ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 285
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-47 روز
-430 روز
آرشیو پست ها
1 285
22۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص188، طبع 1375ھ۔ یہ راہب بحیرا کے علاوہ ہے جس نے بچپن میں پیشین گوئی کی تھی۔
22۔ کامل ابن اثیر، ج2، ص39، مطبوعہ بیروت 1385ھ۔
23۔ بحارالأنوار، ج16، ص20 و 21۔
24۔ بحارالأنوار، ج16، ص20 و 21۔
25۔ سیرۃ حلبیہ، ج1، ص152۔ اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔
26۔ بحارالأنوار، ج16، ص56، 73۔
27۔ بحارالأنوار، ج16، ص7، 10، 11۔ اعلام الوریٰ، ص146۔
28۔ بحارالأنوار، ج16، ص10، 71۔اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔
29۔ بحارالأنوار، ج16، ص3۔ اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔
30۔ بحارالأنوار، ج16، ص8، 13۔
31۔ بحارالأنوار، ج16، ص8۔
👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
💡 شام کا سفر:
جس وقت قریش کا قافلہ تجارت کے لئے شام جانے لگا حضرتؐ نے بھی اپنے سفر کی تیاری کی اور قافلہ میں شامل ہو گئے، جناب خدیجہؑ نے سرمایہ حضرتؐ کے حوالے کرتے ہوئے اپنے غلام ''میسرہ '' سے کہا کہ تم ان کے ساتھ جاؤ اور ان کی خدمت کرو۔
اس تاریخی سفر کی جزئیات کو گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بیان نہیں کیا جا سکتا بس اتنا جاننا ضروری ہے کہ سفر بے پناہ برکتیں اپنے دامن میں لئے ہوئے تھا، تجارت میں کافی فائدہ ہوا تھا حضرتؐ کی شخصیت اور نمایاں ہو گئی تھی۔ عیسائی راہب نے حضرت سے ملاقات کی تھی اور آپؐ کی رسالت کی پیش گوئی کی تھی۔(21) اور یہی سفر شادی کا ذریعہ بھی قرار پایا تھا۔
جب یہ قافلہ اپنا سفر طے کر کے مکہ واپس ہو ا تو میسرہ نے سفر کی تمام جزئیات تفصیل سے جناب خدیجہؑ کو سنا دیں۔(22) یہ باتیں سن کر اور ایک عیسائی راہب کی پیشین گوئی سن کر کہ حضرت کی شادی قریش کی ایک بہت ہی باعزت اور محترم خاتون سے ہوگی، خدیجہؑ نے اپنے دل میں ایک خاص لگاؤ محسوس کیا اورحضرتؐ کی شکل میں اپنا درِ مقصود نظر آیا۔(23)
اس سے پہلے ان کےچچا ''ورقہ بن نوفل'' بھی پیغمبروں کے بارے میں کافی باتیں بتا چکے تھے اور بیان کر چکے تھے کہ حضرتؐ نبوت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوں گے اور خدیجہؑ سے ان کی شادی ہوگی۔(24) ان باتوں نے اس قلبی لگاؤ میں اور زیادہ شدت پیدا کر دی۔
یہ بات کس طرح حضرتؐ تک پہنچائی جائے کیوں کہ خدیجہؑ کوئی معمولی عورت نہ تھیں قریش کی سب سے زیادہ محترم خاتون تھیں۔
💞 شادی کی پیش کش:
خدیجہؑ نے اپنی سہیلی ''نفیسہ'' (جو خدیجہؑ کے راز ہائے دل سے واقف تھی) کے سامنے یہ بات رکھی تاکہ وہ حضرتؐ سے گفتگو کرے۔ نفیسہ حضرتؐ کے پاس گئیں اور حضرتؐ سے کہا کہ آپؐ شادی کیوں نہیں کرتے؟
حضرتؐ نے جواب دیا: میرے حالات شادی کی اجازت نہیں دیتے۔
نفیسہ نے کہا: اور اگر وہ وسائل فراہم ہو جائیں اور مسائل حل ہو جائیں، ایک شریف خاندان کی دولت مند عورت اس بات پر تیار ہو جائے کیا اس وقت آپؐ شادی کریں گے؟
حضرتؐ نے دریافت کیا، وہ عورت کون ہے؟
نفیسہ نے کہا: خدیجہ
اس پر آنحضرتؐ نے کہا کہ اس نے تو قریش کے بڑے بڑے ثروت مندوں کے پیغامات رد کر دیئے ہیں وہ میرے ساتھ شادی کرے گی؟
نفیسہ نے کہا: ہاں یہ ہو سکتا ہے اور میں اس رشتہ کو طے کروں گی.(25)
جس وقت حضرتؐ کو اس بات کا اطمینان ہو گیا کہ خدیجہؑ شادی کرنے کے لئے راضی ہیں حضرتؐ نے ساری باتیں اپنے چچا سے بیان کر دیں، وہ لوگ یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے رشتہ طے ہوا اور خاص اہتمام سے شادی ہو گئی۔(26)
حضرتؐ نے شادی کے خاص بہترین ایام یعنی اپنی زندگی کے 25 سال جناب خدیجہؑ کے ساتھ گزارے، خدیجہؑ حضرتؐ کی صرف شریک حیات نہ تھیں بلکہ حضرتؐ کی بہت بڑی مددگار بھی تھیں.(27)
عورتوں میں آپؑ حضرتؐ پر سب سے پہلے ایمان لائیں اور اپنا سارا مال و متاع دینِ مقدس اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے دے دیا۔(28)
جناب خدیجہؑ سے حضرتؐ کی کئی اولادیں ہوئیں، قاسم اور طاہر دو فرزند اور ایک بیٹی جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیها، دونوں بیٹے بچپنے میں ہی انتقال کر گئے۔(29)
جناب خدیجہؑ کی محبت، فداکاری کی حضرتؐ ہمیشہ قدر کرتے رہے۔ زندگی میں بھی ان کے قدر داں رہے اور ان کے انتقال کے بعد بھی برابر یاد کرتے رہے اور جب بھی یاد کرتے تھے غمگین ہو جاتے تھے۔(30) کبھی کبھی ان کی یاد میں آنسو بھی نکل آتے تھے۔
جناب خدیجہؑ کی حیات کا چراغ اگرچہ 65 برس کی عمر میں گل ہوا(31) لیکن حضرت کا گھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خدیجہؑ کے نور سے محروم ہو گیا۔
17 ربیع الاول حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے موقع پر امام زمانہ عج اور تمام مؤمنين کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں.
📚 حوالہ جات:
1۔ بحارالأنوار، ج15، ص325۔
2۔ بحارالأنوار، ج15، ص250۔
3۔ بحارالأنوار، ج15، ص257۔
4 و 5۔ بحارالأنوار، ج15، ص258 و 263۔
6۔ بحارالأنوار، ج15، ص402 و 405۔
7۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص168۔
8 و 9۔ بحارالأنوار، ج15، ص382 و 402 و 366 و 336۔
10۔ بحارالأنوار، ج15، ص366 و 336۔
11۔ بحارالأنوار، ج15، ص142۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص168۔
12۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص180۔
13۔ بصریٰ شام کایک چھوٹا سا شہر۔
14۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص181۔ اعلام الوریٰ، ص26۔ بحارالأنوار، ج15، ص193 و 204۔
15۔ بحارالأنوار، ج16، ص74۔
16۔ بحارالأنوار، ج16، ص75۔
17 و 18۔ قرآن کی آیت سے استفادہ کیا ہے۔ (سورہ نور، آیت 31 و 32)
19۔ بحارالأنوار، ج16، ص3۔ تاریخ یعقوبی، ج2، ص15۔ اعیان الشیعہ، ج2، ص8۔ سیرت، ج1، ص152۔
20۔ سیرۃ ابن ہشام، ج1، ص188، طبع 1375ھ۔ بحارالأنوار، ج16، ص22۔
1 285
سےچھوٹا ہے وہ یہاں نہیں ہے۔ بحیرا نے کہا جاؤ اس کو بھی بلا لاؤ جب حضرتؐ چلے تو ابر بھی ان کے ساتھ چلا. بحیرا غور سے یہ منظر دیکھتا رہا۔
جب کھانا وغیرہ کھا چکے تو بحیرا نے حضرتؐ سے کہا میں آپ سے چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کو ''لات'' اور ''عزیٰ'' کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ ضرور جواب دیں گے۔
حضرت (ص) :۔۔۔۔۔۔ جن دو ناموں میں تم نے مجھے قسم دلائی ہے مجھے سب سے زیادہ انہی دو ناموں سے نفرت ہے۔
بحیرا:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو اللہ (خدا) کی قسم دیتا ہوں کہ آپ میرے سوالوں کا جواب دیجئے۔
حضرت (ص) :۔۔۔۔۔۔ اپنا سوال بیان کرو۔
مختصر سی گفتگو کے بعد بحیرا حضرتؐ کے قدموں پر گر پڑا اور آپ کے دست و پا کا بوسہ لیا اور کہا:
اگرمیں اس وقت تک زندہ رہا تو آپ کے دشمنوں سے جنگ کروں گا آپ بشریت کے سردار ہیں۔
اسکے بعد اس نے قافلہ والوں سے پوچھا کہ یہ جوان کون ہے۔ قافلہ والوں نے ابوطالبؑ کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا فرزند ہے بحیرا نے کہا: یہ ان کے والد نہیں ہیں ان کے والد ان کی ولادت سے پہلے انتقال کر چکے ہیں۔
ابوطالب علیہ السلام نے کہا ہاں وہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔
بحیرا نے کہا: اس جوان کا مستقبل بہت ہی روشن و تابناک ہے. جو خصوصیات میں اس میں دیکھ رہا ہوں اگر یہودیوں کو معلوم ہو جائے تو اس کو قتل کر ڈالیں۔ اس جوان کے سلسلے میں یہودیوں سے بہت زیادہ ہوشیار رہئے۔
ابوطالب علیہ السلام نے پوچھا: یہ بچہ کیا کار نامہ انجام دے گا؟ اور یہودی کیا کریں گے۔
بحیرا نے کہا: یہ بچہ مستقبل میں پیغمبر ہوگا۔ اس پر وحی کا فرشتہ نازل ہوگا۔
ابوطالب علیہ السلام نے کہا: خدا یقیناً اس بچہ کی حفاظت کرے گا،(14) (یہودیوں اور دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا)
↩ کردار کی بلندی:
جس معاشرے میں حضرتؐ زندگی بسر کر رہے تھے، اخلاقی پستیاں اس معاشرے کی فضیلت شمار کی جاتی تھیں. جوان تو جوان حجاز کے بوڑھے بھی بدکاری میں سب سے آگے تھے یہانتک کہ ہر گلی اور کوچہ میں بالاخانوں پر سیاہ پرچم مرکز فساد کی نشاندہی کرتے تھے اور لوگوں کو بدکرداری اور انحراف کی طرف بلاتے تھے۔
ایسے گندے اور کثیف ماحول میں حضرتؐ نے اپنی جوانی کے پچیس سال گزارے لیکن آپؐ کے دامنِ کردار پر ماحول کی کثافت کا ذرہ بھی اثر نہ ہو ا بلکہ دوست و دشمن ہر ایک نے آپؐ کے کردار کی بلندی کا اعتراف کیا ہے۔
جس وقت جناب خدیجہؑ سے آپ کی شادی ہوئی اس وقت شعراء نے حضرتؐ کی مدح میں جو اشعار کہے وہ حضرتؐ کے کردار کے آئینہ دار ہیں، شاعر جناب خدیجہؑ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ:
''اے خدیجہ! دنیا والوں میں تم کو بہت بڑا مرتبہ ملا ہے تم سب کو فوقیت حاصل ہے، تم کو محمدؐ جیسا شوہر ملا ہے، دنیا کی تمام عورتوں نے آج تک ایسا کوئی بچہ پیدا نہیں کیا۔ تمام اخلاقی اقدار، بلندیاں، حیا و عفت سب اس میں جمع ہیں اور اسی طرح جمع رہیں گی۔''(15)
ایک دوسرا شاعر کہتا ہے:
''اگر تمام مخلوقات کے ساتھ حضرتؐ کا مقابلہ کیا جائے تو ان کو سب پر فوقیت حاصل رہے گی۔ یقیناً قریش ان کے اخلاق اور کردار کی بلندیوں سے خوب واقف ہیں۔''(16)
💝 آنحضرتؐ کی شادی:
جوانی فطری تقاضوں کے ظہور کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت خواہشات سر اٹھانے لگتی ہیں۔ جب لڑکا اور لڑکی عمر کے اس مرحلہ میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں گھر بسانے کی تمنا جاگنے لگتی ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کا احساس ہونے لگتا ہے تاکہ انکو سکونِ دل حاصل ہو جائے۔
اسلام نے فطری تقاضے کی سیرابی اور فتنہ و فساد سےمحفوظ رہنے کے لئے تاکید کی ہے کہ جوانوں کو جلدی شادی کرنا چاہئے اور یہ بہانہ نہ بنانا کہ بعد کے اخراجات کے وسائل ان کے پاس نہیں ہیں۔(17)
ہاں اگر زندگی درہم برہم، شادی کے ابتدائی اور بنیادی مسائل بھی فراہم نہیں ہیں تو اس صورت میں عفت اور پاک دامنی کے ساتھ حالات کا انتظار کرنا چاہئے۔(18)
حضرتؐ نے اپنی زندگی کے 25 سال اسی طرح کے سخت حالات میں گزارے۔ مالی حالت ایسی نہ تھی کہ حضرت شادی کر سکتے۔ اس لئے حضرت حالات کا انتظار کر رہے تھے۔(19)
💖 جناب خدیجہؑ کی پیش کش:
جناب خدیجہؑ دولت مند اور شریف خاتون تھیں دوسرے افراد ان کے سرمائے سے تجارت کرتے تھے اور اپنی مزدوری لے کر نفع حضرت خدیجہؑ کو دے دیتے تھے.
جس وقت حضرتؐ کی امانتداری بلند کرداری کا سارے عرب میں شہرہ ہو گیا تو جناب خدیجہؑ نے سوچا کہ کیوں نہ حضرتؐ کے ذریعہ تجارت کی جائے، جناب خدیجہؑ نے یہ پیش کش حضرتؐ کے درمیان رکھی کہ میں ایک غلام کے ساتھ سرمایہ آپ کو دوں گی تاکہ آپ اس سے تجارت کریں اور آپ کو دوسروں سے زیادہ دوں گی۔
حضرتؐ، جناب ابوطالبؑ کی زندگی سے بخوبی واقف تھے. اخراجات کتنے زیادہ ہیں اور آمدنی کتنی محدود ہے، زندگی کس تنگی میں گزر رہی ہے۔ لہٰذا آپؐ نے جناب خدیجہؑ کی پیش کش قبول کرلی۔(20)
1 285
ابھی آپؐ کی عمر کی چھ بہاریں گزری تھیں(6) کہ آپؐ کی والدہ جناب آمنہ اپنے رشتہ داروں اور اپنے مرحوم شوہر کی قبر کی زیارت کرنے گئیں اور آپؐ کو اپنے ہمراہ لے گئیں، مدینہ میں رشتہ داروں سے ملاقات کی اور شوہر کی قبر کی زیارت کر کے اپنے عہد کی تجدید کی اور پھر مکہ واپس آنے لگیں کہ راستہ میں ''ابواء'' نامی جگہ پر آپ (آمنہ) کا انتقال ہوگیا.(7)
وہ عمر جس میں بچے کو ماں کی محبتوں اور باپ کی شفقت کی بے پناہ ضرورت ہوتی ہے اس عمر میں آپؐ کے سر سے دونوں سایہ اٹھ گئے۔
↩ نبوت کے آثار:
جسطرح پیغمبر اسلامؐ کی ولادت اور اس کے بعد رونما ہونے والے غیر معمولی واقعات آنحضرتؐ کی شخصیت اور عظمت کی ترجمانی کر رہے تھے اسی طرح بچپن میں آپؐ کی باتیں اور آپؐ کا کردار آپؐ کو دوسرے بچوں سے ممتاز کر رہا تھا جناب عبدالمطلب کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا. اسی لئے وہ آنحضرتؐ کا غیر معمولی احترام کرتے تھے۔(8)
آنحضرتؐ کے چچا جناب ابوطالب علیہ السلام کا بیان ہے کہ ہم نے کبھی محمدؐ سےغلط بیانی اور کوئی نازیبا بات نہیں دیکھی نہ کبھی بیجا ہنستے دیکھا اور نہ کبھی بیجا گفتگو کرتے دیکھا وہ اکثر و بیشتر تنہا رہتے تھے۔(9)
جس وقت آنحضرتؐ سات سال کے تھے اس وقت یہودیوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ حرام اور مشتبہ غذاؤں کو استعمال نہیں کرتا لہٰذا بہتر ہے کہ ہم ان کا امتحان لیں، چنانچہ ایک مرتبہ یہودیوں نے ایک مرغ چرا کر ابوطالبؑ کے پاس بھیجا، چونکہ کسی کو علم نہ تھا اس لئے سب نے کھایا لیکن پیغمبرِ اسلامؐ نے اسطرف ہاتھ تک نہیں بڑھایا۔ جب اس کا سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا: کہ یہ حرام ہے اور خدا مجھے حرام سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے ایک بار اپنے پڑوسی کا مرغ پکڑ لیا اور خیال یہ تھا کہ بعد میں اس کی قیمت ادا کر دیں گے. پیغمبرِ اکرمؐ نے اس مرغ کی طرف بھی ہاتھ نہیں بڑھایا اور فرمایا: کہ یہ غذا مشتبہ ہے۔ اس کے بعد یہودیوں نے کہا کہ یہ بچہ بڑی عظمتوں کا مالک ہے اس کی شان نرالی ہے۔(10)
↩ قریش کے سردار جناب عبدالمطلب رسولِخُداؐ کے ساتھ ہر گز اس طرح سے پیش نہیں آتے تھے جس طرح دوسرے بچوں کے ساتھ پیش آتے تھے بلکہ بہت عزت اور احترام کرتے تھے۔
جس وقت خانہ کعبہ کے گرد جناب عبدالمطلب کے لئے مخصوص نشست بنائی جاتی تھی اور ان کے فرزند اس کے گرد جمع ہو جاتے تھے تو ایسا رعب طاری ہوتا تھا کہ کوئی اس جگہ تک جا نہیں سکتا تھا لیکن آنحضرتؐ اس جاہ و جلال سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے، آنحضرتؐ سیدھے وہاں جاتے تھے جہاں جناب عبدالمطلب بیٹھے ہوتے تھے وہ لوگ جو آنحضرتؐ کو وہاں جانے سے روکتے تھے عبدالمطلب ان سے کہتے تھے کہ میرے فرزند کو روکو نہیں، خدا کی قسم اس کی جدا گانہ شان ہے، اس وقت آنحضرتؐ جناب عبدالمطلب کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے تھے۔(11)
↩ یادِ ماضی:
آنحضرتؐ کا بچپن یتیمی کے کرب کے ساتھ دادا عبدالمطلب اور چچا ابوطالب کی شفقت کی چھاؤں میں گزرا. یتیمی کا رنج ہر رنج سے جانگداز ہوتا ہے، رنج کے یہ تجربے آنحضرتؐ کی آئندہ زندگی کے لئے بڑے مفید ثابت ہوئے۔
رفتہ رفتہ عمر میں اضافہ ہوتا رہا اور بچپن سے جوانی میں قدم رکھا، جہاں صلاحیتیں اور جذبات پروان چڑھتےہیں اگرچہ ماں کی محبت اور باپ کی شفقت سے محروم ہو چکے تھے مگر جناب ابوطالبؑ اپنا اخلاقی فریضہ اور اپنے والد کی وصیت کے مطابق آنحضرتؐ کی برابر حفاظت کرتے رہے. ابوطالبؑ کے لئے حضرت تین طرح سے عزیز تھے،
فرزند تھے۔ مرحوم بھائی کی نشانی اور اپنے مرحوم پدر کی یادگار تھے. لہٰذا حضرتؐ جناب ابوطالبؑ کے گھر کے ایک فرد تھے۔ جناب ابوطالبؑ کے دوسرے بچوں کی طرح حضرت محمدؐ بھی ان کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھتےتھے جناب ابوطالبؑ آنحضرتؐ کے لئے مہربان باپ، وفادار چچا اور دل سوز مربی تھے. چچا اور بھتیجے میں اتنی محبت تھی گویا دو قالب ایک جان تھے. یہی وجہ تھی کہ ابوطالبؑ ہر جگہ آنحضرتؐ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے، اپنے ساتھ عرب کے مشہور بازاروں ''عکاظ '' ''محبنہ'' اور '' ذی المجاز'' لے جاتے تھے ۔یہاں تک کہ جس وقت جناب ابوطالبؑ کاروانِ تجارت کے ساتھ شام جانے لگے تو حضرتؐ کی جدائی برداشت نہ کر سکے اور حضرتؐ کو اپنے ہمراہ شام لے گئے. حضرتؐ نے اونٹ کے اوپر ''یثرب'' اور ''شام'' کا دور دراز سفر کیا۔(12)
🌹 بحیرا سے ملاقات:
جب قریش کا قافلہ ''بصرہ'' (13) کے نزدیک پہنچا، اس وقت گوشہ نشین زاہد بحیرا اپنے صومعہ میں تھا، اس نے دیکھا کہ ایک قافلہ آرہا ہے اور قافلہ کےساتھ ساتھ ابر کا ایک ٹکڑا بھی حرکت کر رہا ہے۔
بحیرا اپنے صومعہ سے نیچے اتر کر ایک گوشہ میں کھڑا ہو گیا اور اپنے خادم سے کہنے لگا ک قافلہ والوں سے جا کر کہہ دو کہ وہ سب آج ہمارے مہمان ہیں۔ حضرت محمدؐ کے علاوہ ہر شخص اس کے پاس چلا گیا۔ بحیرا نے دیکھا کہ ابر کا ٹکڑا وہیں رکا ہوا ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ قافلہ کےتمام افراد یہاں آ گئے ہیں؟ سب نے کہا ہاں! البتہ ایک نوجوان جو سن میں سب
1 285
🌹 مختصر سوانح حیات حضرت محمدؐ 🌹
12 تا 17 ربیع الاول (ہفتہ وحدت مسلمین) ولادت باسعادت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت بہت مبارک ہو۔
محمدؐ بن عبد اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نبی کے 29 پشت اور حضرت آدم علیہ السلام کے 69 پشت یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے 9700سال چار مہینے بعد، شیعہ علماء کے قول کے مطابق 17ربیع الاول بروز جمعہ، یعنی 29 اگست 571ء صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔
پدر بزرگوار جناب عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف.
مادر گرامی جناب آمنہ قبیلہ بنی کلاب کی شریف زادی اور رئیس خاندان سے تعلق رکھتی تھیں. شجاعت اور بہادری میں یہ خاندان بہت ممتاز گزرا ہے اور عرب میں بہت مستند تھا۔
شعب ابوطالبؑ مکہ میں آپؐ کی ولادت ہوئی آپؐ کے والد عبداللہ آپؐ کی ولادت سے دو مہینے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، دادا عبدالمطلب موجود تھے وہ آپؐ کے کفیل ہوئے اور آپؐ کے چچا جناب ابوطالب علیہ السلام آپؐ کی ہر طرح سے کفالت اور دیکھ بھال کرتے رہے۔
↩ آپؐ کا اسم مبارک:
محمد، احمد
↩ آپؐ کی کنیت:
ابوالقاسم
↩ آپؐ کے القاب:
آپؐ کے القاب ایک ہزار سے زیادہ ہیں جو زیادہ مشہور ہیں ان کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔
منجملہ ان کے مصطفےٰ، مجتبیٰ، محمود، شفیع، شافع، خاتم الانبیا، رسول اللہ، حبیب اللہ، اشرف المرسلین، سید البشر، محبوب حق، طاہر، مختار، سراج منیر، امین، صادق، شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ، طٰہٰ، یٰس، مزمل، مدثر، سرور کائنات، فخر موجودات، سید عالم وغیرہ......
↩ آنحضرتؐ کی ولادت:
شہر مکہ تاریکیوں اور خاموشیوں میں ڈوبا ہوا تھا زندگی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے البتہ چاند اپنی عادت کے مطابق دھیر ے دھیرے پہاڑوں کی اوٹ سے گزرتا ہوا ذرا بلندی پر آگیا تھا اور اپنی ٹھنڈی ٹھنڈی شعاعیں مکہ کے معمولی اور سادہ گھروں اور ریگستانی ذروں پر بکھیر رہا تھا۔
رفتہ رفتہ آدھی رات گزر گئی اور حجاز کے جلتے جھلستے ہوئے صحراؤں پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں ذرا دیر کے لئے ریگستانوں کے سینوں میں لگی آگ ٹھنڈی ہوئی، ریاکاری سے دور خلوص کی اس بزم میں ستاروں کی موجودگی نے جن میں اور اضافہ کر دیا۔
صبح ہو چکی ہے نسیم سحر ہولے ہولے چل رہی ہے مرغان خوش الحان سحر انگیز نغمے فضا میں منتشر کر رہے ہیں گویا کسی معشوق سے راز و نیاز کر رہے ہیں.
افق مکہ پر سپیدئ سحر نمودار ہونے والی ہے مگر سارے شہر پر ایک مبہم سا سکوت طاری ہے سب گہری نیند سو رہے ہیں، ہاں صرف "آمنہ" بیدار ہیں ناگہاں چند نامعلوم مگر نورانی عورتیں ان کے کمرے میں آئیں ان کی خوشبو نے جناب آمنہ کو متحیر کر دیا یہ کون ہیں اور کس طرح یہاں آئی ہیں کیوں کہ دروازہ تو بند ہے.(1)
تھوڑی دیر گزری تھی کہ ان کا عزیز فرزند متولد ہوا۔ جس چیز کا مہینوں سے انتظار تھا 17 ربیع الاول(2)، یعنی 29 اگست 571 عیسوی صبح صادق کے وقت اپنے بچے کی صورت دیکھ کر جناب آمنہ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور دل باغ باغ ہو گیا۔
ہر ایک کو اس ولادت کی خوشی تھی ''محمدؐ'' سے جناب آمنہ کے گھر کے درودیوار روشن و منور ہو گئے لیکن اس وقت آمنہ جواں سال شوہر ''عبداللہ'' کی کمی شدت سے محسوس کر رہی تھیں جس وقت وہ شام سے مدینہ واپس آرہے تھے راستہ میں ان کا انتقال ہو گیا تھا انھیں وہیں دفن کر دیا گیا تھا اور آمنہ ہمیشہ کے لئے تنہا ہو گئی تھیں۔(3)
↩ ولادت کے وقت:
جس وقت آپؐ کی ولادت ہوئی اس وقت زمین و آسمان میں ایسے عجائبات و معجزات خدا کیطرف سے ظاہر ہوئے خاص کر مشرق میں (جو اس وقت کی تہذیب و تمدن کا مرکز تھا) یہ حوادث خبر رسانی کا اس وقت اس سے سریع ذریعہ تھے جس سے یہ معلوم ہو گیا کہ دنیا میں کوئی عظیم واقعہ ہوا ہے۔
🌹 یہ بچہ تمام فرسودہ رسم و رواج کا خاتمہ کرنے والا اور ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھنے والا تھا، انسانوں کو سعادت کی شاہراہ پر گامزن کرنےوالا تھا، لہٰذا ولادت کے پہلے ہی دن سے فرسودہ اور جاہلی نظام کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
🚨 نوشیرواں کا وسیع و عریض محل جس کی ابدیت کا خواب دیکھا جا رہا تھا، اسی رات اس میں زلزلہ آیا اور اس کے چودہ کنگورے گر گئے.(4)
🚨 آتش کدہ فارس جو ایک ہزار سال سے مجوسی قوم نے جلا رکھا تھا خود بخود خاموش ہو گیا۔(4)
🚨 وقتِ ولادت ایسی روشنی پھیلی کہ شام و کسرٰی کی عمارتیں دکھائی دینےلگیں،
🚨 جہاں کہیں بھی بت رکھے ہوئے تھے سب سر نگوں ہو گئے۔
🚨 خیالی خداؤں کے پجاری جن کا تعصب انھیں کوئی اور فکر کرنے نہیں دیتا تھا وہ بھی ان واقعات کے بعد سوچنے پر مجبور ہو گئے اسی طرح ''ساوہ'' کے دریا نے خشک ہو کر بیداری کا پیغام دیا۔(5)
↩ ماں کی شفقت سے محرومی:
1 285
📚 حوالہ جات:
[➊] قرآن مجید
[➋] نہج البلاغہ
[➌] مجموعۂ آثار استاد شہید مرتضیٰ مطہری، ج 4، ص 290 تا 293.
👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 انسان وجودِ انبیاء کا محتاج 🔷
سوال: کیوں، انسان وجودِ انبیاء کے محتاج ہیں؟
جواب: استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ فرماتے ہیں کہ انسان دو وجوہات کی بنیاد پر انبیاء کا محتاج ہے۔
■ پہلی وجہ:
انسان، غریزۂ حیات کی بنیاد پر زندہ رہنا چاہتا ہے مگر زندہ رہنے کے لئے ہمیشہ اپنے ذاتی منافع و مفادات کے پیچھے رہتا ہے۔ لہذا نہ تو اجتماعی مصلحتوں (جیسے حق کا بول بالا، اجتماعی عدالت، انصاف و۔۔۔) کو تشخیص دے سکتا ہے اور نتیجتاً نہ ہی ان کی رعایت کرتا ہے۔ پس انسان ان دونوں مراحل کے لئے الہٰی ہادی، رہبر اور رہنما کا محتاج ہے۔
انبیاء وہ خدائی ہادی اور رہنما ہیں کہ جو ان دونوں مراحل کی ذمہ داری نہایت ہی احسن انداز سے نبھاتے ہیں۔ وہ کیسے؟
📍یعنی یہ الہٰی نمائندے ایک طرف انسان کو اجتماعی مصلحتوں (یعنی دین کے انفرادی اور اجتماعی پہلو) سے آگاہ کرتے ہیں۔
📍اور دوسری طرف اس انسان کے اندر ایمان نامی ایک قوت کو برانگیختہ کرتے ہوئے اس کے رگ و پے کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اور پھر یہی قوت، انسان کو موظَّف اوراجتماعی مصلحتوں کی رعایت کرنے کا پابند بنا دیتی ہے کہ جس کی وجہ سے ایک صحیح اور سالم معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
"لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔" (سورہ حدید/25)
ترجمہ:
بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تا کہ لوگ عدل قائم کریں۔
"يا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْناكَ شاهِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذيراً وَ داعِياً إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِراجاً مُنيراً۔" (سورہ احزاب/45 و 46)
ترجمہ:
اے نبی ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اُس کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر۔
"فَبَعَثَ اللَّهُ فيهِمْ رُسُلَهُ، وَ وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ بِمَا خَصَّهُمْ بِهِ مِنْ وَحْيِهِ، وَ جَعَلَهُمْ حُجَّةً لَهُ عَلى خَلْقِهِ، فَدَعَاهُمْ بِلِسَانِ الصِّدْقِ إِلى سَبيلِ الْحَقِّ، لِيَسْتَأْدُوهُمْ ميثَاقَ فِطْرَتِهِ، وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ، وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْليغِ، لِئَلَّا تَجِبَ الْحُجَّةُ لَهُمْ بِتَرْكِ الإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ، وَ يُثيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، وَ يُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَة۔" (نہج البلاغہ/خ 1)
ترجمہ:
پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمتِ پروردگار یاد دلائیں۔ تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کو برانگیختہ کریں اور انہیں قدرت الہی کی نشانیاں دکھلائیں۔
■ دوسری وجہ:
انسان کے وجودِ انبیاء کے محتاج ہونے کی دوسری وجہ آخرت و معاد کی حقیقت سے ناآشنائی ہے۔ کیونکہ نہ تو کوئی بھی عقل اور ٹیکنالوجی معاد کو ثابت کر سکتی ہے اورنہ ہی اس کی حقیقت و ماہیت بیان کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ بتا سکتی ہے کہ انسان کی اخروی سعادت و شقاوت کے اسباب کیا ہیں۔
معاد سے متعلق پیغمبر اسلام (ص) اور ان سے پہلے والے انبیاء پر نازل ہونے والی وحیِ الہٰی کی آیات اور انبیاء (ع) کے اقوال و فرامین اس وجہِ ثانی کے بہترین شواہد ہیں۔
🔘 نتیجہ:
پس اگر انبیاء جیسے معلّم اس دنیا میں تشریف نہ لاتے تو روئے زمین پر انسان و انسانیت نامی کوئی چیز نہ ہوتی بلکہ ابتداء سے ہی جنگل کا ایک ایسا قانون بن جاتا کہ جس کی بنیاد پر ہر قوی، ضعیف کو پائمال و نابود کر دیتا اور دنیوی و اخروی شقاوت اُس کا مقدر بن جاتی۔
■ خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ سورہ انبیاء ایت 107 میں خداوند قدوس نے فرمایا۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کو قبول کر لیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوگا اور اور چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے آئے ہیں۔
بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے یہ امت بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کر دی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں۔
امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے گا۔
1 285
*امام محمد باقر علیہ السلام اپنے آبائے طاہرین سے روایت کرتے ہیں کہ:*
ایک شخص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
"اے امیر المؤمنین! میں آپ سے تین سوالات پوچھنا چاہتا ہوں:"
1.انسان جب سوتا ہے تو اس کی روح کہاں جاتی ہے؟
2.انسان باتوں کو کیسے بھول جاتا ہے اور پھر اسے دوبارہ کیسے یاد آ جاتی ہیں؟
3.بچہ اپنے چچاؤں (دھدیال) یا اپنے مامؤوں (ننھیال) کی مشابہت (شکل و شباہت) کیوں اختیار کرتا ہے؟
امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن۴ کی طرف دیکھا اور فرمایا
"یا أبا محمد! أجبه" (اے ابو محمد! تم اس کے سوالات کے جواب دو)۔
امام حسن علیہ السلام نے ان تینوں سوالات کے جوابات اس طرح ارشاد فرمائے
1. "جو تم نے پوچھا کہ نیند کی حالت میں انسان کی روح کہاں جاتی ہے
تو انسان کی روح ہوا سے لٹکی (متصل) ہوتی ہے اور ہوا فضا کے ساتھ پیوست ہوتی ہے۔ جب انسان بیدار ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس کی روح کو واپس جسم میں بھیجنے کا اذن دیتا ہے، تو وہ روح ہوا کو کھینچتی ہے، ہوا فضا کو کھینچتی ہے اور روح واپس انسان کے بدن میں قرار پا جاتی ہے۔ اور اگر اللہ اس کی روح کو قبض کرنے (روک لینے) کا حکم دے، تو ہوا فضا کو کھینچتی ہے اور روح ہوا کے ساتھ چلی جاتی ہے (یعنی بدن سے مفارقت کر جاتی ہے)۔"
2. "جو تم نے نسیان اور یاد کے بارے میں پوچھا؛ تو انسان کے دل کے اوپر ایک طبقہ (یا پردہ/حقہ) ہوتا ہے اور اس پر ایک فرشتہ اور ایک شیطان ہوتا ہے۔ جب انسان محمد و آلِ محمد پر صلوات بھیجتا ہے تو وہ پردہ دل سے ہٹ جاتا ہے، اور جو باتیں وہ بھول چکا ہوتا ہے، فرشتہ انہیں انسان کے دل میں دوبارہ جاری کر دیتا ہے اور اسے وہ یاد آ جاتی ہیں۔ اور جب انسان صلوات نہیں پڑھتا (یا غفلت کا شکار ہوتا ہے)، تو شیطان اس دل کے پردے کو ڈھانک لیتا ہے اور انسان اپنی یاد رکھی ہوئی باتیں بھی بھول جاتا ہے۔"
3. "جو تم نے بچے کی اپنے چچا اور ماموں سے شباہت کے بارے میں پوچھا
تو جب مرد آرام، سکون، اور بغیر کسی اضطراب کے اپنی زوجہ کے پاس جاتا ہے، تو نطفہ رحم میں ٹھہر کر قرار پاتا ہے اور بچہ اپنے والد اور چچا کی مشابہت اختیار کرتا ہے (دھدیال پر جاتا ہے)۔
لیکن اگر مرد بے چینی، اضطراب یا پریشانی کے عالم میں جماع کرتا ہے، تو نطفہ مرتعش ہو جاتا ہے اور وہ والدہ کی رگوں کی طرف مائل ہوتا ہے، جس سے بچہ اپنے ماموں (ننھیال) سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔"
یہ جوابات سن کر اس سائل نے گواہی دی کہ اللہ ایک ہے، محمدۖ اس کے رسولؐ ہیں، اور آپ (اہلِ بیت) اللہ کی حجت ہیں۔
*عیون أخبار الرضا شیخ صدوق ج1 باب 6۔*
*الخصال شیخ صدوق ج1، ص60، ح24۔*
*بحار الأنوار ج57 ص306۔*
1 285
🔶 تارک الصّلاة کے نام 🔶
حضور اکرمؐ نے فرمایا:
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "فجر کی نماز" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یا خاسر" (اے خسارہ اٹھانے والا) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "ظہر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا غادر" (اے عہد شکن) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عصر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا فاجر" (اے فجور کرنے والے) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "مغرب کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا کافر" (اے کافر) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عشاء کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ "کیا تیرا رب نہیں ہے"؟؟
📚 ہدیةالشیعہ ، صفحہ326۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌲 خدا سے اُمید 🌲
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"
میری رحمت سے ناامید نہ ہونا۔(1)
●حضرت علیؑ نے فرمایا؛
"لا تَرْجُ إلّا رَبَّکَ"
اپنے رب کے بغیر کسی سے امید نہ رکھ۔(2)
■امید
بزرگان دین میں سے ایک دینی شخصیت ہمیشہ لوگوں کے درمیان خداوندمتعال سے امید رکھنے کے راستے بیان کرتے تھے۔ جب انکی وفات ہوئی تو کسی نے انہیں خواب میں دیکھا۔ انھوں نے خواب دیکھنے والے سے فرمایا؛
مجھے خداوندمتعال کی پیشی میں لے جایا گیا مجھے رب ذوالجلال کا خطاب ہوا؛
تجھے کس طرح یہ ہمت ہوئی کہ ہمیشہ لوگوں کو میرے سے طمع اور امیدواری کی دعوت دیتے تھے۔؟
میں نے عرض کیا؛
میرا مقصد تھا کہ ان کے دلوں میں تیری ذات کی محبت جاگزیں ہو اور وہ تیری ذات سے رابطہ رکھیں۔
مجھے میرے رب سے واپسی جواب ملا کہ:
"میں نے تجھے معاف کر دیا اور مغفرت عطا کی"(3)
■اعرابی کا دلچسپ سوال
ایک اعرابی نے حضرت رسول اکرمؐ سے پوچھا؛
قیامت کے دن حساب و کتاب کس کے ہاتھ میں ہوگا؟
آپؐ نے فرمایا؛
خداوندمتعال کے قبضۂ قدرت میں۔
اعرابی نے پھر پوچھا؛
کیا خود خداوندمتعال محاسبہ فرمائے گا؟
آپؐ نے فرمایا؛ ہاں، بالکل۔
اعرابی زیرلب مسکرایا اور تبسم کیا۔
رسول اکرمؐ نے پوچھا؛
کیوں مسکرا رہے ہو؟ ہنستے کیوں ہو؟
اعرابی نے کہا؛
اصحابِ کرم کی شان ہے کہ جب ان کی قدرت کا مرحلہ ہوتا ہے تو درگزر فرماتے ہیں اور جب محاسبہ کرتے ہیں تو رعایت کرتے ہیں اور آسانی کا رویہ اپناتے ہیں۔
حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ آگاہ رہو کہ خداوندکریم بزرگوار اور نہایت بخشنے والا ہے اور اس کی ذات سے کوئی بڑھ کر بخشنے والا اور کریم نہیں ہے۔ عظیم صاحبِ عظمت اور کریم صاحبِ کرم ہے۔ اور پھر فرمایا؛
اس اعرابی نے فقیہ مردوں والی بات کی ہے۔(4)
■خدا سے امید
حضرت امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ جب میدان محشر میں فیصلہ ہوگا اور کسی بندۂ خدا کے لئے حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں ڈال دیں تو وہ ایک خاص طرح سے باربار خداوندمتعال کی رحمت کی طرف متوجہ ہوگا۔ خطاب ہوگا۔۔
بار بار کیا دیکھتا ہے؟
وہ بندہ عرض کریگا؛
خدایا میرا گمان اس طرح نہیں تھا بلکہ مجھے تو بخشش کی امید تھی۔
ارشاد ہوگا؛
تیرا کیا گمان تھا؟
وہ شخص عرض کریگا؛
مجھے گمان تھا کہ مجھے بہشت ملے گی۔
خداوندمتعال فرشتوں کو فرمائے گا؛
مجھے میری عزت و جلال کی قسم! اگر کوئی بندہ میرے اوپر ایک گھڑی بھی اچھا گمان کرے اور میری رحمت کا امیدوار ہو، میں ہرگز اسے جہنم کی آگ سے نہیں ڈراتا، پس اس کا گمان حقیقت بنا دو اور اسے میری بہشت میں داخل کردو۔
پھر رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر کوئی بندۂ خدا اپنے رب سے اچھا گمان رکھتا ہو تو خداوند ذوالجلال اسے اس کے مقصود و مطلوب تک پہنچا دیتا ہے۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا؛
خداوند ذوالجلال اپنے بندے کے نیک گمان کے نزدیک ہے۔ اگر اس کا گمان اچھا ہوگا تو اس کا نتیجہ بھی اچھا ہوگا۔ اور اگر گمان بد ہوگا تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔(5)
■سرمایۂ گداگری
حضرت موسٰیؑ نے خداوندمتعال سے عرض کیا؛
خدایا! جو چیز میری گداگری کی خرجین میں ہے، کیا وہ تیرے خزانے میں بھی ہے۔؟
خطابِ ایزدی ہوا؛
موسٰیؑ وہ کونسی ایسی چیز ہے جو تیری گداگری کی خرجین میں ہے اور میرے خزانے میں نہیں؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا! میرے پاس تیری ذات جیسا خدا ہے۔(6)
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) بحارالأنوار، ج14۔
2) غررالحکم، ج6، ص262۔
3) معراج السعادة.
4) اسرارالقوة، ص255۔
5) موضوعی داستانیں، ص25۔
6) داستانہاوپندہا، ج3۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌻 امانت داری 🌻
●ارشاد خداوندی ہے۔۔
"اِنَّ اللہ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الأمَانَاتِ إلیٰ اَھْلِھَا"
خداوندمتعال آپ کو حکم دیتا ہے امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچاؤ۔(1)
●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وَالَّذِیْنَ ھُمْ لامَانَاتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ"
مؤمن اپنی امانتوں اور عہدوپیمان کے پابند ہوتے ہیں۔(2)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"لا اِیْمَانَ لِمَنْ لا اَمَانَةَ لَہ"
جو امانت دار نہیں، صاحب ایمان نہیں۔(3)
●امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اَدُّوْا الأمَانَاتِ وَلَوْ إلیٰ أوْلادِ قَتَلَةِالانْبِیَاءَ"
امانتیں واپس کرو، اگرچہ انبیاء کے قاتلوں کی اولاد کی ہی کیوں نہ ہوں۔(4)
■ثمرۂ امانت داری
عبدالرحمٰن بن سبابہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ایک دوست مجھے تعزیت کرنے کے لئے میرے گھر آئے اور مجھ سے کہا؛
عبدالرحمٰن! کیا تیرے والد نے کوئی چیز ترکہ میں چھوڑی ہے؟
میں نے کہا؛ نہیں
میرے والد کے دوست نے ایک ہزار درھم کی تھیلی میری طرف بڑھائی اور کہا؛
یہ رقم امانت کے طور پر اپنے پاس رکھ لو، اسے اپنے لئے سرمایہ بناؤ، اس کے ساتھ کاروبار کرو۔ جو نفع ملے اپنی ضروریات اور اخراجات میں خرچ کرو اور اصل رقم مجھے واپس کر دینا۔
مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں خوش خوش اپنی والدہ کے پاس گیا، سارا قصہ سنایا اور خبر دی۔
پھر رات کو اپنے والد کے ایک دوسرے دوست کے پاس گیا، اس نے میرے لئے کپڑے کے تھان خریدے اور ایک دکان کا انتظام کیا۔ میں دوسرے دن اپنے کاروبار میں مشغول ہوگیا۔
خداوندمتعال نے مجھے برکت عنایت فرمائی اور کشادہ روزی نصیب ہوئی۔
حج کا موسم نزدیک ہوا تو میرا جی چاہا خانۂ خدا کی زیارت کے لئے جاؤں اور فریضۂ حج ادا کروں۔ میں نے اپنی والدہ سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تو والدہ نے فرمایا؛
اگر آپ کا حج کا ارادہ ہے تو پہلے قرض والوں کا قرضہ دو پھر حج کے لیے چلے جاؤ۔
میں نے قرضہ کی رقم اکٹھی کی اور ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر رقم پیش کی۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ جیسے میں نے انہیں رقم عنایت کی ہو کیونکہ انہیں میرے قرضہ کی واپسی کی توقع نہ تھی۔۔ میرے والد کے دوست نے کہا؛
شاید یہ رقم کم تھی اس لئے تم نے واپس کردی ہے۔ اگر یہ تھوڑی ہے تو میں آپ کو اور دیتا ہوں۔
میں نے کہا؛
نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے پہلے آپ کی امانت واپس کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
مجھے سعادت نصیب ہوئی اور میں حج پر روانہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ سے حاضری کے بعد مدینہ منورہ زیارات کے لئے گیا۔ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ میں چونکہ نوخیز اور کم عمر جوان تھا، محفل کے آخر میں بیٹھ گیا۔ جب لوگوں کا رش کم ہوا اور محفل میں جگہ خالی ہوئی تو میں ذرا آگے بڑھا۔ امام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا؛ کوئی کام تھا؟
میں نے عرض کی؛
قربان جاؤں، میں عبدالرحمٰن بن سبابہ ہوں۔
آپؑ نے میرے والد کا حال احوال دریافت فرمایا؛
میں نے عرض کیا؛ وہ وفات پاگئے ہیں۔
آپؑ نے بہت زیادہ افسوس فرمایا اور میرے والد کے لئے دعائے رحمت فرمائی اور پوچھا؛
کیا وہ کوئی دنیاوی مال ترکہ کے طور پر چھوڑ گئے تھے؟
میں نے عرض کیا؛ نہیں
آپؑ نے پوچھا؛
پھر تو کس طرح حج کے لئے آیا ہے؟
میں نے اپنے والد کے دوست کی داستان بیان کی۔۔ آپؑ نے میری بات پوری ہونے سے قبل ہی پوچھا؛
تو پھر تو نے اس بندۂ خدا کے ہزار درھم کا کیا کیا؟
میں نے عرض کیا؛ واپس کر دیا ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
شاباش، بہت اچھا کام کیا تو نے۔ تمہیں ایک نصیحت کروں؟
میں نے عرض کیا؛ جی ہاں، فرمائیے۔۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
"عَلَیْکَ بِصِدْقِ الْحَدِيْثِ وَ اَدَآءِ الْآمَانَةِ"
تجھ پر لازم ہے سچ بولنا اور امانت واپس کرنا۔
اگر میری اس فرمائش پر عمل کرو گے تو لوگوں کے اموال کے شریک رہو گے۔ پھر آپؑ نے اپنی مبارک انگلیوں کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا؛ اس طرح لوگوں کے اموال کے شریک ہوا کرو گے۔
میں نے آنحضرت علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کیا، میری ہمیشہ مالی حالت اچھی رہی، اور اس قدر برکت ہوئی کہ ایک سال میں تین ہزار درھم زکوۃ ادا کی۔(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) سورہ نساء، آیت58۔
2) سورہ مؤمنون، ایت8۔
3) موضوعی داستانیں،ص17۔
4) میزان الحکمۃ، حدیث 1495۔
5) بحارالأنوار، حصہ قصہ جات، ج2۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
وہ سر پٹ دوڑا ۔ یزید نشے کی حالت میں تھا ۔ اس نے بھی اپنی سواری کو دوڑانا شروع کیا - تو اس دوران وہ گھوڑے سے نیچے گرا ۔ اور اسکی گردن ٹوٹ گئی ۔۔
(بلاذری جلد 5 صفحہ 287)
👹 اللہ کے دشمن یزید بن معاویہ کی موت ایک اور روایت میں۔۔۔
سید ابن طاؤوسؒ اپنی کتاب «اللّہوف فی قتلى الطفوف» صفحہ ۱۵۱ پر نقل کرتے ہیں:
ابو مخنفؒ بیان کرتے ہیں:
یزید بن معاویہ کے معاملے میں جو کچھ پیش آیا، وہ یہ ہے کہ ایک دن وہ اپنے خاص لوگوں میں سے دس ہزار سواروں کے ہمراہ شکار اور صید کے ارادے سے نکلا۔ چلتے چلتے دمشق سے تقریباً دو دن کی مسافت دور پہنچ گیا۔
اچانک اسے ایک ہرنی دکھائی دی۔ یزید نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
"تم میں سے کوئی میرے پیچھے نہ آئے۔"
پھر اس نے اپنا گھوڑا ہرنی کے پیچھے دوڑا دیا اور اسے ایک وادی سے دوسری وادی تک بھگاتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایک ایسی خوفناک اور ہولناک وادی میں جا پہنچی جہاں کا راستہ نہایت دشوار تھا۔
یزید اس کے تعاقب میں تیزی سے آگے بڑھا، یہاں تک کہ وادی کے بیچ میں پہنچ گیا۔ مگر اب اسے نہ ہرنی کا کوئی سراغ ملا اور نہ اس کا کوئی نشان دکھائی دیا۔
شدید پیاس نے اسے بے حال کر دیا۔ وہاں اسے پانی بھی کہیں نہ ملا۔ اچانک اس نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس پانی سے بھرا ہوا ایک برتن تھا۔
یزید نے اس سے کہا:
"اے شخص! مجھے تھوڑا سا پانی پلا دو۔"
اس شخص نے اسے پانی پلا دیا۔
پانی پینے کے بعد یزید نے کہا:
"اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ میں کون ہوں تو میری اور بھی زیادہ عزت و تکریم کرتے۔"
اس شخص نے پوچھا:
"تم کون ہو؟"
یزید نے جواب دیا:
"میں امیر المؤمنین یزید بن معاویہ ہوں۔"
اس شخص نے کہا:
"اللہ کی قسم! تو ہی علی بن ابی طالب کے بیٹے حسینؑ کا قاتل ہے، اے اللہ کے دشمن!"
یہ کہہ کر وہ شخص اٹھا اور یزید کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھا۔
یزید کا گھوڑا بدک گیا اور اسے گھوڑے سے گرا دیا۔ اس کی ایک ٹانگ رکاب میں پھنس گئی۔ جب بھی گھوڑا اسے اپنے پیچھے دیکھتا تو بدک کر مزید تیزی سے دوڑنے لگتا۔
یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ گھوڑے نے یزید کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اللہ نے اس کی روح کو جلد ہی جہنم کی طرف پہنچا دیا۔
یزید کے دس ندیم تھے، جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے تھے اور یزید بھی ان پر اپنے اہلِ حرم، اولاد اور مال کے معاملے میں اعتماد کرتا تھا۔
جب یزید واپس نہ آیا تو وہ لوگ اس راستے پر روانہ ہوئے جس راستے سے وہ گیا تھا تاکہ اس کی خبر معلوم کریں۔ انہوں نے وہاں یزید کا گھوڑا دیکھا اور اس کی ران رکاب میں لٹکی ہوئی ملی۔
یہ منظر دیکھ کر دونوں لشکروں کے درمیان شور و فریاد بلند ہوگئی، اور وہ لوگ واپس دمشق چلے گئے۔
📚 حوالہ: سید ابن طاؤوسؒ، اللّہوف فی قتلى الطفوف، ص ۱۵۱۔
اس ملعون کی قبر دمشق میں آج بھی نشان عبرت بنی ہوئی ہے۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
⏪ یزید بن معاویه کا واصلِ جہنم ھونا ⏩
یزید بن معاویہ خاندان بنو امیہ کا دوسرا خلیفہ تھا. اس نے معاویہ بن ابوسفیان کے بعد حکومت کی اور اس کے دور میں دمشق اس کی حکومت کا دارالخلافہ تھا۔ معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کو خلیفہ نامزد کر کے خلافت کے موروثی ہونے کا بیج بویا کیونکہ اس سے پہلے کسی بھی اسلامی خلیفہ نے اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ نامزد نہیں کیا۔ اس کے بعد خلافت وراثتی شکل اختیار کر گئی. اس کی موت شام میں ہوئی اور اسے دمشق میں دفنایا گیا.
⏪ یزید بن معاویہ کے بدترین اور سیاہ ترین واقعات میں سے واقعۂ کربلا ہے۔ کہتے ہیں کہ اسلام میں اس سے زیادہ غم انگیز واقعہ نہیں گزرا ہے۔ اسی ملعون کے دور میں خانہ کعبہ کو مسمار کیا گیا اور نذرِ آتش کیا گیا- مسجدِ نبوی میں گھوڑے باندھے گئے اور مدینہ کی ہزاروں کنواری لڑکیوں کے ساتھ زنا کیا گیا- ہزاروں صحابہ کرام کو شهید کیا گیا.
⏪ یزید صِرف تین برس چھ ماہ تختِ حُکومت پر شَیطَنَت (یعنی شرارت وخباثت) کر کے 14 ربیعُ الاوّل 64 ھ کو مُلکِ شام کے شَہر "حَمص" کے علاقے حُوّارین میں 39 سال کی عمر میں مر گیا۔
(الکامل فی التاریخ، ج3، ص464۔ دارالکتب العلمیة بیروت)
⏪ یزید کی موت کیسے واقع هوئی..
واقعۂ کربلا کے کچھ ہی دنوں کے بعد یزید ایک ہلاکت خیز اور انتہائی مُوذِی مَرَض میں مبُتلا ہوا، پیٹ کے دَرْد اور آنتوں کے زَخْموں کی ٹِیس (یعنی تکلیف) سے ماہیِ بے آب (یعنی جس طرح مچھلی پانی کے بغیر تڑپتی ہے) کی طرح تڑپتا رہتا تھا، حِمْص میں جب اُسے اپنی مَوت کا یقین ہوگیا تو اپنے بڑے لڑکے مُعاویہ بن یزید کو بِسْترِ مَرْگ پر بُلایا اور اُمورِ سَلْطَنَت کے بارے میں کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ بے ساخْتہ بیٹے کے مُنہ سے چیخ نکلی اور نہایت ذِلَّت و حقارت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے باپ کی پیشکش کو ٹھکرا دِیا کہ۔۔
"جس تاج و تخت پر آلِ رسولؐ کے خُون کے دَھبّے ہیں، میں اُسے ہرگز قبول نہیں کرسکتا، خُدا اِس منحوس سَلْطَنَت کی وِرَاثَت سے مجھے مَحْرُوم رکھے، جس کی بنیادیں نواسَۂ رسول کے خُون پر رکھی گئی ہیں."
یزید اپنے بیٹے کے مُنہ سے یہ اَلْفاظ سُن کر تڑپ گیا اور شِدّتِ رَنْج و اَلَم سے بستر پر پاؤں پٹخنے لگا، مَوت سے کچھ دن پہلے یزید کی آنتیں سڑ گئیں اور اُس میں کیڑے پڑ گئے، تکلیف کی شِدّت سے خِنزیر کی طرح چیختا تھا، پانی کا قَطرہ حَلْق سے نیچے اُترنے کے بعد نِشْتَر کی طرح چبھنے لگتا تھا،
عجیب قَہْرِ ِالٰہی کی مار تھی، پانی کے بغیر بھی تڑپتا تھا اور پانی پاکر بھی چیختا تھا، بالآخر اِسی دَرد کی شِدّت سے تڑپ تڑپ کر اُس کی جان نکلی، لاش میں ایسی ہولناک بدبُو تھی کہ قریب جانا مشکل تھا، جیسے تیسے اُس کو سِپُردِ خاک کِیا گیا.
(تاریخ کربلا، ص345)
⏪ یزیدِ پلید کی موت کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک رُومیُّ النَّسل لڑکی کے عشق میں گرِفتار ہو گیا تھا مگر وہ لڑکی اندرونی طور پر اُس سے نفرت کرتی تھی. ایک دن رنگ رلیاں منانے کے بہانے اس نے یزید کو دُور ویرانے میں تنہا بلایا۔ وہاں کی ٹھنڈی ہواؤں نے یزید کو بدمست کردیا۔ اُس دوشیزہ نے یہ کہتے ہوئے کہ جو بے غیرت و نابکار اپنے نبی کے نواسے کا غدّار ہو وہ میرا کب وفادار ہو سکتا ہے، خنجرِ آبدار کے پے در پے وار کر کے چیر پھاڑ کر اس کو وہیں پھینک دیا۔ چند روز تک اُس کی لاش چیل کوّوں کی دعوت میں رہی. بالآخِر ڈھونڈتے ہوئے اُس کے اَہالی مَوالی وہاں پہنچے اور گڑھا کھود کر اُس کی سڑی ہوئی لاش کو وہیں داب آئے۔
(اوراقِ غم، ص550)
(امام حسینؑ کی کرامات، ص47)
⏪ اس ملعون کی موت کی ایک روایت یہ ہے کہ بلاذری نے ایک شامی بوڑھے سے یزید کی موت کے سبب کے بارے میں لکھا ہے:
''ایک دن یزید نے اپنے بندر کو وحشی خچر کی پشت پر بٹھایا اور خود بھی ایسی حالت میں کہ مست اور مدہوش تھا، اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا، کہ اچانک زمین پر گرا، گردن ٹوٹ گئی اور پھر کھڑا نہیں ہو پایا۔"
(ابن کثیر، 436 /8)
⏪ ابن عباس سے منقو ل ہے کہ انہوں نے کہا: یزید حوارین میں مستی کی حالت میں شکار کی غرض سے گھوڑے پر بیٹھا اور اس کے آگے وہ وحشی خچر دوڑ رہی تھی جس پر بندر بیٹھا ہوا تھا، اس کے پیچھے یزید نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا، اور یہ شعر پڑھا:
ابا خلف! احتل لنفسک حیلہ
فلیس علیھا ان ھلکت ضمان.
یہ کہتے ہی وہ گھوڑے سے گرا اور گردن ٹوٹ گئی اور پھر اٹھ نہیں پایا۔
(انساب الاشراف/4/ق2/1)
⏪ اخبار الدول میں لکھا ھے کہ یزید ملعون دل اور معدے کے درمیانی پردے کی سوجن ﴿ذات الجنب ﴾ میں مبتلا تھا - جس سے وہ مقام حوران میں مرا - وہاں سے اسکی لاش دمشق لائی گئی - اور باب صغیر میں دفن کر دی گئی - پھر لوگ اسکی قبر کی جگہ کوڑا کرکٹ پھینکتے رھے ۔ وہ جہنمی 37 سال کی عمر میں موت کا شکار ھوا ۔ اور اسکی ظالم و باطل حکومت محض تین سال نو ماہ رھی - ایک اور قول کے مطابق یہ ھے - کہ ایک دن اس نے اپنے بندر کو وحشی گدھے پر سوار کیا - تو
1 285
🌼 خوفِ خُدا 🌼
جو کوئی اپنے خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے، دنیا کی مخلوقات اس سے ڈرتی ہیں۔
●ارشاد خداوندی ہوتا ہے۔۔
"وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ"
اور جو کوئی عظمتِ خداوندی کا دل میں خوف رکھے اس کے لئے دو بہشت ہیں۔(1)
●ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔
"وَأمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی فَإنَّ الْجَنَّةَ ھِیَ الْمَأوٰى"
اور جو عظمتِ رب سے ڈرا اور اپنے آپ کو خواہشات سے روکا تو جنت اس کا ٹھکانا ہے۔(2)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَعْلَی النَّاسَ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللہِ اَخُوْفُھُمْ مِنْہُ"
سب سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اس کا ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔(3)
■ملائکہ مقرب کا خوف؛
رسول اکرمؐ نے فرمایا؛ جب بھی جبرائیلؑ میرے پاس آئے تو خوفِ خدا سے لرزاں تھے۔ ایک دن میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا؛ کیا وجہ ہے میں نے میکائیلؑ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا؟
حضرت جبرائیلؑ نے جواب فرمایا؛
جس دن سے جہنم کی آگ کو خلق کیا گیا ہے اسی دن سے میکائیلؑ نے ہنسنا چھوڑ دیا ہے۔(4)
■حضرت علیؑ کا گریہ؛
حبہ عرفی اور نوف بکالی کہتے ہیں ہم ایک شب کوفہ کے دارالامارہ کے صحن میں سوئے ہوئے تھے، نصف شب کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام آہستہ آہستہ اپنے حجرے سے نکل کر صحن کی طرف تشریف لاتے ہیں لیکن آپؑ کی حالت عجیب ہے۔ آپؑ اپنے جسمانی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دیوار کا سہارا لے کر چل رہے ہیں اور زیرلب سورہ آلِ عمران کی آخری آیات کی تلاوت میں مصروف ہیں۔
جونہی آپؑ کی تلاوت آیات اختتام کو پہنچتی تو آپؑ دوبارہ ابتدا سے شروع کر دیتے اور مسلسل انہی آیات کی تلاوت میں مصروفِ عمل رہے۔
حبہ اور نوف اپنے اپنے بستر میں لیٹے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آپؑ پےدرپے گریہ فرما رہے تھے۔
حضرت علی علیہ السلام حبہ کے نزدیک تشریف لائے اور پوچھا؛
جاگتے ہو یا سو رہے ہو؟
حبہ نے جواب دیا؛
بیدار ہوں اے امیرالمؤمنین اور سوچ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے رب کی خشیت میں اس قدر رو رہے ہیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔
حضرت امیرالمؤمنینؑ نے آنکھیں جھکا کر پھر رونا شروع کر دیا اور فرمایا؛
اے حبہ! ہم سب کو ایک روز اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس کے سامنے سے ہمارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے، وہ تیرے اور میرے شہہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے اور کوئی بھی چیز کسی وقت بھی ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان حائل نہیں ہے۔
پھر نوف سے پوچھا؛
کیا سو رہے ہو؟
نوف نے کہا؛
نہیں مولا۔۔۔ اے امیرالمؤمنین میں تو کافی دیر سے آپ کو روتا دیکھ کر خود بھی رو رہا ہوں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا؛
اے نوف! اگر آج دنیا میں خوفِ خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہونگی۔
اے نوف! خداوندمتعال کے خوف سے آنکھوں سے نکلنے والا ہر قطرہ جہنم کی آگ کے کئی دریاؤں کو خاموش کردیتا ہے۔
اے نوف! کسی کا بھی مقام و منزلت خوفِ خدا میں رونے والے سے برتر نہیں اور اگر کوئی کسی کو خدا کے لئے دوست رکھتا ہو تو اس کا بہت بلند مقام ہے۔
اے نوف! جو خداوندمتعال سے محبت کرے اور خدا کے لئے ہی کسی شے سے محبت کرتا ہو تو وہ خدا کے راستے میں کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔
اور۔۔
جو شخص کسی شے سے دشمنی خدا کے لئے کرتا ہے تو اسے اس دشمنی کے لئے بھی نیکی ہی ملے گی۔ جب کوئی اس درجہ ایمان پر فائز ہو تو وہ ایمان کے حقائق کے کمال تک پہنچ جاتا ہے۔
پھر آپ نے حبہ اور نوف کو کچھ دیر وعظ و نصیحت فرمائی اور آپ کی گفتگو کا آخری جملہ یہ تھا۔۔
خدا سے خوف کھاؤ، میں نے تمہیں بتا دیا ہے۔(5)
■اویسؓ کا گریہ؛
اویسؓ قرنی ایک موعظہ کی محفل میں حاضر ھوا کرتے تھے۔ واعظ کی باتیں سن کر ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ جب آتش جہنم کا ذکر آتا تو ان کی دھاڑیں بلند ہو جاتی تھیں اور وہ بھاگتے دوڑتے تھے۔ ان پر ایسی بےکیفی کی حالت طاری ہوجاتی تھی کہ لوگ ان کے پیچھے دوڑ پڑتے تھے اور انہیں کہتے تھے دیوانہ دیوانہ۔(6)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات؛
1) سورہ رحمان۔
2) سورہ نازعات۔
3) میزان الحکمۃ:5191۔
4) معراج السعادة، ص141۔
5) داستان راستان، ج2، ص180۔
6) اسرارالقلوب، ص202۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔶 خوف خدا سے یحییٰؑ کا گریہ 🔶
■مولا علی علیہ السلام فرماتے ھیں۔۔ اگر آج دنیا میں خوف خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہوں گی۔
■حضرت یحییٰؑ خوف خدا میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھوں کے کناروں سے گوشت ختم ہوگیا اور آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہوگئے اسی لئے حضرت ذکریاؑ جب بنی اسرائیل کو وعظ و نصیحت کرنے تشریف لے جاتے اور خطاب کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنے دائیں بائیں ضرور نگاہ کرتے اگر انہیں حضرت یحییٰؑ نظر آتے تو جنت و دوزخ کا ذکر نہ فرماتے۔
ایک مرتبہ حضرت ذکریاؑ جناب یحییٰؑ کی مجمع میں موجودگی سے متوجہ نہ ہوئے اور اپنا وعظ شروع کر دیا اور پھر آتشِ جہنم کا تذکرہ بھی ہوا۔ حضرت یحییٰؑ نے سخت گھبراہٹ میں اٹھ کر بیابان کا راستہ لیا۔
جناب ذکریاؑ وعظ سے فارغ ہوئے تو حضرت یحییٰؑ کی والدہ سے فرمایا؛ اٹھو اور جاؤ یحییٰؑ کو تلاش کرو۔ مجھے خوف ہے کہ شاید وہ آپ کو زندہ نہ مل سکیں۔
انکی والدہ انکی تلاش میں نکل پڑیں، راستہ میں بنی اسرائیل کے بعض جوان مل گئے وہ بھی بیبی کے ساتھ چل پڑے۔ سب مل حضرت یحییٰؑ کو تلاش کرنے لگے۔ راستے میں ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی۔ اس سے پوچھا؛
کیا آپ نے ان علامات و شکل کا جوان دیکھا ہے؟
چرواہے نے کہا؛
ہاں میں نے ابھی انہیں اس پہاڑ کے دامن میں دیکھا ہے وہ اپنے دونوں پاؤں پانی میں ڈالے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس طرح گفتگو کر رہے تھے۔۔۔
اے میرے مولا! میرے مولا! مجھے تیری عزت و جلال کی قسم! میں آج کے بعد ٹھنڈا پانی نہ پیوں گا اور اس وقت تک اسی طرح رہونگا جبتک تو مجھے میرا آخرت کا مقام دکھا نہ دے۔
جناب یحییٰؑ کی والدہ اپنے فرزند کی تلاش میں روانہ ہوئیں اور انہیں پاکر گود میں لیا اور قسم دی کہ گھر واپس آؤ۔ بالآخر وہ اپنی ماں کے ساتھ واپس اپنے گھر تشریف لائے۔
📚 رسالہ لقاءاللہ، ص159 تا 163۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
💐 خوش خُلقی 💐
اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)
●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔
"اِنَّ اَحْسَنَ الْحُسْنِ اَلْخُلْقُ الْحَسَنِ"
بہترین نیکی خوش خلقی ہے۔(2)
●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔
"حُسْنُ الْخُلْقِ یُزِیْدُ فِی الرِّزْقِ"
خوش خلقی رزق میں اضافہ کرتی ہے۔(3)
■اخلاق نبویؐ؛
أنس بن مالک کہتے ہیں میں رسول اکرمؐ کی خدمت میں تھا۔ آپؐ نے اس روز ایک ایسی چادر زیب تن فرمائی ہوئی تھی جس کے حاشیے کنارے سخت اور درشت تھے اچانک ایک صحرائی بیابانی عرب بدو نمودار ہوا اور آتے ہی حضورؐ کی ردائے مبارک سے پکڑا اور سختی سے اسطرح کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑ گئے اور۔۔۔
اس عرب مرد نے کہا؛
اے محمد یہ دو اونٹ مجھے سامان لاد کر دے۔ کیونکہ جو مال تیرے پاس ہے یہ خدا کا مال ہے، تیرا اور تیرے باپ کا مال نہیں ہے۔
آپؐ اس کے سامنے چپ ہو گئے اور پھر فرمایا؛
یہ سارے مال اللہ تعالٰی کے اموال ہیں اور میں تو خدا کا بندہ ہوں۔ اب بتاؤ جو تو نے میرے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا تجھ سے بدلہ لوں۔؟
اس عرب بدو نے کہا؛
نہیں جناب
آپؐ نے فرمایا؛
کیونکر۔۔؟
اس شخص نے کہا؛
اس لئے کہ آپ کا یہ شیوہ نہیں ہے بلکہ آپ کا کام تو برائی کا بدلہ برائی سے دینا نہیں بلکہ بھلائی سے دینا ہے۔
آپؐ مسکرائے اور فرمایا؛
اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دیئے جائیں اور دوسرے پر کھجوریں۔(4)
■شیطانی شکنجہ؛
کسی شخص نے مولا علیؑ کے غلام قنبر کو گالیاں دیں۔ قنبر بھی اسے اسی قسم کی گالیاں دینے پر آمادہ ہوا۔ حضرت علیؑ نے قنبر کو بلایا اور فرمایا؛
قنبر خاموش رہو۔ اس گالیاں دینے والے شخص کو ذلیل و خوار ہونے دو۔ تم اپنی چپ کو اس کی سزا قرار دو۔ تمہارے چپ ہونے سے خداوندمتعال خوشنود ہو گا اور تمہارا دشمن شیطان کے شکنجے میں آ جائے گا۔
■مالک اشترؓ؛
مالک اشتر کوفہ کے بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک ایسے شخص نے جو مالک اشتر کو نہیں جانتا تھا، انکی طرف مٹی پھینکی۔ جناب مالک اشتر چپ کر کے گزر گئے اور کچھ نہ کہا۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا؛ کیا تجھے معلوم ہے کہ تو نے کس شخص کی توہین کی ہے۔ اس نے کہا؛ نہیں معلوم۔
لوگوں نے کہا؛ یہ شخص مالک اشتر ہے۔ حضرت علیؑ کے جانثار جانباز ہیں، ان کے لشکر کے جرنیل ہے۔
اس شخص پر خوف طاری ہوا اور وہ مالک اشتر کے پیچھے دوڑا تاکہ ان سے مل کر معذرت کرے۔ جب وہ پہنچا تو مالک اشتر مسجد میں مشغول نماز تھے۔ جب مالک نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص مالک کے پیروں پر گر گیا۔
جناب مالک نے پوچھا؛
ایسا کیوں کرتے ہو؟
اس مرد نے کہا؛
میں اپنے کیے کام کی معافی چاہتا ہوں۔
جناب مالک نے فرمایا؛
میں نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تمہارے لیے مغفرت کی دعا کر دی تھی۔(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚حوالہ جات؛
1) میزان الحکمہ:4988۔
2) میزان الحکمۃ:4989۔
3) میزان الحکمۃ:5075۔
4) منازل الآخرة، ص100۔
5) منازل الآخرة، ص100۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
ایک عابد تھا جس کے بہت سے شاگرد تھے۔ یہاں تک کہ عام لوگ بھی اس کے عقیدت مند تھے اور اس کی شہرت ہر طرف پھیل چکی تھی۔
ایک روز وہ عابد کسی دوسری بستی میں گیا۔ اسے روٹی کی ضرورت ہوئی تو وہ ایک نانبائی کی دکان پر پہنچا۔ چونکہ اس کے لباس کی حالت اچھی نہ تھی، نانبائی نے اسے پہچانا نہیں اور اسے روٹی دینے سے انکار کر دیا۔ عابد خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
وہاں موجود ایک شخص نے نانبائی سے کہا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ ابھی یہاں کون آیا تھا؟‘‘
نانبائی نے کہا: ’’نہیں۔‘‘
اس شخص نے بتایا: ’’وہ فلاں بزرگ عابد تھے۔‘‘
نانبائی یہ سن کر فوراً بولا: ’’میں تو ان کا مرید ہوں!‘‘
پھر وہ عابد کے پیچھے دوڑا اور عرض کیا: ’’میں آپ کا شاگرد بننا چاہتا ہوں۔‘‘
عابد نے اس کی درخواست قبول نہ کی۔
نانبائی نے کہا: ’’اگر آپ مجھے اپنا شاگرد بنا لیں تو میں آج رات پوری بستی کے لوگوں کو کھانا کھلاؤں گا۔‘‘
عابد نے اس کی یہ پیشکش قبول کر لی۔
جب سب لوگ کھانا کھا چکے تو نانبائی نے پوچھا: ’’میرے آقا! دوزخ کیا ہے؟‘‘
عابد نے جواب دیا:
’’دوزخ یہ ہے کہ تم نے اللہ کی رضا کے لیے اس کے ایک بندے کو ایک روٹی بھی نہ دی، لیکن ایک بندے کی خوشنودی کے لیے پوری بستی کو کھانا کھلا دیا!‘‘
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خالص عمل وہ ہے جس کے بارے میں تم یہ پسند نہ کرو کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی اور تمہاری تعریف و تمجید کرے۔‘‘
📚 وسائل الشیعہ، ج ۱، ص ۶
1 285
اسی محبت کیوجہ سے آپؐ ہمیشہ ان کا احترام کرتے تھے یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے فضائل وکمالات کا اظہار فرماتے تھے اور بعض دوسری بیویوں کی ان کے بارے کچھ ناروا باتوں پر ناراض ہوتے تھے.(18)
یہ محبت یکطرفہ نہ تھی بلکہ حضرت خدیجہؑ بھی اپنے شوہر نامدارؐ سے ایک خاص قلبی لگاؤ اور محبت رکھتی تھیں اور اس کا اظہار بھی کرتی تھیں۔ حضورؐ سے آپ کی محبت و عقیدت اور عشق و ارادت کے شاہد یہ دو شعر ہیں جو آپ کی طرف منسوب ہیں:
فَلو اننی امشیت فی نعمۃ ودامت لی الدنیا وملک الاکاسرۃ
فما سویت عندی جناح بعوضته اذا لم یکن عینی لعینک ناظرۃ (19)
ترجمہ:
اگر دنیا بھر کی تمام نعمتیں اور بادشاہوں کی سلطنتیں ہمیشہ کیلئے میرے پاس ہوں تو بھی وہ میرے نزدیک مکھی کے پر کے برابر بھی کوئی قیمت نہیں رکھتیں اگر میری آنکھیں آپؐ کی مبارک نگاہوں اور ملکوتی حسن و جمال کا نطارہ نہ کر سکیں.
💘8= ایثار و تواضع...!!
مشترکہ ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کو جن چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے، ان میں سے ایک چیز ایک دوسرے کی نسبت تواضع اور ایثار وفداکاری ہے۔ پیغمبرِخُداؐ اور جناب خدیجہؑ اس تواضع وفداکاری کا عملی نمونہ تھے۔ جب شادی کے مراسم ختم ہو چکے تو رسولِخُداؐ نےچاہا کہ اپنے گھر کی طرف تشریف لے جائیں لیکن جناب خدیجہؑ نے آپؐ سے عرض کیا: "الی بیتک؟ فبیتی بیتک وانا جاریتک؛" کیا اپنے گھر تشریف لے جانا چاہتے ہیں؟ میرا گھر آپؐ ہی کا گھر ہے اور میں تو آپؐ کی کنیز ہوں.(20)
دولت وثروت اور غلام و کنیز ہونے کے باوجود جناب خدیجہؑ کا اپنے آپ کو حضرت محمد مصطفٰیؐ کی کنیز سمجھنا اپنے شوہر کے سامنے آپ کی انتہائی تواضع و فروتنی اور اخلاص و ایثار کی دلیل ہے۔ آپ نے رسولِخُداؐ کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی میں ہمیشہ اس بات کا ثبوت دیا۔
📚 حوالہ جات:
1۔ سیرۃ النبویہ، ابن ھشام حمیری، مصر، مکتبہ محمد علی صبیح، 1383ق، ج1، ص122۔
2۔ همان، ج1، ص121۔
3۔ قطب الدین راوندی، الخرایج والجرائح، قم، موسسہ امام ہادی، طبع اول، 1409ق، ص140۔139۔
4۔ سیرہ نبویہ، ابن ھشام حمیری، ج1، ص122۔
5۔ تاریخ الامم والملوک، محمد بن جریر طبری، ج2۔
7۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص16۔
8۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص19۔
9۔ تاریخ یعقوبی، احمد بن واضح یعقوبی، ج2، ص20۔
10۔ مناقب آل ابیطالبؑ، ابن شہر آشوب، نجف، مکتبہ الحیدریہ، 1376 قمری، ج1، ص39۔
11۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص55۔
12۔ الخرائج والجرائح، قطب الدین راوندی، ج1، ص140۔
13۔ مناقب آل ابیطالبؑ، ابن شہر آشوب، ج1، ص39۔
14۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص22۔23۔
15۔ بحارالأنوار، محمدباقر مجلسی، ج16، ص70۔
16۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، بیروت، موسسہ الوفا، 1403ق، ج16، ص16۔
17۔ تاریخ الامم والملوک، محمدبن جریرطبری، قاھرہ، مطبعۃ الاستقامۃ، 1358ق، ج2، ص34۔
18۔ شرح الاخبار فی فضائل الآئمہ الاطہارؑ، نعمان بن محمد تمیمی مغربی، ج3، ص21۔22۔
19۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص52۔
20۔ الخرائج والجرائح، قطب الدین راوندی، ج1، ص140۔
👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
