ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 286
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-47 روز
-430 روز
آرشیو پست ها
1 285
⚫ بیبی سکینہ سلام الله عليها ⚫
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا حضرت امام حسین علیہ السلام اور جناب رباب سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی تھیں تاريخ میں آپ کے تین نام امینہ، امنیہ اور آمنہ اور لقب سکینہ یعنی وقار و سکون درج ہے.
آپ ایمان کے اعلی مرتبے پر فائز تھیں. امام حسین علیہ السلام آپ کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
" اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ سکینہ اپنے پورے وجود کے ساتھ جمال ازلی میں محو رہتی ہیں اور دن بھر عبادت پروردگار میں غرق ہو کر خدا سے راز و نیاز کرتی ہیں."
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا اپنے کمال اخلاق اور حمیدہ صفات کی وجہ سے اپنے بابا کی نظر میں بہت زیادہ عزيز تھیں اور جب یہ درخشاں ستارہ آسمان خاندان پیغمبر پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا تو امام نے، جو انسان کے ضمیروں اور اعمال سے آگاہ ہیں سکینہ کو عظیم و خوبصورت لقب "خیرۃ النساء" سے ملقب کیا اور ان کے مقام و منزلت کو لوگوں پر واضح و آشکار کر دیا.
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا نے کربلا کے دلخراش مناظر کو نہایت ہی صبروحوصلے سے برداشت کیا آپ واقعہ کربلا کی چشم دید گواہ تھیں آپ نے اپنے بابا کی آواز استغاثہ کو سنا اور پورے وجود کے ساتھ ماں، بہن، پھوپھیوں اور دیگر اسیر خواتین کے درد و الم کو بخوبی درک کیا یہی نہیں بلکہ اپنے سے چھوٹے بچوں کی سرپرستی اور دلجوئی کی.
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ ان کے بابا امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے نفاذ، بدعت اور دینی انحرافات کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ کربلا کے خونین مناظر اور نیزہ پر اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کا سر بریدہ دیکھنے کے باوجود آپ کے ثبات و عزم میں ذرہ برابر بھی تزلزل پیدا نہ ہوا.
لیکن جب گیارہ محرم کو اہل بیت حرم کو قیدی بنا کر لے جایا جانے لگا اور نامحرموں کی نظریں خاندان عصمت و طہارت پر پڑیں تو آپ نےبہت سعی و کوشش کی کہ ان کی ناپاک نظروں سے اپنے کو بچا لیں لہذا فرمایا: میرے بابا کے سر کو قافلے کے آگے لے جاؤ تاکہ لوگ اس کو دیکھیں اور خواتین عصمت و طہارت پر ان کی نظریں نہ پڑیں.
امام حسین علیہ السلام کی چہیتی بیٹی سکینہ نہایت ہی شجاع و بہادر تھیں انہوں نے ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی حقانیت کو ثابت کیا حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت اور کلام کی فصاحت و بلاغت نے کسی میں اتنی جرات پیدا نہ کی جو گستاخی و توہین کرتا بلکہ ہر ایک اپنی اپنی جگہ مبہوت بیٹھا رہا بالکل اسی طرح جس طرح سے آپ کی پھوپھی حضرت زينب سلام اللہ علیہا نے جب دربار یزيد میں خطبہ دیا تو تمام اہل شام مبہوت وحیران رہ گئے تھے. چنانچہ حضرت سکینہ نے یزيد بن معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
اے یزید، میرے بابا کو قتل کرکے خوش نہ ہو کیونکہ وہ خدا و رسول کے مطیع و فرماں بردار تھے، دعوت الہی کو قبول کرتے ہوئے اور شہادت کے درجے پر فائز ہوکر "سیدالشہداء" بن گئے لیکن اے یزيد جان لے کہ ایک دن ایسا آئےگا کہ تجھے عدالت الہی کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اس لئے اس دن کے جواب کی تیاری کر، لیکن تو کس طرح جواب دے سکے گا؟
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جب تک زندہ رہیں امام حسین علیہ السلام کے مشن کو عام کرتی رہیں اور ایک دن قیدخانہ شام میں اپنے بابا کو یاد کرتے کرتے خالق حقیقی سے جا ملیں اور غربت کے عالم میں بے کس و مظلوم بھائی امام سجاد علیہ السلام نے اسی زندان میں آپ کو دفن کردیا اور آج آپ کا روضہ مرجع خلائق بنا ہوا ہے تاہم وفات کی روایات میں اختلاف بھی ملتا ھے.
شہزادی سکینہ سلام اللہ علیہا پر ظلم و ستم کرنے والوں پر لعنت بیشمار۔۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1733978160265044&id=100009586292189
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
''مناقب ابن شہر آشوب''میں ہے کہ انہوں نے دو تلواریں حمائل کی ہوئی تھیں اور وہ دشمن پر پتھر پھینکنے کے لئے فلاخنی (غلیل کی طرح کا آلہ) بھی ساتھ لائے تھے۔[16]
■ مدفن
حضرت اویس قرنی اور حضرت عمار یاسر کا مشترکہ الشان مراز شام کے صوبے الرقعہ میں موجود تھا جس کو کچھ عرصہ قبل داعش نے بارودی مواد سے مکمل طور پر شہید کر دیا تھا۔
📚 حوالہ جات
[1] ذهبى،شمس الدين محمد بن احمد،تاریخ الاسلام،تحقيق: تدمرى، عمر عبد السلام، ج 3، ص 555، دار الكتاب العربى، بيروت، ط الثانية، 1413ھ؛ابن اثير الجزری،عز الدين بن الأثير أبو الحسن على بن محمد، اسد الغابة، ج 1، ص 179،دار الفكر،بيروت، 1409ق؛ تاریخ طبرى، أبو جعفر محمد بن جرير، الطبری، تحقيق: محمد أبو الفضل ابراهيم، ج 11، ص 662، دار التراث، بيروت، ط الثانية، 1387ھ.
[2] ابن اعثم الكوفى، أبو محمد أحمد بن اعثم، الفتوح،تحقيق: شيرى، على، ج 2، ص 544 و 545،دارالأضواء، بیروت، ط الأولى، 1411ھ؛ تاریخ الاسلام، ج 3، ص 555؛ سیرة اعلام النبلاء، ج 5، ص 34 به نقل از ناظم زاده قمی، سيد اصغر، اصحاب امام علی (ع)، ج 1، اویس قرنی؛اسد الغابة، ج 1، ص 179.
[3] تاریخ الاسلام، ج 3، ص 555؛ اسد الغابة، ج 1، ص 179.
[4] ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی، الاصابة،تحقيق: عبد الموجود، عادل احمد و معوض، على محمد، ج 1، ص 359، دارالكتب العلمية، بیروت، ط الأولى، 1415ق؛ اصحاب امام علی (ع)، ج 1.
[5] اسد الغابة، ج 1، 179؛ تاریخ الاسلام، ج 3، ص 556؛ الاصابة، ج 1، ص 359؛زركلى، خير الدين، الاعلام، ج 2، ص 32، دار العلم للملايين، بیروت، ط الثامنة، 1989م؛ سیرة اعلام النبلاء، ج 5، ص 70 به نقل از کتاب اصحاب امام علی (ع)، ج 1.
[6] کشی، ابوعمرو، محمد بن عمر بن عبدالعزیز، رجال کشی، محقق/مصحح: دکتر مصطفوی، حسن، ص 98، ح 156، مؤسسه نشر دانشگاه مشهد، 1490ھ۔
[7] رجال الكشی، ص 98؛ اصحاب امام علی (ع)، ج 1.
[8] ر.ک: شیخ مفید، نبرد جمل، ترجمه مهدوی دامغلنی، محمود، ص 59، نشر نی، تهران، طبع دوم، 1383ھ ش.
[9] ابن شاذان قمى، أبو الفضل شاذان بن جبرئيل، الفضائل، ص 107، نشر رضی، قم، طبع دوم، 1363ش؛ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج 42، ص 155، دار إحياء التراث العربي، بیروت، طبع دوم، 1403ق؛شيخ حرّ عاملى، محمد بن حسن، إثبات الهداة بالنصوص و المعجزات، ج 3، ص 46، نشر اعلمی، بیروت، طبع اول، 1425ھ
[10] الفضائل، ص 107؛بحارالانوار، ج 42، ص 155.
[11] مفيد، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، ج 1، ص 316، كنگرۀ شيخ مفيد، قم، طبع اول، 1413ق؛ طبرسى، فضل بن حسن، إعلام الورى بأعلام الهدى (ط - القدیمة)، ص 170، نشر اسلامیة، تهران، طبع سوم، 1390ق؛ بحارالانوار، ج 42، ص 147.
[12] الاصابة، ج 1، ص 361؛ حلية الاولياء، ج 2، ص 84 و سير اعلام النبلاء، ج 5، ص 76 به نقل از اصحاب امام علی (ع)، ج 1.
[13] حلية الاولياء، ج 2، ص 87 و سير اعلام النبلاء، ج 5، ص 77.
[14] غیر مشہور نظریہ ، یہ ہے کہ وہ جنگ دیلم میں شہید ہوئے ہیں اور ان کا مرقد کوہ اعلی تر قزوین میں ہے (مستوفى قزوینی، حمد الله بن ابى بكر بن احمد، تاریخ گزیده،تحقيق: نوايى، عبد الحسين ، ص 630،امير كبير، تهران،طبع سوم، 1364ھ ش).
[15] الاصابة، ج 1، ص 359؛ اسد الغابة، ج 1، ص 180؛ تاریخ الاسلام، ج 3، ص 556؛ تاریخ الطبری، ج 11، ص 662؛ تاریخ گزیده، ص 631؛ المنقری، نصر بن مزاحم، وقعة صفین،تحقيق: هارون، عبد السلام محمد، ص 324،المؤسسة العربية الحديثة، القاهرة، الطبعة الثانية، 1382، افست قم، منشورات مكتبة المرعشى النجفى، 1404ق؛ التميمی السمعانى، أبو سعيد عبد الكريم بن محمد بن منصور، الانساب، تحقيق: المعلمى اليمانى، عبد الرحمن بن يحيى،ج 10، ص 392،مجلس دائرة المعارف العثمانية، حیدر آباد، ط الأولى، 1382ھ؛ سبط بن جوزی، شرح حال و فضائل خاندان نبوت، ترجمه عطائی، محمد رضا، ص 115، نشر آستان قدس رضوی، مشهد، طبع اول، 1379ھ ش.
[16] زندگانی امیرالمؤمنین علیہ السلام (سید ہاشم رسولی محلاتی): ٥٥٩۔ اعجاز پیغمبر اعظمؐ در پیشگوئی از حوادث آئندہ:٢٩٠۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
🔷 حضرت اویس قرنیؓ 🔷
11 صفرالمظفر 37 ہجری شہادت حضرت اویس بن عامر مرادی قرنی۔
■ تعارف
اویس بن عامر مرادی قرنی، کی کنیت "ابو عمرو"[1] تھی۔ وہ تابعین[2] میں ایک بڑی شخصیت شمار ہوتے تھے اور ایک مشہور [3] باتقویٰ شخصیت تھے۔ انکا زہد و تقویٰ اور نیک اخلاق زبان زدخاص و عام تھا۔
وہ پیغمبر اسلامؐ کے زمانہ میں ایمان لائے ہیں، لیکن آنحضرتؐ کا دیدار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اپنی ماں کی اطاعت[4] کرتے ہوئے مدینہ جا کر واپس لوٹے، وہ اہل یمن تھے، لیکن خلیفہ دوم عمر بن خطاب کی خلافت کے دوران کوفہ میں سکونت اختیار کی۔[5]
■ وفادار صحابی
نقل کیا گیا ہے کہ جب امیرالمومنینؑ نے پہلی بار اویس قرنی کو دیکھا، تو ان کے نورانی چہرہ سے انہیں پہچان لیا اور فرمایا: یقیناً تم اویس معلوم ہوتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، میں اویس ہوں حضرت علیؑ نے فرمایا: یقیناً تم قرنی معلوم ہوتے ہو؟ کہا: جی ہاں، میں اویس قرنی ہوں۔[6]
اویس کا زہد و تقویٰ زبان زد عام و خاص تھا۔ وہ امیرالمومنین علیؑ کے ایک نمایاں صحابی تھے اور بلند مقام پر فائز تھے۔ فضل بن شاذان انہیں بعض باتقویٰ افراد سے بالاتر جانتے ہیں۔[7]
وہ امیرالمومنین علیؑ کے وفادار صحابی تھے، انہوں نے امیرالمومنینؑ کی بیعت کر کے عہد کیا تھا کہ جان کی بازی لگا کر ولایت کا دفاع کریں گے اور کبھی میدان کارزار کی طرف پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔[8]
■ مقام و منزلت
پیغمبراکرمؐ کی نظر میں اویس قرنی کے مقام و منزلت کے بارے میں ہم ذیل میں چند احادیث کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:
❶ رسول خداؐ اویس قرنی کو دیکھنے کے مشتاق تھے اور فرماتے تھے: " قرنی کی طرف سے نسیم بہشت آ رہی ہے،
اے اویس قرنی: میں تجھے دیکھنے کے لیے سخت مشتاق ہوں، آگاہ رہو جو بھی اس سے ملاقات کرے گا، میرا سلام اس تک پہنچانا۔[9]
❷ ایک شخص نے پوچھا: اویس قرنی کون ہے؟ حضرت رسول اکر نے فرمایا: وہ ایک گمنام شخص ہے اگر تم سے غائب ہو تو اس کی تلاش نہیں کرتے اور اگر تمہارے پاس ہو تو تم اہمیت نہیں دیتے، لیکن جان لو اس کی شفاعت سے (بڑی آبادی والے) دو قبیلوں "ربیعہ" اور "مضر" کے افراد بہشت میں داخل ہوں گے، اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے، لیکن وہ مجھ پر ایمان لایا ہے۔ سر انجام وہ میرے خلیفہ اور شائستہ جانشین علی بن ابیطالب کی رکاب میں صفین میں شہادت پر فائز ہوگا۔"[10]
❸ ایک روایت میں امیرالمومنین علیؑ نے فرمایا:
"رسولخداؐ نے مجھے خبر دی کہ میں آپؐ کی امت کے ایک مرد سے ملاقات کروں گا کہ اسے "اویس قرنی" کہتے ہیں۔ وہ خدا اور اس کے رسولؐ کی جماعت سے ہے کہ اس کی موت خدا کی راہ میں شہادت ہے اور اس کی شفاعت سے "ربیعہ" اور "مضر" نامی دو قبیلوں کے افراد بہشت میں داخل ہوں گے۔[11]
❹ پیغمبر خداؐ نے اویس کے تقویٰ کے بارے میں فرمایا ہے: میری امت میں کچھ ایسے افراد ہیں، جو لباس کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسجد میں حاضر نہیں ہوسکتے ہیں اور ان کا ایمان لوگوں سے مدد طلب کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے، ان افراد میں سے اویس قرنی ہے۔[12]
■ شہادت
وہ شب زندہ دار اور اہل عبادت تھے۔[13] مورخین [14] میں مشہور ہے کہ اویس قرنی جنگ صفین میں امام علیؑ کی رکاب میں شہادت پر فائز ہوئے۔[15] جناب اویس قرنی کا شمار زاہدوں اور بزرگ تابعین میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے جنگ صفین میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ہمرکاب جنگ کی، وہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے زمانے میں آپ کے ساتھیوں کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے آپ کی نصرت کیلئے کمر کس لی۔ آپ کا دل ولاء پیغمبر اور آل پیغمبر علیھم السلام سے سرشار تھا،
عبدالرحمان سے ایک روایت ہے: جنگ صفین میں شام کے لشکر میں سے ایک شخص باہر آیا اور اس نے عراق کے لشکر کی طرف رخ کر کے کہا: کیا اویس قرنی تم لوگوں میں ہیں؟
ہم نے کہا: ہاں
شامی شخص نے کہا: میں نے رسولخداؐ سے سنا تھا کہ آپؐ نے فرمایا:
''خیر التابعین اویس القرنی''
ترجمہ:
بہترین تابعی اویس قرنی ہیں۔
وہ یہ کہہ کر شام کے لشکر سے خارج ہوگیا اور ہمارے پاس آ کر ہم سے ملحق ہوگیا۔
اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں صفین میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ تھا کہ ننانوے افراد نے آپ کی بیعت کی اور آپ نے فرمایا: ''سوواں شخص کہاں ہے؟ کہ رسولخداؐ نے مجھے خبر دی تھی کہ اس دن سو افراد میری بیعت کریں گے''؟
اصبغ کہتے ہیں: اسی وقت ایک شخص آگے آیا کہ جس نے دو اونی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور دو تلواریں حمائل کی ہوئی تھیں، اس نے کہا: اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ آپ کی بیعت کروں۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: کس لئے میری بیعت کرنا چاہتے ہو؟
اس نے عرض کیا: تاکہ میں اپنی جان آپ پر قربان کر سکوں۔
فرمایا: تم کون ہو؟ عرض کیا: میں اویس قرنی ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے سامنے اسطرح سے جنگ کی کہ آخرکار شہید ہوگئے اور ان کا جنازہ پیادوں کے درمیان ملا۔
1 285
💕 شریک حیات کے حقوق 💕
بلا شک ”خاوند جی” کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس برتری کو جب، جہاں اور جیسے چاہے اِستعمال کرتا پھرے.
جِس خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو برتری عطاء فرمائی اِسی خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو اپنی طرف سے دی گئی برتری کے استعمال کے لیے حد بندی کر دی، اور وہ اللہ ہے جو اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے، اور خالق اپنی مخلوق کے بارے میں کِسی بھی دوسری مخلوق سے بڑھ کر یقینی عِلم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے.
پس اپنی حکمت سے اُس نے خاوند کو عظمت دی اور اپنی حکمت سے اُس کے لیے حدود مقرر فرمائیں اور اپنی کتاب میں اُن کو ذِکر فرمایا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مُبارک سے جب چاہا اُن حدود کو بیان کروایا.
خاوند حضرات اپنی برتری کی سرشاری میں یہ مت بھولیں کہ اُنکے خالق و مالک نے اُنہیں برتری عطاء فرمانے سے پہلے اُنہیں یہ بھی بتایا ہے کہ..
"وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ"
اور عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق) ہے.
اور پھر فرمایا..
"ولِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرجۃٌ"
اور (اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہےکہ) عورتوں پر مَردوں کا درجہ (بلند) ہے. سورت البقرۃ/آیت ٢٢٨
اور خاوند کے لئے حُکم فرمایا..
"و عاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ"
اور اُن کے ساتھ نیکی والا رویہ رکھتے ہوئے زندگی بسر کرو.
سورت النساء /آیت٤
عاشر کا لفظیٰ معنی مل جل کر زندگی بسر کرنا بنتا ہے اور میل جول بُرائی اور ظُلم والا بھی ہوتا ہے اور نیکی اور بھلائی والا بھی.
اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو یہ حُکم دِیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیکی، بھلائی اور خیر والی زندگی بسر کریں، نہ کہ بُرائی اور ظُلم والی، یہ ایک عام اجمالی حُکم ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیتا ہے، اور مزید وضاحت کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احکام صادر فرمائے، آئیے اُن کا مُطالعہ کرتے ہیں..
درحقیقت خاندان ایک چھوٹا معاشرہ ہے جو دو افراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کا نام ہے جن کا ہدف ایک ہو.
قرآن کریم نے ان کے درمیان محبت والفت کا ہدف اطمینان اورسکون کو قرار دیا ہے فرماتا ہے..
"ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون"
اوراس کی آیات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے نفوس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرسکو اورتمہارے درمیان محبت ورحمت پیدا کر دی بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جو سوچتے ہیں.
اور یہ معاشرہ ایک ایسے عقد کے ذریعے وجود میں آتا ہے کہ جس میں نہایت واضح الفاظ کے ساتھ طرفین کی طرف سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اس عقد کے مفہوم اور اس کے حقوق و فرائض کو قبول کرتے ہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 بداخلاقی کا انجام 🔷
رسول اکرمؐ کو جب اپنے مقتدر صحابی سعد بن معاذؓ کی وفات کی خبر معلوم ہوئی تو اپنے صحابہ کے ساتھ غسل و کفن کے لیے چل پڑے. آپؐ نے ضروری اسلامی مراسم انجام دینے کے بعد اسے تابوت میں رکھا اور اس کے دفن کے لیے روانہ ہوئے.
آپؐ اس کے جنازے کے ساتھ برہنہ پا اور بدونِ عباء روانہ تھے. کبھی اس کے تابوت کے دائیں جانب کندھا دیتے تو کبھی بائیں جانب سے اٹھاتے جاتے. قبر میں آپؐ خود اترے اور حکم دیا کہ پتھر اور اینٹیں اٹھا کر لائیں. آپؐ نے اپنے دست مبارک سے لحد بنائی.
اسے دفن کرنے کے بعد خود اپنے ہاتهوں سے مٹی ڈالی. سوراخوں کو خوب بند کیا پھر فرمایا؛
مجھے معلوم ہے کہ بالآخر یہ قبر پرانی ہو جائے گی لیکن میرے خدا کو پسند ہے کہ اس کے بندے جب کوئی کام انجام دیں تو محکم کاری کریں اور بخوبی انجام دیں.
اسی وقت سعد کی ماں نمودار ہوئیں اور بیٹے کی قبر پر آکهڑی ہوئیں اور بلند آواز سے کہا؛
اے سعد! تجھے بہشت نصیب ہو اور گوارا ہو.
حضرت رسول اکرمؐ نے اسے فرمایا؛
اے سعد کی ماں! چپ ہو جا. تو اتنے بھروسے سے بات نہ کر. اس وقت سعد پر فشارِقبر کے عذاب کی حالت طاری ہے اور وہ اس وقت اپنی قبر میں تکلیف میں ہے.
آپؐ جب قبرستان سے واپس آرہے تھے تو آپ کے ساتھ والوں نے آپ سے پوچھا؛
اے رسولِخدا! آپ نے جو کام سعد کے لیے انجام دیئے ہم نے ابھی تک کسی دوسرے کے لیے آپ سے ایسا عمل نہیں دیکھا. آپ پابرہنہ اور بدونِ عبا اس کے جنازے کے ساتھ چلے.
آپؐ نے فرمایا؛
صرف میں ہی نہیں بلکہ اس کے جنازہ میں شریک ملائکہ بھی اسی طرح چل رہے تھے. میں نے انہیں دیکھ کر ایسا کیا ہے.
لوگوں نے عرض کیا؛
ہم نے دیکھا، آپ کبھی تابوت کے دائیں تو کبھی تابوت کے بائیں طرف چلتے تھے.
آپؐ نے فرمایا؛
چونکہ میرا ہاتھ حضرت جبرائیل کے ہاتھ میں تھا تو جدھر وہ جاتے تھے، مجھے بھی ادھر جانا ہوتا تھا.
لوگوں نے عرض کیا؛
اے رسول خدا آپ نے سعد کے جنازہ پر نماز پڑھائی اور اسے اپنے ہاتهوں سے قبر میں اتارا. پھر اپنے ہاتهوں سے اس کی قبر بنائی اور پھر بھی فرماتے ہیں کہ سعد پر فشارِقبر کا عذاب ہو رہا ہے؟
آپؐ نے فرمایا؛
ہاں... سعد اپنے گھر میں بداخلاقی سے پیش آتے تھے. اسی لئے اسے فشارِقبر کا عذاب ہو رہا ہے.
📚 داستانہائے بحارالأنوار، ج1، ص5تا23.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷یادداشت بہتر بنائیں(حصہ دوم)🔷
6= ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘
7= آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔
8= کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
9= ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔
10= ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلدی اٹھنے کے عادی ہیں تو دوپہر کو تھوڑی دیر کیلئے آرام ضرور کریں اس طرح آپ بہت فریش محسوس کریں گے۔
11= آپ اپنے دوستوں کا ایک ایسا گروپ بنالیں جس میں ہفتے میں ایک بار بیٹھ کر یادداشت کا مقابلہ ہوسکے۔ ہم تب زیادہ کام کرتے ہیں جب ہمارا دوسروں سے مقابلہ ہو۔ اگر ہوسکے تو اس گروپ میں غیر نصابی کتابوں کو بھی شامل کریں۔ اس طرح آپ میں مطالعہ کا ذوق بھی بڑھے گا۔
12 ہمارے دماغ کی خوراک گلوکوز ہے۔ ہماری یادداشت تب بہتر ہوتی ہے جب ہم گلوکوز والی خوراک لیں۔ بالخصوص امتحانات میں ناشتے کے دوران آئل اور پروٹین والی خوراک سے پرہیز کریں۔ جوس زیادہ لیں اور اگر چائے پیتے ہیں تو اس میں چینی زیادہ لے لیں۔
ان آسان تکنیکوں کو استعمال کرکے دوسرے ممالک کے بے شمار طالب علم امتحانات میں بھی اعلیٰ نمبر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کرچکے ہیں۔ آپ بھی نئے سال اور نئے سمسٹر کی پڑھائی کا آغاز ان طریقوں کے ذریعے کیجیے، پھر نتیجہ دیکھئے.
تحریر: قاسم علی شاہ
● مضمون نگار معروف ٹیچر اور ٹرینر ہیں۔ مختلف اداروں میں طالب علموں، گورنمنٹ ملازموں اور ٹیچرز کو ٹرینگ دے چکے ہیں.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷یادداشت بہتر بنائیں(حصہ اول)🔷
آپ طالبعلم ہیں اور اچھے نمبرلینا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر لینے کیلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے.
آپ محنتی بھی ہیں اور آپ کے Concepts بھی بہت واضح ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آپ نے ہر مضمون کو سمجھنے کے لیے پورا سال کلاس نوٹس بھی بنائے ہیں لیکن اگر آپ کو یاد کرنا نہیں آتا اور آپ یاد کرنے کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں تو امتحانات میں اعلیٰ کامیابی آپ کو نہیں ملے گی۔ انسانی ذہن پر کام کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق ہمارے ذہن کے پاس دو لاکھ کھرب سے زیادہ حروف یاد کرنے، 40 زبانوں پر عبور پانے، ایک پورا انسائیکلوپیڈیا یاد کرنے اور درجنوں یونیورسٹیوں سے گریجویشن کی ڈگریاں لینے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ لیکن آج اس مضمون میں ہمارا موضوع ذہنی صلاحیت نہیں بلکہ ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں استاد، کتابیں، سکول، کالج اور یونیورسٹیاں تو شامل ہیں لیکن ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانے اور سبق کو یاد کرنے کی مشقوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا جاتا اور طالب علم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر پڑھائی کو بوجھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ماہرین تعلیم ذہن کی سائنس (Mind Scinces) سے ناواقف ہوتے ہیں اور اس غلطی کا خمیازہ پورے سسٹم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جدید ملکوں میں یادداشت کو بہتر بنانے کے سیمینارز، لیکچرز اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں اور ان سے نہ صرف طالب علم بلکہ عام عوام بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔ جب طالب علم کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ یاد کرکے اسے اپنے حافظے میں رکھ سکتے ہیں تو ان کا رجحان کتاب و علم اور تعلیم کی طرف چلا جاتا ہے۔ ہم کتاب، علم اور تعلیم سے اس لیے دور ہیں کیونکہ ہمیں یاد کرنے کے آسان طریقے نہیں بتائے جاتے۔ ہمیں اپنے آپ پر، اپنی صلاحیت پر اور اپنے ٹیلنٹ پر یقین نہیں ہوتا اور ہم اصل روشنی سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔
آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔
1= ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔
2= ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔
3= ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
4= ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔
5= سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں میوزک بھی سن سکتے ہیں، نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں.
■ جاری ہے... اس کے مکمل دو حصے ہیں. بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ کیجئے.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
یہی معاملہ "مثلِ امام" کا جب آپ مثلِ امام کہتے ہیں تب بھی معاشرے میں ایک فتنہ پیدا ہوتا اس سے قطع نظر آپ کی نیت کیا ہوتی ہے؟
اگر کسی ایک شخصیت کی مظلومانہ شہادت پر انہیں مثلِ امام حسینؑ کہا جانے لگا تو پھر یہ سلسلہ کوئی روک نہیں سکے گا۔
ہر شخص جو کوئی ایسا عمل انجام دے جو ائمہؑ نے دیا ہے تو پھر تو ہر شخص مثلِ امام ہوگا ، اگر کوئی پیادہ حج کرے تو کہا جائے گا کہ یہ مثلِ امامؑ ہے وغیرہ وغیرہ ۔(نعوذباللہ)…
ہم متبادل الفاظ جیسے مطیع امامؑ وغیرہ بھی کہہ سکتے ہیں جوکہ قرآنی تعبیر ہے کہ:
فَاتَّبِعُوْنِیْ
اتباع کرو۔
اختتاماً ہم یہی عرض کریں گے کہ یہ مسئلہ محبت کا نہیں بلکہ حکمت کا ہے۔ سید شہید کے مقام، خدمات اور عظمت میں کسی کو کلام نہیں، لیکن اگر ایک خاص تعبیر پر اصرار معاشرے میں غیر ضروری نزاع کا باعث بن رہا ہو تو بہتر یہی ہے کہ اس اصرار کو ترک کر دیا جائے۔ جس طرح ہم دین کے دیگر بہت سے معاملات میں حفظِ مراتب کا لحاظ رکھتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی اس اصول کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
1 285
لفظ "امام" اور مثلِ امام پر اصرار کیوں آخر؟
سید شہید کی شہادت کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اگرچہ یہ بحث اپنی اصل کے اعتبار سے نئی نہیں، البتہ اس کی شدت ضرور نئی محسوس ہوتی ہے۔ ایک طبقہ اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ ہر صورت ان کے نام کے ساتھ "امام" کہا جائے، جبکہ دوسرا طبقہ اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "امام" کا لقب صرف ائمۂ معصومینؑ کے لیے مخصوص ہے۔
ہماری گزارش یہ ہے کہ دونوں انتہائیں محلِ نظر ہیں۔ ایک طرف ہر صورت اس لفظ پر اصرار مناسب نہیں، اور دوسری طرف یہ کہنا بھی درست نہیں کہ لغوی اعتبار سے "امام" کا لفظ کسی غیر معصوم کے لیے سرے سے استعمال ہی نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ کریم اور عربی لغت دونوں اس بات پر شاہد ہیں کہ "امام" کا لفظ پیشوا، رہنما اور مقتدا کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔
اس لیے ہماری گفتگو اس لفظ کے شرعی جواز یا عدمِ جواز پر نہیں، بلکہ اس پر اصرار کے بارے میں ہے۔
قرآنِ کریم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صرف الفاظ کے صحیح ہونے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ان الفاظ کے استعمال سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا﴾
"اے ایمان والو! 'راعنا' نہ کہا کرو بلکہ 'انظرنا' کہا کرو۔"
(البقرہ آیت: 104)
"راعنا" اپنے اصل معنی کے اعتبار سے کوئی غلط لفظ نہ تھا، لیکن یہود اس لفظ کو غلط معنی میں استعمال کر کے رسولِ خدا ﷺ کی شان میں استہزا کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس لفظ پر اصرار نہ کریں بلکہ اس کے بجائے "انظرنا" کہیں۔
یہ آیت ہمیں ایک عظیم اصول سکھاتی ہے کہ جب کسی لفظ کا غلط استعمال ہونے لگے اور وہ اختلاف، استہزا یا غیر ضروری نزاع کا ذریعہ بن جائے تو حکمت یہی ہے کہ اس پر اصرار نہ کیا جائے، اگرچہ وہ لفظ اپنی اصل کے اعتبار سے درست ہی کیوں نہ ہو۔
اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ مثال میں یہود کا ذکر کیوں کیا جا رہا ہے، تو اس کا جواب خود قرآنِ کریم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر بنی اسرائیل اور یہود کے واقعات کو بطورِ عبرت و مثال بیان فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ سورۂ بقرہ ہی میں فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا﴾
یعنی اللہ تعالیٰ حق واضح کرنے کے لیے مچھر جیسی معمولی چیز کی مثال دینے سے بھی نہیں جھجکتا۔
لہٰذا "راعنا" کا واقعہ بھی ہمارے لیے ایک قرآنی مثال اور اصول ہے، نہ کہ کسی قوم پر طعن مقصود ہے۔
اسی اصول کو ہم اپنی دینی زندگی میں بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔
مثلاً "جلیل القدر" ایک عام تعریفی تعبیر ہے اور بڑے علماء یا صحابہ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی "جل جلالہ" کے لغوی معنی کو دیکھے تو بظاہر اس میں بھی کوئی اشکال محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے معنی ہیں:
"اس کی شان و عظمت بلند ہو۔"
لیکن کیا ہم ائمۂ اہل بیتؑ کے اسمائے گرامی کے بعد "جل جلالہ" کہتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
حالانکہ لغوی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت میں بعض تعبیریں مخصوص مقامات کے ساتھ معروف ہو چکی ہیں، اس لیے اہلِ علم حفظِ مراتب کی خاطر انہی تعبیروں کو باقی رکھتے ہیں تاکہ کسی قسم کی بدگمانی یا اشتباہ پیدا نہ ہو۔
اسی طرح سفید اور سیاہ عمامہ دونوں اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں سیاہ عمامہ سادات کی ایک معروف علامت بن چکا ہے۔ اگر کوئی غیر سید جان بوجھ کر سیاہ عمامہ باندھے تو ممکن ہے شرعی جواز کی بحث اپنی جگہ ہو، لیکن اس سے عوام میں غلط فہمی ضرور پیدا ہوگی۔ اسی لیے اہلِ علم ایسے مواقع پر عرف، حفظِ مراتب اور معاشرتی مصلحت کا لحاظ رکھتے ہیں۔
لہٰذا اصل بحث لفظ "امام" کے جواز یا عدمِ جواز کی ہیں، بلکہ اس پر اصرار کی ہے۔ اگر کسی لفظ پر اصرار معاشرے میں غیر ضروری اختلاف، بدگمانی اور انتشار پیدا کر رہا ہو، جبکہ احترام کے اظہار کے لیے دوسرے مناسب الفاظ بھی موجود ہوں، تو قرآنی حکمت یہی ہے کہ اس اصرار سے اجتناب کیا جائے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اہلِ بیتؑ کے مکتب نے ہمیشہ حفظِ مراتب، حسنِ تعبیر اور حکمتِ گفتار کی تعلیم دی ہے۔ جس طرح ہم دیگر معاملات میں مخصوص القابات اور تعبیروں کا لحاظ رکھتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی اعتدال اختیار کرنا چاہیے۔ کسی اختلافی تعبیر پر اصرار کرنے کے بجائے ایسا اسلوب اپنانا زیادہ مناسب ہے جو احترام کو بھی برقرار رکھے، اہلِ بیتؑ کے مخصوص مقام و مرتبے کا بھی لحاظ کرے اور اہلِ ایمان کے درمیان اختلاف و بدگمانی کا سبب بھی نہ بنے۔
1 285
3۔ تاریخ الطبری، ج۳، ص۱۷۱؛ الطبقات الکبری، ج۴، ص۵۶
4۔ دہخدا
5۔ ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۴-۲۱۸؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۵۷-۵۸
6۔ سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۸؛ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۵۸-۵۹
7۔ ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۲۱۹
8۔ عاملی، سلمان فارسی، ص۴۰
9۔ ابن ہشام، سیرہ النبویہ، ج۱، ص۱۸۹
10۔ نک: نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان (رض)، ص۶۔
11۔ نک:کلینی، اصول کافی، ج۲، ص۸۴
12۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۲۲، ص۳۴۵
13۔ عاملی، سلمان فارسی، ص۳۲
14۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۳۴۳
15۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۴، ص۶۲
16۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۵۹۱.
17۔ نک: نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان، ص۱۴۸
18۔ عسکری، عبداللہ بن سبا، ج۱، ص۱۴۵
19۔ مدنی، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، ص۲۱۵
20۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۸، ص۳۵
21۔ ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ، ۱۹۹۵م/۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۶۱.
22۔ ابن سعد، طبقات الکبری، ج۴، ص۶۲
23۔ بلاذری، انساب الاشراف، ص۱۲۳؛ ذہبی، سر اعلام النبلاء، ج۲، ص۶۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ص۴۰۹-۴۱۱
24۔ صدوق، الخصال، ص۳۶۱
25۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۲۱
26۔ طوسی، اختیار معرفہ الرجال، ج۱، ص۵۴؛ طوسی، الامالی، ص۱۳۳
27۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۱، ص۴۵۸-۴۵۹
28۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج ۱، ص۱۷۶
29۔ نک: مجلسی، بحارالانوار، ج۲۲، ص۳۸۰.
30۔ نوری، نفس الرحمن فی فضائل سلمان (رض)، ص۱۳۹۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
سلمان سقیفہ کے واقعے کے مخالفین میں سے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ سلمان صحابہ کو خلیفہ اول کی بیعت کرنے پر ملامت کرتے ہوئے ان سے کہتے تھے (ایک کام کو تو تم لوگوں نے انجام دے دیا لیکن ایک کام کو چھوڑ دیاہے)[17] اس جملے کا مفہوم یہ تھا کہ خلیفہ کو تو تم لوگوں نے انتخاب کر ہی لیا لیکن رسول خداؐ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ سلمان ان دنوں یہ کہتے رہتے تھے کہ "ایک بوڑھے شخص کو خلیفہ بنا لئے ہو جبکہ رسول خداؐ کے خاندان کو چھوڑ دیئے ہو!! اگر خلافت کو رسول خداؐ کے خاندان میں رکھتے تو حتی دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہ ہوتا اور اس درخت(خلافت) کا پھل زیادہ مزیدار اور اس کا نفع زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتا۔[18]
■ مدائن کی گورنری
سلمان فارسی، خلیفہ دوم کے زمانے میں خلیفہ کی جانب سے مدائن کے گورنر مقرر ہوئے۔ سلمان نے اس کام کو قبول کرنے کے لئے پہلے امیرالمومنینؑ سے اجازت لی پھر قبول کیا۔ سلمان موت کے وقت تک اس شہر کے والی تھے۔[19] ایک گورنر ہونے کے عنوان سے بیت المال سے سلمان کا حصہ پانچ ہزار درہم تھا جسے وہ صدقے میں دے دیتے تھے۔[20] اور ٹوکریاں بنانے کے ذریعے اپنا پیٹ پالتے تھے۔
■ شادی، اولاد
سلمان نے بنی کندہ کی ایک عورت سے شادی کی۔ سلمان کے دو بیٹے عبداللہ اور محمد تھے۔ عبداللہ نے اپنے والد سے حضرت فاطمہؑ کے لئے بہشتی تحفے والی حدیث روایت کی ہے۔ سلمان کی ایک بیٹی اصفہان میں اور دو بیٹیاں مصر میں تھیں۔
■ فضلیت سلمان
🌹 پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے: خداوند عالم نے مجھے چار اشخاص کو دوست رکھنے کا حکم دیا اور مجھے یہ خبر دی کہ ان افراد کو خدا خود بھی دوست رکھتا ہے۔ وہ افراد علیؑ، مقداد، ابوذر اور سلمان ہیں۔[21]
🌹 سلمان کے بارے میں رسول خداؐ کی سب سے مشہور روایت جس میں سلمان کے بارے میں آپؐ کی محبت کا اظہار ہوتا ہے وہ "سلمان منا اھل البیت" ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن سلمان مسجد میں داخل ہوئے تو اصحاب نے آپ کا احترام کرتے ہوئے انهیں صدر محف میں جگہ دی لیکن عمر نے سلمان کے عجمی ہونے کے بہانے اس کام پر اعتراض کیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے جب یہ مشاہدہ فرمایا تو منبر پر تشریف لے جا کر ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے قوم اور چہرے کے رنگ کے لحاظ سے انسانوں کے ایک دوسرے پر برتری نہ رکھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے"۔
پیغمبرؐ کا یہ فرمان ایک اور روایت میں بھی نقل ہوا ہے: جس وقت اہل مدینہ خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے اور سلمان چونکہ ایک طاقتور آدمی تھے اس لئے انصار اور مہاجرین میں سے ہر ایک سلمان کو اپنے ساتھ مختص کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت رسول خداؐ نے فرمایا: "سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے"۔[22]
🌹 پیغمبرؐ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ بہشت چار شخصیات کی مشتاق ہے اور وہ شخصیات علی، عمار، مقداد اور سلمان ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ خداوند عالم نے پیغمبر اکرمؐ کو علی، سلمان، مقداد اور ابوذر کو دوست رکھنے کا حکم دیا ہے۔[23]
🌹 سلمان کے بارے میں شیعہ منابع میں آئمہ معصومین کی زبانی بھی روایات موجود ہیں۔ آئمہ کے کلام میں معمولا آپ کو حقیقی اور دین میں ثابت قدم شیعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام علیؑ کی ایک حدیث میں ہے کہ "سلمان فارسی اور بعض دوسرے دوست جیسے ابوذر، عمار اور مقداد ایسے افراد ہیں کہ خداوند انکے وجود کی برکت سے لوگوں کو روزی دیتا ہے۔[24] اسی طرح آپؑ سلمان کو علم اولین و آخرین کے مالک سمجھتے ہیں۔[25] امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے روایت ہے کہ امام علیؑ کے حضور ایک مجلس میں سلمان فارسی کا نام آ گیا تو امام نے فرمایا کہ سلمان فارسی نہ کہئیے بلکہ سلمان محمدی کہئیے کیونکہ وہ ہم اہلبیت میں سے ہیں۔[26]
■ وفات
آپ کی وفات سنہ 36ق میں ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق آپکی وفات خلیفہ سوم کے دور خلافت میں جبکہ بعض دوسری روایات میں آپکی رحلت خلیفہ سوم کے دور خلافت کے بعد ہوئی ہے۔[27]
روایات کے مطابق، سلمان فارسی کی عمر مبارک کافی طولانی تھی بعض نے آپ کی عمر ٹین سو پچاس سال لکھی ہے۔[28] بعض روایات میں ہے کہ سلمان کی وفات کے بعد امام علیؑ مدینہ سے مدائن تشریف لائے اور ان کی تجہیز و تکفین کو آپ نے ہی انجام دیا پھر ان کی نماز جنازہ پڑھا کر انہیں اپنے ہاتھوں سپرد خاک کیا۔[29]
سلمان نے اپنے کفن پر یہ شعر لکھا ہوا تھا۔[30]
وفدت علی الکریم بغیر زادمن الحسنات و القلب السلیم میں کسی زاد راہ کے بغیر کریم کے پاس آیا ہوں نہ میرے پاس نیکیاں ہیں اور نہ قلب سلیم وحمل الزاد اقبح کل شیءاذا کان الوفود علی الکریم زاد راہ لے کر جانا سب سے بری بات ہےجب کریم کے پاس حاضر ہونا ہو۔
📚 حوالہ جات
1۔ تاریخ طبری، ج۳، ص۱۷۱
2۔ الطبقات الکبری، ج۴، ص۵۶؛ انساب الاشراف، ج۱، ص۴۸۵
1 285
🔷️ حضرت سلمان فارسی (رض) 🔷️
سلمان فارسی کا اصل نام روزبہ اور آپ کے والد کا نام خشفودان اور بعض دیگر اقوال کے مطابق بوذخشان تھا۔[1] روایات کے مطابق اسلام لانے کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے آپ کا نام سلمان رکھا۔ سلمان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ولادت اصفہان کے ایک دیہات "جی" میں ہوئی۔[2] بعض اور روایات کے مطابق اس دیہات کا نام رامہرمز تھا۔[3]
سلمان کا والد ایک ایرانی دہقان(کسان) تھا۔ ساسانیوں کے دور میں مالک، زمین دار، شہری یا دیہاتی سب کو دہقان کہا جاتا تھا۔[4] اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہ سب قصہ گوئی پر مشتمل ہیں۔ ان تمام روایات میں جس چیز پر تاکید ہوئی ہے وہ آپ کی محققانہ اور تجسسانہ ذہنیت ہے جس کے نتیجہ میں آپ بہترین دین کی تلاش میں طولانی سفر کی مشکلات تحمل کرنے میں آمادہ نظر آتے ہیں۔ ان روایات کے مطابق وہ بجپن میں زرتشت تھے پھر دین مسیحیت سے آشنا ہو کر دین مسیحیت قبول کرتے ہیں اور اپنے شہر سے شام کی طرف سفر کرتے ہیں اور وہاں مسیحی علماء کی شاگردی اختیار کرتے ہیں۔ ان روایات کے مطابق سلمان کے والد کو آپ سے بہت پیار تھا اس لئے آپکو گھر میں رکھنا چاہتا تھا اور شام کی طرف یہ سفر ایک طرح سے ان کا گھر سے فرار محسوب ہوتا تھا۔ شام میں آپ کلیسا کی خدمت گزاری کرتے تھے اور بلند پایا اور پرہیزگار مسیحی علماء سے سے استفادہ کرنے کیلئے انہوں نے دوسرے شہروں جیسے موصل، نصیبین اور عموریہ کی طرف سفر کیا۔[5]
پھر عموریہ سے حجاز کی طرف سفر کرنے کا ارادہ کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے مسیحی اساتذہ سے اس سرزمین میں ایک پیغمبر کے مبعوث ہونے کی خبر سنی تھی۔ اس سفر میں آپ بنی کلب کے ایک کاروان کے ہمراہ تھے اور آخر کار انہی کے ہاتھوں اسیر ہوگئے جنہوں نے بعد میں آپ کو حجاز لے جا کر بنی قریظہ قبیلے کے ایک یہودی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا جو آپ کو مدینہ لے آیا۔[6]
■ غلامی سے آزادی اور اسلام قبول کرنا
آپ نے ہجرت کے پہلے سال جمادی الاول کے مہینے میں اسلام قبول کیا۔ سلمان نے سنا تھا کہ آخری پیغمبر کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ صدقہ نہیں کھائے گا لیکن ہدیہ قبول کرے گا۔ اسی طرح اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے دو کندہوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی۔ اس لئے جب سلمان نے پیغمبر اکرمؐ سے ملاقات کی تو کجھوریں صدقہ کے طور پر آپؐ کو دیں جسے آپؐ نے اپنے دوستوں میں تقسیم کر دیا اور خود ان میں سے نہیں کھائی۔ سلمان نے اسے نبوت کی تین نشانیوں میں سے ایک قررا دیا پھر کسی اور ملاقات میں سلمان نے کچھ کجھوریں تحفے کے طور پر پیش کیں تو آپؐ نے ان سے تناول فرمائیں۔ تیسری بار سلمان نے رسولؐ کو کسی کی تشیع جنازے میں دیکھا اور آپکے پیچھے چل پڑا تاکہ تیسری نشانی کو مشاہدہ کر سکے پیغمبرؐ کو معلوم ہوا کہ سلمان کس چیز کی جستجو میں ہے اس لئے آپؐ نے
اپنے کپڑوں کو اس طریقے سے ہٹایا کہ مہر نبوت نظر آنے لگی۔ سلمان نے مہر نبوت کو دیکھ لیا اس وقت سلمان نے خود کو پیغمبرؐ کے قدموں میں گرا دیا اور آپؐ کے بدن مبارک کے بوسے لینے لگا اور اسلام قبول کر لیا۔[7]
سلمان ہجرت کے پہلے سال ہی اس کے مالک سے خرید کر آزاد کر دیا گیا۔[8] اس کی قیمت 300 یا 400 کھجوروں کے درخت اور 40 اونس (ایک وزن جو تقریباً اڑھائی تولہ یا آدھی چھانک کے برابر ہوتا ہے (پونڈ کا سولھواں حصہ) سونا تھا جو کہ رسول خداؐ اور صحابہ کی مدد سے ادا کی گئی۔[9] خود سلمان کہتا ہے کہ مجھے رسول خداؐ نے آزاد کیا اور میرا نام سلمان رکھا۔[10]
■ عقد بھائی چارگی
شیعہ روایات کے مطابق سلمان اور ابوذر کے درمیان عقد برادری قائم ہوا۔[11] بعض روایات میں ملتا ہے کہ ابوذر کو سلمان کی اطاعت کرنے پر پابند کیا گیا تھا۔[12]
■ جنگی مشورے
سلمان نے صدر اسلام سے ہی جنگوں میں شرکت شروع کی اور غزوہ خندق کے بعد کوئی ایسی جنگ نہیں تھی جس میں آپ نے شرکت نہ کی ہو۔[13] شہر مدینہ کے ارد گرد خندق کھودنے کا مشورہ آپ نے ہی دیا تھا۔[14] اس جنگ میں پیغمبر اکرمؐ نے ہر دس افراد کو چالیس ذراع زمین کی کھودائی کی ذمہ داری لگائی۔ سلمان جسمی لحاظ سے ایک طاقتور شخص تھا جس کی وجہ سے مہاجرین اور انصار میں اختلاف ہو گیا ہر کوئی چاہتا تھا کہ سلمان ان کے گروہ میں شامل ہو مہاجرین کا اعتقاد تھا کہ کیونکہ سلمان ایران سے ہجرت کر کے آیا ہے اس لئے ہمارے گروہ میں شامل ہو اور انصار کہتے تھے کہ وہ پیغمبر اکرمؐ کے یثرب میں داخل ہوتے وقت یہاں موجود تھا اس لئے انصار ہے۔[15]
بعض روایات کے مطابق سلمان نے جنگ طائف میں منجنیق استعمال کرنے کا مشورہ دیا جس پر پیغمبر اکرمؐ نے اس وسیلے کے استعمال کا حکم دیا۔
■ سقیفہ کے واقعے کی مخالفت
واقعہ سقیفہ کے بارے میں سلمان کا نظریہ: "لو بایعوا علیا لأکلوا من فوقهم و من تحت أرجلهم"
ترجمہ: اگر حضرت علیؑ کی بیعت کی جاتی تو ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں نازل ہوتیں۔[16]
1 285
جنگ صفین میں حضرت عمارؓ کو ابوالعلادیہ اور ابوالحوا سکسکی نے شہید کیا۔ جب عمارؓ کی شہادت کی خبر جناب امیر علیہ السلام کو ہوئی تو آپؑ فوراً عمارؓ کے لاشے پر پہنچے اور آپؑ کا سر اپنے زانو پر رکھ کر غم سے لبریز اور دنیا کی بیوفائی پر مشتمل اشعار پرھے پھر فرمایا:
''انا للّہ و انا الیہ راجعون'' جو شخص عمار کے قتل پر غمزدہ نہ ہو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، عمار پہ بہشت ایک بار نہیں کئی بار واجب ہوئی۔''
■ شہادت پر ردعمل
عمارؓ کی شہادت نے حضرت علی علیہ السلام کو غضبناک کر دیا اور آپؑ نے معاویہ کی فوج سے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ فرما لیا۔
رات بے حد سرد تھی شامی فوجی سردی کی شدت سے اپنے منہ سے ایسی آوازیں نکالتے تھے، جسطرح کتے کے حلق سے آوازیں نکلتی ہیں۔ عربی میں ''حریر'' کتے کی آواز کو کہا جاتا ہے اسلئے اس رات کا نام ''لیلةالحریر'' مشہور ہوا۔
جناب امیر علیہ السلام نے اس رات ذوالفقار ہاتھ میں تھامی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھوڑے پہ سوار ہو کر میدان کا رخ کیا اور فوج شام پہ حملہ کر دیا۔ آپؑ جب بھی کسی کو تلوار کی ضرب لگاتے تو نعرہ تکبیر بلند فرماتے، جو بھی سورما آپؑ کے سامنے آیا زمین بوس ہوا۔ آپؑ نے اس رات پانچ سو سورما فی النار کئے۔ آپؑ صبح تک جنگ میں مصروف رہے۔ ذوالفقار کئی مرتبہ ٹیڑھی ہوئی اور آپؑ نے اپنے زانوؤں پر رکھ کر اس کو سیدھا کیا۔ اس جنگ میں بہت سے مشہور صحابہ مارے گئے، جن میں حضرت اویس قرنیؓ بھی شامل تھے جو حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے داد شجاعت دیتے ہوئے مرتبہ شہادت پہ فائز ہوئے۔
■ مدفن
حضرت عمار یاسرؓ اور حضرت اویس قرنیؓ کا مشترکہ روضہ شام میں ہے، کیونکہ جنگ صفین جس مقام "رقہ" پہ لڑی گئی وہ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں تھا جو اب ملک شام میں شامل ہے۔
📚 منابع:
1۔ نضیرالمنار، ج2، ص367۔
2- تقویم شیعہ
3- سیرت امیرالمومنینؑ
4- وکی پیڈیا
5- متعدد ویب سائٹس
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
🔷 حضرت عمار یاسرؓ 🔷
8 یا 9 صفر 37 ہجری کو حضرت عمار یاسر 93 سال کی عمر میں جنگ صفین میں شہید کیے گئے۔ حضرت خزیمہ بھی اسی دن شہید ہوئے۔
■ تعارف آل یاسر بن عامر
آغاز اسلام میں ایک چھوٹا سا خاندان جو صرف چار افراد پر ہی مشتمل تھا، مشرف بہ اسلام ہوا۔ انہیں مشرکین مکہ نے سخت اذیتیں دیں لیکن انہوں نے صبر اور استقامت کا دامن تھامے رکھا۔ یہ چار افراد جناب یاسر اور ان کی زوجہ سمیہ اور ان کے دو بیٹے عبداللہ اور عمار تھے۔
جناب یاسر کو مشرکین کوڑے مارتے تھے کہ وہ بیہوش ہو کر گر جاتے تھے۔ جب ہوش آتا تو مشرکین دوباره کوڑے مارتے۔ اس کے باوجود آپ نے اسلام نہیں چھوڑا حتیٰ کہ مشرکین نے اتنا مارا کہ آپ شہید ہو گئے۔
جناب یاسر کی بیوی سمیہ تھیں جو کہ سن رسیدہ تھیں۔ دشمنوں نے ان پر بھی اذیتوں کے پہاڑ گراۓ۔ اس کے باوجود ان کی استقامت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔
ابوجہل نے ان کے شکم پر ضرب ماری جس کی وجہ سے وہ بھی شہید ہو گئیں۔
ابوجہل لعین ان کو نہ صرف جسمانی اذیت دیتا تھا بلکہ ان کو روحانی اذیت سے بھی دوچار کرتا تھا۔ وہ بیچاری سن رسیدہ تھیں اور کمر خمیدہ ہو چکی تھی۔ ابوجہل لعین انہیں کہتا تھا کہ تو خدا کے لئے محمد (ص) پر ایمان نہیں لائی بلکہ تو اس کے حسن جمال پر عاشق ہے۔
جناب یاسر کے فرزند عبداللہ کو بھی سخت اذیتیں دی گئیں لیکن وہ بھی ثابت قدم رہے۔ ان کے جسم کو برہنہ کر کے گرم ریت پر لٹا دیا گیا اور لوہے کی زرہ ان کے جسم پر ڈال دی گئی اور وہ تڑپتے رہے۔ شدید گرمی میں اتنی اذیت دی جاتی، ایسا لگتا تھا جیسے ان کو انگاروں پر لٹایا گیا ہو۔ زرہ کے حلقے ان کے بدن میں گھس جاتے تھے۔ اور کفار مکہ ان سے کہتے تھے کہ محمد (ص) کا انکار کرو اور لات و عزیٰ کی عبادت کرو۔ لیکن ان مظالم کے باوجود انہوں نے ان کی یہ بات نہ مانی۔
عمار یاسر کے جسم پر آگ سے جلنے کی وجہ سے اتنے نشانات پڑے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ برص کی بیماری میں مبتلا رہے ہوں گے۔ حضرت محمد (ص) نے اس خاندان سے فرمایا: اے آل یاسر! صبر کرو، استقامت سے کام لو تمہارا مقام یقیناً جنت ہے۔(1)
■ تعارف عمار یاسر
حضرت عمار بن یاسرؓ کی کنیت ابویقظان تھی اور آپ حضرت یاسر بن عامر رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے اور صحابی بھی تھے۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے دور اسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ان کے والد حضرت یاسر اور والدہ اسلام کے پہلے شہیدوں میں سے تھے۔ جن کو مشرکین مکہ نے شہید کیا۔ آپ کی والدہ اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں۔ جن کو اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ابوجہل نے شہید کیا تھا۔ جن کے دونوں پیروں کو دو اونٹوں سے باندھ کر مختلف سمتوں میں دوڑایا گیا یہانتک کہ ان کے جسم کے دو ٹکرے ہو گئے۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ حبشہ کو ہجرت کرنے والوں میں سے تھے۔ جنگ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔
■ رسول اکرمؑ کی بشارت اور دعا
ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ:
''انہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔''
آپ بڑے مشہور صحابی ہیں اور آپ کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت مشہور تھی۔
والدین کی شہادت کے بعد روتے ہوئے خدمت رسولؐ میں آئے تو انہوں نے دعائے خیر کی کہ:
''خدا آلِ یاسر میں سے کسی کو آگ کا عذاب نہ دے۔''
■ رسول اکرمؑ سے محبت
مدینہ میں پہلی مسجد کی تعمیر کے دوران سب لوگ قریبی پہاڑیوں سے پتھر لا رہے تھے، اس دوران حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پتھر لا رہے تھے اور ان کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا، یہ دیکھ کر حضرت عمار بن یاسرؓ نے ان سے کہا کہ آپؐ پتھر نہ لائیں، میں آپؐ کے حصے کا پتھر بھی لاتا رہوں گا، اس وقت رسولِ خدا صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی۔
■ شہادت
آپ کی شہادت حضرت علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں 38ھ میں جنگِ صفین میں ہوئی جس میں آپ حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے لڑے اور معاویہ ابن ابی سفیان کی فوج مدمقابل تھی۔
جنگ صفین جولائی 657 عیسوی میں حضرت امیرالمومنین علی بن ابیطالب علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے (رقہ) میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے۔ اس جنگ میں شامی افواج کے پینتالیس ہزار اور جناب امیر علیہ السلام کی افواج کے پچیس ہزار افراد مارے گئے، جن میں سے بیشتر اصحاب رسولؐ تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی تھی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ دونوں اصحاب، حضرت علیؑ کی فوج میں شامل تھے۔
1 285
شہادت کے بعد آپ کے جنازہ کو قید خانہ سے ہتھکڑی اور بیڑی سمیت نکال کر بغداد کے پل پر ڈال دیا گیا تھا اور نہایت ہی توہین آمیز الفاظ میں آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو یاد کیا گیا. سلیمان بن جعفر ابن ابی جعفر اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ہمت کر کے نعش مبارک کو دشمنوں سے چھین کر لے گئے اور غسل و کفن دے کر بڑی شان سے جنازہ کو لے کر چلے. ان لوگوں کے گریبان امام مظلوم کے غم میں چاک تھے، انتہائی غم و اندوہ کے عالم میں جنازہ کو لے کر مقبرہ قریش میں پہنچے.
امام علی رضا علیہ السلام کفن و دفن اور نماز کے لئے مدینہ منورہ سے با اعجاز پہنچ گئے. آپ نے اپنے والد ماجد کو سپرد خاک فرمایا. تدفین کے بعد امام علیہ السلام مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے.
جب مدینہ والوں کو آپ کی شہادت کی خبر ملی تو کہرام برپا ہو گیا. نوحہ و ماتم اور تعزیت کا سلسلہ مدتوں جاری رہا.
📚 حوالہ جات
(1) اعلام الوریٰ ،ص 171۔
(2) صواعق محرقہ،ص132۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌹 حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 🌹
اسم مبارک: موسیٰ۔ القاب: کاظم، عبد صالح، نفس زکیہ، صابر، امین، باب الحوائج وغیرہ
کنیت: ابو الحسن، ابو ابراہیم، ابو علی، ابو عبداللہ
پدر بزرگوار: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
والدہ گرامی: حمیدہ خاتون
تاریخ ولادت: 7 صفر 128ھ
تاریخ شہادت: 25 رجب 183ھ
مدفن: کاظمین (بغداد) عراق
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام، رسول مقبول حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتویں جانشین ہیں. آپ کے والد محترم حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ جناب حمیدہ خاتون تھیں، جو بربر یا اندلس کی رہنے والی تھیں.
امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ خاتون کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں، آپ دنیا میں حمیدہ اور آخرت میں محمودہ ہیں. امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد کی طرح امام منصوص من اللہ، معصوم، اعلم زمانہ اور افضلِ کائنات تھے. آپ دنیا کی تمام زبانیں جانتے تھے اور باذن اللہ علم غیب سے آگاہ تھے، آپ دنیا کے عابدوں میں سے سب سے بڑے عبادت گزار اور سخاوت میں سب سے زیادہ سخی تھے.
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام 7 صفر المظفر 128ھ مطابق 10 نومبر 745ء شنبہ کے روز ابوا کے مقام جو مدینہ و مکہ کے درمیان واقع ہے پیدا ہوئے. ولادت کے فوراً بعد ہی آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ٹیک کر آسمان کی طرف رخ کرکے کلمہ شہادتین زبان پر جاری فرمایا۔ یہ عمل آپ نے بالکل اسی طرح انجام دیا جس طرح آپ (ع) کے جد بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انجام دیا تھا.
آپ کے داہنے بازو پر یہ کلمہ "تمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا" لکھا ہوا تھا. ۱۴۸ھ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو شہید کیا گیا. باپ کی شہادت کے بعد آپ منصب امامت پر فائز ہوئے اور امامت کے تمام فرائض کے ذمہ دار ہوئے. اس وقت منصور دوانقی کی حکومت تھی. یہ وہی ظالم و جابر بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں لاتعداد سادات موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے یا دیوار میں چنوا دیئے گئے.
158ھ کے آخر میں منصور دوانقی واصل جہنم ہوتا ہے، اس کے بعد اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھتا ہے. شروع میں اس نے امام علیہ السلام کو کسی قسم کی اذیت نہ دی اور نہ ہی بے احترامی کی لیکن چند سال بعد اس میں بھی اولاد پیغمبر کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور ۱۶۴ھ میں حج کے بہانے حجاز کی جانب روانہ ہوا۔ وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بھی اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور بغداد میں امام علیہ السلام کو قید کر دیا۔ ایک سال امام علیہ السلام اس کی قید میں رہے. بعد میں اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور امام علیہ السلام کو آزاد کر کے مدینہ واپس بھیج دیا۔ مہدی کے بعد اس کا بھائی ہادی 169ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال اس نے حکومت کی۔ اس کے بعد ہارون رشید کا زمانہ آیا. اس کے دور میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو آزادی کی سانس لینا نصیب نہیں ہوا. علامہ طبرسی تحریر فرماتے ہیں کہ جس وقت آپ درجہ امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر مبارک بیس سال تھی.(1)
امام علیہ السلام کی شہادت:
امام علیہ السلام کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعد ہارون الرشید نے والی بصرہ عیسٰی بن جعفر کو لکھا کہ موسٰی بن جعفر (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) کو قتل کر کے مجھ کو ان کے وجود سے سکون دے. اس نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کرنے کے بعد ہارون رشید کو لکھا، میں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میں اس ایک سال کے اندر کوئی برائی نہیں دیکھی.
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام روز و شب نماز اور روزہ میں مصروف و مشغول رہتے ہیں اور عوام و حکومت کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور ملک کی فلاح و بہبود کے خواہشمند ہیں. کس طرح ایسے شخص کو قتل کر دوں، میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اور اپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہا ہوں لہٰذا تو مجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کر بلکہ تو مجھے حکم دے کہ میں ان کو اس قید بامشقت سے آزاد کر دوں.
اس خط کو پانے کے بعد ہارون الرشید نے اس کام کو سندی بن شاہک کے حوالے کیا اور اسی ملعون کے ذریعہ امام علیہ السلام کو زہر دلوا کر شہید کر دیا.
علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں ہارون رشید نے آپ کو بغداد میں قید کر دیا
”فلم یخرج من حبسہ الا میتا مقیدا“
اور تاحیات قید رکھا، آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کے ہاتھوں اور پیروں سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کاٹی گئیں.
آپ کی شہادت ہارون رشید کے زہر سے ہوئی جو اس نے سندی ابن شاہک کے ذریعہ دلوایا تھا.(2)
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت 25 رجب المرجب بروز جمعہ 183ھ میں واقع ہوئی. اس وقت آپ کی عمر 55 سال کی تھی. آپ نے 14 سال ہارون الرشید کے قید خانہ میں گزارے.
1 285
🔷 یہ وقت بھی گزر جائیگا 🔷
ایک شخص کو کسی کا قرض ادا کرنا تھا، قرض خواہ نے قرضدار کو مزدوری کے طور پر بیل کے ساتھ ہل میں جوت دیا۔ ایک تیسرا شخص وہاں سے گزرا تو اسے قرضدار کی حالت پر ترس آگیا، اس نے قرض دار کو قرض ادا کرنے کی آفر کی لیکن قرض دار نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ..
"یہ وقت بھی گزر جائیگا"
خیر پورے دن کی بدن توڑ محنت کے بعد قرضدار قرض سے آزاد ہوگیا۔ کچھ عرصہ بعد اس تیسرے شخص کا دوبارہ اسی علاقے سے گزر ہوا تو اس نے سوچا قرضدار کا حال احوال پتہ کرلوں، جاکر معلوم کیا تو علم ہوا کہ قرضدار بہت امیر کبیر ہوگیا ہے، اس نے جاکر اس سے ملاقات کی اور اس کی موجودہ حالت پر خوشی کا اظہار کیا تو اس قرضدار نے مسکرا کر جواب دیا
"یہ وقت بھی گزر جائے گا."
کچھ عرصہ بعد یہ شخص جب دوبارہ اس علاقے میں گیا تو اسے علم ہوا کہ قرضدار فوت ہو چکا ہے، یہ شخص اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہاں بھی یہی لکھا تھا کہ..
"یہ وقت بھی گزر جائے گا."
یہ شخص کافی سوچتا رہا کہ آخر اس بات کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، کیا قبر میں جانے کے بعد کا وقت بھی گزر جائے گا؟
لیکن جب وہ اس کے بعد دوبارہ وہاں آیا تو اسے اپنی اس بات کا بھی جواب مل گیا، جب اس نے دیکھا کہ اس کی قبر کی جگہ سے سڑک گزر رہی تھی اور وہاں بچے کھیل رہے تھے۔۔۔!!
■ یہ دنیا کسی کی نہیں، یہاں کچھ بھی ہمیشہ نہیں رہتا، باقی رہنے والی چیز صرف اعمال ہیں. کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وقت بھی گزر جائے اور سوائے پچھتاوے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہ آئے پھر ہم کہتے پھریں..
"یالیتنی کنت ترابا" (کاش! میں مٹی ہوتا یعنی کاش مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے)
اور آواز قدرت آئے کہ اب وقت گزر چکا ہے.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌼 حسنِ ظن 🌼
ایک دن مشہور شاعر اور محدث محمد بن شہاب زہری غمگین شکل و صورت لئے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام علیہ السلام نے زہری سے پریشانی کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا..
’’ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ غُمُومٌ وَ هُمُومٌ تَتَوَالَى عَلَيَّ لِمَا امْتُحِنْتُ بِهِ مِنْ جِهَةِ حُسَّادِ نِعَمِي‘‘
ترجمہ:
مجھے ان لوگوں پر غصہ آتا ہے جن سے میں تو نیکی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔‘‘
امام زین العابدینؑ فرمایا:
’’تمہارے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو اپنا ذاتی خاندان تصور کرو، ان میں سے جو تم سے بڑا ہو اسے اپنے باپ کے مقام پر سمجھو اور جو تم سے چھوٹا ہو اسے بیٹے کے مقام پر سمجھو اور جو تمہارا ہم عمر ہو اسے اپنا بھائی تصور کرو پھر تم سوچو کہ آیا اپنے خاندان کے افراد کا کوئی نقصان تمہیں پسند آتا ہے؟ کیا تم اپنے خاندان پر ظلم یا بددعا کرنا گوارا کروگے؟ یا چاہو گے کہ ان کے راز آشکار ہوجائیں؟ اور اگر کبھی ابلیس تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تم ان سے بہتر ہو تو شیطانی وسوسہ کو اپنے سے دور کرو اور اپنے آپ سے کہو..
کہ فلاں شخص مجھ سے عمر میں بڑا ہے یہ ایمان لانے میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اس کے نیک عمل مجھ سے زیادہ ہیں،
اگر وہ تم سے عمر میں چھوٹا ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال کرو کہ اس کی عمر مجھ سے کم ہے اسی لئے اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہیں، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.
اگر وہ شخص تمہارا ہم عمر ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال پیدا کرو کہ مجھے اپنے گناہوں کا یقین ہے اس کے گناہوں کا شک ہے، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.
اگر تم کسی کو اپنا احترام کرتے ہوئے دیکھو تو تم میں تکبر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہیے تم اپنے دل سے کہو کہ اسلام ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کے احترام کا حکم دیتا ہے اسی لئے یہ لوگ میرا احترام کرتے ہیں ورنہ مجھ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے.
اگر کسی شخص کو اپنے آپ سے بے اعتنائی کرتا ہوا پاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ یاد رکھو اگر تم نے میری باتوں پر عمل کیا تو تمہارے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں گے۔ تم ان کی خوبیوں سے مستفید ہو سکو گے اور ان کی برائیوں سے محفوظ رہوگے.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 بحار الانوار، ج71، ص156.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
❄ گھر نمونہ جنت ❄
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پر ھوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ھوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ھوگا...
وہ عورت بہت پریشان ھوگئی اور مایوس ھو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔
ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ھے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ھے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ... کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ھو جاۓ گا. تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ھو جاۓ تو گردن سے بال اکھیڑ لینا.
اس عورت کو بات پسند آئی. دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی. شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا..
اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا. ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ھے...
کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ھو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی... اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ھوں اب آپ عمل شروع کریں...
پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ھو..؟
تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی.
پیر صاحب مسکراۓ اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ جوکہ خونخوار ھوتا ھے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ھو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ھو سکتا ھے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ھو سکتا ھے.
■ میری سب بہنوں سے گزارش ھے کہ اپنے شوہر کی خدمت صرف اور صرف الله پاک کی رضا کے لئے کریں پھر دیکھیں الله پاک آپ کے گھر کو کیسے جنت بناتا ہے.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌷 مجتہد کی ضرورت 🌷
اصول کافی، شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ اور وسائل الشیعہ کے ہوتے ہوئے توضیح المسائل کی کیا ضرورت ہے؟ ان کتابوں کے اردو تراجم بھی دستیاب ہیں، کوئی بھی شخص ان کتابوں سے برائے راست فرمانِ معصومؑ معلوم کر سکتا ہے۔ اس طرح مجتہد کی ضرورت ہی نہیں رہتی.
تو اس کا جواب یہ ہے کہ..
اسلام کی پہلی ترجیح تو یہی ہے کہ ہر شخص اس لائق ہو کہ وہ براہ راست قرآن اور معصومؑ کا فرمان سمجھتا ہو اور اپنے سارے شرعی مسائل براہ راست قرآن اور حدیث سے اخذ کر سکتا ہو۔ لیکن جب آپ تراجم کے موجود ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر درمیان میں مجتہد سے بھی کم درجے کا ایک مترجم واسطہ بن جاتا ہے ہم اس سے دین لے رہے ہوتے ہیں۔ ہم خود براہ راست معصومؑ کا فرمان تو نہیں سمجھ رہےہوتے۔
ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کتابوں کے اندر ایک ہی باب کے ایک ہی مسئلے کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں جن کے درمیان بظاہر ٹکراؤ اور تضاد کی سی کفیت نظر آتی ہے۔ اس مشکل کا حل عام آدمی تو دور کی بات کسی عام عالم کے بس میں بھی نہیں ہے۔ اس کام کے لئے خاص علم اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس یہ دونوں ہوں وہی مجتہد ہوتا ہے۔
ایک اور مشکل، پیش آنے والے جدید مسائل ہیں جن کے اصول اور ضوابط قرآن کریم اور فرامینِ معصومینؑ میں موجود ہیں لیکن ان سے حکم سمجھنے کے لئے اجتھاد کی سطح کا علم درکار ہوتا ہے.
🌹 امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں..
فقہاء (مجتہدین) میں سے ایسا شخص جو
اپنے نفس کی (گناہوں سے) حفاظت کرنے والا ہو،
اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو،
ہوا و ہوس (خواہشاتِ نفسانی) کی مخالفت کرتا ہو،
اور اپنے مولا کی پیروی کرتا ہو،
تو پھر عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تقلید (پیروی) کریں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے ۔
📚 بحارالانوار، ج 2، ص:88.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
