Pakistan Times International
رفتن به کانال در Telegram
News and unbiased commentary https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
نمایش بیشتر398
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
+17 روز
-630 روز
آرشیو پست ها
سیاست میں، کرکٹ میں، بیوروکریسی میں،
زراعت میں، سیمنٹ میں، بنکنگ میں،
جرنیل مینوفیکچرنگ میں،
جرنیل پٹرولیم میں ، فوڈز بزنس میں، جرنیل کھاد میں،
کنسٹرکشن میں، جرنیل پراپرٹی بزنس میں،
جرنیل عدالتوں میں،
جرنیل سفارتکاری میں، جرنیل معیشت میں ۔ ۔ ۔
اور اب پیش خدمت ہے تعلیم میں بھی 😏
پاک فوج کے جوانوں کے لیے ایک افسوسناک اطلاع یہ ہے کہ موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر اگر آپ بلوچستان ، وزیرستان , بنوں یا کہیں بھی مارے جاتے ہیں تو آپ کی خبر نہیں چلے گی۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ملک میں بددلی پھیلتی ہے۔ فوج کی ریپوٹیشن تباہ ہوتی ہے۔ لہذا آپ کو خاموشی سے مرنا ہوگا۔
اگر آپ کمشنڈ افسر ہیں کپتان میجر ہیں تو پھر خبر چلے گی۔ جوانوں کی خبر نہیں چلے گی۔ ویسے آپ کو بہت زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپکو دفن سرکاری اعزاز کیساتھ کیا جائے گا۔ پنشن وغیرہ بھی ملے گی۔پلاٹ اور پیکج بھی قائم ہے۔ بس میڈیا میں آج پانچ مرگئے ، آج آٹھ مرگئے آٹھ چھ مر گئے اب نہیں ہوا کرے گا۔
جب قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے شروع ہوئے تو پرویز مشرف نے سی آئی اے سے کہا کہ ہمیں دیدیں، سی آئی اے نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی بہت حساس ہے، اس پر مشرف نے کہا رنگ ایئرفورس کا کر دیں تاکہ ہم دکھا سکیں کہ انچارج ہم ہیں لیکن امریکیوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، (ایس ڈائریکٹ.. سٹیو کوول)
ماں کی جرات
ملیر کراچی میں پولیس نے بچے کو تشدد کرکے کرنٹ دے کار مار ڈالا، بہادر ماں نے پولیس افسر کا گریبان پکڑ لیا کہ مجھے بچہ واپس چاہیے. جس پر گزرتی ہے اسے کرب کا اندازہ ہوتا ہے. اک ماں کی گود اجڑ گئی، اس پہ اور اہل خانہ پر کیا بیت رہی ہوگی؟ کراچی میں آئے دن بچے زیادتی کے بعد اور بچے یا نوجوان پولیس کے ہاتھوں مارے جارے ہیں جبکہ سندہ کے والی اپنے لیے رشتہ ڈھونڈنے میں مصروف ہیں.
🔗 Khadim Hussain (@khadimmalghani1)
📲 @twittervid_bot
شعیب اختر نے اپنی زندگی کا سچ پہلی دفعہ ان دا کمیرا ناظرین سے شئیر کیا ۔۔
حال ہی میں پاکستان کے تیز کرکٹ باؤلر شعیب اختر نے بتایا کہ ان کے بڑے بھای پیدا ہونے کے کچھ سال بعد فوت ہو گئے انکا نام شعیب تھا ۔۔
جب میں پیدا ہوا تو میری نام میری ماں نے شعیب رکھا رشتے داروں نے میری ماں کو سمجھایا کہ یہ بھاری نام پہلا بچے کا نام یہی رکھا وہ معذور ہو کر چل بسا ۔۔
اب یہ بھی ایسا نہ ہو جاے شعیب کہتے ہیں میری ماں نے کہا میں نے منت مانگی تھی کہ میرا دوسرا بیٹا ہوا تو اس کا نام شعیب رکھونگی ۔۔
شعیب اختر کہتے ہیں چھ سال تک میں معذور تھا چل پھر نہی سکتا تھا میرے بازو اور ٹانگیں اپس میں جڑی ہوی تھی میری ہڈیاں دباو برداشت نہی کر سکتی تھی ۔۔
رشتہ دار ماں کو شعیب نام رکھنے کی وجہ سے طعنہ دیتے تھے گلی محلی کے بچے میرا مذاق اڑاتے تھے ۔۔
شعیب اختر کہتے ہیں مجھے پتنگ بازی کا شوق تھا میں نے سوچا کوی گڈی لوٹی جاے پر میں تو چل پھر نہی سکتا نہ بھاگ سکتا ۔۔
میں نے اپنے اپکو دماغی طور پر تیار کیا پہلے کھڑے ہونے کی کوشش کرتا رہا پھر چلنے پھرنے کی کوشش کی پھر بھاگنے کی کوشش کی ۔۔۔
میری ماں محلے والے کو خوشی سے بتاتی تھی یہ وہ میرا بیٹا ہے جو بہت اگے جاے گا دیکھ لینا وہ پھر بھی کہتے تھے بھاک سکتا نہی چلتے چلتے گر جاتا ہے یہ کیا اگے جاے گا ۔۔
شعیب اختر نے اپنی محنت جاری رکھی اخر وہ وقت ا گیا جب پوری دنیا نے شعیب اختر کی تیز گیند بازی کو مانا دنیا کا تیز رفتار باولر بنا ۔۔
دنیا کے بڑے بیٹسمین اج بھی کہتے ہیں ہمیں صرف شعیب اختر کی باولنگ کو فیس کرتے ہوے ڈر لگتا تھا ۔۔
اس لیے کہتے ہیں کہ اپنے ارادوں کو ہمیشہ پختہ رکھیں رب پر یقین رکھیں محنت کرتے رہیں سب خیر ہو گی
سوشل میڈیا کمپنی میٹا اور امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کے درمیان بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے پر 17 ارب ڈالر کے تاریخی تصفیے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔اس کی منظوری ناردرن ڈسٹرکٹ آف کیلیفورنیا کی جج یوون گونزالیز روجرز نے ایک باقاعدہ قانونی فیصلے کے ذریعے دی ہے۔ کورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ بھاری رقم فریقین یعنی میٹا اور ریاستی اٹارنی جنرلز کی باہمی رضامندی اور تصفیے کی نتیجے میں طے پائی ہے جس کے بعد کسی فریق کو اپیل کا حق حاصل نہیں رہا۔ معاہدے کی رو سے فیس بک اور انسٹاگرام بچوں کے لیے روزانہ استعمال کی حد، رات کے وقت ایپس کا نائٹ بلاک اور والدین کے لیے خصوصی کنٹرول ٹولز شامل کیے جائیں گے۔
قانونی اور مالی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ رقم براہِ راست متاثرہ بچوں یا ان کے والدین کو ان کے علاج کے لیے ہرجانے کی صورت میں نہیں ملے گی، بلکہ یہ رقم کیلیفورنیا اور دیگر ریاستی حکومتوں کے خزانوں میں جمع ہوگی جسے وہ بچوں کی ذہنی صحت، آگاہی اور علاج سے متعلق سرکاری پروگراموں پر خرچ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ اگرچہ عدالت کی طرف سے منظور کردہ یہ نیا تکنیکی نظام مستقبل میں بچوں کو سوشل میڈیا کی لت سے بچانے میں ایک حد تک مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن صرف مالی جرمانہ عائد کرنے سے ان بچوں کا صحت یاب ہونا ممکن نہیں جن کا بچپن اور نفسیات پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال موجودہ سرمایاداری اور قانونی نظام کے ایک بڑے بحران کو بھی بے نقاب کرتی ہے جہاں ٹیک کمپنیاں پہلے معصوم بچوں کی ذہنی صحت کا سودا کر کے کھربوں ڈالر کماتی ہیں اور پھر پکڑے جانے پر صرف چند ارب ڈالر دے کر جان چھڑا لیتی ہیں، اور یوں معصوم بچوں کی بربادی اور نفسیاتی زخموں کو انسانی قدر کے بجائے محض رقم اور ڈالروں میں تول دیا جاتا ہے۔
#shaoorfeed #socialmediaaddiction #ParentalControl #shaoornews
جب تک اِس مُلک میں قانون نہیں بنتا کہ کرنل رینک سے لے کر آرمی چیف تک، سول میں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ بائیس تک، ہائی کورٹ کے جج سے پاکستان کے چیف جسٹس تک اور پارلیمان کے ہر رُکن کے بچوں کے لیے لازم تعلیم سرکاری اسکول اور کالج جبکہ علاج بھی سرکاری ہسپتال سے ہوگا اور کوئی سرکاری گاڑی نہیں ملے گی تب تک پچیس کروڑ عوام کے لیے بُنیادی صحت اور معیاری تعلیم کی سہولت مُمکن نہیں۔ پاکستان اب صرف اشرافیہ اور اُنکے بچوں کی ٹیکس پئیر کے پیسوں پر نازبرداریوں کے لیے ہے جبکہ پچیس کروڑ عوام وہ کاکروچ ہیں جن کو یہ نظام روز اپنے بوٹ تلے روندتا ہے۔
اسد علی طور
+1
آزاد کشمیر میں الیکشن ہارنے کے باوجود بیرسٹر سید افتخار گیلانی وزیراعظم بننے جا رہے ہیں تو دوسری طرف فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے افواج پاکستان کے جن 9افسروں کو CSSکا امتحان دیئے بغیر محض انٹرویو کے ذریعے سول سروس میں شمولیت کے لیئے کامیاب قرار دیا ہے ان میں سے بیشتر کے ناموں میں سید،علی یا حسین آتا ہے
بلال غوری
یوفون اور جاز کے کسٹمرز کی یہ سزا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے نمائیندوں کی کال ریسیو کریں اور ان کے پرموشنز سنیں ، چاہے آپ میٹنگ میں ہیں ، ہسپتال میں ہیں ، سفر میں ہیں ۔۔۔ کسی بھی نمبر سے کال آنا شروع ہو جاتی ہے، جب اٹھاتے ہیں تو ایک چیختی چلاتی تیز آواز اتی ہے۔۔۔
جاز میں خوش آمدید ۔۔
یوفون لایا آپ کے لیے ۔۔۔
معزز جاز کسٹمر آپ کے لیے ۔۔۔ یہ ، فلاں ، وہ ۔۔۔
وہ نمبر بلاک کر دیں تو اگلے دن ایک نئے نمبر سے کال آ جاتی ہے۔ آخر بلاک بھی کتنے کریں ؟
آپ اِن ریکارڈڈ پروموشنز سے بچ بھی جائیں تو کسی موبائل نمبر سے کال آتی ہے ، ہیلو کرتے ہی ، ان کا ایک نمائندہ آپ کو آپ کے نام سے بڑی عزت اور پیار سے مخاطب کر کےچکنی چپڑی باتوں میں لگا لیتا ہے ، سمجھدار فورا سمجھ جاتا ہے کہ اس کو کسی نئی سکیم میں گھیرا جا رہا ہے ، اور وہ کال کاٹ دیتا ہے ۔ لیکن سادہ لوح افراد ، ان کی کہانیوں میں آ جاتے ہیں ، عیار و مکار نمائندہ بس اتنا پوچھتا ہے کہ آپ کو فری علاج کی ضرورت ہے؟ یا اپ انشورنس چاہتے ہیں ، اور ہاں یا ناں سے قبل ہی وہ اپنا کام کرجاتا ہے۔ فورا اس کے نمبر پر وہ پیکج لگا دیا جاتا ہے ، نمائیندے کو کمیشن وصول ہوجاتا ہے اور کمپنی کو منافع ۔۔۔ صارف کو پتہ ہی نہیں چلتا اور بیلنس سے پیسے کٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔
یہ لوگ اپنی ایک بوٹی کے لیے دوسروں کی گائے ذبح کرنے کے مشن پر ہیں ۔
ایک طرف یہ ہر کال پر یہ ٹیکس کاٹتے ہیں ، ہر پیکج پر ٹیکس کاٹتے ہیں ، ہر ٹرانزیکشن پر ٹیکس کاٹتے ہیں اور پھر آپ کو فون کر کے، میسج کر کے ، ای میل کر کے تنگ بھی کرتے ہیں۔ جیسے مفت سروس دے رکھی ہو ۔
ان کمپنیوں کو کوئی اخلاقیات سکھائے کہ اگر ہم نے آپ کی کمپنی کا نمبر لیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دن رات آپ ہمیں ذلیل کریں ۔ ایک سم دے آپ نے ہمیں خرید لیا ہے ؟
جب ان کا دل چاہتا ہے یہ کال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب آپ کے پاس ذلیل کرنے کے لیے ایس ایم ایس کی سہولت موجود ہے ، صبح شام میسجز کرکے انباکس بھرا رکھتے ہیں ، تو پھر کیا مصیبت پڑی ہے کہ کالز کریں اور اپنے پیکج کے بارے میں بتائیں؟ یہ ہمیں آپشن کیوں نہیں دیتے کہ ہم اپنے نمبر پر ان کی پروموشن کال اور میسج ہمیشہ کے لیے بند کرا سکیں۔۔ یہ غنڈا گردی اور دھونس ہے ۔
آصفہ عنبرین قاضی
پاکستان کے سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے کے حالات یہ ہیں کہ بچوں کا کھانا افورڈ کرنا مشکل ہو گیا ہے، لوگ جاب کے ساتھ اضافی کام کرنے پر مجبور ہیں۔ آج جی نائن میں ایک شخص کو موٹرسائیکل پر ہی نیند کی آغوش میں دیکھا تو دل دہل گیا۔ اس منظر سے اس کی بے بسی اور لاچاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کے اربوں کے جہاز، وزراء کے پروٹوکول اور خصوصی پیکیجز پر چلنے والا پروپیگنڈا، دوسری طرف عوام کے لیے کچھ نہیں۔ اور المیہ یہ کہ سوال کرو تو جواب ملتا ہے: ’’تم پاکستان کی ترقی سے جلتے ہو۔‘‘
🔗 Asad Younis Tanoli (@tanolipak)
📲 @twittervid_bot
اصل میں کرنل صاحب کو پتہ ہے کہ ڈی چوک ہو ، مریدکے ہو ، کوٹلی ، بھمبر یا وانا وزیرستان ہو ، خضدار ہو یا سرحد یونیورسٹی ہو ، جیب سے پستول نکال کر سویلینز پر فائرنگ کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی ایک آدھ مر جائے تو محل وقوع کی مناسبت سے اسے انتشاری یا دہشتگرد یا فتنہ الہندوستان کہا جاسکتا ہے اور اگر کرنل صاحب مرجاتے ہیں تو انہیں جنت پہچانے کے لیے بھی لوگ موجود ہیں۔
Enkido
فوج کی مقبولیت کا جنازہ تو پہلے ہی نکل چکا ہے، مگر اس قسم کا رویہ انہیں گلیوں میں چلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑے گا۔ سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں دیکھے جانے والے مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب وردی عزت نہیں بلکہ ذلت کا نشان بن چکی۔ ہم لوگ جو اسے اپنا فخر سمجھ کر پہنتے تھے، اور عوام کا پیار پاتے تھے، جو اب نفرت میں بدل چکا ہے، اس المیے کا قصوروار پاکستانی افواج کی موجودہ کمانڈ اور ان کی خود غرض اور لالچی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں۔
عادل راجہ
میر رضا علی خان کیس پاکستان بالخصوص کراچی کے جین زی کا ٹیسٹ تھا کہ وہ بغیر کسی سیاسی پلیٹ فارم کے ، ایک عام مڈل کلاس نوجوان کہ جو اعلی تعلیم یافتہ اور ٹیپکل کراچی والا تھا ، کیلئے کتنی بڑی تعداد میں نکلتے ہیں ؟ اور کراچی کی جین زی اس امتحان میں مکمل ناکام ہوگئے ہیں میر رضا علی خان کیلئے رات کے فارغ ترین اوقات میں احتجاج رکھا گیا کہ سکون سے جین زی یا عوام شریک ہوسکیں (کراچی کا مزاج رات والا ہے )مگر ابھی تک کل ملا کر چار سو بندہ بھی اس احتجاج میں شامل نہ ہوسکا اور اسمیں بھی ایک معقول تعداد یوٹیوبر وغیرہ کی ہے ، شہر کی آبادی دیکھیں تو ڈھائی کروڑ ہے ۔۔۔
میرے خیال سے مقتدرہ کیلئے اس سے زیادہ اطمینان کی کوئی بات نہیں ہوگی کہ جنتر منتر کیطرح کراچی یا پاکستان کے کسی بھی شہر کے جین زی سڑکوں پہ آنے سے انکاری ہیں (برائے مہربانی یہ دلیل نہ دیں کہ ڈالہ آجاتا ہے کیونکہ یہ احتجاج عاصم منیر کیخلاف تھا نہ نظام کے بلکہ ایک عام نوجوان کے لئیے پولیس سے انصاف کیلئے تھا اور اسمیں کوئی کسی کو اٹھاتا ہے نہ لاپتہ کرتا ہے اب تک احتجاج کرنے والوں کو کسی نے کچھ نہیں کہا حالانکہ روز رات کو شاہراہِ فیصل بند ہوتی ہے کل رات اسمیں شرکت کیلئے جانا ہوا مگر شارع فیصل کے دونوں ٹریک بند تھے اور گھنٹہ بھر ہم پھنسے رہے یہ روز وہاں ہورہا ہے ) تو جو جین زی اپنے جیسے نوجوان کیلئے نکلنے کو تیار نہیں کہ معاملہ سیاسی بھی نہیں کہ عذر ہو تو وہ کراچی کے حالات کیا بدلیں گے ؟ مہنگائی وغیرہ پہ کیوں نکلیں گے ؟ سب سے بڑھ کر ظالمانہ نظام کی تبدیلی کیلئے کیسے باھر آئیں گے ؟
سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے کہ میر رضا کو انصاف دو اور سڑک پہ کوئی دس منٹ کیلئے اس احتجاج کا حصہ بننے کو تیار نہیں
جین زی اپنے اس نوعیت کے پہلے امتحان میں مکمل ناکام ہوچکی اور اسکا بھرم ٹوٹ چکا ہے ، مستقبل کا حال تو خدا ہی جانے مگر حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں کسی تبدیلی کا فی الحال کوئی امکان نہیں بالخصوص وہ جو عوامی طاقت سے لائی جائے صرف الیکشن ڈے پہ ووٹ دینے سے حالات نہیں بدلتے، اس کیلئے جس درجہ قربانی درکار ہے اسکی مجھ میں تاب ہے آپ میں ، نہ ہی جین زی میں ۔۔۔۔
فیض اللہ خان
اپنے ادارے میں انتظامی تبدیلیاں لائیں
اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں
آپ آرمی چیف بھی ہوں
آپ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں
آپ فیلڈ مارشل بھی ہوں
اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں
لیکن
وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے ہونے چاہئے وہ مقتدرہ کے اندر ایک فرد کو دے دئے گئے
اب اس کا اختیار اپنی بری افواج، فضائیہ اور بحریہ پر تسلط کردیا گیا ہے
مولانا فضل الرحمن کا ورکرز کنونشن سے پشاور میں خطاب
🔗 Muhammad Faheem (@MeFaheem)
📲 @twittervid_bot
خیرپور، رحیم یار خان میں مبینہ پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے رضوان شر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو وائرل
خیرپور، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رضوان کی فیملی اور بھائی چیک رہے ہیں کہ رضوان کو گرفتار کیا گیا ہے
خیرپور، رضوان کو سمہ سٹہ ریلوے اسٹیشن پر مبینہ طور پر اہلخانہ کے سامنے گرفتار کیا گیا
خیرپور، رضوان کو گرفتاری کرنے کے بعد جعلی مقابلے میں قتل.کیا گیا ہے، ورثاء کا الزام
خیرپور، مبینہ مقابلے میں ہلاک ملزم رضوان تحصیل فیض گنج کے علاقے کوٹ لالو کا رہائشی ہے
@OfficialDPRPP
🔗 Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk)
📲 @twittervid_bot
سندھ میں جگہ جگہ سندھ کی تقسیم کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں مٹھی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکی ہے لیکن آج ہر مظاہرے میں صدر زرداری اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے خلاف نعرے بازی ہوئی پیپلز پارٹی مشکل میں پھنس گئی ہے
حامد میر
حبیب جالب کی بیٹی:
اٹھ لوگ واپس آئے۔ آگے کہتے ہیں جی "اوئے! یہ ڈھابہ نہیں لگانا آپ نے یہاں پہ۔ آئندہ کے بعد..." ہمیں یہ کہا گیا کہ جی اپنا ڈھابے کے اوپر مریم نواز کی تصویر لگائیں اور ایک نیچے لگائیں۔
رپورٹر: یہ کیسے ممکن ہے؟ اتنا چھوٹا ظرف تو نہیں ہو سکتا۔
حبیب جالب کی بیٹی: کیا ہو گیا آپ کو؟ میں غلط بات کر رہی ہوں؟ میں جھوٹ بول رہی ہوں؟ اور مجھے یہ کہا گیا کہ جی پیرا فورس والے 5000 روپے ان کو ہفتہ دیں. میں بھی یہ آج کہتی ہوں کہ ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتی، میں نہیں مانتی!
🔗 Nadir Baloch (@BalochNadir5)
📲 @twittervid_bot
دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ نے امریکہ سے 13 ارب ڈالر قرض لیا اور اپنے پاوں پر کھڑا ہوگیا،
پاکستان 80 ارب ڈالر قرض لے کر بھی وہیں کا وہیں کھڑا ہے.
آج بھی بھیک مانگ رہا ہے
( شاہد الرحمان کی کتاب Pakistan Sovereignty Lost)
