en
Feedback
📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

Open in Telegram

🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°

Show more
The country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
⚫ - *|[ تمہارے لیے موت بہتر ہے! ]|* 🎙 *حافظ ابنِ رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:* ⛔ "اے حرام کاموں سے باز نہ آنے والے ؛ نہ حرمت والے مہینے میں نہ کسی اور مہینے میں! اے نیکیوں میں پیچھے سے پیچھے اور گناہوں میں مسلسل آگے نکلنے والے! اے وہ انسان کہ جس کی زندگی کا ہر دن پچھلے دن سے بدتر ہے !! ◼ *اس نیند سے کب جاگو گے ؟! ان گناہوں سے کب توبہ کرو گے ؟!* ⛔ اے وہ شخص کہ جسے بڑھاپے نے موت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے مگر وہ گناہوں پر قائم ہے ! کیا تجھے اسلام اور قرآن کی وعظ و نصیحت کے بعد بڑھاپا بھی کچھ سکھانے میں ناکام رہے گا ؟! ◼ *اس حال میں موت تمہارے لیے بہتر ہے! والسلام!"* 📕 - *|[ (لطائف المعارف : ٤٥٧) ]|*

🌑 *••• کہیں ہماری راتیں ہمارے صیام و قیام کی برکات کو ضائع تو نہیں کر رہیں ؟! •••* ⛔ "رمضان کی راتوں کو جاگنا چاہیے مگر اس طرح نہیں جس طرح ہم مسلمانوں کا طرزِ عمل ہے ؛ بے حیائی سے بھرپور رَت جگے، فحش لہو و لعب اور تباہ کن شہوات میں گزرتی راتیں !! اس طرح کا جاگنا درحقیقت روزے کی حکمت کو مار دینا، روزے کی خیر و برکت کو ختم کر دینا اور روزے کے فوائد و روحانیت کو مٹا دینا ہے!" 📓 - *|[ شيخ محمد البشير الإبراهيمي رحمه الله || آثاره : ۲۹٣/۲ ]|*

⛔ - *رمضان المبارک کے گزرنے سے پہلے اپنا جائزہ لے لیں ...* سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : *”رَغِمَ أنفُ رجلٍ دخلَ علَيهِ رمضانُ ثمَّ انسلخَ قبلَ أن يُغفَرَ لَهُ.“* "اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جسے رمضان نصیب ہوا، پھر اس کی مغفرت کے بغیر ہی رخصت ہو گیا۔" 📕 - *|[ سنن الترمذي : ٣٥٤٥ ، صحيح ]|*

📗سنن ابن ماجہ کتاب: جہاد کا بیان باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔ حدیث نمبر: 2874 🌹امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: (امام کی بات سنو اور مانو) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ١ ؎۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر ٣٧ (١٠٩٧)، سنن النسائی/البیعة ١٨ (٤١٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیعة ١ (٢) مسند احمد (٥/٣٢٣، ٦/٣٥٧) (صحیح ) ✏️ وضاحت: ١ ؎: جب نبی معصوم ﷺ نے غیر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تو پیروں اور مرشدوں کے لیے کیونکر جائز ہوگا کہ وہ غیر عورتوں سے ہاتھ ملائیں یا محرم کی طرح بےحجاب ہو کر ان سے خلوت کریں، اور جو کوئی پیر اس زمانہ میں ایسی حرکت کرتا ہے، تو یقین جان لیں کہ وہ شیطان کا مرید ہے۔

📗سنن ابن ماجہ کتاب: جہاد کا بیان باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔ حدیث نمبر: 2874 🌹امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: (امام کی بات سنو اور مانو) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ١ ؎۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر ٣٧ (١٠٩٧)، سنن النسائی/البیعة ١٨ (٤١٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیعة ١ (٢) مسند احمد (٥/٣٢٣، ٦/٣٥٧) (صحیح ) ✏️ وضاحت: ١ ؎: جب نبی معصوم ﷺ نے غیر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تو پیروں اور مرشدوں کے لیے کیونکر جائز ہوگا کہ وہ غیر عورتوں سے ہاتھ ملائیں یا محرم کی طرح بےحجاب ہو کر ان سے خلوت کریں، اور جو کوئی پیر اس زمانہ میں ایسی حرکت کرتا ہے، تو یقین جان لیں کہ وہ شیطان کا مرید ہے۔

📗سنن ابن ماجہ کتاب: جہاد کا بیان باب: بیعت پوری کرنا۔ حدیث نمبر: 2872 🌹عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے ۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجزیة والموادعة ٢٢ (٣١٨٦)، صحیح مسلم/الجہاد ٤ (١٧٣٦)، (تحفة الأشراف: ٩٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١١، ٤١٧، ٤٤١)، سنن الدارمی/البیوع ١١ (٢٥٨٤) (صحیح متواتر )

📗سنن ابن ماجہ کتاب: جہاد کا بیان باب: بیعت پوری کرنا۔ حدیث نمبر: 2871 ♥️ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی حکومت ان کے انبیاء چلایا کرتے تھے، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا، لیکن میرے بعد تم میں کوئی نبی ہونے والا نہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے ، لوگوں نے کہا: پھر کیسے کریں گے؟ فرمایا: پہلے کی بیعت پوری کرو، پھر اس کے بعد والے کی، اور اپنا حق ادا کرو، اللہ تعالیٰ ان سے ان کے حق کے بارے میں سوال کرے گا ۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٥٠ (٣٤٥٥)، صحیح مسلم/الإمارة ١٠ (١٨٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٤١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٧) (صحیح )

☄ - *|[ ليلة القدر میں دنیا کی بجائے آخرت سنوارنے کی کوشش کریں ]|* ✒ *شیخ ابن بادیس رحمه الله فرماتے ہیں:* "ليلة القدر میں دنیا کی بجائے آخرت طلب کرنی چاہیے. بیشتر لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کہ کاش ہم ليلة القدر پا لیں تو اللہ سے خوب دنیا طلب کریں. ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اس برے خیال پر اللہ سے توبہ کریں. 🍃 اللہ تعالی فرماتا ہے : *(مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبِِ)* - سورۃ الشورى : ٢٠ - جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو ہم اس کے لیے اس کھیتی میں برکت دیں گے، اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہتا ہو تو ہم اسے وہ بھی دے دیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا! 🍃 ہم دنیا کو مشروع ذرائع سے طلب کرنے کے منکر نہیں ہیں. ہم اس بات کے منکر ہیں کہ دنیا اس قدر آدمی کی فکروں کا محور ہو کہ وہ ليلة القدر کی تمنا بھی اس لیے کرے کہ میں اپنی دنیا سنوار لوں اور آخرت سے یکسر غافل رہے!!" 📘 - *|[ آثار ابن باديس (٣٢٩/٢) ]|*

🌌 - *••• ليلة القدر کے فضائل •••* ✍🏻 *شیخ ابنِ عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :* 1⃣ اللہ تعالی نے اس رات قرآن مجید نازل فرمایا جس میں انسانیت کیلیے دنیا و آخرت کی بھلائیاں اور ہدایت ہے. 2⃣ اللہ تعالی نے اس کی عظمت و توقیر بیان کرنے کیلیے سوالیہ انداز اپنایا: ﴿ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُالْقَدْر ﴾. 3⃣ اس رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے. 4⃣ اس رات فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ فرشتے صرف اور صرف خیر و برکت اور رحمت کے پروانے لے کر آتے ہیں. 5⃣ یہ رات سلامتی والی ہے کیونکہ اللہ کے بندے اس رات کو اللہ کی اطاعت میں گزار کر اُس کی سزا اور عذاب سے سلامتی حاصل کرتے ہیں. 6⃣ اس رات کی فضیلت میں اللہ تعالی نے مکمل سورت نازل فرمائی جس کی تلاوت قیامت تک کی جاتی رہے گی. 7⃣ اس رات اللہ پر ایمان اور حصولِ اجر کی خاطر قیام کرنے والے کے سابقہ گناہ بخش دییے جاتے ہیں. 📘 - *|[ مجالس شهر رمضان صـ (١٦١) ]|*

- صدقة الفطر نکالنے کا سبب!
- صدقة الفطر نکالنے کا سبب!

صدقہء فطر کے اصل مستحق۔
صدقہء فطر کے اصل مستحق۔

"لیلۃ القدر اور سلف صالحین کا اہتمام" (حافظ محمد طاهر) سلف صالحین رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں خصوصی عبادت کا اہتمام فرماتے، بطورِ خاص پاکیزگی و طہارت اختیار کرتے اور عمدہ لباس زیب تن کرتے تاکہ عبادت و ریاضت میں و چستی و نشاط حاصل ہو سکے۔ ⇚ امام ابن جریر الطبری رحمہ اللہ (م: 310ھ) فرماتے ہیں : كَانُوْا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَغْتَسِلُوْا كُلَ لَيْلَةٍ مِنْ لَيَالِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ. "سلف صالحین، آخری عشرے کی ہر رات کو غسل کرنا پسند کرتے تھے." (تفسير طبري كما نقله ابن رجب في لطائف المعارف، ص : 189) ⇚حماد بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : كَانَ ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ يَغْتَسِلانِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَيَتَطَيَّبَانِ وَيُحِبَّانِ أَنْ يُطَيِّبَا الْمَسْجِدَ بِالنُّضُوحِ اللَّيْلَةَ الَّتِي يُرْجَى فِيهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ. "ثابت البنانی التابعی اور حمید الطویل التابعی رحمہا اللہ ، لیلۃ القدر کی متوقع رات میں غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور اس رات مسجد کو بھی خوشبو سے معطر کرنا پسند کرتے تھے." (الطبقات الكبرى لابن سعد ط العلمية : 174/7، وسنده صحيح) ⇚حماد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں : كَانَ لأَيُّوبَ بُرْدٌ أَحْمَرُ فَكَانَ يَلْبَسُهُ إِذَا أَحْرَمَ .........وَكَانَ إِذَا كَانَ لَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ لَبِسَهُ. "امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ کے پاس سرخ چادر تھی جسے احرام وغیرہ میں اوڑھتے اور جب رمضان کی تئیسویں اور چوبیسویں رات ہوتی تو اسے پہنتے۔" (الطبقات الكبرى لابن سعد ط العلمية : 186/7، وسنده صحيح) ⇚عوام بن حوشب، امام ابراهيم النخعی التابعی رحمہ اللہ کے متعلق بیان کرتے ہیں : كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ، فَإِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ خَتَمَ فِي لَيْلَتَيْنِ، وَاغْتَسَلَ كُلَّ لَيْلَةٍ. "(ابراهيم النخعي رحمہ اللہ) رمضان کے ہر تین دن میں قرآن ختم کرتے اور جب آخری عشرہ آتا تو ہر دو دن میں ختم کرتے اور ہر رات غسل کرتے." (مصنف عبد الرزاق الصنعاني : 254/4 ورجاله ثقات) ⇚ عبداللہ بن شریک العامری کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش رحمہ اللہ سے سنا کہ : إِذَا كَانَتْ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَاغْسِلُوا . "جب رمضان کی ستائیسویں رات ہو تو غسل کریں." (مصنف ابن أبي شيبة : 252/2، مصنف عبد الرزاق الصنعاني : 253/4، ورجاله ثقات) ⇚ ثابت البنانی تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَتْ لَهُ حُلَّةٌ قَدِ ابْتَاعَهَا بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، كَانَ يَلْبِسُهَا فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي يُرْجَى فِيهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ. "سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کا ایک خاص لباس تھا جسے انہوں نے ہزار درہم میں خریدا تھا، وہ اسے صرف اس رات پہنتے جس میں لیلۃ القدر کی امید ہوتی." (الجزء المتمم للطبقات الكبرى لابن سعد - متمم الصحابة : ص 723، سنده صحيح إلي ثابت البناني) ⇚ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (م : 795ھ) فرماتے ہیں : يُسْتَحَبُّ فِي الَّليَالِي الَّتِي تُرْجٰى فِيْهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ التَّنَظُّفُ وَالتَّزَيُّنُ وَالتَّطَيُّبُ بِالْغُسْلِ وَالطِّيْبِ وَالِّلبَاسُ الْحَسَنُ. "جن راتوں میں لیلۃ القدر کی امید ہوتی ہے ان میں پاکیزگی و زینت اختیار کرنا، غسل کرنا و خوشبو سے معطر ہونا اور اچھا لباس پہننا مستحب ہے." (لطائف المعارف لابن رجب، ص : 189) نسأل الله سبحانه وتعالى أن يبلغنا هذه الليلة المباركة، وتقبلها منا.

⭕ - *"رمضان اور اکثر مسلمانوں کا حال!"* 🔗 "اکثر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہیں رمضان کے آداب کا کوئی خیال نہیں، اس کے فوائد کا کوئی احساس نہیں! صبحیں سستی و بے پروائی کی ماری ہوئی، راتیں جائز و ناجائز کاموں میں برباد ہوتی ہوئی!! اور جب یہ مہینہ گزر جائے گا تو اس کو ایسے الوداع کریں گے جیسے کوئی بوجھ اتر گیا ہو، یا جیل سے قیدی رہا ہو گیا ہو. ان کی عید ناشکری کی عید ہو گی؛ شکر، توبہ اور گناہوں سے معافی کی عید نہیں ہو گی!" 🗞 - *|[ علامة مبارك الميلي رحمه الله || صيام رمضان ووداعه، البصائر، (س: ٢ ، ع : ٨٨) ]|*

👈 ”جو شخص کہتا ہے کہ رمضان کے آخر میں رات کی عبادت میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے، وہ نبی کریم ﷺ کے طریقے کا بھی مخالف ہے اور سلف صالحین کے طرزِ عمل کا بھی، کہ جو رمضان کی آخری راتوں میں زیادہ سے زیادہ قیام کیا کرتے تھے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ اور خلفاءِ راشدین کی سنت کی اتباع کرتے ہوئے مسلمانوں کو نماز تراویح اور نماز تہجد دونوں کی ترغیب دینی چاہیے، ناکہ انہیں اس سے دور کر کے ایسے شبہات میں مبتلا کیا جائے جس سے ان کے قیامِ رمضان کا اہتمام کم ہونے لگے۔“ 📚 (فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الثانية : ٨٣/٦)

⚠ *•• دعائے قنوت کو وعظ بنا دینا ••* ✍ *شیخ ابنِ عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:* "دعائے قنوت کو خطبے اور وعظ کی شکل دے دینا کہ جنت، جہنم، قبر اور فراقِ احباب کے تذکرے کیے جائیں ؛ خلافِ سنت ہے. کیونکہ وعظ کیلیے الگ وقت ہے اور دعا کیلیے الگ ہے. امام کو تو یہ زیب نہیں دیتا کہ لمبی لمبی دعاؤں کے ذریعے مقتدیوں کو مشقت میں ڈالے، چہ جائیکہ وہ دعا کو خطبے اور وعظ کی طرز پر پڑھ کر مقتدیوں کی مشقت میں کہیں اضافہ کرے!" 📜 - *|[ اللقاءات الرمضانية : ٣٧٠ ]|*

🔍 *ليلة القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت!"* 🖇 *شیخ ابن عثیمین رحمه الله فرماتے ہیں:* 👈 "اللہ نے اپنے بندوں پر رحمت کرتے ہوئے انہیں ليلة القدر کا علم نہیں دیا تاکہ وہ اس کی تلاش میں زیادہ سے زیادہ نماز، ذکر، دعا اور دیگر نیک اعمال کا اہتمام کریں اور قربتِ الہی و ثواب میں ذیادہ ہو جائیں. 👈 اور اللہ نے ليلة القدر کو اس لیے بھی مخفی رکھا ہے تاکہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لے سکے کہ کون اس فضیلت کو پانے کا شوق رکھتا ہے اور کون سستی و غفلت برتتا ہے؛ کیونکہ جس شخص کو کسی چیز کا شوق ہو، وہ اسے پانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، اس کے حصول کی راہ میں تھکاوٹ اس کیلیے کوئی معنی نہیں رکھتی!" 📑 - *|[ ﻣﺠﺎﻟﺲ ﺷﻬﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ : ١٧٣ ]|*

💜 *| مگر قرآن سنتے ہوئے نہیں روتا !! |* ✍ - شیخ ابنِ باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں : *"جو دعائے قنوت میں تو روتا ہے مگر اللہ کا کلام سنتے ہوئے اسے رونا نہیں آتا، اسے چاہیے کہ اپنے نفس کی اصلاح کرے ؛ کیونکہ قرآن مجید کی قرات سنتے ہوئے اس کا خشوع دعا کی نسبت زیادہ ہونا چاہیے!"* 🔖 |[ مجموع فتاوى ومقالات (٣٤٦/١١) ]|

🔹 *"امام ابن تیمیہ رحمه الله کی تراویح"* ✍ آٹھویں صدی کے معروف ادیب اور فقیہ زین الدین *ابن الوردي* رحمہ اللہ کہتے ہیں : *"وصليت خلف ابن تيمية التراويح في ‎رمضان؛ فرأيت على قراءته خشوعًا ورأيت على صلاته رِقَّة، تأخذ بمجامع القلوب!"* "میں نے رمضان میں شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کے پیچھے تراویح ادا کی ؛ میں نے آپ کی تلاوت میں ایسا خشوع اور نماز میں ایسی رقت دیکھی جو دل کے انگ انگ پر اثر انداز ہوتی تھی!" 📘 *|[ تاريخ ابن الوردي : ٢٧٢/٦ ]|*

شہادت سیدنا ومولنا علی بن أبی الطالب رضی اللہ عنہ! ① جناب أبو سنان الدُؤَلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: "میں علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آیا تو میں نے ان سے کہا: "أبو الحسن! ہم آپ کی اس بیماری کی وجہ سے خوف زدہ ہیں۔" انہوں نے فرمایا: «لیکن اللہ کی قسم! میں اپنے لیے اس سے خوف زدہ نہیں ہوں۔» کیوں کہ میں نے الصادق المصدوق ﷺ کو (اپنے بارے میں) یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: «تجھے (تلوار کی) ایک ضرب یہاں لگائی جائے گی اور ایک یہاں۔» (یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے اپنی کنپٹیوں کی طرف اشارہ کیا (پھر فرمایا): «اور اس سے نکلنے والا خون تیری داڑھی کو رنگ دینے تک بہے گا اور ایسا کرنے والا اسی طرح سب سے بڑا بدبخت ہوگا جیسا کہ قوم ثمود میں اونٹ کی کونچیں کاٹنے والا سب سے بڑا بدبخت تھا۔» 📚 المعجم الكبير للطبراني بتحقيق حمدي عبد المجيد السلفي: ١٠٦/١، ١٧٣، وسنده صحيح ② جناب أبو الطفیل الکنانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو (اپنی) بیعت کی دعوت دی تو عبد الرحمن بن مُلجَم المَرادی (لعنہ اللہ بھی) آگیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دو بار اسے واپس لوٹا دیا۔ پھر (جب) وہ (تیسری مرتبہ) آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اس بدبخت کو (میرے قتل سے) کوئی نہیں روک پائے گا۔ یہ (میری داڑھی) ضرور بالضرور (میرے) اس (سر کے خون) سے رنگی جائے گی۔» 📚 الطبقات لابن سعد بتحقیق محمد عبد القادر عطا: ٢٤/٣، وسنده حسن لذاته ③ شیخ الاسلام امام لیث بن سعد البصری رحمہ اللہ (متوفیٰ: 175 هـ) فرماتے ہیں: «عبد الرحمن بن مُلجَم (لعنہ اللہ) نے صبح کی نماز کے وقت علی رضی اللہ عنہ کے سر پر تلوار سے ضرب لگائی (اور انہیں شہید کردیا)۔» 📚 معجم الصحابة للبغوي بتحقيق محمد الأمين بن محمد الجكني: ٣٦٧/٤، وسنده صحيح ④ امام الجرح والتعدیل احمد بن عبد اللہ العِجلی رحمہ اللہ (متوفیٰ: 261 هـ) فرماتے ہیں: «علی بن أبی الطالب رضی اللہ عنہ کا قتل کوفہ میں ہوا اور انہیں عبد الرحمن بن مُلجَم المَرادی (لعنہ اللہ) نے شہید کیا۔» 📚 كتاب الثقات للعجلي بتحقيق عبد العليم عبد العظيم البستوي: ١٥٥/٢، ١٣٠٢ ⑤ امام المؤرخين خلیفہ بن خیاط البصری رحمہ اللہ (متوفیٰ: 240 هـ) فرماتے ہیں: «انہیں (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو) 24 رمضان المبارک 40 ہجری میں جمعہ کے دن صبح کے وقت (عبد الرحمن) ابن ملجم (لعنہ اللہ) نے شہید کیا۔» 📚 الطبقات لخليفة بن خياط بتحقيق سهيل زكار، ص: ٣٠ ✍️ جمع وترتیب: عادل عبد الرحمن #فضائل-صحابہ #سیدنا_علی