en
Feedback
ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Open in Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Show more
1 419
Subscribers
No data24 hours
-17 days
-1330 days
Posts Archive
*ول پاور مضبوط کریں* امریکہ کے ایک پچپن سالہ آدمی کو ایک کالا جادو کرنے والے نے بد دعا دی کہ تم جلد مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا. "* " دن بدن آدمی کی حالت بگڑتی گئی یہاں تک کہ اس کا تیس کلو وزن کم ہو گیا. " "اسے ہسپتال لے کر گئے, تمام رپورٹس کلئیر تھیں. جس ڈاکٹر کو اس کا کیس دیا گیا اس نے اس مریض کی بیوی سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا کچھ ایسا ہے جو اس سب کی وجہ ہے؟ اس نے بتایا کہ ایک کالے علم والے نے اسے موت کی بد دعا دی تھی۔ ڈاکٹر نے اگلے دن نرس سے ایک انجیکشن لانے کو کہا. اور مریض کو بتایا کہ میں اس کالا جادو کرنے والے سے ملا ہوں اسے پولیس کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے تم پر چھپکلی کے انڈے پھینکے تھے ان میں سے ایک چھپکلی تمہارے جسم میں ہے اور اندر سے تمہیں ختم کر رہی ہے. اس انجیکشن سے تمہیں الٹی آئے گی. اور وہ چھپکلی باہر آجائے گی." " آدمی کو الٹی آئی اور ڈاکٹر نے آنکھ بچا کر اس میں چھپکلی ڈال دی. اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ آدمی ٹھیک ہوتا چلا گیا اور لمبی زندگی جیا. " قصہ مختصر....... " ہم بیماریوں سے نہیں مرتے ہم اپنے دماغ کے ہاتھوں مرتے ہیں, یہ ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے. اسی لیے ایک آدمی جب لیور کینسر سے مرا تو اس کے پوسٹمارٹم میں پتا چلا وہ ٹیومر تو بہت چھوٹا تھا, اور پھیل بھی نہیں رہا تھا. وہ آدمی اس لیے مرا کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کینسر سے جلد مر جائے گا. " بات کرتے ہیں عادات کی.... فرض کریں... مجھ سے صبح اٹھا نہیں جاتا. یعنی دیر تک سونے کی عادت.... " تو بتاؤ میں کیسے اپنی یہ عادت بدلوں. " کچھ کہیں گے کہ " کچھ دن جلدی اٹھنے کی کوشش کریں, عادت بن جائے گی. " " کتنے دن؟ " " کچھ لوگ کہتے ہیں اکیس دن اور کچھ کے مطابق ساٹھ دن لگتے ہیں عادت بدلنے میں. " " اور مجھے لگتا ہے ہم ایک لمحے میں اپنی عادت بدل سکتے ہیں. " " اگر ول پاور اسٹرانگ ہو تو ہم آج ہی اپنی عادت بدل سکتے ہیں." " ہم اپنی ول پاور اسٹرانگ کرتے ہیں. کرنا ہے تو بس کرنا ہے. 🔷🔷🔷🔷🔷

مجلسِ عزا پڑھنے کے عوض لاکھوں روپے لینے والوں کی مذمت – قرآن و حدیث و روایات کی روشنی میں اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کی مجالسِ عزا ایک عظیم عبادت، تبلیغِ دین اور ذکرِ مظلومیتِ امام حسین علیہ السلام ہے۔ یہ وہ مقدس پلیٹ فارم ہے جہاں مومنین کے دلوں کو بیدار کیا جاتا ہے، گناہوں سے توبہ کی دعوت دی جاتی ہے اور دینِ اسلام کی اصل روح زندہ رکھی جاتی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج بعض لوگ اس مقدس خدمت کو دنیاوی مال و دولت کمانے کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں، اور مجلسِ عزا پڑھنے کے عوض لاکھوں روپے طلب کرتے ہیں۔ یہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں سخت مذموم اور خطرناک ہے۔ --- قرآن کی روشنی میں 1. دین کو دنیا کے بدلے بیچنا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: > “وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا” (البقرہ: 41) “میری آیات کو معمولی قیمت پر نہ بیچو۔” یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین کی تعلیمات یا مقدس امور کو دنیاوی مال و زر کے بدلے فروخت کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ مجلسِ عزا بھی اللہ کی آیات اور دین کی تبلیغ کا حصہ ہے، جسے دنیاوی منافع کے لیے بیچنا ناجائز ہے۔ 2. عبادت کا مقصد صرف اللہ کی رضا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: > “وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ” (البینہ: 5) “انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خالص اللہ کے لیے دین کو انجام دیں۔” جب مجلس پڑھنے کا مقصد شہرت، مال یا دنیاوی مقام بن جائے تو اخلاص ختم ہو جاتا ہے، اور ایسا عمل عند اللہ مقبول نہیں۔ --- احادیث کی روشنی میں 1. رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا: > “من تعلم علماً مما يبتغى به وجه الله لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضاً من الدنيا لم يجد عرف الجنة يوم القيامة” (سنن ابی داؤد، حدیث 3664) “جو شخص ایسا علم سیکھے جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہے لیکن وہ دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اسے سیکھے، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔” یہ حدیث براہِ راست ان لوگوں پر صادق آتی ہے جو دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ 2. امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: > “من طلب العلم ليباهي به العلماء، أو ليماري به السفهاء، أو ليصرف وجوه الناس إليه، فليتبوأ مقعده من النار” (الکافی، ج۱، ص ۴۷) “جو علم اس لیے حاصل کرے کہ علما پر فخر کرے، یا جاہلوں سے جھگڑا کرے، یا لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے، تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔” یہ روایت بتاتی ہے کہ دین کی تبلیغ شہرت یا مال کمانے کے لیے ہو تو وہ عمل باعثِ جہنم ہے۔ --- اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: > “إنما خرجت لطلب الإصلاح في أمة جدي” “میں صرف اصلاحِ امت کے لیے نکلا ہوں۔” مجالسِ حسینؑ اصلاحِ امت کے لیے ہیں، نہ کہ کاروبار یا دنیاوی تجارت کے لیے۔ جو اسے تجارت بنائے وہ امام حسینؑ کے مقصد کو پامال کرتا ہے۔ امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں وعاظ کے بارے میں فرمایا: > “وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ لَعَبْداً وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى نَفْسِهِ جَائِراً عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ” “اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جسے اللہ نے اس کے نفس پر چھوڑ دیا اور وہ دین کے راستے سے ہٹ گیا۔” (نہج البلاغہ، خطبہ 17) وہ خطباء اور واعظین جو دین کو اپنی خواہشات اور دنیاوی کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، اس وعید کے مصداق ہیں۔ --- نتیجہ مجالسِ عزا پڑھنے والے اگر اخلاص کے ساتھ، صرف ثواب اور دین کی تبلیغ کی نیت سے خدمت کریں تو یہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ لیکن اگر کوئی لاکھوں روپے طلب کرے، دنیاوی مقام بنائے اور دین کو تجارت کا ذریعہ بنائے تو وہ اللہ، رسول ﷺ اور اہل بیت علیہم السلام کی نظر میں شدید مذمت کے قابل ہے۔ لہٰذا مومنین کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کو پہچانیں جو دین کو کاروبار بنا بیٹھے ہیں، اور صرف ان علما و ذاکرین کی حمایت کریں جو اخلاص کے ساتھ ذکرِ حسین علیہ السلام کو جاری رکھتے ہیں۔ ---

■ ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے پوسٹس لنکس۔ پوسٹ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔ 🔷 ماہ ربیع الاول https://t.me/islamwitheman/4984 🌸 اعمال پہلی ربیع الاول https://t.me/islamwitheman/2769 🔥 شہادت محسن ابن علی (یکم ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/1992 🔥 محسن ابن علی کی شہادت https://t.me/islamwitheman/2793 🌷 رحلت بیبی ام رباب (6 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2784 🌷 ام رباب زوجہ امام حسین https://t.me/islamwitheman/2783 🌹 تعارف امام حسن عسکری https://t.me/islamwitheman/2000 🔶 شھادت امام حسن عسکری (8 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2002 🔶 زیارت امام حسن عسکری https://t.me/islamwitheman/2003 🌹 فرامین امام حسن عسکری https://t.me/islamwitheman/2004 🌹 حیاتنامہ امام حسن عسکری https://t.me/islamwitheman/2786 🌹 عید شجاع، عید زھراء (9 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2790 🌹 عید شجاع، عید زھراء https://t.me/islamwitheman/2013 🌹 شادی مبارک کے اخلاقی نکات (10 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2015 🌺 ہفتہ وحدت 12 تا 17 ربیع الاول https://t.me/islamwitheman/2030 🤝 12 سے 17 ربیع الاول ہفتۂ وحدت https://t.me/islamwitheman/2796 ⏮ یزید ابن معاویہ کا واصل جہنم ہونا (14 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2029 🌹 شجرہ نسب حضرت محمد https://t.me/islamwitheman/2019 🌹 مختصر سوانح حیات (17 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2020 🔷 بوقت ولادت آثار نبوت https://t.me/islamwitheman/2021 🔷 تجارت اور بحیرا سے ملاقات https://t.me/islamwitheman/2022 🔷 کردار کی بلندی اور شادی https://t.me/islamwitheman/2023 🌹 رسولخدا قرآن کی روشنی https://t.me/islamwitheman/2762 🌹 پیغمبر اکرم کی منفرد خصوصیات https://t.me/islamwitheman/5024 🔷 رسول اکرم کی جائیداد https://t.me/islamwitheman/4948 🌹 معجزات جسمِ اقدس رسولؐ https://t.me/islamwitheman/5358 🔷 اولوالعزم انبیاء https://t.me/islamwitheman/119 🔷 انسان وجود انبیاء کا محتاج ہے https://t.me/islamwitheman/1081 🔷 انبیاء کرام صرف مشرق وسطی میں آئے؟ http://t.me/islamwitheman/1091 🍀 انسان کی تدریجا فکری تربیت http://t.me/islamwitheman/1148 🍃 کیا دنیا و آخرت میں تضاد ہے؟ http://t.me/islamwitheman/1152 🌿 دیگر مناطق میں انبیاء http://t.me/islamwitheman/1151 🔷 امام صادق کا مختصر تعارف (17 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2031 🔵 امام صادق اور ہندی طبیب 1 https://t.me/islamwitheman/2032 🌹 امام جعفر صادق کا جاہ و جلال http://t.me/islamwitheman/2381 🔷 زیارتنامہ امام جعفر صادق http://t.me/islamwitheman/2382 🔷 امام صادق کی ضمانت http://t.me/islamwitheman/2386 🌹 ام کلثوم بنت امام علی (18 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2801 🌹 فدک، شہزادیؑ کیلئے تحفہ (22 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/2804 🌹 مختصر واقعہ فدک https://t.me/islamwitheman/2805 🌹 جاگیر فدک کا مختصر احوال https://t.me/islamwitheman/2806 🌹 فدک پر حضرت فاطمہؑ کا دعوائے ملکیت https://t.me/islamwitheman/2810 🌹 مقدمہ فدک https://t.me/islamwitheman/2811 🌹 خطبہ فدکیہ اور ناراضگی https://t.me/islamwitheman/2814 🌹 فدک سے متعلق موقفات https://t.me/islamwitheman/2815 🌹 خطبہ فدک https://t.me/islamwitheman/2816 🌹 حضرت زہراءؑ کے بارے گریۂ پیغمبرؐ https://t.me/islamwitheman/2820 🌹 تاریخ حضرت ابوطالب (26 ربیع الاول) https://t.me/islamwitheman/3105 🌹 حیاتنامہ حضرت ابوطالب https://t.me/islamwitheman/3626 🌹 تاریخ حضرت ابوطالب https://t.me/islamwitheman/3629 🌹 جناب ابوطالب علیہ السلام https://t.me/islamwitheman/3630 🌹 زیارتنامہ حضرت ابوطالب http://t.me/islamwitheman/2402 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*نوجوان لڑکیوں کے نام!!!* ایک عورت ایک دکان میں آئی، اس کے کپڑے اس کے جسم کو بہت نمایاں کر رہے تھے۔ دکان کا مالک، جو ایک عقلمند بوڑھا شخص تھا، اس نے اس عورت کو دیکھا، اسے بیٹھنے کو کہا، سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا اور ایک ایسی بات کہی جو وہ ساری زندگی نہیں بھولے گی۔ "بیٹی! دنیا میں جو کچھ بھی اللہ نے قیمتی بنایا ہے، اسے چھپا کر رکھا ہے اور اسے پانا آسان نہیں۔" 👈 مثال کے طور پر: 1. ہیرے کہاں ملتے ہیں؟ زمین کے اندر، مٹی میں چھپے ہوئے اور حفاظت کے ساتھ۔ 2. موتی کہاں ہوتے ہیں؟ گہرے سمندر کے اندر، خوبصورت صدف میں چھپے اور محفوظ۔ 3. سونا کہاں پایا جاتا ہے؟ زمین کے نیچے، پتھروں کی تہوں میں ڈھکا ہوا، اور وہاں تک پہنچنے کے لیے سخت محنت اور گہری کھدائی کرنا پڑتی ہے۔ پھر اس نے لڑکی کی طرف دیکھا اور کہا: "تمہارا جسم اللہ کے نزدیک مقدس اور انمول ہے۔" تم سونے، ہیروں اور موتیوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہو، اس لیے تمہیں بھی ڈھکا ہونا چاہیے۔ پھر اس نے مزید کہا: "اگر تم اپنے قیمتی خزانے — جیسے سونا، ہیرے اور موتی — زمین کے اندر محفوظ رکھو گی، تو ایک باوقار 'مائننگ کمپنی' (شوہر) جو مناسب مشینری رکھتی ہے (اخلاق و کردار)، وہ سالوں محنت کرے گی تاکہ تمہاری قدر سمجھے اور تمہیں حاصل کرے۔ 🌷سب سے پہلے، وہ تمہاری حکومت (خاندان) سے اجازت لے گا۔ 🌷پھر باقاعدہ معاہدہ کرے گا (نکاح), 🌷اور پھر تمہیں نرمی سے سنوارے گا اور تمہاری قدر کرے گا (ازدواجی زندگی)۔ لیکن اگر تم اپنے خزانے (جسم) کو زمین کی سطح پر چھوڑ دو گی (سب کے لیے ظاہر)، تو ہر طرح کے غیر قانونی کان کن (بدنیت لوگ) آئیں گے، تمہیں استعمال کریں گے، تمہارے قیمتی خزانے لوٹ کر چلے جائیں گے اور تمہیں خالی چھوڑ دیں گے۔ 🔘 خواتین! آپ بہت قیمتی ہو!! یاد رکھو — وقار ہمیشہ فضول نمائش سے بہتر ہوتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*بھکاری* ٹرین میں نوجوان بھکاری بھیک مانگتے مانگتے ایک سیٹھ صاحب کے سامنے پہنچ گیا. بھکاری نے سیٹھ کا ٹپ ٹاپ دیکھا تو اُمید ہوئی اچھی بھیک ملے گی اس لئے بہت دردمندی سے بھیک مانگی. سیٹھ نے لیکن کہا میں تمہیں بھیک تو دے دوں گا تم مجھے کیا دو گے.؟ بھکاری نے کہا میرے پاس ہے ہی کیا.؟ میں آپ کو کیا دے سکتا ہوں؟ سیٹھ نے کہا یہ میرا مسئلہ نہیں تم نے سوچنا ہے بھیک کے بدلے مجھے کیا دو گے.؟ سیٹھ کا سٹیشن آگیا. وہ تو اتر گیا لیکن بھکاری سوچ میں پڑ گیا. بھیک بہت کم ملتی ہے گزارا مشکل ہے. میں آخر بھیک کے بدلے کیا دے سکتا ہوں. آخری سٹیشن کے پاس بہت جوہڑ تھے. وہاں جنگلی پھول لگے تھے. اچانک اسے آئیڈیا آیا میں بھیک کے بدلے پھول دوں گا. اگلے دن سے اس کی آمدنی بڑھ گئی. لیکن آہستہ آہستہ جنگلی پھول ختم ہونے لگے. ایک دن دوبارہ وہی سیٹھ بھکاری کو ٹرین میں نظر آیا. بھکاری سیدھا سیٹھ کے پاس گیا اور اسے پھول پیش کر کے بھیک مانگی. سیٹھ نے ہنس کر پیسے دئے اور کہا اب تم بزنس سیکھ گئے ہو. کائنات میں سارا نظام لین دین پر کھڑا ہے. تم نے کچھ لینا ہے تو کچھ دینا سیکھ لو. آخری سٹیشن پر اُس دن جب یہ بھکاری اترا اور بچے کھچے چند جنگلی پھول دیکھے تو سیٹھ کی بات یاد آگئی " تم بزنس مین ہو." اس نے سوچا ضروری تو نہیں کہ جنگلی پھول ہی بیچے جائیں. میں بزنس مین ہوں کچھ ایسا کیوں نہ فروخت کروں جس کیلئے مجھے مانگنا نہ پڑے. اکثریت نوجوان کائنات کے اس نظام کو سمجھنے میں دیر کر دیتے ہیں. وہ شروعات میں بھکاری کی طرح مانگنا تو سیکھ لیتے ہیں کچھ دینا نہیں سیکھ پاتے. لیکن اس کا دوسرا درجہ سیکھنے میں زیادہ دیر لگ جاتی ہے. کیونکہ وہ ایک عرصے تک خود کو کچھ سمجھتے ہی نہیں. جب تک ان کو سمجھ آتی ہے کہ وہ کوئی بھکاری نہیں ایک کامیاب انسان ہیں تب تک کافی عمر وہ ضائع کر چکے ہوتے ہیں. 🔷🔷🔷🔷🔷

روزی کے نزول کا انتظام صدقہ کے ذریعے سے کرو۔
روزی کے نزول کا انتظام صدقہ کے ذریعے سے کرو۔

جو شخص تمھارا محتاج ہے اس پر شفقت کرنا تم پر واجب ہے۔
جو شخص تمھارا محتاج ہے اس پر شفقت کرنا تم پر واجب ہے۔

ان تمام سبز رنگ والے ممالک کو اس پیلے رنگ والے ملک سے خطرہ ہے
ان تمام سبز رنگ والے ممالک کو اس پیلے رنگ والے ملک سے خطرہ ہے

یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا 125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئے ہیں لیکن دیتے صرف 48 فیصد ہیں۔ لیکن قیمت 125 فیصدی کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے۔ List of IPP (Independent Power Producers) 1. ACT Wind (Pvt) Limited 2. AJ Power (Private) Ltd. 3. Almoiz Industries Limited 4. Altern Energy Ltd. 5. Appolo Solar Development Pakistan Limited 6. Artistic Energy (Pvt.) Limited 7. Atlas Power Limited 8. Attock Gen Limited 9. Azad Jammu & Kashmir Power Development Organzation 10. Best Green Energy Pakistan Limited 11. Central Power Generation Company Limited-(Genco-2) 12. Chanar Energy Limited 13. China Power Hub Generation company (Pvt.) Ltd 14. Chiniot Power Limited 15. Crest Energy Pakistan Limited 16. Davis Energen (Pvt) Limited 17. Engro Powergen Qadirpur Limited 18. Engro Powergen Thar (Pvt) Limited 19. F.D QESCO (Collector of Customs Quetta) 20. Fatima Energy Limited 21. Fauji Kabirwala Power Company Ltd. 22. FFC Energy Limited 23. Foundation Power Company Daharki Ltd. 24. Foundation Wind Energy-I Limited 25. Foundation Wind Energy-II (Pvt.) Limited 26. Gul Ahmed Wind Power Ltd 27. Gulf Powergen (Pvt) Ltd 28. Habibullah Coastal Power Co. (Pvt.) Ltd. 29. Halmore Power Generation Company Limited 30. Hamza Sugar Mills Limited 31. Harapa Solar (Pvt) Limited 32. Hawa Energy (Private) Limited 33. Huaneng Shandong Ruyi Energy (Pvt) Ltd 34. Hydrochina Dawood Power (Private) Limited 35. Jamshoro Power Company Limited-(Genco-1) 36. Japan Power Generation Ltd. 37. JDW Sugar Mills Ltd. 38. Jhimpir Power (Private) Limited 39. Karachi Nucelar Power Plants 40. Kohinoor Energy Ltd. 41. Kot Addu Power Company Ltd. 42. Lakhra Power Generation Company Limited-(Genco-4) 43. Lalpir Power (Private) Limited 44. Laraib Energy Limited 45. Liberty Power Tech Limited 46. Master Wind Energy Limited 47. Metro Power Company Ltd 48. Mira Power Limited 49. Narowal Energy Limited 50. National Power Parks Management Company Private Limited 51. Neelum Jhelum Hydropower Company (Pvt.) Ltd. 52. Nishat Chunian Power Limited 53. Nishat Power Limited 54. Northern Power Generation Company Limited-(Genco-3) 55. Orient Power Company (Private) Limited 56. PAEC Chashma Nuclear Power Plant. 57. Pak Gen Power Limited 58. Pakhtunkhwa Energy Development Organization (Malakand-III) 59. Pakhtunkhwa Energy Development Organzation (PEDO) 60. Pakistan State Oil 61Port Qasim Electric Power Company (Pvt.) Limited یہ تحریر لاکھوں تولہ سونا اور کروڑوں ہیروں سے بھی قیمتی ہے۔۔۔ اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں 78 سالوں کے بعد بھی اگر عوام کو شعور عقل نہ آسکی تو پھر اللہ ہی حافظ ہے اس قوم کا۔۔چند لوگ پوری قوم کو فل ذلیل کر رہےہیں _

زخمی اور لہو لہان پاکستان ۔۔ ڈالر کی کہانی پاکستانی تاریخ کی زبانی: _1947 تا 2024_ In 1947 1 USD was 3.31 PKR In 1948 1 USD was 3.31 PKR In 1949 1 USD was 3.31 PKR In 1950 1 USD was 3.31 PKR In 1951 1 USD was 3.31 PKR In 1952 1 USD was 3.31 PKR In 1953 1 USD was 3.31 PKR In 1954 1 USD was 3.31 PKR In 1955 1 USD was 3.91 PKR In 1956 1 USD was 4.76 PKR In 1957 1 USD was 4.76 PKR In 1958 1 USD was 4.76 PKR In 1959 1 USD was 4.76 PKR In 1960 1 USD was 4.76 PKR In 1961 1 USD was 4.76 PKR In 1962 1 USD was 4.76 PKR In 1961 1 USD was 4.76 PKR In 1962 1 USD was 4.76 PKR In 1963 1 USD was 4.76 PKR In 1964 1 USD was 4.76 PKR In 1965 1 USD was 4.76 PKR In 1966 1 USD was 4.76 PKR In 1967 1 USD was 4.76 PKR In 1968 1 USD was 4.76 PKR In 1969 1 USD was 4.76 PKR In 1970 1 USD was 4.76 PKR In 1971 1 USD was 4.76 PKR *پھر اُدھر تم اِدھر ھم شروع ہوا:* In 1972 1 USD was 11.01 PKR In 1973 1 USD was 09.99 PKR In 1974 1 USD was 09.99 PKR In 1975 1 USD was 09.99 PKR In 1976 1 USD was 09.99 PKR In 1977 1 USD was 09.99 PKR In 1978 1 USD was. 09.99 PKR In 1979 1 USD was 09.99 PKR In 1980 1 USD = 09.99 PKR In 1981 1 USD = 09.99 PKR *پھر کلاشنکوف اور ھیروئن کے خلاف جہاد شروع ہوا:* In 1982 1 USD = 11.85 PKR In 1983 1 USD = 13.12 PKR In 1984 1 USD = 14.05 PKR In 1985 1 USD = 15.93 PKR In 1986 1 USD = 16.65 PKR In 1987 1 USD = 17.4 PKR In 1988 1 USD = 18 PKR *پھر سیاسی شعور بڑھا اور روٹی کپڑا اور مکان دینے شروع ہوئے:* In 1989 1 USD = 20.54PKR In 1990 1 USD = 21.71 PKR In 1991 1 USD = 23.80PKR In 1992 1 USD = 25.08 PKR *پھر ھم موٹر ویز بنانے لگے تاکہ پاکستان دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگا:* In 1993 1 USD = 28.11 PKR In 1994 1 USD = 30.57 PKR In 1995 1 USD = 31.64 PKR In 1996 1 USD = 36.08 PKR In 1997 1 USD = 41.11 PKR *پھر کرپشن بڑھنے لگی اور ملک کو مضبوط ہاتھوں نے اپنے ہاتھوں میں لیا:* In 1998 1 USD = 45.05 PKR In 1999 1 USD = 51.90 PKR In 2000 1 USD = 51.90 PKR In 2001 1 USD = 63.50 PKR In 2002 1 USD = 60.58 PKR In 2003 1 USD = 57.75 PKR In 2004 1 USD = 57.80 PKR In 2005 1 USD = 59.79 PKR In 2006 1 USD = 60.43 PKR In 2007 1 USD = 60.83 PKR *پھر پاکستان کھپنے لگا:* In 2008 1 USD = 81.18 PKR In 2009 1 USD = 84.10 PKR In 2010 1 USD = 85.75 PKR In 2011 1 USD = 88.60PKR In 2012 1 USD = 96.50 PKR *پھر پاکستان کو بچانے والے جدوجھد کرنے کے لیئے آگے آئے:* In 2013 1 USD = 107.29 PKR In 2014 1 USD = 103.13 PKR In 2015 1 USD = 105.20 PKR In 2016 1 USD = 104.60 PKR In 2017 1 USD = 110.01 PKR *اس کے بعد نیا پاکستان بنانے والے آگئے:* In 2018 1 USD = 139.21 PKR In 2019 1 USD = 163.75 PKR In 2020 1 USD = 168.88 PKR In 2021 1 USD = 179.16 PKR *اور پھر 13 پارٹیوں کا اتحاد شروع ہوا:* In 2022 1 USD = 240.00 PKR In 2023 1 USD = 286.00 PKR ln 2024. . . 1 USD = 277.00 PKR اور ہم ہر بار تالیاں بجاتے رہے. صرف ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔ ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ ان کے مالک کون ہے؟ تو دل تھام لیجیے 28 فیصد شریف خاندان 16 فیصد ن لیگی رہنما 16 فیصد زرداری 8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما 10 فیصد اسٹبلشمنٹ 8 فیصد چین کے سرمایہ کا 7 فیصد عرب کے سرمایہ کار ( قطری) 7 فیصد پاکستانی سرمایہ دار یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے۔ یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔

تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1938
تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1938

وہ مہینے میں تیس دن روزے رکھتے اور صبح صادق سے اگلی صبح کاذب تک رکوع و سجود کرتے، وہ برسوں اللہ کے دربار میں کھڑے رہے، اس عرصے میں اللہ انہیں رزق بھی دیتا رہا اور ان کی دعاؤں کو قبولیت بھی- یہاں تک کہ وہ صوفی بابا کے نام سے مشہور ہو گئے اور لوگ ان کے پاؤں کی خاک کا تعویز بنا کر گلے میں ڈالنے لگے لیکن پھر ایک دوسرا واقعہ پیش آیا اور صوفی بابا دوبارہ حاجی صاحب ہو گئے.... یہ سردیوں کی ایک نیم گرم دوپہر تھی، صوفی بابا کی بیٹھک میں درجنوں عقیدت مند بیٹھے تھے- صوفی بابا ان کے ساتھ روحانیت کے رموز پر بات چیت کر رہے تھے- باتوں ہی باتوں میں صوفی بابا نے کتے کا قصہ چھیڑ دیا اور اس قصے کے آخر میں حاضرین کو بتایا.... "رزق ہمیشہ انسان کا پیچھا کرتا ہے لیکن ہم بیوقوف انسانوں نے رزق کا پیچھا شروع کر دیا ہے- اگر انسان کی توکل زندہ ہو تو رزق انسان تک ضرور پہنچتا ہے بلکل اس کتے کی طرح جو زخمی ہوا تو دوسرا کتا اس کے حصے کا رزق لے کر اس کے پاس آ گیا- میں نے اس زخمی کتے سے توکل سیکھی- میں نے دنیاداری ترک کی اور اللہ کی راہ میں نکل آیا- آج اس راہ کا انعام ہے میں آپ کے درمیان بیٹھا ہوں- ان تیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب اللہ تعالی نے کسی نہ کسی وسیلے سے مجھے رزق نہ دیا ہو یا میں کسی رات بھوکا سویا ہوں- میں ہمیشہ اس زخمی کتے کو تھینک یو کہتا رہتا ہوں جس نے مجھے توکل کا سبق سکھایا تھا صوفی بابا کی محفل میں ایک نوجوان پروفیسر بھی بیٹھا تھا، پروفیسر نے جینز پہن رکھی تھی اور اس کے کان میں ایم پی تھری کا ائر فون لگا تھا- نوجوان پروفیسر نے ائر فون اتارا اور قہقہہ لگا کر بولا "صوفی بابا ان دونوں کتوں میں افضل زخمی کتا نہیں تھا بلکہ وہ کتا تھا جو روز شام کو زخمی کتے کو بوٹی چبا کر کھلاتا تھا اور اپنی گیلی دم سے اس کی پیاس بجھاتا تھا- کاش آپ نے زخمی کتے کے توکل کی بجائے صحت مند کتے کی خدمت، قربانی اور ایثار پر توجہ دی ہوتی تو آج آپ کی فیکٹری پانچ، چھ سو لوگوں کا چولہا جلا رہی ہوتی-" صوفی بابا کو پسینہ آ گیا- نوجوان پروفیسر بولا "صوفی بابا! اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے، وہ صحت مند کتا اوپر والا ہاتھ تھا جبکہ زخمی کتا نیچے والا- افسوس آپ نے نیچے والا ہاتھ تو دیکھ لیا لیکن آپ کو اوپر والا ہاتھ نظر نہ آیا- میرا خیال ہے آپ کا یہ سارا تصوف اور سارا توکل خود غرضی پر مبنی ہے کیونکہ ایک سخی بزنس مین دس ہزار نکمے اور بے ہنر درویشوں سے بہتر ہوتا ہے" نوجوان اٹھا' اس نے سلام کیا اور بیٹھک سے نکل گیا.. حاجی صاحب نے دو نفل پڑھے، بیٹھک کو تالا لگایا اور فیکٹری کھول لی، اب وہ عبادت بھی کرتے ہیں اور کاروبار بھی۔ منقول۔۔۔ 🌹🌹🌹🌹🌹

*اوپر والا ہاتھ بنو* حاجی صاحب نے آخری عمر میں فیکٹری لگالی اور چوبیس گھنٹے فیکڑی میں رہنے لگے- وہ سولہ سے اٹھارہ گھنٹے دفتر میں کام کرتے تھے اور جب تھک جاتے تھے تو فیکٹری کے گیسٹ ہاؤس میں سو جاتے تھے- حاجی صاحب کے مزاج کی یہ تبدیلی سب کیلیۓ حیران کن تھی... وہ تیس برس تک دنیاداری کاروبار اور روپے پیسے سے الگ تھلگ رہے تھے انہوں نے یہ عرصہ عبادت اور ریاضت میں گزاراتھا اور اللہ تعالی نے انہیں اس ریاضت کا بڑا خوبصورت صلہ دیا تھا وہ اندرسے روشن ہوگۓ تھے وہ صبح آٹھ بجے اپنی بیٹھک کھولتے تھے اور رات گۓ تک ان کے گرد لوگوں کا مجمع رہتا تھا،لوگ اپنی اپنی حاجت لے کر ان کے پاس آتے تھے- وہ ان کے لیۓ دعا کا ہاتھ بلند کر دیتے تھے اور اللہ تعالی سائل کے مسائل حل فرمادیتا تھا- اللہ تعالی نے ان کی دعاؤں کو قبولیت سے سرفراز کر رکھا تھا لیکن پھر اچانک حاجی صاحب کی زندگی نے پلٹا کھایا.... وہ ایک دن اپنی گدی سے اٹھے، بیٹھک بند کی، اپنے بیٹوں سے سرمایہ لیا اور گارمنٹس کی ایک درمیانے درجے کی فیکٹری لگا لی- انہوں نے اس فیکٹری میں پانچ سو خواتین رکھیں- خود اپنے ہاتھوں سے یورپی خواتین کے لیۓ کپڑوں کے نۓ ڈیزائن بناۓ- یہ ڈیزائن یورپ بھجواۓ- باہر سے آرڈر آۓ اور حاجی صاحب نے مال بنوانا شروع کردیا- یوں ان کی فیکٹری چل نکلی اور حاجی صاحب دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹنے لگے- دنیا میں اس وقت گارمنٹس کی کم و بیش دو،تین لاکھ فیکٹریاں ہوں گی اور ان فیکٹریوں کے اتنے ہی مالکان ہوں گے لیکن ان دو تین لاکھ مالکان میں حاجی صاحب جیسا کوئی دوسرا کردار نہیں ہو گا ... پوری دنیا میں لوگ بڑھاپے تک کاروبار کرتے ہیں اور بعدازاں روپے پیسے اور اکاؤنٹس سے تائب ہو کر اللہ اللہ شروع کر دیتے ہیں لیکن حاجی صاحب ان سے بالکل الٹ ہیں- انہوں نے پینتیس سال کی عمر میں کاروبار چھوڑا اللہ سے لو لگائی لیکن جب وہ اللہ کے قریب ہو گۓ توانہوں نے اچانک اپنی آباد خانقاہ چھوڑی اورمکروہات کے گڑھے میں چھلانگ لگا دی- وہ دنیا کے واحد بزنس مین ہیں جو فیکٹری سے درگاہ تک گۓ تھے اور پھر درگاہ سے واپس فیکٹری پر آگۓـ حاجی صاحب کی کہانی ایک کتے سے شروع ہوئی تھی اور کتے پر ہی ختم ہوئی... حاجی صاحب کی گارمنٹس فیکٹری تھی، حاجی صاحب صبح صبح فیکٹری چلے جاتے اور رات بھیگنے تک کام کرتے تھے- ایک دن وہ فیکٹری پہنچے تو انہوں نے دیکھا ایک درمیانے قد کاٹھ کا کتا گھسٹ گھسٹ کر ان کے گودام میں داخل ہو رہا ہے، حاجی صاحب نے غور کیا تو پتہ چلا کتا شدید زخمی ہے، شاید وہ کسی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا جس کے باعث اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں اور وہ صرف ایک ٹانگ کے ذریعے اپنے جسم کو گھسیٹ کر ان کے گودام تک پہنچا تھا- حاجی صاحب کو کتے پر بڑا رحم آیا، انہوں نے سوچا وہ کتے کو جانوروں کے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں، اس کا علاج کراتے ہیں اور جب کتا ٹھیک ہو جائے گا تو وہ اسے گلی میں چھوڑ دیں گے- حاجی صاحب نے ڈاکٹر سے رابطے کے لیۓ فون اٹھایا لیکن نمبر ملانے سے قبل ان کے دل میں ایک انوکھا خیال آیا اور حاجی صاحب نے فون واپس رکھ دیا..... حاجی صاحب نے سوچا کتا شدید زخمی ہے، اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں، اس کا جبڑا زخمی ہے اور پیٹ پر بھی چوٹ کا نشان ہے چنانچہ کتا روزی روٹی کا بندوبست نہیں کر سکتا- حاجی صاحب نے سوچا' اب دیکھنا یہ ہے قدرت اس کتے کی خوراک کا بندوبست کیسے کرتی ہے، حاجی صاحب نے مشاہدے کا فیصلہ کیا اور چپ چاپ بیٹھ بیٹھ گئے... وہ کتا سارا دن گودام میں بیہوش پڑا رہا، شام کو جب اندھیرا پھیلنے لگا تو حاجی صاحب نے دیکھا ان کی فیکٹری کے گیٹ کے نیچے سے ایک دوسرا کتا اندر داخل ہوا، کتے کے منہ میں ایک لمبی سی بوٹی تھی- کتا چھپتا چھپاتا گودام تک پہنچا، زخمی کتے کے قریب آیا، اس نے پاؤں سے زخمی کتے کو جگایا اور بوٹی اس کے منہ میں دے دی- زخمی کتے کا جبڑا حرکت نہیں کر پا رہا تھا چنانچہ اس نے بوٹی واپس اگل دی- صحت مند کتے نے بوٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالی، بوٹی چبائی، جب وہ اچھی طرح نرم ہو گئی تو اس نے بوٹی کا لقمہ سا بنا کر زخمی کتے کے منہ میں دے دیا- زخمی کتا بوٹی نگل گیا.... اسکے بعد وہ کتا گودام سے باہر آیا، اس نے پانی کے حوض میں اپنی دم گیلی کی، واپس گیا اور دم زخمی کتے کے منہ میں دے دی- زخمی کتے نے صحت مند کتے کی دم چوس لی- صحت مند کتا اس کروائی کے بعد اطمینان سی واپس چلا گیا- حاجی صاحب مسکرا پڑے- اس کے بعد یہ کھیل روزانہ ہونے لگا- روز کتا آتا اور زخمی کتے کو بوٹی کھلاتا، پانی پلاتا اور چلا جاتا،حاجی صاحب کئی دنوں تک یہ کھیل دیکھتے رہے... ایک دن حاجی صاحب نے اپنے آپ سے پوچھا "وہ قدرت جو اس زخمی کتے کو رزق فراہم کر رہی ہے کیا وہ مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے گی؟" سوال بہت دلچسپ تھا، حاجی صاحب رات تک اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ وہ توکل کی حقیقت بھانپ گئے، انہوں نے فیکٹری اپنے بھائی کے حوالے کی اور تارک الدنیا ہو گئے...

چند دن پہلے ایک عزیز یہ واقعہ سنا رہے تھے کہ ہمارے محلے میں ایک نیا مکان مکمل ہوا مالک مکان نے گھر میں دوست احباب کی دعوت کی۔ بہت لوگ اکھٹے کیے۔ لیکن محلے داروں میں کسی کو بھی نہیں بلایا۔ مجھے یہ باتیں سن کر بہت افسوس ہوا۔ مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ میرے ایک عزیز نے ریٹاٸرمنٹ کے بعد نیا گھر بنایا۔ میں انکو مبارکباد دینے گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا انکے گھر کے باغیچہ میں ایک ساٸبان لگا ہوا ہے۔ جس کے نیچے کرسیاں اور ٹیبل لگے ہوۓ ہیں۔ جس پر تقریباً پچیس افراد بیٹھے ہوۓ ہیں۔ جب کہ ایک طرف چھوٹے بڑے بچوں کے تین ٹیل لگے ہوۓ تھے۔ میں عزیز سے ملا۔ سلام و دعا کے بعد انہوں نے مجھے بھی اپنے ٹیبل کی ایک کرسی پر بٹھایا۔ پھر انہوں نے کھڑے ہوکر ایک مختصر سا خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے کہا ” میں اپنے تمام محلے داروں کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہتاہوں۔ آپ کو شاید یہ جان کر خوشی ہو یا عجب لگے کہ گھر بننے کے بعد سب سے پہلے میں نے آپکو اپنے گھر مدعو کیا ہے۔ ابھی رشتہ داروں کو اطلاع نہیں دی انہیں مدعو نہیں کیا، دراصل میں سمجھتا ہوں میری اس خوشی میں سب سے پہلے حصہ دار آپ ہیں۔ آپ سے مجھے یہ خوشی بانٹی چاہیے کیونکہ آپ لوگ ہی ہیں جنہوں نے غاٸبانہ تعاون سے میں یہ تعمیر مکمل کر پایا ہوں۔ اور پھر ساری زندگی تو میں نے آپ کیساتھ گزارنی ہے۔ جبکہ رشتہ دار تو گھڑی دو گھڑی کیلیے ٹھہرتے ہیں۔ اس تعمیر کے دوران آپ کا ہی احسان ہے کہ آپ نے تکلیف برداشت کی۔ آپ نے مجھے اپنے گھر کے سامنے اینٹ روڑا پتھر، ریت بجری پھینکنے دی۔ آپ نے مجھے گلی بند ہونے پر برا بھلا نہیں کہا۔ بلکہ آپ تکلیف برداشت کرتے رہے متبادل راستہ اختیار کرتے رہے۔ چھت ڈالنے والے دنوں میں چودھری صاحب اور خان صاحب کو گاڑی گلی سے باہر کھڑی کرنی پڑی، میں ہر دوست محلے دار بھاٸی کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ میں تمام اپنے محلے کے بچوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ریت بجری وغیرہ ضاٸع نہیں کی۔ کسی چیز کو توڑا نہیں ہے۔ پانی کا پاٸپ ٹوٹنے سے آپکے گراٶنڈ پانی جمع ہوگیا تھا آپکا ٹورنمنٹ خراب ہوگیا۔ لیکن آپ نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔ اس طرح انہوں نے فرداً فرداً تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔ یہ منظر دیکھ کر میں بڑا حیران ہوا۔ اسی دوران چکن قورمہ، نان، بیف پلاٶ اور کھیر میزوں پر لگادی گٸی۔ تمام محلے دار بہت خوش ہوۓ۔ ڈھیر دعاٸیں دیتے ہوۓ رخصت ہوۓ۔ ہر گھر انکے لیے اپنی حیثیت مطابق تحفہ بھی لے کر آیا تھا۔ محلے میں جہاں ایک طرف لاکھوں پتی لوگ رہتے تھے وہیں دیہاڑی دار اور خوانچہ فروش بھی رہتے تھے۔ میرے عزیز نے سب کو برابر عزت و تکریم دی تھی۔ میری حیرانگی میں اضافہ یہ جان کر ہوا کہ میرے عزیز نے مکان شروع کرنے سے پہلے بھی تمام محلے داروں کو چاۓ پر اکٹھا کیا تھا۔ انہیں مکان کی تعمیر متعلق بتایا تھا۔ باقاعدہ ان سے اجازت مانگی تھی۔ ان سے شادی وغیرہ کے بارے پوچھا تاکہ محلے میں بارات وغیرہ کے آنے جانے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اسی طرح ممکنہ تعمیر کے دوران ہونے والی تکلیف بارے پیشگی معزرت کی تھی۔ میں یہ سب جان کر ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوگیا۔ آج کے اس مارا ماری اور نفسانفسی کے دور میں، جہاں خود پسندی اور خود غرضی عام ہے، وہاں ایسے اچھے انسانوں کو دیکھ کر دل کو سکون ملا جو دوسروں، خصوصاً اپنے محلے داروں کا اتنا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ یہی وہ اعلیٰ صفات ہیں جو عین آقاکریم ﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہین۔ ایسا روح پرور منظر دیکھ کر میرا ایمان تازہ ہوگیا۔ میری زندگی کا وہ دن ہمیشہ یادگار رہے گا۔ اس عمل سے مجھے گہری نصیحت ملی اور میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ اپنی زندگی میں بھی ایسی صفات جس میں رواداری، حسن سلوک، احترام، بردباری، ایثار، عفو و درگزر اور خدمت گزاری جیسے اوصاف شامل ہیں، اختیار کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ بالخصوص محلے داروں کیساتھ ہرممکن اچھا سلوک برتنے کی کوشش کرونگا۔ 🌹🌹🌹🌹🌹

*بادشاہ بننے کا نسخہ* ایک فقیر نے ایک بزرگ کے سامنے دست سوال دراز کیا اور ساتھ ہی دعا دی اللہ تعالیٰ تمہیں بادشاہ بنائے‘ بزرگ نے اس سے پوچھا ’’ کیا تم بادشاہ بننا چاہتے ہو‘‘ فقیر نے حیران ہو کر جواب دیا ’’ جناب میں نسلوں کا فقیر‘ میں کیسے بادشاہ بن سکتا ہوں‘‘ بزرگ نے کہا ’’ چلو ہم ایک تجربہ کرتے ہیں‘ میں تمہیں بادشاہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تو تم مجھے حج کرواؤ گئے اور میں اگر ناکام ہو گیا تو میں پوری زندگی تمہاری کفالت کروں گا‘‘ فقیر مان گیا‘ بزرگ نے اس سے کہا ’’ تمہاری جیب میں کتنے پیسے ہیں‘‘ فقیر نے پیسے گنے‘ وہ تیس روپے تھے‘ بزرگ نے اسے مٹھائی کی دکان پر بھیجا‘ تیس روپے کی جلیبیاں منگوائیں‘ سامنے بے روزگار مزدور بیٹھے تھے‘ بزرگ نے اسے حکم دیا ’’ تم یہ جلیبیاں ان مزدوروں میں تقسیم کر دو‘‘ فقیر گیا اور جلیبیاں مزدوروں میں بانٹ آیا‘ بزرگ نے اسے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا اور حکم دیا ’’ تم گھر چلے جاؤ‘ تیس دن انتظار کرو اور دیکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘فقیر چلا گیا‘ وہ تیسرے دن دوڑتا ہوا بزرگ کے پاس آیا‘ وہ خوشی سے چھلانگیں لگا رہا تھا‘ بزرگ نے وجہ پوچھی‘فقیر نے بتایا ’’ مجھے پچھلے مہینے ایک کلرک نے بھیک میں پرائز بانڈ دیا تھا‘ میں نے وہ بانڈ سنبھال لیا‘ آج وہ بانڈ نکل آیا‘ میں بیٹھے بٹھائے تین لاکھ روپے کا مالک بن گیا‘‘ بزرگ مسکرائے اور اس سے کہا ’’یہ بانڈ تمہارا نہیں‘ اس کا مالک وہ ہے جس نے تمہیں یہ بانڈ دیا تھا‘ تم بانڈ کے مالک کو تلاش کرو‘ یہ رقم اسے واپس کر دو اورانتظار کرو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘ فقیر کو یہ آئیڈیا بہت برا لگا لیکن اس کے باوجود اس نے کلرک کو تلاش کیا اور بانڈ لے کر اس کے پاس پہنچ گیا‘ کلرک فقیر کی ایمانداری پر حیران رہ گیا‘ وہ فقیر کے ساتھ دفتر سے نکلا‘ ڈی سی آفس گیا‘ وہاں کنسٹرکشن کمپنی رجسٹر کرائی‘ فقیر کو پچاس فیصد کا حصہ دار بنایا اور سرکاری ٹھیکے لینا شروع کر دیئے‘ وہ دونوں مل کر کام کرتے تھے‘ کلرک ٹھیکہ لیتا تھا اور فقیر کام کرواتا تھا‘ یہ کمپنی مزدوروں کو تین وقت کا کھانا دیتی تھی‘ کمپنی چل پڑی‘ کلرک اور فقیر دونوں امیر ہو گئے‘ یہ دونوں بزرگ کو ہر سال حج پر بھجواتے تھے اور شام کے وقت فقیروں کو روک کر انہیں بادشاہ بننے کا نسخہ بتاتے تھے‘ یہ کمپنی آج بھی قائم ہے‘ اس میں اب کلرک اور فقیر کے بچے کام کرتے ہیں‘یہ کمپنی تیس روپے کے صدقے سے شروع ہوئی‘ یہ اب تک درجنوں لوگوں کو بادشاہوں جیسی زندگی دے چکی ہے‘ میں ذاتی طورپر ایسے بیسیوں لوگوں سے واقف ہوں جو جاہل بھی ہیں‘ نالائق بھی اور غیر محتاط بھی لیکن ان پر اللہ تعالیٰ کا کرم برستا رہتا ہے‘ میں نے جب بھی تحقیق کی‘ مجھے اس کرم کے پیچھے ہمیشہ صدقہ اور خیرات ملی‘ یہ دل کے سخی اور ہاتھ کے کھلے ہیں‘ میں نے ایک اور چیز بھی مشاہدہ کی‘ انسان اگر صدقہ کرے اور ساتھ ہی عاجزی اختیار کر لے تو دولت بھی ملتی ہے اور عزت بھی کیونکہ جس طرح خوش حالی کا تعلق صدقے سے ہے بالکل اسی طرح عزت عاجزی سے وابستہ ہے‘ آپ جتنا جھکتے جاتے ہیں آپ کی عزت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے‘ آپ اس معاملے میں اولیاء کرام کی مثال لے لیجئے‘ اولیاء کرام میں عاجزی ہوتی ہے چنانچہ ان کے مزارات ہزار ہزار سال تک آباد رہتے ہیں‘ یہ کھلے دل اور فراخ ہاتھ بھی ہوتے ہیں چنانچہ ان کے درباروں پر ان کے انتقال کے بعد بھی لنگر چلتے ہیں اور بادشاہ مال و متاع لے کر ان کی درگاہ پر حاضر ہوتے رہتے ہیں۔ منقول۔۔۔۔ 🔷🔷🔷🔷🔷🔷

*تار سروس سے موبائل فون تک* 1990میں جب پاکستان میں پیجر سروس کا آغاز ہوا تو ٹیلی گرام کی چھٹی ہوگئی۔ ٹیلی گرام کو تار سروس بھی کہا جاتا تھا۔۔ڈاکیا تار لاتا تو دل دھڑک جاتے۔۔کیونکہ یہ ارجنٹ پیغام رسانی کیلئے استعمال ہوتا تھا۔۔ تار بھیجنے کا طریقہ یہ تھا کہ پوسٹ آفس جاکر آپ نے مختصر پیغام لکھوانا ہوتاتھا۔جسے بجلی کے سگنل کے زریعے دوسرے شہر ٹرانسفر کردیا جاتا تھا۔ یہ ٹرانسفر ڈاٹ اور ڈیش کوڈ میں ہوتا۔ جسے ڈی کوڈ کرلیا جاتا اور ڈاکیا تار لیکر روانہ ہوجاتا۔خطوط کی ڈاک کے دور میں تار سروس ایک جدید سہولت مانی جاتی تھی۔۔ "تار" کی ایجاد کا سہرا امریکی سائنسدان سیموئل مورس اور ان کے ساتھی الفریڈ ویل کو جاتا ہے۔انہوں نے 1837 میں برقی ٹیلیگراف بنایا اور مورس کوڈ ایجاد کیا، جس کے ذریعے پیغامات ڈاٹ اور ڈیش میں بھیجے جاتے تھے۔ پہلا کامیاب عوامی ٹیلیگرام 1844 میں واشنگٹن سے بالٹی مور بھیجا گیا۔ 1855میں برصغیر میں پہلی بار ٹیلیگراف لائن ڈالی گئی۔ کلکتہ سے آگرا پہلا تار بھیجا گیا۔۔ ٹیلیگرام سروس چلانے کے لیے شہروں کے درمیان کاپر کے تار بچھائے جاتے تھے، جو ٹیلیگراف پولز یعنی لکڑی یا لوہے کے کھمبے پر نصب ہوتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد پاکستان پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف نے یہ سروس سنبھالی۔۔۔ ٹیلیگرام سروس نےسوا صدی تک لوگوں کو ارجنٹ پیغام رسانی کی سہولت فراہم کی۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں لینڈ لائن فون عام ہونےلگا۔ جس نےدنیا میں ٹیلی گرام کی افادیت کو چیلنج کیا۔لیکن دنیا کی ایک بڑی آبادی ابھی ٹیلی گرام پر ہی انحصار کرتی تھی۔ 1980میں ڈیجیٹل دور کی شروعات ہوئیں۔۔لینڈلائن فون بھی دیہات اورچھوٹے شہروں تک پہنچا۔۔فیکس مشین کا کمرشل استعمال شروع ہوا۔۔یہ وہ دور تھا جب ٹیلی گرام سروس کو ماضی کا حصہ قرار دیا جانےلگا۔۔ اسّی اور نوے کی دہائی میں وائرلیس مواصلاتی نظام سے دنیا میں انقلاب نظر آنےلگا۔۔اور ایس ایم سروس ، جو پیجر سروس کے نام سے مشہور ہوئی،اس نے ٹیلیگرام کو باقاعدہ رخصت ہونے کا اشارہ دےدیا۔۔۔ پیجر سروس یوں تو ایس ایم ایس ٹیکنالوجی تھی، لیکن آج کل کے دور کے لحاظ سے اس کا طریقہ بھی فرسودہ ہی تھا۔۔ یعنی پہلے کال سینٹر فون کرنا۔۔پھر ان کو میسیج لکھوانا۔۔اور پیجر نمبر بتانا جس پر میسیج بھیجنا مقصود ہوتا تھا۔۔ یوں ان صاحبِ پیجر کو آپ کا میسیج بیپ کے ساتھ موصول ہوجاتا تھا۔۔ پاکستان میں سن دو ہزار میں ٹیلی گرام سروس باقاعدہ ختم کردی گئی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے۔۔ کہ اس وقت پیجر سروس اور اس کے کال سینٹرز بھی ختم ہوچکے تھے۔۔ کیوں کہ سیلولر ٹیکنالوجی کی بدولت موبائل فونز میں ایس ایم سروس فراہم ہوچکی تھی۔۔اور بات اس سے بھی کہیں دور جاتی نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔ بات نکلی تو دور تلک جانی تھی۔۔آج کا موبائل فون وہ نہیں رہا، جو آپ کو صرف کال اور ایس ایم ایس کی سہولت فراہم کرتا تھا۔۔۔۔ مزید کچھ بتانے کی شاید ضرورت نہیں۔۔آج موبائل فون ہر فرد کے ہاتھ میں ہے۔۔بات واقعی بہت دور جاچکی ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1923
تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1923

تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1922
تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1922

طول عمر کے لئے ایک خاص دعا
طول عمر کے لئے ایک خاص دعا

شہ رگ کو کاٹ رہا ہے! اور یوں نبی پاک نے بطور شہادت وفات پائی😪 🌹 پوسٹ دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕