📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Open in Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
2 924
🔹 *والله لو علِموا قبيح سريرتي*
🔹 *لأبى السلامَ عليّ من يلقاني*
اللہ کی قسم! اگر لوگ میرے پوشیدہ گناہوں کو جان لیں، تو کوئی ملنے والا مجھے سلام تک کرنے کا روادار نہ ہو۔
🔹 *ولأعرضوا عني و ملّوا صُحبتي*
🔹 *ولبؤتُ بعدَ كرامةٍ بهوانِ*
سب مجھ سے کنی کترائیں، میری صحبت سے بیزار ہو جائیں، اور میں اپنی عزت و تکریم سمیت دھڑام ہو جاؤں۔
🔹 *لكنْ سترتَ معايبي و مثالبي*
🔹 *وحَلمتَ عن سقطي و عن طغياني*
لیکن مولا! یہ تو ہے جس نے میرے گناہوں اور عیبوں کو چھپا رکھا ہے، اور میری کوتاہیوں اور سرکشی کو اپنے حلم کی چادر اوڑھا رکھی ہے۔
🔹 *فلك المحامدُ و المدائحُ كلها*
🔹 *بخواطري و جوارحي و لساني*
پس تیرے ہی لیے تمام محامد و تعریفات ہیں، زبانی بھی، عملی بھی اور وہ بھی جو وہم و خیال میں وارد ہوتی ہیں۔
📚 - *(نونية الإمام القحطاني رحمه الله)*
#سلسلة_اقوال_السلف
2 924
*’’محدث العصر، شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اپنی بیٹی سُکَینہ کے قلم سے‘‘*
✿۔ ’’اللہ تعالی میرے ابا جی کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے میرے چھوٹے چھوٹے سوالوں پر صبر کیا، مجھے نہیں یاد کہ کبھی انہوں نے میرے سوال پر سوال ڈالا ہو، یا کسی اشکال پر ڈانٹا ہو، بلکہ میں ان کے سامنے جو بھی سوال رکھتی، خطیر ہوتا یا یسیر ہوتا، ان کی بڑی عنایت و توجہ اور ہدایت و اصلاح کا مرکز ہوتا، بلکہ مجھے ان کے بعض جوابات وہ بھی یاد ہیں کہ جب اپنی آخری بیماری میں بستر پر دائیں یا بائیں کروٹ پر لیٹے ہوتے، میں زمین پر بیٹھی ہوتی اور میرا منہ پیارے بابا جان کے منہ کے بالکل سامنے ہوتا۔‘‘ (سألت أبي العالم الإمام محمد ناصر الدین الألباني، ص : ٨)
✿۔ ’’مجھے ان کا نماز فجر کے لیے جگانا بھی یاد ہے کہ کبھی ان کے جگانے سے پہلے مرغ بانگ دے چکا ہوتا اور کبھی ان کے بعد دیتا۔‘‘ (أيضا : ٩)
✿۔ ’’میں نے اپنے بھائی عبد المہیمن کے ہاتھ ایک دفعہ خط بھیجا، اس میں میرے کچھ احادیث کی صحت کے متعلق سوالات تھے تو بھائی نے بتایا کہ ابو خط لیتے ہی فورا مکتبے میں چلے گئے اور جو جوابی خط مجھے آیا اس سے ان کی علم حدیث سے محبت ٹپکتی تھی۔‘‘ (أيضا : ٦)
✿۔ ’’میں جب بھی ملنے جاتی تو کاپی پنسل پاس رکھتی، جب اُن کا میرے سوالات کے جواب دینے کا ارادہ ہوتا تو پوچھتے: آپ کی کتاب کہاں ہے؟
اسی طرح میرے پاس ایک چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈ تھا جس میں ان کے ساتھ بیٹھ کر کیے گئے سوال ریکارڈ کیا کرتی تھی، میرے لانے تک بیٹھ کر انتظار کرتے اور میں کبھی مائیک ان کی قمیض پر بھی لگا دیا کرتی ۔‘‘ (أيضا : ٧)
✿۔ ’’کبھی میرے کسی سوال پر مسکرا پڑتے، یا کسی جملے پر ہنس دیتے۔‘‘ (أيضا : ٩)
✿۔ ’’ایک دن میں اپنے کسی مسئلے پر ان کا جواب بڑی چھوٹی چھوٹی لکھائی میں لکھ رہی تھی، تو کہنے لگے : ہمارے ایک استاد، ہمیں چھوٹا چھوٹا لکھتے دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ یوں کیڑے مکوڑے نہ مارا کرو، کیوں کہ ایک دن آپ کو اپنی یہ گڈ مڈ لکھائی پڑھنے کے لیے بڑی ساری عینک لگانا پڑے گی۔‘‘ (أيضاً : ٣١٩)
✿۔ ’’ایک دن راحت طعام سے فراغت کے بعد ہم بیٹھے تو پوچھنے لگے : آپ کے پاس کوئی سوال نہیں ہے؟ میرے پاس کوئی سوال تیار نہیں تھا تو اپنی کاپی کے صفحے الٹ پلٹ کرنے لگی تاکہ دیکھوں کہ کسی مسئلے کا جواب باقی تو نہیں ہے تو فرمانے لگے : تاجر جب مفلس ہو جاتا ہے تو اپنے پرانے اوراق کی طرف پلٹتا ہے۔ اسی دوران مجھے ایک سوال مل گیا جو ابھی منتظرِ جواب تھا۔‘‘ (أيضا)
✿۔ ’’کسی بات کے دوران ایک مرتبہ کسی حدیث کا حوالہ دیا جو میں نے کبھی نہیں سنی تھی تو میں نے حیرانی سے پوچھا : یہ حدیث صحیح ہے؟ تو ہنس کر فرمانے لگے : تو اور کیا؟؟‘‘ (أيضاً)
✿۔ ’’ایک دن فون پر میں نے پوچھا : ابو جی کیا حال ہیں؟ ہر چیز بالکل ٹھیک ہے؟ فرمانے لگے : الحمد للہ، باقی ہر چیز تو دنیا میں ٹھیک نہیں ہوتی۔‘‘ (أيضاً)
✿۔ ’’امی بتاتی ہیں کہ ابو جان کہا کرتے تھے، میں نے ایک کتاب دو مرتبہ خریدی، قصہ مختصر! ہوا یوں کہ انہوں نے کوئی کتاب خرید کر اپنی لائبریری کی الماری میں رکھی تھی، ایک شخص نے ادھار مانگ لی، جب انہوں نے واپس مانگی تو مُکر گیا کہ میں نے تو کوئی کتاب نہیں لی، کچھ عرصے بعد ابو جان نے اس کے ہاتھ میں وہی کتاب دیکھی تو اسے کہا یہ میری کتاب ہے، بہتیرا منایا بلکہ نشانی بھی دکھائی کہ دیکھو میری کتاب ہے، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا، بلکہ کہنے لگا : میں نے ایسے ہی خریدی تھی ۔ تو ابا جان نے کہا چلو پھر مجھے بیچ دو اور اس طرح ایک کتاب کی دوہری خریداری پڑ گئی۔‘‘ (أيضاً : ٣١٥)
✿۔ ‘‘فون کرتے ہی ایک دفعہ میں نے جھٹ سے پوچھا : ابو جی! میرے کچھ سوالات ہیں، اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہو تو!!!؟؟ فرمانے لگے : اگر میرے پاس وقت نہ بھی ہو تو آپ کے لیے تو ضرور نکال لوں گا، اللہ ان پر رحم فرمائے اور انہیں جزائے خیر دے، ابا جی! ابھی بھی میرے پاس بہت سے سوالات ہیں کہ جو اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب محض خیالوں میں جا بسے ہیں۔‘‘ (أيضاً : ٣٢١)
... ترجمہ و تلخیص : حافظ محمد طاهر
#سلسلة_اقوال_السلف
2 924
ان قرآن الفجر کان مشھودا۔
ومن اللیل فتھجد بہ (الاسراء).
قرآن الفجر ای صلاةالفجر۔
اللہ اکبر! عظمت قرآن دیکھئے کہ۔ قرآن ہی کو ،صلاة، کہ دیا گیا ہے۔ اور قرآن کے بغیر بھلا، نماز کہاں ہوتی ہے۔
اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فجر کی نماز میں قرات قرآن لمبی کی جائے۔
اس کے معا بعد تہجد کی نماز کا ذکر ہے۔
افضل الصلاة بعدالفریضة صلاةاللیل۔ (مسلم)
لہذا قرآن پر تدبر اور تہجد سے غافل نہ ہوں۔
نوٹ۔ کوشش یہ ہو کہ مہینوں نہیں برسوں ایک رات بھی آپ کی تہجد نہ چھوٹے اور گیارہ رکعت ادا کریں۔
پھر دعائیں ہوں۔ وہ بھی۔
Eyes brimming with tears.
القاسمی
#تفسیر
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: میت کی جانب سے حج کرنا۔
حدیث نمبر: 2904
❤️عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٤) (صحیح الإسناد )
✏️ وضاحت: ١ ؎: یعنی باپ کے بڑے احسانات ہیں، آدمی کو چاہیے کہ اپنے والد کی طرف سے خیر خیرات اور اچھے کام کرے، جیسے صدقہ اور حج وغیرہ، اگر یہ نہ ہو سکے تو اتنا ضروری ہے کہ والد کے ساتھ برائی نہ کرے، وہ برائی یہ ہے دوسرے لوگوں سے لڑ کر والد کو گالیاں دلوائے یا برا کہلوائے یا ان کے والد کو برا کہہ کر، جیسے دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کو گالی دے، لوگوں نے عرض کیا: اپنے والد کو کون گالی دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح سے کہ دوسرے کے والد کو گالی دے وہ اس کے والد کو گالی دے۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: عورت کا بغیر ولی کے حج کرنا۔
حدیث نمبر: 2900
🌹عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کرلیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: جاؤ اس کے ساتھ حج کرو ۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٤١)، الجہاد ١٨١ (٣٠٦١)، (تحفة الأشراف: ٦٥١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٦ (٣٠٦١)، مسند احمد (١/٣٤٦) (صحیح )
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: عورت کا بغیر ولی کے حج کرنا۔
حدیث نمبر: 2899
🌹ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ درست نہیں ہے کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر کرے، اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔
📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ٤ (١٠٨٨)، صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٣٩)، سنن ابی داود/الحج ٢ (١٧٢٣)، سنن الترمذی/الرضاع ١٥ (١٦٦٩)، موطا امام مالک/الإستئتذان ١٤ (٣٧)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٣٤٠، ٣٤٧، ٤٢٣، ٤٣٧، ٤٤٥، ٤٩٣) (صحیح )
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: عورت کا بغیر ولی کے حج کرنا۔
حدیث نمبر: 2898
❤️ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر باپ یا بھائی یا بیٹے یا شوہر یا کسی محرم کے بغیر نہ کرے ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ٧٤ (١٣٤٠)، سنن ابی داود/الحج ٢ (١٧٢٦)، سنن الترمذی/الرضاع ١٥ (١١٦٩)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزء الصید ٢٦ (١٨٦٤ مختصراً )، مسند احمد (٣/ ٥٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٦ (٢٧٢٠) (صحیح )
✏️ وضاحت: ١ ؎: محرم: شوہر یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔ محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے نکاح حرام ہو، تو دیور یا جیٹھ کے ساتھ عورت کا سفر کرنا جائز نہیں، اسی طرح بہنوئی، چچا زاد یا خالہ زاد یا ماموں زاد بھائی کے ساتھ کیونکہ یہ لوگ محرم نہیں ہیں، محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔ اور اس حدیث میں تین دن کی قید اتفاقی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تین دن سے کم سفر غیر محرم کے ساتھ جائز ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ایک دن کا ذکر ہے۔ اور اہل حدیث کے نزدیک سفر کی کوئی حد مقرر نہیں جس کو لوگ عرف عام میں سفر کہیں وہ عورت کو بغیر محرم کے جائز نہیں، البتہ جس کو سفر نہ کہیں وہاں عورت بغیر محرم کے جاسکتی ہے جیسے شہر میں ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں، یا نزدیک کے گاؤں میں جس کی مسافت ایک دن کی راہ سے بھی کم ہو۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: حاجی کی دعا کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2895
🌹🌹صفوان بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کی زوجیت میں ابوالدرداء ؓ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتا ہے، اور کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو ۔ صفوان ؓ کہتے ہیں کہ پھر میں بازار کی طرف چلا گیا، تو میری ملاقات ابو الدرداء ؓ سے ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٣ (٢٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٣٩) (صحیح )
2 924
🌺 *جنتی درجوں میں فاصلہ !*
🔹 *ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے“۔*🔹
📗«جامع ترمذی -2529»
#جنت
2 924
*✨ حدیث رسول ﷺ کی تعظیم اور صحابہ کرام کا رویہ٠٠٠*
• سیدنا عبدالله بن مغفل رضی اللّٰه عنه سے روایت ہے کہ ان کا ایک بھتیجا ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے (دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر دور) کنکری پھینکی، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا: الله کے رسول ﷺ نے اس حرکت سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے: "اس سے شکار ہوتا ہے نہ دشمن زخمی ہوتا ہے(یعنی کوئی فائدہ نہیں، لیکن) یہ کسی کا( حادثاتی طور پر) دانت توڑ دیتی ہے اور( کسی کی) آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔" (کچھ دیر بعد) ان کے بھتیجے نے پھر یہی حرکت کی تو سیدنا عبدالله نے فرمایا:
*« میں تجھے بتا رہا ہوں کہ الله کے رسول ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ،تو پھر بھی یہ حرکت کرتا ہے، میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا ».*
📒 { سنن ابن ماجه : ١٧ }
#منتخب_احادیث #فوائد
2 924
*🤝- دوست كى ذمہ داریاں•••*
🌼 جس شخص نے آپ كو *’’ خامى‘‘* سے آگاہ كیا اس نے آپ كو دوست بنانے كى كوشش كى اور جس نے آپ كى غلطیوں اور كوتاہیوں كو معمولى سمجھا اس نے آپ سے *’’ بے نیازى‘‘* كا اظہار كیا۔
🌼 دوست كى *سرزنش* ایسے ہى ہے جیسے سونے كى ڈلى كو بھٹى میں ڈالا جائے یا تو وہ نكھر كر سامنے آئے گا یا ختم ہو جائے گى۔
🌼 آپ كے دوستوں مىں سے جو شخص اپنے ایسے *’’ راز ‘‘* چھپاتا ہے جس كا آپ سے گہرا تعلق ہو، وہ اس شخص كى نسبت زیادہ خائن ہے جو آپ كا راز فاش كرتا ہے، كیونكہ جس نے آپ كا راز فاش كیا اس نے خیانت كى اور اور جس نے آپ سے متعلقہ راز كو چھپالیا اس نے خیانت بھى كى اور خیانت كرنے پر آمادہ بھى كیا».
📙 - (تزکیه نفس لابن حزم : ٧٥)
#سلسلة_اقوال_السلف
2 924
🌺 *برتن میں سانس نہ لو!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۔*🔹
📗«صحیح بخاری-١٥٣»
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: حج کا بیان
باب: حج کیلئے سفر کرنا۔
حدیث نمبر: 2882
🌹ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے (کی سہولتوں) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کرلے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمرة ١٩ (١٨٠٤)، الجہاد ١٣٦ (٣٠٠١)، الأطعمة ٣٠ (٥٤٢٩)، صحیح مسلم/الإمارة ٥٥ (١٩٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ١٥ (٣٩)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٤٤٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٠ (٢٧١٢) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سفر میں رہنا اور تکلیفیں اٹھانا صحیح نہیں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر گرچہ حج یا جہاد کے لیے ہو تب بھی کام پورا ہونے کے بعد جلدی گھر لوٹنا بہتر ہے، اس میں خود اس شخص کو بھی آرام ہے اور اس کے گھر والوں کو بھی جو جدائی سے پریشان رہتے ہیں، اور مدت دراز تک شوہر کا اپنی بیوی سے علاحدہ رہنا بھی مناسب نہیں ہے، حاجت بشری اور خواہش انسانی ساتھ لگی ہوئی ہے مبادا گناہ میں گرفتاری ہو، اللہ بچائے۔
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: جہاد کا بیان
باب: خمس کی تقسیم۔
حدیث نمبر: 2881
💐جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، چناچہ انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس ١٧ (٣١٤٠)، المناقب ٢ (٣٥٠٢)، المغازي ٣٩ (٤٢٢٩)، سنن ابی داود/الخراج ٢٠ ٢٩٧٨، ٢٩٨٩)، سنن النسائی/قسم الفئی ١ (٤١٤١)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨١، ٨٣، ٨٥) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: عبد مناف کے چار بیٹے تھے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، جبیر نوفل کی اولاد میں سے تھے اور عثمان عبد شمس کی اولاد میں سے، تو نبی کریم ﷺ نے ذوی القربی کا حصہ ہاشم اور مطلب کو دیا، اس وقت ان دونوں نے اعتراض کیا کہ بنی ہاشم کی فضیلت کا تو ہمیں انکار نہیں کیونکہ آپ ﷺ بنی ہاشم کی اولاد میں سے ہیں، لیکن بنی مطلب کو ہمارے اوپر ترجیح کی کوئی وجہ نہیں، ہماری اور ان کی قرابت آپ ﷺ سے یکساں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سچ یہی ہے لیکن بنی مطلب ہمیشہ یہاں تک کہ جاہلیت کے زمانہ میں بھی بنی ہاشم کے ساتھ رہے تو وہ اور بنی ہاشم ایک ہی ہیں، برخلاف بنی امیہ کے یعنی عبدشمس کی اولاد کے کیونکہ امیہ عبد شمس کا بیٹا تھا جس کی اولاد میں عثمان اور معاویہ اور تمام بنی امیہ تھے کہ ان میں اور بنی ہاشم میں کبھی اتفاق نہیں رہا، اور جب قریش نے قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ میل جول رکھیں گے جب تک وہ نبی کریم ﷺ کو ہمارے حوالہ نہ کردیں، اس وقت بھی بنی مطلب اور بنی ہاشم ساتھ ہی رہے، پس اس لحاظ سے آپ ﷺ نے ذوی القربی کا حصہ دونوں کو دلایا۔
2 924
📗سنن ابن ماجہ
کتاب: جہاد کا بیان
باب: دشمن کے علاقوں میں قرآن لے جانے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2879
🌸عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر فرمائی کہ کہیں اسے دشمن پا نہ لیں ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد ١٢٩ (٢٩٩٠)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٤ (١٨٦٩)، سنن ابی داود/الجہاد ٨٨ (٢٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد ٢ (٧)، مسند احمد (٢/٦، ٧، ١٠، ٥٥، ٦٣، ٧٦، ١٢٨) (صحیح )
✏️ وضاحت: ١ ؎: اور اس کو ضائع کردیں یا اس کی اہانت اور بےحرمتی کریں، ممکن ہے کہ یہ ممانعت نبی کریم ﷺ کے عہد سے خاص ہو جب مصحف کے نسخے بہت کم تھے، اور اکثر ایسا تھا کہ مصحف کی بعض آیتیں یا بعض سورتیں خاص خاص لوگوں کے پاس تھیں اور پورا مصحف کسی کے پاس نہ تھا تو آپ ﷺ کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں یہ مصحف تلف ہوجائیں اور قرآن کا کوئی جزء مسلمانوں سے بالکل اٹھ جائے، لیکن اس زمانہ میں جب قرآن مجید کے لاکھوں نسخے چھپے موجود ہیں اور قرآن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ موجود ہیں، یہ اندیشہ بالکل نہیں رہا، جب کہ قرآن کریم کی اہانت اور بےحرمتی کا اندیشہ اب بھی باقی ہے، سبحان اللہ، اگلی امتوں میں سے کسی بھی امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا تھا جو پوری تورات یا انجیل کا حافظ ہو، اب مسلمانوں میں ہر بستی میں سینکڑوں حافظ موجود ہیں، یہ فضیلت بھی اللہ تعالیٰ نے اسی امت کو دی ہے۔
2 924
*🕌 باجماعت نماز اور اسلاف*
◻️امام ابراھیم نخعی تابع فرماتے ہیں: « جب تم کسی شخص کو تکبیر اولی سے نماز پڑھنے میں سستی کرتے دیکھو تو اس سے اپنے ہاتھ دھولو یعنی دور رہو ».
*📖 [ حلية الأولياء : (٤ /٢١٥) ]*
#سلسلة_اقوال_السلف
2 924
*🌴 امام ابو زرعه کے آخری لمحات*
• إبن وارہ کہتے ہیں کہ میں اور ابو حاتم امام ابو زرعہ کے پاس تھے کہ جب وہ قریب المرگ تھے تو انہوں نے فرمایا: « رسول الله صلی الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ جس کا آخری کلام لا اله الا الله ہو وہ جنت میں داخل ہوگا »
*« امام ابو زرعه رحمه الله نے جیسے ہی یہ فرمایا انکی روح نکل گئی ».*
📜 [ سير أعلام النبلاء ( ٨٥/١٣) ]
#سلسلة_اقوال_السلف
