🌷 مفتی فیضان سرور مصباحی🌹
Open in Telegram
● قاضئ شریعت : دارالقضاء ادارۂ شرعیہ اورنگ آباد (بہار) ● امام و خطیب : نواڈیہ مسجد ـ اورنگ آباد● سرپرست : کنز الایمان آنلائن اکیڈمی (درس نظامی علومِ دین کورس ) ● بانی و رکن :روشن مستقبل دہلی ● بانی : کنز المکاتب بورڈ ● بانی مدرسہ کنز الایمان اورنگ آباد
Show more1 589
Subscribers
-124 hours
+167 days
+3030 days
Data loading in progress...
Similar Channels
Tags Cloud
No data
Any problems? Please refresh the page or contact our support manager.
Incoming and Outgoing Mentions
---
---
---
---
---
---
Attracting Subscribers
September '26
September '26
+30
in 0 channels
August '26
+63
in 1 channels
Get PRO
July '26
+43
in 0 channels
Get PRO
June '26
+20
in 1 channels
Get PRO
May '26
+38
in 0 channels
Get PRO
April '26
+11
in 0 channels
Get PRO
March '26
+10
in 0 channels
Get PRO
February '26
+15
in 0 channels
Get PRO
January '26
+64
in 0 channels
Get PRO
December '25
+15
in 0 channels
Get PRO
November '25
+13
in 0 channels
Get PRO
October '25
+11
in 0 channels
Get PRO
September '25
+19
in 0 channels
Get PRO
August '25
+16
in 1 channels
Get PRO
July '25
+13
in 0 channels
Get PRO
June '25
+17
in 0 channels
Get PRO
May '25
+27
in 0 channels
Get PRO
April '25
+11
in 0 channels
Get PRO
March '25
+16
in 0 channels
Get PRO
February '25
+14
in 0 channels
Get PRO
January '25
+24
in 0 channels
Get PRO
December '24
+71
in 0 channels
Get PRO
November '24
+51
in 0 channels
Get PRO
October '24
+23
in 0 channels
Get PRO
September '24
+33
in 0 channels
Get PRO
August '24
+73
in 0 channels
Get PRO
July '24
+41
in 6 channels
Get PRO
June '24
+40
in 0 channels
Get PRO
May '24
+39
in 0 channels
Get PRO
April '24
+32
in 0 channels
Get PRO
March '24
+41
in 0 channels
Get PRO
February '24
+27
in 0 channels
Get PRO
January '24
+17
in 0 channels
Get PRO
December '23
+17
in 1 channels
Get PRO
November '23
+7
in 1 channels
Get PRO
October '23
+7
in 0 channels
Get PRO
September '23
+8
in 0 channels
Get PRO
August '23
+11
in 0 channels
Get PRO
July '23
+11
in 0 channels
Get PRO
June '23
+2
in 0 channels
Get PRO
May '23
+9
in 0 channels
Get PRO
April '23
+8
in 0 channels
Get PRO
March '23
+5
in 0 channels
Get PRO
February '23
+6
in 0 channels
Get PRO
January '23
+13
in 0 channels
Get PRO
December '22
+12
in 0 channels
Get PRO
November '22
+10
in 0 channels
Get PRO
October '22
+9
in 0 channels
Get PRO
September '22
+10
in 0 channels
Get PRO
August '22
+9
in 0 channels
Get PRO
July '22
+11
in 0 channels
Get PRO
June '22
+11
in 0 channels
Get PRO
May '22
+12
in 0 channels
Get PRO
April '22
+13
in 0 channels
Get PRO
March '22
+11
in 0 channels
Get PRO
February '22
+6
in 0 channels
Get PRO
January '22
+14
in 0 channels
Get PRO
December '21
+16
in 0 channels
Get PRO
November '21
+8
in 0 channels
Get PRO
October '21
+14
in 0 channels
Get PRO
September '21
+13
in 0 channels
Get PRO
August '21
+30
in 0 channels
Get PRO
July '21
+29
in 0 channels
Get PRO
June '21
+21
in 0 channels
Get PRO
May '21
+16
in 0 channels
Get PRO
April '21
+30
in 0 channels
Get PRO
March '21
+34
in 0 channels
Get PRO
February '21
+49
in 0 channels
Get PRO
January '21
+57
in 0 channels
Get PRO
December '20
+1 913
in 0 channels
| Date | Subscriber Growth | Mentions | Channels | |
| 10 September | 0 | |||
| 09 September | 0 | |||
| 08 September | +1 | |||
| 07 September | +1 | |||
| 06 September | +2 | |||
| 05 September | +1 | |||
| 04 September | +1 | |||
| 03 September | +17 | |||
| 02 September | +6 | |||
| 01 September | +1 |
Channel Posts
| 2 | قرآنی مکتب ایسے چلائیں ۰.pdf | 321 |
| 3 | محمد فیضان سرور المصباحی.pdf | 357 |
| 4 | محمد فیضان سرور المصباحی د.pdf | 351 |
| 5 | Video from M Faizan Sarwar Misbahi | 421 |
| 6 | جلوسِ عید میلاد النبی ﷺ میں شرکت کریں ۔ | 475 |
| 7 | عنان_پارٹنر_شپ_و_چلتے_کاروبار_میں_شرکت_کا_حکم.pdf | 525 |
| 8 | ہندوستان کی آزادی میں علما کی قربانیاں جنھیں بھلادیا گیا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
● مساجد کے منبروں سے آزادی کے لیے تقریریں کی گئی ۔
● بڑے علما کے گھر گویا آزادی پلاننگ کی بھیڑ لگی ہوتی تھی ۔ جس میں بڑے عہدیدار آیا کرتے تھے ۔ مغلیہ سلطنت کے خانوادے کے افراد بھی شامل ہوتے ۔ سیاسی مشورے ہوتے تھے ۔ انگریز حکومت کے خلاف تبادلۂ خیال ہوا کرتے تھے ۔
● جامع مسجد دہلی سے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا گیا ۔
● علامہ رضا علی خان بریلوی، علامہ فضل حق خیر آبادی، علامہ صدر الدین خان آزدرہ، جنرل بخت خان وغیرہ ارکان پر مشتمل ” جہاد کمیٹی “ بنائی گئی، اور وسیع پیمانے پر ماحول بنانے کا کام شروع ہوا ۔
● علماء کرام کی جائدادیں، ضبط کی گئیں ۔
● مدارس بند کیے گئے ۔
● 3 سالوں میں 14 ہزار علما کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ۔
● انگریز مؤرخ ڈاکٹر ٹامس نے لکھا کہ دلی کی چاندنی چوک سے لے کر پشاور تک گرانڈ ٹرنک روڈ پر ایک بھی درخت ایسا نہ تھا جس پر کسی عالم دین کی گردنیں نہ جھول رہی ہوں ۔
● علما کو خنزیر اور سور کی کھالوں میں بند کرکے جلتے تنور میں ڈالا گیا ۔
● لاہور کی شاہی جامع مسجد کے صحن میں پھانسی کا پھندا تیار کیا گیا ۔ اور ایک دن میں 80، 80 علما کو پھانسی پر لٹکایا گیا ۔
● ڈاکٹر ٹامس کہتا ہے کہ میں خیمے میں تھا کہ اچانک مردار جلنے کی بو محسوس ہوئی، باہر نکلا تو 40 علما کو انگاروں پر جلتے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ باقی 40 وہیں پر کھڑا کیا گیا ہے، کپڑے اتار کر ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں ۔
●ایڈن برگ میں رہنے والے جنگ اور سلطنت کے مورخ کی حیثیت سے دنیا بھر میں مشہور ٹریور رائل (Trevor Royle) کے مطابق ہندوستان میں اس وقت جس جھنڈے کی پرچم کشائی کی جاتی ہے اس کا ڈیزائن بدرالدین طیب جی نے کیا تھا۔ ٹریور رائل نے یہ بات اپنی کتاب ’دی لاسٹ ڈیز آف راج‘ میں لکھا ہے۔ ان کی یہ کتاب 1989 میں شائع ہوئی تھی۔ ٹریور رائل کئی درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔
● آزادی کی اصل شروعات 1857ء سے ہوتی ہے، جس میں باضابطہ فتویٰ جہاد جاری ہوا، کئ ہزار علماء نے انگریزوں کے خلاف جنگ کی اور شہید ہوئے ۔ مگر جان بوجھ کر 1857ء کو چھپایا جاتا ہے اور اس انقلابی جنگ کو”غدر " کا نام دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
جب کے بعد میں اسی کو تحریکی شکل دی گئی اور 1947ء میں آزادی ملی تو، یہ آخری تاریخ یاد رکھی جاتی ہے، اس میں بھی ہیرو کے طور پر اکثر غیرمسلموں کے نام پیش کیے جاتے ہیں ۔
● دوسروں سے کیا شکوہ کیا جائے، افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ آج مسلم اسکولوں میں بھی علماء کی قربانیاں نہیں پڑھائی جاتیں ۔ اور اس طرح مسلمان خود اپنی قربانیوں کو فراموش کرتے جارہے ہیں ۔
حاصل مطالعہ:
فیضان_سرور_مصباحی
دارالقضاء ادارۂ شرعیہ اورنگ آباد
15 اگست 2025ء | بروز جمعہ | 761 |
| 9 | منصب کے لیے "اہلیت" چاہیے یا "قربت و قرابت" ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی کو بڑے منصب پر فائز کرتے وقت عموماً تین چیزوں میں سے کسی ایک کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے:
(١) اہلیت(٢) قرابت (٣) قربت
دینِ اسلام ہمیں منصب و ذمہ داری سونپنے میں اہلیت کو بنیاد بنانے کی تلقین کرتا ہے، خواہ اہلِ منصب کے ساتھ ہمارا کوئی قرابت یا قربت کا رشتہ ہو یا نہ ہو۔ اس کے برعکس کسی نااہل شخص کو منصب سونپ دینا نہ صرف امانت میں خیانت ہے، بلکہ اسے قیامت کی نشانی بھی قرار دیا گیا ہے ۔
حدیثِ شریف میں ہے: إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ. قَالَ: كَيْفَ إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ. (صحیح البخاری، ١/٢١)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’جب امانت ضائع ہونے لگے تو قیامت کا انتظار کرو۔‘‘ عرض کیا گیا: امانت کیسے ضائع ہوگی؟ فرمایا: ’’جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔‘‘
مگر افسوس! رذیل طبیعتیں پہلے قرابت (رشتہ داری) تلاش کرتی ہیں، اور اگر قرابت کا رشتہ نہ ملے تو پھر قربت (نزدیکی) رکھنے والے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
نتیجتاً ’’صاحب‘‘ کے گرد ہر بات پر ’’جی حضور‘‘ اور ’’لبیک‘‘ کہنے والوں کی ایک بھیڑ جمع ہوجاتی ہے، مگر ایسے اہلِ مشورہ اور صاحبانِ بصیرت ناپید ہوجاتے ہیں جو اختلافِ رائے کے باوجود خلوص کے ساتھ درست بات کہہ سکیں اور موقع بہ موقع خیرخواہانہ نصیحت کرسکیں۔
پھر رفتہ رفتہ صورتِ حال یہ ہوجاتی ہے کہ صاحب کو اپنی مرضی کے مطابق جواب تو بہت ملتے ہیں، مگر حقیقت کے مطابق مشورہ دینے والا کوئی نہیں ملتا۔
اور جب فیصلے اہلیت کے بجائے قرابت و قربت کی بنیاد پر ہونے لگیں تو افراد نہیں، پورا نظام کمزور پڑتا ہے؛ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب پورا سسٹم دھیرے دھیرے بیٹھ جاتا ہے۔
یاد رکھیں! منصب رشتہ داری نبھانے، قربتیں بڑھانے یا خوشامدیں سننے کا نام نہیں؛ منصب ایک امانت ہے، اور امانت کا حق دار وہی ہے جو اس کا اہل ہو۔
فیضان سرور مصباحی
دارالقضاء، ادارۂ شرعیہ، اورنگ آباد
١١/ اگست 2026ء | 487 |
| 10 | سالانہ تعطیلات قرآنی مکتب و مدرسہ کنز الایمان [ اورنگ آباد ، بہار ] | 381 |
| 11 | کیا مرکزی اسٹیج، مرکزِ اصلاحِ اُمت بن سکتے ہیں؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بڑے بڑے دینی مراکز کے اعراس و اجتماعات میں دور دور تک جدھر نظر ڈالیے، مریدین و معتقدین کا ہجوم اور انسانی سروں کا ایک سیلِ رواں دکھائی دیتا ہے۔
ان مراکز کے ذمہ داران اور اساطین کو چاہیے کہ ان خاص مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے زائرین کی دینی تعلیم و تربیت کا منظم اہتمام کریں اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق ایسے مسائل کا حل پیش کریں جو زمینی سطح پر قابلِ عمل، مؤثر اور معقول ہو۔
مگر افسوس کہ ایسا کوئی منظم اور نتیجہ خیز اہتمام عموماً دیکھنے میں نہیں آتا۔ مہنگے اسٹیج، وسیع پنڈال اور قیمتی ڈیکوریشن اکثر بے ہنگم چیخ و پکار، صاحبِ سجادہ کی مبالغہ آمیز قصیدہ خوانی اور غیر ضروری جذباتی نعروں کی نذر ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر سال بھر میں کسی شخص سے کوئی ذاتی رنجش یا ٹھیس پہنچی ہو تو اس کی تردید اور صفائی میں پوری رات صرف کردی جاتی ہے، اور زائرین اپنے گھروں کو دینی بصیرت کے بجائے آپسی خانہ جنگی کی ایک دلخراش داستان لے کر لوٹتے ہیں۔
جب اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے تو پھر ہمارے یہ عظیم دینی اسٹیج اس ضابطے کی عملی ترجمانی سے کیوں محروم رہ جاتے ہیں؟
بے ضابطگی کا عالم یہ ہے کہ کس کو بولنا ہے، کن موضوعات پر بولنا ہے، کتنی دیر بولنا ہے، اور متعلقہ موضوع پر مقرر کی علمی استعداد کیا ہے، ان امور پر عموماً کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جاتی۔
البتہ یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ صاحبِ سجادہ سے اس مقرر یا نعت خواں کی قربت کتنی ہے، وہ کتنی بلند آواز میں مجمع گرم کرسکتا ہے، اور ذاتی مخالفین پر کتنی شدت سے حملہ آور ہوسکتا ہے۔
بعض خانقاہی اعراس میں بعض خطبا یہ کہہ کر سامعین کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ: "میں آج تقریر کرنے نہیں، بلکہ خراجِ عقیدت پیش کرنے آیا ہوں۔" پھر آدھا پون گھنٹہ غیر متعلقہ گفتگو میں گزار کر اپنا بھی وقت ضائع کرتے ہیں اور سامعین کا بھی۔
کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ مرکزی اسٹیجوں سے دیے جانے والے پیغام کی پہلے سے منصوبہ بندی کی جائے؟ ملکی، ملی اور مسلکی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اہلِ فکر و بصیرت اور مدبرین کے مشورے سے تقریری موضوعات طے کیے جائیں، پھر خطبا کو انہی منتخب موضوعات پر گفتگو کا پابند بنایا جائے۔ اور جو حضرات صرف "خراجِ عقیدت" پیش کرنا چاہتے ہوں، ان کے لیے کسی بڑے ہال یا ذیلی نشست کا انتظام کردیا جائے تاکہ اصل مرکزی پروگرام اپنے حقیقی مقصد کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
یقیناً یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہمارے اسباب و وسائل، نیز منصبِ سجادگی کے صحیح اور مؤثر استعمال کا تقاضا بھی۔
چلتے ایک بار پھر سوچیے کہ
”کیا ہمارے بڑے دینی مراکز کے مرکزی اسٹیج صرف عقیدت کے اظہار اور رسمی تقریبات تک محدود رہیں، یا انھیں اصلاحِ امت، تربیتِ عوام اور فکری رہنمائی کا مؤثر مرکز بھی بنایا جاسکتا ہے؟ “
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سنجیدہ غور فکر کی ضرورت ہے۔
#فیضان_سرور_مصباحی
دارالقضاء ادارۂ شرعیہ اورنگ آباد (بہار) | 473 |
| 12 | Video from M Faizan Sarwar Misbahi | 473 |
| 13 | ملعونہ ناریہ الہی کے خلاف”دارالقضا ادارۂ شرعیہ، اورنگ آباد (بہار) کے زیر اہتمام ضلع اورنگ آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ Dm اور Sp کو میمورنڈم سونپ کر ملعونہ کی فوری گرفتاری اور کڑی قانونی کار روائی کا پرزور مطالبہ کیا گیا ۔ شہر کے علمائے کرام، حفاظ و قراء اور سماجی شخصیات بھی پیش پیش رہے ۔ | 387 |
| 14 | ● کل کی تقریر کے لیے علماء اورنگ آباد گروپ میں مواد بھیج دیا ہے ۔ ● کل دستخطی مہم بھی زوروشور سے چلانا ہے ۔ ● کل dm. کو میمورنڈم دینا ہے ۔ اورsp کے پاس fir درج کرانا ہے ۔
تفصیلات اعلان نامہ میں درج ہیں ۔ اجتماعی آواز بن کر ہم سب اس مشن کو کامیاب کریں ، یہ ہماری دینی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے ۔ | 414 |
| 15 | ناموس رسالت اعلان.pdf | 362 |
| 16 | دیوبندی مولوی اشرف علی تھانوی کی وضاحت
" لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ " کے بارے میں | 408 |
| 17 | منہاجیوں اور سراویوں کی ذلت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہند کے منہاجیوں اور سراویوں کی ذلت و رسوائی اب ایک مسلسل داستان بنتی جا رہی ہے۔ جہاں بھی انھوں نے اہلِ سنت کے مضبوط علمی و روحانی مراکز میں اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی، کامیاب نہ ہوئے. پہلے جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں اپنی بساط بچھانے کی کوشش کی، مگر وہاں حقیقت کا پردہ چاک ہوا اور ذلت و نامرادی ان کے حصے میں آئی ۔
پھر رخ کچھوچھہ شریف کا کیا، شاید انھیں گمان تھا کہ یہاں کوئی گوشۂ عافیت مل جائے گا؛ لیکن یہاں سے بھی دھتکار دیے گئے ۔
بلاشبہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اور جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ؛ دونوں پر حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کا خصوصی فیضان سایہ فگن ہے۔ کہ جو لوگ عقائدِ اہلِ سنت میں رخنہ ڈالنے، یا شب خون مارنے کی نیت سے یہاں قدم رکھتے ہیں، ان کی حقیقت زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رہتی۔ وقت ان کے چہروں سے نقاب الٹ دیتا ہے، اور انجام وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے: ذلت، رسوائی اور بے دخلی ۔؎
جو تیرے در سے یار پھرتے ہیں
در بدر یوں ہی خوار پھرتے ہیں
از: فیضان سرور مصباحی
دارالقضاء، ادارۂ شرعیہ، اورنگ آباد (بہار) | 436 |
| 18 | No text... | 549 |
| 19 | تین طلاق اور عدت میں نکاح کا حکم.pdf | 407 |
| 20 | تازہ ترین رسالہ
نظریۂ وحدۃ الوجود کی حقانیت اور نظریۂ اتحادِ الوجود و حلول و اوتار کے بطلان کا تحقیقی جائزہ
صفحات : 60
بقلم : #فیضان_سرور_مصباحی
https://whatsapp.com/channel/0029Va62ICRDZ4LaWYNIr32k | 523 |
