en
Feedback
ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Open in Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Show more
1 419
Subscribers
No data24 hours
-17 days
-1330 days
Posts Archive
تحریر پڑھنے کے لیے وٹس ایپ لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1756
تحریر پڑھنے کے لیے وٹس ایپ لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1756

✦ الٹی شلوار ✦ "صاحب... اب میرا کام ہو جائے گا نا؟" وہ دیوار کی طرف منہ کیے تیزی سے کپڑے پہن رہی تھی۔ "ہاں، ہاں، کیوں نہیں۔" میری سانسیں ابھی تک بے ترتیب تھیں۔ "پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟" دوپٹے سے منہ پونچھتے ہوئے اُس نے چہرہ چھپایا، پھر جھٹکے سے دوپٹہ لپیٹ لیا۔ "دیکھو... ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے، کل میں مالکان سے تمہارے شوہر کی بات کروں گا۔" میں نے شرٹ کے بٹن لگائے، بال سنوارے، اور دفتر کے پچھلے دروازے سے باہر ایک نظر ڈالی۔ نیا چوکیدار کبھی کبھار چائے پانی کے نام پر میری خدمت کر دیتا تھا، لیکن احتیاط پھر بھی لازم تھی۔ "تو پھر میں کل آ جاؤں؟" وہ میری ہاں کی منتظر تھی۔ "کل نہیں!" میں روز یہ رسک نہیں لے سکتا۔ بس ایک آہ لے کر رہ گیا۔ ہائے، غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل نصیب ہوتے ہیں۔ میں نے آخری بار اُس کے بدن کے خم و پیچ کو آنکھوں سے تولا، پھر بولا: "ارے سنو، تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔" وہ چونکی، اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھی، اور شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔ "سیدھی کر لو، میں نکلتا ہوں۔ پانچ منٹ بعد تم بھی چلی جانا، احتیاط سے۔ کوئی دیکھ نہ لے۔" زیمل خان، جو اس فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا، ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے ٹانگ پر گولی کھا بیٹھا۔ مالکان نے پچاس ہزار کا وعدہ کیا، پھر بھول گئے۔ اس کی بیوی، یہ بیچاری، انہی وعدوں کی آس میں میرے پاس چکر لگا رہی تھی۔ اور میں نے، "مدد" کا وعدہ... کچھ اور انداز میں پورا کیا۔ --- گھر لوٹا تو سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پیچھے سے آواز آئی: "فخر! فخر! ایک خوشخبری ہے!" میری بیوی تھی۔ بینک میں کلرک تھی۔ خوشی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ "منیجر صاحب میرے کام سے خوش ہیں۔ پروموشن کی بات کی ہے آج!" ہنستی بولتی وہ آگے بڑھتی گئی۔ میں اُس کے پیچھے پیچھے دروازے تک آیا۔ "آصفہ ہے نا، وہ میرے خلاف ہے، مگر ڈائریکٹر صاحب میرے حق میں ہیں۔ کہتے ہیں تھوڑا وقت لگے گا، مگر کام ہو جائے گا!" دروازے کے سامنے آ کر اُس نے ہینڈ بیگ سے چابی نکالی۔ "میں محنت بہت کرتی ہوں نا، اسی لیے شاید..." وہ بولتی رہی، بولتی رہی... میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا — حتیٰ کہ میری نظر اس کی الٹی شلوار پر پڑی۔ ریشمی دھاگوں میں الجھی وہ الٹی شلوار... اور میں... بس دیکھتا رہ گیا۔ --- ✦ تجزیہ "الٹی شلوار" ایک کہانی نہیں، ایک آئینہ ہے۔ یہ اُن دو رشتوں کا موازنہ ہے جو بظاہر مختلف مگر اندر سے ایک جیسے "سمجھوتوں" سے جُڑے ہوتے ہیں۔ زیمل خان کی بیوی مجبوری میں جسم بیچنے پر مجبور ہے — تاکہ شوہر کا علاج ہو سکے۔ فخر کی بیوی ترقی کی امید میں خوش ہے — اور قاری کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ جاتی ہے: کیا اس پروموشن کے پیچھے بھی کوئی سمجھوتہ چھپا ہے؟ "الٹی شلوار" صرف کپڑے کی ترتیب نہیں، ایک نظام کی بے ترتیبی، ایک عورت کی بے بسی اور ایک مرد کی منافقت کی علامت ہے۔ منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

1999 میں، عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اس گائیڈلائن کو قبول کر لیا۔ انسولین کمپنیوں نے بھاری منافع کمایا اور مزید فیکٹریاں کھول لیں۔ * 2003 میں، امریکن ڈائیبیٹز ایسوسی ایشن (ADA) نے فاسٹنگ شوگر کی سطح کو 100 mg/dl تک کم کر کے پری-ڈائیبیٹک کا معیار بنا دیا۔ نتیجے میں، 27% لوگ بلاوجہ ذیابیطس کے زمرے میں آ گئے۔ * فی الحال، ADA کے مطابق، کھانے کے بعد شوگر 140 mg/dl کو ذیابیطس سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے، دنیا کی تقریباً 50% آبادی کو اب ذیابیطس کا لیبل لگ چکا ہے — جن میں سے بہت سے واقعی بیمار نہیں ہیں۔ بھارتی دواساز کمپنیاں اسے مزید کم کر کے HbA1c 5.5% کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاکہ مزید لوگوں کو مریض بنا کر دواؤں کی فروخت بڑھائی جا سکے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ HbA1c 11% تک کو ذیابیطس نہیں سمجھنا چاہیے۔ ### ایک اور مثال: 2012 میں، ایک بڑی دواساز کمپنی پر امریکی سپریم کورٹ نے 3 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔ ان پر الزام تھا کہ 2007–2012 کے درمیان، ان کی ذیابیطس کی دوا نے دل کے دورے کا خطرہ 43% تک بڑھا دیا تھا۔ کمپنی کو یہ پہلے سے معلوم تھا لیکن منافع کے لیے جان بوجھ کر چھپایا گیا۔ اس عرصے میں انہوں نے 300 بلین ڈالر کا منافع کمایا۔ --- یہ آج کی "جدید ترین میڈیکل سسٹم" ہے! سوچیں… غور کرنا شروع کریں… اللہ سب کو صحت مند اور خوش رکھے۔ آمین منقول۔۔۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

⭐ آج کا جدید ترین میڈیکل سائنس ⭐ ✍ ڈاکٹر انانیہ سرکار کے قلم سے ۔ آپ کو دو یا تین دن بخار رہا۔ اگر آپ نے کوئی دوا نہ بھی لی ہوتی، تو کچھ دنوں میں آپ کا جسم خود بخود ٹھیک ہو جاتا۔ لیکن آپ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔ شروع میں ہی ڈاکٹر نے کئی ٹیسٹ لکھ دیے۔ ٹیسٹ کے نتائج میں بخار کی کوئی خاص وجہ نہیں ملی۔ البتہ، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح تھوڑی سی زیادہ نظر آئی — جو عام لوگوں میں بہت عام ہے۔ بخار تو اتر گیا، لیکن اب آپ صرف بخار کے مریض نہیں رہے۔ ڈاکٹر نے آپ کو بتایا: > "آپ کا کولیسٹرول زیادہ ہے۔ شوگر بھی تھوڑی بڑھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ *پری-ڈائیبیٹک* ہیں۔ آپ کو کولیسٹرول اور شوگر کنٹرول کرنے کی دوائیں لینی پڑیں گی۔" اس کے ساتھ ہی کھانے پینے کی متعدد پابندیاں لگ گئیں۔ ہو سکتا ہے آپ نے کھانے کی پابندیاں سختی سے نہ بھی مانی ہوں — لیکن دوائیں کھانا آپ نے نہیں بھولنا تھا۔ تین ماہ گزر گئے۔ پھر ٹیسٹ ہوئے۔ آپ کا کولیسٹرول تھوڑا کم ہوا، لیکن اب آپ کا بلڈ پریشر تھوڑا بڑھ گیا۔ ایک اور دوا لکھ دی گئی۔ اب آپ تین دوائیں کھا رہے تھے۔ یہ سب سن کر آپ کی پریشانی بڑھ گئی۔ > "اب کیا ہوگا؟" > اس فکر کی وجہ سے آپ کی نیند اڑ گئی۔ > ڈاکٹر نے نیند کی گولی لکھ دی — اور اب آپ کی دوائیں چار ہو گئیں۔ یہ سب دوائیں کھانے کے بعد آپ کو تیزابیت اور سینے کی جلن ہونے لگی۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا: > "کھانے سے پہلے خالی پیٹ گیس کی گولی کھا لیا کریں۔" > اب آپ پانچ دوائیں کھا رہے تھے۔ چھ ماہ گزر گئے۔ ایک دن آپ کو سینے میں درد ہوا اور آپ ایمرجنسی میں پہنچ گئے۔ مکمل چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کہا: > "اچھا ہوا آپ بروقت آ گئے۔ ورنہ سنگین ہو سکتا تھا۔" مزید ٹیسٹ تجویز کیے گئے۔ کئی مہنگے ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا: > "اپنی موجودہ دوائیں جاری رکھیں۔ لیکن اب دل کے لیے دو مزید دوائیں شامل کر لیں۔ نیز، آپ کو اینڈوکرائنولوجسٹ کو بھی دکھانا چاہیے۔" > اب آپ سات دوائیں کھا رہے تھے۔ کارڈیالوجسٹ کے مشورے پر آپ اینڈوکرائنولوجسٹ کے پاس گئے۔ انہوں نے ایک اور شوگر کی دوا اور تھائیرائیڈ کی گولی شامل کر دی، کیونکہ تھائیرائیڈ کی سطح تھوڑی بڑھی ہوئی تھی۔ اب آپ کی کل دوائیں نو ہو گئیں۔ آہستہ آہستہ آپ یہ ماننے لگے کہ آپ واقعی بیمار ہیں: * دل کے مریض * ذیابیطس * بے خوابی * گیس کے مسائل * تھائیرائیڈ کے مسائل * گردے کے مسائل ... اور فہرست جاری رہی۔ کسی نے آپ کو نہیں بتایا کہ آپ ارادہ، خود اعتمادی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ بلکہ آپ کو بار بار بتایا گیا کہ آپ ایک سنگین مریض ہیں، کمزور ہیں، ناکارہ ہیں اور ٹوٹے ہوئے انسان ہیں۔ چھ ماہ بعد، ان تمام دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ کو پیشاب کے مسائل ہونے لگے۔ مزید ٹیسٹ سے گردوں کے مسائل کا پتہ چلا۔ ڈاکٹر نے مزید ٹیسٹ کیے۔ رپورٹ دیکھ کر کہا: > "کریٹینین کی سطح تھوڑی بڑھ گئی ہے۔ لیکن فکر نہ کریں — جب تک آپ باقاعدگی سے دوائیں لیتے رہیں گے۔" > انہوں نے دو مزید دوائیں شامل کر دیں۔ اب آپ گیارہ دوائیں کھا رہے تھے۔ اب آپ کھانے سے زیادہ دوائیں کھا رہے تھے، اور ان دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اگر ابتدا میں، جب آپ پہلی بار بخار کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس گئے تھے، ڈاکٹر نے صرف یہ کہہ دیا ہوتا: > "پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف ہلکا بخار ہے۔ دوائی کی ضرورت نہیں۔ آرام کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں، تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں، صبح کی سیر کریں — بس۔ کسی دوا کی ضرورت نہیں۔" لیکن پھر… ڈاکٹر اور دواساز کمپنیاں اپنی روزی کیسے کماتیں؟ ### سب سے بڑا سوال: ڈاکٹر کس بنیاد پر مریضوں کو ہائی کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماری یا گردے کی بیماری کا مریض قرار دیتے ہیں؟ یہ معیارات کون طے کرتا ہے؟ آئیے اس پر تھوڑا گہرائی سے جائیں: * 1979 میں، شوگر کی سطح 200 mg/dl کو ذیابیطس سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت دنیا کی صرف 3.5% آبادی ٹائپ 2 ذیابیطس میں شمار ہوتی تھی۔ * 1997 میں، انسولین بنانے والی کمپنیوں کے دباؤ میں، ذیابیطس کی حد 126 mg/dl تک گرا دی گئی، جس سے اچانک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3.5% سے 8% ہو گئی — یعنی 4.5% زیادہ لوگوں کو بغیر کسی اصل علامت کے ذیابیطس کا لیبل لگا دیا گیا۔

اگر کسی مریض کے CBC میں RBC، WBC اور Platelets تینوں کی مقدار بہت کم ہو تو آخر یہ کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟ ایسی صورت میں ہمیں سب سے پہلے Aplastic Anemia کا شک ہونا چاہیے۔ یہ ایک سنگین بیماری ہے جس میں جسم کی Bone Marrow (جہاں خون کے نئے خلیے بنتے ہیں) اچانک یا آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خون کے تینوں اہم خلیے — یعنی RBCs (oxygen لے جانے والے)، WBCs (infection سے لڑنے والے)، اور Platelets (خون روکنے والے) — بہت کم ہو جاتے ہیں۔ جب RBC کم ہوتے ہیں تو مریض کو تھکن، چکر، اور سانس پھولنے کی شکایت ہوتی ہے۔ WBC کی کمی سے بار بار بخار آتا ہے، معمولی انفیکشن بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔ اور اگر Platelets کم ہوں تو مریض کو جلدی خون بہتا ہے، نیل پڑ جاتے ہیں، یا ناک اور مسوڑھوں سے خون آتا ہے۔ تشخیص کے لیے سب سے پہلے CBC رپورٹ دیکھی جاتی ہے۔ اگر تو Hemoglobin، WBC اور platelet count تینوں کم ہوں اور Reticulocyte Count بھی Low ہو، تو یہ واضح اشارہ ہوتا ہے کہ Marrow کام نہیں کر رہا۔ اصل تصدیق Bone Marrow Biopsy سے کی جاتی ہے، جس میں marrow خالی یا fatty نظر آتا ہے۔ Aplastic Anemia کی وجہ بعض اوقات دوائیں، وائرس، radiation یا جسم کا اپنا immune system ہوتا ہے۔ لیکن کئی بار اس کی وجہ معلوم نہیں ہو پاتی، جسے idiopathic کہا جاتا ہے۔ علاج میں مریض کو Blood transfusion دی جاتی ہیں، infection سے بچاؤ کے لیے Antibiotics اور خاص طور پر Immunosuppressive Medicines یا Bone Marrow Transplant کیا جاتا ہے، خاص طور پر نوجوان مریضوں میں۔ آخر میں، یہ بیماری خاموشی سے جسم کو کمزور کرتی ہے، اس لیے اگر CBC میں تینوں خون کی اقسام کم ہوں، تو فوری ایکشن لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ Aplastic Anemia ایک Medical Emergency ہے اور بروقت علاج سے مریض کی زندگی بچائی جا سکتی ہے.... 💕💕💕💕💕💕💕

🔷 قیمتی گوہر 🔷 امام غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ایک شخص کو جنگل میں پتھروں سے بھری ایک تھیلی ملی جنکی قیمت سے وہ آگاہ نہ ہوسکا۔ اس نے ان پتھروں کو دائیں بائیں ندی نالوں میں پھینک دیا یہاں تک کہ جب گھر پہنچا تو اسکے ہاتھ میں بس ایک پتھر تھا۔ اس شخص کا دوست جوکہ گوہر شناس تھا، نے اسکے ہاتھ میں یہ پتھر دیکھا تو تجسس بھرے لہجے میں پوچھا کہ یہ قیمتی پتھر تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا کہ جنگل سے۔ گوہر شناس دوست نے پوچھا کہ کیا یہ پتھر مجھے فروخت کرو گے؟ اس پر اس شخص نے مسکرانا شروع کر دیا یہ تاثر دیتے ہوئے کہ بھلا اس پتھر کی بھی کوئی قیمت ہے؟ جب گوہر شناس نے قیمت بتائی تو وہ شخص رونے لگا۔ گوہر شناس نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میرے پاس اس طرح کے بہت سارے پتھر تھے جنہیں میں نے عدمِ واقفیت کے باعث ضائع کر دیا۔ اگر وہ سارے میرے پاس ہوتے تو میں کتنا مالدار ہو جاتا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب انسان مرنے کے بعد میدانِ محشر میں اپنے ان لمحات کی قیمت کو دیکھے گا جو اس نے اللہ کی فرمانبرداری میں گزارے ہوں گے تو روئے گا اور چِلائے گا کہ میرے پاس تو اس طرح کے بہت سے لمحات تھے جنہیں میں نے دنیا میں ضائع کر دیا۔ کاش کہ میں نے ان لمحات کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارا ہوتا تو آج میرے پاس نیکیوں کا ایک ذخیرہ جمع ہوتا اور میری بخشش ہو جاتی۔ اس لیے آنکھ بند ہونے سے قبل زندگی کے قیمتی لمحات کی قدر کریں۔۔۔ زندگی ہر ہر لمحے موت کے قریب کر رہی ہے۔ اللہ کریم ہمیں دنیا سے اس حالت میں اٹھانا کہ تو ہم سے راضی ہو چکا ہو۔ آمین یارب العالمین 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بارش کا پہلا قطرہ 🔷 ایک دفعہ ایک علاقے میں کافی عرصہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے شدید قحط پڑ گیا. وہاں سبھی مخلوق بارش نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہو گئی. انسان تڑپنے لگے، جانوروں کی زبانیں باہر نکل آئیں اور پودے تک مرجھا کر جلنے لگے. ایک دفعہ زور و شور کی بارش آئی مگر برس کے نہیں دے رہی تھی. بارش کے قطرے اللہ کی مخلوق کی یہ حالت دیکھ نہیں پا رہے تھے اور شدید رنجیدہ و غمزدہ تھے لیکن ہر قطرہ اپنی اپنی جگہ یہ سوچ کر گرنے سے رکا ہوا تھا کہ میں بھلا کیا کر سکتا ہوں کہ میں تو محض ایک قطرہ ہی تو ہوں. برس بھی گیا تو پتہ نہیں زمین تک پہنچ بھی پاؤں گا یا نہیں. پہنچ بھی گیا تو مجھ سے بھلا کسی کی کیا پیاس بجھے گی. میں انسان و حیوان کی تو درکنار ایک ننھے سے پودے کی پیاس بھی نہیں بجھا سکوں گا لیکن ان میں ایک قطرہ سب سے الگ سوچ رکھتا تھا. وہ سوچتا کہ بےشک میں ایک قطرہ ہی ہوں مگر میرا رب چاہے تو ایک قطرے سے اپنی مخلوق کی خدمت کا وہ کام لے لے کہ جو ساری دنیا کے دریا و سمندر مل کر بھی نہ کر سکیں. وہ رب ایک ذرے سے وہ کچھ کروا سکتا ہے جو ساری دنیا کے پہاڑ مل کر بھی نہ کر سکیں. میرا رب درخت کے ایک پتے سے ساری دنیا کے جنگلات و باغات سے زیادہ کام لے لے. بس یہی سب سوچ سوچ کر اس کی ہمت بڑھتی گئی. اسے بھی احساس تھا کہ پتہ نہیں زمین تک پہنچ بھی پاؤں گا کہ نہیں اور پہنچ بھی گیا تو بھلا کس کی پیاس بجھا پاؤں گا. لیکن اس سے اللہ کی مخلوق کی یہ اذیت ناک حالت دیکھی نہ گئی اور اس نے خود کو گرا کر قربان کرنے کا عزم کر لیا. وہ گرا تو اس کے پیچھے سینکڑوں قطروں کی ہمت ہوئی اور انہوں نے بھی خود کو گرا دیا. سینکڑوں کو دیکھ کر ہزاروں اور ہزاروں کی دیکھا دیکھی لاکھوں کروڑوں قطروں کی ہمت بندھی اور انہوں نے خود کو گرا دیا کسی کو نہیں معلوم کہ بارش کا وہ پہلا قطرہ زمین تک پہنچ بھی پایا تھا یا نہیں اور اگر پہنچ پایا تھا تو کسی کی پیاس بجھا بھی پایا تھا کہ نہیں. لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ بارش کے اس پہلے قطرے کو گرتا دیکھ کر اتنے قطروں کو گرنے کا حوصلہ ملا کہ انسانوں، حیوانوں اور پودوں سب کی پانی کی ضرورت پوری ہو گئی اور پیاس بجھ گئی آج ہمیں بارش کا پہلا قطرہ بننے کی ضرورت ہے. اگر آج ہم نے ایسا کرنے کی ہمت کر لی تو یقین کیجیے کہ ہمارے پیچھے ایسے ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں قطرے گریں گے کہ جو اس ملک و عوام کی تمام محرومیاں دور کر ڈالیں گے اور ہمارے ملک و قوم کے تمام مسائل حل کر ڈالیں گے. پھر ایک دن ہمارا ملک بھی ترقی یافتہ ملک بنے گا. اس میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ ہو گا. یہاں بھی امیر غریب سب کو انصاف ملے گا. پورے ملک میں ایک بھی گھرانہ بھوکا نہیں سوئے گا. کوئی بچہ بھی تعلیم سے محروم نہیں رہے گا. کوئی بیمار علاج کے پیسے نہ ہونے سے نہیں مرے گا. کسی بھی سفیدپوش کی سفیدپوشی کا بھرم نہیں ٹوٹے گا. رشوت نہ دینے کی وجہ سے کسی بھی شہری کا کوئی کام نہیں رکے گا. کرپشن اور رشوت کا گرم بازار ٹھنڈا پڑ جائے گا. سب کی جانیں، مال اور عزتیں محفوظ ہو جائیں گی. جگہ جگہ پڑے کچرے کے یہ ڈھیر ختم ہو جائیں گے اور پورا ملک صاف ستھرا ہو جائے گا. مجھے یقین ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا اور عرصہ دراز سے چھائی ہوئی یہ خزاں بہار میں بدل جائے گی. بس ہم سب کو اپنے اپنے مقام پر بارش کا پہلا قطرہ بننے کی ضرورت ہے. ہم نے بس اپنے اپنے حصے کا چراغ جلانا ہںے. ان شآءاللہ ہر سو روشنی پھیل جائے گی۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 وہیل مچھلی 🔷 دنیا کی سب سے بڑی مخلوق وہیل اپنی جسامت کے سبب ہی حیرت کا باعث نہیں، بلکہ اس کے جسمانی افعال بھی کائناتی نظام کے ایک نہایت دقیق توازن کا مظہر ہیں۔۔🐋 آج سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہیل کا پیشاب اور فضلہ، سمندر کے لئے کسی قدرتی نعمت سے کم نہیں بلکہ یوں کہیے کہ"آبِ حیات"ہے۔۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک بڑی وہیل روزانہ تقریباً 950 لیٹر پیشاب خارج کرتی ہے، اور یہ پیشاب صرف ایک فضلہ نہیں بلکہ سمندر کی زندگی کے لیے ایک قیمتی نامیاتی کھاد کا کردار ادا کرتا ہے۔۔ یہ پیشاب اورفضلہ سمندری پانی میں اہم منرلز،یعنی نائٹروجن، فاسفورس اور آئرن مہیا کرتےہیں، جو پانی میں موجود فائیٹوپلینکٹن (سمندری خوردنی پودے) کی افزائش کیلیے نہایت ضروری ہوتےہیں۔۔ یہ فائیٹوپلینکٹن دراصل سمندر کی بنیاد ہیں۔یہی وہ خوردنی جاندار ہیں جونہ صرف سمندری مخلوق کی خوراک بنتےہیں بلکہ بڑےپیمانےپرکاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے زمین کی فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وہیل ہر سال سمندر میں46,000 ٹن بایو ماس اور 4,000 ٹن نائٹروجن تقسیم کرتی ہیں۔۔ ان کی موجودگی کی وجہ سے سمندرسالانہ 18,000 ٹن کاربن فضا سے جذب کرنے کے قابل ہوتا ہے۔۔ یعنی ایک وہیل، جو خود نہ کچھ بولتی ہے، نہ زمین پر رہتی ہےمگر اسکی روزمرہ کی جسمانی سرگرمیاں بھی ماحولیاتی توازن قائم رکھنےکے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔۔ یہ سب کیا محض حادثاتی ارتقاء کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟کیا اتنا زبردست باہمی ربط رکھنے والا نظام، جس میں پانی، فضا، نباتات، اور جانور سب ایک دوسرے سے جڑے ہوں خود بخود بن سکتا ہے؟ یقیناً نہیں! قرآن مجید میں بھی اللہ کی تخلیق کردہ نشانیوں پر غور کرنےکی بارہا دعوت دی گئی ہے۔وہیل مچھلی کی مثال ایسی ہی ایک نشانی ہے جو ہمیں سکھاتی ہےکہ اللہ کی کوئی مخلوق، چھوٹی ہو یا بڑی، بیکار نہیں۔ یہاں ہر ذرے کو مقصد دیا گیا ہے۔۔ Copy... 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 زیتون کے تیل کے فائدے 🔷 طاقت کا لازوال نسخہ۔۔۔ زیتون کے تیل کو صبح نہار منہ اس طرح استعمال کریں اور زندگی کی بہاریں لوٹیں زیتون کا تیل صحت کے لیے بہت فائدہ مند مانا جاتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود فیٹی ایسڈز، وٹامنز اور دیگر اجزاءشامل ہیں۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اسے پینا بھی صحت کے لیے فوائد کا حامل ہوتا ہے؟ درحقیقت خالی پیٹ ایک کھانے کے چمچ زیتون کے تیل کو پینا اتنے فوائد کا حامل ہوتا ہے کہ جان کر دنگ رہ جائیں گے۔ ▪توند سے نجات: زیتون کے تیل میں فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ زیادہ کھانے سے روکتی ہے، جس کے نتیجے میں یہ گھی کا بہترین متبادل تو ہے ہی، تاہم اسے خالی پیٹ پینا بہت کم عرصے میں توند کو گھٹانے میں مدد دیتا ہے۔ ▪آنتوں کو ٹھیک کرے: خالی پیٹ زیتون کے تیل کا ایک چمچ پینا ان خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں، اسی طرح یہ آنتوں کے نظام کو ٹھیک کرکے قبض سے نجات دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ▪جلد، بال، ناخن اور ہڈیوں کو بہتر بنائے: زیتون کا تیل جلد، ناخنوں اور بالوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے، یہ ان کی ملائمت واپس لانے کے ساتھ نقصانات کی مرمت کرتا ہے، ان کی نمی بحال کرتا ہے جبکہ بالوں کی نشوونما کو بھی بڑھاتا ہے۔ ویسے تو اسے ہیئر یا اسکن ماسک کی شکل میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے مگر اسے پینا زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ▪جگر کی صفائی: جسمانی افعال کے لیے جگر کی بہت اہمیت ہے، یہ اندرونی نظام کی صفائی کرتا ہے مگر زہریلے مواد کی صفائی کے لیے ہمیں بھی کوشش کرنا ہوتی ہے اور ایسا زیتون کے تیل سے ممکن ہے۔ بہترین نتائج کے لیے دو کھانے کے چمچ زیتون کے تیل کو تھوڑی مقدار میں لیموں کے عرق میں ملا کر پی لیں۔ ▪جسمانی دفاعی نظام بہتر بنائیں:- اس میں موجود فیٹی ایسڈز جسمانی دفاعی نظام کے مختلف افعال کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف موسمی امراض سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔ ▪دل کو تحفظ دے: - کولیسٹرول کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک ایل ڈی ایل (نقصان دہ) اور دوسری ایچ ڈی ایل (فائدہ مند)، امراض قلب سے بچنے کے لیے ایل ڈی ایل کی سطح کو کم رکھنا ضروری ہوتا ہے جبکہ دوسری کی سطح بڑھانا ہوتی ہے، اس کا ایک ذریعہ زیتون کا تیل، سبزیاں، پھل اور اجناس پر مشتمل غذا کا استعمال ہے۔ ▪جسمانی ورم کم کرے: زیتون کا تیل جسمانی ورم میں کمی کے لیے درد کش ادویات کی طرح ہی کام کرتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق کچھ کھانے کے چمچ زیتون کا تیل کسی درد کش دوا جتنا اثر رکھتا ہے اور یہ قدرتی علاج ہے جس کا کوئی نقصان نہیں۔ ▪بلڈ شوگر کنٹرول کرے:- زیتون کا تیل کولیسٹرول اور گلوکوز لیول کو موثر طریقے سے کم کرتا ہے، اسی لیے اسے ذیابیطس کے خلاف فائدہ مند مانا جاتا ہے جبکہ خون کی شریانوں کے مسائل سے بھی بچاتا ہے۔ ▪دماغ کو تحفظ دے-: زیتون کا تیل دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہے، جسے بہت زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی کمی مضر صحت فری ریڈیکلز کی مقدار بڑھاتی ہے جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بن سکتا ہے۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

سورہ فرقان کو لکھ کر اپنے ساتھ رکھنے سے موذی کیڑے (جراثیم وغیرہ) قریب نہیں آتے۔
سورہ فرقان کو لکھ کر اپنے ساتھ رکھنے سے موذی کیڑے (جراثیم وغیرہ) قریب نہیں آتے۔

گھٹنے کے درد کے لیے دعا
گھٹنے کے درد کے لیے دعا

سورہ قریش
سورہ قریش

اگر سورہ قریش پانی پر پڑھ کر دل کے مریض پر وہ پانی چھڑکا جائے تو وہ تندرست ہو جائے گا۔
اگر سورہ قریش پانی پر پڑھ کر دل کے مریض پر وہ پانی چھڑکا جائے تو وہ تندرست ہو جائے گا۔

جسم کے کسی حصے میں بھی درد کی کوئی بیماری لگ جائے تو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سترہ مرتبہ سورہ الحمد پڑھے۔
جسم کے کسی حصے میں بھی درد کی کوئی بیماری لگ جائے تو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سترہ مرتبہ سورہ الحمد پڑھے۔

مکمّل سورہ غاشیہ قرآن مجید سے دیکھیں
مکمّل سورہ غاشیہ قرآن مجید سے دیکھیں

اگر درد کرنے والی داڑھ پر سورة الغاشیہ کو پڑھا جائے تو اس کا درد ساکن ہو جائے گا۔
اگر درد کرنے والی داڑھ پر سورة الغاشیہ کو پڑھا جائے تو اس کا درد ساکن ہو جائے گا۔

جو شخص کسی بیماری یا مصیبت میں مبتلا ہو اسے چاہیے کہ روزانہ ایک سو ایک مرتبہ یا واحد کہے۔ وہ اس بیماری سے شفایاب ہو جائے گا۔
جو شخص کسی بیماری یا مصیبت میں مبتلا ہو اسے چاہیے کہ روزانہ ایک سو ایک مرتبہ یا واحد کہے۔ وہ اس بیماری سے شفایاب ہو جائے گا۔

سورہ لقمان لکھ کر اس کا پانی پیا ھائے تو اللہ کے حکم سے ہر چوتھے اور تیسرے دن بعد آنے والا بخار جاتا رہے گا۔
سورہ لقمان لکھ کر اس کا پانی پیا ھائے تو اللہ کے حکم سے ہر چوتھے اور تیسرے دن بعد آنے والا بخار جاتا رہے گا۔

جسے بھی باری کا بخار ہو اسے چاہیے شکر کو کوٹ کر پانی میں حل کر کے شربت بنا کر نہار منہ پیئے اور جب پیاس لگے تب پیئے ان شاءالل
جسے بھی باری کا بخار ہو اسے چاہیے شکر کو کوٹ کر پانی میں حل کر کے شربت بنا کر نہار منہ پیئے اور جب پیاس لگے تب پیئے ان شاءاللہ شفایاب ہو جائے گا۔