحریر پڑھنے کے لیے۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1888
تحریر پڑھنے کے لیے۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1888

ہائی بلڈ پریشر کو فورا نارمل کرنے کے گھریلو ٹوٹکے

رات کو مچھلی کھانے کے بعد شہد یا کجھور ضرور کھائیں اور مچھلی کھانے کے بعد نہانے کی غلطی کبھی نہ کریں۔

آیت الکرسی ویڈیو

🌹 علم کی متلاشی شہزادی 🌹 ایران کے ایک بادشاہ کی پریشانی کی وجہ اس کی اکلوتی بیٹی شہزادی ثنا تھی ہر باپ کی طرح بادشاہ بھی اپنی بیٹی کی شادی کر کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن شہزادی ثنا نے عجیب اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص اس کے سوالوں کے درست جواب دے گا وہ اس سے شادی کرے گی۔ آس پاس کی ریاستوں کے کئی شہزادے آئے مگر ناکام لوٹ گئے۔ اس ملک میں اعظم نامی ایک نوجوان طالبعلم بھی رہتا تھا. اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بھی اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہے۔ اعظم کے والد اُستاد تھے اور کئی برسوں سے لوگوں میں علم کی روشنی بانٹ رہے تھے. ملک فارس کا وزیراعظم بڑے بڑے درباری اور شہر کا قاضی بھی ان کا شاگرد تھا. باپ نے بیٹے کی خواہش دیکھی تو بولےبیٹا...! اگر تو ناکام لوٹا تو تیرا کچھ نہیں جائے گا۔ لوگ کیا کہیں گے کہ ایک استاد کا بیٹا ناکام ہوگیا. اعظم اپنے باپ سے کہنے لگا...بابا.! بڑے بڑے شہزادے لوٹ گئے. اگر میں بھی ناکام ہو گیا تو کیا ہوا. یہ تو مقابلہ ہے جو بھی جیت لے اور شاید وہ خوش نصیب میں ہی ہوں. آخر باپ کو بیٹے کی ضد ماننی پڑی. اعظم خوشی خوشی محل کی طرف چل پڑا. شہر بھر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک عالم کا بیٹا قسمت آزمانے محل میں چلا آیا ہے. مقررہ وقت پر محل لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا. بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا. ملکہ عالیہ بھی محل میں موجود تھیں. شہزادی نے اپنا پہلا سوال کیا۔۔ اس نے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کی. اعظم نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ والی اگلی بھی فضا میں بلند کی. یہ دیکھ کر شہزادی مسکرا اٹھی اور ملکہ عالیہ بولی.. شاباش،اے نوجوان.تم پہلا مرحلہ کامیابی سے طے کر گئے ہو۔ دوسرے سوال کے لیے شہزادی کرسی سے اٹھی اور ہاتھ میں تلوار لے کر ہوا میں چلانے لگی، کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اپنی نشست پر آکر بیٹھ گئی. اعظم کھڑا ہوا اور اپنی جیب سے قلم نکال کر فضا میں بلند کر دیا۔ شاباش اے نوجوان ہم خوش ہوئے۔ یہ جواب بھی درست ہے. ملکہ کی آواز دربار میں ابھری. آخر شہزادی نے تیسرا سوال کر کیا۔۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتری اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئی. یہ بڑا عجیب و غریب سوال تھا. ہر طرف خاموشی تھی. لوگوں کی سانسیں رُکی ہوئی تھیں. اب تو اعظم کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے. آخر اعظم کھڑا ہوا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شہزادی کی طرف دیکھنے لگا. مرحبا، مرحبا اے نوجوان مبارک ہو...! شہزادی نے تمھیں پسند کر لیا ہے. ملکہ عالیہ کی آواز کے ساتھ ہی شہزادی ثنا شرما کر محل کے اندرونی حصے میں چلی گئی اور محل مبارک باد کی آواز سے گونج اٹھا. لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے. اعظم دل ہی دل میں اللّٰه کا شکر ادا کر رہا تھا۔ جس نے اُسے یہ اعزاز بخشا تھا... بادشاہ نے اعظم سے پوچھا اے نوجوان...! ملکہ عالیہ کو تو تم نے مطمئن کر دیا۔ اب یہ بتاؤ کہ تم سے کیا پوچھا گیا تھا اور تم نے کیا جواب دیا. اگر تم نے ایک بھی غلط جواب دیا تو تمھاری گردن مار دی جائے گی. اعظم پُر اعتماد انداز میں کھڑا ہوا اور بولا... بادشاہ سلامت! شہزادی نے ایک انگلی کھڑی کر کے پوچھا تھا کہ تم کیا اللّٰه کو ایک مانتے ہو..؟ میں نے دو اُنگلیاں کھڑی کر کے جواب دیا کہ اللّٰه اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر میرا ایمان اٹل ہے. بہت خوب، ہم خوش ہوئے. بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔ اعظم بولا...! اس کے بعد شہزادی نے تلوار چلا کر پوچھا تھا کہ اس سے بڑا کوئی ہتھیار ہے..؟ میں نے جواب دیا ہاں، قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ کارگر ہوتا ہے. ماشاءاللّٰه...! نوجوان...! تم نے ہمارا دل جیت لیا. تم نے ثابت کر دیا کہ جاہ و جلال، دولت و حشمت کی علم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ لیکن تیسرا جواب...! بادشاہ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پوچھا. اعظم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا. بادشاہ...! شہزادی دربار کی سیڑھیاں اُتری اور چڑھی کرسی پر تھک کر بیٹھ گئی۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ میں تھک چکی ہوں لیکن میرے جسم کی ایک چیز نہیں تھکی. میں نے جواب دیا. دل، یہ پیدایش سے لیکر موت تک بغیر تھکے دھڑکتا رہتا ہے...! بادشاہ نے اعظم کو کو پاس بلا کر گلے سے لگا لیا اور کہا اے لوگو...! گواہ رہنا میں نے حقدار کا حق ادا کر دیا ہے. میری بیٹی ایسے شخص کی بیوی بن رہی ہے جس کے پاس علم کی دولت ہے. جسے کوئی نہیں چرا سکتا ہے اور نہ کم کر سکتا ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت خوشی خوشی اعظم اور شہزادی ثنا کی شادی طے کر دی...!!! منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 علم کی متلاشی شہزادی 🌹 ایران کے ایک بادشاہ کی پریشانی کی وجہ اس کی اکلوتی بیٹی شہزادی ثنا تھی ہر باپ کی طرح بادشاہ بھی اپنی بیٹی کی شادی کر کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن شہزادی ثنا نے عجیب اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص اس کے سوالوں کے درست جواب دے گا وہ اس سے شادی کرے گی۔ آس پاس کی ریاستوں کے کئی شہزادے آئے مگر ناکام لوٹ گئے۔ اس ملک میں اعظم نامی ایک نوجوان طالبعلم بھی رہتا تھا. اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بھی اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہے۔ اعظم کے والد اُستاد تھے اور کئی برسوں سے لوگوں میں علم کی روشنی بانٹ رہے تھے. ملک فارس کا وزیراعظم بڑے بڑے درباری اور شہر کا قاضی بھی ان کا شاگرد تھا. باپ نے بیٹے کی خواہش دیکھی تو بولےبیٹا...! اگر تو ناکام لوٹا تو تیرا کچھ نہیں جائے گا۔ لوگ کیا کہیں گے کہ ایک استاد کا بیٹا ناکام ہوگیا. اعظم اپنے باپ سے کہنے لگا...بابا.! بڑے بڑے شہزادے لوٹ گئے. اگر میں بھی ناکام ہو گیا تو کیا ہوا. یہ تو مقابلہ ہے جو بھی جیت لے اور شاید وہ خوش نصیب میں ہی ہوں. آخر باپ کو بیٹے کی ضد ماننی پڑی. اعظم خوشی خوشی محل کی طرف چل پڑا. شہر بھر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک عالم کا بیٹا قسمت آزمانے محل میں چلا آیا ہے. مقررہ وقت پر محل لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا. بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا. ملکہ عالیہ بھی محل میں موجود تھیں. شہزادی نے اپنا پہلا سوال کیا۔۔ اس نے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کی. اعظم نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ والی اگلی بھی فضا میں بلند کی. یہ دیکھ کر شہزادی مسکرا اٹھی اور ملکہ عالیہ بولی.. شاباش،اے نوجوان.تم پہلا مرحلہ کامیابی سے طے کر گئے ہو۔ دوسرے سوال کے لیے شہزادی کرسی سے اٹھی اور ہاتھ میں تلوار لے کر ہوا میں چلانے لگی، کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اپنی نشست پر آکر بیٹھ گئی. اعظم کھڑا ہوا اور اپنی جیب سے قلم نکال کر فضا میں بلند کر دیا۔ شاباش اے نوجوان ہم خوش ہوئے۔ یہ جواب بھی درست ہے. ملکہ کی آواز دربار میں ابھری. آخر شہزادی نے تیسرا سوال کر کیا۔۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتری اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئی. یہ بڑا عجیب و غریب سوال تھا. ہر طرف خاموشی تھی. لوگوں کی سانسیں رُکی ہوئی تھیں. اب تو اعظم کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے. آخر اعظم کھڑا ہوا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شہزادی کی طرف دیکھنے لگا. مرحبا، مرحبا اے نوجوان مبارک ہو...! شہزادی نے تمھیں پسند کر لیا ہے. ملکہ عالیہ کی آواز کے ساتھ ہی شہزادی ثنا شرما کر محل کے اندرونی حصے میں چلی گئی اور محل مبارک باد کی آواز سے گونج اٹھا. لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے. اعظم دل ہی دل میں اللّٰه کا شکر ادا کر رہا تھا۔ جس نے اُسے یہ اعزاز بخشا تھا... بادشاہ نے اعظم سے پوچھا اے نوجوان...! ملکہ عالیہ کو تو تم نے مطمئن کر دیا۔ اب یہ بتاؤ کہ تم سے کیا پوچھا گیا تھا اور تم نے کیا جواب دیا. اگر تم نے ایک بھی غلط جواب دیا تو تمھاری گردن مار دی جائے گی. اعظم پُر اعتماد انداز میں کھڑا ہوا اور بولا... بادشاہ سلامت! شہزادی نے ایک انگلی کھڑی کر کے پوچھا تھا کہ تم کیا اللّٰه کو ایک مانتے ہو..؟ میں نے دو اُنگلیاں کھڑی کر کے جواب دیا کہ اللّٰه اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر میرا ایمان اٹل ہے. بہت خوب، ہم خوش ہوئے. بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔ اعظم بولا...! اس کے بعد شہزادی نے تلوار چلا کر پوچھا تھا کہ اس سے بڑا کوئی ہتھیار ہے..؟ میں نے جواب دیا ہاں، قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ کارگر ہوتا ہے. ماشاءاللّٰه...! نوجوان...! تم نے ہمارا دل جیت لیا. تم نے ثابت کر دیا کہ جاہ و جلال، دولت و حشمت کی علم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ لیکن تیسرا جواب...! بادشاہ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پوچھا. اعظم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا. بادشاہ...! شہزادی دربار کی سیڑھیاں اُتری اور چڑھی کرسی پر تھک کر بیٹھ گئی۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ میں تھک چکی ہوں لیکن میرے جسم کی ایک چیز نہیں تھکی. میں نے جواب دیا. دل، یہ پیدایش سے لیکر موت تک بغیر تھکے دھڑکتا رہتا ہے...! بادشاہ نے اعظم کو کو پاس بلا کر گلے سے لگا لیا اور کہا اے لوگو...! گواہ رہنا میں نے حقدار کا حق ادا کر دیا ہے. میری بیٹی ایسے شخص کی بیوی بن رہی ہے جس کے پاس علم کی دولت ہے. جسے کوئی نہیں چرا سکتا ہے اور نہ کم کر سکتا ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت خوشی خوشی اعظم اور شہزادی ثنا کی شادی طے کر دی...!!! منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

بشیرا مراثی اور معاشرتی المیہ کہتے ہیں کے بشیرا نام کا ایک میراثی اپنے گاؤں اور میراثی فیملی کو چھوڑ کے شہر آ گیا ۔ کام پیدائش سے ایک ہی کرتا چلا آیا تھا۔ تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے ، لمبے بال دھمال کے انداز میں ہلاتے تابڑ توڑ ڈھول بجاتا پھرتا تھا ۔ جیسا کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے تو اسے بھی ایک دن کسی میوزک ڈائریکٹر نے اپنے اسٹوڈیو میں بھرتی کر لیا۔ جہاں سے بشیرا ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا اور پھر اپنا الگ سٹوڈیو بنا کر میوزک ڈائریکٹر “استاد بشیر خاں” کے نام سے شہرت پائی۔ وقت گزرتا گیا۔ استاد بشیر کی دُھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلموں میں استاد کا نام میوزک کی مد میں شامل ہونا کامیابی کی ضمانت ہوتا ۔ بات نگار ایوارڈ سے تمغۂ حسنِ کارکردگی تک پہنچی ۔ لالی سے بالی اور پھر ہالی تک کا سفر منٹوں میں طے ہوا ۔ آسکر کے لئے نامزدگی ہوئی ۔ امریکہ منتقلی اور پھر مستقل سکونت اختیار کی۔ گوری میم سے شادی ہوئی ۔ ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند آکسفورڈ نے عطا کی ۔ میلوں ، نمائشوں کے فیتے کٹوائے گئے۔ فراری میں ڈرافٹنگ اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگیں ۔ دنیا کے سفر اور پذیرائی ملی ۔ برطانیہ میں مشرق کی آواز ، جاپان میں مہاتما بودھ کا پرتو اور افغانستان میں واجب القتل قرار دیا گیا۔ کیسینو میں لاکھوں کی شرطیں لگیں اور بیگ سے ڈرگز برآمد ہوئی۔ کپڑوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ متعارف کرایا۔ “چودھری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی ایک چین بھی بنائی۔ پچاس سال گزر گئے ۔ چوہدری بشیر کے گٹھنے سیڑھیاں چڑھتے کٹک کٹک کرنے لگے۔ گوری میم بھی “ٹائی ٹینک” میں “بلیو ہارٹ” سمندر بُرد کرنے والی بُڈھی جیسی ہو گئی۔ اب چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا ۔ حج کیا، برف جیسی سفید داڑھی چھوڑی، پانچ وقت نماز شروع کی ۔ وطن واپس آئے، انسانیت کی خدمت کے لئے ٹرسٹ قائم کیا ۔ وعظ و نصیحت کی، رمضان ٹرانسمین میں غریبوں کے گردے کے آپریشن کرانے ۔ اپنے گاؤں میں بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ گاؤں میں حویلی تعمیر کی، کنواں کھدوایا، اسکول بنوایا، اپنے ماں باپ کی قبر پر مقبرہ اور “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” اور “حجن بی بی اللّٰہ بچائی خاتون مرحومہ” کا کتبہ آویزاں کیا ۔ مسجد و مدرسے کی تعمیر کی اور حویلی میں آخری ایام یادِ الٰہی میں گزارنے لگے۔ تو صاحبو! گاؤں میں چوہدری بشیر خاں کی عزت و احترام اور رعب و دبدبے کا یہ عالم کہ جہاں سے وہ کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے کی پگڑی میں ملبوس گزرتے، لوگ 'سلام چوہدری صاحب' کہہ کر جھکتے ۔ اہم مسائل کے فیصلے چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں سنائے جاتے ۔ غریبوں کا علاج ہو کہ بچیوں کی شادی ، اسکول کی تقسیمِ اسناد ہو یا الیکشن مہم، چوہدری صاحب کی شرکت کے بغیر سب ادھورا تھا ۔ پھر ایک روز چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی ان سے ملنے امریکہ سے گاؤں آئی ۔ پہلی بار گاؤں کا ماحول اور کلچر دیکھا، اچھا لگا، چند دن رہنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں سے باہر کار میں گھومنے نکلی، ایک پراڈو سے گاڑی کا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا۔ پراڈو سوار سے بحث، تعارف ، دوستی اور پھر محبت ہوئی ۔ بات شادی تک پہنچی ۔ چوہدری صاحب لڑکے کے باپ سے ملے، حسب نسب پوچھا، جواب ملا چوہدری فرزند علی نام ہے ۔ پڑوس کے گاؤں میں جاگیر ہے، پیسے کی ریل پیل ہے، اچھا اور بااثر خاندان ہے ۔ چوہدری صاحب نے فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا ۔ بقیہ خاندان بھی گاؤں آیا ۔ نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ۔ حویلی سجا دی گئی۔ شادی کی محفل تھی ۔ بارات پہنچی ۔ پتا چلا کہ لڑکی کے دادا شہر سے آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب کی نشست کے برابر میں لڑکی کے دادا براجمان ہوئے ۔ تعارف ہوا، کچھ آنکھیں چار ہوئیں، کچھ یادداشت کھنگالی گئی، آخر کار ایک دوسرے کو پہچان لیا گیا ۔ پرانی شناسائی نکلی ۔ “اوئے بشیرے کنجر! تو کاہے کا چوہدری” سوال ہوا ۔ “اوئے بوٹے مسیح ! مسلی تو کب مسلمان ہوا؟” کا جواب ملا ۔ تلخ کلامی ہوئی “اوئے لعنتی دی اولاد”اوئے میراثیاں دا ٹولہ” ، “اوئے بلی، کتے کھان والیو” ۔ “اوئے دلیو، شیدے ، ناجیز اولادو” ، ”اوئے سورا” ۔۔۔ شرکاء حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گالیاں ایسی تھیں کہ لوگوں کے وضو ٹوٹ جائیں ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جا رہے تھے ۔ اونچے شملے تھے، کلف لگے سوٹ تھے، دولت تھی، عزت تھی، سوشل ورک تھا، اعزازی ڈگری تھی ۔۔۔ پر زبان بازاری تھی ۔ ماؤں کے بچے چھوڑ کے آشناؤں کے ساتھ بھاگ جانے کے قصے تھے ۔ ناجائز تعلقات کی داستانیں تھیں ۔ بشیرے میراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں گو پچاس برس لگے ہوں، واپسی پانچ منٹ میں ہوئی تھی ۔ سب کو سبق مل گیا تھا کہ زمان و مکاں کی تبدیلی ہو یا پوزیشن و لباس کی ۔ اسے ایوان اقتدار پر براجمان کیا جائے یا عطر میں بسا کر منبر و محراب کا ٹھیکہ دار بنا دیا جائے، انسان کی اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور منہ کھولتے ہی اوقات کا پتا چل جاتا ہے۔ ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*عدل اور اس دنیا میں رائج انصاف* ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔ حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔ اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔ "انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے — یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے، جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔ 1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔ آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔ لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں — تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔ 2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔ اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔ لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔ عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔ 3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔ آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔ اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔ عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے — جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔ 4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی — تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔ رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر — یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔ 5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے — جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔ ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔ یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔ ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ — اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔ یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔ اور یہی عدل ہے۔ 📖 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: > "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ" "بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (سورہ النحل، آیت 90) ڈاکٹر وردہ وڑايچ

حق کی کڑواہٹ کو برداشت کرو تاکہ باطل کی مٹھاس تمھیں دھوکہ نہ دے۔
حق کی کڑواہٹ کو برداشت کرو تاکہ باطل کی مٹھاس تمھیں دھوکہ نہ دے۔

■ اربعین حسینی کے متعلق پوسٹیں۔ پوسٹ دیکھنے کے لیے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔ http://t.me/islamwitheman/1738 🌏 أربعين اور عراقی قوم http://t.me/islamwitheman/1700 ⚫ أربعين حسینی اور اعمال http://t.me/islamwitheman/1741 🌸 زیارت اربعین http://t.me/islamwitheman/1742 🔵 زیارت امام حسینؑ کی اہمیت http://t.me/islamwitheman/1745 🔵 زیارت امام حسینؑ کے آداب http://t.me/islamwitheman/1746 💖 سلیمان اعمش کا واقعہ http://t.me/islamwitheman/1747 ⚫ چہلم اوّل امام حسینؑ http://t.me/islamwitheman/1749 ⚫ چہلم امام حسین علیہ السلام http://t.me/islamwitheman/1750 🌹 زیارت امام حسینؑ کا ثواب http://t.me/islamwitheman/1751 🌹 زیارت عاشورا کے فوائد http://t.me/islamwitheman/1972 🌹 زیارت عاشورا اور یوم الورود http://t.me/islamwitheman/1973 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

#پاکستان_زندہ_باد میرا ملک میری جان پاکستان پاکستان میری عزت میرا مان پاکستان پاکستان ■ وطن عزیز۔۔ 1= حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا: خداوندعالم اس شخص کوسخت ناپسند فرماتا ہے جس کے گھر میں کوئی شخص (بری نیت سے) داخل ہو اور وہ اس سے نہ لڑے۔ (اس گھر سے مراد پاکستان بھی ھو سکتا ھے) (عیون اخبارالرضا، ص28) 2= حضرت علی علیہ السلام: تونگری پردیس میں بھی وطن ہے اور غربت وطن میں بھی پردیس ہے۔ (نہج البلاغہ، حکمت56) 3= تیرے لئے کوئی ایک وطن دوسرے وطن سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا، بہترین وطن وہ ہے جو تیرا بوجھ اٹھا لے۔ (بحارالانوار، جلد78، ص13) 4= کسی وطن میں کوئی خاص اچھائی نہیں ہے، اچھائی اس جگہ پر ہے جہاں امن وامان اور مسرت وخوشحالی ہو۔ (بحارالانوار، جلد69، ص401) 5= شہروں کی آبادی وطن سے محبت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ (بحارالانوار، جلد78، ص45) 6= مرد کی شرافت تین چیزوں میں ہے: 1) گزشتہ زمانے پر افسوس اور گریہ و بکاء۔ 2) وطن کی طرف جھکاؤ۔ 3) اور پرانے دوستوں کی دوستی بحال رکھنا۔ (بحارالانوار، جلد74، ص364) ■ پردیس۔۔ 1= حضرت علی علیہ السلام: پردیس میں کسی قسم کا ننگ و عار نہیں، بلکہ ننگ و عار تو وطن میں غربت کی حالت میں ہوتی ہے۔ (غررالحکم) 2= عقلمندی پردیس میں قرب کا سبب ہوتی ہے اورحماقت وطن میں بھی پردیس کا (سبب) ہوتی ہے۔ (غررالحکم) 3= کسی ایک شہر کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں، بہترین شہر وہ ہے جو تیرا بوجھ اٹھائے۔ (نہج البلاغہ، حکمت442) ■ دفاعِ وطن کیلئے خطباتِ امیرامومنینؑ: 1= جب حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے لشکر نے ''انبار'' پر حملہ کر دیا ہے، تو آپ نے اس کے خلاف لوگوں کو اٹھ کھڑا ہونے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ کا کہا نہ مانا تو اس پر فرمایا: میں نے اس قوم سے لڑنے کیلئے رات کو بھی اور دن کو بھی، اعلانیہ بھی اور پوشیدہ بھی تمہیں پکارا اور للکارا، اور تم سے کہا کہ قبل اس کے کہ وہ جنگ کے لئے بڑھیں تم ان پر دھاوا بول دو۔ خدا کی قسم جن افرادِ قوم پر ان کے گھروں کے حدود کے اندر ہی حملہ ہو جاتا ہے، وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ لیکن تم نے جہاد کو دوسروں پر ڈال دیا اور ایک دوسرے کی مدد سے پہلو بچانے لگے۔ یہانتک کہ تم پر غارت گریاں ہوئیں اور تمہارے شہروں پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا۔ (نہج البلاغہ، خطبہ27) 2= جب ملکی سرحدوں پر دشمن کی فوجوں نے حملہ کردیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ''اس گھر کے بعد اور کونسا گھر ہے جس کی حفاظت کرو گے اور میرے بعد کس امام کے ساتھ ہوکر جہاد کرو گے؟۔'' (نہج البلاغہ، خطبہ29) ■ بدترین وطن۔۔ 1= حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا: کسی وطن میں کوئی خوبی نہیں جب تک کہ اس میں امن و امان اور مسرت و خوشحالی نہ ہو۔ (بحارالانوار، جلد77، ص58) 2= بدترین وطن وہ ہے جس میں امن و سکون سے رہنا نصیب نہ ہو۔ (غررالحکم) 📚نقل از تفسیرالمعین والترجمۃالقرآن الکریم، ص49۔ تالیف: علامہ محمد علی فاضل https://t.me/islamwitheman/3788 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

طریقہ نماز

■ توبہ کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں.. 🔵 ان الله یحب التوابين https://t.me/islamwitheman/88 🔴 الله تعالیٰ کی رحمت https://t.me/islamwitheman/134 🔴 اعترافِ گناہ https://t.me/islamwitheman/156 🔴 حسنِ نیت اور جذبہ شرمساری https://t.me/islamwitheman/301 🌻 پنسل اور ربڑ https://t.me/islamwitheman/376 🔵 خود احتسابی https://t.me/islamwitheman/467 🔷 الله تک پہنچنے کا طریقہ http://t.me/islamwitheman/1329 🔷 انسان کے اعمال http://t.me/islamwitheman/1330 🔷 دو آنسو http://t.me/islamwitheman/1396 🌹 بشر حافی کی توبہ http://t.me/islamwitheman/1409 🔷 ایک میت کی نصیحت http://t.me/islamwitheman/1607 🌸 استعاذہ http://t.me/islamwitheman/1620 🔷 ایک چور کی توبہ کا واقعہ http://t.me/islamwitheman/1706 🌺 توبہ https://t.me/islamwitheman/1771 🔹 تَوبَةً نَصُوحاً https://t.me/islamwitheman/2035 😭 نصوح کی توبہ https://t.me/islamwitheman/2318 🔴 حسنِ نیت اور جذبہ شرمساری https://t.me/islamwitheman/4748 🌳 توبہ النصوح https://t.me/islamwitheman/6836 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌳 توبہ النصوح 🌳 نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد. وہ اپنی ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا۔ کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا تھا سبھی اسے عورت سمجھتے تھے۔ یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا تھا۔ کئی بار ضمیر کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کرلی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا. ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی ۔حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گراں بہا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔ سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا نصوح رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں تو سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی بارگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا، میری لاج رکھ لے مولا۔ دعا مانگ ہی رہا تھا کہ اچانک باہر سے آوازسنائی دی کہ نصوح کو چھوڑ دو، ہیرا مل گیا ہے۔ نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصت لے کر گھر آگیا ۔ نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کرلی۔ کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں۔ نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔ جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔ ایک دن اس کی نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس چر رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے ، جب تک اس کا مالک نہ آ جائے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں، لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھے انہوں نے نصوح سے پانی مانگا نصوح نے سب کو بھینس کا دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا، قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا ۔ نصوح کے اخلاق سے متاثر ہو کر تاجروں نے جاتے ہوئے اسے بہت سارا مال بطور تحفہ دیا۔ نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھدوا دیا۔ آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگیں۔ وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ رفته رفته نصوح کی نیکی کے چرچے بادشاه تک جا پہنچے۔ بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ اس نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئیں۔ جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا، بادشاہ کو بہت تعجب ہوا مگر اس بے نیازی کو دیکھ کر ملنے کی طلب اور بڑھ گئی۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔ جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا، خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔ چونکہ بادشاہ بطور عقیدت مند نصوح کو ملنے آرہا تھا اور رعایا بھی نصوح کی خوبیوں کی گرویدہ تھی، اس لئے نصوح کوبادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا۔ وہی شہزادی جسے عورت کا بھیس بدل کر ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا ،اس شہزادی نے نصوح سے شادی کرلی۔ ایک دن نصوح دربار میں بیٹھا لوگوں کی داد رسی کررہا تھا کہ ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی ۔ بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی ۔ برائے مہربانی میری مدد فرمائیں۔ نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہے نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔ وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا: اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔ بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھے یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو، وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔ اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں. تاریخ کی کتب میں نصوح کو بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد کی حیشیت سے لکھا گیا ہے۔ کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم انوار المجالس صفحہ 432۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 انسانی نسل 🌹 نسلِ انسانی کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے بعد قرآنِ پاک اور قدیم الہامی روایات کے مطابق آج روئے زمین پر جتنے انسان بستے ہیں وہ سب حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے، جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو شرک اور گمراہی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر اکثریت نے انکار کیا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا اور اہلِ ایمان کو نجات دی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے چار بیٹے تھے: 1. سام 2. حام 3. یافث 4. کنعان (یام) طوفان سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کنعان کو بھی دعوت دی کہ وہ کشتی میں سوار ہو جائے، مگر اس نے غرور اور کفر میں ڈوبے رہنے کا انتخاب کیا اور قوم کے ساتھ غرق ہو گیا۔ اس کی والدہ اور باقی اہلِ خانہ بھی جو ایمان نہ لائے تھے، اسی انجام کو پہنچے۔ اس طرح طوفان کے بعد زمین پر انسانوں کا نیا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — کی نسل سے ہوا۔ یہی نسلیں مختلف سمتوں میں پھیل کر آج کے تمام انسانوں کی آبادی کی بنیاد بنیں۔ سام بن نوح علیہ السلام سام حضرت نوح علیہ السلام کے بڑے بیٹوں میں سے تھے۔ طوفان کے بعد وہ مشرق کی طرف، خاص طور پر یمن میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے عرب، فارس، روم، بنی اسرائیل، آشوری، ارمنی، اور کلدانی جیسی بڑی اقوام وجود میں آئیں۔ سام کو "ابوالعرب" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب قبائل کا سلسلہ نسب انہی تک پہنچتا ہے۔ بنی اسرائیل بھی سام کی اولاد ہیں اور اسی نسبت سے انہیں "سامی اقوام" کہا جاتا ہے۔ سام کی نسل نے جزیرہ نما عرب، عراق، شام، فلسطین اور ایران جیسے خطوں میں اپنی تہذیبیں قائم کیں۔ حام بن نوح علیہ السلام حام طوفان کے بعد براعظم افریقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے مصری، حبشی، نوبی، بربر، کنعانی، ہندی، اور کچھ جنوبی ایشیائی اقوام پیدا ہوئیں۔ مصراِیم بن حام نے قدیم مصری تہذیب کی بنیاد رکھی۔ ان کے بیٹوں کی نسل میں افریقہ اور بعض ایشیائی خطوں میں پھیلی ہوئی اقوام شامل ہیں۔ زیادہ تر حام کی نسل والے گہرے رنگت اور مضبوط جسمانی ساخت کے مالک تھے یافث بن نوح علیہ السلام یافث سب سے بڑے یا بعض روایات کے مطابق درمیانی بیٹے تھے، جو شمال اور مغرب کی سمت میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے ترک، روس، تاتار، مغول، چین، جاپان، یاجوج ماجوج، یونانی اور شمالی یورپ کی اقوام پیدا ہوئیں۔ یہ نسل دنیا کے سرد اور معتدل علاقوں میں پھیلی اور تجارت، جہازرانی اور جنگی فنون میں مہارت حاصل کی۔ آج زمین پر بسنے والے تمام انسان، چاہے وہ کسی بھی نسل زبان یا رنگ کے ہوں، حضرت نوح علیہ السلام کے ان تین بیٹوں سام، حام اور یافث کی اولاد ہیں۔ اس حقیقت کو جان کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی خاندان کی اولاد ہے، اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ عدل احترام اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔ 🌍 آج زمین پر جتنے بھی انسان ہیں، سب کا نسب حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — سے جڑتا ہے طوفانِ نوح کے بعد یہی تینوں نسلِ انسانی کو دنیا کے کونے کونے میں لے کر پھیلے ﴿وَجَعَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلۡبَاقِينَ﴾ ترجمہ: اور ہم نے نوح کی اولاد ہی کو باقی رہنے والا بنایا۔ (سورۃ الصافات: 77) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman/6834 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

اے ایمان والو اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر۔
اے ایمان والو اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر۔

"ایک داو کافی ہوتا ہے، اگر وہ مکمل ہو!" جاپان میں مارشل آرٹ کا ایک طالب علم تھا۔ ایک حادثے میں اس کا بایاں بازو کٹ گیا۔ وہ مایوس ہو چکا تھا کہ اب وہ مارشل آرٹ سیکھ ہی نہیں سکتا۔ لیکن ایک سن سے (استاد) نے اسے شاگردی میں لے لیا اور مہینوں تک صرف ایک ہی داو اور ایک ہی کک سکھاتا رہا۔ طالبعلم نے حیرت سے پوچھا: "سن سے، آپ مجھے کچھ اور کیوں نہیں سکھاتے؟" استاد نے مسکرا کر کہا: "بیٹا، تمہارے لیے یہی ایک داو کافی ہے۔ بس اسے اتنی بار دہراو کہ تم اس پر مکمل مہارت حاصل کر لو۔" وقت گزرا، طالبعلم نے ایک مارشل آرٹ ٹورنامنٹ میں اسی ایک داو سے کئی طاقتور حریفوں کو شکست دی۔ حیران ہو کر وہ استاد کے پاس پہنچا اور بولا: "سن سے، آپ کو کیسے معلوم تھا کہ یہ ایک داو میرے لیے کافی ہو گا؟" استاد نے کہا: "ہر داو کی کچھ کمزوریاں ہوتی ہیں۔ تمہارے داو کی کمزوری بایاں بازو ہے – جو تمہارے پاس ہے ہی نہیں! جبکہ تم نے اسی ایک داو کو اتنے بار دہرایا کہ مہارت کی آخری حد تک پہنچ گئے۔ اب دنیا کے لیے تمہارا یہ داو ناقابلِ شکست ہے۔" 🔘 سبق ہم اکثر سوچتے ہیں ہمیں ہر چیز آنا چاہیے… اور آخر میں ہم بکھر جاتے ہیں۔ جبکہ کامیاب وہ ہوتا ہے جو ایک چیز دل سے، سمجھ سے، تجربے سے اور مہارت سے سیکھتا ہے اور پھر اسے اپنی طاقت بنا لیتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕