|-|ard Talk جلی کٹی
Open in Telegram
Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL
Show more1 748
Subscribers
No data24 hours
+207 days
+4330 days
Posts Archive
1 748
ان کے دلوں میں پھوٹ ڈال دی یہاں تک کہ ان کا اختلاف پوری زمین میں اپنی آخری حد تک پہنچ گیا، خاص طور پر شامی سرزمین پر۔ اس کے بعد سات اکتوبر کو ان پر علاقے ویران کرنے والی بڑی مصیبت آئی یعنی طوفان الاقصیٰ کا بابرکت آپریشن، جس نے ان میں سے بیشتر معاہدوں اور سمجھوتوں کو اکھاڑ پھینکا جن پر پہلے وہ متفق تھے، اس کے بعد سلامتی کونسل میں دنیا کو کنٹرول کرنے والے ان پانچ دیوتاؤں کے درمیان ان اختلافات، تنازعات اور جنگوں کے تناظر میں ’ردع العدوان‘ کا بابرکت معرکہ شروع ہوا، تب شامی مجاہدین نے سب سے چھوٹے طاغوت بشار الاسد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اگرچہ وہ ہمارے سوریہ کے مسلمان بھائیوں کے خلاف سب سے زیادہ ظالم اور جابر تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہلِ شام اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے صرف بشار الاسد سب سے بڑا مجرم اور سب سے بڑا خطرہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ سوریہ کو بیرونی قابضین میں سے بھی سب سے کمزور قابض یعنی صرف ایران سے ہی آزاد کرایا گیا ہے جبکہ بڑے بڑے بیرونی قابضین ابھی بھی شام کی سرزمین پر اپنا قبضہ باقی رکھے ہوئے ہیں اور شام پر اثر و رسوخ آپس میں بانٹے بیٹھے ہیں۔ اس لیے ایک دیانتدار قیادت اپنے عوام اور سپاہیوں کو تمام معاملات صحیح تناظر میں دکھاتی ہے، حالات اور انجام کی حقیقت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے اور غاصبوں سے بلا خوف و خطر ملکِ شام کو درپیش خطرات اپنے عوام کے سامنے ظاہر کرتی ہے، چاہے وہ غاصب معاصر صہیونی – صلیبی جنگ کے آقا ہوں یا ان کے مقامی ایجنٹ۔
جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو میں جو دیکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ مجاہدین کی قیادت، شام کی سرزمین کی طمع اور لالچ رکھنے والے صہیونی – صلیبی ممالک کا مقابلہ کرنے کے لئے، بہت سے اقدامات کر سکتی ہے۔ اسے سب سے پہلے اپنے عوام، سپاہیوں اور امت کے ساتھ ایماندار ہونا چاہیے، انہیں صاف صاف بتانا چاہیے کہ ہمیں اب بھی سوریہ کی سرزمین پر ایک عظیم قبضے کا سامنا ہے اور یہ کہ انہیں سوریہ کی اسلامی حکومت کا تختہ الٹے جانے کی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے اور یہ کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو مجاہدین کے ہاتھوں حاصل کردہ جــہادی کامیابیوں کو چوری کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور یہ کہ جـــہادی انقلاب ابھی زندہ ہے اور تپ رہا ہے اس کے شعلے اور انگارے اس وقت تک جلتے رہیں گے جب تک کہ سوریہ کا تمام علاقہ صہیونی – صلیبی جنگ کے آخری بیرونی قابض اور اندرونی ایجنٹ سے آزاد نہیں ہو جاتا۔ نئی شامی انتظامیہ کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنے عوام، سپاہیوں اور عرب و اسلامی امت کے سامنے حقائق بیان کرے اور کھل کر اور صاف صاف کہے کہ ابھی تک ہم نے ظلم کا پہلا خول ہی اکھاڑ پھینکا ہے جو درحقیقت سب سے بڑی بیماری کی علامت ہے لیکن شام کے خطے میں سب سے بڑا جھگڑا، اس سرزمین پر صہیونی – صلیبی قبضہ ہے پس یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ایجنٹوں کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ انہیں شامی عوام کے سینے پر بٹھا سکیں، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
مدیر انٹرویو: درست! میں نے سوریہ کی حقیقت کے بارے میں آپ کے مایوس کن نقطہ نظر سے جو سمجھا وہ یہ ہے کہ انقلاب کو ختم کرنے کا فیصلہ ایک انقلابی غلطی اور شامی عوام کے لئے ایک گمراہ کن فیصلہ تھا۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ نئی قیادت اس مشکل حقیقت سے آگاہ ہے لیکن خطے کے ان متکبر اور قابض ممالک کے خطرات کو شامی عوام سے زیادہ سے زیادہ بے اثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس کمزوری کے سائے میں اور ان پیچیدہ رکاوٹوں اور شدید دباؤ کے تحت جن کا ہماری امت کو سامنا ہے، نئی انتظامیہ کو بہترین طریقے سے منظم کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ خطے کو کنٹرول کرنے والی بڑی طاقتوں کو دھوکا دینا ایک دانشمندانہ اور سیاسی طور پر معقول فیصلہ ہے؟
استاذ عبدالعزیز الحلاق: میں بالکل بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوں میرے پیارے بھائی! بلکہ میں تو، خدا کی قسم، ایک محتاط شخص کی طرح پُر امید ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں اور نئی قیادت میں میرے بھائی، اپنے آپ کے ساتھ، اپنے عوام کے ساتھ اور اپنے وفادار مجـــاہد سپاہیوں کے ساتھ مخلص اور سچے رہیں۔ سو آپ انقلاب کے خاتمے کا اعلان کیوں کرتے ہیں جبکہ اس کے تقاضوں کی تکمیل نہیں ہوئی اور آپ جـــہاد کے خاتمے کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں جبکہ اس کی ذمہ داریاں اور تقاضے موجود ہیں۔ یہ شرعی، فقہی، انقلابی اور سیاسی میزان میں ایک بہت بڑی غلطی اور خطا ہے۔ میرے پیارے بھائی! اس طرح وہ بابرکت انقلاب کے جلتے ہوئے شعلے پر ٹھنڈا پانی ڈال رہے ہیں اور جہادی غصے کی آگ کو اپنے ہاتھوں سے بجھا رہے ہیں، حالانکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے جو رعایتیں دی ہیں (اور اپنے مقاصد سے تنازل اختیار کیا ہے) ان سے مغرب خوش ہو رہا ہے اور ان کی تعریف کر رہا ہے!
1 748
ہمارے خیالات کو موڑنا چاہتے ہیں اور ہمیں وہم اور خوابوں میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ حقائق اور اصل حالات ہمارے سامنے ظاہر نہ ہوں۔
میرے پیارے بھائی! دمشق پر مجـــاہدین کی حکمرانی اور سوریہ کے تقریباً نصف علاقے پر ان کے اختیار کے باوجود ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ در حقیقت وہ اب بھی قابضین کے تسلط کے تابع ہیں اور یہ کہ شام میں مجـــاہدین پر اور شامی عوام پر ایک سیاسی، ثقافتی اور معاشی قبضہ اب بھی مسلط ہے اور اس کے لاتعداد شواہد موجود ہیں۔ سچ کہوں تو اموی فتوحات جن کا آپ نے ذکر کیا اور فتحِ دمشق سے تشبیہ دی، وہ اسلامی بالا دستی اور تفوفق کے دور میں تھیں۔ وہ فتوحات نہ تو عالمی کفر کے سرغنوں کی اجازت، رضامندی اور ان کی طرف سے موقع فراہم کرنے سے ہوئیں تھیں اور نہ ہی مجــاہدین کے قابل تعریف شرعی ارادے اور کفار کے نفرت انگیز، ملعون ارادے کے ملاپ سے۔
آپ مجھے اپنے رب کی قسم کھا کر بتائیں کہ کیا تاریخ میں کسی اموی خلیفہ یا وزیر کے بارے میں ایسا کوئی واقعہ لکھا ہے کہ اس نے روم کے بادشاہ ہرقل کو طاقت اور خوشحالی کی خواہش کے ساتھ مبارک باد اور برکتوں کا پیغام بھیجا ہو؟
مزید برآں بنو امیہ کی طرف لوٹنے اور انہیں اسلامی تاریخ میں اعلیٰ ترین مثال اور بہترین نمونہ قرار دینے کا نعرہ جمہور مسلم علماء کے نزدیک محلِ نظر ہے۔ ہمیں تو خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کی طرف لوٹنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اموی خلفاء کی سنت کی طرف، جیسا کہ ہم سے منہاج النبوۃ کی طرف لوٹائے جانے کا وعدہ اور مطالبہ کیا گیا ہے نہ کہ منہاج بنی امیہ کی طرف۔
مدیر انٹرویو: درست، لیکن ابو اسامہ، آپ کے جن الفاظ نے مجھے حیران کیا ہے وہ یہ ہیں کہ آپ کو اس فتح یا اس کے طریقے اور انداز کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں، آپ کے الفاظ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ شام کی نئی انتظامیہ کا جو رویہ ہے اس سے آپ کچھ غیر مطمئن ہیں یا پھر بات اس کے برعکس ہے؟ آپ کو نئی شامی انتظامیہ کے بارے میں کیا تحفظات ہیں اور آپ اس پر کیا نقد کرتے ہیں؟ وہ ان بڑے ممالک کے سامنے کیا کر سکتے ہیں جو شام میں اپنے مفادات کے حصول کے خواہاں ہیں؟
استاذ عبدالعزیز الحلاق: دیکھیئے میرے پیارے بھائی! جب ہم سوریہ کے موجودہ منظر نامے، اس کی حقیقت اور سنہ 2024ء کے آخر میں پیش آنے والے واقعات کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں، تو سوریہ میں جو کچھ ہوا وہ اس کے چند اہم تاریخی شہروں کی آزادی کے سوا کچھ نہیں ہے، جن میں سب سے اہم دارالحکومت دمشق ہے، جس پر مجــاہدینِ اسلام کے دھڑوں کا اسلامی اقتدار ہے۔ اس قدر آزادی کو فیصلہ کن فتح اور حقیقی ظفر مندی قرار دینا، میری ذاتی رائے میں، ایک پُر امید استعاراتی نام کے طور پر تو جائز ہو سکتا ہے جسے ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ امتِ مسلمہ اور اہلِ شام کے لیے مکمل کرے گا۔ تاہم جس حقیقت کو درست الفاظ میں مرتب کیا جانا چاہیے اور اس کی شرعی موافقت کو علمی، فقہی، شرعی اور منطقی انداز میں بیان کیا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ شام (سوریہ) ابھی تک فتح نہیں ہوا ہے اور جو کچھ بھی ہوا ہے وہ صرف اس کے چند اہم شہروں کی آزادی زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اور یہ مجـــاہدین اور انقلابیوں پر عائد تمام فرائض میں سے کچھ فرائض کی ادائیگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اہلِ علم و دانش کو عالمی کفر کے ائمہ کی طرف سے مسلط کردہ داخلی ایجنٹ (بشار الاسد) سے دمشق کو آزاد کرانے کی خوشی میں اندھا نہیں ہونا چاہیے، انہیں وقت سے پہلے کسی چیز پر جلدی نہیں کرنی چاہیے اور انہیں چاہئے کہ وہ انقلاب کے خاتمے، شامی جــہاد کے دور کے اختتام اور ریاست کی تعمیر کے دور کے آغاز کا اعلان کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ کیونکہ یہ جــہاد اور انقلاب کے جلتے ہوئے انگاروں پر ٹھنڈا پانی ڈالنے کے مترادف ہے اور ایک منصف مزاج سمجھدار شخص کو احساس ہے کہ سوریہ کی فقہی اور حقیقت پسندانہ سچائی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس پر اب بھی قبضہ ہے اور یہ کہ حملہ آور دشمن کو ابھی تک اس سے بے دخل نہیں کیا گیا ہے اور صہیونی – صلیبی قبضہ اب بھی شام کے بیشتر علاقوں پر مسلط ہے۔
مزید برآں، باشعور اور دیانت دار قیادت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے انقلابی عوام اور اپنے مجـــاہدین سپاہیوں کے سامنے صحیح تصویر پیش کرے جو حقیقت سے مطابقت رکھتی ہو اور ان سب کو بتاتی ہو کہ شام کی سرزمین پر آپس میں گتھم گتھا بیرونی قابضین کا ایک پیچیدہ قبضہ تھا جنہوں نے پہلے شام کی سرزمین کی دولت و وسائل بانٹنے کے لئے ایک اندرونی ایجنٹ بشار الاسد کو قبول کرنے پر اتفاق کیا تھا اور جب انقلابیوں نے سنہ 2011ء میں بغاوت کی تو ان قابضین نے اپنی صہیونی – صلیبی امریکی–روسی جنگ کا آغاز کر دیا اور ان میں سے ہر ایک اپنے اتحادیوں کو جنگ میں لے آیا تاکہ وہ آپس میں شامی اثر و رسوخ اور اس کے وسائل کی تقسیم کا انتظام کر سکیں۔ پھر جب یوکرین میں ان بڑے ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ان میں اختلافات پیدا ہو گئے تو اللہ نے
1 748
میں شامی عوام کی ملکیت تھا اور مجـــاہدین کے افعال کی نگرانی کے لیے اور ان کے اقدامات پر قابو پانے کے لیے اپنی سرپرستی میں جائیداد کے مالک کا کردار ادا کیا اور مطلوبہ رعایتوں کی سطح کا اندازہ لگایا۔ کاش وہ اس حد پر ہی رک جاتے، لیکن وہ مجـــاہدین کی تذلیل کرتے رہے، ان کی عزت، غیرت اور نخوت کی توہین کرتے رہے اور انہیں اپنے اصولوں اور منہج کو ترک کرنے پر مجبور کرتے رہے، چنانچہ انہوں نے ان کے پاس ایک جرمن ہم جنس پرست طوائف بھیجی، جو مجاہدین کے قائد کو اس کے عقیدے اور اصولوں سے دستبردار کرنے کے لیے ورغلانے لگی۔ پس جب وہ مجـــاہدین کی عملداری میں آئی تو انہیں ان کے اصولوں کو ترک کرنے پر مائل کرنے لگی اور ان پر معاشی دروازے بند کر دیے اور دھمکی دی کہ جب تک وہ اس کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے اور اس کے مطالبات کی تعمیل نہیں کرتے، وہ انہیں خیرات نہیں دے گی۔ تو کون سی فیصلہ کن فتحِ عظیم سے ہم خود کو دھوکا دے رہے ہیں؟
میں بالکل واضح طور پر کہتا ہوں کہ سوریہ کے مجاہدین جو دمشق میں حکمرانی کے منظر نامے کی قیادت کر رہے ہیں اور وہ طے شدہ صہیونی – صلیبی مفاہمتی تسلط کے تابع ہیں، جس نے انہیں یہ فتح حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اور دمشق کی حکمران قیادت کا خود کو امارت اسلامیہ افغانستان پر قیاس کرنا، نہ صرف غلط ہے بلکہ محض دھوکا دہی ہے۔ پس افغانستان میں جو کچھ حاصل کیا گیا وہ ایک انقلابی جـــہادی فتح تھی جس کے نتیجے میں ایک آزاد طاقت پیدا ہوئی ہے جسے ہتھکڑیاں نہیں لگائی گئیں تھیں، کیونکہ اس نے اس عالمی نظام پر، افغان دلدل میں طویل تھکن کے بعد، پوری طاقت کے ساتھ اپنی مرضی مسلط کر دی تھی۔ میرے پیارے بھائی! میں اس بات کو رد نہیں کروں گا کہ صہیونی – صلیبی مغرب شام کے مجـــاہدین کو دہشت گردی سے لڑنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے امتحان میں آزمانے کے لئے انہیں وقت دے گا اور اسی لیے انہوں نے ان کے پاس طاقت کا یہ حاشیہ چھوڑ دیا کہ وہ دیکھ سکیں کہ وہ کیا کرتے ہیں، اور انہوں نے یہ بات مجاہدین سے صاف صاف کہی: ’’ہم آپ کی اچھی اور عمدہ باتیں سنتے ہیں، لیکن ہم آپ کے افعال کو دیکھیں گے۔‘‘ اور یہاں مجـــاہدین کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہی بات ان کے رب کی طرف سے بھی ان سے کہی گئی ہے:
قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۧ
’’موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین تو اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام تو پرہیزگاروں ہی کا بھلا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا:آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں اذیتیں پہنچتی رہیں اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا: قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔‘‘
مجــــاہدین کی جماعت مغرب کی آزمائشوں اور امتحانات میں یقیناً ناکام ہو جائے گی اگر وہ اپنے دین کی بنیادوں اور اسلام کے اصولوں پر قائم رہیں گے اور پھر مغرب مجـــاہدین کے لیے وہ لال بتی جلا دے گا جو پہلے اس نے مجـــاہدین کے دشمنوں کو دکھا رکھی تھی اور ان کے دشمنوں کو ایک بار پھر گرین سگنل دے گا تاکہ وہ اسی فرقہ وارانہ جنگ کے محور پر واپس آ جائیں جس میں وہ ایک دہائی پہلے ان کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اس طرح صہیونی – صلیبی اتحاد ہماری امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت کے بھنور میں داخل کرنا چاہے گا تاکہ ان کے لیے ہماری سرزمین پر اپنے تفرقہ انگیز استعماری منصوبوں کو انجام دینا اور ہماری صلاحیتوں کو تباہ کرنا آسان ہو جائے، اور اللہ ہی ہمارا مددگار ہے۔
مدیر انٹرویو: تو شاید آپ سمجھتے ہیں کہ یہ فتح، غزہ میں موجود ’مزاحمت کے محور‘ پر حملہ کرنے کے لیے ایک ڈرامے کی طرح ہے اور یہ شامی نوجوان فاتح مجـــاہدین خطے میں صہیونی – صلیبی منصوبے کو مضبوط کرنے کے لئے بین الاقوامی کرائے کے میدان میں کام کر رہے ہیں؟
استاذ عبدالعزیز الحلاق: نہیں میرے پیارے بھائی! معاذ اللہ، خدا نہ کرے کہ میں اپنے مجـــاہدین مرابطین بھائیوں کی حیثیت و شان کو کم کروں یا ان کے دین اور نیتوں پر شک کروں کیونکہ میں بھی انہی میں سے ایک ہوں۔ میں نے معرکۂ ’ردع العدوان‘ کے مجـــاہدین میں جو کچھ دیکھا ہے وہ صرف اور صرف صدق و وفا ہے اور دین پر فدا ہونا ہے، لیکن میں نے آپ کے سامنے فتح کی تصویر اس کی حقیقت کے مطابق بیان کی ہے، نوعمر لڑکوں کی مبالغہ آرائی اور جذباتی بھائیوں کی بسیار گوئی کے بغیر اور چالاک، دھوکے باز لوگوں کی من گھڑت باتوں سے ہٹ کر، جو ہماری بیداری اور شعور کو مٹانا چاہتے ہیں،
1 748
استاذ عبدالعزیز الحلاق: میرے پیارے بھائی اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص اس مجرم نصیری حکومت کے خاتمے پر خوش نہیں ہے اس کے دل میں ایمان کا ذرّہ بھی نہیں ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ‘ردع العدوان‘ کے بابرکت معرکہ کے دوران، ظالموں کی جیلوں سے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی آزادی اور ظالم نصیری طاغوت کی حکمرانی سے ملک کی آزادی اور سوریہ (شام) کی سرزمین پر اللہ کے کلمے کی سربلندی اور شرک و کفر کی شکست اور لوگوں کا آزادی و انصاف کی فضا میں سکھ کا سانس لینا اور دعوتِ الی اللہ اور نورِ ہدایت کے دروازے کھلنا، ان سب نعمتوں پر ہم اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کرتے ہیں اور تمام مسلمان اس پر دل کی گہرائیوں سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ سب جــہاد فی سبیل اللہ کے بڑے مطالب و مقاصد میں سے ایک ہے جو صرف اللہ کے فضل سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ تمام نعمتیں اور برکتیں امتِ مسلمہ کے لئے جـــہاد کے عظیم فوائد سے شمار ہوتی ہیں۔ پس اس منزل تک پہنچنے میں دنیا کے مختلف ممالک سے امتِ مسلمہ کے بہت سے فرزندوں نے حصہ لیا، چنانچہ مالداروں نے اپنے مال سے، علماء و داعیانِ دین نے اپنی دعوت سے، مجـــاہدین نے اپنی جانوں اور خون سے اور مظلوم امت کے عام افراد نے اللہ تعالیٰ سے اپنی دعاؤں اور آہ و زاری کے ساتھ اس مقام تک پہنچنے میں حصہ ڈالا۔ یہاں ہمیں غزہ کے مجـــاہدین بھائیوں اور ہمارے سروں کے تاج، ‘کتائب القـسام‘ کے ابطال کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ، اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق کے بعد، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ’طوفان الاقصیٰ‘ کا بابرکت معرکہ برپا کر کے وہ مؤثر ترین عامل پیدا کیا جس کے نتیجے میں سوریہ کے ادارۂ عسکری عملیات کے رہنماؤں کی قیادت میں ’ردع العدوان‘ کا طوفان آیا، اللہ انہیں کامیابی عطا فرمائے۔ پس اللہ تعالیٰ اس عظیم فتح کی تیاری میں حصہ لینے والے ہر شخص کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اپنے وفادار بندوں کے لیے ان عظیم فتوحات کے ثمرات محفوظ رکھنا آسان بنائے اور ملک و قوم کو ظالموں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے جہادِ فی سبیل اللہ اور شامی انقلاب کے منصوبے کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جہاں تک 8 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے (یعنی دمشق کی فتح) کے بارے میں میری ذاتی رائے کا تعلق ہے تو میرے پیارے بھائی، مجھے فتحِ دمشق کے متعلق لوگوں کی مبالغہ آمیز باتوں سے کچھ اختلاف کے اظہار کی اجازت دیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ مبالغہ آرائیاں اہلِ سوریہ کے شعور اور بیداری کو کم کر دیں گی اور فتحِ دمشق کو اس کے واقعی اور حقیقت پسندانہ حجم سے بہت زیادہ بڑھانے کا ذریعہ بنیں گی۔ اس میں کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں ہے کہ نصیری طاغوت کے تسلط سے دمشق کی آزادی اہلِ اسلام کے لئے ایک عظیم فتح اور ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ لیکن یقینی طور پر یہ اس شکل و صورت کی فتحِ عزیز نہیں ہے جس کی قائدینِ اسلام ہر وقت اور ہر جگہ امید رکھتے ہیں۔ پس یہ کہنا درست ہو گا کہ سوریہ (شام) کی سرزمین آج بھی عالمی تسلط اور بین الاقوامی غلامی کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے، وہ اب بھی بین الاقوامی برادری کے بدمعاشوں اور عالمی نظام کے وحشیوں کے رحم و کرم پر ہے اور سابق نصیری حکومت کے عالمی آقاؤں کے زیرِ قبضہ ہے۔ پس یہی عالمی قابضین وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہم پر نصیری طاغوت مسلط کیا تھا اور نصف صدی تک اسے نصب کیے رکھا اور اس کی حفاظت کرتے رہے۔
سچ تو یہ ہے میرے پیارے بھائی کہ یہ فتح ایک جزوی فتح ہے اور یہ ایک ایسی مکمل اور جامع فتح نہیں ہے جس سے بڑھ کر کوئی فتح نہیں ہو سکتی جیسا کہ لوگ سمجھ بیٹھے ہیں۔ منظر نامے کا ہر مبصر گواہی دیتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ فتح جـــہادی قوت کی طرف سے منظر عام پر نہیں آئی اور نہ ہی تمام شامی قابضین اور خطے کے کھلاڑیوں پر جـہادی منصوبہ نافذ کرنے سے آئی ہے بلکہ یہ فتح تو (محض اتفاق سے) صلیبی – صہیونی استعماری منصوبے اور شرعی جـــہادی منصوبے کے ہم آہنگ ہو جانے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ پس انہوں نے اپنے رحم و کرم پر اور اپنی بالادستی کے تحت مجاہدین کے لیے ان کا مقصد حاصل کرنا آسان بنا دیا اور انہیں وہ موٹی چھڑی بننے کا موقع فراہم کیا جس کے ساتھ وہ خطے کے اُن کھلاڑیوں کو نظم و ضبط سکھاتے اور سزا دیتے ہیں جو ان کی سرخ لکیروں کا خیال نہیں رکھتے۔ عالمی کفر نے تو بس مجاہدین کے لیے محل و کرسی پر قبضہ کرنے اور ان زمینوں کو قابو کرنے کی راہ ہموار کی جو انہوں نے پہلے اپنے ایجنٹوں کو دی ہوئی تھیں جب وہ طے شدہ شرائط پر کاربند تھے۔ پس جب مجـــاہدین محل اور تخت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو مغرب نے اپنے گندے اور بوسیدہ طریقوں سے مجـــاہدین کو قابو کرنا شروع کر دیا اور دھمکیوں اور لالچ کے ذریعے ان کے عقیدے کو کچل ڈالا۔ پھر انہوں نے ان کے زیادہ تر عسکری و سٹریٹیجک سازوسامان اور مال غنیمت کو تباہ کر کے انہیں حیران کر دیا جو اصل
1 748
شام میں جــہاد کا مستقبل
| حصہ اوّل – پہلی قسط
ابو اسامہ عبد العزیز الحلاق
بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الحمد لله رب العالمين، ولا عدوان إلا على الظالمين، والصلاة والسلام على رسولنا الأمين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد.
ادارہ النّازعات: آج سے ڈیڑھ ماہ قبل، ہمارے معزز مجاہدین بھائیوں نے ملکِ شام کے علاقوں کو نصیری حکومت کے قبضے سے آزاد کروایا اور حلب، حماہ اور حمص سے لے کر دمشق، طرطوس، لاذقیہ اور ساحلِ سمندر تک کے اسلامی مراکز کو بشار الاسد کے ظالمانہ نظام سے آزادی دلائی۔
اس مہینے میں شام میں تیزی سے رونما ہونے والے واقعات اور پیچیدہ تغیرات دیکھنے کو ملے، جنہیں دیکھ کر اکثر مجــاہــدین اور شام کے محاذ پر برسرِ پیکار آزادی کے متوالے حیرت زدہ رہ گئے اور اس مرحلے کو سمجھنے میں الجھن اور تذبذب کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں جہــادی و اسلامی فکر و عمل کے میدان میں الجھے ہوئے سوالات کی ایک لہر اٹھی اور انقلابی بحثیں شروع ہو گئیں۔ اور پھر یہ ضروری ہو گیا کہ جو لوگ علم، ایمان، جــہاد اور دعوت الی اللہ جیسی صفات کے حامل ہیں وہ مومنین کے دلوں میں یقین کو پختہ کرنے اور ابطالِ اسلام کے دلوں سے مایوسی اور بے چینی کی شدت کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ تاکہ وہ شام کی پوری سرزمین پر دینِ اسلام کی حمایت اور معزز اہلِ شام کی عزت اور ان کے تحفظ کے لیے معطل کیے گئے اقدامات کو دوبارہ منظم کر سکیں اور یہاں شام سے ہماری مراد شام کی عظیم تر سرزمین ہے: یعنی دمشق سے مسجدِ اقصی اور پورے فلسطین تک۔
ان واقعات کے متعلق گفتگو کرنے کے لیے ہم اپنے ایک معزز بھائی استاذ عبدالعزیز الحلاق حفظہ اللہ کی میزبانی کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ استاذ عبدالعزیز الحلاق حفظہ اللہ جہادی، دعوتی اور سیاستِ شرعیہ کے معاملات میں مہارت رکھتے ہیں، انہوں نے اس مکالمے کے انعقاد کے لیے ہماری دعوت کو قبول کیا جس میں ہم بالعموم شام میں اور بالخصوص سوریہ میں جــہاد اور دعوت کے مستقبل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس دوران ہم ان اہم ترین موضوعات پر بھی روشنی ڈالیں گے جن میں آج کل مرابطین مجـــاہدین کے درمیان اور مجالس میں عام لوگوں کے درمیان گرما گرم بحث جاری ہے۔ یہ مکالمہ عموماً دعوت الی اللہ اور جــہاد فی سبیل اللہ کے معاملات میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لئے مفید ہو گا اور خاص طور پر مجـــاہدین اور داعیانِ اسلام کے لئے نافع اور متاثر کن ہو گا اور اللہ تعالیٰ ہی سے ہم مدد و توفیق حاصل کرتے ہیں۔
ہم اپنی بات کا آغاز کلمۂ خیر سے کرتے ہیں: محترم ابو اسامہ عبدالعزیز الحلاق صاحب: السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ، ہم آپ کو اس ملاقات میں خوش آمدید کہتے ہیں، جس میں ہم شام کے دعوتی و جــہادی میدان سے متعلق اہم ترین علمی، فکری اور منہجی سوالات کا جائزہ لیں گے اور سب سے پہلے ہم آپ کو اس فیصلہ کن فتح پر مبارکباد دے کر آپ کے ساتھ مکالمے کا آغاز کرتے ہیں۔ پس اے ابو اسامہ ہم آپ کو اس عظیم فتح پر مبارک باد پیش کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور ہماری امتِ مسلمہ کو جہاد کی برکت سے عطا فرمائی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں مسجد اقصیٰ اور پورے فلسطین کی فتح سے نوازے اور اسے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلا کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے، آمین۔
استاذ عبدالعزیز الحلاق: وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ، میرے پیارے بھائی! اللہ آپ کو برکت دے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کو اس نیک دعوت، مہمان نوازی اور حسنِ ظن کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور میں تو صرف اتنا دیکھتا ہوں کہ آپ نے میرے بارے میں بہت زیادہ حسنِ ظن سے کام لیا ہے، پس مجھے آپ کے بارے میں متنبی کا یہ شعر کہنے کا حق ہے:
میں صدقِ دل سے یہ سب تعریفیں آپ کی طرف لوٹاتا ہوں
تعریف کے حق دار وہی لوگ ہیں جن میں حقیقتاً ایسی صفات پائی جاتی ہیں
میں آپ کو اس خیرِ عظیم پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جو اللہ نے ظالم بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ شام کے مسلمانوں اور ہماری پوری امتِ مسلمہ کو عطا فرمائی ہے، پس تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس کے فضل و کرم سے اچھے کام انجام پاتے ہیں اور ہم اللہ کریم، عظیم عرش کے رب سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے مجـــاہدین بھائیوں کے ہاتھوں قابض طواغیت سے پورے خطۂ شام کو آزادی عطا فرمائے اور سوریہ کی تمام سرزمینوں پر مکمل اور جامع فتح کے ساتھ ہماری خوشی کو پورا فرمائے۔
مدیر انٹرویو: استاذِ محترم، براہِ کرم ہمیں سوریہ (شام) کی آزادی اور فتح کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کیجیے، جس نے ہمارے سامنے فاتح اموی قائدین کی عظمت کی یادیں تازہ کر دیں، آپ اس فتحِ عظیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ ہمارے ماضی کی شان کو کس حد تک شاندار حال سے جوڑتی ہے؟
1 748
زندہ لوگوں کی تعریف
شہید عالمِ ربانی شیخ حارث بن النظاری رحمۃ اللہ علیہ کے بیان سے اقتباس
اسلام کی تاریخ میں کئی عظیم ہستیاں گزری ہیں،جنہوں نے بے شمار کارنامے انجام دیے ہیں،جیسے خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتدین کے خلاف جنگوں میں اور دین کی حفاظت کی خاطر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے مشہور ہیں،لیکن ہم نے نہیں سنا کبھی کہ حضرات صحابہ کرام بالخصوص شعرائےصحابہ میں سے بھی کسی ایک نے ان کارناموں پر ان کی زندگی میں تعریف کی ہو کہ یہ ہمارا عظیم لیڈر ہے اور یہ ہمارا قائد ہے جس نے یہ یہ کارنامے انجام دیے ہیں۔اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مثال لے لیں،آپ رضی اللہ عنہ نے فارس فتح کیا،لیکن ہمارے علم کے مطابق حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کبھی یہ طریقہ نہیں رہا کہ انہوں نےان کی ذات پر فخر کیا ہو کہ ان کو جنت کی بشارت دی گئی ہےیہ ہمارے امام اور قائد ہیں،تم ان کے مقابلے میں اپنا لیڈر دکھاؤ۔ایسا کبھی نہیں ہوا،صرف کتاب و سنت سے ہی نسبت کی جاتی تھی
#فإن_الحي_لا_تؤمن_عليه_الفتنة.
#کیونکہ_زندہ_شخص_فتنے_سے_محفوظ_نہیں_ہوتا_ہے
1 748
Repost from اذانِ سحر
سارے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور مؤثر عوامی تحریکوں کے ذریعے اپنے ممالک کے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ و اسرائیل کی حمایت سے باز آ جائیں۔
#نحن_مع_غزة
1 748
Repost from N/a
مئی ۲۰۲۵ انفوگرافیک
کُل حملے: 73
ــــــــــــــــــــ
جائے عملیات:
ولایت خیبر ایجنسی: 32
ولایت شمالی وزیرستان: 28
ولایت بنوں: 8
ولایت جنوبی وزیرستان: 3
ولایت باجوڑ: 1
ولایت اورکزئی: 1
ــــــــــــــــــــ
نوعیت عملیات:
اسنائپر/لیزر حملے: 33
تعارضی حملے: 13
گھات حملے: 12
گوریلہ حملے: 6
گرنیڈ/بم دھماکے: 8
ٹارگٹ حملے: 1
ــــــــــــــــــــ
دشمن کا جانی نقصان:
ہلاکتیں: 89
زخمی: 27
کل ہلاک و زخمی: 116
تخریب:
17 عدد فوجی گاڑیاں
5 عدد سی سی ٹی وی کیمرے
3 عدد ڈرون کیمرے
1عدد ٹینک
1عدد بکتر بند گاڑی
1عدد بڑا جنریٹر
2 عدد چوکی پوسٹ
1 پانی ٹینکی
نقصان اٹھانے والے ادارے :
فوجی 113
ایف سی 2
سی ٹی ڈی 1
ــــــــــــــــــــ
دشمن سے حاصل شدہ غنیمت
1 جی تھری گن
#اتحاد_المجاہدین_پاکستان
#صدائے_حق_میڈیا
https://x.com/Tarjuman_IMP
https://t.me/IMP_media
1 748
ويډيو ترانه
پاکستان ازادوي دا لښکر د ټي ټي پي
له حق دين دفاع کوي او باطل راپرزوی
ښکته کولو لپاره منځنی کیفیت: (16 ایم بی)
https://archive.org/download/00415-tarana-pakistan-azadawi-lakhkar-da-ttp/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_LQ.mp4
https://www.mediafire.com/file/ym9vuosn8gyyidl/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_LQ.mp4/file
1 748
ويډيو ترانه
پاکستان ازادوي دا لښکر د ټي ټي پي
له حق دين دفاع کوي او باطل راپرزوی
لۀ دې لنک څخه یې وګورئ:
https://ok.ru/video/9112908532259
https://jmp.sh/UhP2CGkc
ارکایو لنک:
https://archive.org/details/00415-tarana-pakistan-azadawi-lakhkar-da-ttp
ښکته کولو لپاره فل ایچ ډي لنک: (95 ایم بی)
https://archive.org/download/00415-tarana-pakistan-azadawi-lakhkar-da-ttp/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_Original_File.mp4
https://www.mediafire.com/file/6nj85b6rk7azpkx/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_Original_File.mp4/file
ښکته کولو لپاره ایچ ډي لنک: (80 ایم بی)
https://archive.org/download/00415-tarana-pakistan-azadawi-lakhkar-da-ttp/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_HD.mp4
https://www.mediafire.com/file/myr0yp4ftshkpq5/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_HD.mp4/file
ښکته کولو لپاره منځنی کیفیت: (16 ایم بی)
https://archive.org/download/00415-tarana-pakistan-azadawi-lakhkar-da-ttp/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_LQ.mp4
https://www.mediafire.com/file/ym9vuosn8gyyidl/00415-Tarana_Pakistan_Azadawi_Lakhkar_Da_TTP_LQ.mp4/file
1 748
Repost from Politics Plus
آپ بھی اس پول میں حصہ لیں اگر آپکا ایکس اکاونٹ ہے
https://x.com/Polplusorg/status/1928745289713697005?t=5J9mIcVM7NgT8UpgJuG4Qw&s=19
1 748
Repost from Politics Plus
کتنے سادہ ہیں مرے دیس کے مظلوم جنہیں
ایسے حاکم سے ہے انصاف کی خواہش جس کا
تخت بھی مانگا ہوا، تاج بھی خیرات کا ہے
راشد مراد
1 748
Repost from N/a
2001ء میں عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کا سربراہ جنرل پرویز امریکہ کی ایک فون کال پر ہی جھک جاتا ہے، اپنی زمینیں اور فضائیں امریکیوں کے لیے وقف کردیتا ہے، اور اپنے ہمسایہ افغان مسلمانوں کے اوپر برسنے والے آتش و آہن کو برسانے میں صفِ اول کا شریک بن جاتا ہے۔ ایٹم بم حکومتِ پاکستان کی کسی ایمانی و ملی غیرت کے جوش میں آنے کا باعث نہیں بن پایا۔
غازی رشید احمد
ترجمان انقلابِ اسلامی پاکستان
#انقلاب_اسلامی
#انقلاب_اسلامی_پاکستان
1 748
#آپریشن_الخندق
تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے 29 مئی 2025 کو کی گئی کارروائیوں کی تفصیل
1 748
Repost from N/a
+2
"صرف ایٹمی طاقت کی نہیں، ایمانی طاقت کی بھی ضرورت ہے!"
یومِ تکبیر کے موقع پر ترجمان انقلابِ اسلامی پاکستان غازی رشید احمد کا بیان
#انقلاب_اسلامی
#انقلاب_اسلامی_پاکستان
1 748
Repost from اذانِ سحر
سال کے بعد یومِ تکبیر منانے سے کفر نہیں گرتا۔ ہم بھی مانتے ہیں اس کو یومِ تکبیر، لیکن اس یومِ تکبیر کا ملت کو کیا فائدہ ہوا؟ کشمیر تو پھر وہیں کھڑا ہے۔ (مطلوب تو یہ تھا کہ) نعرۂ تکبیر لگاؤ اور کشمیر آزاد کروا دو۔ ہتھیار رکھنے کے لیے تو نہیں نہ ہوتے۔ ہر بار چھری کیک پر۔ پوچھو کیا ہوا ہے؟ ہم نے ایٹم بم بنایا ہے جی۔ پوچھو کشمیر مل گیا؟ کہتے ہیں نہیں ملا۔ پوچھو بیت المقدس فتح ہوا ہے؟ کہتے ہیں نہیں ہوا۔ رمضان میں بھی جنگیں ہوئیں، شوال کے مہینے میں بھی ہوئیں، ربیع الاول شریف میں بھی جنگیں ہوئیں... لیکن ان جنگوں کا بیان کون کرے؟
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اُسے کہ مسلماں کی موت مر!
علامہ خادم حسین رضوی (رحمۃ اللہ علیہ)
