ISLAM WITH EMAN
Відкрити в Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Показати більше1 288
Підписники
Немає даних24 години
-47 днів
-430 днів
Архів дописів
1 288
🌹 مختصر سوانح حیات حضرت محمدؐ 🌹
12 تا 17 ربیع الاول (ہفتہ وحدت مسلمین) ولادت باسعادت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت بہت مبارک ہو۔
محمدؐ بن عبد اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نبی کے 29 پشت اور حضرت آدم علیہ السلام کے 69 پشت یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے 9700سال چار مہینے بعد، شیعہ علماء کے قول کے مطابق 17ربیع الاول بروز جمعہ، یعنی 29 اگست 571ء صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔
پدر بزرگوار جناب عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف.
مادر گرامی جناب آمنہ قبیلہ بنی کلاب کی شریف زادی اور رئیس خاندان سے تعلق رکھتی تھیں. شجاعت اور بہادری میں یہ خاندان بہت ممتاز گزرا ہے اور عرب میں بہت مستند تھا۔
شعب ابوطالبؑ مکہ میں آپؐ کی ولادت ہوئی آپؐ کے والد عبداللہ آپؐ کی ولادت سے دو مہینے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، دادا عبدالمطلب موجود تھے وہ آپؐ کے کفیل ہوئے اور آپؐ کے چچا جناب ابوطالب علیہ السلام آپؐ کی ہر طرح سے کفالت اور دیکھ بھال کرتے رہے۔
↩ آپؐ کا اسم مبارک:
محمد، احمد
↩ آپؐ کی کنیت:
ابوالقاسم
↩ آپؐ کے القاب:
آپؐ کے القاب ایک ہزار سے زیادہ ہیں جو زیادہ مشہور ہیں ان کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔
منجملہ ان کے مصطفےٰ، مجتبیٰ، محمود، شفیع، شافع، خاتم الانبیا، رسول اللہ، حبیب اللہ، اشرف المرسلین، سید البشر، محبوب حق، طاہر، مختار، سراج منیر، امین، صادق، شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ، طٰہٰ، یٰس، مزمل، مدثر، سرور کائنات، فخر موجودات، سید عالم وغیرہ......
↩ آنحضرتؐ کی ولادت:
شہر مکہ تاریکیوں اور خاموشیوں میں ڈوبا ہوا تھا زندگی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے البتہ چاند اپنی عادت کے مطابق دھیر ے دھیرے پہاڑوں کی اوٹ سے گزرتا ہوا ذرا بلندی پر آگیا تھا اور اپنی ٹھنڈی ٹھنڈی شعاعیں مکہ کے معمولی اور سادہ گھروں اور ریگستانی ذروں پر بکھیر رہا تھا۔
رفتہ رفتہ آدھی رات گزر گئی اور حجاز کے جلتے جھلستے ہوئے صحراؤں پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں ذرا دیر کے لئے ریگستانوں کے سینوں میں لگی آگ ٹھنڈی ہوئی، ریاکاری سے دور خلوص کی اس بزم میں ستاروں کی موجودگی نے جن میں اور اضافہ کر دیا۔
صبح ہو چکی ہے نسیم سحر ہولے ہولے چل رہی ہے مرغان خوش الحان سحر انگیز نغمے فضا میں منتشر کر رہے ہیں گویا کسی معشوق سے راز و نیاز کر رہے ہیں.
افق مکہ پر سپیدئ سحر نمودار ہونے والی ہے مگر سارے شہر پر ایک مبہم سا سکوت طاری ہے سب گہری نیند سو رہے ہیں، ہاں صرف "آمنہ" بیدار ہیں ناگہاں چند نامعلوم مگر نورانی عورتیں ان کے کمرے میں آئیں ان کی خوشبو نے جناب آمنہ کو متحیر کر دیا یہ کون ہیں اور کس طرح یہاں آئی ہیں کیوں کہ دروازہ تو بند ہے.(1)
تھوڑی دیر گزری تھی کہ ان کا عزیز فرزند متولد ہوا۔ جس چیز کا مہینوں سے انتظار تھا 17 ربیع الاول(2)، یعنی 29 اگست 571 عیسوی صبح صادق کے وقت اپنے بچے کی صورت دیکھ کر جناب آمنہ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور دل باغ باغ ہو گیا۔
ہر ایک کو اس ولادت کی خوشی تھی ''محمدؐ'' سے جناب آمنہ کے گھر کے درودیوار روشن و منور ہو گئے لیکن اس وقت آمنہ جواں سال شوہر ''عبداللہ'' کی کمی شدت سے محسوس کر رہی تھیں جس وقت وہ شام سے مدینہ واپس آرہے تھے راستہ میں ان کا انتقال ہو گیا تھا انھیں وہیں دفن کر دیا گیا تھا اور آمنہ ہمیشہ کے لئے تنہا ہو گئی تھیں۔(3)
↩ ولادت کے وقت:
جس وقت آپؐ کی ولادت ہوئی اس وقت زمین و آسمان میں ایسے عجائبات و معجزات خدا کیطرف سے ظاہر ہوئے خاص کر مشرق میں (جو اس وقت کی تہذیب و تمدن کا مرکز تھا) یہ حوادث خبر رسانی کا اس وقت اس سے سریع ذریعہ تھے جس سے یہ معلوم ہو گیا کہ دنیا میں کوئی عظیم واقعہ ہوا ہے۔
🌹 یہ بچہ تمام فرسودہ رسم و رواج کا خاتمہ کرنے والا اور ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھنے والا تھا، انسانوں کو سعادت کی شاہراہ پر گامزن کرنےوالا تھا، لہٰذا ولادت کے پہلے ہی دن سے فرسودہ اور جاہلی نظام کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
🚨 نوشیرواں کا وسیع و عریض محل جس کی ابدیت کا خواب دیکھا جا رہا تھا، اسی رات اس میں زلزلہ آیا اور اس کے چودہ کنگورے گر گئے.(4)
🚨 آتش کدہ فارس جو ایک ہزار سال سے مجوسی قوم نے جلا رکھا تھا خود بخود خاموش ہو گیا۔(4)
🚨 وقتِ ولادت ایسی روشنی پھیلی کہ شام و کسرٰی کی عمارتیں دکھائی دینےلگیں،
🚨 جہاں کہیں بھی بت رکھے ہوئے تھے سب سر نگوں ہو گئے۔
🚨 خیالی خداؤں کے پجاری جن کا تعصب انھیں کوئی اور فکر کرنے نہیں دیتا تھا وہ بھی ان واقعات کے بعد سوچنے پر مجبور ہو گئے اسی طرح ''ساوہ'' کے دریا نے خشک ہو کر بیداری کا پیغام دیا۔(5)
↩ ماں کی شفقت سے محرومی:
1 288
📚 حوالہ جات:
[➊] قرآن مجید
[➋] نہج البلاغہ
[➌] مجموعۂ آثار استاد شہید مرتضیٰ مطہری، ج 4، ص 290 تا 293.
👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 انسان وجودِ انبیاء کا محتاج 🔷
سوال: کیوں، انسان وجودِ انبیاء کے محتاج ہیں؟
جواب: استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ فرماتے ہیں کہ انسان دو وجوہات کی بنیاد پر انبیاء کا محتاج ہے۔
■ پہلی وجہ:
انسان، غریزۂ حیات کی بنیاد پر زندہ رہنا چاہتا ہے مگر زندہ رہنے کے لئے ہمیشہ اپنے ذاتی منافع و مفادات کے پیچھے رہتا ہے۔ لہذا نہ تو اجتماعی مصلحتوں (جیسے حق کا بول بالا، اجتماعی عدالت، انصاف و۔۔۔) کو تشخیص دے سکتا ہے اور نتیجتاً نہ ہی ان کی رعایت کرتا ہے۔ پس انسان ان دونوں مراحل کے لئے الہٰی ہادی، رہبر اور رہنما کا محتاج ہے۔
انبیاء وہ خدائی ہادی اور رہنما ہیں کہ جو ان دونوں مراحل کی ذمہ داری نہایت ہی احسن انداز سے نبھاتے ہیں۔ وہ کیسے؟
📍یعنی یہ الہٰی نمائندے ایک طرف انسان کو اجتماعی مصلحتوں (یعنی دین کے انفرادی اور اجتماعی پہلو) سے آگاہ کرتے ہیں۔
📍اور دوسری طرف اس انسان کے اندر ایمان نامی ایک قوت کو برانگیختہ کرتے ہوئے اس کے رگ و پے کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اور پھر یہی قوت، انسان کو موظَّف اوراجتماعی مصلحتوں کی رعایت کرنے کا پابند بنا دیتی ہے کہ جس کی وجہ سے ایک صحیح اور سالم معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
"لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔" (سورہ حدید/25)
ترجمہ:
بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تا کہ لوگ عدل قائم کریں۔
"يا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْناكَ شاهِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذيراً وَ داعِياً إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِراجاً مُنيراً۔" (سورہ احزاب/45 و 46)
ترجمہ:
اے نبی ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اُس کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر۔
"فَبَعَثَ اللَّهُ فيهِمْ رُسُلَهُ، وَ وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ بِمَا خَصَّهُمْ بِهِ مِنْ وَحْيِهِ، وَ جَعَلَهُمْ حُجَّةً لَهُ عَلى خَلْقِهِ، فَدَعَاهُمْ بِلِسَانِ الصِّدْقِ إِلى سَبيلِ الْحَقِّ، لِيَسْتَأْدُوهُمْ ميثَاقَ فِطْرَتِهِ، وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ، وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْليغِ، لِئَلَّا تَجِبَ الْحُجَّةُ لَهُمْ بِتَرْكِ الإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ، وَ يُثيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، وَ يُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَة۔" (نہج البلاغہ/خ 1)
ترجمہ:
پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمتِ پروردگار یاد دلائیں۔ تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کو برانگیختہ کریں اور انہیں قدرت الہی کی نشانیاں دکھلائیں۔
■ دوسری وجہ:
انسان کے وجودِ انبیاء کے محتاج ہونے کی دوسری وجہ آخرت و معاد کی حقیقت سے ناآشنائی ہے۔ کیونکہ نہ تو کوئی بھی عقل اور ٹیکنالوجی معاد کو ثابت کر سکتی ہے اورنہ ہی اس کی حقیقت و ماہیت بیان کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ بتا سکتی ہے کہ انسان کی اخروی سعادت و شقاوت کے اسباب کیا ہیں۔
معاد سے متعلق پیغمبر اسلام (ص) اور ان سے پہلے والے انبیاء پر نازل ہونے والی وحیِ الہٰی کی آیات اور انبیاء (ع) کے اقوال و فرامین اس وجہِ ثانی کے بہترین شواہد ہیں۔
🔘 نتیجہ:
پس اگر انبیاء جیسے معلّم اس دنیا میں تشریف نہ لاتے تو روئے زمین پر انسان و انسانیت نامی کوئی چیز نہ ہوتی بلکہ ابتداء سے ہی جنگل کا ایک ایسا قانون بن جاتا کہ جس کی بنیاد پر ہر قوی، ضعیف کو پائمال و نابود کر دیتا اور دنیوی و اخروی شقاوت اُس کا مقدر بن جاتی۔
■ خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ سورہ انبیاء ایت 107 میں خداوند قدوس نے فرمایا۔
وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کو قبول کر لیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوگا اور اور چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے آئے ہیں۔
بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے یہ امت بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کر دی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں۔
امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے گا۔
1 288
*امام محمد باقر علیہ السلام اپنے آبائے طاہرین سے روایت کرتے ہیں کہ:*
ایک شخص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
"اے امیر المؤمنین! میں آپ سے تین سوالات پوچھنا چاہتا ہوں:"
1.انسان جب سوتا ہے تو اس کی روح کہاں جاتی ہے؟
2.انسان باتوں کو کیسے بھول جاتا ہے اور پھر اسے دوبارہ کیسے یاد آ جاتی ہیں؟
3.بچہ اپنے چچاؤں (دھدیال) یا اپنے مامؤوں (ننھیال) کی مشابہت (شکل و شباہت) کیوں اختیار کرتا ہے؟
امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن۴ کی طرف دیکھا اور فرمایا
"یا أبا محمد! أجبه" (اے ابو محمد! تم اس کے سوالات کے جواب دو)۔
امام حسن علیہ السلام نے ان تینوں سوالات کے جوابات اس طرح ارشاد فرمائے
1. "جو تم نے پوچھا کہ نیند کی حالت میں انسان کی روح کہاں جاتی ہے
تو انسان کی روح ہوا سے لٹکی (متصل) ہوتی ہے اور ہوا فضا کے ساتھ پیوست ہوتی ہے۔ جب انسان بیدار ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس کی روح کو واپس جسم میں بھیجنے کا اذن دیتا ہے، تو وہ روح ہوا کو کھینچتی ہے، ہوا فضا کو کھینچتی ہے اور روح واپس انسان کے بدن میں قرار پا جاتی ہے۔ اور اگر اللہ اس کی روح کو قبض کرنے (روک لینے) کا حکم دے، تو ہوا فضا کو کھینچتی ہے اور روح ہوا کے ساتھ چلی جاتی ہے (یعنی بدن سے مفارقت کر جاتی ہے)۔"
2. "جو تم نے نسیان اور یاد کے بارے میں پوچھا؛ تو انسان کے دل کے اوپر ایک طبقہ (یا پردہ/حقہ) ہوتا ہے اور اس پر ایک فرشتہ اور ایک شیطان ہوتا ہے۔ جب انسان محمد و آلِ محمد پر صلوات بھیجتا ہے تو وہ پردہ دل سے ہٹ جاتا ہے، اور جو باتیں وہ بھول چکا ہوتا ہے، فرشتہ انہیں انسان کے دل میں دوبارہ جاری کر دیتا ہے اور اسے وہ یاد آ جاتی ہیں۔ اور جب انسان صلوات نہیں پڑھتا (یا غفلت کا شکار ہوتا ہے)، تو شیطان اس دل کے پردے کو ڈھانک لیتا ہے اور انسان اپنی یاد رکھی ہوئی باتیں بھی بھول جاتا ہے۔"
3. "جو تم نے بچے کی اپنے چچا اور ماموں سے شباہت کے بارے میں پوچھا
تو جب مرد آرام، سکون، اور بغیر کسی اضطراب کے اپنی زوجہ کے پاس جاتا ہے، تو نطفہ رحم میں ٹھہر کر قرار پاتا ہے اور بچہ اپنے والد اور چچا کی مشابہت اختیار کرتا ہے (دھدیال پر جاتا ہے)۔
لیکن اگر مرد بے چینی، اضطراب یا پریشانی کے عالم میں جماع کرتا ہے، تو نطفہ مرتعش ہو جاتا ہے اور وہ والدہ کی رگوں کی طرف مائل ہوتا ہے، جس سے بچہ اپنے ماموں (ننھیال) سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔"
یہ جوابات سن کر اس سائل نے گواہی دی کہ اللہ ایک ہے، محمدۖ اس کے رسولؐ ہیں، اور آپ (اہلِ بیت) اللہ کی حجت ہیں۔
*عیون أخبار الرضا شیخ صدوق ج1 باب 6۔*
*الخصال شیخ صدوق ج1، ص60، ح24۔*
*بحار الأنوار ج57 ص306۔*
1 288
🔶 تارک الصّلاة کے نام 🔶
حضور اکرمؐ نے فرمایا:
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "فجر کی نماز" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یا خاسر" (اے خسارہ اٹھانے والا) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "ظہر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا غادر" (اے عہد شکن) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عصر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا فاجر" (اے فجور کرنے والے) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "مغرب کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا کافر" (اے کافر) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عشاء کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ "کیا تیرا رب نہیں ہے"؟؟
📚 ہدیةالشیعہ ، صفحہ326۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌲 خدا سے اُمید 🌲
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"
میری رحمت سے ناامید نہ ہونا۔(1)
●حضرت علیؑ نے فرمایا؛
"لا تَرْجُ إلّا رَبَّکَ"
اپنے رب کے بغیر کسی سے امید نہ رکھ۔(2)
■امید
بزرگان دین میں سے ایک دینی شخصیت ہمیشہ لوگوں کے درمیان خداوندمتعال سے امید رکھنے کے راستے بیان کرتے تھے۔ جب انکی وفات ہوئی تو کسی نے انہیں خواب میں دیکھا۔ انھوں نے خواب دیکھنے والے سے فرمایا؛
مجھے خداوندمتعال کی پیشی میں لے جایا گیا مجھے رب ذوالجلال کا خطاب ہوا؛
تجھے کس طرح یہ ہمت ہوئی کہ ہمیشہ لوگوں کو میرے سے طمع اور امیدواری کی دعوت دیتے تھے۔؟
میں نے عرض کیا؛
میرا مقصد تھا کہ ان کے دلوں میں تیری ذات کی محبت جاگزیں ہو اور وہ تیری ذات سے رابطہ رکھیں۔
مجھے میرے رب سے واپسی جواب ملا کہ:
"میں نے تجھے معاف کر دیا اور مغفرت عطا کی"(3)
■اعرابی کا دلچسپ سوال
ایک اعرابی نے حضرت رسول اکرمؐ سے پوچھا؛
قیامت کے دن حساب و کتاب کس کے ہاتھ میں ہوگا؟
آپؐ نے فرمایا؛
خداوندمتعال کے قبضۂ قدرت میں۔
اعرابی نے پھر پوچھا؛
کیا خود خداوندمتعال محاسبہ فرمائے گا؟
آپؐ نے فرمایا؛ ہاں، بالکل۔
اعرابی زیرلب مسکرایا اور تبسم کیا۔
رسول اکرمؐ نے پوچھا؛
کیوں مسکرا رہے ہو؟ ہنستے کیوں ہو؟
اعرابی نے کہا؛
اصحابِ کرم کی شان ہے کہ جب ان کی قدرت کا مرحلہ ہوتا ہے تو درگزر فرماتے ہیں اور جب محاسبہ کرتے ہیں تو رعایت کرتے ہیں اور آسانی کا رویہ اپناتے ہیں۔
حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ آگاہ رہو کہ خداوندکریم بزرگوار اور نہایت بخشنے والا ہے اور اس کی ذات سے کوئی بڑھ کر بخشنے والا اور کریم نہیں ہے۔ عظیم صاحبِ عظمت اور کریم صاحبِ کرم ہے۔ اور پھر فرمایا؛
اس اعرابی نے فقیہ مردوں والی بات کی ہے۔(4)
■خدا سے امید
حضرت امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ جب میدان محشر میں فیصلہ ہوگا اور کسی بندۂ خدا کے لئے حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں ڈال دیں تو وہ ایک خاص طرح سے باربار خداوندمتعال کی رحمت کی طرف متوجہ ہوگا۔ خطاب ہوگا۔۔
بار بار کیا دیکھتا ہے؟
وہ بندہ عرض کریگا؛
خدایا میرا گمان اس طرح نہیں تھا بلکہ مجھے تو بخشش کی امید تھی۔
ارشاد ہوگا؛
تیرا کیا گمان تھا؟
وہ شخص عرض کریگا؛
مجھے گمان تھا کہ مجھے بہشت ملے گی۔
خداوندمتعال فرشتوں کو فرمائے گا؛
مجھے میری عزت و جلال کی قسم! اگر کوئی بندہ میرے اوپر ایک گھڑی بھی اچھا گمان کرے اور میری رحمت کا امیدوار ہو، میں ہرگز اسے جہنم کی آگ سے نہیں ڈراتا، پس اس کا گمان حقیقت بنا دو اور اسے میری بہشت میں داخل کردو۔
پھر رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر کوئی بندۂ خدا اپنے رب سے اچھا گمان رکھتا ہو تو خداوند ذوالجلال اسے اس کے مقصود و مطلوب تک پہنچا دیتا ہے۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا؛
خداوند ذوالجلال اپنے بندے کے نیک گمان کے نزدیک ہے۔ اگر اس کا گمان اچھا ہوگا تو اس کا نتیجہ بھی اچھا ہوگا۔ اور اگر گمان بد ہوگا تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔(5)
■سرمایۂ گداگری
حضرت موسٰیؑ نے خداوندمتعال سے عرض کیا؛
خدایا! جو چیز میری گداگری کی خرجین میں ہے، کیا وہ تیرے خزانے میں بھی ہے۔؟
خطابِ ایزدی ہوا؛
موسٰیؑ وہ کونسی ایسی چیز ہے جو تیری گداگری کی خرجین میں ہے اور میرے خزانے میں نہیں؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا! میرے پاس تیری ذات جیسا خدا ہے۔(6)
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) بحارالأنوار، ج14۔
2) غررالحکم، ج6، ص262۔
3) معراج السعادة.
4) اسرارالقوة، ص255۔
5) موضوعی داستانیں، ص25۔
6) داستانہاوپندہا، ج3۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌻 امانت داری 🌻
●ارشاد خداوندی ہے۔۔
"اِنَّ اللہ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الأمَانَاتِ إلیٰ اَھْلِھَا"
خداوندمتعال آپ کو حکم دیتا ہے امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچاؤ۔(1)
●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وَالَّذِیْنَ ھُمْ لامَانَاتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ"
مؤمن اپنی امانتوں اور عہدوپیمان کے پابند ہوتے ہیں۔(2)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"لا اِیْمَانَ لِمَنْ لا اَمَانَةَ لَہ"
جو امانت دار نہیں، صاحب ایمان نہیں۔(3)
●امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اَدُّوْا الأمَانَاتِ وَلَوْ إلیٰ أوْلادِ قَتَلَةِالانْبِیَاءَ"
امانتیں واپس کرو، اگرچہ انبیاء کے قاتلوں کی اولاد کی ہی کیوں نہ ہوں۔(4)
■ثمرۂ امانت داری
عبدالرحمٰن بن سبابہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ایک دوست مجھے تعزیت کرنے کے لئے میرے گھر آئے اور مجھ سے کہا؛
عبدالرحمٰن! کیا تیرے والد نے کوئی چیز ترکہ میں چھوڑی ہے؟
میں نے کہا؛ نہیں
میرے والد کے دوست نے ایک ہزار درھم کی تھیلی میری طرف بڑھائی اور کہا؛
یہ رقم امانت کے طور پر اپنے پاس رکھ لو، اسے اپنے لئے سرمایہ بناؤ، اس کے ساتھ کاروبار کرو۔ جو نفع ملے اپنی ضروریات اور اخراجات میں خرچ کرو اور اصل رقم مجھے واپس کر دینا۔
مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں خوش خوش اپنی والدہ کے پاس گیا، سارا قصہ سنایا اور خبر دی۔
پھر رات کو اپنے والد کے ایک دوسرے دوست کے پاس گیا، اس نے میرے لئے کپڑے کے تھان خریدے اور ایک دکان کا انتظام کیا۔ میں دوسرے دن اپنے کاروبار میں مشغول ہوگیا۔
خداوندمتعال نے مجھے برکت عنایت فرمائی اور کشادہ روزی نصیب ہوئی۔
حج کا موسم نزدیک ہوا تو میرا جی چاہا خانۂ خدا کی زیارت کے لئے جاؤں اور فریضۂ حج ادا کروں۔ میں نے اپنی والدہ سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تو والدہ نے فرمایا؛
اگر آپ کا حج کا ارادہ ہے تو پہلے قرض والوں کا قرضہ دو پھر حج کے لیے چلے جاؤ۔
میں نے قرضہ کی رقم اکٹھی کی اور ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر رقم پیش کی۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ جیسے میں نے انہیں رقم عنایت کی ہو کیونکہ انہیں میرے قرضہ کی واپسی کی توقع نہ تھی۔۔ میرے والد کے دوست نے کہا؛
شاید یہ رقم کم تھی اس لئے تم نے واپس کردی ہے۔ اگر یہ تھوڑی ہے تو میں آپ کو اور دیتا ہوں۔
میں نے کہا؛
نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے پہلے آپ کی امانت واپس کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
مجھے سعادت نصیب ہوئی اور میں حج پر روانہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ سے حاضری کے بعد مدینہ منورہ زیارات کے لئے گیا۔ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ میں چونکہ نوخیز اور کم عمر جوان تھا، محفل کے آخر میں بیٹھ گیا۔ جب لوگوں کا رش کم ہوا اور محفل میں جگہ خالی ہوئی تو میں ذرا آگے بڑھا۔ امام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا؛ کوئی کام تھا؟
میں نے عرض کی؛
قربان جاؤں، میں عبدالرحمٰن بن سبابہ ہوں۔
آپؑ نے میرے والد کا حال احوال دریافت فرمایا؛
میں نے عرض کیا؛ وہ وفات پاگئے ہیں۔
آپؑ نے بہت زیادہ افسوس فرمایا اور میرے والد کے لئے دعائے رحمت فرمائی اور پوچھا؛
کیا وہ کوئی دنیاوی مال ترکہ کے طور پر چھوڑ گئے تھے؟
میں نے عرض کیا؛ نہیں
آپؑ نے پوچھا؛
پھر تو کس طرح حج کے لئے آیا ہے؟
میں نے اپنے والد کے دوست کی داستان بیان کی۔۔ آپؑ نے میری بات پوری ہونے سے قبل ہی پوچھا؛
تو پھر تو نے اس بندۂ خدا کے ہزار درھم کا کیا کیا؟
میں نے عرض کیا؛ واپس کر دیا ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
شاباش، بہت اچھا کام کیا تو نے۔ تمہیں ایک نصیحت کروں؟
میں نے عرض کیا؛ جی ہاں، فرمائیے۔۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
"عَلَیْکَ بِصِدْقِ الْحَدِيْثِ وَ اَدَآءِ الْآمَانَةِ"
تجھ پر لازم ہے سچ بولنا اور امانت واپس کرنا۔
اگر میری اس فرمائش پر عمل کرو گے تو لوگوں کے اموال کے شریک رہو گے۔ پھر آپؑ نے اپنی مبارک انگلیوں کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا؛ اس طرح لوگوں کے اموال کے شریک ہوا کرو گے۔
میں نے آنحضرت علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کیا، میری ہمیشہ مالی حالت اچھی رہی، اور اس قدر برکت ہوئی کہ ایک سال میں تین ہزار درھم زکوۃ ادا کی۔(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) سورہ نساء، آیت58۔
2) سورہ مؤمنون، ایت8۔
3) موضوعی داستانیں،ص17۔
4) میزان الحکمۃ، حدیث 1495۔
5) بحارالأنوار، حصہ قصہ جات، ج2۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
وہ سر پٹ دوڑا ۔ یزید نشے کی حالت میں تھا ۔ اس نے بھی اپنی سواری کو دوڑانا شروع کیا - تو اس دوران وہ گھوڑے سے نیچے گرا ۔ اور اسکی گردن ٹوٹ گئی ۔۔
(بلاذری جلد 5 صفحہ 287)
👹 اللہ کے دشمن یزید بن معاویہ کی موت ایک اور روایت میں۔۔۔
سید ابن طاؤوسؒ اپنی کتاب «اللّہوف فی قتلى الطفوف» صفحہ ۱۵۱ پر نقل کرتے ہیں:
ابو مخنفؒ بیان کرتے ہیں:
یزید بن معاویہ کے معاملے میں جو کچھ پیش آیا، وہ یہ ہے کہ ایک دن وہ اپنے خاص لوگوں میں سے دس ہزار سواروں کے ہمراہ شکار اور صید کے ارادے سے نکلا۔ چلتے چلتے دمشق سے تقریباً دو دن کی مسافت دور پہنچ گیا۔
اچانک اسے ایک ہرنی دکھائی دی۔ یزید نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
"تم میں سے کوئی میرے پیچھے نہ آئے۔"
پھر اس نے اپنا گھوڑا ہرنی کے پیچھے دوڑا دیا اور اسے ایک وادی سے دوسری وادی تک بھگاتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایک ایسی خوفناک اور ہولناک وادی میں جا پہنچی جہاں کا راستہ نہایت دشوار تھا۔
یزید اس کے تعاقب میں تیزی سے آگے بڑھا، یہاں تک کہ وادی کے بیچ میں پہنچ گیا۔ مگر اب اسے نہ ہرنی کا کوئی سراغ ملا اور نہ اس کا کوئی نشان دکھائی دیا۔
شدید پیاس نے اسے بے حال کر دیا۔ وہاں اسے پانی بھی کہیں نہ ملا۔ اچانک اس نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس پانی سے بھرا ہوا ایک برتن تھا۔
یزید نے اس سے کہا:
"اے شخص! مجھے تھوڑا سا پانی پلا دو۔"
اس شخص نے اسے پانی پلا دیا۔
پانی پینے کے بعد یزید نے کہا:
"اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ میں کون ہوں تو میری اور بھی زیادہ عزت و تکریم کرتے۔"
اس شخص نے پوچھا:
"تم کون ہو؟"
یزید نے جواب دیا:
"میں امیر المؤمنین یزید بن معاویہ ہوں۔"
اس شخص نے کہا:
"اللہ کی قسم! تو ہی علی بن ابی طالب کے بیٹے حسینؑ کا قاتل ہے، اے اللہ کے دشمن!"
یہ کہہ کر وہ شخص اٹھا اور یزید کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھا۔
یزید کا گھوڑا بدک گیا اور اسے گھوڑے سے گرا دیا۔ اس کی ایک ٹانگ رکاب میں پھنس گئی۔ جب بھی گھوڑا اسے اپنے پیچھے دیکھتا تو بدک کر مزید تیزی سے دوڑنے لگتا۔
یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ گھوڑے نے یزید کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اللہ نے اس کی روح کو جلد ہی جہنم کی طرف پہنچا دیا۔
یزید کے دس ندیم تھے، جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے تھے اور یزید بھی ان پر اپنے اہلِ حرم، اولاد اور مال کے معاملے میں اعتماد کرتا تھا۔
جب یزید واپس نہ آیا تو وہ لوگ اس راستے پر روانہ ہوئے جس راستے سے وہ گیا تھا تاکہ اس کی خبر معلوم کریں۔ انہوں نے وہاں یزید کا گھوڑا دیکھا اور اس کی ران رکاب میں لٹکی ہوئی ملی۔
یہ منظر دیکھ کر دونوں لشکروں کے درمیان شور و فریاد بلند ہوگئی، اور وہ لوگ واپس دمشق چلے گئے۔
📚 حوالہ: سید ابن طاؤوسؒ، اللّہوف فی قتلى الطفوف، ص ۱۵۱۔
اس ملعون کی قبر دمشق میں آج بھی نشان عبرت بنی ہوئی ہے۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
⏪ یزید بن معاویه کا واصلِ جہنم ھونا ⏩
یزید بن معاویہ خاندان بنو امیہ کا دوسرا خلیفہ تھا. اس نے معاویہ بن ابوسفیان کے بعد حکومت کی اور اس کے دور میں دمشق اس کی حکومت کا دارالخلافہ تھا۔ معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کو خلیفہ نامزد کر کے خلافت کے موروثی ہونے کا بیج بویا کیونکہ اس سے پہلے کسی بھی اسلامی خلیفہ نے اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ نامزد نہیں کیا۔ اس کے بعد خلافت وراثتی شکل اختیار کر گئی. اس کی موت شام میں ہوئی اور اسے دمشق میں دفنایا گیا.
⏪ یزید بن معاویہ کے بدترین اور سیاہ ترین واقعات میں سے واقعۂ کربلا ہے۔ کہتے ہیں کہ اسلام میں اس سے زیادہ غم انگیز واقعہ نہیں گزرا ہے۔ اسی ملعون کے دور میں خانہ کعبہ کو مسمار کیا گیا اور نذرِ آتش کیا گیا- مسجدِ نبوی میں گھوڑے باندھے گئے اور مدینہ کی ہزاروں کنواری لڑکیوں کے ساتھ زنا کیا گیا- ہزاروں صحابہ کرام کو شهید کیا گیا.
⏪ یزید صِرف تین برس چھ ماہ تختِ حُکومت پر شَیطَنَت (یعنی شرارت وخباثت) کر کے 14 ربیعُ الاوّل 64 ھ کو مُلکِ شام کے شَہر "حَمص" کے علاقے حُوّارین میں 39 سال کی عمر میں مر گیا۔
(الکامل فی التاریخ، ج3، ص464۔ دارالکتب العلمیة بیروت)
⏪ یزید کی موت کیسے واقع هوئی..
واقعۂ کربلا کے کچھ ہی دنوں کے بعد یزید ایک ہلاکت خیز اور انتہائی مُوذِی مَرَض میں مبُتلا ہوا، پیٹ کے دَرْد اور آنتوں کے زَخْموں کی ٹِیس (یعنی تکلیف) سے ماہیِ بے آب (یعنی جس طرح مچھلی پانی کے بغیر تڑپتی ہے) کی طرح تڑپتا رہتا تھا، حِمْص میں جب اُسے اپنی مَوت کا یقین ہوگیا تو اپنے بڑے لڑکے مُعاویہ بن یزید کو بِسْترِ مَرْگ پر بُلایا اور اُمورِ سَلْطَنَت کے بارے میں کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ بے ساخْتہ بیٹے کے مُنہ سے چیخ نکلی اور نہایت ذِلَّت و حقارت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے باپ کی پیشکش کو ٹھکرا دِیا کہ۔۔
"جس تاج و تخت پر آلِ رسولؐ کے خُون کے دَھبّے ہیں، میں اُسے ہرگز قبول نہیں کرسکتا، خُدا اِس منحوس سَلْطَنَت کی وِرَاثَت سے مجھے مَحْرُوم رکھے، جس کی بنیادیں نواسَۂ رسول کے خُون پر رکھی گئی ہیں."
یزید اپنے بیٹے کے مُنہ سے یہ اَلْفاظ سُن کر تڑپ گیا اور شِدّتِ رَنْج و اَلَم سے بستر پر پاؤں پٹخنے لگا، مَوت سے کچھ دن پہلے یزید کی آنتیں سڑ گئیں اور اُس میں کیڑے پڑ گئے، تکلیف کی شِدّت سے خِنزیر کی طرح چیختا تھا، پانی کا قَطرہ حَلْق سے نیچے اُترنے کے بعد نِشْتَر کی طرح چبھنے لگتا تھا،
عجیب قَہْرِ ِالٰہی کی مار تھی، پانی کے بغیر بھی تڑپتا تھا اور پانی پاکر بھی چیختا تھا، بالآخر اِسی دَرد کی شِدّت سے تڑپ تڑپ کر اُس کی جان نکلی، لاش میں ایسی ہولناک بدبُو تھی کہ قریب جانا مشکل تھا، جیسے تیسے اُس کو سِپُردِ خاک کِیا گیا.
(تاریخ کربلا، ص345)
⏪ یزیدِ پلید کی موت کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک رُومیُّ النَّسل لڑکی کے عشق میں گرِفتار ہو گیا تھا مگر وہ لڑکی اندرونی طور پر اُس سے نفرت کرتی تھی. ایک دن رنگ رلیاں منانے کے بہانے اس نے یزید کو دُور ویرانے میں تنہا بلایا۔ وہاں کی ٹھنڈی ہواؤں نے یزید کو بدمست کردیا۔ اُس دوشیزہ نے یہ کہتے ہوئے کہ جو بے غیرت و نابکار اپنے نبی کے نواسے کا غدّار ہو وہ میرا کب وفادار ہو سکتا ہے، خنجرِ آبدار کے پے در پے وار کر کے چیر پھاڑ کر اس کو وہیں پھینک دیا۔ چند روز تک اُس کی لاش چیل کوّوں کی دعوت میں رہی. بالآخِر ڈھونڈتے ہوئے اُس کے اَہالی مَوالی وہاں پہنچے اور گڑھا کھود کر اُس کی سڑی ہوئی لاش کو وہیں داب آئے۔
(اوراقِ غم، ص550)
(امام حسینؑ کی کرامات، ص47)
⏪ اس ملعون کی موت کی ایک روایت یہ ہے کہ بلاذری نے ایک شامی بوڑھے سے یزید کی موت کے سبب کے بارے میں لکھا ہے:
''ایک دن یزید نے اپنے بندر کو وحشی خچر کی پشت پر بٹھایا اور خود بھی ایسی حالت میں کہ مست اور مدہوش تھا، اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا، کہ اچانک زمین پر گرا، گردن ٹوٹ گئی اور پھر کھڑا نہیں ہو پایا۔"
(ابن کثیر، 436 /8)
⏪ ابن عباس سے منقو ل ہے کہ انہوں نے کہا: یزید حوارین میں مستی کی حالت میں شکار کی غرض سے گھوڑے پر بیٹھا اور اس کے آگے وہ وحشی خچر دوڑ رہی تھی جس پر بندر بیٹھا ہوا تھا، اس کے پیچھے یزید نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا، اور یہ شعر پڑھا:
ابا خلف! احتل لنفسک حیلہ
فلیس علیھا ان ھلکت ضمان.
یہ کہتے ہی وہ گھوڑے سے گرا اور گردن ٹوٹ گئی اور پھر اٹھ نہیں پایا۔
(انساب الاشراف/4/ق2/1)
⏪ اخبار الدول میں لکھا ھے کہ یزید ملعون دل اور معدے کے درمیانی پردے کی سوجن ﴿ذات الجنب ﴾ میں مبتلا تھا - جس سے وہ مقام حوران میں مرا - وہاں سے اسکی لاش دمشق لائی گئی - اور باب صغیر میں دفن کر دی گئی - پھر لوگ اسکی قبر کی جگہ کوڑا کرکٹ پھینکتے رھے ۔ وہ جہنمی 37 سال کی عمر میں موت کا شکار ھوا ۔ اور اسکی ظالم و باطل حکومت محض تین سال نو ماہ رھی - ایک اور قول کے مطابق یہ ھے - کہ ایک دن اس نے اپنے بندر کو وحشی گدھے پر سوار کیا - تو
1 288
🌼 خوفِ خُدا 🌼
جو کوئی اپنے خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے، دنیا کی مخلوقات اس سے ڈرتی ہیں۔
●ارشاد خداوندی ہوتا ہے۔۔
"وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ"
اور جو کوئی عظمتِ خداوندی کا دل میں خوف رکھے اس کے لئے دو بہشت ہیں۔(1)
●ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔
"وَأمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی فَإنَّ الْجَنَّةَ ھِیَ الْمَأوٰى"
اور جو عظمتِ رب سے ڈرا اور اپنے آپ کو خواہشات سے روکا تو جنت اس کا ٹھکانا ہے۔(2)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَعْلَی النَّاسَ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللہِ اَخُوْفُھُمْ مِنْہُ"
سب سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اس کا ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔(3)
■ملائکہ مقرب کا خوف؛
رسول اکرمؐ نے فرمایا؛ جب بھی جبرائیلؑ میرے پاس آئے تو خوفِ خدا سے لرزاں تھے۔ ایک دن میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا؛ کیا وجہ ہے میں نے میکائیلؑ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا؟
حضرت جبرائیلؑ نے جواب فرمایا؛
جس دن سے جہنم کی آگ کو خلق کیا گیا ہے اسی دن سے میکائیلؑ نے ہنسنا چھوڑ دیا ہے۔(4)
■حضرت علیؑ کا گریہ؛
حبہ عرفی اور نوف بکالی کہتے ہیں ہم ایک شب کوفہ کے دارالامارہ کے صحن میں سوئے ہوئے تھے، نصف شب کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام آہستہ آہستہ اپنے حجرے سے نکل کر صحن کی طرف تشریف لاتے ہیں لیکن آپؑ کی حالت عجیب ہے۔ آپؑ اپنے جسمانی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دیوار کا سہارا لے کر چل رہے ہیں اور زیرلب سورہ آلِ عمران کی آخری آیات کی تلاوت میں مصروف ہیں۔
جونہی آپؑ کی تلاوت آیات اختتام کو پہنچتی تو آپؑ دوبارہ ابتدا سے شروع کر دیتے اور مسلسل انہی آیات کی تلاوت میں مصروفِ عمل رہے۔
حبہ اور نوف اپنے اپنے بستر میں لیٹے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آپؑ پےدرپے گریہ فرما رہے تھے۔
حضرت علی علیہ السلام حبہ کے نزدیک تشریف لائے اور پوچھا؛
جاگتے ہو یا سو رہے ہو؟
حبہ نے جواب دیا؛
بیدار ہوں اے امیرالمؤمنین اور سوچ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے رب کی خشیت میں اس قدر رو رہے ہیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔
حضرت امیرالمؤمنینؑ نے آنکھیں جھکا کر پھر رونا شروع کر دیا اور فرمایا؛
اے حبہ! ہم سب کو ایک روز اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس کے سامنے سے ہمارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے، وہ تیرے اور میرے شہہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے اور کوئی بھی چیز کسی وقت بھی ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان حائل نہیں ہے۔
پھر نوف سے پوچھا؛
کیا سو رہے ہو؟
نوف نے کہا؛
نہیں مولا۔۔۔ اے امیرالمؤمنین میں تو کافی دیر سے آپ کو روتا دیکھ کر خود بھی رو رہا ہوں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا؛
اے نوف! اگر آج دنیا میں خوفِ خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہونگی۔
اے نوف! خداوندمتعال کے خوف سے آنکھوں سے نکلنے والا ہر قطرہ جہنم کی آگ کے کئی دریاؤں کو خاموش کردیتا ہے۔
اے نوف! کسی کا بھی مقام و منزلت خوفِ خدا میں رونے والے سے برتر نہیں اور اگر کوئی کسی کو خدا کے لئے دوست رکھتا ہو تو اس کا بہت بلند مقام ہے۔
اے نوف! جو خداوندمتعال سے محبت کرے اور خدا کے لئے ہی کسی شے سے محبت کرتا ہو تو وہ خدا کے راستے میں کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔
اور۔۔
جو شخص کسی شے سے دشمنی خدا کے لئے کرتا ہے تو اسے اس دشمنی کے لئے بھی نیکی ہی ملے گی۔ جب کوئی اس درجہ ایمان پر فائز ہو تو وہ ایمان کے حقائق کے کمال تک پہنچ جاتا ہے۔
پھر آپ نے حبہ اور نوف کو کچھ دیر وعظ و نصیحت فرمائی اور آپ کی گفتگو کا آخری جملہ یہ تھا۔۔
خدا سے خوف کھاؤ، میں نے تمہیں بتا دیا ہے۔(5)
■اویسؓ کا گریہ؛
اویسؓ قرنی ایک موعظہ کی محفل میں حاضر ھوا کرتے تھے۔ واعظ کی باتیں سن کر ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ جب آتش جہنم کا ذکر آتا تو ان کی دھاڑیں بلند ہو جاتی تھیں اور وہ بھاگتے دوڑتے تھے۔ ان پر ایسی بےکیفی کی حالت طاری ہوجاتی تھی کہ لوگ ان کے پیچھے دوڑ پڑتے تھے اور انہیں کہتے تھے دیوانہ دیوانہ۔(6)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات؛
1) سورہ رحمان۔
2) سورہ نازعات۔
3) میزان الحکمۃ:5191۔
4) معراج السعادة، ص141۔
5) داستان راستان، ج2، ص180۔
6) اسرارالقلوب، ص202۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔶 خوف خدا سے یحییٰؑ کا گریہ 🔶
■مولا علی علیہ السلام فرماتے ھیں۔۔ اگر آج دنیا میں خوف خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہوں گی۔
■حضرت یحییٰؑ خوف خدا میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھوں کے کناروں سے گوشت ختم ہوگیا اور آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہوگئے اسی لئے حضرت ذکریاؑ جب بنی اسرائیل کو وعظ و نصیحت کرنے تشریف لے جاتے اور خطاب کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنے دائیں بائیں ضرور نگاہ کرتے اگر انہیں حضرت یحییٰؑ نظر آتے تو جنت و دوزخ کا ذکر نہ فرماتے۔
ایک مرتبہ حضرت ذکریاؑ جناب یحییٰؑ کی مجمع میں موجودگی سے متوجہ نہ ہوئے اور اپنا وعظ شروع کر دیا اور پھر آتشِ جہنم کا تذکرہ بھی ہوا۔ حضرت یحییٰؑ نے سخت گھبراہٹ میں اٹھ کر بیابان کا راستہ لیا۔
جناب ذکریاؑ وعظ سے فارغ ہوئے تو حضرت یحییٰؑ کی والدہ سے فرمایا؛ اٹھو اور جاؤ یحییٰؑ کو تلاش کرو۔ مجھے خوف ہے کہ شاید وہ آپ کو زندہ نہ مل سکیں۔
انکی والدہ انکی تلاش میں نکل پڑیں، راستہ میں بنی اسرائیل کے بعض جوان مل گئے وہ بھی بیبی کے ساتھ چل پڑے۔ سب مل حضرت یحییٰؑ کو تلاش کرنے لگے۔ راستے میں ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی۔ اس سے پوچھا؛
کیا آپ نے ان علامات و شکل کا جوان دیکھا ہے؟
چرواہے نے کہا؛
ہاں میں نے ابھی انہیں اس پہاڑ کے دامن میں دیکھا ہے وہ اپنے دونوں پاؤں پانی میں ڈالے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس طرح گفتگو کر رہے تھے۔۔۔
اے میرے مولا! میرے مولا! مجھے تیری عزت و جلال کی قسم! میں آج کے بعد ٹھنڈا پانی نہ پیوں گا اور اس وقت تک اسی طرح رہونگا جبتک تو مجھے میرا آخرت کا مقام دکھا نہ دے۔
جناب یحییٰؑ کی والدہ اپنے فرزند کی تلاش میں روانہ ہوئیں اور انہیں پاکر گود میں لیا اور قسم دی کہ گھر واپس آؤ۔ بالآخر وہ اپنی ماں کے ساتھ واپس اپنے گھر تشریف لائے۔
📚 رسالہ لقاءاللہ، ص159 تا 163۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
💐 خوش خُلقی 💐
اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)
●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔
"اِنَّ اَحْسَنَ الْحُسْنِ اَلْخُلْقُ الْحَسَنِ"
بہترین نیکی خوش خلقی ہے۔(2)
●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔
"حُسْنُ الْخُلْقِ یُزِیْدُ فِی الرِّزْقِ"
خوش خلقی رزق میں اضافہ کرتی ہے۔(3)
■اخلاق نبویؐ؛
أنس بن مالک کہتے ہیں میں رسول اکرمؐ کی خدمت میں تھا۔ آپؐ نے اس روز ایک ایسی چادر زیب تن فرمائی ہوئی تھی جس کے حاشیے کنارے سخت اور درشت تھے اچانک ایک صحرائی بیابانی عرب بدو نمودار ہوا اور آتے ہی حضورؐ کی ردائے مبارک سے پکڑا اور سختی سے اسطرح کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑ گئے اور۔۔۔
اس عرب مرد نے کہا؛
اے محمد یہ دو اونٹ مجھے سامان لاد کر دے۔ کیونکہ جو مال تیرے پاس ہے یہ خدا کا مال ہے، تیرا اور تیرے باپ کا مال نہیں ہے۔
آپؐ اس کے سامنے چپ ہو گئے اور پھر فرمایا؛
یہ سارے مال اللہ تعالٰی کے اموال ہیں اور میں تو خدا کا بندہ ہوں۔ اب بتاؤ جو تو نے میرے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا تجھ سے بدلہ لوں۔؟
اس عرب بدو نے کہا؛
نہیں جناب
آپؐ نے فرمایا؛
کیونکر۔۔؟
اس شخص نے کہا؛
اس لئے کہ آپ کا یہ شیوہ نہیں ہے بلکہ آپ کا کام تو برائی کا بدلہ برائی سے دینا نہیں بلکہ بھلائی سے دینا ہے۔
آپؐ مسکرائے اور فرمایا؛
اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دیئے جائیں اور دوسرے پر کھجوریں۔(4)
■شیطانی شکنجہ؛
کسی شخص نے مولا علیؑ کے غلام قنبر کو گالیاں دیں۔ قنبر بھی اسے اسی قسم کی گالیاں دینے پر آمادہ ہوا۔ حضرت علیؑ نے قنبر کو بلایا اور فرمایا؛
قنبر خاموش رہو۔ اس گالیاں دینے والے شخص کو ذلیل و خوار ہونے دو۔ تم اپنی چپ کو اس کی سزا قرار دو۔ تمہارے چپ ہونے سے خداوندمتعال خوشنود ہو گا اور تمہارا دشمن شیطان کے شکنجے میں آ جائے گا۔
■مالک اشترؓ؛
مالک اشتر کوفہ کے بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک ایسے شخص نے جو مالک اشتر کو نہیں جانتا تھا، انکی طرف مٹی پھینکی۔ جناب مالک اشتر چپ کر کے گزر گئے اور کچھ نہ کہا۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا؛ کیا تجھے معلوم ہے کہ تو نے کس شخص کی توہین کی ہے۔ اس نے کہا؛ نہیں معلوم۔
لوگوں نے کہا؛ یہ شخص مالک اشتر ہے۔ حضرت علیؑ کے جانثار جانباز ہیں، ان کے لشکر کے جرنیل ہے۔
اس شخص پر خوف طاری ہوا اور وہ مالک اشتر کے پیچھے دوڑا تاکہ ان سے مل کر معذرت کرے۔ جب وہ پہنچا تو مالک اشتر مسجد میں مشغول نماز تھے۔ جب مالک نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص مالک کے پیروں پر گر گیا۔
جناب مالک نے پوچھا؛
ایسا کیوں کرتے ہو؟
اس مرد نے کہا؛
میں اپنے کیے کام کی معافی چاہتا ہوں۔
جناب مالک نے فرمایا؛
میں نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تمہارے لیے مغفرت کی دعا کر دی تھی۔(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚حوالہ جات؛
1) میزان الحکمہ:4988۔
2) میزان الحکمۃ:4989۔
3) میزان الحکمۃ:5075۔
4) منازل الآخرة، ص100۔
5) منازل الآخرة، ص100۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
ایک عابد تھا جس کے بہت سے شاگرد تھے۔ یہاں تک کہ عام لوگ بھی اس کے عقیدت مند تھے اور اس کی شہرت ہر طرف پھیل چکی تھی۔
ایک روز وہ عابد کسی دوسری بستی میں گیا۔ اسے روٹی کی ضرورت ہوئی تو وہ ایک نانبائی کی دکان پر پہنچا۔ چونکہ اس کے لباس کی حالت اچھی نہ تھی، نانبائی نے اسے پہچانا نہیں اور اسے روٹی دینے سے انکار کر دیا۔ عابد خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
وہاں موجود ایک شخص نے نانبائی سے کہا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ ابھی یہاں کون آیا تھا؟‘‘
نانبائی نے کہا: ’’نہیں۔‘‘
اس شخص نے بتایا: ’’وہ فلاں بزرگ عابد تھے۔‘‘
نانبائی یہ سن کر فوراً بولا: ’’میں تو ان کا مرید ہوں!‘‘
پھر وہ عابد کے پیچھے دوڑا اور عرض کیا: ’’میں آپ کا شاگرد بننا چاہتا ہوں۔‘‘
عابد نے اس کی درخواست قبول نہ کی۔
نانبائی نے کہا: ’’اگر آپ مجھے اپنا شاگرد بنا لیں تو میں آج رات پوری بستی کے لوگوں کو کھانا کھلاؤں گا۔‘‘
عابد نے اس کی یہ پیشکش قبول کر لی۔
جب سب لوگ کھانا کھا چکے تو نانبائی نے پوچھا: ’’میرے آقا! دوزخ کیا ہے؟‘‘
عابد نے جواب دیا:
’’دوزخ یہ ہے کہ تم نے اللہ کی رضا کے لیے اس کے ایک بندے کو ایک روٹی بھی نہ دی، لیکن ایک بندے کی خوشنودی کے لیے پوری بستی کو کھانا کھلا دیا!‘‘
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خالص عمل وہ ہے جس کے بارے میں تم یہ پسند نہ کرو کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی اور تمہاری تعریف و تمجید کرے۔‘‘
📚 وسائل الشیعہ، ج ۱، ص ۶
1 288
اسی محبت کیوجہ سے آپؐ ہمیشہ ان کا احترام کرتے تھے یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے فضائل وکمالات کا اظہار فرماتے تھے اور بعض دوسری بیویوں کی ان کے بارے کچھ ناروا باتوں پر ناراض ہوتے تھے.(18)
یہ محبت یکطرفہ نہ تھی بلکہ حضرت خدیجہؑ بھی اپنے شوہر نامدارؐ سے ایک خاص قلبی لگاؤ اور محبت رکھتی تھیں اور اس کا اظہار بھی کرتی تھیں۔ حضورؐ سے آپ کی محبت و عقیدت اور عشق و ارادت کے شاہد یہ دو شعر ہیں جو آپ کی طرف منسوب ہیں:
فَلو اننی امشیت فی نعمۃ ودامت لی الدنیا وملک الاکاسرۃ
فما سویت عندی جناح بعوضته اذا لم یکن عینی لعینک ناظرۃ (19)
ترجمہ:
اگر دنیا بھر کی تمام نعمتیں اور بادشاہوں کی سلطنتیں ہمیشہ کیلئے میرے پاس ہوں تو بھی وہ میرے نزدیک مکھی کے پر کے برابر بھی کوئی قیمت نہیں رکھتیں اگر میری آنکھیں آپؐ کی مبارک نگاہوں اور ملکوتی حسن و جمال کا نطارہ نہ کر سکیں.
💘8= ایثار و تواضع...!!
مشترکہ ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کو جن چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے، ان میں سے ایک چیز ایک دوسرے کی نسبت تواضع اور ایثار وفداکاری ہے۔ پیغمبرِخُداؐ اور جناب خدیجہؑ اس تواضع وفداکاری کا عملی نمونہ تھے۔ جب شادی کے مراسم ختم ہو چکے تو رسولِخُداؐ نےچاہا کہ اپنے گھر کی طرف تشریف لے جائیں لیکن جناب خدیجہؑ نے آپؐ سے عرض کیا: "الی بیتک؟ فبیتی بیتک وانا جاریتک؛" کیا اپنے گھر تشریف لے جانا چاہتے ہیں؟ میرا گھر آپؐ ہی کا گھر ہے اور میں تو آپؐ کی کنیز ہوں.(20)
دولت وثروت اور غلام و کنیز ہونے کے باوجود جناب خدیجہؑ کا اپنے آپ کو حضرت محمد مصطفٰیؐ کی کنیز سمجھنا اپنے شوہر کے سامنے آپ کی انتہائی تواضع و فروتنی اور اخلاص و ایثار کی دلیل ہے۔ آپ نے رسولِخُداؐ کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی میں ہمیشہ اس بات کا ثبوت دیا۔
📚 حوالہ جات:
1۔ سیرۃ النبویہ، ابن ھشام حمیری، مصر، مکتبہ محمد علی صبیح، 1383ق، ج1، ص122۔
2۔ همان، ج1، ص121۔
3۔ قطب الدین راوندی، الخرایج والجرائح، قم، موسسہ امام ہادی، طبع اول، 1409ق، ص140۔139۔
4۔ سیرہ نبویہ، ابن ھشام حمیری، ج1، ص122۔
5۔ تاریخ الامم والملوک، محمد بن جریر طبری، ج2۔
7۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص16۔
8۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص19۔
9۔ تاریخ یعقوبی، احمد بن واضح یعقوبی، ج2، ص20۔
10۔ مناقب آل ابیطالبؑ، ابن شہر آشوب، نجف، مکتبہ الحیدریہ، 1376 قمری، ج1، ص39۔
11۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص55۔
12۔ الخرائج والجرائح، قطب الدین راوندی، ج1، ص140۔
13۔ مناقب آل ابیطالبؑ، ابن شہر آشوب، ج1، ص39۔
14۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص22۔23۔
15۔ بحارالأنوار، محمدباقر مجلسی، ج16، ص70۔
16۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، بیروت، موسسہ الوفا، 1403ق، ج16، ص16۔
17۔ تاریخ الامم والملوک، محمدبن جریرطبری، قاھرہ، مطبعۃ الاستقامۃ، 1358ق، ج2، ص34۔
18۔ شرح الاخبار فی فضائل الآئمہ الاطہارؑ، نعمان بن محمد تمیمی مغربی، ج3، ص21۔22۔
19۔ بحارالأنوار، محمد باقر مجلسی، ج16، ص52۔
20۔ الخرائج والجرائح، قطب الدین راوندی، ج1، ص140۔
👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
منگنی کی تقریب میں رسولِخُداؐ کے چچا جناب حمزہؑ(6) اور جناب ابوطالبؑ(7) حاضر ہوئے اور پیغمبرِ خداؐ کیلئے جناب خدیجہؑ کے خاندان سے ان کا رشتہ مانگا۔(8)
حضرت ابوطالبؑ نے منگنی کی تقریب میں اپنی گفتگو کے ایک حصے میں فرمایا:
ہمارا بھتیجا جو کہ کسی تعریف کا محتاج نہیں ہے، آپ کی اس بیٹی کی خواستگاری کیلئے آیا ہے جسکی سخاوت و نجابت اور شرافت و فضیلت زبان زدِ خاص وعام ہے۔(9)
💗4= منگنی میں حقیقت گوئی...!!
عام طور پر رواج یہ ہے کہ منگنی کی تقریب میں ہونے والے داماد کے رشتہ دار اس کے اوصاف اور اس کی اور اس کے خاندان کی مالی پوزیشن کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض اوقات وہ اپنی مالی حالت کے بارے میں مبالغہ سے کام لیں اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کریں جس کا نتیجہ بعد میں اختلاف اور جدائی کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ لیکن جناب خدیجہؑ کی منگنی کے مراسم میں حضرت ابوطالبؑ نے اپنی دل نشیں گفتگو کے دوران اپنے بھتیجے کی ان الفاظ میں توصیف فرمائی:
"میرے بھتیجے حضرت محمدؐ بن عبداللہ فضائل و کمالات میں قریش کے تمام مردوں پر فضیلت و برتری رکھتے ہیں اور کسی کا بھی ان کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا ، لیکن مال و دولت کے حوالے سے ان کا ہاتھ تنگ ہے."(10)
🌹5= حق مہر:
حق مہر مسئلہ منگنی کی تقریب سے پہلے جناب خدیجہؑ نے حضرت محمد مصطفٰیؐ کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا تھا کہ اگر آپ کے پاس دولت و ثروت کی کمی ہے تو کوئی بات نہیں، میرے پاس مال و دولت بہت زیادہ ہے اور میں اپنا سب کچھ آپؐ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں.(11)
اگرچہ منگنی کی تقریب میں جناب خدیجہؑ نے اس چیز کا اظہار کیا تھا کہ مہر میرے ذمے رہے.(12) لیکن بعض تاریخی حوالہ جات کے مطابق، حضرت ابوطالبؑ نے منگنی کی تقریب میں جناب خدیجہؑ کا حق مہر اپنے ذمہ لیتے ہوئے اعلان کیا کہ حق مہر چاہے معجّل ہو یا مؤجل (نقد اور فوری واجب الادا ہو یا مدت دار اور بعد میں واجب الادا) جتنا بھی ہو میں خود ادا کروں گا.(13)
حضرت ابوطالبؑ کا یہ عمل ایک نمونہ اور اُسوہ کے طور پر سب کے پیش نظر رہنا چاہیئے کہ اگر ایک جوان کے مالی حالات بہتر نہ ہوں تو اس کے باپ کو اور اس کی موت کی صورت میں اس کے دادا، چچا یا دوسرے رشتہ داروں کو اس کی شادی کے وسائل فراہم کرنے چاہیئں.
🌴6= شادی کا معنوی عامل...
ممکن ہے کہ بعض مادی ذہنیت رکھنے والے دنیا پرست یہ سمجھیں کہ حضرت محمد مصطفٰیؐ، جناب خدیجہؑ سے اسلئے شادی کرنا چاہتے تھے تاکہ اسطرح ان کے مال و دولت تک رسائی حاصل کر سکیں اور جناب خدیجہؑ بھی یہ چاہتی تھیں کہ آپؐ کی مدد سے اپنے تجارتی کارواں کو توسیع دیں اور اسطرح اپنی دولت و ثروت میں اضافہ کریں۔ لیکن یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان دونوں شخصیتوں کی شادی میں کوئی مادی عامل کارفرما نہ تھا بلکہ کئی ایک معنوی عوامل تھے جو اس مبارک ازدواج کا باعث بنے.
اس کے باوجود کہ عقبہ بن ابی معیط اور صلت بن ابی یھاب کہ جن میں ہر ایک چارسو غلاموں اور کنیزوں کا مالک تھا اور ابوجہل و ابو سفیان جیسے ثروتمند اور قریش کے دولتمند افراد آپؑ سے شادی کے خواہش مند تھے لیکن آپؑ نے ان سب کو ٹھکراتے ہوئے قریش کے ایک ایسے جوان سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا جو یتیم اور بظاہر مالِ دنیا سے بے بہرہ تھا اور اس سے شادی کو اپنی دیرینہ آرزو قرار دیتے ہوئے اسے عملی جامہ پہنایا.
جب جناب خدیجہؑ کو پتا چلا کہ حضرت محمد مصطفٰیؐ کے ساتھ ان کی شادی پر قریش کی عورتیں اعتراض کر رہی ہیں تو آپؑ نے ان کی دعوت کی اور سب کے سامنے اظہار کیا:
"مجھے پتا چلا ہے کہ تمہارے شوہر، حضرت محمد مصطفٰیؐ کے ساتھ شادی کی وجہ سے میری ملامت کرتے ہیں، میں تم سے پوچھتی ہوں کہ کیا تمہارے درمیان ان جیسا کوئی ہے؟ کیا پورے مکہ اور اس کے اطراف میں حضرت محمد مصطفٰیؐ جیسا جمال وکمال اور ان جسیے فضائل و مناقب اور اخلاق وکردار رکھنے والا کوئی اور ہے؟ میں نے اعلیٰ اوصاف و کمالات کی وجہ سے جنہیں تم سمجھنے سے قاصر ہو، ان سے شادی کا فیصلہ کیا ہے لہذا تمہیں فضول باتیں کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے."(15)
💘7= دو طرفہ محبت...!!
ازدواجی زندگی کی پائیداری کے اسباب و عوامل میں سے ایک میاں بیوی کے درمیان عشق و محبت ہے حضرت محمد مصطفٰیؐ اور جناب خدیجہؑ کے درمیان دو طرفہ محبت اپنے عروج پر تھی۔ اس حقیقت کو حضورؐ کے چچا جناب ابوطالبؑ کی زبان سے سنتے ہیں جنہوں نے جناب خدیجہؑ کی منگنی کی تقریب میں فرمایا:
"خدیجہؑ اور حضرت محمدؐ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں."(16)
یہ جناب خدیجہؑ کیساتھ رسولِخُداؐ کی محبت ہی تھی کہ بظاہر عمر میں بڑی ہونے کے باوجود آپؐ نے ان سے شادی کا فیصلہ فرمایا۔(17)
1 288
🌹 شادی مبارک کے اخلاقی نکات 🌹
شادی کا رجحان انسان میں فطری طور پر پایا جاتا ہے۔ اور اسلام نے بھی بعض شرائط کی رعایت کیساتھ اس فطرت کی تائید کی ہے۔ کیونکہ خداوند متعال نے انسان کی تخلیق اسطرح کی ہے کہ جب اسکی عمر رشد و بلوغت کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو خود بخود صنفِ مخالف کیطرف اس میں رجحان پیدا ہوجاتا ہے اور مشترکہ زندگی کیلئے کوششیں شروع کردیتا ہے۔ یہ بات شادی کرنے کے فطری ہونے کو بتاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ امر عادات و رسوم یا ضرورتِ زندگی یا کسی اور سبب کا پابند ہے۔
بہرکیف، شادی کرنے کی سنت ایک عام اور ہمہ گیر سنت ہے جو تاریخ کے طول و عرض میں مختلف تہذیبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اسلام نے بھی اس امر کی جانب خاصی توجہ کی ہے اور اسے آسان بنانے کو کافی اہمیت کی نظروں سے دیکھا ہے۔ جہاں اسلام نے شادی کو آسان بنانے کے احکام و دستورات جاری کئے ہیں وہیں اس نے اس کیلئے عینی نمونے بھی پیش کئے ہیں تاکہ لوگوں کو عمل کرنے میں دشواری محسوس نہ ہو۔
زیرِ نظر مقالے میں شادی کے لیے اُسوۂ حسنہ کے طور پر ہم نے حضرت بیبی خدیجہ سلام الله عليها کی زندگی اور آپؑ کی شادی کے اخلاقی نکات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ حضرت محمدؐ اور حضرت خدیجہؑ کی شادی کے اخلاقی دروس درج ذیل ہیں:
بعثت سے پندرہ سال پہلے شہرِ مکہ میں تاریخ کا حسین ترین اتفاق رونما ہوا، یہ اتفاق سیدالانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفٰیؐ کا کائنات کی بافضیلت ترین خواتین میں سے ایک خاتون حضرت خدیجہؑ بنت خویلد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا تھا.
اس خجستہ و مبارک شادی نے عرب کے جاہل معاشرے پر حاکم آداب و رسوم کو زیر و زبر کر دیا اور اس مبارک ازدواج کا ثمر، سیدۃالنساء العالمین حضرت فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت تھی۔ یہ مبارک شادی جن معنوی عوامل کے تحت انجام پزیر ہوئی، ان کی وجہ سے ہر دور اور ہر خطے کے جوان جوڑوں کے لیے اُسوہ و نمونہ اور آئیڈیل بن سکتی ہے۔ اس مختصر تحریر میں اس بابرکت ازدواج کے اخلاقی نکات پر نگاہ ڈالتے ہیں:
💞1= شادی سے پہلے شناخت کی ضرورت:
شادی سے پہلے مرد و زن کی ایک دوسرے کے بارے میں شناخت، ازدواجی زندگی کے بنیادی اور اہم ترین نکات میں سے شمار ہوتی ہے۔ حضرت محمد مصطفٰیؐ اور حضرت خدیجہؑ کی شادی بھی پہلے سے ایک دوسرے کے بارے میں شناخت اور آگاہی کی بنیاد پر ہوئی تھی. رسولِخداؐ بھی اپنی ہونے والی شریک حیات کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتے تھے اور حضرت خدیجہؑ بھی اپنے ہونے والے شوہر نامدار کو ہرحوالے سے پہنچانتی تھیں. چونکہ آپ آپس میں رشتہ دار بھی تھے لہٰذا جناب خدیجہؑ رسولِخداؐ کو "ابن عمّ" (چچازاد) کہہ کر خطاب کرتی تھیں.(1)
مزید یہ کہ آنحضرتؐ مکہ میں امانت و دیانت، صداقت و طہارت اور پاکدامنی وغیرہ جیسی اعلیٰ صفات کے حوالے سے معروف تھے لہٰذا سبھی اہل مکہ اور خصوصاً جناب خدیجہؑ آپؐ کو اچھی طرح سے جانتی تھیں.(2)
اسی شناخت کی وجہ سے جناب خدیجہؑ نے آپؐ سے درخواست کی کہ آپؐ ان کے شام کی طرف جانے والے تجارتی قافلے کی ذمہ داری سنبھالیں۔ جناب خدیجہؑ کے غلام میسرہ نے جب واپسی پر سفر کے دوران آپؐ کے حسنِ اخلاق کی تعریف و توصیف کی تو جنابِ خدیجہؑ پہلے سے زیادہ آپؐ سے آشنا اور آپؐ کی گرویدہ ہو گئیں۔(3)
💝2= شادی کی پیشکش کا انداز...!
آج کے دور کی طرح زمانہ جاہلیت کے عرب معاشرے میں بھی (کہ جس میں رسولِخداؐ اور حضرت خدیجہؑ رہ رہے تھے) رسم یہ تھی کہ مرد یہ فیصلہ کرتے تھے کہ کس عورت سے شادی کریں اور عام طور پر شادی کی پیشکش مردوں کیطرف سے ہوتی تھی، لیکن ان دو شخصیات کی شادی، حضرت خدیجہؑ کی پیشکش پر ہوئی تھی۔ جب رسولِخداؐ شام کے کامیاب تجارتی سفر سے واپس لوٹے تو جناب خدیجہؑ نے آپؐ کی خدمت میں ملاقات کا پیغام بھیجا۔ حضور اکرمؐ تشریف لائے تو آپؑ نے آنحضرتؐ سے عرض کیا:
اے میرے چچا زاد! میں آپؐ سے قرابت و رشتہ داری، آپؐ کی اپنے خاندان کے درمیان عزت و عظمت اور احترام اور آپؐ کی امانت و دیانت، صداقت اور حسنِ اخلاق کیوجہ سے آپؐ سے شادی کی خواہشمند ہوں.(4)
جناب خدیجہؑ نے یہ پیشکش کر کے زمانۂ جاہلیت کے عرب معاشرے کی خواستگاری اور منگنی کی غلط اور بیجا رسوم کو پاؤں تلے روند ڈالا۔
💖3= رسم منگنی کا انداز...!!
عام طور پر رواج یہ ہے کہ منگنی کی تقریب میں لڑکی اور لڑکے کے خاندان کے بزرگان اور معززین شریک ہوتے ہیں اور اسطرح منگنی کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ حضرت خدیجہؑ کیطرف سے شادی کی پیشکش کے بعد، پیغمبر اکرمؐ جو کہ اس شادی پر راضی تھے، اپنے چچاؤں کے پاس تشریف لے گئے... اور اس سلسلے میں ان سے مشورہ کیا۔(5)
1 288
صد افسوس! عید زہراء جو خاتون جنت، جگر گوشۂ رسول (ص)، زوجۂ علی مرتضیٰ (ع)، ام الائمہ زہراء بتول (ع) کے نام سے منسوب ہے وہ اس طرح منائی جاتی ہے کہ اس میں شریف انسان شریک ہونے کی جرأت بھی نہ کر سکے؟
اس کے علاوہ عالم اسلام پر جس طرح خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے، کتنا اچھا ہو اگر عید زہراء اپنے حقیقی معنوں میں اس طرح منائی جائے جس میں تمام مسلمین شریک ہو سکیں۔
والسلام من اتبع الھدی
👈 مزید اسلامی تحریریں اور کہانیوں کے ذریعے اصلاحی تحریریں نیز مفید معلومات کے لئے ہمارا وٹس ایپ چینل اسلام ود ایمان فالو کیجئے۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
❸ تاجپوشی امام مھدی عج
بعض علماء 9 ربیع الاول جو منانے کا یہ احتمال دیتے ہیں کہ 8 ربیع الاول، امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کا دن ہے اور 9 ربیع الاول امام محمد مھدی عج کی امامت کے آغاز کا دن ہے، چنانچہ اس دن یہ خوشی منانی چاہیئے اور ان کی تاج پوشی کا دن ہے لیکن یہ احتمال ضعف سے خالی نہیں ہے کیونکہ اسلام میں اور مذہب تشیع میں تاج پوشی کا کوئی تصور نہیں، نیز امام مھدی عج کی امامت کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب 8 ربیع الاول کو امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت ہوئی تھی کیونکہ مذہب تشیع کے مطابق زمین حجت خدا کے بغیر خالی نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ ایک دن بعد امامت مھدی عج کا آغاز ہونا، اصول مذہب تشیع کے منافی ہے کیونکہ حجت خدا کی امامت کا اغاز اپنے والد امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد 8 ربیع الاول کو ہی ہو گیا تھا، نیز جو لوگ اس دن جشن تاج پوشی مناتے ہیں کیا وہ 11 محرم کو امام سجاد علیہ السلام کی امامت کے اغاز پر بھی جشن منانے کو تیار ہیں؟
تاج پوشی سے یہ احساس ملتا ہے کہ جیسے کل تک آپ بے تاج تھے۔۔ اور اپنے سلف کی شہادت کے بغیر انکا اس لفظ کے تفاخر تک پہنچنا ممکن نہ تھا۔۔ جبکہ منصوص من اللہ عہدے ظاہری تاج کے محتاج ہی کہاں ہوتے ہیں ۔۔ وہ تو ہر لحظہ اللہ کی طرف سے مصطفائی کے تاجدار ہوا کرتے ہیں.
ہم لوگ جو اثنا عشری ہیں اگر اپنے آخری امام کے اولین یومِ امامت کو روزِ جشن سمجھیں تو پھر ہمیں کیا ایسی ہی فکر کیساتھ 22 رمضان کو امام حسن علیہ السلام اور 29 صفر کو امام حسین علیہ السلام اور دس محرم کی شب کو امام سجاد علیہ السلام کیلئے بھی ایک ایک جشن تاجپوشی کا اعادہ نہیں کرنا چاہئیے؟ آپ سب کہیں گے کہ ھر گز نہیں ۔۔۔ تو پھر ایک ہی امام کیلئے ایسے یوم کا تعین کیوں؟
جاننا چاہئیے کہ امامت افراد کے لحاظ سے بارہ کا عدد ضرور رکھتی ہے لیکن مرکزیت میں ایک ہی اکمل وجود کی حامل ہے ۔۔۔ یعنی ولایت ایک ہے اسکے منصب دار 12 ہیں اسلئے میرے نزدیک تمام آئمہ کا اصل روز تاجپوشی یوم غدیر ہی ہے ۔۔۔ اور اسی دن ہی سب آئمہ طاہرین کی ولایت کا تدریجی اعلان ہو گیا تھا ۔۔۔ سو غدیر سے الگ باقی ایام کو تاجپوشی کا نام دینے میں مصائب معصومین مانع دکھائی دیتے ہیں.
❹ شادی پیغمبر اسلام (ص)
اس خوشی کا چوتھا احتمال یہ ہے کہ 9 اور 10 ربیع الاول پیغمبر اسلام (ص) کی جناب خدیجہ سے شادی کا روز ہے اور حضرت فاطمہ زہراء(ع) ہر سال اس روز خوشی مناتی تھیں اور شیعہ بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے ان دنوں میں خوشی منانے لگے، مگر شیعوں کو اس خوشی کی یہ علت معلوم نہیں ہے۔‘‘
(سوال و جواب ،صفحہ ۱۰ و ۱۱، از آیت اللہ العظمیٰ کاشف الغطائ (رح)، ترجمہ مولانا ڈاکٹر سید حسن اختر صاحب نوگانوی، منجانب ادارۂ تبلیغ و اشاعت نوگانواں سادات)
■ نتیجہ
1) خلیفہ ثانی ابو لؤلؤ کے ہاتھوں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ یہ بات بالکل بھی درست نہیں کیونکہ شیعہ سنی معتبر اقوال کے مطابق خلیفۂ ثانی ذوالحجہ کے اواخر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ لہذا 9 ربیع الاول کو خوشی منانے کا یہ جواز معقول نظر نہیں آتا۔
2) اس دن عمر بن سعد کو مختار نے قتل کیا اور ان کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں اسی دن پہنچا، اس کے بعد اہلبیت علیہم السلام نے سوگ ختم کیا۔ لیکن یہ بات بھی بوجوہ درست نہیں کیونکہ اس دن عمر بن سعد کا سر پہنچنے کی تصریح کہیں بھی وارد نہیں ہوئی۔ یہ بات درست ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے جب قاتلان حسین (ع) سے بدلہ لیا گیا تو مختار کیلئے رحمت کی دعا کی۔ لیکن اسی دن سر پہنچنے کی روایت ہمیں نہیں ملتی۔ لہذا 9 ربیع کو خوشی منانے کا یہ جواز معقول نظر نہیں آتا۔
3) امام زمانہ کی امامت کا آغاز ۔۔۔ غدیر سے الگ باقی ایام کو تاجپوشی کا نام دینے میں مصائب معصومین مانع دکھائی دیتے ہیں۔ لہذا خوشی منانے کا یہ جواز کچھ مناسب نہیں لگتا۔
4) 9 اور 10 ربیع الاول کو پیغمبر اسلام (ص) کی جناب خدیجہ (س) سے شادی کا روز ہے اور حضرت زھراء سلام اللہ علیہا ہر سال اس روز خوشی مناتی تھیں۔ شیعہ بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے یہ خوشی منانے لگے۔ شاید عید زہراء نام رکھنے کی یہی وجہ ہو۔
🔘 پہلا تو قطعیات تاریخی سے متصادم ہے اور دوسرے کو ماننا غلط تو نہیں لیکن اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں۔ تیسرا عقلاء کے نزدیک مناسب نہیں لگتا۔ باقی چوتھا احتمال رہ جاتا ہے۔
یہ بات واضح ہو جانے کے بعد کہ اس عید کی کوئی شرعی و تاریخی حیثیت نہیں ہے لیکن یہ عید زھراء اور تاجپوشی کے نام سے منائی جاتی ہے تو اب ایک سوال باقی رہ جاتا ہے، وہ یہ کہ اس خوشی کو کس طرح منائیں۔؟
یہ خوشی امام زمانہ (عج) اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے منسوب ہے تو ہمیں ان معصومین (علیہما السلام) کے شایان شان اس خوشی کو منانا چاہئے۔
