uz
Feedback
Pakistan Times International

Pakistan Times International

Kanalga Telegram’da o‘tish
396
Obunachilar
+524 soatlar
+207 kunlar
+4130 kunlar
Postlar arxiv
مولانا فضل الرحمن کا انداز خطاب کمال ہے اور فوج کو للکارتے بھی خوب ہیں لیکن تاریخ یہ رہی ہے کہ جب کبھی فوج کو ضرورت ھوئی، مولانا نے ہمیشہ آگے بڑھ کر کندھا دیا ہے،چاہے مشرف کا غیرآئینی LFO ھو یا 26 ترمیم ھو یا پختونخواہ میں ڈالری جنگ کے لئے ملٹری آپریشن کی حمایت ھو

Jo-Mee-Nee-Dekha telegram@PTIOrg.pdf37.04 MB

جو میں نے دیکھا مصنف راؤ رشید
جو میں نے دیکھا مصنف راؤ رشید

‏راو رشید اپنی کتاب "جو میں نے دیکھا" کے صفحہ نمبر 66ـ65 پر لکھتے ہیں کہ جب مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہو رہے تھے لوگ سوچ رہے تھےکہ یہ حالات کس طرح ٹھیک ہوں گے ان کا حل کیا ہو گااسی دورانِ میں جنرل یحییٰ خان کا پشاور میں بنگلہ تیار ہو گیا اس پر پیسے سٹینڈرڈ بنک کے لگے پروگرام یہ تھا کہ جب بنگلہ تیار ہو گا تو بنک اسے کرایہ پر لے لے گا اس طرح جنرل کی نہ ہینگ لگی نہ پٹھکڑی۔ بنگلہ تیار ہو گیا پروگرام بنا اسکا افتتاح کیا جائے تیاریاں مکمل ہو گئی۔ سوئمنگ پول کے عین سامنے شراب و شباب کی محفل لگی جنرل یحییٰ خان صاحب پتہ نہیں رات کو سوئے یا نہیں سوئے۔لیکن صبح چار بجے اپنےصرف انڈرویر میں باہر نکل آئے نشے میں بالکل دھت تھے انہوں نے حکم دیا۔ گاڑی تیار کرو میں اسی وقت راولپنڈی جاؤں گا متعلقہ سٹاف کے لوگ بیچارے بڑے پریشان ہوئے انہوں نے کہا جی ابھی گاڑی منگواتے ہیں انہوں نے ایس ایس پی کو فون کیا۔ایس ایس پی نے ڈی آئی جی کو فون کیا کہ صدر صاحب تو راولپنڈی جانے کے لیے تیار ہیں اور برآمدے میں آدھے ننگے کھڑے ہیں۔ یحییٰ خان صاحب کے کمرے میں ایک محترمہ تھیں انہوں نےتھوڑا تھوڑا دروازہ کھول کے انہیں واپس بلانے کی کوشش کی لیکن وہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح تھے پتہ نہیں وہ اس محترمہ سے کس بات پر ناراض ہو گئے جنرل یحییٰ خان کے گھر کی کوئی محترمہ وہاں نہیں آئی تھیں ابھی تو اس گھر کی افتتاحی تقریب ہو رہی تھی اس محترمہ نے کوشش کی لیکن جناب جنرل صاحب بضد تھے کہ میں اس وقت جاؤں گا پھر یحیی خان صاحب کی ایک اور منظور نظر کو فون کیا گیا وہ آئیں اور بڑی منت سماجت کرکے ان کو اندر لے گئیں اس طرح سے ( بحران ) جو تھاوہ ختم ہوا۔ مشرقی پاکستان کا کرائسس تو کوئی کرائسس نہیں تھا اصل کرائسس یہ تھا کہ یحییٰ خان کو ننگا دھڑنگا کسی طرح سے اندر لے جایا جائے تو وہ کرائسس بڑی مشکل سے بہرحال ٹل گیا منانے والی کسی کرنل کی بیوی تھی نوٹ!راؤ رشید اُس وقت پشاور میں ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلی جینس تعنیات تھے

میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا مصنف ؛ صدیق سالک Telegram https://t.me/PTIOrg/808 WhatsApp https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W

میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا مصنف ؛ صدیق سالک Telegram https://t.me/PTIOrg/809 WhatsApp https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا مصنف ؛ صدیق سالک Telegram https://t.me/PTIOrg/809 WhatsApp https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W

پنجاب کی افسر شاہی کھلا مال بنا رہی ساتھ میں سب نے پرتکال سپین وغیرہ کی ریز ڈینسی لے لی ہے اس گرمیوں میں پنجاب سے ڈنمارک آنے والوں کی لائنیں لگی ہیں پولیس آفیسر ، دیگر افسران جب انٹری دینے پرتگال آتے تو یہاں بھی دوستوں عزیزوں سے ملنے آ جاتے ہیں سب نے بچے باہر بھجوا دیے ہیں جیسے حکومت جائے گی یہ سب ساتھ ہی نکل جائیں گے

بلوچستان کیا دن آگئے، فرح اعظیم شاہ نے عبدالرحمٰن کھیتران پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے "پچھلے دنوں ہمارے ایک وزیر کو کابینہ سے فارغ کیا گیا میں اُن کا انٹرویو سُن کر حیران رہ گئی کہ آخر کیسے لوگوں کو اسمبلی بھیجا گیا ہے۔" اندازہ لگائے محترمہ جب آپ بھی حیران ہیں تو ہمارا کیا حال ہوگا بلکہ ہم تو سالوں سے سر والوں کی سیلیکشن پر حیران اور پریشان ہیں۔ نعمت اللہ خوشحال

Shahabnama (telegram@PtiOrg).pdf17.45 MB

شہاب نامہ
شہاب نامہ

‏اب آپ کو اندازہ ہوگا یہ اشرافیہ تن من دھن سر کی بازی لگا کر،پھانسی، قتل جلاوطنی یا قید کی سزائیں بھگت کر بھی ہر قیمت پر ایم این اے/سینٹر/ایم پی اے بننا چاہتے ہیں کہ وہاں مراعات ہی بے پناہ ہیں۔ خاندان سدھر جاتے ہیں۔ نسلوں تک کا مستقبل سنور جاتا ہے۔ ہر ماہ صرف چند دن کا چند گھنٹے کا اجلاس ہوتا ہے لیکن پورے ماہ کی سات آٹھ لاکھ روپے تنخواہ اور پھر ایک ایک لاکھ روپے فی قائمہ کمیٹی اجلاس کا الاونس الگ اور پھر سینٹ/اسمبلی اجلاس میں حاضری کا الگ الائنس اور پھر بیرون ملک مفت سیر سپاٹے، پی آئی آے ٹکٹس فری، ٹی اے /ڈی اے الگ، میڈیکل فیملی سمیت فری، کروڑں کا ترقیاتی فنڈ الگ جہاں بقول شاہد خاقان عباسی کمشن الگ ( سب نہیں لیتے ہوں گے)۔ اور اب تاحیات خاندان سمیت بلیو پاسپورٹ الگ۔ پچیس کروڑ پاکستانی جو سبز پاسپورٹ رکھ کر انہیں ووٹ دیتے ہیں یہ ممبران/ان کا خاندان ان سب کا ووٹ لیتے ہی اس سبز پاسورٹ سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ یہ جو عوام کی قسمت اور حالت بدلنے آتے ہیں سب سے پہلے اپنی اور خاندان کی حالت بدلنے پر کام کرتے ہیں۔ حیران ہوں ان سب کو پاکستانی سبز پاسپورٹ اتنا ناپسند /نفرت کیوں ہے جو ہم باقی کروڑں پاکستانی استمعال کرتے ہیں؟ یہ ارکان اور ان کے بیوی بچے کروڑں سبز پاکستانیوں سے الگ اپنی بلیو شناخت کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ سوال یہ ہے ان سب کو خاندان سمیت تاحیات بلیو پاسپورٹ کیوں؟ تاکہ غیرملکی ائرپورٹس پر ان کی شناخت الگ ہو کہ یہ کوئی مختلف خلائی مخلوق ہے کیونکہ سبز پاسپورٹ والے اکثر ائرپورٹس پر ذلیل ہوتے ہیں۔ غیر ملکی سفارت خانے سبز پاسپورٹ کو اکثر ویزے نہیں دیتے۔ یہ سب بلیو پاسپورٹ کی شکل میں خود کو اس ذلالت سے بچانے کا بندوبست کررہے ہیں تاحیات اپنی خاندان اور بچوں تک کے لیے بھی۔ یہ ہیں ہمارے نمائندے اور حکمران جو اس عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں جس کی طاقت سے اب یہ ان جیسا سبز پاسپورٹ نہیں رکھنا چاہتے۔ ان سے الگ لگنا چاہتے ہیں۔ یہ خود کو chosen people سمجھ کر ہی حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ رؤف کلاسرا

‏خواتین پولیس بھی آزاد کشمیر پہنچ گئی مظفرآباد: 15 جولائی کو مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس، رینجرز اور ایف سی کی تعیناتی کے بعد لیڈی پولیس کی نفری بھی آزاد کشمیر پہنچ گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ گزشتہ روز خواتین پولیس گاڑیاں کوہالہ کے راستے چمن کوٹ اور دھیرکوٹ پہنچیں، جہاں انہیں مختلف مقامات پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مجوزہ لانگ مارچ کے دوران خواتین مظاہرین سے نمٹنے اور سکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے لیڈی پولیس کو طلب کیا گیا ہے۔ 15 جولائی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی جانب سے مختلف انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر نفری میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

حکومت بلوچستان نے نئے ڈویژنز اور اضلاع کی تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا !

پنجاب میں لوٹ مار کا نیا پروگرام پنجاب بھر کے مختلف نجی اسکولز تنظیموں نے محکمہ تعلیم اور پیرا فورس کی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار سکول رجسٹریشن اور بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ کے نام پر رشوت طلب کی جا رہی ہے۔پاکستان ایجوکیشن کونسل کے صدر میاں عمران مسعود کا بیان سانحہ کاہنہ کے بعد سکولز مالکان کو تنگ کیا جارہا ہے۔

آڈیٹر جنرل آڈٹ رپورٹ میں پاکستان بیت المال میں سنگین اور ہوشربا بدعنوانیوں کے انکشافات۔ بیت المال کوئٹہ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور زکوۃ حاصل کرنے والے 109 افراد کو 3 کروڑ سے زائد ادا کئے۔ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دفاتر میں 283 سرکاری ملازمین 4 کروڑ 38 لاکھ مالی امداد کے طور پر لے اڑے۔ روزنامہ جنگ میں رانا غلام قادر کی خبر

مجھے پیٹرن اسٹڈی کرنے میں ہمیشہ دلچسپی رہی ہے۔ ایک بڑا انٹرسٹنگ پیٹرن بن رہا ہے۔ وہ آپ سے ڈسکس کرتا چلوں؛ اہم ترین نوٹ: یہ پیٹرن ابھی نامکمل اور بلکل کچا ہے۔ دیگر الفاظ میں اسے ابھی محض "ہوائی تھیوری" ہی سمجھیں پیٹرن ملاحظہ کیجیے اور ڈاٹس ملاتے جائیے: 1- پاکستان شدید معاشی مسائل کا شکار ہے 2- دنیا میں کرپٹو اور اس سے بننے والے ملینئیرز کا شور ہوا تو یہاں بھی کان کھڑے ہوئے کہ اس شارٹ کٹ سے، ہم بھی ملینز بلینز بنا سکتے ہیں 3- اس سے پہلے ہم نے کرپٹو کو غیر قانونی قرار دے رکھا تھا پر یہ آئیڈیا مائنڈ میں آتے ہی فٹافٹ دو کام کیے جاتے ہیں۔ ایک بڑے سیاستدان کے بچوں کو کرپٹو کے لیے بڑا اماؤنٹ تھما جاتا ہے۔ اسے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج، binance نے بھی رپورٹ کیا ہے۔ دوسری طرف باہر سے ایک پنڈی بوائے امپورٹ کیا جاتا ہے جو بڑی بڑی موٹیویشنل گفتگو کرتا ہے۔ اس کے انڈر ایک نئی باڈی بنائی جاتی ہے جو پاکستان کے کرپٹو فریم ورک پر کام کررہی ہے۔ اس ونڈر بوائے کو وزیر بنادیا جاتا ہے یہاں تک سب اچھا تھا، کہ پھر گڑبڑ ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔ 4- بڑے سیاستدان کے بچوں کو جو کرپٹو کے لیے بڑی رقم تھمائی تھی، وہ ڈوب گئی۔ اس کے بعد، کرپٹو انویسٹمنٹ کے نام پر غیر ملکی خواتین کے ساتھ فراڈ اور ریپ کا کیس ہیڈ لائن بن جاتا ہے یقیناً، اس ساری ڈیویلپمنٹ سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کرپٹو خوشحالی کا جو خواب دیکھا گیا تھا، وہ محض سراب نکلا۔ انسان کو کسی چیز میں نقصان ہوجائے، تو اس کا اس چیز سے دل اچاٹ ہوجاتا ہے میں اپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہماری حکومت عمومی طور پہ کرپٹو کو بالکل پسند نہیں کرتی اور اس کی وجہ بہت ہی سادی ہے۔ کرپٹو کی وجہ سے، سرمایہ ملک سے باہر جاتا ہے کیونکہ کرپٹو انویسٹمنٹ، USDT کی صورت ہوتی ہے۔ 5- عین ان ہی دنوں میں، کرپٹو کے خلاف بہت اعلیٰ سطح کا فتویٰ بھی آجاتا ہے جو اب موضوع بحث بنا ہوا ہے اب یہ ساری ڈیویلپمنٹ محض اتفاق ہے یا ایک سوچے سمجھے، پلان شدہ chain of events ہیں؟ میں اس حوالے سے ابھی کنفیوز ہوں۔ اسی لیے اسے ابھی محض ہوائی تھیوری سمجھتا ہوں سوال یہ ہے کہ یہ سارا پیٹرن محض correlation کا کیس ہے یا کوئی حقیقی causation بھی موجود ہے؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا اور یہ فیصلہ کیسے ہوگا، میں آپ کو من و عن بتادیتا ہوں؛ اگر اس فتوے کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے، حکومت اور وہ ونڈر بوائے کرپٹو فریم ورک اور ان معاملات کو قانونی شکل دینے کا پراسس جاری رکھتے ہو تو یہ پیٹرن محض ایک ہوائی تھیوری ہے لیکن اگر اس فتوے کے بعد آپ حکومتی سطح پر معاملات کو اسپیڈ اپ ہوتے دیکھتے ہیں، کرپٹو پر کریک ڈاؤن بڑھا دیا جاتا ہے، اس فریم ورک اور legalization کے عمل کو واپس ریورس کردیا جاتا ہے تو پھر یہ پیٹرن حقیقی ہے اور یہ تمام واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے، coordinated ایکشن ہیں آنے والے کچھ ہفتوں میں سب کلئیر ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔!!!! شہزاد حسین

‏کچھ ریسٹورنٹس کی جانب سے کوک اور پیپسی کو زبردستی پروموٹ کیا جا رہا ہے کل رات میں نے ایک برگر اینڈ پیزا پوائنٹ سے ایک ڈیل لی اور میں نے ان سے کہا کہ مجھے صرف فرائیز اور برگر چاہیے انہوں نے کہا کہ برگر فرائیز اور کوک والی ڈیل اپ کو ملے گی 650 روپے کی. میں نے ان سے کہا کہ مجھے کوک نہیں چاہیے صرف برگر اور فرایز چاہیے تو انہوں نے کہا پھر اپ کو ساڑھے چار سو کا الگ سے برگر لینا پڑے گا اور 300 کے الگ سے فرائیز لینے پڑیں گے یہ ساڑھے سات سو روپے بن جائے گا لیکن اگر اپ کمبو ون ڈیل لیں گے تو اپ کو یہی چیزیں ساڑھے چھ سو روپے میں پڑیں گی ساتھ ایک کوک بھی فری ملے گی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریسٹورنٹ والے کوک فری دے کر کوک کو پروموٹ کر رہے ہیں جبکہ کوک اور پیپسی اس ٹائم کوئی بھی نہیں پینا چاہ رہا۔ جب میں نے ان سے نیکسٹ کولا کی ڈیمانڈ کی تو انہوں نے کہا کہ ہلکے برینڈز ہم نہیں رکھتے ‎خلیل ناصر

‏مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا! "شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے" جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ *میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.* جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا *جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے* اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی *لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں 2 لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائر حضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈکپ جاری ہے* انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

یہ کویٹہ کا کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم ستی ہے اور یہ مڈل کلاس اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے پاکستان فوج کے اہلکاروں اور ایف سی بلوچستان والوں کو بَلی کا بکرا بنا رہا ہے ایف سی بلوچستان میں بھرتی ہونے والا نوجوان اگر 40 سے 50 لاکھ رشوت دے تو اُسکی ڈیوٹی کسی آسان اور محفوظ جگہ پر لگا دی جاتی ہے، اور اگر کوئی رشوت نہ دے تو اُسکو دہـشت گردوں کے آگے پھینک دیا جاتا ہے لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم ستی خود کویٹہ کینٹ سے باہر قدم نہیں رکھتا اور نہ رکھ سکتا ہے، اس نے فوج کے سپاہیوں اور ایف سی والوں کو مـرنے کیلئے چھوڑا ہوا ہے اور پھر جب یہ مـر جاتے ہیں تو انکی ڈیـڈ بـاڈیز کو کیش کیا جاتا ہے ایف سی بلوچستان اور فوج کے سپاہی جو بلوچستان میں تعینات ہیں اُنکو چاہئے کہ استعفے دے دیں مجھے فوج کے کسی عام سپاہی سے بھی کوئی ہمدردی نہیں، ہیں یہ بھی سـور کے بچے، لیکن اگر انکو اپنی جـان بچانـی ہے تو یہ يس سر والی ٹکے کی نوکری سے استعفیٰ دے دیں ڈاکٹر حمنہ