en
Feedback
ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Open in Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Show more
1 419
Subscribers
No data24 hours
-17 days
-1330 days
Posts Archive
آڑو کھاؤ کیونکہ یہ تمھارے ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، تمھارے جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے اور تمھاری جلد کو صاف رکھتا ہے۔
آڑو کھاؤ کیونکہ یہ تمھارے ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، تمھارے جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے اور تمھاری جلد کو صاف رکھتا ہے۔

فالسہ کھاؤ کیونکہ یہ تمھارے جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ تمھارے معدے کو صاف کرتا ہے اور تمھارے جسم کو تازگی بخشتا ہے۔
فالسہ کھاؤ کیونکہ یہ تمھارے جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ تمھارے معدے کو صاف کرتا ہے اور تمھارے جسم کو تازگی بخشتا ہے۔

کیلا کھاؤ کیونکہ یہ تمھارے جسم کو فوری طاقت فراہم کرتا ہے۔ تمھارے معدے کے لیے مفید ہے اور تمھارے جسم کو توانائی دیتا ہے۔
کیلا کھاؤ کیونکہ یہ تمھارے جسم کو فوری طاقت فراہم کرتا ہے۔ تمھارے معدے کے لیے مفید ہے اور تمھارے جسم کو توانائی دیتا ہے۔

کاسنی قوت باہ کو بڑھاتی ہے اور منی میں حیاتی مواد کو پروان چڑھاتی ہے۔ رونق بخشتی ہے۔ کاسنی کھانے والوں کی اولاد میں زیادہ تر
کاسنی قوت باہ کو بڑھاتی ہے اور منی میں حیاتی مواد کو پروان چڑھاتی ہے۔ رونق بخشتی ہے۔ کاسنی کھانے والوں کی اولاد میں زیادہ تر لڑکے ہوتے ہیں۔

چنے کھاؤ یہ کمر درد کے لیے مفید ہیں۔
چنے کھاؤ یہ کمر درد کے لیے مفید ہیں۔

منقہ دل کو مضبوط کرتا ہے۔ بیماری کو دور کرتا ہے، گرمی کو کم کرتا ہے اور سانس کو خوشبودار اور پاکیزہ بناتا ہے۔
منقہ دل کو مضبوط کرتا ہے۔ بیماری کو دور کرتا ہے، گرمی کو کم کرتا ہے اور سانس کو خوشبودار اور پاکیزہ بناتا ہے۔

امرود کھانا معدے کو مضبوط اور طاقتور بناتا ہے۔ امرود خالی پیٹ اور بھرے پیٹ کھایا جا سکتا ہے، دل کی گھبراہٹ کو ختم کرتا ہے۔
امرود کھانا معدے کو مضبوط اور طاقتور بناتا ہے۔ امرود خالی پیٹ اور بھرے پیٹ کھایا جا سکتا ہے، دل کی گھبراہٹ کو ختم کرتا ہے۔

انگور پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ درد کو دور کرتا ہے اور روح کو فرحت بخشتا ہے۔ حضرت علیہ السلام نے خدا سے غم و اندوہ کی شکایت کی،
انگور پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ درد کو دور کرتا ہے اور روح کو فرحت بخشتا ہے۔ حضرت علیہ السلام نے خدا سے غم و اندوہ کی شکایت کی، حکم ہوا انگور کھاؤ۔

چار چیزیں مزاج کو معتدل رکھتی ہیں۔ 1۔ شامی انار 2۔ کاسنی 3۔ بنفشہ 4۔ پکی کجھور
چار چیزیں مزاج کو معتدل رکھتی ہیں۔ 1۔ شامی انار 2۔ کاسنی 3۔ بنفشہ 4۔ پکی کجھور

تمھارے لئے ضروری ہے کہ تم بازار میں نئے وارد تازہ اور موسمی پھل کھاؤ کیونکہ یہ پھل بدن کے لیے صحت اور غم و اندوہ کے زوال کا س
تمھارے لئے ضروری ہے کہ تم بازار میں نئے وارد تازہ اور موسمی پھل کھاؤ کیونکہ یہ پھل بدن کے لیے صحت اور غم و اندوہ کے زوال کا سبب ہیں اور پرانے پھل نہ کھاؤ کیونکہ وہ بدن کے لیے بیماری کا سبب ہیں۔

نوعمر لڑکوں اور خصوصاً تمام لڑکیوں اور ان کے والدین کے لیے بہت ضروری پوسٹ۔۔۔ تحریر محمد اسلم آرائیں دنیاپور 1۔ اگر کوئی شخص چاہے وہ آپ کا ٹیچر ہو، سکول کا چپڑاسی، آفس بوائے چوکیدار یا ڈرائیور ہو، لیب اٹینڈنٹ یا کوئی بڑا سٹوڈنٹ ہو، آپ کو اکیلے میں بلا رہا ہے، اس کے پاس مت جائیں۔ 2۔ مدرسے کا استاد، قاری صاحب یا امام صاحب آپ کو اپنے ذاتی رہائش گاہ پر یا کمرے میں بلاتے ہیں، تو مت جائیں، اور والدین کو یہ بات ضرور کہہ دیں۔ 3۔ گاؤں یا شہر میں اگر کوئی دکاندار آپ کو دکان کے اندر آنے کو کہتا ہے، تو مت جائیں۔ (8 ، 10 سال سے بڑی بچیاں دکان پر جائیں ہی نہ) 4۔ اپنے گھر کے لوگوں کے سوا باہر کسی سے کھانے کی چیز مت لیں، اگر لینا بھی پڑے تو کھائیں مت، بلکہ جیب میں رکھ کر بعد میں پھینک دیں۔ 5۔ اگر کوئی انجان آدمی آپ کو کہے کہ فلاں جگہ آپ کے والد، چاچا یا ماموں یا بھائی کھڑے ہیں، آپ کو بلا رہے ہیں، تو ان کو کہیں، میرے والد، بھائی یا ماموں خود یہاں آ جائیں۔ 6۔ اگر استاد یا قاری آپ کو کہیں کہ کمرے سے فلاں چیز لاؤ ، اور آپ جاتے وقت محسوس کریں کہ وہ خود بھی میرے پیچھے آ رہا ہے، تو اس سے معذرت کر کے اندر جانے سے انکار کر دیں۔ 7۔ جب بھی کوئی بڑا، استاد، قاری یا امام صاحب آپ کے انکار کے باوجود زبردستی کرنے کی کوشش کریں یا ہاتھ لگانے کی کوشش کریں تو فوراً اس طرف بھاگیں جہاں باقی طالب علم یا لوگ ہوں۔ 8۔ اگر کوئی ٹیچر آپ کو کہیں، کہ میری بات نہیں مانو گے تو فیل کر دوں گا یا نمبر کم آئیں گے یا جہنم میں جاؤ گے، تو اس بات کی اطلاع اپنے والدین کو دیں۔ 9۔ گھریلو ملازمین اور گھر میں تعمیر یا مرمت کا کام کروانے کے لیے بلائے گئے مستری، مزدور، الیکٹریشن، پلمبر یا پینٹر وغیرہ پر کڑی نظر رکھیں۔ بعض اوقات یہ افراد خواتین یا بچوں پر بری نظر رکھتے ہیں اور چوری چکاری کے بھی مرتکب ہوتے ہیں، لہٰذا ان کی طرف سے غفلت یا اندھا اعتماد آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ صرف قابل اعتماد اور جانے پہچانے لوگوں کو ہی گھر میں داخل کریں۔ 10۔ کوئی بھی پرایا شخص اگر آپ سے نرم اور میٹھے لہجے میں بات کرتے وقت آپ کے جسم کو بار بار ہاتھ لگانے کی کوشش کرے، تو وہاں سے جلدی نکلنے کی کوشش کریں، اور اس آدمی کے بارے میں ہمیشہ احتیاط سے رہیں۔ گھر میں بتائیں۔ 11۔ اگر آپ کہیں کسی کی گرفت میں آ گئے ہیں اور وہاں سے نکل نہیں سکتے، یا اس بندے سے خود کو چھڑا نہیں سکتے، کوئی بچانے والا بھی نہ ہو، اور خدا نخواستہ وہ آپ سے کچھ غلط کرنے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کو کبھی یہ کہنے کی غلطی نہ کریں، کہ میں اپنے والد کو بتاؤں گا، بتاؤں گی۔۔۔ اگر آپ نے ایسی بات کی تو وہ آپ کو زندہ نہیں چھوڑے گا، اگر اس نے آپ کو دھمکی دی کہ اگر گھر میں کچھ کہا تو مار دوں گا، تو اسے کہیں ٹھیک ہے۔۔۔ نہیں بتاؤں گا/گی، بعد میں گھر آ کر اپنے والدین کو پورا واقعہ بتا دیں، شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کے والدین یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گے، بلکہ اس شخص کے خلاف کارروائی کریں گے اور ڈرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اب آپ کے والد یا سرپرست یا بڑوں کو اس شخص کا پتہ چل گیا ہے، وہ اسے اچھی طرح پوچھ لیں گے۔ 12۔ گھر سے باہر کہیں بھی اجنبی لوگوں سے بات کرتے وقت دو میٹر کا فاصلہ رکھیں، انہیں اپنے قریب نہ آنے دیں۔ براہِ کرم! اس پوسٹ کو اپنے انداز میں اپنے بچوں اور بالخصوص بیٹیوں تک پہنچا دیں۔ گھر میں جب بھی بچے ساتھ بیٹھے ہوں، باتوں باتوں میں دوستانہ انداز میں انہیں اس طرح کے لیکچرز دیا کریں، تاکہ انہیں ذہن نشین ہو جائے۔ یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں کے والدین کو بھی انھیں یہ سب سمجھانا چاہیے۔ رب سوہنا ہم سب کی اور ہمارے بچوں کی حفاظت کرے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 کل اور آج میں فرق 🔷 ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ میں اکثر لوگوں سے پوچھتا ہُوں کہ کیا آپ اپنے والدین سے بہتر زندگی نہیں گُزار رہے؟ ہر شخص ہاں میں سَر ہلاتا ہے۔ آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں آپ کو دُونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا۔ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہُوتا تھا۔ سارا گھر ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا۔ ہمسایوں سے سالن مانگنا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جُوتے اُدھار لینا بھی عام تھا۔ بچے پُرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے لُوگوں نے باہر اور گھر کے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہُوتے تھے۔ دستر خوان پر دُوسرا سالن عیاشی ہُوتا تھا۔ سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول یا کھیر بنتی تھی۔ مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی۔ پُورے محلے میں ایک فون ہُوتا تھا اور سب لُوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہُوتا تھا۔ ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دُعا کی طرح دیکھا جاتا تھا۔ بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جُوتے عید پر ملتے تھے۔ سائیکل خُوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا۔ گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی۔ بس اور ٹرین کے اَندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہُوتی تھی۔ گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہُوتا تھا۔ پُورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہُوٹا تھا۔ لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے۔ بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا۔ یہ وُہ زمانہ تھا جس میں کھانا کھانا نہیں ہُوتا تھا رُوٹی ہُوتا تھا امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو رَوٹی ہی کہتا تھا۔ آپ کسی سے پُوچھ لیں آپ کو ہَر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہُوں گی اورکوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہَوا بھی۔ ہم سب نے یہاں سے زندگی شُروع کی تھی اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بُہت کم لُوگوں کو دیتی ہے آج اگر یورپ کا کُوئی بابا قبر سے اُٹھ کر آجائے تُو اُسے بجلی ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جبکہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دُنیا میں جا گریں گے لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی اتنی خُوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لُوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ میں جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے ناشکری۔ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے۔ ہم ناشکرے ہیں۔ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سُنا ہُو گا یہ صرف ایک لفظ نہیں یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بُجھتی یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود اس کی زبان باہر لٹک رہی ہُوتی ہے ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہُوتی اور ہم میں سے کُچھ لُوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہُوتے کیوں؟ آپ نے کبھی سُوچا کیوں کہ یہ لُوگ بیمار ہُوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ ہے۔ ان کے پیٹ ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک ڈس سیٹس فیکشن کی بیماری کا شکار ہیں اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن شکر کی کمی ہے۔ شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد تَحفہ ہےجو ہماری خوش حالی میں خوشی ہماری اچیومنٹ میں منٹ اور ہماری کامیابی کو کام بناتا ہے۔ اِنسان جب شکر چُھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہَو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے۔ جُو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔ ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم پانچ سو روپے سے پچاس پچاس کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ہم چالیس پچاس لاکھ روپے سے لے کر دو تین چار کروڑ روپے کی گاڑی سے اتریں گے اور ساتھ ہی کہیں گے ”بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے“ چناچہ میری آپ سے درخواست ہے آپ ایک لمحے کے لیے اپنا بچپن یاد کریں اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں آپ کو نتائج حیران کر دیں گے۔ یقین کریں آپ کا شکر آپ کی زندگی سنوار دے گا ورنہ آپ ایک اُدھوری غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دُنیا سے رُخصت ہَو جائیں گے۔ گاؤں کے رنگ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 اپنی ڈیجیٹل شناخت کسی کو نہ دیں 🔷 احتیاط کیجئے پیسے کا لالچ دے کر بہت فراڈ ھو رہے ہیں۔۔۔ فرحان نجیب، حیدرآباد کا 28 سالہ فری لانس گرافک ڈیزائنر تھا، جو گھر بیٹھے اضافی آمدنی کے طریقے تلاش کر رہا تھا۔ ایک دن وہ ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اسکرول کر رہا تھا کہ اُس کی نظر ایک اشتہار پر پڑی جس میں لکھا تھا: > "اپنا verified LinkedIn اکاؤنٹ کرائے پر دیں اور ہر مہینے ₹25,000 کمائیں — کوئی کام نہیں کرنا ہوگا!" فرحان کو پہلے تو شک ہوا، لیکن اشتہار میں سب کچھ قانونی اور محفوظ ظاہر کیا گیا تھا۔ اُس نے اشتہار دینے والے شخص سے رابطہ کیا، جس نے اسے یقین دلایا کہ verified LinkedIn پروفائلز صرف بین الاقوامی کلائنٹس کا اعتماد جیتنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ بتایا گیا کہ آپ کا اکاؤنٹ صرف "communication" کے لیے استعمال ہوگا، اور کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہوگی۔ کچھ دن کی بات چیت کے بعد، فرحان نے اپنا LinkedIn لاگ ان، ای میل اکاؤنٹ اور شناختی دستاویزات فراہم کر دیں۔ پہلے مہینے اسے وعدے کے مطابق ₹25,000 موصول ہوئے۔ سب کچھ نارمل لگا۔ لیکن دوسرے مہینے اچانک اُس کا LinkedIn اکاؤنٹ بند ہو گیا۔ جب اُس نے لاگ ان کرنے کی کوشش کی، تو سسٹم نے بتایا کہ اکاؤنٹ پر مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے اسے permanently suspend کر دیا گیا ہے۔ اُس شخص سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ غائب ہو چکا تھا۔ دو ماہ بعد، فرحان کو Basheer Bagh Cyber Crime Police Station سے کال آئی۔ پولیس نے بتایا کہ اُس کے LinkedIn اکاؤنٹ سے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ $5,000 کا پروجیکٹ سائن کیا گیا تھا، لیکن وہ پروجیکٹ ڈیلیور نہیں ہوا۔ کمپنی نے فراڈ کی شکایت درج کروا دی تھی۔ فرحان نے وضاحت دی کہ اس نے تو صرف اکاؤنٹ کرائے پر دیا تھا، اُسے اس ڈیل کا کچھ علم نہیں۔ لیکن پولیس کے پاس تمام ڈیجیٹل شواہد موجود تھے: IP لاگز، لاگ ان ٹائمز، ای میلز — سب کچھ اُس کی شناخت سے جڑا ہوا تھا۔ نتیجے میں فرحان کو عدالت سے سمن ملا، کچھ دنوں کے لیے حراست میں بھی رکھا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران جج نے کہا کہ اگرچہ فرحان نے براہِ راست فراڈ نہیں کیا، لیکن اُس نے اپنی ڈیجیٹل شناخت لاپرواہی سے دے کر جرم میں مدد کی۔ عدالت نے اُسے $5,000 کی رقم واپس کرنے اور تقریباً ₹95,000 کے قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ اُس کے کیریئر پر بہت منفی اثر ڈال گیا۔ اُس کی LinkedIn پروفائل بند ہو گئی، آن لائن ساکھ تباہ ہو گئی، کلائنٹس کا اعتماد ختم ہو گیا، اور اس کا نام اب criminal background checks میں آتا ہے — جس کی وجہ سے بین الاقوامی پراجیکٹس حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ جو چیز وقتی آسان کمائی لگ رہی تھی، وہ عدالت، مالی نقصان اور تباہ شدہ کیریئر میں بدل گئی۔ فرحان نجیب کی کہانی ایک سنگین وارننگ ہے کہ اپنی ڈیجیٹل شناخت کسی اجنبی کے حوالے کرنا آمدنی نہیں بلکہ ایک خطرناک غلطی ہے — جو زندگی بدل سکتی ہے۔ #copied for awareness purpose

جب بھی غسل کر کے باہر نکلو خالی سر نہ نکلو۔ سر پر ٹوپی (کپڑا) رکھ لو۔ چاہے گرمیاں ہوں یا سردیاں۔ اس سے کبھی سر درد نہیں ہو گا
جب بھی غسل کر کے باہر نکلو خالی سر نہ نکلو۔ سر پر ٹوپی (کپڑا) رکھ لو۔ چاہے گرمیاں ہوں یا سردیاں۔ اس سے کبھی سر درد نہیں ہو گا۔

جب تمھارے گناہ بڑھ جائیں تو تم پانی پہ پانی پلاتے جاؤ۔
جب تمھارے گناہ بڑھ جائیں تو تم پانی پہ پانی پلاتے جاؤ۔

ایک پیالی گرم پانی ایک چمچ شہد گھول کر نہار منہ پینے سے قبض دور ہو جاتی ہے۔
ایک پیالی گرم پانی ایک چمچ شہد گھول کر نہار منہ پینے سے قبض دور ہو جاتی ہے۔

جب آپ غسل کریں اس کے فورا بعد اور رات کو کھڑے ہو کر پانی نہ پیئیں اس سے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی جمع ہو جاتا ہے۔
جب آپ غسل کریں اس کے فورا بعد اور رات کو کھڑے ہو کر پانی نہ پیئیں اس سے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی جمع ہو جاتا ہے۔

نیم گرم پانی معدے اور جگر کو صاف کرتا ہے اور سر کے درد کو ختم کرتا ہے۔
نیم گرم پانی معدے اور جگر کو صاف کرتا ہے اور سر کے درد کو ختم کرتا ہے۔

پانی گھونٹ گھونٹ کر کے پیو اور ایک ہی گھونٹ میں نہ پیو کیونکہ یہ جگر کو نقصان دیتا ہے۔
پانی گھونٹ گھونٹ کر کے پیو اور ایک ہی گھونٹ میں نہ پیو کیونکہ یہ جگر کو نقصان دیتا ہے۔

🔷 چنگیز خان اور چرواہا 🔷 کہا جاتا ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور میں خون کی ندیاں بہا دیں اور شہر کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا، تو اُس کے بعد وہ اپنی فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں کے لوگوں پر خوف کے سائے چھا گئے۔ لوگ لرزتے دل اور سہمے چہروں کے ساتھ اس کا سامنا کرنے پر مجبور تھے۔ “چنگیز خان نے سارے شہر کو ایک وسیع و عریض میدان میں جمع کیا، جہاں ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ اس نے بلند آواز میں اعلان کیا: ‘میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ نہایت سمجھدار، زیرک، اور فہم و شعور میں بے مثال ہیں۔ ھمدانیوں کی معاملہ فھمی زبان زد عام ہے ، اور تمہارے بارے میں مشہور ہے ھمه دانی و ھیچ ندانی اتنے زیرک ھو سب کچھ جانتے ہو ے بھی کچھ نہیں جانتے ، چنگیز خان کی نظریں میدان میں کھڑے لوگوں پر جم گئیں اور اس نے کہا: ‘میں تم سے ایک سوال کروں گا، جس کا جواب اگر صحیح اور معقول ہو، تو تمہیں امان ملے گی، تمہیں تحفظ ملے گا، لیکن اگر تم میرے سوال کا جواب غلط دیا، تو یہی میدان تمہارا آخری ٹھکانا بنے گا۔ تمہاری تقدیر یہاں فیصلے کی محتاج ہے، اور اگر تم غلط جواب دو، تو اس میدان میں تم سب کو تہہ تیغ کر دوں گا۔’ اس کی آواز میں وہ دلی دھاڑ تھی جو ہر شخص کے دل میں خوف کی لہر دوڑاتی۔” اس میں چنگیز خان کے ارادے اور اس کے حاکمانہ انداز کو واضح کیا گیا ہے، اور یہ اس کے سوال کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے پھر وہ رُکا، لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا: “کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں، یا اپنی مرضی سے آیا ہوں ؟” مجمع ساکت تھا۔ کوئی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ جانیں لبوں پر تھیں، “لہذا ہمدان کے دانشور، علما، بزرگان، پڑھے لکھے لوگ اور اہلِ حل و عقد سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ وہ چنگیز خان کے سوال کا مناسب جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سب کے چہرے پر خوف اور اضطراب تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ سوال محض ایک امتحان نہیں، بلکہ پورے شہر کے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا تھا “شہر کے بڑے اور اہلِ دانش سوچ و بچار میں غرق تھے، ایک طرف شہر کی تقدیر کا سوال تھا اور دوسری طرف خوف کی ایک گہری لہر۔ اس دوران اچانک ایک چرواہا جواب دینے کے لئے کھڑا ہوا جس کی آنکھوں میں خوف کے بجائے بصیرت تھی، ہجوم سے آگے بڑھا۔ شہر کے لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی تھیں، ہر کسی کے دل میں یہی سوال تھا کہ یہ چرواہا چنگیز خان کے سوال کا کیا جواب دے گا؟ چنگیز خان نے اسے غور سے دیکھا، پھر اپنی گرجدار آواز میں کہا: ‘اگر میں جواب سنوں گا، تو اسی سے سنوں گا! چرواہے نے نہایت دلیری سے چنگیز خان کی طرف دیکھا اور کہا: “نہ تو تم خدا کی طرف سے آئے ہو، اور نہ ہی اپنی مرضی سے آے ہو ۔ تمہیں ہمارے اعمال یہاں لائے ہیں! جب ہم نے اہلِ عقل و دانش کو نظرانداز کیا، اور بےوقوفوں، جاہلوں، اور چاپلوسوں کو عزت، اختیار اور قیادت دی، تو پھر یہی دن دیکھنا تھا۔ تم ہماری نادانی، ہماری بےبصیرتی اور ناانصافی کا نتیجہ ہو!” چنگیز خاموش ہو گیا۔ شاید اُسے بھی اس سچائی کی گہرائی نے ایک لمحے کو ہلا دیا تھا۔ اور چنگیز خان نے سب کو جانے دیا 🔘 پیغام: قوموں پر چنگیز جیسے طوفان آسمان سے نازل نہیں ہوتے، یہ اُن کے اپنے ہاتھوں کے بوئے ہوئے بیجوں کا پھل اور مکافات عمل ہوتے ہیں۔ از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جوزجو ترجمہ: مکافات عمل سے کبھی غافل نہ ہونا گندم بؤو گے تو گندم کاٹو گے جو بوؤ گے تو جو کاٹو گے *جیسا کروگے ویسا بھرو گے* اگر آج بھی ہم نے عقل و علم کو مقام نہ دیا، انصاف اور صداقت کا پرچم نہ تھاما، تو چنگیز کے سائے پھر سے لوٹ آئیں گے۔ چاہے نام کچھ بھی ہو، شکل کچھ بھی ہو۔ قومیں بندوق سے نہیں، بصیرت سے باقی رہتی ہیں۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕