📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Open in Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
2 924
👈 - *علم بھائیوں سے نہیں لیا جاتا!*
سائل نے داڑھی کے مسئلے میں سوال کیا کہ "بعض اخوان کہتے ہیں".... الخ ... شیخ العصیمی حفظہ اللہ (سابق رکن ہئیۃ کبار علماء) نے جواب کے آغاز میں بہت قیمتی کلمات کہے ، *(العلم لا يؤخذ من الإخوان ، بل يؤخذ من أهله ، وإذا أردت أن تجعل دينك عرضة لكل متكلم ضاع عليك دينك)* بھئی یہ دین (اخوان)(brothers) سے نہیں لیا جاتا اہل علم سے لیا جاتا ہے، اگر آپ ہر ہر متکلم سے دین لینے لگو گے تو دین کو ضایع کر بیٹھو گے ...
کتنی قیمتی نصیحت ہے ، اور آج کے نوجوان کو اس کی کس قدر ضرورت ہے ، ایسے لوگ بھی (دینی رہنمائی) کر رہے ہیں جو عربی زبان سے ہی کورے ہیں ، علوم شریعت کی جنہیں ہوا بھی نہیں لگی ، نہ اصول حدیث کا پتہ نہ اصول فقہ کی خبر ، نہ کوئی استاد نہ کوئی کوالیفیکیشن اور اس پر اس قدر جراءت اور بے باک ہیں کہ وراثت جیسے فن پر غلط سلط فتوے جاری کرنے سے بھی نہیں ڈرتے ، صحابہ پر اعتراضات کرنے سے شرم نہیں کھاتے ، کبھی ابن تیمیہ کو چیلنج کرتے کبھی ابن کثیر کی غلطیوں پر پانچ گھنٹے لیکچر دینے کی بھڑکیں مارتے ، اور لوگ اس جیسے لوگوں سے بھی (دین) لیتے ہیں . انا للہ و انا الیہ راجعون . ایسے لوگوں سے دین لینے والے ، عطائی ڈاکٹر سے دوا لینے یا آپریشن کروانے والا ، یا جعلی انجینئر سے مکان بنوانے والے سے زیادہ خطرے میں ہیں .
✍️ - *(سید عبداللہ طارق وفقہ اللہ)*
#اصلاحی_تحریریں #اصلاح_معاشرہ
2 924
غلط (x): یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے!
صحیح (✓): ”یہ حدیث دین ہے، لہذا تم دیکھو کہ کس سے دین لے رہے ہو۔” (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم:۱۵/۲، وسندہ صحیح)
#سلسلة_اقوال_السلف
2 924
*💓 پیارے رسول ﷺ کی سلام کہنے میں شائستگی•°•°•*
◽سیدنا مقداد بن اسود رضی اللّٰه عنه سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : *« نبی کریم ﷺ رات کو تشریف لاتے تو اس طرح سلام کہتے کہ سونے والا نہ جاگتا اور جاگنے والا سن لیتا».*
*🖋️ فوائد :* سلام میں شائستگی اور مخاطبین کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ ہر جگہ اور ہر وقت زور دار طریقے سے سلام کہنا درست نہیں۔ ماحول اور وقت کا خیال رکھتے ہوئے سلام کہنا چاہیے۔
📓- ( الادب المفرد : ١٠٢٨ - صحیح )
#منتخب_احادیث
2 924
⇚مہدی بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ’’ ابن سیرین رحمه الله شعر پڑھ کر اتنا ہنستے کہ لوٹ پوٹ ہو جاتے، لیکن جب حدیث کی بات آتی تو (خوف وخشیت سے) ماتھے پر شکنیں پڑ جاتیں۔‘‘
(مداراة الناس لابن أبي الدنيا : ٧٢ وسنده حسن)
⇚زہیر اقطع بیان کرتے ہیں کہ ’’ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس جب موت کا ذکر ہوتا تو یوں ہوتے گویا ان کے جسم کا ہر عضو الگ الگ سے مردہ ہوگیا ہو۔‘‘
(اصطناع المعروف لابن أبي الدنيا : ٣٧ وسنده حسن)
⇚حجاج بن اسود بیان کرتے ہیں کہ معاویہ بن قرہ رحمه الله فرماتے تھے :
’’کون مجھے ایسے بندے کے متعلق بتائے گا جو راتوں کو رونے والا اور دن کو مسکرانے والا ہو۔‘‘
(الزهد لأحمد : ١٩١٨ وسنده صحیح)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مراد ایوب سختیانی رحمه الله ہیں۔
(المجالسة للدينوري : ٣/ ١٥٣)
خلاصۂ کلام :
بہرحال حاصلِ کلام یہ ہے کہ جو بندہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا، عبادت گزار اور نیکی و خیر والا ہو اسے چاہیے کہ خلقتِ الہی کے ساتھ اسی قدر خوش مزاج، ہنس مکھ اور اچھے اخلاق کا حامل ہو، مطلب یہ نہیں کہ وہ عبادت گزار ہے تو چہرے پر ہر وقت عبوسیت و سنجیدگی چھائی رہے۔
(حافظ محمد طاھر)
#سل
2 924
🪷 - " *خشیتِ الہی کا حســنِ اخلاق سے تعلق"*
بندہ جس قدر الله تعالی کے سامنے متواضع اور خاشع ہو اور اس سے ڈرنے والا ہو، لوگوں کے ساتھ تعامل اسی قدر نرم خو، ہنس مکھ اور با اخلاق ہوتا ہے۔
رسول الله ﷺ سب سے زیادہ الله تعالی کا خوف رکھنے والے، سب سے زیادہ متقی و پرہیز گار تھے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
’’آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں آپ سب سے زیادہ الله تعالی سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ نیکی کرنے والا ہوں۔‘‘
(صحیح بخاری : ٧٣٦٧، صحیح مسلم : ١٢١٦)
اسی طرح سیدنا عبد الله بن شخیر رضی الله عنه بیان کرتے ہیں : میں نے رسول الله ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کے سینے سے رونے کی وجہ سے ایسے آواز آ رہی تھی جیسے کوئی چکی سی چل رہی ہو۔
(سنن ابی داود : ٩٠٤ وسنده صحیح)
لیکن اس کے باوجود آپ کا لوگوں کے ساتھ تعلق اسی قدر نرمی و خوش اخلاقی کے ساتھ تھا جیسا کہ سیدنا جریر بن عبد الله رضی الله عنه بیان کرتے ہیں :
’’میرے اسلام کے بعد رسول الله ﷺ نے کبھی بھی مجھے (اپنی مجلس سے) منع نہیں کیا اور آپ ﷺ جب بھی مجھے دیکھتے تو میرے سامنے مسکرا دیتے۔‘‘
( صحيح البخاري : ٣٠٣٥)
⇚ سیدنا معاویہ بن حکم رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: ’’میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، میں نے نہ تو آپ سے پہلے اتنا بہترین استاد و معلم دیکھا، نہ آپ کے بعد، الله کی قسم! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ ہی برا بھلا کہا۔‘‘
(صحیح مسلم : ٥٣٧)
⇚ سیدنا عبد الله بن حارث رضی الله عنه سے مروی ہے، فرماتے ہیں :
’’میں نے رسول الله ﷺ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘
(سنن الترمذي : ٣٦٤١ وفي سنده ضعف وله شواهد)
⇚ حافظ ابن بطال رحمه الله (٤٤٩هـ) فرماتے ہیں :
لوگوں سے مسکر کر اور کشادہ چہرے سے ملنا اخلاقِ نبوی صلی الله علیه و سلم میں سے ہے، یہ تکبر دور کرتا اور محبت لاتا ہے۔
(شرح البخاري : ٥/ ١٩٣)
⇚ حافظ ابن حبان رحمه الله (٣٥٤هـ) فرماتے ہیں :
’’عقل مند پر لازم ہے کہ اختیارِخوش طبعی و ترکِ خشک روی کے ساتھ لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کرے۔‘‘
(روضة العقلاء، ص : ٧٧)
⇚حافظ ذہبی رحمه الله (٧٤٨هـ)، سیدنا جریر رضی الله عنه کی حدیث پر فرماتے ہیں :
’’یہی اسلام کا اخلاق ہے، سب سے اعلی مقام یہ ہے کہ جو رات کو (الله کی سامنے) بہت زیادہ رونے والا ہو وہ دن کو (لوگوں کے ساتھ) سب سے زیادہ مسکرانے والا ہو۔‘‘
(سير أعلام النبلاء : ١٠/ ١٤١)
✿. صحابہ کرام رضی الله عنہم کا یہی طرز عمل تھا جیسا کہ سماک بن حرب بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن سمرہ رضی الله عنه سے پوچھا : کیا آپ رسول الله ﷺ کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتے تھے؟ کہا: ہاں! بہت۔ آپ جس جگہ صبح کی نماز ادا فرماتے، سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہ اٹھتے، جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، صحابہ دورِ جاہلیت میں کیے کاموں کے متعلق باتیں کرتے اور ہنستے تھے اور آپ (بھی ان کی باتیں سن کر) مسکراتے تھے۔
(صحیح مسلم : ٦٧٠)
⇚بلال بن سعد رحمه الله بیان کرتے ہیں: ’’میں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو دیکھا ہے کہ وہ تیر اندازی کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خوب ہنستے مسکراتے تھے لیکن جب رات ہو جاتی تو راهب بن جاتے۔‘‘ (یعنی دنیا چھوڑ کر پوری طرح عبادت ومناجات میں مشغول ہو جاتے۔)
(مصنف ابن أبي شيبة : ٥/ ٣٠٣ وسنده صحیح)
⇚ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں: ’’رسول اکرم صلی الله علیه وسلم کے صحابہ کرام مریل اور مردہ دل نہیں تھے۔ وہ اپنی مجلسوں میں اشعار بھی پڑھا کرتے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کے واقعات کا تذکرہ بھی کرتے لیکن جب ان سے الله کے دین کے خلاف کوئی بات کہی جاتی تو ان کی آنکھوں کی پتلیاں یوں گھومنے لگتے گویا کہ وہ مجنوں ہوں۔‘‘
(مصنف ابن أبي شيبة : ٧/ ١٥٨ وسنده حسن)
⇚ بکر بن عبد الله بیان کرتے ہیں کہ ’’نبی صلی الله علیه وسلم کے صحابہ کرام بطور مزاح ایک دوسرے کی طرف خربوزے پھینکتے تھے لیکن جب حقائق (یعنی عبادت و جہاد)کا معاملہ ہوتا تو وہ حقیقی مَرد ہوتے۔‘‘
(الأدب المفرد للبخاري : ٢٦٦ وسنده صحیح)
✿۔ امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ الله کے متعلق آتا ہے کہ وہ اپنے دوست احباب اور اہل خانہ کے ساتھ خوب ہنستے مسکراتے تھے، اور رات کو الله کے سامنے خوب روتے، گڑگڑاتے تھے، جیسا کہ منصور بن زاذان بیان کرتے ہیں ’’ابن سیرین رحمه الله کبھی اس قدر ہنستے کہ ان کی آنکھوں سے پانی آ جاتا۔‘‘
(مداراة الناس لابن أبي الدنيا : ٧٠ ورجاله ثقات)
⇚ ہشام بن حسان رحمه الله کی اہلیہ بیان کرتی ہیں :
’’ہم امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ کے گھر مہمان ٹھہرے ہوئے تھے، رات کو ہم ان کی (الله کے سامنے) رونے کی آوازیں سنتے اور دن کو (اپنے گھر والوں کے ساتھ) ہنسنے کی آوازیں سنتے۔‘‘
(حلية الأولياء لأبي نعيم : ٢/ ٢٧٢)
2 924
🌺 *صلہ رحمی کا اجر!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔*🔹
📗«صحیح بخاری-5986»
2 924
*♥️ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللّٰه عنه •°•°*
🌴سیدنا علی رضی اللّٰه عنه سے روایت ہے کہ سیدنا عمار رضی الله عنه نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے ان کی آواز پہچان کر فرمایا:
*’’اچھے اور عمدہ شخص کو خوش آمدید‘‘.*
📖 ( الادب المفرد : ١٠٣١ )
#منتخب_احادیث #فضائل_صحابہ
2 924
🌺 *رسولﷺسے محبت !*
🔹 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے۔*🔹
📗«صحیح بخاری-15»
2 924
*💥 جس حدیث کے متعلق معلوم ہو کہ وہ جھوٹ ہے اسے رسول الله ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا منع ہے *
• سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰه عنه سے روایت ہے، رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:
« جو شخص میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کرتا ہے اور اس کے علم کے مطابق وہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹ بولنے والے دو افراد میں سے ایک ہے ».
*📔 ( سنن ابن ماجه : ٤١ )*
#منتخب_احادیث #فوائد #حجیت_حدیث
2 924
🍀 *ایک اہم معاشرتی ادب ؛ بطورِ مروت دی جانے والی دعوت قبول نہیں کرنی چاہیے ..*
📌 فقيه الأمة، شيخ *محمد بن صالح العثيمين* - رحمه الله تعالى - فرماتے ہیں :
"اگر کسی شخص کو گھر والے کی طرف سے کہا جائے کہ بیٹھیے کھانا کھا کر جاییے، اور *وہ جانتا ہو کہ اسے بطورِ مروت کہا جا رہا ہے تو اسے چاہیے کہ کھانے کیلیے مت بیٹھے، بلکہ اس کیلیے ایسی دعوت قبول کرنا جائز نہیں ہے۔* بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی گھر سے کسی کام کیلیے نکلتا ہے اور اس کا سامنا کسی ساتھی سے اس کے گھر کے دروازے پر ہو جاتا ہے۔ اگلا بھی بطورِ مروت اسے کہتا ہے آئیے تشریف لائیے، جبکہ درحقیقت وہ میزبانی کا ارادہ نہیں رکھ رہا ہوتا۔ تو اس شخص کیلیے جائز نہیں کہ وہ واقعتاً ساتھ چل پڑے، کیونکہ اس کے ساتھی نے محض مروتا دعوت دی ہے، حقیقتاً نہیں۔"
📗 - *|[ التعليق على كتاب القواعد والأصول الجامعة || ص : ٤٢ ]|*
#سلسلة_اقوال_السلف
2 924
🍁 *بیماری بھی کفارہ !*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔*🔹
📗«صحیح بخاری -5645»
2 924
*🌼 کیا عورتیں مردوں کو سلام کرسکتی ہیں*
🔸امام حسن بصری رحمه الله سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: عورتیں مردوں کو سلام کہا کرتی تھیں۔
*✏️ تشریح :-*
(۱)ام ہانی رضی اللہ عنہا کا واقعہ فتح مکہ کا ہے۔ آپ غسل فرما رہے جبکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چادر کے ساتھ پردہ کیے ہوئے تھیں۔
(۲) گھر آنے والے کو خوش آمدید یا اس طرح کے دیگر عزت و تکریم کے کلمات کہنا مستحب ہے۔
(۳) عورتیں غیر محرم مردوں کو سلام کہہ سکتی ہیں بشرطیکہ کسی فتنے کا ڈر نہ ہو، خصوصا بزرگوں کو سلام کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ جہاں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں سلام سے گریز کرنا چاہیے۔
📙- ( الادب المفرد : ١٠٤٦ )
#منتخب_احادیث #فوائد
2 924
ضحاک تنویر !!!
ضحاک تنویر ایک غیر مقیم ہندوستانی (NRI) ہے، جو ایک دہائی تک برطانیہ میں مقیم رہا ہے، اور فی الحال سعودی عرب میں رہائش پذیر ہے، اس کی تعلیم عصری ہے، علوم دینیہ عربیہ سے اس کا کبھی کوئی لینا دینا نہیں رہا ہے الا یہ کہ بردرس کی طرح خود سے پڑھ کر کچھ سیکھ لیا ہو، اس نے "عثمانیہ یونیورسٹی انڈیا" سے کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے، اس کے بعد "IIIT Bangalore India" سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ (AI-ML) میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کی ہے، اسی طرح اس نے "لندن اسکول آف جرنلزم" سے جرنلزم میں ڈپلومہ کیا ہے، اور "یونیورسٹی آف لیڈن نیدرلینڈ" سے انسداد دہشت گردی کا ایک وسیع پروگرام (MOOC) مکمل کیا ہے، فی الحال "Liverpool John Moores University" برطانیہ سے (AI-ML) میں ماسٹرز کر رہا ہے، اس کے آرٹیکلز News18 اور Firstpost میں چھپتے ہیں، وہ 2017-2019 میں سعودی گزٹ اور "البلاد" کے لیے لکھتا تھا، یہ رہی اس کی تعلیم کی تفصیل جو کہ اس کی خود کی ویب سائٹ (MilliChronicle.Com) سے ماخوذ ہے۔
یہ شخص خود کو سلفی اور اہل حدیث کہتا ہے اور اس کے مخاطب بھی اہل حدیث ہی رہتے ہیں، اہل حدیثوں میں اس کی پہچان کی وجہ اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی پر تنقید کرنا اور سعودی عرب کی تعریف اور دفاع کرنا ہے، البتہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے کیا اس کی بھی وہی فکر ہے جو سلفی علماء کی ہے یا پھر اس کا مقصد کچھ اور ہے؟ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے اپنے پروگرام کے تحت یہ سب کر رہا ہے جو کہ اس نے اپنے اساتذہ سے سیکھا ہے کہ مسلمانوں کے فلاں فلاں فرقے یا تنظمیں انتہا پسند ہیں جن سے دنیا کو خطرہ ہے لہٰذا لوگوں کو ان سے متنبہ کرنا اور ان کی پول کھولنا ضروری ہے، اسی لئے وہ ہندوستانی سیکورٹی اداروں اور بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں کے ساتھ بھی تعاون کرتا ہے اور بی جے پی کی کھل کر تعریف کرتا ہے، مودی امت شاہ اور یوگی کے کرتوتوں کا دفاع کرتا ہے اور ان کی تعریفیں کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
لہٰذا اہل حدیثوں کو چاہئے کہ ان جیسوں سے چوکنا رہے اور یاد رکھے کہ*کہ ہر وہ شخص جو اخوان المسلمین پر تنقید کرتا ہو اور سعودیہ کا دفاع کرتا ہو ضروری نہیں ہے کہ وہ حقیقت میں بھی سلفی منہج پر قائم ہو، اور سلفیت کی نشر واشاعت کے لئے وہ ایسا کر رہا ہو، بلکہ اس کے اور بھی مقاصد ہو سکتے ہیں،* اس لئے آپ اپنے موقف کی تائید میں بولنے والے ہر شخص کو مستند اور معتبر نہ بنالیں کہ مستقبل میں وہی درد سر بن جائے اور سنبھالنا مشکل ہو، جیسا کہ انجینئر مرزا کے ساتھ ہوا، سب سے پہلے جب اس نے تقلید، پیری مریدی اور مزارات وغیرہ کے خلاف بولنا شروع کیا تو اہل حدیثوں نے اسے سننا اور مشہور کرنا شروع کر دیا اور جب وہ مشہور ہو گیا اور متبعین کی ایک جماعت بنا لی تو اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ آیا اور اب جو کچھ کر رہا ہے اس سے اللّٰہ ہی کی پناہ۔۔۔!!!
بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ دینی باتیں نہیں کرتا ہے بلکہ عالمی خبروں اور سیاسی مسائل پر تبصرہ کرتا ہے لہٰذا اس کے اپنے فن کی چیزیں اس سے لی جا سکتی ہیں اور وہ بردرس میں شامل نہیں ہے!
بھئی جب وہ منہج اور سلفیت کی بات کرتا ہے، فرقوں کے بارے میں بولتا ہے، علماء اور دعات کے بارے میں دینی اعتبار سے تبصرہ کرتا ہے، ان کی غلطیاں نکالتا ہے، جنت جہنم کے بارے میں اعتقادی مسائل ڈسکس کرتا ہے تو کیا ان چیزوں کا تعلق دین سے نہیں ہوتا ؟ اور ابھی تو یہ ابتداء ہے دھیرے دھیرے اس کے نظریات میں شدت آتی جا رہی ہے اور وہ اسٹیٹ، حکومت اور حکمران وغیرہ کی اطاعت وغیرہ کے مسائل میں بلا تفریق مسلم وغیر مسلم، بلا تفریق امامت وجمہوریت کچھ بھی بولے جا رہا ہے کہ ہر کسی کی اطاعت ضروری ہے چاہے وہ امت شاہ اور مودی یوگی ہی کیوں نہ ہو اور وہ کچھ بھی کیوں نہ کرے!!!
لہٰذا کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس شخص سے چوکنا رہا جائے اور اسے زیادہ توجہ نہ دی جائے بالخصوص اہل علم اس کی ویڈیوز نشر کرنے اور اسے پرموٹ کرنے سے باز رہیں تاکہ مستقبل میں کوئی بڑا خطرہ نہ بنے، یاد رکھیں موجودہ حکومتی اداروں اور شخصیات کی کسی بھی مسلم شخص سے محبت اور اس کا اپنے پروگراموں میں آؤ بھگت اس مسلم شخص کو مشکوک بنا دیتی ہے جو کہ اس شخص کا معاملہ ہے۔
✒️:...مامون رشید بن ہارون رشید سلفی۔
#اصلاحی_تحریریں
2 924
🍂 *دکھ تکلیف کے وقت کیا پڑھیں؟*
🔹 *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ» ”اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔*🔹
📗«سنــن ترمذی-3524»
#مسنون_دعائیں
2 924
اس معتمر شخص کی وائرل ویڈیو نے بتلا دیا ہے کہ امت کو عقیدہ سیکھنے کی ضرورت کھانے پینے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے. اس باعث کہ اس بزرگ کی ہیئت اور لباس سے کوئی انہیں فرشتہ کہہ رہا ہے تو کوئی صحابی، تو کوئی ان سے برکت حاصل کر رہا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں. حالانکہ ان کی حیثیت ایک عام اور معمولی مسلمان سے زیادہ نہیں ہے. اب ذرا سوچیے جس وقت لوگوں کے سامنے دجال ظاہر ہوگا، نیکی اور زہد وتقوی ظاہر کرے گا، آسمان سے کہے گا بارش برساؤ اور بارش ہو بھی جائے گی، اس کے ساتھ جنت وجہنم اور دیگر شعبدے ہوں گے، پھر نبوت کا دعوی کرے گا، خود کو رب کہلوائے گا. ایک معمولی شخصیت کی ہیئت کذائی اگر کسی شخص کے جذبات سے اس طرح کھیل سکتی ہے تو وہ بدرجہ اولی دجال کے بڑے بڑے شعبدوں سے متاثر ہوگا اور اس پر ایمان بھی لائے گا.
اللہ بچائے.
