ISLAM WITH EMAN
Open in Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Show more1 419
Subscribers
No data24 hours
-17 days
-1330 days
Posts Archive
1 419
*الرٹ 🛑 پنجاب: چناب، راوی اور ستلج میں سیلاب سے ہر طرف تباہی، 1470 گاؤں زیر آب، 14 لاکھ افراد متاثر، 28 اموات*
*🌼کھڑی فصلیں تباہ، مال مویشی بارش کی نذر، جھنگ کو بچانے کیلئے ریواز بند توڑ دیا گیا، سیالکوٹ میں دوبارہ سیلاب کا خدشہ*
1 419
*💥بھارت کی آبی جارحیت جاری، مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا*
مظفر آباد: بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اب مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑدیا گیا۔
آزاد کشمیر کے سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے مطابق بھارتی مقبوضہ علاقے سے آزاد کشمیر میں دریائے جہلم میں پانی چھوڑا گیا ہے، بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی کا ریلا کنٹرول لائن چکوٹھی کے مقام سے آزاد کشمیر میں داخل ہوگیا۔
ایس ڈی ایم اے کے مطابق دریائے جہلم میں چکوٹھی کے مقام سے پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مظفر آباد، ہٹیاں بالا اور نیچے کی طرف منگلا تک کے علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے لہٰذا احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ایس ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ دریا اور ندی نالوں کے کنارے غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کریں، مویشیوں اور قیمتی سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور بچوں کو دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب نہ جانے دیں۔
خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد تین بپھرے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں اور فصلیں زیر آب آ گئیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
1 419
*🛑💥پنجاب میں سیلاب سے 20 اموات، چنیوٹ اور جھنگ کو بچانے کیلئے بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا*
*🌼چیف سیکریٹری پنجاب کی زیرصدارت اجلاس میں جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کیلئے بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیاتھا، ننکانہ، شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دریا کے اطراف فوری انخلا کا حکم، سیالکوٹ میں 16 لاشیں برآمد*
پنجاب کے تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے، چیئرمین پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے باعث کم ازکم 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، بیشتر اموات ڈوبنے سے ہوئیں، سیالکوٹ میں ڈوبنے والے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں سیلاب کے پیش نظر رواز برِج کے قریب بند میں دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق رواز جھنگ شہر کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے شگاف ڈالا گیا ہے، دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنا لیا گیا ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ الرٹ رہے اور تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔
قبل ازیں ، لاہور میں چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت سیلاب کی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کے قریب بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
شاہدرہ کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے، بلوکی ہیڈورکس کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ سدھنائی ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب پر مرالہ کے مقام پر نچلے، خانکی کے مقام پر درمیانے اور قادرآباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ تریمو کے مقام پر پانی کا بہاؤ معمول کی سطح پر ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطر ناک اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانےاور اسلام ہیڈورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ریلیف سرگرمیاں جاری ہے، دریائے راوی میں سیلاب کے پیش نظر تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹر سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کرلیا گیا جبکہ طلعت پارک بابوصابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
علاوہ ازیں، لاہور میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 4 بلاکس میں پانی داخل ہوگیا تاہم رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا، لاچیوالی اسکول کے ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔
لاہور میں 1988 میں اتنا پانی آیا تھا، ڈی جی پی ڈی ایم اے
پنجاب پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے باعث کم از کم 20 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں زیادہ تر اموات ڈوبنے کے واقعات میں ہوئیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں گوجرانوالہ ڈویژن میں ڈوبنے کے واقعات کے نتیجے میں ہوئیں جبکہ ریسکیو سروسز کی کسی غفلت کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دے گی۔
1 419
💞 شوہر اور بیوی لباس کی مانند 💞
*هُنَّ لِباسٌ لَكُم وأنتُم لِباسٌ لَهُنّ¤*
قرآن میں یہ لطیف تشبیہ (بیوی کو شوہر کے لیے اور شوہر کو بیوی کے لیے لباس قرار دینا) نہایت دقیق اور تربیتی نکات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
🔹 *عیوب چھپانا اور آبرو بچانا*
لباس انسان کے عیوب کو ڈھانپتا اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کو چھپائیں اور ایک دوسرے کی عزت کو محفوظ رکھیں۔
🔹 *سختیوں سے حفاظت*
لباس انسان کو گرمی، سردی اور دوسری آفات سے بچاتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کو چاہیے کہ زندگی کی سختیوں اور خوشیوں، سرد و گرم حالات میں ایک دوسرے کا سہارا اور ڈھارس بنیں۔
🔹 *گہرا تعلق اور بیگانگی سے دوری*
لباس اور پہننے والے کے درمیان بہت قریبی اور صمیمی تعلق ہوتا ہے، جس میں کوئی اجنبی داخل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی بیگانہ شخص ان کی زندگی میں مداخلت نہ کرے اور نہ ہی ان کے رازوں سے آگاہ ہو، تاکہ فتنے کا دروازہ بند رہے۔
🔹 *آرام اور سکون کا ذریعہ*
لباس انسان کے لیے سکون کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون و آرام کا ذریعہ ہیں۔ قرآن نے رات کو بھی "لباس" کہا ہے: «وجَعَلنَا اللَّيلَ لِباسا»، اور اسی رات کو سکون کا وقت بھی فرمایا: «هُوَ الَّذي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيلَ لِتَسكُنوا فيه»۔ یہی تعبیر میاں بیوی کے رشتے کے بارے میں بھی آئی ہے: «هُنَّ لِباسٌ لَكُم وأنتُم لِباسٌ لَهُنّ» اور «و مِن آياتِهِ أن خَلَقَ لَكُم مِن أنفسِكُم أزوجاً لِتَسكُنوا إلَيها وجَعَلَ بَينَكُم مَوَدَّةً ورَحمَة»۔
🔹 *زینت اور عزت کا باعث*
لباس انسان کی زینت ہے اور اس کے وقار کو بڑھاتا ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے زینت ہیں۔ دونوں کے ساتھ ہونے سے انہیں خاندان اور سماج میں ایک نیا مقام اور عزت حاصل ہوتی ہے جو پہلے نہیں تھی، اسی لیے لوگ بھی ان سے زیادہ احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
📚 تفسیر تسنیم، جلد۹، ص460-461۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 419
*پاسورڈ*
تقریباً چھ مہینے پہلے، میرے پڑوسی نے مجھ سے وائی فائی کا پاسورڈ مانگا، میں نے دے دیا کیوں کہ اس میں میرا کچھ نہیں جاتا تھا۔ میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔
کل جب میں گھر آ رہا تھا تو وہ دروازے پر کھڑے تھے۔ میں حسبِ معمول ان سے سلام دعا کرنے رک گیا۔ وہ خوشی خوشی بتانے لگے کہ انہوں نے نیٹ فلکس لے لیا ہے۔ اس پر میں نے مذاق میں کہا، مجھے ٹی وی دیکھنے کا وقت نہیں ملتا لیکن آپ مجھے اپنا پاسورڈ دے دیں تاکہ میں بھی کچھ شوز دیکھ سکوں تو بہت مہربانی ہو گی۔
قریب سے ان کی بیوی کی آواز آئی جو گاڑی میں بیٹھی تھی، ہم پاسورڈ نہیں دے سکتے، کیوں کہ میں اس کی ادائیگی کرتی ہوں اور شیئر نہیں کر سکتی۔
یک دم گہری خاموشی چھا گئی۔
اس شخص نے معذرت کی۔
میں نے کہا کوئی بات نہیں اور ہم دوسرے موضوعات پر بات کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ان کی بیوی گھبرائی ہوئی باہر آئی اور انہیں بلانے لگی۔ میرا پڑوسی گھر کے اندر چلا گیا۔
چند منٹ بعد پڑوسی اور اس کی بیوی مجھے بلانے آئے اور بتایا کہ وائی فائی پاسورڈ قبول نہیں کر رہا۔ میں نے ان کی طرف دیکھا، اور جواب دیا کہ میں نے پاسورڈ بدل دیا ہے، کیوں کہ یہ میری محنت کی کمائی سے لیا گیا ہے اور میں اسے شیئر نہیں کر سکتا۔
اس کی بیوی کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن میں نے کہا، بی بی، نیٹ فلکس بھلے آپ کا ہے، لیکن نیٹ ورک میرا تھا۔ جیسے آپ شیئر نہیں کر سکتیں، ویسے ہی میں بھی شیئر نہیں کروں گا۔
وہ خاموشی سے مڑے اور دروازہ بند کر کے چلے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔
یہ کہانی میری نہیں ہے، لیکن اس سے میں نے سبق سیکھا ہے۔
دوستی دو طرفہ ہونی چاہیئے۔
محبت دو طرفہ ہونی چاہیئے۔
ہر تعلق دو طرفہ ہونا چاہیئے۔
اب میرا ارادہ ہے کہ خاموشی کا جواب خاموشی سے، غیر حاضری کا جواب غیر حاضری سے، پیار کا جواب پیار سے، دوستی کا جواب دوستی سے اور وفاداری کا جواب وفاداری سے دوں۔ جذبات یک طرفہ نہیں، دو طرفہ ہونے چاہئیں۔
اگر آپ صرف لینے میں اچھے ہیں، تو کچھ دینا بھی سیکھ لیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 419
قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ
گدھی
گدھے کو ہی جنم دیتی ہے
ہمارے ہی اجداد،
جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،
ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،
پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.
یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،
اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اور
انگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..
ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.
تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،
اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.
انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔
جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.
تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،
بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،
دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.
پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کے خلاف انگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،
غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟
کوئی اور نہیں۔
میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔
انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اور
انگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیا
بدلے میں سانگھڑ میں ان کو جاگیریں ملیں
سرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،
انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..
سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔
بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*
پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،
مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا. ا.
انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،
اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا.
اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔
اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،
جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی لمحےکرواتا رہا،
کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا
یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟
انگریز کی بنائی رجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہے۔
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
"*المجرمین پاکستان*"
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔
مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔
یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔
ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔
مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔
اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔
لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔
ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔
منقول۔۔۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 419
آخر میں عرض ہے کہ انسان کبھی مکمل اچھا نہیں اور کبھی مکمل برا نہیں۔ اصل حکمت یہ ہے کہ ہم ہر شخص کو compartments میں پرکھیں اور اس کی نیکی کو اس کی برائی پر ترجیح دیں۔ جب آپ یہ زاویہ اپنائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں تقریباً ہر شخص اچھا ہے۔
شہزاد احمد مرزا
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/6900
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 419
*کسی کو دیکھنے کا زاویہ*
شہنشاہ جہانگیر نے خفیہ دستہ بھیجا اور نورجہاں کے شوہر شیر افگن کو قتل کروا دیا۔ یہ وہی جہانگیر تھا جس کے محل کے باہر سونے کی زنجیرِ عدل لٹکی رہتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی مظلوم وہ زنجیر ہلاتا تو بادشاہ خود دربار سے نکل کر انصاف کرتا۔ ایک طرف عدل و انصاف کی یہ عظیم نشانی اور دوسری طرف اپنی محبوبہ کی خاطر ایک بے گناہ شوہر کا خون—آپ فیصلہ کیجیے، جہانگیر فرشتہ تھا یا قاتل؟
تاریخ کے اوراق ایسے ہی تضادات سے بھرے ہیں۔ شاہجہان کو دیکھ لیں۔ محبت کا تاج محل بنایا، وہ سنگ مرمر کا خواب جو دنیا آج تک حیرت سے دیکھتی ہے۔ لیکن یہی شاہجہان تخت پر بیٹھتے ہی اپنے بھائیوں اور تمام ممکنہ وارثوں کو قتل کرا گیا تاکہ اقتدار پر کوئی سایہ نہ رہے۔ ایک طرف محبت کی یادگار، دوسری طرف خون سے رنگی ہوئی سیاست۔ تو سوال یہ ہے کہ ہم شاہجہان کو کس خانہ میں رکھیں؟ عشق کے خانے میں یا سنگدلی کے؟
اورنگزیب کی کہانی اور بھی ہولناک ہے۔ وہ اپنی روزی ٹوپیاں سینے اور چٹائیاں بُننے سے کمانے والا زاہد بادشاہ تھا۔ وصیت میں لکھا کہ میرا کفن میری سی ہوئی ٹوپیوں کے پیسوں سے خریدا جائے۔یہاں تک کے بادشاہی مسجد لاہور کی بنیاد رکھتے وقت اورنگزیب نے کہا کے بنیاد کوئی ایسا شخص رکھے، جس نے ہوش سمبھالنے کے بعد فرض نماز تو درکنار، تہجد بھی نہ چھوڑی ہو۔ جب کوئی سامنے نہ آیا تو اورنگ زیب عالمگیر نے کہا الحمد للہ میں نے تہجد کبھی نہیں چھوڑی۔
میری دلی دعا ہے کہ رب کریم اورنگ زیب عالمگیر کو ان نیکیوں کا اجر دے۔
لیکن یہی اورنگزیب اپنے بھائی دارا شکوہ کو گرفتار کرتا ہے، اُس کے جلوس کو ہاتھی پر ذلت آمیز انداز میں نکالتا ہے اور پھر اُس کی آنکھوں میں دہکتے ہوئے سرخ لوہے کی سلاخیں گھسوا دیتا ہے۔ آخر کار اُسے قتل کرا کے سر دہلی بھیجتا ہے۔
یہی نہیں، اورنگزیب نے اپنے والد شاہجہان کو بھی قید کر دیا۔ وہ باپ جس نے تاج محل بنایا، اپنی زندگی کے آخری آٹھ سال قلعہ آگرہ کے ایک کمرے میں قیدی بن کر گزارے۔ کبھی بیٹے کے رحم کی جھلک نہ ملی، اور وہ بادشاہ اپنی ہی بنائی ہوئی عمارت تاج محل کو دریچے سے دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہوا۔ کیا یہ بادشاہ صوفی تھا یا جابر؟ درویش تھا یا سنگ دل؟
انسان دراصل ایک الماری ہے۔ ایک خانے میں روشنی، دوسرے میں اندھیرا۔ ایک دروازے میں سخاوت، دوسرے میں ظلم۔ لیکن ہماری عادت ہے کہ ہم صرف ایک دروازہ کھولتے ہیں اور پورے انسان کو اسی میں قید کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ کبھی ہم ہیرو کی اندھی عقیدت میں پڑ جاتے ہیں اور کبھی دشمن کی اندھی نفرت میں۔
سوچ کر دیکھیے۔ وہ نمازی جو ہر وقت پہلی صف میں کھڑا رہتا ہے، کاروبار میں لوگوں کو لوٹ بھی سکتا ہے۔ اور وہ آدمی جو زبان سے سخت اور تلخ ہے، شاید وہی ہے جو یتیم کے بچوں کی فیس چپکے سے ادا کرتا ہے۔ تو اب اصل اچھا کون اور برا کون؟
یہی اصول بڑے بڑے ناموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہٹلر لاکھوں یہودیوں کا قاتل تھا، مگر جرمنی کی معیشت کھڑی کر دی، سڑکیں بنائیں اور فیکٹریاں چلائیں۔ چرچل دوسری جنگِ عظیم کا ہیرو بنا، لیکن اسی کے فیصلے سے بنگال میں قحط پڑا اور تین ملین انسان بھوک سے مر گئے۔ گاندھی جی آزادی کے استعارہ ہیں، مگر ان کی ذاتی زندگی میں برہمچریہ کے تجربات ہمیشہ متنازعہ رہے۔ قائداعظمؒ مغربی عادات کے قائل تھے، لیکن وہی ہمیں پاکستان دے گئے۔ اب بتائیے، یہ سب لوگ مکمل اچھے تھے یا مکمل برے؟
انسان کو سمجھنا شطرنج کھیلنے جیسا ہے۔ کچھ خانے سفید ہیں، کچھ کالے۔ کھیل انہی دونوں سے بنتا ہے۔ اگر صرف سفید ہوں تو کھیل ختم، اگر صرف کالے ہوں تو بھی کھیل ختم۔ انسان کی زندگی بھی ایسے ہی ہے—روشنی اور سائے، دونوں ساتھ ساتھ۔
اصل حکمت یہ ہے کہ انسان کو compartments میں پرکھا جائے۔ سیاست دان کو سیاست میں دیکھیں، مگر گھر کی زندگی کو الگ خانہ مانیں۔ استاد کو علم میں پرکھیں، مگر اخلاق میں بھی جانچیں۔ گلوکار کے فن کو سراہیں، لیکن اس کی نجی زندگی کے سائے بھی نوٹ کریں۔ یہی انصاف ہے اور یہی بصیرت۔
یاد رکھیے، جو لوگ آج بھی کسی کو مکمل اچھا یا مکمل برا سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں عقل کی پہلی سیڑھی پر ہیں۔ اصل عقل یہ ہے کہ ہم الماری کے تمام دروازے کھولیں اور ہر خانے کو الگ الگ دیکھیں۔ تبھی پورا انسان سامنے آتا ہے۔
اور ایک راز اور سن لیجیے۔ اگر آپ کسی انسان کی نیکی کو اس کی برائی پر ترجیح دینا سیکھ لیں تو یہ دنیا اچانک حسین ہو جائے گی۔ جیسے باغ میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، مگر اگر آپ پھول پر توجہ دیں تو خوشبو ہی یاد رہتی ہے۔ اسی طرح جب آپ خوبی پر نظر رکھیں گے تو محسوس ہوگا کہ دنیا میں زیادہ تر لوگ برے نہیں بلکہ اپنی اچھائی میں پچاس فیصد سے اوپر ہی ہیں۔
1 419
سوال نمبر ۱۰۔
چاند خود بھی اپنے مدار پر گردش کر رہا ہے بقول ناسا کے اس کی اسپیڈ ۳۶۸۳ کلو میٹر فی گھنٹی ہے اور چاند اسی دوران ۱۲۹۰۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے ۔
ایک راکٹ کس طرح انتہائی تیز گھومتے ہوئے چاند کے اوربٹ(مدار)میں داخل ہوسکتا ہے؟؟
اس راکٹ نے فضا سے چاند کے اوربٹ میں داخل ہونے کا جھٹکا کیسے برداشت کیا ؟
سوال نمبر ۱۱۔
چاند گاڑی دوبارہ واپس کیسے اڑی ؟؟
جبکہ دیکھلائی گئی چاند گاڑی کچھ عجیب طرح کی تھی چار ٹانگوں والی ۔۔ اتنی چھوٹی سی گاڑی اڑ کیسے گئی بغیر انجیکٹر بغیر انجن اور بغیر فیول کے ؟؟
سوال نمبر ۱۲۔
اتنی چھوٹی سی چاند گاڑی میں سے بڑی سی چار پیوں والی ایک اور گاڑی نکلی اور بغیر آکسیجن کے اسٹارٹ کیسے ہوئی ؟؟
اور ناسا کے حساب سے چاند پر دنیا کی نسبت چھ گنا کم کشش ہونے کے باوجود جیسے دنیا میں گاڑیاں چلتی ہیں ویسے ہی کیسے چلتی ہوئی دکھلائی ؟ یعنی بغیر اچھلتے کودتے تیرتے نارمل انداز میں کیسے دوڑی ؟؟
سوال نمبر ۱۳۔
نیل آرم سٹرونگ صاحب چاند کے مدار سے واپس کیسے نکلے ۱۲۹۰۰۰۰ کلومیڑ گھومتے مدار سے نکلنا کیا مذاق ہے ؟
سوال نمبر ۱۴۔
چاند پر رات کے وقت فلم بنائی گئی اس میں کئی دفعہ آسامان دیکھلایا گیا کسی بھی دفعہ آسامان پر ستارے نہیں دیکھلائے گئے ۔۔۔ کیا فضا میں ستارے ختم ہوگئے یا ایک سٹوڈیو میں فلم بنائی گئی ؟
سوال نمبر ۱۵۔
چاند گاڑی جو دیکھلائی گئی اس میں سلور اور گولڈن رنگ کے پیپر / کاغذ لیپٹے ہوئے تھے ۔۔۔
چاند گاڑی پلاسٹک کے ٹائیروں والے پیر کے ساتھ جو چمکیلے سے ہوتے ہیں اکثر بچوں کی سائیکلوں کی پیکنگ میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور گفٹ پیپر میں بھی استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔
یہ کاغذ یعنی چمکیلے شاپر لینڈنگ میں الگ نہیں ہوئے ؟؟
سوال نمبر ۱۶۔
جب نیل آرمسٹرونگ صاحب چاند پر چل رہے تھے تو ساتھ ساتھ بے تحاشہ گرد بھی اڑا رہے تھے کیونکہ ریگستانی علاقے میں فلم بن رہی تھی ۔۔ سوال یہ ہے کہ یہ گرد ان چمکیلے پنی نما شاپر پر زرا سی بھی نہیں پڑی۔۔ حلانکہ لینڈنگ کے وقت بے تحاشہ گرد اڑنی چاہیئے تھی ۔
سوال نمبر ۱۷۔
نیل آرم سٹرونگ صاحب نے جو ہیلمٹ پہنا ہوا تھا ان کے ہیلمیٹ کے گلاس کور کے کونے میں ایک سرچ لائٹ کی روشنی نظر آرہی تھی ۔۔۔
یہ چاند پر کیا اسٹریٹ لائٹیں لگائیں گئیں تھی یا اسٹوڈیو کی لائٹ تھی ؟؟
سوال نمبر ۱۸ ۔
جب چاند پر سے دنیا دکھلائی گئی تو وہ رنگین دکھلائی ۔۔ کیا کبھی رات کو چاند رنگین سات رنگ کا دکھلائی دیتا ہے ؟ کہتے ہیں چاند پر سے دنیا بھی ریفلیکٹ ہوتی نظر آتی ہے جیسے چاند نظر آتا ہے ۔ کیا کبھی ریفلیکشن بھی رنگ برنگی ہوتی ہے ؟
سوال نمبر ۱۹ ۔
کہتے ہیں زمین چاند سے کئی گنا بڑی ہے ۔۔ اگر واقعی سچ کہتے ہیں تو وہ زمین جو ناسا نے دکھلائی تھی وہ تو چاند کے برابر ہی نظر آ رہی تھی ۔۔ کیسے چاند پر سے دنیا کا سائز بھی اتنا ہی بڑا نظر آیا جتنا ہمیں چاند نظر آتا ہے ؟؟ کیوں دنیا کئی گنا بڑی نظر نہ آئی چاند پر سے ؟؟
🔷🔷🔷🔷🔷
1 419
کیا واقعی چاند پر کوئی گیا تھا ؟؟
چاند پر اب تک کوئی نہیں گیا ... اگر گیا ہوتا تو آج کے دور میں دوبارہ ضرور جاتا۔
چاند پر جھوٹی فلم بنانے کی وجہ سے ناسا نے مزید سیکڑوں جھوٹ بولے۔
دنیا اس وقت ناسا کو سجدے کر رہی ہے کیونکہ کوئی اس قابل نہیں کہ وہ من گھڑت راز پا لیں جو ناسا نے بتائیں ہیں
آج لاکھوں امریکی عوام کو یقین ہے کہ وہ چاند پر نہیں گئے لیکن ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔
نیچے چند سوالات کیئےگئے ہیں ۔ اگر کوئی بھی سائنسی اور عقلی دلائل سے جواب دے سکتا ہے تو وہ ضرور دے بڑی خوشی ہوگی ۔
سوال نمبر ۱۔
۲۰ جولائی ۱۹۶۹ یعنی 56سال قبل انسان چاند پر گیا تھا ۔۔ اب اتنی زیادہ ٹیکنولوجی بڑھ گئی ہے امریکہ خود یا کوئی دوسرے دوبارہ جدید کیمروں اور جدید آلات کے ساتھ آج کے دور میں دوبارہ کیوں نہیں گئے ۔ یعنی اس وقت امریکہ کے ڈرامے کے بعد جب رشیا اور چائینا نے بھی مخالفت میں باری باری ڈرامے کیئے تو یہ تینوں اپنے ڈراموں کے بعد آج کے دور میں دوسرا ڈرامہ کیوں نہ بنا سکے ؟
سوال نمبر ۲۔
کیوں چاند پر صرف امریکہ اور اس کے مخالفین ہی آپس کی دشمنی کی وجہ سے ڈٖراموں کا مقابلے کرتے رہے تھے؟ کیوں امریکہ حمایتی ملکوں میں سے کسی ایک کی بھی ہمت نہ ہوسکی چاند پر قدم رکھ کر امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ؟
سوال نمبر ۳۔
جب چاند گاڑی چاند پر پہنچی تو چاند پر پہچنے کے بعد ایک عجیب قسم کی کار میں چاند کی زمین پر گھومے پھرے ۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی چاند کار چاند گاڑی سے برآمد کیسے ہوئی ؟ یعنی چھوٹی سی چاند گاڑی کے پیٹ میں اتنی گنچائش کہاں سے آئی اس کو اپنے اندر گھسانے کی ؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس چاند کار کو چاند گاڑی سے برآمد ہونے کی ویڈو کیوں نہیں بنائی گئی ؟ کیونکہ یہ بھی ایک بھی ایک بہت بڑا کمال اور معجزہ تھا ۔ ایک چھوٹی سی چاند گاڑی سے بڑی سی چاند کار کی برآمدگی بھی دنیا کو حیران کرنے کے لیے کافی تھی کیوں یہ والا ڈرامہ دکھلا کر مزید داد وصول کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ؟ اور پھر اس کے بعد ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ یہ چاند گاڑی کس لفٹ کی مدد سے اتاری گئی اور دوبارہ کس لفٹ کی مدد سے چڑھائی گئی ؟ اور آخر میں ایک اور سوال کیا چاند گاڑی چاند پر ہی چھوڑ آئے یا ساتھ واپس بھی لائے ؟؟ اور اگر ساتھ واپس بھی لائے تو اس واپسی کا لفٹ کے ذریعے اوپر چڑھنے کا ڈرامہ ہمیں کیوں نہیں دکھلایا گیا ؟
سوال نمبر ۴۔
کہا جاتا ہے کہ نیل آرم سٹرونگ نے چاند پر سب سے پہلے قدم رکھا ۔۔ تو جناب وہ کون کون سے فوٹوگرافر پہلے ہی چاند پر اتر چکے تھے جو چاند گاڑی کو اترتے ہوئے اور خود نیل آرمسٹروم صاحب کو اترتے ہوئے ان کی مووی بنا رہے تھے؟؟
اور ایک نہایت چھوٹی سی چاند گاڑی بغیر اندھن کے صرف اسپرنگ کی مدد سے دوربارہ کیسے چاند پر سے اُڑ کر دنیا تک آ گئی ؟؟
اور چاند پر سے واپسی پر دوبارہ جب وہ اڑکر واپس آرہی تھی تب چاند پر بیٹھ کر کون کون سے فوٹوگرافر کیمرے کو گھوماتے ہوئے چاند گاڑی کی تصویر بنا رہے تھے ؟؟
اور پھر وہ فوٹو گرفر کون سی چاند گاڑی سے واپس آئے ؟؟
واپس آئے بھی یا وہیں رہ گئے ؟؟
سوال نمبر ۵۔
نیل آرم سٹرونگ صاحب کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے ۲۵ اگست ۲۰۱۲ کو ۔ امریکہ نے نیل آرم سٹرونگ صاحب کو ساری دنیا سے اور اپنے ملک کے میڈیا سے بھی کیوں چھپا کر رکھا؟؟
سوال نمبر۶۔
چاند پر کئی تصاویر ایسی لی گئیں جن کے دو دو سائے تھے ۔
کیا چاند پر دو سورج نکلتے ہیں؟؟ یا دو طرف سے سٹوڈیو لائیٹیں ڈلیں گئیں تھیں ؟
سوال نمبر ۷۔
چاند پر امریکہ نے جھنڈا گاڑا ۔۔
جو جھنڈو گاڑا گیا وہ لہرا رہا تھا ۔۔
چاند پر ہوا کہاں سے آئ ؟؟ جبکہ خلا میں ہوا نہیں چلتی ؟
سوال نمبر ۸۔
چونکہ ناسا دنیا کے سوتھ پول کے بارے میں بہت سارے سوالات کے جواب نہیں دے پا رہا تھا اور خاص طور پر موسم کے بدلنے کے نظام کو تو اس نے سب کو بتایا کہ زمیں گول نہیں بلکی بیضوی ہے انڈے کی ماندد ۔۔۔لیکن حیرت ہے تمام فرضی تصاویر گول ہی پیش کرنا شروع کر دی گئی ہیں ۔۔
بقول ناسا کے کشش زمین صرف ۶۲میل یعنی ۱۰۰ کلو میڑ کے بعد سے ختم ہو جاتی ہے اور خلا شروع ہوجاتی ہے ۔۔
اگر زمین ایک طرف سے سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ بھی ایک طرف سے ۱۰۰۰ میل اور ساتھ ساتھ دوسری طرف سے ۶۷۰۰۰ میل فی گھنٹے کی رفتار سے تو ایک سیدھا چلتا ہوا راکٹ کیسے اتنا بڑا جھٹکا کیسے سہہ سکتا ہے ؟؟
یعنی ۶۷۰۰۰میل گھنٹے پر گھومتی ہوئی زمین کے مدار سے باہر نکلنا .
بلکل ایسے جیسے کسی کو انتہائی تیز چلتی ہوئی کار سے باہر پھینکا جائے تو کیا وہ بڑے ہی آرام سے آگے چلتا رہے گا ؟
سوال نمبر ۹۔
۲۰ جولائی ۱۹۶۹ کو چاند پر جانے کی کہانی کی وجہ سے امریکہ سپر پاور بنا ۔
امریکہ یا پوری دنیا کیوں ہر سال بیس ۲۰ جوالائ کو چاند ڈے کیوں نہیں مناتی ؟
1 419
قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ
گدھی
گدھے کو ہی جنم دیتی ہے
ہمارے ہی اجداد،
جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،
ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،
پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.
یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،
اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اور
انگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..
ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.
تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،
اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.
انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔
جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.
تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،
بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،
دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.
پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کے خلاف انگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،
غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟
کوئی اور نہیں۔
میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔
انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اور
انگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیا
بدلے میں سانگھڑ میں ان کو جاگیریں ملیں
سرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،
انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..
سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔
بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*
پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،
مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا. ا.
انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،
اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا.
اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔
اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،
جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی لمحےکرواتا رہا،
کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا
یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟
انگریز کی بنائی رجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہے۔
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
"*المجرمین پاکستان*"
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔
مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔
یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔
ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔
مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔
اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔
لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔
ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔
ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔
منقول۔۔۔
1 419
*ازدواجی بدہضمی*
عورتوں کی ازدواجی بدہضمی اور اسکا علاج۔۔۔۔ بات بات پر طلاق کی رٹ لگانے والوں کیلئے سبق
عورت کو جب بد ہضمی ھو جائے اور وہ اپنے گھر اور شوہر کے ساتھ بدسلوکی شروع کر دے ،روز طلاق مانگے اور ایسا شوھر مجھ سے مشورہ کرے تو میں اس کو کہتا ھوں کہ طلاق تمہارے ھاتھ میں ھے ، کونسا ایکسپائری ڈیٹ لکھی ھے طلاق پر ، جب دل چاھا دے لیں گے ، اتنی جلدی کیا ھے ، بندہ بھی بغیر علاج مر جائے تو دل کو افسوس رھتا ھے کہ علاج نہیں کرایا شاید بچ جاتا ، تم اس کو تین ماہ کے لئے اس کے والدین کے گھر بیجھ دو ، یہ ابھی تک اپنے شئیرز کی قیمت شادی سے پہلے والی سمجھ رھی ھے ،،، اس کے بعد اگر ٹھیک نہ ھوئی تو پھر طلاق وھیں بھیج دینا ،،،،،،،،،،،
عورت جب والدین کے گھر جاتی ھے تو وہ گھر اب اس کا نہیں رھتا ،، وہ ایک ناپسندیدہ مہمان ھوتی ھے ، دو چار دن کے بعد اس کی بھاوجیں بولنا چھوڑ دیتی ھیں اور کوشش کرتی ھیں کہ گھر کا سارا کام وہ سنبھال لے تا کہ ماسی کو چھٹی کرائی جائے ،، اگر اس کے ساتھ بچہ ھو تو گھر کے بچے اسے صبح دوپہر شام دو دو جوتے ضرور مارتے ھیں اور ساتھ یہ طنز بھی کہ جب سے یہ آیا ھے ھمارے بچے پڑھ نہیں سکتے ،، باھر نکلتی ھے تو ھر عورت پوچھتی ھے ، بیٹا واپس کب جا رھی ھو ؟ دو چار دن ٹرخاتی ھے ،، مگر ایک ماہ کے بعد سوال کی نوعیت تبدیل ھو جاتی ھے ،، کیوں پتر کہیں تو پکی پکی تو نہیں آ گئ ؟ اور وہ تردیدیں کرتی پھرتی ھے کہ قسم سے ایسا نہیں ھے ،آج بھی اُن کا فون آیا تھا کہ جلد واپس آؤ ،،مگر میں سوچتی ھوں بچوں کے ساتھ روز روز تو نہیں آیا جاتا ناں ،،خیر دو ماہ میں لوگ اس خاتون کو دھو بھی دیتے ھیں اور استری کر کے اس کی ساری سلوٹیں نکال کر پہلے دن کی طرح کر دیتے ھیں ،، اب وہ بہانے بہانے سے فون کرنا شروع کرتی ھے ،منا آپ کو بہت یاد کرتا ھے ،کب سے بیمار ھے ، ابا ابا کرتا رھتا ھے آپ اس کو آ کر لے جائیں ،،، ابا منا لینے آتا ھے تو ساتھ منی بھی چلی آتی ھے ،،یوں لوگ گھر بسا دیتے ھیں۔
ازدواجیات سے ماخوذ
🔷🔷🔷🔷🔷
1 419
*ول پاور مضبوط کریں*
امریکہ کے ایک پچپن سالہ آدمی کو ایک کالا جادو کرنے والے نے بد دعا دی کہ تم جلد مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا. "*
" دن بدن آدمی کی حالت بگڑتی گئی یہاں تک کہ اس کا تیس کلو وزن کم ہو گیا. "
"اسے ہسپتال لے کر گئے, تمام رپورٹس کلئیر تھیں. جس ڈاکٹر کو اس کا کیس دیا گیا اس نے اس مریض کی بیوی سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا کچھ ایسا ہے جو اس سب کی وجہ ہے؟
اس نے بتایا کہ ایک کالے علم والے نے اسے موت کی بد دعا دی تھی۔ ڈاکٹر نے اگلے دن نرس سے ایک انجیکشن لانے کو کہا. اور مریض کو بتایا کہ میں اس کالا جادو کرنے والے سے ملا ہوں اسے پولیس کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے تم پر چھپکلی کے انڈے پھینکے تھے ان میں سے ایک چھپکلی تمہارے جسم میں ہے اور اندر سے تمہیں ختم کر رہی ہے. اس انجیکشن سے تمہیں الٹی آئے گی. اور وہ چھپکلی باہر آجائے گی."
" آدمی کو الٹی آئی اور ڈاکٹر نے آنکھ بچا کر اس میں چھپکلی ڈال دی. اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ آدمی ٹھیک ہوتا چلا گیا اور لمبی زندگی جیا. "
قصہ مختصر.......
" ہم بیماریوں سے نہیں مرتے ہم اپنے دماغ کے ہاتھوں مرتے ہیں, یہ ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے. اسی لیے ایک آدمی جب لیور کینسر سے مرا تو اس کے پوسٹمارٹم میں پتا چلا وہ ٹیومر تو بہت چھوٹا تھا, اور پھیل بھی نہیں رہا تھا. وہ آدمی اس لیے مرا کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کینسر سے جلد مر جائے گا. "
بات کرتے ہیں عادات کی....
فرض کریں...
مجھ سے صبح اٹھا نہیں جاتا. یعنی دیر تک سونے کی عادت....
" تو بتاؤ میں کیسے اپنی یہ عادت بدلوں. "
کچھ کہیں گے کہ " کچھ دن جلدی اٹھنے کی کوشش کریں, عادت بن جائے گی. "
" کتنے دن؟ "
" کچھ لوگ کہتے ہیں اکیس دن اور کچھ کے مطابق ساٹھ دن لگتے ہیں عادت بدلنے میں. "
" اور مجھے لگتا ہے ہم ایک لمحے میں اپنی عادت بدل سکتے ہیں. "
" اگر ول پاور اسٹرانگ ہو تو ہم آج ہی اپنی عادت بدل سکتے ہیں."
" ہم اپنی ول پاور اسٹرانگ کرتے ہیں. کرنا ہے تو بس کرنا ہے.
🔷🔷🔷🔷🔷
1 419
*"بابِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا کا جلایا جانا"*
*"عٙلّامہ باقر مجلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:-* کہ *(مٙیں نے کتابِ سلیم ابنِ قیس میں یہ واقعہ اِس طرح دیکھا ہے)* کہ *سُلمان اور عبداللّٰه ابنِ عباسؓ کا بیان ہے:-* کہ *(جِس دن جنابِ رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم نے رحلت فرمائی)*،اُسی دن *(ابھی آپؐ کو دفن بھی نہ کیا تھا سوائے چند کے سب لوگوں نے بیعت توڑ دی اور مُرتد ہوگئے)*،اور *(مخالفت پر کمربستہ نظر آنے لگے)*۔اُس وقت *{حضرتِ امامِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السّلام تجہیز و تکفین رسولؐ میں مشغول تھے}* پِھر وہ *(اُس کے بعد حسبِ وصیت رسولؐ قُرآنِ مجید کی جمع و ترتیب میں مصروف ہو گئے)*۔اُن لوگوں سے *(اُنہیں کوئی سروکار نہ)* تھا۔ *ایک مُشیر نے ابوبکر سے کہا:-* کہ اب *(تمام لوگ تمہاری بیعت کر چکے ہیں سوائے اُس شخص یعنی حضرتِ علی علیہ السّلام کے)*۔ اور *(اُس کے گھر والوں)* کے،لہٰذا اُس کے پاس *(کسی کو بھیجو اور اُسے بھی بلاؤ)*۔تو *(ابوبکر نے اُن کے پاس قنفذ نامی ملعون ایک شخص کو بھیجا)* اور *کہا:- اے قنفذ لعین!* تم *{حضرتِ علی علیہ السّلام کے پاس جاؤ اور کہو کہ چلو تمہیں خلیفہ رسولؐ طلب کرتے}* ہیں۔ *(قنفذ لعین آپؑ کو بُلانے کے لیے کئی بار آیا۔مگر حضرتِ علی علیہ السّلام جانے سے اِنکار کرتے رہے)*۔ اُنؑ کے *اِنکار پر ابوبکر کے اُس مُشیر کو غصّہ آیا اور اُس نے خالد ابنِ ولید ملعون اور قنفذ لعین کو حُکم دیا:-* کہ تُم *(لوگ لکڑیاں اور آگ لیکر میرے ساتھ چلو)*۔چنانچہ یہ سب *(لوگ آگ اور لکڑیاں لیے ہوئے حضرتِ علی علی علیہ السّلام اور حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا پر پُہنچے)*۔اُس وقت *{حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا اپنے دروازے کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں}*۔آپؑ کے *(سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی)* اور *{رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کی وفات کے غٙم میں بالکل لاغر و کمزور ہو رہی تھیں}*۔وہ *مُشیر یعنی عمر ابنِ الخطاب،آگے بڑھا اور اُس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور آواز دی:- اے علیؑ!* دروازہ کھولو۔تو *حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه نے کہا:- اے عمر!* ہمیں *(اِسی حال میں چھوڑ دے اِس لیے کہ ہمیں تو رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کا غٙم ہی بہت کافی)* ہے۔تو *عمر نے کہا:-* کہ *(دروازہ کُھول دو ورنہ میں تمہارے گھر میں آگ لگائے دیتا ہوں)*۔تو *حضرتِ فاطمتہُ الزہرا سلام اللّٰه علیہا نے فرمایا:- اے عمر!* کیا *(تم خُدا سے نہیں ڈرتے اور میرے گھر میں زبردستی داخل ہونا چاہتے ہو)؟*۔اِس پر *(عمر نے آگ اور لکڑیاں لیکر دروازے کو جِلا دیا اور دھکّا دے کر کُھول لیا)*۔تو *جنابِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه علیہا سامنے تھیں اِنہوں نے فریاد کی:- اے باباؐ،یا رسول اللّٰهؐ!* یہ سُن کر *(عمر نے اپنی تلوار مع نیام کے جنابِ سیّدہ فاطمتہُ الزپراء سلام اللّٰه علیہا کے پہلو پر ماری)*۔اِنہوںؑ نے *(ایک چیخ ماری)*۔ پِھر *(اُس نے اُن کے ہاتھ پر ضرب لگائی)*۔تو *جنابِ سیّدہ فاطمتہُ الزپراء سلام اللّٰه علیہا پِھر چیخنے لگیں:- اے باباؐ!* تو *(چیخوں کی آواز سُن کر حضرتِ علی ابن ابی طالب علیہ السّلام فوراً دُوڑے اور عمر کا گربیان پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا،جس کی تاب نہ لا کر وہ زمین پر گِر گیا۔ آپؑ نے اُس کی ناک اور گردن پر ضربیں لگائیں اور اُس کے قتل کا اِرادہ کیا)*،معاً *{حضرتِ رسول اللّٰه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کی وصیت یاد ائی کی آنحضرتؐ نے اِس موقع پر صبر کرنے کی تاکید فرمائی تھی}*۔تو *حضرتِ علی علیہ السّلام نے فرمایا:- اے عمر ابنِ خطاب!* مٙیں *(اُس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جِس نے حضرتِ محمدِ مصطفیٰ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٙلہِ وٙسَلَّم کو نبی بنا کر عزت بخشی)* اگر اللّٰه نے *(مجھؑ سے پہلے ہی سے عہد نہ لے لیا ہوتا تو تُم لوگ میرے گھر میں داخل ہی نہیں ہو سکتے تھے)*۔تو *(اتنے میں عمر نے اپنے دُوسرے ساتھیوں کی مدد سے حضرتِ علی علیہ السّلام کے گلے میں رسی ڈال دی)* اور *(اُنہیں کھینچ کر باہر لے گئے)*۔ یہ دیکھ کہ *{حضرتِ فاطمتہُ الزہراء سلام اللّٰه نے مداخلت کی لیکن قنفذ ملعون نے آپؑ کو ایسا تازمانہ مارا جس کا نشان مرتے دم تک باقی رہا}*۔جب *(آپؑ نے دروازہ کے پیچھے پناہ لی تو اُس نے دروازہ زور سے آپؑ کے اُوپر دبا دیا جس سے آپؑ کی پسلی ٹوٹ گئی اور جُو بچہ آپؑ کے شِکم میں تھا وہ ساقط ہو گیا)*۔اُس کے بعد *(آپؑ مسلسل بیمار رہیں یہاں تک کہ آپؑ نے اُسی عالم میں وفات پائی)*۔اللّٰه اُس *(شہیدہ پر ہمیشہ ہمیشہ اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ظالموں پر لعنت ہو آمین
*اٙللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجِّلْ فَرَجَهُمْ۔*
*📚حوالہ کُتب:- بِحٙارالانوار(بارہ جلدیں)،جِلد3،صفحہ206 تا 207،مؤلف رئیس المحدّثین عٙلّامہ محمد باقر مجلسی رحمتہُ اللّٰه علیہ۔*
🔷🔷🔷🔷🔷
1 419
*ازدواجی بدہضمی*
عورتوں کی ازدواجی بدہضمی اور اسکا علاج۔۔۔۔ بات بات پر طلاق کی رٹ لگانے والوں کیلئے سبق
عورت کو جب بد ہضمی ھو جائے اور وہ اپنے گھر اور شوہر کے ساتھ بدسلوکی شروع کر دے ،روز طلاق مانگے اور ایسا شوھر مجھ سے مشورہ کرے تو میں اس کو کہتا ھوں کہ طلاق تمہارے ھاتھ میں ھے ، کونسا ایکسپائری ڈیٹ لکھی ھے طلاق پر ، جب دل چاھا دے لیں گے ، اتنی جلدی کیا ھے ، بندہ بھی بغیر علاج مر جائے تو دل کو افسوس رھتا ھے کہ علاج نہیں کرایا شاید بچ جاتا ، تم اس کو تین ماہ کے لئے اس کے والدین کے گھر بیجھ دو ، یہ ابھی تک اپنے شئیرز کی قیمت شادی سے پہلے والی سمجھ رھی ھے ،،، اس کے بعد اگر ٹھیک نہ ھوئی تو پھر طلاق وھیں بھیج دینا ،،،،،،،،،،،
عورت جب والدین کے گھر جاتی ھے تو وہ گھر اب اس کا نہیں رھتا ،، وہ ایک ناپسندیدہ مہمان ھوتی ھے ، دو چار دن کے بعد اس کی بھاوجیں بولنا چھوڑ دیتی ھیں اور کوشش کرتی ھیں کہ گھر کا سارا کام وہ سنبھال لے تا کہ ماسی کو چھٹی کرائی جائے ،، اگر اس کے ساتھ بچہ ھو تو گھر کے بچے اسے صبح دوپہر شام دو دو جوتے ضرور مارتے ھیں اور ساتھ یہ طنز بھی کہ جب سے یہ آیا ھے ھمارے بچے پڑھ نہیں سکتے ،، باھر نکلتی ھے تو ھر عورت پوچھتی ھے ، بیٹا واپس کب جا رھی ھو ؟ دو چار دن ٹرخاتی ھے ،، مگر ایک ماہ کے بعد سوال کی نوعیت تبدیل ھو جاتی ھے ،، کیوں پتر کہیں تو پکی پکی تو نہیں آ گئ ؟ اور وہ تردیدیں کرتی پھرتی ھے کہ قسم سے ایسا نہیں ھے ،آج بھی اُن کا فون آیا تھا کہ جلد واپس آؤ ،،مگر میں سوچتی ھوں بچوں کے ساتھ روز روز تو نہیں آیا جاتا ناں ،،خیر دو ماہ میں لوگ اس خاتون کو دھو بھی دیتے ھیں اور استری کر کے اس کی ساری سلوٹیں نکال کر پہلے دن کی طرح کر دیتے ھیں ،، اب وہ بہانے بہانے سے فون کرنا شروع کرتی ھے ،منا آپ کو بہت یاد کرتا ھے ،کب سے بیمار ھے ، ابا ابا کرتا رھتا ھے آپ اس کو آ کر لے جائیں ،،، ابا منا لینے آتا ھے تو ساتھ منی بھی چلی آتی ھے ،،یوں لوگ گھر بسا دیتے ھیں۔
ازدواجیات سے ماخوذ
🔷🔷🔷🔷🔷
