📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Open in Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: زکوة وصول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2936
🌸رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: ایمانداری سے زکاۃ کی وصولی وغیرہ کا کام کرنے والا شخص جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ لوٹ کر اپنے گھر آئے ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الزکاة ١٨ (٦٤٥)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٤ (١٨٠٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٥، ٤/١٤٣) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: وزیر مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2932
🌹ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ جب کسی حاکم کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرماتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے، اور اگر اسے یاد رہتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ کسی حاکم کی بھلائی نہیں چاہتا ہے تو اس کو برا وزیر دے دیتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ یاد نہیں دلاتا، اور اگر یاد رکھتا ہے تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔
📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٤٧٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/البیعة ٣٣ (٤٢٠٩)، مسند احمد (٦/٧٠) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: یہ حدیث ایک اصل عظیم ہے، اکثر بادشاہوں کی حکومتیں اسی وجہ سے تباہ ہوئی ہیں کہ ان کے وزیر اور مشیر نالائق اور نکمے تھے۔
2 924
"يا عِبادِي كُلُّكُمْ ضالٌّ إلّا مَن هَدَيْتُهُ، فاسْتَهْدُونِي أهْدِكُمْ"
”اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو مگر جسے میں راہ دکھلا دوں، پس مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا!“
(صحيح مسلم : ٢٥٧٧)
#بیانات #شارٹ_کلپس
2 924
*🏮 ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرنا•••*
🍁 عرباض بن ساریہ رضی اللّٰه عنه سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول الله ﷺ ہم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ایک متاثر کن وعظ فرمایا، جس سے دل( الله کی ناراضی اور عذاب سے) خوف زدہ ہوگئے اور آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ عرض کیا گیا: اے الله کے رسول! آپ نے ہمیں ایسے نصیحت فرمائی ہے ،آپ ہم سے کوئی عہدو پیمان لے لیجئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
*« الله کا تقویٰ اختیار کرو اور حکم سن کر تعمیل کرو اگرچہ( تمہارا حاکم) کوئی حبشی غلام ہو۔ اور تم میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو اختیار کرنا، اسے ڈاڑھوں سے سے پکڑ کر رکھنا، (اس پر مضبوطی سے قائم رہنا) اور نئے نئے کاموں سے پرہیز کرنا، کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے ».*
📙- |[ سنن ابن ماجه : ٤٢ ]|
#منتخب_احادیث #فتنے
2 924
🍁 *گھروں کو قبرستان نہ بناؤ!*
🔹 *حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے گھروں میں بھی نماز (نفل) پڑھا کرو ۔ انھیں قبرستان نہ بنا لو ۔‘‘* 🔹
📗«سنــن نسائی-1599»
#نماز
2 924
ہم پر ظلم ہو تو ہم کیا کریں؟
صبر کریں۔
(صحيح مسلم : ٢٨٣٦)
آخر کب تک؟
جب تک موت نہیں آ جاتی۔
(صحيح البخاري : ٣٧٩٢)
تو حکمرانوں کو کون پوچھے گا؟
اللہ تعالیٰ۔
(صحيح البخاري : ٣٤٥٥)
اپنے حقوق کیلیے نکلنا بھی غلط ہے؟
جی ہاں!
(صحيح مسلم : ١٨٤٦)
ہم تو اپنا حق چھین کر لیں گے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔
(صحيح البخاري : ٧١٩٩)
لیکن پر امن احتجاج تو کیا جا سکتا ہے۔
اپنا احتجاج اللہ کی بارگاہ میں رکھیں۔
(صحيح البخاري : ٣٦٠٣)
اور کلمۂ حق کون کہے گا؟
وہ حکمران کے منہ پر کہا جائے گا، سڑکوں پر نہیں۔
(سنن أبي داؤد : ٤٣٤٤)
یہ تو ہمارے ہاں ممکن نہیں۔
پھر آپ اس کے مکلف بھی نہیں۔
(مسند أحمد : ١٩٤١٥)
لیکن یہ جمہوری ریاست ہے۔
جمہوری ریاست شرعی احکام سے ماورا نہیں ہوتی۔
(صحيح البخاري : ٧١٤٢)
قانون خود اجازت دیتا ہے۔
اللہ کا قانون اجازت نہیں دیتا۔
(صحيح البخاري : ٧٢٥٧)
پھر انکارِ منکر کیسے ہو گا؟
بھڑکاؤ پروگرام اور فتنۂ و فساد کے بغیر۔
(صحيح البخاري : ٧٠٩٨)
لیکن یہ حکمران تو شریعت پر نہیں چلتے۔
بھلے نہ چلتے ہوں۔
(صحيح مسلم : ١٨٤٧)
یہ ظالم و جابر، چور لٹیرے ہیں۔
بھلے ہوں۔
(صحيح مسلم : ١٨٤٧)
یہ استعمار کے آلہ کار ہیں۔
بھلے ہوں، جب تک دائرہ اسلام میں ہیں تو یہی حکم ہے۔
(صحيح البخاري : ٨٠٥٦)
یہ طاغوت / قاافر ہیں۔
ٹھیک ہے! اب ہماری اور آپ کی بحث نہیں۔ جو چاہیں کریں۔
- آپ بزدلی کا سبق دے رہے ہیں۔ آپ حدیثوں کو غلط فِٹ کرتے ہیں۔ آپ سرکاری مولوی ہیں۔ آپ کو حکومت پیسے دیتی ہے۔ آپ مدخلی ہیں۔ آپ یہودیوں کے ٹاؤٹ ہیں۔ آپ حریتِ فکر کے مخالف ہیں۔ آپ حکمرانوں کو پُوجتے ہیں۔
- آپ نے جو کہنا ہے کہیں۔ یہی ہمارا دین ہے اور ہم اس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ دین جذبات سے نہیں، دلائل سے اخذ کیا جاتا ہے۔ وإلى الله ترجع الأمور۔
#ظلم #فتنے #اصلاح_معاشرہ #خوارج
2 924
*”اپنی زبان بند رکھو، اپنے گھر کو کافی سمجھو، اپنی خطاؤں پر رو دو۔“*
(سيدنا ونبينا محمد ﷺ || سنن الترمذي : ٢٤٠٦)
#منتخب_احادیث #فتنے
2 924
مسلمانوں میں باہمی فتنہ کے وقت میں نبی ﷺ کی نصحیت یہ ہے:
«كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ»
(رواہ ٲحمد وٲبو داود والحاکم)
«اپنے گھروں کے قالین بن جاؤ!»
یعنی جتنا مرضی لوگ بھڑکائیں اور بھلے جتني تیز آندھیاں آئیں تم نے گھر میں قالین کی طرح جمے رہنا ہے۔
وما علینا ٳلا البلاغ
#فتنے
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: حکومت طلب کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2929
💐عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ١ ؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہوگی ٢ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأیمان والنذور ١ (٦٦٢٢)، وکفارات الأیمان ١٠ (٦٧٢٢)، والأحکام ٥ (٧١٤٦)، صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٥٢)، سنن الترمذی/النذور ٥ (١٥٢٩)، سنن النسائی/آداب القضاة ٥ (٥٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦١، ٦٢، ٦٣)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٩ (٢٣٩١)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٣٢٧٧، ٣٢٧٨) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ معاملات کو سلجھانے و نمٹانے میں تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ ٢ ؎: یعنی تم معاملات کو بہتر طور پر انجام دے سکو گے۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: امام (حاکم) پر رعیت کے حقوق
حدیث نمبر: 2928
💞💞عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہوگی ١ ؎ لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہوگی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ٢ ؎ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا غلام اپنے آقا ومالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، تو (سمجھ لو) تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی ۔
📚📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة ١١ (٨٩٣)، والاستقراض ٢٠ (٢٤٠٩)، والعتق ١٧ (٢٥٥٤)، والوصایا ٩ (٢٧٥١)، والنکاح ٨١ (٥٢٠٠)، والأحکام ١ (٧١٣٨)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة ٥ (١٨٢٩)، سنن الترمذی/الجھاد ٢٧ (١٥٠٧)، مسند احمد (٢/٥، ٥٤، ١١١، ١٢١) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: کہ تو نے کس طرح اپنی رعایا کی نگہبانی کی شریعت کے مطابق یا خلاف شرع۔ ٢ ؎: کہ شوہر کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی اور اس کے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی یا نہیں۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: فرائض کا بیان
باب: عہد وپیمان کا بیان
حدیث نمبر: 2926
💞انس بن مالک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا، تو ان (یعنی انس) سے کہا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا ہے کہ اسلام میں حلف (عہد و پیمان) نہیں ہے؟ تو انہوں نے دو یا تین بار زور دے کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل کر رہیں گے۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکفالة ٢ (٢٢٩٤)، والأدب ٦٧ (٦٠٨٣)، والاعتصام ١٦ (٧٣٤٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٠ (٢٥٢٩)، (تحفة الأشراف: ٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣ /١١١، ١٤٥، ٢٨١) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: فرائض کا بیان
باب: عہد وپیمان کا بیان
حدیث نمبر: 2925
🌹جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (زمانہ کفر کی) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں (بھلے کام کے لیے) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٠ (٢٥٣٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٣) (صحیح )
✏️ وضاحت: ١ ؎: کفار عرب کا دستور تھا کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا ہم حلیف ہوتا، اور ہر ایک دوسرے کا حق و ناحق میں مدد کرتا تھا، سو فرمایا کہ اسلام میں کفر کی قسم اور عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: لبیک پکار کر کہنا۔
حدیث نمبر: 2922
🪷سائب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٤)، سنن الترمذی/الحج ١٥ (٨٢٩)، سنن النسائی/الحج ٥٥ (٢٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/المناسک ١٤ (١٨٥٠) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بھی تلبیہ پکارے گی لیکن دھیمی آواز سے، حدیث کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ حاجی غسل کرے، پھر خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں اوڑھے، اور لبیک پکار کر کہے، اگر صرف حج کی نیت ہو تو لبیک بحج ۃ کہے، اور اگر عمرے کی نیت ہو تو لبیک عمر ۃ کہے، اگر دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو یعنی حج قران کی تو یوں کہے لبیک بحج ۃ وعمر ۃ ۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: تلبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2918
🪷عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول اللہ ﷺ سے سیکھا، آپ فرماتے تھے: لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا (ان میں) کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ اس میں یہ اضافہ کرتے: لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل حاضر ہوں، اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر (بھلائی) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٧٣، ٨٠١٣، ١٨١٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٢٦ (١٥٤٩)، اللباس ٦٩ (٥٩٥١)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٢)، سنن الترمذی/الحج ١٣ (٨٢٥)، سنن النسائی/الحج ٥٤ (٢٧٥٠)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٢٨)، حم ٢/٣، ٢٨، ٣٤، ٤١، ٤٣، ٤٧، ٤٨، ٥٣، ٧٦، ٧٧، ٧٩، ١٣١، سنن الدارمی/المناسک ١٣ (١٨٤٩) (صحیح )
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: احرام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2916
🪷عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی، تو آپ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس سے لبیک پکارتے ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٤)، ٢٨ (١٥٥٢)، ٢٩ (١٥٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٧)، سنن النسائی/الحج ٥٦ (٢٧٥٩)، موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٣)، مسند احمد (٢/١٧، ١٨، ٢٩، ٣٦، ٣٧)، سنن الدارمی/المناسک ٨٢ (١٩٧٠) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ ؍ ٢٩٥ )
✏️ وضاحت: ١ ؎: تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں صحیح اور درست بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ذی الحلیفہ میں نماز ظہر کے بعد تلبیہ پکارا، اور اونٹنی پر سوار ہوئے تو دوبارہ تلبیہ پکارا، اسی طرح جب آپ مقام بیدا میں پہنچے تو وہاں بھی تلبیہ پکارا، آپ کے ساتھ حج کرنے والے صحابہ کرام ؓ کی ایک بڑی جماعت تھی ہر صحابی ہر جگہ موجود نہیں رہا، اس لیے جس نے جیسا سنا روایت کردیا لیکن دوسرے کی نفی نہیں کی۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: حیض ونفاس والی عورت حج کا احرام باندھ سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 2911
🌹ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس ؓ کو مقام شجرہ میں نفاس آگیا، رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کر کے تلبیہ پکاریں ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ١٦ (١٢٠٩)، سنن ابی داود/الحج ١٠ (١٧٤٣)، سنن النسائی/الحیض ٢٤ (٢١٥)، الحج ٥٧ (٢٧٦١)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٠٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٧، ١٢٨)، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٥)، ٣٤ (١٨٩٢) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: شجرہ: ذوالحلیفہ میں ایک درخت تھا جس کی مناسبت سے اس جگہ کا نام شجرہ پڑگیا۔ اس وقت عوام میں یہ مقام بئر علی کے نام سے مشہور ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب انہیں حیض آیا تو نبی کریم ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ ہر ایک کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، فقط بیت اللہ (خانہ کعبہ) کا طواف نہ کرو جب تک کہ غسل نہ کرلو۔
