en
Feedback
📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

📚حدیثِ رسـولﷺ🌴

Open in Telegram

🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°

Show more
The country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: جزیہ لینے کا بیان حدیث نمبر: 3038 🌹معاذ ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا، تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر قیمت کا معافری کپڑا جو یمن میں تیار ہوتا ہے جزیہ لیں۔ 📚تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزکاة ٨ (٢٤٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٣١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٥ (٦٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٢ (١٨٠٣)، مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٣، ٢٤٧) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: جو زمین کافروں کے ملک میں جنگ کے بعد حاصل ہو مسلمانوں میں اسی تقسیم کا طریقہ حدیث نمبر: 3035 ♥️ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ایک وقت آئے گا) جب عراق اپنے پیمانے اور روپے روک دے گا اور شام اپنے مدوں اور اشرفیوں کو روک دے گا اور مصر اپنے اردبوں ٢ ؎ اور اشرفیوں کو روک دے گا ٣ ؎ پھر (ایک وقت آئے گا جب) تم ویسے ہی ہوجاؤ گے جیسے شروع میں تھے ٤ ؎، (احمد بن یونس کہتے ہیں:) زہیر نے یہ بات (زور دینے کے لیے) تین بار کہی اور ابوہریرہ ؓ کے گوشت و خون (یعنی ان کی ذات) نے اس کی گواہی دی۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفتن وأشراط الساعة ٨ (٢٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٢)، (صحیح ) ✏️ وضاحت: ١ ؎: سواد سے مراد عراق کے دیہات کی وہ زمینیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے عمر ؓ کے عہد میں حاصل کیا، یہ اپنے کھجور کے باغات اور زراعت کی ہریالی کی وجہ سے سواد کے نام سے مشہور ہے، اور اس کی لمبائی موصل سے عبدان تک اور چوڑائی قادسیہ سے حلوان تک ہے۔ امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ مفتوحہ زمینیں مال غنیمت میں داخل نہیں ہیں، امام کو مصلحت کے اعتبار سے اس کے تصرف کے بارے میں اختیار ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے تقسیم بھی کیا ہے، اور چھوڑا بھی ہے، عمر ؓ نے تقسیم نہ کر کے اس کو جوں کا توں رکھا اور اس پر مستقل خراج (محصول) مقرر کردیا، جو فوجیوں کے استعمال میں آئے، یہ اس زمین (ارض سواد) کے وقف کا معنی ہے، اس کا معنی اصطلاحی وقف نہیں ہے، جس کی ملکیت منتقل نہیں ہوسکتی بلکہ اس زمین کا بیچنا جائز ہے، جس پر امت کا عمل ہے، اور اس بات پر اجماع ہے کہ یہ وراثت میں منتقل ہوگی، اور وقف میں وراثت نہیں ہے، امام احمد نے یہ تنصیص فرمائی ہے کہ اس (ارض سواد) کو مہر میں دیا جاسکتا ہے، اور وقف کو مہر میں دینا جائز نہیں ہے، اور اس واسطے بھی کہ وقف کی بیع ممنوع ہے، ایسے ہی اس کی نقل ملکیت بھی ممنوع ہے، اس لیے کہ جن لوگوں کے لیے وقف ہوتا ہے، وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے، اور فوجیوں کا حق زمین (ارض سواد) کے خراج (محصول) میں ہے، تو جس نے اس زمین کو خرید لیا وہ اس کے خراج کا مستحق ہوگیا، جیسے کہ کوئی چیز بائع کے یہاں ہوتی ہے (تو جب مشتری کے یہاں منتقل ہوتی ہے، تو اس کا نفع بھی منتقل ہوجاتا ہے)، تو اس بیع سے کسی مسلمان کا حق باطل نہیں ہوتا، جیسے کہ میراث، ہبہ اور صدقہ سے باطل نہیں ہوتا۔ (انتہی مختصراً ) مسلمانوں نے جن علاقوں کو جنگ کے ذریعہ حاصل کیا اس کے بارے میں اختلاف ہے، امام ابن منذر کہتے ہیں کہ امام شافعی اس بات کی طرف گئے ہیں کہ عمر ؓ نے ان مجاہدین کو راضی کرلیا تھا جنہوں نے علاقہ سواد کو فتح کیا تھا اور مال غنیمت میں اس کے حق دار تھے، اور طاقت سے حاصل کی گئی زمین کا حکم یہ ہے کہ وہ تقسیم کی جائے گی، جیسے کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی زمین کو تقسیم فرمایا تھا، امام مالک کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں حاصل ہونے والی یہ زمینیں تقسیم نہیں کی جائیں گی بلکہ یہ وقف رہیں گی، اور اس کے محصول سے فوجیوں کے وظائف، پل بنانا اور دوسرے کار خیر کیے جائیں گے، ہاں اگر امام کبھی یہ دیکھے کہ مصلحت کا تقاضا اس کا تقسیم کردینا ہے تو وہ اس زمین کو تقسیم کرسکتا ہے، ابوعبید نے کتاب الأموال میں حارثہ بن مضرب سے نقل کیا ہے کہ عمر ؓ نے سواد کی زمین کو تقسیم کرنے کا ارادہ فرمایا اور اس سلسلے میں مشورہ کیا تو علی ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ اسے مسلمانوں کے مفاد عامہ کے لیے چھوڑ دیجئے، تو آپ نے اسے مجاہدین میں تقسیم نہ کر کے اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا، اور عبداللہ بن ابی قیس سے یہ نقل کیا کہ عمر ؓ نے ارض سواد کی تقسیم کا ارادہ فرمایا تو معاذ ؓ نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ اسے تقسیم کردیں گے تو اس کی بڑی آمدنی لوگوں کے پاس چلی جائے گی اور لوگوں کے فوت ہوجانے کے بعد وہ ایک مرد یا ایک عورت کے ہاتھ میں چلی جائے گی، اور دوسرے ضرورت مند مسلمان آئیں گے تو انہیں کچھ نہ ملے گا، تو آپ کوئی ایسا راستہ اختیار کیجئے جس سے پہلے اور بعد کے سارے مسلمان فائدہ اٹھائیں، تو عمر ؓ نے اس زمین کی تقسیم کو مؤخر کردیا، اور غنیمت پانے والے مجاہدین اور بعد کے آنے والے لوگوں کی مصلحت کے لیے اس پر محصول لگا دیا۔ (عون المعبود شرح سنن ابی داود ٨/١٩٤، ١٩٥) ٢ ؎: اردب ایک پیمانہ کا نام ہے۔ ٣ ؎: یعنی ان ممالک کی دولت پر تم قابض ہوجاؤ گے۔ ٤ ؎: یعنی یہ ساری دولت تم سے چھِن جائے گی۔

📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: جزیرةالعرب سے یہودیوں کا اخراج حدیث نمبر: 3029 💞عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی وفات کے وقت) تین چیزوں کی وصیت فرمائی (ایک تو یہ) کہا کہ مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا، دوسرے یہ کہ وفود (ایلچیوں) کے ساتھ ایسے ہی سلوک کرنا جیسے میں ان کے ساتھ کرتا ہوں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: اور تیسری چیز کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا یا کہا کہ (نبی اکرم ﷺ نے ذکر تو کیا) لیکن میں ہی اسے بھلا دیا گیا۔ حمیدی سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے کہا کہ مجھے یاد نہیں، سعید نے تیسری چیز کا ذکر کیا اور میں بھول گیا یا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا خاموش رہے۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٧٥ (٣٠٥٣)، الجزیة ٦ (٣١٦٨)، المغازي ٨٣ (٤٤٣١)، صحیح مسلم/الوصیة ٥ (١٦٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥٥١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٢) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: طائف کی فتح کا بیان حدیث نمبر: 3025 🪷وہب کہتے ہیں میں نے جابر ؓ سے بنو ثقیف کی بیعت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ثقیف نے نبی اکرم ﷺ سے شرط رکھی کہ نہ وہ زکاۃ دیں گے اور نہ وہ جہاد میں حصہ لیں گے۔ جابر ؓ کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب وہ مسلمان ہوجائیں گے تو وہ زکاۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے ١ ؎۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤١) (صحیح )

#تکبیرات
#تکبیرات

#تکبیرات
+1
#تکبیرات

📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: فتح مکہ کا بیان حدیث نمبر: 3024 🌹ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے زبیر بن عوام، ابوعبیدہ ابن جراح اور خالد بن ولید ؓ کو گھوڑوں پر سوار رہنے دیا، اور ابوہریرہ ؓ سے کہا: تم انصار کو پکار کر کہہ دو کہ اس راہ سے جائیں، اور تمہارے سامنے جو بھی آئے اسے (موت کی نیند) سلا دیں ، اتنے میں ایک منادی نے آواز دی: آج کے دن کے بعد قریش نہیں رہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو گھر میں رہے اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو امن ہے ، قریش کے سردار خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے تو خانہ کعبہ ان سے بھر گیا، نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر خانہ کعبہ کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر (کھڑے ہوئے) تو خانہ کعبہ کے اندر سے لوگ نکلے اور نبی اکرم ﷺ سے اسلام پر بیعت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا مکہ طاقت سے فتح ہوا ہے؟ تو احمد بن حنبل نے کہا: اگر ایسا ہوا ہو تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: تو کیا صلح (معاہدہ) کے ذریعہ ہوا ہے؟ کہا: نہیں۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجھاد ٣١ (١٧٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٢، ٥٣٨) (صحیح )

*عشرہ ذوالحجہ!* أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ❞وَالْفَجْرِ. وَلَيَالٍ عَشْرٍ.❝ «اور قسم ہے وقتِ فجر کی اور (قسم ہے) دَس راتوں کی۔» 📚 سورة والفجر، الآية: ٢، ١ - فوائد: ١۔ "وَالْفَجْرِ" شیخ محمد عبدہ الفلاح رحمه الله فرماتے ہیں: « صبح سے مراد ہر صبح ہے یا خاص یکم محرم کی صبح کیوں کہ اس سے سال کی ابتدا ہوتی ہے یا یکم ذی الحجہ کی صبح کیوں کہ اس سے ان دس راتوں کی ابتدا ہوتی ہے جن کا ذکر بعد کی آیت میں آرہا ہے ». 📚 تفسير اشرف الحواشی، سورة والفجر، تحت الآية: ١» ٢۔ "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" جناب زُرَارَة الحَرَشی رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الله بن عباس رضي الله عنھما نے فرمایا: ❞إِنَّ اللَّيَالِي الْعَشْر الَّتِي أَقْسَمَ اللَّه بِهَا، هِيَ لَيَالِي الْعَشْر الْأُوَل مِنْ ذِي الْحِجَّة.❝ « وہ دَس راتیں، جن کے ساتھ اللہ نے قسم اٹھائی ہے ان سے مراد ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے ». 📚 جامع البيان عن تأويل أي القرآن للطبري، سورة والفجر، تحت الآية: ٢ ⤺ وسندہ صحيح

عمل صالح کے لئے سال میں سب سے بہتر دن ━═════﷽════━ ⦿ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ما مِن أيّامٍ العمَلُ الصّالحُ فيهنَّ أحبُّ إلى اللَّهِ مِن هذهِ الأيّامِ العَشر فقالوا يا رسولَ اللَّهِ ولا الجِهادُ في سبيلِ اللَّهِ؟ فقالَ رسولُ اللَّهِ ﷺ ولا الجِهادُ في سبيلِ اللَّهِ إلّا رجلٌ خرجَ بنفسِهِ ومالِهِ فلم يرجِعْ من ذلِكَ بشيءٍ‘‘۔ ”ان دنوں میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کسی اور دن کا عمل صالح محبوب نہیں“۔( یعنی ذی الحجہ کے دس دن)۔ لوگوں نے پوچھا :اے اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا، پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“۔ [صحیح البخاري:۹٦۹، سنن أبي داود:۲٤۳۸، سنن الترمذي: ۷۵۷ واللفظ لھما] ✵ #تشریح: ’’عمل صالح“ میں نماز، صدقہ، روزہ، ذکر و اذکار، تکبیر، قرآن مجید کی تلاوت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک اور پڑوسیوں کے ساتھ خوش اخلاقی جیسے تمام اعمال صالحہ شامل ہیں۔ اسی بنا پر ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کا روزہ رکھنا مسنون ہے؛ کیونکہ یہ عملِ صالح کے عموم میں شامل ہے۔ البتہ یہاں دسویں دن کا روزہ چھوڑ کر مراد ہے؛ کیوں کہ عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔ اس حدیث سے ماہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں عملِ صالح کرنے کی فضیلت کی دلیل ملتی ہے۔ •┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•

🌸 *حج کا ثواب اور پرہیز !* 🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا اور اس میں نہ «رفث» یعنی شہوت کی بات منہ سے نکالی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔*🔹 📗«صحیح بخاری-1819»

💞 *ذی الحجہ میں نیک اعمال !* 🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا:اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے۔*🔹 📗«سنــن ابــن ماجہ -1727»

💓 *••• عشرہ ذی الحجہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنے کی عظیم حکمت •••* 👈 الإمام العلامة أبو زكريا يحيى بن شرف *النووي* - رحمه الله رحمة واسعة - فرماتے ہیں: *”عشرہ ذی الحجہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنے کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا كامل الأعضاء رہے اور جہنم سے كامل الأعضاء ہی آزاد کیا جائے۔‘‘* 📕 - |[ شرح صحیح مسلم : ١٣٨/١٣ ]|

👈 - *عشرہ ذو الحجہ میں ناخن یا بال کاٹنے کے تعلق سے ایک غلط فہمی ...* *♦️ شیخ ابن عثیمین رحمه الله فرماتے ہیں:* "بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی نے قربانی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ پھر اس کے بعد بال یا ناخن کاٹ لیے ہیں تو اس کی قربانی قبول نہ ہوگی۔ *ایسا سمجھنا غلطی ہے۔* حقیقت تو یہ ہے کہ قربانی کے قبول ہونے کا تعلق ناخن اور بال کاٹنے سے نہیں ہے. ہاں اگر کوئی بلا عذر (قربانی کا ارادہ کرنے کے بعد) بال یا ناخن کاٹتا ہے تو وہ رسول الله صلی الله علیه وسلم کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے ایسے شخص کو چاہیے کہ الله سبحانه وتعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے۔ رہی قربانی کی بات تو ناخن یا بال کو کاٹ لینا قربانی کے قبول ہونے میں مانع نہیں ہے۔" *📚 انظر : أحكام الأضحية والزكاة : ❪٢٥٦/٢❫* *💻 حوالہ از مکتبہ شاملہ عربی سافٹویئر*

✨ - حج کے برابر اعمــال
✨ - حج کے برابر اعمــال

🔍 *•• عشرہ ذی الحجہ افضل ہے یا رمضان کا آخری عشرہ ؟! ••* 🔹 *شيخ الاسلام ابنِ تيميہ رحمہ اللہ* سے پوچھا گیا کہ عشرہ ذی الحجہ افضل ہے یا رمضان کا آخری عشرہ ؟ تو آپ نے فرمایا : 👈 "عشرہ ذی الحجہ کے دن رمضان کے آخری عشرے سے افضل ہیں، اور رمضان کے آخری عشرے کی راتیں عشرہ ذی الحجہ سے افضل ہیں." 📘 - *|[ مجموع الفتاوى : ٢٨٧/٢٥ ]|* ✍ *امام ابنِ القیم رحمه الله فرماتے ہیں :* "اگر کوئی سمجھ دار فاضل شخص اس جواب پر غور کرے تو اسے کافی و شافی پائے گا. 🔹 کیونکہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں کیا گیا عمل اللہ کو عشرہ ذی الحجہ کے دنوں میں کیے گئے عمل سے ذیادہ محبوب ہو. اور ان دس دنوں میں یوم العرفة، یوم التروية اور یوم النحر (۸ ،٩، ١٠) جیسے عظیم دن شامل ہیں. 🔹 اور جو رمضان کے آخری عشرے کی راتیں ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں ساری ساری رات عبادت کیا کرتے تھے اور ان راتوں میں لیلة القدر جیسی عظیم رات بھی ہے." 📘 - *|[ بدائع الفوائد : ١١٠٢/٣ ]|*

💞 *ذی الحجہ میں نیک اعمال !* 🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا:اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے۔*🔹 📗«سنــن ابــن ماجہ -1727»

📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: خیبر کی زمین کا بیان اور اس کا حکم حدیث نمبر: 3020 🌹عمر ؓ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا (یعنی ان کی محتاجی کا) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کردیتا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحرث ١٤ (٢٣٣٤)، فرض الخمس ١٤ (٣١٢٥)، المغازي ٣٨ (٤٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١، ٣٢) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: خیبر کی زمین کا بیان اور اس کا حکم حدیث نمبر: 3009 🌹انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل خیبر سے جہاد کیا، ہم نے اسے لڑ کر حاصل کیا، پھر قیدی اکٹھا کئے گئے (تاکہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے) ۔ 📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٢ (٣٧١)، صحیح مسلم/الجھاد ٤٣ (١٣٦٥)، سنن النسائی/النکاح ٦٤ (٣٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩) (صحیح )

📗سنن ابوداؤد کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء باب: خیبر کی زمین کا بیان اور اس کا حکم حدیث نمبر: 3008 💞عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہوگی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے،، چناچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ ﷺ اس میں سے پانچواں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو (سال بھر میں) دیتے، پھر جب عمر ؓ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کرلیا تو امہات المؤمنین کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے کہ میں اس کو اتنے درخت دے دوں جن میں سے سو وسق کھجور نکلیں مع جڑ کھجور اور پانی کے اور اسی طرح کھیتی میں سے اس قدر زمین دے دوں جس میں بیس وسق جو پیدا ہو، تو میں دے دوں اور جو پسند کرے کہ میں خمس میں سے اس کا حصہ نکالا کروں جیسا کہ ہے تو میں ویسا ہی نکالا کروں گا۔ 📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة ١ (١٥٥١)، (تحفة الأشراف: ٧٤٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث ٨ (٢٣٢٨)، سنن الترمذی/الأحکام ٤١ (١٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٤ (٢٤٦٧)، مسند احمد (٢/١٧، ٢٢، ٣٧) (صحیح )