uk
Feedback

Не попадись на ботовода! Telemetrio знаходить і позначає такі канали мітками 👉 Хочеш бачити мітку, оформляй підписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Відкрити в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Показати більше
1 286
Підписники
Немає даних24 години
-47 днів
-430 днів
Архів дописів
🔷 بہشتی اور دوزخی 🔷 ایک طباخی نے شبلی کی بہت زیادہ تعریف سنی اور وہ اسکا عاشق ہو گیا. اسے ایک دن خبر ملی کہ آج شبلی اس کے شہر میں آرہا ہے. وہ بہت خوش ہوا اور اس کے دیدار و ملاقات کے لیے بیتاب تھا. اپنے تنور کے سامنے روٹی لینے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی. اس شدید گرمی کے دن میں اس کے پاس ایک شخص تیزی سے آیا اور کہا؛ "میں بہت دور کے سفر سے آرہا ہوں اور بہت بھوکا ہوں. مجھے ایک روٹی دیدو. مجھے بہت زیادہ بھوک ہے." طباخی نے کہا؛ "ایک درہم کی ایک روٹی ہے. درہم دے دو، روٹی لے لو." مسافر جو بھوک سے نڈھال تھا، اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس پر کمزوری اور تهکاوٹ کے باعث کپکپی طاری تھی.. طباخی سے درخواست کی کہ... "اپنی جوانمردی اور شرافت کے سبب بغیر درہم کے ایک روٹی ہدیہ کردو." طباخی چیخا اور جهڑک کر کہا؛ اگر آپ میرے گرم تنور کی رونق دیکھ رہے ہیں اور میرے کاروبار کو چلتا دیکھ رہے ہیں تو یہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ میں تیرے جیسے گداگروں پر عنایت نہیں کرتا. مسافر نے سر نیچا کر لیا اور چلنے کی راہ لی، طباخی کے تنور کو چھوڑ کر چلا گیا. مسافر کے ساتھ روٹی لینے کے انتظار میں کھڑا ایک اور شخص یہ سارا ماجرا دیکھتا رہا اور طباخی سے کہا؛ کاش آپ جوانمردی دکھاتے اور اسے ایک روٹی دے کر اپنا مہمان بنا لیتے اور تمہیں اس پر فخر ہوتا. طباخی نے اسے بھی جهڑک کر کہا؛ تیری بات کا اس سے کیا مطلب؟ فضول بات نہ کرو. اس نے آہ کینچهی اور کہا؛ میں نے سنا ہے کہ تجھے شبلی کے ساتھ عشق کی حد تک محبت ہے. میں نے سارا ماجرا دیکھا اور چپ رہا تاکہ دیکھ لوں کہ تو اپنے محبوب کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے. طباخی نے فوراً پوچھا؛ اچھا تو کیا وہ شبلی تھے؟ اس شخص نے کہا؛ ہاں تو اور کیا. وہی تو تھے. اور آپ کے عشق کا پتہ چل گیا. اگر آپ کو اس سے محبت تھی تو اسے کیوں روٹی نہیں دی؟ طباخی تیزتیز دوڑتا ہوا شبلی کے پیچھے بھاگا. اسکو جا کر ملا اور معزرت خواہی کی، پاؤں پر گر گیا، معافی کا طلبگار ہوا. شبلی نے اس شرط پر راضی ہونے کا اظہار کیا کہ ایک ضروری عمل میں آپکو بتاتا ہوں، اگر مجھے راضی کرنا ہے تو وہ انجام دینا ہو گا. طباخی نے شرط قبول کرلی. شبلی نے کہا؛ اگر آپ مجھے راضی کرنا چاہتے ہیں تو کل غرباء و مساکین کے ساتھ مجھے کھانا کھلائیں اور جتنا ہو سکے ہماری خدمت کریں، خاطرخواہ کھانے کا انتظام کریں. طباخی نے شرط قبول کرتے ہوئے ایک سو طلائی سکہ کے خرچہ کے ساتھ کھانے کا اہتمام کیا. انواع و اقسام کے کھانوں کے ساتھ نہایت عمدہ دسترخوان بچھایا، قسم و اقسام کے مشروبات پیش کئے. شبلی دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے اور دعا کرنے کے بعد کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اور لوگ بھی کھانا تناول کریں. اسی اثناء میں ایک شخص جو شبلی کو جانتا تھا، بلند آواز سے اسے مخاطب ہو کر بولا؛ میں چاہتا ہوں کہ اس مجمع سے بہشتی اور دوزخی بندوں کا پتہ چلاؤں... آپ بتا سکتے ہیں؟ شبلی نے کہا؛ "اگر آپ کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس طباخی کو دیکھ لیں، جس نے شہرت طلبی اور ناموری حاصل کرنے کے لیے اتنے کثیر اخراجات والی دعوت کا اہتمام کیا ہے اور مجھے خوش کرنے کے لیے ایک سو طلائی سکہ خرچ کر ڈالا جبکہ کل خداوندمتعال کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایک روٹی کی قربانی دینے سے دریغ کیا." 📚 قصہ ہائے عطار 63/8. (ترجمہ فارسی) ■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں.. ہر قسم کی ریاکاری شرک ہے. یقیناً جو شخص لوگوں کی خوشنودی کے لیے عمل کرے گا، اسکا اجر بھی لوگوں کے ذمہ ہوگا. (اسے خداوندمتعال کے اجر کی امید نہیں کرنا چاہیے) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ 📚 میزان الحکمہ. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌱 سوکھی ٹہنی ہری ہوگئی🌱 ایک مرتبہ ایک بہت ہی گناہ گار، اپنے زمانے کا مانا ہوا فاسق و فاجر شخص ایک جنگل کے قریب جا رہا تھا کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے سامنے زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبائے بیٹھا تھا اور الله کی عبادت کر رہا تھا، اس گناہ گار آدمی نے پوچھا تم کیا کر رہے ہو؟ اس نیک اور پرہیز گار بندے نے بتایا میں سالوں سے دنیا سے دور اس ویرانے میں الله کی عبادت کر رہا ہوں، جس دن میری عبادت قبول ہوگی اس دن یہ ٹہنی ہری ہو جائے گی اسطرح مجھے پتہ چل جائے گا- اس گناہ گار کے دل میں جانے کیا آئی وہ بھی زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبا کر بیٹھ گیا اور عبادت کرنے لگا- تھوڑی دیر بعد کہیں سے ایک آدمی کی مدد کی پکار آئی اور پکارنے والے نے نقاہت بھری آواز میں پانی مانگا دونوں نے سنی ان سنی کر دی، آواز دوبارہ آئی، تین چار مرتبہ کی پکار کے بعد گناہ گار نے نیک شخص سے کہا ،میں تو ابھی بیٹھا ہوں، تمہیں کتنا عرصہ ہوگیا ہے تم ذرا اٹھ کر اسے پانی تو پلا دو، میں ابھی ابھی بیٹھا ہوں اٹھنا نہیں چاہتا- اس نیک بندے نے گناہ گار کو ڈانٹ کر کہا میری عبادت میں خلل نہ ڈالو میری ارتکاز ٹوٹ جاتا ہے- جب مدد کی پکار مسلسل آتی رہی تو گناہ گار سے رہا نہ گیا، اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور پانی پلانے چلا گیا، جب تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا اس کی ٹہنی ہری ہو چکی تھی، اور اس نیک بندے کی ٹہنی ویسی کی ویسی ہی تھی وہ تو رب ہے کہ جس کی توبہ قبول کر لے ۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے ریاضت بھی ایک لمحے میں پلٹائی جاتی ہے ۔۔ اور کبھی ایک آنسو توبہ کا سبب بن جاتا ہے. بشکریہ: عاشق علی معصومی 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔘 یہ ان روایات کا خلاصہ تھا کہ جن میں چالیس کے عدد کا ذکر ہوا ہے. واقعی مومن اور عالم کا مصداق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے انبیاء اور آئمّہ طاہرین علیہم السلام ہیں کہ زمین اور آسمان چالیس مہینے انکے فراق میں گریہ کرتے ہیں خاص طور سے امام حسین علیه السلام کی شہادت ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور انکی شہادت اس قدر جانگداز ہے کہ روایات کے مطابق ہمیشہ رونا چاہیے. اس لحاظ سے ایک روایت کہ جس کو محدّث قمی نے منتھی الامال میں ذکر کیا ہے کہ حضرت امام رضا علیه السلام نے ریّان بن شبیب سے کہا: اے شبیب کے بیٹے اگر کسی چیز پر رونا چاہتے ہو تو میرے جدّ کی مصیبت پر گریہ کرو کہ جس کو پیاسا شہید کیا گیا، ● یہ بات واضح ہے کہ یہ ساری چیزیں اس وقت ہیں جب رونا معرفت اور اسکے دستورات کی پیروی کے ساتھ ہو اور ہمیں چاہیے کہ کربلا کے ہدف اور مقصد کو درک کریں. اگرچہ خود رونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان امام علیه السلام کی معرفت حاصل کرے، اس لئے کہ اگر امام حسین علیہ السلام قیام نہ کرتے تو اسلام ختم ہو جاتا اور اسکا کوئی اثر باقی نہ رہتا. اس بات کا دعوی صرف ہم نہیں کرتے بلکہ مورّخین حتّی وہ جو شیعہ نہیں ہیں وہ بھی اس بات کے معترف ہیں. کربلا کے بعد جو بھی قیام ظلم اور ستم کے مقابلہ میں ہوا ہے اس نے امام حسین علیہ السلام کے قیام سے الہام لیا ہے. 📚 حوالہ جات: 1- محدث نوری، اللولو والمرجان، ص 208-209. 2- محدث قمی، منتہی الآمال،ص524-525۔ 3- سید ابن طاووس، اقبال الاعمال، ج 2، ص 589. 4- سید ابن طاؤوس، اللہوف، ص 225. 5- قمی، سفینة البحار، ج8، ص383. 6- طوسی، التہذیب،ج 6، ص 52. 7- شیخ عباس قمی، مفاتیج الجنان. 8- قاضی طباطبایی، تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سید الشہداء ص 2. 9۔ احقاف 51 10۔ بحارالانوار، ج1، ص88، ح7. 11۔ بحارالانوار، ج51، ص882، ح52. 12۔ بحارالانوار، ج59، ص683، ح62. 13۔ بحارالانوار، ج39، ص493، ح6. 14۔ بحارالانوار، ج35 ،ص623، ح2. 15۔ بحارالانوار، ج2، ص351، ح1. 16۔ بحارالانوار، ج6، ص21، ح7. 17۔ بحارالانوار، ج88، ص4، ح5. 18۔ بحارالانوار، ج68، ص212. 19۔ بحارالانوار، ج48، ص3، ح3. 20۔ بحارالانوار، ج24، ص803، ح31. 21۔ بحارالانوار، ج18، ص473، ح42. 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

● اسی طرح دعاوں میں اور بعض دینی معارف میں چالیس کے عدد کا ایک خاص مقام ہے. مرحوم علاّمہ مجلسی اس دعا کو نقل کرنے کے بعد کہ جس میں خدا کے نام ہیں یوں نقل کرتے ہیں: "عن النّبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم (لو دعا بہا رجل اربعین لیلة جمعةغفراللہ لہ."[12] یعنی اگر کوئی شخص چالیس شبہائے جمعہ کو خداوند متعال کی بارگاہ میں اس دعا کو پڑھے توخدا اسکو بخش دے گا. ● خدا کو مخصوص اذکار کے ساتھ یاد کرنا اور عدد چالیس کے ساتھ اسکی بہت زیادہ سفارش کی گئی ہے. جسطرح کہ رات کو جاگنا اور نماز کا پڑھنا، لگاتار چالیس رات تک اور نماز وتر کے قنوت میں استغفار کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ خداوندمتعال انسان کو جملہ سحر میں استغفار کرنے والے لوگوں کے ساتھ شمار کرے اور خداوند نے قرآن میں انکو نیکی سے یاد کیا ہے. ● ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "لا یجتمع اربعون رجلاًفی امر واحدالّااستجاب اللہ."[13] یعنی چالیس مسلمان جمع نہیں ہوتے خدا سے کسی چیز کے چاہنے میں مگر یہ کہ خداوندمتعال اسکو قبول کرتا ہے. ● ایک دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آنحضرت نےفرمایا: "من اخلص العبادة للہ اربعین صباحاًجرت ینابیع الحکمةمن قلبہ علیٰ لسانہ." [14] یعنی اگر کوئی شخص چالیس دن اپنی عبادت صرف اور صرف خدا کیلئے انجام دے اور اسکا عمل خالص ہو تو خداوند حکمت کے چشمہ اسکے دل سے زبان پر جاری کر دیگا. ● حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ امام نے فرمایا: "من حفظ من شیعتنا اربعین حدیثاً بعثہ اللہ یوم القیامة عالماً فقیہاًولم یعذّب." [15] یعنی ہمارے شیعوں میں سے اگر کوئی چالیس حدیثوں کو حفظ کرے خداوند متعال اسکو قیامت کے دن عالم، دانشمند اور فقیہ محشور کرے گا. البتہ اس بات کیطرف توجہ رکھنا ضروری ہے کہ احادیث کو حفظ کرنے سے مراد صرف عبارات ہی کو حفظ کرنا نہیں ہے بلکہ جو چیز طلب کی گئی ہے کہ حدیث کو اسکے پورے لوازمات کیساتھ حفظ کرنا ہے اور حقیقت میں اس سے مراد حدیث کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور اسکا رائج کرنا ہے. ● اسی طرح روایات میں وارد ہوا ہے کہ انسان کی عقل چالیس سال میں کامل ہوتی ہے. امام جعفر صادق علیه السلام سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: "اذا بلغ العبداربعین سنة قدانتھی منتھاہ." [16] حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اسکی عقل کامل ہو جاتی ہے. ● اسی طرح نماز جماعت کو برپا کرنا اور اسمیں چالیس دن تک شرکت کی سفارش بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے: "من صلّی اربعین یوماًفی الجماعة یدرک تکبیرة الاولیٰ کتب اللہ براءتان: براءةمن النار و براءة من النفاق." [17] یعنی وہ شخص جو مرتب ابتداء سے نماز جماعت میں شرکت کرے خداوند اسکو دو چیزوں سے محفوظ رکھے گا ایک آتش جہنم دوسرے نفاق اور دوروئی سے. ● آداب دعا میں آیا ہے کہ ا گر آپ چاہتے ہیں کہ آپکی دعا قبول ہو جائے تو پہلے چالیس مومنوں کیلئے دعا کریں اور اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں. "من قدّم اربعین من المؤمنین ثمّ دعااستجیب لہ. " [18] اس روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دعا کرنے سے پہلے دوسرے مومنوں کیلئے دعا کرنا چاہیے. ● روایات میں پڑوسیوں اور انکے حقوق کے بارے میں فرمایا ہے کہ پڑوسی چالیس گھر تک شامل ہوتا ہے یعنی جہاں وہ رہتا ہے اس سے ہر طرف سے چالیس گھر تک. امام علی علیه السلام نے ایک حدیث میں فرمایا: "الجوار اربعون داراًمن اربعة جوانبھا." [19] یعنی پڑوسی گھر کے ہر طرف سے چالیس گھر تک شامل ہو تا ہے. ● اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے: "انّ السماءوالارض لتبکی علی المومن اذامات اربعین صباحاًو انّما تبکی علیٰ العالم اذا مات اربعین شھراً." [20] یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت ایک مومن دنیا سے رحلت کرتا ہے زمین اور آسمان چالیس دن تک اسکے لئے گریہ کرتے ہیں اور اگر کوئی مومن عالم اس دنیا سے رحلت کر جائے تو زمین اور آسمان اسکے فراق میں چالیس ماہ روتے رہتے ہیں. ● امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام فرماتے ہیں: "اذا صلیٰ علی المؤمن اربعون رجلاًمن المؤمنین واجتھدوا فی الدّعاءلہ استجیب لھم." [21] یعنی جس وقت مومنوں میں سے چالیس آدمی کسی مومن کے جنازہ پر نماز پڑہیں اور اسکے لئے دعا کریں تو خداوندمتعال ان چالیس آدمیوں کی دعا قبول کرتا ہے.

آگے آگے امام زين العابدین اپنی پھوپھیوں، ماؤں اور بہنوں کے ساتھ تشریف لا رہے تھے، جابر نے آگے بڑھ کر سید سجاد کو گلے سے لگا لیا، امام (ع) نے صحابی رسول (ص) سے فریاد کی: "ھھنا واللہ قتلت رجالنا و ذبحت اطفالنا و سبیت نسائنا و حرقت خیامنا." ترجمہ: دیکھئے یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمارے مردوں کو قتل کردیا گيا، بچوں کو ذبح کردیا گیا، عورتوں کو قید کرلیا گيا اور خیموں کو جلا دیا گيا. ادھر آفتاب ڈھل رہا تھا اور حضرت زينب (ع) کی نگاہوں میں کربلا کی زمین اب بھی عصر عاشورا کی طرح خون سے رنگیں نظر آرہی تھی، ہر طرف دل کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے. ایک قتل گاہ میں بہتر جنازے. ایک ایک منظر نگاہوں کے سامنے تھا آہ، اس قوم جفاکار نے اصغر و اکبر کسی پر بھی رحم نہیں کیا، ھواوھوس میں گرفتار یزیدیوں نے اس حسین (ع) کو بھوکا اور پیاسا ذبح کردیا جس کو رسول (ص) اپنا فرزند کہتے اور اپنی زبان چسایا کرتے تھے. ان بہترین انسانوں کو قتل کر ڈالا جن کا اہلبیت رسول(ص) کی حمایت و نصرت کے سوا کوئی قصور نہ تھا اور پھر علی(ع) کی بیٹی کو وہ مناظر بھی یاد آئے جو نواسۂ رسول(ص) کی شہادت کے بعد رونما ہوئے تھے، خیام حسینی میں بھڑکتے ہوئے شعلے، عابد بیمار ع کا جلا ہوا بستر، بیبیوں اور بچیوں کے سروں سے چادروں کا چھینا جانا اور بچوں کی آہ و فریاد، اسیری، کوفہ و شام کی طرف روانگی. زینب سلام اللہ علیها کا دل درد و اندوہ میں ڈوب گيا اور انہوں نے اپنے بھائی کی قبر کا رخ کر کے فریاد کی. شہدائے کربلا کی قبروں پر اہل حرم کی بیتابی، ہر آنکھ کو رونے پر مجبور کئے دے رہی تھی. ● تین دنوں تک کربلا کے میدان میں حضرت زینب سلام اللہ علیها اور سید سجاد علیہ السلام کی معیت میں اہل حرم نے عزاداری کی اور رسول اسلام(ص) کے بزرگ صحابی جابر ابن عبداللہ انصاری، امام زين العابدین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہے اور پھر تیسرے دن امام سجاد علیہ السلام نے حکم دیا. اونٹوں پر محملیں تیار ہوئیں اور رسول اکرم کا خاندان شہر مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہوگیا. "اے حسین علیہ السلام کی راہ پر چلنے اور ان کے ساتھ سفر کرنے والی روحو! ہمارا سلام قبول کرو." ● امام حسین علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ کبریٰ سلام اللہ علیھا نے آواز دی: اے کربلا ہم تیرے دامن میں وہ یادگار چھوڑ کر جارہے ہیں جو احمد مجتبی (ص) کی روح اور ان کا جانشیں ہے. اے کربلا ہم تیری آغوش میں وہ بدن امانت کے طور پر چھوڑ رہے ہيں جو پاک و مطہر ہے اور بے کسی کے عالم میں تجھ میں دفن ہوا ہے. ● قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ پائے پیادہ کربلا کی طرف جانے والے افراد زائرین کے قافلوں کا سلسلہ آئمہ طاہرین علیہم السلام کے زمانے میں رائج تھا اور حتی یہ سلسلہ بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانے میں بھی جاری رہا اور تمام تر سختیوں اور خطرات کے باوجود شیعہ حضرات پابندی کے ساتھ شرکت کرتے رہے ہیں. 🔲 چہلم، قرآن و روایات کی روشنی میں چہلم سے مراد کیا ہے علماء نے اس موضوع پر کافی بحث کی ہے لیکن جس بات کا شیخ طوسی نےعندیہ دیا ہے وہ یہ ہے کہ زیارت اربعین سے مراد ۲۰ صفر کو امام حسین علیه السلام کی زیارت ہے کہ جو عاشورہ کے بعد چالیسواں دن ہے. اس لئے انہوں نے اس روایت کو اپنی کتاب تہذیب کے زیارت کے باب میں اور اربعین کے اعمال میں ذکر کیا ہے. اس دن کی مخصوص زیارت بھی نقل ہوئی ہے جسے مرحوم شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے. لیکن چالیس دن کے بعد ہی کیوں؟ ● چالیس کا عدد روایات میں حتیّ قرآن میں بھی اسکا خاص مقام ہے اور اس عدد (40) کی کچھ خصوصیات ہیں کہ جو دوسرے اعداد کے اندر نہیں ہیں. مثال کے طور پر خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: "اذابلغ اشدّہ وبلغ اربعین سنة."[9] یعنی جس وقت وہ کمال کی حالت تک پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا. ● اسی طرح بعض انبیاءچالیس سال کی عمر میں مقام رسالت پر فائز ہوئے مثال کے طور پر حضرت علی علیہ السلام نے ایک آدمی کو جواب میں جب اس نے سوال کیا کہ عزیر کتنی سال کی عمر میں رسالت کے مقام پر فائز ہوئے. "بعثہ اللہ و لہ اربعون سنة." [10] یعنی اس سوال کے جواب میں کہ جناب عزیر کی عمر رسالت کے آغاز میں کتنی تھی؟ فرمایا کہ رسالت کے آغاز میں انکی عمر چالیس سال تھی. ● خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چالیس سال کی عمر میں مقام رسالت پر فائز ہوئے جیسا کہ معتبر روایات میں آیا ہے. "صدع بالرسالةیوم السابع والعشرین من رجب و لہ یومئذاربعون سنة." [11] یعنی حضرت محمّدبن عبداللہ خاتم انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 27رجب کو چالیس سال کی عمر میں رسالت پر مبعوث ہوئے.

🔷️ چہلم اول امام حسین علیہ السلام 🔷️ ️🔲 چہلم اول امام حسین علیہ السلام 🔲 چہلم، قرآن و روایات کی روشنی میں 🔲 تاریخچہ اربعین حسینی پوسٹ لنک محدث نوری نے اپنی کتاب اللؤلؤوالمرجان (1) میں اور ان کے شاگرد شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب منتہی الآمال (2) میں کہا ہے کہ یہ زیارت پہلے سال کے دوران انجام نہیں پائی ہے. محدث نوری سے پہلے کتاب اقبال الاعمال (3) میں سید ابن طاؤس نے اس رائے کے ساتھ اتفاق نہیں کیا ہے. ان کے مقابلے میں بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اسیران کربلا کا قافلہ شام سے عراق آیا ہے اور اربعین کے دن کربلا پہنچا ہے اور زیارت حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوا ہے. سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب اللہوف (4) میں صراحت کے ساتھ یہی رائے دی ہے اور واضح کیا ہے کہ قافلہ اہل بیت علیہ السلام نے اس سفر میں جابر بن عبداللہ انصاری اور بنی ہاشم کے بعض افراد کو بھی کربلا میں دیکھا ہے. سید محمد علی قاضی طباطبائی نے محدث نوری اور محدث قمی کی رائے کو رد کرنے کے لیے تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سید الشہداء کے عنوان سے مفصل کتاب تالیف کی ہے. جابر بن عبداللہ انصاری جو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، سید الشہداء علیہ السلام کے پہلے زائر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں. وہ عطیہ بن سعید کے ہمراہ سنہ 61 ہجری کے واقعہ عاشورا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے چالیس دن کے بعد پہلی اربعین کو کربلا آئے اور قبر حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔(5) اسیران آل محمد کے شام سے چالیس دن میں واپس پلٹ آنے کی یہ روایت محدث قمی نے بیان کی ہے جب کہ کربلا سے کوفہ، اور کوفہ سے شام، اور پھر شام میں قید و بند اور واپسی کے سفر کے اوقات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ سارا عمل چالیس دن میں انجام پذیر ہونا ممکن نہیں. لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ واقعہ سن باسٹھ ہجری، یعنی امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے ایک سال بعد کا ہے نہ کہ چالیس دن بعد کا. اور یہی مشہور بھی ہے. ● حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے مروی حدیث میں زیارت اربعین کو مومن کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے.(6) ● نیز روز اربعین کے لیے ایک زیارت نامہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے.(7) شیخ عباس قمی نے اس زیارت نامے کو مفاتیج الجنان کے تیسرے باب میں زیارت اربعین کے عنوان سے درج کیا ہے. ● قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ زیارت اربعین زیارت "مردّ الرّاس" بھی کہلاتی ہے.(8) یعنی سر کا لوٹا دیا جانا. کیوں کہ اس روز اسیران اہل بیت علیہم السلام کربلا پلٹ کر آئے تو وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا سرمبارک بھی شام سے واپس لائے تھے جس کو انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ دفن کیا. ● سید ابن طاؤس علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "مقتل" میں لکھا ہے: جس وقت امام حسین علیہ السلام کے اہلبیت شام سے چھوٹ کر مدینہ کی طرف واپس جارہے تھے، انہوں نے اموی سالار کارواں سے خواہش کی کہ ان کو کربلا کی طرف سے لے چلیں تا کہ وہ جاتے جاتے شہدائے کربلا کی زیارت کرسکیں چنانچہ جس وقت وہ نواسۂ رسول کی تربت پاک پر پہنچتے ہیں پیغمبر اسلام (ص) کے بوڑھے صحابی جابرابن عبداللہ انصاری وہاں موجود تھے. ● جناب جابر کے رفیق عطیۂ عوفی کا بیان ہے کہ قبر حسین علیہ السلام پر پہنچکر جابر نے تین مرتبہ فرمایا: یا حسین علیہ السلام یا حسین علیہ السلام یا حسین علیہ السلام اور پھر درد بھرے لہجے میں کہا: "احبیب لا یجیب حبیبہ" کیا دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دے گا اور پھر خود ہی کہنے لگے: ہاں، آپ کیسے جواب دیں گے آپ کی رگ گردن تو خون سے رنگین ہے اور سر و تن میں جدائی ہوچکی ہے! اے حسین آپ پر میرا سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں آپ فخر انبیاء ع، رسول خدا (ص) کے فرزند، امام المتقین امیرالمؤمنین (ع) کے دلبند، اور سیدۂ نساءالعالمین (ع) کے پارۂ دل ہیں. آپ نے پاکیزہ زندگی گزاری، پاکیزہ موت قبول کی لیکن مومنین کے قلب کو فراق کی آگ میں جلنے کے لئے تنہا چھوڑدیا. اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ زندہ ہیں، آپ پر خدا کا درود و سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں آپ کی شہادت کی داستان بھی حضرت یحیی (ع) ابن زکریا (ع) کی شہادت کی مانند ہے. اور پھر چاروں طرف نظر دوڑائی اور فرمایا: درود و سلام ہو تم پر اے پاکیزہ روحو! تم نے امام حسین (ع) کے گرد جگہ پائی اور امام کے آستانۂ اقدس میں اپنی سواریاں بٹھائیں. یہ کہکر جابر نے ایک آہ سرد کھینچی اور بیہوش ہوگئے، اسی دوران نزدیک سے کسی قافلے کے اترنے کی آہٹ محسوس ہوئی، جابر چونک کراٹھ پڑے جیسے کوئی کہہ رہا ہو: جابر! اٹھو میرے پاس میری بہن آرہی ہے اس کا استقبال کرو. رسول اسلام (ص) کے بوڑھے صحابی نے آگے بڑھ کر اہل حرم کا استقبال کیا،

🌹24= اہلبیت ع کے مصائب: راستہ میں جب بھی کسی مشکل سے دوچار ہو جائیں تو اہلبیت ع کی مصیبتوں کو یاد کریں۔ 🌹25= غمگین حالت میں رہنا: پورے سفر میں اپنے آپ پر غم کی حالت طاری کریں۔ 🌹26= بیہودگی سے پرہیز: آرام سے بات کریں، مذاق اور بیہودہ باتوں سے پرہیز کریں۔ 🌹27= نیک ہمسفر کا انتخاب: جو آپ کی معنویت میں اضافہ کا باعث بنے ایسے ساتھی کا انتخاب کریں۔ 🌹28= نگاہوں کی حفاظت: معنویت میں اضافہ کے لئے روحی تمرکز اور نامحرم سےنگاہ بچانا بہت مہم ہے۔ 🌹29= کھانے میں اعتدال: پرخوری نہ کریں جو معنوی سفر کے لئے نقصان دہ ہے خصوصا کربلا کے راستہ میں گوشت اور لذید ذائقہ دار کھانے مکروہ ہیں۔ 🌹30= اسراف نہ کرنا: کوشش کریں اسراف نہ ہو اور دوسروں کو بھی اسراف کرنے سے منع کریں۔ 🌹31= جلدی نہ کریں: کربلا پہنچنے میں جلدی نہ کریں ممکن ہے ہماری معنویت کم ہونے کا باعث بنے۔ 🌹32= جلد لوٹنا: توجہ کریں اربعین کی فضا میں ایک دن سے زیادہ کربلا اور نجف میں قیام نہ کریں۔ 🌹33= اذیت و آزار: دوسروں کے اذیت و آزار کے بغیر زیارت کریں یعنی زیارت کے لئے ضروری نہیں کہ انسان ضریح کے قریب خود کو پہنچائے بلکہ جہاں امکان ہو وہیں پر انسان زیارت پڑھے۔ (کسی کو اذیت کرنا حرام اور زیارت کرنا مستحب ہے ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ مستحب کی خاطر حرام میں متبلا ہوجائیں اور زیارت کی برکات سے محروم ہو جائیں)۔ 🌹34= زیارت میں سکون: سکون کی حالت میں زیارت پڑھیں۔ 🌹35= ایثار اور فداکاری: ایثار و فداکاری فقط جنگ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ انسان جہاں بھی سفر پر ہو تو اس کا مظاہرہ کرے۔ 🌹36= زائرین کی خدمت: زائرین کی خدمت میں سبقت لیں جیسے گھر دینا، لانا لیجانا، مالی مدد، علاج و معالجہ و۔۔۔) 🌹37= اچھا اخلاق: زائرین کے لئے ضروری ہے عراقی عوام سے اپنے اچھے اخلا ق سے پیش آئیں انہیں ہماری حقیقی محبت نظر آئے ان کے سامنے مسکرائیں اس طرح سے اسلام کے دیرنہ دشمن ناکام ہو جاتے ہیں۔ 🌹38= جھگڑوں سے پرہیز: بعض غلط اعمال، بعض غلط افکار اور اختلاف سے پرہیز کریں ان سے الجھنے کے بجائے احتیاط کریں۔ 🌹39= یادگار سفر: معنوی اور انقلابی سفر باقی رہنے کے لئے اچھی باتیں، نصیحتیں، تصویریں ضرور لے لیں۔ 🌹40= زمانی سفر: یعنی جو آپ کو پندرہویں صدی کی کربلا سے نکال کر 61 ہجری کی کربلا میں پہنچا دے کیونکہ پندرہویں صدی کی کربلا شاہوں و مہاراجوں نے بنائی ہے لیکن 61 ہجری کی کربلا امام حسین ع نے بنائی تھی۔ جب آپ یہ دو سفر (مکانی و زمانی) طے کریں گے تو آپ کو حق و باطل کی پیکار نظر آئے گی۔ اس پیکار کے شفاف آئینے میں خود کو تلاش کریں، کربلا میں جہاں بنو امیہ کا لشکر تھا وہی منافقین اور بے دین افراد بھی تھے ان کے مقابلے میں امام حسین ع تن و تنہا نظر آئیں گے۔ کربلا جا کر قصہ و کہانی سننے کے بجائے خود 61 ہجری کی کربلا کو لمس کریں اور غور کریں کہ اس وقت اگر ہم وہاں ہوتے تو کس لشکر میں ہوتے۔ کربلا سے عقیدت کے رابطہ کے ساتھ ساتھ روح کربلا سے بھی آشنا ہوں۔ کربلا کے متعلق عقیدت ہر انسان میں موجود ہے خواہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں بھی عاشورا کے دن چھٹی ہوتی ہے۔ روح کربلا سے رابطہ یعنی جو آپ کو 61 ہجری کی کربلا میں منتقل کرکے آپ کی زندگی کو عاشورائی زندگی میں تبدیل کر دے۔ 🔘 یا اللہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کی حفاظت فرما۔ الہی آمین اصلاح و ترتيب: سید سجاد حسین ھمدانی ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ جَاهَدْتَ فِي سَبِيلِهِ حَتَّى أَتَاكَ الْيَقِينُ، فَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَتَلَكَ، وَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ظَلَمَكَ، وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَرَضِيَتْ بِهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاهُ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَاابْنَ رَسُولِ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّكَ كُنْتَ نُورا فِي الْأَصْلابِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ [الطَّاهِرَةِ] لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجَاهِلِيَّةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْكَ الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِيَابِهَا، وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ دَعَائِمِ الدِّينِ وَ أَرْكَانِ الْمُسْلِمِينَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنِينَ، وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ الْإِمَامُ الْبَرُّ التَّقِيُّ الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ الْهَادِي الْمَهْدِيُّ، وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِكَ كَلِمَةُ التَّقْوَى وَ أَعْلامُ الْهُدَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ الْحُجَّةُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا، وَ أَشْهَدُ أَنِّي بِكُمْ مُؤْمِنٌ وَ بِإِيَابِكُمْ مُوقِنٌ بِشَرَائِعِ دِينِي وَ خَوَاتِيمِ عَمَلِي وَ قَلْبِي لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِي لِأَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لَكُمْ فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ لا مَعَ عَدُوِّكُمْ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَرْوَاحِكُمْ وَ أَجْسَادِكُمْ [أَجْسَامِكُمْ‏] وَ شَاهِدِكُمْ وَ غَائِبِكُمْ وَ ظَاهِرِكُمْ وَ بَاطِنِكُمْ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ۔(مفاتیح الجنان) 🔲 اعمال زائرین کربلا اربعین حسینی کے معنوی سفر میں چالیس ناب نکتے۔۔۔ اس پوسٹ کو اتنا شئر کریں کہ ہر زائر تک پہنچ جائے اور وہ عمل کر سکے۔ 🌹1= حلالیت طلبی: ایک دوسرے سے بخشش طلب کرنا۔ 🌹2= وصیت: سفر سے پہلے وصیت کریں۔ 🌹3= روزہ: سفر میں معنوی پہلو کی تیاری کیلئے سفر سے پہلے تین دن روزہ رکھیں۔ 🌹4= غسل: گھر سے نکلنے سے پہلے غسل کریں۔ 🌹5= سفر کی دعا: سفر سے پہلے گھروالوں کو جمع کر کے سفر کی دعا پڑھیں۔ 🌹6= انقطاع : پورے سفر میں انقطاع کی حالت میں رہیں تاکہ کربلا سے معنوی وصال ہوجائے، دوسروں سے منقطع ضروری ہے اگر دوسروں سے وابستہ رہیں گے تو کربلا سے منقطع ہوجائیں گے مگر خاص مجبور ہوں تو۔ (مراد موبائل، انٹرنیت، وٹسپ، ٹیلی گرام و۔۔۔۔) 🌹7= وقت سے استفادہ: بغیر شک کے معنوی سفر ہے۔ اس معنوی سفر میں فرصت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔ 🌹8= علماء سے استفادہ: سفر میں علماء سے دینی موضوعات پر گفتگو کریں۔ 🌹9= تفکر: غور و فکر کرنے کے لئے طولانی سفر بہتر فرصت ہے۔ اپنی نفسانی برائیوں پر غور کریں، امام زمانہ کے ساتھ کس طرح تعاون کریں گے غور کریں۔ 🌹10= نماز جماعت: اپنی نمازیں اول وقت اور جماعت کے ساتھ ادا کریں اور نماز کے بعد باجماعت زیارت عاشورا کا آخری حصہ جس میں ان کے دشمنوں پر لعنت کی گئی ہے، اسے اجتماعی طوپر پڑھیں۔ اللہ العن اول ظالم۔۔۔) 🌹11= طولانی تعقیبات: ہر نماز کے بعد مستحبات انجام دیں کہ ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کے بعد طولانی سجدہ کریں۔ 🌹12= زیارت عاشورا: ہر روز زیارت عاشورا 100 لعن اور 100 سلام کے ساتھ پڑھیں۔ 🌹13= دعائے عہد: ہر روز نماز صبح کے بعد دعائے عہد کا پڑھیں۔ 🌹14= زیارت اربعین: اربعین کے دن زیارت اربعین پڑھیں۔ بعض مراجع کہتےہیں اربعین کےدن زیارت ضروری نہیں بلکہ اربعین کے دن آپ کربلا میں ہوں۔ اربعین سے پہلے یا بعد میں زیارت کریں۔ 🌹15= نماز شب: سفر میں نماز شب توجہ کے ساتھ پڑھیں۔ 🌹16= رات سے استفادہ: یعنی جہاں بھی قیام پذیر ہوں وہاں قضاء نمازیں اور چھوٹی کتابوں کا مطالعہ کرنا فراموش نہ کریں۔ 🌹17= ختم قرآن: کوشش کریں پورے سفر میں پورا قرآن ختم کریں۔ حدا قل سنیں۔ 🌹18= ذکر کی پابندی: "صلوات"، "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر"، "لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم" اور استغفار" استغفر اللہ ربی واتوب الیہ" زیادہ سے زیادہ کریں۔ 🌹19= دعا امام زماں: امام زمانہ کی سلامتی اور ظہور کے لئے دعا کریں اور صدقہ دیں۔ 🌹20= امام کے حضور: اپنے آپ کو امام زمانہ کے حضور میں حاضر سمجھیں۔ 🌹21= اعمال کو ھدیہ کرنا: اپنے تمام مستحبی اعمال کے ثواب کو انبیاء، اولیاء اور شہداء کے نام ہدیہ کریں۔ اس طرح آپ کے اعمال کا ثواب چند گناہ بڑھ جاتا ہے۔ 🌹22= نیابتی زیارت: اپنی زیارت کے ساتھ ساتھ نیابتی زیارت والدین، عزیز، رشتہ دار اور شہداء کی طرف سے نیابتاً زیارت پڑھیں۔ 🌹23= قدردانی: شہداء اور مجاہدین کی قدردانی کریں جنہوں نے زیارت کے لئے فرصت فراہم کی اور آپ کے لئے امنیت کا خیال رکھا جو ابھی تک مقاومت کر رہے ہیں۔

💝 أربعين حسینیؑ و اعمال زائرین 💝 بیسویں صفر کا دن یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا دن ہے. ● بقول شیخین، امام حسین علیہ السلام کے اہل حرم نے اسی دن شام سے مدینہ کی طرف مراجعت کی. ● اسی دن جابر بن عبداللہ انصاری حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کیلئے کربلا معلی پہنچے اور یہ بزرگ حضرت امام حسین علیہ السلام کے اولین زائر ہیں. ● 20 صفر کے دن حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا مستحب ہے. ■ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت ہے کہ مومن کی پانچ علامتیں ہیں: ﴿۱﴾رات دن میں اکاون رکعت نماز فریضہ و نافلہ ادا کرنا، ﴿۲﴾زیارت اربعین پڑھنا، ﴿۳﴾دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، ﴿۴﴾سجدے میں پیشانی خاک پر رکھنا، ﴿۵﴾اور نماز میں بآواز بلند بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ پڑھنا، مستحبی اعمال میں سےدو عمل ایسے ہیں که جن کا جلوه سارے مستحبی اعمال سے بہت زیادہ ہے، پہلا نماز شب اور دوسرا زیارت امام حسین علیه‌ السلام. ان دو اعمال میں سے زیارت امام حسین علیه‌ السلام کی فضیلت نماز شب سے بھی زیادہ ہے اس حد تک کہ روایات میں ھماری ساری عبادتوں کے ثواب اور خیر و برکت کا دارومدار امام حسین علیہ سلام کی زیارت پر ہی ہے، جن ایام خاص میں خداوندعالم کی رحمتوں کے دروازے اپنے بندوں کیلئے کھل جاتے ہیں، جیسا کہ لیلةالقدر یا شب نیمه شعبان. یا بعض دن جیسے کہ روز عرفه یا دوسرے خاص دن۔ ■ امام صادق علیه‌ السلام کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کہ: ہم تو کربلا نہیں جاسکے مولا ہم کیا کریں؟ امام صادق علیہ سلام نے فرمایا: اربعین کے دن کیا کرتے ہو؟ کہا کہ: میرا دل قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتا ہے. اسکے بعد امام صادق علیہ السلام نےاسکو زیارت اربعین سکھائی اور فرمایا: حتی اگر دور سے بھی یہ زیارت پڑھو گے خداوندعالم اپنے فرشتوں کو اربعین کے دن صبح سویرے سے لیکر غروب تک زمین پہ بھیجتا ہے اور اس کائنات پر دنیا کے جس کونے سے بهی جو شخص یہ کلمات جو میں تمھیں سکھا رہا ہوں(یعنی زیارت اربعین) دل سے پڑھیں ملائکہ آتے ہیں اور زیارت کے کلمات کو لے کے غروب تک سیدالشهداء علیه‌ السلام کے پاس لے جاتے ہیں اورحضرت سیدالشهداء علیه‌ السلام ملائکہ کو حکم دیتے ہیں کہ لکھ لو کہ فلاں شخص یہاں آئے تھے اور زیارت کی. امام صادق علیه‌السلام آگے فرماتے ہیں: خفا نہ ہونا کہ تم کربلا نہیں گئے اس دن دل سے کربلا کو یاد کرو اور کربلا کے غم کو یاد کرنا یعنی تم کربلا میں ہی ہو، دل سے ایک فریاد تو کر سکتے ہو؟ ہو سکتا ہے تمھارے اس ایک آه اور ایک فریاد کا ثواب زیارت سے زیادہ ہو. 🔲 چہلم کے دن کی مخصوص زیارت السَّلامُ عَلَى وَلِيِّ اللَّهِ وَ حَبِيبِهِ، السَّلامُ عَلَى خَلِيلِ اللَّهِ وَ نَجِيبِهِ، السَّلامُ عَلَى صَفِيِّ اللَّهِ وَ ابْنِ صَفِيِّهِ، السَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِيدِ، السَّلامُ عَلَى أَسِيرِ الْكُرُبَاتِ وَ قَتِيلِ الْعَبَرَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِيُّكَ وَ ابْنُ وَلِيِّكَ وَ صَفِيُّكَ وَ ابْنُ صَفِيِّكَ الْفَائِزُ بِكَرَامَتِكَ أَكْرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ وَ اجْتَبَيْتَهُ بِطِيبِ الْوِلادَةِ وَ جَعَلْتَهُ سَيِّدا مِنَ السَّادَةِ وَ قَائِدا مِنَ الْقَادَةِ وَ ذَائِدا مِنَ الذَّادَةِ وَ أَعْطَيْتَهُ مَوَارِيثَ الْأَنْبِيَاءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَى خَلْقِكَ مِنَ الْأَوْصِيَاءِ فَأَعْذَرَ فِي الدُّعَاءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَيْرَةِ الضَّلالَةِ وَ قَدْ تَوَازَرَ عَلَيْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْيَا وَ بَاعَ حَظَّهُ بِالْأَرْذَلِ الْأَدْنَى وَ شَرَى آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْأَوْكَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدَّى فِي هَوَاهُ وَ أَسْخَطَكَ وَ أَسْخَطَ نَبِيَّكَ، وَ أَطَاعَ مِنْ عِبَادِكَ أَهْلَ الشِّقَاقِ وَ النِّفَاقِ وَ حَمَلَةَ الْأَوْزَارِ الْمُسْتَوْجِبِينَ النَّارَ [لِلنَّارِ] فَجَاهَدَهُمْ فِيكَ صَابِرا مُحْتَسِبا حَتَّى سُفِكَ فِي طَاعَتِكَ دَمُهُ وَ اسْتُبِيحَ حَرِيمُهُ، اللَّهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْنا وَبِيلا وَ عَذِّبْهُمْ عَذَابا أَلِيما، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ سَيِّدِ الْأَوْصِيَاءِ، أَشْهَدُ أَنَّكَ أَمِينُ اللَّهِ وَ ابْنُ أَمِينِهِ عِشْتَ سَعِيدا وَ مَضَيْتَ حَمِيدا وَ مُتَّ فَقِيدا مَظْلُوما شَهِيدا، وَ أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَكَ وَ مُهْلِكٌ مَنْ خَذَلَكَ وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَكَ،

🌹 شھادت حضرت امام علی رضاؑ 🌹 🔹 اسم مبارک: علی ابن موسٰی 🔹 والد گرامی: امام موسٰی کاظم علیہ السلام 🔹 والدہ گرامی: نجمہ خاتون 🔹 کنیت: ابوالحسن 🔹 لقب: رضا 🔹 جائے ولادت: مدینہ منورہ 🔹 مدت حیات: 55 سال 🔹 مدت امامت: 19 سال 🔹 جائے شہادت: طوس 🔹 مدفن: مشہد مقدس/ایران 🔹 قاتل : مامون رشید (ملعون) ■ تاریخ ولادت امام علی رضا علیہ السلام کی سن ولادت میں اختلاف ہے بعض روایات کے مطابق آپؑ کی ولادت بمطابق 11 ذوالقعدہ یا ذوالحجہ یا ربیع الاول 148 یا 153 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی ہے، کلینی لکھتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام 148 ہجری میں پیدا ہوئے ہیں۔ زیادہ تر علماء اور مورخین کی رائے یہی ہے۔ ■ تعداد اولاد: 🔹️ امام علی رضا علیہ السلام کی تعداد اولاد کے حوالے سے اختلاف ہے بعض روایات کے مطابق آپؑ کے دو فرزند تھے (امام محمد تقیؑ، موسٰی) 🔹️ بعض روایات میں آپؑ کے تین اولادیں تھیں، بعض روایات میں آپ کے پانچ لڑکے اور ایک لڑکی تھی جن کے نام یہ ہیں (امام محمد تقیؑ، حسن، جعفر، ابراہیم، حسین، عائشہ) 🔹️ بعض روایات میں آپؑ کے پانچ بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں (امام محمد تقیؑ، حسن جعفر، ابراہیم، حسین، عقب) 🔹️ بعض روایات کے مطابق آپؑ کے آٹھ بیٹے تھے جن کے نام (امام محمد تقیؑ، ہادی، علی نقی، حسین، یعقوب، ابراہیم، فضل، جعفر) 🔹️ بعض روایات کے مطابق آپؑ کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام امام محمد تقی تھا۔ ■ تاریخ شہادت امام رضا علیہ السلام کے یوم شہادت کے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں جن میں آپ کا روز شہادت جمعہ یا سوموار آخر ماہ صفرالمظفر 17 صفر، یا 21 رمضان، یا 18 جمادی الاولی، یا 23 ذوالقعدہ، يا آخِرِ ذوالقعدہ سنہ 202، یا 203، یا 206 ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن جو تاریخ زیادہ مشہور ہے وہ 17 صفر المظفر 203ہجری ہے۔ ■ شہادت امام علی رضا علیہ السلام ایک صبح امام رضا علیہ السلام نے نماز پڑھی اور محراب عبادت میں بیٹھ گئے گویا کہ کسی کے منتظر تھے... کہ اچانک مامون کا غلام آیا اور امام سے کہنے لگا: "جلد تشریف لائیے آپ کو مامون بلا رہا ہے..." آپ علیہ السلام اٹھے، عبا کندھے پر رکھی، جوتے پہنے اور چل پڑے... یہاں تک کہ دونوں دربار میں پہنچے... مامون اپنے سامنے بڑے برتنوں میں قسم قسم کے پھل لئے بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں انگور کا ایک گچھا تھا جسے وہ کچھ تو کھا چکا تھا. جونہی امام علیہ السلام پر اس کی نظر پڑی وہ آپ کے احترام میں کھڑا ہو گیا اور باہیں امام علیہ السلام کی گردن میں ڈال کر پیشانی پر بوسہ لیا اور انہیں اپنے پہلو میں جگہ دی... مامون نے انگور آپ علیہ السلام کی طرف بڑھاتے ہوے کہا: "یابن رسول الله اس سے بہتر انگور میں نے نہیں دیکھا، میرا جی چاہتا ہے کہ آپ انہیں کھائیں! آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھے ان انگوروں کے کھانے سے بخشو! اس پر مامون غصہ ہوا اور کہا: یہ آپ کو کھانے پڑیں گے.. آپ کو ان کے کھانے میں کیا مسئلہ ہے. جتنا میں آپ سے خلوص سے پیش آتا ہوں آپ اتنا ہی مجھ پر شک کرتے ہیں اور مجھ پر تہمت لگاتے ہیں.... اس وقت اس نے انگور امام علیہ السلام کے حوالے کئے اور امام کو کھانے پر اصرار کیا... امام علیہ السلام نے ان انگوروں سے تین دانے تناول کئے اور باقی خوشہ انگور پھینک دیے... مامون غور سے دیکھ رہا تھا اور اس نے بھانپ لیا کہ مقصد کامیاب ہوا... امام علیہ السلام اپنے مقام سے اٹھے تو اس نے سوال کیا: "الی این" کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ امام علیہ السلام نے جواب دیا: "حیت وجھتنی" جہاں تو نے بھیجا!! الا لعنت اللہ علی القوم الظالمين. ھم امام مہدی عجل الله تعالٰی فرجہ الشریف کی خدمت میں هدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ خدا وند متعال بحق معصومین علیهم السلام ھم سب کی پریشانیاں اور تکالیف دور فرمائے. اور امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے. آمین یا رب العالمین. 💥 مزید تفصیل دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔ https://www.facebook.com/share/p/1g3qvb21yo9H6zbc/?mibextid=oFDknk ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷ایک کسان کی کمائی اور خرچ🔷 ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮨﻞ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ- ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﻬﺎ: "ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﻤﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ؟ ﮐﺴﺎﻥ: "ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭘﮯ" ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ: ﮐﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ ﮐﺴﺎﻥ: "ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ"- ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ: ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﻬﺎ. ﮐﺴﺎﻥ: "ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﮍﻫﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﻬﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﮮ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻧﻬﻮﮞﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﯿﮯ...!" 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ایک بچہ اور کچھوا 🔷 حسن اخلاق کے موضوع پر نصیحت آموز کہانی.... کہتے ہیں ایک بچے نے کچھوا پال رکھا تھا، اُسے سارا دن کھلاتا پلاتا اور اُسکے ساتھ کھیلتا تھا۔ سردیوں کی ایک یخ بستہ شام کو بچے نے اپنے کچھوے سے کھیلنا چاہا مگر کچھوا سردی سے بچنے اور اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے اپنے خول میں چُھپا ہوا تھا۔ بچے نے کچھوے کو خول سے باہر آنے پر آمادہ کرنے کی بُہت کوشش کی مگر بے سود۔ جھلاہٹ میں اُس نے ڈنڈا اُٹھا کر کچھوے کی پٹائی بھی کر ڈالی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ بچے نے چیخ چیخ کر کچھوے کو باہر نکلنے پر راضی کرنا چاہامگر کچھوا سہم کر اپنے خول میں اور زیادہ دُبکا رہا. بچے کا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچہ غصے سے تلملا رہا تھا۔ باپ نے بچے سے پوچھا؛ بیٹے کیا بات ہے؟ بچے نے اپنا اور کچھوے کا سارا قصہ باپ کو کہہ سُنایا، باپ نے مُسکراتے ہوتے بچے کا ہاتھ تھاما اور بولا اِسے چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ۔ بچے کا ہاتھ پکڑے باپ اُسے آتشدان کی طرف لے گیا، آگ جلائی اور حرارت کے پاس ہی بیٹھ کر بچے سے باتیں کرنے لگ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گُزری تھی کہ کچھوا بھی حرارت لینے کیلئے آہستہ آہستہ اُن کے پاس آ گیا۔ باپ نے مُسکرا کر بچے کی طرف دیکھا جو کچھوے کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا.. ■ باپ نے بچےکو مُخاطب کرتےہوئےکہا: بیٹے انسان بھی کچھوے کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ وہ اپنے خول اُتار کر تمہارے ساتھ کھلے دِل سے ملیں تو اُنہیں اپنی مُحبت کی حرارت پہنچایا کرو، نہ کہ اُنہیں ڈنڈے کے زور پر یا اپنا حُکم چلا کر۔ ● پُر کشش اور جادوئی شخصیت والے لوگوں کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ.. زندگی میں لوگوں کو اپنی مُحبت کی حِدت اور اپنے جذبات کی گرمی پہنچا کر اُنہیں اپنا گرویدہ بناتے ہیں، اُن کی تعریف و تحسین اور قدر سے اُن کے دِلوں میں اپنے لئے پیار اور چاہت کے جذبات پیدا کرتے ہیں اور پھر اِنہی جذبات کے بل بوتے پر اُن پر اور اُنکے دِلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اور انسانی مخلوق تو ہے ہی ایسی کہ کوئی بھی اُسکے دِل میں گھر نہیں کر سکتا سوائے اِس کے کہ اُس کے ساتھ جذبات کی گرم جوشی، سچے دِل اور روح کی پاکیزگی کے ساتھ مِلا جائے. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔘 نتیجہ اور خلاصۂ کلام مذکورہ تمام حدیثوں میں ایک زائر کی فضیلت و اہمیت کے حوالے سے اہم ترین نکات و پیام پائے جاتے ہیں، ہر حدیث کی وضاحت کیلئے متعدد صفحات درکار ہیں، زیر نظر مقالے میں انکی وضاحت مقصود نہیں ہے، یہاں صرف یہ اشارہ کرنا مقصود تھا کہ احادیث میں امام حسینؑ کی پاپیادہ زیارت کرنے کی کتنی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ اس سلسلے میں بے شمار حدیثیں مروی ہیں، یہاں صرف ان میں بعض کو قلمبند کیا گیا ہے؛ امید ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے ہمکنار ہو گا اور اس کے تناظر میں امام حسینؑ کی زیارت کرنے والے اپنی اہمیت و عظمت سے آگاہ ہوتے ہوئے زیارت کے وقت مخصوص آداب کی رعایت کریں گے۔ 📚 حوالہ جات: 1۔ بحارالأنوار، علامہ مجلسی، ج98، ص143۔ 2۔ بحارالأنوار، ایضاً 3۔ بحارالأنوار، ج98، ص 147۔ 4۔ بحارالأنوار، ج98، ص 147۔ 5۔ بحارالأنوار، ج98، ص 152۔ 6۔ کامل الزیارات، ص 375۔ 7۔ بحارالأنوار، ج98، ص 24۔ 8۔ بحارالأنوار، ج98، ص 28۔ 9۔ وسائل الشیعہ، ج14 ص 439۔ 10۔ بحارالأنوار، ج98، ص 25۔ 11۔ بحارالأنوار، ج98، ص 25۔ 12۔ المزارالکبیر، محمد مشہدی، ص 417۔ 13۔ کامل الزیارات، ص 496۔ ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹6= ملائکہ کا موکل ہونا علی صائغ سے منقول ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا: اے علی! امام حسینؑ کی زیارت کیلئے جاؤ اور اسے ترک نہ کرو۔ علی صائغ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا: امامؑ کے زائر کو کون سا اجر و ثواب دیا جاتا ہے؟ امامؑ نے فرمایا: "من اتاہ ماشیا کتب اللہ لہ بکل خطوۃ حسنۃ و محا عنہ سیئۃ و رفع لہ درجۃ فاذا وکل اللہ بہ ملکین یکتبان ما خرج من فیہ من خیر و لا یکتبان ما یخرج من فیہ من سیئی و لا غیر ذالک فاذا انصرف ودعوہ و قالوا یا ولی اللہ مغفور لک انت من حزب اللہ و حزب رسولہ و حزب اھل بیت رسولہ واللہ لا تری النار بعینک ابدا و لا تراک و لا تطعمک ابدا۔" ترجمہ: جو شخص امام حسینؑ کی زیارت کیلئے جاتاہے تو خداوندعالم اسکے ہر قدم کے بدلے ایک حسنہ لکھتا ہے اور اسکے گناہ کو پاک کر دیتا ہے اور اسکا مرتبہ ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔ لہذا جب وہ قبر امام حسینؑ پر پہنچتا ہے تو خداوندعالم دو فرشتوں کو مامور فرماتا ہے تاکہ اس کے منہ سے اسوقت جو بھی خیر و نیکی کی باتیں خارج ہوں وہ سب اسکے نامہ اعمال میں تحریر کریں، اگر کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرے کہ وہ اس کیلئے مناسب نہ ہو تو اسے نہ لکھیں؛ جب وہ زیارت کر کے واپس ہونے لگتا ہے تو فرشتے اسے وداع کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے خدا کے محب! تمہاری مغفرت کر دی گئی ہے، تم خدا، رسول اور اہلبیت طاہرینؑ کے گروہ میں سے ہو، خدا کی قسم! تم کبھی بھی اپنی آنکھوں سے آتش جہنم کو نہیں دیکھو گے اور آتش جہنم بھی تم کو نہیں دیکھے گی اور تمہیں جلائے گی نہیں"۔(7) 🌸 ایک دوسری روایت میں ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا: "اذا اراد الانصراف اتاہ ملک فقال لہ ان رسول اللہ یقرئک السلام و یقول لک استانف العمل فقد غفر اللہ لک ما مضی۔" ترجمہ: جب وہ رخصت ہوکر جانے لگتا ہے تو ایک فرشتہ اسکے پاس آکر کہتا ہے: بیشک رسولخداؐ نے تم کو سلام کہا ہے اور تم سے کہا ہے کہ اپنے عمل کو دوبارہ انجام دو کیونکہ خداوندعالم نے تمہارے گزشتہ تمام گناہوں کو بخش دیاہے۔"(8) 🌸 ایک دوسری روایت میں ہے کہ وداع کے وقت جو فرشتہ آتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں خداوندعالم کی جانب سے آیا ہوں، وہ تمہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اپنے اعمال کو پھر سے شروع کرو اسلئے کہ تمہارے گزشتہ تمام گناہوں کو بخش دیا گیا ہے۔(9) 🌹7= گناہ محو ہونا سدیر صیرفی سے منقو ل ہے کہ میں باقرالعلوم امام باقرؑ کی خدمت میں موجود تھا، اسیوقت ایک جوان نے امام حسینؑ کی قبر مطہر کا تذکرہ کیا؛ امامؑ نے اس سے فرمایا: "ما اتاہ عبد فخطا خطوۃ الا کتب لہ حسنہ و حطت عنہ سیئۃ۔" ترجمہ: جو شخص قبر امام حسینؑ کی زیارت کیلئے قدم اٹھاتا ہے تو اس کیلئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور ایک گناہ محو کر دیا جاتا ہے"۔(10) 🌹8= گناہوں کی بخشش ابن مشکان نے امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "من زار الحسین من شیعتنا لم یرجع حتی یغفر لہ کل ذنب و یکتب لہ بکل خطوۃ خطاھا و کل ید رفعتھا دابتہ الف حسنۃ و محی عنہ الف سیئۃ و یرفع لہ الف درجۃ۔" ترجمہ: ہمارے شیعوں میں سے جو بھی امام حسینؑ کی زیارت کیلئے جاتا ہے تو اسکے واپس آنے سے پہلے ہی اسکے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں، اس راہ میں وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اور جس شخص کے توسط سے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرتا ہے تو اسکے بدلے میں ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اسکے ہزار گناہوں کو محو کر دیا جاتا ہے اور اسکا مرتبہ ہزار گنا زیادہ کر دیا جاتا ہے۔(11) 🌸 توجہ طلب: ایک مومن جب امام حسینؑ کی زیارت کیلئے پیدل راستہ طے کرتا ہے اور راستے میں اسے جو زحمتیں ہوتی ہیں اور گرمی کی وجہ سے پسینہ آتا ہے تو خداوندعالم اس زحمت کی وجہ سے بھی بے پناہ اجر و ثواب عطا فرماتا ہے ، بعض روایتوں میں ہے کہ راستہ چلتے ہوئے گرمی کی بنا پر پسینہ بہتا ہے تو اس کے ہر قطرے کے عوض خداوندعالم ستر ہزار فرشتے خلق فرماتا ہے جو زیارت کرنے والے کیطرف سے تسبیح و تہلیل اور استٖغفار کرتے ہیں۔ فرشتوں کے توسط سے زیارت کرنے والے کی طرف سے تسبیح و تہلیل اور استغفار ایک دو روز یا ایک دو مہینہ تک نہیں ہوتا ہے بلکہ قیامت تک جاری و ساری رہتا ہے۔(12) 🌸 ایک حدیث میں ہے کہ جب وہ سفر کر کے حرم کیطرف جاتا ہے تو راستہ میں جیسے جیسے سورج کی شعاعیں پڑتی ہیں تو اس کیوجہ سے اسکے گناہ محو ہوتے جاتے ہیں؛ چنانچہ ایک حدیث میں امام صادقؑ فرماتے ہیں: "جب امام حسینؑ کا زائر سورج کی شعاعوں تلے آتا ہے تو اسکے گناہ محو ہوجاتے ہیں، جسطرح آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے اسیطرح آفتاب کی شعاع اسکے گناہوں کو بھی ختم کر دیتی ہے، جب وہ زیارت سے واپس آتا ہے تو وہ گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہو جاتا ہے اور اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے جس پر راہ خدا میں شہداء بھی فائز نہیں ہوتے۔"(13)

🌹 فضیلت پاپیادہ زیارت اربعین 🌹 امام حسینؑ کے چہلم کے موقع پر زیارت کرنے کی بے پناہ فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے، اہلبیتؑ سے مروی بعض روایتوں میں امام حسینؑ کی زیارت کی فضیلت کے سلسلے میں جو لہجہ اور انداز اختیار کیا گیا ہے وہ ہر انسان کیلئے حیرت و استعجات کا موجب ہے۔ اسوقت یہ حیرت اور بڑھ جاتی ہے جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ آئمہ معصومینؑ سے مروی بعض روایتوں میں پیدل زیارت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ روایتوں میں دیگر آئمہ طاہرینؑ کی زیارت کیلئے بھی پاپیادہ جانے کی تاکید کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر امیرالمومنین حضرت علیؑ کی زیارت کیلئے پیدل جانا بے پناہ فضیلت کا حامل ہے اور اسکے بیشمار فوائد و آثار بتائے گئے ہیں لیکن امام حسینؑ کی زیارت خاص طور سے زیارت اربعین کیلئے پیدل سفر کرنے کی جتنی تاکید کی گئی ہے، اتنی تاکید کسی بھی امام کیلئے نہیں کی گئی۔ یہاں ان روایتوں میں سے بعض کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن میں امام حسینؑ کی پاپیادہ زیارت کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اسکے بے پناہ فوائد و اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔۔ 🌹1= ہزار نیکیاں ابو صامت نے امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "من اتیٰ الحسین ماشیاً کتب اللہ لہ بکل خطوۃ الف حسنۃ و محا عنہ الف سیئۃ و رفع لہ الف درجۃ فاذا اتیت الفرات فاغتسل و علق نعلیک و امش حافیا وامش العبد الذلیل فاذا اتیت باب الحیر فکبر اللہ اربعا" ترجمہ: جو شخص پاپیادہ امام حسینؑ کی زیارت کیلئے جائے تو خداوندعالم اسکے نامۂ اعمال میں ہر قدم کے بدلے ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس سے ہزار گناہوں کو پاک کر دیتا ہے اور اس کا درجہ ہزار گنا بڑھا دیتا ہے۔ لہذا جب تم فرات پر پہنچو تو غسل کرو اور اپنے جوتے اتار دو اور پاپیادہ راستہ طے کرو، بالکل اسیطرح جیسے ایک ذلیل بندہ راستہ چلتا ہے، جب تم حرم کے دروازے پر پہنچو تو چار مرتبہ اللہ اکبر کہو، پھر تھوڑی دور جانے کے بعد دوبارہ چار مرتبہ اللہ اکبر کہو"۔(1) 🌹2= حج و عمرہ اور جہاد کا ثواب بشیر دہان کا بیان ہے کہ ہماری اور امام صادقؑ کی ایک طویل گفتگو ہوئی، اس گفتگو کے آخر میں امامؑ نے مجھ سے فرمایا: "ویحک یا بشیر ان المومن اذا اتاہ عارفا بحقہ و اغتسل فی الفرات کتب لہ بکل خطوۃ حجۃ و عمرہ مبرورات متقبلات و غزوۃ مع نبی او امام عادل۔" ترجمہ: اے بشیر! بیشک ایک بندۂ مومن جب امام حسینؑ بن علیؑ کی زیارت کیلئے جائے اور انکے حق کو پہچانتا ہو (اور زیارت سے قبل) وہ فرات کے پانی سے غسل کر لے تو اس کے ہر قدم کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں مقبول حج و عمرہ اور نبی یا امام عادل کی رکاب میں جنگ و جہاد کرنے کا ثواب لکھ دیا جاتاہے"۔(2) 🌹3= حج مقبول حسین بن سعید سے منقول ہے کہ امام صادقؑ سے کسی نے امام حسینؑ کی قبر مطہر کی زیارت کے بارے میں سوال کیا تو حضرتؑ نے اسکے جواب میں فرمایا: "من اغتسل فی الفرات ثم مشی الی قبر الحسین کان لہ بکل قدم یرفعھا و یضعھا حجۃ متقبلۃ بمناسکھا"۔ ترجمہ: جو شخص فرات میں غسل کرے پھر پاپیادہ امام حسینؑ کی قبر کیطرف جائے تو وہ جو قدم بھی اٹھائے گا اور زمین پر رکھے گا اسکے بدلے میں تمام مناسک حج کے ساتھ ایک مقبول حج کا ثواب اس کیلئے لکھ دیا جائے گا"۔(3) 🌹4= دس گنا ثواب رفاعہ بن موسیٰ سے منقول ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا: "ان من خرج الی قبر الحسین عارفا بحقہ و اغتسل فی الفرات و خرج من الماء کان کمثل الذی خرج من الذنوب فاذا مشی الی الحیر لم یرفع قدما و لم یضع اخری الا کتب اللہ لہ عشر حسنات"۔ ترجمہ: بیشک جو شخص زیارت کیلئے قبر امام حسینؑ کی جانب معرفت رکھتے ہوئے جائے (اور زیارت سے قبل) فرات میں غسل کرے اور پانی سے خارج ہو تو وہ اس شخص کے مانند ہو جاتا ہے جو گناہوں سے باہر نکلتا ہے۔ لہذا جب وہ باب الحسین تک پہنچتا ہے تو جیسے جیسے قدم اٹھاتا ہے خداوند عالم اس کیلئے دس نیکیاں لکھتا ہے اور دس گناہوں کو پاک کر دیتا ہے"۔(4) 🌹5= حرم الٰہی حسین بن ثویر نے امام جعفر صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ حضرتؑ نے فرمایا: "اذا اتیت ابا عبداللہ فاغتسل علی شاطی الفرات ثم البس ثیابک الطاھرۃ ثم امش حافیا فانک فی حرم من حرم اللہ و رسولہ بالتکبیر والتھلیل۔" ترجمہ: جب تم سیدالشہداء حضرت امام حسینؑ کی زیارت کیلئے جاؤ تو پہلے نہر فرات میں غسل کرو اور پاکیزہ لباس پہنو، پھر پاپیادہ راستہ طے کرتے ہوئے حرم تک جاؤ؛ تم سمجھ لو کہ اسوقت تم خدا اور رسولخداؐ کے حرم میں ہو، تمہارے لئے ضروری ہے کہ تکبیر کہو اور لا الہ الا اللہ کا ورد کرو"۔(5) 🌸 حسین بن ثویر سے ایک دوسری روایت بھی منقول ہے جسے ابن قولویہ قمی نے نقل کیا ہے کہ امامؑ نے فرمایا: "اے حسین! جب کوئی شخص گھر سے نکلتا ہے اور اسکے دل میں زیارت امام حسینؑ کا ارادہ ہوتا ہے اگر وہ پاپیادہ ہوتا ہے تو اسکا ہر قدم ایک عمل صالح شمار ہوتا ہے اور اسکے ایک گناہ کو بخش دیا جاتا ہے"۔(6)

📚 حوالہ جات: [1] کامل الزیارات، ص۱۲۱؛ جامع الاخبار، ص۲۳، فصل نمبر ۱۱؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۳، باب۱، حدیث۸. [2] کامل الزیارات، ص۱۴۵، باب۵۷، حدیث۷؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۲۰، باب۳، حدیث۹. [3] کامل الزیارات، ص۱۹۳، باب۷۸، حدیث۲؛ کتاب المزار، ص۵۶، باب۲۶، حدیث۲؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۴، باب۱، حدیث۱۴. [4] ثواب الاعمال وعقاب الاعمال، ص۸۵؛ مستدرک الوسائل، ج۱۹، ص۲۵۰، باب۲۶، حدیث۱۱۹۴۸. [5] کامل الزیارات ص١٣٢. [6] “اگر کوئی روز قیامت کی نجات چاہتا ہے تو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے، تاکہ خدا کی بارگاہ میں خوشنود حاضر ہو، بے شک جھنم کی آگ اس جسم تک نہیں پھنچ سکتی کہ جس پر زائرین حسین (علیہ السلام) کی گرد و غبار ہو”۔ الغدیر، ج۶، ص۱۲. [7] بحار الانوار، ج۴۵، ص۴۰۱، باب۵۰، حدیث۱۲؛ مستدر ک الوسائل، ج۱۰، ص۲۹۵، باب۴۲، حدیث۱۲۰۴۶؛ منتخب طریحی، ص۱۹۵. [8] مفاتیح الجنان، ص ۸۰۱. 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔲 سلیمان اعمش کا عجیب واقعہ علامہ مجلسی علیہ الرحمہ امام حسین علیه السلام کی کرامت و مہربانی کا ایک عجیب واقعہ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے شیعہ علماء کی تالیفات میں دیکھا کہ سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ: میں کوفہ میں رہتا تھا میرا ایک پڑوسی تھا اور میں اس کے پاس آمد و رفت اور نشست و برخاست کیا کرتا تھا، ایک شب جمعہ اس کے پاس گیا اور اس سے کہا: امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے سلسلے میں تمھارا کیا نظریہ ہے؟ اس نے کہا: بدعت اور شرعی قوانین کے خلاف ہے اور بدعت گمراھی ہے اور جو شخص بھی گمراھی اور ضلالت میں مبتلا ہو وہ دوزخی ہے!! سلیمان نے کہا: حالانکہ میرا پورا وجود غصے سے بھر چکا تھا اس کے پاس سے اٹھا اور اپنے دل میں کہا کہ: سحر کے وقت اس کے پاس جاؤں گا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کروں گا، اگر اپنی دشمنی اور جاھلانہ تعصب پر اصرار اور ہٹ دھرمی کی تو اس کو قتل کر دوں گا. چنانچہ جب سحر کا وقت ہوا تو میں اس کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوا، اور اس کے گھر پر دق الباب کیا اور اس کا نام لے کر آواز دی، اچانک اس کی بیوی نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ رات کے پھلے حصہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا گیا ہے، چنانچہ میں بھی اس کے پیچھے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے روانہ ہوگیا. جب میں روضہ مقدس میں وارد ہوا تو میں نے اپنے اس پڑوسی کو دیکھا جو سجدہ کے عالم میں خدا سے رو رو کر مناجات اور توبہ کی درخواست کر رھا ہے. ایک طولانی مدت کے بعد اس نے سجدہ سے سر اٹھایا اور اس نے مجھے اپنے پاس کھڑا ہوا دیکھا، میں نے اس سے کہا: تم کل رات یہ کہہ رہے تھے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت بدعت ہے اور بدعت گمراھی ہے اور ہر گمراہ آتش جھنم میں ہے، لیکن آج تم کیسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ پر آ گئے ہو اور زیارت کر رہے ہو؟ اس نے کہا: اے سلیمان! مجھے ملامت نہ کرو! میں پہلے اھل بیت علیہم السلام کی ولایت و امامت کا قائل نہیں تھا یہاں تک کہ کل رات تک میں نے ایک خواب دیکھا جس کی وجہ سے میں حیرت و تعجب میں پڑ گیا اور خوف و وحشت میں مبتلا ہو گیا. میں نے اس سے کہا: تم نے کیا خواب دیکھا ہے؟ اس نے کہا: ایک بلند مرتبہ اور با عظمت انسان کو دیکھا کہ جس کا قد درمیانی تھا نہ زیادہ بلند تھا اور نہ پست قد، اس کے جمال و ہیبت اور ارزش و کمال کی توصیف بیان کرنے سے عاجز ہوں، ان کے اردگرد بہت سے لوگ تھے اور تیزی کے ساتھ روانہ تهے ان کے آگے آگے ایک سوار تھا کہ جن کے سر پر ایک تاج تھا اس تاج کے چار رکن تھے اور ہر رکن پر ایک گوہر لگا ہوا تھا جس کی تینوں سمت چمک رہیں تھیں. میں نے ان بزرگوار کے خادموں میں سے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ محمد مصطفٰی (ص) ہیں! میں نے سوال کیا: یہ دوسرے کون ہیں؟ انھوں نے کہا؟ یہ علی مرتضٰی جانشین رسول الله ہیں! اس کے بعد میں نے اس نورانی فضا پر نظر ڈالی کہ اچانک ایک نور کا ناقہ دیکھا کہ جس پر نور کا کجاوہ تھا اور اس میں دو خواتین بیٹھی ہوئی تھیں اور وہ ناقہ آسمان و زمین کے درمیان پرواز کر رھا تھا! میں نے کہا: یہ ناقہ کس کا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ جناب خدیجہ کبریٰ اور فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہما ہیں، میں نے کہا: یہ جوان کون ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ حسین بن علی (علیہ السلام) ہیں، میں نے کہا: یہ گروہ کہاں جا رھا ہے؟ ان سب نے کہا: یہ قافلہ مقتول جفا، شھید کربلا حسین بن علی مرتضیٰ کی زیارت کے لئے جا رھا ہے. چنانچہ میں اس ناقہ کی طرف گیا جس میں جناب فاطمہ زہراء تشریف رکھتی تھیں کہ اچانک میں نے ایک لکھا ہوا نامہ دیکھا کہ آسمان سے زمین کی طرف آرھا ہے! میں نے سوال کیا یہ نامہ کیسا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ وہ نامہ ہے کہ شب جمعہ زیارت امام حسین علیہ السلام کرنے والوں کے لئے آتش جھنم سے امان لکھی ہوئی ہے. میں نے اس امان نامہ کی درخواست کی، مجھ سے کہا گیا: مگر تم یہ نہیں کہتے کہ زیارت حسین بدعت ہے؟ یہ امان نامہ تم کو نہیں مل سکتا، مگر یہ کہ امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کرو اور ان کے فضل و شرف پر عقیدہ رکھو! خوف و وحشت کے عالم میں خواب سے چونکا، اور اسی وقت اپنے مولا و آقا امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا ارادہ کیا، اور اب خدا کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کر رھا ہوں اور خدا کی قسم اے سلیمان! ان کی قبر سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ میری روح میرے بدن سے پرواز کر جائے. [7] حاج علی بغدادی، مفاتیح الجنان[8] میں محدث قمی کی نقل کی بنا پر حضرت امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی ملاقات کے وقت امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا اعمش کا واقعہ صحیح ہے؟ تو امام زمانہ (عج) نے فرمایا: جی ھاں، صحیح اور کامل ہے.

ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ امام حسین علیہ السلام کے زائر کے پسینے کے ہر قطرے سے ایک ہزار فرشتے پیدا فرماتا ہے جو خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور خود اس شخص کے لئے اور ہر زائر کے لیے قیامت تک استغفار کرتے رہتے ہیں. ❸ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو جائے تو اسکے سر کے بال الجھے ہوئے اور گرد آلود ہوں اور زائر بھوکا پیاسا ہو کہ آنجناب اسی حالت میں شہید کئے گئے تھے پس وہاں اپنی حاجات طلب کرے پھر اپنے گھر لوٹ آئے اور کربلا کو اپنا وطن نہ بنائے. ❹ زیارت پر جاتے ہوئے لذیذ غذائیں جیسے حلوہ اور بریانی کو اپنا زاد راہ نہ بنائے بلکہ روٹی دودھ اور دہی وغیرہ کو اپنی غذا قرار دے۔ * امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں سن رہا ہوں کہ بعض لوگ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جاتے ہیں جو اپنے ساتھ ایسی غذا رکھتے ہیں جس میں بکرے کی بھنی ہوئی ران اور حلوہ ہوتا ہے حالانکہ یہی لوگ جب باپ یا رشتے داروں کی قبروں پر جاتے ہیں تو ایسی غذائیں ساتھ نہیں لے جاتے. * ایک اور معتبر روایت میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے مفضل بن عمر سے فرمایا: حضرت امام حسین علیہ السلام کی اس طرح سے زیارت کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کی زیارت نہ کی جائے امام حسین علیہ السلام کی زیارت نہ کر نے کی بجائے بہتر ہے کہ تم ان کی زیارت کرو (یعنی امام مظلوم کی زیارت کرو) مفضل کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: حضور آپ نے میری کمر توڑ دی ہے! آپ نے فرمایا: قسم بخدا اگر تم اپنے باپ دادا کی قبروں پر جاؤ تو حالت رنج و غم میں جاتے ہو اور امام مظلوم کے مزار پر جاتے وقت اپنے ہمراہ بہترین غذائیں لے کر جاتے ہو. حالانکہ تمہیں وہاں پریشان بال اور خاک آلودہ حالت میں جانا چاہیے. * مولف کہتے ہیں: مالدار آدمی کے لیے کس قدر شائستہ ہے کہ اس حدیث کا مطالعہ کرے اور کربلا جاتے وقت راستے میں جب اس کے احباب اس کی ضیافت کریں اور عمدہ غذائیں اس کے سامنے رکھیں تو اس کو قبول نہیں کرنا چاہییں اور کہنا چاہیے کہ ہم تو کربلا کے مسافر ہیں اس طرح کی غذائیں ہمارے لیے مناسب نہیں ہیں. * شیخ کلینی(رح) نے روایت کی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ کلبیہ نے آپ کا ماتم بپا کیا. وہ خود بھی روئیں اور دیگر عورتوں اور باندیوں کو بھی رلایا یہاں تک کہ ان کے آنسو خشک ہو گئے. ایک دفعہ کسی نے ان بیبی کے لئے جونی نام کا ایک حلال پرندہ بھیجا تا کہ وہ اسے کھائیں تو ان کے جسم میں اتنی طاقت آ جائے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کو رو سکیں جب انہوں نے اس پرندے کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ ہدیہ ہے جو فلاں شخص نے بھیجا ہے تاکہ آپ میں رونے کی طاقت آ سکے تو امام حسین علیہ السلام کی زوجہ نے فرمایا کہ ہم یہاں کسی شادی میں مشغول نہیں ہیں کہ اس طرح کے کھانے کھائیں پھر حکم دیا کہ اس گوشت کو یہاں سے لے جاؤ. 🔲 زائرین کی عظمت ابوالحسن جمال الدین علی بن عبد العزیز موصولی حلّی بزرگ ادیب، اھل بیت علیہم السلام کے مداح، ممتاز شاعر اور ایک فاضل انسان تھے کہ جو شہر حلہ میں زندگی بسر کیا کرتے تھے، ان کا انتقال ۷۵۰ ھ میں شہر حلہ میں هوا اور آپ کا مزار شہر حلہ کی مشهور و معروف زیارتگاہ ہے. موصوف (جیسا کہ قاضی نور الله شوشتری نے کتاب "المجالس" میں اور زنوزی نے کتاب "ریاض الجنة" میں بیان کیا ہے) ناصبی ماں باپ سے پیدا هوئے، ان کی والدہ نے نذر کی تھی کہ اگر ان کے یہاں لڑکا پیدا هوا تو اس کو (حضرت امام) حسین (علیہ السلام) کے زائروں کی ڈاکا زنی اور غارت گری کے لئے تربیت کروں گی، تاکہ زائروں کو غارت کرے اور ان کو قتل کردے! جب موصوف کی پیدائش ہوئی اور عنفوان شباب میں قدم رکھا تو آپ نے نذر پوری کرنے کے لئے زائروں کے راستہ پر بھیجا اور وہ جب کربلا کے نزدیک مسیب کے علاقے میں پہنچے ایک جگہ ان کو نیند آگئی اور خواب میں دیکھا کہ زائروں کا ایک قافلہ راستہ سے گزر رہا ہے اور زائروں کے قافلے کی گرد و غبار اس کے چہرے پر آ رہی ہے، اسی موقع پر انھوں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہوگئی ہے، حکم ہوا کہ اس کو دوزخ میں ڈال دو، لیکن اس پاک گرد و غبار کی وجہ سے آگ اس کے چہرے تک نہیں پہنچ رہی، اسی موقع پر ان کی آنکھ کُھل گئی درحالیکہ آپ بُری نیت سے گھبرائے ہوئے تهے. اس کے بعد سے موصوف اھل بیت علیہم السلام کی ولایت کے شیدائی بن گئے اور ایک طولانی مدت تک کربلا میں مقیم اور حائر حضرت امام حسین علیہ السلام میں مقیم رہے اور اس وقت سے اھل بیت علیہم السلام کی مدح سرائی میں مشغول رہے، اور ایک نورانی رباعی کے ذریعہ اپنی مدح سرائی کا آغاز کیا: اِٴذَا شِئْتَ النَّجٰاةَ فَزُرْ حُسَیناً لِکَیْ تَلْقٰی ٰ اِلا لہ قَرِیْرَ عَیْنِ فاِنَّ النارَ لَیْسَ تَمَسُّ جِسْمَاً عَلیہِ غُبار ُ زوَّار ِ الحسینِ. [6]

💝 زیارت امام حسینؑ کی فضیلت و آداب 💝 🌹 روایت اول: محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے. "مُرُوا شِیعَتَنَا بِزیَارَةِ قَبْر الْحُسَیْنِ بْنِ عَلیٍّ علیہ السلام، فَاِنَّ اِتیَانَہُ مُفْتَرَضٌ عَلَی کُلِّ مُوٴْمِنٍ یُقِرُّ لِلحُسَیْنِ بِالاِمَامَةِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ."[1] ترجمی: "ہمارے شیعوں کو زیارت قبر حسین علیہ السلام کی طرف حکم دو کیونکہ آپ کی زیارت ہر اس مومن پر لازم ہے جو خدا کی طرف سے آپ کی امامت کا اقرار کرتا ہے." 🌹 روایت دوم: حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "مَنْ زَارَ قَبْرَ الْحُسَیْنِ لِلّٰہِ وَفی اللّٰہِ، اٴعْتَقَہْ اللّٰہ مِنَ النّٰارِ، وَآمَنَہُ یَوْمَ الْفَزَعِ الاٴکبَرِ، وَلَمْ یَسئَلِ اللّٰہَ حَاجَةً مِن حَوَائِجِ الدُّنیاَ وَالآخِرَةِ اِلاّ اٴعطاَہُ."[2] ترجمہ: "جو شخص امام حسین علیہ السلام کی، خوشنودئ خدا کے لئے اور فی سبیل الله زیارت کرے تو خداوندعالم اس کو آتش جھنم سے نجات عطا کرے گا اور قیامت کے دن اس کو امان دے گا، اور خداوندعالم سے دنیا و آخرت کی کوئی حاجت طلب نہیں کرے گا مگر یہ کہ خداوندعالم اس کی حاجت پوری کردے گا." 🌹 روایت سوم: حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "مَنْ لَمْ یَاٴْت قَبْرَ الْحُسَیْنِ حَتّٰی یَمُوتَ، کاَنَ مُنْتَقَصَ الدِّیْنِ، مُنْتَقَصَ الْاٴِیْمٰانِ، وَاِنْ اٴُدْخِلَ الْجَنَّةَ کاَنَ دُوْنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ فی الْجَنَّةِ."[3] ترجمہ: "جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے نہ جائے یھاں تک کہ مرجائے تو ایسا شخص دین و ایمان کے لحاظ سے ناقص ہے، اور اگر جنت میں داخل هوجائے تو اس کا درجہ تمام اھل ایمان سے کم ہے." 🌹 روایت چہارم: حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: "مَنْ زَارَ قَبْرَالحُسَیْنِ بِشَطِّ الفُرَاتِ،کاَنَ کَمَنْ زَارَ اللّٰہَ فَوْقَ عَرْشِہِ."[4] ترجمہ: "جو شخص کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے اس شخص کے مانند ہے کہ جس نے فراز عرش پر خدا کی زیارت کی هو." 🌹 روایت پنچم امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص گھر سے نکلا اور اس کا ارادہ قبر حسین بن علی علیہما السلام کی زیارت ہے، اگر وہ پائے پیادہ ہو تو خداوند متعال ہر قدم کے بدلے اس کو ایک حسنہ عطا کرے گا اور اس کا گناہ مٹا دے گا؛ حتی کہ وہ حائر میں پہنچتا ہے تو خداوند متعال اس کو نیکوکاروں، مصلحین اور پسندیدہ و برگزیدہ افراد کے زمرے میں لکھ دیتا ہے؛ جب مناسک و اعمال کو مکمل کرتا ہے خداوند متعال اس کو فائزین (کامیاب افراد) کے زمرے میں قرار دیتا ہے، حتی کہ واپسی کا ارادہ کرتا ہے تو ایک فرشتہ آتا ہے اور کہتا ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم پر سلام کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: "اپنے اعمال کو ابتداء سے شروع کرو؛ تمہارے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے گئے."[5] 🔲 زیارت کے آداب: اس میں زیارت کے ان آداب کا ذکر ہے کہ زائرین کو دوران سفر اور حرم مطہر میں جن کا لحاظ رکھنا چاہیے اور وہ چند امور ہیں. ❶ زیارت کیلئے جانے سے قبل تین دن روزہ رکھے اور تیسرے دن غسل کرے جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسکا حکم صفوان کو دیاتھا. شیخ محمد بن مشہدی نے عیدین کی زیارت کے مقدمہ میں کہا ہے کہ جب زیارت کو جانے کا قصد کرے تو پہلے تین دن روزہ رکھے اور تیسرے دن غسل کرے اور اپنے اہل و عیال کو اپنے پاس جمع کر کے یہ پڑھے: اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْتَوْدِعُکَ الْیَوْمَ نَفْسِی وَٲَھْلِی وَمالِی وَوَلَدِی وَکُلَّ مَنْ کانَ مِنِّی بِسَبِیلٍ الشَّاھِدَ مِنْھُمْ وَالْغائِبَ. اَللّٰھُمَّ احْفَظْنا بِحِفْظِ الْاِیمَانِ وَاحْفَظْ عَلَیْنا. اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنا فِی حِرْزِکَ وَلاَ تَسْلُبْنا نِعْمَتَکَ وَ لاَ تُغَیِّرْ مَا بِنا مِنْ نِعْمَۃٍ وَعافِیَۃٍ، وَزِدْنا مِن فَضْلِکَ إنَّا إلَیْکَ راغِبُونَ. ترجمہ: اے معبود! میں آج تیرے سپرد کرتا ہوں اپنی جان، اپنا خاندان، اپنا مال اور اولاد اور وہ سب کچھ جو میرے ساتھ متعلق ہے. وہ اس وقت حاضر ہے یا غائب. اے معبود! ہماری حفاظت کر، اپنی نگہبانی سے ہمارے ایمان کی اور ہماری حفاظت فرما. اے معبود! ہمیں اپنی پناہ میں رکھ، ہم سے اپنی نعمت واپس نہ لے اور تبدیلی نہ کر اس میں جو نعمت اور سکھ ہمیں دیا ہے اور ہم پر زیادہ فضل فرما کہ ہم نے تیری طرف رغبت کی ہے. اس کے بعد نہایت عاجزی اور فروتنی کے ساتھ گھر سے نکلے اور یہ کلمات کثرت سے دہراتا جائے: "لَا اِلَہَ اِلَّااﷲ ُوَاﷲُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ ﷲِ." اللہ کے سوائے کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے. ❷ اس کے بعد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکی آل پر درود پڑھتے ہوئے بڑے وقار اور آہستگی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چلے.

🔴 بیبی سکینہؑ کا زندان میں انتقال 🔴 جب زائرین شام سے کربلا جاتے ہیں تو سکینہؑ انہیں پیغام دے کر کہتی ہیں کہ میرے بابا سے کہنا کہ آپ کو پردیسی سکینہ بہت یاد کرتی ہے. قید خانے میں ایک واقعہ ہوگیا اور وہ یہ کہ ایک بچی کا انتقال ہوگیا. ہوا یہ کہ جس وقت یزید کا دربار ختم ہوا اور قیدی بھیجے گئے تو اس کی محل سرا کے پاس ایک خرابہ تھا، یعنی ٹوٹا ہوا مکان تھا اُسکا حکم یہ تھا کہ یہ قیدی وہاں بھیج دیئے جائیں. جب قیدی اس خرابے میں داخل کئے گئے اور دروازہ بند کردیا گیا تو دن میں اتنا اندھیرا ہوگیا کہ ایک کو دوسرا دیکھ نہیں سکتا تھا. تمام قیدی گھبرا گئے. انہوں نے کہاں ایسی جگہیں دیکھی تھیں جہاں دن میں بھی اتنا اندھیرا ہو؟ تمام بچے اپنی ماؤں کی گودیوں میں بلک بلک کر رونے لگے. ماؤں نے اُنکے منہ پر ہاتھ رکھا، بچو! روؤ نہیں، شہزادی کو تکلیف ہوگی، جنابِ زینبؑ کو رنج ہوگا. جنابِ سکینہؑ کچھ زیادہ گھبرا گئیں اور بار بار کہتی تھیں: پھوپھی جان! ہم کہاں آگئے؟ ایک کو دوسرا دیکھ نہیں سکتا، ہم یہاں کیسے زندگی گزاریں گے؟ پھوپھی! میرے بابا کب آئیں گے؟ جنابِ زینبؑ بچی کو سمجھاتی رہیں. آپ نے سمجھا کر سکینہ کو سلا دیا. رات جو گزری اور دن آیا تو سکینہ نے کہا: پھوپھی جان! کیا یہاں دن نہیں نکلے گا؟ یہاں تو روشنی ہے ہی نہیں؟ میں گھٹ کر مرجاؤں گی. جنابِ زینبؑ سمجھاتی رہیں، یہانتک کہ جب دوسری شام آگئی تو سکینہؑ کچھ اتنی زیادہ گھبرا گئی کہ اب جنابِ زینبؑ جتنا سمجھاتی ہیں، اس بچی کو قرار نہیں آتا، مسلسل رو رہی ہے. بابا! ارے جب آپ گئے تھے تو مجھ سے فرما گئے تھے کہ میں تمہیں لینے کیلئے آؤنگا، آپ کہاں چلے گئے؟ میں کیا کروں؟ میں اس جگہ کیسے رہ سکتی ہوں؟ میری روح نکل رہی ہے، بابا! آئیے تقریباً آدھی رات تک یہ بچی روتی رہی. اس کیبعد کبھی جنابِ زینبؑ گود میں لیتی تھیں، کبھی امام زین العابدینؑ گود میں لیتے تھے، کبھی جنابِ رباب گود میں لیتی تھیں. جنابِ رباب کے دوبچے تھے، ایک جنابِ سکینہؑ اور ایک جنابِ علی اصغرؑ۔ سکینہ کو کسی کی گود میں قرار نہیں آتا تھا. آخر تھک کر کچھ آنکھ بند ہوئی، تھوڑی دیر تک سوئیں، ایک مرتبہ جو اٹھیں تو اُنہوں نے آواز دی: پھوپھی جان! میرے بابا آئے ہوئے تھے، مجھے چھوڑ کر پھر کہاں چلے گئے؟ ابھی ابھی مجھے گود میں لئے ہوئے تھے، مجھے پیار کر رہے تھے، وہ کہاں چلے گئے ہیں مجھے چھوڑ کر؟ یہ جو باتیں شروع کیں تو اہلِبیتؑ میں ایک کہرام برپا ہوگیا. بے اختیار ہوکر بیبیاں رونے لگیں. جب آوازیں بلند ہوئیں تو محل سرائے یزید تک یہی گریہ و بکا پہنچا. یہ ملعون جاگ اُٹھا. کسی سے کہا کہ پوچھ کر آؤ کہ یہ کیسا شور ہے؟ امام زین العابدینؑ نے کہا کہ بچی یتیم ہے، اُس نے خواب میں اپنے باپ کو دیکھا ہے اور اب وہ پکار رہی ہے، یہ تمام بیبیاں اسی لئے رو رہی ہیں. اُس ملعون نے کیا کیا؟ یہ تھے تسلی دینے کے طریقے؟ کہا: اچھا! باپ کو پکار رہی ہے، اُس کا سر لے جاؤ، حسین کا سر لے جاؤ اور اُس بچی کو دے دو. یوں تسلیاں دی جاتی ہیں؟ چنانچہ امام حسینؑ کا سراقدس لایا گیا. یہ جو بیبیوں نے سنا تو سب کی سب کھڑی ہو گئیں. امام حسینؑ کا سر امام زین العابدینؑ نے لیا. جس وقت آپ اندر پہنچے، سکینہؑ نے فوراً وہ سر لے لیا اور اسے سینے پر رکھا، منہ پر منہ رکھ دیا. بابا! یہ گلا کس نے کاٹ ڈالا ہے؟ مجھے کس نے یتیم کر دیا؟ بابا! آپ تو ابھی آئے تھے تو آپ کی گردن کٹی ہوئی نہ تھی، یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں؟ کہتے کہتے رونے لگیں اور چیخ کر رونے لگیں. بیبیوں میں ایک کہرام برپا ہوگیا آخر اس بچی کی آواز کم ہونے لگی. جب بالکل اس بچی کی آواز بند ہوگئی تو وہ بیبیاں سمجھیں کہ شاید سو گئی ہے. جنابِ زینبؑ جو قریب پہنچیں اور ہاتھ رکھا تو جسم ٹھنڈا معلوم ہوا. جنابِ زینبؑ نے آواز دی: سجاد بیٹا! جلدی آؤ، سکینہ اپنے بابا کے پاس جارہی ہے. چنانچہ امام زین العابدینؑ جب آئے تو دیکھا کہ سکینہ رخصت ہوچکی تھی، اس دنیا سے جاچکی تھی۔ اس بچی کی قبر وہیں بنی اُس شام کے قید خانے میں، زندانِ شام میں۔ عزادارو! یہ قبرستان نہ تھا، یہ قید خانہ تھا. اگر کوئی قیدی مرجاتا تھا، اُن کا قبرستان الگ تھا. اس میں جو قبر بنی اس بچی کی تو غالباً اس کی وجہ یہی ہے کہ کوئی جنازہ اُٹھانے والا نہ تھا. جب اہلبیتؑ رہا ہو کر جانے لگے تو جنابِ زینبؑ نے شام کی عورتوں سے کہا کہ بیبیو! ہم جا رہے ہیں، میں اپنے بھائی کی ایک نشانی چھوڑ کر جارہی ہوں، ارے جب کبھی آنا تو اس بچی کی قبر پر ذرا سا پانی چھڑک دیا کرنا. الالعنةالله على القوم الظالمين. 📚 ماخوذ از کتاب: روایات عزا۔ مصنف: علامہ حافظ کفایت حسین نوراللہ مرقدہ 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵