📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Open in Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Show moreThe country is not specifiedReligion & Spirituality38 086
2 924
Subscribers
No data24 hours
-37 days
-530 days
Posts Archive
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: مرنے کے بعد میت پر کپڑا ڈال دینا
حدیث نمبر: 3120
🌹ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو (وفات کے بعد) یمنی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس ١٨(٥٨١٤)، صحیح مسلم/الجنائز ١٤ (٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٩، ٢٦٩) (صحیح)
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: مرتے وقت کلمہ توحید کی تلقین کرنا
حدیث نمبر: 3116
🌹معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا آخری کلام لا إله إلا الله ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٣، ٢٤٧) (صحیح )
✒️وضاحت: ١ ؎: اس لئے مرتے وقت مرنے والے کے قریب لا إله إلا الله کہنا چاہیے تاکہ اس کی زبان پر بھی یہ کلمہ جاری ہوجائے۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: مرتے وقت اللہ سے نیک گمان رکھنا اچھا ہے (یعنی یہ گمان رکھنا کہ وہ میری مغفرت فرمائے گا)
حدیث نمبر: 3113
💐جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ سے اچھی امید رکھتا ہو ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا ١٩ (٢٨٧٧)، سنن ابن ماجہ/الزھد ١٤ (٤١٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٥، ٣٢٥، ٣٣٠، ٣٣٤، ٣٩٠) (صحیح )
✒️ وضاحت: ١ ؎: کہ اللہ اس کی غلطیوں کو معاف کرے گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازے گا۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3108
🩷انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہوجانے کی وجہ سے (گھبرا کر) موت کی دعا ہرگز نہ کرے لیکن اگر کہے تو یہ کہے: اللهم أحيني ما کانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا کانت الوفاة خيرا لي اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دیدے جب مرجانا ہی میرے حق میں بہتر ہو ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الجنائز ٢ (١٨٢٢)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣١ (٤٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المرضی ١٩ (٥٦٧٢)، والدعوات ٣٠ (٦٣٥١)، صحیح مسلم/الذکر ٤ (٢٦٨٠)، سنن الترمذی/الجنائز ٣ (٩٧١)، مسند احمد (٣/١٠١، ١٠٤، ١٦٣، ١٧١، ١٩٥، ٢٠٨، ٢٤٧، ٢٨١) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: عیادت کے وقت مریض کے لئے دعا کرنا
حدیث نمبر: 3106
🌹عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: أسأل الله العظيم رب العرش العظيم میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب ٣٢ (٢٠٨٣)، (تحفة الأشراف: ٥٦٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٤٣) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: عیادت کے وقت بیمار کے لئے دعائے صحت کرنا
حدیث نمبر: 3105
🌹ابوموسی اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور (مسلمان) قیدی کو (کافروں کی) قید سے آزاد کراؤ ۔ سفیان کہتے ہیں: العاني سے مرا داسیر (قیدی) ہے۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٧١ (٣٠٤٦)، النکاح ٧١ (٥١٧٤)، الأطعمة ١ (٥٣٧٣)، الطب ٤ (٥٦٤٩)، الأحکام ٢٣ (٧١٧٣)، (تحفة الأشراف: ٩٠٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٤)، سنن الدارمی/السیر ٢٧ (٢٥٠٨) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: عیادت کے وقت بیمار کے لئے دعائے صحت کرنا
حدیث نمبر: 3104
💞سعد بن ابی وقاص ؓ نے کہا میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ ﷺ نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی: اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ المرضی ١٣ (٥٦٥٩)، سنن النسائی/ الوصایا ٣ (٣٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣٩٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧١) (صحیح )
✒️ وضاحت: ١ ؎: مکہ سے مدینہ پہنچا دے ایسا نہ ہو کہ مکہ ہی میں انتقال ہوجائے اور ہجرت ناقص رہ جائے۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: جہاں پر طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہو وہاں سے بھاگ نکلنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3103
💟عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون ١ ؎ پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاؤ ٢ ؎، اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر (کہیں اور) نہ جاؤ ٣ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب ٣٠ (٥٧٢٩)، والحیل ١٣ (٦٩٧٣)، صحیح مسلم/السلام ٣٢ (٢٢١٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٢١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجامع ٧ (٢٢)، مسند احمد (١/١٩٢، ١٩٣، ١٩٤) (صحیح )
✒️وضاحت: ١ ؎: طاعون ایک وبائی بیماری ہے (جلد میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہو کر انسان مرجاتا ہے)، اکثر بغل میں یا پیٹھ میں نکلتا ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ طاعون زدہ علاقہ یا بستی میں جانا اپنے آپ کو موت کے سپرد کرنا اور ہلاکت میں ڈالنا ہے، جبکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة (سورۃ البقرۃ: ١٩٥) اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ، اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اس میں طاعون بھی داخل ہے۔ ٣ ؎: طاعون زدہ زمین سے نہ نکلنے کا مقصد یہ ہے کہ پورا پورا توکل اللہ رب العزت پر ثابت ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر کو پورے طور سے تسلیم کرلیا جائے، کیونکہ وہاں سے بھاگنا اللہ کی تقدیر سے بھاگنا ہے، یا یہ کہ اگر وہ اس سر زمین سے نکل جائے اور جہاں وہ پناہ لے وہاں کے لوگوں کو طاعون آپکڑے، پھر یہ لوگوں کی نظر میں طعن و تشنیع کا نشانہ بنے، حالانکہ اللہ رب العزت نے ان لوگوں کے حق میں بھی اس بیماری کا فیصلہ کرچکا ہوتا ہے، اس بناء پر اس شہر سے یا جگہ سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: عورتوں کی مزاج پرسی کرنا
حدیث نمبر: 3092
🌹ام العلاء ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: خوش ہوجاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کردیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کردیتی ہے ۔
📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٩) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: اگر کوئی شخص پابندی کیساتھ کوئی نیک کام کرتا رہتا ہو اور پھر کسی وقت بیماری یا سفر کی بنا پر اس کو انجام نہ دے سکے تو اس کے باوجود بھی اس کو ثواب ملے گا
حدیث نمبر: 3091
💟ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا: جب بندہ کوئی نیک عمل (پابندی سے) کر رہا ہو، پھر کوئی مرض، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کرسکے، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا ۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٣٤(٢٩٩٦)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٠، ٤١٨) (حسن )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: رکاز (دفینہ اور کان) کا بیان
حدیث نمبر: 3085
💟ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دفینہ میں خمس (پانچواں حصہ) ہے ١ ؎۔
📚📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ٦٦ (١٤٩٩)، والمساقاة ٣ (٢٣٥٥)، والدیات ٢٨ (٦٩١٢)، ٢٩ (٦٩١٣)، صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٧ (١٣٧٧)، سنن النسائی/الزکاة ٢٨ (٢٤٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٤ (٢٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٨، ١٥١٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول ١٨ (١٢)، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٢٢٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٨٥، ٣١٩، ٣٨٢، ٣٨٦، ٤٠٦، ٤١١، ٤١٤، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٧، ٤٧٥، ٤٨٢، ٤٩٢، ٤٩٥، ٤٩٩، ٥٠١، ٥٠٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٠ (١٧١٠)، ویأتی ہذا الحدیث فی الدیات (٤٥٩٣) (صحیح )
✒️ وضاحت: ١ ؎: یعنی پانچ حصے میں ایک حصہ اللہ و رسول کا ہے باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: امام یا کسی اور شخص کے لئے زمین کو روک لینا (یعنی اس زمین کی گھاس اور پانی وغیرہ لینے سے روک دے)
حدیث نمبر: 3083
🩷صعب بن جثامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نقیع (ایک جگہ کا نام ہے) کو حمی (چراگاہ) بنایا۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المساقاة ١١ (٢٣٧٠)، الجہاد ١٤٦ (٣٠١٢)، (تحفة الأشراف: ٤٩٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧، ٣٨، ٧١، ٧٣) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3073
💟سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے (وہی اس کا مالک ہوگا) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ١ ؎۔
📚 تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأحکام ٣٨ (١٣٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٠٤٣، ٤٤٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢٤ (٢٦) (صحیح )
✒️وضاحت: ١ ؎: یعنی کوئی ظالم اس کی آباد اور قابل کاشت بنائی ہوئی زمین کو چھین نہیں سکتا۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: زمین مقطعہ دینا
حدیث نمبر: 3069
💞اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر ؓ (اسماء ؓ کے خاوند ہیں) کو کھجور کے کچھ درخت بطور جاگیر عنایت فرمائی۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ١٩ (٢٨١٥)، مسند احمد (٦/٣٤٧) (حسن صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: زمین مقطعہ دینا
حدیث نمبر: 3066
💞ابیض بن حمال ماربی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پیلو کی ایک چراگاہ مانگی ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیلو میں روک نہیں ہے ، انہوں نے کہا: پیلو میرے باڑھ اور احاطے کے اندر ہیں، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پیلو میں روک نہیں ہے (اس لیے کہ اس کی حاجت سبھی آدمیوں کو ہے) ۔ فرج کہتے ہیں: حظاری سے ایسی سر زمین مراد ہے جس میں کھیتی ہوتی ہو اور وہ گھری ہوئی ہو۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣)، وقد أخرجہ: دی/ البیوع ٦٦ (٢٦٥٠) (حسن لغیرہ) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٨ ؍ ٣٩٠ )
✏️ وضاحت: ١ ؎: یعنی ایک احاطہ جس میں دوسرے لوگ آ کر نہ درخت کاٹیں نہ اس میں اپنے جانور چرائیں۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: امام کے لئے مشرکین کا ہدیہ قبول کرنا
حدیث نمبر: 3057
🌹عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کردی گئی ہے ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر ٢٤ (١٥٧٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٢) (حسن صحیح )
✏️ وضاحت: ١ ؎: بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے نجاشی، مقوقس، اکیدر دومہ اور رئیس فدک کے ہدایا قبول کئے تو یہ إني نهيت عن زبد المشرکين کے خلاف نہیں ہے کیونکہ مذکورہ سب کے سب ہدایا اہل کتاب کے تھے نہ کہ مشرکین کے، گویا اہل کتاب کے ہدایا لینے درست ہیں نہ کہ مشرکین کے۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: جب ذمی کا فرمال ِتجارت لے کر لوٹیں تو ان سے دسواں حصہ محصول لیا جائے گا
حدیث نمبر: 3052
🌹ابوصخر مدینی کا بیان ہے کہ صفوان بن سلیم نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے کچھ بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آبائ سے (جو ایک دوسرے کے عزیز تھے) اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے وکیل ١ ؎ ہوں گا ۔
📗تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠٥) (صحیح )
✏️ وضاحت: ١ ؎: حدیث میں حجیج کا لفظ ہے یعنی میں اس کے دعوے کی وکالت کروں گا۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: جزیہ وصول کرنے میں سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3045
💞عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام ؓ نے حمص کے ایک عامل (محصل) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں (عیسائیوں) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ١ ؎۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البر والصلة ٣٣ (٢٦١٣)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤، ٤٦٨) (صحیح )
✏️ وضاحت: ١ ؎: یعنی ظلم کرتے ہیں، اور لوگوں کو جرم اور قصور سے زیادہ سزا دیتے ہیں۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: مجوسیوں سے جزیہ لینے کا بیان
حدیث نمبر: 3043
💞عمرو بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے بجالہ کو عمرو بن اوس اور ابوشعثاء سے بیان کرتے سنا کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی (کاتب) تھا، کہ ہمارے پاس عمر ؓ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا (اس میں لکھا تھا کہ) : ہر جادوگر کو قتل کر ڈالو، اور مجوس کے ہر ذی محرم کو دوسرے محرم سے جدا کر دو، ١ ؎ اور انہیں زمزمہ (گنگنانے اور سر سے آواز نکالنے) سے روک دو ، تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگر مار ڈالے، اور جس مجوسی کے بھی نکاح میں اس کی کوئی محرم عورت تھی تو اللہ کی کتاب کے مطابق ہم نے اس کو جدا کردیا، احنف بن قیس نے بہت سارا کھانا پکوایا، اور انہیں (کھانے کے لیے) بلوا بھیجا، اور تلوار اپنی ران پر رکھ کر بیٹھ گیا تو انہوں نے کھانا کھایا اور وہ گنگنائے نہیں، اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی (بطور جزیہ) لا کر ڈال دی تو عمر ؓ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا جب تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے گواہی نہ دے دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر ٢ ؎ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجزیة ١ (٣١٥٦)، سنن الترمذی/السیر ٣١ (١٥٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٧١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٤ (٤١)، مسند احمد (١/١٩٠، ١٩٤) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: غالباً مجوسی اپنی بہن، خالہ وغیرہ سے شادی کرتے رہے ہوں گے۔ ٢ ؎: بحرین کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: مجوسیوں سے جزیہ لینے کا بیان
حدیث نمبر: 3042
🌹عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب اہل فارس کے نبی مرگئے تو ابلیس نے انہیں مجوسیت (یعنی آگ پوجنے) پر لگا دیا۔
📚 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود (حسن الإسناد )
