ar
Feedback
Pakistan Times International

Pakistan Times International

الذهاب إلى القناة على Telegram
366
المشتركون
+124 ساعات
+57 أيام
+1530 أيام
أرشيف المشاركات
قبضہ بل نامنظور نامنظور
قبضہ بل نامنظور نامنظور

شزا فاطمہ خواجہ جو شائد آئی ٹی کی وزیر اور خواجہ آصف کی بھانجی ہیں مقدر کی اتنی دھنی کے گھر سے ایم پی اے کے فارم لیکر الیکشن
شزا فاطمہ خواجہ جو شائد آئی ٹی کی وزیر اور خواجہ آصف کی بھانجی ہیں مقدر کی اتنی دھنی کے گھر سے ایم پی اے کے فارم لیکر الیکشن کمیشن آفس پہنچی تو اگلوں نے ایم این اے بنا دیا محترمہ نے اب ایک ایسا کانڈ کر دیا ہے جو کسی کو بھی 5 کروڑ کا جرمانہ کروا سکتا ہے ہوا کچھ یوں کہ خواجے کی بھانجی نے پارلیمنٹ سے بل پاس کروا لیا ہے جس کے مطابق ٹیلی کمیونکیشن کمپنی اپنے پسند کی نجی جگہ مکان یا دکان پر اپنا کھمبا گھاڑ سکتی ہیں انکار کی صورت میں مالک مکان٬ پلاٹ یا دکان کو 5 کروڑ روپے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا 🤓 کل ملا کر خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کسی گھر مکان دکان جگہ کی ملکیت رکھتے ہیں تو پھر آپ ٹیلی کمونیکیشن اتھارٹی کے چئیرمین جناب جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کے رحم و کرم پر ہونگے کہ وہ جب چاہیں آپ کی زمین پر ٹاور کھڑے کر کے آپ کو چلتا کریں -

فوج کی حمایت سے اپنے کیسز ختم کروانے والے اور فوج کی سپورٹ سے ہی اسمبلی ممبر بننے والے سردار عبدالرحمن کھیتران سے سوال ہوا کہ کیا بلوچستان کا بجٹ عوام دوست ہو گا ؟ سردار عبدالرحمان کھیتران کا منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ !!!!

سکول کی دیواریں کچی، چھتیں کمزور، اساتذہ کم پڑھے لکھے ہوتے تھے لیکن وہ مخلص اور محنتی تھے. کتابیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کرتے تھے. اب سکولوں میں ہر سہولت میسر ہے، استاد انتہائی تعلیم یافتہ ہیں، انٹرنیٹ کی دنیا سے ہر شعبے کا بے تحاشا علم بھی بآسانی مل جاتا ہے مگر پڑھ لکھ کر آنے والے نہ احساس رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے علاوہ کوئی نظر آتا ہے. محمد ذیشان اعوان

اگر ہم ایک دوسرے کے بازو کی بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے Sent from WhatsApp wa.me/15722710247?source=exsh
اگر ہم ایک دوسرے کے بازو کی بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے Sent from WhatsApp wa.me/15722710247?source=exsh

جنوبی کوریا کا شمالی کوریا کے ساتھ سکیورٹی بفر زون محدود کر کے وہاں پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ اب تک نافذ ملکی قوانین کے تحت جنوبی کوریائی باشندوں کو اس سکیورٹی بفر زون میں رہنے یا وہاں کھیتی باڑی کے لیے ملکی فوج کی طرف سے قبل از وقت خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔

پنجاب بجٹ دستاویزات 2026 کے مطابق وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے سیکرٹریٹ میں "انٹرٹینمنٹ اینڈ گفٹس" (چائے پانی بمطابق لیڈران ن لیگ) کے لیے 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پہلے سال 5 کروڑ مختص لیکن خرچ 11 کروڑ 90 لاکھ روپے ہوئے۔ گزشتہ سال 7 کروڑ روپے تجویز تھے لیکن خرچ کتنے ہوئے؟ وہ خانہ ہی خالی رکھا گیا ہے اور پنجاب کے عوام کو اس قابل ہی نہیں سمجھا گیا کہ انکی وزیراعلی نے "انٹرٹینمنٹ اینڈ گفٹس" پر کتنے کروڑ روپے خرچ کئے۔ ماجد نظامی

‏سابق صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد نے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ اے ٹی ایم کا بجٹ ہے، اے ٹی ایم سے جیسے پیسے نکالتے ہیں، یہ اس طرح کا بجٹ آیا ہے ، آئی ایم ایف نے اے ٹی ایم مشین لگائی ہوئی ہے ، اس مشین سے پیسے نکالتا جارہاہے، جب 8 ہزار ارب روپے صرف سود کی مد میں ہو، مجموعی بجٹ کا آپ نے صرف 47 فیصد آپ نے صرف سود دینا ہے تو بجٹ تو نہ ہوا یہ تو مذاق ہے ، یہ مذاق آپ قوم سے کر رہے ہیں، 45 سال سے یہ دونوں پارٹیاں حکومت میں ہیں، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ان کی منصوبہ بندی کیاہے، اس قوم کیساتھ کرنا کیا چاہتے ہیں، میں تو حیران ہوں کہ بجٹ دیتے ہوئے ان کو شرم نہیں آئی کہ انہوں غریب کو کیسے زندہ رکھناہے، یہ غربت ناپنے کا فارمولا ہے 282 روپے یعنی ایک ڈالر میں ایک بندہ کیسے گزار ہ کرے گا، جو شخص9 ہزار ورپے ماہانہ کماتا ہو گا وہ کیسے نظام چلائے گا، حکومت پاکستان نے تقریبا 24 ارب روپے صحت کیلئے رکھے ہیں، یعنی 25 پیسے روزانہ فی شخص کی صحت پر خرچ ہوں گے، جبکہ ایک رکن اسمبلی کا ایک دن کا خرچہ ایک لاکھ 98 ہزار روپے ہے ، یعنی 700 گنا زیادہ ایک ایم این اے کا خرچہ ہے جس کو اس غریب عوام نے منتخب کیاہے، آسمان پھٹا کیوں نہیں، ان کو بجٹ بناتے ہوئے شرم نہیں آئی کہ 25 پیسے میں ایک آدمی کا کیسے علاج کریں گے۔ Source: Daily Pakistan

photo content

پاکستان فوج کے ترجمان حوالدار Faisal Vawda عرف جی ٹی روڈ کا کھڈا کہتا ہے کہ خیبر پختون خوا کا بجٹ پاس کروا دیں، بدلے میں عمران خان سے ملاقات کروا دی جائے گی اب آپ اس کی بات سے ذرا پاکستان میں نام نہاد جمہوریت کا اندازہ کیجئے پاکستان فوج کا دعویٰ ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اور یہاں پر ایک سیاسی قیدی جو جعلی کیسوں میں 1047 دنوں سے پابندِ سلاسل ہے اُس سے ملاقات کیلئے یہ فوج ایک صوبائی حکومت کو بلیک میل کررہی ہے کہ بجٹ پاس کرو تو ہی عمران خان سے ملاقات کروائیں گے چار کروڑ آبادی والے خیبر پختون خوا کو پاکستان فوج بلیک میل کررہی ہے، کسی مہذب جمہوری معاشرے میں اس بات کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ ریاست کے ملازم ریاست کو ہی بلیک میل کررہے ہیں

عوام پوچھ رہی ہے آٹھ ہزار والا امیر کیسے ہے؟
عوام پوچھ رہی ہے آٹھ ہزار والا امیر کیسے ہے؟

مہتاب عزیز حکومتی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں جو لوگ عام حالات میں قابل فخر پاکستانی نژاد کہلاتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری
+2
مہتاب عزیز حکومتی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں جو لوگ عام حالات میں قابل فخر پاکستانی نژاد کہلاتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری پروگرامات کے روح رواں ہوتے ہیں۔ پاکستانی صدر اور وزیر اعظم جنہیں پاکستان کے اصل سفیر کہتے نہیں تھکتے۔ جن کے ریمٹینس پر فخر کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حکومت اور سرکاری فلاحی ادارے بھی جن سے فنڈ لینے کے لیے کمپینز کرتے ہیں۔ وہی کبھی کبھی صرف برطانوی شہری ہو جاتے ہیں۔ اُن سے واسطہ جرم بن جاتا ہے۔

پاکستانی وزیرِ دفاع نے الزام عائد کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ’بیرونی فنڈنگ‘ سے چلتی ہے، اس کے ’تانے بانے برطانوی برطانوی شہریت رکھنے والوں سے ملتے ہیں ‘ اور اسے انڈیا کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تفصیلات: bbc.in/4owbZ8d

کے پی کے بلوچستان میں بچے بچیاں عورتیں بوڑھے فوج کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں نوجوان لاپتہ ہوتے ہیں مگر فوج کا غلام میڈیا خبر نہیں
کے پی کے بلوچستان میں بچے بچیاں عورتیں بوڑھے فوج کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں نوجوان لاپتہ ہوتے ہیں مگر فوج کا غلام میڈیا خبر نہیں چلاتا جبکہ سابقہ جرنیل کے کتے کی موت بھی میڈیا کے ان کتوں کے لیے اہمیت کی حامل خبر ہے

لکڑی کے کیڑے بمقابلہ کرسی کے کیڑے
لکڑی کے کیڑے بمقابلہ کرسی کے کیڑے

پاکستان نے ثالثی کو ڈھول دھمکا اور ذاتی پروجیکشن سمجھ لیا تھا اسی لئے سنجیدہ رول قطر کو دیا گیا جو پہلے بھی طالبان سے مذاکرات کا مشکل کام کر چکا تھا۔ قطر نے جن مذاکرات میں خاموشی سے امریکی اور ایرانی مذاکراتی کمیٹیوں کے معاملات طے کروائے ان میں پاکستان کو پاس بھی نہیں پھٹکنے دیا گیا پھر بھی بھارت سے جنگ کی طرح کسی کا کریڈٹ پینے کے چکر میں ہیں شفقت چوہدری

جب ماورائے عدالت قتل مطلوب ہوں تو حکومتیں پھر حجاج بن یوسف جیسے ظالموں کو محکموں میں بھرتی کرتی ہیں جو کسی بھی قانون و ضابطے کو نہیں مانتے نہ کسی عدالت و قانون کو ، بے رحم و سفاک قاتل ،ان کے راست اقدامات کیوجہ سے ظاہری طور پر امن و امان کا نفاذ بھی دکھائی دیتا ہے لیکن پھر ان قاتلوں سے خباثت کیوجہ سے غلطی ہوتی ہے اور پھر حکومتیں بدنام ہوتی ہیں ، اس وقت تک قاتل و حکمران ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوچکے ہوتے ہیں ، دونوں کا معاملہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتا ، انجام کار پھر ایک عظیم تحریک اندرون خانہ جنم لیتی ہے اور ان کی قبریں بھی کھود ڈالتی ہے ۔ بیگ

‏حکومتِ پاکستان نے پاکستان اسٹیل ملز کی 6000 ایکڑ سے زائد زمین کو SIFC کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون یا اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جائے۔ اگرچہ SIFC کے چیئرمین وزیرِ اعظم ہیں اور اس میں وفاقی وزراء اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہیں لیکن اس کونسل کے آپریشنل اور انتظامی ڈھانچے میں فوج کا کلیدی اور مرکزی کردار ہے۔ آرمی چیف اس کی ایپکس کمیٹی کے مستقل رکن ہیں اور فوج کے اعلیٰ حکام اس کے مینیجمنٹ اور ایگزیکٹو ڈھانچے کو چلاتے ہیں بلکہ درحقیقت اس کا آئیڈیا اور بنیادی خاکہ نہ صرف جنرل عاصم منیر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ بلکہ پارلیمنٹ سے قانون سازی کر کے اسے قانونی تحفظ بھی فراہم کیا تھا یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی زمینوں کی منتقلی ہو Corporate Farming کے منصوبے ہوں، یا معدنیات اور آئی ٹی کے شعبے، ان تمام بڑے فیصلوں میں ایس آئی ایف سی اور عسکری قیادت کا اثر و رسوخ سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ شفقت چوہدری

جنگ زدہ سوڈان میں پانچ ماہ کے دوران ڈرون حملوں میں ایک ہزار سے زائد عام شہری ہلاک، فولکر ترک اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے پیر 15 جون کے روز کہا کہ بین الاقوامی سطح پر مسلح تنازعات میں جنگی ‌ڈرونز کا استعمال ان خونریز تنازعات کو زیادہ سے زیادہ ہلاکت خیز بناتا جا رہا ہے اور ایسے حملوں سے شہری آبادیوں کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدہ کے لیے نئے مذاکرات غالباً جمعہ سے شروع ہوں گے، جس میں تہران کے جوہری پروگرام کا موضوع بھی شامل ہوگا ۔ غیر ملکی سفارتکاروں کو دی گئی بریفنگ میں، جسے ایران کے سرکاری ٹی وی پر بھی نشر کیا گیا، انہوں نے کہا،’’امکان ہے کہ جمعہ کے روز، ایک ایسے مقام پر جس کا ابھی تعین کیا جانا باقی ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔‘‘