ar
Feedback

لا تقع ضحية للمخادعين! تيليمتريو يكتشف ويُميّز هذه القنوات 👉 إذا كنت تريد رؤية العلامة، اشترك

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

الذهاب إلى القناة على Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

إظهار المزيد
1 285
المشتركون
لا توجد بيانات24 ساعات
-47 أيام
-430 أيام
أرشيف المشاركات
🔷 یہ وقت بھی گزر جائیگا 🔷 ایک شخص کو کسی کا قرض ادا کرنا تھا، قرض خواہ نے قرضدار کو مزدوری کے طور پر بیل کے ساتھ ہل میں جوت دیا۔ ایک تیسرا شخص وہاں سے گزرا تو اسے قرضدار کی حالت پر ترس آگیا، اس نے قرض دار کو قرض ادا کرنے کی آفر کی لیکن قرض دار نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ.. "یہ وقت بھی گزر جائیگا" خیر پورے دن کی بدن توڑ محنت کے بعد قرضدار قرض سے آزاد ہوگیا۔ کچھ عرصہ بعد اس تیسرے شخص کا دوبارہ اسی علاقے سے گزر ہوا تو اس نے سوچا قرضدار کا حال احوال پتہ کرلوں، جاکر معلوم کیا تو علم ہوا کہ قرضدار بہت امیر کبیر ہوگیا ہے، اس نے جاکر اس سے ملاقات کی اور اس کی موجودہ حالت پر خوشی کا اظہار کیا تو اس قرضدار نے مسکرا کر جواب دیا "یہ وقت بھی گزر جائے گا." کچھ عرصہ بعد یہ شخص جب دوبارہ اس علاقے میں گیا تو اسے علم ہوا کہ قرضدار فوت ہو چکا ہے، یہ شخص اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہاں بھی یہی لکھا تھا کہ.. "یہ وقت بھی گزر جائے گا." یہ شخص کافی سوچتا رہا کہ آخر اس بات کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، کیا قبر میں جانے کے بعد کا وقت بھی گزر جائے گا؟ لیکن جب وہ اس کے بعد دوبارہ وہاں آیا تو اسے اپنی اس بات کا بھی جواب مل گیا، جب اس نے دیکھا کہ اس کی قبر کی جگہ سے سڑک گزر رہی تھی اور وہاں بچے کھیل رہے تھے۔۔۔!! ■ یہ دنیا کسی کی نہیں، یہاں کچھ بھی ہمیشہ نہیں رہتا، باقی رہنے والی چیز صرف اعمال ہیں. کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وقت بھی گزر جائے اور سوائے پچھتاوے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہ آئے پھر ہم کہتے پھریں.. "یالیتنی کنت ترابا" (کاش! میں مٹی ہوتا یعنی کاش مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے) اور آواز قدرت آئے کہ اب وقت گزر چکا ہے. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌼 حسنِ ظن 🌼 ایک دن مشہور شاعر اور محدث محمد بن شہاب زہری غمگین شکل و صورت لئے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام علیہ السلام نے زہری سے پریشانی کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا.. ’’ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ غُمُومٌ وَ هُمُومٌ تَتَوَالَى عَلَيَّ لِمَا امْتُحِنْتُ بِهِ مِنْ جِهَةِ حُسَّادِ نِعَمِي‏‘‘ ترجمہ: مجھے ان لوگوں پر غصہ آتا ہے جن سے میں تو نیکی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔‘‘ امام زین العابدینؑ فرمایا: ’’تمہارے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو اپنا ذاتی خاندان تصور کرو، ان میں سے جو تم سے بڑا ہو اسے اپنے باپ کے مقام پر سمجھو اور جو تم سے چھوٹا ہو اسے بیٹے کے مقام پر سمجھو اور جو تمہارا ہم عمر ہو اسے اپنا بھائی تصور کرو پھر تم سوچو کہ آیا اپنے خاندان کے افراد کا کوئی نقصان تمہیں پسند آتا ہے؟ کیا تم اپنے خاندان پر ظلم یا بددعا کرنا گوارا کروگے؟ یا چاہو گے کہ ان کے راز آشکار ہوجائیں؟ اور اگر کبھی ابلیس تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تم ان سے بہتر ہو تو شیطانی وسوسہ کو اپنے سے دور کرو اور اپنے آپ سے کہو.. کہ فلاں شخص مجھ سے عمر میں بڑا ہے یہ ایمان لانے میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اس کے نیک عمل مجھ سے زیادہ ہیں، اگر وہ تم سے عمر میں چھوٹا ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال کرو کہ اس کی عمر مجھ سے کم ہے اسی لئے اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہیں، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے. اگر وہ شخص تمہارا ہم عمر ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال پیدا کرو کہ مجھے اپنے گناہوں کا یقین ہے اس کے گناہوں کا شک ہے، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے. اگر تم کسی کو اپنا احترام کرتے ہوئے دیکھو تو تم میں تکبر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہیے تم اپنے دل سے کہو کہ اسلام ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کے احترام کا حکم دیتا ہے اسی لئے یہ لوگ میرا احترام کرتے ہیں ورنہ مجھ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے. اگر کسی شخص کو اپنے آپ سے بے اعتنائی کرتا ہوا پاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ یاد رکھو اگر تم نے میری باتوں پر عمل کیا تو تمہارے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں گے۔ تم ان کی خوبیوں سے مستفید ہو سکو گے اور ان کی برائیوں سے محفوظ رہوگے. 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ 📚 بحار الانوار، ج71، ص156. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

❄ گھر نمونہ جنت ❄ ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے. ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پر ھوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ھوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ھوگا... وہ عورت بہت پریشان ھوگئی اور مایوس ھو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔ ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ھے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو‎ اور جہاں شیر آتا ھے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ... کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ھو جاۓ گا. تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ھو جاۓ تو گردن سے بال اکھیڑ لینا. اس عورت کو بات پسند آئی. دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی. شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا.. اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا. ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ھے... کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ھو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی... اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ھوں اب آپ عمل شروع کریں‎... پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ھو..؟ تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی. پیر صاحب مسکراۓ اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ جوکہ خونخوار ھوتا ھے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ھو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ھو سکتا ھے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ھو سکتا ھے. ■ میری سب بہنوں سے گزارش ھے کہ اپنے شوہر کی خدمت صرف اور صرف الله پاک کی رضا کے لئے کریں پھر دیکھیں الله پاک آپ کے گھر کو کیسے جنت بناتا ہے. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 مجتہد کی ضرورت 🌷 اصول کافی، شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ اور وسائل الشیعہ کے ہوتے ہوئے توضیح المسائل کی کیا ضرورت ہے؟ ان کتابوں کے اردو تراجم بھی دستیاب ہیں، کوئی بھی شخص ان کتابوں سے برائے راست فرمانِ معصومؑ معلوم کر سکتا ہے۔ اس طرح مجتہد کی ضرورت ہی نہیں رہتی. تو اس کا جواب یہ ہے کہ.. اسلام کی پہلی ترجیح تو یہی ہے کہ ہر شخص اس لائق ہو کہ وہ براہ راست قرآن اور معصومؑ کا فرمان سمجھتا ہو اور اپنے سارے شرعی مسائل براہ راست قرآن اور حدیث سے اخذ کر سکتا ہو۔ لیکن جب آپ تراجم کے موجود ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر درمیان میں مجتہد سے بھی کم درجے کا ایک مترجم واسطہ بن جاتا ہے ہم اس سے دین لے رہے ہوتے ہیں۔ ہم خود براہ راست معصومؑ کا فرمان تو نہیں سمجھ رہےہوتے۔ ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کتابوں کے اندر ایک ہی باب کے ایک ہی مسئلے کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں جن کے درمیان بظاہر ٹکراؤ اور تضاد کی سی کفیت نظر آتی ہے۔ اس مشکل کا حل عام آدمی تو دور کی بات کسی عام عالم کے بس میں بھی نہیں ہے۔ اس کام کے لئے خاص علم اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس یہ دونوں ہوں وہی مجتہد ہوتا ہے۔ ایک اور مشکل، پیش آنے والے جدید مسائل ہیں جن کے اصول اور ضوابط قرآن کریم اور فرامینِ معصومینؑ میں موجود ہیں لیکن ان سے حکم سمجھنے کے لئے اجتھاد کی سطح کا علم درکار ہوتا ہے. 🌹 امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں.. فقہاء (مجتہدین) میں سے ایسا شخص جو اپنے نفس کی (گناہوں سے) حفاظت کرنے والا ہو، اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو، ہوا و ہوس (خواہشاتِ نفسانی) کی مخالفت کرتا ہو، اور اپنے مولا کی پیروی کرتا ہو، تو پھر عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تقلید (پیروی) کریں. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے ۔ 📚 بحارالانوار، ج 2، ص:88. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔵 بے نمازی انسان 🔵 ■ایک دن پیغمبر اکرمؐ اپنے اصحاب کے ساتھ ایک جگہ سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک کتا آیا اور اپنی زبان میں کچھ کہنے لگا. پیغمبر اکرمؐ رکے اور اس کی باتوں کو سنا. اور ساتھ ہی اصحاب بھی رُک گئے۔ اسی وقت آنحضرتؐ نے اپنے اصحاب کی طرف دیکھ کر فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ جو کچھ کتے نے کہا ہے؟ اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ نہیں. پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں: اس حیوان نے کہا: اے پیغمبرِ خُدا میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتا ہوں. اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایک کتا بنا ہوں. اگر میں ایک بے نماز انسان ہوتا تو کیا کرتا؟ 📚عرفان اسلامی، جلد5، ص8۔ ■حضور اکرمؐ نے فرمایا: ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِفجر" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یاخاسر" (اے خسارہ اٹھانے والا) کے نام سے پکارتا ہے۔ ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِظہر" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یاغادر" (اے عہد شکن) کے نام سے پکارتا ہے۔ ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِعصر" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یافاجر" (اے فجور کرنے والے) کے نام سے پکارتا ہے۔ جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِمغرب" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یاکافر" (اے کافر) کے نام سے پکارتا ہے۔ ●جب تم میں سے کوئی شخص "نمازِعشاء" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ کیا تیرا رب نہیں ہے؟ 📚ہدیه الشیعه، صفحہ:326۔ https://t.me/islamwitheman 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌷 رسول اکرمؐ کا حقیقی جانشین 🌷 ایک وه موقع جب آپ نے اپنے واضح حکم سے غزوه تبوک کے موقع پر حضرت علیؑ کو آپنا قائم مقام نائب بنایا. ساتھ یه بھی فرمایا که اے علیؑ تمھیں مجھ سے وھی نسبت ھے جیسے ھارون کی موسیٰؑ سے تھی ھاں مگر میرے بعد کوئی نبی نه ھو گا. دوسرا موقع سوره برأت کے نزول کا ھے جس میں آپؐ نے ابوبکر کو بھیجا، مگر الله کا حکم آنے سے حضرت علیؑ کو پیچھے بھیجا تاکه مشرکین تک اعلان برات کے پہنچانے کی ذمه داری لیں. کیونکه الله تعالیٰ کا حکم ھوا تھا که آپ اپنی اہلبیتؑ میں سے حضرت علیؑ کو بھیجیں. اس واقعه سے برادران کی اس سوچ کی نفی ھوتی ھے که علیؑ اصحاب میں سے ہیں. بلکه یہاں اھلبیتؑ کے فرد ھونے کی وجه سے حکمِ الٰھی ھوا ھے. دوسرا خلافت کا مسئله حل ھوتا ھے که بحکم خدا آپ کا نائب یا قائم مقام وھی ھو سکتا ھے جو ھر لحاظ سے علم سے، تقویٰ سے، شجاعت سے صلاحیت و اہمیت رکھتا ھو. بحواله: تاریخ ابن کثیر (البدایه والنھایه)، جلد:5، ص:21,22/64,65. خلافت پر قبضه کیسے کیا گیا یه مکمل روداد ملاحظه فرمائیں: بخاری شریف جلد:8, حدیث نمبر:6830، ص:182 تا 189. حضرت عمر تسلیم کر رھے ھیں که ابوبکر کی بیعت اچانک ھو گئی تھی پھر چل بھی گئی. حضرت عمر خود تسلیم کر رھے ھیں که یه خلافت جس پر ھم نے قبضه کیا یه نہ الله کے حکم پر ھوئی اور نہ ھی رسول اکرمؐ کے حکم سے. یه سب رجم کے حکم پر دی گئی حدیث نمبر:6830 میں موجود ھے. 👆ایک مراسلہ👆 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹امام علیؑ، نبی اکرمؐ کےقائم مقام🌹 "عن سعد بن ابي وقاص قال خلف رسول اﷲ علي بن ابي طالب في غزوه تبوک فقال يا رسول اﷲ تخلفني في النساء والصبيان فقال اما ترضي ان تکون مني بمنزلة هارون من موسي غير انه لا نبي بعدي" ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے حضرت علیؑ کو غزوہ تبوک میں اپنا خلیفہ بنایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسولؐ آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں خلیفہ بنایا ہے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ آپ اس چیز پر راضی نہیں کہ آپ میرے لئے اس طرح بن جائیں جس طرح کہ ہارونؑ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا.(1) "عن زيد بن ارقم قال کانت فلنفرمن اصحاب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم ابواب شارعة في المسجد فقال يوماً سدوا هذه الابواب الاباب علي قال فتکلم في ذالک ناس فقام رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم فحمد اﷲ و اثني عليه تم قال اما بعد فاني امرت بسد هذه الابواب غير باب علي فقال فيه قائلکم والله ماسددت شيئا ولا فتحته ولکن امرت شي فاتبعته" ترجمہ: حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ اصحابِ رسولؐ میں سے بعض کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی (کے صحن) کی طرف کھلتے تھے ایک دن حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ان تمام دروازوں کو بند کر دو سوائے بابِ علی کے. راوی کہتا ہے کہ بعض لوگوں نے چہ میگوئیاں کیں اس پر حضور نبی اکرمؐ نے خطبہ ارشاد فرمایا؛ حمد و ثناء کے بعد فرمایا مجھے بابِ علی کے سوا ان تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس تم میں سے کسی نے اس بات پر اعتراض کیا ہے، خدا کی قسم نہ میں کسی چیز کو کھولتا اور نہ بند کرتا ہوں مگر یہ کہ مجھے اس چیز کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے پس میں اس (حکم خداوندی) کی اتباع کرتا ہوں۔(2) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ 📚 حوالہ جات: (1)صحيح مسلم، 4 : 1870- 1871، کتاب فضائل الصحابه، باب 4 من فضائل علي بن ابي طالب رضي الله عنه، ح : 2404 صحيح البخاري، 3 : 1358، کتاب المناقب باب 9 فضل الصحابه، ح : 3503 صحيح البخاري، 4 : 1602، کتاب المغازي، باب 74غزوه تبوک،ح : 1454 سنن الترمذي، 5 : 640 - 641، کتاب المناقب، باب 30 مناقب علي رضي الله عنه بن ابي طالب، ح : 3724، 3730، 3731 سنن ابن ماجه، 1 : 42، المقدمه، باب فضل علي بن ابي طالب ح : 115 المستدرک للحاکم، 3 : 109، کتاب معرفة الصحابه، باب ذکر بغض فضائل علي رضي الله عنه المعجم الکبير لطبراني، 1 : 146، ح : 328 المعجم الکبير لطبراني، 1 : 148، ح : 333، 334 المعجم الکبير لطبراني، 2 : 247، ح : 2036 المعجم الکبير لطبراني، 5 : 203، ح : 5094، 5095 المعجم الکبير، 11 : 61، ح : 11087 مسند احمد بن حنبل، 3 : 32، مسند احمد بن حنبل، 4 : 438 مسند احمد بن حنبل، 3 : 338 مسند ابي يعلي، 1 : 286، ح : 345 مسند ابي يعلي، 2 : 57، ح : 698 مسند ابي يعلي، 2 : 66، ح : 709 مسند ابي يعلي، 2 : 73، ح : 718 مسند ابي يعلي، 2 : 86، ح : 739، 738 مسند ابي يعلي، 2 : 99، ح : 755 مصنف عبدالرزاق، 11 : 226، ح : 20390، باب اصحاب النبیؐ، مجمع الزوائد، 9 : 109، باب منزلة رضي الله تعالي عنه، سنن ابن ماجه، 1 : 42 - 43. المقدمه، باب 11 فضل علي بن ابي طالب رضي الله عنه، ح : 115 امام ترمذی نے اس حدیث پاک کو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کے رجال اور سند کو ثقہ کہا ہے۔ 1۔ امام ابو یعلی اورامام طبرانی نے جو حدیث ام سلمہ سے روایت کی ہے اسکی اسناد ثقہ ہے۔ 2۔ امام بزار اور امام طبرانی نے جو حدیث ابن عباس سے روایت کی ہے اسکی اسناد بھی ثقہ ہے۔ 3۔ امام طبرانی نے حضرت زبیر سے جو روایت کی ہے اسکے رجال کی اسناد بھی ثقہ ہے۔ (2)المستدرک للحاکم، 3 : 125. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 آئمہ معصومینؐ 🔷 پيغمبر اکرمؐ نے اپنی زندگی ہی ميں يہ بات واضح کردی تھی کہ آپؐ کے بعد باره خليفے ہوں گے اورسب قريش ميں سے ہوں گے اور اسلام کی عزت انہيں خلفاء کی مرہون منت ہوگی.. جابر بن سمره کہتے ہيں.. ''سمعت رسول لله يقول لايزال السلام عزيزأ اِلی اثن عشر خليفةً ثم قال کلمة لا أسمعھا فقلت لأب: ماقال؟ فقال کلھم من قريش.'' ترجمہ: ميں نے پيغمبرِ خدا کو يہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام کو باره خلفاء کے ذريعہ عزت حاصل ہوگی اور پھر پيغمبر اکرمؐ نے کوئی لفظ کہا جسے ميں نے نہيں سنا ميں نے اپنے والد سے پوچھا کہ پيغمبر اکرمؐ نے کيا فرماياہے؟ جواب ديا کہ پيغمبر اکرمؐ نے فرمايا کہ يہ سب قريش ميں سے ہوں گے. (صحيح مسلم،جلد6،ص:2،طبع مصر) اسلام کی تاريخ ميں ايسے باره خلفاء جو اسلام کی عزت کے محافظ اور نگہبان رہے ہوں ان باره اماموں کے علاوه نہيں ملتے جن کو شيعہ اپنے امام مانتے ہيں کيونکہ جن باره خلفاء کا تعارف خود پيغمبر اکرمؐ نے کرايا تھا وہی آنحضرتؐ کے بلا فصل خليفہ شمار ہوتے ہيں اب ديکھنا يہ ہے کہ وه باره افراد کون ہيں؟ اگر ہم ان چار خلفاء سے کہ جن کو اہل سنت خلفاء راشدين کہتے ہيں، چشم پوشی کرليں تو دوسرے خلفاء ميں سے کوئی بھی عزتِ اسلام کا باعث نہيں تھا جيسا کہ اموی اور عباسی خلفاء کی تاريخ اس بات کی شاہد ہے. ليکن شيعوں کے سبھی باره آئمہ اپنے اپنے زمانے ميں تقویٰ اور پرہيزگاری کے پيکر تھے. وه سب پيغمبر اکرمؐ کی سنت کے محافظ تھے نيز وه سب صحابہ کرام، تابعين اور بعد ميں آنے والی نسلوں کی توجہ کا مرکز قرار پائے. مؤرخین نے بھی انکے علم اور ان کی وثاقت کی صاف لفظوں ميں گواہی دی ہے. ان باره اماموں کے اسمائے گرامی درج ذيل ہيں: 1= امام علیؑ ابن ابی طالبؑ 2= امام حسنؑ بن علیؑ (مجتبیٰؑ) 3= امام حسينؑ بن علیؑ 4= امام علیؑ ابن الحسينؑ (زين العابدينؑ) 5= امام محمدؑ بن علیؑ (باقرؑ) 6= امام جعفرؑ بن محمدؑ (صادقؑ) 7= امام موسیٰؑ بن جعفرؑ (کاظمؑ) 8= امام علیؑ بن موسیٰؑ (رضاؑ) 9= امام محمدؑ بن علیؑ (تقیؑ) 10= امام علیؑ بن محمدؑ (نقیؑ) 11= امام حسنؑ بن علیؑ (عسکریؑ) 12= امام مہدیؑ (قائمؑ) بارہویں امام مہدی عج کے سلسلے ميں مسلمان محدثين نے پيغمبر اسلامؐ سے متواتر احاديث نقل کی ہيں کہ جن ميں آپ کو مہدی موعود (جن کا وعده کيا گيا ہے) کے نام سے ياد کياگيا ہے. يہ وه آئمہ معصومينؑ ہيں کہ جنکے اسمائے مبارک پيغمبر اسلامؐ نے بيان فرمائے ہيں انکی زندگی سے متعارف ہونے کيلئے درج ذيل کتابوں کا مطالعہ مفيد ثابت ہوگا... 1. تذکرة الخواص (تذکرة خواص الامّہ) 2. کفاية الاثر 3. وفيات الاعيان 4. اعيان الشيعہ (سيد محسن امين عاملی) يہ کتاب بقيہ کتابوں کی نسبت زياده جامع ہے. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

📝 پتھر جيسى سختى ......سكاكى اپنے عہد كے نامور دانشمندوں ميں شمار كئے جاتے تھے ۔ شروع ميں وہ ماہر فنكار اور كاريگر آدمى تھے۔ بڑھاپے ميں ان كو پڑھائى كا جنون پيدا ہوا تو وہ ايک استاد كے پاس حاضر ہوۓتو استاد نے ان كو ايک مسئلہ سكھايا؛ ’’استاد كا عقيدہ تھا كہ كتے كى كھال دباغت كے بعد پاک ہوجاتى ہے‘‘ سكاكى نے اس جملے كو كم از كم دس بار دہرايا تاكہ امتحان كے موقع وہ اچھے نمبروں سے كامياب ہوسكے۔ ليكن جب اس سے اس درس كے بارے ميں سوال كيا گيا تو اس نے جواب ديتے ہوۓ كہا؛ ’’كتے كا عقيدہ يہ ہے كہ استاد كى كھال دباغت كے بعد پاک ہو جايا كرتى ہے.‘‘ اس كاجواب سن كر سب حاضرين ہنسنے لگے۔ اس بات پر اس كو مدرسہ سے نكال دياگيا۔ سكاكى شہر چھوڑ كر جنگل كى طرف نكل گیا جہاں انہوں نے ديكھا كہ ايک بلندى سے پتھر پر بوند بوند پانى ٹپک رہاہے اور بوند بوند پانى ٹپكنے كى وجہ سے اس سخت پتھر ميں بھى سوراخ پيدا ہوگيا۔ وہ كچھ دير تک اسى موضوع پر سوچتا رہا۔ اس بات نے اس كے دل ودماغ پر گہرا اثر ڈالا۔ اور كہنے لگا؛ ’’ميرا دل پڑھنے لكھنے كى طرف چاہے بالكل ہى مائل نہ ہو ليكن اس ميں پتھر جيسى سختى تو نہيں لہذا يہ قطعى ناممكن ہے كہ ميں لگاتار علم كے لئے محنت كروں اور حاصل نہ كرسكوں.‘‘ 🔘 دیکھا جائے تو ہم بھی کبھی کبھی کم فکر اور کم دقت ہونے کی وجہ سے تھوڑی تھوڑی سختیوں کی وجہ سے اپنے اھداف کو بھلا دیتے ہیں اور بجائے اسکے کہ ان مشکلات کا مقابلہ کریں ہم خود ہی کم ظرفی کا شکار ہوجاتے ہیں اور پستی کی پستیوں میں سوجاتے ہیں پھر پستیوں سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ بلندی کا سوچتے تک نہیں، ایسا انسان اپنی صلاحیتوں پہ ظلم کر رہا ہوتا ہے..... 📚 سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۲۲۸. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ موازنہ ⭕ ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻨﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ... ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻻ ﮐﻠﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺪﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻨﺲ ﺳﮯ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﻨﺲ ﺑﻮﻻ... ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺷﮏ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﺍ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺑﻮﻻ... ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﻜﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻏﺎﺭﺕ ﮨﻮ گئی ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﯿﺸﻤﺎﺭ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ... ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ذﺭﺍ ﭼﮭﭩﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ... " ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻣﻮﺭ ﺗﻢ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺷﻮ ﺷﻮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻮ۔ ﺗﻢ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﮯ۔" ﻣﻮﺭ ﺑﻮﻻ... ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﻮﺍ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺗﺎ ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ۔'' ﺑﺎﻟﮑﻞ ﯾﮩﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻏﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻦ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ کیجئے ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ اور ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ نہ کیجئے کیونکہ اس طرح غم اور ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔ بلکہ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮئی ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ ﻓﻀﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ اور ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ "ﺍﻟﺤﻤﺪُﻟﻠﮧ" ﮐﮩﻨﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﺌﮯ...! کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے... "جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو کسی نعمت سے سرفراز فرمائے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو جو اس نے حاصل کیا ہے اس سے بھی بہتر دیا جائے گا" (ابن ماجہ:3805) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⭕ بیٹی ⭕ شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے. ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دولہے کے والدین باہر موجود ہیں. دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دولہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا. والدین ناکام واپس لوٹ گئے. ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دولہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں. ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں. دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا. باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا. شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا. اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی... شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں. اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا. شوہر مسکرایا اور بولا یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی.... بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں،، 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

⏪تقيہ کا معيار کيا ہے؟⏩ دشمنوں کےمقابلےميں دنياوی اوردينی نقصانات سے محفوظ رہنےکیلئے اپنے باطنی عقيدے اور ايمان کوچھپانے کا نام تقيہ ہے. تقيہ ہرمسلمان شخص کاايک ايسا شرعی فريضہ ہےجسکا سرچشمہ قرآنی آيات ہيں. 🌹قرآن کی نگاه ميں تقيہ: قرآن مجيدميں تقيہ سےمتعلق بہت سی آيات ہيں ان ميں سےيہاں ہم بعض کاذکر کرتے ہيں... "لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ....الخ"(1) ترجمہ: مومنوں کوچاہيے کہ وه اہل ايمان کوچھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور دوست نہ بنائيں اور جو کوئی ايسا کریگا اسکا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر يہ کہ تمہيں کفار سےخوف ہوتو کوئی حرج نہيں ہے. يہ آيت بخوبی اس بات کی گواہی ديتی ہےکہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا جائز نہيں ہے ليکن اگر جان خطره ميں ہوتو تقيہ کرتے ہوئے ان سے ظاہری طورپر دوستی کا اظہار کيا جاسکتا ہے. 🌹"مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن....الخ"(2) ترجمہ: جوشخص بھی ايمان لانےکیبعد کفر اختيار کرلے سوائے اسکے جسے کفر پر مجبور کرديا جائے اور اسکا دل ايمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہيں ہے) ليکن وه شخص جسکے سينہ ميں کفر کیلئے کافی جگہ پائی جاتی ہو اسکے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کیلئے بہت بڑا عذاب ہے. ■مفسرين نےاس آيت کےشان نزول ميں لکھا ہے کہ... ايک دن کفار نےجناب عمارابن ياسر کو انکے ماں باپ کے ہمراه گرفتار کرليا اور ان سے کہنے لگے کہ اسلام کوچھوڑ کر کفر و شرک اختيار کرلو تو عماربن ياسر کے ہمراه افراد نے انکے جواب ميں توحيد و رسالت کی گواہياں دينا شروع کرديں جس پر کفار نے ان ميں سے بعض کو شہيد کر ڈالا اور بعض پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھانے لگے اس وقت جناب عمار نے اپنے باطنی عقيدے کے برخلاف تقيہ اختيار کرکے ظاہری طور پر کفر کے کلمات کو اپنی زبان پر جاری کيا تو کفار نے انہيں چھوڑ ديا پھر اسکے بعد جناب عمار انتہائی پريشانی کے عالم ميں رسول خدا کی خدمت ميں پہنچے تو آنحضرت نے انہيں تسلی دی اور پھر اس سلسلے ميں يہ آيت نازل ہوئی.(3) ●اس آيت اور اس کی تفسير سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ پيغمبرخداۖ کے زمانے ميں اصحاب بھی جان ومال کی حفاظت کیلئے اپنے باطنی عقيدے کو چھپاکر تقيہ کرتے تھے. تقيہ شيعوں کی نگاه ميں بنی اميہ اور بنی عباس کے ظالم حکمران ہميشہ شيعوں سے برسرپيکار رہے ہيں اور انہوں نے شيعوں کے قتل عام ميں کوئی کسر اٹھا نہيں رکھی ہے.(4) اس بناپر اس زمانےميں شيعوں نےقرآن مجيد کے حکم کے مطابق انتہائی سخت حالات ميں اپنے سچے عقائد چھپاکر اپنی اور دوسرے مسلمان بھائيوں کی جانيں محفوظ کی تھيں، واضح ہے کہ اس ظلم و ستم کی فضا ميں شيعوں کے لئے تقيہ کے علاوه کوئی ايسا چارهٔ کار نہيں تھا جو شيعوں کو نابودی سے بچاتا لہذا اگر وه ظالم حکام، شيعوں کے دشمن نہ ہوتے اور شيعوں کا بے گناه قتل عام نہ کرتے تو ہرگز شيعہ تقيہ اختيار نہ کرتے. ●يہاں پر اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ تقيہ صرف شيعوں سے ہی مخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی جب اپنے ايسے دشمنوں کے مقابلے ميں قرار پاتے ہيں جو مسلمانوں کے تمام فرقوں کے دشمن ہيں (جيسےکہ خوارج اور وه ظالم حکومتيں جو ہرحرام کام کو جائز سمجھتی ہيں) اور ان سے مقابلہ کی طاقت بھی نہيں ہوتی تو وه اپنی جان کی حفاظت کی خاطر تقيہ کا سہارا ليتے ہيں اس بنياد پر اگر اسلامی معاشرے کے تمام افراد اپنے فقہی مذاہب ميں اتفاق رائے رکھتے ہوئے وحدت واخوت کی زندگی گزارنا شروع کر ديں تو پھر ہرگز انھيں تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہے گی. 🌷نتيجہ گزشتہ بحث سےيہ نتيجہ نکلتا ہےکہ.. ١۔تقيہ کی اساس قرآن مجيدپر ہے اور صدر اسلام ميں پيغمبراکرمۖ کے اصحاب بھی تقيہ کرتے تھے اور آنحضرتۖ انکے اس عمل کی تائيد فرماتے تھے يہ سب تقيہ کےجائز ہونےکی دليليں ہيں. ٢۔شيعہ اپنے مذہب کو بچانے اور دشمنوں کے سفاکانہ قتل عام سے محفوظ رہنے کیلئے تقيہ کرتےتھے. ٣۔تقيہ صرف شيعوں سےمخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی تقيہ کرتے ہيں. ٤۔تقيہ کرنا اور اپنےباطنی عقائدچھپانا صرف کفار کے مقابلے ميں ہی انجام نہيں پاتا بلکہ تقيہ کا معيار (مسلمانوں کی جان بچانا) عموميت رکھتا ہے اور ہر ايسے ظالم دشمن کے سامنے کہ جسکے ساتھ مقابلے کی قدرت نہ ہو يا اس سے جہاد کرنے کے شرائط پورے نہ ہو رہےہوں تقيہ ضروری ہوجاتا ہے. ٥۔اگر مسلمانوں ميں مکمل وحدت اور ہم فکری پيدا ہوجائے تو ہرگز ان کے درميان تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہےگی. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوره آل عمران آيت: ٢٨ سوره نحل آيت: ١٠٦ اس سلسلےميں جلال الدين سيوطی کی تفسير درالمنثور جلد ٤ ص ١٣١ (طبع بيروت) کامطالعہ کيجئے. بنی اميہ اور بنی عباس کےحکام کےحکم پر شيعوں کے بےرحمانہ قتل عام کے سلسلے ميں تفصيلی معلومات حاصل کرنے کیلئے ان کتابوں''مقاتل الطالبين'' (مصنفہ ابوالفرج اصفہانی)، ''شہداءالفضيلة (مصنفہ علامہ امينی)، ''الشيعہ والحاکمون'' (مصنفہ محمدجواد مغنيہ) کا مطالعہ مفيدثابت ہوگا. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

تصویر میں دی گئی اکثر نشانیاں سائنسی طور پر درست سمت میں ہیں، لیکن کچھ باتیں بہت سادہ کر کے بتائی گئی ہیں۔ ناخن واقعی صحت کا آئینہ ہوتے ہیں، لیکن ایک ہی نشانی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، صرف ناخن دیکھ کر حتمی تشخیص نہیں ہوتی۔ آئیے ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں: *1. سفید دھبے - Zn کی کمی* *آدھا سچ۔* 90% کیسز میں سفید نقطے زنک کی کمی سے نہیں، بلکہ ناخن پر ہلکی چوٹ لگنے سے بنتے ہیں۔ زنک کی شدید کمی سے پورا ناخن سفید ہو سکتا ہے، لیکن صرف دھبوں کو زنک کی کمی کہنا درست نہیں۔ *2. پیلے ناخن - پھپھوندی انفیکشن* *زیادہ تر ٹھیک۔* Fungal infection سب سے عام وجہ ہے، خاص کر پاؤں کے ناخنوں میں۔ لیکن لمبے عرصے تک نیل پالش، سگریٹ نوشی، ذیابیطس اور عمر کی وجہ سے بھی ناخن پیلے ہو جاتے ہیں۔ *3. چمچ کے شکل کے ناخن (Koilonychia) - آئرن کی کمی / انیمیا* *بالکل ٹھیک۔* یہ آئرن ڈیفیشینسی انیمیا کی کلاسک نشانی ہے۔ بچوں میں کبھی کبھی نارمل بھی ہوتا ہے، لیکن بڑوں میں ڈاکٹر کو آئرن اور تھائرائیڈ چیک کرنا چاہیے۔ *4. کھڑی لکیریں (عمودی) - وٹامن B12 کی کمی* *ممکن ہے، لیکن۔* عمر بڑھنے سے ہلکی عمودی لکیریں آنا بالکل نارمل ہے۔ اگر لکیریں بہت گہری، کھردری اور ناخن پتلے ہو رہے ہیں تو B12، آئرن یا تھائرائیڈ کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ *5. آڑی لکیریں (Beau's Lines) - سنگین بیماری یا غذائی کمی* *ٹھیک۔* جب جسم شدید بخار، بڑی سرجری، یا غذائی قلت کی وجہ سے ناخن بنانا وقتی طور پر روک دیتا ہے تو یہ گہری آڑی لکیر بنتی ہے۔ *6. نیلے یا جامنی ناخن (Cyanosis) - دل یا پھیپھڑوں کے مسائل* *ٹھیک، اور توجہ طلب۔* اس کا مطلب خون میں آکسیجن کم ہو رہی ہے۔ اگر سردی کی وجہ سے عارضی ہے تو نارمل، لیکن مستقل نیلاہٹ ہو، سانس پھولتا ہو تو فوراً معائنہ ضروری ہے۔ *7. کالی دھاری - میلانوما کینسر کا خطرہ!* *سب سے اہم وارننگ، بالکل ٹھیک۔* اگر ناخن کے بیچ میں ایک سیدھی کالی لکیر آئے جو وقت کے ساتھ چوڑی ہو رہی ہو اور جلد تک پھیل رہی ہو، تو یہ ناخن کا میلانوما ہو سکتا ہے۔ یہ نایاب ہے لیکن خطرناک ہے۔ اسے چوٹ کے نیل سے کنفیوز نہ کریں، ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔ *8. مڑے ہوئے موٹے ناخن (Clubbing) - پھیپھڑوں یا دل کی بیماری* *ٹھیک۔* ناخن کا گوشت پر جھک جانا اور انگلی کے پور کا پھول جانا اکثر پھیپھڑوں، دل یا جگر کی دیرینہ بیماری میں ہوتا ہے۔ > *خلاصہ:* تصویر بطور ابتدائی رہنمائی 80% ٹھیک ہے، لیکن اسے ڈرنے کے لیے نہیں، الرٹ ہونے کے لیے استعمال کریں۔ اگر آپ میں ان میں سے کوئی نشانی مستقل ہے، درد، سوجن، یا شکل تیزی سے بدل رہی ہے تو خود سے وٹامن لینے کے بجائے اپنے فیملی ڈاکٹر یا ڈرماٹالوجسٹ سے مشورہ کریں۔ https://t.me/islamwitheman/7249

photo content

دیا یوسف نےحضرت زید کی قبر کھدوا کر انکی میت باہر نکالی اور سر جدا کر کے ہشام ملعون کے پاس بھیج دیا اور ہشام ملعون نے یوسف بن عمر (لع) کو خط لکھا کہ حضرت زید کا لاشہ برہنہ کرکے اسےسولی پر لٹکا دیا جائے یوسف بن عمرملعون نے کناسہ کوفہ میں انہیں برہنہ سولی پر لٹکایا اورایک مدت کے بعد ہشام ملعون نے یوسف بن عمر ملعون کو لکھا کہ حضرت زید کی لاش کو آگ میں جلایا جائے اور انکی خاک فضا میں بکھیر دی جائے. 🌟 دشمنوں نے جب آپ کے بدن اقدس کو سولی پر چڑھایا تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے کہ آپ کا بدن قبلہ رو مڑ جاتا جتنی بار وہ تبدیل کرتے اتنی بار وہ قبلہ کی طرف ہو جاتا. 🌟 کتاب امالی میں نقل ہے کہ بلدہی نامی ایک شخص بلنجر سے جب کوفہ پہنچا اور حضرت زید شھید کے بدن کو سولی پر دیکھ کر ہرزہ سرائی کرنے لگا لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دونوں آنکھوں سے نابینا ہو گیا. 🌟 کتاب «الحدائق الوردیہ» میں رقم ہے کہ دو لوگ کناسیہ سے کوفہ پہنچے اورحضرت زید شھید کے بدن کو سولی پر دیکھ کر رک گۓ ایک سولی پر ہاتھ رکھ کر کر ہرزہ سرائی کرنے لگا جوں ہی ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ کے شدید درد میں مبتلا ہو گیا اور کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص مرض میں مبتلا ہو کر مر گیا. 🌟 کتاب «الحدائق الوردیہ» میں ہی نقل ہے کہ طایفہ اسدی میں سے عزرمہ نامی ایک شخص حضرت زید شھید کے بدن کو دار پر دیکھ کر ہرزہ سرائی کی اور جسارت کرتے ہوۓ آپ کی جسد مبارک پر پتھر پھینکا اسماعیل بن یسمع عامری کے مطابق خدا گواہ موت کے وقت عزرمہ کی آنکھیں دو بلوری شیشوں کی طرح وحشتناک طریقے سے باہر نکلی ہوئیں تھیں. 🌟 حضرت زید شہید کے برہنہ بدن کو سولی پر چڑھایا گیا تو لوگوں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ آپ کی شرم گاہ کو مکڑی نے جالا تان کر چھپا لیا. جب بھی جالا اتارا جاتا مکڑی پھر جالا بنا لیتی. 🌟 کتاب «الحدائق الوردیہ» میں ہی نقل ہے کہ ایک خاتون نے جب حضرت زید شھید کے برہنہ بدن کو سولی پر دیکھ کر اپنا نقاب آپ کے برہنہ بدن کی طرف اچھال دیا خدا کے حکم سے آپ کے بدن نے یہ لباس کی صورت پہن لیا. 🌟 حضرت زید شھید کا بدن جو سولی پر لٹک رہاتھا اس کے نگہبان کے مطابق ایک رات خواب میں دیکھا کہ رسول خدا کا اس مقام سے گزر ہوا حضرت زید شھید کے بدن کو دار پر دیکھ کر حیرت سےفرمایا میرے بعد میری اولاد سے کیا یہ سلوک کیا جا رہا ہے. 🌟 اسی کتاب میں ہے کہ جب حضرت زید شھید کے جسد خاکی کو جلا کر فرات کے پانی میں بہایا گیا تو دیکھا کہ ان کے بدن کی راکھ سے ایک نور کا ہالہ چمک رہا ہے. 🔷 شیخ مفید نے اپنی کتاب مسارالشیعتہ میں ان کا سال شھادت اول ماہ صفر 121ھ لکھا. مشہور کتاب مسند امام زید جو کہ حضرت زید بن علی کی شرح احوال کے بارے میں ہے اس میں آپ کا سال ولادت با سعادت 76 ھ جبکہ سال شھادت 122ھ د رج ہے. اس طرح آپ کی عمر 46 سال بنتی ہے. ♦ روایات میں ہے کہ ہشام بن عبدالمالک کے حکم پر آپ کا سر مبارک تن سے جدا کیا گیا جب آپ کے سرمبارک کو آپ کے ساتھیوں کے سروں کے ہمراہ پہلے شام اور شام سے مدینہ لایا جا رہا تھا تو مدینہ کے راستے میں اردن میں حجاز اور شام کو متصل کرنے والی قدیم سلطنتی شاہراہ پر واقع موتہ کے شمال میں 22 کلو میٹر کے فاصلے پر قدیم شہر رومی میں واقع قصبہ میں جناب زید شہید کا سر مبارک کےدفن کا مقام ہے جس کا نام" ربہ" ہے جہاں حجاز اور شام کو متصل کرنے والی قدیم سلطنتی شاہراہ گزرتی ہے. مزار پر نصب ایک پتھر کی تختی پر کندہ تھا کہ یہ قبر مبارک زید بن علی علیہ السلام بن حسین علیہ السلام بن علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے جسے بندہ حقیر سلمان قانونی نے تعمیر کیا. یہ پتھر کی سل اب تک شہداء موتہ کے مزارات کے میوزیم میں موجود ہے. اس روایت کی مقامی افراد اب تلک تصدیق کرتے ہیں. معتبر تواریخ بھی اس بات کی تائیدکرتی ہیں کہ آپ کا سر مبارک مدینہ پہچنے سے پہلے دفن ہوا. ان سروں کے دفن ہونے کےبعد یہ مقام مسلمانوں کے مبارک قبرستان میں تبدیل ہو گیا. جہاں اب بہت سی شخصیات دفن ہیں. مصدقہ حوالوں کے مطابق فاطمی حکومت کے عہد میں یہاں روضہ تعمیر کیا گیا اور جس کی تجدید عثمانی حکومت کے سلطان سلیمان قانونی نے کی. التماس دعا: سید سجاد حسین ہمدانی 📚 حوالہ: حضرت زید شہید اور زیدی سادات. 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🔴 شہادت حضرت زید شہید علیہ السلام 🔴 آپ سیّد السّاجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پرہیز گار اور متقی فرزند ارجمند تھے. حضرت زید بن علی کی ولادت باسعادت امام زین العابدین علیہ السلام کے بیت الشرف واقع مدینہ منورہ میں ہوئی. ان کی تاریخ ولادت پرمختلف مورخین کے درمیان اختلاف راۓ موجود ہے ۔ مشہور محقق ابن عساکر نے ان کی تاریخ ولادت 78 ہجری جبکہ ایک اور مورخ محلی ان کی تاریخ ولادت 75 ہجری لکھتے ہیں۔چند مورخین کے مطابق ان کی تاریخ ولادت 80 ہجری بنتی ہے. 🌟 حضرات زید بن علی کے القابات • شہید • حلیف القرآن • زیدالازیاد • عالم آل محمّد • فقیہ اہلبیت 🔷 جناب زید کی والدہ کا نام حوریہ تھا جنھیں جناب مختار نے امام زین العابدین (ع) کی خدمت میں پیش کیا تھا. 🔷 حضرت زید بن علی بہت خوبصوت اور پر وقار شخصیت کے مالک تھے۔ آنکھیں بڑی اور سیاہ جبکہ ابرو کشیدہ جس سے آپ کی شخصیت دوسروں سے نمایاں نظر آتی تھی. بچپن ہی سے بہت ذہین اور لائق تھےآپ روحانی کمالات و معنوی جمالات کے ساتھ ساتھ شجاعت حیدر کرّار کے بھی وارث تھے۔علی کا گھر بھی وہ گھر ہے کہ اس گھر کا ہر اک بچہ جہاں پیدا ہوا، شیرِ خدا معلوم ہوتا ہے. زید ابن علی نے مولا علی مشکل کشا، شیر خدا کی پڑپوتی سیدہ ریطہ دختر سیدنا ابو ہاشم عبداللہ فرزند حضرت محمد حنیفہ بن امام علی سے عقد فرمایا ۔ اس طرح ان کا سلسلہ تین واسطوں سے حضرت علی علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ حضرت ابو ہاشم کا شمار اپنے دور کے نامور بزرگوں میں ہوتا تھا. وہ سادات علوی اور حضرت علی علیہ السلام کی اولاد تھے. سلمان بن عبدالملک مروان کے حکم سے آپ کو بیدر دی سے شہید کیا گیا. حضرت ریطہ کا شمار خاندان ہاشمی کی معزز اورمحترم خواتین میں ہوتا ہے. ان کی شہادت کوفہ کے ظالم اور جابر حاکم یوسف بن عمر کے ناپاک ہاتھوں سے ہوئی. اس ظالم حاکم نے حکم دیا تھا کہ حضرت زید کی ذوجہ محترمہ پر کوڑے برساۓ جائیں۔ تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ اس قدر کوڑے لگاۓ گۓ کہ آپ کا جسم مبارک زخموں سے لہو لہان ہو گیا. اس طرح اس شدید زخمی حالت میں ان کو کوفہ شہر سے باہر پھینک آنے کا حکم دیا گیا. یوں خاندان بنی ہاشم کی یہ بہادر اور نڈر خاتون اپنے اجداد اور شوہر نامدار حضرت زید بن علی شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ دین حق کی بقا کے لئے شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئیں۔. ♦ یزید کے بعد ہشام بن عبد الملک بادشاہ ہوا اس کا دور حکومت 105 ہجری سے 125 ہجری تک 20 سال قائم رہا اور جس قدر ظلم کا امکان تھا آل محمد (ع) پر ظلم کیا گیا. ♦ زید نے ہشام کے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی. ابو حنیفہ نے ان کا ساتھ دیا ۔ اور ان کی حمایت میں فتوی دیا لیکن ہشام نے انھیں امام اعظم بنا کر زید کی حمایت سے علیحدہ کر لیا. اس زمانہ سلطنت میں ملک میں سیاسی خلفشار بہت زیادہ ہوچکا تھا . مظالم بنی امیہ کے انتقام کا جذبہ تیز ہورہا تھا اور بنی فاطمہ میں سے متعدد افراد حکومت کے مقابلے کے لیے تیار ہوگئے تھے. ان میں نمایاں ہستی حضرت زید (ع) کی تھی جو امام زین العابدین علیہ السّلام کے بڑے فرزند تھے. ان کی عبادت زہد و تقویٰ کا بھی ملک عرب میں شہرہ تھا . مستند اور مسلّم حافظ ُ قران تھے . بنی امیہ کے مظالم سے تنگ اکر انھوں نے میدانِ جہاد میں قدم رکھا . امام جعفر صادق علیہ السّلام کے لیے یہ موقع نہایت نازک تھا مظالم بنی امیہ سے نفرت میں ظاہر ہے کہ آپ زید(ع) کے ساتھ متفق تھے پھر جناب زید(ع) آپ کے چچا بھی تھے جن کا احترام آپ پر لازم تھا مگر آپ کی دوررس نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ یہ اقدام کسی مفید نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا . اس لیے عملی طور پرآپ ان کاساتھ دینامناسب نہ سمجھتے تھے مگر یہ واقعہ ہوتے ہوئے بھی خود ان کی ذات سے آپ کو انتہائی ہمدردی تھی . آپ نے مناسب طریقہ پر انھیں مصلحت اندیشی کی دعوت دی مگر اہل عراق کی ایک بڑی جماعت کے اقرار اطاعت ووفاداری نے جناب زید(ع) اندر کامیابی کی توقعات پیدا کردیں اور آخر 120ھ میں شام کی ظالم فوج سے تین روز تک بہادری کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد شہید ہوئے. دشمن کا جذبہِ انتقام اتنے ہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ دفن ہونے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکالا گیا اور سر کو جدا کرکے ہشام کے پاس بطور تحفہ بھیجا گیا اور لاش کو دروازہ کوفہ پر سولی دے دی گئی اور کئی برس تک اسی طرح آویزاں رکھا گیا. ♦ تاریخ میں رقم ہے کہ جب دوران جنگ زید بن علی کی پیشانی پر تیر لگا. لوگ ان کو ایک گھر میں اٹھا لے گئے. کوفہ سےایک حجام کو بلایا گیا تاکہ وہ آپکی پیشانی سےتیر نکالے جب اس حجام نے تیر نکالا تو حضرت زید کی روح جسم سے پرواز کرگئی اسی وقت انکا جنازہ اٹھایا گیا اور انہیں پانی کی نہر میں دفن کردیا اور انکی قبر مٹی اور گھاس سےبھر دی گئی اور اس پر پانی جاری کر دیا گیا اوراس حجام سےعہد و پیمان لیا گیا کہ وہ یہ بات ظاہر نہیں کرے گا جب صبح ہوئی تو حجام یوسف بن عمرثقفی ملعون کے پاس گیا اور حضرت زید کے دفن کی جگہ کا نشان بتا

■ ماہ صفر کی مناسبت سے فیسبک پر پوسٹس لنکس۔ پوسٹ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔ 🔷️ اہل حرم کا داخلہ در دربار یزید ملعون https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=228336605916814&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔴 شہادت حضرت زید شہید علیہ السلام https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=229686525781822&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🌹 حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=232428795507595&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔷 حضرت عمار یاسرؓ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=232664515484023&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔷️ حضرت سلمان فارسی (رض) https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=233299888753819&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz ⚫ بیبی سکینہ سلام الله عليها https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=233840298699778&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔷 حضرت اویس قرنیؓ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=234435495306925&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🌹 فضیلت پاپیادہ زیارت اربعین https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=234489708634837&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔴 بیبی سکینہؑ کا زندان میں انتقال https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=235015645248910&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 💝 زیارت امام حسینؑ کی فضیلت و آداب https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=236806625069812&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🌹 شھادت حضرت امام علی رضاؑ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=238099701607171&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🌹 جشنِ آزادی (14 اگست) https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=207347531349055&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 💝 أربعين حسینیؑ و اعمال زائرین https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=239746528109155&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔷️ چہلم اول امام حسین علیہ السلام https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=239808314769643&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔷️ وفات جناب فاطمہؑ بنت اسد https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=241652704585204&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🌹 ام کلثومؑ بنت امام علی علیہ السلام https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=242391564511318&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🏴 شہادت‏ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ مصطفٰیؐ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=243608221056319&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🏴 محرک شہادت امام حسن علیہ السلام https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=244218907661917&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 🔷️ عزاداری، آئمہ معصومینؑ کی نظر میں https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=244261437657664&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz امام حسن علیہ السلام کے قاتل پر لعنت https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=244659384284536&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz 😢 عزاداری اور انبیاء علیہم السلام https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=245295510887590&id=100062214292056&mibextid=Nif5oz

شیخ نے سوال کیا : کیا تم قسم کے ساتھ کہہ سکتے ہو کہ تم ہی مصداق آیات ہو؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : قسم بخدا بغیر کسی شک و شبہہ کے ہم ہی وہ ہیں اور یہ حق ہمیں ہمارے جد رسول اللہ سے حاصل ہے ۔ پس شیخ نے یہ سنتے ہی بلند آواز میں رونا شروع کر دیا اور اپنا عمامہ اتار پھینکا اور آسمان کی طرف سربلند کر کے کہا کہ اے اللہ ! میں آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے دشمنوں سے بیزار ہوں ۔ اسیران کربلا کو بازاروں سے گزار کر جب یزید کے دربار میں لایا گیا- یزید ملعون کے دربار، جس کو اب مسجد اموی کہا جاتا ہے، میں سات سو کرسیوں پر اس کے درباری، امیر، وزیر، مشیر بیٹھے ہوے تھے- ملعون ابن زیاد شہداء کربلا کے سر مبارک اور لٹا پُٹا قافلہ لے کر فاتحانہ انداز میں یزید کے دربار میں داخل ہوا۔ امام حسین کا سر اقدس یزید کے سامنے پیش کیا گیا تو خواتین اہل بیت رونے لگیں۔ حضرت زینبؓ سر اقدس دیکھ کر تڑپ اٹھیں ’’اے ماں جائے، میرے حسینؓ، اے مصطفیٰؐ کے جگر گوشے، نانا کے سوار، اے الزھرہؓ کے لخت جگر، اے نوجوانان جنت کے سردار! اے میرے بھائی! یزید ملعون اس وقت شطرنج کھیل رہا تھا اور شراب پی رہا تھا کئی گھنٹے تک وہ شطرنج کی بازی کھیلتا رہا اور اس نے اولاد رسول (ص) کی طرف کوئی توجہ نہ کی- یزید لعین کے فارغ ہونے تک آل محمّد کو کئی گھنٹے تک دربار میں رسن بستہ کھڑا رکھا گیا یزید ملعون کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس ملعون نے اس چھڑی کو امام حسین(ع) کے ہونٹوں اور دانتوں پر مارنا شروع کردیا اور ساتھ ہی اپنے کفر کا اظہار کرنے کے لیے یہ اشعار بھی پڑھتا رہا: اے کاش بدر میں قتل ہونے والے میرے آبا واجداد زندہ ہوتے اور ان آل رسول کےنالہ و فریاد اور گریہ و زاری کو دیکھتے۔ وہ خوشی سے مجھے مبارکباد دیتے اور مبارک وصول کرتے، اور کہتے اے یزید تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تم نے بہت اچھا کیا۔ ہم نے اس قوم کے بزرگوں کو قتل کر دیا ہے اپنے بدر میں مارے جانے والوں کا بدلہ برابر کر دیا ہے۔ بنی ہاشم نے حکومت کے حصول کے لیے (نبوت کا) صرف ڈھونگ رچایا تھا ورنہ نہ کوئی وحی نازل ہوئی اور نہ ہی آسمان سے کوئی خبر آئی۔ میں نے خندف والا عہد نہیں کیا ہوا کہ جو کچھ احمد (ص) نے کیا ہے اس کا انتقام اولادِ احمد (ص) سے نہ لوں۔ اسی دربار میں رسول خدا کے ایک صحابی موجود تھے، جن کا نام ابو برزہ اسلمی تھا، انہوں نے یزید پر اعتراض کیا اور اس سے کہا کہ چھڑی کو امام حسین کے لبوں اور دانتوں سے ہٹا لو کیونکہ میں نے خود رسول خدا کو ان لبوں کے بوسے لیتے ہوئے دیکھا ہے، اے یزید ایک دن قیامت بھی آئے گی کہ اس وقت تیری طرف سے ابن زیاد شفیع ہو گا اور حسین کی طرف سے اس کا نانا رسول خدا اس کا شفیع ہو گا۔ یزید کی یہ گستاخیاں دیکھ کر اہل بیت سلام اللہ علیھم کو جلال آگیا- حضرت زینب سلام اللہ علیھا اور امام زین العابدین نے اس موقع پر خطبات ارشاد فرماے جو ہم ان شاء الله اگلی پوسٹس میں پیش کریں گے- یزید سمجھ رہا تھا کہ حسین علیہ السلام کو قتل کر کے اس نے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہے اب اس کے جبر مسلسل کے سامنے کوئی دیوار بن کر کھڑا نہ ہوگا اب دین کی تحریف میں وہ آزاد ہوگا لیکن اس بدبخت کو یہ معلوم نہ تھا کہ یزیدیت جیت کر بھی ہار گئی ہے اور حسینیت بظاہر ہار کر بھی جیت گئی ہے. 📚 حوالہ جات ١ - فرسان الہیجاء ص٢٨٥۔ ٢ - اللواعج الاشجان ص٢٢٠۔ ٣ ۔ تذکرة الشہداء ص٤١٢۔ ٤ - سیرۃ ابن هشام جلد 3، صفحه ١٤٣ ٥ - تاریخ طبری جلد ٧، ٦ - اللهوف ص : ١٨١، ٧ - حیاه الحسین جلد٣، صفحه ٣٧٧ ٨- تاریخ الخلفاء ص٢٢٩۔ ٩۔ تتمة المنتہی ج١ص٣٦۔ ١٠۔ مروج الذہب:ج٢ص ٧٢ ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷️ اہل حرم کا داخلہ در دربار یزید ملعون 🔷️ اسیران کربلا کا قافلہ اور امام حسین(ع) سمیت تمام شہداء کربلا کے مقدس سر شام کے شہر دمشق لائے گئے، یزید ملعون نے حکم دیا کہ دمشق کے داخلی دروازہ کو بند کردیا جائے اور اسیران حرم کے قافلہ کو تین دن تک دمشق سے باہر روکا جائے اور ان تین دنوں میں شہر دمشق کو مزین و آراستہ کیا جائے۔ اور ان سب کے باوجودجب اس قافلہ کو شام میں لایاجائے تو باب ساعات سے لایا جائے- یہ وہ دروازہ ہے جہاں سب سے زیادہ بھیڑ ہوتی ہے ۔ اس دوران پورے دمشق کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور پورے شہر کی آئینہ بندی کی گئی، رنگ برنگے جھنڈے نصب کیے گئے اور ہر سڑک، گلی اور کوچے میں سجاوٹ کا سامان بکثرت نصب کیا گیا- شام میں عمومی طور پر جشن کا اعلان کیا گیا- لوگوں کا ایک جم غفیر نئے نئے کپڑے پہن کر ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے، عورتیں تالیاں بجارہی تھیں اور اسیران اہل حرم کا قافلہ ان لوگوں کے درمیان سے گزر رہا تھا ۔ قافلہ اس حال میں شہر شام میں داخل ہوا کہ آگے آگے نیزوں پر شہداء کے سروں کو اٹھائے ہوئے نیزہ بردار تھے اور ان سروں میں سب سے آگے جناب عباس کا سر تھا ۔ بعض روایات کے مطابق امام حسین کے سر کو سب کے بعد لایا گیا تاکہ جو لوگ محب اہلبیت ہوں وہ پہچان نہ سکیں اور لوگوں کی خوشی میں خلل واقع نہ ہو نے پائے ۔ امرا شہر (جب کہ رسول خدا (ص) کو اولاد کا لباس تار تار تھا) ، قیمتی اور عمدہ لباس پہنے بالکونیوں میں بیٹھے طرح طرح کے مشروب اور غذائیں کھا رہے تھے اور اہل بیت پے فقرے کس رہے تھے جب کہ اہل بیت بھوک اور پیاس میں مبتلا تھے- بی بی (س) نے شمر سے کہا کہ وہ امام مظلوم کے تلاوت کرتے سر کو تمام اسیران سے آگے لے جائے تاکہ لوگوں کی توجہ خواتین اور قیدیوں کی بجاے سر کی جانب مبذول ہو جائے تاہم شمر ملعون نے بی بی کی بات نہ مانی بلکہ سر اقدس کو خواتین کے اور نزدیک کر دیا- جب قافلہ اسیران کچھ اور آگے بڑھا اور یہودیوں اور عیسایوں کے محلوں کے قریب پہنچا تو یزیدیوں نے منادی کی کہ اے اہل یہود و نصاریٰ ، ان قیدیوں کے باپ (حضرت علی) نے تمہارے بزرگوں کو جنگوں میں قتل کیا تھا آؤ اور آ کر اپنے دشمن کی اولاد سے بدلہ لے لو - اس اعلان کا سننا تھا کہ لوگوں کو جو چیز ملی انہوں نے اسی سے ہی اسیران اہل بیت کو زد و کوب کیا - امام فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کے ہاتھ بندھے تھے اور ہم اپنا بچاؤ بھی نہ کر سکتے تھے- پھر گھروں کی چھتوں آگ برسانی شروع کی گئی- ہر طرف سے ہم پر جلتی ہوئی لکڑیاں پھینکی جا رہی تھیں- ایک طرف سے دہکتے انگارے میرے عمامے میں آ کر گرے - ہاتھ بندھے ہونے کی وجھہ سے میں عمامہ نہ اتار سکا- آگ نے عمامہ جلا کر میرے سر کو بھی زخمی کر دیا- امام فرماتے ہیں کہ پھر یہ بدبخت ہم اسیران کو لے کر بردہ فروشوں کی آبادی میں لے گئے اور ہمیں بردہ فروشوں کے ہاتھ بچنے کی کوشش کی مگر خدا کی مصلحت آڑے آئ اور وہ اپنے اس ارادے کو پورا نہ کر سکے- بازار شام میں اسیران حرم کے ساتھ گستاخیاں ہورہی تھیں یہاں تک کہ ایک بڑھیا نے کٹے ہوئے سر پر ایک پتھر پھینکا لوگ جو جشن و سرور میں ڈوبے ہوئے تھے انھوں نے بھی اس بڑھیا کی اتباع کرتے ہوئے سر ہائے شہداء پر سنگ بارانی شروع کردی ۔ جب اہلبیت علیہم السلام کا قافلہ شہر میں داخل ہو ا تو ایک بوڑھا شامی حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے قریب آیا اور کہا کہ "تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے کہ جس نے تم لوگوں کو ہلاک کیا اور ہمارے امیر کو تم پر مسلط کیا " امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا : اے شیخ کیا تو نے قرآن مجید پڑھا ہے ؟ شیخ نے کہا : ہاں امام علیہ السلام نے فرمایا : کیا تو نے یہ آیت پڑھی ہے "اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے (رسالت کا) اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ تم قربیٰ سے مودت رکھو " شیخ نے اثبات میں جواب دیا امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا :اے شیخ ! ہم ہی وہ قربیٰ ہیں ۔ پھر امام علیہ السلام نے فرمایا : اے شیخ کیا تو نے یہ آیت پڑھی ہے "قربی ٰ کو اس کا حق دے دو "؟ شیخ نے کہا : ہاں امام علیہ السلام نے فرمایا : اے شیخ ! ہم ہی وہ قربیٰ ہیں اور کیا تو نے اس آیت کی تلاوت کی ہے "اور جان لو کہ جب تم غنیمت کو پاؤ پس اللہ اور اس کے رسول اور ذی القربیٰ کا خمس ہے" شیخ نے اثبات میں جواب دیا امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ہی وہ قربیٰ ہیں اور کیا تو نے وہ آیت پڑھی ہے "اور اللہ تعالی ٰ کا ارادہ یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلا م کو تمام قسم کے رجس کو دور کرے اور پاک و پاکیزہ قرار دے " شیخ نے اثبات میں جواب دیا امام علیہ السلام نے فرمایا : ہم ہی وہ اہلبیت ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے آیت طہارت میں خصوصیت بخشی ہے

> *حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:* > *گندم خریدنا فقر کو ختم کرتا ہے اور آٹا خریدنا فقر کا سبب بنتا ہے اور روٹی (باہر سے) خریدنا ہلاکت ہے۔* > _(الکافی، ج 5، ص 166)_ اس کی تشریح 3 درجوں میں سمجھیں: *1. گندم خریدنا فقر کو ختم کرتا ہے:* اس زمانے میں اور آج بھی، جو شخص سال بھر کی گندم اکٹھی خرید کر گھر میں ذخیرہ کر لیتا ہے وہ ایک طرح سے مستقبل سے بے فکر ہو جاتا ہے۔ اسے روز مہنگائی، بازار کے اتار چڑھاؤ کی فکر نہیں رہتی۔ یہ خود کفالت، دور اندیشی اور برکت کی علامت ہے۔ گندم دیر تک خراب نہیں ہوتی، جبکہ آٹا جلد خراب ہو جاتا ہے۔ تو امامؑ غربت سے بچنے کا معاشی اصول بتا رہے ہیں: بڑی پلاننگ کرو۔ *2. اور آٹا خریدنا فقر کا سبب بنتا ہے:* جو صرف ہفتے بھر کا آٹا خریدتا ہے، وہ دراصل دن بدن کا محتاج رہتا ہے۔ آٹا مہنگا بھی پڑتا ہے گندم کی نسبت، جلد خراب بھی ہوتا ہے اور اس میں برکت کم ہو جاتی ہے۔ یہ انسان کو ہمیشہ بازار کا محتاج اور تنگدست رکھتا ہے۔ یعنی چھوٹی سوچ فقر لاتی ہے۔ *3. اور روٹی باہر سے خریدنا ہلاکت ہے:* یہ سب سے نچلا درجہ ہے۔ تیار روٹی سب سے مہنگی پڑتی ہے۔ نہ اس میں پتہ چلتا ہے آٹا کیسا تھا، صفائی کیسی تھی۔ جو خاندان روز کی روٹی بھی بازار سے خریدے، اس کا خرچہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور بچت بالکل ختم۔ اسی لیے امامؑ نے اسے "ہلاکت" یعنی معاشی تباہی فرمایا۔ *خلاصہ:* امامؑ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ گھر کو خود کفیل بناؤ۔ جتنا ہو سکے خام مال لے کر گھر میں محنت کرو، بازار کے تیار مال پر انحصار کم سے کم رکھو۔ یہ فرمان صرف روٹی کے بارے میں نہیں، زندگی کے ہر خرچے کا اصول ہے۔ https://telegram.me/islamwitheman/7242 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕