ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 285
مشترکین
-324 ساعت
-77 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
1 284
کیا یہ سچ ہے کہ حضرت عمر دامادِ جناب علی ہیں؟
1- تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر بن خطاب اسلام لائے تو ان کی عمر چالیس 40 برس تھی، اور جب تئیسویں ہجری 26 ذوالحج کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کی عمر مبارک 63 برس تھی۔
2- تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ دعوتِ ذوالعشیرہ یعنی اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علی کی عمر مبارک 9 برس تھی۔
3- تمام شیعہ، سنی مورخین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ امام علی کا جناب فاطمہ زہرا سے نکاح 25 برس کی عمر میں ہوا۔۔۔ یعنی دعوتِ ذوالعشیرہ کے 16 برس بعد۔
4- یعنی عمر بن خطاب، دعوتِ ذوالعشیرہ کے 7 سال بعد اسلام لائے۔۔۔ یعنی جب انہوں نے کلمہ پڑھا تو اس وقت امام علی کی عمر مبارک 16 برس تھی۔
5- حضرت عمر کے اسلام لانے کے 9 برس بعد امام علی کا نکاح بحکمِ خدا جناب زہرا سے ہوا۔تمام مورخین نے یہ بھی لکھا کہ امام علیؑ کی شادی کے ایک سال بعد امام حسنؑ کی ولادت باسعادت ہوئی اور 2 برس بعد امام حسینؑ دنیا میں تشریف لائے اور پھر 4 برس بعد سیدہ زینبؑ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ٹھیک!
6- اہل سنت مورخین کے مطابق جناب ام کلثوم بنت امام علیؑ، جناب زینبؑ کے 2 سال بعد پیدا ہوئیں۔
7- تو بی بی ام کلثوم کی پیدائش پر عمر بن خطاب کی عمر 55 برس تھی (49+6=55)
9- جناب ام کلثوم کی ولادت کے ٹھیک 8 سال بعد حضرت عمر قتل ہوگئے یعنی 63 سال کی عمر میں (63-55=8)
اب نتیجہ نکالتے ہیں۔۔۔
اہل سنت تاریخ دانوں کے مطابق عقدِ ام کلثوم حضرت عمر کے قتل سے 3 سال پہلے ہوا اور سب نے یہ بھی لکھا کہ اس مبینہ نکاح سے حضرت عمر کے ہاں ام کلثوم سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا، جس کا نام زید بن عمر تھا۔
یعنی شادی کے وقت ام کلثوم کی عمر 5 برس ہوئی (8-3=5)
لو جی افسانۂ عقدِ ام کلثوم کے موجودہ باراتیوں کا تو جنازہ ہی نکل گیا۔۔۔ ذرا باراتی مجھے بتائیں گے کہ کس عقلی اور منطقی قانون کے تحت 5 برس کی عمر میں کسی بچی کی شادی بھی ہو جائے اور اس سے ایک بچہ بھی پیدا ہو جائے۔۔۔؟؟؟
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷
1 284
🌸 ام کلثومؑ بنت علی علیہ السلام 🌸
جناب ام کلثومؑ کی تاریخ ولادت دقیق طور پر معلوم نہیں ہے۔ اختلافی روایات کی بنا پر آپ کی ولادت باسعادت 4، 5 یا پھر 6 ہجری میں ہوئی۔
جناب ام کلثومؑ کے شوھر آپ کے چچازاد بھائی عون بن جعفر طیار تھے۔ جیسا کہ جناب زینبؑ کے شوھر بھی آپ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر طیار تھے۔ بیبی ام کلثومؑ کے شوھر جناب عون بن جعفر طیار کربلا میں شھید ھو گئے تھے۔
■ جناب زینبؑ کے شانہ بشانہ
حضرت ام کلثومؑ کربلا کے واقعہ میں موجود تھیں اور اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے ساتھ ساتھ اسراء کے درمیان بھی تھیں اور اس سفر میں آپ نے بھی متعدد مقامات پر خطبے دیئے ہیں۔ جیسے کوفہ، بعلبک، سیبور، نصیبیین، اور دیگر منازل پر جو آپ نے اس سفر میں طے کیں خطبے دیئے ہیں۔
کوفہ میں جناب ام کلثومؑ نے جو خطبہ دیا اس نے تہلکہ مچا دیا تھا جب انھوں نے دیکھا کہ لوگ صدقے کی روٹیاں اور خرمے اسیروں کے درمیان تقسیم کر رھے ہیں تو آپ آئیں اور بچوں کے ھاتھوں اور منہ سے خرمہ اور روٹیاں نکال کر پھینک دیں اور کہا: کیا تم لوگ ھمیں نہیں پہچانتے؟ کیا تمھیں نہیں معلوم کہ صدقہ ھمارے اوپر حرام ہے؟
شام سے کربلا واپسی پر چہلم کے دن جب حضرت زینبؑ امام علیہ السلام کی قبر کے پاس پہنچیں تو بیہوش ھو گئیں اور حضرت ام کلثومؑ بھی ایسے ھی۔ یعنی یہ دونوں بہنیں کربلا کی تمام منازل میں ساتھ ساتھ رہیں۔ حضرت ام کلثومؑ ھمیشہ اپنی بہن حضرت زینبؑ کا احترام کرتی تھیں اور کبھی آپ سے آگے قدم نہیں رکھتی تھیں اور آپ سے پہلے کلام نہیں کرتی تھیں لیکن جب حضرت زینبؑ مصائب پڑھ کر بیہوش ھو جاتی تھیں تو حضرت ام کلثومؑ مصائب بیان کرنے کا سلسلہ آگے بڑھاتی تھیں۔
جیسا کہ حضرت ام البنینؑ کے گھر میں خواتین کی مجلس ھو رھی تھی حضرت زینبؑ مصائب پڑھ رھی تھیں کہ بیہوش ھو گئیں تو جناب ام کلثومؑ نے اٹھ کر مجلس کو تمام کیا۔ یعنی جناب ام کلثومؑ ھمیشہ جناب زینبؑ کے شانہ بشانہ رھیں۔
■ شہادت
کتاب "ریاحین الشریعہ" کی تیسری جلد کے صفحہ 256 میں بیان ھوا ہے کہ حضرت ام کلثومؑ اس وجہ سے کہ جیسا صبر اللہ تعالٰی نے جناب زینبؑ کو دیا تھا ان کے پاس نہیں تھا کربلا سے واپسی کے چار ماہ بعد مدینہ میں دق کر کے دنیا سے رخصت ھو گئیں اور درحقیقت آپ کی رحلت کی وجہ سفر کربلا میں آپ پر توڑے گئے مصائب و آلام کے پہاڑ تھے، بدن پر تازیانوں کے زخم تھے جن سے آپ جانبر نہیں ھو پائیں اور انہی تمام صدموں کی بنا پر آپ شھید ھو گئیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
السلام عليك یا سیدہ ام کلثوم بنت امام علی علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🌹 ام کلثومؑ بنت امام علی علیہ السلام 🌹
جناب ام کلثومؑ کی تاریخ ولادت دقیق طور پر معلوم نہیں ہے۔ اختلافی روایات کی بنا پر آپ کی ولادت باسعادت 4، 5 یا پھر 6 ہجری میں ہوئی۔
جناب ام کلثومؑ کے شوھر آپ کے چچازاد بھائی عون بن جعفر طیار تھے۔ جیسا کہ جناب زینبؑ کے شوھر بھی آپ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر طیار تھے۔ بیبی ام کلثومؑ کے شوھر جناب عون بن جعفر طیار کربلا میں شھید ھو گئے تھے۔
■ جناب زینبؑ کے شانہ بشانہ
حضرت ام کلثومؑ کربلا کے واقعہ میں موجود تھیں اور اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے ساتھ ساتھ اسراء کے درمیان بھی تھیں اور اس سفر میں آپ نے بھی متعدد مقامات پر خطبے دیئے ہیں۔ جیسے کوفہ، بعلبک، سیبور، نصیبیین، اور دیگر منازل پر جو آپ نے اس سفر میں طے کیں خطبے دیئے ہیں۔
کوفہ میں جناب ام کلثومؑ نے جو خطبہ دیا اس نے تہلکہ مچا دیا تھا جب انھوں نے دیکھا کہ لوگ صدقے کی روٹیاں اور خرمے اسیروں کے درمیان تقسیم کر رھے ہیں تو آپ آئیں اور بچوں کے ھاتھوں اور منہ سے خرمہ اور روٹیاں نکال کر پھینک دیں اور کہا: کیا تم لوگ ھمیں نہیں پہچانتے؟ کیا تمھیں نہیں معلوم کہ صدقہ ھمارے اوپر حرام ہے؟
شام سے کربلا واپسی پر چہلم کے دن جب حضرت زینبؑ امام علیہ السلام کی قبر کے پاس پہنچیں تو بیہوش ھو گئیں اور حضرت ام کلثومؑ بھی ایسے ھی۔ یعنی یہ دونوں بہنیں کربلا کی تمام منازل میں ساتھ ساتھ رہیں۔ حضرت ام کلثومؑ ھمیشہ اپنی بہن حضرت زینبؑ کا احترام کرتی تھیں اور کبھی آپ سے آگے قدم نہیں رکھتی تھیں اور آپ سے پہلے کلام نہیں کرتی تھیں لیکن جب حضرت زینبؑ مصائب پڑھ کر بیہوش ھو جاتی تھیں تو حضرت ام کلثومؑ مصائب بیان کرنے کا سلسلہ آگے بڑھاتی تھیں۔
جیسا کہ حضرت ام البنینؑ کے گھر میں خواتین کی مجلس ھو رھی تھی حضرت زینبؑ مصائب پڑھ رھی تھیں کہ بیہوش ھو گئیں تو جناب ام کلثومؑ نے اٹھ کر مجلس کو تمام کیا۔ یعنی جناب ام کلثومؑ ھمیشہ جناب زینبؑ کے شانہ بشانہ رھیں۔
■ شہادت
کتاب "ریاحین الشریعہ" کی تیسری جلد کے صفحہ 256 میں بیان ھوا ہے کہ حضرت ام کلثومؑ اس وجہ سے کہ جیسا صبر اللہ تعالٰی نے جناب زینبؑ کو دیا تھا ان کے پاس نہیں تھا کربلا سے واپسی کے چار ماہ بعد مدینہ میں دق کر کے دنیا سے رخصت ھو گئیں اور درحقیقت آپ کی رحلت کی وجہ سفر کربلا میں آپ پر توڑے گئے مصائب و آلام کے پہاڑ تھے، بدن پر تازیانوں کے زخم تھے جن سے آپ جانبر نہیں ھو پائیں اور انہی تمام صدموں کی بنا پر آپ شھید ھو گئیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
السلام عليك یا سیدہ ام کلثوم بنت امام علی علیہ السلام
🔘 اے خداوند متعال امام العصر والزمان کی خدمت میں ہدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں۔ تو بھی قبول و منظور فرما۔ آمین
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 عیب پوشی 🔷
آدمیوں کے عیوب کی تلاشی خباثتِ نفس ہے اور انکے عیبوں کا اظہار معیوب بلکہ آیات واخبار سے پایا جاتا ہے کہ جو شخص عیوب کا متلاشی ہو اور رسوا کرنیوالا ہو وہ خبیث ترین انسان ہے.
● ارشادِ خداوندی ہے..
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. (القرآن)
ترجمہ:
جو لوگ مؤمنين کے اعمال ناشائستہ کے ظاہر کرنے کو دوست رکھتے ہیں انکے لئے عذاب دردناک ہے.
●حضرت محمدؐ نے فرمایا؛
مَنْ عَلِمَ مِنْ اَخِیْہِ سَیِّئًا فَسَتَرَهَا سَتَرَاللەُ عَلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. (میزان الحکمہ:14377)
ترجمہ:
جو کوئی اپنے بھائی کی کسی برائی پر اطلاع پائے اور اسے چھپا دے تو اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا.
● رسول اکرمؐ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، عرض کیا؛
میں چاہتا ہوں آپ مجھے کوئی طریقہ بتائیں کہ خداوندمتعال میرے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے.
آپؐ نے فرمایا؛
اُسْتُرْ عُیُوْبَ اِخْوَانِکَ یَسْتَرُ اللهُ عَلَیْکَ عُیُوْبَکَ.
آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب پوشی کیا کریں، اللہ تعالٰی آپ کی عیب پوشی فرمائے گا. (میزان الحکمہ:(14380)
● احادیث میں وارد ہوا ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا وہ سخت رو رہا ہو گا. اسے خطاب ہو گا، پوچھا جائے گا کہ کیوں روتے ہو؟
وہ عرض کریگا؛ میں آج اس خیال سے روتا ہوں کہ آج اہلِ محشر اور فرشتوں کے درمیان میرے کیا کیا عیب ظاہر ہوں گے.
اسے خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوگا؛
اے میرے بندے! میں نے دنیا میں اس وقت جب تو میری نافرمانی میں مصروفِ عمل تھا اور خوشحالی سے ہنس رہا تھا، تجھے تیرے عیب ظاہر کر کے رسوا نہیں کیا، آج کس طرح تیری آبروریزی کرونگا جبکہ آج تو پریشان ہے اور رو رہا ہے.
■ ایک دن حضرت موسٰیؑ سو رہے تھے کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے آپؑ کا عصا چُرا لیا، اسے درمیان سے کاٹ کر دونوں ٹکڑے زمیں میں دفن کر دیے.
جب حضرت موسٰیؑ کی آنکھ کھلی تو آپ نے اپنا عصا غائب پایا. اسی وقت اپنے رب ذوالجلال کے حضور شکایت کی؛ خدایا یہ میرے عصا کا کیا ہوا. میرا عصا کدھر گیا؟
ندا آئی؛ موسٰیؑ آپ کے عصا کو کسی نے دو ٹکڑے کرکے زمین میں دفن کردیا ہے.
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا کون ہے وہ..؟ کس نے یہ کام کیا..؟ کہاں پر چھپایا ہے میرے عصا کو..؟
جواب ملا؛
موسٰیؑ آپ کو تو معلوم ہے، میرا حکم ہے کہ میرے بندوں کی پردہ پوشی کی جائے. آپ جس جگہ کھڑے ہیں اسی جگہ پر اپنے عصا کو آواز دیں، میں آپ کے عصا کو سننے کی قدرت عطا کرونگا، وہ آپ کی آواز سن کر آپ کا جواب دے گا.
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے عصا کو آواز دی. عصا نے خدا کی قدرت سے جواب دیا اور زمین سے دونیم حالت میں برآمد ہوا. آپؑ نے اپنے عصا کے دونوں حصوں کو اٹھا لیا اور پھر آپس میں ملا دیا تو وہ ٹھیک ہو گیا.
(موضوعی داستانیں)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🌺 گنہگارجوان اور اللہ کی بخشش🌺
بنی اسرائیل کا ایک جوان جو اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف تھا. اس نے بیس(۲۰) سال تک نماز، روزہ اور اطاعت خداوندی میں گزارے اور ۲۰ سال تک اس جوان کا یہی کام تھا. ایک دن اس نے فریب کھایا اور آہستہ آہستہ اللہ تعالی سے دور ہوتا گیا اور اس کی عبادتیں گناہوں میں ہو گئیں. خلاصہ گنہگار ہو گیا.
اس نے بیس سال کے عرصے میں ایک مرتبہ آئینہ میں دیکھا کہ سر کے بال سفید چکے تھے. وہ اپنے کیے پر بہت افسوس کر رہا تھا.
اس جوان نے کہا اے اللہ تعالی میں نے بیس سال عبادت کی اور بیس سال معصیت کی ہے اگر دوبارہ آپ کی طرف آؤں تو مجھے قبول کرو گے؟
اس نے آواز سنی:
«اجبتنا فاحببناک ترکتنا فترکناک و عصیتنا فامهلناک و ان رجعت الینا قبلنا»
جب تک آپ ہمارے ساتھ دوست تھے. اسی طرح ہم بھی آپ کے دوست تھے. آپ نے ہم کو چھوڑ دیا، اسی طرح ہم نے بھی آپ کو ترک کردیا. تم نے معصیت کی پس ہم نے تمہیں مہلت دی اور اگر آپ ہمارے پاس واپس آتے ہیں، تجھے قبول کریں گے.
📚(ثمراۃ الحیوۃ، ج۳، ص۳۷۷)
پس اس نے توبہ کی اور ایک عابد قرار پایا، اور اسی طرح اللہ تعالی کی بخشش تمام گنہگاروں کےلئے ہے اور رہے گی.
📚اصول کافی: ج 2، ص435.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 ممنون و مشکور 🔷
ﮐﻞ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮕﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ، ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ
ﺳﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ کیلئے ﻋﺒﺮﺕ ﮨﮯ:
ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻠﯽ، ﺑﭽﮯ ﺩﮮ ﮔﺌﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﻠﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻏﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻠﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭨﮩﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﮐﯽ ﻟﮓ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ ۔ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮈﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺑﮍﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ
ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺑﻠﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ
ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﭘﻮﭦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﮨﻦ ﺟﮑﮍ
ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﺑﻠﯽ ﮐﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﺩﯾﺎ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﻨﮯ
ﻟﮕﯽ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ!!!
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﭘﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺳُﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺑِﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻧﺬﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ؟؟
ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ
ﺟﺎﺗﮯ؟
ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ:
ﻭَﻫُﻮَ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺃَﻧﺸَﺄَ ﻟَﻜُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَﺓَ ﻗَﻠِﻴﻼً ﻣَّﺎ ﺗَﺸْﻜُﺮُﻭﻥَ.
ترجمہ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺎﻥ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ، ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔
ﺳﻮﺭﮦ ﻣؤﻣﻨﻮﻥ ﺁية: 78
👆ایک مراسلہ👆
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
اوور تھنکنگ کا 3 سیکنڈ والا سوئچ
آپ کا دماغ آپ کا دشمن نہیں ۔۔۔۔۔۔ بس اس کا سافٹ ویئر پرانا ہے۔
اسے سمجھ لیں گے تو اوور تھنکنگ خود ختم ہو جائے گی۔
ہم اوور تھنک کیوں کرتے ہیں؟
1. دراصل یہ دماغ میں دو باس کی لڑائی ہے
آپ کے دماغ میں دو مالک ہیں۔
پہلا باس خوف کا الارم ایمیگڈالا
یہ بہت پرانا حصہ ہے اس کا صرف ایک کام ہے آپ کو خطرے سے بچانا اس کے لیے ہر نیا کام خطرہ ہے۔
آپ نے سوچا میں ویڈیو بناؤں؟
تو یہ 1 سیکنڈ سے بھی پہلے الارم بجا دیتا ہے کہ نہیں لوگ ہنسیں گے وہ کیا کہیں گے ایسا مت کرو۔
دوسرا باس عقل والا باس پری فرنٹل کورٹیکس
یہ اچھے فیصلے کرتا ہے لیکن یہ سست ہے۔
جب تک یہ سوچے پہلا باس اپنا ڈر والا الارم بجا کر آپ کو روک چکا ہوتا ہے۔
اسی لڑائی کا نام اوور تھنکنگ ہے۔
ڈر والا باس جیت جاتا ہے
عقل والا ہار جاتا ہے۔
2. جب آپ فارغ بیٹھے ہوتے ہیں تو دماغ کا ایک خاص سسٹم آن ہو جاتا ہے۔ اسے ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک یعنی ڈی ایم این کہتے ہیں۔
اس سسٹم کا کام ہی آپ کو بھٹکانا ہے۔
یہ آپ کو کبھی پرانی باتوں کی شرمندگی میں لے جاتا ہے کاش ایسا نہ کہتا اور کبھی آنے والے کل کے ڈر میں اگر فیل ہو گیا تو؟
آپ فارغ ہیں تو یہ سسٹم خود بخود آن ہو جاتا ہے۔
3. تھکاوٹ والا زہر (کورٹیسول):
جب بھی ایک منفی سوچ آتی ہے آپ کے جسم میں ایک زہریلا ہارمون بنتا ہے جس کا نام کورٹیسول ہے۔ یہ سٹریس والا ہارمون ہے۔
آپ جتنا زیادہ سوچتے ہیں یہ زہر اتنا بڑھتا ہے اسی لیے آپ نے کوئی جسمانی کام بھی نہیں کیا ہوتا پھر بھی اوور تھنکنگ کے بعد آپ کا جسم ٹوٹنے لگتا ہے
سر بھاری ہو جاتا ہے یہ اسی زہر کی وجہ سے ہے۔
کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے؟
دل میں آیا چلو کام کر لیتا ہوں اور دماغ نے فوراً کہا چھوڑ یار کل کریں گے تھک جاؤ گے لوگ کیا کہیں گے
بس یہی اوور تھنکنگ ہے۔
اس کا حل کیا ہے؟
3 سیکنڈ والا سوئچ
آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ پہلے باس کے بولنے سے پہلے ہی کام شروع کر دینا ہے۔
طریقہ بہت آسان ہے:
1. جب بھی دل میں خیال آئے کہ یہ کام کل کروں گا تو فوراً سمجھ جائیں پہلا باس بول پڑا ہے۔
2. فوراً دل میں بولیں 3... 2... 1...
3. اور اسی وقت جگہ سے ہل جائیں
بس ہلنا ہے پورا کام نہیں کرنا۔
نماز کا خیال آیا؟ 3-2-1 کہیں اور صرف وضو کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔۔۔۔
ویڈیو بنانی ہے؟ 3-2-1 کہیں اور صرف موبائل کا کیمرہ آن کر لیں۔
پڑھائی کرنی ہے؟ 3-2-1 کہیں اور صرف کتاب کھول لیں
جیسے موٹر سائیکل کو دھکا لگانا مشکل ہوتا ہے ایک بار سٹارٹ ہو جائے تو خود چلتی ہے۔
آپ کا کام صرف پہلا دھکا دینا ہے۔
کیونکہ سوچ کو سوچ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سوچ کو صرف کام سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
جب آپ 3-2-1 کہہ کر ہلتے ہیں تو دماغ کا سارا ڈر ختم ہو جاتا ہے اور دل میں ایک خوشی آتی ہے کہ شکر ہے کر لیا۔
ایک بار کر کے دیکھیں 10 سیکنڈ میں دل ہلکا ہو جائے گا۔
آج سے ایک وعدہ کریں کوئی بھی اچھا خیال آئے تو 3 سیکنڈ سے زیادہ نہیں سوچنا ۔۔۔ سیدھا 3-2-1 اور شروع۔
💬 کیا آپ بھی اوور تھنکنگ سے تنگ آ چکے ہیں؟
🔄 اس پوسٹ کو شیئر کریں شاید آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بدل دے۔
ایسے ہی سائنسی، عملی اور آسان ذہنی طاقت کے راز سیکھنے کے لیے فالو کرنا نہ بھولیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷️ وفات جناب فاطمہؑ بنت اسد 🔷️
#تعزیت_عرض_ہے۔😭
حضرت ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ ﺑﻦ ﮨﺎﺷﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﻣﻨﺎﻑ 55 ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﮨﺠﺮﺕ اس دنیا میں تشریف لائیں. اور رحلت 23 صفرالمظفر یا پھر 7 رمضان المبارک کو ہوئی جبکہ ہجری میں اختلاف ہے۔ آپ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻣﺎﺟﺪﮦ ﺍﻭﺭ حضرت ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐؑ ﮐﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ آپکی ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻣﺎﺟﺪﮦ کا نام ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﮨﺮﻡ ﺑﻦ ﺭﻭﺍﺣﮧ ﮨﮯ. جناب ﻓﺎﻃﻤﮧؑ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ، ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﯿﮟ.
🔷 شادی
آپ کی شادی محسن اسلام، سردار قریش، کلید بردار کعبہ جناب ابوطالبؑ سے ہوئی.
حضرت ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻄﻠﺐؑ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ علیہ السلام اور جناب ﺍﺳﺪ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ سلام الله عليها ﭘﮩﻠﮯ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﮭﮯ.
ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺟﺘﻤﺎﻉ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ جناب ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐؑ ﻧﮯ جناب ﺍﺳﺪ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﯾﻮﮞ ﺧﻄﺒﮧ ﭘﮍﮬﺎ:
ﺣﻤﺪ ﺍﺱ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺟﻮ ﻋﺎﻟﻤﯿﻦ ﮐﺎ ﺭﺏ ﮨﮯ، ﻋﺮﺵ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺰﺕ ﻭﺷﺮﻑ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺷﮏ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺐ ﺳﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﺒﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺑﺮﺗﺮﯼ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻭﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ علیہما السلام ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ. ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻖ ﻣﮩﺮ ﺩﯾﺎ.
ﭘﮭﺮ جناب ﺍﺳﺪ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﮟ. جناب ﺍﺳﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﯿﮟ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ.
🔷 محدثہ
جناب ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ ﻣﺤﺪﺛﮧ بھی ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﻮ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮلخدﺍؐ ﺳﮯ ﭼﮭﯿﺎﻟﯿﺲ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﺘﺐ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ میں ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻔﻖ ﻋﻠﯿﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ.
🔷 بیعتِ رسولؐ
ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻌﻔﺮ ﺻﺎﺩﻕ علیہ السلام ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ:
ﺟﺐ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ۖ ﮐﻮ ﻧﺒﻮﺕ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﺟﺰﯾﺮﺓ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ. ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﻘﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ.
ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﻤﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:
ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﻻﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﻘﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ. ﺍﺑﮭﯽ ﺩﺱ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮔﯿﺎﺭﮨﻮﺍﮞ ﻓﺮﺩ ﺗﮭﯿﮟ. ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ۖ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﺍ۔
ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺍﻟﺤﺪﯾﺪ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ:
ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮔﯿﺎﺭﮨﻮﯾﮟ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﯾﺠﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮۖ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮨﯿﮟ۔
ﺯﺑﯿﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ:
ﻓﺎﻃﻤﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﯽ:
"ﯾٰﺎَﯾُّﮭَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﯽُّ ﺍِﺫَﺍ ﺟَﺂﺋَﮏَ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨٰﺖُ ﯾُﺒَﺎﯾِﻌْﻨَﮏَ."
ﺍﮮ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ! ﺟﺐ ﻣﻮﻣﻦ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﯾﮟ.
ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ۖ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﯽ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﯽ. .
🔷 پرورشِ رسولؐ
ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﻟﺐ علیہ السلام ﮐﯽ ﮐﻔﺎلت ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﺎﺩﯼ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻭﺭ رﺍﮨﻨﻤﺎﺋﮯ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺑﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ﻭ ﺷﻔﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﭘﺎﺋﯽ. ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻟﺴﻮﺯﯼ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ کے یتیم ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺎ. ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ، ﻣﺎﮞ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮨﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﻟﻢ ﯾﮑﻦ ﺑﻌﺪ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﺍﺑﺮﺑﯽ ﻣﻨﮭﺎ."
ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﻟﺐ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ (ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﺍﺳﺪ) ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺷﻔﯿﻖ ﻭ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ.
⬛ رحلت
ﺟﺐ ﺩﺍﺭِ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺭﺣﻠﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺍﻃﻼﻉ ﺩﯾﻨﮯ ﺁﺋﮯ. ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻋﻠﯽ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔
ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺁﺑﺪﯾﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ! ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ.
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍپنا ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩیا ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﯾﮧ ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻔﻦ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﺎیا ﺟﺎﺋﮯ."
ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻗﺒﺮ ﮐﮭﻮﺩﯼ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻓﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺧﻮﺩ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﮮ، ﺍﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﻮﺩ ﮐﺮ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﺤﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﭧ ﮔﺌﮯ. ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻣﻦ ﺍﻡ ﺧﯿﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﻨﺖ ﺧﯿﺮ ﺍﻡ."
ترجمہ:
ﺍﮮ ﻣﺎﺩﺭ ﮔﺮﺍﻣﯽ! ﺧﺪﺍ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﺰﺍﺋﮯ ﺧﯿﺮ ﺩﮮ ﺁﭖ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻣﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ.
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯﯼ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ! ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ؟
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﯿﺮﮮ ﭼﭽﺎ ﺍﺑﻮﻃﺎﻟﺐ (علیہ السلام) ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ فاطمہ بنت اسد (س) ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺍﺣﺴﺎﻧﺎﺕ ﮨﯿﮟ.
آپ کی قبر اقدس جنت البقیع میں ہے۔
📚 حوالہ جات:
ﺍﺳﺘﯿﻌﺎﺏ، ج2، ص774۔
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺧﻤﯿﺲ، ج2، ص526۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🐠🐈 صدقه 🐈🐠
ایک نوجوان کی ماں سخت بیمار اور ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں داخل تھی۔ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ برخوردار زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ہم اب مایوس ہو چکے ہیں۔ تم کسی بھی لمحہ کوئی بری خبر سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا۔
رات گھر گزارنے کے بعد صبح ماں سے ملاقات کیلئے ہسپتال جاتے ہوئے نوجوان راستے میں ایک پیٹرول پمپ پر رکا، پٹرول بھروانے کیلئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اس کی نظر سروس شاپ کی دیوار کے پاس پڑی جہاں ایک بلی نے خالی ڈبے کے نیچے بچے دےرکھے تھے۔
یہ نوزائیدہ بچے بہت ہی چھوٹے تھے جو ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ نوجوان کے ذہن میں جو پہلی بات آئی وہ یہ تھی کہ اتنےنازک اور چھوٹے سے بچے کھانا کہاں سے اور کیسے کھائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی کار ایک طرف ہٹا کر بند کی، دکان سے جا کر مچھلی کا ایک ڈبہ خریدا، کھول کر اسے بلی کے بچوں کےپاس رکھا۔ بچوں نے کھانا شروع کیا تو وہ خوش ہو کر اپنی کار کی طرف گیا اور پٹرول بھروا کر ہسپتال جا پہنچا۔
جیسے ہی اس نے اپنی ماں کےکمرے میں جھانکا تو بسترخالی پا کراس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ ڈوبتے دل کے ساتھ ایک نرس سے پوچھا؛ میری امی کہاں ہے؟ نرس نےکہا؛ آج آپ کی امی کی طبیعت معجزاتی طور پر سنبھلی تھی۔ اسے جیسے ہی ہوش آیا تو ڈاکٹر نے کہا تھا اسے تازہ ہوا لینے کیلئے باہر لے جاؤ۔ تو ہم نے اسے کوریڈور سے باہر لان میں بٹھا دیا ہے، آپ اسے جا کر مل سکتے ہیں۔
نوجوان بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچا، اسے سلام کیا، حال احوال پوچھا تو اس کی ماں نے کہا؛ بیٹے آج صبح میں نےخواب دیکھا کہ ایک بلی اور اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے میرے لیئے دعا کر رہے ہیں۔ بس یہ خواب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور باقی کی صورتحال تم خود دیکھ رہے ہو۔ اور نوجوان حیرت بھری خوشی کے ساتھ اپنی ماں کی باتیں سنتا رہا اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرتا رہا۔
جی ہاں، اس خدا کی رحمت کی وسعت سب کچھ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے، ایسے تو ہمیں نہیں سکھایا گیا کہ اپنے مریضوں کاصدقہ سے علاج کرو یا صدقہ ہی تو ہے جو تمہارے رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
واضح طور پر دیا جانے والا صدقہ ستر(70) بلاؤں کو دور کرتا ہے اور پوشیدہ طور پر دیا جانے والا صدقہ اللہ کے غضب کو ختم کرتا ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 کتاب: ثواب الأعمال
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 بہشتی اور دوزخی 🔷
ایک طباخی نے شبلی کی بہت زیادہ تعریف سنی اور وہ اسکا عاشق ہو گیا. اسے ایک دن خبر ملی کہ آج شبلی اس کے شہر میں آرہا ہے. وہ بہت خوش ہوا اور اس کے دیدار و ملاقات کے لیے بیتاب تھا. اپنے تنور کے سامنے روٹی لینے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی. اس شدید گرمی کے دن میں اس کے پاس ایک شخص تیزی سے آیا اور کہا؛
"میں بہت دور کے سفر سے آرہا ہوں اور بہت بھوکا ہوں. مجھے ایک روٹی دیدو. مجھے بہت زیادہ بھوک ہے."
طباخی نے کہا؛
"ایک درہم کی ایک روٹی ہے. درہم دے دو، روٹی لے لو."
مسافر جو بھوک سے نڈھال تھا، اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس پر کمزوری اور تهکاوٹ کے باعث کپکپی طاری تھی.. طباخی سے درخواست کی کہ...
"اپنی جوانمردی اور شرافت کے سبب بغیر درہم کے ایک روٹی ہدیہ کردو."
طباخی چیخا اور جهڑک کر کہا؛
اگر آپ میرے گرم تنور کی رونق دیکھ رہے ہیں اور میرے کاروبار کو چلتا دیکھ رہے ہیں تو یہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ میں تیرے جیسے گداگروں پر عنایت نہیں کرتا.
مسافر نے سر نیچا کر لیا اور چلنے کی راہ لی، طباخی کے تنور کو چھوڑ کر چلا گیا.
مسافر کے ساتھ روٹی لینے کے انتظار میں کھڑا ایک اور شخص یہ سارا ماجرا دیکھتا رہا اور طباخی سے کہا؛
کاش آپ جوانمردی دکھاتے اور اسے ایک روٹی دے کر اپنا مہمان بنا لیتے اور تمہیں اس پر فخر ہوتا.
طباخی نے اسے بھی جهڑک کر کہا؛
تیری بات کا اس سے کیا مطلب؟ فضول بات نہ کرو.
اس نے آہ کینچهی اور کہا؛
میں نے سنا ہے کہ تجھے شبلی کے ساتھ عشق کی حد تک محبت ہے. میں نے سارا ماجرا دیکھا اور چپ رہا تاکہ دیکھ لوں کہ تو اپنے محبوب کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے.
طباخی نے فوراً پوچھا؛
اچھا تو کیا وہ شبلی تھے؟
اس شخص نے کہا؛
ہاں تو اور کیا. وہی تو تھے. اور آپ کے عشق کا پتہ چل گیا. اگر آپ کو اس سے محبت تھی تو اسے کیوں روٹی نہیں دی؟
طباخی تیزتیز دوڑتا ہوا شبلی کے پیچھے بھاگا. اسکو جا کر ملا اور معزرت خواہی کی، پاؤں پر گر گیا، معافی کا طلبگار ہوا.
شبلی نے اس شرط پر راضی ہونے کا اظہار کیا کہ ایک ضروری عمل میں آپکو بتاتا ہوں، اگر مجھے راضی کرنا ہے تو وہ انجام دینا ہو گا.
طباخی نے شرط قبول کرلی.
شبلی نے کہا؛
اگر آپ مجھے راضی کرنا چاہتے ہیں تو کل غرباء و مساکین کے ساتھ مجھے کھانا کھلائیں اور جتنا ہو سکے ہماری خدمت کریں، خاطرخواہ کھانے کا انتظام کریں.
طباخی نے شرط قبول کرتے ہوئے ایک سو طلائی سکہ کے خرچہ کے ساتھ کھانے کا اہتمام کیا. انواع و اقسام کے کھانوں کے ساتھ نہایت عمدہ دسترخوان بچھایا، قسم و اقسام کے مشروبات پیش کئے.
شبلی دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے اور دعا کرنے کے بعد کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اور لوگ بھی کھانا تناول کریں. اسی اثناء میں ایک شخص جو شبلی کو جانتا تھا، بلند آواز سے اسے مخاطب ہو کر بولا؛
میں چاہتا ہوں کہ اس مجمع سے بہشتی اور دوزخی بندوں کا پتہ چلاؤں... آپ بتا سکتے ہیں؟
شبلی نے کہا؛
"اگر آپ کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس طباخی کو دیکھ لیں، جس نے شہرت طلبی اور ناموری حاصل کرنے کے لیے اتنے کثیر اخراجات والی دعوت کا اہتمام کیا ہے اور مجھے خوش کرنے کے لیے ایک سو طلائی سکہ خرچ کر ڈالا جبکہ کل خداوندمتعال کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایک روٹی کی قربانی دینے سے دریغ کیا."
📚 قصہ ہائے عطار 63/8. (ترجمہ فارسی)
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
ہر قسم کی ریاکاری شرک ہے. یقیناً جو شخص لوگوں کی خوشنودی کے لیے عمل کرے گا، اسکا اجر بھی لوگوں کے ذمہ ہوگا. (اسے خداوندمتعال کے اجر کی امید نہیں کرنا چاہیے)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 میزان الحکمہ.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🌱 سوکھی ٹہنی ہری ہوگئی🌱
ایک مرتبہ ایک بہت ہی گناہ گار، اپنے زمانے کا مانا ہوا فاسق و فاجر شخص ایک جنگل کے قریب جا رہا تھا کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے سامنے زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبائے بیٹھا تھا اور الله کی عبادت کر رہا تھا، اس گناہ گار آدمی نے پوچھا تم کیا کر رہے ہو؟
اس نیک اور پرہیز گار بندے نے بتایا میں سالوں سے دنیا سے دور اس ویرانے میں الله کی عبادت کر رہا ہوں، جس دن میری عبادت قبول ہوگی اس دن یہ ٹہنی ہری ہو جائے گی اسطرح مجھے پتہ چل جائے گا-
اس گناہ گار کے دل میں جانے کیا آئی وہ بھی زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبا کر بیٹھ گیا اور عبادت کرنے لگا-
تھوڑی دیر بعد کہیں سے ایک آدمی کی مدد کی پکار آئی اور پکارنے والے نے نقاہت بھری آواز میں پانی مانگا دونوں نے سنی ان سنی کر دی، آواز دوبارہ آئی، تین چار مرتبہ کی پکار کے بعد گناہ گار نے نیک شخص سے کہا ،میں تو ابھی بیٹھا ہوں، تمہیں کتنا عرصہ ہوگیا ہے تم ذرا اٹھ کر اسے پانی تو پلا دو، میں ابھی ابھی بیٹھا ہوں اٹھنا نہیں چاہتا-
اس نیک بندے نے گناہ گار کو ڈانٹ کر کہا میری عبادت میں خلل نہ ڈالو میری ارتکاز ٹوٹ جاتا ہے-
جب مدد کی پکار مسلسل آتی رہی تو گناہ گار سے رہا نہ گیا، اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور پانی پلانے چلا گیا، جب تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا اس کی ٹہنی ہری ہو چکی تھی، اور اس نیک بندے کی ٹہنی ویسی کی ویسی ہی تھی
وہ تو رب ہے کہ جس کی توبہ قبول کر لے ۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے ریاضت بھی ایک لمحے میں پلٹائی جاتی ہے ۔۔
اور کبھی ایک آنسو توبہ کا سبب بن جاتا ہے.
بشکریہ: عاشق علی معصومی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔘 یہ ان روایات کا خلاصہ تھا کہ جن میں چالیس کے عدد کا ذکر ہوا ہے. واقعی مومن اور عالم کا مصداق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے انبیاء اور آئمّہ طاہرین علیہم السلام ہیں کہ زمین اور آسمان چالیس مہینے انکے فراق میں گریہ کرتے ہیں خاص طور سے امام حسین علیه السلام کی شہادت ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور انکی شہادت اس قدر جانگداز ہے کہ روایات کے مطابق ہمیشہ رونا چاہیے.
اس لحاظ سے ایک روایت کہ جس کو محدّث قمی نے منتھی الامال میں ذکر کیا ہے کہ حضرت امام رضا علیه السلام نے ریّان بن شبیب سے کہا:
اے شبیب کے بیٹے اگر کسی چیز پر رونا چاہتے ہو تو میرے جدّ کی مصیبت پر گریہ کرو کہ جس کو پیاسا شہید کیا گیا،
● یہ بات واضح ہے کہ یہ ساری چیزیں اس وقت ہیں جب رونا معرفت اور اسکے دستورات کی پیروی کے ساتھ ہو اور ہمیں چاہیے کہ کربلا کے ہدف اور مقصد کو درک کریں. اگرچہ خود رونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان امام علیه السلام کی معرفت حاصل کرے، اس لئے کہ اگر امام حسین علیہ السلام قیام نہ کرتے تو اسلام ختم ہو جاتا اور اسکا کوئی اثر باقی نہ رہتا. اس بات کا دعوی صرف ہم نہیں کرتے بلکہ مورّخین حتّی وہ جو شیعہ نہیں ہیں وہ بھی اس بات کے معترف ہیں. کربلا کے بعد جو بھی قیام ظلم اور ستم کے مقابلہ میں ہوا ہے اس نے امام حسین علیہ السلام کے قیام سے الہام لیا ہے.
📚 حوالہ جات:
1- محدث نوری، اللولو والمرجان، ص 208-209.
2- محدث قمی، منتہی الآمال،ص524-525۔
3- سید ابن طاووس، اقبال الاعمال، ج 2، ص 589.
4- سید ابن طاؤوس، اللہوف، ص 225.
5- قمی، سفینة البحار، ج8، ص383.
6- طوسی، التہذیب،ج 6، ص 52.
7- شیخ عباس قمی، مفاتیج الجنان.
8- قاضی طباطبایی، تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سید الشہداء ص 2.
9۔ احقاف 51
10۔ بحارالانوار، ج1، ص88، ح7.
11۔ بحارالانوار، ج51، ص882، ح52.
12۔ بحارالانوار، ج59، ص683، ح62.
13۔ بحارالانوار، ج39، ص493، ح6.
14۔ بحارالانوار، ج35 ،ص623، ح2.
15۔ بحارالانوار، ج2، ص351، ح1.
16۔ بحارالانوار، ج6، ص21، ح7.
17۔ بحارالانوار، ج88، ص4، ح5.
18۔ بحارالانوار، ج68، ص212.
19۔ بحارالانوار، ج48، ص3، ح3.
20۔ بحارالانوار، ج24، ص803، ح31.
21۔ بحارالانوار، ج18، ص473، ح42.
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 284
● اسی طرح دعاوں میں اور بعض دینی معارف میں چالیس کے عدد کا ایک خاص مقام ہے. مرحوم علاّمہ مجلسی اس دعا کو نقل کرنے کے بعد کہ جس میں خدا کے نام ہیں یوں نقل کرتے ہیں:
"عن النّبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم (لو دعا بہا رجل اربعین لیلة جمعةغفراللہ لہ."[12]
یعنی اگر کوئی شخص چالیس شبہائے جمعہ کو خداوند متعال کی بارگاہ میں اس دعا کو پڑھے توخدا اسکو بخش دے گا.
● خدا کو مخصوص اذکار کے ساتھ یاد کرنا اور عدد چالیس کے ساتھ اسکی بہت زیادہ سفارش کی گئی ہے.
جسطرح کہ رات کو جاگنا اور نماز کا پڑھنا، لگاتار چالیس رات تک اور نماز وتر کے قنوت میں استغفار کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ خداوندمتعال انسان کو جملہ سحر میں استغفار کرنے والے لوگوں کے ساتھ شمار کرے اور خداوند نے قرآن میں انکو نیکی سے یاد کیا ہے.
● ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"لا یجتمع اربعون رجلاًفی امر واحدالّااستجاب اللہ."[13]
یعنی چالیس مسلمان جمع نہیں ہوتے خدا سے کسی چیز کے چاہنے میں مگر یہ کہ خداوندمتعال اسکو قبول کرتا ہے.
● ایک دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آنحضرت نےفرمایا:
"من اخلص العبادة للہ اربعین صباحاًجرت ینابیع الحکمةمن قلبہ علیٰ لسانہ." [14]
یعنی اگر کوئی شخص چالیس دن اپنی عبادت صرف اور صرف خدا کیلئے انجام دے اور اسکا عمل خالص ہو تو خداوند حکمت کے چشمہ اسکے دل سے زبان پر جاری کر دیگا.
● حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ امام نے فرمایا:
"من حفظ من شیعتنا اربعین حدیثاً بعثہ اللہ یوم القیامة عالماً فقیہاًولم یعذّب." [15]
یعنی ہمارے شیعوں میں سے اگر کوئی چالیس حدیثوں کو حفظ کرے خداوند متعال اسکو قیامت کے دن عالم، دانشمند اور فقیہ محشور کرے گا.
البتہ اس بات کیطرف توجہ رکھنا ضروری ہے کہ احادیث کو حفظ کرنے سے مراد صرف عبارات ہی کو حفظ کرنا نہیں ہے بلکہ جو چیز طلب کی گئی ہے کہ حدیث کو اسکے پورے لوازمات کیساتھ حفظ کرنا ہے اور حقیقت میں اس سے مراد حدیث کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور اسکا رائج کرنا ہے.
● اسی طرح روایات میں وارد ہوا ہے کہ انسان کی عقل چالیس سال میں کامل ہوتی ہے.
امام جعفر صادق علیه السلام سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
"اذا بلغ العبداربعین سنة قدانتھی منتھاہ." [16]
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان چالیس سال کا ہو جاتا ہے تو اسکی عقل کامل ہو جاتی ہے.
● اسی طرح نماز جماعت کو برپا کرنا اور اسمیں چالیس دن تک شرکت کی سفارش بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے:
"من صلّی اربعین یوماًفی الجماعة یدرک تکبیرة الاولیٰ کتب اللہ براءتان: براءةمن النار و براءة من النفاق." [17]
یعنی وہ شخص جو مرتب ابتداء سے نماز جماعت میں شرکت کرے خداوند اسکو دو چیزوں سے محفوظ رکھے گا ایک آتش جہنم دوسرے نفاق اور دوروئی سے.
● آداب دعا میں آیا ہے کہ ا گر آپ چاہتے ہیں کہ آپکی دعا قبول ہو جائے تو پہلے چالیس مومنوں کیلئے دعا کریں اور اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں.
"من قدّم اربعین من المؤمنین ثمّ دعااستجیب لہ. " [18]
اس روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دعا کرنے سے پہلے دوسرے مومنوں کیلئے دعا کرنا چاہیے.
● روایات میں پڑوسیوں اور انکے حقوق کے بارے میں فرمایا ہے کہ پڑوسی چالیس گھر تک شامل ہوتا ہے یعنی جہاں وہ رہتا ہے اس سے ہر طرف سے چالیس گھر تک.
امام علی علیه السلام نے ایک حدیث میں فرمایا:
"الجوار اربعون داراًمن اربعة جوانبھا." [19]
یعنی پڑوسی گھر کے ہر طرف سے چالیس گھر تک شامل ہو تا ہے.
● اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے:
"انّ السماءوالارض لتبکی علی المومن اذامات اربعین صباحاًو انّما تبکی علیٰ العالم اذا مات اربعین شھراً." [20]
یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت ایک مومن دنیا سے رحلت کرتا ہے زمین اور آسمان چالیس دن تک اسکے لئے گریہ کرتے ہیں اور اگر کوئی مومن عالم اس دنیا سے رحلت کر جائے تو زمین اور آسمان اسکے فراق میں چالیس ماہ روتے رہتے ہیں.
● امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام فرماتے ہیں:
"اذا صلیٰ علی المؤمن اربعون رجلاًمن المؤمنین واجتھدوا فی الدّعاءلہ استجیب لھم." [21]
یعنی جس وقت مومنوں میں سے چالیس آدمی کسی مومن کے جنازہ پر نماز پڑہیں اور اسکے لئے دعا کریں تو خداوندمتعال ان چالیس آدمیوں کی دعا قبول کرتا ہے.
1 284
آگے آگے امام زين العابدین اپنی پھوپھیوں، ماؤں اور بہنوں کے ساتھ تشریف لا رہے تھے، جابر نے آگے بڑھ کر سید سجاد کو گلے سے لگا لیا،
امام (ع) نے صحابی رسول (ص) سے فریاد کی:
"ھھنا واللہ قتلت رجالنا و ذبحت اطفالنا و سبیت نسائنا و حرقت خیامنا."
ترجمہ:
دیکھئے یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمارے مردوں کو قتل کردیا گيا، بچوں کو ذبح کردیا گیا، عورتوں کو قید کرلیا گيا اور خیموں کو جلا دیا گيا.
ادھر آفتاب ڈھل رہا تھا اور حضرت زينب (ع) کی نگاہوں میں کربلا کی زمین اب بھی عصر عاشورا کی طرح خون سے رنگیں نظر آرہی تھی، ہر طرف دل کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے. ایک قتل گاہ میں بہتر جنازے. ایک ایک منظر نگاہوں کے سامنے تھا آہ، اس قوم جفاکار نے اصغر و اکبر کسی پر بھی رحم نہیں کیا،
ھواوھوس میں گرفتار یزیدیوں نے اس حسین (ع) کو بھوکا اور پیاسا ذبح کردیا جس کو رسول (ص) اپنا فرزند کہتے اور اپنی زبان چسایا کرتے تھے. ان بہترین انسانوں کو قتل کر ڈالا جن کا اہلبیت رسول(ص) کی حمایت و نصرت کے سوا کوئی قصور نہ تھا اور پھر علی(ع) کی بیٹی کو وہ مناظر بھی یاد آئے جو نواسۂ رسول(ص) کی شہادت کے بعد رونما ہوئے تھے،
خیام حسینی میں بھڑکتے ہوئے شعلے، عابد بیمار ع کا جلا ہوا بستر، بیبیوں اور بچیوں کے سروں سے چادروں کا چھینا جانا اور بچوں کی آہ و فریاد، اسیری، کوفہ و شام کی طرف روانگی.
زینب سلام اللہ علیها کا دل درد و اندوہ میں ڈوب گيا اور انہوں نے اپنے بھائی کی قبر کا رخ کر کے فریاد کی.
شہدائے کربلا کی قبروں پر اہل حرم کی بیتابی، ہر آنکھ کو رونے پر مجبور کئے دے رہی تھی.
● تین دنوں تک کربلا کے میدان میں حضرت زینب سلام اللہ علیها اور سید سجاد علیہ السلام کی معیت میں اہل حرم نے عزاداری کی اور رسول اسلام(ص) کے بزرگ صحابی جابر ابن عبداللہ انصاری، امام زين العابدین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہے اور پھر تیسرے دن امام سجاد علیہ السلام نے حکم دیا. اونٹوں پر محملیں تیار ہوئیں اور رسول اکرم کا خاندان شہر مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہوگیا.
"اے حسین علیہ السلام کی راہ پر چلنے اور ان کے ساتھ سفر کرنے والی روحو! ہمارا سلام قبول کرو."
● امام حسین علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ کبریٰ سلام اللہ علیھا نے آواز دی: اے کربلا ہم تیرے دامن میں وہ یادگار چھوڑ کر جارہے ہیں جو احمد مجتبی (ص) کی روح اور ان کا جانشیں ہے.
اے کربلا ہم تیری آغوش میں وہ بدن امانت کے طور پر چھوڑ رہے ہيں جو پاک و مطہر ہے اور بے کسی کے عالم میں تجھ میں دفن ہوا ہے.
● قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ پائے پیادہ کربلا کی طرف جانے والے افراد زائرین کے قافلوں کا سلسلہ آئمہ طاہرین علیہم السلام کے زمانے میں رائج تھا اور حتی یہ سلسلہ بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانے میں بھی جاری رہا اور تمام تر سختیوں اور خطرات کے باوجود شیعہ حضرات پابندی کے ساتھ شرکت کرتے رہے ہیں.
🔲 چہلم، قرآن و روایات کی روشنی میں
چہلم سے مراد کیا ہے علماء نے اس موضوع پر کافی بحث کی ہے لیکن جس بات کا شیخ طوسی نےعندیہ دیا ہے وہ یہ ہے کہ زیارت اربعین سے مراد ۲۰ صفر کو امام حسین علیه السلام کی زیارت ہے کہ جو عاشورہ کے بعد چالیسواں دن ہے. اس لئے انہوں نے اس روایت کو اپنی کتاب تہذیب کے زیارت کے باب میں اور اربعین کے اعمال میں ذکر کیا ہے.
اس دن کی مخصوص زیارت بھی نقل ہوئی ہے جسے مرحوم شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے. لیکن چالیس دن کے بعد ہی کیوں؟
● چالیس کا عدد روایات میں حتیّ قرآن میں بھی اسکا خاص مقام ہے اور اس عدد (40) کی کچھ خصوصیات ہیں کہ جو دوسرے اعداد کے اندر نہیں ہیں. مثال کے طور پر خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"اذابلغ اشدّہ وبلغ اربعین سنة."[9]
یعنی جس وقت وہ کمال کی حالت تک پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا.
● اسی طرح بعض انبیاءچالیس سال کی عمر میں مقام رسالت پر فائز ہوئے مثال کے طور پر حضرت علی علیہ السلام نے ایک آدمی کو جواب میں جب اس نے سوال کیا کہ عزیر کتنی سال کی عمر میں رسالت کے مقام پر فائز ہوئے.
"بعثہ اللہ و لہ اربعون سنة." [10]
یعنی اس سوال کے جواب میں کہ جناب عزیر کی عمر رسالت کے آغاز میں کتنی تھی؟ فرمایا کہ رسالت کے آغاز میں انکی عمر چالیس سال تھی.
● خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چالیس سال کی عمر میں مقام رسالت پر فائز ہوئے جیسا کہ معتبر روایات میں آیا ہے.
"صدع بالرسالةیوم السابع والعشرین من رجب و لہ یومئذاربعون سنة." [11]
یعنی حضرت محمّدبن عبداللہ خاتم انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 27رجب کو چالیس سال کی عمر میں رسالت پر مبعوث ہوئے.
1 284
🔷️ چہلم اول امام حسین علیہ السلام 🔷️
️🔲 چہلم اول امام حسین علیہ السلام
🔲 چہلم، قرآن و روایات کی روشنی میں
🔲 تاریخچہ اربعین حسینی پوسٹ لنک
محدث نوری نے اپنی کتاب اللؤلؤوالمرجان (1) میں اور ان کے شاگرد شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب منتہی الآمال (2) میں کہا ہے کہ یہ زیارت پہلے سال کے دوران انجام نہیں پائی ہے. محدث نوری سے پہلے کتاب اقبال الاعمال (3) میں سید ابن طاؤس نے اس رائے کے ساتھ اتفاق نہیں کیا ہے.
ان کے مقابلے میں بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اسیران کربلا کا قافلہ شام سے عراق آیا ہے اور اربعین کے دن کربلا پہنچا ہے اور زیارت حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوا ہے. سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب اللہوف (4) میں صراحت کے ساتھ یہی رائے دی ہے اور واضح کیا ہے کہ قافلہ اہل بیت علیہ السلام نے اس سفر میں جابر بن عبداللہ انصاری اور بنی ہاشم کے بعض افراد کو بھی کربلا میں دیکھا ہے.
سید محمد علی قاضی طباطبائی نے محدث نوری اور محدث قمی کی رائے کو رد کرنے کے لیے تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سید الشہداء کے عنوان سے مفصل کتاب تالیف کی ہے.
جابر بن عبداللہ انصاری جو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، سید الشہداء علیہ السلام کے پہلے زائر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں. وہ عطیہ بن سعید کے ہمراہ سنہ 61 ہجری کے واقعہ عاشورا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے چالیس دن کے بعد پہلی اربعین کو کربلا آئے اور قبر حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔(5)
اسیران آل محمد کے شام سے چالیس دن میں واپس پلٹ آنے کی یہ روایت محدث قمی نے بیان کی ہے جب کہ کربلا سے کوفہ، اور کوفہ سے شام، اور پھر شام میں قید و بند اور واپسی کے سفر کے اوقات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ سارا عمل چالیس دن میں انجام پذیر ہونا ممکن نہیں. لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ واقعہ سن باسٹھ ہجری، یعنی امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے ایک سال بعد کا ہے نہ کہ چالیس دن بعد کا. اور یہی مشہور بھی ہے.
● حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے مروی حدیث میں زیارت اربعین کو مومن کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے.(6)
● نیز روز اربعین کے لیے ایک زیارت نامہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے.(7)
شیخ عباس قمی نے اس زیارت نامے کو مفاتیج الجنان کے تیسرے باب میں زیارت اربعین کے عنوان سے درج کیا ہے.
● قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ زیارت اربعین زیارت "مردّ الرّاس" بھی کہلاتی ہے.(8) یعنی سر کا لوٹا دیا جانا. کیوں کہ اس روز اسیران اہل بیت علیہم السلام کربلا پلٹ کر آئے تو وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا سرمبارک بھی شام سے واپس لائے تھے جس کو انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ دفن کیا.
● سید ابن طاؤس علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "مقتل" میں لکھا ہے: جس وقت امام حسین علیہ السلام کے اہلبیت شام سے چھوٹ کر مدینہ کی طرف واپس جارہے تھے، انہوں نے اموی سالار کارواں سے خواہش کی کہ ان کو کربلا کی طرف سے لے چلیں تا کہ وہ جاتے جاتے شہدائے کربلا کی زیارت کرسکیں چنانچہ جس وقت وہ نواسۂ رسول کی تربت پاک پر پہنچتے ہیں پیغمبر اسلام (ص) کے بوڑھے صحابی جابرابن عبداللہ انصاری وہاں موجود تھے.
● جناب جابر کے رفیق عطیۂ عوفی کا بیان ہے کہ قبر حسین علیہ السلام پر پہنچکر جابر نے تین مرتبہ فرمایا:
یا حسین علیہ السلام
یا حسین علیہ السلام
یا حسین علیہ السلام
اور پھر درد بھرے لہجے میں کہا:
"احبیب لا یجیب حبیبہ"
کیا دوست اپنے دوست کو جواب نہیں دے گا اور پھر خود ہی کہنے لگے:
ہاں، آپ کیسے جواب دیں گے آپ کی رگ گردن تو خون سے رنگین ہے اور سر و تن میں جدائی ہوچکی ہے!
اے حسین آپ پر میرا سلام ہو،
میں گواہی دیتا ہوں آپ فخر انبیاء ع،
رسول خدا (ص) کے فرزند،
امام المتقین امیرالمؤمنین (ع) کے دلبند،
اور سیدۂ نساءالعالمین (ع) کے پارۂ دل ہیں.
آپ نے پاکیزہ زندگی گزاری، پاکیزہ موت قبول کی لیکن مومنین کے قلب کو فراق کی آگ میں جلنے کے لئے تنہا چھوڑدیا.
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ زندہ ہیں، آپ پر خدا کا درود و سلام ہو،
میں گواہی دیتا ہوں آپ کی شہادت کی داستان بھی حضرت یحیی (ع) ابن زکریا (ع) کی شہادت کی مانند ہے.
اور پھر چاروں طرف نظر دوڑائی اور فرمایا:
درود و سلام ہو تم پر اے پاکیزہ روحو! تم نے امام حسین (ع) کے گرد جگہ پائی اور امام کے آستانۂ اقدس میں اپنی سواریاں بٹھائیں.
یہ کہکر جابر نے ایک آہ سرد کھینچی اور بیہوش ہوگئے،
اسی دوران نزدیک سے کسی قافلے کے اترنے کی آہٹ محسوس ہوئی، جابر چونک کراٹھ پڑے جیسے کوئی کہہ رہا ہو: جابر! اٹھو میرے پاس میری بہن آرہی ہے اس کا استقبال کرو.
رسول اسلام (ص) کے بوڑھے صحابی نے آگے بڑھ کر اہل حرم کا استقبال کیا،
1 284
🌹24= اہلبیت ع کے مصائب:
راستہ میں جب بھی کسی مشکل سے دوچار ہو جائیں تو اہلبیت ع کی مصیبتوں کو یاد کریں۔
🌹25= غمگین حالت میں رہنا:
پورے سفر میں اپنے آپ پر غم کی حالت طاری کریں۔
🌹26= بیہودگی سے پرہیز:
آرام سے بات کریں، مذاق اور بیہودہ باتوں سے پرہیز کریں۔
🌹27= نیک ہمسفر کا انتخاب:
جو آپ کی معنویت میں اضافہ کا باعث بنے ایسے ساتھی کا انتخاب کریں۔
🌹28= نگاہوں کی حفاظت:
معنویت میں اضافہ کے لئے روحی تمرکز اور نامحرم سےنگاہ بچانا بہت مہم ہے۔
🌹29= کھانے میں اعتدال:
پرخوری نہ کریں جو معنوی سفر کے لئے نقصان دہ ہے خصوصا کربلا کے راستہ میں گوشت اور لذید ذائقہ دار کھانے مکروہ ہیں۔
🌹30= اسراف نہ کرنا:
کوشش کریں اسراف نہ ہو اور دوسروں کو بھی اسراف کرنے سے منع کریں۔
🌹31= جلدی نہ کریں:
کربلا پہنچنے میں جلدی نہ کریں ممکن ہے ہماری معنویت کم ہونے کا باعث بنے۔
🌹32= جلد لوٹنا:
توجہ کریں اربعین کی فضا میں ایک دن سے زیادہ کربلا اور نجف میں قیام نہ کریں۔
🌹33= اذیت و آزار:
دوسروں کے اذیت و آزار کے بغیر زیارت کریں یعنی زیارت کے لئے ضروری نہیں کہ انسان ضریح کے قریب خود کو پہنچائے بلکہ جہاں امکان ہو وہیں پر انسان زیارت پڑھے۔ (کسی کو اذیت کرنا حرام اور زیارت کرنا مستحب ہے ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ مستحب کی خاطر حرام میں متبلا ہوجائیں اور زیارت کی برکات سے محروم ہو جائیں)۔
🌹34= زیارت میں سکون:
سکون کی حالت میں زیارت پڑھیں۔
🌹35= ایثار اور فداکاری:
ایثار و فداکاری فقط جنگ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ انسان جہاں بھی سفر پر ہو تو اس کا مظاہرہ کرے۔
🌹36= زائرین کی خدمت:
زائرین کی خدمت میں سبقت لیں جیسے گھر دینا، لانا لیجانا، مالی مدد، علاج و معالجہ و۔۔۔)
🌹37= اچھا اخلاق:
زائرین کے لئے ضروری ہے عراقی عوام سے اپنے اچھے اخلا ق سے پیش آئیں انہیں ہماری حقیقی محبت نظر آئے ان کے سامنے مسکرائیں اس طرح سے اسلام کے دیرنہ دشمن ناکام ہو جاتے ہیں۔
🌹38= جھگڑوں سے پرہیز:
بعض غلط اعمال، بعض غلط افکار اور اختلاف سے پرہیز کریں ان سے الجھنے کے بجائے احتیاط کریں۔
🌹39= یادگار سفر:
معنوی اور انقلابی سفر باقی رہنے کے لئے اچھی باتیں، نصیحتیں، تصویریں ضرور لے لیں۔
🌹40= زمانی سفر:
یعنی جو آپ کو پندرہویں صدی کی کربلا سے نکال کر 61 ہجری کی کربلا میں پہنچا دے کیونکہ پندرہویں صدی کی کربلا شاہوں و مہاراجوں نے بنائی ہے لیکن 61 ہجری کی کربلا امام حسین ع نے بنائی تھی۔ جب آپ یہ دو سفر (مکانی و زمانی) طے کریں گے تو آپ کو حق و باطل کی پیکار نظر آئے گی۔ اس پیکار کے شفاف آئینے میں خود کو تلاش کریں، کربلا میں جہاں بنو امیہ کا لشکر تھا وہی منافقین اور بے دین افراد بھی تھے ان کے مقابلے میں امام حسین ع تن و تنہا نظر آئیں گے۔ کربلا جا کر قصہ و کہانی سننے کے بجائے خود 61 ہجری کی کربلا کو لمس کریں اور غور کریں کہ اس وقت اگر ہم وہاں ہوتے تو کس لشکر میں ہوتے۔ کربلا سے عقیدت کے رابطہ کے ساتھ ساتھ روح کربلا سے بھی آشنا ہوں۔ کربلا کے متعلق عقیدت ہر انسان میں موجود ہے خواہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں بھی عاشورا کے دن چھٹی ہوتی ہے۔
روح کربلا سے رابطہ یعنی جو آپ کو 61 ہجری کی کربلا میں منتقل کرکے آپ کی زندگی کو عاشورائی زندگی میں تبدیل کر دے۔
🔘 یا اللہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کی حفاظت فرما۔ الہی آمین
اصلاح و ترتيب: سید سجاد حسین ھمدانی
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَفَيْتَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ جَاهَدْتَ فِي سَبِيلِهِ حَتَّى أَتَاكَ الْيَقِينُ،
فَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَتَلَكَ،
وَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ظَلَمَكَ،
وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَرَضِيَتْ بِهِ،
اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاهُ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَاابْنَ رَسُولِ اللَّهِ،
أَشْهَدُ أَنَّكَ كُنْتَ نُورا فِي الْأَصْلابِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ [الطَّاهِرَةِ] لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجَاهِلِيَّةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْكَ الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِيَابِهَا،
وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ دَعَائِمِ الدِّينِ وَ أَرْكَانِ الْمُسْلِمِينَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنِينَ،
وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ الْإِمَامُ الْبَرُّ التَّقِيُّ الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ الْهَادِي الْمَهْدِيُّ،
وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِكَ كَلِمَةُ التَّقْوَى وَ أَعْلامُ الْهُدَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ الْحُجَّةُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا،
وَ أَشْهَدُ أَنِّي بِكُمْ مُؤْمِنٌ وَ بِإِيَابِكُمْ مُوقِنٌ بِشَرَائِعِ دِينِي وَ خَوَاتِيمِ عَمَلِي وَ قَلْبِي لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِي لِأَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لَكُمْ فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ لا مَعَ عَدُوِّكُمْ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَرْوَاحِكُمْ وَ أَجْسَادِكُمْ [أَجْسَامِكُمْ] وَ شَاهِدِكُمْ وَ غَائِبِكُمْ وَ ظَاهِرِكُمْ وَ بَاطِنِكُمْ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ۔(مفاتیح الجنان)
🔲 اعمال زائرین کربلا
اربعین حسینی کے معنوی سفر میں چالیس ناب نکتے۔۔۔ اس پوسٹ کو اتنا شئر کریں کہ ہر زائر تک پہنچ جائے اور وہ عمل کر سکے۔
🌹1= حلالیت طلبی:
ایک دوسرے سے بخشش طلب کرنا۔
🌹2= وصیت:
سفر سے پہلے وصیت کریں۔
🌹3= روزہ:
سفر میں معنوی پہلو کی تیاری کیلئے سفر سے پہلے تین دن روزہ رکھیں۔
🌹4= غسل:
گھر سے نکلنے سے پہلے غسل کریں۔
🌹5= سفر کی دعا:
سفر سے پہلے گھروالوں کو جمع کر کے سفر کی دعا پڑھیں۔
🌹6= انقطاع :
پورے سفر میں انقطاع کی حالت میں رہیں تاکہ کربلا سے معنوی وصال ہوجائے، دوسروں سے منقطع ضروری ہے اگر دوسروں سے وابستہ رہیں گے تو کربلا سے منقطع ہوجائیں گے مگر خاص مجبور ہوں تو۔ (مراد موبائل، انٹرنیت، وٹسپ، ٹیلی گرام و۔۔۔۔)
🌹7= وقت سے استفادہ:
بغیر شک کے معنوی سفر ہے۔ اس معنوی سفر میں فرصت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔
🌹8= علماء سے استفادہ:
سفر میں علماء سے دینی موضوعات پر گفتگو کریں۔
🌹9= تفکر:
غور و فکر کرنے کے لئے طولانی سفر بہتر فرصت ہے۔ اپنی نفسانی برائیوں پر غور کریں، امام زمانہ کے ساتھ کس طرح تعاون کریں گے غور کریں۔
🌹10= نماز جماعت:
اپنی نمازیں اول وقت اور جماعت کے ساتھ ادا کریں اور نماز کے بعد باجماعت زیارت عاشورا کا آخری حصہ جس میں ان کے دشمنوں پر لعنت کی گئی ہے، اسے اجتماعی طوپر پڑھیں۔ اللہ العن اول ظالم۔۔۔)
🌹11= طولانی تعقیبات:
ہر نماز کے بعد مستحبات انجام دیں کہ ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کے بعد طولانی سجدہ کریں۔
🌹12= زیارت عاشورا:
ہر روز زیارت عاشورا 100 لعن اور 100 سلام کے ساتھ پڑھیں۔
🌹13= دعائے عہد:
ہر روز نماز صبح کے بعد دعائے عہد کا پڑھیں۔
🌹14= زیارت اربعین:
اربعین کے دن زیارت اربعین پڑھیں۔ بعض مراجع کہتےہیں اربعین کےدن زیارت ضروری نہیں بلکہ اربعین کے دن آپ کربلا میں ہوں۔ اربعین سے پہلے یا بعد میں زیارت کریں۔
🌹15= نماز شب:
سفر میں نماز شب توجہ کے ساتھ پڑھیں۔
🌹16= رات سے استفادہ:
یعنی جہاں بھی قیام پذیر ہوں وہاں قضاء نمازیں اور چھوٹی کتابوں کا مطالعہ کرنا فراموش نہ کریں۔
🌹17= ختم قرآن:
کوشش کریں پورے سفر میں پورا قرآن ختم کریں۔ حدا قل سنیں۔
🌹18= ذکر کی پابندی:
"صلوات"، "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر"، "لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم" اور استغفار" استغفر اللہ ربی واتوب الیہ" زیادہ سے زیادہ کریں۔
🌹19= دعا امام زماں:
امام زمانہ کی سلامتی اور ظہور کے لئے دعا کریں اور صدقہ دیں۔
🌹20= امام کے حضور:
اپنے آپ کو امام زمانہ کے حضور میں حاضر سمجھیں۔
🌹21= اعمال کو ھدیہ کرنا:
اپنے تمام مستحبی اعمال کے ثواب کو انبیاء، اولیاء اور شہداء کے نام ہدیہ کریں۔ اس طرح آپ کے اعمال کا ثواب چند گناہ بڑھ جاتا ہے۔
🌹22= نیابتی زیارت:
اپنی زیارت کے ساتھ ساتھ نیابتی زیارت والدین، عزیز، رشتہ دار اور شہداء کی طرف سے نیابتاً زیارت پڑھیں۔
🌹23= قدردانی:
شہداء اور مجاہدین کی قدردانی کریں جنہوں نے زیارت کے لئے فرصت فراہم کی اور آپ کے لئے امنیت کا خیال رکھا جو ابھی تک مقاومت کر رہے ہیں۔
1 284
💝 أربعين حسینیؑ و اعمال زائرین 💝
بیسویں صفر کا دن یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا دن ہے.
● بقول شیخین، امام حسین علیہ السلام کے اہل حرم نے اسی دن شام سے مدینہ کی طرف مراجعت کی.
● اسی دن جابر بن عبداللہ انصاری حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کیلئے کربلا معلی پہنچے اور یہ بزرگ حضرت امام حسین علیہ السلام کے اولین زائر ہیں.
● 20 صفر کے دن حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا مستحب ہے.
■ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت ہے کہ مومن کی پانچ علامتیں ہیں:
﴿۱﴾رات دن میں اکاون رکعت نماز فریضہ و نافلہ ادا کرنا،
﴿۲﴾زیارت اربعین پڑھنا،
﴿۳﴾دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا،
﴿۴﴾سجدے میں پیشانی خاک پر رکھنا،
﴿۵﴾اور نماز میں بآواز بلند بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ پڑھنا،
مستحبی اعمال میں سےدو عمل ایسے ہیں که جن کا جلوه سارے مستحبی اعمال سے بہت زیادہ ہے،
پہلا نماز شب اور دوسرا زیارت امام حسین علیه السلام. ان دو اعمال میں سے زیارت امام حسین علیه السلام کی فضیلت نماز شب سے بھی زیادہ ہے اس حد تک کہ روایات میں ھماری ساری عبادتوں کے ثواب اور خیر و برکت کا دارومدار امام حسین علیہ سلام کی زیارت پر ہی ہے، جن ایام خاص میں خداوندعالم کی رحمتوں کے دروازے اپنے بندوں کیلئے کھل جاتے ہیں، جیسا کہ لیلةالقدر یا شب نیمه شعبان. یا بعض دن جیسے کہ روز عرفه یا دوسرے خاص دن۔
■ امام صادق علیه السلام کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کہ: ہم تو کربلا نہیں جاسکے مولا ہم کیا کریں؟
امام صادق علیہ سلام نے فرمایا: اربعین کے دن کیا کرتے ہو؟
کہا کہ: میرا دل قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتا ہے.
اسکے بعد امام صادق علیہ السلام نےاسکو زیارت اربعین سکھائی اور فرمایا: حتی اگر دور سے بھی یہ زیارت پڑھو گے خداوندعالم اپنے فرشتوں کو اربعین کے دن صبح سویرے سے لیکر غروب تک زمین پہ بھیجتا ہے اور اس کائنات پر دنیا کے جس کونے سے بهی جو شخص یہ کلمات جو میں تمھیں سکھا رہا ہوں(یعنی زیارت اربعین) دل سے پڑھیں ملائکہ آتے ہیں اور زیارت کے کلمات کو لے کے غروب تک سیدالشهداء علیه السلام کے پاس لے جاتے ہیں اورحضرت سیدالشهداء علیه السلام ملائکہ کو حکم دیتے ہیں کہ لکھ لو کہ فلاں شخص یہاں آئے تھے اور زیارت کی.
امام صادق علیهالسلام آگے فرماتے ہیں: خفا نہ ہونا کہ تم کربلا نہیں گئے اس دن دل سے کربلا کو یاد کرو اور کربلا کے غم کو یاد کرنا یعنی تم کربلا میں ہی ہو، دل سے ایک فریاد تو کر سکتے ہو؟ ہو سکتا ہے تمھارے اس ایک آه اور ایک فریاد کا ثواب زیارت سے زیادہ ہو.
🔲 چہلم کے دن کی مخصوص زیارت
السَّلامُ عَلَى وَلِيِّ اللَّهِ وَ حَبِيبِهِ،
السَّلامُ عَلَى خَلِيلِ اللَّهِ وَ نَجِيبِهِ،
السَّلامُ عَلَى صَفِيِّ اللَّهِ وَ ابْنِ صَفِيِّهِ،
السَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِيدِ،
السَّلامُ عَلَى أَسِيرِ الْكُرُبَاتِ وَ قَتِيلِ الْعَبَرَاتِ،
اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِيُّكَ وَ ابْنُ وَلِيِّكَ وَ صَفِيُّكَ وَ ابْنُ صَفِيِّكَ الْفَائِزُ بِكَرَامَتِكَ أَكْرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ وَ اجْتَبَيْتَهُ بِطِيبِ الْوِلادَةِ وَ جَعَلْتَهُ سَيِّدا مِنَ السَّادَةِ وَ قَائِدا مِنَ الْقَادَةِ وَ ذَائِدا مِنَ الذَّادَةِ وَ أَعْطَيْتَهُ مَوَارِيثَ الْأَنْبِيَاءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَى خَلْقِكَ مِنَ الْأَوْصِيَاءِ فَأَعْذَرَ فِي الدُّعَاءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَيْرَةِ الضَّلالَةِ وَ قَدْ تَوَازَرَ عَلَيْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْيَا وَ بَاعَ حَظَّهُ بِالْأَرْذَلِ الْأَدْنَى وَ شَرَى آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْأَوْكَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدَّى فِي هَوَاهُ وَ أَسْخَطَكَ وَ أَسْخَطَ نَبِيَّكَ، وَ أَطَاعَ مِنْ عِبَادِكَ أَهْلَ الشِّقَاقِ وَ النِّفَاقِ وَ حَمَلَةَ الْأَوْزَارِ الْمُسْتَوْجِبِينَ النَّارَ [لِلنَّارِ] فَجَاهَدَهُمْ فِيكَ صَابِرا مُحْتَسِبا حَتَّى سُفِكَ فِي طَاعَتِكَ دَمُهُ وَ اسْتُبِيحَ حَرِيمُهُ،
اللَّهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْنا وَبِيلا وَ عَذِّبْهُمْ عَذَابا أَلِيما،
السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ،
السَّلامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ سَيِّدِ الْأَوْصِيَاءِ،
أَشْهَدُ أَنَّكَ أَمِينُ اللَّهِ وَ ابْنُ أَمِينِهِ عِشْتَ سَعِيدا وَ مَضَيْتَ حَمِيدا وَ مُتَّ فَقِيدا مَظْلُوما شَهِيدا،
وَ أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَكَ وَ مُهْلِكٌ مَنْ خَذَلَكَ وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَكَ،
1 284
🌹 شھادت حضرت امام علی رضاؑ 🌹
🔹 اسم مبارک: علی ابن موسٰی
🔹 والد گرامی: امام موسٰی کاظم علیہ السلام
🔹 والدہ گرامی: نجمہ خاتون
🔹 کنیت: ابوالحسن
🔹 لقب: رضا
🔹 جائے ولادت: مدینہ منورہ
🔹 مدت حیات: 55 سال
🔹 مدت امامت: 19 سال
🔹 جائے شہادت: طوس
🔹 مدفن: مشہد مقدس/ایران
🔹 قاتل : مامون رشید (ملعون)
■ تاریخ ولادت
امام علی رضا علیہ السلام کی سن ولادت میں اختلاف ہے بعض روایات کے مطابق آپؑ کی ولادت بمطابق 11 ذوالقعدہ یا ذوالحجہ یا ربیع الاول 148 یا 153 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی ہے، کلینی لکھتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام 148 ہجری میں پیدا ہوئے ہیں۔ زیادہ تر علماء اور مورخین کی رائے یہی ہے۔
■ تعداد اولاد:
🔹️ امام علی رضا علیہ السلام کی تعداد اولاد کے حوالے سے اختلاف ہے بعض روایات کے مطابق آپؑ کے دو فرزند تھے (امام محمد تقیؑ، موسٰی)
🔹️ بعض روایات میں آپؑ کے تین اولادیں تھیں، بعض روایات میں آپ کے پانچ لڑکے اور ایک لڑکی تھی جن کے نام یہ ہیں (امام محمد تقیؑ، حسن، جعفر، ابراہیم، حسین، عائشہ)
🔹️ بعض روایات میں آپؑ کے پانچ بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں (امام محمد تقیؑ، حسن جعفر، ابراہیم، حسین، عقب)
🔹️ بعض روایات کے مطابق آپؑ کے آٹھ بیٹے تھے جن کے نام (امام محمد تقیؑ، ہادی، علی نقی، حسین، یعقوب، ابراہیم، فضل، جعفر)
🔹️ بعض روایات کے مطابق آپؑ کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام امام محمد تقی تھا۔
■ تاریخ شہادت
امام رضا علیہ السلام کے یوم شہادت کے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں جن میں آپ کا روز شہادت جمعہ یا سوموار آخر ماہ صفرالمظفر 17 صفر، یا 21 رمضان، یا 18 جمادی الاولی، یا 23 ذوالقعدہ، يا آخِرِ ذوالقعدہ سنہ 202، یا 203، یا 206 ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن جو تاریخ زیادہ مشہور ہے وہ 17 صفر المظفر 203ہجری ہے۔
■ شہادت امام علی رضا علیہ السلام
ایک صبح امام رضا علیہ السلام نے نماز پڑھی اور محراب عبادت میں بیٹھ گئے گویا کہ کسی کے منتظر تھے... کہ اچانک مامون کا غلام آیا اور امام سے کہنے لگا:
"جلد تشریف لائیے آپ کو مامون بلا رہا ہے..."
آپ علیہ السلام اٹھے، عبا کندھے پر رکھی، جوتے پہنے اور چل پڑے... یہاں تک کہ دونوں دربار میں پہنچے...
مامون اپنے سامنے بڑے برتنوں میں قسم قسم کے پھل لئے بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں انگور کا ایک گچھا تھا جسے وہ کچھ تو کھا چکا تھا. جونہی امام علیہ السلام پر اس کی نظر پڑی وہ آپ کے احترام میں کھڑا ہو گیا اور باہیں امام علیہ السلام کی گردن میں ڈال کر پیشانی پر بوسہ لیا اور انہیں اپنے پہلو میں جگہ دی...
مامون نے انگور آپ علیہ السلام کی طرف بڑھاتے ہوے کہا:
"یابن رسول الله اس سے بہتر انگور میں نے نہیں دیکھا، میرا جی چاہتا ہے کہ آپ انہیں کھائیں!
آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھے ان انگوروں کے کھانے سے بخشو! اس پر مامون غصہ ہوا اور کہا:
یہ آپ کو کھانے پڑیں گے.. آپ کو ان کے کھانے میں کیا مسئلہ ہے. جتنا میں آپ سے خلوص سے پیش آتا ہوں آپ اتنا ہی مجھ پر شک کرتے ہیں اور مجھ پر تہمت لگاتے ہیں.... اس وقت اس نے انگور امام علیہ السلام کے حوالے کئے اور امام کو کھانے پر اصرار کیا...
امام علیہ السلام نے ان انگوروں سے تین دانے تناول کئے اور باقی خوشہ انگور پھینک دیے...
مامون غور سے دیکھ رہا تھا اور اس نے بھانپ لیا کہ مقصد کامیاب ہوا...
امام علیہ السلام اپنے مقام سے اٹھے تو اس نے سوال کیا:
"الی این" کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا:
"حیت وجھتنی" جہاں تو نے بھیجا!!
الا لعنت اللہ علی القوم الظالمين.
ھم امام مہدی عجل الله تعالٰی فرجہ الشریف کی خدمت میں هدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ خدا وند متعال بحق معصومین علیهم السلام ھم سب کی پریشانیاں اور تکالیف دور فرمائے. اور امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے. آمین یا رب العالمین.
💥 مزید تفصیل دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔
https://www.facebook.com/share/p/1g3qvb21yo9H6zbc/?mibextid=oFDknk
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷ایک کسان کی کمائی اور خرچ🔷
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮨﻞ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ-
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﻬﺎ:
"ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﻤﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭘﮯ"
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ:
ﮐﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ"-
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﻬﺎ.
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ،
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﮍﻫﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﻬﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﮮ،
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻧﻬﻮﮞﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﯿﮯ...!"
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
