uk
Feedback

Не попадись на ботовода! Telemetrio знаходить і позначає такі канали мітками 👉 Хочеш бачити мітку, оформляй підписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Відкрити в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Показати більше
1 285
Підписники
Немає даних24 години
-67 днів
-730 днів
Архів дописів
لفظ "امام" اور مثلِ امام پر اصرار کیوں آخر؟ سید شہید کی شہادت کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اگرچہ یہ بحث اپنی اصل کے اعتبار سے نئی نہیں، البتہ اس کی شدت ضرور نئی محسوس ہوتی ہے۔ ایک طبقہ اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ ہر صورت ان کے نام کے ساتھ "امام" کہا جائے، جبکہ دوسرا طبقہ اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "امام" کا لقب صرف ائمۂ معصومینؑ کے لیے مخصوص ہے۔ ہماری گزارش یہ ہے کہ دونوں انتہائیں محلِ نظر ہیں۔ ایک طرف ہر صورت اس لفظ پر اصرار مناسب نہیں، اور دوسری طرف یہ کہنا بھی درست نہیں کہ لغوی اعتبار سے "امام" کا لفظ کسی غیر معصوم کے لیے سرے سے استعمال ہی نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ کریم اور عربی لغت دونوں اس بات پر شاہد ہیں کہ "امام" کا لفظ پیشوا، رہنما اور مقتدا کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس لیے ہماری گفتگو اس لفظ کے شرعی جواز یا عدمِ جواز پر نہیں، بلکہ اس پر اصرار کے بارے میں ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صرف الفاظ کے صحیح ہونے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ان الفاظ کے استعمال سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا﴾ "اے ایمان والو! 'راعنا' نہ کہا کرو بلکہ 'انظرنا' کہا کرو۔" (البقرہ آیت: 104) "راعنا" اپنے اصل معنی کے اعتبار سے کوئی غلط لفظ نہ تھا، لیکن یہود اس لفظ کو غلط معنی میں استعمال کر کے رسولِ خدا ﷺ کی شان میں استہزا کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس لفظ پر اصرار نہ کریں بلکہ اس کے بجائے "انظرنا" کہیں۔ یہ آیت ہمیں ایک عظیم اصول سکھاتی ہے کہ جب کسی لفظ کا غلط استعمال ہونے لگے اور وہ اختلاف، استہزا یا غیر ضروری نزاع کا ذریعہ بن جائے تو حکمت یہی ہے کہ اس پر اصرار نہ کیا جائے، اگرچہ وہ لفظ اپنی اصل کے اعتبار سے درست ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ مثال میں یہود کا ذکر کیوں کیا جا رہا ہے، تو اس کا جواب خود قرآنِ کریم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بنی اسرائیل اور یہود کے واقعات کو بطورِ عبرت و مثال بیان فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ سورۂ بقرہ ہی میں فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ حق واضح کرنے کے لیے مچھر جیسی معمولی چیز کی مثال دینے سے بھی نہیں جھجکتا۔ لہٰذا "راعنا" کا واقعہ بھی ہمارے لیے ایک قرآنی مثال اور اصول ہے، نہ کہ کسی قوم پر طعن مقصود ہے۔ اسی اصول کو ہم اپنی دینی زندگی میں بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ مثلاً "جلیل القدر" ایک عام تعریفی تعبیر ہے اور بڑے علماء یا صحابہ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی "جل جلالہ" کے لغوی معنی کو دیکھے تو بظاہر اس میں بھی کوئی اشکال محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے معنی ہیں: "اس کی شان و عظمت بلند ہو۔" لیکن کیا ہم ائمۂ اہل بیتؑ کے اسمائے گرامی کے بعد "جل جلالہ" کہتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ حالانکہ لغوی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت میں بعض تعبیریں مخصوص مقامات کے ساتھ معروف ہو چکی ہیں، اس لیے اہلِ علم حفظِ مراتب کی خاطر انہی تعبیروں کو باقی رکھتے ہیں تاکہ کسی قسم کی بدگمانی یا اشتباہ پیدا نہ ہو۔ اسی طرح سفید اور سیاہ عمامہ دونوں اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں سیاہ عمامہ سادات کی ایک معروف علامت بن چکا ہے۔ اگر کوئی غیر سید جان بوجھ کر سیاہ عمامہ باندھے تو ممکن ہے شرعی جواز کی بحث اپنی جگہ ہو، لیکن اس سے عوام میں غلط فہمی ضرور پیدا ہوگی۔ اسی لیے اہلِ علم ایسے مواقع پر عرف، حفظِ مراتب اور معاشرتی مصلحت کا لحاظ رکھتے ہیں۔ لہٰذا اصل بحث لفظ "امام" کے جواز یا عدمِ جواز کی ہیں، بلکہ اس پر اصرار کی ہے۔ اگر کسی لفظ پر اصرار معاشرے میں غیر ضروری اختلاف، بدگمانی اور انتشار پیدا کر رہا ہو، جبکہ احترام کے اظہار کے لیے دوسرے مناسب الفاظ بھی موجود ہوں، تو قرآنی حکمت یہی ہے کہ اس اصرار سے اجتناب کیا جائے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اہلِ بیتؑ کے مکتب نے ہمیشہ حفظِ مراتب، حسنِ تعبیر اور حکمتِ گفتار کی تعلیم دی ہے۔ جس طرح ہم دیگر معاملات میں مخصوص القابات اور تعبیروں کا لحاظ رکھتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی اعتدال اختیار کرنا چاہیے۔ کسی اختلافی تعبیر پر اصرار کرنے کے بجائے ایسا اسلوب اپنانا زیادہ مناسب ہے جو احترام کو بھی برقرار رکھے، اہلِ بیتؑ کے مخصوص مقام و مرتبے کا بھی لحاظ کرے اور اہلِ ایمان کے درمیان اختلاف و بدگمانی کا سبب بھی نہ بنے۔

3۔ تاریخ الطبری، ج۳، ص۱۷۱؛ الطبقات الکبری، ج۴، ص۵۶ 4۔ دہخدا 5۔ ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۴-۲۱۸؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۵۷-۵۸ 6۔ سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۸؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۵۸-۵۹ 7۔ ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۹ 8۔ عاملی، سلمان فارسی، ص۴۰ 9۔ ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۱۸۹ 10۔ نک: نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان (رض)، ص۶۔ 11۔ نک:کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۸۴ 12۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۲۲، ص۳۴۵ 13۔ عاملی، سلمان فارسی، ص۳۲ 14۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۳۴۳ 15۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۴، ص۶۲ 16۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۵۹۱. 17۔ نک: نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان، ص۱۴۸ 18۔ عسکری، عبداللہ بن سبا، ج۱، ص۱۴۵ 19۔ مدنی، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، ص۲۱۵ 20۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۸، ص۳۵ 21۔ ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۹۹۵م/۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۶۱. 22۔ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۶۲ 23۔ بلاذری، انساب الاشراف، ص۱۲۳؛ ذہبی، سر اعلام النبلاء، ج۲، ص۶۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ص۴۰۹-۴۱۱ 24۔ صدوق، الخصال، ص۳۶۱ 25۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۲۱ 26۔ طوسی، اختیار معرفہ الرجال، ج۱، ص۵۴؛ طوسی، الامالی، ص۱۳۳ 27۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۵۸-۴۵۹ 28۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج ۱، ص۱۷۶ 29۔ نک: مجلسی، بحارالانوار، ج۲۲، ص۳۸۰. 30۔ نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان (رض)، ص۱۳۹۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

سلمان سقیفہ کے واقعے کے مخالفین میں سے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ سلمان صحابہ کو خلیفہ اول کی بیعت کرنے پر ملامت کرتے ہوئے ان سے کہتے تھے (ایک کام کو تو تم لوگوں نے انجام دے دیا لیکن ایک کام کو چھوڑ دیاہے)[17] اس جملے کا مفہوم یہ تھا کہ خلیفہ کو تو تم لوگوں نے انتخاب کر ہی لیا لیکن رسول خداؐ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ سلمان ان دنوں یہ کہتے رہتے تھے کہ "ایک بوڑھے شخص کو خلیفہ بنا لئے ہو جبکہ رسول خداؐ کے خاندان کو چھوڑ دیئے ہو!! اگر خلافت کو رسول خداؐ کے خاندان میں رکھتے تو حتی دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہ ہوتا اور اس درخت(خلافت) کا پھل زیادہ مزیدار اور اس کا نفع زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتا۔[18] ■ مدائن کی گورنری سلمان فارسی، خلیفہ دوم کے زمانے میں خلیفہ کی جانب سے مدائن کے گورنر مقرر ہوئے۔ سلمان نے اس کام کو قبول کرنے کے لئے پہلے امیرالمومنینؑ سے اجازت لی پھر قبول کیا۔ سلمان موت کے وقت تک اس شہر کے والی تھے۔[19] ایک گورنر ہونے کے عنوان سے بیت المال سے سلمان کا حصہ پانچ ہزار درہم تھا جسے وہ صدقے میں دے دیتے تھے۔[20] اور ٹوکریاں بنانے کے ذریعے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ■ شادی، اولاد سلمان نے بنی کندہ کی ایک عورت سے شادی کی۔ سلمان کے دو بیٹے عبداللہ اور محمد تھے۔ عبداللہ نے اپنے والد سے حضرت فاطمہؑ کے لئے بہشتی تحفے والی حدیث روایت کی ہے۔ سلمان کی ایک بیٹی اصفہان میں اور دو بیٹیاں مصر میں تھیں۔ ■ فضلیت سلمان 🌹 پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے: خداوند عالم نے مجھے چار اشخاص کو دوست رکھنے کا حکم دیا اور مجھے یہ خبر دی کہ ان افراد کو خدا خود بھی دوست رکھتا ہے۔ وہ افراد علیؑ، مقداد، ابوذر اور سلمان ہیں۔[21] 🌹 سلمان کے بارے میں رسول خداؐ کی سب سے مشہور روایت جس میں سلمان کے بارے میں آپؐ کی محبت کا اظہار ہوتا ہے وہ "سلمان منا اھل البیت" ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن سلمان مسجد میں داخل ہوئے تو اصحاب نے آپ کا احترام کرتے ہوئے انهیں صدر محف میں جگہ دی لیکن عمر نے سلمان کے عجمی ہونے کے بہانے اس کام پر اعتراض کیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے جب یہ مشاہدہ فرمایا تو منبر پر تشریف لے جا کر ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے قوم اور چہرے کے رنگ کے لحاظ سے انسانوں کے ایک دوسرے پر برتری نہ رکھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے"۔ پیغمبرؐ کا یہ فرمان ایک اور روایت میں بھی نقل ہوا ہے: جس وقت اہل مدینہ خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے اور سلمان چونکہ ایک طاقتور آدمی تھے اس لئے انصار اور مہاجرین میں سے ہر ایک سلمان کو اپنے ساتھ مختص کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت رسول خداؐ نے فرمایا: "سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے"۔[22] 🌹 پیغمبرؐ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ بہشت چار شخصیات کی مشتاق ہے اور وہ شخصیات علی، عمار، مقداد اور سلمان ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ خداوند عالم نے پیغمبر اکرمؐ کو علی، سلمان، مقداد اور ابوذر کو دوست رکھنے کا حکم دیا ہے۔[23] 🌹 سلمان کے بارے میں شیعہ منابع میں آئمہ معصومین کی زبانی بھی روایات موجود ہیں۔ آئمہ کے کلام میں معمولا آپ کو حقیقی اور دین میں ثابت قدم شیعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام علیؑ کی ایک حدیث میں ہے کہ "سلمان فارسی اور بعض دوسرے دوست جیسے ابوذر، عمار اور مقداد ایسے افراد ہیں کہ خداوند انکے وجود کی برکت سے لوگوں کو روزی دیتا ہے۔[24] اسی طرح آپؑ سلمان کو علم اولین و آخرین کے مالک سمجھتے ہیں۔[25] امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے روایت ہے کہ امام علیؑ کے حضور ایک مجلس میں سلمان فارسی کا نام آ گیا تو امام نے فرمایا کہ سلمان فارسی نہ کہئیے بلکہ سلمان محمدی کہئیے کیونکہ وہ ہم اہلبیت میں سے ہیں۔[26] ■ وفات آپ کی وفات سنہ 36ق میں ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق آپکی وفات خلیفہ سوم کے دور خلافت میں جبکہ بعض دوسری روایات میں آپکی رحلت خلیفہ سوم کے دور خلافت کے بعد ہوئی ہے۔[27] روایات کے مطابق، سلمان فارسی کی عمر مبارک کافی طولانی تھی بعض نے آپ کی عمر ٹین سو پچاس سال لکھی ہے۔[28] بعض روایات میں ہے کہ سلمان کی وفات کے بعد امام علیؑ مدینہ سے مدائن تشریف لائے اور ان کی تجہیز و تکفین کو آپ نے ہی انجام دیا پھر ان کی نماز جنازہ پڑھا کر انہیں اپنے ہاتھوں سپرد خاک کیا۔[29] سلمان نے اپنے کفن پر یہ شعر لکھا ہوا تھا۔[30] وفدت علی الکریم بغیر زادمن الحسنات و القلب السلیم میں کسی زاد راہ کے بغیر کریم کے پاس آیا ہوں نہ میرے پاس نیکیاں ہیں اور نہ قلب سلیم وحمل الزاد اقبح کل شیءاذا کان الوفود علی الکریم زاد راہ لے کر جانا سب سے بری بات ہےجب کریم کے پاس حاضر ہونا ہو۔ 📚 حوالہ جات 1۔ تاریخ طبری، ج۳، ص۱۷۱ 2۔ الطبقات الکبری، ج۴، ص۵۶؛ انساب الاشراف، ج۱، ص۴۸۵

🔷️ حضرت سلمان فارسی (رض) 🔷️ سلمان فارسی کا اصل نام روزبہ اور آپ کے والد کا نام خشفودان اور بعض دیگر اقوال کے مطابق بوذخشان تھا۔[1] روایات کے مطابق اسلام لانے کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے آپ کا نام سلمان رکھا۔ سلمان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ولادت اصفہان کے ایک دیہات "جی" میں ہوئی۔[2] بعض اور روایات کے مطابق اس دیہات کا نام رامہرمز تھا۔[3] سلمان کا والد ایک ایرانی دہقان(کسان) تھا۔ ساسانیوں کے دور میں مالک، زمین دار، شہری یا دیہاتی سب کو دہقان کہا جاتا تھا۔[4] اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہ سب قصہ گوئی پر مشتمل ہیں۔ ان تمام روایات میں جس چیز پر تاکید ہوئی ہے وہ آپ کی محققانہ اور تجسسانہ ذہنیت ہے جس کے نتیجہ میں آپ بہترین دین کی تلاش میں طولانی سفر کی مشکلات تحمل کرنے میں آمادہ نظر آتے ہیں۔ ان روایات کے مطابق وہ بجپن میں زرتشت تھے پھر دین مسیحیت سے آشنا ہو کر دین مسیحیت قبول کرتے ہیں اور اپنے شہر سے شام کی طرف سفر کرتے ہیں اور وہاں مسیحی علماء کی شاگردی اختیار کرتے ہیں۔ ان روایات کے مطابق سلمان کے والد کو آپ سے بہت پیار تھا اس لئے آپکو گھر میں رکھنا چاہتا تھا اور شام کی طرف یہ سفر ایک طرح سے ان کا گھر سے فرار محسوب ہوتا تھا۔ شام میں آپ کلیسا کی خدمت گزاری کرتے تھے اور بلند پایا اور پرہیزگار مسیحی علماء سے سے استفادہ کرنے کیلئے انہوں نے دوسرے شہروں جیسے موصل، نصیبین اور عموریہ کی طرف سفر کیا۔[5] پھر عموریہ سے حجاز کی طرف سفر کرنے کا ارادہ کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے مسیحی اساتذہ سے اس سرزمین میں ایک پیغمبر کے مبعوث ہونے کی خبر سنی تھی۔ اس سفر میں آپ بنی کلب کے ایک کاروان کے ہمراہ تھے اور آخر کار انہی کے ہاتھوں اسیر ہوگئے جنہوں نے بعد میں آپ کو حجاز لے جا کر بنی قریظہ قبیلے کے ایک یہودی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا جو آپ کو مدینہ لے آیا۔[6] ■ غلامی سے آزادی اور اسلام قبول کرنا آپ نے ہجرت کے پہلے سال جمادی الاول کے مہینے میں اسلام قبول کیا۔ سلمان نے سنا تھا کہ آخری پیغمبر کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ صدقہ نہیں کھائے گا لیکن ہدیہ قبول کرے گا۔ اسی طرح اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے دو کندہوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی۔ اس لئے جب سلمان نے پیغمبر اکرمؐ سے ملاقات کی تو کجھوریں صدقہ کے طور پر آپؐ کو دیں جسے آپؐ نے اپنے دوستوں میں تقسیم کر دیا اور خود ان میں سے نہیں کھائی۔ سلمان نے اسے نبوت کی تین نشانیوں میں سے ایک قررا دیا پھر کسی اور ملاقات میں سلمان نے کچھ کجھوریں تحفے کے طور پر پیش کیں تو آپؐ نے ان سے تناول فرمائیں۔ تیسری بار سلمان نے رسولؐ کو کسی کی تشیع جنازے میں دیکھا اور آپکے پیچھے چل پڑا تاکہ تیسری نشانی کو مشاہدہ کر سکے پیغمبرؐ کو معلوم ہوا کہ سلمان کس چیز کی جستجو میں ہے اس لئے آپؐ نے اپنے کپڑوں کو اس طریقے سے ہٹایا کہ مہر نبوت نظر آنے لگی۔ سلمان نے مہر نبوت کو دیکھ لیا اس وقت سلمان نے خود کو پیغمبرؐ کے قدموں میں گرا دیا اور آپؐ کے بدن مبارک کے بوسے لینے لگا اور اسلام قبول کر لیا۔[7] سلمان ہجرت کے پہلے سال ہی اس کے مالک سے خرید کر آزاد کر دیا گیا۔[8] اس کی قیمت 300 یا 400 کھجوروں کے درخت اور 40 اونس (ایک وزن جو تقریباً اڑھائی تولہ یا آدھی چھانک کے برابر ہوتا ہے (پونڈ کا سولھواں حصہ) سونا تھا جو کہ رسول خداؐ اور صحابہ کی مدد سے ادا کی گئی۔[9] خود سلمان کہتا ہے کہ مجھے رسول خداؐ نے آزاد کیا اور میرا نام سلمان رکھا۔[10] ■ عقد بھائی چارگی شیعہ روایات کے مطابق سلمان اور ابوذر کے درمیان عقد برادری قائم ہوا۔[11] بعض روایات میں ملتا ہے کہ ابوذر کو سلمان کی اطاعت کرنے پر پابند کیا گیا تھا۔[12] ■ جنگی مشورے سلمان نے صدر اسلام سے ہی جنگوں میں شرکت شروع کی اور غزوہ خندق کے بعد کوئی ایسی جنگ نہیں تھی جس میں آپ نے شرکت نہ کی ہو۔[13] شہر مدینہ کے ارد گرد خندق کھودنے کا مشورہ آپ نے ہی دیا تھا۔[14] اس جنگ میں پیغمبر اکرمؐ نے ہر دس افراد کو چالیس ذراع زمین کی کھودائی کی ذمہ داری لگائی۔ سلمان جسمی لحاظ سے ایک طاقتور شخص تھا جس کی وجہ سے مہاجرین اور انصار میں اختلاف ہو گیا ہر کوئی چاہتا تھا کہ سلمان ان کے گروہ میں شامل ہو مہاجرین کا اعتقاد تھا کہ کیونکہ سلمان ایران سے ہجرت کر کے آیا ہے اس لئے ہمارے گروہ میں شامل ہو اور انصار کہتے تھے کہ وہ پیغمبر اکرمؐ کے یثرب میں داخل ہوتے وقت یہاں موجود تھا اس لئے انصار ہے۔[15] بعض روایات کے مطابق سلمان نے جنگ طائف میں منجنیق استعمال کرنے کا مشورہ دیا جس پر پیغمبر اکرمؐ نے اس وسیلے کے استعمال کا حکم دیا۔ ■ سقیفہ کے واقعے کی مخالفت واقعہ سقیفہ کے بارے میں سلمان کا نظریہ: "لو بایعوا علیا لأکلوا من فوقهم و من تحت أرجلهم" ترجمہ: اگر حضرت علیؑ کی بیعت کی جاتی تو ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں نازل ہوتیں۔[16]

جنگ صفین میں حضرت عمارؓ کو ابوالعلادیہ اور ابوالحوا سکسکی نے شہید کیا۔ جب عمارؓ کی شہادت کی خبر جناب امیر علیہ السلام کو ہوئی تو آپؑ فوراً عمارؓ کے لاشے پر پہنچے اور آپؑ کا سر اپنے زانو پر رکھ کر غم سے لبریز اور دنیا کی بیوفائی پر مشتمل اشعار پرھے پھر فرمایا: ''انا للّہ و انا الیہ راجعون'' جو شخص عمار کے قتل پر غمزدہ نہ ہو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، عمار پہ بہشت ایک بار نہیں کئی بار واجب ہوئی۔'' ■ شہادت پر ردعمل عمارؓ کی شہادت نے حضرت علی علیہ السلام کو غضبناک کر دیا اور آپؑ نے معاویہ کی فوج سے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ فرما لیا۔ رات بے حد سرد تھی شامی فوجی سردی کی شدت سے اپنے منہ سے ایسی آوازیں نکالتے تھے، جسطرح کتے کے حلق سے آوازیں نکلتی ہیں۔ عربی میں ''حریر'' کتے کی آواز کو کہا جاتا ہے اسلئے اس رات کا نام ''لیلةالحریر'' مشہور ہوا۔ جناب امیر علیہ السلام نے اس رات ذوالفقار ہاتھ میں تھامی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھوڑے پہ سوار ہو کر میدان کا رخ کیا اور فوج شام پہ حملہ کر دیا۔ آپؑ جب بھی کسی کو تلوار کی ضرب لگاتے تو نعرہ تکبیر بلند فرماتے، جو بھی سورما آپؑ کے سامنے آیا زمین بوس ہوا۔ آپؑ نے اس رات پانچ سو سورما فی النار کئے۔ آپؑ صبح تک جنگ میں مصروف رہے۔ ذوالفقار کئی مرتبہ ٹیڑھی ہوئی اور آپؑ نے اپنے زانوؤں پر رکھ کر اس کو سیدھا کیا۔ اس جنگ میں بہت سے مشہور صحابہ مارے گئے، جن میں حضرت اویس قرنیؓ بھی شامل تھے جو حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے داد شجاعت دیتے ہوئے مرتبہ شہادت پہ فائز ہوئے۔ ■ مدفن حضرت عمار یاسرؓ اور حضرت اویس قرنیؓ کا مشترکہ روضہ شام میں ہے، کیونکہ جنگ صفین جس مقام "رقہ" پہ لڑی گئی وہ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں تھا جو اب ملک شام میں شامل ہے۔ 📚 منابع: 1۔ نضیرالمنار، ج2، ص367۔ 2- تقویم شیعہ 3- سیرت امیرالمومنینؑ 4- وکی پیڈیا 5- متعدد ویب سائٹس https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔷 حضرت عمار یاسرؓ 🔷 8 یا 9 صفر 37 ہجری کو حضرت عمار یاسر 93 سال کی عمر میں جنگ صفین میں شہید کیے گئے۔ حضرت خزیمہ بھی اسی دن شہید ہوئے۔ ■ تعارف آل یاسر بن عامر آغاز اسلام میں ایک چھوٹا سا خاندان جو صرف چار افراد پر ہی مشتمل تھا، مشرف بہ اسلام ہوا۔ انہیں مشرکین مکہ نے سخت اذیتیں دیں لیکن انہوں نے صبر اور استقامت کا دامن تھامے رکھا۔ یہ چار افراد جناب یاسر اور ان کی زوجہ سمیہ اور ان کے دو بیٹے عبداللہ اور عمار تھے۔ جناب یاسر کو مشرکین کوڑے مارتے تھے کہ وہ بیہوش ہو کر گر جاتے تھے۔ جب ہوش آتا تو مشرکین دوباره کوڑے مارتے۔ اس کے باوجود آپ نے اسلام نہیں چھوڑا حتیٰ کہ مشرکین نے اتنا مارا کہ آپ شہید ہو گئے۔ جناب یاسر کی بیوی سمیہ تھیں جو کہ سن رسیدہ تھیں۔ دشمنوں نے ان پر بھی اذیتوں کے پہاڑ گراۓ۔ اس کے باوجود ان کی استقامت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ ابوجہل نے ان کے شکم پر ضرب ماری جس کی وجہ سے وہ بھی شہید ہو گئیں۔ ابوجہل لعین ان کو نہ صرف جسمانی اذیت دیتا تھا بلکہ ان کو روحانی اذیت سے بھی دوچار کرتا تھا۔ وہ بیچاری سن رسیدہ تھیں اور کمر خمیدہ ہو چکی تھی۔ ابوجہل لعین انہیں کہتا تھا کہ تو خدا کے لئے محمد (ص) پر ایمان نہیں لائی بلکہ تو اس کے حسن جمال پر عاشق ہے۔ جناب یاسر کے فرزند عبداللہ کو بھی سخت اذیتیں دی گئیں لیکن وہ بھی ثابت قدم رہے۔ ان کے جسم کو برہنہ کر کے گرم ریت پر لٹا دیا گیا اور لوہے کی زرہ ان کے جسم پر ڈال دی گئی اور وہ تڑپتے رہے۔ شدید گرمی میں اتنی اذیت دی جاتی، ایسا لگتا تھا جیسے ان کو انگاروں پر لٹایا گیا ہو۔ زرہ کے حلقے ان کے بدن میں گھس جاتے تھے۔ اور کفار مکہ ان سے کہتے تھے کہ محمد (ص) کا انکار کرو اور لات و عزیٰ کی عبادت کرو۔ لیکن ان مظالم کے باوجود انہوں نے ان کی یہ بات نہ مانی۔ عمار یاسر کے جسم پر آگ سے جلنے کی وجہ سے اتنے نشانات پڑے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ برص کی بیماری میں مبتلا رہے ہوں گے۔ حضرت محمد (ص) نے اس خاندان سے فرمایا: اے آل یاسر! صبر کرو، استقامت سے کام لو تمہارا مقام یقیناً جنت ہے۔(1) ■ تعارف عمار یاسر حضرت عمار بن یاسرؓ کی کنیت ابویقظان تھی اور آپ حضرت یاسر بن عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے اور صحابی بھی تھے۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے دور اسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ان کے والد حضرت یاسر اور والدہ اسلام کے پہلے شہیدوں میں سے تھے۔ جن کو مشرکین مکہ نے شہید کیا۔ آپ کی والدہ اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں۔ جن کو اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ابوجہل نے شہید کیا تھا۔ جن کے دونوں پیروں کو دو اونٹوں سے باندھ کر مختلف سمتوں میں دوڑایا گیا یہانتک کہ ان کے جسم کے دو ٹکرے ہو گئے۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ حبشہ کو ہجرت کرنے والوں میں سے تھے۔ جنگ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔ ■ رسول اکرمؑ کی بشارت اور دعا ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: ''انہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔'' آپ بڑے مشہور صحابی ہیں اور آپ کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت مشہور تھی۔ والدین کی شہادت کے بعد روتے ہوئے خدمت رسولؐ میں آئے تو انہوں نے دعائے خیر کی کہ: ''خدا آلِ یاسر میں سے کسی کو آگ کا عذاب نہ دے۔'' ■ رسول اکرمؑ سے محبت مدینہ میں پہلی مسجد کی تعمیر کے دوران سب لوگ قریبی پہاڑیوں سے پتھر لا رہے تھے، اس دوران حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پتھر لا رہے تھے اور ان کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا، یہ دیکھ کر حضرت عمار بن یاسرؓ نے ان سے کہا کہ آپؐ پتھر نہ لائیں، میں آپؐ کے حصے کا پتھر بھی لاتا رہوں گا، اس وقت رسولِ خدا صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ ■ شہادت آپ کی شہادت حضرت علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں 38ھ میں جنگِ صفین میں ہوئی جس میں آپ حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے لڑے اور معاویہ ابن ابی سفیان کی فوج مدمقابل تھی۔ جنگ صفین جولائی 657 عیسوی میں حضرت امیرالمومنین علی بن ابیطالب علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے (رقہ) میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے۔ اس جنگ میں شامی افواج کے پینتالیس ہزار اور جناب امیر علیہ السلام کی افواج کے پچیس ہزار افراد مارے گئے، جن میں سے بیشتر اصحاب رسولؐ تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ دونوں اصحاب، حضرت علیؑ کی فوج میں شامل تھے۔

شہادت کے بعد آپ کے جنازہ کو قید خانہ سے ہتھکڑی اور بیڑی سمیت نکال کر بغداد کے پل پر ڈال دیا گیا تھا اور نہایت ہی توہین آمیز الفاظ میں آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو یاد کیا گیا. سلیمان بن جعفر ابن ابی جعفر اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ہمت کر کے نعش مبارک کو دشمنوں سے چھین کر لے گئے اور غسل و کفن دے کر بڑی شان سے جنازہ کو لے کر چلے. ان لوگوں کے گریبان امام مظلوم کے غم میں چاک تھے، انتہائی غم و اندوہ کے عالم میں جنازہ کو لے کر مقبرہ قریش میں پہنچے. امام علی رضا علیہ السلام کفن و دفن اور نماز کے لئے مدینہ منورہ سے با اعجاز پہنچ گئے. آپ نے اپنے والد ماجد کو سپرد خاک فرمایا. تدفین کے بعد امام علیہ السلام مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے. جب مدینہ والوں کو آپ کی شہادت کی خبر ملی تو کہرام برپا ہو گیا. نوحہ و ماتم اور تعزیت کا سلسلہ مدتوں جاری رہا. 📚 حوالہ جات (1) اعلام الوریٰ ،ص 171۔ (2) صواعق محرقہ،ص132۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 🌹 اسم مبارک: موسیٰ۔ القاب: کاظم، عبد صالح، نفس زکیہ، صابر، امین، باب الحوائج وغیرہ کنیت: ابو الحسن، ابو ابراہیم، ابو علی، ابو عبداللہ پدر بزرگوار: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام والدہ گرامی: حمیدہ خاتون تاریخ ولادت: 7 صفر 128ھ تاریخ شہادت: 25 رجب 183ھ مدفن: کاظمین (بغداد) عراق حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام، رسول مقبول حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتویں جانشین ہیں. آپ کے والد محترم حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ جناب حمیدہ خاتون تھیں، جو بربر یا اندلس کی رہنے والی تھیں. امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ خاتون کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں، آپ دنیا میں حمیدہ اور آخرت میں محمودہ ہیں. امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد کی طرح امام منصوص من اللہ، معصوم، اعلم زمانہ اور افضلِ کائنات تھے. آپ دنیا کی تمام زبانیں جانتے تھے اور باذن اللہ علم غیب سے آگاہ تھے، آپ دنیا کے عابدوں میں سے سب سے بڑے عبادت گزار اور سخاوت میں سب سے زیادہ سخی تھے. حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 7 صفر المظفر 128ھ مطابق 10 نومبر 745ء شنبہ کے روز ابوا کے مقام جو مدینہ و مکہ کے درمیان واقع ہے پیدا ہوئے. ولادت کے فوراً بعد ہی آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ٹیک کر آسمان کی طرف رخ کرکے کلمہ شہادتین زبان پر جاری فرمایا۔ یہ عمل آپ نے بالکل اسی طرح انجام دیا جس طرح آپ (ع) کے جد بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انجام دیا تھا. آپ کے داہنے بازو پر یہ کلمہ "تمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا" لکھا ہوا تھا. ۱۴۸ھ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو شہید کیا گیا. باپ کی شہادت کے بعد آپ منصب امامت پر فائز ہوئے اور امامت کے تمام فرائض کے ذمہ دار ہوئے. اس وقت منصور دوانقی کی حکومت تھی. یہ وہی ظالم و جابر بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں لاتعداد سادات موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے یا دیوار میں چنوا دیئے گئے. 158ھ کے آخر میں منصور دوانقی واصل جہنم ہوتا ہے، اس کے بعد اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھتا ہے. شروع میں اس نے امام علیہ السلام کو کسی قسم کی اذیت نہ دی اور نہ ہی بے احترامی کی لیکن چند سال بعد اس میں بھی اولاد پیغمبر کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور ۱۶۴ھ میں حج کے بہانے حجاز کی جانب روانہ ہوا۔ وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بھی اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور بغداد میں امام علیہ السلام کو قید کر دیا۔ ایک سال امام علیہ السلام اس کی قید میں رہے. بعد میں اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور امام علیہ السلام کو آزاد کر کے مدینہ واپس بھیج دیا۔ مہدی کے بعد اس کا بھائی ہادی 169ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال اس نے حکومت کی۔ اس کے بعد ہارون رشید کا زمانہ آیا. اس کے دور میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو آزادی کی سانس لینا نصیب نہیں ہوا. علامہ طبرسی تحریر فرماتے ہیں کہ جس وقت آپ درجہ امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر مبارک بیس سال تھی.(1) امام علیہ السلام کی شہادت: امام علیہ السلام کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعد ہارون الرشید نے والی بصرہ عیسٰی بن جعفر کو لکھا کہ موسٰی بن جعفر (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) کو قتل کر کے مجھ کو ان کے وجود سے سکون دے. اس نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کرنے کے بعد ہارون رشید کو لکھا، میں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میں اس ایک سال کے اندر کوئی برائی نہیں دیکھی. امام موسیٰ کاظم علیہ السلام روز و شب نماز اور روزہ میں مصروف و مشغول رہتے ہیں اور عوام و حکومت کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور ملک کی فلاح و بہبود کے خواہشمند ہیں. کس طرح ایسے شخص کو قتل کر دوں، میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اور اپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہا ہوں لہٰذا تو مجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کر بلکہ تو مجھے حکم دے کہ میں ان کو اس قید بامشقت سے آزاد کر دوں. اس خط کو پانے کے بعد ہارون الرشید نے اس کام کو سندی بن شاہک کے حوالے کیا اور اسی ملعون کے ذریعہ امام علیہ السلام کو زہر دلوا کر شہید کر دیا. علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں ہارون رشید نے آپ کو بغداد میں قید کر دیا ”فلم یخرج من حبسہ الا میتا مقیدا“ اور تاحیات قید رکھا، آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کے ہاتھوں اور پیروں سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کاٹی گئیں. آپ کی شہادت ہارون رشید کے زہر سے ہوئی جو اس نے سندی ابن شاہک کے ذریعہ دلوایا تھا.(2) امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت 25 رجب المرجب بروز جمعہ 183ھ میں واقع ہوئی. اس وقت آپ کی عمر 55 سال کی تھی. آپ نے 14 سال ہارون الرشید کے قید خانہ میں گزارے.

🔷 یہ وقت بھی گزر جائیگا 🔷 ایک شخص کو کسی کا قرض ادا کرنا تھا، قرض خواہ نے قرضدار کو مزدوری کے طور پر بیل کے ساتھ ہل میں جوت دیا۔ ایک تیسرا شخص وہاں سے گزرا تو اسے قرضدار کی حالت پر ترس آگیا، اس نے قرض دار کو قرض ادا کرنے کی آفر کی لیکن قرض دار نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ.. "یہ وقت بھی گزر جائیگا" خیر پورے دن کی بدن توڑ محنت کے بعد قرضدار قرض سے آزاد ہوگیا۔ کچھ عرصہ بعد اس تیسرے شخص کا دوبارہ اسی علاقے سے گزر ہوا تو اس نے سوچا قرضدار کا حال احوال پتہ کرلوں، جاکر معلوم کیا تو علم ہوا کہ قرضدار بہت امیر کبیر ہوگیا ہے، اس نے جاکر اس سے ملاقات کی اور اس کی موجودہ حالت پر خوشی کا اظہار کیا تو اس قرضدار نے مسکرا کر جواب دیا "یہ وقت بھی گزر جائے گا." کچھ عرصہ بعد یہ شخص جب دوبارہ اس علاقے میں گیا تو اسے علم ہوا کہ قرضدار فوت ہو چکا ہے، یہ شخص اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہاں بھی یہی لکھا تھا کہ.. "یہ وقت بھی گزر جائے گا." یہ شخص کافی سوچتا رہا کہ آخر اس بات کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، کیا قبر میں جانے کے بعد کا وقت بھی گزر جائے گا؟ لیکن جب وہ اس کے بعد دوبارہ وہاں آیا تو اسے اپنی اس بات کا بھی جواب مل گیا، جب اس نے دیکھا کہ اس کی قبر کی جگہ سے سڑک گزر رہی تھی اور وہاں بچے کھیل رہے تھے۔۔۔!! ■ یہ دنیا کسی کی نہیں، یہاں کچھ بھی ہمیشہ نہیں رہتا، باقی رہنے والی چیز صرف اعمال ہیں. کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وقت بھی گزر جائے اور سوائے پچھتاوے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہ آئے پھر ہم کہتے پھریں.. "یالیتنی کنت ترابا" (کاش! میں مٹی ہوتا یعنی کاش مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے) اور آواز قدرت آئے کہ اب وقت گزر چکا ہے. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌼 حسنِ ظن 🌼 ایک دن مشہور شاعر اور محدث محمد بن شہاب زہری غمگین شکل و صورت لئے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام علیہ السلام نے زہری سے پریشانی کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا.. ’’ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ غُمُومٌ وَ هُمُومٌ تَتَوَالَى عَلَيَّ لِمَا امْتُحِنْتُ بِهِ مِنْ جِهَةِ حُسَّادِ نِعَمِي‏‘‘ ترجمہ: مجھے ان لوگوں پر غصہ آتا ہے جن سے میں تو نیکی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔‘‘ امام زین العابدینؑ فرمایا: ’’تمہارے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو اپنا ذاتی خاندان تصور کرو، ان میں سے جو تم سے بڑا ہو اسے اپنے باپ کے مقام پر سمجھو اور جو تم سے چھوٹا ہو اسے بیٹے کے مقام پر سمجھو اور جو تمہارا ہم عمر ہو اسے اپنا بھائی تصور کرو پھر تم سوچو کہ آیا اپنے خاندان کے افراد کا کوئی نقصان تمہیں پسند آتا ہے؟ کیا تم اپنے خاندان پر ظلم یا بددعا کرنا گوارا کروگے؟ یا چاہو گے کہ ان کے راز آشکار ہوجائیں؟ اور اگر کبھی ابلیس تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تم ان سے بہتر ہو تو شیطانی وسوسہ کو اپنے سے دور کرو اور اپنے آپ سے کہو.. کہ فلاں شخص مجھ سے عمر میں بڑا ہے یہ ایمان لانے میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اس کے نیک عمل مجھ سے زیادہ ہیں، اگر وہ تم سے عمر میں چھوٹا ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال کرو کہ اس کی عمر مجھ سے کم ہے اسی لئے اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہیں، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے. اگر وہ شخص تمہارا ہم عمر ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال پیدا کرو کہ مجھے اپنے گناہوں کا یقین ہے اس کے گناہوں کا شک ہے، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے. اگر تم کسی کو اپنا احترام کرتے ہوئے دیکھو تو تم میں تکبر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہیے تم اپنے دل سے کہو کہ اسلام ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کے احترام کا حکم دیتا ہے اسی لئے یہ لوگ میرا احترام کرتے ہیں ورنہ مجھ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے. اگر کسی شخص کو اپنے آپ سے بے اعتنائی کرتا ہوا پاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ یاد رکھو اگر تم نے میری باتوں پر عمل کیا تو تمہارے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں گے۔ تم ان کی خوبیوں سے مستفید ہو سکو گے اور ان کی برائیوں سے محفوظ رہوگے. 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ 📚 بحار الانوار، ج71، ص156. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

❄ گھر نمونہ جنت ❄ ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے. ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پر ھوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ھوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ھوگا... وہ عورت بہت پریشان ھوگئی اور مایوس ھو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔ ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ھے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو‎ اور جہاں شیر آتا ھے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ... کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ھو جاۓ گا. تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ھو جاۓ تو گردن سے بال اکھیڑ لینا. اس عورت کو بات پسند آئی. دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی. شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا.. اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا. ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ھے... کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ھو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی... اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ھوں اب آپ عمل شروع کریں‎... پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ھو..؟ تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی. پیر صاحب مسکراۓ اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ جوکہ خونخوار ھوتا ھے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ھو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ھو سکتا ھے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ھو سکتا ھے. ■ میری سب بہنوں سے گزارش ھے کہ اپنے شوہر کی خدمت صرف اور صرف الله پاک کی رضا کے لئے کریں پھر دیکھیں الله پاک آپ کے گھر کو کیسے جنت بناتا ہے. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 مجتہد کی ضرورت 🌷 اصول کافی، شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ اور وسائل الشیعہ کے ہوتے ہوئے توضیح المسائل کی کیا ضرورت ہے؟ ان کتابوں کے اردو تراجم بھی دستیاب ہیں، کوئی بھی شخص ان کتابوں سے برائے راست فرمانِ معصومؑ معلوم کر سکتا ہے۔ اس طرح مجتہد کی ضرورت ہی نہیں رہتی. تو اس کا جواب یہ ہے کہ.. اسلام کی پہلی ترجیح تو یہی ہے کہ ہر شخص اس لائق ہو کہ وہ براہ راست قرآن اور معصومؑ کا فرمان سمجھتا ہو اور اپنے سارے شرعی مسائل براہ راست قرآن اور حدیث سے اخذ کر سکتا ہو۔ لیکن جب آپ تراجم کے موجود ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر درمیان میں مجتہد سے بھی کم درجے کا ایک مترجم واسطہ بن جاتا ہے ہم اس سے دین لے رہے ہوتے ہیں۔ ہم خود براہ راست معصومؑ کا فرمان تو نہیں سمجھ رہےہوتے۔ ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کتابوں کے اندر ایک ہی باب کے ایک ہی مسئلے کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں جن کے درمیان بظاہر ٹکراؤ اور تضاد کی سی کفیت نظر آتی ہے۔ اس مشکل کا حل عام آدمی تو دور کی بات کسی عام عالم کے بس میں بھی نہیں ہے۔ اس کام کے لئے خاص علم اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس یہ دونوں ہوں وہی مجتہد ہوتا ہے۔ ایک اور مشکل، پیش آنے والے جدید مسائل ہیں جن کے اصول اور ضوابط قرآن کریم اور فرامینِ معصومینؑ میں موجود ہیں لیکن ان سے حکم سمجھنے کے لئے اجتھاد کی سطح کا علم درکار ہوتا ہے. 🌹 امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں.. فقہاء (مجتہدین) میں سے ایسا شخص جو اپنے نفس کی (گناہوں سے) حفاظت کرنے والا ہو، اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو، ہوا و ہوس (خواہشاتِ نفسانی) کی مخالفت کرتا ہو، اور اپنے مولا کی پیروی کرتا ہو، تو پھر عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تقلید (پیروی) کریں. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے ۔ 📚 بحارالانوار، ج 2، ص:88. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔵 بے نمازی انسان 🔵 ■ایک دن پیغمبر اکرمؐ اپنے اصحاب کے ساتھ ایک جگہ سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک کتا آیا اور اپنی زبان میں کچھ کہنے لگا. پیغمبر اکرمؐ رکے اور اس کی باتوں کو سنا. اور ساتھ ہی اصحاب بھی رُک گئے۔ اسی وقت آنحضرتؐ نے اپنے اصحاب کی طرف دیکھ کر فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ جو کچھ کتے نے کہا ہے؟ اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ نہیں. پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں: اس حیوان نے کہا: اے پیغمبرِ خُدا میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتا ہوں. اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایک کتا بنا ہوں. اگر میں ایک بے نماز انسان ہوتا تو کیا کرتا؟ 📚عرفان اسلامی، جلد5، ص8۔ ■حضور اکرمؐ نے فرمایا: ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِفجر" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یاخاسر" (اے خسارہ اٹھانے والا) کے نام سے پکارتا ہے۔ ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِظہر" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یاغادر" (اے عہد شکن) کے نام سے پکارتا ہے۔ ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِعصر" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یافاجر" (اے فجور کرنے والے) کے نام سے پکارتا ہے۔ جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِمغرب" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یاکافر" (اے کافر) کے نام سے پکارتا ہے۔ ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِعشاء" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ کیا تیرا رب نہیں ہے؟ 📚ہدیه الشیعه، صفحہ:326۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌷 رسول اکرمؐ کا حقیقی جانشین 🌷 ایک وه موقع جب آپ نے اپنے واضح حکم سے غزوه تبوک کے موقع پر حضرت علیؑ کو آپنا قائم مقام نائب بنایا. ساتھ یه بھی فرمایا که اے علیؑ تمھیں مجھ سے وھی نسبت ھے جیسے ھارون کی موسیٰؑ سے تھی ھاں مگر میرے بعد کوئی نبی نه ھو گا. دوسرا موقع سوره برأت کے نزول کا ھے جس میں آپؐ نے ابوبکر کو بھیجا، مگر الله کا حکم آنے سے حضرت علیؑ کو پیچھے بھیجا تاکه مشرکین تک اعلان برات کے پہنچانے کی ذمه داری لیں. کیونکه الله تعالیٰ کا حکم ھوا تھا که آپ اپنی اہلبیتؑ میں سے حضرت علیؑ کو بھیجیں. اس واقعه سے برادران کی اس سوچ کی نفی ھوتی ھے که علیؑ اصحاب میں سے ہیں. بلکه یہاں اھلبیتؑ کے فرد ھونے کی وجه سے حکمِ الٰھی ھوا ھے. دوسرا خلافت کا مسئله حل ھوتا ھے که بحکم خدا آپ کا نائب یا قائم مقام وھی ھو سکتا ھے جو ھر لحاظ سے علم سے، تقویٰ سے، شجاعت سے صلاحیت و اہمیت رکھتا ھو. بحواله: تاریخ ابن کثیر (البدایه والنھایه)، جلد:5، ص:21,22/64,65. خلافت پر قبضه کیسے کیا گیا یه مکمل روداد ملاحظه فرمائیں: بخاری شریف جلد:8, حدیث نمبر:6830، ص:182 تا 189. حضرت عمر تسلیم کر رھے ھیں که ابوبکر کی بیعت اچانک ھو گئی تھی پھر چل بھی گئی. حضرت عمر خود تسلیم کر رھے ھیں که یه خلافت جس پر ھم نے قبضه کیا یه نہ الله کے حکم پر ھوئی اور نہ ھی رسول اکرمؐ کے حکم سے. یه سب رجم کے حکم پر دی گئی حدیث نمبر:6830 میں موجود ھے. 👆ایک مراسلہ👆 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹امام علیؑ، نبی اکرمؐ کےقائم مقام🌹 "عن سعد بن ابي وقاص قال خلف رسول اﷲ علي بن ابي طالب في غزوه تبوک فقال يا رسول اﷲ تخلفني في النساء والصبيان فقال اما ترضي ان تکون مني بمنزلة هارون من موسي غير انه لا نبي بعدي" ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے حضرت علیؑ کو غزوہ تبوک میں اپنا خلیفہ بنایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسولؐ آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں خلیفہ بنایا ہے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ آپ اس چیز پر راضی نہیں کہ آپ میرے لئے اس طرح بن جائیں جس طرح کہ ہارونؑ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا.(1) "عن زيد بن ارقم قال کانت فلنفرمن اصحاب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم ابواب شارعة في المسجد فقال يوماً سدوا هذه الابواب الاباب علي قال فتکلم في ذالک ناس فقام رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم فحمد اﷲ و اثني عليه تم قال اما بعد فاني امرت بسد هذه الابواب غير باب علي فقال فيه قائلکم والله ماسددت شيئا ولا فتحته ولکن امرت شي فاتبعته" ترجمہ: حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ اصحابِ رسولؐ میں سے بعض کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی (کے صحن) کی طرف کھلتے تھے ایک دن حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ان تمام دروازوں کو بند کر دو سوائے بابِ علی کے. راوی کہتا ہے کہ بعض لوگوں نے چہ میگوئیاں کیں اس پر حضور نبی اکرمؐ نے خطبہ ارشاد فرمایا؛ حمد و ثناء کے بعد فرمایا مجھے بابِ علی کے سوا ان تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس تم میں سے کسی نے اس بات پر اعتراض کیا ہے، خدا کی قسم نہ میں کسی چیز کو کھولتا اور نہ بند کرتا ہوں مگر یہ کہ مجھے اس چیز کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے پس میں اس (حکم خداوندی) کی اتباع کرتا ہوں۔(2) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ 📚 حوالہ جات: (1)صحيح مسلم، 4 : 1870- 1871، کتاب فضائل الصحابه، باب 4 من فضائل علي بن ابي طالب رضي الله عنه، ح : 2404 صحيح البخاري، 3 : 1358، کتاب المناقب باب 9 فضل الصحابه، ح : 3503 صحيح البخاري، 4 : 1602، کتاب المغازي، باب 74غزوه تبوک،ح : 1454 سنن الترمذي، 5 : 640 - 641، کتاب المناقب، باب 30 مناقب علي رضي الله عنه بن ابي طالب، ح : 3724، 3730، 3731 سنن ابن ماجه، 1 : 42، المقدمه، باب فضل علي بن ابي طالب ح : 115 المستدرک للحاکم، 3 : 109، کتاب معرفة الصحابه، باب ذکر بغض فضائل علي رضي الله عنه المعجم الکبير لطبراني، 1 : 146، ح : 328 المعجم الکبير لطبراني، 1 : 148، ح : 333، 334 المعجم الکبير لطبراني، 2 : 247، ح : 2036 المعجم الکبير لطبراني، 5 : 203، ح : 5094، 5095 المعجم الکبير، 11 : 61، ح : 11087 مسند احمد بن حنبل، 3 : 32، مسند احمد بن حنبل، 4 : 438 مسند احمد بن حنبل، 3 : 338 مسند ابي يعلي، 1 : 286، ح : 345 مسند ابي يعلي، 2 : 57، ح : 698 مسند ابي يعلي، 2 : 66، ح : 709 مسند ابي يعلي، 2 : 73، ح : 718 مسند ابي يعلي، 2 : 86، ح : 739، 738 مسند ابي يعلي، 2 : 99، ح : 755 مصنف عبدالرزاق، 11 : 226، ح : 20390، باب اصحاب النبیؐ، مجمع الزوائد، 9 : 109، باب منزلة رضي الله تعالي عنه، سنن ابن ماجه، 1 : 42 - 43. المقدمه، باب 11 فضل علي بن ابي طالب رضي الله عنه، ح : 115 امام ترمذی نے اس حدیث پاک کو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کے رجال اور سند کو ثقہ کہا ہے۔ 1۔ امام ابو یعلی اورامام طبرانی نے جو حدیث ام سلمہ سے روایت کی ہے اسکی اسناد ثقہ ہے۔ 2۔ امام بزار اور امام طبرانی نے جو حدیث ابن عباس سے روایت کی ہے اسکی اسناد بھی ثقہ ہے۔ 3۔ امام طبرانی نے حضرت زبیر سے جو روایت کی ہے اسکے رجال کی اسناد بھی ثقہ ہے۔ (2)المستدرک للحاکم، 3 : 125. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 آئمہ معصومینؐ 🔷 پيغمبر اکرمؐ نے اپنی زندگی ہی ميں يہ بات واضح کردی تھی کہ آپؐ کے بعد باره خليفے ہوں گے اورسب قريش ميں سے ہوں گے اور اسلام کی عزت انہيں خلفاء کی مرہون منت ہوگی.. جابر بن سمره کہتے ہيں.. ''سمعت رسول لله يقول لايزال السلام عزيزأ اِلی اثن عشر خليفةً ثم قال کلمة لا أسمعھا فقلت لأب: ماقال؟ فقال کلھم من قريش.'' ترجمہ: ميں نے پيغمبرِ خدا کو يہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام کو باره خلفاء کے ذريعہ عزت حاصل ہوگی اور پھر پيغمبر اکرمؐ نے کوئی لفظ کہا جسے ميں نے نہيں سنا ميں نے اپنے والد سے پوچھا کہ پيغمبر اکرمؐ نے کيا فرماياہے؟ جواب ديا کہ پيغمبر اکرمؐ نے فرمايا کہ يہ سب قريش ميں سے ہوں گے. (صحيح مسلم،جلد6،ص:2،طبع مصر) اسلام کی تاريخ ميں ايسے باره خلفاء جو اسلام کی عزت کے محافظ اور نگہبان رہے ہوں ان باره اماموں کے علاوه نہيں ملتے جن کو شيعہ اپنے امام مانتے ہيں کيونکہ جن باره خلفاء کا تعارف خود پيغمبر اکرمؐ نے کرايا تھا وہی آنحضرتؐ کے بلا فصل خليفہ شمار ہوتے ہيں اب ديکھنا يہ ہے کہ وه باره افراد کون ہيں؟ اگر ہم ان چار خلفاء سے کہ جن کو اہل سنت خلفاء راشدين کہتے ہيں، چشم پوشی کرليں تو دوسرے خلفاء ميں سے کوئی بھی عزتِ اسلام کا باعث نہيں تھا جيسا کہ اموی اور عباسی خلفاء کی تاريخ اس بات کی شاہد ہے. ليکن شيعوں کے سبھی باره آئمہ اپنے اپنے زمانے ميں تقویٰ اور پرہيزگاری کے پيکر تھے. وه سب پيغمبر اکرمؐ کی سنت کے محافظ تھے نيز وه سب صحابہ کرام، تابعين اور بعد ميں آنے والی نسلوں کی توجہ کا مرکز قرار پائے. مؤرخین نے بھی انکے علم اور ان کی وثاقت کی صاف لفظوں ميں گواہی دی ہے. ان باره اماموں کے اسمائے گرامی درج ذيل ہيں: 1= امام علیؑ ابن ابی طالبؑ 2= امام حسنؑ بن علیؑ (مجتبیٰؑ) 3= امام حسينؑ بن علیؑ 4= امام علیؑ ابن الحسينؑ (زين العابدينؑ) 5= امام محمدؑ بن علیؑ (باقرؑ) 6= امام جعفرؑ بن محمدؑ (صادقؑ) 7= امام موسیٰؑ بن جعفرؑ (کاظمؑ) 8= امام علیؑ بن موسیٰؑ (رضاؑ) 9= امام محمدؑ بن علیؑ (تقیؑ) 10= امام علیؑ بن محمدؑ (نقیؑ) 11= امام حسنؑ بن علیؑ (عسکریؑ) 12= امام مہدیؑ (قائمؑ) بارہویں امام مہدی عج کے سلسلے ميں مسلمان محدثين نے پيغمبر اسلامؐ سے متواتر احاديث نقل کی ہيں کہ جن ميں آپ کو مہدی موعود (جن کا وعده کيا گيا ہے) کے نام سے ياد کياگيا ہے. يہ وه آئمہ معصومينؑ ہيں کہ جنکے اسمائے مبارک پيغمبر اسلامؐ نے بيان فرمائے ہيں انکی زندگی سے متعارف ہونے کيلئے درج ذيل کتابوں کا مطالعہ مفيد ثابت ہوگا... 1. تذکرة الخواص (تذکرة خواص الامّہ) 2. کفاية الاثر 3. وفيات الاعيان 4. اعيان الشيعہ (سيد محسن امين عاملی) يہ کتاب بقيہ کتابوں کی نسبت زياده جامع ہے. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

📝 پتھر جيسى سختى ......سكاكى اپنے عہد كے نامور دانشمندوں ميں شمار كئے جاتے تھے ۔ شروع ميں وہ ماہر فنكار اور كاريگر آدمى تھے۔ بڑھاپے ميں ان كو پڑھائى كا جنون پيدا ہوا تو وہ ايک استاد كے پاس حاضر ہوۓتو استاد نے ان كو ايک مسئلہ سكھايا؛ ’’استاد كا عقيدہ تھا كہ كتے كى كھال دباغت كے بعد پاک ہوجاتى ہے‘‘ سكاكى نے اس جملے كو كم از كم دس بار دہرايا تاكہ امتحان كے موقع وہ اچھے نمبروں سے كامياب ہوسكے۔ ليكن جب اس سے اس درس كے بارے ميں سوال كيا گيا تو اس نے جواب ديتے ہوۓ كہا؛ ’’كتے كا عقيدہ يہ ہے كہ استاد كى كھال دباغت كے بعد پاک ہو جايا كرتى ہے.‘‘ اس كاجواب سن كر سب حاضرين ہنسنے لگے۔ اس بات پر اس كو مدرسہ سے نكال دياگيا۔ سكاكى شہر چھوڑ كر جنگل كى طرف نكل گیا جہاں انہوں نے ديكھا كہ ايک بلندى سے پتھر پر بوند بوند پانى ٹپک رہاہے اور بوند بوند پانى ٹپكنے كى وجہ سے اس سخت پتھر ميں بھى سوراخ پيدا ہوگيا۔ وہ كچھ دير تک اسى موضوع پر سوچتا رہا۔ اس بات نے اس كے دل ودماغ پر گہرا اثر ڈالا۔ اور كہنے لگا؛ ’’ميرا دل پڑھنے لكھنے كى طرف چاہے بالكل ہى مائل نہ ہو ليكن اس ميں پتھر جيسى سختى تو نہيں لہذا يہ قطعى ناممكن ہے كہ ميں لگاتار علم كے لئے محنت كروں اور حاصل نہ كرسكوں.‘‘ 🔘 دیکھا جائے تو ہم بھی کبھی کبھی کم فکر اور کم دقت ہونے کی وجہ سے تھوڑی تھوڑی سختیوں کی وجہ سے اپنے اھداف کو بھلا دیتے ہیں اور بجائے اسکے کہ ان مشکلات کا مقابلہ کریں ہم خود ہی کم ظرفی کا شکار ہوجاتے ہیں اور پستی کی پستیوں میں سوجاتے ہیں پھر پستیوں سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ بلندی کا سوچتے تک نہیں، ایسا انسان اپنی صلاحیتوں پہ ظلم کر رہا ہوتا ہے..... 📚 سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۲۲۸. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ موازنہ ⭕ ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻨﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ... ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻻ ﮐﻠﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺪﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻨﺲ ﺳﮯ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﻨﺲ ﺑﻮﻻ... ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺷﮏ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﺍ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺑﻮﻻ... ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﻜﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻏﺎﺭﺕ ﮨﻮ گئی ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﯿﺸﻤﺎﺭ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ... ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ذﺭﺍ ﭼﮭﭩﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ... " ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻣﻮﺭ ﺗﻢ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺷﻮ ﺷﻮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻮ۔ ﺗﻢ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﮯ۔" ﻣﻮﺭ ﺑﻮﻻ... ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﻮﺍ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺗﺎ ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ۔'' ﺑﺎﻟﮑﻞ ﯾﮩﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻏﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻦ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ کیجئے ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ اور ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ نہ کیجئے کیونکہ اس طرح غم اور ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔ بلکہ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮئی ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ ﻓﻀﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ اور ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ "ﺍﻟﺤﻤﺪُﻟﻠﮧ" ﮐﮩﻨﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﺌﮯ...! کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے... "جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو کسی نعمت سے سرفراز فرمائے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو جو اس نے حاصل کیا ہے اس سے بھی بہتر دیا جائے گا" (ابن ماجہ:3805) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ بیٹی ⭕ شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے. ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دولہے کے والدین باہر موجود ہیں. دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دولہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا. والدین ناکام واپس لوٹ گئے. ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دولہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں. ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں. دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا. باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا. شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا. اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی... شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں. اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا. شوہر مسکرایا اور بولا یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی.... بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں،، 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⏪تقيہ کا معيار کيا ہے؟⏩ دشمنوں کےمقابلےميں دنياوی اوردينی نقصانات سے محفوظ رہنےکیلئے اپنے باطنی عقيدے اور ايمان کوچھپانے کا نام تقيہ ہے. تقيہ ہرمسلمان شخص کاايک ايسا شرعی فريضہ ہےجسکا سرچشمہ قرآنی آيات ہيں. 🌹قرآن کی نگاه ميں تقيہ: قرآن مجيدميں تقيہ سےمتعلق بہت سی آيات ہيں ان ميں سےيہاں ہم بعض کاذکر کرتے ہيں... "لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ....الخ"(1) ترجمہ: مومنوں کوچاہيے کہ وه اہل ايمان کوچھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور دوست نہ بنائيں اور جو کوئی ايسا کریگا اسکا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر يہ کہ تمہيں کفار سےخوف ہوتو کوئی حرج نہيں ہے. يہ آيت بخوبی اس بات کی گواہی ديتی ہےکہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا جائز نہيں ہے ليکن اگر جان خطره ميں ہوتو تقيہ کرتے ہوئے ان سے ظاہری طورپر دوستی کا اظہار کيا جاسکتا ہے. 🌹"مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن....الخ"(2) ترجمہ: جوشخص بھی ايمان لانےکیبعد کفر اختيار کرلے سوائے اسکے جسے کفر پر مجبور کرديا جائے اور اسکا دل ايمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہيں ہے) ليکن وه شخص جسکے سينہ ميں کفر کیلئے کافی جگہ پائی جاتی ہو اسکے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کیلئے بہت بڑا عذاب ہے. ■مفسرين نےاس آيت کےشان نزول ميں لکھا ہے کہ... ايک دن کفار نےجناب عمارابن ياسر کو انکے ماں باپ کے ہمراه گرفتار کرليا اور ان سے کہنے لگے کہ اسلام کوچھوڑ کر کفر و شرک اختيار کرلو تو عماربن ياسر کے ہمراه افراد نے انکے جواب ميں توحيد و رسالت کی گواہياں دينا شروع کرديں جس پر کفار نے ان ميں سے بعض کو شہيد کر ڈالا اور بعض پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھانے لگے اس وقت جناب عمار نے اپنے باطنی عقيدے کے برخلاف تقيہ اختيار کرکے ظاہری طور پر کفر کے کلمات کو اپنی زبان پر جاری کيا تو کفار نے انہيں چھوڑ ديا پھر اسکے بعد جناب عمار انتہائی پريشانی کے عالم ميں رسول خدا کی خدمت ميں پہنچے تو آنحضرت نے انہيں تسلی دی اور پھر اس سلسلے ميں يہ آيت نازل ہوئی.(3) ●اس آيت اور اس کی تفسير سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ پيغمبرخداۖ کے زمانے ميں اصحاب بھی جان ومال کی حفاظت کیلئے اپنے باطنی عقيدے کو چھپاکر تقيہ کرتے تھے. تقيہ شيعوں کی نگاه ميں بنی اميہ اور بنی عباس کے ظالم حکمران ہميشہ شيعوں سے برسرپيکار رہے ہيں اور انہوں نے شيعوں کے قتل عام ميں کوئی کسر اٹھا نہيں رکھی ہے.(4) اس بناپر اس زمانےميں شيعوں نےقرآن مجيد کے حکم کے مطابق انتہائی سخت حالات ميں اپنے سچے عقائد چھپاکر اپنی اور دوسرے مسلمان بھائيوں کی جانيں محفوظ کی تھيں، واضح ہے کہ اس ظلم و ستم کی فضا ميں شيعوں کے لئے تقيہ کے علاوه کوئی ايسا چارهٔ کار نہيں تھا جو شيعوں کو نابودی سے بچاتا لہذا اگر وه ظالم حکام، شيعوں کے دشمن نہ ہوتے اور شيعوں کا بے گناه قتل عام نہ کرتے تو ہرگز شيعہ تقيہ اختيار نہ کرتے. ●يہاں پر اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ تقيہ صرف شيعوں سے ہی مخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی جب اپنے ايسے دشمنوں کے مقابلے ميں قرار پاتے ہيں جو مسلمانوں کے تمام فرقوں کے دشمن ہيں (جيسےکہ خوارج اور وه ظالم حکومتيں جو ہرحرام کام کو جائز سمجھتی ہيں) اور ان سے مقابلہ کی طاقت بھی نہيں ہوتی تو وه اپنی جان کی حفاظت کی خاطر تقيہ کا سہارا ليتے ہيں اس بنياد پر اگر اسلامی معاشرے کے تمام افراد اپنے فقہی مذاہب ميں اتفاق رائے رکھتے ہوئے وحدت واخوت کی زندگی گزارنا شروع کر ديں تو پھر ہرگز انھيں تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہے گی. 🌷نتيجہ گزشتہ بحث سےيہ نتيجہ نکلتا ہےکہ.. ١۔تقيہ کی اساس قرآن مجيدپر ہے اور صدر اسلام ميں پيغمبراکرمۖ کے اصحاب بھی تقيہ کرتے تھے اور آنحضرتۖ انکے اس عمل کی تائيد فرماتے تھے يہ سب تقيہ کےجائز ہونےکی دليليں ہيں. ٢۔شيعہ اپنے مذہب کو بچانے اور دشمنوں کے سفاکانہ قتل عام سے محفوظ رہنے کیلئے تقيہ کرتےتھے. ٣۔تقيہ صرف شيعوں سےمخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی تقيہ کرتے ہيں. ٤۔تقيہ کرنا اور اپنےباطنی عقائدچھپانا صرف کفار کے مقابلے ميں ہی انجام نہيں پاتا بلکہ تقيہ کا معيار (مسلمانوں کی جان بچانا) عموميت رکھتا ہے اور ہر ايسے ظالم دشمن کے سامنے کہ جسکے ساتھ مقابلے کی قدرت نہ ہو يا اس سے جہاد کرنے کے شرائط پورے نہ ہو رہےہوں تقيہ ضروری ہوجاتا ہے. ٥۔اگر مسلمانوں ميں مکمل وحدت اور ہم فکری پيدا ہوجائے تو ہرگز ان کے درميان تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہےگی. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوره آل عمران آيت: ٢٨ سوره نحل آيت: ١٠٦ اس سلسلےميں جلال الدين سيوطی کی تفسير درالمنثور جلد ٤ ص ١٣١ (طبع بيروت) کامطالعہ کيجئے. بنی اميہ اور بنی عباس کےحکام کےحکم پر شيعوں کے بےرحمانہ قتل عام کے سلسلے ميں تفصيلی معلومات حاصل کرنے کیلئے ان کتابوں''مقاتل الطالبين'' (مصنفہ ابوالفرج اصفہانی)، ''شہداءالفضيلة (مصنفہ علامہ امينی)، ''الشيعہ والحاکمون'' (مصنفہ محمدجواد مغنيہ) کا مطالعہ مفيدثابت ہوگا. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕