📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Open in Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
2 924
*🤝•••• قابل اعتماد شخص*
٭ مذہب پر عمل پیرا شخص پر اعتماد كریں، خواہ وہ آپ كا ہم مذہب نہ بھى ہو۔
٭ مذہب كو حقیر سمجھنے والے پر اعتماد نہ كریں، خواہ وہ ہم مذہب ہونے كا اظہار كرے۔
٭ جو شخص حرام چیزوں كو معمولى سمجھتا ہے اس پر كسى قابل نقصان چیز كے بارے میں اعتماد نہ كریں۔
📝 - (تزکیه نفس لابن حزم : ص٥٨)
#سلسلۃ_اقوال_السلف
2 924
*⚡حدیث رسول ﷺ کی تعظیم اور اس کی مخالفت کرنے والے پر سختی کرنے کا بیان*
• سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی الله عنه سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے فرمایا:
« عنقریب (ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ) آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے گی تو کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلہ کرنے والی) الله عزوجل کی کتاب ہے۔ ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی، اسے حلال مانیں گے اور جو چیز اس میں حرام پائیں گے ،ہم اسے حرام قرار دیں گے۔ سن لو! جو کچھ الله کے رسول ﷺ نے حرام فرمایا، وہ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح الله کا حرام کیا ہوا ».📒 { سنن ابن ماجه : ١٢ } #منتخب_احادیث #فوائد
2 924
*💧کیا تم فقر سے ڈرتے ہو ؟؟؟*
◻️سیدنا ابو درداء رضی الله عنه سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول الله ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جب کہ ہم فقر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے اور اس سے خوف کا اظہار کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا:
✨ *« کیا تم فقر سے ڈرتے ہو؟ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم پر دنیا( اتنی زیادہ) برسادی جائے گی، حتی کہ کسی کے دل کو اس کے سوا کوئی چیز مائل نہیں کرے گی، (ہر شخص اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔) الله کی قسم! میں تمہیں روشن( چاند کی راتوں جیسی) شریعت پر چھوڑ رہا ہوں، جس کے رات اور دن برابر ہیں».*
✨سیدنا ابو درداء رضی الله عنه نے فرمایا: *«الله کی قسم! رسول الله ﷺ نے سچ فرمایا۔ والله ! آپ ہمیں ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر تشریف لے گئے ہیں، جس کے رات اور دن برابر ہیں».*
📒 { سنن ابن ماجه : ٥ - حسن }
2 924
Repost from ✨ قرآن کریم سے نصیحت ✨
🎋 - *نیک اولاد کے لیے پہلے خود نیک بنیں ...*
👈 حافظ ابن کثیر رحمه الله فرماتے ہیں :
*❐ وقوله : ’’وكان أبوهما صالحا‘‘ فيه دليل على أن الرجل الصالح يحفظ في ذريته، وتشمل بركة عبادته لهم في الدنيا والآخرة، بشفاعته فيهم ورفع درجتهم إلى أعلى درجة في الجنة لتقر عينه بهم، كما جاء في القرآن ووردت السنة به.*
"اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک آدمی کی اولاد کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اور اس کی شفاعت کی وجہ سے اس کی عبادت کی برکت اس کی اولاد کو بھی دنیا و آخرت میں حاصل ہوتی ہے، نیز اس کی اولاد کے جنت میں بھی درجات بلند کیے جاتے ہیں تاکہ اسے اپنی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل ہو جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔"
📗 - *[ تفسير ابن كثير : ١٨٥/٥ ]*
👈 سعید بن المسیب رحمه الله فرماتے ہیں :
*❐ إني لأصلي فأذكر ولدي فأزيد في صلاتي.*
"میں نماز پڑھتا ہوں اور اولاد کا خیال آ جاتا ہے تو نماز اور بڑھا دیتا ہوں۔"
📗 - *[ تفسير البغوي : ١٩٦/٥ ]*
#تفسیر #سلسلۃ_اقوال_السلف
2 924
🎋 - *نیک اولاد کے لیے پہلے خود نیک بنیں ...*
👈 حافظ ابن کثیر رحمه الله فرماتے ہیں :
*❐ وقوله : ’’وكان أبوهما صالحا‘‘ فيه دليل على أن الرجل الصالح يحفظ في ذريته، وتشمل بركة عبادته لهم في الدنيا والآخرة، بشفاعته فيهم ورفع درجتهم إلى أعلى درجة في الجنة لتقر عينه بهم، كما جاء في القرآن ووردت السنة به.*
"اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک آدمی کی اولاد کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اور اس کی شفاعت کی وجہ سے اس کی عبادت کی برکت اس کی اولاد کو بھی دنیا و آخرت میں حاصل ہوتی ہے، نیز اس کی اولاد کے جنت میں بھی درجات بلند کیے جاتے ہیں تاکہ اسے اپنی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل ہو جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔"
📗 - *[ تفسير ابن كثير : ١٨٥/٥ ]*
👈 سعید بن المسیب رحمه الله فرماتے ہیں :
*❐ إني لأصلي فأذكر ولدي فأزيد في صلاتي.*
"میں نماز پڑھتا ہوں اور اولاد کا خیال آ جاتا ہے تو نماز اور بڑھا دیتا ہوں۔"
📗 - *[ تفسير البغوي : ١٩٦/٥ ]*
2 924
’’عورت کا خوشبو لگا کر باہر نکلنا‘‘
⇚ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
’’جس عورت نے بھی خوشبو لگائی، پھر لوگوں کے پاس سے گزری کہ وہ اس کی خوشبو سونگیں تو وہ بد کارہ ہے۔‘‘ (مسند احمد :19747 وسندہ حسن)
⇚ ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے، جب عورتوں کے پاس سے گزرے تو کسی عورت کی خوشبو آئی آپ نے فرمایا : یہ کس کی خوشبو ہے؟ ’’اگر مجھے اس کا پتا چل جائے تو اس کے ساتھ ایسا ایسا سلوک کروں گا! عورت کی خوشبو تو صرف اس کے خاوند کے لیے ہوتی ہے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ : 28021 ورجالہ ثقات)
2 924
🌸 *نماز والی جگہ پر بیٹھے رہنےکی فضیلت !*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص نماز کی وجہ سے جب تک کہیں ٹھہرا رہے گا اس کا یہ سارا وقت نماز میں شمار ہو گا اور ملائکہ اس کے لیے یہ دعا کرتے رہیں گے کہ اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اور اس پر اپنی رحمت نازل کر (اس وقت تک) جب تک وہ نماز سے فارغ ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ نہ جائے یا بات نہ کرے۔“*🔹
📗«صحیح بخاری-٣٢٢٩»
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: جہاد کا بیان
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2878
💞ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسابقت (آگے بڑھنے) کی شرط گھوڑے اور اونٹ کے علاوہ کسی میں جائز نہیں ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الخیل ١٣ (٣٦١٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ٦٧ (٢٥٧٤)، سنن الترمذی/الجہاد ٢٢ (١٧٠٠)، مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٥٨، ٤٢٥، ٤٧٤) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: ترمذی اور ابوداود کی روایت میں أو نصل (یا تیر میں) زیادہ ہے، مطلب یہ ہے کہ ان تینوں میں آگے بڑھنے کی شرط لگانا اور جیتنے پر مال لینا جائز ہے، تیر میں یہ شرط ہے کہ کس کا دور جاتا ہے، علامہ طیبی کہتے ہیں کہ گدھے اور خچر بھی گھوڑے کی طرح ہیں، ان میں بھی شرط درست ہوگی، لیکن حدیث میں یہ تین چیزیں مذکور ہیں: نصل یعنی تیر، خف یعنی اونٹ، حافر یعنی گھوڑا، ایک شخص نے حدیث میں اپنی طرف سے یہ بڑھا دیا أو جناح یعنی پرندہ اڑانے میں شرط لگانا درست ہے جیسے کبوتر باز کیا کرتے ہیں اور یہ لفظ اس وقت روایت کیا جب ایک عباسی خلیفہ کبوتر بازی کر رہا تھا، یہ شخص خلیفہ کے پاس گیا اور اس کا دل خوش کرنے اور کبوتر بازی کو جائز کرنے کی خاطر حدیث میں یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا اور اللہ کا خوف بالکل نہ کیا، اللہ تعالیٰ ائمہ حدیث کو جزائے خیر دے اگر وہ محنت کر کے صحیح حدیثوں کو جھوٹی اور ضعیف حدیثوں سے الگ نہ کرتے تو دین برباد ہوجاتا، حدیث سے یہ اہتمام اس امت سے خاص ہے، اگلی امتوں والے کتاب الہی کی بھی اچھی طرح حفاظت نہ کرسکے حدیث کا کیا ذکر ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم (سورة الجمعة: 4)۔
2 924
*🌴- الله کے نزدیک محبوب اعمال*
▪️عمرو بن شیبانی، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ہمیں اس گھر والے نے بتایا کہ میں نے رسول الله ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا:
*’’نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔‘‘ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: ’’پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ میں نے کہا: اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: ’’پھر الله کے رستے میں جہاد کرنا۔‘‘*
📖-( مسلم: ۲۵٤/ النسائي : ٦١٠ )
https://t.me/HadeethERasool
2 924
*🤍 بہترین مخلوق نے جواب دیا•••*
◻️سیدنا عبدالله بن صامت رضی الله عنه سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابو ذر رضی الله عنه سے کہا کہ میں عبدالرحمن بن ام الحکم کے پاس سے گزرا اور سلام کہا تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے فرمایا:
*« میرے بھتیجے تجھے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ تجھے اس سے بہتر نے سلام کا جواب دیا ہے، یعنی اس کے دائیں جانب والے فرشتے نے ».*
*✨فوائد::* سلام کہنا مودت و محبت کا ذریعہ ہے اور اس سے بے اعتنائی باہم عداوت کا سبب بن سکتی ہے لیکن سلام کہنے والے کو اپنا مشن جاری رکھنا چاہیے۔ اگر اسے سلام کا جواب انسانوں کی طرف سے نہ ملے تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ایسے شخص کو الله کے فرشتے جواب دیتے ہیں جو انسانوں سے بہر صورت بہتر ہیں۔
📚 ( الادب المفرد : ١٠٣٨ - صحیح الإسناد)
https://t.me/HadeethERasool
2 924
*🔥- کیا تو آگ سے ڈرتا اور جنت میں داخل ہونا پسند کرتا ہے؟*
〰️ طَيْسَلَةُ بْنُ مَيَّاسٍ کہتے ہیں کہ میں خارجیوں کے ساتھ تھا مجھ سے کچھ گناہ سرزد ہوگئے جنہیں میں کبیرہ گناہ سمجھتا تھا۔ میں نے ان کا ذکر ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: فلاں فلاں۔ انہوں نے فرمایا: یہ کبیرہ نہیں ہیں، کبیرہ تو ۹ ہیں:
*(١) الله کے ساتھ شرک کرنا،*
*(٢) (ناحق)کسی جان کو قتل کرنا،*
*(٣) میدان جنگ سے بھاگنا،*
*(٤)کسی پاک دامن عورت پر تہمت لگانا،*
*(٥)سود کھانا،*
*(٦)یتیم کا مال ہتھیانا،*
*(٧)مسجد میں خلاف شرع کام کرنا،*
*(٨)کسی سے ٹھٹھا مذاق کرنا،*
*(٩)والدین کی نافرمانی کرکے انہیں رلانا۔*
• ابن عمر رضی الله عنه نے مجھ سے کہا: کیا تو آگ سے ڈرتا اور جنت میں داخل ہونا پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: ہاں الله کی قسم! انہوں نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ میں نے کہا: میری *ماں* زندہ ہے۔ انہوں نے کہا:
*🤍 « الله کی قسم! اگر تو اس سے نرمی سے گفتگو کرے گا اور اسے کھانا کھلائے گا اور کبیرہ گناہوں سے بھی بچتا رہے گا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا»۔*
📚 |[ الادب المفرد : ٨ ]|
https://t.me/HadeethERasool
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: جہاد کا بیان
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2877
💞عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (١٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ٧٩٥٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٤١ (١٢٠)، الجہاد ٥٦ (٢٨٦٨)، ٥٧ (٢٨٦٩)، ٥٨ (٢٨٧٠)، الاعتصام ١٦ (٧٣٣٦)، سنن ابی داود/الجہاد ٦٧ (٢٥٧٥)، سنن الترمذی/الجہاد ٢٢ (١٦٩٩)، سنن النسائی/الخیل ١٢ (٣٦١٤)، موطا امام مالک/ الجہاد ١٩ (٤٥)، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٦ (٢٤٧٣) (صحیح )
✏️ وضاحت: ١ ؎: تضمیر (پھرتیلا بنانا) یہ ہے کہ گھوڑے کو پہلے خوب کھلایا جائے یہاں تک کہ موٹا ہوجائے، پھر اس کا چارہ آہستہ آہستہ کم کردیا جائے، اور اسے ایک کوٹھری میں بند کر کے اس پر جھول ڈال دی جائے تاکہ گرم ہو اور اسے خوب پسینہ آجائے، ایسا کرنے سے گھوڑا سبک اور تیز رفتار ہوجاتا ہے۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: جہاد کا بیان
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2875
🌹💞ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مومن عورتیں نبی اکرم ﷺ کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو اللہ تعالیٰ کے فرمان: يا أيها النبي إذا جاءک المؤمنات يبايعنك (سورة الممتحنة: 12) اے نبی! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی، زناکاری نہ کریں گی، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی، اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی، جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی، تو آپ ان سے بیعت کرلیا کریں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے والا ہے کی رو سے ان کا امتحان لیا جاتا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جو اس آیت کے مطابق اقرار کرتی وہ امتحان میں پوری اتر جاتی، عورتیں اپنی زبان سے جب اس کا اقرار کرلیتیں تو رسول اللہ ﷺ فرماتے: جاؤ میں نے تم سے بیعت لے لی ہے اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ہرگز کسی عورت کے ہاتھ سے کبھی نہیں لگا، جب آپ ﷺ ان عورتوں سے بیعت لیتے تو صرف زبان سے اتنا کہتے: میں نے تم سے بیعت لے لی عائشہ ؓ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے صرف وہی عہد لیا جس کا حکم آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا، رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہتھیلی نے کبھی کسی (نامحرم) عورت کی ہتھیلی کو مس نہ کیا، آپ ان سے عہد لیتے وقت یہ فرماتے: میں نے تم سے بیعت لے لی صرف زبانی یہ کہتے۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطلاق ٢٠ (٥٢٨٨ تعلیقاً )، صحیح مسلم/الإمارة ٢١ (١٨٦٦)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ٦٠ (٢) (٣٣٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٧) (صحیح )
2 924
👈 *دعا عبادت ہے، فن آرائی کا میدان نہیں!*
🔹 سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
*"إنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ والدُّعاءِ."*
”میری امت میں کچھ لوگ آئیں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کرنے لگیں گے۔“
📚 - (سنن أبي داود : ٩٦ ،صحيح)
دعا میں حد سے تجاوز کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ردیف اور قافیے ملا کر خود ساختہ لمبی لمبی دعائیں کی جائیں اور ان دعاؤں میں خشوع و تضرع کی بجائے طرب و سماع، فن آرائی، رونے رلانے اور مزے لینے کا پہلو ہو۔ یہ نبی کریم ﷺ اور سلف صالحین کا طریقہ نہیں ہے۔
🔹 علامہ ابن الھمام الحنفی رحمہ اللہ (٨٦١ھ) فرماتے ہیں :
”اس دور میں لوگوں کے مابین جو دعاؤں میں بے جا توسع، چیخ و پکار میں مبالغہ اور مختلف آوازوں کے ذریعے نغمہ آرائی کا رواج چل پڑا ہے، جس کا مقصد بندگی بجا لانے کی بجائے اپنے فن کا اظہار کرنا ہے، تو یہ دعا کی قبولیت کا نہیں، بلکہ رد کیے جانے کا متقاضی ہے۔“
📚 - (فيض القدير للمناوي : ٢٢٨/١)
🔹 علامہ ابن المنیر السکندری رحمہ اللہ (٦٨٣ھ) فرماتے ہیں :
”اور آپ اس دور میں اکثر لوگوں کو دیکھتے ہیں جو دعا میں جان بوجھ کر آواز بلند کرتے ہیں بالخصوص مساجد میں، حتی کہ ہڑبونگ مچ جاتا ہے، اور کان پڑی آواز تک سنائی نہیں دیتی۔ حالانکہ انہیں علم نہیں کہ یہ دو بدعتوں کو جمع کر رہے ہوتے ہیں: دعا میں آواز بلند کرنا اور یہ کام مسجد میں کرنا۔“
📚 - (روح المعاني للآلوسي : ٣٧٩/٤)
2 924
🌙 "جس کا رمضان صحیح سلامت گزر گیا اس کا باقی سال بھی سلامتی کے ساتھ گزر جائے گا!"
📖 *|[ امام ابن القیم - (زاد المعاد : ٣٩٨/١) ]|*
2 924
⛔ *••• روزے تو پورے رکھتے ہیں مگر نماز کی پابندی نہیں کرتے! •••*
🖍 *شیخ ابنِ عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
"فی زمانہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ لوگ روزوں کی پابندی تو کرتے ہیں اور ان کی تعظیم بھی دلوں میں ہے لیکن نماز کی کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی نماز کی عظمت کا کوئی احساس ہے. چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ بہت سے لوگ فرضی روزے تو پورے رکھتے ہیں مگر فرض نماز صرف رمضان کے رمضان ہی ادا کرتے ہیں. اور یقینا یہ طرزِ عمل انتہائی غلط ہے!"
📕 - *|[ تفسير سورة ص : ٣١٩ ]|*
2 924
🌌 *••• ليلة القدر میں اللہ سے عفو و درگزر کا سوال کرنے کی حکمت •••*
🍂 *حافظ ابن رجب رحمه الله فرماتے ہیں:*
"آخری عشرے میں تمام تر نیکیوں کو بخوبی بجا لانے کے ساتھ ليلة القدر میں خصوصی طور پر اللہ سے عفو و درگزر طلب کرنے کا اس لیے کہا گیا ہے کہ اعلی مرتبت لوگ نیکیاں کرنے کے بعد ان پر اترانے کی بجائے یہی سمجھتے ہیں کہ ہم تو اللہ کا کچھ بھی حق ادا نہیں کر سکے. چنانچہ وہ ایک گناہگار و پُر تقصیر شخص کی مانند اللہ سے درگزر کا سوال کرتے ہیں!"
🔮 - *|[ لطائف المعارف : (٢٠٦) ]|*
2 924
🎁 * قريبى فقراء و مساكين رشتہ داروں كو فطرانہ دينے كا حكم *
فقيه الأمة شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله سے سوال کیا گیا:
*"قريبى فقراء و مساكين رشتہ داروں كو فطرانہ دينے کا کیا حکم ہے ؟؟؟"*
👈 تو آپ رحمه الله نے فرمایا:
*ʺيجوز أن تدفع زكاة الفطر، وزكاة المال إلى الأقارب الفقراء، بل إن دفعها إلى الأقارب أولى من دفعها إلى الأباعد؛ لأن دفعها إلى الأقارب صدقة وصلة.ʺ*
"فطرانہ اور مال كى زكاۃ اپنے قريبى فقراء رشتہ داروں كو دينا جائز ہے بلكہ كسى اور شخص کو دینے كى بجائے انہیں قريبى رشتہ داروں كو دينا زيادہ بہتر اور اولىٰ ہے، كيونكہ ان كو دينے میں صلہ رحمى اور صدقہ دونوں شامل ہیں۔"
📚 *|[ مجموع فتاوىٰ ورسائل العثيمين: ٤١٤/١٨، ٤١٣ ۔ السؤال رقم: ٣٠١ ]|*
