ISLAM WITH EMAN
前往频道在 Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
显示更多1 285
订阅者
-324 小时
-77 天
-730 天
帖子存档
1 285
''يرد علَّ يوم القيامة رھط من أصحاب أو قال من أمت فيحلون عن الحوض فأقول يارب أصحاب فيقول اِنّہ لاعلم لک بما أحدثوا بعدک أنھم ارتدوا علیٰ أدبارھم القھقری. ''(16)
قيامت کے دن ميرے اصحاب ميں سے يا فرمايا ميری امت ميں سے ايک گروه ميرے پاس آئے گاپس ان کو حوض کوثر سے دور کرديا جائے گا اس وقت ميں کہوں گا اے ميرے پروردگار! يہ ميرے اصحاب ہيں تو خدا فرمائے گا آپ نہيں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کيسے کيسے کام انجام دئيے ہينبے شک يہ لوگ اپنی سابقہ حالت (زمانہ جاہليت) پر لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے. نتيجہ:قرآنی آيات اور سنت پيغمبر کی روشنی ميں يہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصحاب اور وه افراد جنہيں آنحضرتۖ کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا ہے وه سب ايک ہی درجہ کے نہيں تھے ان ميں بعض ايسے بلند مقام افراد تھے جن کی خدمات نے اسلام کے پھيلانے ميں انتہائی مؤثر کردار ادا کيا ہے ليکن بعض ايسے بھی تھے جو ابتداء ہی سے منافق، دل کے مريض اور گمراه تھے. (17)
اسی بيان کے ساتھ صحابۂ پيغمبرۖ کے بارے ميں شيعوں کا نظريہ (جو درحقيقت قرآن اور سنت کا نظريہ ہے) واضح ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1) اسد الغابة جلد ١ ص ١١ ،١٢ طبع مصر
2) گذشتہ حوالہ
3) اسدالغابة جلد ١ ص ١١،١٢
4) گذشہ حوالہ
5) الاستعياب فی اسماء الاصحاب جلد ١ ص ٢ ''الاصابة'' کے حاشيے ميں اسدالغابة جلد ١ صفحہ ٣ ميں ابن اثير
6) سوره حديد آيت: ١٠
7) سوره توبہ آيت: ١٠٠
8) سوره فتح آيت: ١٨
9) سوره حشر آيت: ٨
10) سوره فتح آيت: ٢
11) سوره منافقون آيت: ١
12) سوره توبہ آيت: ١٠١
13) سوره احزاب آيت : ١٢
14) سوره توبہ آيت : ١٠٢
15) کتاب الحوض فی ورود الناس عليہ ص ١٢٠ حديث نمبر ٧٩٧٢ ١)جامع الاصول (ابن اثير) جلد ١
16) جامع الاصول جلد ١١ ص ١٢٠ حديث ٧٩٧٣
17) اس بارے ميں مزيد وضاحت کے لئے سوره منافقون ملاحظہ کريں.....ہمارے بلاگ کا مقصد صرف اسلام کی اصل تعلیمات کو دنیا تک پہنچانا ہے۔
مخدوم عاصم جاوید
1 285
صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلب گار ہيں اور خدا اور رسول کی مدد کرنے والے ہيں يہی لوگ دعوائے ايمان ميں سچے ہيں. ٤۔اصحابِ فتح
لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا (10)
محمد لله کے رسول ہيں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہيں وه کفار کے لئے سخت ترين اور آپس ميں انتہائی رحم دل ہيں تم ان کوديکھو گے کہ بارگاه احديت ميں سرخم کئے ہوئے سجده ريز ہيں اور اپنے پروردگار سے فضل وکرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہيں کثرت سجود کی وجہ سے ان کے چہروں پر سجده کے نشانات پائے جاتے ہيں. دوسری قسم
بزم رسالت ميں کچھ افراد ايسے بھی تھے جنہيں پيغمبر خداۖ کی مصاحبت تو حاصل ہوئی تھی مگر وه يا تو منافق تھے يا پھر ان کے دل ميں مرض تھا قرآن مجيد نے پيغمبر اسلامۖ کے لئے ايسے افراد کی حقيقت کو نماياں کيا ہے اور آنحضرتۖ کو يہ تاکيد کی ہے کہ ان سے محتاط رہيں يہاں پر ہم اس سلسلے ميں نازل ہونے والی آيتوں کے چند نمونے پيش کرتے ہيں: ١۔معروف منافقين
إِذَا جَاءكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ (11)
اے پيغمبر! يہ منافقين آپ کے پاس آتے ہيں تو کہتے ہيں کہ ہم گواہی ديتے ہيں کہ آپ لله کے رسول ہيں اور لله بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہيں ليکن لله گواہی ديتا ہے کہ يہ منافقين اپنے دعوے ميں جھوٹے ہيں ٢۔غير معروف منافقين
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ (12)
اور تم لوگوں کے گرد، ديہاتيوں ميں بھی منافقين ہيں اور اہل مدينہ ميں تو وه بھی ہيں جو نفاق ميں ماہر اور سرکش ہيں تم لوگ ان کو نہيں جانتے ہو ليکن ہم خوب جانتے ہيں. ٣۔دل کے کھوٹے
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُؤُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (13)
اور جب منافقين اور جن کے دلوں ميں مرض تھا يہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور رسول نے ہم سے صرف دھوکا دينے والا وعده کيا ہے.
٤۔گناه گار
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِہِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَی اللهُ نْ يَتُوبَ عَلَيْہِمْ نَّ اللهَ غَفُور رَحِيم (14)
اور دوسرے وه لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کيا کہ انہوں نے نيک اور بد اعمال مخلوط کردئيے ہيں عنقريب خدا ان کی توبہ قبول کر لے گا وه بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے.
قرآن مجيد کی آيات کے علاوه پيغمبر اکرمۖ سے بھی بعض صحابہ کی مذمت ميں بہت سی روايات نقل ہوئی ہيں ان ميں سے ہم صرف دو روايتوں کو بطور نمونہ پيش کرتے ہيں :
١۔ابوحازم،سہل بن سعد سے نقل کرتے ہيں کہ پيغمبر خداۖ نے ارشاد فرمايا : ''أنا فرطکم علیٰ الحوض مَن ورد شرب و مَن شرب لم يظمأ أبداً و ليردنّ علّ أقوام أعرفھم و يعرفونن ثم يحال بين و بينھم.''
ميں تم سب کو حوض کی طرف بھيجوں گا جو شخص بھی اس حوض تک پہنچے گا وه اس ميں سے ضرور پئے گا اور جو بھی اس سے پئے گا پھر وه تاابد پياس محسوس نہينکرے گا پھر ايک گروه ميرے پاس آئے گا جسے ميں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وه بھی مجھے پہچانتے ہوں گے اس کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے جدا کرديا جائے گا .''
ابو حازم کا بيان ہے کہ جس وقت ميں نے نعمان ابن ابی عياش کے سامنے يہ حديث پڑھی تو انہوں نے مجھ سے کہا: کيا تم نے يہ حديث سھل سے اسی طرح سنی ہے ؟ ميں نے کہا ہاں اس وقت نعمان بن ابی عياش نے کہا کہ ابوسعيد خدری نے بھی اس حديث کو ان کلمات کے اضافے کے ساتھ پيغمبر اکرمۖ سے نقل کيا ہے کہ آنحضرتۖ فرماتے ہيں :
''اِنھم من فيقال: نک لاتدر ما أحدثوا بعدک فأقول سحقًا سحقًا لمن بدل بعد''( 15)يہ افراد مجھ سے ہينپس کہا جائے گا کہ آپ نہيں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کيا کام انجام ديئے ہيں ! پس ميں کہوں گا ايسے لوگوں سے خدا کی رحمت دور ہوجائے جنہوں نے ميرے بعد (احکام دين ميں ) تبديلی کی.
پيغمبر اسلامۖ کی اس حديث ميں ان دو جملوں'' جنہيں ميں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وه سب بھی مجھے پہچانتے ہونگے ''اور ''ميرے بعد تبديلی کی'' سے صاف واضح ہے کہ آنحضرتۖ کی مراد آپکے وه اصحاب ہيں جو کچھ مدت آنحضرتۖ کے ہمراه رہے ہيں (اس حديث کو بخاری اور مسلم نے بھی نقل کياہے)
٢۔بخاری اور مسلم ،پيغمبر خداۖ سے روايت کرتے ہيں کہ آنحضرتۖ نے فرمايا ہے:
1 285
صحابۂ کرام کے بارے ميں شيعوں کا کيا نظريہ ہے؟
جواب:شيعوں کے نزديک پيغمبرخدا کو ديکھنے اورانکی مصاحبت سے شرفياب ہونے والے افراد چند گروہوں ميں تقسيم ہوتے ہيں ليکن اس بات کی وضاحت سے قبل بہتر يہ ہے کہ لفظ ''صحابی'' کو واضح کرديا جائے صحابی پيغمبرۖ کی مختلف تعريفيں کی گئی ہيں يہانہم ان ميں سے بعض تعريفوں کی طرف اشاره کرتے ہيں:
١۔سعيد بن مسيب کہتے ہيں کہ: ''صحابی'' وه ہے جو ايک يا دو سال تک پيغمبر خداۖ کی خدمت ميں رہا ہو اور اس نے آنحضرت کی ہمراہی ميں ايک يا دو جنگيں بھی لڑی ہوں.( 1)
٢۔واقدی کہتے ہيں کہ:علماء کے نزديک ہر وه شخص رسولۖ کا صحابی شمار ہوتا ہے جس نے آنحضرتۖ کوديکھاہو اور اسلام کی طرف مائل ہو اور اس نے دين اسلام کے سلسلے ميں غور وفکر کرنے کے بعد اسے قبول کرليا ہو اگرچہ وه گھنٹہ بھر ہی آنحضرت کے ہمراه رہا ہو. ( 2)
٣۔محمد بن اسماعيل بخاری کہتے ہيں کہ: مسلمانوں ميں سے ہر وه شخص جو آنحضرتۖ کی مصاحبت ميں رہا ہو يا اس نے آپۖ کو ديکھا ہو وه آنحضرتۖ کے اصحاب ميں شمار ہوگا.( 3)
٤۔احمد ابن حنبل کہتے ہيں کہ: ہر وه شخص جو ايک ماه يا ايک دن يا چند گھڑياں پيغمبر اکرمۖ کے ہمراه رہا ہو يا اس نے آنحضرتۖ کو ديکھا ہو وه ان کے اصحاب ميں شمار ہوگا.( 4)
علمائے اہل سنت کے نزديک ''عدالت صحابہ'' ايک متفق عليہ مسئلہ ہے اس کے مطابق جس شخص کو بھی پيغمبراکرمۖ کی مصاحبت حاصل ہوئی ہو وه عادل ہے! ( 5)
يہاں پر ضروری ہے کہ اس نظريہ کا قرآنی آيات کی روشنی ميں تجزيہ کيا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اس بارے ميں وحی الہی کے سرچشمہ سے حاصل شده شيعوں کے نکتہ نظر کا بھی تذکره کيا جائے ۔ تاريخ نے باره ہزار سے زياده افراد کے نام اصحاب پيغمبرۖ کی فہرست ميں درج کئے ہيں جنکے درميان مختلف قسم کے چہرے دکھائی پڑتے ہيں بے شک آنحضرتۖ کی مصاحبت ايک بہت بڑا افتخارتھا جو صرف چند افراد ہی کو نصيب ہوا اور امت اسلامی نے ہميشہ ايسے افراد کو ادب و احترام کی نگاہوں سے ديکھا ہے کيونکہ انہی بزرگان نے سے نقل کرتے ہوئے.
آئين اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے سب سے پہلے اسلام کی عزت اور شوکت کے پرچم کو لہرايا ہے.
قرآن مجيد نے بھی ان کی تعريف کرتے ہوئے يوں فرمايا ہے:
لايَسْتَوِ مِنْکُمْ مَنْ نْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ وْلٰئِکَ عْظَمُ دَرَجَةً مِنْ الَّذِينَ نْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا( 6)
اور تم ميں سے فتح سے پہلے انفاق کرنے والا اور جہاد کرنے والا اس کے جيسا نہيں ہوسکتا جو فتح کے بعد انفاق اور جہاد کرے پہلے جہاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے. ليکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعتراف بھی کرلينا چاہيئے کہ پيغمبر خداۖ کی مصاحبت کوئی ايسا کيمياوی نسخہ نہيں تھا جو انسانوں کی حقيقت کو بدل ديتا اور عمر کے آخری حصے تک ان کی زندگی کی ضمانت ليتا نيز انہيں ہميشہ کے لئے عادلوں کی صف ميں کھڑا کرديتا. اس مسئلے کی وضاحت کے لئے بہتر يہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے درميان قابل اعتماد کتاب قرآن مجيد کا مطالعہ کريناور اس سلسلے ميں اس سے مدد حاصل کريں.
صحابی قرآن مجيد کی نگاه ميں
قرآن کے نکتہ نظر سے نبی اکرمۖ کی خدمت ميں حاضر ہونے اور آپۖ کی مصاحبت اختيار کرنے والوں کی دوقسميں ہيں:
پہلی قسم
وه ايسے اصحاب ہيں جن کی قرآن مجيد کی آيتيں مدح و ستائش کرتی ہيں اور انہيں شوکت اسلام کا بانی قرار ديتی ہيں يہاں پر ہم صحابہ کرام کے ايسے گروه سے متعلق چند آيتوں کا ذکر کرتے ہيں:
١۔دوسروں پر سبقت لے جانے والے
وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (7)
اور مہاجرين اور انصار ميں سے سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نيکی ميں ان کا اتباع کيا ہے ان سب سے خدا راضی ہوگيا ہے اور يہ سب خدا سے راضی ہيں اورخدا نے ان کے لئے وه باغات مہيا کئے ہيں جن کے نيچے نہريں جاری ہيں اور يہ ان ميں ہميشہ رہنے والے ہيں اور يہی بہت بڑی کاميابی ہے.
٢۔درخت کے نيچے بيعت کرنے والے
فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاء أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَاءتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ (8)
يقينا خدا صاحبان ايمان سے اس وقت راضی ہوگيا جب وه درخت کے نيچے آپ کی بيعت کررہے تھے پھر اس نے وه سب کچھ ديکھ ليا جوان کے دلوں ميں تھا تو ان پر سکون نازل کرديا اور انہيں اس کے عوض قريبی فتح عنايت کردی.
٣۔مہاجرين لِلْفُقَرَاء الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (9) يہ مال ان مہاجر فقراء کے لئے بھی ہے جنہيں ان کے گھروں سے نکال ديا گيا اور ان کے اموال سے انہيں دور کرديا گيا اور وه
1 285
16۔ الثاقب فی المناقب، ص ۲۸۱
17۔ الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج ۱۷، ص ۴۲۸
18۔ الموسوعۃالكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج ۱۷، ص ۴۳۰
19۔ الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری ،ج ۱۷، ص ۴۲۹
20۔ اصغر قائدان، اماکن سیاحتی و زیارتی دمشق، ص ۴۷
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=123901243027018&id=100062214292056
https://t.me/islamwitheman/3208
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌹 فضہ نوبیہ کنیز زھراءؑ 🌹
#بیبی_فضہ_س_کی_وفات_پرملال_پر_تعزیت_عرض_ہے۔
فضہ نوبیہ، حضرت فاطمہ زہراءؑ کی کنیز تھیں اور پیغمبر اکرمؐ نے انہیں یہ نام دیا ہے۔ ان کا نام حسنین علیہما السلام کی ولادت، آیت اطعام کے نزول کے واقعہ اور حضرت زہراءؑ کی شہادت کے سلسلہ میں وارد ہونے والی روایات کے ضمن میں آتا ہے۔ فضہ نے جناب سیدہؑ کے بعد دو شادیاں کی ہیں۔ ان کی خصوصیات میں آیات قرآنی کے ذریعہ گفتگو کرنا اور علم کیمیا کا جاننا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ واقعہ کربلا میں بھی موجود تھیں۔
حسب و نسب
فضہ اصالتا نوبیہ کی رہنے والی تھیں،[1] نوبیہ ایک شہر ہے جو جنوب سوڈان[2] یا جنوب مصر و شرق نیل[3] میں واقع تھا۔ بعض نے انہیں ہندی[4] کہا ہے اور بعض دیگر نے حتی کہا ہے کہ وہ ہند کے بادشاہ کی بیٹی تھیں۔[5]
حضرت زہراءؑ کے گھر میں
فضہ، حضرت زہراءؑ کی کنیز تھیں۔[6] آیہ کریمہ "قل لھما قول میسورا" کے نازل ہونے کے بعد آنحضرتؐ نے انہیں جناب سیدہ کے گھر بھیج دیا اور انہیں فضہ کا نام دیا۔[7]
حضرت زہراءؑ کی شہادت کے بعد فضہ حضرت علیؑ کی کنیزی میں آ گئیں[8] اور اس کے بعد بیس سال زندہ رہیں۔ فضہ کو ایک نیک اور پرہیزگار خاتون کہا جاتا ہے۔[9]
شوہر اور اولاد
حضرت علیؑ نے ابو ثعلبہ حبشی سے ان کی شادی کرائی۔ ان دونوں سے ایک بیٹا ہوا۔ ابو ثعلبہ کے مرنے کے بعد فضہ نے ابو ملیک غطفانی سے شادی کی اور اس شادی کے بعد ان کے بیٹے کا (سابق شوہر سے) انتقال ہو گیا۔[10] ابو ملیک سے شادی کے بعد فضہ کے کئی بچے ہوئے۔[11] شہرۃ بنت مسکۃ بنت فضہ، جن سے ایک کرامت بھی نقل ہوئی ہے، ان کی پوتی ہیں۔[12]
مالک بن دینار کہتے ہیں: جس وقت میں خانہ خدا کی زیارت اور حج کے سفر پر تھا، راستے میں ایک لاغر اندام خاتون کو دیکھا جو ایک کمزور حیوان پر سوار تھی، اور جانور راستہ میں رک گیا۔ میں نے اس کی سرزنش کی کہ کیوں ایسے کمزور جانور کے ساتھ سفر کا ارادہ کیا ہے اور وہ بھی اتنے طولانی سفر کا۔ اس خاتون نے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا: نہ مجھے اپنے گھر میں رہنے دیا اور نہ ہی اپنے گھر تک پہچایا۔ تیری عزت و جلال کی قسم اگر یہ تیرے علاوہ کسی نے کیا ہوتا تو میں اس کی شکایت تیری بارگاہ میں کرتی، اچانک ہم نے کیا دیکھا کہ بیابان میں سے ایک شخص ظاہر ہوا اور اس کے ہاتھوں میں ایک ناقہ کی نکیل تھی اور وہ اس خاتون کو منزل تک پہچانے کا عزم رکھتا تھا۔ میں نے اس ماجرا سے سمجھ لیا کہ یہ کوئی صاحب کرامت پرہیز گار خاتون ہیں جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتی ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کون ہیں: انہوں نے کہا میں کنیز فاطمہ فضہ کی بیٹی مسکۃ کی بیٹی شہرۃ ہوں۔[13]
خصوصیات
فضہ نے تقریبا بیس سال تک قرآن کے ذریعہ گفتگو کی اور بات کرنے والوں کو قرآن کی آیات سے جواب دیتی تھیں۔[14] انہوں نے ایک طولانی روایت میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حالات زندگی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات سے لیکر حضرت زہراء کی شہادت تک بیان کیا ہے۔[15] حضرت علی علیہ السلام ان کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: اللهم بارک لنا فی فضّتنا۔[16]
بعض کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا جانتی تھیں[17] اور اس علم کو انہوں نے حضرت زہراءؑ سے سیکھا تھا۔[18] پیغمبر اکرمؐ نے بھی انہیں مشکلات کے حل کی دعا اور اسی طرح سے دوسرے ذکار تعلیم فرمائے تھے۔[19]
وفات
شام میں دمشق کے قریب باب الصغیر نامی قبرستان میں ایک قبر فضہ کے نام سے منسوب موجود ہے۔ جو عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب سے منسوب قبر سے تھوڑا آگے کی طرف اور قبرستان کے مغربی حصہ کے آخر میں واقع ہے۔ قبر پر ایک حجرہ اور چھوٹا سا سبز گنبد موجود ہے اور اس کی دیواریں سنگ سیاہ سے تعمیر ہوئی ہیں۔[20]
شہر کربلا (عراق) میں ایک مقام شیر اور فضہ کے نام سے موجود ہے۔
📚 حوالہ جات
1۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶؛ ابن حجر، الإصابۃ، ج ۸ ص ۲۸۱
2۔ الفیروزآبادی، القاموس المحیط: ج ۱ ص ۱۳۵؛ مجمع البحرین، ج ۲، ص ۱۷۸
3۔ ابن الوردی، ریاض السالكین: ج ۴ ص ۲۲۴
4۔ الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ ،ص ۲۸۷
5۔ بحار الانوار، دار احیاء التراث، ج ۹، ص ۵۷۵؛البرسی، مشارق أنوار الیقین، ص ۱۲۱
6۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶؛ ابن حجر، الإصابۃ، ج ۸، ص ۲۸۱
7۔ تفسیر نور الثقلین، ج ۳، ص ۱۵۷
8۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶
9۔ الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ، ص ۲۸۷
10۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۷
11۔ الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ، ص ۲۸۷
12۔ تسلیۃ المجالس، الكركی الحائری ،ج ۱،ص ۵۲۹
13۔ بحار الأنوار، ۱۳۶۳، ج ۴۳، ص ۴۷
14۔ ریاحین الشریعہ، ج ۲، ص ۳۱۳ تا ۳۲۶
15۔ بحارالانوار، ج ۴۳، ص۱۷۴-۱۸۰
1 285
👈 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔
https://www.facebook.com/share/p/mw76LrzizcijJYDd/?mibextid=oFDknk
https://www.facebook.com/share/p/jremcneT22dWicBF/?mibextid=oFDknk
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌹 جناب فضہ سلام الله عليها 🌹
#بیبی_فضہ_س_کی_وفات_پرملال_پر_تعزیت_عرض_ہے۔
جناب فضہؑ کی تاریخ میں 5 شعبان یا پھر 25 محرم تاریخِ وفات ذکر ہوئی ہے۔
کربلا میں جناب فضہؑ کا عظیم کردار، حق غلامی ادا کردیا۔
واقعہ کربلا میں حضرت فضہؑ کا کردار پورے آب و تاب کیساتھ جلوہ گر دکھائی دیتاہے۔ حضرت فضہ نے جو تربیت خانہ فاطمہؑ میں حاصل کی تھی وہ تربیت کربلا میں کام آگئی۔ یقینا خانہ نبوت حسنینؑ اور زینبؑ و کلثومؑ کیساتھ ساتھ حضرت فضہؑ کیلئے ایک ایسی تربیت گاہ تھی کہ جہاں ان ذواتِ مقدسہ کو مصائب و شدائد کی آندھیوں کے سامنے ڈٹے رہنے کی تربیت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام حسینؑ عازم کربلا ہوئے تو حضرت فضہؑ بھی محذرات عصمت و طہارت کی معیت میں عشقِ اہلبیتِ رسول کا امتحان دینے نکل پڑیں۔ جناب فضہ نے وادیٔ عشق میں جگہ جگہ اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ وہ اس عظیم سانحہ میں بھی اہلبیتؑ کے شانہ بہ شانہ ظلم و تعدی کیخلاف لڑتی رہیں۔ مقاتل نگاروں نے حضرت فضہ کو واقعہ کربلا کے ہر پڑاؤ پر ایک فعال کردار کے طور پیش کیاہے۔
حضرت فضہ ان تمام مظالم کا چشم دید گواہ ہے جو طول تاریخ میں اہلبیتؑ پر ڈھائے گئے۔ غورطلب بات ہے کہ رشتہ ٔازدواج میں منسلک ہونے اور صاحب اولاد ہونے کیبعد بھی جناب فضہ نے درِاہلبیتؑ سے اپنا ناطہ استواررکھا۔ کوئی نہ کوئی خاص بات ضرورتھی کہ جس نے اس عظیم خاتون کو مودتِ اہلبیتؑ کا مجسم نمونہ بنایا۔ نیزجتنے بھی مصائب اہلبیتؑ نے جھیلے یہ عظیم خاتون بھی بہ رضا ورغبت ان مصائب کا مقابلہ کرنے میں اہلبیتؑ کی شریک ٹھہری۔ اسکا ہر مصیبت کی گھڑی میں پیش پیش رہنا ہی اپنے آپ میں ناقابل تردید دلیل ہے کہ اسے اہلبیتؑ کے کردار واخلاق نے نہایت ہی متاثر کیاتھا۔ اور اہلبیتؑ کے حسن سلوک نے اسکے دل میں مودت کی جوت جگائی تھی۔ اورہر اس گزرگاہ کو روشن کیا جس پر حضرت فضہ نے اپنے دورحیات میں قدم رکھا۔ اور اب بھی ان کامرقد مقدس مودتِ اہلبیتؑ کی زندہ علامت ہے یہی وجہ ہے دشمنانِ اہلبیت کو ان کا مرقدِمقدس اب بھی کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔
حضرتِ فضہ نے بھی کربلا میں تین دن کی بھوک و پیاس برداشت کی۔ کشت وخون اور ماردھاڑ بچشمِ سردیکھا۔ تاراجی خیام میں اپنی ضعیفی کے باوجود طفلانِ کربلا کو جلتے ہوئے خیموں سے نکالنے میں حضرت زینبؑ کی ممدومعاون بنیں۔ الغرض بڑی مستعدی کے ساتھ روز عاشورہ کئی ایک محاذوں پر مختلف ذمہ داریوں کونبھایا۔ سانحہ کربلا کے بعد خانوادۂ رسالت کے ساتھ ساتھ حضرت فضہ عزم و استقلال کا مجسم نظرآئیں۔ انہوں نے تحریکِ کربلا کا اصل ہدف اچھی طرح سمجھ لیاتھا۔ لہذا کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اس نے قیدخانے کی سخت ترین صعوبتیں جھیلیں۔ بھرے بازارمیں اپنی شہزادیوں اور اپنے تئیں بے حرمتی کے مناظر دیکھے۔ دیار بہ دیار سفر کی اعصاب شکن مشکلات کو عظیم تر مقصد کی خاطر گلے لگایا۔ دربار ابن زیاد اور دربارِ یزید میں درسگاہِ نبوت سے حاصل کردہ تکلم کے جوہر دکھائے۔ خاص طور سے دربار یزید میں حضرت فضہ کی جراتمندی سنہرے حروف میں اوراقِ تاریخ میں موجود ہے۔ یزید نے جب رسول زادیوں کی جانب اپنی پلید نگاہ اٹھائی تو سن رسید حضرت فضہ یزید اور خاندانِ نبوت کی ان شہزادیوں کے درمیان حائل ہوگئیں۔ یزید نے برہمی کے عالم میں حضرت فضہ کو سامنے سے ہٹ جانے کو کہا لیکن وہ اس کی دھمکی آمیز لہجے سے مرعوب نہ ہوئیں۔ یزید نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ فضہ کو درمیان سے جبراً ہٹائیں۔ یہ دیکھ کر حضرت فضہ دربار یزید میں مسلح حبشی غلاموں سے مخاطب ہوئیں۔ انہیں یہ غیرت دلائی کہ کیا تمہارے ہوتے ہوئے بھی تمہاری ملک و قوم کی بیٹی کے ساتھ بھی کوئی ایسے کرسکتا ہے؟ یہ سننا تھا کہ ان حبشی غلاموں نے تیوریاں چڑھائیں۔ انکی غیرتِ قومی جوش مارنے لگی۔ یہانتک کہ یزید کو حالات کی نزاکت کے پیش نظر اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔
یہ تھا حضرتِ فضہ کا کمالِ تدبر جس سے یزید جیسا ظالم و جابر بھی مات کھاگیا۔ نیزحضرت فضہ کا وہ جذبہ عقیدت بھی آشکارہوا جو اسکے دل میں خاندانِ عصمت و طہارت کیلئے تھا۔ اصل میں یہی جذبہ عقیدت ہے کہ جس نے اس گمنام کنیز کو ایک مشہور ومعروف شہزادی بنادیا۔ صدیاں گزر گئیں لیکن آج بھی ہزاروں زبان و قلم اس کنیزنما شہزادی کی توصیف تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ اور ان کا ذکرِخیر تاابد ہوتا رہے گا۔
تاریخ کا نورانی کردار اور عصری ظلمت:
اسلام پر لگائے گئے مذکورہ بے بنیاد الزام کو رد کرنے کے لئے تاریخ میں حضرت فضہ کی بولتی چالتی تصویر کافی ہے۔ لیکن ان زندہ جاوید حقیقتوں سے صرفِ نظر کر کے اسلام دشمن قوتیں اسلام پر لگائے گئے طرح طرح کے الزامات کو ثابت کرنے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ اور بدقسمتی سے چند ایک نام نہاد کلمہ گو طاغوت کے سازشی خاکوں میں اپنے اور دیگر مسلمانوں کے خون سے رنگ آمیزی کر رہے ہیں۔ عالمی منظر نامے پر اس وقت بہت سے ایسے دہشت گرد گروہ اس کار کو سرانجام دینے میں برسرِگرم عمل ہیں۔
✍: مرتبہ ریاض قادری
1 285
شام میں دمشق کے قریب باب الصغیر نامی قبرستان میں آپ کی قبر اقدس موجود ہے۔ جو حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابیطالب علیہ السلام کی قبر اقدس سے تھوڑا آگے کی طرف اور قبرستان کے مغربی حصہ کے آخر میں واقع ہے۔ قبر پر ایک حجرہ اور چھوٹا سا سبز گنبد موجود ہے اور اس کی دیواریں سنگ سیاہ سے تعمیر ہوئی ہیں۔
شہر کربلا (عراق) میں ایک مقام شیر اور حضرت فضہ کے نام سے موجود ہے۔
📚 حوالہ جات
١- ریاحین الشریعہ، ج ۲، ص ۳۱۳ تا ۳۲۶.
٢- بحارالانوار، ج ۴۳، ص۱۷۴-۱۸۰.
٣- الثاقب فی المناقب، ص ۲۸۱.
٤- الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج ۱۷، ص ۴۲۸.
٥- الموسوعۃالكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج ۱۷، ص ۴۳۰.
٦- الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری ،ج ۱۷، ص ۴۲۹.
٧- کتاب الانساب حجر عقلانی
٨- تسلیۃ المجالس، الكركی الحائری ،ج ۱،ص ۵۲۹
٩- بحار الأنوار، ۱۳۶۳، ج ۴۳، ص ۴۷.
١٠- كلینی، ج ۱، ص ۴۶۵.
💥 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔
https://www.facebook.com/share/p/u1xspe5T7sa7PgQC/?mibextid=oFDknk
https://www.facebook.com/share/p/jremcneT22dWicBF/?mibextid=oFDknk
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
حضرت فضہ نے جناب حسنین (علیھما السلام) کی بیماری کے واقعہ میں کہ جس میں حضرت علی و حضرت فاطمہ (علیھما السلام) نے نذر مانی تھی کہ ان دونوں کے صحتیاب ہونے کی صورت میں تین روزے رکھیں گے۔ حضرت فضہ نے بھی اس معاملہ میں ان کی ہمراہی کرتے ہوئے روزوں کی نذر مانی۔ سورہ دہر کی ساتویں و آٹھویں آیتیں اس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ واقعہ طرفین کی کتب میں بکثرت ملتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ:
حضرات حسن و حسین علیھما السلام علیل ہوگئے۔ پیغمبر اسلام اپنے کچھ اصحاب کے ہمراہ اپنے نواسوں کی عیادت کے لئے آئے اورفرمایا: اے علی بہتر ہوتا کہ اپنے بیٹوں کی شفایابی کے لئے کوئی نذر مان لیتے۔
حضرت علی اور جناب فاطمہ علیھما السلام نے نذرمان لی کہ بچوں کی شفا یابی کے بعد تین روز تک مسلسل روزے رکھیں گے۔ ان کے ساتھ ساتھ حسنین علیھما السلام اور گھر کی کنیز جناب فضہ نے بھی نذر مان لی کہ وہ بھی تین دنوں تک روزہ رکھیں گے ابھی دو ہی ایک دن گذرے تھے کہ خداوند عالم نے دونوں کوصحت و شفاء عنایت کردی۔ سب نے پہلے دن روزہ رکھا مگر افطاری کے لئے گھر میں کچھ بھی نہيں تھا۔ حضرت علی علیہ السلام کچھ مقدار میں جؤ لے آئے- شہزادی کونین حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے اپنے دست مبارک سے چکی میں جؤ پیس کر اسکا آٹا تیار کیا اور پھر پانچ روٹیاں تیار کيں افطار کے وقت دسترخوان لگا اور سب دسترخوان پر افطاری کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ ایک سائل نے آواز دی اورکہا اے اہلبیت نبوت آپ پر میرا سلام ہو! میں مسلمانوں کے درمیان مسکینوں میں سے ایک مسکین ہوں مجھے کھانے کے لئے کچھ دے دیجئے۔
مسکین کی آواز سن کر حضرت علی، جناب فاطمہ، حسنین علیھم السلام کے ساتھ ساتھ جناب فضہ نے بھی اپنے حصہ کا کھانا اس فقیر کو دے دیا اور صرف پانی سے افطار کر لیا۔
دوسرے دن بھی سب نے روزہ رکھا جناب فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا نے اس دن بھی پانچ روٹیاں تیار کیں اور افطار کے وقت دسترخوان پر لے آئيں جیسے ہی افطار کا وقت آیا درعلی پر آ کر ایک سائل نے آواز لگائی میں مسلمانوں کے یتیموں ميں سے ایک یتیم ہوں مجھے کھانے کو کچھ دے دو۔ سب نے اپنے اپنے حصے کی روٹیاں اٹھائيں اور اس یتیم کو دے دیں اور پھر پانی سے ہی افطار کر لیا۔
تیسرے دن بھی سب نے روزہ رکھا اور اس دن بھی شہزادی کونین نے جو کی روٹیاں بنائيں، اس دن بھی افطار کے وقت ایک سائل نے آ کر درعلی پر آواز دی کہ اسیر ہوں مجھے کھانا کھلا دو اس دن بھی سب نے اپنی اپنی روٹیاں اس سائل کو دے دیں اور پھر پانی سے افطار کر لیا۔
تین دن کے مسلسل روزے رکھنے کی نذر پوری کرنے کے بعد اگلے دن جب صبح ہوئی تو حضرت علی علیہ السلام نے حسنین علیھما السلام کا ہاتھ پکڑا اور انہیں لیکر پیغمبر (ص) کی خدمت میں پہنچ گئے۔
بھوک اور کمزوری سے دونوں بچوں کے جسم کانپ رہے تھے۔
آنحضرت (ص) نے جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا کہ اے علی میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں بچوں کا کیا حال ہو رہا ہے؟ اس کے بعد آپ اٹھے اوران کے ہمراہ شہزادی کونین کے پاس پہنچے جب آپ گھر کے اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ شہزادی کونین مصلائے عبادت پر نماز میں مشغول ہيں بھوک سے آپ پر شدید ضعف طاری ہے اورآنکھوں کے نیچے حلقے پڑ گئے ہيں۔
رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کو شفقت پدرانہ کے تحت آغوش میں لیا اور فرمایا: تمہاری حالت دیکھ کر اللہ کے حضور پناہ مانگتا ہوں، ابھی یہ جملہ زبان پیغمبر سے جاری ہی ہوا تھا کہ جبرئیل امین نازل ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول! خداوند عالم نے آپ کو ایسے خاندان کے مالک ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے اور سورہ ہل اتی کی تلاوت کی اس کے بعد سب نے جنت کے طعام سے خود کو سیراب کیا۔
شہرۃ بنت مسکۃ بنت فضہ، جن سے ایک کرامت بھی نقل ہوئی ہے، ان کی پوتی ہیں۔(٨) اور وہ کرامت یہ ہے:
''مالک بن دینار کہتے ہیں: جس وقت میں خانہ خدا کی زیارت اور حج کے سفر پر تھا، راستے میں ایک لاغر اندام خاتون کو دیکھا جو ایک کمزور حیوان پر سوار تھی، اور جانور راستہ میں رک گیا۔ میں نے اس کی سرزنش کی کہ کیوں ایسے کمزور جانور کے ساتھ سفر کا ارادہ کیا ہے اور وہ بھی اتنے طولانی سفر کا۔ اس خاتون نے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا: نہ مجھے اپنے گھر میں رہنے دیا اور نہ ہی اپنے گھر تک پہچایا۔ تیری عزت و جلال کی قسم اگر یہ تیرے علاوہ کسی نے کیا ہوتا تو میں اس کی شکایت تیری بارگاہ میں کرتی، اچانک ہم نے کیا دیکھا کہ بیابان میں سے ایک شخص ظاہر ہوا اور اس کے ہاتھوں میں ایک ناقہ کی نکیل تھی اور وہ اس خاتون کو منزل تک پہچانے کا عزم رکھتا تھا۔ میں نے اس ماجرا سے سمجھ لیا کہ یہ کوئی صاحب کرامت پرہیز گار خاتون ہیں جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتی ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کون ہیں: انہوں نے کہا میں کنیز فاطمہ فضہ کی بیٹی مسکۃ کی بیٹی شہرۃ ہوں۔''(٩)
حضرت فضہ کی وفات واقعہ کربلا کے بعد ہوئی- 25 محرم یاپھر 5 شعبان آپ کا یوم وفات تحریر کیا گیا ہے۔
1 285
🌹 حضرت فضہ سلام اللہ علیھا 🌺
آپ کا تعلق ایتهوپیا سے تها جسے غلاموں کی منڈی کہا جاتا تها تاریخ میں ایک نام اس ملک کا حبشہ تها اور ایک اور نام بهی ذکر کیا ہے تاریخ دانوں نے اور وہ ہے زنجبار۔ حضرت بلال اور بی بی فضہ کا تعلق اسی ملک سے تها۔ نسلی اعتبار سے حضرت فضہ حبشی تهیں اور صنفی اعتبار سے سیاہ فام کنیز تهیں۔
بعض نے بی بی فضہ کا تعلق ہندوستان سے بهی لکها ہے کہ آپ ہندوستان کی شہزادی تهیں۔
کنیزی حوالے سے آپ حبشہ سے مدینہ لائی گئیں اور حضرت مولا علی علیہ السلام نے خریدا اور بعض روایات کہتی ہیں کہ حبشہ کے بادشاہ نے بطور کنیز نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تحفتاً بھیجا تها-
7 ہجری میں جب بی بی سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا نے گھر کے لئے اپنے بابا رسول خدا (ص) سے کنیز کا کہا تو نبی کریم (ص) نے جناب فضہ کو بطور کنیز جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حوالے کیا۔
جناب فضہ کا اصلی نام نوبیہ تها اور رسول خدا (ص) نے آپ کا نام فضہ رکها۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے جناب فضہ کا عقد ثعلبیہ نامی ایک شخص سے کیا تھا جو ایک سال اور 6 ماہ بعد انتقال کر گیا۔ تاہم تاریخی حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت فضہ نے جناب سیدہ (س) کے بعد دو شادیاں کی ہیں۔ بعض تاریخ والوں نے آپ کی اولاد کی تعداد 4 لکھی ہے۔
حضرت فضہ بلاشبہ خانہ زہراء میں ایک کنیز کی حیثیت سے داخل ہوئیں۔ لیکن بہت جلد انہوں نے ایک شہزادی کا مقام حاصل کیا۔ اس مقام کا کیا کہنا کہ جہاں تقسیم کار کا اہتمام کچھ اس طرح کا ہو کہ ایک دن حضرت فضہ گھر کا کام کریں اور دوسرے روز شہزادی کونین، خاتونِ محشر تمام گھریلو امور کی انجام دہی میں جناب فضہ کی مانند ہمہ تن مشغول ہوں۔ کیا مساوات کی ایسی مثال کسی اور گھر میں مل سکتی ہے کہ بی بی پکائیں اور باندی کھائے؟ اسی مساوات کا اثر تھا کہ حضرت فضہ بھی اس اہلبیت علیہم السلام کی معنویت سے دھیرے دھیرے مانوس ہونے لگیں۔ اور تدریجاً تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرنے لگیں۔ حضرت زہراء کا حضرت فضہ کے ساتھ تمام گھریلو امور مل بانٹنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حضرت فضہ کو دیگر معنوی، مذہبی اور تربیتی امور میں وقت صرف کرنے کا موقع دیا جا رہا تھا۔ جس کا بھرپور فائدہ اٹھا کر حضرت فضہ معنوی اور علمی کمالات کے نت نئے مدارج طے کرتی گئیں۔
حضرت فضہ نے تقریبا بیس سال تک قرآن کے ذریعہ گفتگو کی اور بات کرنے والوں کو قرآن کی آیات سے جواب دیتی تھیں۔(١)
انہوں نے ایک طولانی روایت میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے حالات زندگی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات سے لیکر حضرت زہراء کی شہادت تک بیان کیا ہے۔(٢) حضرت علی علیہ السلام ان کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: اللهم بارک لنا فی فضّتنا۔(٣)
بعض کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا جانتی تھیں۔(٤) اور اس علم کو انہوں نے حضرت زہراء (س) سے سیکھا تھا۔(٥)
پیغمبر اکرم (ص) نے بھی انہیں مشکلات کے حل کی دعا اور اسی طرح سے دوسرے اذکار تعلیم فرمائے تھے۔(٦)
اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ حضرت فضہ کے پہلے شوہر کے انتقال کے بعد سلیکہ نامی ایک شخص نے جناب فضہ سے شادی کا اظهار کیا- لیکن آپ نے انکار کر دیا
اس سلیکہ نے خلیفہ ثانی کو شکایت کی تو خلیفہ نے بی بی فضہ کو اپنے دربار بلایا اور شادی نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو جناب فضہ نے کہا کہ پہلے شوہر کے انتقال کے بعد ابهی شریعت اسلامی کے مطابق عدت کی مدت پوری نہ ہوئی تهی اور عدت کے دوراں دوسرا نکاح خلاف شریعت ہے اور بالفرض اگر عدت کے دوران نکاح ہو بهی جاتا تو ممکن تها میں پہلے شوہر سے حاملہ ہوتی اس بات سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا کہ یہ اولاد کس شوہر سے ہے اور ثعلبیہ کی اولاد ہوتی تو وہ سلیکہ سے حق وراثت پاتی جو کہ سلیکہ کی اولاد کے حق تلف ہونے کا سبب بنتی۔
جناب فضہ کا یہ علم فقہ دیکھ کر حضرت عمر نے کہا: ''خاندان ابوطالب کی کنیز بھی بنی عدی سے زیادہ فقہ کی عالمہ ہیں۔''(٧)
علامہ مجلسی اور شیخ صدوق نے جناب سلمانِ فارسی سے نقل شدہ ایک روایت کتب احادیث میں رقم کی ہے جس کے مطابق رسولِ اکرمۖ کی امیرالمومنین اور لختِ جگر حضرت زہراء اور حسنین علیھم السلام نے یکے بعد دیگرے دعوت کی۔ اور حضرتِ رسولِ اکرم ان حضرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے مسلسل چند ایک روز خانہ زہراء تشریف لے گئے۔ آخری روز کھانا کھانے کے بعد جب آنحضرت خانہ فاطمہ سے روانہ ہونے لگے تو ڈیوڑھی پر حضرتِ فضہ نے عاجزانہ لہجے میں عرض کیا کہ کل یہ کنیز شہنشاہِ رسالت کو دعوت پہ بلاتی ہے امید ہے کہ تشریف لاکر عزت افزائی فرمائیں گے۔ رسولِ رحمت نے بخوشی دعوت قبول فرمائی۔ اگلے روز مقررہ وقت پر جب حضورِ اکرمۖ جناب فاطمہ (س) کے گھر میں وارد ہوئے تو سب نے آکر استقبال کیا۔ مگر آپ کی بغیر اطلاع اور اچانک تشریف آوری کا سبب جب اہلبیت اطہار نے دریافت کیا تو فرمایا آج ہم فضہ کے مہمان ہیں۔
1 285
رہے اور کسی نے آپ کو بشاش اور فرحناک نہ دیکھا، اس جانکاہ واقعہ کربلا کے سلسلہ میں آپ نے جابجا خطبات ارشاد فرمائے ہیں جو پوسٹ کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے نہیں لکھے جا رہے.
↕شہادت اور بادشاہان وقت:
آپ کی ولادت بادشاہ دین و ایمان حضرت علی علیہ السلام کے عہد عصمت مہد میں ہوئی پھر امام حسن علیہ السلام کا زمانہ رہا، پھر بنی امیہ کی خالص دنیاوی حکومت ہو گئی. صلح امام حسن کے بعد سے 60 ھ تک معاویہ بن ابی سفیان بادشاہ رہا. اس کے بعد اس کا فاسق و فاجر بیٹا یزید 64 ھ تک حکمران رہا. 64 ھ میں معاویہ بن یزید ابن معاویہ اور مروان بن حکم حاکم رہے. 65 ھ سے 86 ھ تک عبدالملک بن مروان حاکم اور بادشاہ رہا پھر 86 ھ سے 96 ھ تک ولید بن عبدالملک نے حکمرانی کی اور اسی نے 95 ھ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو زہر دغا سے شہید کر دیا.
(تاریخ آئمہ ۳۹۲،وصواعق محرقہ ص ۱۲،نورالابصار ص ۱۲۸)
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 285
↕واقعہ کربلا اور کردار امام:
28 رجب 60 ھ کو آپ حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ پہنچے. چار ماہ قیام کے بعد وہاں سے روانہ ہوکر 2 محرم الحرام کو وارد کربلا ہوئے. وہاں پہنچتے ہی یا پہنچنے سے پہلے آپ علیل ہوگئے اور آپ کی علالت نے اتنی شدت اختیار کی کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت تک اس قابل نہ ہوسکے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت حاصل کرتے. تاہم فراہم موقع پر آپ نے جذبات نصرت کو بروئے کار لانے کی سعی کی جب کوئی آواز استغاثہ کان میں آئی آپ اٹھ بیٹھے اورمیدان کار زار میں شدت مرض کے باوجود جا پہنچنے کی سعی بلیغ کی. امام کے استغاثہ پر تو آپ خیمہ سے بھی نکل آئے اور ایک چوب خیمہ لے کر میدان کا عزم کر دیا. ناگاہ امام حسین کی نظر آپ پر پڑ گئی اور انہوں نے جنگاہ سے بقولے حضرت زینب کو آواز دی "بہن سید سجاد کو روکو ورنہ نسل رسول کا خاتمہ ہو جائے گا" حکم امام سے زینب نے سید سجاد کو میدان میں جانے سے روک لیا یہی وجہ ہے کہ سیدوں کا وجود نظر آ رہا ہے اگر امام زین العابدین علیہ السلام علیل ہوکر شہید ہونے سے نہ بچ جاتے تو نسل رسول صرف امام محمد باقر میں محدود رہ جاتی، امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ مرض اور علالت کی وجہ سے آپ درجہ شہادت پر فائز نہ ہوسکے.
(نورالابصار ص ۱۲۶)
شہادت امام حسین کے بعدجب خیموں میں آگ لگائی گئی تو آپ انہیں خیموں میں سے ایک خیمہ میں بدستور پڑے ہوئے تھے، ہماری ہزارجانیں قربان ہو جائیں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر کہ انہوں نے اہم فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سب سے پہلا فریضہ امام زین العابدین علیہ السلام کے تحفظ کا ادا فرمایا اور امام کو بچا لیا.
الغرض رات گزاری اورصبح نمودار ہوئی، دشمنوں نے امام زین العابدین کو اس طرح جھنجوڑا کہ آپ اپنی بیماری بھول گئے. آپ سے کہا گیا کہ ناقوں پرسب کو سوار کرو اور ابن زیاد کے دربار میں چلو، سب کو سوار کرنے کے بعد آل محمد کا ساربان پھوپھیوں، بہنوں اور تمام مخدرات کو لئے ہوئے داخل دربار ہوا.
حالت یہ تھی کہ عورتیں اور بچے رسیوں میں بندھے ہوئے اور امام لوہے میں جکڑے ہوئے دربارمیں پہنچ گئے. آپ چونکہ ناقہ کی برہنہ پشت پرسنبھل نہ سکتے تھے اس لیے آپ کے پیروں کوناقہ کی پشت سے باندھ دیا گیا تھا. دربارکوفہ میں داخل ہونے کے بعد آپ اورمخدرات عصمت قیدخانہ میں بند کر دئیے گئے، سات روز کے بعد آپ سب کو لئے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے اور 19 منزلیں طے کر کے تقریبا 36 یوم میں وہاں پہنچے.
کامل بہائی میں ہے کہ 16 ربیع الاول 61 هجری کو بدھ کے دن آپ دمشق پہنچے ہیں.
اللہ رے صبر امام زین العابدین بہنوں اور پھوپھیوں کا ساتھ اور لب شکوہ پر سکوت کی مہر.
حدود شام کا ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں ہتھکڑی، پیروں میں بیڑی اور گلے میں خاردار طوق آہنی پڑا ہوا تھا اس پرمستزاد یہ کو لوگ آپ برسا رہے تھے اسی لیے آپ نے بعد واقعہ کربلا ایک سوال کے جواب میں "الشام الشام الشام" فرمایا تھا.
(تحفہ حسینہ علامہ بسطامی)
شام پہنچنے کے کئی گھنٹوں یا دنوں کے بعد آپ آل محمد کو لئے ہوۓ سرہائے شہداء سمیت داخل دربار ہوئے پھر قیدخانہ میں بند کر دیئے گئے تقریبا ایک سال قید کی مشقتیں جھیلیں.
قیدخانہ بھی ایسا تھا کہ جس میں تمازت آفتابی کی وجہ سے ان لوگوں کے چہروں کی کھالیں متغیر ہو گئی تھیں.
(لہوف)
مدت قید کے بعد آپ سب کو لئے ہوئے 20 صفر 62 هجری کو وارد ہوئے آپ کے ہمراہ سرحسین بھی کر دیا گیا تھا، آپ نے اسے اپنے پدربزرگوار کے جسم مبارک سے ملحق کیا.
(ناسخ تواریخ)
8 ربیع الاول 62 ھجری کو آپ امام حسین کا لٹا ہوا قافلہ لئے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، وہاں کے لوگوں نے آہ وزاری اور کمال رنج وغم سے آپ کا استقبال کیا. 15 شبانہ و روز نوحہ و ماتم ہوتا رہا.
(تفصیلی واقعات کے لیے کتب مقاتل و سیر ملاحظہ کی جائیں)
اس عظیم واقعہ کا اثر یہ ہوا کہ زینب کے بال اس طرح سفید ہوگئے تھے کہ جاننے والے انہیں پہچان نہ سکے.
(احسن القصص ص ۱۸۲ طبع نجف)
رباب نے سایہ میں بیٹھنا چھوڑ دیا.
امام زین العابدین تاحیات گریہ فرماتے رہے.
(جلاء العیون ص ۲۵۶)
اہل مدینہ یزید کی بیعت سے علیحدہ ہو کر باغی ہو گئے بالآخر واقعہ حرہ کی نوبت آ گئی.
↕معرکہ کربلا کی غمگین داستان تاریخ اسلام ہی کی نہیں بلکہ تاریخ عالم کا افسوسناک سانحہ ہے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اول سے آخر تک اس ہوش ربا اور روح فرسا واقعہ میں اپنے باپ کے ساتھ رہے اور باپ کی شہادت کے بعد خود اس المیہ کے ہیرو بنے اور پھر جب تک زندہ رہے اس سانحہ کا ماتم کرتے رہے.
10 محرم 61هجری کا واقعہ، یہ اندوہناک حادثہ جس میں اٹهارہ (18) بنی ہاشم اور بہتر (72) اصحاب و انصار کام آئے، حضرت امام زین العابدین کی مدت العمر گھلاتا رہا اور مرتے دم تک اس کی یاد فراموش نہ ہوئی اور اس کاصدمہ جانکاہ دور نہ ہوا، آپ یوں تو اس واقعہ کے بعد تقریبا چالیس سال زندہ رہے مگر لطف زندگی سے محروم
1 285
اس سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جو کچھ کہہ اورلکھ سکے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں:
🔷آپ کی حالت وضو کے وقت:
وضو نماز کے لئے مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی پر نماز کا دارومدار ہوتا ہے. امام زین العابدین علیہ السلام جس وقت مقدمہ نماز یعنی وضو کا ارادہ فرماتے تھے آپ کے رگ و پے میں خوف خدا کے اثرات نمایاں ہوجاتے تھے،
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضو کا قصد فرماتے تھے اور وضوکے لیے بیٹھتے تھے تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا یہ حالت بار بار دیکھنے کے بعد ان کے گھر والوں نے پوچھا کہ بوقت وضو آپ کے چہرہ کا رنگ زرد کیوں پڑجایا کرتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرا تصور کامل اپنے خالق ومعبود کی طرف ہوتا ہے اس لیے اس کی جلالت کے رعب سے میرا یہ حال ہو جایا کرتا ہے.
(مطالب السؤل ص ۲۶۲)
🔷عالم نمازمیں آپ کی حالت:
علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ کو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا. رات بھر جاگنے کی وجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اورخوف خدا میں روتے روتے آپ کی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے.
(اعلام الوری ص ۱۵۳)
اور پیشانی پرگھٹے رہا کرتے تھے اور آپ کی ناک کا سرا زخمی رہا کرتا تھا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹)
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ نماز کے لۓ مصلی پر کھڑے ہوا کرتے تھے تو لرزہ براندام ہو جایا کرتے تھے لوگوں نے بدن میں کپکپی اور جسم میں تھرتھری کا سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت خدا کی بارگاہ میں ہوتا ہوں اور اس کی جلالت مجھے ازخود رفتہ کر دیتی ہے اور مجھ پر ایسی حالت طاری کر دیتی ہے.
(مطالب السؤل ص ۲۲۶)
ایک مرتبہ آپ کے گھر میں آگ لگ گئی اور آپ نماز میں مشغول تھے اہل محلہ اورگھر والوں نے بے حد شورمچایا اور حضرت کو پکارا حضور آگ لگی ہوئی ہے مگر آپ نے سر نیاز، سجدہ بے نیاز سے نہ اٹھایا. آگ بجھا دی گئی. اختتام نماز پر لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور آگ کا معاملہ تھا ہم نے اتنا شور مچایا لیکن آپ نے کوئی توجہ نہ فرمائی.
آپ نے ارشاد فرمایا "ہاں" مگرجہنم کی آگ کے ڈر سے نماز توڑ کر اس آگ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا.
(شواہدالنبوت ص ۱۷۷)
ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت زین العابدین علیہ السلام نمازشب سفر وحضر دونوں میں پڑھا کرتے تھے. اورکبھی اسے قضا نہیں ہونے دیتے تھے.
(مطالب السؤل ص ۲۶۳)
علامہ محمد باقر بحوالہ بحارالانوار تحریر فرماتے ہیں کہ امام علیہ السلام ایک دن نماز میں مصروف ومشغول تھے کہ امام محمد باقرعلیہ السلام کنوئیں میں گر پڑے. بچہ کے گہرے کنویں میں گرنے سے ان کی ماں بے چین ہو کر رونے لگیں اور کنویں کے گرد پیٹ پیٹ کر چکر لگانے لگیں اورکہنے لگیں. ابن رسول اللہ محمد باقر غرق ہو گئے.
امام زین العابدین علیہ السلام نے بچے کے کنویں میں گرنے کی کوئی پرواہ نہ کی اور اطمینان سے نماز تمام فرمائی اس کے بعد آپ کنویں کے قریب آئے اور پانی کی طرف دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر بلا رسی کے گہرے کنوئیں سے بچے کو نکال لیا بچہ ہنستا ہوا برآمد ہوا، قدرت خداوندی دیکھیے اس وقت نہ بچے کے کپڑے بھیگے تھے اورنہ بدن تر تھا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۰،مناقب جلد ۴ ص ۱۰۹)
امام شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ طاؤس راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک شب حجر اسود کے قریب جا کر دیکھا کہ امام زین العابدین بارگاہ خالق میں سجدہ ریزی کر رہے ہیں. میں اسی جگہ کھڑا ہو گیا. میں نے دیکھا کہ آپ نے ایک سجدہ کو بےحد طول دے دیا ہے. یہ دیکھ کر میں نے کان لگایا تو سنا کہ آپ سجدہ میں فرماتے ہیں:
"عبدک بفنائک مسکینک بفنائک سائلک بفنائک فقیرک بفنائک."
یہ سن کر میں نے بھی انہیں کلمات کے ذریعہ سے دعا مانگی فورا قبول ہوئ
(نورالابصار ص ۱۲۶ طبع مصر، ارشادمفید ص ۲۹۶)
↕شبانہ روز ایک ہزار رکعت:
علماء کا بیان ہے کہ آپ شب وروز میں ایک ہزار رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے.
(صواعق محرقہ ص ۱۱۹، مطالب السؤل ۲۶۷)
چونکہ آپ کے سجدوں کا کوئی شمار نہ تھا اسی لیے آپ کے اعضائے سجود"ثغنہ بعیر" کے گھٹے کی طرح ہو جایا کرتے تھے اورسال میں کئی مرتبہ کاٹے جاتے تھے.
(الفرع النامی ص ۱۵۸،دمعہ ساکبہ کشف الغمہ ص ۹۰)
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپ کے مقامات سجود کے گھٹے سال میں دو بار کاٹے جاتے تھے اور ہرمرتبہ پانچ تہ نکلتی تھی.
(بحارالانوارجلد ۲ ص ۳)
علامہ دمیری مؤرخ ابن عساکر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ دمشق میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے نام سے موسوم ایک مسجد ہے جسے"جامع دمشق" کہتے ہیں.
(حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۱۲۱)
1 285
🔴 امام سجاد علیہ السلام 🔴
آپ بتاریخ 15 جمادی الثانی 38 ھجری یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ پیدا ہوئے. (اعلام الوری ص ۱۵۱ ومناقب جلد ۴ ص ۱۳۱)
علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانو ایران سے مدینہ کے لیے روانہ ہو رہی تھیں توجناب رسالت مآب نے عالم خواب میں ان کا عقد حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پڑھ دیا تھا (جلاء العیون ص ۲۵۶) ۔ اورجب آپ وارد مدینہ ہوئیں توحضرت علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے سپرد کرکے فرمایا کہ یہ وہ عصمت پرور بیبی ہے کہ جس کے بطن سے تمہارے بعد افضل اوصیاء اور افضل کائنات ہونے والا بچہ پیدا ہو گا چنانچہ حضرت امام زین العابدین متولد ہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کا لطف نہ اٹھا سکے "" ماتت فی نفاسہابہ"" آپ کے پیدا ہوتے ہی ""مدت نفاس"" میں جناب شہربانو کی وفات ہو گئی.
(قمقام جلاء العیون).(عیون اخبار رضا دمعة ساکبة جلد ۱ ص ۴۲۶)
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل ""کسری"" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید ص ۳۹۱، فصل الخطاب)
علامہ طریحی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے شہربانو سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے توانہوں نے کہا "شاہ جہاں" حضرت نے فرمایا نہیں اب "شہربانو" ہے.
(مجمع البحرین ص ۵۷۰)
↕نام، کنیت، القاب:
آپ کا اسم گرامی "علی"، کنیت ابومحمد، ابوالحسن اور ابوالقاسم تھی.
آپ کے القاب بےشمار تھے جن میں زین العابدین، سیدالساجدین، ذوالثفنات، اور سجاد و عابد زیادہ مشہور ہیں.
(مطالب السؤل ص ۲۶۱،شواہدالنبوت ص ۱۷۶،نورالابصار ص ۱۲۶،الفرع النامی نواب صدیق حسن ص ۱۵۸) ۔
↕لقب زین العابدین کی توجیہ:
علامہ شبلنجی کا بیان ہے کہ امام مالک کا کہنا ہے کہ آپ کو زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہا جاتا ہے. (نورالابصار ص ۱۲۶)
علماء فریقین کا ارشاد ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک شب نماز تہجد میں مشغول تھے کہ شیطان اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آ گیا اور اس نے آپ کے پائے مبارک کے انگوٹھے کو منہ میں لےکر کاٹنا شروع کیا، امام جو ہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ کا رجحان کامل بارگاہ ایزدی کی طرف تھا، ذرا بھی اس کے اس عمل سے متاثر نہ ہوئے اور بدستور نماز میں منہمک و مصروف و مشغول رہے بالآخر وہ عاجز آ گیا اور امام نے اپنی نماز بھی تمام کر لی اس کے بعد آپ نے اس شیطان ملعون کو طمانچہ مار کر دور ہٹا دیا اس وقت ہاتف غیبی نے "انت زین العابدین" کی تین بارصدا دی اورکہا بے شک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو، اسی وقت آپ کا یہ لقب ہو گیا.
(مطالب السؤل ص ۲۶۲،شواہدالنبوت ص ۱۷۷)
علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اژدھے کے دس سر تھے اور اس کے دانت بہت تیز اور اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ مصلے کے قریب سے زمین پھاڑ کر نکلا تھا.
(مناقب جلد ۴ ص ۱۰۸)
ایک روایت میں اس کی وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قیامت میں آپ کو اسی نام سے پکاراجائے گا.
(دمعة ساکبة ص ۴۲۶)
↕لقب سجاد کی توجیہ:
ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمد باقرعلیہ السلام لکھا ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو "سجاد" اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ تقریبا ہر کارخیر پر سجدہ فرمایا کرتے تھے. جب آپ خدا کی کسی نعمت کا ذکر کرتے توسجدہ کرتے، جب کلام خدا کی آیت "سجدہ" پڑھتے تو سجدہ کرتے، جب دو شخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کے مواضع سجود پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑ جاتے تھے پھر انہیں کٹوانا پڑتا تھا.
↕آپ کا حلیہ مبارک:
امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کا رنگ گندم گوں (سانولا) اور قد میانہ تھا آپ نحیف اور لاغر قسم کے انسان تھے.
(نورالابصار ص ۱۲۶، اخبارالاول ص ۱۰۹)
ملا مبین تحریر فرماتے ہیں کہ آپ حسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے. آپ کے چہرہ مبارک پرجب کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا.
(وسیلة النجات ص ۲۱۹)
محمد بن طلحہ شافعی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ راہ روی میں آپ کے ہاتھ زانو سے باہرنہیں جاتے تھے.
(مطالب السؤل ص ۲۲۶،۲۶۴)
↕شان عبادت:
جس طرح آپ کی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے. ایک وہ ہستی جس کا مطمع نظر معبود کی عبادت اورخالق کی معرفت میں استغراق کامل ہو اورجو اپنی حیات کا مقصد اطاعت خداوندی ہی کوسمجھتا ہو اورعلم ومعرفت میں حد درجہ کمال رکھتا ہو اس کی شان عبادت کی سطح کو قرطاس پر کیونکر لایاجا سکتا ہے اور زبان قلم میں کس طرح کامیابی حاصل کر سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ علماء کی بے انتہا کاہش وکاوش کے باوجود آپ کی شان عبادت کا مظاہرہ نہیں ہوسکا.
"قد بلغ من العبادة مالم یبلغہ احد."
آپ عبادت کی اس منزل پر فائز تھے جس پرکوئی بھی فائز نہیں ہوا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹)
1 285
16۔ ابن اسحاق، کتاب السیره، ص۲۹۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۲، ص۱۳۶-۱۳۷، ۱۷۷-۱۷۹، ج ۳، ص۲۳۴؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۶۶-۶۷
17۔ بن حنبل، مسند، ج۱، ص۱۴۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۵۲
18۔ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۳
19۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۹؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۷۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۳۳
20۔ ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۵۳۱؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۴۵۲-۴۵۳
21۔ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۲؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۳
22۔ ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۳۵۵
23۔ ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۳۵۶؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸
24۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۵۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ۱۷۸
25۔ نووی، تہذیب الاسماء، قسم۱، جزء۱، ص۱۳۶؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۱، ص۳۲۶
26۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۴، ص۲۱۵؛ ابن حنبل، مسند، ج۱، ص۴۰۴؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۳۱۵.
27۔ ابن هشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۲۱۰-۲۱۱؛ طبری، تاریخ، ج۲، ص۴۵۲؛ ابو نُعَیم، حلیہ الاولیاء، ج۱، ص۱۴۸
28۔ ابن بابویہ، الخصال، ج ۱، ص۳۱۲؛ فتّال نیشابوری، روضہ الواعظین، ج۲، ص۳۰۷
29۔ ابن فہد حلّی، عده الداعی، ص۲۷
30۔ تفسیر امام حسن عسکری(ع)، ص۶۲۱-۶۲۳
31۔ کشّی، اختیار معرفہ الرجال، ص۳۹
32۔ مفید، الاختصاص، ص۷۳
33۔ ابن بابویہ، من لا یحضره الفقیہ، ج ۱، ص۱۸۹-۱۹۴؛ فتّال نیشابوری، روضہ الواعظین، ج۲، ص۳۴۳-۳۴۵
34۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۷، ص۵۰۹؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۸۰؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۲۹، ۴۳۵؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴؛ نووی، تهذیب الاسماء، قسم۱، جزء۱، ص۱۳۶-۱۳۷؛ مزّی، تهذیب الکمال، ج۴، ص۲۸۸-۲۸۹
35۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۲؛ ابو نعیم، حلیہ الاولیاء، ج۱، ص۱۴۹
36۔ ابو نعیم، حلیہ الاولیاء، ج۱، ص۱۴۷؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۵
37۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۵۱؛ صفدی، کتاب الوافی، ج ۱۰، ص۲۷۶
38۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۶۲
39۔ ورّام، ج۲، ص۲۳۰
40۔ ابن شہر آشوب، مناقب، ج۳، ص۸۷
41۔ طوسی، التبیان، ج۴، ص۱۴۴؛ زمخشری، الکشّاف، ج۲، ص۲۷؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۳، ص۳۸۷-۳۸۸؛ ابو الفتوح رازی، تفسیر روح الجِنان، ج۷، ص۱۴۹
42۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۴۸؛ طوسی، التبیان، ج۶، ص۴۳۱
43۔ صفدی، کتاب الوافی، ج۱۰، ص۲۷۶
44۔ زمخشری، الکشّاف، ج۴، ص۳۷۰؛ ابو الفتوح رازی، تفسیر روح الجِنان، ج۱۰، ص۲۵۳؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۵، ص۱۳۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۶۶
45۔ قمی، منتہی الآمال، ص۲۹۲
46۔ طبرسی، مجمع البیان، ج۵، ص۱۳۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ۴۶۶؛ قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، ج۱، ص۹۷-۹۸، ۱۶۳-۱۶۴
47۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۶-۲۳۷؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ ابن بابویہ، من لا یحضره الفقیہ، ج۱، ۱۸۴؛ مفید، الاختصاص، ص۷۳
48۔ ابن بابویہ، من لا یحضره الفقیہ، ج۱، ص۱۹۴
49۔ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۱، ص۲۴۴-۲۴۵؛ نووی، تہذیب الاسماء، قسم۱، جزء۱، ص۱۳۶؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۸۹
50۔ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ طبری، تاریخ، ج۴، ص۶۵-۶۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۷۰-۴۷۱
51۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۶-۲۳۷؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء، ج۱، ص۱۵۰-۱۵۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۸۱
52۔ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۰-۱۸۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۶۷؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴
53۔ امین، اعیان الشیعہ، ج ۳، ص۶۰۵
54۔ نوری، نفس الرحمان، ص۳۷۹؛ قمی، سفینہ البحار، ج۱، ص۱۰۴۱۰۵
55۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ طبری، تاریخ، ج۴، ص۱۱۲؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، ص۱۸۴
56۔ طوسی، رجال، ص۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۷۹؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۳۳، ۴۷۶-۴۷۹؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴
57۔ طوسی، رجال، ص۸؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۷۶؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۹۰؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ج۱، ص۳۲۷
58۔ طوسی، رجال، ص۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۷۹؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۳۳، ۴۷۶-۴۷۹
59۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج ۱۰، ص۴۸۰؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴؛ نووی، تہذیب الاسماء، قسم ۱، جزء۱، ص۱۳۷؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۹-۳۶۰
60۔ مزّی، تہذیب الکمال، ج۴، ص۲۹۱
61۔ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج ۱، ص۱۷۹؛ نووی، تہذیب الاسماء، قسم ۱، جزء۱، ص۱۳۷؛ مزّی، تہذیب الکمال، ج ۴، ص۲۹۰
https://t.me/islamwitheman/7225
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
بلال آنحضرتؐ سے روایات نقل کرنے والے راویوں میں سے ہیں۔[33] اور صحابہ و تابعین کے ایک گروہ نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔[34] بلال کی قدر و جلالت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے بہت سی احادیث بیان ہوئی ہیں جیسے: بلال کا شمار اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد میں ہے۔[35] وہ تمام مؤذنوں کے سردار ہیں۔[36] بہشت تین افراد کی مشتاق ہے: علی، عمار اور بلال۔[37] تین کالی رنگت کے افراد جنت کے سردار ہیں: لقمان حکیم، نجاشی اور بلال[38] اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کے امور میں مدد کرنے کی وجہ سے آنحضرتؐ نے بلال کو دعا دی۔[39]
مفسرین کے قول کے مطابق، بلال اور ان کے ساتھیوں کی شان و منزلت کے بارے میں کچھ آیات نازل ہوئی ہیں: نساء، آیت 69، [40] انعام، آیت 52، [41] نحل، آیت 110، [42] کہف، آیت 28، [43] اور حجرات، آیت 11،12[44]
■ اذان گوئی
پیغمر اکرمؐ کے زمانے میں بلال اسلام کے پہلے مؤذن تھے۔ کہا جاتا ہے کہ شین کو سین کہتے تھے اور روایت میں آیا ہے کہ بلال کا سین خدا تعالیٰ کی نگاہ میں شین ہے۔[45] فتح مکہ کے دن بلال پیغمبر اکرمؐ کے حکم سے کعبہ کی چھت پر گئے اور بلند آواز میں اذان کہی، کفار مکہ اس واقعہ سے بہت ناراض ہوئے۔[46]
■ پیغمبر اکرمؐ کے بعد
بلال نے آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد، صرف چند مرتبہ اذان دی۔[47] ایک بار حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فرمائش پر، لیکن چونکہ آپؑ کو اپنے بابا کے بعد ڈھائے گئے ظلم کی یاد آ گئی اور اس پریشانی کی شدت سے آپؑ تاب نہ لا سکیں، جس کی وجہ سے بلال نے ناچار اذان کو ناتمام چھوڑ دیا۔[48]
اس کے علاوہ ایک بار، جب پیغمبر اکرمؐ کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے مدینہ آئے اور حسنین شریفین علیھما السلام نے آپ سے اذان کی درخواست کی اور آپ نے یہ درخواست قبول کی، مدینہ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا۔[49]
آخری بار جب دوسرے خلیفہ مدینہ سے شام گئے (طبری کے قول کے مطابق سنہ 17 ہجری) جادیہ کے مقام پر مسلمانوں نے بلال سے درخواست کی کہ اذان کہیں، اس پر آپ نے یہ دعوت قبول کی اور سب رسولخداؐ کے زمانے کو یاد کر کے رونے لگے۔[50]
■ شام کی طرف ہجرت
اکثر مآخذ میں بلال کے پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد اذان نہ دینے اور مدینہ سے شام جانے کی وجہ جہاد کی فضیلت اور مجاہدین کے گروہ میں شامل ہونا ہے اور آپ کی شام ہجرت ابوبکر کی حکومت [51] یا عمر بن خطاب کی حکومت [52] کے وقت کہی گئی ہے لیکن بلال کے کسی جنگ میں شرکت یا فتح کرنے کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملتی۔[53]
■ خلیفہ اول کی بیعت نہ کرنا
بعض قول کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد بلال خلیفہ اول کی بیعت کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ اسی وجہ سے عمر بن خطاب کے حکم سے انہوں نے مدینہ کو ترک کیا اور شام کی طرف ہجرت اختیار کی۔[54]
■ وفات و مدفن
اکثر منابع کے مطابق آپ کی وفات سنہ 20 ہجری کے بعد دمشق میں ہوئی ہے.[55] لیکن سنہ 17، 18 اور 21 ھ بھی ذکر ہوئے ہیں۔[56] اور کچھ منابع میں بیان ہوا ہے کہ آپ طاعون کی بیماری سے دنیا سے گئے ہیں۔[57]
مشہور قول کے مطابق آپ دمشق میں باب الصغیر قبرستان میں مدفون ہیں۔[58] اور بعض نے کہا ہے کہ آپ باب کیسان داریا اور باب الاربعین حلب میں دفن ہوئے ہیں۔[59] لیکن ایک قول ہے کہ جو حلب میں مدفون ہیں وہ بلال کے بھائی خالد ہیں۔[60]
آپ کی عمر کو وفات کے وقت 60 سال سے زیادہ کہا گیا ہے اور کچھ منابع میں 63، 64 اور 70 کہا گیا ہے۔[61]
📚 حوالہ جات
1۔ الوافی، ج۲۱، ص: ۱۱۴
2۔ ابن اثیر، الکامل، ج۱، ص۶۶
3۔ ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۵۰۵؛ ابن سعد، ج۳، ص۲۳۲
4۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸؛ ابن عبدالبرّ، ج۱، ص۱۷۹؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۰، ص۴۷۵
5۔ بن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۳۸-۲۳۹؛ ابن قتیبہ، کتاب المعارف، ص۸۸؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۰
6۔ أنساب الأشراف،ج۱،ص:۱۸۹(چاپ زکار،ج۱، ص:۲۱۴)
7۔ أسد الغابۃ،ج۱،ص:۵۷۱
8۔ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج ۱۰، ص۴۳۱؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج ۱، ص۲۴۴
9۔ سخاوی، التحفہ اللطیفہ، ص۲۱
10۔ البدایہ و النہایہ، ج۱۲، ص۱۹۵
11۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۳، ص۲۷۳؛ تستری، قاموسی الرجال، ج۲، ص۳۹۳
12۔ طوسی، رجال، ص
13۔ ابن شہر آشوب، مناقب، ج۱، ص۱۷۱
14 ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۱؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۱، ص۲۴۳؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۲۔
15۔ عاملی، الصحیح، ج۲، ص۳۶-۳۸، ۲۷۷-۲۸۳؛ نیز درباره اختلافات روایی در این خصوص، نک: ابن ہشام، السیره النبویہ، ج۱، ص۲۱۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج۱، ص۱۸۱؛ ابن اثیر، الکامل، ج ۲، ص۶۶-۶۷؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۳۵۲
1 285
🔷️ حضرت بلال حبشی مؤذن 🔷️
بلال بن رباح (متوفی 17 سے 21 ھ) بلال حبشی کے نام سے مشہور پیغمبر اکرمؐ کے صحابی و مؤذن ہیں۔ ان کا شمار اسلام لانے والے پہلے افراد میں ہوتا ہے۔ پیغمبرؐ کے زمانے میں بیت المال کے خزانے دار تھے اور آپؐ کے ہمراہ تمام جنگوں میں شرکت کی۔ بلال آنحضرتؐ کی رحلت کے چند سال بعد زندہ رہے، لیکن اس دوران، فقط چند بار سے زیادہ کسی کے لئے اذان نہ کہی۔ مشہور قول کے مطابق، آپ کو دمشق کے باب الصغیر قبرستان میں دفن کیا گیا۔
■ کنیت اور دوسری ظاہری نشانیاں
بلال کا خاندان اصل میں نوبہ (سوڈان کے شمال اور مصر کے جنوب کا علاقہ) سے ہے۔[1] بلال کے والد حبشہ کے اسیروں میں سے تھے۔[2] اور وہ خود بنی جمح یا سراہ کے (جو کہ مکہ میں رہائش پذیر تھے) غلام خاندان میں پیدا ہوئے۔[3] بعض نے بلال کی سن ولادت کو عام الفیل کے تین سال بعد کہا ہے۔[4]
بلال کا قد لمبا، جسم دبلا، رنگ تیز سیاہ، جھکی ہوئی کمر، لمبے اور بھورے بال، اور چہرہ ملائم و نازک تھا۔[5]
■ شادی اور اولاد
بلال کی شادی کے بارے میں گزارشات مختلف ہیں، بلاذری کی گزارش کے مطابق بلال نے بنی زہرہ کی ایک لڑکی سے شادی کی اور اسی کی دوسری گزارش کے مطابق آپ نے بنی کنانہ کی ایک لڑکی سے شادی کی۔[6] اور کہا گیا ہے کہ بلال نے اپنے بھائی کے ہمراہ یمن کے سفر کے دوران، شادی کا ارادہ کیا۔ رشتہ مانگتے وقت اپنا تعارف یوں کروایا:
"میں بلال اور یہ میرا بھائی، ہم دونوں حبشہ کے غلام تھے، ہم گمراہ تھے اور خدا نے ہمیں ہدایت کی ہے۔ غلام تھے، خدا نے ہمیں آزاد کیا ہے۔ اگر اپنی بیٹیوں کا رشتہ ہمیں دیں تو، الحمد للہ اور اگر نہ دیں تو اللہ اکبر۔"
لڑکی کے گھر والے اس سے پہلے کہ بلال کو کوئی جواب دیں رسول خدا (ص) کے پاس گئے، اور سارا ماجرا بیان کیا، اور آپؐ سے رائے مانگی۔ آپؐ نے تین بار بلال کے بارے میں رائے دی اور فرمایا: اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے کہ وہ اہل بہشت ہے۔[7]
بعض قول کے مطابق بلال کی کوئی اولاد نہیں تھی۔[8] لیکن سخاوی نے اپنی کتاب میں بلال کے بیٹے عمر، کو راوی کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔[9] ابن کثیر نے بھی ایک شخص ہلال بن عبدالرحمٰن کا ذکر کیا ہے کہ وہ سلیمان بن بلال جو کہ پیغمبرؐ کے مؤذن تھے ان کی نسل سے تھے۔[10]
■ غلامی سے آزادی
بلال کئی مہینے رنج اور مشقت کو برداشت کرنے کے بعد خرید کر آزاد کئے گئے۔ بعض نے کہا ہے کہ بلال کو حضرت ابوبکر نے آزاد کیا تھا، لیکن تاریخ میں یہ قابل قبول نہیں ہے، ابو جعفر اسکافی، استاد ابن ابی الحدید، واقدی، ابن اسحاق اور دوسرے قول کے مطابق بلال کو پیغمبر اکرمؐ نے آزاد کیا ہے۔[11] شیخ طوسی [12] ابن شہر آشوب [13] نے بھی بلال کو آنحضرتؐ کا آزاد شدہ کہا ہے اور پیغمبر اکرمؐ کا یہ جملہ کہ اگر میرے پاس دولت ہوتی تو میں بلال کو خرید کر آزاد کرتا۔[14] تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ حضرت خدیجہؐ نے اپنی تمام دولت کو آنحضرتؐ کے حوالے کیا ہوا تھا تاکہ آپ اسے راہ خدا میں خرچ کریں، اور اس کے علاوہ حضرت ابو بکر کی معاشی حالت ایسی نہیں تھی کہ ایک غلام کو تشدد سے نکال کر خرید کر آزاد کریں۔[15]
■ آنحضرتؐ کے قریبی دوست
بلال آزادی کے بعد مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے اور وہ اسلام کے پہلے موذن اور سفر و وطن میں پیغمبر اکرمؐ کے ہمراہ رہے۔[16] آپ آنحضرتؐ کے دوست اور رفیق تھے۔[17] بلال بیت المال کے خزانچی (خزانے دار) بھی تھے۔[18] وہ تمام جنگوں میں رسولخداؐ کے ہمراہ تھے۔[19] جنگ بدر میں بلال کے اشارے پر، امیہ بن خلف اور ان کے بیٹے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے۔[20] اور بعض قول کے مطابق، امیہ کو خود بلال نے قتل کیا۔[21]
پیغمبر اکرمؐ نے مدینہ میں، بلال اور عبداللہ بن عبدالرحمان خثعمی کے درمیان اخوت (بھائی چارگی) کا صیغہ پڑھا۔[22] ابن ہشام (متوفی 218 ھ) کے قول کے مطابق، اس کے دور تک حبشہ اور خثعم کا دیوان ایک ہی تھا۔[23] اور بعض نے کہا ہے عبیدہ بن حارث[24] یا ابو عبیدہ جراح [25] کے ساتھ صیغہ اخوت پڑھا گیا تھا اور شاید یہ پیمان اخوت ہجرت سے پہلے مدینہ میں ہو۔
■ بلال کا مقام و مرتبہ
بلال کا شمار ان افراد میں ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔[26] اور اس راہ میں کفار قریش و کفار مکہ خاص طور پر اپنے مالک امیہ بن خلف کی طرف سے بیحد سختیاں برداشت کیں مگر پھر بھی دین اسلام سے منصرف نہیں ہوئے۔[27]
حضرت علی علیہ السلام کی نگاہ میں بھی بلال اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد سے تھے۔[28] اور آپ نے ان کے اخلاص اور تہذیب نفس کی مدح کی ہے۔[29] امام سجاد علیہ السلام نے بلال کے امیرالمومنینؑ کے فضائل کو بیان کرنے اور مخالفین کے اس پر اعتراض کرنے کے بارے میں مطالب بیان کئے ہیں۔[30] امام صادق علیہ السلام نے بلال کو عبد صالح[31] اور اہلبیت علیھم السلام کا دوست کہا ہے۔[32]
1 285
🌹 قرآنِ کریم میں پانی کے مختلف نام 🌹
(١) ❖ الماء الطَّہور ❖
وہ پانی جو بادلوں سے نازل ہوتا ہے اور جس کا ذائقہ، رنگ یا بو تبدیل نہ ہوئی ہو۔
قال تعالى : (وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً طَهُورًا)
(٢) ❖ الماء الفُرات ❖
وہ نہایت شیریں، صاف اور خوش گوار پانی جو پیاس بجھاتا اور تشنگی دور کرتا ہے۔
قال سبحانه : (..وَأَسۡقَيۡنَٰكُم مَّآءً فُرَاتًا)
(٣) ❖ الماء الأُجاج ❖
وہ پانی جو انتہائی کھارا اور شدید نمکین ہو۔
قالﷻ : (وَهُوَ ٱلَّذِى مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ هَٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخًا وَحِجۡرًا مَّحۡجُورًا)
(٤) ❖ الماء المبارك ❖
وہ بارش کا پانی جس میں نفع، خیر و برکت اور نباتات کی نشوونما کا سامان ہو۔
قال سبحانه : (وَنَزَّلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً مُّبَٰرَكًا فَأَنۢبَتۡنَا بِهِ جَنَّٰتٍ وَحَبَّ ٱلۡحَصِيدِ)
(٥) ❖ الماء الغَور ❖
وہ پانی جو زمین کی گہرائیوں میں اتر جائے اور انسان اسے نکالنے پر قادر نہ ہو۔
قال جل وعلا : (أَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرًا فَلَن تَسۡتَطِيعَ لَهُ طَلَبًا)
(٦) ❖ الماء المُنهَمِر ❖
وہ پانی جو شدت اور فراوانی کے ساتھ مسلسل برس رہا ہو یا بہہ رہا ہو۔
قال عز وجل : (فَفَتَحۡنَآ أَبۡوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ)
(٧) ❖ الماء المَعِين ❖
وہ پانی جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو، زمین کی سطح پر جاری ہو اور جس تک آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکے۔
قال جل شأنه : (قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٍ مَّعِينِ)
(٨) ❖ الماء الغَدَق ❖
وہ وافر، کثیر اور فراخ پانی جو رزق میں کشادگی اور برکت کا سبب بنتا ہے۔
قال تعالى : (وَأَلَّوِ ٱسۡتَقَٰمُواْ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسۡقَيۡنَٰهُم مَّآءً غَدَقًا)
https://t.me/islamwitheman
⭕ Islam With Eman ⭕
